Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بہترین تحفہ  تحریر: مجاہد حسین

    بہترین تحفہ تحریر: مجاہد حسین

    تحفہ ہمیشہ سے ہی لوگوں کے درمیان الفت و محبت پیدا کرنے کا ذریعہ رہا ہے۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا کہ آپس میں تحفے دیا کرو کہ یہ دِلوں میں محبت پیدا کرتے ہیں اور آپس کی کدورتیں ختم کرتے ہیں۔
    آج کے جدید دور میں جب تحفے کا ذکر آتا ہے تو ہمارے ذہین میں، موبائل، گھڑی، کمپیوٹر، مہنگے برانڈ کے کپڑے، خوشبوئیں وغیرہ آتی ہیں کہ دنیا میں یہی مادی چیزیں ہی محبت کا معیار مانا جانے لگا ہے۔
    آج میں آپ کو ایک معروف عالم دین مفتی مینک کا ایک واقعہ سناتا ہوں جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں سب سے بہترین تحفہ کون سا دیا گیا۔
    وہ بیان کرتے ہیں کہ ویسے تو قرآن پاک کی ساری سورتیں بہت شان والی ہیں لیکن جو سب سے زیادہ میرے دل کو اپنا گرویدہ بناتی ہیں وہ سورة الضحى کی تیسری اور پانچویں آیات ہیں۔ ان کی شان نزول یہ ہے کہ جب نبی ﷺ پر کچھ عرصے کے لئے وحی موقوف ہو گئی تھی تو کفار کہنے لگے کہ اللہ نے محمد ﷺ کو چھوڑ دیا ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اللہ نے یہ آیات نازل کیں۔
    "مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ” اور "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ”
    جن کا ترجمہ ہے کہ
    "اے محمد ﷺ! تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا ہے نا تم سے ناراض ہوا ہے”
    اور "اور تمہارا رب عنقریب تمہیں اتنا عطا کرے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے”
    ان آیات کا حوالہ دے کہ مفتی مینک کہتے ہیں کہ میں کئی سال پہلے تنزانیہ میں زینزیبار یونیورسٹی میں گیا۔ میں نے وہاں کے نوجوانوں کے ساتھ باتیں کیں اور دو تین دن بعد وہ شکریہ کے پیغامات لے کے میرے پاس آئے اور ان میں سے ایک شخص (جو اب میرا بہت اچھا دوست ہے) نے کہا کہ ہم آپ کو ایک تحفہ دینا چاہتے ہیں جو کہ قرآن پاک کی ایک آیت ہے اور کہنا لگا کہ "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ” عنقریب اللہ آپ کو اتنا دے گا آپ خوش (راضی) ہو جائیں گے۔
    مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ میری زندگی میں پہلی مرتبہ تھا کہ اس آیت کا ایک مختلف مفہوم میرے سامنے آیا۔ اور تب سے یہ آیت میرے دل کے بہت قریب ہے۔
    اس بات سے سمجھ آئی کہ دنیا کا بہترین تحفہ کسی کو دعا دینا ہے جس سے اللہ بھی آپ سے راضی ہو جائے گا اور آپ کو دعا کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور آپس میں محبت اور تعلقات بھی بہت بہتر ہو جائیں گے۔
    اللہ عمل کرنے کی توفیق دے۔

    @Being_Faani

  • سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی جیت – تحریر: یاسر اقبال

    سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی جیت – تحریر: یاسر اقبال

    سیالکوٹ پاکستان کا ایک اہم شہر ہے جو پاکستان کے صنعت میں ایک کا بڑا حصہ رکھتا ہے یہاں کافی مقدار میں برآمدی اشیا جیسا کہ سرجیکل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور کپڑا پیدا کرتا ہے سیالکوٹ کو شہر اقبال بھی کہا جاتا ہے، عظیم شاعر، قانون دان اور مفکر علامہ محمد اقبال 9 نومبر1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اس کے ساتھ اکثر سیالکوٹ میں سیاسی پارہ بھی گرم رہتا ہے اور بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کا مقابلہ دیکھنے کو ملتا ہے جیسا کہ پی پی 38 کے ضمنی انتخاب میں دیکھنے کو ملا پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 38 کا ضمنی انتخاب 28 جولائی 2021 کو ہوا جس میں پی ٹی آئی اور ن لیگ سمیت کئی سیاسی حریفوں کے درمیان 165 پولنگ اسٹیشنوں پر مقابلہ ہوا سیالکوٹ میں بارش کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے ہر پولنگ اسٹیشن پر آئی، اس دوران سیاسی کارکنوں میں تلخ کلامی کے کچھ واقعات بھی رونما ہوئے۔ پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان آمنے سامنے آگئے، رینجرز کے جوانوں نے مشتعل کارکنان میں بیچ بچاؤ کرایا۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 233،422 تھی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان امیدوار احسن سلیم بریار اور مسلم لیگ ن کے امید وار چوہدری سجانی نے اپنی اپنی جماعت کی نمائندگی کی۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف فتح حاصل کر پائی اور مسلم لیگ ن کو شکشت ہوئی۔ غیر حتمی غیر سركاری کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امید وار احسن سلیم بریار نے 60 ہزار 588 ووٹوں کے ساتھ اگے رہے اور حلقہ پی پی 38 کے ضمنی انتخاب میں کامیابی سمیٹ لی جبکہ مسلم لیگ ن کے امید وار 53 ہزار 471 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے اور مسلم لیگ ن کو 7 ہزار 117 ووٹوں سے پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھوں شکشت ہوئی۔ پیپلز پارٹی جو کہ پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے لیکن اس کے باوجود پیپلزپارٹی کے ووٹرز نہ ہونے کے برابر تھے۔ پیپلز پارٹی کا امیدوار محمّد قدیر کا ساتواں نمبر رہا اور اس کے حصے میں صرف 597 ووٹ آئے۔ جبکہ آزاد امیدوار طاہر محمود ھندلی 12 ہزار 488 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے سات ہزار 117 ووٹوں کی لیڈ سے فتح حاصل کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی کامیابی کا اعلان ہوتے ہی کارکنوں نے خوب جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا جبکہ خوشی سے آپس میں مٹھائیاں بھی بانٹی گئیں۔ یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ حلقہ 2018 کے عام انتخابات میں ن لیگ کے رہنما اختر سبحانی کے نام رہا تھا اور ان کی وفات کے باعث خالی ہوا تھا۔

