Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حقیقی اسلام اور غیر مسلم کے ذہنی خاکوں کی تعمیر کی وجوہات۔ تحریر بشارت حسین

    دنیا میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس کی تعلیمات میں سراسر ہدایت ، انسان اور انسانیت کا تحفظ حتی کہ جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
    دنیا کی نوے سے پچانوے فیصد لوگوں کے ذہن میں اسلام کی وہ تصویر وہ نقشہ موجود ہے جو کہ وہ اپنے قریب رہنے والے مسلمانوں کے طور طریقوں کو دیکھ کر بنایا ہے۔
    حالانکہ اسلام کسی شخص کے ذاتی کردار کا نام نہیں اور نہ مسلمانوں کی ابادی، انکے طور طریقے اور رسم و رواج کا نام اسلام ہے۔
    اسلام تو اللہ کا عطا کردہ نظام زندگی ہے جو کہ اللہ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ نازل کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اس کو دنیا میں متعارف کروایا۔
    اسلام انسان اور انسانیت کی بقاء کا دوسرا نام ہے۔ اسلامی تعلیمات انسانیت قدر عزت اور تحفظ کو یقینی بنانے پہ زور دیتی ہیں۔ اسلام میں کسی چھوٹے بڑے ، امیر غریب ، کالے اور سفید کا کوئی تصور نہیں اور نہ کسی کالے کو سفید پر ، امیر کو غریب پر عجمی کو عربی پر اور نہ کسی بڑے کو چھوٹے پر کوئی فوقیت و برتری حاصل ہے۔
    اسلام میں سب مسلمان ایک جیسے ہیں سب کے حقوق برابر ہیں کسی کیلئے کوئی امتیازی قوانین کا کوئی تصور اور گنجائش نہیں۔
    اسلام نہ تو کسی دوسرے مذہب کا دشمن ہے اور کسی بھی مذہب کے لوگوں کو ان کی مذہبی عبادات سے روکتا ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ مسلمانوں جب بھی کسی ملک و قوم پہ حکمرانی کی تو وہاں دوسرے مذاہب کے لوگوں کا پورا پورا خیال رکھا گیا وہاں انسانیت کو عزت دی گئی بغیر کسی امتیازی فرق کے مسلم اور غیر مسلم کو ایک نظام کے تابع کیا گیا ظالم اور مظلوم کو ہر نسلی و مذہبی امتیاز سے بالا تر ہو کر انصاف فراہم کیا گیا۔
    اسلام صرف ایک خدا کی عبادت کا حکم دیتا ہے جس نے کل کائنات کو پیدا کی جس نے تمام مخلوقات کو انکے رزق کے بندوبست کے ساتھ پیدا کیا۔ اسلام میں اس کی ہی عبادت کی جاتی ہے۔
    یعنی اسلام میں داخل ہونے کیلئے اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول ماننا ضروری ہے جس کا اقرار ان الفاظ یعنی کلمہ طیبہ کا پڑھ کر کیا جاتا ہے۔
    لا إله الا الله محمد رسول الله.
    جس کے معنی ہیں
    اللہ۔کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
    جو شخص اسلام کو قبول کر لیتا ہے اس کو مسلمان کہا جاتا ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی گزارنے کا طریقہ اللہ نے اپنی کتاب قرآن کریم اور اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ذریعے وضع فرما دیا۔
    دنیا میں سب مزہبوں سے زیادہ فوقیت اسلام کو اپنی تعلیمات کی وجہ سے حاصل ہے۔
    اسلام کے اندر ہر انسان کی عزت نفس وقار اور تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ جانوروں کو حقوق دیے گئے ایک دوسرے کی مدد کا درس دیا گیا۔ اسلام میں کسی کو کسی سے زیادتی یا ظلم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اب وہ چاہے مسلمان مسلمان پہ کرے یا مسلمان کسی دوسرے انسان پہ کرے یا جانور پہ کرے۔

    اسلام کے بارے میں دنیا کے غلط تاثرات
    دنیا کے تقریبا ہر ملک میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ہر ملک ہر جگہ کے اپنے رسم و رواج ہیں۔ جب لوگ جہاں مسلمانوں کو دیکھتے ہیں انکے رسم و رواج ، رہن سہن انکے بودوباش تو جو خاکہ انکے ذہن میں بنتا ہے وہی وہ اسلام کے متعلق قائم کر لیتے ہیں کہ یہی اسلام اور اسکی تعلیمات ہیں۔
    حالانکہ اسلام کسی قوم کے رس و رواج یا ذاتی زندگی اور سوچ کا نام نہیں۔
    اگر وہاں کے مسلمانوں کا رہن سہن اچھا ہے کردار واقعی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہے تو وہاں کے رہنے والے لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں سراہتے ہیں اور اسلام کے بارے میں ایک اچھی سوچ رکھتے ہیں اور عموما یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے مذاہب ترک کر کے اسلام کو دل سے قبول کر لیتے ہیں۔
    اب جہاں مسلمانوں کے قول و فعل میں تضاد ہو انکی زندگی اسلامی تعلیمات کے منافی ہوں وہاں کے لوگ اپنے ذہن میں اس کو اسلام مانتے ہیں اور اسلام سے متنفر ہو جاتے ہیں۔
    حالانکہ یہ انکا ذاتی کردار ہے۔ اسلام جھوٹ ، چوری ، دھوکہ فراڈ ، فتنہ اور فسادات سے منع کرتا ہے۔
    اسلام ہر اس کام سے منع کرتا ہے جس سے کسی دوسرے انسان یا حیوان کو تکلیف پہنچے اب اگر کوئی شخص اس طرح کے کاموں میں ملوث ہے تو یہ اسلام نہیں بلکہ اس کا ذاتی کردار ہے۔
    آئیے ہم اسلام کو بدنام کرنے کی بجائے وہ کام کریں جو کہ بحیثیت مسلمان ہمیں کرنے چاہئیں تاکہ غیرمسلم اسلام کے بارے میں کوئی غلط تاثر نہ لیں انکے سامنے اسلام کا اصل منظر پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
    اسلام کی اصل تبلیغ ایک مسلمان کی زندگی اس کا قول اور فعل ہے۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • قائدِ پاکستان عمران خان کی کہانی ارم کی زبانی تحریر: ارم سنبل

