Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏منفی اور مثبت سوچ تحریر:عرفان اللہ

    ‏منفی اور مثبت سوچ تحریر:عرفان اللہ

    اس دنیا میں قابل سوچ اور سلامت ذہن والے لوگوں کے دو اقسام ہوتے ہیں جس میں منفی سوچ اور مثبت سوچ والے ہوتے ہیں۔ منفی سوچ والے لوگ ایک اچھے کام، بات، سوچ یا نظریے میں بھی صرف ان چیزوں کا نشاندہی کرتا ہے جس کا رجحان نفی کی طرف ہو اور مثبت سوچ والے لوگ کسی نفی بات یا کام میں بھی مثبت چیزوں کو ایسے سامنے لاتا ہے کہ انسان کی ذہن اس کام کیلئے مکمل تیار ہوتا ہے۔ دنیا میں پائی جانے والی تمام اشیاء کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور ایک برا۔ اب یہ انسان کی ذہنیت پر ہے کہ وہ اس چیز کا استعمال اچھائی کے ساتھ کریں یا برائی کے ساتھ۔
    مثال کہ طور پر آج کل استعمال ہونے والی ایک انٹرٹینمنٹ ایپ ٹک ٹاک دیکھے۔ ٹک ٹاک پر اپکو بہت سے کیٹگری انٹرٹینمنٹ، شوبز، سپورٹس، شاعری، مزاحیہ، ٹیلنٹ اور انفارمیٹیو سے وابستہ لوگ ملے گی۔ اب اگر ایک انسان اچھا سوچتا ہے اس کی سوچ مثبت ہے تو اس ایپ کو اچھے طریقے سے استعمال کرکے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس پر لوگوں کو تعلیم دیا جا سکتا ہے، اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو روزگار سکھایا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنا چھوٹا کاروبار کر سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنی کاروبار کو پروموٹ کر سکتا ہے، اس ایپ کی مدد سے ایک خیراتی ادارہ چلا سکتا ہے، اس ایک کے ذریعے انسانوں کو زندگی کے اصول سکھایا جا سکتا ہے، کھیل کھود اور دوسرے انٹرٹینمنٹ ویڈیو دکھا سکتا ہے، احادیث اور اقوال زرین دکھایا اور سکھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں جن کی مدد انسان معاشرے اور انسانوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
    اب ایک بندہ ہوگا جس کی سوچ منفی ہوگی ہمیشہ کیلئے ایک اچھی چیز میں بھی اس کو حامی نظر آئے گی۔ ہمیشہ کیلئے کسی چیز کا استعمال منفی طریقے سے کرے گا۔  اب وہی بندہ جس کی سوچ منفی ہے، مثبت سوچ رکھنے والے کی برعکس اسی ایپ کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے۔ محتلف ایسے موضوعات پر لیکچر دے سکتا ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب ہو، اس ایپ کے ذریعے  فحاشی پھیلایا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے حرام کی کمائی کیا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے کسی کی پردہ پوشی کر سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنی عزت نیلام کر سکتا ہے۔
    اس ایپ کے ذریعے ڈانس، گانے بجانے یا فحاشی کے مراکز کو دکھا کر معاشرے کو تاریکی اور فحاشی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔
    اس کے علاوہ منفی سوچ کی سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ نہ وہ انسان خود معاشرے کی فلاح اور اصلاح کیلئے تیار ہو سکتا ہے اور نہ دوسروں کو اس کام کیلئے تیار ہوتے دیکھ سکتا ہے۔ لقمان حکیم صاحب فرماتے ہے کہ کہ اگر آپ کے پاس کوئی انسان آئے اور اسکی ایک آنکھ کسی نے نکالی ہو اور وہ آپ سے کہے کہ فلاں نے میری آنکھ نکالی ہے تو یقین کرنے سے پہلے تحقیق کیا کرے کہ کہے اس بندے نے اسی انسان سے دو آنکھیں تو نہیں نکالے ہیں۔ معاشرے اس بات حیال ضرور رکھا کرے کہ کسی سے بھی کسی کام کیلئے مشورہ لیتے ہوئے ایسے بندے سے لے کہ اسکی سوچ مثبت اور وسیع ہو۔ تاکہ آپکی کام کیلئے ایک مشورہ ملنے کے ساتھ ساتھ آپکی حوصلہ افزائی بھی ہو جائے۔ ایک نفی سوچ والے سے اگر آپ ایک اچھے بلے کام  کیلئے مشورہ اور صلاح لینا چاہوںگے تو وہ آپکی حوصلہ افزائی کے بجائے اس میں اتنی حامیاں نکالے گی کہ آپ کام کرنا ہی چھوڑے گے۔ اس لئے اللہ تعالی سے، انسانوں سے اور چیزوں سے ہمیشہ کیلئے اچھی توقعات رکھے انشاءاللہ آپکی قسمت ہر چیز نفع بخش اور سودمند ثابت ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالی انسان کی گمان اور سوچ کی مطابق فیصلے نازل فرماتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں انسانوں اور حیوانوں کی ضرر سے محفوظ رکھے اور ہمیں اچھی اور مثبت سوچ رکھنے والے رفیق عطا فرمائے۔