    تحریک انصاف کے پی پی 38 ضمنی انتخابات میں کامیابی پر وزیر اعظم عمران خان بھی کافی خوش نظر آئے اور اس نے وزیر اعلی پنجاب کے معاون خصوصی (ایس اے سی ایم) فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی اور انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس کے اپنے شہر سیالکوٹ میں اس کے خدمات نے پارٹی کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ سیالکوٹ کی پی پی 38 نشست جیتنے پر معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عوام نے قومی خزانہ لوٹنے والوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انتخابات میں سیالکوٹ کے عوام نے مسلم لیگ ن کا بیانیہ مسترد کردیا۔ پی پی 38 کے اس جیت پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اپنے سیاسی حریفوں کو خوب نشانے پر رکھا اور اس کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں حق اور سچ کی فتح ہوئی نتائج نے ثابت کردیا پاکستانی سیاست میں اب چوروں اور لٹیروں کی کوئی گنجائش نہیں عوام ریاست مخالف بیانیے سے متنفر ہوچکے ہیں پے در پے شکست کے بعد انہیں منفی سیاست سے توبہ کر لینی چاہئے

    پاکستان تحریک انصاف کے اقبال کے شہر میں جیت پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کے اظہار پر سیالکوٹ کے عوام خصوصاً پی پی 38 کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پاکستان تحریک انصاف نے مخالف جماعت کی نشست جیت کر ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں صرف دیانتداری کی ہی سیاست چلے گی۔ ثابت ہو گیا ہے کہ عوام شفاف اور عوام کی خدمت کرنے والی مخلص قیادت کے ساتھ ہیں۔ وزیراعلیٰ کا اپنی حکومتی کا بھی تذکرہ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی اب تک کی شاندار کارکردگی کی بدولت سیالکوٹ کے عوام نے ان کو اس ضمنی الیکشن میں سرخرو کیا ہے۔ کامیابی نئے پاکستان اور تبدیلی کے ایجنڈے کی جیت ہے۔ امید ہے کہ احسن سلیم بریار حلقے کے عوام کی نمائندگی کا بھرپور حق ادا کریں گے۔ سیالکوٹ الیکشن میں شفافیت کا بول بالا ہوا ہے۔

    یہ پاکستان تحریک انصاف کا پہلا ضمنی الیکشن تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت ہوئی اس سے پہلے باقی 2018 کے انتخابات کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے اس میں پاکستان تحریک انصاف کو شکست ہوئی۔ اقبال کے شہر سیالکوٹ کے عوام اپنے نوجوان نمائندہ احسن علیم بریار سے تبدیلی کے امید پر ہے کہ وہ شہر اقبال کی ترقی میں اپنا پورا حصہ ڈالیں گے اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرینگے۔ وسلام

    Twitter:
    ‎@RealYasir__Khan

  • بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی تحریر: ڈاکٹر ذکاءاللہ

    بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی تحریر: ڈاکٹر ذکاءاللہ

    عمران خان نے جب1971 میں کرکٹ کھیلنا شروع کی تو وہ پہلے میچ میں بری طرح ناکام ھوگیا لیکن ہمت نہیں ھاری محنت جاری رکھی
    جب 4سال بعد دوبارہ ٹیم میں آے تو ایک نیے ولولے اور جوش سے کھیلے
    جاوید میانداد جیسے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ھوے اپنے آپ کو ایک بہترین کھلاڑی اور لیڈر منوایا
    ویسٹ انڈیز کے خلاف 1979میں کھیلی جانی سیریز تاریج کا حصہ ھے
    جب پوری دنیا کے بیٹسمین کالی آندھی سے مشہور باولنگ اٹیک کا نام سنتے تو ضرور انہیں جھٹکا لگتا ھوگا کیونکہ جس ٹیم کی باولنگ لاین اپ میں مایکل ھولڈنگ اور میلکم مارشل جیسے تیز باولر ھوں وھاں پریشانی اورخوف معمولی بات ھے  اور دوسری طرف اس دور کے خطرناک سر ویون رچرڈ جیسے بلے باز جو کسی باولر کو خاطر میں نہ لاتے ان کے خلاف کھیلی جانی ٹیسٹ سیریز میں عمران خان نے اپنی بہترین پرفارمنس سے دنیا کو حیران کردیا تھا
    وھی کالی آندھی جس کے خلاف ساری ٹیمیں کھلینے سے گھبراتی تھی بھارت جیسی ٹیم کے ایک اننگز میں چھ کھلاڑی بیٹنگ کے دوران زخمی ھوکر پویلین واپس آے اور بھارت کی ٹیم بہت بری شکست سے ٹیم دوچار ھویی تھی
    وھاں عمران خان کے دلیرانہ فیصلوں کی بدولت نہ صرف پاکستان نے ٹیسٹ سیریز برابر کھیلی بلکہ پوری دنیا میں اپنی دھاک بھی بٹھایی
    اپنی کرکٹ کیریر کے اختتامی دور  میں پاکستان کو عالمی کپ جیسا تحفہ بھی دیا
    سیمی فاینل اور فاینل میچ میں جلد وکٹ گر جانے سے بیٹنگ میں نمبر تین پر کھیلتے ھوے بہترین اننگز کھیلیں اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا
    فاینل میں  کندھے میں درد کے باوجود پین کلر ٹیکہ لگوا کر نہ صرف کھیلے اور کپتانی کی بلکہ درد کے باوجود باولنگ بھی کرایی اور آخری وکٹ بھی حاصل کی
    شوکت خانم جیسے ناممکن نظر آنے والے پروجیکٹ کو اپنے زور بازو سے بنوایا
    پہلے الیکشن میں صفر سیٹ سے ناکام رہنے والے کپتان نے اب تک 7 اکاییوں میں سے 6 اکاییوں پر حکمران ہیں صرف سندھ کو فتخ کرنا ھے گلگت بلتستان اور کشمیر الیکشن کے بعد  اب سندھ الیکشن جیتنا نہایت آسان دکھایی دے رھا ھے مقابلہ کویی بھی ھو کپتان ہمیشہ چیلنج قبول کرتے ہیں
    یہی  وجہ ھے کہ  عمران خان کو بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی کہا جاتا ھے

    @KHANKASPAHI1

  • مبشر لقمان اور کھرا سچ

    مبشر لقمان اور کھرا سچ

    مبشر لقمان عہدِ جدید کا ایک عظیم سچا، پائیدار، حق، سچ صحافت کا علمبردار ہے

    انہوں نے اپنے صحافتی کیرئیر میں ایسے ایسے دلیرانہ کام کیے جو بڑے بڑے اینکر نہ کرسکے اپنی زندگی میں انہوں نے ہمیشہ کھری صحافت کو ترجیح دی حق سچ اور دلیرانہ ڈنکے کی چوٹ پر صحافت کرنے کی وجہ سے وہ پاکستان کے بلکہ عالمی طور پر سینئر ترین صحافی مانیں اور سمجھے جاتے ہیں لوگ انہیں شوق سے سنتے اور دیکھتے ہیں

    میں ذاتی طور پر بچپن سے انکا پروگرام ” کھرا سچ” دیکھنے کا عادی رہا ہوں اور اسی مناسبت سے انکا فین ٹھہرا
    ایک فین ہونے کی حیثیت سے انکے پروگرام ” کھرا سچ ” کو بڑے ہی انہماک اور توجہ کے ساتھ سننا میرا ہمیشہ سے مشغلہ رہا ہے
    ٹاک شوز کی بھرمار کی وجہ مجھے انکا پروگرام کھرا سچ ہر صورت دیکھنا ہوتا تھا جس طرح انکے پروگرام کا نام کھرا سچ تھا ویسے ہی یہ خد کھرے آدمی ہیں یہ قدرتی امر ہے کہ ہمیشہ قدرتی طور پر کھرا، سچا اور مخلص آدمی عوامی حلقوں میں مقبول سمجھا جاتا ہے