    قائدِ پاکستان عمران خان کی کہانی ارم کی زبانی تحریر: ارم سنبل

    آج کل ہر خاص وعام کی زبان پر ایک ہی نام ہے اور وہ ہے عمران خان، عمران خان نے ہمیشہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے چاہے وہ کرکٹ کا میدان ہو یا سیاست کا ، عمران خان ماضی سے لے کر آج تک عوام کے دِلوں پر راج کر رہے ہیں۔

    نوجوان نسل نے عمران خان کے کرکٹ دور کو بذات خود تو نہیں دیکھا مگر اپنے بڑوں سے اسکی قائدانہ صلاحیت کے بارے میں سنا ہے۔ جس کا منہ بولتا ثبوت 1992 کا ورلڈکپ ہے۔

    اگر سیاست کی بات کی جائے تو عمران خان کا یہ دور بھی بہترین اور تاریخی ہے۔ جہاں پاکستانی عوام گہری نیند سو رہی تھی وہاں عمران خان کی محنت اور کوششوں نے عوام کو بیدار کیا ہے۔

    عمران خان کی والدہ متحرمہ کینسر جیسے موضی مرض سےانتقال کرگئی۔ عمران خان کی عوام سے فکرو محبت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے غریب عوام کے لیے یہ سوچ کر کینسر ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا کہ جو تکلیف میری والدہ نے برداشت کی ہے وہ کسی اور کی ماں کو نہ سہنی پڑے۔

    پھر عمران خان نے عوام کی مشکلات اور تکالیف کو سامنے رکھ کر کینسر ہسپتال بنوایا۔ مختلف شعبوں سے وابسطہ افراد نے عمران خان کو منع کیا کہ اس ہسپتال کی تعمیر ممکن نہیں لیکن اس کے باوجود عمران خان کی انتھک محنت کے بعد شوکت خانم ہسپتال تعمیر ہوگیا۔

    ہسپتال نہ صرف تعمیر ہوا بلکہ کافی مریض یہاں علاج کروا کر صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ آج الحمدللہ پاکستان میں ایک کے بجائے دو کینسر ہسپتال ہیں اور تیسرے پر کام جاری ہے جو انشاء اللہ بہت جلد مکمل ہوجائے گا۔

    اسی طرح عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اور 1996 میں پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا گیا۔ سیاست میں آنے کے بعد عمران خان کا مزاق اڑایا گیا مگر عمران خان نے ہمت نہ ہاری اور اپنی محنت کو جاری رکھا۔

    اس طرح عمران خان کی بائیس سال کی انتھک محنت 2018 کے انتخابات میں رنگ لے آئی اور عمران خان ملک کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ عمران خان نے بہت ہی کم عرصے میں دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان ایک مضبوط، آزاد اور خود مختار ریاست ہے۔

    عمران خان کی کوششوں کے نتیجے میں عالمی دنیا پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اپوزیشن نے بہت کوششیں کیں کہ عوام کا عمران خان پر محبت و اعتماد کو کسی طریقے سے ختم کیا جائے، مگر اپوزیشن کو ہمیشہ کی طرح منہ کی کھانی پڑی۔

    عوام مکمل طور پر عمران خان پر اعتماد کرتی ہے اور ہر فورم پر دفاع کرتی ہے کیونکہ پاکستانی عوام کو عمران خان کی صورت میں ایک عظیم رہنما ملا ہے۔

    میری دعا ہے کہ اللہ پاک میرے عظیم لیڈر کی حفاظت فرمائے اور نیک مقاصد میں کامیاب فرمائے آمین۔

    @Chem_786

  • سربز پاکستان  تحریر: حسیب احمد

    سربز پاکستان تحریر: حسیب احمد

    جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں پاکستان میں گرمی کا موسم زیادہ تر علاقوں میں رہتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ گرمی اس لیے پڑتی ہے کیوں کہ یہاں خے کے لوگ اپنی ذاتی مفادات کے لیے درخت کاٹ دیتے ہیں۔ اور پاکستان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو شجرکاری مہم کو بڑھاتے ہوئے پاکستانی نوجوانوں کو درختوں اور سربز و شاداب پاکستان کی اہمیت سکھاتے ہیں۔ کافی تنظیمیں پاکستان میں ہر سال موسم گرما سے بچانے کے لیے شجرکاری کرتی ہے جس سے Globalwarming سے بچاؤ ممکن ہے۔

    ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں اور ملک کی خدمت کریں۔ درخت خدا پاک کی نعمت ہے، درخت ہمیں اپنے سائے سے ہمیں سخت دوپ سے دور رکھتے ہیں۔

    درخت لگانے سے آپ کی اپنی نسلیں محفوظ رہیں گی، کیا اپنے کبھی سوچا ہے اگر دنیا سے درخت ختم ہوجائیں گے تو کیا ہم سب زندہ بچ پائیں گے۔

    پاکستانی پرچم کا ایک بڑا حصہ سبز ہے ، لیکن ملک کا ایک وسیع علاقہ ہریالی سے خالی ہے۔ پاکستان میں درخت لگانے کا تناسب بہت کم ہے۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ جس ملک کو پانچ دریاؤں کی برکت حاصل ہے وہاں سبزہ بہت کم ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کم از کم ایک چوتھائی حصے میں جنگلات ہونے چاہئیں۔ پاکستان میں جنگلات پانچ فیصد سے بھی کم ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم ان درختوں کو کاٹنے پر تلے ہوئے ہیں جو ہماری سینئر نسلوں نے لگائے تھے۔ یہ ایک بہت عام منظر ہے کہ ہر دوسرے دن بے شمار درختوں کو توڑا جا رہا ہے کبھی سڑکوں کو بڑھانے کے لیے اور کبھی نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے کبھی کبھی ہم لکڑیاں حاصل کرنے کے لیے درخت کاٹ دیتے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو ، یہ عمل انتہائی افسوسناک ہے۔ تصویر کا زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ان کے متبادل کے بارے میں سوچنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا۔ درخت ماحول کی زینت ہیں۔ وہ زمین کو خوبصورت بناتے ہیں اور صحراؤں کو زمینی جنت میں بدل دیتے ہیں۔

    وہ پرندوں اور جانوروں کو قدرتی رہائش فراہم کرتے ہیں۔ وہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کرتے ہیں۔ وہ زندگی کا دھارا چلاتے رہتے ہیں۔ درختوں کے بغیر ، ماحول ایک بنجر نظر دیتا ہے جہاں نہ پرندے گاتے ہیں اور نہ جانور آتے ہیں۔

