Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئےنمبر ون ،نمبر ٹو کی کوئی لائن نہیں      سردار تنویر الیاس خان

    وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئےنمبر ون ،نمبر ٹو کی کوئی لائن نہیں سردار تنویر الیاس خان

    تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور نو منتخب ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے نمبر ون ،نمبر ٹو کی کوئی لائن نہیں ، عمران خان کا فیصلہ من وعن قبول کریں گے –

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسردار تنویر الیاس خان نے کہا ہے کہ پارٹی چیئرمین نے مجھے جو ٹاسک دیا اس کو پورا کریں گے بیرسٹر سلطان کو ہمیشہ بڑا بھائی کہا وہ قابل احترام ہیں، وہ پارٹی کے صدر ہیں ،ہم نے کبھی ان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا ،اختلافات کی غلط خبریں پھیلائی جاتی ہیں ،الیکشن میں ہم نے مل کر کمپئین کی اور جلسوں میں اکٹھے رہے،ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔

    آزاد کشمیر الیکشن: مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی مشترکہ لائحہ عمل کے تحت چلیں…

    سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملات ایک ہفتے تک مکمل ہو جائیں گے ،آزاد کشمیر میں حکومت سازی مکمل ہونے پر عمران خان اے جے کے اسمبلی سے خطاب کریں گے-

    انہوں نے کہا کہ کشمیر کو صوبہ بنانے کے پروپیگنڈہ میں کوئی حقیقت نہیں ،آزاد کشمیر پاکستان کی ریاست ہے اوررہےگی ،کشمیری عوام وزیر اعظم عمران خان کے ہر فیصلہ پر لبیک کہیں گے کیونکہ عمران خان کشمیریوں کے سفیر ہیں اورانہوں نے یہ بن کر دکھایا ۔

    یفک پولیس ادارے کا چہرہ ہے، شہریوں سے خوش اخلاقی کو یقینی بنائیں آئی جی اسلام آباد

    سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ پی ٹی آئی پورے ملک سمیت آزاد کشمیر میں متحد ہے اور رہے گی راجہ فاروق حیدر نے تیرہویں اور چودہویں ترمیم کے حوالے سے کیا کھویا کیا پایا ؟سب کچھ سامنے لایا جائے گا، عمران خان کشمیرکو جتنا خودمختار کر رہے ہیں اتنا آج تک کسی نے نہیں کیا۔

    وفاقی پولیس ملازمین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے یکم سے 4 اگست تک پر وقار تقاریب

  • قومی کرکٹر محمد رضوان نے ایک اور عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    قومی کرکٹر محمد رضوان نے ایک اور عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے گزشتہ روز ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں بھی انہوں نے ایک اور عالمی ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی: محمد رضوان ایک کے بعد ایک عالمی ریکارڈ اپنے نام کرتے جا رہے ہیں انہوں نے گزشتہ روز کے میچ میں ایک سال میں ٹی 2 انٹر نیشنل میچز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا ہے –

    ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹی 20 میچ میں محمد رضوان نے 46 رنز سکور کئے ، جب انہوں نے میچ میں 43واں رن لیا تو ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا-
    محمد رضوان اس سال 14اننگز کھیل کر 752 رنز بنا چکے ہیں جبکہ اس سے قبل یہ ریکارڈ آئر لینڈ کے پال سٹرلنگ کے پاس تھا ، پال سٹرلنگ نے سال 2019 میں 20 اننگز کھیل کر 748رنز بنائے تھے ۔

    محمد رضوان اس سال سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں ، انہوں نے اس سال تینوں فارمیٹس میں سب سے زیادہ 1189 رنز بنائے ہیں ۔

    دوسری جانب پلیئر آف دی میچ محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ آج بہت خوش ہوں بحیثیت باؤلر آج یہ میرا انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلا پلیئر آف دی میچ ہے اس ایوارڈ کو ہمیشہ یاد رکھوں گا-

    محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ ہمارے مجموعے میں دس سے پندرہ رنز کم تھےمگر ایک باؤلنگ یونٹ کی حیثیت سے ہم نے اچھا پرفارم کیاکپتان نے مجھے بہت حوصلہ دیاویسٹ انڈیز کے پاس بہت اچھے پاور ہٹرز موجود ہیں ایسے بلے بازوں کے خلاف اچھی باؤلنگ پر خوش ہوں-

    انہوں نے کہا ٹیم کی جیت سے کھلاڑیوں کا مورال بلند ہوا ہے بطور بیٹنگ یونٹ مزید بہتری کی ضرورت ہے ہماری بیٹنگ اس قابل ہے کہ ہم 180 رنز کا مجموعہ بنا سکتے ہیں امید ہے کل کا میچ جیت کر سیریز اپنے نام کرلیں گے-

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

  • ٹوکیو اولمپکس :25میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلہ،  پاکستانی شوٹر غلام مصطفی نے چھٹی پوزیشن حاصل کرلی

    ٹوکیو اولمپکس :25میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلہ، پاکستانی شوٹر غلام مصطفی نے چھٹی پوزیشن حاصل کرلی

