Baaghi TV

Category: بلاگ

  • والدین اور بچوں کا بچپن۔  پاٹ۔2 تحریر  : راجہ حشام صادق

    والدین اور بچوں کا بچپن۔ پاٹ۔2 تحریر : راجہ حشام صادق

    بچے پھول کی مانند ہوتے ہیں تمام والدین پر فرض ہے بچوں کی اچھی تربیت کرنا۔ایک کہاوت ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گئے۔یہ کہاوت ویسے تو ہر جگہ فیٹ ہو جاتی ہے ۔مگر یہ خاص طور پر والدین کے لیے ہے۔

    مطلب اپنے بچوں کو جو سکھاو گے وہی اپنے بڑھاپے میں پاو گے۔کل کے کالم میں بات ہوتی تھی۔کہ کس طرح ہم اپنے بچوں کو ایک کامیاب انسان بنا سکتے ہیں۔ بچوں کے بچپن سے ہی ہمیں کیا کرنا چاہیے۔اور ہمیں اپنے بچوں کے معصوم دماغوں میں کیا ڈالنا چاہئے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کل والے کالم کو ضرور پڑھیں۔

    آج ہم کچھ اور باتیں سیکھیں گے جو بڑتی عمر کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے بہت ضروری ہیں ایک بات یاد رکھ لیں کہ بچے 70% سے 80% باتیں دیکھ اور سن کر سیکھتے ہیں اس لیے اپنے گھر کا ماحول ہر وقت خوشگوار رکھیں۔

    بچوں کے سامنے آپ جو بھی عمل کرتے ہیں بچے آپ کے سامنے کریں یا نہ کریں مگر وہ تنہائی میں اس کی پریکٹس ضرور کرتے ہیں۔ مثال کے تور پر آپ بچوں کے سامنے سگریٹ، پان، گٹکا، یا نسوار کھاتے ہیں تو بچے بھی اکیلے میں وہی کھا رہے ہوتے ہیں۔

    اور اگر آپ بچوں کے سامنے نماز روضہ کرتے ہیں صبح سویرے آٹھ کر قرآن مجید پڑھتے ہیں تو یقین کریں بچے بھی آپ کے ساتھ ساتھ بلکل ویسے ہی پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اگر تو آپ اپنے بچوں کو ایک کامیاب انسان بنانا چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں اچھی تربیت سے آپ کی نسلیں سنور جائیں گی

    بچوں کو نصیحت کرتے وقت کوشش کریں اسے عمل کر کے دیکھائیں اپنے گھروں میں گالم گلوچ سے پرہیز کریں اور بچوں کے سامنے تو بلکل بھی نہ کریں۔
    آچھی تربیت کے ساتھ بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم بھی دلوائیں
    دینی تعلیم ہمیں ہمارے رب سے ملواتی ہے تو دنیاوی تعلیم سے انسان شعور سیکھتا ہے۔

    نماز اور قرآن مجید خود بھی بڑھائیں اور بچوں کو بھی ضرور پڑھیں بچوں کو سمجھائیں ہمارے دین اسلام میں غلط کام کرنا کتنا بڑا گناہ ہے ۔اپنے پیارے نبی ﷺ کی زندگی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بتائیں۔میں اگر اپنا اکسپیرنس شیئر کروں تو میری سب سے چھوٹی بیٹی اس وقت چار سال کی ہونے والی ہے ۔آپ یقین کریں گے اسے چھ کلمے۔سورہ فاتحہ۔سورہ ناس۔سورہ اخلاص۔کے ساتھ ساتھ اسے پتہ ہے ہمارے پہلے نبی کون تھے اور آخری نبی کون ہیں وہ کہاں پیدا ہوئے ان کی زبان کون سی تھی ان کا روضہ مبارک کہاں پر ہے۔ہم کون ہیں۔ہمارا مذہب کیا ہے۔مسلمان سال میں کتنی عیدیں مناتے ہیں۔بسمہ اللہ کو کیا کہتے ہیں۔ ایسی بہت سی اور چیزیں ہیں جو اسے پتہ ہیں الحمدللہ۔

    یہ سب کچھ اس نے زبانی یاد کیا ہوا ہے۔ مگر یہ ممکن کیسے ہوا۔ دراصل میری عادت ہے اپنے بچوں کو صبح صبح ہی اپنے موبائل میں لگا کر دے دیتا ہوں پہلے کلمے سونتے اور پڑھتے ہیں پھر چاروں قل سنتے ہیں ماشاءاللہ سن سن کر انہوں نے یاد کر لیے ہیں۔

    آپ کوشش کریں کہ بچوں کو الیکٹرانک میڈیا سے دور رکھیں۔
    اپنے موبائل یا لیپ ٹاپ پے اگر کچھ لگا کر دیں تو اپنے بچوں کے پاس ہی رہیں۔

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
    آمین ثم امین ۔

    @No1Hasham

  • درخت اور ان کی اہمیت   تحریر  : راجہ ارشد

    درخت اور ان کی اہمیت تحریر : راجہ ارشد

    ماہرین کے مطابق ، کسی بھی ملک کی مجموعی آبادی کا 25٪ جنگلات ہونے جائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی ملک میں ایک ملین درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہمارے ملک کو اس فیصلے کی حکومتی سطح پر اشد ضرورت تھی۔
    درختوں کا وجود بھی اللہ تعالٰی کی نعمت ہیں جو موسمی تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔ درختوں کے منصوبے سے ملک کو بہت فائدہ حاصل ہوں گے ۔
    درخت جہاں ہمیں سایہ فراہم کرتے ہیں وہاں ہمیں آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں جو سانس لینے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
    درخت ہوا میں موجود زہریلی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ درختوں کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

