Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نور مقدم قتل  تحریر:     ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم قتل تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم کون تھی؟
    نور مقدم کا قاتل کون؟
    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج کیا ہے؟

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
    نور مقدم 27 سالہ نوجوان زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ نور مقدم کے والد کا نام شوکت مقدم ہے جو کہ پاکستان کے ساؤتھ کوریا میں سابق سفیر رہ چکے ہیں ۔ نور کے والد اور والدہ بھی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔

    نور مقدم کو بے دردی سے قتل کرنے والے شخص کا نام ظاہر جعفر ہے ۔ ظاہر جعفر ایک بہت بڑی کمپنی کا سیـایـاو ہے۔ اس کے علاوہ ظاہر جعفر ایک نفسیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر بھی ہے جو کہ اسلام آباد میں اپنا بہت بڑا کلینک بھی چلا رہا ہے۔ ظاہر جعفر کے ایک مریض نے بات چیت کے دوران بتایا کے علاج کے نام پر اسے بہت جسمانی طور پر تکلیف دی گئی اور اسے بلاخر وہاں سے بھاگنا پڑا۔

    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نور مقدم کی موت کی وجہ دماغ کو آکسیجن سپلائی کی بندش ہے رپورٹ میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ مقتولہ کا سر دھڑ سے الگ کیا گیا ۔ مقتولہ نور مقدم کی داہنی کنپٹی اور سینے پر خنجر کھونپا گیا۔ مقتولہ کے جسم پر تشدد اور تیز دھار آلے سے زخموں کے متعد نشانات پائے گئے ۔
    اسلام آبد پولیس کا انکشاف ہے کہ اس قتل میں ظاہر جعفر کے ساتھ کوئی اور قاتل بھی موجود ہے۔ ظاہر جعفر کا تین روزہ ریمانڈ چل رہا ہے جس میں وہ خود کو نفسیاتی مریض ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ظاہر جعفر اور نور مقدم لیوـاِنـریلیشن شپ میں تھے۔ مزید تحقیقات جاری ہے اسلام آباد پولیس دن رات اس کیس میں اپنی ذمی داری سر انجام دے رہی ہے۔ نور مقدم کی تدفین اسلام آبد کے قبرستان میں کر دی گئی ہے۔ نور کے والد اور والدہ نہایت صدمے کی حالت میں ہے۔
    نور مقدم کو انصاف ملے گا یا نہیں ؟ کب تک عورت ظلم کا نشان بنتی رہے گی؟ یہ کیس بھی پہلے کی طرح کسی امیر زادے کے حق میں چلا جائے گا؟ کب تک اسی طرح ہمارے معاشرے میں نور قتل ہوتی رہے گی؟ کہاں ہے وہ مجرم جن کو پکڑ کر سخت سزا دینے کا دعوی کیا گیا تھا؟
    ان سب سوالوں کے جواب تو فی الوقت ہم میں سے کسی کے پاس نہیں مگر جرم کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا فرضِ عین ہیں۔ اس لیے اپنا فرض نبھائے اور نور کے حق میں اپنی آواز اٹھائے۔

    Twitter: @Aladdin_Hu_Me

  • اختلاف اور مخالفت . تحریر :‌ باچا خانزادہ

    اختلاف اور مخالفت . تحریر :‌ باچا خانزادہ

    ہم جس ملک اور معاشرے میں رہتے ہیں یہاں تعلیم عام ہونے کے باوجود ہمارے اندر برداشت اور تحمل کا بہت فقدان ہے۔ عام طور پر ایک چیز جو کافی عرصے سے مسلسل میں نوٹ کر رہا ہوں وہ دو لفظ ( اختلاف اور مخالفت ) ہیں جن کا ہمارے معاشرے اور ملک کی اکثریت کو فرق شاید معلوم نہیں تب ہی تو عدم برداشت ، غصّہ اور لڑی جھگڑوں کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے حتی کہ بعض اوقات بات دشمنیوں تک پہنچ جاتی ہے فقط اس ایک فرق سے غفلت کے باعث آچھے اچھے تعلق اور رشتے کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    اختلاف کا مطلب ہے کسی معاملے سے اتفاق نہ کرنا یا کسی کی کی گئی بات سے متفق نہ ہونا اور اپنی ایک الگ رائے کا ہونا ہے یا کسی کا ہماری کی گئی بات اور مشورے سے اپنی ذاتی ایک الگ سوچ اور رائے کا ہونا جو کہ انتہائی اچھی بات بھی ہے اختلاف رائے کو گفت وشنید اور بحث کا حسن سمجھا جاتا ہے کیونکہ اختلاف رائے سے کسی بھی معاملے کا ایک نیا رخ سامنے آتا ہے۔ لیکن کسی کے اختلاف کو مخالفت سمجھ بیٹھنا یہ غلط ہے۔ کیونکہ مخالفت تو ہمیشہ دشمنی اور عداوت کی راہوں پر لے جاتی ہے۔ باقی جیسے کہ واضح ہوچکا ہے کہ اختلاف کو گفت وشنید اور بحث و مباحثے کا حسن اور جان سمجھا جاتا ہے تو ہمیں سمجھ سے کام لینا چاہیے اور کسی کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے اور اسی طرح ہمیں بھی اگر کسی معاملے پر اتفاق نہ ہو تو اختلاف رائے آپ کا بھی حق ہے۔ لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ ایک چیز جو ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے وہ یہ کہ اختلاف ضرور کریں لیکن ادب کے اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ کیوں کہ جیسا کہ یہ قوم پہلے ہی عدم برداشت کا شکار ہے تو ایسے میں اگر بندہ تہذیب و گفتگو کے اصولوں کو بھی نظر انداز کر دے تو یہ چیز انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور مخالفتوں و ناراضی گیوں کی وجہ بنا سکتی ہیں۔ اختلاف تو دو بھائیوں میں ہو جاتا ہے باپ بیٹے میں ہو جاتا ہے دو دوستوں میں ہو جاتا ہے استاد شاگرد میں ہو جاتا ہے لیکن اہم چیز جو ہے وہ ہے ادب اور محبت کے راویوں کا فروغ ہے۔ آپ ادب و احترام اور اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی بات دوسرے کو سمجھا سکتے ہیں اور اگر آپ خود ہی غلط ہوں تو برداشت کے اصولوں پر چلتے ہوئے اگلے بندے کی بات سننے کے بعد اپنی اصلاح کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ سب اس فرق کو جاننے سے ممکن ہے اور خوش مزاجی و ادب کسی بھی معاملے کو سنجیدگی و عمدگی کے ساتھ پائے تکمیل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

