Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز چوتھا اور آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز چوتھا اور آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان چوتھا اور آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی :میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا پاکستان کو چار میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ پہلا اور تیسرا ٹی 20 میچ بارش کی وجہ سے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے جبکہ دوسرے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو سات رنز سے شکست دی تھی۔

    دونوں ٹیموں کی جانب سے پلینگ الیون میں ایک سے دو تبدیلیاں متوقع ہیں-

  • زنا ایک ناسور، وجوہات۔ تحریر: احمد فراز خان

    زنا ایک ناسور، وجوہات۔ تحریر: احمد فراز خان

    کسی بھی معاشرے کی زینت اور مضبوطی اس کی اخلاقی اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ زنا معاشرے کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ موجودہ دور میں بد اخلاقی کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے جہاں معاشرے میں اخلاقی گراوٹ وقوع پذیر ہو رہی ہے وہیں معاشرے کا امن اور آزادی بھی انتہائی گہرائی سے مضروب ہو رہے ہیں۔
    معاشرے کی بقا اس کی اخلاقی اقدار، تہذیبی اصناف اور ذہنی بلندی سے وابستہ ہے۔
    آج کل کا معاشرہ جہاں مختلف مصائب کا شکار ہے وہیں زنا جیسا ناسور بھی اپنی جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے۔ جس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔
    زنا انسانی معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ گو کہ یہ انسانی جبلت ہے لیکن بطور انسان اخلاقیات بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑی جا سکتیں۔
    آج کل زنا کی وجوہات کو لے کر ایک وسیع و عریض بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ عورت کے لباس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھ رہا ہے تو کسی کے نزدیک مرد کی نظر اس کی ذمہ دار ہے۔
    لیکن ہم ابتدا سے اس ناسور کا جائزہ لیتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں پہناووں کو لے کر ایک خاص رسم چل پڑی ہے جس کے تحت عورت کے پہناوے دن بدن سکڑ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ دو سال کی بچیوں کو بھی ایسے ملبوسات پہنائے جا رہے ہیں کہ بچیاں کسی فیشن انڈسٹری کی ماڈل لگنے لگ گئی ہیں۔
    بچیاں ابھی دو سال کی ہی ہوتی ہیں کہ انہیں تنگ اور مختصر لباس پہنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اور عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ لباس مزید مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دوپٹہ جو کہ خاص مشرقی روایات میں سے ایک تھا، آج کل تو ناپید ہوتا نظر آ رہا ہے۔ زیرِ نظر شعر شاید ہمارے ماضی کے لئے کسی شاعر نے لکھا تھا کیونکہ ہمارا حال تو اس شعر کا بالکل بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔

    تعلق ہے میرا اس قوم سے، جس قوم کے بچے
    خریدیں جب کوئی گڑیا، دوپٹہ ساتھ لیتے ہیں

    عورت مختصر لباس میں معاشرے میں گھومتی ہے اور اسے اپنی آزادی کا نام دیتی ہے۔
    جبکہ دوسری طرف
    ایک بچہ جب دو سال کا ہوتا ہے تو وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھتا ہے اور اس ماحول پر غور وفکر کرتا رہتا ہے۔ گو کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بچہ ہے اسے کوئی سدھ خبر نہیں ہو گی لیکن وہ مکمل طور پر معاشرے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہی بچہ جب نوجوان ہوتا ہے اور اپنے اردگرد تنگ لباسی کو عام دیکھتا ہے اور وہ عورت جس کو پردے میں رہنے کا حکم دیا گیا ہو لیکن وہ نیم برہنہ کپڑوں میں ملبوس کھلے عام گھوم رہی ہو تو اسے دیکھ کر وہ نوجوان بھی تنگ نظر بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ نوجوان اپنی انسانی جبلت کے زیرِ اثر شہوانیت کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے اور حوا زادیوں کی طرف اس کی رغبت مزید بڑھنے لگ جاتی ہے۔
    ہمارے معاشرے میں شادیاں ویسے بھی دیر سے ہوتی ہیں اس لئے نوجوان غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
    آج کل جہاں فحش ویب سائٹس عام ہیں اور فحش لباس میں ملبوس کچھ گمراہ ذہنی مریضائیں کھلے عام گھومتی ہیں وہیں کسی مومن کو ابلیس بننے میں دیر نہیں لگتی۔
    میری اس بات کا اگر آپ معاشرتی تجربہ کرنا چاہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے علاقے جہاں زنا کی سزائیں جرگوں میں دی جاتی ہیں اور غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے وہاں ترقی یافتہ شہروں کی نسبت زنا کی شرح نہ صرف انتہائی کم ہو گی بلکہ وہاں کی خواتین پردے کا بھی سختی سے اہتمام کرتی ہوں گی اور مرد بھی اپنی نظریں اپنے قابو میں رکھ کر گھومتے ہوں گے۔
    زیادتی اور اغوا کے جتنے بھی واقعات پیش آتے ہیں ان کی اکثریت ترقی یافتہ شہروں میں صرف اس وجہ سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہاں پر فیشن اور آزادی کے نام پر عورت سے اس کی حیا اور روایات چھین لی گئی ہیں اور عورت تک مرد کی دسترس آسان کر دی گئی ہے۔
    یہ نام نہاد آزادی اور فیشن کا ناسور مغرب سے درآمد ہو کر آیا اور اب مختلف این جی اوز اور دیگر اداروں کے ذریعے مشرق میں اس کی بڑھوتری اور ترویج پر کام جاری ہے۔
    بطور ایک منظم اور تہذیب یافتہ معاشرہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی بنیاد کو نہ بھولیں۔ اس معاشرے کی بنیاد مشرقی اصولوں پر مبنی ہے۔ لہٰذا مغربی تہذیب اور پہناوے یہاں کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم اسلامی لباس اور اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد شروع کر دیں تو نہ صرف عورت کے لباس کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس لباس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مرد کی تنگ نظری پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
    کچھ لوگ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر زنا کی وجہ عورت کا لباس ہے تو پردہ دار خواتین اور بچے کیوں محفوظ نہیں؟ اس سے میری عرض ہے کہ جب کوئی جانور خونخوار بن جاتا ہے تو وہ اونٹ اور چوہے میں فرق نہیں کرتا۔ اسے جہاں بھی خون کی خوشبو آئے جھپٹ پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں سوچنا چاہئے کہ خونخواری کی وجہ کیا ہے؟ اگر آپ معاشرے کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو آپ میری ساری گزارشات خود ہی سمجھ جائیں گے۔