    انکے پروگرام کا نام مجھے دیسی لفظ ” کھرا ” کشش کے طور اپنی طرف کھینچتا تھا اسی لحاظ سے بھی میں کھری اور سچی بات سننے کا عادی ہوں انکے پروگرام سے بہت کچھ سیکھا جو اپنی زندگی میں لاگو کر کے مشکلات آسان کی

    آجکل پروگرام تو کافی کیے جاتے ہیں ٹاک شوز میں من پسند ایشوز کو نقطہ نظر کے حساب سے پرکھا جاتا ہے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بہت سے اینکر حضرات نِت نئ سٹوریز سے اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں رہتے ہیں
    مگر انکو میں نے ہمیشہ پاکستان کی بہتری کے حق میں بولتے دیکھا

    آجکل مبشر لقمان صاحب یوٹیوب پر پاکستانیت کو پرموٹ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جب بھی دیکھا جس موقع پر پرکھا مبشر لقمان صاحب پاکستان کے حق میں اور بہتری کے لیے بولتے اور لکھتے ہوئے پایا

    خاص طور پر اور قدرتی طور پر انکے پروگرام کھرا سچ کا عکس مجھے پنچایت میں موجود سر پنچ کے لفظ کھری گل کی عکاسی کرتا ہوا نظر آتا تھا
    جیسے پنچایت میں موجود ہر آدمی نے سچی اور کھری بات کہنا ہوتی ہے ویسے ہی اس پروگرام میں بھی سچی اور کھری بات مجھے سننے کو ملی
    شائید کہ انکے پروگرام کے نام ( کھرا سچ ) کو پنچایت کے وجود سے اخذ کیا گیا ہو
    اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ ہمیشہ پاکستان کی بہتری کے لیے بات کی جاتی تھی جو کہ خوش آئند بات تھی

    مبشر لقمان صاحب کا پروگرام کھرا سچ وہ واحد پروگرام تھا جہاں مافیا سے لے کر بڑے بڑے ڈاکوؤں کو للکارا گیا مافیہ کے خلاف بہت سے پروگرام ڈنکے کی چوٹ پر کیے گئے یہی وہ خاص وجہ ہے جو مجھے اس پروگرام کو دیکھنے کی جانب بار بار توجہ مبذول کرواتی رہی

    اگر کہی یہ پروگرام میرے سے دیکھنے سے رہ جاتا تو مجھے یوٹیوب پر دیکھنا ہوتا تھا خاص لگاؤ کی وجہ سے ، حق سچ بیانیے کو پروموٹ کرنے کی وجہ سے مجھے آج چند حوصلہ افزائی باتوں کو تحریر میں پرونا پڑا
    میں اپنے خیالات اور احساسات کو الفاظوں میں بیان کرنا، کسی بھی شخصیت کے اچھے کردار کو ذکر کرنا، اور انکی صلاحیتوں کو عوام کے سامنے پیش کرنا میرا ہمیشہ سے مشغلہ رہا ہے

    دعا ہے کہ اللّٰهُ رب العزت پاکستان کی بہتری کے حق میں بولنے والوں کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطاء فرمائے اور مبشر لقمان صاحب کی حفاظت فرمائے آمین

    @Talha0fficial1

  • رزق حلال عین عبادت ہے   تحریر:شعیب حسن

    رزق حلال عین عبادت ہے تحریر:شعیب حسن

    رزق حلال کے فوائد”رزق حلال عین عبادت ہے”
    رزق حلال کے فوائد
    رزق حلال کو آسان الفاظ میں جائز روزی یا جائز ذریعہ معاش کہ سکتے ہیں۔رزق حلال کا کمایا ہوا تھوڑا رزق حرام کی کمائ کے کروڑوں سے بھاری ہوتا ہے۔اس حلال کی کمائ کے تھوڑے پیسوں سے نسل کی نسل لاکھوں برائیوں سے برے عیب سے بچ جاتی ہیں۔سچائ اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر لیتی ہیں۔اس لیے اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس مال کی خامیوں کو بھی ہمیں دوسروں کو اگاہ کرتے رہنا چاہیے۔
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال رزق کو عبادت قرار دے کر انسانوں کے لیے ایسے راستے کی طرف روشنی ڈالی ہے کہ اگر انسان حلال رزق کمائے تو انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت اور اللہ کے قریب جانے کو حق دار بن جاتا ہے۔
    اللہ اپنی کتاب قرأن کرم فرقان حمید میں حکم دیتا ہے کہ
    "اے ایمان والو اپنے رزق کو آپس میں باطل کی راہ سے نا کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو
    (سورۃ النساۂ)
    حلال طریقے سے رزق کمانے میں اللہ نے اتنا سکون رکھا ہے کہ جو شخص حلال رزق کمائے اور وہی حلال رزق اپنی اولاد کو کھلائے گا آخرت میں صدیقوں اور شہدوں میں اپنے اپ کو پائے گا۔
    کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ارکان اسلام کو پورا کرنے سے بھی معاف نہیں کیے جاتے بلکہ حلال رزق کمانے سے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔
    دین اسلام نے انسانوں کو کئی طریقوں سے محنت کرنے معاشی جدوجہد کرنے حلال رزق کمانے پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کے بہت ہی آسان طریقے بتائے ہیں جیسے انسانی عقل تسلیم کر چکی ہے
    "اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے پاک اور حلال چیزیں کھاؤ(سورۃ البقرہ)
    حلال رزق اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہےکہ انسان اللہ سے جو بھی دلی خواہشات کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے تو اللہ اسی وقت وقت اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں۔حرام کی کمائ کا ایک لقمہ بھی انسان اگر کھا لے تو اس کی چالیس دن دعا قبول نہیں ہوتی۔کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ ہماری دعائیں قبول ہوں
    کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ حلال رزق کما کر اپنے اہل و ایال اور اولاد کو کھلا کر آخرت می صدیقوں اور شہدوں میں شامل ہو
    اللہ ہم سب کو حلال رزق کمانے کی توفیق بخشے
    کیوں کہ رزق حلال عین عبادت ہے
    رزق حلال کو آسان الفاظ میں جائز روزی یا جائز ذریعہ معاش کہ سکتے ہیں۔رزق حلال کا کمایا ہوا تھوڑا رزق حرام کی کمائ کے کروڑوں سے بھاری ہوتا ہے۔اس حلال کی کمائ کے تھوڑے پیسوں سے نسل کی نسل لاکھوں برائیوں سے برے عیب سے بچ جاتی ہیں۔سچائ اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر لیتی ہیں۔اس لیے اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس مال کی خامیوں کو بھی ہمیں دوسروں کو اگاہ کرتے رہنا چاہیے۔
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال رزق کو عبادت قرار دے کر انسانوں کے لیے ایسے راستے کی طرف روشنی ڈالی ہے کہ اگر انسان حلال رزق کمائے تو انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت اور اللہ کے قریب جانے کو حق دار بن جاتا ہے۔
    اللہ اپنی کتاب قرأن کرم فرقان حمید میں حکم دیتا ہے کہ
    "اے ایمان والو اپنے رزق کو آپس میں باطل کی راہ سے نا کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو
    (سورۃ النساۂ)
    حلال طریقے سے رزق کمانے میں اللہ نے اتنا سکون رکھا ہے کہ جو شخص حلال رزق کمائے اور وہی حلال رزق اپنی اولاد کو کھلائے گا آخرت میں صدیقوں اور شہدوں میں اپنے اپ کو پائے گا۔
    کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ارکان اسلام کو پورا کرنے سے بھی معاف نہیں کیے جاتے بلکہ حلال رزق کمانے سے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔
    دین اسلام نے انسانوں کو کئی طریقوں سے محنت کرنے معاشی جدوجہد کرنے حلال رزق کمانے پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کے بہت ہی آسان طریقے بتائے ہیں جیسے انسانی عقل تسلیم کر چکی ہے
    "اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے پاک اور حلال چیزیں کھاؤ(سورۃ البقرہ)
    حلال رزق اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہےکہ انسان اللہ سے جو بھی دلی خواہشات کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے تو اللہ اسی وقت وقت اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں۔حرام کی کمائ کا ایک لقمہ بھی انسان اگر کھا لے تو اس کی چالیس دن دعا قبول نہیں ہوتی۔کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ ہماری دعائیں قبول ہوں
    کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ حلال رزق کما کر اپنے اہل و ایال اور اولاد کو کھلا کر آخرت می صدیقوں اور شہدوں میں شامل ہو
    اللہ ہم سب کو حلال رزق کمانے کی توفیق بخشے
    کیوں کہ رزق حلال عین عبادت ہے