    ہمارے ہاں عام طور پر دو گروہ میں اختلاف اور مخالفت کا رجحان بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک ہماری سیاسی جماعتیں اور گروہ اور دوسرے ہمارا مذہبی طبقہ جو فرقوں اور گروہوں کی شکل میں موجود ہے۔ یہاں کسی کو غلط ، سہی ، حق ، باطل یا اچھا برا کہنا مقصود نہیں صرف اختلاف ، مخالفت، عدم برداشت اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا جیسے عوامل کی نشان دہی کرنا ہے۔ سیاسی جماعتیں بعض اوقات اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے بہت نازک حدتک چلی جاتی ہیں اور ایک ہی ملک اور قوم کے لوگوں کو اپنے مفادات کی خاطر لڑنے مرنے تک پہنچا دیتے ہیں ایک دوسرے کو غلط اور نیچا دکھانے اور ثابت کرنے کے چکر میں تمام اصولوں کو پسے پشت ڈال دیتے ہیں اور اختلاف و مخالفت کا فرق بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مذہبی طبقہ بھی بعض اوقات مختلف مسئلے اور چیزوں پر ایک دوسرے سے مناسب اختلاف رکھنے کی بجائے مخالفت اور ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کی حد تک چلے جاتے ہیں۔ اور یوں اس کے اثر کے طور پر عام افراد بھی باقی ماندہ زندگی ایک دوسرے کے لیے سخت مخالف پالتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ لیکن یہ ہی اگر سمجھ اور برداشت سے کام لیا جائے تو بہت سارے معاملات مناسب اختلاف رکھتے ہوئے بات چیت ، برداشت اور تحمل سے کام لیتے ہوئے حل کیے جاسکتے ہیں اور امن رواداری کی فضاء قائم کی جاسکتی ہے۔

    @bachakhanzada5

  • گل دوپہری آنکھوں کی ٹھنڈک تحریر: طاہرہ

    گل دوپہری آنکھوں کی ٹھنڈک تحریر: طاہرہ

    گرمیوں میں دھوپ کی تپش سے بے حال ہوتے ماحول کو اگر ہریالی کی زرا بھی جھلک نظر آجائے تو دل، دماغ اور آنکھوں میں ٹھنڈک اتر آتی ہے خالق کائنات نے خوبصورت پھولوں کا وجود بھی انسان کے سکون اور صحت کیلئے پیدا کیا ہے.پودوں کا وجود انسانی زندگی پر بہت اچھے اثرات پیدا کرتا ہے.

    پھول نا صرف نظروں کو سکون اور راحت عطا کرتے ہیں بلکہ آپ کے گھروں کو خوبصورتی بھی بخشتے ہیں ایسے میں اگر گرمیوں کے عروج میں وہ پھول لگائے جائیں جو تپش میں ہر طرف ہریالی بکھیر دیں تو کمال ہی ہوجاتا.

    جی ہاں میں بات کررہی ہوں گل دوپہری کی خوبصورت پھولوں سے حامل اس پودے کی خاصیت یہ ہے کہ یہ انتہا سے زیادہ گرمی میں بھی افزائش پاجاتے گل دوپہری کو دوپہری اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے پھول دوپہر میں کھلتے ہیں جب کہ شام میں بند ہوجاتے ہیں. اگر آپ کسی ایسے پودے کی تلاش میں ہے کہ جو آپ کی جیب پر ہلکے بھی پڑیں اور دوپہر کے وقت آپ کے آنگن کو ٹھنڈک کا احساس بھی بخشیں تو گل دوپہری آپ کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں.

