Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

    چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

    چینی کے استعمال کے نقصانات میں کینسر، موٹاپا، شوگر، سردرد، توانائی یک دم ختم ھونا اور ھارمون کا عدم توازن سرفہرست ھیں۔ جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں شوگر اور موٹاپے کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ چینی کے عادی افراد کو جب تک میٹھی چیز نہ ملے وہ ڈر اور ذہنی تناﺅ محسوس کرتے ھیں۔

    مٹھاس کی یومیہ ضرورت۔

    مردوں کے لیے ساڑھے 37 گرام اور عورتوں کے لیئے صرف 25 گرام ھے۔ جو دن بھر کی خوراک سے ھی پوری ھو جاتی ھے۔ جبکہ اوسطاً ہر پاکستانی روزانہ 62 گرام چینی اپنے جسم کا حصہ بناتا ہے ۔

    کولیسٹرول کا باعث۔

    تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں دوسری بیماریوں کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔اور چینی انسانی جسم میں خطرناک چربی کو بھی بڑھاتی ھے۔

    انسولین میں اضافہ

    ایک تحقیق کے دوران ٹائپ تھری ذیابیطس کی اصطلاح استعمال کی گئی،جو انسولین کی مزاحمت اور زیادہ چربی والی غذاؤں سے ھوتی ھے اسے دماغی ذیابیطس بھی کہا جاسکتا ہے۔
    چینی کے زیادہ استعمال سے دوران خون میں انسولین بڑھ جاتی ہے، اور اس کا اثر جسم کے خون کی گردش کے نظام اور شریانوں پر بھی پڑتا ہے، انسولین کی زیادہ مقدار سے شریانوں میں مسلز سیلز کی گردش معمول سے زیادہ تیز ہو جاتی ہے، جس سے ہائی بلڈپریشر اور اس کے بعد فالج یا دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

    چینی سے بھوک میں اضافہ :

    چینی انسان کے اندر بھوک کا احساس بڑھا دیتی ہے، زیادہ چینی کھانے سے دماغ میں جو پیٹ بھرنے کے احساس کی صلاحیت ہوتی ہے وہ بری طرح متاثر ھوتی ھے جس کی وجہ سے انسان کو ہر وقت بھوک کا احساس ہوتا رہتا ہے چاہے اس نے جتنا بھی زیادہ کھانا کھایا ہو۔ اس سے انسان بار بار کھانا کھاتا ھے اور موٹاپے کے ساتھ نظام ہضم بھی خراب ھوجاتا ھے۔

     

    چینی سے بڑھاپا:

    زیادہ چینی کھانے سے انسان کے دوران خون میں ایسے خطرناک مالیکیول پیدا کرنے کی وجہ بنتی ہے جو آپ کی جلد کو بہت زیادہ خشک اور ڈھیلی کردیتے ہیں، اور آپ کی جلد پر جھریاں پڑجاتی ہے ۔

    چینی والی اشیاء:

    سفید چینی کھانے پینے کی عام اشیاء جیسے سافٹ ڈرنکس، مٹھائیاں، آئس کریمز،جوسز، ملک شیکس، کیک، اور بیکری کی تمام مصنوعات، چائے، کافی، جام، جیلی،ٹافیوں، چاکلیٹس، مشروبات،اور تمام اقسام کے میٹھے پکوان میں کثرت سے موجود ہوتی ہے۔

    چینی کا متبادل:

    چینی کے متبادل کے طور پر کئی اشیاء استعمال کی جا سکتی ہیں جیسے:
    گنّے کا رس: اگرچہ سفید چینی بھی گنّے ہی کے رس سے تیار کی جاتی ہے، لیکن اس کی تیاری کے دوران تمام غذائی اجزا ضایع ہو جاتے ہیں، جب کہ گنّے کا رس نہ صرف وٹامن بی اور سی کا بہترین ذریعہ ہے،بلکہ جسم کو مٹھاس بھی پہنچاتا ہے۔
    شہد: سفید چینی کا بہترین متبادل ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے، بی اور سی کی وجہ سے جسم کو مٹھاس ہی نہیں، تقویت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اسے چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں میں پائی جانے والی قدرتی شکر جسم کو مضر اثرات سے بچاۓ رکھتی ہے۔