    ٹوکیو اولمپکس میں 25میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلے میں پاکستانی شوٹر غلام مصطفی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھٹی پوزیشن حاصل کرلی ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستانی شوٹر غلام مصطفی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھٹی پوزیشن حاصل کرلی جبکہ قومی شوٹر محمد خلیل اختر سٹیج 1 میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دیکھا سکے۔

    مون سون بارشوں کا سپیل کب تک جاری رہے گا؟

    پاکستانی شوٹر غلام مصطفی ٰبشیرسٹیج 1 میں 293 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبر پر موجود ہیں جبکہ محمد خلیل اختر 286 پوائنٹس کے ساتھ 16 ویں نمبر پر ہیں۔

    واضح رہے کہ شوٹنگ ایونٹ میں 27 شوٹر حصہ لے رہے ہیں، 25 میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلے کی دوسری سٹیج کل ہوگی، ٹاپ 6 شوٹر فائنل راونڈ کے لئے کوالیفائی کریں گے۔

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات   تحریر: عمران اے راجہ پارٹ ۴

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر: عمران اے راجہ پارٹ ۴

    ۳: کروکوڈائل برِج گیٹ Crocodile Bridge Gate
    (گزشتہ سے پیوستہ)
    تیسرے حصے کے اختتام پر میں نے ذکر کیا کروکوڈائل برج گیٹ سے داخلے پر “بِگ فائیو” دیکھنے کے وسیع مواقع ہیں۔ کافی لوگوں نے سوالات کیے “بِگ فائیو” کیا ہے تو ایک مختصر وضاحت کیے دیتا ہوں۔ بِگ فائیو میں پانچ ایسے جانور آتے ہیں جن کا پیدل شکار افریقہ میں سب سے زیادہ مشکل ہے۔ ان میں آتے ہیں “شیر، چیتا، گینڈا، ہاتھی اور افریقی بھینسا (کیپ بفلو)”۔۔ ۱۹۹۰ کے بعد جاری ہونے والی ساؤتھ افریقن کرنسی پر بھی بِگ فائیو کی تصاویر ہیں۔ یہ پانچوں جانور (جنہیں میں ہرگز حیوان کا نام نہیں دوں گا) اپنی نسلوں میں ایک وجاہت، خوبصورتی، وقار اور حجم کے لحاظ سے ضحیم ہیں۔ براعظم افریقہ کے ممالک جہاں بیک وقت بگ فائیو دیکھنے کے مواقع میسر ہیں ان میں انگولا، بوٹسوانا، زیمبیا، یوگنڈا، نمیبیا، ساؤتھ افریقہ، کینیا، تنزانیہ، زمبابوے، کونگو، روانڈا اور ملاوی ہیں۔
    امید ہے وضاحت بہتر انداز میں ہو گئی ہوگی۔
    اب آتے ہیں تھوڑی مزید تفصیلات کروکوڈائل برج گیٹ کی جانب۔ کروکوڈائل ریور روڈ S25 جب مغربی جانب چلتی ہے تو یہاں گہری گھنی جھاڑیاں اور وسیع ترین چراگاہیں ملتی ہیں۔ یہاں سے آپ پارک کے اندرونی حصے سے ہوتے ہوئے جنوبی جانب بھی سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہاں ایک سڑک بیُومے روڈ S26 آپ کو بِیاماتی لُوپ S23 میں مرج کرے گی جبکہ یہیں سے آپ مالےلان ٹاؤن کی ڈائریکشن بھی لے سکتے ہیں۔ S25 آپ کو چند تاریخی مقامات سے بھی محظوظ کروائے گی۔ بالکل آخر میں جا کر اگر آپ داہنے مڑیے جہاں S25 کا اختتام ہو اور S114 کا آغاز ہو تو یہ آپ کو Jock of the bushveld plaque کے تاریخی مقام پر لے جائیگی جس کی اپنی ایک الگ ہسٹری ہے۔۔
    گیٹ سے داخلے کی تقریباً 8 کلومیٹر کے بعد آپ کو S27 کا اختتام اور پہلا باہر جانے کا راستہ ملے گا۔ کروکوڈائل ریور روڈ پر آپ کو دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور دوسرے پانی پیتے جانور دیکھنے کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ یہ سڑک اپنے بہترین نظاروں اور مارشل ایگل کی وجہ سے مشہور ہے۔ چونکہ یہاں جانوروں کی بہتات اور گیم واچنگ کے مواقع زیادہ بہترین ہیں اس لیے یہاں رش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ٹریفک کے بڑھنے سے پہلے ہی آپ اپنا سفر صبح سویرے شروع کیجیے اور دوپہر میں واپسی کے لیے کسی متبادل راستے کا انتخاب کیجیے ورنہ ٹریفک میں پھنسنے کے لیے تیار رہیے۔ ویسے بھی جانور دیکھنے کا آئیڈیل وقت صبح سویرے یا دوپہر اور شام کے بیچ کا وقت ہوتا ہے۔
    مالےلان ٹاؤن سے نکلتے وقت کروکوڈائل ریور S114 سے اگر آپ داہنے مڑ جائیے تو آپ کو ایک بڑا Birds Hide ملے گا جو گارڈینا کہلاتا ہے اور ملامبانے لوپ S118 پر آتا ہے۔
    اس سڑک پر کروکوڈائل ریور کا پرانا کراسنگ پوائنٹ بھی ہے اور وہ تاریخی مقام جہاں Alf Roberts نامی شخص نے اٹھارہویں صدی کے اختتام میں پہلا تجارتی سٹور بنایا تھا۔ یہاں وہ مقام بھی موجود ہے جہاں بیسویں صدی کے آغاز میں “بُور/اینگلو جنگ” کے دوران جنرل بین ولیون نے اپنی آرٹلری ڈپلائے کی تھی۔
    اس سڑک کی مختصر جھلکی بتاتا ہوں کہ گھنے جنگلات، بہت سے ایکو سسٹمز جو مالےلان پہاڑی سلسلے سے شروعات کرتے ہوئے سابی کروکوڈائل کی گھنی جھاڑیوں اور بالآخر ڈیلاگئوا کی جھاڑیوں میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ کروکوڈائل ریور روڈ “لواکاہلے” نامی جگہ کی جنوبی سرحد ہے اور پارک کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔
    “کروکوڈائل برج گیٹ کی مشہوری اور خوبصورتی کی وجہ سے اسے زیادہ تفصیل سے لکھا۔ آئیڈیل جگہ اور زندگی میں کم سے کم ایک بار دیکھنے لائک۔ دوسرے گیٹس کی اب اگلے حصے میں تفصیلات ایڈ کروں گا کیونکہ ہر گیٹ کی اپنی خصوصیات ہیں اور وہاں پائے جانے والے جانور بھی ایک الگ وضاحت کے متقاضی۔ زندگی رہی تو باقی اگلے حصے میں ان شاء اللّٰہ”۔۔
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • کشمیر کی بدلتی حکومت۔ تحریر : محمد جاوید حقانی