  • اسلام اور بیٹیاں, رحمت العالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شفقت

    اسلام اور بیٹیاں, رحمت العالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شفقت

    حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔ لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ قلبی پر پڑی۔ آپؐ نے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن نوجوان ہے۔ آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کر دے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔ رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
    حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ قلبی کو بتایا۔ حضرت دحیہ نے کہا؛ اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا؛ اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟ تو حضرت دحیہ قلبی نے کہا؛ یا رسول اللہ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔ اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔ میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔ آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛
    یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔ ہم نے معاف کر دیا ۔
    حضرت دحیہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟ حضرت دحیہ قلبی کہنے لگے؛ یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟
    حضرت دحیہ قلب فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ، میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔ دحیہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟ میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔ یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔ حضرت دحیہ قلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛ اے اللہ کے نبی! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛ یہ بچی کون ہے؟ بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔ یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔ میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔ اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔ حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔ یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حیسن تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔ پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔ دحیہ نہ مارنا اسے۔ دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔
    ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔ رستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟ بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟ بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ دحیہ قلبی روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ یا رسول اللہ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے، کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں۔ میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے، تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔ اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛ بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔ آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔ میں نے دھکا دے دیا۔ وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔ بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛ بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔ بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔ بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ریت ڈالتا گیا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔ میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛ اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔ پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔ حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے۔ یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔ اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے اور کہنے لگے؛ اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔ اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔ اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں.
    ۔
    جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟
    بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللّہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں.