    زنا جیسے ناسور پر قابو پانے کے لئے ہمیں جلد از جلد اس فیشن انڈسٹری سے چھٹکارہ حاصل کر کے معاشرے کو راہِ راست پہ لانا ہو گا۔
    اگر آپ نے ضائع ہوتا پانی بند کرنا ہے تو آپ کو بجائے اس پانی کو ٹھکانے لگانے یا پائپ کو مروڑنے کے نلکہ ہی بند کرنا پڑے گا۔ کیونکہ جب تک سر نہ کچلا جائے سانپ زندہ رہتا ہے۔

    لکھنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن ایک آرٹیکل میں سب دلائل اور گفتگو کا سما جانا ممکن نہیں۔ اس کے لئے بیسیوں صفحات پر مشتمل کتابچہ بھی شاید کم پڑ جائے۔ بہر حال ہم صرف جڑ سے ہی اس لعنت کو ختم کر سکتے ہیں اور کوئی حل نہیں ہے۔
    @1nVi5ibL3_

  • ‏بدعنوانی اور پاکستان  تحریر:  جہانتاب احمد صدیقی

    ‏بدعنوانی اور پاکستان تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    قیام پاکستانی کے بدعنوانی پاکستان کو درپیش سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔. بدعنوانی سے نمٹنے کے مختلف اداروں کے باوجود بدعنوانی پر قابو پانا آسان نہیں ہے۔. بدعنوانی ایک ایسا مہلک مریض ہے جس میں ملک کا ہر ارادہ مبتلا ہے، بدعنوانی پر قابو پانے کے بہت سے ادارے برسوں سے بدعنوانی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پھر بھی پاکستان کے شہری اس بدعنوانی کے نظام سے بے افسردہ ہیں۔.

    بدعنوانی چار اہم وجوہات کی بناء پر پاکستانی معاشرے کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ سب سے پہلے ، پاکستان کی شبیہہ کو پچھلی چند دہائیوں میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے کیونکہ معاہدوں کو دیتے ہوئے بدعنوان طریقوں ، غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والے منصوبوں کا آغاز اور اعلی سطح کے عہدیداروں کے ذریعہ منی لانڈرنگ نے ملک کے لئے ایک برا نام پیدا کیا۔.

    1996 میں ، برلن میں قائم سول سوسائٹی کی تنظیم ، شفافیت نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو دنیا کا دوسرا بدعنوان ملک قرار دیا۔. رپورٹ TI پاکستان کے لئے بہت شرمندگی کا باعث تھی کیونکہ اس نے ملک کی شبیہہ کو بکھر نہیں کیا بلکہ غیر ملکی عطیہ دہندگان کو بھی اس کے ترقیاتی منصوبوں میں پاکستان کی حمایت کرنے کی حوصلہ شکنی کی۔

    جب غیر ملکی کمپنیوں اور ایجنسیوں سے کمیشن لینے کے نتیجے میں لالچ کی ثقافت گہری ہوگئی تو ، دنیا کا اعتماد اور اعتماد کم ہوا۔. ٹی آئی کے قومی بدعنوانی کے تصور این سی پی سروے 2010 کے مطابق پاکستان میں 2009 میں 195 ارب روپے سے لے کر 2010 میں 223 بلین روپے تک بڑے پیمانے پر بدعنوانی پائی جاتی ہے۔.