    کشمیر کی بدلتی حکومت۔ تحریر : محمد جاوید حقانی

    ہر شخص خوبیوں اور خامیوں کا مرکب ومالک ہے جنہیں رب نے معصوم اور محفوظ بنایا یعنی انبیاء صحابہ و اہلبیت ان کے علاؤہ نہ کوئی معصوم ہے نہ کوئی محفوظ ۔
    راجہ فاروق حیدر سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر صاحب کی زبان کو لے کر سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا گیا ان کی زبان کے دو رخ ہیں ۔
    گو کہ ان کے اپنے کلچر کی وجہ سے ان کے منہ سے کئی بار غصے میں نازیبا گالیاں نکلیں جن کی آڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی جو کہ اس منصب کے شایان شان نہیں ۔۔
    ہم نے اس کی بھرپور مذمت کی لیکن راجہ صاحب کی زبان کئی ایسی جگہوں پر بھی چلی جہاں بڑے بڑے لیڈروں کے پسینے جنوری میں نکل آتے تھے ۔
    قوم کے لیڈر کی بہت سی خوبیاں ہوتی ہیں ان تمام خوبیوں میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ بہادر ہو بزدل نہ ہو ۔
    کیونکہ لیڈر کے بل بوتے پہ رعایا جان کی بازی جیت یا ہارتی ہے۔

    راجہ فاروق حیدر خان میری شعوری زندگی میں کشمیر کے وہ واحد وزیر اعظم گزرے ہیں ۔
    جو اپنے سابقہ پیش روں سے ایک اعتبار سے مختلف تھے کہ وہ ہر مقام پر سچ بولنے کی بھرپور اخلاقی قوت جرات اور ہمت رکھتے تھے۔
    کئی ایسے مرحلے تاریخ کا حصہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے کہ جنہیں ہمیںشہ یاد رکھا جائے گا جس طرح ختم نبوتﷺ کے حوالہ سے کشمیر اسمبلی میں قانون بنا اور اسی طرح اسلام آباد میں تمام کابینہ کے سامنے بیٹھ کر مسئلہ کشمیر اور مظلوم کشمیریوں کے لیے یہ الفاظ کہ ان کی مدد کیوں نہیں کرتے تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ ڈالروں کی خاطر تم خاموش ہو چباؤ گے ڈالر ؟؟
    ان الفاظ کی قیمت بہت بھاری ہے۔
    پھر کئی دفعہ ببانگ دھل ایک سابقہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا نام جس طرح لے کر راجہ فاروق حیدر بولا ایسا تو وزیر اعظم بننے کے بعد کشمیر کا کوئی لیڈر خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا کیونکہ ایسا سوچنے کو بھی غداری سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
    پھر راجہ فاروق حیدر کے یہ الفاظ کہ مجھ سے وفاق وفاق کی بات نہ کرو میرا کیا تعلق وفاق سے میں ایک ریاست کا وزیر اعظم ہوں جو کچھ طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر ملک پاکستان سے معاملات کرتی ہے ۔
    پھر یہ الفاظ کہ کشمیر سارے کا سارا کشمیر کا حصہ ہے بے شک وہ جس کے قبضے میں بھی ہو ۔
    نئے آنے والے وزیر اعظم صاحب سے بھی گزارش ہے کہ آپ کو بھی پارٹی کی وفاداری سے زیادہ اس قوم کی وفاداری نبھانی پڑھے گی جس کی تاریخ سات سو سالہ ہے بقول جنرل حمید گل کشمیر جہاں بھی گیا اکٹھا جائے گا اس اصول کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہو گا پارٹی وفاداری میں اپنے آپ کو اتنا کبھی نہ گرائیے گا کہ کشمیری قوم کا وقار مجروح ہو ۔
    آج یہ الفاظ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم الفاظ بیچتے ہیں بلکہ جو حقائق ہیں انہیں تسلیم کرنا چاہیے یہی وسیع ذہن کی حامل سوچ ہے ۔
    راجہ فاروق حیدر صاحب کی پارٹی کے وزراء عوام کے لیے بہترین وزیر ثابت نہیں ہوئے جس کا خمیازہ پارٹی کو بھکتنا پڑا اور بری طرح شکست سے دو چار ہوئے ۔گو کہ کچھ دیگر وجوہات بھی تھیں جن میں ٹکٹ کی تقسیم وفاق کا اثر و رسوخ حکومت سونپنے والوں کی پسند لیکن اس عنصر سے آنکھیں بند کر لینا بھی ناانصافی ہو گی۔
    ہر سیاسی پارٹی اپنے مفادات کا سودہ کرنا اہم سمجھتی ہے بنسبت قومی مفاد کے
    ہمیں اس روش سے خود بھی باہر نکلنا ہے اور ان پارٹیوں کو بھی باہر نکالنا ہے۔
    @JavaidHaqqani

