Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پانچ صحبتیں تحریر: عقیلہ رضا

    امام ابو جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    پانچ لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
    1۔جھوٹے سے کیونکہ اس کی صحبت فریب میں مبتلا کر دیتی ہے۔
    2۔بے وقوف سے کیونکہ جس قدر وہ تمھاری منفعت چاہے گا اسی قدر نقصان پہنچے گا۔
    3۔کنجوس سے کیونکہ اس کی صحبت سے بہترین وقت راٸیگاں جاتا ہے۔
    4۔بزدل سے کیونکہ یہ وقت پڑنے پر ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
    5۔فاسق سے کیونکہ ایک نوالے کی طمع میں کنارہ کش ہو کر مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
    امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کی بیان کردہ پانچ صحبتیں حقیقتاً بہت نقصان دہ ہے۔
    پہلی صحبت جھوٹ بولنے والے کی!
    جو شخص جھوٹ بولنے کاعادی ہوگا وہ اپنے ساتھ جڑے ہر شخص کو دھوکہ میں مبتلا کرے گاکیونکہ وہ سچ بولنے کا عادی نہیں اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ہر ایک کو پھساۓ گا نتیجتاً وہ لوگ اس کے جھوٹ اور فریب کے باعث مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔بعض و اقات ایسا ہوتا ہے ہماری زندگی میں کہ ہم دوسروں کے جھوٹ بولنے کی عادت کے باعث بہت نقصان اٹھا جاتے ہیں جس کے باعث لڑائی جھگڑا اور فساد پیدا ہوتا ہے تو بہتر ہےکہ ہم پہلے ہی اس فساد سے بچنے کی کوشش کریں۔
    دوسری صحبت بےوقوف کی!
    بے وقوف کی صحبت اگر وقتی طور پر فاٸدہ دے رہی ہےجس کے باعث بہت سے لوگ بہت خوش ہوتے ہیں تو یاد رکھیں اسی قدر نقصان کے لیے بھی تیار رہنا چاہیئے۔
    تیسری صحبت کنجوس کی!
    کنجوس کی صحبت آپ کے بہترین وقت و لمحات کی دشمن ہے۔
    چوتھی صحبت بزدل کی!
    بزدل کی صحبت جب آپ اختیار کرتے ہیں تو ایسا شخص کبھی بھی مشکل وقت میں آپ کے ساتھ نہیں ہوسکتا بلکہ مشکل پڑتے دیکھ کر وہ سب سے پہلے بھاگے گا۔کیونکہ بزدل ہمیشہ اپنی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔
    پانچویں صحبت فاسق کی!
    فاسق شخص ہمیشہ لالچی سے بھرا ہوا ہوتا ہے یہاں تک کہ ایک نوالے کی لالچ میں مبتلا ہوکر وہ آپ کو مصیبت میں چھوڑ دے گا۔
    ہم میں سے اکثر لوگ ایسے لوگوں کی صحبت یا دوستی کے باعث نقصان اٹھا چکے ہوں گے نتیجتاً نفرت،دشمنی،بغض جیسی براٸیاں پیدا ہوٸیں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم کسی کی صحبت اختیار کرنے سے پہلے اس کی اخلاقی اقدار کو دیکھ لیں نا کہ اس کے ظاہر سے متاثر ہوکر پھر نقصان اٹھا کر اس کو ہمیشہ کوستے رہیں۔ یاد رکھیں اچھی اور بری صحبت انسان پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔
    ہمارے اسلاف کے ارشادات ہمارے لیے بہترین راہنماٸی ہیں اگر ہم اس پر عمل کریں تو نہ صرف یہ کہ ہم خود بہتر ہوسکتے ہیں بلکہ معاشرے کی بہتری میں بھی اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان تیسرا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : دونوں ٹیموں کے مابین میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا کرکٹ ویسٹ انڈیز کے مطابق فیس ماسک اور سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے لوگ اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے آسکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چار میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔پہلا ٹی 20 میچ بارش کی وجہ سے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا تھا ۔دوسرے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو سات رنز سے شکست دی تھی پاکستان کی جانب سے تیسرے ٹی 20 میچ میں پلینگ الیون میں کوئی تبدیل نہ کیے جانے کا امکان ہے جبکہ چوتھا میچ 3 اگست کو شیڈول ہے

    خیال رہے کہ پاکستانی کرکٹر اعظم ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے زخمی ہو گئے تھے جس کے باعث انہیں تیسرے میچ میں نہیں کیھلایا گیا تھا گا جبکہ ڈاکٹر ز کا کہنا ہے کہ چوتھے میچ میں کھیلیں گے یا نہیں پیر کے روز زخم کا معائنہ دوبارہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا –

    کرکٹراعظم خان ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے زخمی

    ایک مستند آلراؤنڈر بننے کا خواہشمند ہوں، حسن علی

  • تلخ معاشرتی رویٌے   تحریر : زارا سیٌد

    تلخ معاشرتی رویٌے تحریر : زارا سیٌد

    رویّہ انسان کی عادت کو کہتے ہیں۔ ہر انسان دوسرے سے جس طرح کا سلوک کرتا ھے اس کو ہم انسانوں کے معاشرتی رویّے کہہ سکتے ہیں۔ ایک انسان کے رویّوں ، اُس کی عادتوں اور اس کے طور طریقوں کو بنانے اور بگاڑنے میں بہت سے عوامل و اسباب ہوتے ہیں ۔انسان جس گھر میں پیدا ہوتا ہے وہ اپنے والدین سے جو بھی سچ جھوٹ کچھ سنتا ہے اور پھر جو کچھ بولتا ہے ۔ اس سننے اور بولنے کے نتیجے میں عمل اوررد عمل کی جو تشکیل ہوتی ہے۔ وہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ انسان کے رویّوں کی تشکیل میں دوسرا اہم عمل اسکے علاقہ اور محلے کا ہے۔ اس کے دوست، احباب ہیں۔ جن گلیوں میں وہ پیدا بڑھتا ہے ، کھیلتا کودتا ہے تو وہاں پر جن کیفیات سے اُسے گزرنا پڑتا ہے، جیسے مشہور مقولہ ہے”انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔

    آج کل کے دور کو دیکھا جائے اور عام لوگوں کے رویوں اور سوچ کا مشاہدہ کیا جائے تو پتا یہ چلتا ہے ہے کہ ہم مالی، معاشرتی اور سماجی سطح پر زوال پذیر ہیں۔ہمارے عام رویے ایک دوسرے سے بغض اور منافرت کا جذبہ لئے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں خلوص کی ہلکی سی جھلک نظر آ جاتی ہے اور دل کو اطمینان ہوتا ہے کہ انسان کا دل ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہے مگر اجتماعی طور پر معاشرے کے ہر فرد کے رویے سے یہ بات ظاھر ھوتی ہے کہ اب انسانوں میں وہ محبت نہیں رہی جو پہلے تھی ۔

    عوام میں ایک رویہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ کسی بھی حادثہ یا غیر معمولی واقعے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے اور اپنے لوگوں کی سخت تذلیل کی جاتی ہے۔ یہ رویہ عام ہوتا جارہا ہے اور ہر کوئی اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے ویڈیوز ، بلاگز، کالمز، اور ٹویٹس کا سہارا لیتا ھے ۔

    یہ تنقید اگر ان عوامل کی نشاندہی کے لئے ہو جن پر توجہ دے کر ہم اجتماعی رویوں میں بہتری لا سکتے ھوں تو ایسی تنقید اصلاح کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے ۔ لیکن یہ تنقید صرف ریٹنگ حاصل کرنے ، پوسٹ کے زیادہ لائکس یا اپنے آپ کو دنیا سے الگ دکھانے کے لیے کی جاتی ہے ۔

    ان سخت اور تلخ رویوں کی وجہ سے اس قدر بے یقینی کی فضا ھے کہ ھم کسی پر اعتبار ھی نہیں کرتے ھم ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بھی کتراتے ھیں۔

     ھماری چھوٹی چھوٹی باتیں اور چھوٹی چھوٹی نیکیاں معاشرے کو خوبصورت بناتی ہیں اور وہی باتیں دوسروں کے لئے مثال بنتی ہیں۔ اگر ہم اچھی باتوں کو اپنائیں تو یہ معاشرہ خوبصورت نظر آئے گا اور اگر برائی پھیلائیں تو معاشرہ بدنما نظر آئے گا۔ ہمیں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے بچوں کی بہترین تربیت کرنی ھو گی تاکہ وہ بڑے ھو کر معاشرے کی خوبصورتی کا باعث بنیں۔

    سکولز اور کالجز میں ایسی کلاسز ھونی چاھیے جن میں معاشرے کی رہنمائی کرنے والے لوگوں کو مدعو کیا جائے جنہوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کر کے خود کو منوایا ہو جو خود اس معاشرے کے لیے ایک مثال ہوں تاکہ بچے ان سے سیکھ سکیں اور ان کے نقش قدم پر چل کر اس معاشرے کو سنوار سکیں ۔