    پاکستان میں ٹی آئی کے ذریعہ شناخت کیے جانے والے کچھ انتہائی کرپٹ ادارے اور علاقے یہ ہیں: پولیس ، بجلی کا شعبہ ، زمینی انتظامیہ ، مواصلات ، تعلیم ، مقامی حکومت ، عدلیہ ، صحت ، ٹیکس لگانے اور رواج۔

    ٹی آئی کے سروے کے مطابق ، موجودہ حکومت میں بدعنوانی میں پچھلے ایک کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔. نہ تو غیر ملکی شہری اور نہ ہی سمندر سے زیادہ پاکستانی جو اس ملک میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں صرف اس وقت حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جب انہیں رشوت اور کک بیک کی شکل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔.

    بدعنوانی پر صرف اسی صورت میں قابو پایا جاسکتا ہے جب سیاسی اور انفرادی طور پر ہر شہری نہ صرف اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہو بلکہ اس عمل پیرا بھی ہو

    آخر میں ، پاکستان کے تمام حکام کو اپنی طرف سے بدعنوانی کے عنصر کو کم سے کم کرنے اور قانونی طور پر کام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔. شہریوں کو قانونی کاروبار کرنے پر توجہ دینی چاہئے اور کالے پیسے کمانے سے گریز کرنا چاہئے۔. اگر ہم چھوٹے عوامل پر بھی توجہ دیں گے تو ہم کسی نہ کسی سطح پر بدعنوانی پر قابو پاسکتے ہیں۔.

    ‎@JahantabSiddiqi

  • صحابہ کرامؓ کا مقام و مرتبہ  تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    صحابہ کرامؓ کا مقام و مرتبہ تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    صحابی کا مقام اور مرتبہ جاننے سے پہلے انکی تعریف کا جاننا ضروری ہے ۔۔تو صحابی ہر اس شخص کو کہا جائے گا جس نے ایمان کی حالت میں خاتم النّبیین محمد صلى الله عليه وسلم سے ملاقات کی ہو اور اسی ایمان کے ساتھ وفات پائی ہو۔۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ صحابہ کرام سے محبت وعقیدت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرام کی پیروی کئے بغیر آنحضور صلى الله عليه وسلم کی پیروی کا تصور محال ہے۔

    ‎اب ہم صحابہ کے مقام کو قرآن پاک کی روشنی میں دیکھ لیتے ہیں کہ قرآن پاک صحابہ کے مقام کے بارے میں کیا کہتا ہے۔۔ ( آیت نمبر 1 )
    ‎اِنَّ الذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْواتَہم عِندَ رَسُولِ اللّٰہِ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ اِمْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوبَہُم لِلتَّقْویٰ لَہُم مَغْفِرةٌ وَاَجْرٌ عَظِیْمٌ. (سورہ الحجرات:۳)
    ‎ترجمہ: بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خالص کردیا ہے ان لوگوں کیلئے مغفرت اوراجر عظیم ہے۔۔۔اس آیت میں صحابہ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ متقی ہیں اور انکے بہت بڑا اجر ہے
    ‎( آیت نمبر 2 ) مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً سِیْمَاہُم فِی وُجُوْہِہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (سورہ فتح:۲۹)
    ‎ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اور اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کی (عبدیت) کے آثار سجدوں کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔۔۔اس ایت میں صحابہ رضی اللہ عنھم کی بہت سی باتوں میں حق تعالی خود تعریف کر رہے ہیں اور جسکی اللہ تعالی خود تعریف کریں انکا مقام کیسا ہو گا آپ اور میں سمجھ سکتے ہیں