    محض پچاس ساٹھ کی لاگت میں ملنے والا یہ پودا بہت جلدی پھیلتا ہے آپ اسے زمین پر بھی لگاسکتے اور خوبصورت گملوں میں بھی یا پھر خوبصورت بوتلوں میں قید گل دوپہری آپ دیواروں پر بھی لٹکا سکتے کہ جس کی وجہ سے آپ کی دیواریں خوبصورت رنگ برنگی گل دوپہری سے مزین نظر آئیں گی اور گرمیوں کی دوپہر میں ایک فرحت بخش احساس پیدا کریں گی

    گرمیوں میں جتنی تپش ہوگی گل دوپہری کے پھول اتنی ہی تعداد میں کھلیں گے مختلف رنگ گلابی شاکنگ لال سفید پیلے نارنگی اس کی بارہ سے زائد قسمیں آپ کے آنگن میں بہار اتار سکتی ہیں اسکو لگانا انتہائی آسان ہے بس پنیری لگائی اور پھول شروع بس ایک یہ احتیاط لازمی کریں کہ پانی کم دیں یہی وجہ ہے کہ بارش اس کو نقصان پہنچادیتی ہے.

    گھریلو باغبانی کے شوقین افراد کیلئے گل دوپہری ایک نعمت سے کم نہیں ہے

  • بچوں کا جنسی استحصال   تحریر : علی حیدر

    بچوں کا جنسی استحصال تحریر : علی حیدر

    حیات انسانی کے اہم ترین ادوار میں اک دور بچپن کا ہے جو ایک انسان کی باقی ماندہ ذندگی پر مکمل طور پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ بچپن کا وقت انسان کی جسمانی, ذہنی اور نفسیاتی نشوونما کے لئیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انسان کا ذہن بچپن میں بڑھوتوی کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے چناچہ اس دورانیے میں ہونے والا کوئی خوش گوار یا ناخوشگوار واقعہ نہ صرف بچے کے ذہن پر ہمیشہ کے لئیے نقش ہو جاتا ہے بلکہ اس کی آنے والی ذندگی پہ اثر انداز ہوتا ہے۔
    بچوں کا جنسی استحصال بچے کی ذہنی , جسمانی اور نفسیاتی ذندگی پر بری طرح اثر ڈالتا ہے ۔ بچے کا حافظہ بچپن میں بہت تیز ہوتا ہے اس لئیے وہ بات بچے کو یاد رہتی ہے۔
    بچوں کی بچوں سے ذیادتی یا بڑی عمر کے افراد کا بچوں کا جنسی و جسمانی استحصال ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں ۔ ہر آئے روز نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جن میں بچوں پہ تشدد کرنے کے بعد ان کو جنسی ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ظلم تو یہ ہے کہ کچھ کیسز میں جنسی استحصال کے بعد ان کو قتل کر دیا جاتا ہے ۔
    اگرچہ حکومت نے ایسے مسائل کو ختم کرنے کے لئیے اقدامات اٹھائے ہیں لیکن جب تک ان مسائل کی وجوہات کا ادراک کرتے ہوئے ان کے سدباب کے لئیے مئوثر اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے یہ مسائل سماج میں سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔
    سب سے پہلے ہمیں بچوں سے ذیادتی کے پیچھے کارفرما عوامل کا جائزہ لینا ہو گا تاکہ ہم وجوہات کو سمجھنے کے بعد کوئی مؤثر اقدامات اٹھا سکیں۔
    بچوں سے ذیادتی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بچوں کو بہلانا اور پھسلانا آسان ہے ۔ کمزور ٹارگٹ ہونے کی وجہ سے مجرم کو کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    اس لئیے والدین اور اساتذہ کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کو اجنبی افراد کے ساتھ میل جول کی ممانعت کریں ۔ ان کو سکھانا چاہیے کہ اگر کوئی اجنبی آپ کو کسی بہانے ورغلا رہا ہو یا اپنے ساتھ چلنے پر اصرار کر رہا ہو تو اس کے ساتھ ہر گز نہ جائیں بلکہ اپنے والدین کو اس شخص کے بارے میں آگاہ کریں۔
    بچوں کے ساتھ جسمانی و جنسی استحصال کے واقعات اکثر و بیشتر ملک کے ان حصوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔ چناچہ اس بات کو کبھی بھی بنیادی وجہ نہیں بنایا جا سکتا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی مرد و عورت کے اختلاط یا عورتوں کی بے پردگی یا سوشیل میڈیا کے استعمال سے جنم لے رہی ہے۔
    کالجز اور یونیورسٹیز میں اگرچہ مرد و عورت کا اختلاط عام ہے لیکن وہاں ایسے کیسز بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں کیونکہ وہ افراد دراصل باشعور اور تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف ایک بات یہ بھی قابل غور ہونی چاہئیے کہ شہروں کی عورتیں تعلیم یافتہ اور جدت پسند ہوتی ہیں ۔ وہاں بچوں کے ساتھ ذیادتی کے کیسز بہت کم رونما ہوتے ہیں ۔
    جبکہ دوسری طرف دیکھا جائے تو گاؤں اور دیہاتوں میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے۔ مرد و عورت کا اختلاط بھی کم ہوتا ہے۔ سوشیل میڈیا کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن وہاں بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔
    چناچہ جدت پسندی اور مرد و ذن کا اختلاط بچوں کے جنسی استحصال ایک وجہ ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ تعلیم کا فقدان اور شعور کی کمی ہے۔