    @Oye_Sunoo

  • کیا نورمقدم کا قتل روکا جا سکتا تھا! . تحریر : فائزہ خان

    کیا نورمقدم کا قتل روکا جا سکتا تھا! . تحریر : فائزہ خان

    جیسے جیسے لبرل ازم ہمارے معاشرے میں فروغ پا رہا ہے ویسے ویسے اس کے بھیانک نتائج بھی سامنے آرہے ہیں اس کا ایک شاخسانہ نور مقدم کا کیس ہے نور کے ساتھ کیا ہوا یہ کہانی اب کسی سے چھپی نہیں رہی مگر ہمیں تو بات کرنا ہے کہ یہ قتل کیوں ہوا
    اس کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں جی ہاں ہم بطور معاشرہ بطور والدین بطور مسلمان ہم ہیں اصل ذمہ دار!
    ہم واقعہ ہونے کے بعد پلے کارڈ لے کر کھڑے ہونا تو جانتے ہیں مگر اس واقعے کو ہونے سے روک نہیں پاتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نور قدم کا قتل روکا جاسکتا تھا جی ہاں روکا جاسکتا تھا.

    اگرایک بارنورکے والد اور والدہ اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کی بیٹی جو کہہ رہی ہے اس میں کتنی سچائی ہے پوچھنے کی کوشش کرتے کہ یکدم بغیر بتائے کوئی اولاد کیسے کسی دوسرے شہر جا سکتی ہے کیا نور کے والدین آج کے دور کی خباثتوں کو نہیں جانتے تھے کیا ان کا فرض نہیں تھا کہ بیٹی کو اپنی دینی معاشرتی اور سماجی اقدار سکھاتے۔

    نورمقدم کا قتل روکا جاسکتا تھا اگر ظاہر جعفر کا باپ ذاکر جعفر بیٹے کی کال کو سنجیدگی سے لیتا جب اس نے فون کرکے باپ سے کہا کہ نور مجھ سے شادی پے نہیں مان رہی میں اس کو قتل کرنے لگا ہوں تو کیا اسے اپنے بیٹے کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے تھا مگر دولت کی بندھی پٹی آنکھوں سے ہٹتی تو ذاکر جعفر کو اپنے بیٹے کا انداز سمجھ آتا اس نرم رویے سے تو یہی ظاہر ہے کہ بیٹے کو باپ کا بھرپور حمایت حاصل تھی اسی کی شہ تھی کہ ظاہر نے اتنی جرات کی کہ ایک جیتے جاگتے وجود کو ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔
    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر وہ دوست جن کے سامنے ظاہر نے کہا کہ اگر میں ایک قتل کردوں تو کیا پاکستان کا قانون مجھ پر لاگو ہوگا کیونکہ میں تو امریکن شہریت رکھتا ہوں دوستوں کے اس بیان سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اچانک طیش میں آکر کیا جانے والا قتل نہیں ہے بلکہ ظاہر کے دماغ میں اس کی پلاننگ پہلے سے چل رہی تھی یہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت قتل کیا گیا اس کا ایک اور ثبوت ہے ظاہر کی اگلے دن کی امریکہ کی فلائٹ کی کروائی جانے والی سیٹ کی بکنگ۔ مطلب وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ قتل کرنا ہے اور پھر باہر بھاگ جانا ہے.

    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر وہ ملازم گیٹ کھول دیتے جب نور ان کی منتیں کر رہی تھی کہ یہ مجھے مار دے گا خدا کے لئے دروازہ کھول دو مگر نہ جانے اس گھر کی بنیادوں میں کتنے ملازم دفن ہوں گے کہ خوف کے مارے دونوں ملازم ظاہر کے باپ کو فون کرکے صورتحال بتاتے تو رہے مگر ظاہر کو روکنے کی جرات نہ کر سکے کیا خبر کل کو انہی ملازمین پر قتل کا ملبہ تھوپ دیا جائے اور ذاکر اپنے بیٹے کو لے کر صاف نکل جائے اور جس کی ہمارے عدالتی نظام سے توقع بھی کی جاسکتی ہے.