    ‎اب ہم صحابہ کا مقام احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں دیکھ لیتے ہیں
    ‎( حدیث نمبر 1 ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :’’إِنَّ اللّٰہَ نَظَرَ فِیْ قُلُوْبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْرَ قُلُوْبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاہُ لِنَفْسِہٖ، فَابْتَعَثَہٗ بِرِسَالَتِہٖ ، ثُمَّ نَظَرَ فِیْ قُلُوْبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ قُلُوْبَ أَصْحَابِہٖ خَیْرَقُلُوْبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَہُمْ وُزَرَائَ نَبِیِّہٖ یُقَاتِلُوْنَ عَلٰی دِیْنِہٖ ، فَمَا رَأٰی الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ وَمَا رَأَوْا سَیِّئًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ سَيِّئٌ۔‘‘ (مسند احمد،۳۴۶۸)
    ‎ترجمہ ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب کو ان سب قلوب میں بہتر پایا، ان کو اپنی رسالت کے لیے مقرر کردیا، پھر قلب محمد کے بعد دوسرے قلوب پر نظر فرمائی تو اصحابِ محمد کے قلوب کو دوسرے سب بندوں کے قلوب سے بہتر پایا، ان کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت اور دین کی نصرت کے لیے پسند کرلیا
    ‎( حدیث نمبر 2 ) اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِيْ أَصْحَابِيْ ، لَاتَتَّخِذُوْہُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِيْ، فَمَنْ أَحَبَّہُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّہُمْ وَمَنْ أَبْغَضَہُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَہُمْ ، وَمَنْ أٰذَاہُمْ فَقَدْ أٰذَانِيْ وَمَنْ أٰذَانِيْ فَقَدْ أٰذَی اللّٰہَ، وَمَنْ أٰذَی اللّٰہَ فَیُوْشِکُ أَنْ یَّأْخُذَہٗ۔‘‘(ترمذی، ج:۲، ص:۲۲۵) ترجمہ ’’اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہؓ کے معاملے میں، میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع کا) نشانہ نہ بناؤ، کیونکہ جس شخص نے ان سے محبت کی تو میری محبت کے ساتھ ان سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کے ساتھ ان سے بغض رکھا، اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء پہنچائی، اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی، اور جو اللہ کو ایذاء پہنچانا چاہتا ہے تو قریب ہے کہ اللہ اس کو عذاب میں پکڑلے گا۔ ان ایات قرآنیہ اور احادیث نبویؐ کی روشنی میں تمام صحابہ کا مقام واضح ہو گیا کہ انکا مقام اللہ اور انکے رسول کے ہاں کتنا بلند و بالا ہے۔۔۔اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

    Follow @IamYasif

  • محبت مسلسل   تحریر:  فرزانہ شریف

    محبت مسلسل تحریر: فرزانہ شریف

    جب ہم ہوش سنبھالتے ہیں سب سے پہلے جو ہماری ماں ہمیں سبق سکھاتی ہے اللہ سے پیار کرنا اس کے بندوں سے پیار کرنا بڑوں کی عزت کرنا اور پھر جیسےجیسے ہم بڑے ہورہے ہوتے ہیں ان لیسنز میں اضافہ ہوتا جاتا "بیٹا کسی کا حق نہ مارنا”
    "کسی سے نفرت نہ کرنا”..
    "جی امی جی بہتر”..
    "کسی کا دل نہ دکھانا”….
    "جو حکم امی جی اپکا”…..
    پھرساری عمر ان باتوں کا خیال رکھتے رکھتے ہم بھول جاتے ہیں ہمارا خود کا بھی ہم پر حق ہے کوئی ہرٹ کرتا ہے تو ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے
    تھپڑ کے بدلے تھپڑ نہ مارو چلو…. مگر اٹھ کر ہاتھ تو پکڑا جا سکتا..
    کوئی ایک دفعہ اعتبار توڑے کبھی دوبارہ اس پر اعتماد نہ کریں "کہ مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ ڈسا نہیں جاتا "جو دل دکھائے غیر محسوس طور پر اس سے اپنے قدم پیچھے کھینچ لیں ۔
    بچپن سے لیکر بڑے ہونے تک ہمارے والدین ہمیں تمیز کا سبق اتنا رٹا دیتے ہیں کہ پھر کوئی جتنی مرضی ذیادتی کرے ہم سوچتے ہیں کوئی نہیں خیر ہے بڑے ہیں کچھ کہہ بھی دیا ہے تو جانے دو ۔پھر اس "جانے دو” کی فہرست اتنی لمبی ہو جاتی ہے کہ بہت وقت لگ جاتا ہے یہ سمجھنے میں کہ ہمارا خود کا بھی ہم پر حق ہے
    اکثر سوچتی ہوں روز قیامت جب جسم کا ایک ایک حصہ گواہی دے گا،، ہر گناہ کا بتائے گا، اچھے برے استعمال کی تفصیل خدا کے سامنے رکھے گا تو مجھے لگتا ہے مینٹل ہیلتھ بھی آ کر اللہ کو بتائے گی….. کہ ہم نے اسکا خیال رکھا یا نہیں….
    اپنے ساتھ انصاف کریں….. اپنی روح بار بار زخمی نہ ہونے دیں…. بدتمیزی کا جواب اگرچہ بدتمیزی نہیں ہوتا، سانپ کاٹ لے تو اسے ڈسا نہیں جاتا مگر "سوراخ” تو بند کیے جا سکتے ہیں….. کیا ہم اتنے بھی قوی نہیں کہ ایسے "سوراخ” بند کر دیں
    ‏ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں۔ اس دنیا میں آپ کی سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ پیسہ واپس آجاتا ہے لیکن وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ اسلئے کوئی برا بھلا بولے اور آپ جواب دینے لگیں تو پہلے یہ ضرور سوچیں کہ کیا یہ بندہ میرے قیمتی وقت سے 1 یا 2 منٹ کا بھی حقدار ہے یا نہیں؟ ایسے لوگ عموما حقدار نہیں ہوتے۔خود سے پیار کریں اپنی ذندگی کا ایک ایک پل انجوائے کریں ۔ذندگی اللہ کا دیا ہوا سب سے پیارا تحفہ ہے اپنے ان پیاروں کا خیال رکھیں جن کو آپ کے دنیا سے جانے کا سب سے ذیادہ فرق پڑے گا ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں جن کی نظر میں آپ کچھ بھی نہیں ۔ان کا خیال رکھنے والے ان کے اپنے بہت۔۔
    اکثر سوچتی ہوں وقت انسان کو بدلتا ہے، حالات یا رشتے؟؟؟؟
    ایک وقت تھا جب کوئی تھوڑا سا ناراض ہو جان پہ بن جاتی تھی منتیں ترلے واسطے سب ہی تو ہوتا تھا_
    اور اب ایک عرصہ لوگوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے ایک ہی سبق ملا جو جتنا کم لوگوں سے میل جول رکھتا ہے کم کسی کی پرسنل لائف میں انٹرفئیر کرتا ہے اتنا زیادہ پرسکون رہتا ہے_ میں ‘خوش’ نہیں کہہ رہی ‘سکون’ کی بات کر رہی ہوں اور اب مجھے لگتا ہے خوشی سے زیادہ سکون ضروری ہے-
    Actually
    ہمیں سہاروں کی عادت ہو جاتی ہے لوگوں کا اتنا ضروری سمجھ لیتے ہیں جیسے کوئی بنیادی ضرورت ہو.
    ہاں ٹھیک ہے زندگی گزارنے کے لیے کسی نا کسی کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کسی کو اتنا ضروری نا کر لو کہ اپنی شناخت ہی گنوا بیٹھو _
    آپ کی خوشیاں کسی شخص کی محتاج نہیں ہونی چاہیے آپ اپنے لیے بہترین دوست بہترین ساتھی اور مسیحا ہیں اپنے آپ سے محبت کریں
    جو جانا چاہتا ہے جانے دیں جو آنا چاہتا ہے ویلکم کریں
    یہی زندگی ہے جب ہر چیز ہی فانی ہے تو ہم کسی رشتے کے ابدی ساتھ کا کیوں سوچتے ہیں……..!