    موجودہ حکومت اور بالخصوص وزیراعظم  عمران خان کے ایک ارب درختوں کے منصوبے سے ملک میں سیلاب کی صورت حال کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ درخت لگانے سے بہت سی قدرتی آفات سے بچا جا سکتا ہے- گزشتہ برسوں سیلابوں کی صورتحال سے تو سبھی آگاہ ہیں۔ہمارا کتنا جانی اور مالی نقصان ہوا
    ان سیلابوں کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی درخت بہت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    درخت زیرِ زمین پانی کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور اس سے ان کی نشوونما ہوتی ہے۔ درخت ہمارے ماحول کو بھی خوشگوار بناتے ہیں درختوں کے ارد گرد بسنے والے لوگوں کی صحت پر بھی بڑا اچھا اثر پڑتا ہے بیماریاں بھی کم ہوتی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے درخت لگانے کا جو شعور قوم کو دیا ہے اس کے بہت فائدے ہیں- ہمیں بھی چاہیئے کہ شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ماحول کو خوشگوار بنائیں اور آنے والی نسلوں کے لیےخوشگوار اور اچھا ماحول تیار کریں۔ ملک پاکستان کا ہر فرد کم از کم ایک درخت ضرو لگائے چاہے اپنے صحن میں ہی لگا لے۔

    ہمارے شہروں میں فیکٹریوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ماحول پر بہت برا اثر پڑ ریا ہے درخت آوازوں کو بھی اپنے اندر جذب کرتے ہیں شور اور آلودگی کو بھی ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ملک میں معیار زندگی کو بہتر بنایا جائے کپتان کے اس اقدام سے شہروں میں صاف فضا اور ایک آچھا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے اس ملین ٹری منصوبے سے ملک میں موجود خشک سالی بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ درخت خشک سالی کو کنٹرول کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    درختوں کی موجودگی تناؤ اور افسردگی کو کم کرتی ہے اور لوگوں کو جسمانی اور جسمانی طور پر صحت مند بناتی ہے ۔درخت لینڈ سلائیڈنگ سے بھی بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • کوڈ 19 اور سائبرسیکیوریٹی پاکستان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب تحریر: شہزاد احمد

    کوڈ 19 اور سائبرسیکیوریٹی پاکستان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب تحریر: شہزاد احمد