    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر ہمسائے جو بہت دیر سے گھر پر نظریں گاڑے بیٹھے تھے وقت پر کوئی ایکشن لیتے انہیں پولیس کو بلانا تب یاد آیا جب حادثہ رونما ہو چکا تھا اس میں ان کا قصور نہیں قصور تو اس لائف سٹائل کا ہے جس کے عادی تمام اسلام آباد کے مکین ہوچکے ہیں کہ اپنے کام سے کام رکھو کہیں کچھ غلط ہوتا دیکھو تو آنکھیں بند کر لو یہی آنکھیں بند کرنے کا انداز ہے جو ایسے حادثوں کا باعث بنتا ہے نور کے والدین نے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند رکھیں ظاہر کے والدین نے دولت کی پٹی باندھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ہمارا معاشرہ آنکھیں بند کیے اقدار کی آخری سانسیں لے رہا ہے.
    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    @_Faizakhann

  • مسلم لیگ ن آخر کیوں تباہ ہوئی . تحریر : ثاقب محمود

    مسلم لیگ ن آخر کیوں تباہ ہوئی . تحریر : ثاقب محمود

    جی ہاں مسلم لیگ نون اب تباہی کے آخری دہانے پر ہے مسلم لیگ اصل میں ایک ہی تھی لیکن شریف خاندان نے اس کو ٹکڑوں میں بانٹ کر پہلے ق لیگ اس میں سے الگ کی اور اس کے بعد مسلم لیگ آہستہ آہستہ ٹوٹتی ہی گئی۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ مسلم لیگ نواز نے اور شریف خاندان نے ملکر ملک پاکستان کو بہت لوٹا چوریاں کی ۔ منی لانڈرنگ کی بہت سے کیسزز ہوئے ان کے خلاف اور اب تک بھی چل رہے ہیں جن کی تفصیلات میں اگر جائیں تو ان کی چالاکیوں پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ لیکن اصل جرم ان کا جو ہے وہ ملک دشمنی اور غداری ہے ۔ انہوں نے ملک کو لوٹا پیسے کھائے پیسے لے کر باہر بھاگے یہ سب تو ہے ہی لیکن ان کی غداری کی وجہ سے ملک پاکستان بدنام ہوا جو ناقابل معافی ہے ۔

    ویسے تو ان کے ملک دشمنی اور غداری کے جرموں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن چند ایک ایسے ہیں جو میں یہاں پر لکھ رہا ہوں۔ سب سے پہلا جرم جو ہے وہ امریکہ سے پیسے لے کر ایٹمی دھماکوں کی مخالفت کرنا تھا جو کہ اس وقت کے لوگ بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان صاحب بتاتے ہیں کہ شریف برادران نے ایٹمی دھماکوں کی سخت مخالفت کی تھی ۔ اس کے بعد ان کا دوسرا جرم جس کی وجہ سے آج مقبوضہ کشمیر پر انڈیا قبضہ جمائے بیٹھا ہے وہ ہے گارگل سے اپنی فوجیں واپس بلانا اور انڈیا کو موقع دے کر اپنے فوجی مروانا گارگل کی جیتی ہوئی جنگ کو ہار میں تبدیل کروانا کارگل میں جتنے بھی فوجی شہید ہوئے اس کا زمہ دار میاں محمد نواز شریف ہے ۔اس کے علاوہ انڈیا میں جاکر حریت راہنماوں سے ملاقات نہ کرنا اور مودی اور آر ایس ایس کے بیانئے کو تقویت دینا بھی ایک سنگین جرم ہے ۔انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کا نام تک زباں پر نہ لانا اور اجمل قصاب کو پاکستانی شہری تسلیم کرنا بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔
    انڈین میڈیا پر بیٹھ کر چھرا گھونپنے والی باتیں کر کے پاکستانی فوج کو بدنام کرنا۔

