Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

    گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

    گداگری یعنی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا، ان سے مالی معاونت طلب کرنا ایک انتہائی ناپسندیدہ اور گھناؤنا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جہاں حقیقی مستحق، اپاہج اور معذور لوگوں کی مدد کا درس دیتا ہے وہیں بلا وجہ گداگری کو ایک برا معاشرتی فعل کہہ کر سخت ممانعت بھی کرتا ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بلا وجہ مانگنے والے کو وعید سنائی ہے کہ وہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اس حال میں الله سے ملے گا کہ اس کے چہرے پہ گوشت کا ایک ٹکرا بھی نہ ہوگا۔
    "عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔
    (صحیح بخاری۱۴۲۹)”

    "رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس کو بیچے اور الله اس کے ذریعے اس کی آبرو بچائے رکھے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے کہ وہ دیں یا نہ دیں۔
    (مسند أحمد، رقم: ۱۷۱۱۵)”
    اسلام نے مانگنے سے منع کر کے رزقِ حلال کمانے پر ابھارا ہے اور اپنے ہاتھ سے کمانے کی فضیلت بھی بتائی ہے۔
    بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات پر عمل سے قاصر ہے۔ گدا گری جتنی خطرناک بیماری ہے اتنی ہی تیزی سے یہ معاشرے میں سرائیت کرتی جارہی ہے۔ گداگری کو لوگ باقاعدہ پیشہ اپنا رہے ہیں۔ اور پسِ پردہ پورا ایک نیٹ ورک کام کررہا ہے جو اس گھناؤنا فعل انجام دینے والوں کو سہولیات مہیا کررہا ہے۔ اس لت میں مبتلا افراد معاشرے کے تمام چھوٹے، بڑے شہروں، گاؤں قصبوں، ہسپتالوں، دفاتر، اداروں، شاہراؤں، ٹریفک سگنلز، اور تمام چوراہوں پر موجود پائے جاتے ہیں۔ جہاں انہیں ایک مافیا مقررہ جگہوں پر چھوڑ جاتا ہے اور پھر مقررہ وقت پر واپس لے جاتا ہے۔ اسکے علاوہ مافیا انہیں موبائل فونز وغیرہ کی سروسز بھی مہیا کر رہا ہے۔۔ اور اسطرح وہ باقاعدہ اپنی اس معاشرتی لعنت کو انجام دے رہے ہیں۔
    میرا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ میں یونیورسٹی جاتے ہوئے اور یونیورسٹی سے واپسی پر پانچ سے دس منٹ سٹاپ پہ ٹھہرتی ہوں اور ان دس منٹ میں میرا تین گداگروں سے لازمی واسطہ پڑتا ہے۔ اور اکثر مقررہ وقت پہ میں مقررہ گدا گروں کو دیکھتی ہوں۔ اور وہ ہمیشہ پیسے مانگتے ہیں اگر انہیں کوئی راشن وغیرہ یا کھانے کی چیز دیں تو اکثر وہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور اسطرح یہ مافیا کئی ہتھکنڈے استعمال کر کے ناجائز پیسہ بٹور رہا ہے۔
    گداگری جہاں بذاتِ خود ایک مرض ہے وہاں اپنے ساتھ دوسری بہت سے معاشرتی برائیوں کا سبب بھی ہے۔ گدا گروں کو جب پیسے نہ ملیں تو یہ مافیا گینگ مختلف جرائم میں ملوث ہوجاتا ہے۔ جیسے بچوں کے اغواہ اور منشیات فروشی وغیرہ۔ یہ گدا گر اکثر بچوں کو اغواہ کرتے ہیں۔ ان پر ظلم و ستم کر کے انہیں اس گندی لت گدا گری کی تربیت دیتے ہیں۔ بعض کو معذور بنا کر اس لعنت میں ملوث کرتے ہیں اور بعض کو معذوری کا ڈھونگ سکھا کر گداگری کرواتے ہیں۔ کچھ روز قبل میرے ایک جاننے والوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ایک گداگر جو مسلسل تین دن سے ان کی گلی میں مقررہ وقت پہ آتا تھا ان کے آٹھ سالہ معصوم بچے کو اغواہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور پھر جھٹ سے منظرِ عام سے غائب ہوگیا۔ اور اسطرح کے بہت سے واقعات ہمارے معاشرے کا روگ بنے ہوئے ہیں۔
    یہ مافیا معاشرے کے حقیقی ضرورت مند مستحق طبقے کا مجرم بھی ہے کہ ان کی وجہ سے ان مستحق افراد کو بھی انکا حق نہیں مل پاتا۔ لوگ انہیں بھی گداگر سمجھتے ہیں۔ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں منفی نظریات قائم کر لیتے ہیں۔
    اس گھناؤنے فعل کو فوراً جڑ سے اکھاڑنا تو ممکن نہیں۔ لیکن اگر ہم بطور قوم اپنے حصے کی جدوجہد کریں تو معاشرے سے اس لعنت کا کسی حد تک سدِباب کیا جا سکتا ہے۔ لہذا ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ اس ناسور سے وابستہ لوگوں کی کوئی مدد نہ کریں۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔ انکی حوصلہ شکنی کریں۔ اور اپنے صدقات وغیرہ حقیقی مستحق لوگوں تک پہنچائیں۔ تاکہ وہ ہمارے کے لئے توشۂ آخرت بنیں۔