    ٹویٹر: ‎@Muna_Pti

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر عمران اے راجہ

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر عمران اے راجہ

    پارٹ ۳:
    ۳: کروکوڈائل برِج گیٹ Crocodile Bridge Gate
    اس راستے سے پارک کی کون سی خاص جگہات پر جا سکتے ہیں اس کا خلاصہ کچھ ایسے ہے
    ٭ مین روڈ جو کہ پکی سڑک ہے جنوب کی جانب لوئر سابی کی طرف جاتی ہے جس کا نام H4-2 ہے۔
    ٭ مشرق کی طرف لیبومبو ایریہ کی طرف جاتی ہے جس کا نام S28 ہے۔
    ٭ مغرب کی جانب جانے والی کوروکو ڈائل ریور سڑک بیاماتی ایریہ کی طرف جاتی ہے S25 ۔
    ٭ شمال کی طرف رُوٹ رینڈسپریٹ روڈ H5 کے راستے سکوکوزا کی جانب جاتا ہے جس کا نام ہے H4-1۔
    اب آتے ہیں تفصیلات کی جانب۔ کروکوڈائل برج گیٹ بالکل مشرقی جانب سے کروگر میں داخلے کا راستہ ہے جو ہائی وے N4 سے آتا ہے۔ N4 ہائی وے مین ٹاؤن نیلسپریٹ اور مالےلان سے ہوتی ہوئی کوماٹی پورٹ کی جانب آتی ہے جو موزمبیق کے بارڈر سے پہلے ساؤتھ افریقہ کا آخری چھوٹا سا ٹاؤن ہے۔ اس کا شمار گرم ترین علاقوں میں ہوتا ہے اور موسم گرما میں درجہ حرارت 40 ڈگری تک بھی جاتا ہے۔
    کروکوڈائل برج گیٹ کا نام کروکوڈائل ریور کی نسبت سے رکھا گیا۔ جو لوگ پارک کے جنوب مشرقی حصے کی طرف جانا چاہیں ان کے لیے یہ گیٹ سب سے ڈائریکٹ اور آسان راستہ ہے۔ کروکوڈائل برج پر آپ کو جھاڑیوں اور گھنے جنگل پر بہت کڑی نظر رکھنی ہے کہ یہاں بہترین مواقع ہیں نایاب جانوروں کو درختوں یا جھاڑیوں میں دیکھنے کے۔
    گیٹ سے داخلے کے کچھ ہی فاصلے بعد آپ کو کروکوڈائل برج کیمپ ملے گا جہاں پٹرول پمپ اور کھانے پینے کے علاوہ دوسری اشیاء ضروریہ میسر ہیں۔ یاد رہے بارش کے موسم میں یہاں سیلابی کیفیت ہوتی ہے لہذا بارش کی صورت میں زیادہ دیر رکنے سے گریز کریں۔
    کروکوڈائل برج سفید گینڈوں کا مسکن ہے اور یہ اکثر آپ کو درختوں تلے ملیں گے جبکہ شرمیلا کالا گینڈا آپ کو گھنی جھاڑیوں میں ملتا ہے۔
    یہاں کے دوسرے خاص جانور شیر، چیتا، ہائنا، جنگلی کتے، امپالہ اور دریائی گھوڑے ہیں۔
    انیسویں صدی کی شروعات سے Nhlowa Road S28 کروکوڈائل برج گیٹ کی طرف سابی گیم ریزرو کی جانب جانے والا مین راستہ تھی۔ یہ سڑک جنوب مشرقی جانب مڑتی ہے جہاں سے پارک کا داخلہ ہے اور اس کا رُخ لیبومبو رینج کی طرف ہے جو موزمبیق اور جنوبی افریقہ کا بارڈر ہے۔
    یہ خطہ نوب تھورن جھاڑیوں اور مارُولا کے درختوں سے گھِرا ہے۔ یہ عام جنوبی حصے کی نسبت زیادہ میدانی اور ہموار ہے اور گیم واچنگ کے لیے بہترین کیونکہ یہاں اچھی چراگاہیں ہیں۔
    جیسے جیسے آپ لیبومبو پہاڑی سلسلے کی طرف بڑھتے جائیں گے سبزہ کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔ جیسا کہ جنوبی حصے کی خاصیت سفید گینڈا ہے یہاں آپ کو بلیک بریسٹ سنیک ایگل بھی دِکھے گا۔
    یہیں پر آپ کو ایم پانا مانا ڈیم بھی ملے گا جس کا اختتام کروکوڈائل ریور میں ہوتا ہے۔ یہ سڑک S28 آپ کو مزید جنوبی طرف لے جائیگی جہاں براستہ H4-2 آپ لوئر سابی ریسٹ کیمپ کی طرف جاتے ہیں۔
    کروکوڈائل برج اور لوئر سابی کی درمیان شمالی ایریا H10 آپ کو جنگلی حیات کے چند بہترین نظارے فراہم کرتا ہے۔ بہترین مناظر چیتا دیکھنے کے ہیں۔ یہ ایریا ہموار، سرسبز، بہترین گھاس اور چراگاہوں سے مزین ہے جو چیتوں کی پسندیدہ ترین جگہیں ہیں۔ چیتا ہمیشہ ہموار جگہ کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہاں اس کی رفتار تیز ترین اور شکار آسان ہے۔
    لوئر سابی کا گومونڈوانے روڈ ورھامی ریور کے ساتھ چلتا ہے۔ یہاں پر دو پانی کے ذخیرے ہیں گیزاٹومبی اور گومونڈوانے۔ پانی کے ذخیرے بہترین جگہ ہیں گیم واچ کے لیے کیونکہ تمام جانوروں کو پانی کے لیے وہیں جانا پڑتا ہے۔
    جیسے ہی آپ لوئر سابی کیمپ پہنچیں گے آپ کو مشرق کی جانب لیبومبو ماؤنٹین رینج نظر آئیگی اور منتشے ماؤنٹین بالکل آپ کے سامنے جہاں بہت سے زیبرہ اور وائلڈ بِیسٹ بھی ملیں گے۔یہ سڑک داہنے مڑتے ہی آپ کو بہترین دریائی ماحول والی کیمپ سائٹ کی سیر کروائے گی۔
    کروگر پارک کا جنوبی حصہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے جو صدیوں پیچھے جاتی ہے۔ یہاں پر دوسری دلچسپیوں کی علاوہ یہاں آپ کو مشہور زمانہ “بُش مین” کی پینٹنگز بھی ملیں گی جو San لوگوں نے بنائی ہیں۔ یہ لوگ کسی زمانے میں یہیں رہتے اور شکار کرتے تھے۔
    یہ خطہ ناصرف شکار اور جنگلی حیات کے مشاہدے کے لیے بہترین ہے بلکہ یہاں ایک کثیر تعداد ہائناز کی بھی ہے۔ یہاں کا گیم ایریہ “جنوبی سرکل” کہلاتا ہے۔ یہاں شیروں کے جھنڈ پائے جاتے ہیں جو نِت نئے طریقوں سے شکار کے لیے مشہور ہیں اور بہترین دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ کروکوڈائل برج اور لوئر سابی کے درمیان کا علاقہ کروگر کے بہترین حصوں میں سے ہے اور یہاں سب سے زیادہ چانس ہے کہ آپ “بِگ فائیو” کو دیکھ سکیں۔
    “کروکوڈائل برج گیٹ بہت مشہور اور آئیڈیل جگہ ہے لہذا اس کی طوالت زیادہ ہے۔ دوسرے گیٹس کے ساتھ اس کی مزید تفصیلات ایڈ کروں گا”۔۔
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • پیشہ ور بھکاری۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پیشہ ور بھکاری۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    دورانِ سفر کسی بھی چوک میں ٹریفک کا اشارہ سرخ ہوتے ہی لوگوں کا ایک ہجوم گاڑیوں کی طرف لپکتا ہے۔ کوئی گاڑیوں کے شیشے صاف کرنا شروع کرتا ہے اور کوئی کُچھ بیچنے کی کوشیش، اس ہجوم میں زیادہ تر بچے یا خواتین ہوتی ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر کوئی ایک مخصوص لین تک ہی محدود رہتا ہے۔