    ٹویٹر : @Oye_Sunoo

  • مقدسہ مقامات  کی زیارت  مسجد البیعہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مقدسہ مقامات کی زیارت مسجد البیعہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مستقل جدہ فروری 2020 میں شفٹ ہوا ، آتے ہیں کورونا لاک ڈاون شروع ہوگیا ، بہت شدید لاک ڈاون میں ہی رمضان المبارک بھی آیا اور زندگی میں پہلی بار نماز تراویح گھر میں ادا کی ایک کمرے کے ساتھی ایک میں اور ایک پڑوسی ٹوٹل تین افراد ہی جاننے والے تھے بلڈنگ میں تو تینوں مل کر نمازیں اور تراویح گھر میں ادا کرتے رہے اور نماز عید بھی گھر میں ادا کی ، ہر اذان میں کہا جاتا کہ نماز گھروں میں ادا کریں وقت پر اذان ہوتی مگر کوئی یارا نہ تھا گھر میں نماز ادا کرنے کے علاوہ فیملی بھی پاکستان میں تھی شہر بھی نیا اور اوپر سے لاک ڈاون نہ کوئی جاننے والا نہ کوئی بات کرنے والا ایک عجیب نفسیاتی مریضوں جیسی کیفینت بن گئی تھی آفس سے گھر اور پھر گھر آکر بندہو جانا کئی دن تو 24 گھنٹے کے لاک ڈاون میں گزرے ، اسی دوران ایک شہر سے دوسرے شہر جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ، کچھ عرصہ بعد نرمی شروع ہوئی تو ایک شہر سے دوسرے شہر جایا جا سکتا تھا مگر حرم میں جانے کی اجازت نہیں تھی جدہ سے مکہ جایا جاسکتا تھا
    دوستوں کے ساتھ مکہ جانے کا پروگرام بن گیا اس بار ہماری منزل منیٰ میں جمرہ عقبہ کے قریب موجود "مسجد البیعہ "تھی سیکیورٹی کی وجہ سے تقریباً تمام راستے بند تھے گاڑی تھوڑی دور پارک کی اور سکیورٹی پر معمور افراد سے مسجد تک پیدل جانے اور جلد واپس آجانے کے وعدے پر اجازت لی جو کچھ پس و پیش کے بعد مل گئی اور ساتھ ماسک لگا کر رکھنے اور دوستوں کے درمیان سماجی فاصلہ برکرار رکھنے کی یاددہانی بھی کروادی گئی جو سب نے سر ہلاکر قبول کرلی
    مسجد البیعہ جمرہ عقبہ (بڑے شیطان ) سے صرف تین سو میٹر کی دوری پر ہے چار دیواری موجود ہے مگر بغیر چھت کے مسجد ہے اور سائیڈ کی دیواروں میں کچھ قدیم تحریریں جو کہ پتھروں پر لکھی ہیں موجود ہیں
    مسجد کے ساتھ ساتھ درجنوں ٹوٹیاں پانی پینے کیلئے لگی ہیں چونکہ حج کے دوران بہت رش ہوتا ہے اس لئے حاجیوں کی سہولت کیلئے پانی کا مستقل انتظام کیا گیا ہے لاک ڈاون کی وجہ سے آج ہمارے علاوہ یہاں کوئی بندہ بشر موجود نہیں تھا مگر جب پانی چیک کیا تو الحمد اللہ پانی آرہا تھا مگر شدید گرم اسی گرم پانی سے وضو کیا اور بسم اللہ پڑھ کر مسجد میں داخل ہوئے ، مسلمانوں نے مسجد البیعہ کے محراب کو بھی نہیں بخشا اپنے مزاج کے عین مطابق کچھ نہ کچھ تحریر کر گئے جو کہ بالکل بھی مناسب بات نہیں
    جب نبی کریم ﷺ کو دین اسلام کی دعوت اعلانیہ پیش کرنے کا حکم آیا تو نبی کریم ﷺ نے حج کیلئے آنے والے افراد اورقبائلی سرداروں کو اپنی دعوت پیش کرنی شروع کی ، بعثت کے دسویں سال آپ ﷺکی ملاقات مدینہ منورہ سے آئے ہوئے 6افراد سے جمرہ عقبہ کے قریب جبل ثبیر کی گھاٹی میں ہوئی اور انہوں نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا اور واپس مدینہ منورہ پہنچ کر اوس اور خزرج کے قبائل تک دین حق کی دعوت پہنچائی ، نبوت کے 12 ویں سال 12 افراد حج پر آئے اور آپ ﷺ سے جمرہ عقبہ کے قریب بالکل اسی مقام پر ملاقات کی اور بیعت کی اور یہ بیعت ” بیعت عقبہ اولی ٰ ” کہلاتی ہے اسی جگہ پر یہ مسجد موجود سے جسے مسجد البیعہ کہا جاتا ہے
    نبوت کے 13 ویں سال مدینہ منورہ سے 75 خواتین اور مرد آئے انہوں نے ہر حال میں نبی کریم ﷺ کا ساتھ دینے اچھائی کی تلقین اور برائی سے روکنے پر آپ ﷺ کی بیعت کی یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں سال ہا سال سے جنگ و جدل میں مصروف دونوں قبائل اوس اور خزرج نے اپنی صدیوں پرانی دشمنی کو خیر باد کہا اور صلح اور امن کا معاہدہ کیا اس معاہدے میں اوس و خزرج کے علاوہ مدینہ میں بسنے والے یہود بھی شامل تھے یہ دوسری بیعت تھی ، دوسری بیعت ہی اصل میں اس عظیم الشان اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا پیش خیمہ ثابت ہے اس بیعت کے کچھ عرصہ بعد نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اور پہنچتے ہی سب سے پہلے جو کام کیا گیا وہ مسجد قباء کی تعمیر تھی جس کا ذکر گزشتہ تحریر میں تفصیل سے آچکا ہے
    ہم اللہ رب العالمین سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سب سنتوں پر عمل کرنے والا سچا مسلمان بنا دے ، آمین یا رب العالمین