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • ہمارا پیارا پاکستان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    ہمارا پیارا پاکستان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    پاکستان صرف ایک مملکت ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک نعمت ہے ۔پاکستان اللہ کا احسان ہے ہمارے اوپر۔ مگر افسوس ہم اس نعمت کی قدر کرنے سے گریزاں ہیں۔
    پاکستان یونہی بیٹھے بیٹھے معرض وجود میں نہیں آگیا تھا اس کے لیے ہمارے آباواجداد نے بے پناہ قربانیاں دیں ۔ماٶں نے اپنے دودھ پیتے بچوں کے گلے دبا دیے کہ کہیں ان کے رونے کی آواز سن کر دشمن حملہ آور نہ ہو جاۓ قافلے والوں پر عورتوں نے عصمت دری سے بچنے کے لیے نہروں میں چھلانگیں لگا دیں۔ انہوں نے اپنا گھر اپنی زمینیں سب چھوڑ دیا جوانوں کو ذبح کر دیا گیا تب جا کر پاکستان وجود میں آیا مگر ہم نے اپنے بڑوں کی تمام تر قربانیوں کو فراموش کر دیا۔
    محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا : وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے ۔ اور ایک اور جگہ ہجرت کے وقت فرمایا کہ اے مکہ اگر تیرے بیٹے مجھے نہ نکالتے تو میں کبھی تجھے نہ چھوڑتا۔مگر ان احادیث کو پڑھنے کے بعد بھی اپنے وطن سے حقیقی معنوں میں محبت نہ کر سکے۔ ہم میں سے کوٸ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ ہم یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دیتے کہ دوسرے بھی تو ایسا کر رے تو ہم ہی کیوں سوچیں ۔ ہم یہ بات نہیں سمجھتے کہ ہمارا ملک ہمارا گھر ہے اور گھر کا خیال رکھنا تو سب کا فرض اور ذمہ داری ہوتی اور اگر گھر کا کوٸ ایک فرد لاپرواہ ہو تو گھر دوسرے مل کر گھر کی دیکھ بھال کرتے اس کی حفاظت کرتے بلکل اسی طرح ہمیں اپنے پیارے وطن کا بھی مل جل کر خیال رکھنا ہے اسکی فلاح و بہبود کے لیے محنت کرنی ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں یہ تو حکومت کا کام ہے وہ اسکی صفاٸی کا خیال رکھیں وہ اس کی ترقی کے بارے میں سوچیں ۔ یہ خیال بلکل غلط ہے پاکستان ہم سب کا ہے ہم سب کو انفرادی طور پر اسکی فلاح وترقی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا
    جب بچہ گھر میں کچرا پھینکتا تو ماں اسے ڈانٹتی ہے کہ تم نے کچرا پھیلا دیا گھر گندا کر دیا مگر مجھے تعجب ہوتا وہی بچہ جب کسی پبلک پلیس پہ کوڑا پھینکتے تو والدین کچھ نہیں کہتے اگر ہم سب کو یہ بات سمجھ آجاۓ اس ملک کا ہر حصہ ہمارا گھر ہے اس لیے مہربانی کر کے نٸ نسل کو ترغیب دیں کیونکہ بچے وہی کرتے جو وہ اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے
    : باہر کے ملک اگر آپ چلے جاٸیں تو آپ وہاں کا ایک پتہ نہیں توڑتے ایک کاغذ تک زمین پہ نہیں پھینکتے کہ آپ کو جرمانہ ہو گا اور یہاں آکر تعریفوں کے پل باندھ دیتے اور اپنے ملک میں اپنے گھرکا کوڑا سڑک پر پھینک دیتے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے اور پھر اپنے ہی ملک کی براٸیاں کرتے کہ یہاں فلاں فلاں مسٸلے ہیں درحقیقت ان مسٸلوں کی وجہ کہیں نہ کہیں ہمارا غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی رویہ بھی ہوتا اور پھر ہم کہہ رے ہوتے کہ فلاں ملک تو بہت صاف ہے وہاں کے لوگ تو قانون کا بہت احترام کرتے وغیرہ وغیرہ سیاستدان کہتے عوام نہیں سمجھتی اور عوام کہتی کہ سیاستدان اپنا کام نہیں کر رہے غرض کوٸی بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ مہربانی کر کہ تیرے میرے کا راگ الاپنا چھوڑ دیں پاکستان ہم سب کا ہے اسکی تعمیر و ترقی ہم سب کا فرض و ذمہ داری ہے۔
    جن سے محبت ہوتی نہ ان میں نقص نہیں نکالے جاتے بلکہ انکی بہتری کی خاطر محنت کی جاتی اسلیے پاکستان سے شکوے کرنے کی بجاۓ اسکی بہتری کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان نے تو آپکو مذہب کی کلچر کی آزادی دی آپکو ایک پہچان دی مگر آپ نے اسے کیا دیا کچھ بھی نہیں الٹا آپکی لاپرواہیوں کی وجہ سے پاکستان مساٸل کا شکار ہوا ۔ ہمارے بڑوں نے بہت مشکلات و مصاٸب کے بعد اسے حاصل کیا خدارا اسکی قدر کریں اور اگر واقع ہی آپکو اس سے محبت ہے تو اسکا خیال ویسے ہی رکھیں جیسے آپ اپنے گھر کا رکھتے ہیں۔ ملک پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب اس گھر کے فرد ہیں لہذا ہمیں مل جل کر اپنے پیارے گھر پاکستان کی تعمیرو ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے

    @b786_s

  • 18 ترمیم اور مسائل تحریر: مریم صدیقہ

    18 ترمیم اور مسائل تحریر: مریم صدیقہ

    ہر کچھ عرصے بعد ملک میں 18 ترمیم کا شور زوروں پہ سنائی دیتا ہے ۔8 اپریل 2010 پیپلز پارٹی کےدور حکومت میں پاکستان کے آئین کی 102 شقوں میں کچھ نمایاں ردوبدل کر کے ترامیم قومی اسمبلی سے منظور کرا لی گئی۔مگر کوئی سیاسی جماعت اس میں مزید ردوبدل کرنے کا عندیہ دیتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف کسی کو اس میں تبدیلی سے صوبوں کی خودمختاری خطرے میں لگنے لگتی ہے۔آخر یہ 18 ترمیم پاکستان کے حق میں ہے بھی یا نہیں چلیں آئیں آج اس پہ نظر ڈالتے ہیں۔
    18 ترمیم میں دراصل ہے کیا؟
    بظاہر تو یہ ترمیم، صوبائی خودمختاری، پارلیمان کی مضبوطی اور نچلے لیول پر اختیارات کومنتقل کرنے کے لیے کی گئی تھی جس سے میثاق جمہوریت کی مثال، ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے، قائم کرنے کی کوشش بھی ہوئی ۔ ان میں سے چند ترامیم یہ ہیں کہ اٹھارویں آئینی ترامیم کے تحت صدر سے ہنگامی صورتِ حال کے نفاذ کا اختیار لے کر پارلیمان کو دیا گیا۔ آئین کو توڑنے اور معطل کرنے کو بھی سنگین غداری قرار اور اسے ناقابلِ معافی جرم قرار دیا گیا۔ صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے آئین کے کئی آرٹیکلز کو بدل دیا گیا۔اور پاکستان کے شمال مغربی صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبر پختونخوا رکھ دیاگیا۔وفاق سےاختیارات لے کے صوبوں کو زیادہ خود مختار بنا یا۔ وزرائے اعلیٰ اور وزیرِ اعظم کے تیسری مرتبہ منتخب ہونے پر جو پابندی تھی اسے ختم کر دیا۔ صوبوں کو تعزیرات اور فوجداری کے قوانین میں ترمیم کا اختیار دیا گیا۔ فوجی سربراہان کی تقرری میں وزیرِ اعظم کی مشاورت لازمی قرار دی گئی۔ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم ضروری اور اس کی مفت فراہمی کی ذمہ داری ریاست پر عائد کی گئی۔
    کیا 18 ترمیم وفاق کے رستے کا پتھر؟
    دیکھا جائے تو تین سیاسی جماعتیں جن کا اس ترمیم کی منظوری میں اہم کردار تھا ، تینوں نے اپنے اپنے سیاسی مفادات کو خاصا ملحوظ خاطر رکھا۔سب سے پیپلز پاڑٹی، جن کا سندھ گڑھ ہے اور ان سے زیادہ کسی کے لیے بھی صوبوں کو اختیارات کی منتقلی اتنی اہم نہیں ہو سکتی۔ پھر آتے ہیں نواز شریف ، ن لیگ کے قائد ، جو کہ تیسری بار وزیراعظم بننے کے خواہش مند تھے انہوں نے اس لیے ترمیم میں اپنا پھر پور کردار ادا کیا۔ اور آخر اے –این –پی نے اپنا ووٹ بنک بچانے کے لیے اپنے وٹرز کے کیا وعدہ وفا کیا اور صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے پختونخوا رکھ دیا گیا۔ پر اس سب میں پاکستان کہاں رہ گیا تینوں میں سے کسی نے دھیان نہ دیا۔یہ ترمیم کہاں کہاں وفاق کو کمزور کررہی ہے اس پر بات کرتے ہیں:
    – اس میں تمام تر کی جانے والی ترامیم وفاق کو سرے سے کمزور کرتی دیکھائی دیتی ہیں۔جیسا کہ صوبوں کے پاس اب مالی وسائل میں 47اشاریہ 5 فیصد کا شیئر ہے جبکہ وفاق کے پاس 42اشاریہ5 فیصد رہ گیا۔وسائل میں سے زیادہ پر حصہ صوبوں کے پاس مگر بیرونی قرضوں کا تمام تر بوجھ وفاق پر۔ ان بگڑتے معاشی حالات کے ساتھ ترمیم میں شامل یہ بات کہ کسی این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا شیئر پچھلے سال کے شیئر سے کم نہیں ہو گا ایک الگ مسئلہ ہے۔ وفاق کہاں سے دے گا یہ؟یہ قرض کیسے اتار پائے گا ؟ اب آپ ہی بتائیں دنیا میں کون سا ملک ایسے چلتا ہے؟کہاں وفاق کو اتنا کمزور کر دیا جاتا ہے؟ صوبوں کے پاس اس طرح کے اختیارات سےکیا کرپشن میں مزید اضافہ نہیں ہوگا؟
    – وفاق کے پاس دیگر اخراجات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قرضوں کی واپسی کا بھی بوجھ ہوتا ہے اور جب تعلیم اور صحت کے بے شمار اختیارات صوبوں کو دے دیے گئے ہیں تو وفاق کے اعتراضات تو بنتے ہیں۔ پھر جس طرح صوبے ان شعبوں میں اپنا فرض نبھا رہے ہیں اس کا اندازہ ہمیں سندھ کے حالات دیکھ کے بخوبی ہوجاتا ہے۔صوبوں کوبراہ راست غیر ملکی قرضے لینے کا اختیا ر بھی ان ترامیم کے ذریعے دے دیا گیا ۔ کیا اس سے ملک کی معیشت اور وفاق مزید کمزور نظر نہیں آتی؟
    – اب جی ایس ٹی کی طرف بھی نظر کر لیتے ۔ پاکستان کا سب سے زیادہ رونیو جینڑیٹ کرنے والا صوبہ سندھ ہے اب جب یہ جی ایس ٹی بھی صوبوں کے پاس جائے گی ملک کے وہ صوبے جہاں اتنا جینڑیٹ نہیں کیا جاتا وہ کہاں جائیں گے؟ کیا وفاق اس معاملے کو زیادہ پہتر انداز میں ڈیل نہیں کر سکتی تھی؟
    – وفاق اور صوبوں کے درمیان موجود کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ کر کے مرکز کے دائرۂ کار میں آنے والے کئی قانونی اختیارات صوبوں کو منتقل کیا گئے۔ اس سے صوبوں کے درمیان نئی لڑائی نے جنم لیا کہ آئی جی لگانے کا اختیار آخر ہے کس کے پاس ،وفاق یا صوبوں کے پاس ۔
    یہ تو بہت مختصرا تجزیہ دیا گیا اگر مزید گہرائی میں جائیں تو ناجانے کتنے صفحے بھر جائیں مگرحالات کو بہتر بنانے کے لیے اب ایک ہی حل دیکھائی دیتا ہے کہ اس اٹھارویں ترمیم کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس میں ہوئی ہر آئینی ترمیم کو بدلا جائےلیکن جہاں مزید ترمیم کی ضرورت ہے اس پہ بحث لازمی ہے کیوں کہ وہ ملک کی ترقی کی راہ میں پتھر کا کردار ادا کررہی ہیں۔مگر جب بھی اس میں بدلاو لانے کی بات کی جاتی ہے تو سب سے زیادہ شور پیپلز پارٹی کی طرف سے اٹھتا ہے لیکن شاید وہ بھٹوجن کے دورمیں آئین بنا ،ان کی وہ سات ترامیم بھول جاتے ہیں جو خاصی ملک دشمن بھی تھیں خیر بات موضوع سے ہٹ جائے گی مگر آخر میں بس اتنا ہی کہوں گی کہ جب بات ملک کے فائدے یا نقصان کی ہو تو ہر سیاسی فائدہ بھول کر ملک کے فائدے کے لیے کھڑے ہونا چاہیے کیوں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان زندہ باد!