    اسی طرح ہسپتالوں کے اندر اور باہر بھی لوگوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے جو لوگوں سے مدد مانگتے نظر آتا ہے۔ کسی کو گھر واپسی کے لیے کرایہ چاہیے ہوتا ہے تو کسی کے پاس دوائی لینے کے لیے پیسے کم پڑ جاتے ہیں۔

    یہ لوگ ایسی ایسی تاویلیں گھڑتے ہیں کہ کوئی بھی سننے والا ششد رہ جائے۔ خیرات ملنے کی صورت میں جہاں یہ لوگ دعاؤں کی بھرمار کر دیتے ہیں وہیں کُچھ لوگ خیرات نہ دینے پر بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

    ایسے لوگ دراصل پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں، بھیک مانگنا ہی ان کا روزگار ہوتا ہے۔ کم محنت اور زیادہ کمائی کی وجہ سے یہ محنت مزدوری کرنے کی بجائے بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    پیشہ ور بھکاری بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق بھکاری مافیا سے ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو ایسے کسی گینگ کے ساتھ منسلک ہونے کی بجائے انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ کام کرتے ہیں۔

    بھکاری مافیا سے منسلک افراد ایک گینگ کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ اغواء شدہ اور گود لیے گئے بچوں کو اپاہج بنایا جاتا ہے اور پھر اُن سے بھیک منگوائی جاتی ہے۔ کُچھ بچوں کو بھیک لینے کے لیے کتابیں بھی دی جاتی ہیں، اور انہیں سکھایا جاتا ہے کہ کتابیں بیچنے کے نام پر کس طرح غربت اور بھوک کا رونا رونا ہے کہ سامنے والا خود ہی بھیک دینے پر مجبور ہو جائے۔

    یہ گینگ بچوں کے ساتھ خواتین سے بھی بھیک منگواتا ہے۔ یہ مافیا نہ صرف ان سب بھیک مانگنے والوں کو مقررہ جگہ پر چھوڑنے اور واپس لے جانے کا انتظام کرتا ہے بلکہ ان بچوں اور خواتین کی نگرانی بھی کی جاتی ہے تا کہ کوئی ان کے مانگنے کے کام میں خلل نہ ڈالے۔

    پیشہ ور بھکاریوں کی دوسری قسم کسی گینگ یا مافیا سے تو منسلک نہیں ہوتی لیکن کام اسی طرح سے کرتے ہیں۔ بچوں اور خواتین سے چیزیں بیچنے کے نام پر بھیک منگوانا، معذوری اور غربت کے نام پر بھیک مانگنا وغیرہ۔ یہ لوگ یا تو انفرادی طور پر خود بھیک مانگتے ہیں یا اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کو بھی بھیک مانگنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔

    کسی بھی بارونق جگہ چلے جائیں، چاہے وہ کوئی بازار ہو یا مارکیٹ، ہسپتال ہو یا کوئی سرکاری ادارہ، بس سٹاپ ہو یا بس اڈے، کالج ہو یا یونیورسٹی، فوڈ سٹریٹ ہو یا کوئی ریسٹورنٹ آپ کو جگہ جگہ یہ پیشہ ور بھکاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    اگر ان بھکاریوں کی روزآنہ کی بھیک کا حساب کیا جائے تو یہ ہزاروں میں بنتی ہے۔ کُچھ عرصہ قبل ایک بھکاری سے ملاقات ہوئی جو رکشہ خریدنے لاہور آیا تھا۔ رکشہ خریدنے کی وجہ پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ بھیک مانگنے کے اڈے پر آنے جانے کے لیے اُسے روزآنہ 1200 روپیہ ایک رکشے والے کو دینا پڑتا ہے۔ رکشہ خرید کر وہ نہ صرف کرائے کے پیسے بچائے گا بلکہ رکشہ رینٹ پر بھی دے دے گا۔ ماہانہ آمدنی کا پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ ہر مہینے وہ لاکھوں روپیہ بھیک اکٹھی کرتا ہے۔

    اس واقعہ کے کُچھ عرصہ بعد ایک ہسپتال میں بھی ایک بھکاری سے ملاقات ہوئی، اُس نے بتایا کہ وہ روزآنہ چار سے پانچ ہزار روپیہ اکٹھا کرتا ہے، لیکن اُسے وارڈ کی آپا وغیرہ کو بھی حصہ دینا پڑتا ہے۔

    ان پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف آئے روز برائے نام کریک ڈاؤن ہوتے رہتے ہیں، لیکن اس مسئلے کا حل صرف اس طرح کی کارروائیوں سے نہیں ہو سکتا، کیوں کہ یہ لوگ پہلے ہی حصہ دے دیتے ہیں اور اگر کاروائی ہو بھی تو چائے پانی دے کر دوبارہ وہی کام شروع کر دیتے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بحثیت معاشرہ ایسے عناصر کی حوصلا شکنی کرنی چاہیے۔ جہاں اداروں کی کارروائی ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایسے پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دینے سے اجتناب کریں۔ اگر ہم ایسے افراد کو بھیک دینا بند کر دیں گے تو یہ خود ہی یہ کام چھوڑ دیں گے۔