    @M_ASMarkhor

  • هیجان  تحریر: سیدہ بشری

    هیجان تحریر: سیدہ بشری

    دو شدید انتہاؤں کے درمیان اعتدال ہے ۔۔اسکے آر پار دونوں اطراف پر موجود سوچ کو ہم نے لبرل یا قدامت پسند میں تقسیم کر دیا معاشرہ جنکو شدت پسند کہتا وجہ ہے ا نکے سخت خیالات چاہے وہ مذہبی ہوں ثقافتی ہوں تہذیبی ہوں یا تمدنی ۔ وہیں ایک دوسرا گروہ ہے جنکو لبرل کہا جاتا ۔ لفظ لبرل کی تعریف تو یہ ہے کے دوسروں کو انکے خیالات احساسات اور انکی روایات کے مطابق آزاد چھوڑ دو ۔۔پر ایسا ہے نہیں لبرل بھی شدت پسندوں کی ضد نہیں بلکہ دوسرے حصے کے شد ت پسند ہیں ۔کیونکہ یہ بھی دوسرے کے خیالات احساسات نظر یات یا جذبات کے احترام کے شدید منکر ۔کیونکہ وہ اس لفظ کی تعریف کے برعکس وہ چاہتے جو انکا عقیدہ سوچ یا نظریہ ہے ۔۔اس دو انتہاؤ ں کی جنگ نے ایک هیجان پیدا کر کے رکھ دیا ۔
    ہر کوئی اپنی حد پر ایک سرحد بنا کر اس پر مسلح پہرہ دے رہا ادھر منشا کے خلاف بات ہوئی ادھر حملہ آور تیار ۔ایک جنگ کا سماں بن چکا جہاں سوچ سمجھ کو تالا لگا کر ضد پر ڈٹ جانے کا نام انکے نظریہ کی حفاظت ہے ۔اگر نظر انداز ہوا تو وہ اعتدل ہوا ۔۔اعتدال ہی وہ واحد حل ہے جو ان دو حدوں کے بین بین سہی راستہ ہے ۔جو سكهاتا ہے کے سنو احترام سے سنو ۔قایل کرو اگر نہیں کر سکتے تو چھوڑ دو ۔پر یہ حق کسی کو نہیں کے کسی کو لٹھ کے زور بازو پر کچھ منوا لو۔کسی کو کسی کی جان لینے کا حق نہیں ۔ہم نے ایک سوچ بنا لی کسی کی داڑھی دیکھی قمیض شلوار پہنا دیکھا اور اس نے کوئی جرم کیا فورا مذھب کو گا لی دو ۔
    یا کوئی جرم ہوا اور جسکے ساتھ ظلم ہوا وہ اگر آزاد ہے تو آزادی کو جرم ۔
    نہ ہی مذھب غلط ہوتا نہ آزادی غلط وہ فرد ہوتا جو جرم کرتا ۔یہ تفریق ہمیں سمجھنا ہو گی ۔
    مذھب کسی پر جبر نہیں کرتا ۔نا جرم کی تبلیغ کرتا ۔پھر دین پر سوال کیوں ؟
    کسی بھی معاشرے میں جب اعتدال کی جگہ انتہا لے لے پھر وہاں اخلاقی تباہی مقدر بن جاتی ہے ۔
    ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھو ۔بردآشت واحد اکائ ہے جو سبکو جوڑ کر رکھتی ہے ۔
    آزادی کی تعریف کو سمجھو اور اسکی حد تجاوز کرنے سے پرہیز کرو ۔جہاں اپنی آزادی سے نکلے سمجھو دوسرے کی حد پر حملہ اور ہوا ۔۔
    جنسی تفریق کا راگ الاپ کر ہم نے مرد عورت کو دو الگ مخلوقا ت بنا دیا ۔برابری کی بات کریں تو تو برابری کی حدوں کی جانکاری لینا لازم ۔تعلیم، انصاف، جائیداد، نوکری، شادی ، کاروبار کی آزادی یہ وہ معاملات ہیں جن پر ایک برابر حق ہے کسی کو حق نہیں کے کوئی ان پر مرضی مسلط کرے ۔پر وہیں ہمارےہاں خاندانی نظام کے تحت سبکے اپنے طور طریقے ہوتے جنکے افراد پاپند ہوتے بلا تفریق جنس ۔اپنی روايات کو اگر مانتے ہو تو ٹھیک اگر غلط لگے تو انکو بدلو ۔۔سڑک پر نکل کر باجا بجا کر کچھ نہیں بدلے گا ۔۔اس سے سوآئے اضطراب کے کچھ نہیں ملے گا۔۔وہ لوگ جو عورت کے نام پر عورت مارچ کا حصہ بنے انہی میں سے ایسے ابلیس بھی نکلے جن نے سر تن سے جدا کر کے بے رحمی سے قتل کیا عورت کو وہ جو خود کو سو آزاد خیال کہتے انہی نے گھروں میں عورتوں پر ظلم ڈھائے ۔پھر کس کا بھروسا ۔یہ آزادی کے نام پر منافقت ہے جو ہم کرتے ۔ہمارے ہاں ظلم ہوتے دیکھ کر سب تماشائ ہوتے اور جب ظلم ہو جاتا پھر دھڑے بازی وہی عورت کارڈ مذھب کارڈ آزادی کارڈ زندہ ہو جاتا ۔ہیش ٹیگ ٹرینڈ بنتے ۔پھر چار، دس روز بعد نیا قصہ نئی کہانی ۔ان كارڈز سے نکل کر انسان بن کر انسانیت کے لئے سوچو اور اقدام کرو ۔اپنے گھر قبیلے سے سٹارٹ کرو خود تبدیلی نظر آئے گی ۔منبر کو حق کے لئے استعما ل کرو اپنے قلم کو سچ کے لئے اٹھاؤ قانون کا نفاذ اور انصاف کے فروغ کے لئے آواز اٹھاؤ سسٹم بدلنا ہو گا ۔جسکی لاٹھی اسکی بھینس جیسے محاورے کو جسکی بهینس اسکی لاٹھی کرنا ہو گا ۔اگر کوئی آواز اٹھانا بنتی ہے وہ اس عدالتی اور پولیس کے نظام کے لئے ہے سارا گھن چکر ان دو اداروں کی وجہ سے ہے ۔جہاں طاقتور آزاد ہے ہر ظلم کے ساتھ جہاں کمزور کا مقدر دھکے ہیں ۔۔باغی ہونے سے کچھ نہیں ملتا کیونکہ طغیانی سے فصلیں سیراب نہیں ہوتی بلکہ چمن اجڑ جاتے ایسے ہی شدت پسندی سے نسلیں فیض یاپ نہیں ہوتی ۔حد پكڑ نا سیکھو ۔علم اور نمبر کی ووڑ میں تربیت کو سب سے اہم مقام دو ۔اپنی نسلوں کو جنونی اور پاگل ہونے سے بچا و ۔۔https://twitter.com/SyedaBushraSha3?s=08