    Take care of yourself….
    Its not selfishness… Its a form of Gratitude..♥️

  • بھارتی فلموں اور ڈرامے کے بچوں پر منفی اثرات  تحرير : حمزہ احمد صدیقی

    بھارتی فلموں اور ڈرامے کے بچوں پر منفی اثرات تحرير : حمزہ احمد صدیقی


    پانچ سال قبل کراچی میں پیش آنے والے ایک واقعے نے مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم کو حیرت میں مبتلا کر دیا. دسویں جماعت میں پڑھنے والے 16 سالہ نوروز اور اس کی ہم جماعت فاطمہ نے اسکول میں اسمبلی کے دوران خودکشی کی.

    پستول فاطمہ کے والد محترم کی تھی ،جوکہ نوروز نے منگوائی تھی اور دونوں نے پہلے ہی سے خودکشی کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، اس کی وجہ ان کے درمیان کی محبت تھی اور ماں باپ ان کی شادی پر رضا مند نہیں تھے، خودکشی کے بعد دونوں کے سامنے آنے والے خطوط میں ایک دوسرے کے ساتھ دفن ہونے کی آخری خواہش ظاہر کی تھی.۔

    اس سب میں اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ انکی عمر تھی ان سب باتوں میں پڑنے کی؟؟ اس 16 سالہ عمر میں تو ان بچوں کو ابھی تک یہ بھی نہیں پتا ہوگا کہ محبت کس چیز کا نام ہے؟؟

    والدین اتنے پیار سے اپنے بچوں کو پالتے ہیں،انکی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انکی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، انکے لیے طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتے ہیں مگر پھر بچے ایسا کیوں کرتے ہیں؟ دراصل اس میں قصور انکی تربیت کا ہے، دین اسلام سے دوری اسکی سب سے بڑی وجہ ہے۔.

    اس سب سانحہ میں ایک حیران کن بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ بچوں نے کسی بھارتی فلم کی نقل اتاری.بھارتی فلمیں جنہیں ہم خود اور اپنے بچوں کو انٹرٹینمنٹ کے لیے دکھاتے ہیں، دراصل ہمارے خزاں رسیدہ معاشرے کی خرابی کا باعث بن رہی ہیں.. ہماری نوجوان نسل کے اندر صنف مخالف کی طرف کشش مزید ابھارتی، بے حیائی اور فحاشی پھیلا رہی ہیں..

    محبت کے نام پر ہمارے مہذب معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں، ہمارے مہذب معاشرے میں نوجوان نسل کی خرابی کی دو اہم وجوہات ہیں، ایک بھارتی فلمیں اور دوسرا کو ہمارا ایجوکیشن سسٹم ہے.. یہ دو وہ اہم اسباب ہیں، جو ہمارے اس معاشرے کو بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں.