    جدہ – سعودیہ
    @mmasief

  • ہمارا امتحانی نظام  تحریر  آصف گوہر

    ہمارا امتحانی نظام تحریر آصف گوہر

    امتحان عربی زبان کا لفظ ہے جس کی معنی ابتلا آزمائش اور مشکل وقت تعلیمی نظام میں جانچ پرکھ کا وہ طریقہ کار جس سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ طالب علم نے پورے تعلیمی سال میں جس درجہ کا علم حاصل کیا وہ اس میں کس حد تک کامیاب رہا۔
    امتحان اور نصاب کا گہرا تعلق ہے نصاب درسی کتب کا علمی مجموعہ اور امتحان جانچنے کا آلہ ہے۔
    ہمارے ہاں امتحانات طلباء کے لیے ابتلا بن کر رہ گئےہیں ہمارے ہاں امتحانی نظام مضبوط قوت حافظہ والے طلباء کے لئے سونے کی چڑیا سے کم نہیں یہ طلباء کل نمبروں میں سے صرف پانچ یا دس نمبروں کی کمی کے ساتھ اعلی درجہ میں پاس ہوکر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مضمون کے پچیس تیس امتحانی سوالات ہیں سوالیہ پرچہ جات انہی میں سے بنتے ہیں اور ذہین اور فطین طلباء ان کو رٹ رٹا کر کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہیں اور کمزور ذہن طلباء بھی زور لگا کر پاسنگ مارکس لے ہی جاتے ہیں ۔یم نے طلباء کو نمبرنگ مشین بنا کر رکھ دیا ہے۔
    پنجاب کے موجودہ وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس امتحانی بورڈز کی تقریب تقسیم انعامات کے موقع پر یہ کہتے سنے گئے کہ یہ کیا مذاق ہے کہ طالب علم گیارہ سو میں سے 1093 نمبرز حاصل کئے ہوئے ہیں انہوں نے اس موقع پر امتحانی نظام میں اصلاحات متعارف کروانے کا عندیہ بھی دیا ۔
    یہی وجہ ہے کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد طلباء کو انجینئرنگ اور میڈیکل کالجز میں داخلہ کے لئے انٹری ٹیسٹ سے گزارہ جاتا ہے اور اس ٹیسٹ میں بہت سارے وہ طلباء ناکام ہو جاتے ہیں جنہوں نے بورڈز کے امتحانات میں اعلی نمبر حاصل کئے ہوتے ہیں اور یہ ہمارے موجودہ امتحانی نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    امتحان کی عملداری کے طریقہ کار پر بات کرتے ہیں امتحانی بورڈز ریگولیر اور پرائیویٹ طلباء سے سالانہ اور سپلیمنٹری امتحانات میں شامل ہوبے کے لئے امتحانی فیس کے نام پر بھاری رقوم وصول کرتا ہے جس سے یہ بورڈز مالی طور پر امیر ترین ادارے بن چکے ہیں ۔
    بورڈز نے طلباء کو امتحان کے نام پر ذہنی اذیت دینے کے کئ طریقے وضع کر رکھے ہیں طلباء کو اپنے ہم سکول اور ہم جماعتوں سے محروم رکھنے کے لئے پانچ پانچ طلباء کے گروپ بنا کر دور دراز علاقوں کے امتحانی مراکز میں بھیجا جاتا ہے جس سے طلباء کو گھروں سے دور امتحانی مراکز میں پہنچنے کے لئے میلوں سفر کرنا پڑتا ہے جس سے طلباء پرچہ شروع ہونے سے قبل ہی جسمانی و ذہنی طور پر تھک جاتے ہیں ۔
    پھر کمرہ امتحان کا سیٹنگ پلان روزانہ تبدیل کیا جاتا ہے جس سے کئ طلباء پریشانی کے عالم میں ہر پیپر کے دن اپنے بیٹھنے کی جگہ تلاش کر رہے ہوتےہیں ۔پرچہ شروع ہوتے ہی کمرہ امتحان میں نگران عملہ کی طرف سے دھمکی آمیز ھدایات آنی شروع ہوجاتیں ہیں اور ساتھ ہی جامہ تلاشی کا عمل ماحول کو مزید وحشتناک بنا دیتا ہے اوپر سے مزید ظلم کہ ہر چھاپہ مار ٹیم اور موبائل انسپکٹر نے آکر اپنی کارکردگی دیکھانے کے لیے دوبارہ تلاشی کا عمل شروع کرنا ہوتا ہے جس سے طلباء مزید خوف زدہ بھی ہوتے ہیں اور ان کا قمیتی وقت الگ سے ضائع ہوتا ہے ۔
    اگر کوئی طالب علم سوالیہ پرچہ میں موجود ابہام بارے نگران سے کوئی بات پوچھنے کی جسارت کر بیٹھے اس کو ڈانٹ کر فوری چپ کروا دیا جاتا ہے۔کمرہ امتحان میں روشنی اور ہوا کا بھی مناسب انتظام نہیں ہوتا ۔
    اس کے بعد سوالیہ پرچہ جات کی جانچ پڑتال کے لئے بھی ایسے افراد کو تعینات کیا جاتا ہے جن کی اکثریت زیادہ پیسے بنانے کے چکر میں جلدبازی کا مظاہرہ کرتی ہے جس سے جانچ کے کام کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے۔
    عرب ممالک نے امتحانی نظام کو طالب علم دوست بنایا ہے نگران عملہ مسکراہٹوں کے ساتھ طلباء استقبال کرتا ہے طالب علم کو بسکٹ چاکلیٹ پانی کی بوتل اس کی سیٹ پر موجود ملتی ہے اور نصف وقت کے بعد قہوہ کے ساتھ تواضع الگ ۔
    اگر ہم اپنے مالی وسائل کی وجہ سے اپنے طلباء کو درج بالا سہولیات فراہم نہیں کر سکتے تو گھروں کے قریب امتحانی مراکز خوش اخلاق عملہ اور اچھا ماحول تو مہیا کیا ہی جاسکتا ہے۔
    امتحانی نظام میں اصلاحات کی سخت ضرورت ہے نمبرنگ کی بجائے گریڈنگ سسٹم اور سمیسٹر سسٹم اپنایا جائے۔ اس سال سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ پنجاب نے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے لئے جو لارج سکیل اور سکول بیسڈ اسسمنٹ کا نظام متعارف کروایا ہے اس کا دائرہ کار سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ کلاسز تک بڑھایا جائے ۔
    آصف گوہر @EducarePak

  • لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ  تحریر: نصرت پروین

    لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ تحریر: نصرت پروین

    "کبھی مایوس مت ہونا اندھیرا کتنا گہرا ہو”
    آج مایوسی چھوت کی بیماری کی طرح لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ ہر کوئی اپنے غموں کے بوجھ لادے ہوئے مایوس نظر آتا ہے۔ کوئی رزق سے پریشان ہے، کوئی جسمانی بیماری میں مبتلا ہے، کوئی رشتوں کے غم لئے ہوئے ہے۔ کوئی عہدہ نہ ملنے پر پریشان ہے اوربعض دین کے راستے پر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تو یاد رکھیں کہ ایمان والے تو زیادہ آزمائے جاتے ہیں اور پھر آزمائش کے بعد وہ دعائیں بھی قبول ہوتی نظر آتی ہیں۔ جنہیں ہم بھول چکے ہوتے ہیں۔ آپ کا محبت کرنے والا رب اپنی بے پناہ رحمت، فضل اور احسان آپ پر نچھاور کرتے ہوئے آپ سے مخاطب ہے۔ الله رحیم و کریم فرما رہے ہیں:

    لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ
    ترجمہ: الله کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
    تو مایوس نہ ہوں آپ نے اگر کچھ کھو دیا ہے تو الله رب العزت آپکو اس سے بہتر عطا کرے گا۔ اگر آپکو لگتا ہے کہ آپ بہت سے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں تو الله کی رحمت آپکو دعوت دے رہی ہے کہ آئیں توبہ کر لیں وہ رحیم ہے وہ الله آپکو رسوا نہیں کرے گا۔
    آپ انبیا کی زندگیوں سے سیکھیں۔ انبیا نے ہر دور میں آزمائشوں کو جھیلا۔ لیکن کبھی مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے ہمیشہ الله کی رحمت کو آواز دی اور الله تعالیٰ نے اپنی رحمت سے وہ تدابیر کی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور یقین پختہ ہو جاتا ہے۔ کہ الله کبھی بھی انسان کو رسوا نہیں کرتا۔
    سیدنا یونس علیہ السلام کو دیکھیں۔ جب وہ اندھیرے میں تھے۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا ، پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا اور پھر رات کا اندھیرا یہ سب اندھیرے جمع تھے۔ انہوں نے اندھیرے میں اپنے رب سے فریاد کی۔

    لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۸۷﴾ۚ ۖ
    ترجمہ: الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ظالموں میں ہوگیا۔
    (سورہ انبیاء: 87)
    الله تعالیٰ نے ان کی فریاد قبول کی اور مچھلی نے الله کے حکم سے آپ علیہ السلام کو اگل دیا۔ تو انسان بھی جب مشکل میں ہو تو رب العزت سے اسکی توحید بیان کر کے اپنی خطاؤں کا اقرار کر کے ایسے فریاد کرے۔ الله کی رحمت تو بے شمار ہے۔

    سیدنا ابو ھریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلہ الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب الله نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے پاس موجود اپنی کتاب میں لکھ دیا: میری رحمت میرے غصے پر غالب ہوگی۔
    (صحیح مسلم:6969)
    سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر تم میں سے جب کوئی بیدار ہونے پر سنسنان زمین میں اپنے گمشدہ اونٹ کو پالے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں۔
    (مسلم:6961)
    آپ سیدنا زکریا علیہ السلام کی زندگی سے سیکھیں۔ انہوں نے اپنے رب سے صالح اولاد کی دعا کی۔ اور الله رب العزت نے اس کے باوجود کہ انکی بیوی بانجھ تھی اور وہ خود بوڑھے تھے انہیں سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی خوشخبری سنائی۔ آج کتنے ہی لوگ ہیں جو بے اولاد ہیں اور وہ مایوسی کی لپیٹ میں لوگوں سے گلے شکوے کرتے ہیں کہ الله اولاد نہیں دے رہا۔ تو یہاں الله رب العزت تسلی دے رہا ہے کہ جو رب اس طرح زکریا علیہ السلام کو اولاد جیسی نعمت سے نواز سکتا ہے وہ رحیم و کریم رب آپکو کیسے محروم کر سکتا ہے۔ اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کو دیکھیں انہوں نے اپنے رب سے فریاد کی اور بہترین صبر کا مظاہرہ کیا اور الله نے کیسے انہیں سیدنا یوسف علیہ السلام سے ملایا۔سیدنا یعقوب علیہ السلام کی یہ فریاد آپ بھی اپنی زندگی میں شامل کر لیں لوگوں کو نہ بتائیں کہ میں بہت تکلیف میں ہوں اپنے رب کو پکاریں۔ اسی سے فریاد کریں۔

    قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
    ترجمہ: انہوں نے کہا کہ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں مجھے اللہ کی طرف سے وہ باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے ۔
    (سورہ یوسف: 86)
    آپ غور کریں کیسے الله سبحان و تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو ایک کنویں کے توسط سے بادشاہی عطا کی۔
    سیدنا نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سال تبلیغ کے باوجود جب ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا ہوئے وہ بے بس ہو گئے تو اپنے رب کو اپنی بے بسی بتائی تو الله نے کیسے ان کی مدد کی اور نافرمانوں کو ہلاک کر دیا تو جب آپ بے بس ہوں تو آپ بھی اپنے رب کو بتائیں۔

    فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ ﴿۱۰﴾
    ترجمہ:پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر ۔
    (سورہ القمر: 10)
    سیدنا ایوب علیہ السلام کی زندگی دیکھیں الله پاک نے ان سے کتنا سخت امتحان لیا جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ اولاد مال سب کچھ چلا گیا۔ شہر کے ایک ویران گوشے میں آپ نے سکونت اختیار کی۔
    یزید بن میسرہ فرماتے ہیں جب آپ کی آزمائش ہوئی تو اہل و عیال مر گئے۔ مال فنا ہوگیا۔ کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی۔ آپ علیہ السلام الله کے ذکر میں اور بڑھ گئے اور کہنے لگے: اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے۔ مال دیا اولاد دی۔ میرا دل بہت مشغول ہوگیا تھا۔ اب تونے سب کچھ لے لیا میرے دل کو ان فکروں سے پاک کر دیا۔ اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہیں رہا۔
    (ابن ابی حاتم)

    وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ﴿ ۸۳﴾ۚ ۖ
    ترجمہ: ایوب ( علیہ السلام ) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔
    (سورہ انبیاء:83)
    سیدنا ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ اور ثابت قدمی کا بہترین نمونہ تھے۔ آپ نے الله سے رحمت کی دعا کی تو الله نے آپکو سب کچھ واپس لوٹا دیا۔
    آج اپنا جائزہ لیجیے۔ آپ کنتے فی صد مایوس ہیں؟ اپنی زندگی سے مایوسی کے پہاڑ کو نکال کر الله کی رحمت سے امید لگائیں۔ زندگی اگر آپ سے کوئی امتحان لے رہی ہے تو مایوس نہ ہوں انبیا کی زندگیوں کا مطالعہ کریں ان کا لائحہ عمل اپنائیں اور الله کی رحمت کے حصار کو محسوس کریں۔ اور پھر الله کی مدد ایسے آپ تک آئے گی کہ آپکو لگے گا معجزہ ہوگیا۔
    جزاکم الله خیراًکثیرا
    @Nusrat_writes

