Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کرکٹراعظم خان ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے زخمی

    کرکٹراعظم خان ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے زخمی

    قومی کرکٹر اعظم خان نیٹ سیشن کے دوران سر پر گیند لگنے کے باعث زخمی ہو گئے جبکہ انہوں نے نے سر پر ہیلمیٹ بھی پہن رکھا تھا-

    بای ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین 22 سالہ اعظم خان ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر گیند لگنے سے زخمی ہوگئے۔ جس کے بعد اب وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرا اور تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ نہیں کھیل پائیں گے۔

    ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر گیند لگنے کے باعث اعظم خان کا سی ٹی اسکین کیا گیا ڈاکٹرز نے اعظم خان کو 24 گھنٹے کے لیے اسپتال میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،قومی کرکٹ ٹیم کے ڈاکٹر ریاض احمد کرکٹر اعظم خان کے ہمراہ موجود ہیں پیر کو ان کی انجری کا جائزہ لیا جائے گا۔

    ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ٹی ٹوئنٹی میچ میں اعظم خان پرفارم کریں گے یا نہیں اس کا فیصلہ پیر کو ان کی انجری کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان چار میچوں کی سیریز کا تیسرا اور چوتھا میچ یکم اور 3 اگست کو کھیلا جائے گا۔

  • ہماری نوجوان نسل اور موبائل فون  تحریر: محمد مصطفی

    ہماری نوجوان نسل اور موبائل فون تحریر: محمد مصطفی

    ‏”بســم اللّٰـہ الرحمٰـن الرحـیم”
    میری یہ تحریر اپ میں سے کس کس کو پہنچے گی یہ تو مجھے پتا نہیں کیونکہ کوئی ویڈیوز دیکھ رہا ہوگا کوئی گیم میں مصروف ہوگا تو کوئی دوستوں سے چیٹ میں مصروف ہوگا تو کوئی کمنٹوں میں مصروف ہوگا مگر پھر بھی جنکو یہ مضمون ملے تو ایک بار ضرور پڑھیں کیونکہ اس مضمون کا تعلق براہ راست اپ کی زندگی سے ہے اج ہمارے معاشرے میں موبائل فون نے نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا۔
    جی ہاں!ہم پاکستان کی وہ پہلی نوجوان نسل ہیں جن کو اسمارٹ فون اور سستا انٹرنیٹ ملا ہوا ہے ہم سے پہلے لوگوں میں نا اتنے موبائل فون تھے اور نا اتنا انٹرنیٹ تھا۔
    اِس موبائل فون پر ہم روانہ گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔ہم سے بیشتر اگر موبائل فون کے سکرین پر صرف کیے جانے والے وقت کا جائزہ لیں تو روزانہ کے حساب سے تقریباً ہر جوان پانچ سے سات گھنٹے موبائل کا استعمال کرتا ہوگا یہ انتہائی قیمتی وقت ہماری حالت بیداری کا ایک تہائی حصہ ہم موبائل کی سکرین پر لگا لیتے ہیں ۔کسی بھی دوسری منشیات کی طرف یہ موبائل کی لت بھی ہماری زندگی کت کافی حصہ کو کھاتی جارہی ہے۔
    اگر ہم اسکو اوسطاً ساٹھ سال کے ادمی کی زندگی پر حساب جر تو تقریباً اٹھارہ سال اس کی زندگی سے وہ موبائل فون نے کھالیں ۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے چاہ کر بھی ہم اسے خود سے جدا نہیں کر سکتے مگر اصل مسئلہ تب ہے جب یہ ہماری رادت بن جائے اسکا پہلہ نقصان تو وقت کی بربادی ہے اگر یہ وقت ہم بچا کر کسی دوسرے نفع بخش کاموں میں لگا لیں مسئلہ مطالعہ میں ورزش میں یا کوئی ہنر سیکھنے میں تلاوت میں یا اِس اور کسی فائدے والے کام میں۔ یا کوئی علم سیکھنے میں تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔
    دوسرا بڑا نقصان اسکا یہ ہے۔کہ موبائل فون پر بیکار اشیاء کے دیکھنے سے اپکی قوت مدرکہ(حافظہ) بڑی متاثر ہوتی ہے ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں ایک جذباتی دوسرا ادراکی- صحت مند دماغ وہی ہوتا ہے جس کے دونوں حصے کام کرنے میں تیز ہو ۔لیکن جب ہم بیکار اشیاء دیکھتے ہیں تو اس سے ہماری قوت مدرکہ متاثر ہوتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ وہ بہت کمزور ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پھر ہم مختلف نقطہ نگاہ کو نہیں سمجھ پاتے۔زندگی میں پیش انے والے مختلف حالات کو سمجھنے اور برتنے کی طاقت پھر ہم میں نہیں ہوگی مختلف حالات کی درست تشخص اور حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت پھر ہم میں نہیں ہوگی
    یہی موبائل کے وہ نقصانات ہے جو ہماری زندگی کو دیمک کی طرح ختم کئے جارہی ہے۔
    ایک نقصان دینی بھی ہے۔ اور وہ دنیاوی نقصان سے بھی بڑھ کر ہے۔ روز مرہ کے دینی امور میں سب سے اہم نماز ہے مگر اج ہماری نمازیں بے رونق جسکا بڑا سبب یہی نحوست ہے موبائل نے ذوقِ تلاوت چھڑوادی موبائل نے نماز کی لذت چھڑوادی
    یاد رکھئے یہ موبائل محض ایک اوزار ہے زندگی کا اپنایا ہوا سٹائل ہر گز نہیں بہتر ہے کہ ہم کسی وقت بیٹھ کر حساب کرے کہ ہم موبائل کے استعمال سے فائدہ زیادہ لے رہے ہیں یا نقصان۔۔۔