  • اردو زبان   تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اردو زبان تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ایک زبان کسی خاص ملک یا برادری میں انسانی مواصلات کا طریقہ ہے ، جس میں بولی یا تحریری شکل ہوتی ہے ، جس کی ساخت الفاظ استعمال پر مشتمل ہوتی ہے اور روایتی طریقہ انسانی زبان میں پیداواری صلاحیت ، تکرار اور بے گھر ہونے کی خصوصیات ہیں اور یہ مکمل طور پر معاشرتی کنونشن اور سیکھنے پر انحصار کرتی ہے ۔ دنیا میں زبانوں کی تعداد کے اندازوں میں مختلف ہے۔ تاہم ، ایتھنولوج میں 7،106 جاننے والی زبانوں پر معلومات موجود ہیں۔ یہ ایک ایسا جامع حوالہ ہے جو ریاست میں تمام معروف زندہ زبانوں کی فہرست دیتا ہے آج دنیا میں درج بہت سی زبانیں ہیں جو تکنیکی طور پر بولی جاتی ہے نہ کہ الگ زبانیں۔ وہ الگ الگ درج ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں باہمی سمجھے جانے کے لئے کافی ہے ۔ اردو زبان آس پاس کے بہت سارے ممالک میں لوگوں کے ذریعہ بولی جانے والی زبان دنیا بھر میں اور پوری دنیا میں پاکستانی کمیونٹیوں میں وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ، رومن-اردو ٹیکسٹ پروسیسنگ میں پاکستان کے مختلف سوشل نیٹ ورک پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ ہند یوروپیئن کی کچھ دوسری ریاستوں میں انگریزی زبان کی بورڈ استعمال کرکے صارفین کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ بہرحال ، رومن-اردو ٹیکسٹ پروسیسنگ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کوئی معیاری لغت نہیں ہے ، اس کے نتیجے میں اردو میں ایک لفظ کی ہجے مختلف ہوتی ہے۔ اس حقیقت کی وجہ سے ، نیشنل لینگویج آف پاکستان (NLP) محقق کی برادری کے ذریعہ اردو زبان میں کم سے کم کام کی اطلاع دی جاتی ہے۔ اس مطالعے کا مقصد رومن اردو اور اردو زبان پر جامع جائزہ پیش کرنا ہے ، جو اس علاقے میں مصنفین کے ذریعہ گذشتہ کاموں کا احاطہ کرتا ہے۔ مزید ، ہم اردو زبانوں کی گرائمٹیکل ڈھانچہ ، قبل از پروسیسنگ تکنیک ، سافٹ ویئر ٹولز اور رومن اردو اور اردو زبان میں استعمال ہونے والے ڈیٹا بیس پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ مزید برآں ، پرفارمنس میٹرکس ، الگورتھم تکنیک کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ آخر میں ، اختتام پر ، تحقیقی نتائج اور آئندہ سمتوں کو اجاگر کیا گیا تاکہ اس شعبے میں ناول کے نظریات پیش کیے جاسکیں۔
    این ایل پی کے کاموں میں شکلیاتی تجزیہ ، اسپیچ کے حصے (پی او ایس) ٹیگنگ ، اسٹاپ الفاظ کو ختم کرنا ، تجزیہ کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ انگریزی زبان کے لئے این ایل پی کافی پختہ ہے ، لیکن اردو کے ساتھ ساتھ رومن اردو زبان میں بھی کام کرنے کے سلسلے میں بہت فرق ہے۔ اردو میں کل پندرہ حرف ہیں ، تاہم ، کسی خاص حرف کی وضاحت کرنے کے لئے ، اردو میں مختلف اشخاص کے نشانات مرتب کیے گئے ہیں جو کسی حرف کے اوپر یا نیچے ہیں جو ایک خاص حرف کی وضاحت کرتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر چار ڈایئریکٹک ہیں جو فوٹوونکس کی نمائندگی کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر ، جدول 1 میں حرف ‘بی’ کے اس طرح کے امتزاج کو دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ، رومان اردو کو دوسری زبانوں میں نقل کرنے کا بھی ترجمہ گوگل ٹرانسلیٹ API کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لہذا ، لغت پر مبنی نقل حرفی کام کرنے کی مزید ضرورت نہیں ہے. پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں کم از کم چھ بڑی زبانیں اور 58 معمولی زبانیں ہیں۔ اردو قومی زبان ہے اور انگریزی پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔ قومی زبان اردو ، کے 11 ملین سے زیادہ مادری زبان بولنے والے ہیں جبکہ جو لوگ اسے دوسری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ 105 ملین سے زیادہ ہوسکتے ہیں ۔ فلولوجسٹ کہتے ہیں کہ آج ملک میں 300 سے زیادہ بولی اور زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اردو کو قوم کی شناختی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور کسی بھی خطے میں جہاں مادری زبانیں موجود ہیں وہاں اس کی مخالفت نہیں کی جاتی ہے ۔ اردو کو شامل کرکے ، شمالی ہندوستان میں ، بولی جانے والی (خاروبولی – پراکرت) زبان سے تشکیل دیا گیا ہے اسے فارسی اور عربی الفاظ بڑے پیمانے پر منعقد کیے جانے والی غلط فہمی کے برخلاف ، یہ مغل فوجوں کے کیمپ میں نہیں تشکیل پایا ۔ لیکن اردو لفظ اسی سے ماخوذ ہے ترکی کا لفظ آرڈو (فوج) جس نے انگریزی کو بھیڑ دی ہے۔ تاہم ، اردو میں ترکی کے قرضے کم سے کم ہیں ، اور جو الفاظ ترکی اور عربی سے اردو نے لیا ہے وہ فارسی کے ذریعے لیا گیا ہے ، اور اسی وجہ سے اصل الفاظ کا فارسی زبان میں ورژن ہے۔ نام اردو کو سب سے پہلے سن 1780 کے آس پاس شاعر غلام حمادانی مشفی نے استعمال کیا ہے۔ اگرچہ انگریزی زیادہ تر اشرافیہ حلقوں میں استعمال کی جاتی ہے ، اور پنجابی زبان بولنے والوں کی کثرت ہے ، صرف 7٪ پاکستانیوں کو ہی اردو کو اپنی مادری زبان سمجھتے ہیں ، لیکن اردو پورے پاکستان میں سمجھی جاتی ہے۔ یہ تعلیم ، ادب ، دفتر اور عدالت کے کاروبار میں مستعمل ہے۔ یہ اپنے آپ میں ملک کے ثقافتی اور معاشرتی ورثے کا ذخیرہ رکھتی ہے ۔ اردو کی ترقی میں ابتدائی لسانی اثرات غالبا سندھ کی مسلم فتح خصوصا محمد بن قاسم کی فتح سے شروع ہوئے تھے۔ 94 ھ / 712 ء میں 11 ویں صدی کے بعد برصغیر پاک و ہند پر حملے کے دوران ، زبان فارسی اور عربی رابطوں سے تیار ہونا شروع ہوگئی۔ دہلی سلطنت (1206-1526) اور مغل سلطنت (1526-1858) کے دوران اردو میں فیصلہ کن ترقی ہوئی۔ جب دہلی سلطنت جنوب میں دکن مرتفع تک پھیل گئی تو ادبی زبان جنوب میں بولی جانے والی زبانوں اور عدالت کے استعمال سے متاثر ہوئی۔ ابتدائی آیت 15 ویں صدی کی ہے اور اردو شاعری کا سنہری دور 18 ویں تھا -19 ویں صدیوں میں اردو مذہبی نثر متعدد صدیوں سے پیچھے ہے ، جبکہ سیکولر تحریر 19 ویں صدی سے اگلی عروج پر ہے۔ 14 ویں اور 15 ویں صدی کے دوران ، اردو میں بہت زیادہ شاعری اور ادب لکھنا شروع ہوئے۔ ابھی حال ہی میں ، اردو بنیادی طور پر برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے ساتھ جڑی ہوی ہے ، لیکن آج بھی اردو ادب کے بہت سے بڑے کام ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آمد برصغیر کی تاریخ کا ایک قابل ذکر واقعہ تھا۔ اس نے لوگوں کی معاشرتی زندگی کے تقریبا تمام شعبوں کو متاثر کیا۔ فن تعمیر ، مصوری اور خطاطی ، کتاب کی مثال ، موسیقی اور یہاں تک کہ رقص سمیت مسلمانوں کی اپنی ثقافت اور تہذیب میں شاندار شراکت تھی۔ مسلمانوں نے ہمیشہ زندگی کی تاریخ ، سوانح حیات اور سیاسی تاریخ میں دلچسپی لی تھی۔ لہذا ، اس میدان میں بھی ان کا عمدہ شراکت تھا۔ تاہم ، ان کی سب سے نمایاں شراکت اردو زبان کا تحفہ ہے۔ اگرچہ مسلمان تین صلاحیتوں میں برصغیر میں آئے ، بطور تاجر یا کاروباری افراد ، بطور کمانڈر اور سپاہی یا فاتح اور تبلیغ کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے مبلغین کی حیثیت سے ، لیکن اردو کے ارتقاء اور ترقی میں ان کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ جدید اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور دنیا کے بہت سے لاکھوں لوگوں کے ذریعے بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد ، اردو کو نئے ملک کی قومی زبان منتخب کیا گیا۔ پاکستان میں اردو زیادہ تر پہلی زبان کے طور پر سیکھی جاتی ہے اور پاکستان کی زیادہ تر آبادی اردو کے علاوہ اپنی مادری زبانیں بھی رکھتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے کے دوران ، مسلمان برصغیر میں تین صلاحیتوں ، جیسے تاجروں یا کاروباری افراد ، بطور کمانڈر اور سپاہی یا فاتح آئے۔ اردو کی اصل برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اور رہائش سے متعلق ہے ، اور وہ اسے اپنے ساتھ نہیں لاتے تھے۔ یہ صرف فاتحین اور فاتحین کے باہمی رابطے کی وجہ سے وجود میں آئی ، اور عربی ، فارسی اور ترکی کے ساتھ مقامی زبانوں میں یکجا ہونے کی وجہ سے اردو جیسی متضاد زبان ابھری۔ ایک ابتدائی مرحلے میں ، ابتدائی اسلامی مذہبی مبلغین نے اپنی تبلیغ کے کام کو انجام دینے کے لئے مقامی بولیوں کے ساتھ ساتھ معاصر ادبی روایات اور خصوصیات کو بھی اپنایا۔ بہر حال ، تبلیغی فرائض کی انجام دہی کے دوران انہوں نے اردو کی ترقی اور ترقی میں بہت خدمات انجام دیں۔ اسی طرح اردو کے ان ترقی یافتہ اور ترقی میں محب وطن نظموں ، نثروں ، ناولوں اور افسانوں کو لکھ کر شاعری کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے اردو شاعروں کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ مزید یہ کہ اردو گانوں کے مصنفین اور گیت نگاروں نے اس کو ایک بہت ہی بہتر اصلاح پسند ادبی زبان بنا دیا جس کی ہر قسم کے اظہار کے قابل ہے۔ مزید برآں ، اردو لکھاریوں نے مزاحیہ کالم ، مضامین اور مختلف نیوز پیپرز اور رسالوں میں مباحثے بھی لکھے جو آن لائن دستیاب ہیں ، اور لوگوں کو اس زبان کو جاننے کے لئے متحرک کرنے میں بہت مدد فراہم کرتے ہیں۔ ثقافتی مواصلات ، زبان کی منصوبہ بندی اور زبان کی پالیسی ، زبان کی نشوونما ، زبان کے تعلقات ، اور زبانوں کے بارے میں عمومی تجسس کے ساتھ سب کے لئے یہ معلومات ہر ایک کے لئے قیمتی ہوں گی۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • حب آف منی لانڈرنگ  تحریر: محمد اسعد لعل