    آج عہد کریں سب مل کر ہم نے پاکستان کو سرسبز و شاداب پاکستان بننا ہے کیونکہ یہ ہماری نسلوں کا سوال ہے۔

    اللہ پاکستان کو اس طرح سربزو شاداب بنانے میں ہمارا ساتھ دے اور ہمیں ہمت دے کہ ہم اپنے ملک پاکستان کے لیے کچھ کرسکیں اور اپنی نسلوں کو مثبت انداز میں اپنی خدمات کے بارے میں بتاسکے۔

    "پاکستان زندہ باد”

  • چائلڈ لیبر ایک لعنت:  تحریر  محمد جاوید

    چائلڈ لیبر ایک لعنت: تحریر محمد جاوید

    پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سنگین مسئلہ ہے خاص کر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے جہاں لوگوں کے حقوق کا کوئی پرسان حال نہیں تو وہاں ، بچوں کے حقوق کی تو بات ہی کوئی نہیں کرتا ۔
    یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریبا 3.3 ملین بچے چائلڈ لیبر ہیں۔ یہ بچے مختلف انڈسٹریز میں کچھ ہوٹلوں اور ورکشابوں میں کام کرتے ہیں۔
    چائلڈ لیبر کے پیچھے اکثر بچوں کے گهريلویں حالات ہوتے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر پڑھنے کی عمر میں یہ بچے محنت مشقت والا کام کرتے
    پاکستان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں بچوں کی مزدوری کے استعمال کی سب سے اہم وجہ غربت ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اسے والدین کا اپنے بچوں کو کام پر بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ہے تاکہ وہ خاندانی آمدنی میں اضافہ کرسکیں۔ روز بروز بڑھتی مہنگائی معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔
    مہنگائی کے بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کے غریب خاندانوں کا اپنا پیٹ پالنا ہی مشکل ہو جاتا اوراسکی وجہ سے چايلڈ لیبر میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ معصوم بچے اس کم عمری میں اپنے خاندان کا پیٹ پلنے میں اپنی زندگی اور مستقبل داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔
    پاکستان میں نظام تعلیم کا فقدان ہے جس کی وجہ سے بچے تعلیم حاصل کرنا اور اسکول جانے کے بجائے ملازمت پر چلے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی کمی ، سہولیات کا فقدان اور والدین کے اندر شعور نہ ہونے سے وہ اپنے بچوں کو اسکول بیجنے کے بجائے فیکٹریوں میں ملازمت کے لئے بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے جن کی زیادہ تر عمر یں 5-16 سال کی ہے۔ ان بڑی تعداد میں بچوں کا اسکول میں نہیں ہونا ایک بہت بڑا المیہ ہے پاليسی سازوں کو اس بارے میں سوچنا چائے تاکہ ان معصوم بچوں کا مستقبل محفوظ کیا جاسکے۔
    اکثر کام کرتے ہوۓ بچوں کو جسمانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ بچے ہمیشہ کے لئے معذور بن جاتے ہیں
    چائلڈ لیبر کے نتائج در حقیقت بہت پرشان کن ہیں اس کی وجہ سے اکثر ان کی دماغی استحصال ہو جاتی ہے اور کند ذہن بن جاتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو خوشگوار بچپن نہیں ملتا جس کی وجہ سے سیکھنے کھلینے اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے سے محروم ہو جاتے اور ان شخصیت پہ برا اثر پڑتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ چائلڈ لیبر تیار کرنے اور بچوں پر برے اثرات پیدا کرنے میں منفی کردار ادا کرتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ ان چائلڈ لیبر کو مناسب اجرت نہیں دیتا اور وہ پیسے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دوسرے جرایم میں ملوث پاے جاتے جیسے کہ چوری کرنے اور چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔
    حکومت کو چائلڈ لیبر کے سماجی مسئلے پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا کوئی مخصوص ادرہ بنائے جو صرف اور صرف بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں۔
    چائلڈ لیبر سے بچنے کے لیے قانون سازی کیا جاے ۔ کچھ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے ملک کی کامیابی کے لیے اپنے اثاثوں کو بچانے اور اچھی طرح ترقی کرنے کے لیے چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان بھی بہت جلد ان میں سے ایک ہوگا اور یہ اقدامات اٹھا لے گا۔
    حکومت کو چائے کہ چائلڈ لیبر پہ پابندی لگایا جائے اس سلسلے میں قانون سازی کیا جائے تکہ ان معصوم جانوں کے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکے۔

    @I_MJawed

  • آئی  ڈی سی کی2021 کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری، اسمارٹ فونز کی فروخت میں 13.2 فیصد اضافہ

    آئی ڈی سی کی2021 کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری، اسمارٹ فونز کی فروخت میں 13.2 فیصد اضافہ

    اسمارٹ فون کی تجارت سے متعلق انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (آئی ڈی سی) نے 2021 کی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ جاری کر دی سام سنگ نے ہمیشہ کی طرح دوسرے اسمارٹ فونز کو مات دے دی اور اپنی جگہ برقرار رکھی-

    باغی ٹی وی : بلوم برگ کے مطابق اپریل سے جون 2021 کے دوران اسمارٹ فونز کی فروخت میں گزشتہ سال سے 13.2 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں سام سنگ نے اپنی روایت برقرار رکھی اور اپریل سے جون 2021 کے دوران 5 کروڑ 90 لاکھ فونز فروخت کر کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے موبائل میں پہلا نمبر حاصل کیا۔

    رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران چینی کمپنی شیاؤمی کے فونز کی فروخت گزشتہ سال کے کے مقابلے میں 86.6 فیصد زیادہ رہی شیاؤمی نے 5 کروڑ 31 لاکھ سے زیادہ فونز فروخت کئے اور دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ ایپل 4 کروڑ 42 کروڑ آئی فونزفروخت کرکے تیسرے نمبر پر رہی۔

    جبکہ آئی ڈی سی کی فہرست میں چوتھی اور 5 ویں پوزیشن بھی چینی کمپنیوں اوپو اور ویوو نے حاصل کر لیں ہیں۔