    یہ بات لازمی نہیں ہے کہ جو جنسی استحصال کی وجہ ہو وہی جنسی استحصال کا نشانہ بھی بنے ۔ مجرم ایسا جرم کرنے پہ آمادہ تب ہوتا ہے جب وہ انٹرنیٹ پہ فحش مواد دیکھتا ہے , یا فلموں اور ڈراموں کی بدولت اس کی ذہنی سازی ہوتی ہے لیکن وہ اپنی جنسی حوس کی تسکین کے لئیے کمزور اور اور کم مزاحمت والے ایسے افراد کو نشانہ بناتا ہے جو اسے فی الوقت میسر ہوتے ہیں چناچہ وجہ انٹرنیٹ پہ موجود مواد یا فلمیں اور ڈرامے ہو سکتے ہیں لیکن نتائج کوئی اور بھگت رہا ہوتا ہے۔
    معاشرے سے ایسے ناسور کو مکمل طور پہ ختم کرنے کے لئیے حکومت وقت کو موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر ملک کے طبقے کو تعلیم تک آسانی سے رسائی ہونی چاہئیے تاکہ ایک با شعور معاشرہ کا قیام عمل میں آ سکے۔
    بچوں کی ذہن سازی کے لئیے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے ذرئیعے موثر آگاہی کے لئیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ بچے اس مجرم کے بہلانے اور پھسلانے کے طریقہ سے پہلے ہی آگاہ ہوں اور اس کے بہکاوے میں آنے سے پہلے ہی اس کے عزائم کو بھانپتے ہوئے وہاں سے فرار ہو کر والدین کو مجرم کے بارے میں آگاہ کریں۔
    بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات کو روکنے کے لئیے مؤثر اقدامات میں سے ایک یہ بھی ہونا چاہئیے کہ ایسے مقدمات کے فیصلے فوراً ہنگامی بنیادوں پہ کرتے ہوئے مجرم کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہئیے تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور دوبارہ کوئی مجرم ایسا قدم اٹھانے سے پہلے اپنے منطقی انجام سے پہلے ہی آگاہ ہو ۔

    @alihaiderrr5

  • عقلمند طبیب اور بادشاہ    تحریر: مدثر حسین

    عقلمند طبیب اور بادشاہ تحریر: مدثر حسین

    پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بادشاہ اپنے بڑھتے ہوئے پیٹ سے بہت پریشان تھا. اسکا موٹاپا اسے ایک انکھ نہ بھاتا تھا. اس نے ایک دن اپنے وزیروں اور طبیبوں کو بلا کر اس کے حل پہ بحث کی. مگر کوئی نسخہ یا دوا اثر نہ دکھا سکی. پھر اس ملک کے ایک بہت ہی قابل اور ذہین طبیب کو بلایا گیا. اس نے ساری صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ اگر بادشاہ سلامت مجھے اجازت دیں تو میں علم نجوم کے زریعے سے بتا سکتا ہوں کہ بادشاہ کے لئے کون سی دوا فائدہ مند ثابت ہو سکے گی. اگلے دن طبیب بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاہ سلامت گستاخی معاف پر جو بات میں اپکو بتانے جا رہا ہوں وہ اپ کے لئے بہت تکلیف دہ ہے. بادشاہ نے بڑے انہماک سے اس کی طرف دیکھا اور بات کہنے کی اجازت دی.
    طبیب بولا، بادشاہ سلامت علم نجوم یعنی ستاروں کے مطابق اپکی زندگی صرف ایک ماہ باقی رہ گئی ہے. بادشاہ یہ سنتے ہی ششدر رہ گیا اور اس نے خلوت میں دن گزارنے شروع کر دیے، اپنی گدی اپنے بیٹے کو دے دی اور اپنی گزری ہوئی زندگی پر پشیمان رہنے لگا، جب پچیس دن گزر گئے تو بادشاہ کو پریشانی اور فکر مندی سے کافی کمزوری لاحق ہو چکی تھی، طبیب کو بلوایا گیا. بادشاہ نے اس سے باقی کے دنوں کا حساب لگانے کا پوچھا تو طبیب بولا کہ حضور مجھے تو اپنی زندگی کا پتہ نہیں میں بھلا کیسے آپکی زندگی کے معتلق جان سکتا ہوں؟؟ وہ تو میں فکر و پریشانی کو آپ پہ مسلط کرنا چاہتا تھا تا کہ اس فکر سے اپکی چربی پگھل جائے اور آپ کھانا پینا بھی کم کر دیں. آج دیکھیں آپ پہلے سے کافی دبلے ہو گئے ہیں.
    بادشاہ طبیب کے اس طریقہ علاج سے بڑا متاثر ہوا اور اسے بہت سارے ہیرے جواہرات سے نوازا.

    ‎@MudassirAdlaka

  • حوا کی بیٹیاں اور جنسی درندگی . تحریر : حسیب احمد

    حوا کی بیٹیاں اور جنسی درندگی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان میں آئے روز حوا کی بیٹیوں کو جنسی استحصال کا شکار بناتے ہیں۔ چند روز نہیں بلکہ سالوں سے یہ ہوتا ہوا آرہا ہے۔ ہمیشہ بیٹیوں بہنوں کی عزتیں نیلام کی جاتی ہیں، پاکستان وہ ملک ہے بدقسمتی سے جہاں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہوتی چاہے وہ چھوٹی زینب ہو یا نوجوان نور مقادم ہو۔ پاکستان میں جنسی زیادتی کے ملزمان کو عدالت سے رہائی دے دی جاتی ہے چند ہزاروں کے مچلکوں پر اور پھر وہی چیز بار بار دوہرائی جاتی ہے اور ہر بار نشانہ ہماری بیٹیاں بنتی ہیں۔ کاش پاکستان میں ایسا قانون آجائے جس سے جو بھی ہماری بیٹیوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالے گا تو اس کو تختہ دار پر جھولا دیا جائے۔ اور پھر دیکھیں کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ انکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔
    ہمیں خود اپنی بیٹیوں کی عزتوں کا محافظ بننا ہے اور جو کوئی ہاتھ ڈالے ہماری ماؤں بہنوں پر اس کا چہرہ نوچ دینا چاہیے۔