    حب آف منی لانڈرنگ تحریر: محمد اسعد لعل

    پیسہ ہاتھ کی میل سمجھا جاتا ہے اگر یہ پیسہ ناجائز طریقہ سے کمایا جائے تو ہاتھ کے ساتھ ساتھ نصیب بھی میلا کر دیتا ہے۔منی لانڈرنگ ایک کالا دھندا ہے جس میں غیر قانونی طریقوں سے کمائے گئے کالے پیسے کو سفید میں بدلا جاتا ہے۔جب کوئی مجرمانہ کاروائی سے پیسے کماتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس پیسے کی غیر قانونی حیثیت عیاں نہ ہو۔پیسے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے اس کی ابتداء کو چھپایا جاتاہے۔
    پاکستان کا پیسہ، انڈیا کا پیسہ، افغانستان کا پیسہ اور دنیا کے غریب ممالک یا ترقی پزیرممالک کا پیسہ کون اور کیسے کھا جاتاہے؟آخر منی لانڈنگ ہو کہ پیسہ جاتا کہاں ہے؟
    اس کے اوپر عالمی سطح پر کام شروع ہوا ہے، پاکستان نے اس معاملے کو اُٹھایا ۔اس سے پہلے کو ئی اور اس بارے میں بولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔دنیا کے حکمران اس پر بات کیوں نہیں کرتے یہ ایک اہم سوال ہے۔
    برطانیہ کو منی لانڈرنگ کا حب سمجھا جاتا ہے۔برطانیہ کیسے دنیا بھر کا پیسہ اکٹھا کرتا ہے اس پر ٹرانسپیریسی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کا جو گندا پیسہ ہےوہ کچھ مددگار کمپنیوں کے ذریعے سے "یو کے” میں اکٹھا کیا جاتا ہے۔اور پھر دو نمبر طریقے سے "یو کے” کے آف شور سنٹرز تک یہ پیسہ پہنچتا ہے۔ اس پیسہ کوپھر برطانیہ کی لگژری قسم کی پراپرٹیز میں انویسٹ کیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے یہ پیسہ ان ممالک سےجہاں پر کرپشن کی گئی ہو، برطانیہ پہنچایا جاتا ہے۔برطانیہ میں اس پیسے کو آف شور کمپنیز میں چھپایا جاتا ہے پھر اس پیسے سے آف شور کمپنیز کے ذریعے پراپرٹیز خریدی جاتی ہیں ، لیکن یہ پتا نہیں چلتا کہ پراپرٹیز کس کی ہیں۔ مثال کے طور پہ برطانیہ میں ایک آدمی کے پاس دس ارب کی پراپرٹی ہے مگر وہ اس کے اپنے نام پر نہیں لی ہوئی۔اس نے پاکستان یا کسی دوسرے ملک سے پیسہ منی لانڈنگ کر کے برطانیہ پہنچایا ، برطانیہ میں وہ پیسہ آف شور کمپنی میں ڈالا گیا ۔اب آف شور کمپنی کا مالک کون ہے یہ کسی کو نہیں پتا۔ وہ کمپنی پراپرٹیز خرید لیتی ہے۔ اب مالک اور پراپرٹیز کے درمیان ایک آف شور کمپنی آ جاتی ہے لحاظہ اصل مالک کا کسی کو پتا ہی نہیں چلتا۔یہ وہ طریقہ واردات ہے۔
    برطانیہ میں داخل ہونے والی دو نمبر رقم کا پیمانہ سالانہ اربوں پاؤنڈ سے کہیں زیادہ ہے۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ برطانیہ حکومت ان منی لانڈرز کا دفاع کیسے کرتی ہے۔
    برطانیہ کی گولڈن ویزہ کی ایک پولیسی ہے۔جو بدعنوانی کے اور کرپشن کے پیسوں کو ملک کے اند خوش آمدید کہتی ہے۔اس پولیسی کے تحت اگرآپ کے پاس دو ملین پونڈز ہیں تو آپ برطانیہ کا گولڈن ویزہ لے کر وہاں جا کر کاروبار کر سکتے ہیں ۔اپنا پیسہ وہاں لگائیں کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔تین چیزیں جو برطانیہ کے قانون کے اندر موجود ہیں جن کی وجہ سے منی لانڈرنگ کا پیسہ پکڑا نہیں جاتا۔
    نمبر 1: برطانیہ کا قانون کمپنی مالکان کا نام چھپانےکی اجازت دیتا ہے۔مثال کے طور پر میں برطانیہ میں کوئی اربوں روپے کی پراپرٹی میں رہتا ہوں ۔یہ تو سب کو پتا چل جائے گا کہ اس پراپرٹی میں رہتاکون ہے پر وہ اس پراپرٹی کا مالک نہیں ہے اب مالک کون ہے؟ وہ کوئی آف شور کمپنی ہے اور آف شور کمپنی کا مالک کون ہے اس کا پتا برطانوی قانون نہیں لگنے دیتا۔
    نمبر2: پولیس اس چیز کو ڈیٹیکٹ نہیں کر سکتی کہ ان کمپنیوں کی ناجائز دولت کی ابتداء کیسے ہوئی۔
    نمبر3اور آخری چیز جو برطانیہ کے قانون میں اس غیرقانونی پیسے کو سپورٹ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ برطانوی کمپنیوں کا رازداری کا نظام عالمی سطح پر معاشی جرائم کو سہولت فراہم کرتا ہے۔
    امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ جو 2017 میں شائع ہوئی جسکے مطا بق پاکستان سے ہر سال دس ارب امریکی ڈالرمنی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے باہر پہنچ جاتے ہیں۔
    وزیراعظم عمران خان نے 2020 میں اقوامِ متحدہ کے ایک پینل سے کچھ مطالبات کیے تھے ان میں سے 4 مطالبات بہت مقبول ہوئے۔
    انہوں نے پہلا مطالبہ یہ کیا کہ ایسے مالی ادارے جو اس طرح کی رقوم حاصل کرتے ہیں ان کو بھی قانون کے دائرے میں لانا چاہیے۔
    دوسرا ،ترقی پزیر ممالک سے لوٹا گیا پیسہ انہیں واپس ہونا چاہیے۔
    تیسرا ،بین الاقوامی برادری کو غیر قانونی دولت کے بہاؤ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اُٹھانے کے لیے نئے قوانین بھی بنانے چاہیں۔
    چوتھا، اگر کسی بھی متاثرہ ملک کی غیر ملکی آف شورکمپنی کی تحقیقات ہو رہی ہےتو پھر برطانیہ یا وہ ملک جہاں یہ کمپنی موجود ہے،اس آف شور کمپنی کی اونر شپ کو ظاہر کر دے۔
    اب بین الاقوامی ادارے بھی اس پر بات کر رہے ہیں ۔برطانیہ نے کچھ نئے قوانیں بنائے ہیں کچھ اور ملک اس بارے میں سوچ رہے ہیں پر ابھی بھی وہ ان پیسوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دباؤ بڑھتا جائے ، کمزور اور غریب ملک مل کر آواز اُٹھائیں کے ہمارا پیسہ واپس کرو تو شائد اُن کا پیسہ واپس آ جائے۔لیکن اس کے لیے ہم آواز ہونے اور بین الاقوامی انصاف کی ضرورت ہے۔
    ہمیں اب اس مسلہ کے حل کی طرف آنا چاہیے۔سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ برطانیہ کرپٹ سیاستدانوں کی دولت کی حفاظت کرتا ہےاور بدلے میں ان ممالک کے اندرونی معاملات کو کنٹرول کرتا ہے۔دوسرا برطانیہ غریب ملک کے پیسے پر موج کر رہا ہےاگر تمام غریب ملک اپنا پیسہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں تو برطانیہ دھرم سے نیچے آجائے گا۔
    برطانیہ پاکستان سے لوٹا گیا پیسہ اپنے بنکوں میں ڈال رہا ہے اور جس کی قیمت پاکستانی عوام ترقی میں رکاوٹ کی صورت میں برداشت کر رہا ہے۔برطانیہ اور امریکہ اب اس بات کو سمجھیں غریب ملک کی عوام اپنی غربت،پریشانیاں اور پسماندگی کے لیےنہ صرف اپنے نااہل اور کراپٹ حکمرانوں کو ذمےدار سمجھتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان ممالک کو بھی ذمے دار سمجھنے لگ گے ہیں جہاں پر یہ پیسہ لے جا کر چھپایا جا رہا ہے۔ جتنا جلدی یہ ممالک اس بات کو سمجھیں گے یہ ان کے لیے بھی اچھا ہو گا اور غریب ممالک کے لیے بھی بہتر ہو گا ورنہ غربت بڑھتی چلی جائے گی اور دنیا نئی لڑائیوں کی طرف دھکیلی جائے گی۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • ہم بدلیں گے نظام تحریر: آمنہ فاطمہ