    @MS_14_1

  • یک سوئی کی اہمیت   تحریر:حُسنِ قدرت

    یک سوئی کی اہمیت تحریر:حُسنِ قدرت

    یک سوئی یعنی توجہ ہماری جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کے لیے ضروری ہے یک سوئی دماغ کی قوت بڑھاتی ہے جب ایک انسان خود کو دماغی طور پہ مضبوط کر لیتا ہے تو وہ اردگرد کے شور شرابے اور ہنگامے سے آسانی سے متاثر نہیں ہوتا ۔ توجہ اور یک سوئی بڑھانے کے لیے ضروری ہی کہ ہم جو بھی کام کریں اسی پوری توجہ سے کریں یعنی اس میں جذب ہوکر کریں یہ جذب وہ ہے جسے اکثر و اوقات ہم لوگ جذباتیت کہتے ہیں جدید تحقیقات کے بعد اس کا نام تبدیل ہو چکا ہے اور اسے مائنڈفلنس کے نام سے پڑھایا اور سکھایا جا رہا ہے اس جذب کے بنیادی عناصر خلوص اور جنون ہیں جنکی بنیاد پہ آپ زندگی کی کوئی بھی کٹھن منزل بلا خطر طے کر سکتے ہیں
    جب ہم کام کرنے کے لئے مخلص ہوتے ہیں تو ہم اس میں اتنا ہی جذب ہو جاتے ہیں اس سلسلے میں ایک واقعہ بہت مشہور ہے جو کہ مشہور سائنسدان آئن سٹائن سے مشہور ہے اس نے پانے گھر دوستوں کو دعوت دی مگر عین دعوت کے وقت اسے ایک سائنسی مسئلہ یاد آگیا اور وہ اس مسئلے کو حل کرنے میں اس طرح توجہ سے اسں پہ کام کرنے میں لگا کہ اسے مہمانوں کی خاطر تواضع کرنے کا خیال ہی نہ رہا اور نہ خود کھانے کا احساس رہا اس کے دوست کھانے کھا کر چلے گئے تو اسکی بیوی نے تمام برتن اٹھا لیے رات کے کسی پہر جب آئنسٹائن کی نظر کھانے کی خالی میز پر پڑی تو اس نے میز دیکھ کر کہا اوہو ! میں تو سمجھ رہا تھا میں نے رات کو کھانا ہی نہیں کھایا ہے میں کتنا بھلکڑ ہوں کھانا کھا کر بھی بھول گیا
    اب ہم یک سوئی کے فوائد اور اسکے حصول کے طریقے پہ بات کرتے ہیں
    یک سوئی یہ ہے کہ آپ جس وقت جو کام کر رہے ہیں اس کے سوا باقی تمام کاموں سے آپکا تعلق بالکل ٹوٹ جائے ۔ خود کو کسی کام میں اس قدر محو کر لینا کام کو معیار کے ساتھ جلد مکمل کرنے کا موثر ترین ذریعہ ہے اور یک سوئی شعوری نہیں ہوتی یہ بات بہت ضروری ہے کہ ہمیں اپنے دلچسپی کے کاموں میں شعوری طور پر یک سوئی پیدا کرنی چاہیے اس سے ہمیں ایک فائدہ یہ ہوگا کہ جب ہم کوئی ایسا کام کریں گی جو ہمارے لیے دلچسپی کا باعث نہیں ہے تو ہم اسے بھی یکسوئی سے کر سکیں گے
    بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس بہت سارے کام جمع ہوجاتے ہیں اگر ایسا ہو جائے تو ملٹی ٹاسکنگ یعنی ایک ساتھ بہت سارے کام کرنے کے بجائے ایک وقت میں ایک کام کریں اور اپنے تمام کاموں کی فہرست بنالیں کہ ان میں سے اہم کام کون سا ہے اور پہلے کسے کرنا چاہیے اسکے بعد لسٹ پہ عمل کرتے ہوئے آپ اپنے کام آسانی سے کر سکتے ہیں
    یک سوئی ایک بے نیازی کی کیفیت ہے یعنی آپ ایک کام کرتے ہوئے اس میں اس قدر غرق ہو جاتے ہیں کہ آپ کو اپنے گردو نواح کا ہوش تک نہیں ہوتا ہے
    پوموڈ ورو ٹیکنیک بھی یکسوئی حاصل کرنے کا موثر ترین ذریعہ ہے ۔ اس ٹیکنیک میں بڑے کاموں کو وقت کے مختلف حصوں میں تقسیم کرکے جو کام کیا جاتا ہے تو وہ معیاری ہوتا ہے اور جلدی بھی ہوتا ہے اینڈرائڈ پلے سٹور پر اب اس نام سے ایپس بھی موجود ہیں جنھیں آپ اپنے اسمارٹ فون پر انسٹال کرکے اس اوزار سے مستفید ہو سکتے ہیں
    اگر ہم خوشی اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم ہر کام یک سوئی سے کریں
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • پانی کی قلت کیا ہے؟ تحریر:بختاورگیلانی

    پانی کی قلت کیا ہے؟ تحریر:بختاورگیلانی

    مقامی سطح پر اور عالمی سطح پر پانی کی قلت کی شدت پر زور دینے کے لئے ، عوام کو اس حیران کن اعدادوشمار سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔  پوری دنیا میں ہر براعظم متاثر ہوتا ہے ، نہ صرف وہی خطے جو روایتی طور پر خشک ہیں۔  سال کے کم از کم ایک ماہ تک کم سے کم دو ارب افراد متاثر ہوتے ہیں۔  اور 1 بلین سے زیادہ افراد کو پینے کے صاف پانی یا پینے کے پانی تک رسائی نہیں ہے۔  یہاں ایک توسیع دی جارہی ہے کہ پانی کی قلت کیا ہے اور اس کے بغیر ہونے کا کیا مطلب ہے۔

    موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ضروری وسائل کی کمی ہے
    پانی کی قلت کو پانی کی قلت ، پانی کے تناؤ ، پانی کے بحران کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
    وسائل کی کمی کے علاوہ ، میٹھے پانی تک رسائی حاصل کرنے میں بھی دشواری ہے

    وسائل کی کمی اور پانی تک رسائی کی وجہ سے ، موجودہ وسائل میں مزید خرابی واقع ہوتی ہے

    خشک موسم کی صورتحال کی وجہ سے ، اور  کمی واقع ہوتی ہے

    خاص طور پر ، پانی کی قلت ان علاقوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو موجودہ غیر آباد پانی اس کی طلب سے کہیں کم ہے
    سب صحارا افریقہ جیسی جگہوں پر صاف پانی لوگوں کے لئے عیش و آرام کی طرح بن گیا ہے۔  زیادہ تر لوگ سارا دن اس کی تلاش میں گزارتے ہیں ، جو ان کی صلاحیت کو کچھ دوسری چیزوں میں ہاتھ کرنے کی کوشش کو محدود کردیتا ہے۔  سال 2025 تک ، صورتحال اس وقت مزید خراب ہوسکتی ہے جب دنیا کی دوتہائی آبادی کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
    ہم سب جانتے ہیں کہ زمین کا تقریبا 70 70٪ حصہ پانی سے ڈوبا ہوا ہے۔  اس پانی کا صرف 2.5-3٪ ہی تازہ ہے۔  باقی پانی نمکین اور سمندر پر مبنی ہے۔  اس 3 فیصد میٹھے پانی میں سے ، اس میں سے دو تہائی گلیشیرز اور اسنوفیلڈز میں پھنس گیا ہے اور ہمارے استعمال کے لئے دستیاب نہیں ہے۔  اس میٹھے پانی کا باقی ایک تہائی حصہ انسانی استعمال اور اس سیارے پر پوری آبادی کو کھانا کھلانے کے لئے دستیاب ہے۔  اس کے نتیجے میں ، میٹھے پانی – پانی ہم پیتے ہیں ، نہانا نایاب ہے اور کرہ ارض کے تمام پانی کا ایک چھوٹا سا حصہ بنا دیتا ہے۔
    اس وقت تک پانی کی قلت کے عالمی مسئلے کو اجاگر کرنے اور اس پر بار بار زور دینے کی ضرورت ہے جب تک کہ ہر کوئی اس سے بخوبی واقف ہو اور ذمہ داری کے ساتھ پانی کی بچت کے لئے اپنا کردار ادا کرے ،

  • کچھ نے کہا چاند اسے کچھ نے تیرا چہرہ  تحریر :  وسیم اکرم

    کچھ نے کہا چاند اسے کچھ نے تیرا چہرہ تحریر : وسیم اکرم

    ہم سے تقریباً تین لاکھ چوراسی ہزار چار سو دو کلو میٹر دور موجود ایک آسمانی جسم جسے ہم چاند کہتے ہیں اتنا قریب ہے کہ تین سے چار دن میں ہم سپیس کرافٹ کے ذریعے پہنچ سکتے ہیں اور اتنا دور کہ ہم چاند اور زمین کے فاصلے کے درمیان تیس زمینیں رکھ سکتے ہیں۔۔۔