    بھارتی فلمیں نوجوان کے ذہنوں میں یہ فتور ڈالتی ہیں کہ کسی کو کیسے سٹ کرنا، کیسے پروپوز کرنا اور پھر آگے بات کیسے بڑھانی۔۔اور کیسے محبت کرنی ہے، باقی اس کام کی آسانی کے لیے ہمارا کو ایجوکیشن سسٹم اور موبائل فون اور انٹرنیٹ موجود ہے.

    میں یہ ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ بچوں کو موبائل فون اور انٹرنیٹ استعمال نہ کرنے دیا جائے ،مگر اس حوالے سے اپنے بچے پر نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے. ہماری تہذیب، ہمارا کلچر، ہماری ثقافت سب ہندوؤں نے تباہ و برباد کر دی۔آج ہمارے نوجوانوں کو قرآن کی سوتوں کے ناموں سے زیادہ بھارتی فلموں کے نام یاد ہوں گے،شاید انہیں قرآن پاک پڑھنا بھی نہ آتا ہو ،مگر گانے پوری پوری طرز کے ساتھ سنائیں گے. اور اس پر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ والدین اس پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انکا بچہ گانا بہت اچھا گاتا ہے.

    آج کل نوجوان نسل کی گفتگو کا موضوع ہی بھارتی فلمیں، فلموں میں کام کرنے والے اداکار اور فلموں کے گانے ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ وہ ان بھارتی اداکاروں کی نقل اتارنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں. فضول قسم کے فیشن کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں.

    کراچی کے سکول میں پیش آنے والا واقعہ بہرطور ایک نہ ایک دن رونما ہونا ہی تھا. اور اس میں قصور وار والدین ہیں جہنوں نے اپنے بچوں کو صحیح اور غلط کی پہچان بھی نہ کروا سکے اور کھلی چھٹی دے دی۔۔

    ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ بچہ اگر نماز نہ پڑھے تو اسے کچھ نہیں کہا جاتا، لیکن اگر وہ اسکول کا کام نہ کرے تو خوب مارا پیٹا جاتا ہے.۔ والدین بچوں کو فجر کی نماز کے لیے نہیں بلکہ اسکول جانے کے لیے اٹھاتے ہیں. آئے دن ہونے والی محبت میں خودکشیاں، ریپ کیسز اور دن بہ دن بگڑتا ہوا ہمارا خزاں رسیدہ معاشرہ، ہماری بربادی کے دروازے پر دستک دے چکا ہے۔.

    میرے خیال میں والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کہاں کس سے اور کیوں مل رہے ہیں. انہیں اپنے بچوں کی سوسائٹی کا علم ہونا چاہیے. اور اپنے بچوں کو بھارتی فلموں اور ڈراموں سے دور رکھیں. اگر والدین اس حوالے سے محتاط رہتے ہیں تو اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ نوجوان نسل کی سوچ میں تبدیلی آئے گی.

    یہ ملک پاکستان، ہمارا ملک ہے. انتھک محنت، لاکھوں قربانیوں اور بے بہا خون کے ساتھ حاصل کیا گیا ہے. اسکی بربادی کی وجہ بھی ہم ہیں اور ہم ہی اسے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں. اپنی ذمہ داریوں کو پہچانئے اور ایک اچھے پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کی کیجئے!

    ہماری نوجوان نسل ہی دین اسلام اور پاکستان کا مستقبل ہیں، خدارا! انہیں یہود و نصارٰی اور ہندوؤں کی بے حیائی اور فحاشی کے جال میں پھنسنے نہ دیجئے! اس ملک کے تابناک اور روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کیجئے! اپنے بچوں کو دین اسلام سے جوڑیئے! اور انکو ایک بہتر مسلمان بنانے کی کوشش کیجئے تاکہ وہ قوم کا سر فخر سے بلند سکیں.۔

    اللہﷻ آپ کا حامی و ناصر ہو.