    @Muhmmadi786

  • Child training  Article written by Bobswiffey

    Child training Article written by Bobswiffey

    بچے کی تربیت کا آغاز اس کے گھر سے ہوتا ہے سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ بچے کی تربیت ک ے لیے سب سے پہلی جو ضروری چیز ہے وہ ہے والدین کا اپنا کردار۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خود عمل میں کھوٹے ہیں اور بچوں کو با عمل ہونے کا درس دیتے ہیں۔
    ویسے تو ہم خود روایتی طرز کے مسلمان ہیں کبھی رزق کی کمی کا گلہ کرتے ہیں تو کبھی مستقبل کے اندیشوں کا ذکر۔ ہمارا اپنا توکل خدا کی زات پر نہیں ہوتا۔ ہم نے کبھی خود قران کو تفصیل سے پڑھا ہی نہیں سمجھا ہی نہیں۔ کبھی حدیث کا مطالعہ نہیں کیا، اگر خود کیا تو بچوں کو نہیں کروایا۔ ہمارے لائف ہیروز، یہ بس نام کے سوشل میڈیا کے ہیروز رہ گئے، کبھی کسی صحابہ کا ذکر ہمارے دستر خوان پر نہیں ہوا، ہماری اپنی ترجیحات میں اللہ نہیں رہا، آخرت نہیں رہی، تو ہم بچوں میں یہ چیزیں چاہ کر بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ سب سے پہلے والدین اپنا کردار ادا کریں۔ وہ خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مختلف پہلو پر غور و فکر کرتے ہوں، ان کی زندگی کا اپنا ایک واضح مقصد ہو۔
    اس کے بعد بچوں کو مکمل فہم و علم دیا جائے، انہیں دوست دشمن کا علم دیا جائے، ان کی زندگی کے بنیادی مقصد کے بارے میں بتایا جائے، ان کی زہن سازی کی جائے، ان کے لائف ہیروز میں صحابہ کا کردار ہو۔
    ویسے تو اسلامی ریاست ہونے کے ناطے یہ حکومت کی اولین ترجیح میں سے تھا، کہ وہ اسلام کا نفاذ کریں، لیکن اس فتنوں کے دور میں والدین پر ساری زمہ داری آن پڑی ہے۔ شروع کے دس سال کسی بھی بچے کے لیے بڑے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔بچوں کی دوستیاں ان کی محفلیں، ان کے ماحول کو مکمل اپنی نگاہ میں رکھا جائے۔ اللہ سے محبت اور خوف خدا ان کے دل میں پیدا کرنے کے لیے انہیں اللہ کے بارے میں علم دیا جائے، اللہ کے صفاتی ناموں کا ان کے سامنے تذکرہ کیا جائے، بچوں کو بتایا جائے۔ اللہ کی محبت شفقت رحمت کا احساس کروایا جائے۔ لیکن ان پر حقیقت بھی عیاں ہونی چاہیے۔ زندگی میں آنے والی آزمائشوں کا بھی انہیں علم ہو۔انہیں اپنے ماضی کی تاریخ کا بھی علم ہو، ان کے پاس مستقبل میں واضح ایک مقصد ہو۔
    بعض اوقات انہیں چھوٹی چھوٹی آزمائشوں سے بھی گزارا جائے، ان کی ہر خواہش کو پورا کرنے کے بجائے، انہیں صبر و شکر کرنا سکھایا جائے۔ انہیں بعض اوقات مشکل کاموں میں ڈالاجائے تاکہ زندگی کے سخت حالات کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔ ان میں معافی کا عمل کو اجاگر کیا جائے، ان کے ہاتھوں سے کسی غریب کی مدد کی جائے۔ان سے دعا منگوائی جائے، بعض اوقات ان کی خواہشوں کی تکمیل ان کی دعا کے ذریعے کی جائے۔

    Bobswiffey

    Bobswiffey is a freelance Journalist on Baaghitv For more details about visit twitter account

    Bobswiffey Twitter Account handle

    https://twitter.com/Bobswiffey

     

  • ‏کورونا واٸرس اور زرعی بحران  تحریر : جہانتاب احمد صدیقی

    ‏کورونا واٸرس اور زرعی بحران تحریر : جہانتاب احمد صدیقی

    کورونا واٸرس کی وجہ سے زراعت معیشت کا سب سے زیادہ متاثرہ شعبہ رہا ہے ، اور آبادی کو فیڈ کیا جا رہا ہے اور صنعتوں کو کام کرنے کے لئے محنت کی فراہمی کو یقینی بنانا سب سے اہم ضرورت ہے۔ زرعی شعبہ پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی کی آمدنی کے ایک اہم حصے ، صنعتی آدانوں کا ایک اہم حصہ اور ملک کی تقریبا تمام غذائی سپلائی کے لئے ذمہ دار ہے۔

    پاکستان پہلے ہی ایک دہائی سے زیادہ زرعی بحران کی لپیٹ میں ہے ، پچھلی دونوں حکومتوں نے ملک میں ’زرعی ایمرجنسی‘ کا اعلان کیا تھا۔ ایک دیرینہ ماحولیاتی بحران کے دوران زراعت کو نقصان اٹھانا پڑا ہے جو نوآبادیاتی زرعی آبادکاری کے عمل کے طور پر کم از کم پیچھے چلا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جو صرف شدت اختیار کرچکا ہے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پچھلی ڈیڑھ صدی کے دوران جو کچھ بھی محدود قسم کی فصلوں کی پیداوار کی موجودگی میں رکاوٹ ہے پچھلی دو دہائیوں میں صورتحال اور بھی سنگین ہوگئی ہے کیونکہ زرعی آدانوں کی قیمتوں میں فصلوں کی قیمتوں میں معمولی اضافے سے کہیں زیادہ اضافہ جاری ہے۔