    یہ وہ گول پتھر ہے جو لاکھوں سال سے انسانوں کا حسین ترین تصور ہے اور ہمارے پچپن میں یہاں بڑھیا چرخا کاٹا کرتی تھی اور آج بھی ہر انسان اپنی محبوبہ کی خوبصورتی کو چاند سے ہی تشبیہ دیتا ہے لیکن بیس جولائی انیس سو انہتر کو جب نیل آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرن نے چاند پر قدم رکھا تو انہیں کوئی بڑھیا نظر آئی نہ ہی چاند اپنی محبوبہ جیسا خوبصورت نظر آیا۔۔۔

    اس کے بعد بھی جتنے مشن چاند پر گئے انہیں کوئی بڑھیا نہیں ملی اور یوں سائنس نے ہم سے ہمارا خوبصورت بچپن ہمیشہ کیلئے چھین لیا۔ آج بھی دنیا کے کونے کونے میں چاند سے متعلق مختلف کہانیاں مشہور ہیں اور ہر انسان کو اپنی مرضی کا چہرہ بھی چاند میں نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں یہ چاند پر پھیلا ہوا لاوا اور راکھ ہے۔۔۔

    اکاون سال پہلے آرمسٹرانگ کی ٹیم اپنے ساتھ جمے ہوئے سرد لاوے کے کچھ ٹکرے زمین پر لائی تھی جس پر تحقیق سے پتہ چلا تھا کہ تین سے ساڑھے تین ارب سال پہلے چاند پر بےشمار آتش فشاں پٹھے تھے جنکا لاوا ہزاروں میل تک پھیل گیا تھا اور یہ جما ہوا لاوا زمین سے دھبوں کی شکل میں نظر آتا ہے۔۔۔

    چاند پر موجود راکھ پر جب سورچ کی روشنی پڑتی ہے تو یہ چمک اٹھتی ہے اور ہر طرف چاندنی پھیل جاتی ہے۔ نیل آرمسٹرانگ نے جب نصف صدی پہلے چاند پر پہلا قدم رکھا تھا تو اس قدم کے نشاں آج بھی اس راکھ میں نقش ہیں جیسے ابھی کی بات ہو کیونکہ چاند پر ہوا، بادل یا بارش بلکل نہیں ہوتی کیونکہ وہاں چاند کے گرد ہماری زمیں کی طرح گیسوں کا غبارہ نہیں ہوتا۔۔۔

    چاند کا اپنا کوئی اٹماسفیئر نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ چاند پر انسانوں کے قدموں کے نشان لاکھوں، کروڑوں سال تک قائم رہیں گے لیکن ان قدموں کے نشان کے ساتھ ساتھ چاند پر ایک نام بھی نقش ہے۔ افسانوں میں بہت سے لوگ اپنی محبوبہ سے چاند تارے توڑ کے لانے کا وعدہ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ایک شخص نے اپنی بیٹی سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا نام چاند پر لکھ کر آؤں گا اور اس نے یہ وعدہ پورا بھی کیا۔۔۔

    چاند پر جانے والے آخری مشن اپالو سیونٹین کا کمانڈر یوجین سرنن تین دن چاند پر رہا اور واپسی کے دوران اس نے چاند پر اپنی بیٹی ٹریسی کا نام لکھا یہ اس کیلئے ایک اعزاز تھا لیکن اس اعزاز کے ساتھ اسے اس بات کا دکھ بھی تھا کہ وہ اس وقت تصویر نہ بنا سکا۔۔۔

    سچ بتائیے گا آپ میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کبھی غور کیا کہ ہم کتنے سالوں سے چاند کی ایک ہی سمت کیوں دیکھ رہے ہیں؟ چودھویں کا چاند بھی ہر بار ایک ہی جیسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند زمین پر گردش کرنے کے علاوہ اپنے محور کے گرد بھی گردش کرتا ہے لیکن زمین اور اپنے گرد ایک چکر پورا کرنے میں ایک جتنا ہی وقت لگاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک ہمیں چاند کی دوسری سمت نظر نہیں آئی اور اس عمل کو فیس لاک کہتے ہیں۔۔۔

    لیکن چین کا روبوٹنگ سسٹم اب چاند کی دوسری سمت بھی لینڈ کرچکا ہے اور دوسری سمت اس سمت سے بہت ہی پیاری اور چمکدار ہے یعنی اگر کوئی شاعر چاند کی دوسری سمت کو دیکھ لے تو وہ ہمیشہ اپنی محبوبہ کو چاند کی دوسری سمت سے تشبیہ دے گا۔۔۔

    @Waseemakrm_

  • ہمارا معاشرہ اور فری میڈیکل کیمپ  (  ہومیوپیتھیک  )   تحریر:   عائشہ عنایت الرحمان

    ہمارا معاشرہ اور فری میڈیکل کیمپ ( ہومیوپیتھیک ) تحریر: عائشہ عنایت الرحمان

    ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ میں ریڈیو سن رہی تھی اک پروگرام چل رہا تھا ھومیو پیتھک ڈاکٹرز کے بارے میں جس کے ختم ہونے پر دوسرے کا شروع ہوگیا پھر تیسرے چھوتھےکا، اور یہ سلسلہ تقریبا سارا دن چلتا رہا ۔اور یہ ڈاکٹرز صاحبان سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج دعوے سے کر رہے تھے کہ ٹھیک ہو جائیں گی چاہے وہ کینسر ہو چاہے وہ گردے کی پتھری ہو چاہے وہ کچھ بھی ہو بغیرآپریشن کے علاج کر رہے تھے۔ایک ڈاکٹر صاحب نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایک مریضہ صاحبہ کا آپریشن ہوا تھا اس کے پیٹ میں پٹی رہ گئ تھی اور ڈاکٹر صاحب دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ پٹی بغیر آپریشن کے علاج سے ختم ہوگئی۔

    ریڈیو پر وہ باقاعدہ اشتہار دے رہے تھے فری میڈیکل کیمپ کا کا۔

    ان کا باقاعدہ ایک خاص وقت مقرر ہوتا ہے جس میں مریضوں سے براہ راست انٹرویو لیا جاتا ہے تو کوئی کرونا سےٹھیک ہوا ہوتا ہے تو کوئی کینسر سے ٹھیک ہوا ہوتا ہے تو کوئی دیگر بیماریوں سے ۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک اور انہونی دعویٰ کے اگر میرے علاج سے آپ صحت یاب نہ ہوے تو اپنے علاج کے پیسے واپس لے سکتے ہیں۔

    مسلسل ایک ہفتہ اس پروگرام کو سننے کے بعد مجھ پر بھی اتنا اثر ہوا کہ میں نے بھی ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا فری میڈیکل کیمپ کے دن۔
    چونکہ میں گاؤں سے جا رہی تھی شہر تو میں نے چھ سات ہزار روپیہ ساتھ لیں کیوں کہ کچھ ضروری سامان بھی لانا تھا۔