  • تاریخ کے ابواب  تحریر: نایاب آصف

    تاریخ کے ابواب تحریر: نایاب آصف

    تاریخ کے ابواب کے تابندہ کرنوں کی مانند چمکتے ہوئے صفحات پر نظر پڑی تو میری چشم فلک نے قمر روشن کو حسن مکاں و لا مکاں کی خاطر شق ہوتے دیکھا٫روحانیت کے نیر اعظم کو اپنے قول و فعل سے بنی نوعِ انسان کو منور کرتے دیکھا٫قرآن کو پہاڑوں کی بجائے انسان کے سینے پر اترتے دیکھا٫ دشمنان اسلام کے مظالم کی تاریخ کو عفو و درگزر کی عظیم مثالوں سے مٹتے دیکھا٫عرب کے درندہ صفت انسانوں کو اپنے جذبہ ایمانی سے قیصر و کسریٰ کے محلات کو زیر کرتے دیکھا تو میرے ذہن میں یہ بات جنم لی کہ اس عظیم انسان کی امت کو بھی اتنا ہی عظیم ہونا چاہیے کہ جس کی آفتاب عالم تاب کی مانند شخصیت نے انسانیت کے قلب و جگر کو اپنے نور سے روشن کر دیا۔
    وہ پیر کامل ،دونوں جہانوں کا تاجدار انسانیت کی ہچکولے کھاتے ہوئی کشتی کا بیڑا پار لگانے آیا۔اس دار فانی کا زرہ زرہ اپنی استعداد کے مطابق اس ہستی کے کمال سے فیض یاب ہوا۔یہ وہی ذات تھی کہ جو راتوں کو رو رو کر اپنی امت کو نار جہنم سے آزادی کا پروانہ ملنے کی دعائیں کرتی تھی۔
    ان کی امت کون ہے؟
    ہم امت مسلمہ ہیں۔❤️
    کیا کبھی ہم نے سوچا کہ قیامت کے دن ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے؟ بدقسمتی سے آج ہم تباہی کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں۔12 ربیع الاول کے موقع پر صرف چراغاں کرنے اور ذاتِ اقدس کے قصیدے بیان کرنے سے ہم محبت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔آج فرانس میں ہمارے وہ نبی جو اپنی امت کے لئے اشک بار رہتے تھے ان کی توہین کی گئی اور افسوس امت مسلمہ ہمیشہ سے چند مظاہرے کرنے کے بعد خاموش ہو گئی۔ دنیا میں مسلمانوں کی پستی کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے نبی کی پیروی کرنا چھوڑ دی ہے۔ہمیں اپنے کردار سے ثابت کرنا ہو گا کہ ہم واقعی میں اس عظیم ہستی کی امت کہلانے کے لائق ہیں۔ہمیں صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے دنیا پر رعب قائم کرنا ہوگا تا کہ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرنے کی کسی کی ہمت نہ ہو۔ آئیے آج ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اپنے اقوال و افعال کو اپنے نبی کی زندگی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رول ماڈل مانیں گے ان کی ذاتِ مبارکہ کے اعلیٰ نمونے کو سامنے رکھ کر ویسا بننے کی کوشش کریں گے۔ہم اپنے کردار سے ایک دفعہ پھر اس دنیا پر اپنی دھاک بٹھائیں گے کیونکہ ہم اس نبی کی امت ہیں جن کی شان کے قصیدے غیر مسلم بھی پڑھتے ہیں۔
    سر باسورتھ سمتھ کا قول ہے:
    "اس دنیا میں اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس نے منصفانہ طور پر ایمانداری سے حکومت کی ہے تو وہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے”

  • انسان اور اس کی حیثیت  تحریر : اسامہ خان

    انسان اور اس کی حیثیت تحریر : اسامہ خان

    انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے کبھی بھی کوئی بھی انسان بھوکا نہیں مرتا کیونکہ انسان کے رزق کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے انسان اپنا بچپن گزارا ہے اور اپنے پسندیدہ پکوان اور مشروبات استعمال کرتا ہے یہ سب اللہ تعالی کا دیا ہوا ایک تحفہ ہوتا ہے اور ہم انسان اس کی ناشکری کرتے ہیں لیکن وہ پھر بھی رحیم و کریم ہے اس نے کبھی بھی ہمارے رزق کو نہیں روکا، لیکن جب انسان کسی مقام پر پہنچتا ہے اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو وہ نہ تو اپنے اردگرد والوں کا خیال رکھتا ہے آج اگر ہم اپنے ماضی کی طرف دیکھیں تو بہت سی ایسی شخصیات ملیں گی جنہوں نے بہت بڑے بڑے کارنامے کیے اور اکثر نے اپنی دنیاوی زندگی کو ہی اپنی کل زندگی سمجھ لیا لوگوں پر ظلم کیے لوگوں کو قتل کیا اور جب ان کی موت کا وقت آیا تم کو دو گز زمین بھی بہت مشکل سے نصیب ہوئی، آج کا انسان کیا ہے اگر دیکھا جائے تو آج کے دور میں سب اپنے آپ کو نواب سمجھتے ہیں اپنے سے غریب انسان کو اپنا غلام سمجھتے ہیں یہ صرف پیسے کی ہو ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں، کیونکہ اگر اللہ ان سے بھی دولت چھین لے تو وہ بھی دو وقت کے کھانے کو ترسیں گے جب انسان مرنے لگتا ہے تو نہ تو اسکا پیسا اسکے کام آتا ہے اور نہ ہی اسکی انا، آج ہم ایک دوسرے سے طاقت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اگر دیکھا جائے تو ہم دنیا میں آئے کس لیے تھے نہ تو ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے آئے تھے اور نا ہی ایک دوسرے کی غلطی پر اپنے پاؤں پکڑوانے۔ ہم سانس اپنی مرضی سے لے نہیں سکتے پتہ نہیں پھر اشرف المخلوقات کس بات کا غرور کرتے ہیں اور وہ ایسے سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی حالانکہ یہ ان کا وہم ہے دنیا میں کئی لوگ آئے اور بہت سے چلے گئے دنیا نہیں رکھی دنیا کا نظام چلتا رہتا ہے۔ بہت سے بادشاہ آج زمین دوز ہیں اور نصیب ہوئی تو صرف دو گز زمین کی قبر، یہ انسان کی حیثیت ہے زندگی تو چل رہی ہے اور چلتی رہے گی اور ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن قبر میں نہ تو دنیاوی مال و زر کام آئیں گے اور نہ ہی میرے عزیزو وقار تو کیوں نہ اپنی زندگی کو اصل مقصد کے لئے جیا جائے اپنی دنیاوی زندگی اللہ کو راضی کرنے میں لگائی جائے تاکہ جب کل کو انسان اللہ کے سامنے جائے تو وہ اپنی عبادات اللہ کے سامنے پیش کر سکے، یہ زندگی عارضی ہے اس نے گزر جانا ہے کیوں نہ ہو وہ کام کیا جائے جس میں دنیاوی زندگی میں بھی فائدہ ہو اور آخرت میں بھی فائدہ ہو اور اگر ہم کسی کی زندگی سے مثال لینا چاہیں تو حضور پاک کی زندگی سے لے سکتے ہیں کہ کیسے انہوں نے اپنی زندگی تقوی کے ساتھ گزار دی کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا لوگ ان پر کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے لیکن انہوں نے درگزر سے کام لیا بے شک ان جیسی مثال پوری دنیا میں نہیں ملے گی اور نہ ہی قیامت تک مل سکے گی، آج ہم نے ایک دوسرے پر تہمت لگاتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف چالیں چلتے ہیں جیسے ہمارا اپنی زندگی پر قابو ہے کاش کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے یہ سمجھ آ جائے کہ انسان کی اصل حیثیت کیا ہے تو انسان یہ سب کام چھوڑ دے گا اور اللہ سے توبہ کرلے گا بے شک وہ رحیم و کریم ہے اور سب کو معاف کرنے والا ہے