    ہر بار سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنتے ہیں چند روز کے لئے لیکن پھر سب خاموش ہوجاتے ہیں نئے واقعات کا انتظار کرتے ہیں اور پھر وہ واقعات جنم لیتے اور پھر ہم وہی بار بار ٹرینڈ بناتے ہیں اور پھر سب خاموش ہوجاتے ہیں اس میں کہیں نا کہیں ہماری ہی غلطیاں ہیں جو ظالم کو ڈھیل دیتے ہیں لیکن اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں وہ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ گناہ کرتا جائے اور وہ دنیا و آخرت میں رسوائی اس کا مقدر بنے۔ اللہ جب رسی کو کھینچ لیتا ہے اور ویسے بھی یہ دنیا مکافات عمل ہے جیسا گھڑا وہ کھودتا ہے ویسا وہ پاتا ہے۔ حوا کی بیٹیوں کی عزت کریں کیوں کہ آپ کی ماں بہن، بیوی سب بھی حوا کی بیٹیاں ہیں اور جب ایسا آپ سوچیں بھی تو آپ کے اگئے اپنی ماں بہن اور بیٹی اجائے۔

    ایسے گناہوں سے ہماری آنے والی نسلوں کو کیا سبق ملے گا اور ایسے غلطیاں جو بھی کرتا ہے وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے پریشانی اور رسوائی کا باحث بنتا ہے۔ بہنیں ماؤں اور بیٹیوں کی عزتیں محفوظ رکھیں اور ان کی حفاظت کیا کریں اس سے اللہ خوش ہوتا ہے اور آپ کی آخرت کی منزلیں آسان فرماتا ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور ایسے واقعات کی روک تھام میں ہمارا وسیلہ بنے اور اللہ پاک ہماری دنیا میں رہنے والی ہر بہن بیٹی کی حفاظت فرمائے اور ان کی عزتیں محفوظ رکھے کیوں کہ بیٹیاں خدا کی رحمت ہوتی ہیں اور جب اللہ پاک خوش ہوتا ہے تو بیٹیوں سے نوازتا ہے ہمیں۔ اور اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں سے دعا لیا کریں کیوں ان کی دعا اللہ پاک بھی سنتا ہے اور فوراً قبول فرماتا ہے اور جب اس ہی ماں بہن کے ساتھ کوئی برا کرتا ہے تو ان کی بددعا فرش سے ارش تک جاتی اور خدا فوری طور پر ان کی بددعا قبول کرتا ہے اس شخص تباہ و برباد کردیتی ہے۔

    عزتوں کے محافظ بننا سیکھیں ناکہ کسی بیٹی کی بددعا لے کر برباد ہونا۔ ہمت بنیں ان کی اور ان کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا اور مجرموں کو پھانسی کے تختے تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    اللہ پاک سب کو ہمت دے اور ان کی حفاظت فرمائے بیٹیاں کسی سے کم نہیں ہوتی بیٹی کچھ بھی کرسکتی ہے کوئی چیز مشکل نہیں مثال لیں قوم کی بیٹی وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوسکتی ہے یا پاک فوج میں اعلی عہدہ پر بھی فائز رہ سکتی ہے۔
    برابری دینا سیکھیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ بہادر بن سکیں اور کبھی ان کے ساتھ غلط ہو تو وہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
    فخر ہے ہمیں ہماری بیٹیوں پر اللہ ان کے نصیب اچھے کرے اور ان کا حامی و ناصر رہے اور ہماری بیٹی ہمارے لیے اور قوم کے لئے فخر کا باعث بنے۔

    @JaanbazHaseeb

  • کیا دین اور سیاست جدا جدا ہیں؟ . تحریر : مزمل رتھ

    کیا دین اور سیاست جدا جدا ہیں؟ . تحریر : مزمل رتھ

    موجود دور میں اگر دیکھا جائے تو عموماً دین اور سیاست کو جدا سمجھا جاتا ہے اور یہ تاثر بہت حد تک سرائیت کرچکا ہے کہ مذہب کو ملکی و سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے ۔ یہ نظریہ سب سے پہلے مغرب میں پیدا ہوا اور اس کے بعد ہماری جمہوری پارٹیوں نے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں متعارف کروایا حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دین کا سیاست کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ لیکن موجودہ جمہوری اشرافیہ نے دین کو سیاست سے جدا کرکے پیش کیا تاکہ اسلامی نظریات کے حامل لوگوں کو اقتدار سے دور رکھ سکیں اور اس کے مقابل استعمار اسلامی ممالک پر اپنا قبضہ جما سکے اور ان پر حکومت کر سکیں۔