    جب پہنچ گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک عالیشان بلڈنگ کھڑی تھی جو کہ ہمارے سادہ لوح عوام کی لوٹ کھسوٹ سے بنی ہوئی تھی گیٹ پر باقاعدہ بندوق تھامے گارڈ کھڑا تھا اندر بہت سارے مشٹنڈے پھر رہے تھے۔ زنان خانے میں جیسے ہی داخل ہوگئی تو اک نظر خواتین پر ڈالی، زیادہ تر خواتین قبائلی تھیں جو کہ پھٹے پرانے برقعوں میں بیٹھے ہوئے تھیں۔

    یہ وہ خواتین تھیں جو فری میڈیکل کیمپ کی لالچ میں میری طرح آپہنچے تھیں۔
    جیسے ہی میں بیٹھ گئی ریڈیو کا نمائندہ بھی پہنچ گیا ایک ایک سے انٹرویو لینے لگا کہ آپ کو کیا بیماری ہے اور آپ کب سے ڈاکٹر صاحب سے علاج کر رہی ہیں لیکن سب خواتین نے یہی جواب دیا کہ ہم پہلی دفعہ آئی ہیں اور ریڈیو پر ہم نے ڈاکٹر صاحب کی بہت تعریف سنی ہیں اس لئے ہم آئے ہیں ۔ میں نے بھی یہی جواب دیا کہ میں تو پہلی دفعہ آئی ہو۔ لیکن ڈاکٹر صاحب جو ریڈیو پر انٹرویو لیتے تھے تو وہ تو کہتے تھے کہ ہمیں فلاں فلاں بیماری ہے اور ہم ٹھیک ہوگئے ہیں اور سال دو سال سے علاج کر رہے ہیں لیکن یہ تو سب پہلی دفعہ ہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب جھوٹ موٹ کا انٹرویو تھے ۔ جو میرے سامنے انٹرویو ریڈیو کے نمائندے نے لئے تو وہ نمائندہ جلدی جلدی باہر نکلا اور وہ انٹرویو میں ریکارڈ نہیں کیے۔

    میں وہاں بیٹھ کر ان غریب عورتوں کی حال پر سوچتی رہی اور افسوس کرتی رہی۔ جب لیڈی ڈاکٹر نے مجھے بلایا جیسے ہی میں اندر داخل ہو گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کالی کلوٹی نیلگوں مائل خاتون کرسی پر تشریف فرما تھی جس نے رنگ گورا کرنے کی کریم بھی ایجاد کی ہوئی ہے اور ہر بڑے سٹور پر دستیاب ہے لیکن خود اپنا رنگ گورا نہ کر سکی۔

    خیرجب ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا اور ٹیسٹ کروائیں، وہ ٹیسٹ باہر پر پر سات سو 700 کے ہو جاتے ہیں لیکن ان کے فری میڈیکل کیمپ میں پندرہ سو 1500 کے ہوگئے اور دوائی انہوں نے دی پانچ ہزار 5000 کی۔ میرے پاس جانے کا کرایہ بھی باقی نہ رہا، نہ صرف میں بلکہ کہ ہر کسی سے پانچ ہزار اور چھ ہزار کا مطالبہ ہو رہا تھا ۔

    میں نے ایک چھوٹا سا احتجاج شروع کیا کہ یہ پیسے کم کر دیے جائے لیکن بے سود۔ آخر کار غصے میں آکر وہ دوائی لے لی اور سیدھے ڈاکٹر روم میں چلی گئی میں نے غصے سے دوائی کی شاپرکو ہوا میں لہرایا میں نے کہا کہ جی یہ فری میڈیکل کیمپ ہے اور یہ دوائی آپ نے 5000 کی دی ہوئی ہے، جس کی ہر ڈبے پر قیمت لکھی ہوئی ہے جو کہ ڈیڑھ سو ڈھائی سو اور ایک سو ستر سے زیادہ نہیں تھی جو بے شمار دوائیاں ملا کر سب کی قیمت دوہزار تک نہیں بنتی تھی۔

    میں نے آواز اٹھائی کہ یہ کہاں کا انصاف ہے یہ فری میڈیکل کیمپ کے نام پر ہم سادہ اور غریب عوام کو کو لوٹا جا رہا ہے ڈاکٹر صاحبہ میرے رویے سے ذرا گھبرا گئی اور جلدی سے مجھے 500 روپے واپس کر دیے اور کہا کہ بی بی ناراض نہ ہو اس سے گھر چلے جانا ۔

    مجھے بہت افسوس ہوا کہ یہ ہمارے معاشرے کے نام نہاد ڈاکٹرز ہے، یہ ڈاکٹر نہیں بلکہ ڈاکو ہے جو کہ مسیحائی کے نام پر قصائی بنے ہوئے ہیں ۔ یہ ظالم ہمارے غریب عوام کو فری میڈیکل کیمپ کے نام پر بے وقوف بنا رہے ہیں۔

    یہ ہمارے معاشرے کے نام نہاد ہومیوپیتھک ڈاکٹرز ہے۔ ہمیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آنا چاہیے ۔ یہ ریڈیو پر جتنے بھی اشتہار چل رہے ہوتے ہیں یہ سارے جھوٹ موٹ کےہوتے ہیں ۔ ہمیں ان سے بچنا چاہیے۔
    ان کی روک تھام ہمارے وزیر اعظم اور ہمارے پولیس کا کام نہیں ہیں بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم خود سمجھ بوجھ سے کام لے اور اس طرح کے اشتہاری ڈاکٹرز کے پاس نہ جائے تو یہ خود ہی ناکام ہو جائیں گے۔