  • آزاد کشمیر کی سیاست تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    آزاد کشمیر کی سیاست تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں دیگر شعبوں کی طرح سیاست پر بھی سامراج کے گماشتہ حکمرانوں کا قبضہ ہے جو اسے سامراج کے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاست کا مطلب لوٹ کھسوٹ اور غنڈہ گردی بن گیا ہے۔آزاد کشمیر چونکہ غلاموں کے غلاموں کا غلام ہے اس لیے یہاں صورتحال مزید پتلی ہے اور کسی سے بھی پوچھئے سیاست کا کیا مطلب ہے تو وہ کہے گا کہ ایمانی،جوڑ توڑ، جھوٹے قرآن اٹھانے،پیسے دے کر ووٹ خریدنے اور برادری ازم کو ہوا دینا۔ جس طرح تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں عالمی سامراجی اپنی معاشی قبضے کی بنیاد پر سیاست میں اس کے دوام کے لیے درکار بنیادوں کو پکا کرنے کے لیے مداخلت کرتے ہیں اسی طرح آزاد کشمیر کی سیاست میں پاکستان کے سیاست کار بھی اپنے اپنے مفادات کی خاطر مداخلت کرتے ہیں اسلامی بازو والے ہو یا عوامی بازو والے "آزاد کشمیر کی بات چلی تو سب ہی ایک ہوئے”کے مصداق کھل کر اور ڈٹ کر مداخلت کرتے ہیں اور الیکشن ہوجانے کے بعد اور عوام کی طرف سے اپنے” نمایندے” اور "خادم” چن لینے کے بعد اگر پاکستان میں حکومت بدل جائے جو مزاج یار کی طرح بدلنے میں دیر کم ہی لگاتی ہے تو آزاد کشمیر میں بھی مطلع ابر آلود ہو جاتا ہے اور ننھا منا دارالحکومت مسند کے اوپر بیٹھی ہوئی کٹھ پتلیوں اور نیچے بڑھتی ہوئی کٹھ پتلیوں کی "پجارووں” کی گرگراہٹ سے لرزنے لگتا ہے اور یہاں نام کی صاحبان اقتدار کو بورے بورے خیالات آنے لگتے ہیں اور ہول اٹھنے لگتا ہے کے ہو نہ ہو کہیں کوئی بات ہوئی ضرور ہے جو میرے تخت پر کپکپی طاری ہے۔
    اس کے علاوہ سیاست کے میدان میں الحاق کی قوتوں نے کہیں زیادہ بڑی کامیابیاں حاصل کر رکھی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ الحاق کر بھی چکے ہیں تو بے جا نہ ہوگا انتخابات میں حصہ صرف وہی لے سکتا ہے جو الحاق کا وفادار ہو اور پھر جس طرح انتخابات ہوتے ہیں اور اس کے بعد پاکستان کے صدر یا وزیراعظم کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس میں اور پاکستان کے صوبوں کی حکومتوں میں فرق صرف یہی ہوتا ہے کہ” کاغذوں میں "وہ صوبے ہیں اور یہ” آزاد” عملی طور پر جس طرح وہاں پاکستان کے مرکزی سیاست کاروں کی "ڈانگ سوٹی”کے بغیر حکومت بن یا رہ نہیں سکتی اسی طرح یہاں بھی جب تک اسلام آباد سے مولوی صاحب نہ آئیں اقتدار کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد اسلام آباد سے مہاراجہ چائیں یہ منسوخ یا کالعدم بھی ہو جاتا ہے ۔
    یوں دیکھا جائے تو سیاست کے میدان میں بھی الحاق کی تحریک میں نمایاں کارہاے نمایاں سر انجام دیے ہیں اور انتخابی اور حکومتی ڈھانچے کی نوعیت اور فطرت میں یہ صفت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے کے اوپر سے جو حکم آئے اس کا یعنی ہماری آزاد حکومت کے ڈھانچے کا انگ انگ پکار اٹھے "سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے”

    ٹویٹر آئ دی :
    @zeeshanwaheed43

  • بچوں سے مزدوری کروانا    تحریر : علی حیدر

    بچوں سے مزدوری کروانا تحریر : علی حیدر

    ایک پسماندہ اور بے روزگاری کے شکار معاشرے میں کم سن بچے مزدوری کرتے ہوئے , ہوٹلوں پہ کام کرتے ہوئے یا اینٹیں ڈھوتے ہوئے عام دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کم سن بچوں کی بڑی تعداد تعلیم کو خیر باد کہہ کر یا تو محنت مزدوری کرنے پہ لگ جاتی ہے یا کوئی ہنر سیکھتے ہوئی دیکھائی دیتی ہے۔
    اگرچہ ہمارے ملک میں بچوں سے مزدوری کروانا , ان سے جسمانی مشقت کا کام لینا جرم ہے اور مختلف ادوار میں اس کے لئیے قانون سازی بھی ہوتی رہی ہے لیکن یہ قانون رفتہ رفتہ بے اثر ہوتا گیا۔ چناچہ گلیوں میں بھیک مانگتے , انڈے , قہوہ اور برگر بیچتے , فیکٹریوں , ہوٹلوں اور اینٹوں کے بٹھوں میں کام کرتے معصوم بچے ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں جو کہ ہماری پسماندہ سوسائٹی کا ایک افسوسناک پہلو ہے۔