  • زیادہ ڈرنا چھوڑ دو   تحریر:  محمد بخش

    زیادہ ڈرنا چھوڑ دو تحریر: محمد بخش

    یہ کہانی ہے دو دوستوں کی جو کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے ایک بار دونوں کسی کام سے شہر گئے اور واپس اپنے گاؤں لوٹ رہے تھے ان کے گاؤں تک پہنچنے کے لیے ان کو ایک گھنے جنگل سے ہو کر کے گزرنا تھا اور جب وہ اس جنگل سے گزر رہے تھے تو ایک دوست کو پیاس لگی اور وہ پانی ڈھونڈنے کے لیے راستہ بھٹک گیا تھوڑی ہی دیر بعد شام ہو گئی اور رات ہونے ہی والی تھی تو ان دونوں کی نظر ایک غفا پے پڑی جو کہ درختوں سے گھری ہوئی تھی چاروں طرف سے تو ان دونوں نے سوچا یہ ہی جگہ ٹھیک ہے رات گزارنے کے لیے تو دونوں نے کچھ لکڑیاں اکٹھی کی اور اس غفا کے اندر گئے اور آگ جلا کر کے وہاں پر بیٹھ گئے رات کا وقت تھا غفا کے اندر آگ جل رہی تھی باہر بلکل اندھیرا تھا اور کچھ جانورں کی آوازیں آرہی تھی تو ان دونوں میں سے جو ایک دوست تھا وہ اندر ہی اندر ڈرنے لگا کیونکہ اس نے جن بھوت کی بہت کہانی سنی تھی کے رات کے وقت جنگل میں کچھ بھیانک روحیں بھٹکتی ہیں اور اگر ان کو کوئی ایسا بھٹکا ہوا آدمی مل جائے تو اس کو نہیں چھوڑتی تو جب اس نے یہ جن بھوت کی بات اپنے دوست سے کی تو اس کے دوست نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا کہ کیا کبھی تو نے کسی جن بھوت کو دیکھا ہے تو اس نے کہ نہیں میں نے تو نہیں دیکھا لیکن میرے کچھ جان پہچان کے لوگ ہیں انہوں نے دیکھا ہے تو اس کے دوست نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ یار ایسی سنی سنائی باتوں پے یقین نہیں کرتے اب تو سوجا اور مجھے بھی سونے دے مجھے نیند آرہی ہے اور اتنا کہہ کر کے اس کا دوست وہی پر لیٹ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں سو گیا لیکن وہ جو اندر سے ڈرا ہوا تھا وہ لیٹ تو گیا لیکن اس کو نیند نہیں آرہی تھی اس کو لگا تھا کہ شاید یہاں پر کہیں کوئی ہے جو چھپ کر کے کہیں سے اس کو دیکھ رہا ہے اس آگ کی وجہ سے کچھ پرچھائیاں بن رہی تھی وہاں پتھروں پر تو ان پرچھائیوں کو بھی دیکھ کر کہ بھی وہ ڈر رہا تھا پھر کچھ گنٹھے تک ایسا ہی چلتا رہا پھر اس کے بعد میں کیونکہ وہ تھکا ہوا تھا تو اس کو نیند آگئی لیکن نیند آنے کے کچھ دیر بعد ہی اس کو ایک خواب آیا خواب میں اس کو ایک بہت ہی بھیانک پرچھائی اس کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئی اب جیسے جیسے وہ اندر سے ڈرتا چلا جارہا تھا وہ پرچھائی اس کے اور قریب آتی چلی جا رہی تھی اور بڑی ہوتی چلی جا رہی تھی اور اس پرچھائی میں اس کو ایک ہاتھ نظر آیا جس کے بڑے بڑے ناخن تھے اور وہ ہاتھ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا اور اس کے گلے تک پہنچنے ہی والا تھا کہ تب ہی وہ ڈر کر کے ایک دم سے اٹھا پھر اس نے اپنے دوست کی طرف دیکھا جو کہ سو رہا تھا اسے پکڑ کر زور سے اٹھایا پھر اس نے اپنے دوست کو بتایا کہ اس ساتھ میں کیا ہوا تو اس کا دوست پھر ہنسنے لگا پھر اس کے دوست نے اس کو کہا کہ اب اگر دوبارہ سے تجھے وہ پرچھائی دکھے تو توں وہ کہنا جو میں تجھے کہہ رہا ہوں کہنے کے لیے پھر دیکھتے ہیں وہ پرچھائی تیرا کیا کرتی ہے تجھے اپنے اندر ہی اندر بولنا ہے میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنا آ تو اس کے دوست نے ویسا ہی کیا تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ سے اس کو خواب میں وہی پرچھائی نظر آئی اور وہ پرچھائی آرام آرام سے اس کی طرف بڑھنے لگی لیکن اس بار وہ اس پرچھائی سے ڈرا نہیں بلکہ اپنی پوری طاقت سے اسے نے وہی کہا میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنے آ میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنے آ جیسے جیسے وہ یہ بولنے لگا وہ پرچھائی چھوٹی ہونے لگی اور اس سے دور ہونے لگی وہ بولتا رہا وہ پرچھائی چھوٹی ہوتی رہی اور آہستہ آہستہ وہ پرچھائی دکھنی بند ہو گئی بلکل ایسا ہی ہماری زندگی میں بھی ہوتا ہے ہمارے اندر جتنے بھی ڈر ہیں اس سے ہم جتنا ڈرتے ہیں ہم اتنا ہی چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ ڈر اتنا ہی بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن اگر ہم اپنے اندر کے ڈرو سے نہیں ڈرتے اور اس کا سامنا کرتے ہیں تو دنیا کا ایسا کوئی بھی ڈر نہیں جو کہ ہمیں ڈرا سکے۔۔
    جزاک الله ! خوش رہیں اور خوش رکھیں،