    ہم من حیث القوم مسائل کا شکار ہیں آسمان سے کوئی مسیحا نہیں اترے گا اس نظام کو بدلنے کے لیے ہمیں کمر خود باندھنا ہو گی
    پاکستان میں لاقانونیت انتہادرجے کو پہنچ چکی ہےہم صحیح معنوں میں قوم نہیں بن سکے آئین پاکستان اور قانون میں تمام شہری برابر ہیں مگر یہ بات صرف تقریروں اور تجزیوں کی حد تک مخفوظ ہے کیونکہ برابری کے قانون پر عمل در آمد کی بات کتابی تحریر سے زیادہ اہم نہیں ہوتی ہر شخص اور ادارہ اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں پر تنقید کرتا ہے چاہے وہ بیوروکریسی ہو یا عدلیہ یا کوئی اور ادارہ بدانتظامی اور کرپشن کی وجہ سے ہم تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں ہم جہالت اور لاقانونیت کی وجہ سے بدترین نظام بناتے جا رہے ہیں ہمیں پرائمری سکول میں قطار میں لگنے کا سبق تو پڑھایا جاتا ہے مگر حقیقت میں ہر شخص اسی کوشش میں ہوتا ہے کہ لائن میں لگے بغیر کام ہو جائے اور لائن سے بچنے کے لیے رشوت یا سفارش کا سہارا لینا ہوتا ہے نتیجتاً میرٹ کا قتل عام ہو جاتا ہے
    یہاں الٹی گنگا بہتی ہے جو قانون کی پاسدارسی کرتا ہے اسے انصاف میسر نہیں ہوتا اور جو قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے وہ سزا یافتہ قرار نہیں پاتا کیونکہ اس کا تعلق وی آی پی خاندان سے ہے وہ پنے لئے انصاف جیت تو نہیں مگر خرید ضرور سکتا ہے
    بے شمار وسائل ہونے کے باوجود جہالت, بے روزگاری, نا انصافی, غربت اور لاقانونیت کی دلدل میں دھنسی ہوئی اس قوم نے قدرتی وسائل کا جس بے دردی سے ضیاع کیا ہے اسکی مثال دنیا میں نہیں ملتی ان سارے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیں بحیثیت قوم سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا سب سے پہلے تو قانون کی حکمرانی اور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا ہمیں انفرادی طور پر بدلاؤ کی ضرورت ہے, انفرادی بدلاؤ ہی اجتماعی تبدیلی کا سبب بنتا ہے اگر آج ہم میں سے ہر کوئی خود کے ساتھ یہ عہد کرے کہ وہ رشوت, سفارش اور لاقانونیت سے باز رہے گا, میرٹ کو پروموٹ کرے گا قومی وسائل کا بے جا استعمال نہیں کرے گا, ناپ تول میں کمی نہیں کی جائے امیر,غریب کا فرق نہ کرتے ہوئے مسائل کو حل کیا جائے گا جھوٹ کو چھوڑتے ہوئے سچ بولے گا حتی کہ زندگی کے ہر فیز میں ایمانداری, دیانت داری, اور نظم و ضبط کو اپنایا جائے اپنایا جائے گا تو دیکھئے گا زندگی کا سفر کتنا آسان ہو جائے گا آسانیاں بانٹیں تا کہ آپ آسانیاں سمیٹ سکیں خود احتسابی کی کوشش کو عام بنائیں چاہے آپ کا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو اپنا کام درست انداز میں کریں

    @AamnaBukhari