    لاکھوں بے روزگار مزدوروں کی جبری واپسی نے کئی دہائیوں میں پہلی بار دیہی علاقوں میں زائد مزدوری پیدا کی ہے۔. کاشت کار جو اکثر فصلوں کے موسموں میں مزدوری کی قلت کی شکایت کرتے ہیں انہیں ایک انوکھا موسم درپیش ہوتا ہے جہاں مزدوری دستیاب ہوتی ہے ، لیکن زرعی منڈیوں تک رسائی زیادہ مشکل ہوتی ہے۔. انہیں کھانے کی طلب گرنے کے ساتھ اپنی فصلوں کی کٹائی کرنے کی کوئی ترغیب نہیں ہے۔. کوئی بھی رومانٹک نظریہ لے سکتا ہے کہ شہری مزدوری کی اس بڑے پیمانے پر واپسی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گاؤں کی نام نہاد ’اخلاقی معیشت‘ غریبوں کی آخری پناہ گاہ ہے ، جہاں کسی نہ کسی طرح واپس آنے والی بے زمین آبادی کے لئے دیہات میں روزی ہوگی۔. لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر کھانے کی فصلوں کی کٹائی نہیں کی جاتی ہے اور تجارتی فصلیں فروخت نہیں کی جاتی ہیں تو دیہات میں زائد مزدوری کھلایا جانے کا امکان نہیں ہے۔.

    اگرچہ یکجہتی معیشت کی کچھ شکل ابھرنے کا نظریاتی امکان موجود ہے۔, جیسا کہ ہندوستان کے کچھ حصوں میں بارٹر طریقوں کے چھوٹے پیمانے پر بحالی کی اطلاعات کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔اس طرح کے طریقوں میں اہم رکاوٹیں اس تناظر میں سامنے آتی ہیں جہاں زرعی آدانوں اور مزدوری کو ضرورت سے زیادہ تیزی سے رقم کی جاتی ہے۔.

    حقیقت یہ ہے کہ چھوٹے اور درمیانی کسانوں سمیت زیادہ تر دیہی گھرانے کھانے کے خالص خریدار ہیں۔. اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کاشت کاروں کو کچھ غیر منڈی والے کھانے تک رسائی حاصل ہے ، لیکن فصلوں کا انتخاب ، زمینوں کے ذخیرے کا سائز ، قرضوں کی مقدار ، اور گھریلو مویشیوں جیسے متعدد عوامل خاص طور پر کسانوں کو بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کی تشکیل میں اہم ہیں۔

    یہ سنگین صورتحال وہ سیاق و سباق ہے جس میں پاکستان کے زرعی پروڈیوسر کورونا لاک ڈاؤن میں داخل ہوئے تھے۔. زرعی تجارتی منڈیوں کی مکمل بندش ، خاص طور پر وہ لوگ جو کسانوں سے آؤٹ پٹ خریدتے ہیں ، اس سے کسانوں کو نمایاں نقصان ہوا ہے۔ سامان کی نقل و حرکت معطل ہونے کے بعد ، اناج سمیت فصلوں کے لئے تیار فصلوں کو کھیتوں میں سڑنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کو فوری نقصانات کا ترجمہ ہوتا ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا روایتی بمپر گندم کا ذخیرہ دستیاب ہونے کا امکان نہیں ہے۔