    بچپن بچے کے جسمانی خدوخال کی نشوونما اور ذہنی و نفسیاتی ارتقاء کا بنیادی مرحلہ ہوتا ہے جس کے لئیے سکول بہترین جگہ ہے۔ سکول بچوں کی شعوری سطح کو بلند کرنے کے لئیے ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنے بہترین ہم عمروں کے ساتھ رہ کر آنے والے ذندگی کے لئیے خود کو تیار کر پاتے ہیں اور ان کی شعوری سطح بھی بلند ہوتی ہے۔لیکن سکول میں موجود بچوں کے مقابلے میں بچوں کی ذیادہ تعداد کا سکول کی بجائے مزدوری کرنے کے لئیے سکول سے باہر موجود ہونا اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا ڈھانچہ جن بنیادوں پہ استوار کھڑا ہے ان میں ضرور کوئی خامی ہے۔
    بظاہر اس کی بنیادی وجہ بے روزگاری اور آبادی میں اضافہ ہیں لیکن حقائق کا بغور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے عوامل آپس میں جڑے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ان گنت مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ان مسائل میں مہنگائی , شعور کی کمی , پرانی روایات , غربت , بے روزگاری , منشیات اور صحت کی عدم سہولیات وہ مسائل ہیں جن میں ایک مسئلہ کی وجہ بن رہا ہے۔
    آبادی میں اضافہ بہت سے ماحولیاتی اور معاشرتی مسائل کو پیدا کرتا ہے کیونکہ آبادی میں اضافے سے ضروریات ذندگی بڑھ جاتی ہیں جن کو پورا کرنا خاندان کے اکیلے کمانے والے شخص کے بس میں نہیں رہتا۔
    ہمارے معاشرے کا افسوسناک اور منفی پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کے اکثر افراد اپنی عورتوں کو ملازمت کی اجازت نہیں دیتے اگرچہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہوں۔ چناچہ جب اکیلا مرد گھر کے اخراجات پورے نہیں کر پاتا تو وہ معصوم بچوں کی تعلیم چھڑوا کر ان کو کام پر لگا دیتا ہے۔
    معاشرے میں بچوں کے مشقت اور مزدوری کرنے کے کلچر کو ختم کرنے کے لئیے پہلا اقدام عورت کے لئیے ملازمت کے مواقع فراہم کرتے ہوئے اس کے ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ خاوند کے ساتھ مل کر حصول معاش میں اس کا ہاتھ بٹا سکے اور وہ دونوں مل کر اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے ذیور سے آراستہ کر کے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ نسل کی بنیاد رکھیں۔
    بنیادی تعلیم حاصل کئیے بغیر ایک بچہ جب ایک خاندان کا سربراہ بنے گا تو وہ تب بھی مزدوری کر کے روزی کمائے گا ۔ یوں نہ صرف اس کی ساری ذندگی مزدوری میں گزر جائے گی بلکہ وہ خود بھی مستقبل میں اپنے بچوں کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کو مزدوری پہ لگا دے گا ۔ اس طرح ایک خاندان ایک ایسی نسل کو جنم دے گا جس کا کوئی بھی فرد پڑھا لکھا اور معاشی طور پہ خوشحال نہیں ہو گا۔
    معاشرے میں پھیلتے ہوئے جرائم , منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ اور محرومی و احساس کمتری کے شکار افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی کسی حد تک اسی وجہ سے ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کو بچپن سے ہی جسمانی مشقت پہ لگا دیا جاتا ہے جہاں سے وہ متششدد بن کر جرائم کی راہ اپناتے ہیں یا منشیات کے عادی ہو کر ذندگی کی ذمے داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    بچے کی جسمانی مشقت کے ساتھ گھر کی معشیت کو وقتی طور پہ ذرا سا کاندھا تو میسر آ جاتا ہے لیکن اس کے نتائج دیر پا ہوتے ہیں جو نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

    بچوں سے مزدوری کروانے کے کلچر کا بنیادی اور مؤثر حل یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لئیے اقدامات اٹھائے جائیں

    بچوں کی جسمانی مشقت اور مزدوری کرنے کے خلاف قانون سازی عمل میں آنی چاہئیے ۔ اس مقصد کے لئیے وہ فیکٹری , ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان جو بچوں کو ملازمت کرنے کے لئیے اپنے پاس جگہ دیتے ہیں ان کے خلاف کاروئی عمل میں لائی جائے۔
    مرد کے ساتھ ساتھ نہ صرف عورت کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے بلکہ عورت کے ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ مرد کے ساتھ شانہ بشانہ مل کر گھر کی معشیت کا بوجھ ہلکا کر سکے۔
    معاشرے کے صاحب حیثیت افراد کو چاہئیے کہ وہ غریب خاندانوں کی کفالت کا ذمہ لیں اور ان کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں کیونکہ اکثر لوگ اپنے بچوں کو اس لئیے سکول نہیں بھیجتے کیونکہ وہ بچوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

    @alihaiderrr5

  • میری باتیں تحریر: سمیرا راجپوت

    میری باتیں تحریر: سمیرا راجپوت

    یہ بات تو سب نے ہی سنی ہوگی کہ جس کے پاس جو ہوگا وہ اپنے معیار کے مطابق اپکو وہی دے گا ۔۔۔یہ بات بلکل درست ہے اور میں اس پر یقین بھی رکھتی ہوں کیونکہ تجربات ہی کچھ ایسے ہیں ۔۔
    ہم زندگی میں ہر کسی چیز کا گلا کر رہے ہوتے ہیں لوگوں کے برے رویوں کا، لوگوں کے دہرے معیار کا، اور ہر قسم کی بد عنوانی کا مگر ہم سوائے خود کے دوسروں کو جج کرنے پر ترجیح دیتے ہیں مگر ایسا کرنا نا تو ہمارے لیے ٹھیک ہے اور نا ہی معاشرے کے لیے جو کام ہم اپنے لیے منتخب کرتے ہیں پھر کسی دوسرے کو اسی کام پر غلط ٹہرایا جانا ایک جہالت ہے اسی طرح بہت سے لوگ دین کے بارے میں دوسرے لوگوں کو تلقین کرتے دیکھائی دیتے ہیں مگر خود کا عمل نا ہونے کے برابر ہوتا ہے اس وجہ سے پھر وہ تنقید کا نشانہ بنتے ہیں ہمیں دوسروں کی جو باتیں نا پسند ہیں پہلے ہمیں خود کے اندر سے انہیں ختم کرنا ہوگا اسکے بعد ہم معاشرے کو سنوار سکتے ہیں ۔۔۔