  • چار گناہ اور چار گناہ گار.  تحریر: احسان الحق

    چار گناہ اور چار گناہ گار. تحریر: احسان الحق

    اللہ تعالیٰ نے اسلام میں وسعت، آسانی اور نرمی رکھی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلام بہترین اور آسان ترین دین اور مذہب ہے. نیکی کی نیت کرنے پر ثواب مل جاتا ہے جبکہ گناہ کی نیت کرنے پر گناہ نہیں لکھا جاتا. یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی رحمت اور دین اسلام میں وسعت اور حسن کا ثبوت ہے.
    یہاں چار مختلف قسم کے گناہ یا گناہ گاروں کے متعلق بات کرتے ہیں.

    گناہ گار کی پہلی قسم ہے کہ بندہ گناہ کرنے کا پکا ارادہ کر لے کہ میں کل یا فلاں دن کو یہ کام کروں گا مگر وہ گناہ کرنا بھول جائے تو ایسے گناہ پر یا ایسے گناہگار پر کوئی گرفت نہ ہوگی. گناہ کرنے کے ارادے پر کوئی گناہ نہیں. مگر اس کے برعکس اگر بندہ نیکی کی نیت کرے اور بھول جائے تو اس کو ثواب ملے گا.

    ایسا گناہ گار جو گناہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لے مگر کسی مجبوری، کمزوری، ضعف یا معذوری کی وجہ سے گناہ نہ کر پائے تو اس کو گناہ ہو گا. اس بندے کے اعمال نامے میں اس جرم کا گناہ لکھ دیا جائے گا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد عالی شان ہے کہ "جب دو مسلمان تلوار لیکر ایک دوسرے کو قتل کرنے کی نیت سے نکلتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں” اصحابِ رسولﷺ نے عرض کیا کہ یارسولﷺ قاتل تو جہنم میں جائے مگر مقتول کیوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مقتول اپنی کمزوری کی وجہ سے اس کو قتل نہیں کر پایا وگرنہ یہ بھی دوسرے کو قتل کرنے کے ارادے سے آیا تھا.

    اس حوالے سے تیسرا گناہ گار وہ ہے جو گناہ کرنے کا ارادہ کر لے مگر عین وقت پر اخلاص دل سے اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے اس گناہ سے دستبردار ہو جائے تو ایسے بندے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم ہے. جیسا کہ صحیح بخاری میں بنی اسرائیل کا مشہور واقعہ ہے جس میں ایک غار کا دروازہ بہت بڑی چٹان سے بند ہو جاتا ہے اور تین لوگ اندر محصور ہو جاتے ہیں. ان تین محصورین میں سے ایک ایسا بندہ بھی تھا جو 120 دینار کے بدلے بدفعلی والا کام عین وقت پر اللہ تعالیٰ کے خوف سے ترک کر دیتا ہے. وہ اپنے اس نیکی والے کام کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے تو غار کے دروازے سے پتھر ہٹ جاتا ہے. اسی طرح مسند احمد میں کفل نامی بندے کا واقعہ بھی تفصیل سے موجود ہے جس کے دروازے پر اللہ تعالیٰ لکھ دیتے ہیں کہ آج رات کفل کے سارے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں. 60 یا 70 دینار کے بدلے کفل کسی مجبور عورت کے ساتھ بدفعلی کرنے سے چند لمحے پہلے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے برائی سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور اسی رات کفل کا انتقال ہو جاتا ہے.