    ایک اور ابھرتا ہوا ستارہ ائیل می ہے ، جس نے سال بہ سال تیزی سےترقی کی سب سے اوپر 10 میں 149فیصد اور اس کے حجم کے تین چوتھائی سے زیادہ۔

    رپورٹ کے مطابق چین واحد خطہ تھا جہاں اپریل سے جون 2021 کے دوران اسمارٹ فونز کی فروخت کی شرح منفی رہی، اس کی وجہ اس عرصے میں نئے فلیگ شپ فونز متعارف نہ ہونا ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی رپورٹ میں بھی سمارٹ فونز کی دنیا میں سام سنگ نے ایپل کو پیچھے چھوڑ دیا تھا رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں سام سنگ کی فروخت، عالمی سطح پر کی جانے والی موبائل فونز کی مجموعی فروخت کا پانچواں حصہ قرار پائی تھی۔

    سام سنگ نے پہلی سہ ماہی میں 7 کروڑ 65 لاکھ اسمارٹ فونز فروخت کیے تھے اور مارکیٹ میں اس کے حصص میں 22 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ ایپل نے جنوری سے مارچ کے دوران 5 کروڑ 24 لاکھ آئی فونز فروخت کیے، جس کے بعد کمپنی مارکیٹ میں 15 فیصد حصص کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگئی تھی۔

  • شاعری تحریر: محمد حماد

    جب ایک دن میں نے کالم لکھنے کے بارے میں سوچا   کہ چلو آج کچھ طبع آزمائی اس میدان میں بھی  ہو تو ذہن لاشعوری  طور پر اس تحریر کی طرف منتقل ہو ا جو میں نے ایک کتاب سے متاثر ہوکر ” اللہ نورُ السمٰواتِ والارض” کے عنوان سے لکھاجو یونی ورسٹی کے لائبریری کے ایک کتاب "خدا موجود ہے سائنسدانوں کی نظر میں”کے مطالعے کے بعد لکھا۔ لیکن اس تحریر نے مجھے اس مخمصے میں ڈال دیا کہ آج تک میں یہ نہیں جان پایا کہ وہ تحریر تبصرہ تھا ، تجزیہ تھا  یا پھر کالم ۔۔۔؟ لیکن خیر آج شاعری پر لکھنا چاہتا ہوں اور بہت گہرائی میں جانا چاہتا ہو اس یقین کہ ساتھ کہ  میرا  عقل  اس متنوع موضوع  کا متحمل کبھی  بھی نہیں ہوسکتا  کیوں کہ صرف موضوع کے بارے   میں سوچ کر ہی احساسات  میں تغیر پیدا ہونا شروع ہوا  ۔ہوسکتا میرا اس کیفیت کی وجہ شایدمیرا شاعری سے جنون کی حد تک لگاؤ کا ہونا  یا پھر اُردو ادب کی طالب کی حیثیت سے میں  شاعری کے ساتھ ایک  ان جانا  ساتھ اور رشتہ محسوس کرتا ہوں۔ قبل اس کے کہ شاعری اور احساسات کا ذکر طول پکڑ لیں  روئے  سخن شاعری کی طرف ہونا چاہئے اگرچہ  شاعری پر لکھا گیا ہے ، لکھا جاتا رہا ہے اور لکھا جائے گا کیوں کہ یہ وہ لفظی احساس ہے  جو ہر دور کے انسانوں کی جذبات کی ترجمان  رہی  ہے ۔ باوجود اس کے  کہ یہ   کہ زمان ومکاں کے حدود و قیود سے آزاد ہے  یہ معلوم نہیں کہ اس کی ابتدا تاریخِ انسانی میں کب کیسے  اور کیونکر ہوئی؟ لیکن جہاں تک اس ناچیز کی  ذہن کا خیال ہے  یہ خدائی ودیعت  تخلیقِ انسانی کے ساتھ  دنیائے فانی میں نازل کی گئی۔ تاریخ کے جھرکوں سے آنے والی  مدھم کرنوں کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہے    کہ اس کا وجود ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا  اپنے تمام تر عروج  وزوال سمیت۔۔۔۔ عربی زبان کا کیا ہی خوبصورت قول ہے کہ:
            ” الشعرا    ُ تلامیذ الرحمٰن( شعرا رحمان ( اللہ)  کے شاگرد ہوتے ہیں۔)”
    اگر بات کی جائے شاعری کی تعریف کی  تو ایک بار پھر      یہ بات غیر واضح رہ جائے گی  لیکن جہاں تک عقل ناقص کی رسائی ہے وہاں یہ بات عیاں ہے  کہ ہر چیز کی تعریف کا احاطہ کرنا ممکن نہیں بعض چیزیں  اپنا تعارف خود ہوتی ہے جو خود کو اس قدر تفصیل سے منظر ِ عام پر لاتی ہے کہ اس کے لیےلغت کے صفحات الٹنے پلٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی   با ایں ہمہ شاعری کی جو مختلف تعریفیں مختلف  زمانوں میں اس کے حسبِ حل کی گئی ہے سب میں یہ امر مشترک قرار پایا ہے  کہ یہ جذبات اور احساسات  اور ما فی الضمیر کے اظہار  کا وہ  بیان ہے جو  قافیہ اور ردیف کے پیرائے  میں کیا جاتا ہے ۔  یہ بات معقول بھی ہے لیکن میرے خیال میں شاعری کا خوب صورت   توضیحی تصور مارک انڈریو نے پیش کیا ہے ۔ لکھتے ہیں:
            ” شاعری غم کی بہن ہے ، ہر وہ انسان جو دکھ سہتا ہے  اور روتا
            ہےشاعر ہے ، ہر آنسوشعر ہے اور دل ایک نظم ہے۔”
          شاید بہت سوں کو اس با ت سے اختلاف ہو  کہ شاعری کی بہتر سے بہترین تعریفیں کی گئی ہیں، تو بھی وہ اپنے دعوے میں حق بجانب ہیں  لیکن وہ کیا ہے کہ ہر انسان کا اپنا  نکتہ نظر ہوتا  ہے جس کی روشنی میں اسے جو مناسب نظر آتا ہے  اسی کو درست خیا ل کرتا ہے لہذا  آپ کے نظر میں کوئی اور جامع تشریحی تعریف بھی ہوسکتی ہے۔
        اگر کبھی آپ کو بھی شاعری پر لکھنے کی جسارت ہوں تو  تو الفاظ کو اس خیال کے ساتھ احاطہ تحریر  میں لانا  کہ آپ شاعری کے بارے میں جو لکھ رہے ہیں  وہ سمندر کے سینے میں موجود سیپ کے بطن  کے اس پانی کی طرح ہے جس میں جمع قطرے کو نکال باہر کرنے سے سمندر کے پانی پر کچھ فرق نہیں پڑتا ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعری پر ہر زبان میں جو ضحیم کتابیں لکھی گئیں ہیں وہ بھی  اس موضوع کے اصل روح کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
        شاعری صرف ایک فرد کی جذبات کی زیروبم کا نام نہیں  بلکہ اس میں فرد کے ساتھ معاشرہ ، سماج ، روایات ، تاریخ ، فلسفہ ، حالات کے دھارے اور تقاضے ، حدود وقیود کی پابندیاں، زندگی کی نیرنگیاں    اور امید و نا امیدی کے جلتے بجھتے چراغ بہ یک وقت نظر آتے ہیں گویا شاعری تخیل کے بارش کے بعد کا وہ  ست رنگہ دھنک ہے  جس کی ہر رنگ کا اپنا خاص مزہ ہے۔ آخر میں نیئر نسعود کی  دل کو لگنے والی بات یاد آگئی کہ
                    ” شاعری دنیا کی مادری زبان ہے”