    سیاست دین کا حصہ ہے اور سیاست دین کے تناظر میں معاشرے کی ضرورت بنتی ہے۔ اگر دین کو سیاست سے جدا کردیا جائے تو اس کی مثال ایسے درخت کی سی ہے جو سوکھ کر اپنی رونق و تازگی کھو چکا ہوتا ہے۔ استعمار کئی سالوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس کے مفادات کے حصول میں بڑی رکاوٹ اسلامی آئین و قوانین ہیں.
    انکی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ دین اور سیاست کو الگ الگ رکھیں اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں اگر دیکھا جائے تو وہ عوام کے ذہن میں یہ بات ڈالنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں کہ دین اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی اسلامی نظریات رکھنے والے جماعت ملک میں اسلامی نظام کی تشکیل کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اس کو یہ طعنے دیا جاتا ہے دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جنونی ہیں اور دین کو سیاست اور مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہیں شدت پسند اور دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا اسلام میں یہ تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی تعلیمات کو ایک طبقہ سنبھالے گا (ہہاں مراد علماء کرام) جبکہ دیگر سیاسی نظام و نظام حکومت دوسرا طبقہ جیسا کہ آج کل کے جمہوری سیاستدان ۔اس لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد خلفائے راشدین مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور دینی رہنماء بھی ۔ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت و رہنمائی ملی ، مسلمان قوت و سربلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے ۔ اس کے برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قوت قوم پرستون نے تو مسلمان آپسی جنگوں کا شکار ہوکر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے ۔

    موجودہ دور میں جہاں نا صرف دین کو سیاست سے دور کردیا گیا بلکہ اسلامی سوچ کے حامل لوگوں کے نظریات بدلنے کیلئے بہت سے اسلامی ماڈل بھی تشکیل کردیے گئے جیسے روشن خیال اسلام ، رجعت پسند اسلام اور نہ جانے اسلام نے کون کون سے ماڈل ۔ حالانکہ اسلام ایک ہی ہے اور یہ وہ اسلام ہے جو قرآن وسنت میں پایا جاتا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام نے اپنے عملی نمونوں سے ہیش کیا ۔ آج کے دور میں معاشرتی برائیوں کے خلاف مزاحمت کرنا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا کسی بھی شخص کا حق سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلام اس کو حق ہی نہیں واجب قرار دیتا ہے ۔
    اسی تناظر میں سیاست اور سیاسی معاملات کو کسی بھی طرح سے دین سے جدا کرنے کا مطلب اس کی اصل روح کو نکالنا ہے ۔ علامہ اقبال نے اس کو یوں بیان کیا
    َجدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

    MuzRizvi19

  • بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے  تحریر: ذیشان علی

    بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے تحریر: ذیشان علی

    گردش ایام یا اشاعت اعمال نے آج مسلمانوں کو ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کونسی آنکھ ہوگی جو ہمارے زبوں حالی اور ذلت و رسوائی پر آنسو نہ بہاتی ہو،
    کبھی وہ دور بھی تھا کہ ایک مسلمان عورت کے سر کے بالوں پر کسی غیر محرم کی نظر بھی نہ پڑھ سکتی تھی،
    لیکن آج ان رسم و روایات کو صرف سنا اور سنایا جاتا ہے،
    ماڈرنزم اور فیشن کے نام پر خود کو برہنہ کرنے کا جو ٹرینڈ ہمارے ہاں چل پڑا ہے ڈرامہ انڈسٹری بڑی تیزی کے ساتھ اس پر کام کر رہی ہے، اور عین ممکن ہے کہ حالات سب کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں، اور وہ تہذیب و ثقافت ہمارے سامنے ہو جو نا تو قبول کی جا سکے اور نا دیکھی جا سکے،
    مگر یہ سب کہنا کہ ایسا ہوگا،!!؟ ایسا تو پہلے سے ہو رہا ہے کوشش کرنی ہے کہ ایسا مزید ہونے سے روکا جائے،
    لہذا اپنی روایات کو نظر انداز نہ کریں اس کا ضرور خیال رکھنا ہو گا وہ قومیں جو دوسروں کی اقدار و روایات کو اپناتی ہیں اپنا آپ کھو دیتی ہیں اپنی پہچان اپنی ثقافت نہ رہی تو بھلا وہ قوم کیا کہلائے گی؟
    عورت کی زینت اور عزت اس میں ہے کہ وہ چھپا کر رکھی جائے کیا ہم سبھی ایسا سوچتے ہیں؟
    ہمیں ایسا سوچنا ہوگا کیونکہ یہ ہماری روایت ہے اور ہماری مذہبی تعلیمات بھں،
    جب تک مسلمان اسلامی آداب و اطوار سے سختی کے ساتھ بندھے ہوئے رہتے تھے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل پیرا تھے اسلامی قوانین کے آگے اپنی گردن کو جھکائے ہوئے تھے تو کامیابی اور فتح ان کا مقدر ہوا کرتی تھی اور جب سے مسلمانوں نے اپنے طریقے اسلامی کو ترک کر دیا اپنے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت کو چھوڑ کر یہودونصاریٰ اور دیگر اقوام کی تہذیب کو اپنانا شروع ہو گئے تو دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے، شروعات ہو چکی ہے اور کافی وقت گزر گیا اور بہت کچھ بدل گیا اور بہت کچھ بدلنا والا ہے،
    لیکن ہمیں اپنی تہذیب اور ثقافت کو فروغ دینا اور وہ چیزیں وہ فیشن کرنے سے بریز کرنا چاہیے جو ہمارے معاشرے اور جس سے ہماری تہذیب کو نقصان پہنچ رہا ہے،