    @HamxaSiddiqi

  • آج کا نوجوان اور اسلامی تعلیم  تحریر :  ندرت حامد

    آج کا نوجوان اور اسلامی تعلیم تحریر : ندرت حامد

    تعلیم کے معنی شعور اور آگاہی کے ہیں اور اسی شعور اور آگاہی کو اگلی نسلوں میں منتقل کرنے کا نام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ابن خلدون نے تعلیم کو انسان کے فطری غذ ا قرار دیا ۔جس طرح جسم کو تندرست و توانا رکھنے کے لیے غذا بہت ضروری ہے اسی طرح دماغ کو ترو تازہ رکھنے کے لئے تعلیم بہت ضروری ہے ۔ لیکن وہ تعلیم جو انسان کو تروتازہ رکھے بحیثیت مسلمان ہمارے لئے اسلامی تعلیمات لازم و ملزوم ہے ۔ اسلامی تعلیم سے معاشرے میں برائیاں ختم ہوتی ہیں اور معاشرہ ایک طرح کے توازن میں رہتا ہے ۔ امام غزالی نے اسلامی تعلیم کی تعریف کچھ یوں کی ہے نفس انسانی کو مہلت عادت اور بری خصلتوں سے بچانا اور اسے عمدہ اخلاق سے مزین کر کے سعادت کی راہ میں ڈال دینے کا نام اس تعلیم ہے ۔پوری دنیا اور عالمی اسلام میں تعلیم کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ تعلیم محض معلومات کی ترسیل کا نام نہیں ۔بلکہ معلومات حقائق اور افکار و نظریات کے ساتھ ساتھ تہذیب اخلاقیات اور نفس کی تربیت کرنا بھی شامل ہے۔
    مگر آج چند کتب کو رٹنے کا نام تعلیم ہے۔ موجودہ دور میں تہذیب و اخلاقیات صفر ہیں۔ تعلیم کی آڑ میں فحاشی پھیلائی جارہی ہے تعلیمی اداروں میں یونیفارم کے نام پر عریانی اور فنکشنز کے نام پر اچھی بھلی معصوم عزت دار لڑکیوں کو پرفارمرز یعنی ٹھمکے لگانے والی طوائفیں بنایا جا رہا ہے۔
    گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
    کہاں سے آئے گی صدا لا الہ الا اللہ
    آج کی نوجوان نسل اسلامی تعلیم سے کوسوں دور ہے مغرب کا ایجنڈا ان کا ایجنڈا ہے تھوڑی سی محنت کے بعد موساد نے ہمارے نوجوانوں کو اس قدر زلیل ورسوا کیا جس کی انتہا نہیں۔ ماں باپ کو بس نوکریاں چاہیے اور بچوں کو وقت گزاری کیلئے مشاغل ہر بندہ اپنی اساس بھول چکا ہے ۔ فیشن کے پیچھے لاکھوں لگا دینے والےپھٹے جوتوں سے ملک فتح کرنے والوں کے سکون سے نا آشنا ہیں ۔ قارئین ہمارا فرض ہے اپنی نسلوں کو سدھارنا ہے اور یہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سانس لینا۔
    @N_Hkhan

  • غربت (پارٹ 2)  تحریر : شاہ زیب

    غربت (پارٹ 2) تحریر : شاہ زیب

    ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔  غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں۔
      اس تناظر میں ، غریب لوگوں کی شناخت کے لیے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ بنیادی ضروریات کیا ہیں۔  ان کو "بقا کے لیے ضروری” کے طور پر یا وسیع پیمانے پر "معاشرے میں مروجہ معیار زندگی کی عکاسی کرنے والے” کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔  پہلی کسوٹی صرف ان لوگوں کا احاطہ کرے گی جو فاقہ کشی یا نمائش سے موت کی سرحد کے قریب ہیں۔  دوسرا ان لوگوں تک پھیلایا جائے گا جن کی غذائیت ، رہائش اور کپڑے ، اگرچہ زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب ہیں ، مجموعی طور پر آبادی کے لوگوں کی پیمائش نہیں کرتے ہیں۔  تعریف کا مسئلہ غیر معاشی مفہوم سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جو لفظ غربت نے حاصل کیا ہے۔  غربت کو منسلک کیا گیا ہے ، مثال کے طور پر ، خراب صحت ، تعلیم یا مہارت کی کم سطح ، کام کرنے کی نااہلی یا ناپسندیدگی ، خلل ڈالنے والے یا بے ترتیبی برتاؤ کی اعلی شرح ، اور بہتری۔  اگرچہ یہ صفات اکثر غربت کے ساتھ پائی جاتی ہیں ، ان کی غربت کی تعریف میں شمولیت ان کے مابین تعلقات اور کسی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکامی کو واضح نہیں کرتی ہے۔  جو بھی تعریف استعمال کی جاتی ہے ، حکام اور عام آدمی یکساں طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ غربت کے اثرات افراد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    اگرچہ غربت انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کی اہمیت بدل گئی ہے۔  اجتماعی غربت نسبتا پائیداری کی طرح لیکن تقسیم کے لحاظ سے اس سے مختلف ، کیس غربت سے مراد کسی فرد یا خاندان کی عمومی خوشحالی کے معاشرتی ماحول میں بھی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہونا ہے۔ یہ نااہلی عام طور پر کچھ بنیادی وصف کی کمی سے متعلق ہوتی ہے جو فرد کو اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ ایسے افراد ، مثال کے طور پر ، اندھے ، جسمانی یا جذباتی طور پر معذور ، یا دائمی بیمار ہو سکتے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی معذوریوں کو عام طور پر ہمدردی کے ساتھ سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ وہ ان لوگوں کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ جسمانی وجوہات کی وجہ سے غربت میں کمی لانے کی کوششیں تعلیم ، پناہ گاہ روزگار اور اگر ضرورت ہو تو معاشی دیکھ بھال پر مرکوز ہیں۔