  • مرد نہیں خراب، سسٹم خراب ہے تحریر: عتیق الرحمن

    مرد نہیں خراب، سسٹم خراب ہے تحریر: عتیق الرحمن

    موجودہ حالات و واقعات کے پیش نظر آجکل سب کی تنقید کا مرکز مرد بنا ہوا ہے کیونکہ زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور روز کسی کی معصوم بچی یا بچہ کسی نفس کے ہاتھوں غلام کے وحشی پن کا شکار ہورہا ہے۔ حتی کہ کچھ بیمار ذہنیت کے افراد کی حرکتوں کی وجہ سے معاشرے میں مرد کو جانور سے تشبیہہ دی جانے لگی ہے۔ لیکن کیا یہ سب اب شروع ہوا ہے؟ تو جواب ہے ہر گز نہیں، یہ تمام جرائم ازل سے موجود ہیں اور ان جرائم کے پیش نظر ہم سے پہلے قومیں اللّہ کے غم و غصہ کا شکار ہوئیں اور صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں جن کے نشانات آج بھی موجود ہیں تاکہ لوگ عبرت حاصل کرسکیں
    پھر سوال بنتا ہے کہ جب ہماری حرکتیں بھی ویسی ہی ہیں تو ہم پر عزاب کیوں نہیں آتا تو جواب ہے کہ اللّہ کے نبی ص کی وجہ سے اللّہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ اس امت کو قیامت تک معافی کا موقع ملے گا لیکن اسکے ساتھ ساتھ معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنے کے لئے اللّہ نے ہمیں ایک سسٹم دیا جو کہ قرآن پاک میں مکمل موجود ہے اور ہر پہلو کو گھیرے ہوئے ہیں تاکہ انسان خود مہذب معاشرے کی خواہش کو اور اللّہ کے حکم کو پورا کرنے کے قابل ہوسکیں۔ تو اب سوال ہے کہ کیا وہ سسٹم ہم انسان رائج کرسکے تو جواب ہے بلکل نہیں ورنہ آج زنا بلجبر اور زیادتی کے کیسسز میں نمایاں کمی ہوتی
    اسلام اور شریعیت نے زنا اور زیادتی پر سزائیں مقرر کی لیکن ہمارا سسٹم اتنا کمزور ہے کہ وہ سزائیں لاگو ہی نہیں ہو رہی جسکی وجہ سے معاشرے کے بیمار ذہنوں سے سزا کا خوف ختم ہوچکا ہے کیونکہ انہیں پتا ہے وہ اس کمزور سسٹم سے باآسانی نکل جائیں گے جو آج رائج ہے۔ کتنے ہی زیادتی کے کیسسز میں مجرم کو ضمانت اس لئے مل جاتی ہے کہ تفتیش ٹھیک نہیں ہوتی یا پھر سزائے موت اس لئے نہیں ملتی کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اسکے خلاف ہیں تو پھر کیسے امید کرسکتے ہیں کہ معاشرہ ٹھیک ہوگا؟
    جب معاشرے کو ٹھیک کرنیوالا سسٹم ہی اتنا کمزور طریقے سے رائج ہے تو مرد کیسے خراب ہوگیا۔ مرد نہیں خراب بلکہ سسٹم کی کمزوری ہے جو گناہگاروں کو انکے کیفرکردار تک نہیں پہنچا پا رہا۔ پچھلے دنوں ایک اوباش کسی کے گھر میں زبردستی گھس گیا اور لڑکی کو برہنہ کرکے وڈیو بنائی اور پھر وائرل بھی کی اور سسٹم کو چیلنج کیا کہ ہمت ہے تو مجھے پکڑ کے دکھاؤ۔ ضرورت تو تھی کہ جیسے ہی وہ پکڑا جاتا اسے اسی وقت موقع پر سب کے سامنے سزا دی جاتی تاکہ دوبارہ کسی کی جرأت نہ ہوتی ایسی حرکت کرنے کی لیکن ابھی تک اسکی عدالتی کاروائی چل رہی اور بہت حد تک ممکن ہے یہ سالوں چلے گی اور پھر مظلوم تھک ہار کر خود ہی پیچھے ہٹ جائے گا اور وہ اوباش پھر سے کھلم کھلا کسی اور کے ساتھ یہ حرکت کرنے کی ہمت بھی کرے گا۔
    حضرت عمر رض کے بیٹے سے گناہ سرزد ہوا تو آپ نے اسے سب کے سامنے سو کوڑوں کو سزا سنائی۔ اسی کوڑے لگنے پر حضرت عمر رض کے بیٹے کی موت ہوگئی تو بیس کوڑے آپ رض نے اسکی قبر پر مارے تاکہ اسلام کا حکم پورا اور کوئی یہ نہ کہے کہ کم سزا دی
    کیا اس سزا کے بعد کسی کی جرأت ہوئی ہوگی دوبارہ ایسا گھٹیا کام کرنے کی۔ یہی وہ وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس دلدل میں دھنستا جارہا ہے اور ہم بجائے اسکا سدباب کرنے کے مرد کو جانوروں سے ملائے جارہے۔ وہی مرد ہمارا باپ بھائی بیٹا اور شوہر بھی ہے تو یہ بات انتہائی غلط ہے کہ "مرد جانور ہے” مرد جانور نہیں ہے لیکن شائد کچھ جانوروں نے مرد کا لبادھا ضرور اوڑھ لیا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں خرابیاں ہوتی ہیں لیکن انکو ختم کرنے اور روکنے کا قانون بھی ہوتا ہے تو اگر وہ قانون یا سسٹم کمزور ہو تو زیادہ قصور ان سسٹم لاگوں کرنیوالوں کا ہوتا ہے
    اللّہ نے چودہ سو سال پہلے ہمیں یہ سسٹم دیا معاشرے کو بہتر کرنے کا تو اسکا مطلب تب بھی یہ خرابیاں موجود تھیں تو بنایا گیا نا ایسا نظام لیکن تب رائج ہوگیا تو معاشرہ ٹھیک ہوگیا اور اب رائج نہیں ہے تو جرم بڑھ رہے ہیں
    ہمارے سامنے مثالیں ہیں جب کسی کو سزائے موت ہوتی ہے تو کیا انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان کا منفی چہرہ بنانے کی کوشش نہیں کرتی؟ وہ تو مانتے ہیں نہیں اس سزا کو کہ کسی کو سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے
    کوئی بھی پیدا ہوتے ہی گناہگار نہیں ہوتا۔ ہمارا نظام اور معاشرہ اسے گناہگار بناتا ہے