    آئیے ہم اپنی پیارے پاکستان کو اس ناسور سے پاک کرے۔
    @koi_hmmsa_nhe

  • معصوم بچے،، مسکراتی کلیاں،، جنت کے پھول،، گھر کی رونق تحریر: کائنات عزیز راجہ

    معصوم بچے،، مسکراتی کلیاں،، جنت کے پھول،، گھر کی رونق تحریر: کائنات عزیز راجہ

    معصوم بچے،، مسکراتی کلیاں،، جنت کے پھول،، گھر کی رونق ۔۔۔ جو کہیں ان کو۔
    ان کی تربیت والدین پر فرض ہے۔
    تربیت میں بول چال ، اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا، نماز روزہ سب شامل ہے۔
    بچہ ایک خالی پیپر ہوتا ہے اس پہ جو اس کے والدین لکھتے ہیں وہی پختہ ہو جاتا ہے ۔ اگر ماں باپ آپس میں ناشائستہ الفاظ استعمال کرتے ہیں تو بچہ بھی وہی سیکھے گا ۔ اگر ماں باپ آپس میں اتفاق پیار محبت سے رہتے ہیں تو بچہ بھی ایسا ہی ہو گا نیز یہ کہ بچوں پر سب سے زیادہ اثر ان کے والدین کا پڑتا ہے ۔ اسکے بعد ماحول کا اس کے بعد اس کے دوستوں کا۔
    یہ بات بھی تربیت میں شامل ہے کہ والدین بچے کی صحبت پر نظر رکھیں ۔ وہ کیسے دوستوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے اسکے دوستوں کا طرزِ زندگی کیسا ہے۔
    اسکے بعد آجاتا ہے بچے کی تعلیم : تو والدین کا یہ بھی فرض ہے کہ اپنے بچے کو دین کی تعلیم دیں ۔ دینی مدارس میں نیک لوگوں کی صحبت میں رکھیں تاکہ ان کے اثرات بچے پر پڑھیں ۔ بچوں کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات سنائیں اور ان کو یہ بات بتائیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس دین کو حاصل کرنے کے لیے کتنی مشقتیں اٹھائی اس سے بچے میں شوق و جذبہ پیدا ہوگا
    اپنے بچوں کو نماز کا عادی بنائیں تاکہ آپ پر کوئی وبال نہ ہو۔
    غور کیجئے: جس بچے کو آپ صبح ٥ بجے نماز کے لئے نہیں اٹھا رہے اسی بچے کو چھ بجے سکول کے لئے زبردستی جگا رہے ہیں۔
    صبح بچے کی نیند خراب ہوتی ہے اسے نہیں جگایا جاتا۔ ظہر میں وہ تھکا ہوا ہوتا ہے اس لیے نماز کا نہیں کہا جاتا۔ پھر عصر میں وہ اکیڈمی ہوتا ہے اس لئے نماز رہ جاتی ہے۔ مغرب میں وہ اکیڈمی سے واپس آتا ہے پھر سکول کا کام کرنا ہوتا ہے اور عشاء میں دن بھر کا تھکا ہوا بچہ سو جاتا ہے””
    یہ سب والدین کی زمہ داری ہے کہ وہ بچے کو سکھائیں۔
    ایسی مائیں ہوتی تھی جو اپنے بچوں کو کہتی تھی بیٹاکبھی جھوٹ نہیں بولنا ۔ بیٹا تم نے آگے دین کا کام کرنا ہے۔ بیٹا اپنی حاجتیں صرف اپنے مولا سے کہنا ۔ بیٹا اللہ نے تمہیں اپنے لئے پیدا کیا ہے۔۔۔
    ایسی عظیم مائیں ہوا کرتی تھی۔۔ آج اگر ہماری نسل خراب ہو رہی ہے تو اس کی وجہ بھی مائیں ہیں۔ کیونکہ انھوں نے اپنے بچوں کو زندگی کا اصل مقصد بتانا چھوڑ دیا ۔
    پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ماں اگر پرہیزگار تقوی والی ہو گی تو اولاد بھی نیک صالح ہوگی۔
    اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیں اور حفظ قرآن کی فضیلت خود بھی معلوم کریں کہ حافظ قرآن کے والدین کو قیامت کے دن ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے زیادہ ہو گی اور بچوں کو بھی بتائیں کہ حافظ قرآن کو قیامت کے روز کہا جائے گا قرآن پاک پڑھتا جا اور بہشت(جنت) کے درجوں پہ چڑھتا جا پس تیرا مقام وہی ہے جہاں آخری حرف پہ تو پہنچے۔
    ہمارے اکابرین میں تو ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جن کو تقریباً ساڑھے تین سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ تھا جب اس کا راز معلوم کیا گیا تو پتا چلا ماں جب بچے کو دودھ پلانے بیٹھتی تھی تو پہلے وضو کر کے قرآن لے کے بیٹھتی تھی اور دودھ پلاتے ساتھ تلاوت کیا کرتی تھی جس کی برکت سے بچے کو قرآن پاک حفظ ہو گیا ۔ ایسی بھی مائیں تھی ۔۔
    آج ہماری نسل کی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب والدین ہیں۔ جس نسل کے والدین تبلے کی تھاپ پہ ناچتے ہوں اس نسل میں ناچنے والے اور گانے بجانے والے ہی پیدا ہوں گے
    مائیں عظیم ہوں تو پھر بیٹیاں بھی رابعہ بصری جیسی ہوا کرتی ہیں مائیں عظیم ہوں تو پھر بیٹے بھی شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ جیسے ہوا کرتے ہیں۔
    والدین کو چائیے اپنا کردار باخوبی نبھائیں اور اپنی اولاد کو عالی ظرف اور باکردار اور اپنے لئے بہترین صدقہ جاریہ بنائیں۔

    "”