    جب کووڈ- 2019،19میں سر اٹھانے لگا اور اس کے بعد 2020 میں تقریبا تمام شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوئے۔ لوگوں کی ملازمتیں ختم ہوگئیں، کمپنیوں کو اپنی پیداوار بند کرنا پڑا اور اسکول بند کردیئے گئے۔
    لیکن اس وسطی وقت میں سائبر سیکیورٹی حملے وہ واحد حقیقت تھی جو پوری دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے بڑ تھی گئ۔
    اس مہلک وبا کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوگئے، اور ان کی سرگرمیاں صرف انٹرنیٹ اور کمپیوٹر تک ہی محدود ہوگئ۔ اس سے سائبر جرائم پیشہ افراد کو رازداری کی خلاف ورزی کرنے اور اسے اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنے کا موقع مل گیا ۔ قرنطین کے دوران، صارفین اپنے موبائل فونز اور کمپیوٹرز میں ایپس ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں اور ایپ کو اپنے موبائل ڈیٹا تک رسائی فراہم کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ چونکہ آج معلوماتی جنگ کا دور ہے، لہذا کوئی بھی ادارہ یا ریاست غیر اعلانیہ انہیں دیئے گئے ڈیٹا سے فائدہ اٹھاسکتی ہے، یہ تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، اور لوگوں کے ڈیٹا کو ذاتی اور قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچانے کے لئے غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔
    حالیہ دنوں میں گوگل نے لاکھوں پشنگ اور میلویئر گھوٹالوں سے متعلق اطلاع دی ہے۔
    چونکہ پاکستان ایک ترقی پذیر
    ملک ہے اور کوویڈ 19 کی غیر یقینی صورتحال میں، سائبرسیکیوریٹی کے خطرات ایک مکمل ڈراؤنہ خواب ہے۔
    تمام تعلیم، کاروبار اور معیشتیں تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجیز پر منحصر ہوتی جارہی ہیں۔ روایتی معیشتوں کے کام کرنے کے طریقے مکمل طور پر تبدیل ہو رہے ہیں۔
    عالمی نیٹ ورکنگ پر کوڈ 19 کے اثرات کی اطلاعات کے مطابق، امریکہ میں ٹیلی مواصلات کی ایپلی کیشنز (جیسے زوم، اسکائپ، وغیرہ) میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
    امریکہ میں گیمنگ میں 400٪ اضافہ ہوا ہے۔
    زوم سے ڈیٹا ٹریفک میں 828٪ اضافہ اور تھائی لینڈ میں اسکائپ ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشنز میں 215٪ اضافے۔
    سیٹیلائٹ آپریٹرز کے مشاہدہ کے مطابق، پورے یورپ اور امریکہ میں خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں ڈیٹا ٹریفک میں 15 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
    یہ "ورک فرام ہوم” تنظیموں، طلباء، اور اساتذہ کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج تھا جو جدید مواصلاتی اوزار سے واقف نہیں تھے۔ غیرخفیہ کردہ مواصلات کی وجہ سے بہت سے زوم اکاؤنٹس اس وبائی مرض کے دوران ہیک ہو گئے
    یہ بھی اطلاعات بھی ملتی رہی کہ تعلیمی زوم سیشن کے دوران مشتبہ افراد سیشن میں شامل ہوجاتے ہیں اور بہت سی رکاوٹوں کا باعث بنتے ہیں۔
    ملازمین پر سوشل انجینئرنگ کے حملوں کا زیادہ امکان تھا اور حملے ہوۓ بھی کیونکہ حملہ آور ملازمین کے بڑھتے ہوئے کام کا بوجھ، انکے نیۓ کام کرنے کے طریقوں سے نا شناسی کا غلط فایدہ اٹھا تے تھے۔
    پی ٹی اے کے مطابق پاکستان میں موبائل ٹریفک میں تقریبا 22 فیصد اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں محدود فکسڈ نیٹ ورک ہیں۔
    لوگ روایتی سے او ٹی ٹی سروس (اوور دی ٹاپ میڈیا) میں منتقل ہورہے ہیں۔
    پاکستان میں جب تمام طلباء اور اساتذہ کی نظریں ایچ ای سی (ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان) کی طرف تھیں، کچھ آن لائن کلاسوں کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کچھ نے مشورہ دیا کہ پورے ملک میں انٹرنیٹ کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور پھر آن لائن کلاسیں دوبارہ شروع کریں، اور اسی اثنا میں، ایچ ای سی کی سرکاری ویب سائٹ ہیک ہوگئی-
    پاکستان میں جب ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا تو لوگ بے روزگار ہو گئے تھے اور انہیں پیسوں کی ضرورت تھی ان میں سے کچھ نے آن لائن کام کا رخ کیا۔
    صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسکیمرز نے اپبی منصوبہ بندی کو بڑھاوا دیا، انہوں پاکستانی موبائل نمبروں کا ایک ڈیٹا بیس تیار کیا اور لوگوں پر ایک سوشل انجینئرنگ تکنیک کا استعمال کیا۔ اس وقت حکومت پاکستان نے روزانہ مزدوری کرنے والوں میں 1200 روپے تقسیم کرنے کے لئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا۔
    اسکیمرز نے اسی پلیٹ فارم کا استعمال کیا اور پاکستان کے اندر لاکھوں دھوکے کے پیغامات بھیجے کہ ”آپ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے لیے اہل ہیں اور اپنے پیسے وصول کرنے کے لیے ہم سے رابطہ کرے۔ ان سے ذاتی معلومات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور موبائل لوڈ کی شکل میں پیسے بھی مانگے جا رہے ہیں۔ ہزاروں افراد اس دھوکے کا شکار ہوچکے ہیں
    اسکیمرز نے یہی تکنیک (بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام)، جیتو پاکستان (پاکستان میں مشہور ٹی وی شو) کا رکن بنک یا ایزی پیسہ کے ممبر ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے بھی استعمال کیا،
    یہاں تک کہ ایف آئی اے، پی ٹی اے، اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے ملازمین کو بھی اسی طرح کے دھوکے کے پیغامات موصول ہوتے ہیں۔
    لیکن یہ کھیل اب بھی جاری ہے اور رک نہیں رہا، ہر روز ہزاروں افراد کو یہ دھوکے کے پیغامات موصول ہوتے ہیں اور ان میں سے سیکڑوں افراد اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔
    نہ صرف کوڈ 19 کی وجہ سے بلکہ ہمارے خطے اور پڑوسی مماللک کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے اب اور مستقبل میں دنیا کی نگاہیں پاکستان کی طرف ہیں۔
    جیسے ہی دنیا ٹیکنالوجی اور سائبرسیکیوریٹی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہے پاکستان میں سائبرسیکیوریٹی آگہی کا فقدان ہے
    حکومت پاکستان کو سائبر کرائمینلز کے خلاف مناسب کاروائیاں کرنے اور مقامی زبانوں میں سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر سائبرسیکیوریٹی بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
    سائبر خطرات سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے پاس ضروری قانون سازی نہیں ہے۔ پاکستان نے 2016 میں ایک سائبر کرائم قانون کی منظوری دی، جسے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کا عنوان دیا گیا تھا، تاہم سائبر سیکیورٹی کے بہت سے اہم شعبوں پر توجہ نہیں دی گئی ۔ پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کے مزید سخت قوانین کی ضرورت ہے جن میں کاروباری اداروں اور تنظیموں کو اپنے کمپیوٹر سسٹم اور حملوں کے خلاف ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہو۔ سرکاری اداروں، توانائی کی صنعت کے ساتھ ساتھ صحت کی دیکھ بھال اور مالی تنظیموں کو بھی قوانین کے تحت اپنے کمپیوٹر سسٹم اور معلومات کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہو۔
    by Shehzad Ahmad
    Follow me on Twitter @Imshehzadahmad

  • کرونا ویکسین لازم ہے  تحریر:  رانا بشارت محمود

    کرونا ویکسین لازم ہے تحریر: رانا بشارت محمود

    کرونا وائرس (کووڈ-19) پوری دنیا کے لیے ایک انتہائی مہلک اور جان لیوا وبائی بیماری ثابت ہوئی ہے۔ اِس وبائی بیماری سے متاثرہ چند افراد دسمبر 2019 میں جب چین کے ایک صوبے ووہان میں سامنے آئے، تب کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ یہ وبائی بیماری اتنے لمبے عرصے تک پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

    اور اب تک آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اِس کرونا وائرس نامی وبائی بیماری کو تقریباً دو سال پورے ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک اس کے مکمل طور پہ ختم ہو جانے کی کوئی مثبت اور حوصلہ افزا امید نظر نہیں آ رہی ہے۔

    تاہم پوری دنیا سے بہت سارے سائنسدانوں کی دن رات کی محنت اور کوششوں سے اب پوری دنیا میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے منظور شدہ متعدد ویکسینز عوام الناس کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب پوری دنیا میں 13 مختلف ویکسینز استعمال کی جا رہی ہیں، جن کی کم از کم دو خوراکیں یا پھر زیادہ سے زیادہ تین خوراکیں (تاہم ضرورت پڑنے پہ ڈاکٹرز کے مشورے سے اس سے زیادہ بھی دی جا سکتی ہیں) لوگوں کو کچھ دنوں کے وقفے کے بعد دی جا رہی ہیں۔ جن میں سے چند کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    اِن میں سب سے پہلی ویکسین جو 2020 کے آخر میں جرمنی کے شہر مینز میں واقع بائیو ٹیک نامی کمپنی کے دو ڈاکٹرز جن میں 55 سالہ اوگور ساہین اور 53 سالہ اوزیلیم توریسی (جوکہ اصل میں خاوند اور بیوی بھی ہیں) اور ان کی ٹیم نے فائزر کے نام سے ایک ویکسین تیار کرلی تھی۔ جسے تب عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی کرونا وائرس کے خلاف 90٪ تک مؤثر قرار دے دیا گیا تھا اور اس کا پہلا تجربہ انگلینڈ میں ایک 91 سالہ خاتون جس کا نام مارگریٹ کیینن ہے، کو 8 دسمبر 2020 کو انجیکشن کے ذریعے پہلی خوراک دے کر کیا گیا تھا۔

    پھر اُس کے بعد آسٹرزینیکا/اے زیڈ ڈی 1222 نامی ویکسین جسے آسٹرزینیکا /آکسفورڈ اور اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور ایس کے بایو نے تیار کیا تھا، اور جس کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 16 فروری 2021 کو عوام الناس کو دینے کی منظوری بھی دے دی گئی تھی.