    ہمیشہ خوش رہنا سیکھ لیں کیونکہ آپ کے اداس رہنے سے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر لوگوں کے درمیان خوشیاں بانٹنے سے انکے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے سے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔۔

    زندگی کا ایک اصول اپنا لیں کہ کبھی کسی کا برا نا چاہے اور نا ہی برا سوچیں یقین کریں اس پاک پروردگار کی ذات اپکو اس قدر نوازیں گی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے انسانیت کا بھلا چاہنا ایک ایسی نیکی ہے جس کا اجر آپ کو دنیا میں ہی مل جائے گا ۔ بلکل اسی طرح خاموشی بھی انسان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اور ایک خاموشی ہی تو ہوتی ہے جسکا کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ورنہ اس جہاں میں تو ہر الفاظ کے سو مطلب نکلتے ہیں خاموش رہنے سے آپ کئی غلطیوں سے بچ سکتے ہیں کیونکہ الفاظوں کا منہ سے نکلنا ایسا ہے جیسے گویا کمان سے تیر کا نکلنا جیسے کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں جاتا ،جیسے گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا اسی طرح منہ سے نکلی ہوئی بات کبھی واپس نہیں جاسکتی اگر کبھی ہمارے منہ سے برے الفاظ ادا ہوئے ہوں تو اسکے سنگین نتائج آپکی زندگی میں مرکب ہوتے رہتے ہیں پھر کئی مشکلات کا سامنہ ہوتا ہے ۔۔

    اچھی کتابی باتیں صرف کتاب تک نا رکھیں اسے عملی طور پر اپنی زندگی میں شامل کر کے دیکھیے زندگی کتنی حسین ،خوش و خرم نظر آئے گی میرا ایک تجربہ ہے اگر انسان درگزر کرنا سیکھ لے وہ بہت بڑا فائٹر بن جاتا ہر طرح کے حالات کا سامنہ کرنے والا بہادر فائٹر

    مخلصی اپنائے مگر ایک حد تک حد سے زیادہ مخلصی بھی آپکی دشمن بن سکتی ہے مخلصی ایک کوالٹی سے ایک کمزروی بننے میں وقت نہیں لگاتی لہذا اپنے آپ کو پہچانیے اور اپنی زندگی اور لوگوں سے محبت کیجے ۔۔

    شکریہ

  • گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست  تحریر: سید لعل حسین بُخاری

    گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست تحریر: سید لعل حسین بُخاری

    پاکستانی سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے لئے مشہور ہے۔حالانکہ یہ دنیا کے کچھ اور ممالک میں بھی ہوتا ہے۔مگر جس طرح کی بے اصولی اور مفادات ہماری سیاست میں نظر آتے ہیں۔وہ شائد ہی کہیں اور ہوں۔
    ان بے اصولیوں کا تاریخی مظاہرہ کرنے والی ،دہائیوں سے ایک دوسرے کی حریف سمجھی جانے والی ن لیگ اور پیپلز پارٹی سر فہرست ہیں۔
    وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ یہ اندر سے ایک ہیں،انہوں نے لوٹ مار کے لئے باریاں مقرر کر رکھی تھیں۔
    مل بانٹ کے کھانا ان کی سیاست کا بنیادی اصول تھا۔
    ایک دوسرے کو غدار کہا گیا،
    ایک دوسرے کی خواتین کی عزتوں کو سر بازار رسوا کیا گیا۔
    مگر جب اپنے مفادات کو بچانے کی نوبت آئ تو ایک دوسرے کے حق میں نعرے بلند کر دئیے گئے۔مزاروں پر جا کر سجدہ ریز ہو کر منافقت کو شرمندہ کیا گیا۔
    جب ایک دوسرے سے مفادات ٹکراۓ تو پھر سے ایک دوسرے کے لتے لینے شروع کر دئیے گئے۔
    ان سب لڑائیوں کے دوران اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ معرکہ مسلم لیگ کے اندر -ن اور ش -میں چل رہا ہے
    یہ کشمکش چچا اور بھتیجی کے مختلف نظریات کی نفسیاتی جنگ ہے-
    شہباز شریف نواز شریف کے ریاست مخالف بیانیے سے ہینڈز اپ کر چکے ہیں،مگر ن لیگ پر ابھی تک نواز شریف کی مضبوط گرفت کی وجہ سے وہ وقتی طور پر نواز شریف اور مریم کی کھل کر مخالفت نہیں کر پا رہے،تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی عبرتناک شکست سے اتنا پی ٹی آئ والے خوش نہیں،جتنا شہباز شریف کیمپ ۔
    پاکستانی سیاست میں ن لیگ کے گھر کی اس لڑائ میں فضل الرحمن کو کون بھول سکتا ہے۔
    جو اپنے مفادات کی خاطر شائد بی جے پی سے بھی اتحاد کرنے کو تیار ہو جاۓ۔
    آجکل انہیں کہیں سے بھی گھاس نہیں ڈالی جا رہی،جس کی وجہ سے وہ دم سادھے ہوۓ ہیں۔
    ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایکبار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ضرور ہیں،مگر ان دو جماعتوں کی منافقت بھری تاریخ کو دیکھتے ہوۓ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ یہ کب تک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں گے اور کب کسی میثاق کی آڑ میں باہم شیر وشکر ہوجائیں گے۔
    ان لوگوں کی مطلب پرستیوں اور سیاسی قلابازیوں سے عام آدمی سیاست سے اس قدر متنفر ہو چکا ہے کہ اب تو صدارتی نظام کی بازگشت سُنائ دینا شروع ہو چکی ہے-
    اس دو پارٹی سیاسی نظام کی تباہ کاریوں کے سامنے بند باندھنے کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔
    اگر ہماری سیاست میں عمران خان کی انٹری نہ ہوتی تو پتہ نہیں کب تک عوام ان دو پارٹیوں کی لوٹ مار کا شکار رہتے۔
    آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی شکست اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ لوگ اب ان کی مکاریوں کو سمجھنا شروع ہو چکے ہیں۔
    لوگ ان کے جھوٹے بیانیوں کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں۔
    پہلے ان کا ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ مسترد ہوا اب دھاندلی کا واویلہ بھی لوگوں کو متاثر نہیں کر پا رہا۔
    عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ ان کے ہر بیانیے کے پیچھے ریاست دشمنی چھپی ہوتی ہے۔
    ان آخری دو بڑی شکستوں کے بعد پارٹی کے اندر سے مریم صفدر کے بیانیے کو مسترد کیا جانا خاص اہمیت کا حامل ہے
    مریم نے آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کی شکست کو دھاندلی سے تعبیر کیا تو مصدق ملک،نوشین افتخار اور محمد زبیر نے مریم کے دعوے کی نفی کرتے ہوۓ کہا کہ دھاندلی نہیں ہوی بلکہ انہوں نے تو پی ٹی آئ کو سیالکوٹ کی جیت پر مبارکباد بھی دے ڈالی۔
    اب آہستہ آہستہ
    مریم کیمپ کے صحافی بھی مریم کے خود ساختہ بیانیوں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں
    جس کی تازہ ترین مثال سلیم صافی کا نواز شریف کی حمد اللہ محب سے ملاقات کو غلط قرار دینا ہے
    سلیم صافی نے کہا کہ حمداللہ نے کسی ایک شخص یا ایک ادارے کو گالی نہیں دی بلکہ ریاست پاکستان کو گالی دی،لہذا نواز شریف کو ایسے شخص سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔
    موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوۓ کہا جا سکتا ہے کہ ن لیگ کے ان بیانیوں کی تدفین سے پی ٹی آئ کا الیکشن 2023 جیتنا آسان ہو گیا ہے بشرطیکہ پی ٹی آئ عوام سے اپنا میثاق کرتے ہوۓ انکی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ان کو کچھ ضروری سہولیات دے سکے،جن میں سر فہرست مہنگائ کے خلاف جنگی بنیادوں پر برسر پیکار ہونا ہے #