  • پشتو زبان  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    پشتو زبان تحریر : مقبول حسین بھٹی

    پشتو زبان ، پشتو کی ہجے بھی کی ، جسے پختو بھی کہا جاتا ہے ، جو کہ ہند یورپی زبانوں کے انڈو ایرانی گروپ کے ایرانی ڈویژن کا رکن ہے۔ وسیع پیمانے پر قرض لینے کی وجہ سے پشتو انڈو یورپی زبانوں کے انڈو آریائی گروہ کی بہت سی خصوصیات کا اشتراک کرتا تھا۔ اصل میں پشتون لوگوں کی طرف سے بولی جانے والی پشتو 1936 میں افغانستان کی قومی زبان بن گئی۔ اسے 35 ملین سے زائد لوگ بولتے ہیں ، جن میں سے اکثر افغانستان یا پاکستان میں رہتے ہیں ایران ، تاجکستان ، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں چھوٹی چھوٹی تقریریں موجود ہیں۔ علماء کو پشتو کی اصل کے بارے میں مخصوص دعووں کے بارے میں اتفاق رائے تک پہنچنا مشکل ہے۔ بہر حال ، یہ بات واضح ہے کہ قدیم دنیا کے ایک متنازعہ حصے میں تقریر کمیونٹی کے مقام نے قدیم یونانی ، ساکا ، پارتھیان اور فارسی کی اقسام سمیت دیگر زبانوں کے ساتھ وسیع رابطے ، اور ادھار لینے پر اکسایا۔ پشتو بھی شمال مغربی ہندوستانی زبانوں ، خاص طور پر پراکرت ، بلوچی اور سندھی کے ساتھ مل گیا۔ ان زبانوں سے ، پشتو نے ریٹروفلیکس آوازیں (زبان کی نوک سے منہ کی چھت کے ساتھ جھکی ہوئی آوازیں) اور تقریبا 5 5،550 لون ورڈز حاصل کیے۔ پشتو کی بولیاں دو اہم حصوں میں آتی ہیں: جنوبی ، جو قدیم / sh / اور / zh / آوازوں کو محفوظ رکھتا ہے ، اور شمالی ، جو اس کے بجائے / kh / اور / gh / آوازوں کو استعمال کرتا ہے- اسپائریٹ-آوازیں جو ایک قابل سماعت سانس کے ساتھ پشتو کی پڑوسی انڈو آریائی زبانوں میں عام ہیں لیکن پشتو میں غیر معمولی ہیں۔ پراکرت ، سندھی اور بلوچی کے قرضے کے الفاظ کو ظاہر کرنے والی معمولی تبدیلیاں عام طور پر پہچاننے میں بہت آسان ہیں۔ مثال کے طور پر ، سندھی میں گڈی ‘ایک کارٹ’ کو ہندی میں گڑی اور پشتو میں گڈائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ، ‘نر بھینس’ کی اصطلاح ہندی میں ریت اور پشتو میں سنر ہے۔ ہندی ، سندھی اور پشتو میں کئی الفاظ یکساں ہیں ، بشمول سدک ‘سڑک’ ، ‘پیڈا’ ایک میٹھی ، ‘اور خیرکی’ کھڑکی ‘۔ پشتو زبان نے تاجک (فارسی کی ایک شکل) اور ازبک (ایک ترک زبان) سے بھی الفاظ لیے ہیں۔ مثالوں میں روئی جرج ‘ایک مشترکہ پلیٹ فارم’ اور الغر ‘حملہ’ شامل ہیں۔ کئی عربی الفاظ یا ان کی فارسی شکلیں بھی پشتو میں ضم ہو چکی ہیں ، جیسا کہ کئی فارسی فعل ہیں۔ فارسی کی آواز / n / کی جگہ پشتو میں / l / ہے۔ پشتو کی جملے کی تعمیر ہندی کی طرح ہے۔ فارسی کے برعکس ، لیکن جیسا کہ پراکرتوں میں ، پشتو اسم صفت کے بعد آتا ہے اور مالک تخلیقی تعمیر میں مالک سے پہلے ہوتا ہے۔ فعل عام طور پر موضوع سے متضاد اور عبوری دونوں جملوں میں متفق ہوتا ہے۔ ایک استثنا اس وقت ہوتا ہے جب ایک مکمل عمل کی اطلاع ماضی میں دی جائے۔ ایسی صورتوں میں ، پشتو کی شکلیں ہندی شکلوں جیسی ہوتی ہیں: فعل اگر موضوع سے متفق ہو تو وہ متنازعہ ہو اور اعتراض کے ساتھ اگر وہ عارضی ہو۔ پشتو ایک ترمیم شدہ عربی حروف تہجی کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ ابتدائی ادبی شکل شاعری ہے۔ محمد ہوتک کا پتا خزانہ (1728–29 “ پوشیدہ خزانہ ") آٹھویں صدی کے بعد سے پشتو شاعری کا مجموعہ ہے۔ افغانستان کے قومی شاعر خوشحال خان خٹک (1613–94) نے بڑی دلکشی کی بے ساختہ اور زوردار شاعری لکھی۔ ان کے پوتے افضل خان پشتون کی ابتدائی تاریخ کے مصنف تھے۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • شکرگڑھ  تحریر: زید علی