    @K_A_R123

  • سیالکوٹ الیکشن . تحریر : فضل محمود کھوکھر

    سیالکوٹ الیکشن . تحریر : فضل محمود کھوکھر

    سیالکوٹ پی پی 38 میں 28 جولاٸی بروز بدھ ضمنی الیکشن ہوا جو کے 2018 کے جنرل الیکشن میں مسلم لیگ ن امیدوار چوہدری خوش اختر سبحانی 57636 ووٹ لے کر کامیاب ہوٸے تھے،اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سعید احمد بھلی 40575 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔اگر اس حلقے کے ماضی میں جاٸے تو وریو خاندان اس حلقے میں کٸی دہاٸیوں سے جیت رہی تھی ان سے پہلے کٸی مرتبہ چوہدری اختر علی وریو جن کی سیاست میں ایک پہچان وریو گروپ سے تھی،وریو خاندان میں چوہدری خوش اختر سبحانی پہلے بھی وزیر جیل خانہ جات رہ چکے تھے،ان کے چاچا اختر علی وریو کے بھاٸی چوہدری ارمغان سبحانی کے والد چوہدری عبدلستار وریو مرحوم بھی وفاقی وزیر رہ چکے تھے،اور موجودہ ضمنی الیکشن پی پی 38 کے امیدوار چوہدری احسن بریار پاکستان تحریک انصاف جن کا تعلق تحصیل ڈسکہ کے نواحی قصبہ بھلووالی سے ہے ان کا بریار فیملی سے تعلق ان کا سیاست میں آنے کے لیے کوٸی نٸی بات نہیں تھی کیوں کے بریار کا تعلق پاکستان مسلم ق سے اور احسن سلیم بریار کے والد چوہدری سلیم بریار مسلم لیگ ق کے جنرل سیکرٹری بھی اور سلیم بریار کے بھاٸی ق لیگ دورہ حکومت میں ایم پی اے بھی رہ چکے ہے،اس کے ساتھ ساتھ یونین کونسل لیول پر بھی کٸی دفعہ چیرمین رہ چکے ہیں،بریار فیملی کے احسن سلیم بریار کے چاچا چوہدری قیصر بریار سیالکوٹ چیمبر کے صدر بھی ہے اور پی پی 38 میں ایم پی اے کے لیے تحریک انصاف کو قیصر بریار کو انتخابی عمل میں لانے کے لیے ٹکٹ ملا تھا جس پر اپوزیشن کے عدالت سے رجوع کیا قیصر بریار کے کے پاس یورپی نشیلٹی ہے جو الیکشن کا حصہ نہیں بن سکتے جس پر پھر احسن سلیم بریار میدان عمل میں آٸے،جس پر سابقہ پی پی 38 کے پاکستان تحریک انصاف امیدوار سعید احمد بھلی،اور سابقہ ایم پی اے رہنما پاکستان تحریک انصاف چوہدری طاہر محمود ہندلی نے بھی ٹکٹ کے لیے کاغزات جمع کرواٸے جس پر دونوں امیدوارں نے آزاد حثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا جس پر طاہر ہندلی تو خاموشی اختیار کر لی اور ن لیگ کے طارق سبحانی کے خلاف الیکشن کمپین پی ٹی آٸی بریار فیملی کے ساتھ مل کر شروع کر دی، اب سعید احمد بھلی سابقہ امیدوار پی ٹی آٸی آزاد حثیت سے کھڑے تھے جو احسن بریار اور پی ٹی آٸی کی جیت کے بہت مشکل تھا جس پر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی عثمان ڈار، عمر ڈار، وزیر اعلی پنجاب معاون اطلاعات ڈاکٹر فرودس عاشق اعوان کی اخلاقی دباؤ کی وجہ سے سعید احمد بھلی سے مزاکرات کیے اور بریار فیملی کے حق میں دستبردار ہوگٸے اور یہ ثابت ہوگیا کے اس الیکشن میں مین آف دی میچ سعید احمد بھلی کو جاتا ہے،اس کے بعد چوہدری احسن سلیم بریار پی ٹی آٸی اور چوہدری طارق سبحانی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ (کالعدم)تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار ملک فہیم اعوان بھی میدان عمل میں تھے جنہوں الیکشن کمپین بہت اچھے طریقے چلاٸی 28 جولاٸی بروز بدھ کو سیالکوٹ ڈی سی اور اور ڈی پی او اور متعلقہ اداروں کی طرف سے الیکشن کمیشن کی ہدایات پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گٸے تھے پی پی 38 میں 165 پولنگ اسیٹشن تھے جس پر سیکورٹی سخت تھی اور بعض یونین کونسل میں معمولی تلخ کلامی لڑاٸی جھگڑا نعرے بازی کی بھی اطلاع موصول ہوٸی پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار احسن سلیم بریار62657 ووٹ لے کر پنجاب اسبملی کے سب سے چھوٹی عمر کے ایم پی بن گٸے اور ن لیگ کے طارق سبحانی 56353 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ٹی ایل پی ملک فہیم اعوان 6660 ووٹ سے تیسرے نمبر پر رہے احسن سلیم بریار کی جیت کے بعد حلقہ کی عوام ڈاٸمنڈ سٹی روانہ جشن کا سما.

  • ‏والدین ایک خوبصورت رشتہ تحریر: ایمن رافع

    ‏والدین ایک خوبصورت رشتہ تحریر: ایمن رافع

    کہتے ہیں کہ ہر رشتہ اپنی جگہ انمول اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو گزرے وقت کے ساتھ مزید خوبصورت ہوجاتا ہے اسکی اہمیت ہم کو ایسے ہم ایسے بیان کر سکتے کہ انسان کو جب اپنی جگہ لگا ہوا دانت محسوس ہوتا ہے تب وہ اسکی اتنی قدر نہیں کرتا جتنا تب کرتا جب وہ اپنی جگہ چھوڑ جاتا ہے اور اسکی کمی کو وہ بار بار وہاں انگلی لگا کر محسوس کرتا ہے اور تصدیق بھی کہ وہ واقعی جگہ چھوڑ گیا یا ابھی کوئی امید ہے!!

    بلکل اسی طرح کچھ رشتوں کی ایسے ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جب وہ ہمارے ساتھ ہوتے اور پاس ہوتے تب انکی اہمیت کا اندازہ نہین ہوتا لیکن جب وہ خلا چھوڑ جاتے تو کوئی اور انکی وہ کمی کبھی پوری نہیں کر سکتا۔ ان میں ایک خوبصورت رشتہ والدین کا ہے۔ جب ہم چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں تو ہمارے لیے پریشان ہوتے ہیں انکو فکر ہوتی کہ ہمارے بچے اچھی تربیت کے حامل ہوں۔ لیکن جب بچے بڑے ہوتے ہیں اور ہوش سنبھالتے تو والدین کی بےجا سختی اور پابندی انکو پریشانی لگتی انکو جان کھا جانے جیسی لگتی۔ جن میں اسکول جاو، سپارہ پڑھنے جاو اگر بات مانو گے تو ہی ہر خواہش پوری ہوگی۔
    تب بچوں کو لگتا ہے کہ کوئی کام ہم اپنی مرضی سے کر بھی سکتے یا نہیں۔
    والدین اور بچوں کا تعلق بہت عجیب ہوتا۔ اپنی ہر پسند میں انکی مرضی شامل کرنا،ہر خوشی میں انکو سامنے کھڑے دیکھنا بلکل ایسے ہی جیسے کھیل کے آخری لمحات میں بیٹنگ اور اسی موقع پر انکی پکار۔۔۔

    نالائق ابھی تک مسجد نہیں گئے؟
    اور بچے آگے سے مسجد سامنے ہے چلا جاوگی۔۔

    لیکن جب یہ چلے جاتے ہیں تو انسان کی دنیا کو بلکل ویران کرجاتے، جب بچوں کو انکی پہلی کوئی خوشی ملتی تو سب سے پہلے والدین کا سوچتے کہ انکو بتائیں گے کہ آپکا نالائق بیٹا یا بیٹی بہت کام نکلے مگر جب انکو اپنے پاس نا ہونے کا جھٹکا لگتا ہے کہ”جن کو سچی خوشی ہونی تھی وہی اب ہمارے ساتھ نہیں”

    "ڈھونڈ ان کو اب چراغ رخ زیبا لے کر ”

    اسی وقت ہر خوشی منظر میں دکھ چھوڑ جاتی۔۔۔

    والدین کی ہر وہ بےجا سختی اور پابندی جو ہمیں اس وقت تنگ محسوس ہوتئ ہے اور غصہ دلاتی ہے دراصل وہ ان کا خلوص واخلاص ہوتا ہے جو نا صرف ہمیں نقصان سے بچاتا ہے بلکہ وہ ہمارے مستقبل کے لیئے پریشان ہوتے ہیں۔۔ اور ہم کو یہ بات تب سمجھ نہیں آتی جب اولاد خود اپنے بچوں کے سر پر جوتی لے کر کھڑی نہیں ہوتی۔۔۔۔

    اپنے والدین کا خیال رکھیں ، انکی قدر کریں، اور اپنے مصروف وقت میں سے ان کے لیے وقت نکالیں کیوں کہ ان جیسی عظیم ہستی کا کوئی نعم البدل نہیں۔۔

    ‎@DaughterOfSoil_