    ‎@JahantabSiddiqi

  • ‏آئیں درخت لگائیں  تحریر : نعمان سرور

    ‏آئیں درخت لگائیں تحریر : نعمان سرور

    درخت انسانی زندگی کی بقا کے لئے بہت ضروری ہیں ہم جو آکسیجن اپنے جسم میں لے کر جاتے ہیں یہ درخت ہی مہیا کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو یہ جذب کرتے ہیں، سیلاب سے بچاتے ہیں زمین کی کٹنگ کو روکتے ہیں اور زمین کے ماحول اور موسم کو سازگار بناتے ہیں۔
    کیا آپ جانتے ہیں رقبے کے لحاظ سے بڑے ممالک میں دنیا میں سب سے زیادہ جنگل کس ملک میں ہے ؟؟
    روس کا 70 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے جبکہ پاکستان کے کل 5 فیصد حصے پر جنگلات تھے جو اب کم ہو کر 3 فیصد پر پہنچ گئے ہیں جو کے انتہائی خطرناک سطح ہے۔
    پاکستان میں 2013 میں جب عمران خان کو خیبرپختون خواہ میں حکومت ملی تو وہاں پر ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ بنایا گیا،لوگوں نے اپوزیشن نے خوب مذاق بنایا لیکن پانچ سال جب مکمل ہونے کو آئے تو تو پوری دنیا کے ماحولیاتی اداروں نے اس منصوبے کی تعریف کی اس منصوبے سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملا اسی طرح اب ہماری حکومت نے 10 ارب درخت لگانے کا اعلان کیا ہے جو کے ممکن ہو سکتا ہے اگر پوری قوم مل کر اس پر کام کرے پاکستان کے انہی اقدامات کی وجہ سے پاکستان کو اس سال عالمی یوم ماحولیات کے 5 جون کو میزبانی ملی جو کے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔
    پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونگے
    پاکستان جسے 1999 سے 2018 تک شدید موسم سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والا دنیا کا پانچواں ملک قرار دیا گیا ہے ،
    اگر ہم درخت نہیں لگائیں گے تو امکان ہے کہ زیادہ بارش، زیادہ گرمی اور گلیشیرز کا پانی پگھلنے سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہونگے جو کے ہم اب بھی محسوس کر رہے ہیں اور ایسے حالات کا اثر ہماری فصلوں پر پڑنے کی کمی کے ساتھ دیگر کئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    اس سے سب سے زیادہ متاثر ہماری معیشت ہوگی کیونکہ ہمارے جی ڈی پی کا 20 فیصد زراعت سے منسلک ہے اور لاکھوں لوگوں کا روزگار اس سے خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
    حکومت نے اس سلسلے میں سب سے بہترین یہ کام کیا ہے کے اس معاملے کو سیریز لیا ہے جو کے پہلے والی حکومتیں نہیں لیتی تھیں حکومت نے اپنے چار سال کے عرصہ میں جنگلات کی مہم کے لئے 800 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ رکھے ہیں جس سے دس ارب درخت لگانے کا خواب پورا ہوگا اور حقیقی معنوں میں کلین اور گرین پاکستان کا خواب پورا ہوگا۔
    حکومت اس بات پر بھی کام کر رہی ہے کے ماحولیات کے لئے کام کرنے والے اداروں سے ملکر ایک ایسا فنڈ بنایا جائے جو ماحولیات کے لئے کام کرنے والے ممالک کو دیا جائے اگر وزیراعظم اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ پاکستان کا بہت بڑا فائدہ ہوگا۔
    وزیراعظم کا ایک کروڑ نوکریاں دینے کا خواب بھی کلین اینڈ گرین پاکستان منصوبہ پورا کر سکتا ہے دس ارب درخت لگانے میں جو غریب علاقے ہیں ان کی عوام برسرروزگار ہو پائے گی، مقامی لوگوں کو نگہبان کے طور پر نوکریاں ملیں گی، تربیت ملے گی، پچھلے سالوں میں جو درخت لگ چکے ہیں ان پر شہد لگنے سے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے اور مقامی نرسریاں اور وہاں کام کرنے والے روزگار کی سہولت سے مستفید ہوئے ہیں اور مزید بھی ہونگے۔
    حکومت نے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کے پاکستان میں 15 نئے قومی پارکس بنائے جائیں گے جو کے 7300 سکوائر کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہونگے۔ جہاں اتنے انقلابی اقدامات کئے جا رہے ہیں وہاں یہ بات بھی ضروری ہے کے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی روکی جائے اور اس میں ملوث لوگوں کو سزا دی جائے اس کے ساتھ ساتھ درخت لگانا سلیبس کا حصہ بنایا جائے بچوں کو اس کے فوائد بتائے جائیں اور جو بچے درخت لگائیں شجرکاری کریں ان کو اس کے اس باقاعدہ نمبر دئیے جائیں ایک قوم بن کر ہی ہم یہ مشن پورا کر سکتے ہیں کوئی حکومت اکیلے یہ کام نہیں کر سکتی پوری قوم کو اس معاملے پر ایک ہونا ہوگا تب ہی جا کر ہم یہ کر پائیں گے ہمارے دین اسلام میں بھی درخت لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔
    حضرت انسؓ سے روایت ہے‘ فر ماتے ہیں‘ رسول اللہ ؐ کا اِرشادِ مقدس ہے: جو مسلمان درخت لگائے یا کھیت بوئے پھر اُس میں سے کوئی اِنسان یا پرندہ یا جانور کھائے (تو جس مسلمان نے وہ درخت لگائے ہوں یا کھیتی بوئی ہو) اُسے صدقہ کے برابر ثواب ملتا ہے۔ کیونکہ صدقہ کرنا بھی عبادت ہے۔
    اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق دے آمین