  • خاتون نے 7 میڈل جیت کر ٹوکیو اولمپکس میں تاریخ رقم کر دی

    خاتون نے 7 میڈل جیت کر ٹوکیو اولمپکس میں تاریخ رقم کر دی

    آسٹریلیا کی خاتون تیراک ایما میکین نے 7 میڈل جیت کر ٹوکیو اولمپکس میں تاریخ رقم کر دی۔

    باغی ٹی وی : برسبین سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ سالہ ایما کا تعلق ایک سوئمر فیملی سے ہے جوجاپان میں جاری ٹوکیو اولپمک میں ایما میکین ایک اولمپک میں 7 میڈل جیتنے والی دوسری کامیاب خاتون اولمپک ایتھلیٹ بن گئی ہیں، آسٹریلوی تیراک چار گولڈ میڈلز سمیت سات اولمپک میڈلز جیتنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

    ایما میکین ایک اولمپک مقابلے میں سب سے زیادہ 4گولڈ میڈل جیتنے والی پہلی ایتھلیٹ بھی ہیں اس طرح ایما میکین مجموعی طور پر اب تک 11 اولمپک میڈلز جیت چکی ہیں –

    قومی کرکٹر محمد رضوان نے ایک اور عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    جاپان میں جاری ٹوکیو اولمپکس میں سوئمنگ مقابلوں میں آسٹریلیا نے اب تک 9 گولڈ میڈل جیتے ہیں، جس میں سے 4 ایما میکین نے حاصل کیے ہیں اور وہ آسٹریلیا کی جانب سے سب سے زیادہ میڈلز جیتنے والی ایتھلیٹ بھی بن گئی ہیں۔

    ایما میکین نے 50 میٹر فری اسٹائل مقابلہ 23.81 سیکنڈ میں جیتنے کا اولمپک ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔ اپنی تاریخی کامیابی کے بعد ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے اعزاز ہے، مجھے سب نے سپورٹ کیا اور اس کے لیے میں نے بہت محنت کی تھی۔

    ٹوکیو اولمپکس :25میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلہ، پاکستانی شوٹر غلام مصطفی نے چھٹی پوزیشن حاصل کرلی

    واضح رہے کہ ایما میکین سے قبل 1952 میں روس کی جمناسٹ ماریا نے سات میڈلز جیتے تھے۔

    خیال رہے کہ 1960 کے بعد ایما اور اس کے بھائی ڈیوڈ پانچ سال قبل ہونے والے ریو اولمپکس میں حصہ لینے والی پہلی بہن بھائی کی جوڑی تھی۔ جہاں ایما کے بھائی نے ایک سونے، دو چاندی اور ایک کانسی سمیت چار تمغے جیتے تھے-

  • شعیب اختر کشمیر پریمئیر لیگ میں امن کے سفیر مقرر

    شعیب اختر کشمیر پریمئیر لیگ میں امن کے سفیر مقرر

    سابق کرکٹر شعیب اختر کو کشمیر پریمئیر لیگ میں امن کا سفیر مقرر کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : راولپنڈی ایکسپریس سے مشہور سابق قومی کرکٹر شعیب اختر نے ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ’ میں امن کے فروغ کے لیے کام کروں گا۔ لیگ ایک دوسرے کے درمیان پل بنانے اور امن کے فروغ کے لیے ہے۔


    انہوں نے کہا کہ میں مرانے سے زیادہ کھیلنے پر یقین کرتا ہوں، دلوں کو توڑنے کی بجائے دھڑکنوں کو جوڑنے پر یقین رکھتا ہوں‘۔

    ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ’ میں نفرتیں پھیلانے سے زیادہ محبتیں بڑھانے پر یقین رکھتا ہوں۔

    شعیب اختر نے لکھا کہ کے پی ایل اور بی سی سی آئی کے درمیان ہنگامہ کیوں ہے؟انہوں نے لکھا آپ کا اپنا راوالپنڈی ایکسپریس میرا Pace Ambassador سے #PeaceAmbassador تک سفر کیا ہو سکتا ہے-


    تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ وہ کشمیر پریمئیر لیگ میں امن کا سفیر مقرر کئے گئے ہیں-

    کشمیر پریمئیر لیگ: خوفزدہ بھارت نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو خط لکھ دیا

    خیال رہے کہ کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا لیگ میں مجموعی طور پر 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں مظفر آباد ٹائیگرز ،میرپور رائلز، راولاکوٹ ہاکس، کوٹلی پینتھرز، باغ اسٹالینز اور اوور سیز واریئرز شامل ہیں لیگ میں بھارتی دباؤ کے باوجود غیر ملکی کھلاڑی بھی شرکت کر رہے ہیں-

    بھارت کو سفارتی محاذ پر ایک اور ناکامی کا سامنا ،غیر ملکی کھلاڑیوں کا کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت کا فیصلہ