    شکرگڑھ تحریر: زید علی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب ضلع نارووال کی ایک تحصیل کا نام شکرگڑھ ہے۔ نارووال سے 45 کلومیٹر شمال کی جانب واقع ہے۔ شکرگڑھ کی بنیاد 1890 میں رکھی گی۔ تقسیم ہند کے وقت شکرگڑھ ضلع گرداسپور کی تحصیل تھی۔ مگر پاکستان بننے کے بعد یہ ضلع سیالکوٹ سے منسلک ہو گئی۔ 1991 میں نارووال کو ضلع کا درجہ ملنے کے بعد تحصیل شکرگڑھ کو ضلع نارووال کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ تحصیل شکرگڑھ کے شمال میں جموں کا علاقہ ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو زمینی راستہ بھی یہیں سے ہو کر گزتا تھا۔ شکرگڑھ کے مشرق میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد اور شمال میں ورکنگ باؤنڈری موجود ہے۔ جس کی لمبائی 193 کلو میٹر ہے۔ جو سیالکوٹ سیکٹر سے شروع ہوتی ہے اور شکرگڑھ کے مقام پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ شکرگڑھ سے ہی انٹرنیشنل بارڈر کا آغاز بھی ہوتا ہے۔ سوار محمد حسین (نشان حیدر) نے بھی اسی سر زمین پر شہادت پائی۔ یادگار شکرگڑھ آج بھی ہمارے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شکرگڑھ کی سرزمین بہت زیادہ زرخیز ہے۔ نارووال، شکرگڑھ کے باسمتی چاول پورے پاکستان میں مشہور ہیں۔ تعلیمی میدان میں بھی شکرگڑھ کے طالب علموں نے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ یہاں کے طالب علم مختلف ادوار میں بورڈ ٹاپ کر چکے ہیں۔ یہاں پنجابی اور اردو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ شکرگڑھ کے مشرق میں دریائے راوی ہے۔ دریائے راوی بل کھاتے ہوئے اسی تحصیل سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں نالہ بئیں بہتا ہے۔ شکرگڑھ کو ایک اہم مقام یہ بھی حاصل ہے کہ اسی تحصیل کے ایک قصبہ مسرور (بڑا بھائی) سے پاکستان کا سٹینڈرڈ ٹائم لیا گیا ہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے سورج کی کرن اسی گاؤں میں پڑتی ہے۔ اسی گاؤں سے کشمیری پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ موسم صاف ہو جانے کے بعد اس علاقے سے جموں و کشمیر کے پہاڑ صاف دکھائی دیتے ہیں۔ رات کو کشمیر میں جلنے والی روشنیوں کو یہاں سے با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ شکرگڑھ کا کشمیر کے ساتھ پرانا گہرا اور جغرافیائی تعلق ہے۔ شکرگڑھ کو باب کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔
    شکرگڑھ کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔

    Twitter: ZaidAli0000

  • خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین اور عملدرآمد؟   تحریر: محمد اختر

    خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین اور عملدرآمد؟ تحریر: محمد اختر

    ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین کی آبادی کا تخمینہ 50%ہے اور معاشرے میں عصمت دری، نام نہاد غیرت کے نام پر قتل، تیزابی حملوں، گھریلو تشدد، جبری شادیاں اور خواتین سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات حیرت زدہ ہیں۔ ریاست پاکستان میں خواتین تحفظ ہمارے اداروں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ حالیہ واقعات سے بحث و مباحثہ زندگی اوربرابری کے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے میدان سے ہٹ گیا ہے، اور انسانی سلامتی کے ان بنیادی اصولوں کی طرف گامزن ہے جو خوف، آزادی، استحصال سے آزادی، ہر طرح کے جنسی تشدد سے آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔

    پاکستان میں خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین
    ماضی قریب میں، پاکستان کی خواتین کی حفاظت اور ان کو بااختیار بنانے کے لئے متعدد ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ ایسڈ کنٹرول اور ایسڈ کرائم روک تھام ایکٹ 2011 کے تحت گھناؤنے تیزاب جرائم کے مجرموں کو سزا دینے کے لئے پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ اخلاق کی ضابطے میں ترمیم کی گئی تھی جہاں جرمانے کے ساتھ ساتھ عمر قید تک کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔انسداد خواتین سے بچاؤ کے قانون، 2011 کے تحت جبری شادیوں سے بچنے والی خواتین کے لئے رواج اور تعصب آمیز رسم و رواج کے بارے میں بتایا گیا ہے، قرآن مجید کے ساتھ گنہگار اہتمام سے شادی اور ان کے وراثت کے حق کے تحفظ کے سلسلے میں جہاں اس طرح کی کارروائیوں کی سزا 3 سے 7 سال کے درمیان ہے۔ اور10 لاکھ روپے قید اور جرمانے کی رقم ہے۔ فوجداری قانون (ترمیم) (عصمت ریزی کا ایکٹ) ایکٹ. 2016 نے صاف ستھری بنیادوں کا احاطہ کیا اور اس خوفناک جرم کے مجرموں اور سہولت کاروں سے نمٹنے میں دور رس اثرات مرتب کیے۔ نابالغوں یا معذور افراد کی عصمت دری کے لئے عمر قید مقرر کی گئی تھی، صوبائی بار کونسل کے ذریعہ عصمت دری سے بچ جانے والے افراد کے لئے قانونی امداد کی دفعات شامل کی گئیں اور اس میں سرکاری ملازمین کی ناقص تحقیقات پر 3 سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں کی سزا مقرر کی گئی۔ فوجداری قانون (ترمیم) (غیرت کے نام پر یا بہانے سے متعلق جرائم) ایکٹ، 16 20 غیرت کے نام پر قتل کو مرتکب قرار دینے کے بعد اسے موت یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت غیرت مندانہ نقصان یا رازداری کی خلاف ورزی پر 7 سال تک قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جاسکتی ہے۔