    ‎@Nomysahir

  • معاشرہ اور قانون  تحریر: جواد یوسفزئی

    معاشرہ اور قانون تحریر: جواد یوسفزئی

    ہمارے ملک میں جب کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے حمایتی پیدا ہوکر کہتے ہیں کہ انصاف نہیں ہوگا تو اور کیا کریں۔
    یہ بڑی غلط بات ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ملک میں انصاف کا نظام ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔ کئی مجرم پکڑے ہی نہیں جاتے۔ کچھ پکڑے جانے کے بعد جلد چھوٹ جاتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ کسی کو سزا نہیں ملتی۔ اکثریت پکڑی بھی جاتی ہے اور سزا بھی ملتی ہے لیکن ہمیں وہ کیس یاد رہتے ہیں جن میں ملزم بچ جاتا ہے۔ آپ کو ثبوت چاہیے تو جیل جا کر دیکھیں۔
    لیکن یہ ملزم سزا سے بچتے کیوں ہیں، اس میں قانون نافذ کرنے والوں کی کمزوریاں ضرور ہیں۔ پولیس بعض صورتوں میں جرم کا سراغ نہیں لگا سکتی۔ سراع لگاتی ہے تو کیس مظبوط نہیں بناتی جس سے ملزم کے خلاف عدالت میں مکمل ثبوت مہیا نہیں ہوتے۔ بعض ملزم نہایت شاطر ہوتے ہیں اور اپنے جرم کا کوئی ثبوت ہی نہیں چھوڑتے۔ کچھ کیسوں میں عدالتوں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔
    یہ سب سچ ہے لیکن پولیس اور عدالتیں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جیسی کارکردگی دوسرے شعبوں کی ہے، ان دو اداروں کی بھی کم و بیش ویسی ہی ہے۔ اس لیے ان کو خصوصی طور پر مطعون کرنے کی وجہ نہیں بنتی۔
    ادھر عوام پولیس اور عدالت کا کتنا ساتھ دیتے ہیں۔ کیا ہم ہر موقع پر سچی گواہی دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ کیا ہم ملزم کی سفارش نہیں کرتے۔ کیا ہم کوشش نہیں کرتے کہ راضی نامہ کرکے ملزم کو سزا سے بچایا جائے۔ کیا اس مقصد کے لیے مدعی پر دباؤ نہیں ڈالا جاتا؟ انسانی معاشرے میں قتل شدید ترین جرم ہے اور اس کا مجرم سب سے قابل نفرت انسان ہوتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم کسی قاتل کو سزائے موت دینے کو برداشت نہیں کرتے۔ اول تو کوئی اس کے خلاف گواہی ہی نہیں دیتا۔ اگر گواہیاں مل جائیں اور عدالت اسے سزا سنا دے تو سارا معاشرہ مقتول کے وارثوں کے خلاف اتحاد کرلیتا ہے اور ہر قسم کا دباؤ ڈال کر انہیں معاف کردینے پر مجبور کرتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ قانون دشمن ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسی شخص پر الزام لگتے ہی بغیر کسی عدالتی کاروائی کے اسے سزا دی جائے۔ لیکن دوسری طرف کسی پر جرم ثابت ہوکر سزا سنائی جائے تو اسے بچانے کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں۔
    حقیقت پسند حضرات کچھ دیر کے لیے تصور کرلیں کہ ملک میں پولیس اور عدالتیں کام بند کردیں تو ہمارا کیا حال ہوگا۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMjawadKhan@Gmail.Com

  • معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار  تحریر: سید عمیر شیرازی

    معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    بقول حکیم الامت علامہ اقبال وجودزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اگر آپ مصرع پر غور کریں تو کوزہ میں دریا کو سموسے کی مثال صادق آئے گی وجودزن ہی دراصل اس پر آشوب اور رخج و محن سے لبریز دنیا میں سکون و اطمینان کا باعث ہے۔
    اسلام سے پہلے عورتوں کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا مسیحی دنیا میں عورت کو ایک ناگزیر برائی تصور کیا جاتا تھا اور ہندو اسے ناپاک حیوان سمجھتے تھے اور شوہر کے مرنے پر اسے ستی ہونا پڑتا تھا،
    عرب کی دنیا میں بھی یہی حال تھا عرب کے لوگ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے اور انہیں جائیداد منقولہ کی طرح بازاروں میں فروخت کیا جاتا تھا باپ کے مرنے کے بعد بیٹے سوتیلی ماؤں سے نکاح کر لیتے تھے میراث میں بھی اس کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اسے حصول تعلیم کی اجازت دی اور نہ ہی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے حقوق حاصل تھے ان کا کام صرف مردوں کو آرام و سکون پہنچانے اور ان کی اولاد کی پرورش کرنا تھا۔۔
    ایک وقت میں مرد کئی کئی عورتیں رکھتے تھے
    اہل مغرب (جو اپنے آپ کو تہذیب کا علمبردار سمجھتے ہیں) عورت کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے مغربی دنیا میں عورت کو مرد کے شانہ بشانہ روزی کمانا پڑتا ہے جسے تہذیب کے یہ علمبردار مساوات سمجھتے ہیں،
    یہ مساوات نہیں بلکہ عورت کے حقوق کے غصب کی ایک صورت ہے مغربی دنیا میں آج بھی عورت کی حالت بدتر ہے اور وہ غلام بنی ہوئی ہے ۔۔۔ گویا اسلام سے پہلے عورتوں کی زندگی محرومیت کا شکار تھی اور وہ ذلت کی زندگی گزار رہی تھیں۔
    دنیا کے تمام مذاہب میں صرف دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں باعزت اور قابل احترام مقام بخشا ہے اسلامی معاشرے میں عورت ماں ہو یا بیٹی بہن یا بیوی ہر لحاظ سے باعزت اور قابل احترام ہے اس کی حیثیت اور مرتبے کے مطابق اس کے حقوق مقرر کردیا گئے ہیں اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو تاکید کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی عزت و وقار کا خیال رکھیں،
    اسلام نے معاشرے میں عورت کو اس کا جائز حق اور بلند مرتبہ عطا فرمایا بیوی کو میراث میں اولاد کی موجودگی میں آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی حصہ عطا کیا۔

    "وہ رتبہ عالی کوئی مذہب نہیں دے گا
    کرتا ہے جو عورت کو عطا مذہب اسلام”

    اس سلسلے میں قرآن پاک کی بلاغت کی انتہا یہ ہے کہ اس نے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے اندر بیوی کے جملہ حقوق ارشاد فرما دیے،
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی سے بہتر سلوک کرتا ہے”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مارنے پیٹنے اور برا بھلا کہنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
    اس میں شک نہیں کہ مردوں کو اللہ تعالی نے زیادہ طاقتور توانا اور مضبوط بنایا ہے اور انہیں قوی اعضاء سے آراستہ کیا جب کہ عورتوں کو کمزور اور نرم و نازک بنایا ہے ان کے اعضاء بھی کمزور اور ان کی دماغی قوتیں بھی مردوں سے کم ہیں البتہ عورتیں بالحاظ جذبات مردوں سے زیادہ طاقتور ہیں،
    ان میں محبت،الفت، رحم،حیاء، شرم اور غصہ کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے حصول تعلیم سے ان کے جذبات میں اور بھی نکھار پیدا ہوجاتا ہے اور یہی جذبات پھر ان کے بچوں میں سرایت کرتے جاتے ہیں اور ان کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں دنیا میں جس قدر بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں ان کی تعلیم و تربیت میں اصل ہاتھ ماں کا تھا اور ماں ایک عورت ہی ہو سکتی ہے۔