    پھر ایک اور مشہور سینوفرم نامی ویکسین جس کو چین نیشنل بائیوٹیک گروپ (سی این بی جی) کے ماتحت ایک ادارہ ہے، جسے بیجنگ بائیو انسٹیٹیوٹ آف بائیولوجی پراڈکٹ کمپنی لمیٹڈ نے تیار کیا ہے۔ اور جسے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 7 مئی 2021 کو عوام الناس کو دینے کی منظوری بھی دے دی گئی تھی.

    اب تک اگر پوری دنیا کی بات کریں تو عالمی ادارہ صحت کے مطابق آج بتاریخ 28 جولائی 2021 تک کُل تین ارب بیاسی کروڑ ننانوے لاکھ پینتیس ہزار سات سو بہتر ویکسین کی خوراکیں لوگوں کو دی جا چکی ہیں۔

    جن میں سے امریکہ میں دی جانے والی اب تک کل تعداد چونتیس کروڑ چودہ لاکھ انتیس ہزار چھ سو چھیانوے ہے، روس میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد پانچ کروڑ ستائیس لاکھ بیاسی ہزار آٹھ سو اٹھاسی ہے، انگلینڈ میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد آٹھ کروڑ چوبیس لاکھ تیرا ہزار سات سو چھیاسٹھ ہے، بھارت میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد پینتالیس کروڑ انیس لاکھ بارہ ہزار تین سو پچانوے ہے اور برازیل میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد بارہ کروڑ بتیس لاکھ اکانوے ہزار چھ سو دس ہے۔
    جبکہ پاکستان میں این سی او سی کے مطابق دی جانے والی اب تک کی کل تعداد آج بتاریخ 28 جولائی 2021 تک دو کروڑ اٹھہتر لاکھ پچھتر ہزار نو سو ننانوے ہے۔ جن میں سے وہ جن کی ویکسین کی خوراکیں مکمل ہو چکی ہیں ان کی کل تعداد انسٹھ لاکھ سات ہزار نو سو انتیس ہے، جبکہ وہ جن کو اب تک ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دی جا چکی ہے ان کی کل تعداد دو کروڑ انیس لاکھ اڑسٹھ ہزار ستر ہے۔

    اور اب روزانہ کی بنیاد پہ لوگوں کا ویکسین کی خوراکیں لینے والوں میں بھی بڑی حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جیساکہ این سی او سی کے مطابق آج کے دن بتاریخ 28 جولائی 2021 کو پچھلے چوبیس گھنٹوں میں آٹھ لاکھ انچاس ہزار چھ سو چونتیس لوگوں کو ویکسین کی خوراکیں دی گئی ہیں۔ جو کہ ایک بہت بڑی اور حوصلہ افزا تعداد ہے۔

    کیونکہ پچھلے دِنوں پاکستان اور کئی دوسرے ممالک میں بھی کرونا کی ویکسین کے متعلق بہت سی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔ کہ جو ویکسین کی خوراکیں لیں گے وہ خدانخواستہ بانجھ ہونا شروع ہو جائیں گے یا پھر وہ لوگ ایک، دو یا چند سالوں کے بعد مرنا شروع ہو جائیں گے اور اِن میں سے ایک خبر جو کہ کسی سائنسدان سے منسوب کی جارہی تھی جو میں نے بھی ایک اخبار کے تراشے پہ پڑھی وہ یہ تھی کہ ویکسین لگوانے کے بعد لوگ مگرمچھ بن جائیں گے، جوکہ انتہائی غیر فطری اور سراسر جھوٹ پہ مبنی بات ہے۔

    ایسے عناصر اور اخبارات و رسائل جو ایسی بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ اُن کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ تاکہ عوام میں کرونا ویکسین لینے کے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات ختم ہو سکیں اور تاکہ اس سے عوام میں یہ پیغام بھی جائے کہ کرونا ویکسین کی خوراکیں لینا انتہائی اہم اور ضروری ہے۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ میرے پاکستانیوں جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں اِس کرونا وائرس نامی وبائی بیماری نے اب تک لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی جان لے لی ہے۔ تو اِس کے پھیلاؤں کو روکنے اور خود کو اس سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب جلد از جلد حکومت کی طرف سے عوام کی حفاظت کی خاطر دی جانے والی ویکسین کی خوراکیں لازمی لیں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں، تاکہ ہم خود کو اور اپنے پیاروں کو بھی اِس مہلک وبائی بیماری سے بچا سکیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • کماۓ کراچی ہاۓ کراچی ہاۓ کراچی!!!  تحریر: سلمان احمد صدیقی