    کیونکہ بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے،

    یہ کہنا کہ یہ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بالکل غلط ہے ایسی باتیں اس لئے کی جاتی ہیں اور وہ بھی بس یورپ کی تہذیب اور ثقافت اور ان کے رہن سہن سے متاثرہ لوگ ہی کرتے ہیں،
    ترقی اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات کو مضبوطی سے پکڑ کر بھی کی جا سکتی ہے
    جب مسلمان تمام عالم میں عزت و برتری کے واحد مالک تھے وہ ترقیات کی تمام منازل میں بڑی بڑی قوموں سے آگے تھے تو اس وقت اپنی اسلامی اقدار اور روایات تہذیب کو مضبوطی کے ساتھ اپنائے ہوئے تھے،
    مسلم خواتین تعلیم یافتہ تھیں واعظ و تقریر کہا کرتی تھی تلقین و ہدایت کے بھی فرائض انجام دیتی تھیں اور یہ سب امور پسے پردہ انجام پاتے تھے،
    یہ معیار اور پیمانہ ہرگز نہیں ہو سکتا جو آج ہم نے اپنے ذہن میں بٹھا لیا ہے کہ دوسری اقوام کی طرح آج بھی ہم ترقی کر سکتے ہیں اگر ہم ان کی ثقافت، تہذیب اور روایات کو اپنا لیں،
    یہ سب ہم اقوام مغرب پہ فریفتہ ہو کر کہتے ہیں، حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، ہمارے اصول و قوانین اسلامی اقدار ضابطہ اخلاق ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہرگز نہیں ہو سکتے،
    لہذا کوشش کیجئے اپنی روایات کو زندہ کریں اور اپنی تہذیب کے ساتھ مضبوطی سے جڑ کر ترقی کی طرف قدم بڑھائیں،
    برعکس اس کے کہ ہم ترقی کرنے کی غرض سے اپنی روایات کو مسلسل روندتے چلے جائیں اور پھر ہمارے اس سفر کے اختتام پر جسے ہم ترقی سمجھ رہے ہوں گے اور اپنی منزل پانا،
    درحقیقت ہم نا تو اپنی منزل پا سکیں گے اور شاید سفر کے بجائے ہمارا اختتام ہو جائے،
    اور پھر ہمیں دیکھ کر یا سوچ کر یا پڑھ کر کوئی یہ نہ کہے کہ،
    ”تم تو نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے”

    @zsh_ali

  • موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔  تحریر:صفدر حسین

    موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔ تحریر:صفدر حسین

    پچھلی کچھ دہائیوں سے زمین کی سطح کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آب و ہوا میں قدرتی اتار چڑھاؤ تو معمول کا حصہ ہے لیکن سائنسدان یہ کہہ رہے ہیں کہ آج کل درجہ حرارت پہلے کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
    گلیشیروں کا پگھلنا انتہائی ہیٹ ویو اور طوفان آرہے ہیں ، دنیا کے کچھ علاقے خشک سالی کا شکار ہیں۔ یہ آب و ہوا کی تبدیلی کے نتیجے میں ہورہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافے ہو رہا ہے اور یہ اضافہ گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے ، جو زمین کی آب و ہوا میں بہت سی تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔
    گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے گلوبل وارمنگ ہوتی ہے ، CO2اور گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے زمین کے ماحول میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ۔
    سورج سے آنے والی ریڈیشن گرین ہاؤس گیسوں کے ذریعے جذب اور دوبارہ خارج ہوجاتی ہیں اس کے لئے اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو ماضی میں اور کم تھا لیکن اب اس درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
    گلوبل وارمنگ کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں جنگلات کی کٹائی ، ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں سے فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلا ہوا دھواں اور جنریٹر ایئر کنڈیشنر اور ریفریجریٹرز جیسے بجلی کے آلات سے خارج ہونے والی حرارت بھی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب ہیں۔
    آئی پی سی سی کی رپورٹوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ "انسانوں اور انسانی سرگرمیوں سے پہلے کے دن سے لے کر اب تک دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور اس صدی کے دوسرے نصف حصے میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے ” سائنس دانوں کا خیال ہے کہ عالمی درجہ حرارت آنے والے عشروں تک بڑھتا رہے گا ، جس کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔
    انٹر گورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) ، جس میں امریکہ اور دیگر ممالک کے 1،300 سے زیادہ سائنس دان شامل ہیں ، اگلی صدی کے دوران درجہ حرارت میں 3.5 سے 8 ڈگری اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
    ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کو کم کرکے آب و ہوا کی تبدیلی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ جس کے لیئے ہمیں روایتی توانائی کے حصول کو ترک کر کے متبادل ذریعےسے توانائی کو حاصل کرنا ہوگا اور جتنا ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہونگے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے اس دنیا کو بچایا
    اور آنے والی نسلوں کو ایک اچھا مستقبل فراہم کیا جا سکے ۔