    "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں”

    ‎@SyedUmair95

  • خواتین کے خلاف بڑھتا تشدد: تاریخی جائزہ   تحریر: محمد اختر

    خواتین کے خلاف بڑھتا تشدد: تاریخی جائزہ تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام، یوں تو کہنے کو پاکستان اسلامیملک ہے مگر افسوس صد افسوس پاکستان میں عورتوں کے خلاف بڑھتے تشدد کے واقعات باعث تشویش ہے، جس کی بنیادی و جہ ناقص تحقیقات اور انصاف کی عدم دستیابی ہے۔ آئیے! اس ضمن میں حالات اور واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔پاکستان میں خواتین کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ملازمت پر ہراساں کرنے سے لے کر بے دردی سے قتل کیے جانے تک، پاکستانی خواتین عام طور پر زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کے تخمینے کے مطابق، پاکستان میں 70%-90% خواتین کو کسی نہ کسی طرح کی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ 2005 میں، ایک مطالعہ میں 176 شادی شدہ مردوں سے کراچی میں گھریلو تشدد کے بارے میں اپنی رائے کے بارے میں انٹرویو کیاگیا۔ 46%نے کہا کہ مردوں کو اپنی بیویوں کو زدوکوب کرنے کا حق ہے، جبکہ65% نے اپنی ماؤں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنتا دیکھا ہے۔ پاکستان میں اسلام کی غلط تشریح کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد کی سطح بہت زیادہ ہے۔ شوہر یا سسرال والے عام طور پر خواتین پر تشدد جیسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ 2003 میں، اسلام آباد میں ہونے والی ایک تحقیق میں 216 شادی شدہ خواتین نے حصہ لیا۔ ان خواتین میں سے، 96.8% نے گھریلو زیادتی کی کچھ اقسام کا سامنا کیا۔مبینہ طور پر 80% مجرم شوہر ہیں اور 17%ماں یا سوتیلی مائیں ہیں۔خواتین کے خلاف جسمانی تشد د ہی صرف زیادتی کی واحد قسم نہیں ہے بلکہ اس کی بہت سی اقسام ہیں۔ پاکستان میں گھریلو تشدد معمول بنتا جارہا ہے کیوں کہ مرد اپنی بیویوں کا واحد مالک اور نگہبان تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کے حقوق کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔1999 کی ایک رپورٹ میں 24-45سال کی عمر کے 70 مردوں سے انٹرویو کیا گیا جس میں سے 54 افراد نے اپنی بیویوں کے ساتھ اتفاق رائے سے تعلقات کو قبول کرنے کا اعتراف کیا۔ پاکستان میں بیویوں پر تشدد کے بارے میں 2015 کے ایک مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ جنسی تشدد کی انفرادی رپورٹس خواتین میں 77%، جسمانی 50% اور نفسیاتی 90 فیصد تک ہیں۔پاکستان میں خواتین کا ازدواجی زیادتی کا شکار بننے سے اکثر غیر ضروری حمل ہوجاتے ہیں۔ 2002 میں چوبیس لاکھ غیر ارادتاً حمل ہوئے۔ جس کے نتیجے میں نو لاکھ کا اسقاط حمل ہوا۔پاکستان میں اسقاط حمل کے محفوظ طریقوں کی کمی کی وجہ سے،دو لاکھ خواتین پیچیدگیوں کے سبب اسپتال میں داخل ہوگئیں، اور ہر 10 خواتین میں سے 1 عورت فوت ہوگئی۔پاکستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی کا بہت بڑا فقدان ہے کیونکہ عام طور پر اسے اسلام کے مخالف بیانیہتصور کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے اسلا می تعلیمات کے مطابق شوہر کو خاندان کا حاکم ہونے کا اعزاز ضرور ہے مگر شوہر کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ وہ بیوی کے حقوق کو سلب کرے کیونکہ دینِ اسلام میں خواتین کو بہت معتبر سمجھا گیا ہے۔ پاکستان میں خواتین کو عوام میں بھی ہراساں اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مددگار ہیلپ لائن کے مطابق، پاکستان میں 93% خواتین کو عوامی مقامات پر جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کو موصول ہونے والی شکایات میں 56% خواتین کی طرف سے ہیں جبکہ 13% مردوں کی طرف سے ہیں۔2015 سے اب تک، پاکستان میں 22000 زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ روزانہ اوسطا 11 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس میں سزا کی شرح صرف 0.3% ہے۔مزید یہ کہ اس دور جدید میں آن لائن ہراساں کرنے کے معاملات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ خواتین کو فوٹو شاپ تصویروں کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے کو 2018-2019 میں خواتین کی جانب سے 8500 شکایات موصول ہوئیں۔ تاہم، صرف 19.5%ہی تحقیقات کی گئیں۔پاکستان میں خواتین کو درپیش تمام پریشانیوں کی وجہ سے، عالمی سطح پر صنفی گیپ انڈیکس سیاسی بااختیارگی، معاشی شراکت، تعلیمی حصول، صحت اور بقا کی بنیاد پر پاکستان کو دنیا کا تیسرا بدترین ملک قرار دیتا ہے۔