    کماۓ کراچی ہاۓ کراچی ہاۓ کراچی!!! تحریر: سلمان احمد صدیقی

    دورِ حاضر میں کراچی ملک کو تقریباً 65 سے 70 فیصد ریونيو اور سندھ کو 90 فیصد کما کر دینے والا ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اگر یہ بات کہی جاۓ کے ملک کی معیشت چلانے میں کراچی شہر کا بہت بڑا ہاتھ ہے تو یہ کسی صورت غلط نہ ہوگا۔ لیکن جب ہماری نظر اس شہر کے مسائل پر پڑتی ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کے اتنا ریونيو دینے والے شہر کے شہری ذندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ ملک کے تقریبا تمام قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد کراچی میں رہائش پزیر بھی ہیں اور برسرِ روزگار بھی ہیں۔ اگر ہم آج سے گیارہ سال پیچھے چلے جاٸیں تو کراچی ایسا نہ تھا بلکے کراچی دنیا کے دس تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں کی فہرست میں شامل تھا۔ شہر میں عوام کی تفریح کےلیے خوبصورت پارک موجود تھے۔ فلاٸ اوورس اور بہترین سڑکوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ نکاسی آب کا نظام بھی آج کے دور سے بہت بہتر تھا۔اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی قدرے بہتر تھی۔آج وہ ہی کراچی دنیا کے پانچ اُن شہروں میں شامل ہے جو کے انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں ہے غرض یہ کے آج کراچی تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ اس تباہی اور بربادی کے زمیداروں کا تعين کرنا کسی سوال سے کم نہیں۔ عقل سمجھنے سے قاصر ہے کے اس بربادی کا زمیدار کس کو ٹہرإیا جاۓ۔ کیا وہ تمام سرکاری ادارے اس کے زمیدار ہیں یا وہ سیاسی پارٹیاں جو اس شہر کا مینڈیت لے کے اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں یا عوام جو کے اتنی پریشانیاں اٹھانے کے باوجود بھی خاموش تماشائی بن کے صبر کیے ہوۓ ہیں۔ یہ فیصلہ تو میں پڑھنے والے تمام معززین پے چھوڑتا ہوں۔ ملک کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کبھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بھیگ مانگ رہا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں اور فنڈز دینے کے اعلانات اور دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن عملی طورپر کارکردگی صفر ہے۔ جتنا ٹیکس کراچی سے جمع کیا جاتا ہے اگر اس میں سے چند فیصد بھی ایمانداری کے ساتھ اس شہر کی تعمير و ترقی کے لیے خرچ کیا جاتا تو آج اس شہر کا یہ حال نہ ہوتا۔ یہ بات اس شہر کی بدقسمتی سے کم نہیں ہے۔ پاکستان الله کی طرف سے ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے اور کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ریاست اور اربابِ اختیار کی یہ ذمیداری ہے کے کراچی کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پے حل کریں تاکہ یہاں معاشی سرگرمياں میں بھی استحکام پیدا ہوسکے۔ پاکستان کی ترقی کراچی کی ترقی سے جوڑی ہوٸ ہے اور کراچی کا تباہ ہونا پاکستان کا تباہ ہونا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ حکمرانوں کو ہدایت دے اور اس تباہ حال شہر کو مسائل سے پاک کردے۔آمین

  • ذکر الہٰی  تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    ذکر الہٰی تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    ذکر کے معنی یاد کرنا کے ہوتے ہیں اور ذکر الہٰی سے مراد رب کائنات اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا ہیں۔
    ذکر الہٰی سب عبادتوں کا مجموعہ ہے اور ذکر الہٰی میں دلوں کا سکون ہے۔

    *قرآن مجید میں ارشاد:*

    *”آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کے ذکر میں دلوں کا اطمینان ہے۔”* (سورت الرعد 28)

    آج کل کے دور میں ہر کوئی بے سکونی کا شکار ہے، ٹینشن کا شکار تو اس کا واحد حل خدا تعالیٰ کا ذکر ہے۔

    *آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:*

    *”اللہ تعالیٰ کا ذکر دلوں کی شفاء ہے.”*

    انسان دنیاوی جتنی بھی باتیں کرے وہ خدا کے ذکر سے اچھی نہیں ہوتیں، انسان دنیاوی جتنی بھی محافل میں شرکت کرے وہ ذکر الہٰی کی محفل سے افضل نہیں ہوتیں۔ ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد خدا کو یاد کرنا تھا اور وہ ہم بھول گئے ہیں۔
    ذکر الہٰی کی بہت سی قسمیں ہیں،جیسا کہ نماز، قرآن مجید کی تلاوت، تسبیحات وغیرہ۔
    جملہ امراض نفسانی و روحانی سے شفا ذکر الہٰی ہے۔
    انسان کی ہلاکت کے لیے بہت سی بلائیں منہ کھولے کھڑی ہیں، اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کی روک ہے۔
    اللہ کا ذکر سب بیماریوں کی شفاء اور خدا تعالیٰ کے ساتھ دوستی اور محبت کا ذریعہ ہے۔
    آج ہر گھر میں پریشانی، لڑائی، جھگڑے، فسادات ہیں اس کی وجہ سے خدائے واحد کے پیغام سے دوری۔۔۔
    اس کی وجہ ذکر الہٰی سے دوری۔۔۔
    ہم لوگ دکانوں، سینماؤں، مارکیٹوں میں گھنٹوں صرف کر دیتے ہیں مگر خدا کو یاد نہیں کرتے۔۔۔
    ہم یہ تو راگ الاپتے ہیں کہ کاروبار میں برکت نہیں، گھر میں پریشانی ہے، رات کو نیند نہیں آتی، ارے بھائی یہ سوچ تونے خدا کو بھی یاد کیا ہے، جب ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کریں گے تو وہ خدا ہماری پریشانیوں کو دور کر دے گا اور ہمارے لیے بہتری کے فیصلے فرما دے گا۔۔۔
    انسان جس سے محبت کرتا ہے اسے دن میں کئی مرتبہ یاد کرتا ہے اور خدا سے محبت کا تقاضا ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے۔۔۔۔
    ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جو ہر وقت خدا کی یاد میں مستغرق رہتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ہر وقت خدا کی یاد میں مصروف رہتے تھے۔ وہ اپنے کام بھی کرتے اور خدا کو یاد بھی کرتے اور ہم لوگ دنیاوی کاموں میں مصروف ہوچکے ہیں اور خدا کو بھول چکے ہیں۔۔
    دنیا کی ہر چیز اللہ کا ذکر کرتی ہے، چرند، پرند، درند حتی کہ مٹی کے ذرات بھی خدا کا ذکر کرتے ہیں اور ہماری زبانیں غیبت، چغلی کرنے میں مشغول ہوتی ہیں اسی وجہ سے پریشانیوں کا شکار ہیں۔
    اے مسلمان!!
    اے میری جان!!
    اپنے دنیاوی کاموں کو کرنے کے ساتھ ساتھ خدا کو بھی یاد رکھ یہ تیرے لیے اصل سرمایہ ہے جو کہ تیری ہمیشہ کی زندگی کے لیے ضروری ہے، تو خدا کو یاد کر کے تو دیکھ اس کے دنیاوی فوائد بھی اور آخرت میں بھی۔۔۔
    خدا کو کسی مطلب کے لیے یاد نہ کر خدا کو صرف اس کی رضا کے لیے یاد کر۔۔۔۔۔