    @AtiqPTI_1

  • وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے اور اپنی ذاتی تاثیر کو کیسے بہتر بنایا جائے۔  تحریر: زاہد کبدانی

    وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے اور اپنی ذاتی تاثیر کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ تحریر: زاہد کبدانی

    کیا آپ نے کبھی اپنے آپ سے کہا ہے: وقت ضائع کرنا بند کرو! اور ابھی تک ، یہ کام نہیں کیا؟ رکاوٹیں کئی شکلوں میں آتی ہیں۔ چاہے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے سکرول کر رہا ہو یا کھڑکی سے باہر گھور رہا ہو ، اس کے اثرات ایک جیسے ہیں – کم پیداوری چاہے آپ اپنی میز پر کتنا ہی وقت گزاریں۔ خوش قسمتی سے ، آگے بڑھنے میں مدد کرنے اور رکاوٹوں کو دور رکھنے میں مدد کرنے کے لئے کچھ نتیجہ خیز چیزیں ہیں۔ آئیے یہ پہچان کر شروع کریں کہ یہ رکاوٹیں کہاں سے آتی ہیں – تاخیر۔ تاخیر ہر ایک کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

    کام کرنے کی کوشش کرتے وقت پریشان ہونا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ بہت سی مصنوعات اور خدمات جو ہم استعمال کرتے ہیں وہ ہماری توجہ حاصل کرنے اور اسے زیادہ سے زیادہ دیر تک روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی سب سے طاقتور مثال سیل فون ہے۔ آپ کے فون کے لیے بہت سی مفید ایپس ہیں جو اگر آپ چاہیں تو کچھ فعالیت کو غیر فعال کردیتی ہیں۔ مثال کے طور پر ، آپ ان ایپس میں سے ایک سیٹ کر سکتے ہیں تاکہ ایک مخصوص لمبائی تک سوشل ایپس تک رسائی حاصل نہ ہو۔ اسی طرح کا سافٹ وئیر کمپیوٹر پر بھی ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کیا جا سکتا ہے۔ نیز ، سائٹ بلاکر آپ کی جس بھی ویب سائٹ سے پوچھیں اس تک آپ کی رسائی کو محدود کردے گی۔ خلفشار کو روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے فون کو اپنے بیگ میں رکھیں ، یا کم از کم اسے کام سے دور رکھیں۔
    اپنا ضائع شدہ وقت ٹریک کریں۔
    آپ کی پیداوری میں کوئی بہتری اس وقت تک نہیں لائی جا سکتی جب تک آپ پہلے یہ نہ پہچان لیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک ہفتے کے لیے اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں کا سراغ لگانا ایک عمدہ آغاز ہو سکتا ہے۔

    اگر آپ اپنے ساتھیوں کو ان کی پریشانیوں میں مدد کرنے میں وقت گزارتے ہوئے ، اپنے سوشل میڈیا پیجز پر سکرول کرتے ہوئے ، یا اپنے اصل کام کے علاوہ کچھ بھی پاتے ہیں تو یہ کام کرنے کا ایک اچھا حربہ ہوسکتا ہے۔

    بہت سی ایپس اور سافٹ وئیر کے ٹکڑے ہیں جنہیں آپ اپنی سرگرمی کو ٹریک کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ، لیکن آپ جس بھی طریقے سے کریں ، یہ دسرگرمیوں کا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت نہیںہ آپ کی پرواہ ہے۔ اس سے تاخیر کی بہت سی خواہش ختم ہو جائے گی۔

    ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے کاروباری کیریئر کا آغاز کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں جبکہ اپنے لیے اپنی زندگی کو قائم کرنے کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔ آپ کو مستقل مزاج ہونا پڑے گا۔ آپ کو وہی کرنا چاہیے جو آپ کہیں گے آپ کریں گے… ہر کوئی۔ سنگل دن آپ کو یقین کرنا ہوگا۔

    ہر چیز ایک سوچ سے شروع ہوتی ہے ، جسے پھر ایمان اور خواہش کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بنیاد ضروری ہے۔ سخت محنت اور تمام "کرنے” کے لیے یہ ڈھانچہ بالکل درکار ہے! پھر ، آپ اپنے منصوبے کو ایک ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد ، آپ اپنے اہداف اور مقاصد طے کرسکتے ہیں ، استقامت ، مستقل مزاجی ، ہوشیار کام اور اپنے ہنر میں لگن کو ملا سکتے ہیں۔

    آپ تمام شور کو ڈبو کر اور اہم چیزوں پر توجہ مرکوز کرکے وقت کے انتظام کے ماہر بن سکتے ہیں۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو آپ کو متوسطیت سے لے کر پیداوری تک لے جائیں گے۔ اس پر عمل کریں اور اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے میں تاخیر نہ کریں۔ اس سے تمام فرق پڑے گا۔