    @lalbukhari

  • لاک ڈاؤن اور کراچی کی تباہ شدہ پبلک ٹرانسپورٹ   تحریر:  ام سلمیٰ

    لاک ڈاؤن اور کراچی کی تباہ شدہ پبلک ٹرانسپورٹ تحریر: ام سلمیٰ

    بے بس کراچی کے شہری جو کئی دہائیوں سے اپنے مسائل کے حل کے انتظار میں ہے.
    پہلے بھی یہاں ٹریفک کا انتظام اس قابل نہں ہے آبادی کے تناسب سے لوگ با آسانی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر سکیں پھر کورونا کے معاملات اس وقت بھی سندھ میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے لیکن کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کا وہی حال ہے گاڑیاں کھچا کھچ بھری ہوئی کورونا کے لیے بتائی گئے احتیاط تدابیر پر کوئی عمل نہں کر رہا. پبلک ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر حضرات بتائی گئی احتیاطی تدابیر نہں آپناتے اور نہ ہی اس پے عمل کرواتے نظر آتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے کورونا ہے ہی نہں. خدانخوستہ جس حساب سے بسوں میں عوام کا رش نظر آتا ہے یہ ہی ایک بڑی وجہ نہ بن جائے کررونا پھیلانے کی صوبائی گورمنٹ لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کرتے ہوئے اس چیز کو مد نظر رکھے کے جن احکامات کا اعلان کیا جا رہا ہے ان پر سختی سے لوگ عمل پیرا ہوں یا ان احکامات کے لاگو ہونے کا بعد کوئی چیک پوائنٹ ضرور ہوں مانیٹر نگ کا اور احکامات کو نہ ماننے والوں کو جرمانہ کیا جائے تاکہ لوگ سختی سے احکامات پر اعمال در آمد کریں.
    لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب تمام ادارے ایک ہی وقت میں بند کر دیے جاتے ہیں تو ٹریفک کا دباؤ بے تحا شا بڑھ جاتا ہے سڑکوں پر اور اس وجہ سے ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ پڑتی ہے اور لوگوں کے لئے سفر کا وقت بڑھاتی ہے ،اس سے بھی ذہنی تناؤ اور دیگر متعلقہ بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے عام لوگ نقل و حمل سے متعلق تشویش کا شکار رہتے ہیں اور ان کی ذہنی بیماریوں میں ہائی بلڈ پریشر اور اضطراب اضافہ ہوتا ہے.

    تب صحت کے ان مسائل کا نتیجہ طبی بلوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں کم اور درمیانی آمدنی والے مزدور طبقے کو معاشی عدم استحکام کا زیادہ خطرہ بن جاتا ہے۔

    نقل و حمل کے محدود وسائل کی وجہ سے خواتین خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں مزید انفراسٹرکچر اور سہولیات میں صرف سرمایہ کاری کرکے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل توجہ طلب ہیں صرف بجٹ میں پیسہ مختص کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے بلکے انکو حل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی اور موثر اداروں میں ہے۔
    کراچی میں آبادی کے تناسب سے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات انتہائی کم ہیں رجسٹرڈ بسوں اور منی بسوں کی تعداد لگ بھگ 21،800 ہے ، اس لئے ایک بس میں روزانہ 257 مسافر سوار ہوتے ہیں ، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے چونکہ بسیں انفرادی لوگ چلاتے ہیں جو کرایہ کی آمدنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہتے ہیں ، چھت کے اوپر بیٹھنے سمیت ، بس اسٹاپ پر مسافروں کے لیے زیادہ دیر انتظار کرنا عام ہے ان کے لیے کوئی قوانین نہں بنائے گئے.

    اس کے علاوہ سرکاری اور نجی بسیں غیر مستحکم اور غیر آرام دہ ہیں۔اور ان بسوں کی بناوٹ کی وجہ سے ان بسوں میں خواتین کو تنگ کرنے کے واقعات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں.

    صوبائی گورنمنٹ بسوں کی وجہ سے کررونا کے پھیلاؤ کو روکنے پر فوری توجہ دے.

    @umesalma_