    *رہوں ہر وقت تیری یاد میں مستغرق*
    *میرے لب پہ ہر پل یہی دعا ہے*
    *(بلال انجم)*

  • کشمیر پریمیئر لیگ بھارتی سیاست کی نظر !  تحریر: حسن ریاض آہیر

    کشمیر پریمیئر لیگ بھارتی سیاست کی نظر ! تحریر: حسن ریاض آہیر

    بھارتی فاشسٹ حکومت ایک بار پھر ہٹ دھرمی پر اتر آئی اور پاکستان کےخلاف اوچھےہتھکنڈے اپنانا شروع کردیے۔
    6 سے 16 اگست تک آزاد کشمیر مظفر آباد میں کشمیر پریمیئر لیگ ہونےجا رہی ہےجس میں انٹرنیشنل کھلاڑیوں نےشرکت کرنا تھی۔
    بھارتی کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو اور ان سےمنسلک کرکٹ بورڈز کو دھمکایا کہ اگر آپکےکھلاڑی کے پی ایل میں شرکت کریں گےتو انہیں بھارت اپنےملک میں کھیلنےسےمعطل کردےگا اور سیکورٹی سےمتعلق بھی دھمکایا۔جس کے بعد اطلاع ہےکہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو کے پی ایل میں حصہ لینےسے روک دیاہے۔
    دوسری جانب کے پی ایل انتظامیہ نے اس معاملےکا نوٹس لیا اور کسی غیر ملکی کھلاڑی کو شامل نہ کرنےکا فیصلہ کیا۔جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز اور سری لنکا کے تلکارتنے دلشان کو بتایاگیا کہ کے پی ایل اب محض مقامی کھلاڑیوں پر مبنی ہوگی۔
    لیکن دلشان نےتمام مشکلات کےباوجود کھیلنےکا فیصلہ کیا۔
    کے پی ایل نے ایک بار پھر مقامی کھلاڑیوں کی فہرست کھول دی ہے اور وہ تمام غیر ملکیوں کی جگہ لیں گے۔
    چیئرمین کشمیر کمیٹی شہر یار خان آفریدی نےکشمیر کے پی ایل کےعہدے داروں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتےہوئے آئی سی سی پر زور دیا کہ وہ بی سی سی آئی کےشیطانی ایجنڈے کا نوٹس لےجس کا مقصد کرکٹ کو اپنےسیاسی مقاصد کےلیے استعمال کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کھیل بینادی انسانی حق ہے۔بھارت کے زیر اثر عالمی کھیلوں کا ہوناقابل قبول نہیں۔
    پاکستان کا کے پی ایل کروانے کا مقصد آزاد کشمیر کےپرامن حالات،تقافت،پاکستان کو کھیلوں کےلیے محفوظ ملک ثابت کرنا اور دنیا کےسامنے ایک اچھا امیج پیش کرناہے۔
    اسکےبرعکس مودی حکومت نے ظلم و بربریت کی داستان مقبوضہ کشمیر میں رقم کی اور پرتشدد کرفیو کو دو سال ہونےکو ہیں۔
    @HRA_07

  • ‏حقوق نسواں اور اسلام  تحریر؛ سردار ہارون بابر

    ‏حقوق نسواں اور اسلام تحریر؛ سردار ہارون بابر

    اسلام محض دین نہیں بلکہ ایک ضابطہ حیات ہے۔ جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کے ذریعے تمام بنی نوع انسانوں کے حقوق و فرائض بیان کردیے گئے ہیں۔
    دوسرے کا حق، ہمارا فرض ہوتا ہے، جسے ادا کرنا لازم ہے۔
    حقوق کے بارے میں عورتوں کو ہمیشہ پس پشت ہی رکھا گیا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں طرح طرح کے ظلم و ستم عورتوں پہ ڈھائے گئے۔
    لیکن اسلام نے عورت کو عزت بخشی، گھر کی زینت بنایا، اگر ماں ہے تو جنت ہے اور اگر بیٹی ہے تو رحمت۔