    @Z_Kubdani

  • کشمیر پریمئیرلیگ : پی سی بی بھارتی کرکٹ بورڈ کی مداخلت پر  برہم

    کشمیر پریمئیرلیگ : پی سی بی بھارتی کرکٹ بورڈ کی مداخلت پر برہم

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی ) کی جانب سے آئی سی سی کے متعدد ممبران کو کشمیر پریمیئر لیگ سے اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو واپس بلانے پر زور ڈالنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی :ترجمان پی سی بی کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت سے روک کر کھیل کو بدنام کیا ہے، کشمیر پریمیئر لیگ پی سی بی سے منظور شدہ ایونٹ ہے-

    ترجمان پی سی بی نے کہا کہ بی سی سی آئی نے ایک بار پھر آئی سی سی ارکان کے ذاتی معاملات میں مداخلت کی ہے،بی سی سی آئی کا یہ رویہ اسپرٹ آف کرکٹ کے برخلاف اور مکمل طور پر ناقابل قبول ہے-

    ترجمان پی سی بی کا کہنا تھا کہ پی سی بی یہ معاملہ آئی سی سی کے مناسب فورم پر اٹھائے گا-

    اس سے قبل جموں و کشمیر کی رہنما مشعال ملک کا کہنا تھا کہ ہرشل گبز کے کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں نے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے بھارت کشمیر پریمیئر لیگ کو ناکام بنانا چاہتا ہے کیونکہ کشمیر پریمیئر لیگ کے ساتھ لفظ کشمیر جڑا ہے بھارت لفظ کشمیر کو دنیا کو مٹانا چاہتا ہے-

    ہرشل گبز کے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا مشعال ملک

    مشعال ملک کاکہنا تھا کہ بھارتی انتہا پسند حکومت کھیل سے بھی خوفزدہ ہے عالمی پلئیرز کو کشمیر پریمیئر لیگ میں بھرپور رول ادا کرنا چاہیےآئی سی سی کو بھارتی اقدام کا نوٹس لینا چاہیے-

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔

    بھارت کی دھمکی پر انگلینڈ کے سپن باؤلر مونٹی پنیسر، میٹ پرایئر ودیگر نے لیگ سے دستبرداری کا اعلان کرد یا تھا تاہم سابق سری لنکن اوپنر تلکارتنے دلشان نے بھارتی دھمکیوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کیا ہے-

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    گویا جنوبی افریقہ کے اوپنرہرشل گبز نے بھی کے پی ایل سے دستبراداری سے اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی دباؤ غیر ضروری ہے بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے بھارتی بورڈ نے دباؤ ڈال کر مجھے کشمیر پریمیر لیگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی-

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

    ہرشل گبز نے کہا کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ مجھے آئندہ بھارت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا مجھے کرکٹ سے متعلق کام سے روکنے کی دھمکیاں دی گئیں-

  • کرونا پر قابو پانے کے لئے احتیاط اور ویکسینیشن ضروری تحریر:  محمد حماد

    کرونا پر قابو پانے کے لئے احتیاط اور ویکسینیشن ضروری تحریر: محمد حماد

    ملک میں کرونا ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے اور یومیہ کیسز کی شرح 7 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ کراچی سمیت بڑے شہروں میں یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور ماہرین اسے کرونا کی چوتھی لہر قرار دے رہے ہیں۔ کرونا کا ڈیلٹا ویرئنٹ بھی پاکستان میں پہنچ چکا ہے اور خدشہ اس بات کا ہے کہ اگر صورتحال کو جلد قابو نہ کیا گیا تو خدانخواستہ پاکستان میں بھی بھارت جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    اب سے چند ہفتوں قبل نیچے جاتے کیسز کے اچانک بڑھنے کی وجہ عوام کی غیر سنجیدگی اور بے احتیاطی بھی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کی شرح انتہائی کم ہے۔ ماسک کا استعمال جو کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے ایک بہترین عمل ہے اس پر عملدرآمد بھی انتہائی کم نظر آتا ہے۔ مارکیٹوں میں بے تحاشا رش سے نہ صرف سماجی فاصلہ برقرار نہیں رہتا بلکہ دکانداروں اور خریداروں کا ماسک کا استعمال نہ کرنا کرونا کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت اور ادارے ایس او پیز پر عمل کرانے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔

    کرونا کے خلاف ویکسینیشن کا عمل بھی ملک بھر میں جاری ہے۔ حکومت کے سخت اقدامات اور پابندیوں کی وارننگ کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے ویکسینیشن سینٹرز کا رخ کیا ہے جس کے سبب وہاں شدید رش دیکھنے میں آرہا ہے۔ کراچی میں ایکسپو سینٹر میں قائم ویکسینیشن سینٹر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جہاں عوام کی بڑی تعداد بغیر ایس او پیز اور سماجی فاصلے کے لمبی قطاروں میں کھڑی نظر آتی ہے۔ اسے اداروں کی نااہلی کہیں یا منصوبہ بندی کا فقدان لیکن اندیشہ یہی ہے کہ کرونا سے بچاؤ کے لئے بنائے گئے یہ ویکسینیشن سینٹرز حکومتی نااہلی کے سبب کرونا کے پھیلاؤ کا باعث نہ بن جائیں۔

    بلاشبہ احتیاط اور ویکسینیشن ہی کرونا کا پھیلاؤ روکنے کا واحد ذریعہ ہیں لیکن بڑھتے ہوئے کیسز اور اسپتالوں پر آنے والے دباو کے بائث حکومت لاک ڈاون جیسے سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اگر عوام چاہتی ہے کہ وہ اپنے کاروبار جاری رکھ سکے تو انھیں حکومت کی جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اپنے اور اپنے ادارے کے تمام افراد کی ویکسینیشن مکمل کرائیں۔

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو اس وبا سے محفوظ رکھیں تو اس کا واحد حل ویکسینیشن اور احتیاط ہے۔ ہمیں بطور قوم سنجیدگی اور اتحاد سے نا صرف اس وبا کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ اسے شکست بھی دینی ہے انشاء اللہ۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer,Find out more about his work on  Twitter  account