    عمل درآمد نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟
    اب، یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ آیا یہ ریاست کی ناکامی ہے، اس کی بے عملی ہے یا معاشرے، کہ ایک ایسے ملک میں خواتین کے خلاف صنفی جبر اور زبردست تشدد کی فضا قائم ہے جو متعدد اہم بین الاقوامی عہدوں پر عمل پیرا ہے اور اس کے تحت خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اس کے آئین اور بہترین قوانین اور اقدامات کے تحفظ میں ناکام ہو رہے ہیں۔پاکستان میں خواتین کی سلامتی اور حفاظت کے سمت نہ لے جانے والے حالات اور واقعات پر آج، ہم اجتماعی طور پر خوف زدہ ہیں۔ ناقص تحقیقات اور نظامِ انصاف کے عملی نفاذ کی اس ناکامی کے لئے کس کو مورد الزام ٹھہرایا جائے؟ دوسری جانب میڈیا میں خواتین کی غیر قانونی اور غیر منحرف جنسی تصویر کشی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ الزام جزوی طور پر ہمارے ٹیلی ویژن سیریلز پر پڑتا ہے جہاں زیادتی کرنے والے یا اغوا کار کو سزا نہیں ملتی ہے، بعض معاملات میں شکار سے شادی بھی کردی جاتی ہے۔

    خواتین کے خلاف تشدد: پائیدار ممکنہ حل
    پاکستان کی عوام کی حفاظت کے عزم کی واضحی اس کی پالیسیوں اور اقدامات سے ظاہر ہوتی ہے۔ انتظامی طریقہ کار کے ساتھ مل کر قومی اور صوبائی قانون سازی سب صحیح اقدامات ہیں لیکن اگر ہم اپنے معاشرے میں کمزور لوگوں کو پناہ دینا چاہتے ہیں تو اس سے کہیں زیادہ مطلوب ہے۔یہ وقت کی اولین ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے میں جابرانہ طریقوں کی نشاندہی کی جائے، اور نچلی سطح پر کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ ہم نے اپنے معاشرے کو خواتین کے حقوق اور برابری کے بارے میں تلقین اور تعلیم عام کریں، شاید اب سبق آموز معاشرے کو پروان چڑھانے کے لئے رضامندی اور اس سے وابستہ اتحادیوں کی تدبیروں کی طرف راغب ہونا چاہئے۔ اسکولوں میں پروگرام متعارف کرایا جانا چاہیے جس کا مقصد دھونس، شکار، نام کی کالنگ اور اس طرح کے رویوں سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہو۔کارکنوں کے ذریعہ اٹھائے گئے نعروں پر بحث کرنے کی بجائے، ہمیں اپنے معاشرے خصوصا نوجوان نسل کے مابین معاشرتی – جذباتی تعلیم اور صحت مند جنسیت کی تائید کریں۔ اجتماعی طور پر، ہمیں ان روایات اور اقدام کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے جو جنسی تشدد کے خلاف حفاظت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی و صوبائی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ازسر نو تشکیل دینا ہوگا۔پاکستان میں فارینزک لیبز اور ماہروں کا بہت بڑا فقدان ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انصاف کی عدم فراہمیمیں جرم کی ناقص تحقیقات بھی بڑھتے ہوئے جرائم کے رجحان کا بڑاسبب ہے۔پولیس اصلاحات وقت کی اشد ضرورت ہے مگر اس کے بر عکس پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں غیر متعلقہ افراد کو بھرتی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔جیسے ایک مرض کی تشخیص کے لیے ایک مستند ڈاکٹر کا ہونا ضروری ہے بلکل ویسے ہی ایک جرم کی تشخیص اورارتکاب کرنے والے مجرم کو منطقی انجام پہنچانے کے لیے ایک کرمنالودجسٹ کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ایک کرمنالودجسٹ جرم کی وجوہات اور سائینسی طریقے کار کو بروہکار لاتے ہوئے ایک منظم تحقیقات کرنے کے جدید علم سے آراستہ ہوتاہے۔یقین ہے،کہ یہ اصلاحات جرائم کی روک تھام میں معاون ثابت ہونگی۔
    @MAkhter_

  • عورت کا تحفظ  تحریر: حسن ساجد

    عورت کا تحفظ تحریر: حسن ساجد

    چند ہفتے قبل راقم الحروف نے ایک کالم "اسلام، پردہ اور عورت مارچ” کے عنوان سے لکھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کے لبرل، سیکولر اور لادین طبقات وزیراعظم کے حجاب کی پابندی سے متعلق بیان پر خاصے رنجیدہ ہیں۔ راقم الحروف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ اب کی بار محض "عورت مارچ” تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کسی بہتر، منظم و مربوط اور جامع ترین منصوبہ بندی سے پاکستان کی ثقافت اور اسلامی اقدار پر حملہ آور ہوں گے۔ بندہ ناچیز کو یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ آئندہ چند روز میں ممکنہ طور پر پاکستان میں ریپ کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے یہ وسوسے خوفناک حقیقت کا روپ دھارے میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ان چند ہفتوں کے دوران شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب میڈیا یا سوشل میڈیا سے کسی ریپ کیس کی اطلاع نہ ملی ہو۔ کبھی قراتہ العین کیس، کبھی نور مقدم کیس (میری دانست میں یہ بھی ریپ کے بعد قتل کیس ہے)، کبھی کسی معصوم بچی کا کیس تو کبھی کسی بکری کے ساتھ بدفعلی کا کیس اور اب ایک مولوی کے ہاتھوں چار سالہ معصوم بچی کے ریپ کا کیس یکے بعد دیگرے ہماری نظروں سے گزر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یک دم پاکستانیوں میں اس قدر حیوانیت کیسے بھر گئی اور نہ ہی میں یہ سمجھ پا رہا ہوں کہ اس پھیلتی ہوئی آگ کا ذمہ دار اپنے اداروں کو ٹھہراوں یا پارلیمنٹ کو، میں اس کا دوش والدین کی تربیت کو دوں یا معاشرے کی صحبت کو۔ میں یہ فیصلہ کرنے سے بھی قاصر ہوں کہ قصوروار جنسی حیوان ہی ہیں یا ہم بھی شریک جرم ہیں۔ میرا سر چکرا کر رہ جاتا ہے جب میں سوچتا ہوں کہ عورت نہ تو Living Relationship کے قائل آزاد خیال ترین معاشرے میں محفوظ ہے اور نہ ہی مساجد کے طیب و طاہر ماحول میں۔ دوسرے طبقے کی بات کیا کرنی مگر ہمارے مولوی حضرات کو یک دم سے کیا انہونی بیت گئی وہ مساجد میں ہی۔۔۔۔۔ استغفراللہ
    لکھاریوں کے قلم اس حساس ترین موضوع پر ہر واقعہ کی مذمت میں حرکت میں آئے مگر بندہ ناچیز خاموشی سے تمام معاملات کے مشاہدہ کی کوشش کرتا رہا کیونکہ راقم الحروف وقتی اور جذباتی سوچ سے اجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف زوایوں سے سوچنے کے مرض میں بھی مبتلا ہے۔ میں اس بات کا بارہا اظہار کر چکا ہوں کہ پاکستان بین الاقوامی گریٹر گیمز (International Greater Games) کا سرکردہ اور اہم ترین سٹیک ہولڈر یعنی شراکت دار ہے۔ اقوام عالم میں پاکستان کا اثرو رسوخ آئے دن بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہے۔ اسی لیے سوچ کا ایک زاویہ یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں ریپ کیسز کا بڑھنا، ان کی بڑے پیمانے پر میڈیا رپورٹنگ، واقعات کی سوشل میڈیا پر انتہا کو چھوتی تشہیر اور پاکستان کو خواتین کے لیے غیر محفوظ اور متشدد ملک ثابت کرنے کی کوشش کرنا پاکستان کے خلاف کسی گھمبیر سازش کا پیش خیمہ ہے۔ اور اس سوچ کی وجہ یہ ہے کہ ساوتھ افریقہ، آسٹریلیا، بیلجیئم، امریکہ، فرانس، سویڈن، آسٹریا اور بھارت جیسے ریپ کیسز کے سر فہرست ممالک کو چھوڑ کر کم ترین سکور کے ساتھ فہرست کے آخری اور نچلے ترین درجوں میں موجود پاکستان کو دنیا کے سامنے "#ریسپتان” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حقوق نسواں کی علمبردار این جی اوز کا سارا نزلہ بھی اسی ملک پر گرتا ہے۔ اور حقوق نسواں کو لے کر تمام تنقیدی توپوں کا رخ پاکستان کی جانب ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ تھا

    اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کرتے ہیں۔ بالفرض اگر یہ کوئی سازش بھی ہے تو ہم اپنے وطن کے خلاف اس سازش میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہاں پے در پے ہونے والے واقعات کو نہ تو ہم نے سنجیدگی سے لیا اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام اور قانون کی مناسب انداز میں عملداری کے لیے منظم اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ زینب انصاری، چارسدہ کی زینب، حوض نور، مشال، قراتہ العین اور موٹروے پر خاتون کی عصمت دری سمیت نہ جانے کتنے ہی واقعات ایسے ہوں گے جن سے ہمارا سامنا ہوا مگر ہم نے کسی ایک سے بھی عبرت حاصل نہیں کی۔ ہمارے یہاں ایک افسوس ناک رواج جنم لے چکا ہے کہ یہاں واقعہ رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنتا ہے، سرکار کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لیا جاتا ہے، کمیٹی بنائی جاتی ہے، واقعہ کی کمزور تفتیش عمل میں لائی جاتی ہے، ملزم کے خلاف طویل عدالتی کاروائی کا آغاز ہوتا ہے اور یہ معاملہ ابھی جوں کا توں لٹکا ہوتا ہے کہ اتنی دیر میں ہم دوسرے واقعہ کو جھیل کر اسی بیان کردہ سرکل کے پہلے مرحلے میں دوبارہ داخل ہوچکے ہوتے ہیں۔ منظم قانون سازی، قانون کی مناسب عملداری، معیاری تفتیش، فوری اور منصفانہ عدالتی کاروائی اور مثالی سزاوں کی عدم دستیابی حیوان صفت جنسی مریضوں کے حوصلے مزید بلند کر رہی ہے جس کے باعث جنسی زیادتی یا ریپ کی آگ کئی زندگیاں اور گھر برباد کرتی ہوئی مسلسل پھیل رہی ہے۔
    آج کے ترقی یافتہ دور میں جب پوری دنیا کی خواتین ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور ہم اپنی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو یقینی طور پر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ ریپ کیسز کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کی اس قدر میڈیا تشہیر نے حصول علم و رزق کی خاطر گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کا مستقبل داو پر لگا دیا ہے۔ حالات ایسے بن چکے ہیں کہ والدین اپنی بچیوں کے گھر سے نکلنے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔
    خواتین کو تحفظ اور ان کے خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان حالات و واقعات کی سنجیدگی سمجھے اور ایک حقیقی اسلامی ریاست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بڑھتے ہوئے ریپ کیسز کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروکار لائے۔ فحش بینی اور دیگر غیر اخلاقی حرکات جو ایسے واقعات کا پیش خیمہ بنتی ہیں ان کو حتی الامکان حد تک روکا جائے۔ پارلیمنٹ میں انسداد ریپ آرڈیننس 2020 اور ریپ سے متعلق موجود قانون پر اسکی حقیقی روح کے مطابق عملداری کے لیے جامع اور منظم طریقہ کار وضع کیا جائے اور ایسے واقعات کا شکار لوگوں کے لیے عدالتی انصاف کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کا اہتمام کیا جائے۔ میرے نزدیک ایک فلاحی ریاست کی حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کو معاشرے کا باکردار اور مہذب فرد بننے میں مدد فراہم کرے۔ لہذا عوام الناس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آگہی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہیں۔ اس مقصد کے لیے میڈیا کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے کہ میڈیا کی بدولت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تہذیب یافتہ معاشرے سے متعلق آگہی پھیلائی جا سکتی ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے تاکہ سکول، کالجز، مدارس اور کام کاروبار کی جگہوں پر خواتین کو محفوظ ماحول میسر آ سکے۔
    حکومت کے ساتھ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ہر باشعور اور مہذب شہری پر بھی عائد ہوتی ہے۔ سماجی کارکنان، انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیموں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اس نیک عمل میں حصہ لیں اور معاشرے میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے شعور کو اجاگر کرنے میں تعمیری کردار ادا کریں۔ میرے نزدیک ایک خاتون کو تحفظ فراہم کرنے سے مراد آئندہ ایک مکمل نسل کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عورت کا تحفظ ہماری ایک قومی ذمہ داری ہے جس کی تکمیل ہم سب کے ذمے ہے۔

    @DSI786