    @MAkhter_

  • زندہ لاشیں  تحریر بشارت حسین

    زندہ لاشیں تحریر بشارت حسین

    پہلی بار یہ لفظ بارہ تیرہ سال کی عمر میں سنا جب میرے پڑوس میں ایک شخص گرا اور اس کی کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی کافی علاج معالجے کے باوجود بھی جب وہ ٹھیک نہ ہوا تو ایک دن اس کے گھر جانا ہوا جب حال پوچھا تو کہنے لگا زندہ لاش ہوں اب تو بس زندگی جیسے کیسے گزارنی ہے سانس تو چلتی ہے لیکن اپنا بھی پتا نہیں نیچے کا حصہ ناکارہ ہو چکا۔
    مجھے لگا اس کی بات تو کافی حد تک ٹھیک ہے
    لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوا کہ وہ شخص تو مجبور تھا محتاج ہو گیا تھا
    درحقیقت وہ زندہ لاش نہیں تھا زندہ لاشوں سے تو ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے۔
    جہاں ہر گھر،ہر محلے،ہر گلی اور ہر جگہ چلتی پھرتی دوڑتی زندہ لاشیں نظر آتی ہیں۔
    بڑی بڑی گاڑیوں میں کلبوں میں بڑے بڑے ہوٹلوں میں تفریحی مقامات پہ بینکوں میں بسوں میں الغرض ہر شعبہ زندگی میں زندہ لاشوں کا راج ہے۔
    زندہ لاشیں ہی تو ہیں روڈ پہ ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے لوگ مر رہے ہوتے زخمی تڑپ رہا ہوتا ہے بلبلا رہا ہوتا ہے مدد کیلئے پکار رہا ہوتا لیکن کوئی مدد کیلئے نہیں آتا گاڑیاں اپنی ہی سپیڈ میں جا رہی ہوتی ہیں کوئی تماشا دیکھنے فوٹو لینے ذرا سا آہستہ ہو جاتا ہے پھر نکل جاتا ہے۔ بنائی ویڈیو یا تصویر کو سوشل میڈیا کی نظر کیا جاتا ہے لائک کمنٹ آتے ہیں بس اس کا فرض پورا ہو جاتا ہے یہ ہیں زندہ لاشیں جن کے اندر اتنی بھی ہمدردی نہیں ہوتی ہے کسی کو ہسپتال پہنچا سکیں کسی کی زندگی بچا سکیں۔
    کسی کے جگر کے ٹکڑے کو مرنے سے بچانے کی جسارت کر لیں۔ نہیں کبھی نہیں کیونکہ ان کو کیا ہے وہ انکا بیٹا نہیں بھائی نہیں بیٹی نہیں ان سے کوئی رشتہ نہیں پھر کیوں مدد کریں کیوں اپنا وقت ضائع کریں۔
    جب انسانیت کے مقدس رشتے کو یوں پامال کیا جاتا ہے یوں پس پشت ڈالا جاتا ہے تو پھر میں کہتا ہوں وہ شخص نہیں یہ زندہ لاشیں ہیں جن کو اپنے مفاد کے علاوہ کچھ نظر نہیں اتا۔
    جب کہیں مظلوم پہ ظلم ہو رہا اور مجمع اکٹھا ہو کر اس کا تماشا کر رہا ہو وہاں مظلوم کا ساتھ دینے والا کوئی نہ ہو تو مجھے وہ سب زندہ لاشیں نظر آتی ہیں وہ سب درد انسانیت سے عاری زندہ لاشیں۔
    ایک غریب آدمی جب اپنی جمع پونجی لیکر دل کو سو دلاسے دے کر ہسپتال آتا ہے تو وہاں معالج کے بجائے ایک لٹیرا ہوتا ہے جسکو اس کے پھٹے کپڑے دیکھ کر بھی حیا نہیں آتی ۔ اپنے کمیشن کی خاطر ایسے عجیب و غریب ٹسٹ لکھ کر دیے جاتے ہیں جن کا اس کی بیماری سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کمیشن کی خاطر خوامخواہ مہنگی دوائیاں لکھ کر تھما دی جاتی ہیں۔
    یہاں ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ یہ درحقیقت زندہ لاشیں ہیں۔
    جب دودھ میں پانی ملانے والے کو دیکھتا ہوں تو سمجھ آتی ہیں زندہ لاشیں تو یہ ہیں جنکو نہ کسی کی صحت کا احساس ہے نہ کسی کی زندگی کا۔ پڑوس میں غریب کے بچے بھوکے سو رہے ہیں اور گھر میں شراب نوشی کی محفل جمی ہے زندہ لاشیں تو یہ ہیں۔
    قوم کے بچے سڑکوں پہ دھکے کھا رہے ہیں اور صاحب اقتدار قوم کا پیسہ لوٹ کر ملک سے بھاگ رہے ہیں اپنے اثاثے بنا رہے ہیں کوئی پرواہ نہیں سڑکوں پہ پھول بچتے ہوئے ان پھولوں کی جن کے والدین نے ان کیلئے کیا کیا سپنے دیکھے ہوتے ہیں پھر انکو زندہ لاشیں نہ لکھوں تو کیا لکھوں؟
    جب راستے پہ عورتوں کو چھیڑا جاتا ہے تو کوئی ان درندوں کو نہیں روکتا یہ سوچ کر شاید کہ یہ انکی کچھ نہیں لگتی حقیقت یہ نہیں حقیقت یہ ہے کہ ان کے اندر انسان مر چکا ہے۔
    گھروں میں نوکروں سے جانوروں جیسا سلوک، پولیس کا امیروں سے درد مندانہ اور غریبوں سے ظالمانہ سلوک دیکھ کر لگتا ہے کہ انسانیت مر گئی ضمیر مر گئے اب ان زندہ لاشوں سے کسی بھی اچھائی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
    کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرنے والا دھوکے سے لوگوں سے پیسہ بٹورنے والا ، زمینوں کی غلط خرید و فروخت کرنے والا ، پانی جیسی نعمت کو بھی غلط طریقے سے فروخت کرنے والا، ذخیرہ اندوزی کرنے والا ان سب کو کیا کہوں جن کے اندر کا انسان یہ کہنے کے بھی قابل نہیں کہ تم غلط کر رہے ہو۔
    معاشرے کا ہر وہ شخص زندہ لاش ہے جس میں احساس نہیں دوسروں کیلئے ہمدردی نہیں محبت نہیں۔ جسکو کسی کی پرواہ نہیں کہ کوئی بھوکا مر رہا ہے یا پیاسا مر رہا ہے کوئی زخمی ہے یا مظلوم ہے۔
    اب اپنے گریبان میں بھی جھانکیں آپ کا صف میں کھڑے ہیں؟
    کہیں آپ بھی زندہ لاش تو نہیں؟