    اللہ تعالیٰ سورة النساء میں فرماتے ہیں کہ؛

    اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ
    ترجمہ؛ مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالٰی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نےاپنے مال خرچ کئے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ نے اگر مرد کو فضیلت بخشی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مرد، عورتوں کو زر خرید غلام سمجھنے لگے۔ بلکہ دونوں کی اپنی اپنی زمہ داریاں ہیں جن کی ادائیگی سے صحت مند معاشرے پروان چڑھتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی عورتوں کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔
    خواہ تعلیم حاصل کرنا ہو یا خود سے روزگار کمانا ہو، عورت بااختیار ہے۔
    بلکہ قوم کی کئ بہادر بیٹیوں نے پاکستان کا نام فخر سے بلند کیا ہے۔ جن میں فاطمہ جناح، رعنا لیاقت، بلقیس ایدھی، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر سارہ قریشی، منیبہ مزاری اور خواتین کرکٹ ٹیم کی ثناء میر سر فہرست ہیں۔
    دفاعی میدان میں بھی پاک دھرتی کی بیٹیوں نے محنت سے اپنا لوہا منوایا ہے جیسے نگار جوہر، شازیہ پروین اور شہید مریم مختار وغیرہ۔
    پس ثابت ہوا کہ عورت با حیا انداز میں دنیا کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ روزگار بھی کما سکتی ہے۔
    اللہ نے خاص عورتوں سے بات کرنے کے لیے سورة النساء نازل فرمائی ہے۔ جس میں عورتوں سے متعلق تمام تر امور تفصیل سے بیان فرما دیے۔ زمانہ جاہلیت میں، اسلام سے قبل عورتوں کا وراثت میں کوئی حصّہ نہ تھا مگر اسلام نے عورتوں کا حق مقرر کیا۔
    پر افسوس! کچھ عورتیں اللہ کا فرمان نہیں مانتی۔ نہ پردہ کرتی ہیں نہ حیاء۔
    پھر لوگ بھی پریشان کرتے ہیں اور شیطان بھی۔
    اور اپنی اس بے پردگی کو آزادی کا نام دیتی ہیں؟؟؟

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: ’’ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘​

    حیاء عورت کا زیور ہے۔ پردہ عورت کو باقی تمام عورتوں سے مختلف شناخت دیتا ہے تاکہ اسلام کی بیٹی پہچانی جائے۔

    اللہ تعالیٰ سورة الاحزاب میں فرماتے ہیں کہ؛

    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا
    ترجمہ؛ اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔

    مگر کچھ ایسی خواتین بھی ہیں، جو آزادی کے نام پر بے حیائی پھیلا رہی ہیں۔
    کچھ جھوٹی شہرت تو کچھ چند پیسوں کے عوض گھٹیا تحریک ” میرا جسم، میری مرضی” میں ملوث ہیں۔ یہ عورت مارچ، معاشرتی بگاڑ کے علاوہ کچھ نہیں۔
    اگر کم کپڑے پہننا یا بے لگام گھومتے پھرتے رہنا ‘ ماڈرنیزم ‘ ہے تو جانور ان عورتوں سے زیادہ جدید ہیں۔
    قرآن و حدیث میں پہلے ہی عورتوں کے حقوق و فرائض بیان فرما دیے گئے ہیں۔
    تو پھر انھیں کونسا حق چاہیے؟؟
    کونسی آزادی چاہئے؟؟ کیا یہ باپ سے آزادی چاہتی ہیں جو سراپا شفقت ہے۔ یا بھائی سے؟؟ جو محافظ ہے۔ یا پھر اپنے ہی شوہروں سے؟؟

    ایسی عورتیں جعلی کیسز بناتی ہیں کبھی ذاتی تشہیر کے لیے تو کبھی پیسوں کے لیے اور مردوں پہ الزام لگاتی ہیں۔
    ایسے جعلی کیسز، حقیقی مظلوموں کے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسی چال باز عورتوں کو جہاں موقع ملے وہاں ہی بے نقاب کرنا چاہیے کیونکہ یہ عورت کے وقار پہ دھبہ ہیں۔

    کیسے ہوگی اب اس فرض کی پاسداری
    عمل سے دور ہوگئ بنتِ حوا بیچاری
    تقدس ہوا پامال بے حجابی کے دور میں
    روک اسے نہ پائی گھر کی چار دیواری

    یہ عورتیں اس گندی مچھلی کی مانند ہیں جو پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہیں۔
    لیکن اس سب کے باوجود ہماری قوم کی بیٹیاں، مردوں کے شانہ بشانہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

    ‎@HaroonForPak

  • ‏چھوٹی چھوٹی خوشیاں  تحریر :فضل عباس

    ‏چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر :فضل عباس

    آج کے ظالم دور میں انسان کو ہر طرف سے اذیت ملتی ہے شاید نصف سے زیادہ انسان ہر وقت کسی نہ کسی دکھ کا شکار ہوتے ہیں ہر انسان کو کبھی نہ کبھی دکھ ملتا ہی رہتا ہے لیکن کیا وہ ان دکھوں کے سہارے زندگی گزارے؟ ہرگز نہیں
    جہاں انسان کو تکلیف ملتی ہے وہیں اللہ تعالیٰ اسے خوشی سے بھی نوازتا ہے آج اس تحریر میں زندگی میں ملنے والے دکھ اور اس کے مقابلے میں ملنے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر بات کریں گے

    انسان بعض اوقات کسی شخص کے قریب چلا جاتا ہے لیکن اس نے بالآخر اس سے دور ہو جانا ہوتا ہے وقتی طور پر یہ دکھ شاید دل چیر کر رکھ دینے والا ہو لیکن اگر اسے مثبت لیا جائے تو یہ آپ کی سب سے بڑی خوشی بن سکتا ہے کیوں کہ ہر کسی کی زندگی میں آپ کی جگہ نہیں ہوتی اگر آپ زبردستی کسی کی زندگی میں رہنا چاہیں تو وہ نہ صرف آپ کے لیے دکھ ہو گا بلکہ اس کے لیے بھی جس کی زندگی میں آپ ہیں لہذا اگر آپ کسی سے دور ہوتے ہیں تو اسے خوشی میں بدل کر دیکھیں ہاں مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے اس لیے دکھ کو خوشی میں بدل دیں

    بعض اوقات انسان دکھ کے طوفانوں میں گھر جاتا ہے لیکن یہ دکھ اور تکالیف عارضی ہوتی ہیں یہ دکھ آپ کو اللہ تعالیٰ کی راہ پر لے آتے آپ اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جاتے ہو اس سے بڑی رحمت کیا ہو گی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے قریب ہو گئے

    بعض اوقات انسان کو دھوکہ کھانا پڑتا ہے دھوکہ آپ کو زندگی کے کسی بھی مرحلے اور زندگی کے کسی بھی لمحے مل سکتا ہے اس وقت آپ کو دکھ پہنچتا ہے لیکن آگے چل کر یہ آپ کو مضبوط انسان بناتا ہے کیوں کہ تب آپ ہر کسی پر یقین نہیں کر سکتے آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا جیسی نظر آتی ہے اس طرح ہوتی نہیں