    چوتھا گناہ گار ایسا گناہ گار ہے جو اپنے ارادے کے مطابق گناہ کر گزرتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے. یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ ایک گناہ کے بدلے ایک گناہ جبکہ ایک نیکی کے بدلے 10 نیکیاں ملتی ہیں. خلوص نیت کے مطابق ان نیکیوں میں 70 گنا سے 700 گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے یا اس سے بھی زیادہ جتنا اللہ تعالیٰ چاہیں.

    @mian_ihsaan

  • بچوں کی تعلیم اور تربیت  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بچوں کی تعلیم اور تربیت تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ چند باتیں قارئین کی نظر کرنا چاہوں گا
    جس معاشرے ہم رہتے ہیں اس میں بچے تب تک والدین پر انحصار کرتے ہیں جب تک وہ خود کمانے لائق نہیں ہوجاتے۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں تو روزگار کمانے کے بعد بھی انکی زندگی کے فیصلے والدین ہی کرتے ہیں۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ والدین اپنے بچوں کے بارے میں جو سوچیں گے وہ بہترین ہوگا کیونکہ والدین ہی ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ بھی زیادہ خوشحال زندگی گزارے اور بہترین مقام پائے۔

    یہ بات بہت غور طلب ہے کہ اکثر والدین بچوں کی تعلیم کے فیصلے میں ایک غلطی کرتے ہیں اور اسکا خمیازہ بچے مستقبل میں بھگتتے رہتے ہیں ۔ اگر کسی کا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنتا ہے تو والدین کی خواہش ہوتی کہ انکا بچہ بھی ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے میرے خیال میں یہ درست نہیں
    بے شک اللّہ تعالٰی نے دماغ ضرور ایک جیسا دیا ہے مگر اسکو استعمال کرنے کا طریقہ ہر انسان کا مختلف ہے۔ یاد رکھیں بچے کا ذہن بننے میں آپ کی سوسائٹی اور اردگرد کے لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ بچے کا دماغ ویسے ہی تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے جیسے وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔
    اگر ایک بچے کی دلچسپی اکاؤنٹنگ میں ہے تو اسے سائنس کے مضامین بہت مشکل لگیں گے۔ اسکی تازہ مثال میرے دوست کا بیٹا ہے جس نے چند دن پہلے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ میں ڈاخلہ بجھا اور وہ بہت محنت سے تیاری بھی رہا تھا۔
    کل اچانک میرے سامنے آ گیا ابتدائی سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا بیٹا سناو تمہاری پڑھی کسی چل رہی ہے ۔
    میرا سوال سن کر وہ پریشان سا ہو گیا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا اس کے ابو نے اسے کہا ہے کہ اب تم میڈیکل کالج میں اپنا داخلہ بجھو اور میڈیکل کالج میں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کرو۔ تھوڑا پوچھنے پر معلوم ہوا کے اسکے ماموں کا بیٹا ڈاکٹر ہے تو اس وجہ سے ابھی اسکی والدہ بھی چاہتی کہ وہ بھی ڈاکٹر بنے۔

    مجھے بچے کا چہرہ دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ اسے یہ فیصلہ منظور نہیں ہے۔ایک لمبی آہ بھرنے کے بعد بولا انکل میں نہ اب اس امتحان کی تیاری نہیں کرنی یہ ٹیسٹ مجھ سے پاس نہیں ہو گا۔نتیجہ کیا ہوا؟

    بچے کا سال برباد ہو جائے گا اور وہ بچہ ذہنی دباؤ کا شکار بھی ہو گا ۔ اگر والدین پہلے اپنے بچے سے پوچھ لیتے کہ تم کیا بننا چاہتے ہو تو کتنا اچھا ہوتا۔ تعلیم کے معاملے میں بچوں پر اپنا فیصلہ زبردستی مسلط کرنا انتہائی غلط ہے اور مستقبل تباہ ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے ۔ عدم دلچسپی کے باعث فیل ہونے سے بہتر ہے اسے وہ امتحان دینے دیا جائے جو وہ پاس کرلے۔

    تمام والدین سے گزارش ہے۔رزق تو اللّہ کے ہاتھ میں ہے اور کوئی تعلیم رائیگاں نہیں جاتی۔ اس لئے خدارا تعلیم کے معاملے میں پہلے اپنے بچے سے ضرور مشورہ کریں کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے اور کون سی ڈگری حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو
    پاکستان زندہ اباد

    @EngrMuddsairH

  • اللہ سبحانہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت  باپ تحریر : چوہدری عطا محمد

    اللہ سبحانہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت باپ تحریر : چوہدری عطا محمد

    اقوام میں عالم میں اللہ سبحانہ تعالی کے بے شمار نعمتیں اور رحمتیں ہیں تو انہیں نعمتوں میں سے آج ایک نعمت کا زکر کرتے ہیں وہ نعمت ہے اولاد کے لئے اس کا باپ ہے اگر والدین کے عزت واحترام کا زکر کریں تو قرآن کریم میں کئ مقامات پر والدین کے بارے میں حکم آیا ہے قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے نرمی سے بات کرنا (الاسراء آیت نمبر 23)

    مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا
    میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں

    باپ کا رشتہ انمول رشتہ ہے ایک باپ اپنی اولاد کی خوشی کے لئے اپنی جوانی اپنی خواہشات سب کچھ قربان کر دیتا ہے ان کو اچھی تعلیم اور تربیت دینے کے لئے دن رات مخنت مزدوری کرتا خود سوکھا کھا سکتا لیکن اولاد کی تکلیف برداشت نہیں کرتا اولاد کو آسائشیں دینے کے لئے پردیس جیسی میٹھی جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرتا مجھے اپنے باپ کی ایک ایک بات اور لمحات یاد ہیں ایک باپ کے لئے اس کی اولاد کی خوشی کیا ہوتی میں ایک واقع بتاتا میری شادی کا دن تھا اور میں بہت خوش ہو رہا تھا گھر میں سب فیملی رشتہ داروں کی خوشیاں دیدنی تھی ان سب میں جب می اپنے والد صاحب کو دیکھتا تو مجھے محسوس ہو رہا تھا کہہ میرے والد صاحب آج میں پہلے سے بہت زیادہ توانا اور ایکٹو نظر آ رہے تھے خیر میری بارات کی روانگی ہوئی میری شادی نزدیک میرے شہر گجرات میں ہوئی تھی سو ہم آدھا گنٹھہ سے بھی پہلے میرج حال پہنچ گے بارات کو استقبال ہوا میرے والد صاحب آگے آگے سب رشتہ داروں کو میرے ہونے والے سسرال کی فیملی کا تعارف کروا رہے تھے ہم حال میں پہنچے اور سٹیج پر جیسے ہی بیٹھے تو پانچ دس منٹ بعد مولوی صاحب نکاح رجسٹر اور دلہن کے چاچا اور ماموں اور والد دو چار لوگ آگے ہمارے فیملی ممبر جو سٹیج پر تھے مولوی صاحب کو جگہ دی اور کچھ ادھر ادھر کرسیاں رکھ لر بیٹھ گے میرے والد صاحب میری سامنے مئری طرف منہ کر کے بیٹھے تھے نکاح شروع ہوا میری نظرسامنے باہر شیشے کےمہمانوں گیٹ کی طرف گئ تو می دیکھا میڈیکل میں مئرے استاد محترم ڈاکٹر صاحب میرے چند کولیگ کے ساتھ اندر داخل ہوۓ میرے کزن نے انہیں دیکھ لیا ریسو کیا اور سٹیج کی طرف چلنے کا اشارہ کیا لیکن وہ ادھر قریبی کرسی پر یہ کہہ کر بیٹھ گے کے نکاح کے بعد چلتے ہیں ادھر خیر کچھ ہی دیر میں نکاح کا عمل مکمل ہوا مولوی صاحب نے نکاح کا خطبہ دیا اور دعا کرا کے چلے گے ان کے جاتے ہی میں نے اشارہ کیا کہہ استاد محترم کو سٹیج پر لائیں حسب روایات مہمان گلے ملنے اور مبارک باد دینے کے لئے باری باری سٹیج پر آتے اور مجھے اور میرے والد صاحب کو ملتے اور نیچے اپنی سیٹ پر چلے جاتے اسی طرح میرے استاد آۓ مجھے گلے ملے ڈھیر ساری دعائیں اور مبارک باد دی مجھے ملنے کے بعد وہ والد صاحب کو ملے مبارک دی اور کہا کیسے ہیں آپ اب کمر کی درد کیسی ہے میرے والد صاحب کو کمر درد کی ہلکی سی شکایت تھی جس کیوجہ سے وہ تھوڑا سا جھک کے چلتے تھے لےکن ڈاکٹر صاحب نے جیسا ہی کمر درد کا پوچھا میرے والا صاحب نے بیس سال کے جوان لڑکے کی طرح ان کے سامنے اٹھک بیٹھک کی اور کہا سوفیصد ٹھیک ہو ڈاکٹر صاحب انہوں نے کہا آپ کی کمر کا خم بھی الحمدللّٰہ ٹھیک ہوگیا ہے تو میرے والد صاحب سینہ چوڑا کر کے مونچھو ں کو تاؤ لگا کر بولے جناب آج میرے منڈے دی بارات ہے آج می جوان ہوگیا ہوں اب مجھے کوئی کمر درد نہیں ہے ان کی بات سن کر سٹیج پر بیٹھے سبھی لوگ خوب قہقہ لگا کر ہنسے اور کچھ نے والد صاحب کی بات کی تائید بھی کی کہہ ایک باپ کے لئے اس دن کی خوشی سے بڑی اور کیا خوشی ہو سکتی ہے
    یہ تھا میرے والد کا پیار اور جزبہ میرے لئے جو ہر باپ کا اپنی اولاد کے لئے ایسا ہی ہوتا ہے لیکن کیا ہم اپنے والد کے بڑھاپے کے حقوق پورے کرتے ہیں یا کہ صرف فادر ڈے پر سوشل میڈیا کی پوسٹ کر کے ہی سمجھتے ہیں ہم نے والد صاحب کے پیار کا حق ادا کر دیا۔ والد کا پیار کیا ہوتا اور والد کی کمی کتنی محسوس ہوتی اگر یہ دیکھنا ہے تو مغربی ممالک جہاں پر پیدا ہونے والے بچوں کو اپنے باپ کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہوتا ان سے باپ کی قدر پوچھیں وہ باپ کی کمی محسوس کرتے کسی باپ بیٹے کو آپس میں پیار کرتے دیکھ کر وہ کس کرب سے گزرتے لبھی محسوس کرنا آج اگر مغرب کی بات کریں تو فادر ڈے انہیں کا بنایا ہوا دن ہے اور وہ لوگ مدرے ڈے کی بنسبت فادر ڈے کو زیادہ بھر پور طریقہ سے مناتے والدہ کا رشتہ بہت مقدس رشتہ ہوتا ہے باپ اپنی اولاد کا مقدس محافظ ہوتا ہے ہماری بھی یہ زمہ داری ہے کہہ اپنے وقت میں سے کچھ وقت اپنے والدین کے پاس بیٹھا کریں ان سے بات چیت کیا کریں اور ان کی ہدایات پر سوفیصد عمل کریں والدین کی ہر ضرورت اور آسائش کا خیال رکھا کریں خاص طور پر جب والدین بڑھاپے میں پہنچ جائیں۔ان سے نرمی پیار اور محبت سے پیش آئیں۔ ۔ ان کی بھرپور جتنی زیادہ سے زیادہ ہوسکے خدمت کریں۔ اللہ پاک جن کے والدین دنیا میں موجود ہیں ان کو اپنے والدین کی خدمت کر کے جنت کمانے کی توفیق عطا فرماۓ اور جن کے والدین وفات پاگے ہیں وہ ان کی وفات کے بعد ان کے ایصال ثواب کیلئے وقتاً فو قتاً دعائے مغفرت و رحمت کا اہتمام کرنے ان کی قبروں پر حاضری دینے اور فاتحہ خانی کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین

    اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • کیا امیر اور غریب کے لیے انصاف کا ترازو ایک ہے؟ تحریر: سحر عارف

    کیا امیر اور غریب کے لیے انصاف کا ترازو ایک ہے؟ تحریر: سحر عارف

    انصاف کے معنی کچھ یوں ہیں کہ کسی چیز کا فیصلہ کرتے وقت اس کے اصل حقدار کو اس کا پورا حق دینا۔ یا یوں کہیں کہ کسی فرد کے ساتھ کسی دوسرے فرد یا گروہ کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بننے والے کو اس کا حق یعنی انصاف دیا جائے۔

    اللّٰہ پاک کا ارشاد ہے:
    "اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو، اللّٰہ تمہیں خوب نصیحت کرتا ہے، بےشک اللّٰہ سنتا (اور) جانتا ہے”
    (النساء 58)

    اس آیت سے انصاف کی اہمیت کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس قدر اللّٰہ پاک نے انصاف کا حکم دیا ہے۔ وہ لوگ جو دوسروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور انہیں انصاف نہیں دیتے بےشک ان کے لیے اللّٰہ کے ہاں سخت سزا موجود ہے۔

    لیکن یہاں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں امیر اور غریب کے لیے انصاف کا ترازو ایک ہے؟ تو جناب جواب صاف ہے "نہیں”۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں انصاف کے حوالے سے حالت بہت بگڑی ہوئی ہے۔ یہاں انصاف صرف دو قسم کے لوگوں کو ہی آسانی سے ملتا ہے۔

    ایک وہ جو بہت ہی بااثر لوگ ہوں، جو اپنے زور پہ اپنا حق لینا جانتے ہوں یا دوسرا وہ لوگ جن کا تعلق اچھے خاصے امیر خاندانوں سے ہو جو انصاف لینے کے لیے اگر اپنا پیسہ پانی کی طرح بہا بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ پھر پیچھے بچتی ہے بیچاری غریب عوام، جو خود سے زیادتی ہونے کے بعد انصاف کی طلب کے لیے ساری زندگی انتظار کرتے کرتے بڑھاپے تک کو پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن انہیں انصاف نہیں ملتا۔

    اب تک بہت سی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں پر کسی نے بھی ملک کے عدالتی نظام پر توجہ نا دی بلکہ اس ادارے کو اپنے اپنے مقصد کے لیے جس قدر ہوسکا استعمال کیا۔ لیکن اب جب عمران خان کی حکومت آئی ہے تو غریبوں نے بھی ایک آس لگائی ہے کہ شاید اب ہی عدالتی نظام بہتر ہوجائے گا اور انہیں بھی انصاف ملا کرے گا۔

    لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ جس طرح عدالتی نظام کو بگاڑنے میں سالوں سال لگائے گئے ہیں اسی طرح اس کو سنوارنے میں چند سال تو درکار ہونگے۔ لیکن انشاء اللہ ہم وہ وقت بھی دیکھیں گے جب امیر اور غریب کے لیے قانون ایک ہوگا۔

    @SeharSulehri