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • پرائیویٹ اسکولز مافیا  تحریر:  فرقان اسلم

    پرائیویٹ اسکولز مافیا تحریر: فرقان اسلم

    ‏”علم ایک لازوال دولت ہے”
    ہمارے مذہب اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس لیے کوئی بھی ذی شعور انسان تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسی بِنا پر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے۔ اب بات آجاتی ہے کہ بچے کو کس تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جائے۔ ہمارے ملک پاکستان میں دو طرح کے تعلیمی ادارے ہیں سرکاری تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ (نجی) تعلیمی ادارے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سرپرستی حکومت کرتی ہیں لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کوئی خاص سرپرست نہیں ہوتا ملی بھگت سے کام چلتا ہے۔
    ہمارے معاشرے میں اکثر والدین سرکاری اسکولز سے متنفر نظر آتے ہیں بعض کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان ہے اور معیار کی کمی ہے۔ اسی اثنا میں وہ پرائیویٹ مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ چند پرائیویٹ اسکولز تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جن کا معیارِ تعلیم انتہائی ناقص ہے بلکہ وہ تعلیم کے نام پر کاروبار کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرائیویٹ اسکولز ہیں جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ یہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اور ہماری عوام بھی انجانے میں ان کے دھندے کا شکار ہورہی ہے۔
    اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے مگر میں دو اہم مسائل پر بات کرنا چاہوں گا۔

    من مانی فیسیوں کا مطالبہ:
    پرائیویٹ اسکولز طلبہ اور انکے والدین کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر ماہ کے شروع میں والدین کو فیسوں کے نام پہ ہزاروں روپے اسکولز میں جمع کروانے ہوتے ہیں تا کہ انکے بچے تعلیم کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکیں۔ چاہے کوئی امیر ہے یا غریب ہے لیکن فیس ہر صورت جمع کروانی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں ہر سال اضافہ ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ پیپر فنڈ اور پیپر کی شیٹوں کے پیسے الگ سے لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک پیپر کی فوٹوکاپی پر دو یا تین روپے خرچ آتا ہے لیکن پیپر فنڈ ہزاروں میں لیتے ہیں۔

    سٹیشنری کا سامان :
    اگر آپکا بچہ کسی مہنگے سکول میں زیرِ تعلیم ہے تو صرف ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ اسکول کے پرنٹڈ مونوگرام والی کاپیاں، کتابیں اور دیگر سٹیشنری کا سامان خریدنا بھی آپکی ذمہ داری ہے۔ جس کاپی کی قیمت باہر 30 روپے ہو یہاں پر یہ دوگنا قیمت پر ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں، یونیفارم اور دیگر سامان بھی انتہائی مہنگے داموں بیچتے ہیں اگر اس کو کاروبار کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اگر پرائیویٹ اسکولز کا بس چلے تو یہ اس بات کو بھی لازم کردیں کہ آپ کا بچہ جس آٹے کی روٹی کھاتا ہے وہ بھی ہمارے اسکول سے لیا جائے تاکہ اس کی نشوونما بہترین ہوسکے۔

    مکتب نہیں دوکان ہے، بیوپار ہے
    مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے

    ان مسائل کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف ایک موثر ایکشن لیا جائے تاکہ ان کی من مانی بند ہوسکے۔ پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ ملی بھگت کرکے اپنا دھندہ چلا رہی ہے جس کا شکار بے چارے سادہ لوح عوام بن رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں پرائیویٹ اسکولوں کا نظام ہم سے کئی گنا بہتر ہے۔ وہاں ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اگر کوئی اسکول زیادہ فیس وصول کرے یا ان کا معیار اچھا نہ ہو تو فوراً بند کردیا جاتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی وجہ سے آج ہم تعلیمی میدان میں بہت سے ممالک سے پیچھے ہیں۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ اسکول مافیا کو بے نقاب کیا جائے اور تعلیم کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں اور قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
    والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور بلاوجہ سرکاری تعلیمی اداروں پر تنقید نہ کریں کیونکہ وہ بھی عوام کی بھلائی اور آسانی کے لیے تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ہماری زیادہ تر آبادی مڈل کلاس ہے اس لیے وہ پرائیویٹ اسکولز کی فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اللّٰہ پاک وطنِ عزیز کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں ہم سب کی مدد فرمائے۔۔۔آمین

    ‎@Rumi_PK