    ‎@itx_safder

  • میں نے کیسے لکھنا شروع کیا؟ . تحریر : فرزانہ شریف

    میں نے کیسے لکھنا شروع کیا؟ . تحریر : فرزانہ شریف

    میرا تعلق ایک پڑھے لکھے مذہبی گھرانے سے ہے بچپن سے ہی ہمارے گھر میں اخبار آرہا تھا اور جیسے ہی جوڑ توڑ کرکے اوردو پڑھنی آئی اخبار بہت شوق سے پڑھنی شروع کی پھر جب اردو ٹھیک سے پڑھنی اگی تو بچوں کا کوئی رسالہ ایسا نہیں جو میں نے پڑھا نہ ہو عمروعیار سے لیکر ٹارزن تک نونہال سے لیکر ننھی کلیاں تک ہر رسالہ پڑھا پھر تھوڑی بڑی ہوئی 6th میں تو عنبر ناگ ماریا ایک ناول ہوتا تھا قسط وار اور اس کی کئی سو قسطیں میں نے پڑھ لی تھیں پھر ایسی دلچسپی پیدا ہوئی کہ سٹڈی کے ساتھ ساتھ میرا فیورٹ مشغلہ بچوں کے ناول پڑھنا تھا پھر عمران سیریز بھی بہت پڑھا میری دونوں باجیاں شعاع خواتین ڈائجسٹ پڑھتی تھیں ان سے چوری چھپے ان کے ڈائجسٹ بھی پڑھنے شروع کردیے تھے سمجھ اتنی نہیں آتی تھی پھر بھی اچھا لگتا تھا پڑھنا ۔ پھر باجیاں دونوں مدرسے چلی گئیں پڑھنے کیلئے یوں ڈائجسٹ پڑھنے کا سلسلہ وقتی طور پرختم ہوگیا اخبار آنا بھی بند ہوگیا کیونکہ گھرمیں میں اور میرے بڑے بھائی تھے بھائی جان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنی پریکٹس کے علاوہ کچھ کرسکیں ۔یوں ہمارے گھر اخبار آنا بند ہوگیا اخبار جہاں بھی آتا تھا وہ بھی بند ہوگیا والد صاحب بیرون ملک تھے ۔لیکن پھر میرا پڑھنے کا سلسلہ رک نہیں سکا تھا سکول کے راستے پر ایک پولٹری فارم تھا وہاں ایک بزرگ نما انکل وہ باقاعدگی سے اخبار لیتے تھے ان سے بولا کہ اخبار کے ساتھ جو بچوں کا ہفتہ وار میگزین آتا ہے وہ مجھے دے دیا کریں وہ انکل اتنے اچھے تھے سکول واپسی پر میرے لیے سنبھالا ہوا وہ میگزین مجھے دے دیتے تھے یوں یہ سلسلہ چلتا رہا پھر میں نے بچوں کے اخبار میں لکھنا شروع کیا بہت پذیرائی ملنے لگی ہر دوسرے ہفتے میری کہانی چھپی ہوتی تھی بھائی جان کو جب پتہ چلا میری کہانیاں بچوں کے میگزین میں چھپنی شروع ہوگی ہیں تو بہت خوش ہوئے آدھے صفحے کی کہانی ہوتی تھی لیکن فیلنگز ایسی ہوتی تھیں جیسے بہت بڑا معرکہ مار لیا ہو بھائی جان نے مشورہ دیا کہ اپنی کہانیاں کاٹ کر ایک رجسٹر پر چسپاں کرتی جاو ۔میں نے ایسا ہی کیا جب خوش ہونا ہوتا تھا وہ رجسٹر نکال کر اپنی لکھی کہانیاں پڑھتی رہتی تھی ۔ایسا معصوم بچپن تھا.

    پھر جب اور بڑی ہوئی اپنی پاکٹ منی سے پیسے بچا کر ڈائجسٹ اور ہسٹری کی بکس لے کر پڑھنی شروع کی امی جی سے چوری چھپے امی جی تعلیمی نصاب کے علاوہ ڈائجسٹ پڑھنے کے سخت خلاف تھیں ان کا خواب تھا کہ ان کی سب اولاد اعلی تعلیم یافتہ ہو۔یوں سٹڈی کے ساتھ چوری چھپے اتنی بکس پڑھیں کہ نام گنوانے شروع کروں تو ختم نہ ہوں پھر پاکستان سے بیرون ملک اگی اپنی فیملی کے ساتھ اور یہاں آکر اتنی بیزی ۔گھر کی الماری بکس سے بھری لیکن پڑھنے کا وقت ہی نہیں اب بس بچپن میں لکھنے والا جنون واپس آچکا ہے یوں آجکل آپ میرے آرٹیکل پڑھ رہے ہیں اور جو میری حوصلہ افزائی کررہے ہیں خاص طور پر باغی ٹی وی جس نے مجھے لکھنے کا موقع دیا میری کزنز میرے بہین بھائی اور آپ سب اللہ سبحانہ وتعالئ ” سب کو صحت و تندرستی عطا فرمائے، اور جو بیمار ہیں انکو شِفا کاملہ نصیب فرمائیں آمین اللھم آمین ‘
    "اللہ تبارک و تعالئ آپ سب کی جائز حاجات اپنی رحمت کے صدقے اپنی آعلئ صفات کے صدقے
    .اپنے "حبیب حضرت محمد مصطفئ صلی اللہ علیہ والہ وسلم” کے طفیل قبول و مقبول فرمائیں آمین اللھم آمین

    @Farzana99587398