    بعض اوقات انسان کو منافقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ وقت انسان کے لیے مشکل ہوتا ہے اپنے پرائے کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے لیکن جب آپ اس وقت سے نکل آتے ہیں تو آپ کھرے کھوٹے کی پہچان کر سکتے یہ زندگی میں آپ کے لیے خوشی کا باعث بنتا ہے

    بعض اوقات انسان دنیا کو سمجھنے میں غلطی کرتا ہے وہ اس قدر معصوم ہوتا ہے کہ اسے لگتا ہے سب اس جیسے ہیں لیکن اس کی یہ غلط فہمی لوگ دور کر دیتے ہیں لوگ اسے توڑ دیتے ہیں لیکن ٹوٹنے کے بعد وہ حوصلہ کرے تو جڑ جاتا ہے اور ایک مضبوط انسان بن کر ابھرتا ہےیہ مضبوطی اس کے لیے سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے

    انسان سب سے زیادہ اپنوں کے ہاتھوں ٹوٹ جاتا انسان جسے اپنا مانتا ہے اس کا احترام ٹوٹ کر کرتا ہے دوسرے الفاظ میں انسان خود کو توڑ کر اپنوں کو جوڑتا ہے اس سے اس کی انا کو ٹھیس ضرور پہنچتی ہے لیکن اس سے اس کی خوشی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے

    انسان بعض اوقات ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا ہر ارادہ ٹوٹ رہا ہوتا ہے اور یہ اسے شدید دکھ میں مبتلا کر دیتا ہے لیکن بعد میں اس پر ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس سے بہتر دیا جو وہ چاہتا تھا اللہ تعالیٰ انسان کو ہمیشہ خوشیاں عطاء کرتا ہے انسان کو چاہیے ان خوشیوں کو اکٹھا کرتا جاۓ

    انسان دنیا سے لڑتا رہتا ہے آخر پر اسے پتا چلتا ہے کہ دنیا میں دکھ تو ہیں لیکن اگر چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو وہ جمع کرتا رہے تو اس کے دکھوں کا مداوا ممکن ہے وہ ان غموں کی بجائے نئے سرے سے اپنی زندگی کو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھرتا جاۓ تو اس کی زندگی بہتر سے بہترین ہو جائے گی

  • جنسی زیادتی کا رجحان  تحریر:ثمرہ مصطفی

    جنسی زیادتی کا رجحان تحریر:ثمرہ مصطفی

    جنسی زیادتی کا رجحان پچھلی تہذیبوں میں بھی پایا جاتا تھا.بڑھتا ہوا جنسی زیادتی کا رجحان معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا جارہا ہے.جنسی زیادتی ایک چھپا ہوا (جرم )عمل ہے جس میں کسی کی مرضی کے بغیر اسکو چھونا یا کوٸی ایسا عمل کرنا جو اگلے کو ناگوار گزرے یا اس میں اسکی رضامندی شامل نہ ہو .جنسی زیادتی جسمانی یا غیرجسمانی دو طرح کی ہوسکتی ہے.جنسی زیادتی ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ کی جاتی ہے چاہے وہ بچہ ، جوان یا بوڑھا ہو.جنسی ذیادتی کسی شخص کہ یقین کو ٹھیس پہنچانا ہے.پھر وہ شخص ساری زندگی کسی پہ یقین نہیں کرسکتا ہر کسی کو ایک ہی نظر سے دیکھتاہے. اجکل جنسی زیادتی کا رجحان بڑھتاجا رہاہے.اور اسکی وجہ سوشل میڈیا کا استعمال،غربت،بیک گراٶنڈ،اسلام سے دوری اور بہت دوسری وجوہات ہیں .یہ مسٸلہ  نہ صرف ترقی پذیر ممالک میں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی پایا جاتا ہے .جنسی زیادتی کسی کی طرف سے بھی کی جاسکتی ہے چاہے وہ اپکا باپ یا بھاٸی ہی کیوں نہ ہوں اپ کو نہ صرف باہر والوں سے بلکہ اپنے گھر والوں (رشتہ داروں ) سے بھی احتیاط کرنی چاہٸے جیسا کہ ٹی وی ، نیوزپیپر میں آۓ دن دیکھایا جاتا ہے کہ باپ یا بھاٸی نے بیٹی ، بہن کے ساتھ زیادتی کی  .اسکی ایک یہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے جو لوگ اپنے بچوں کے ساتھ  ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں اور انکے بچے سمجھدار ہوں اور وہ لوگ انکے سامنے سیکس کریں تو اس سے انکے ذہن میں ایسے خیال آتے ہیں جو انہیں غلط کام کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور دوسری بات زیادتی کیلے عورت کو قصور وار ٹہرایا جاتاہے کبھی اسکے کپڑوں ، کبھی اسکے گھر سے باہر نکل کرکام کرنے کو . کون عورت ہوگی جو چاہے گی اسکی عزت داغ دار ہو . ظلم بھی عورت کے ساتھ ہوتا ہے اور قصور وار بھی اسے ٹہرایا جاتا ہے کیا کوٸی عورت چاہتی ہے کہ اسکی عزت کو پامال کیا جاۓ تو پھر عورت کو کیوں قصور وار ٹھرایا جاتا ہے .مرد ہمیشہ سے خود کو حاکم سمجھتا ایا ہے اور عورت کو کمتر سجمھ کر اپنے پیروں کی جوتی سمجھتا رہا ہے .شاید مرد عورت کی ترقی سے جل کر بھی انکو اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں .جبکہ اسلام نے مرد کو بھی نظریں جھکانے کا حکم دیا ہے .سورت النور کی ایات نمبر٣٠ میں اللہ پاک کا فرمان ہے ”مسلمان مردوں سے کہہ دیجٸے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں“
    @__fake_world __