    اس کے علاوہ ماڈل ٹاون میں بیگناہوں کا قتل بھی نواز شریف فیملی کے کبیرا گناہوں میں شامل ہے ۔ معزز قارئین اس کے علاوہ حال ہی میں ایک ایسے بندے سے لندن میں ملاقات کرنا ایک افغانی جو کے پاکستان کے بارے میں مغلظات بک رہا ہو۔ اس سے ملاقات بھی سوالیہ نشان ہے ۔
    پاک آرمی کے خلاف ہرزہ سرائی اور ملک کے اداروں کو متنازعہ بنانا بھی ان کے جرم میں شامل ہے۔ ججز کی ویڈیوز بنانا اور ان کو بدنام کر کے اپنی مرضی کے فیصلے دلوانا بھی ملک کا بہت بڑا نقصان ہے آج اگر پاکستانی عدالتی نظام پر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس کی وجہ شریف خاندان ہے ۔
    قوم اب ان کی تمام حرکتیں دیکھ چکی ہے جو کچھ لوگ لا شعوری طور پر ان کے ساتھ ہیں۔ یا کچھ غدار وطن وہ بھی بہت جلد ان سے سے الگ ہو جائیں گے کیونکہ میری قوم چوری معاف کر سکتی ہے ہر جرم معاف کر سکتی ہے لیکن غداری کی کوئی معافی نہیں ۔
    اللہ ملک پاکستان کو ترقی اور استحکام عطا فرمائے اور شیاطین اور غداروں کے شر سے محفوظ فرمائے آمین ۔

    @Ssatti_

  • کامیاب لوگوں کی نشانیاں  تحریر : فیصل اسلم

    کامیاب لوگوں کی نشانیاں تحریر : فیصل اسلم

    دنیا میں کن کن اہم ترین شخصیات نے اپنے وقت کے درست استعمال پر اپنی زندگی کا نمونہ پیش کیا ؟
    مسلمانوں میں جو بہترین آئیڈیل رول ماڈل ہے وہ نبی پاک ﷺ کی ذات پاک ہے
    آقا ﷺ کی حیات پاک کا جو انداز ہے اس پر بھی آپﷺ کے ارشادات موجود ہیں
    پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر ایک ۔

    اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر دو ۔

    اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر تین ۔

    اپنی امیری کو غربت سے پہلے
    غنیمت جانو

    نمبر چار ۔

    اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر پانچ ۔

    اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو

    اس سے بہتر ارشادات اپکی زندگی کو کامیابی و کامرانی پر لانے کے لئے نہیں ہوسکتے
    آپ کو لوگ ملیں گے کے جو مصروف ہوجاتے ہیں زندگی کی بھاگ دوڑ میں جنکی شادی ہوجاتی ہے بچے ہوجاتے ہیں فیملی اور پھر مسلے بن جاتے ہیں ان چیزوں میں آدمی مصروف ہوجاتا ہے
    لیکن زندگی میں ایک عمر ایسی بھی آتی ہے جس میں نہ گھر کا مسلہ ہے نہ بچوں کی ٹینشن ہے نہ اور کوئی مصروفیت ہے تو بس پڑھنا ہے اور اپنے مقصد کو پانا ہے اگر آدمی ان فراغت کے دنوں میں کچھ نہ کرسکا تو مشغولیت کے دنوں میں کیا کرسکے گا
    اس مشغولیت سے پہلے اپنی جو فراغت ہے اسکو غنیمت جانو
    یہ جو احساس ہے یہ احساس بھی بہت لوگوں کو ہوتا ہے لیکن محض احساس کرنے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک آپ اپنے اندر کوئی تبدیلی نہیں لاتے
    ورنہ تو کون چاہتا ہے کے میں اپنے وقت کو ضائع کروں کون چاہتا ہے کے میں ہارے ہوئے لوگوں میں شمار کیا جاؤں کامیاب لوگوں میں نہیں
    اپنی زندگی میں کون ناکامی کو پسند کرتا ہے لیکن جب تک آپ اپنے فراغت کے وقت کو سہی استعمال کرنا نہیں سیکھینگے تو تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے خدارا دوسروں کو کامیاب ہوتا دیکھ کر جلنا چھوڑوں اپنے اندر تبدیلی کی جرت کو بیدار کرو وقت کی قدر کرو یہ وقت اپکا اگر چلا گیا تو صرف پشتانے کے سوا آپ کچھ حاصل نہیں کرسکو گے دیکھو تو سہی اصحاب رسول ﷺ اور خلفا راشدین کی زندگیوں کو کے انہوں نے اپنے وقت کا کس طرح اور کب کیسے استعمال کرا ابھی وقت ہے اس وقت کو ضایع مت کرو
    بس ہمیں وقت کی قدر کرنے کی قیمتی دولت نصیب ہوجاے
    وقت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے علما کرام ایک بہت بہترین مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کے جس طرح ایک برف بیچنے والا اس بات کی فکر کرتا ہے کے یہ برف پگھل رہی ہے جلدی بیچ دوں ایسا نہ ہو یہ برف پگھل جائے اور سارا سرمایہ ضایع ہوجاے
    اور حقیقت میں ہمارے ہاتھ میں برف کا بلاک دے دیا گیا ہے کسی کے پاس شاید ٢٠ سال کا ہے کسی کے پاس ٥٠ سال کا ہے اور یہ مسلسل پگھل رہا ہے اور اس کے ساتھ ہماری زندگی کا قیمتی سرمایہ بھی ضایع ہوتا چلا جا رہا ہے اور جب ہم اپنی گزری زندگی کے سرمایہ (وقت) کو کھو چکے ہوتے ہیں تو پھر ہم شکوہ اپنی قسمت پر کرتے ہیں جب کے قسمت خود ہمارے ہاتوں میں ہوتی ہے اگر ہم اپنے فراغت کے ایام میں زندگی کے لا تعلقی والے کام چھوڑ کر اپنی ذہنیت کا سہی استعمال کریں تو ہمیں کامیاب انسان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا اگر ہم ہر کام کو اس کے وقت کے مطابق ادا کریں اور اللّه کا شکر کرتے ہوئے اگے بڑھیں تو ان شاء اللّه کامیابی ہمارا مقدر ضرور بنے گی
    کامیاب انسان کی نشانی ایک یہ بھی ہے کے وہ اپنی گزری غلطیوں پر نظر رکھتے ہوئے اگے بڑھتا ہے یا کوئی دوسرا اسکو اسکی غلطی بتا تا ہے تو وہ اس پر تنقید کرے بغیر اپنی غلطی کو سدھارنے کی کوشش کرتا ہے اور اللّه بھی اللّه بھی ایسے بندوں کی مدد کرتا ہے
    اپنے آپکو تکبر جیسی لعنت سے دور رکھیں اور اپنے سے کامیاب لوگوں کو دیکھ کر جلنے کے بجاے انکی زندگی کو دیکھ کر سیکھنے کی کوشش کریں
    اللّه بڑا رحیم ہے وہ اپنے بندوں کی ہر محنت و کش پر نظر رکھتا ہے اور اسکو اسکی محنت کا پھل بھی جلدی دیتا ہے اور اسکو نہ ختم ہونے والی عزت و مقبولیت سے بھی نوازتا ہے کوشش کریں کے اپنے آپکو وقت کے ساتھ ڈھالیں نہ کے وقت کو اپنے ساتھ اور ہمیشہ اللّه کا شکر ادا کرتے رہیں ان شاء اللّه کامیابی آپ کے قدم ضرور چومے گی
    اللّه کا شکر ادا کریں کے اس نے آپکو انسان بنایا اور اس نے آپکو مسلمان بنایا اور اپنے حبیبﷺ کا امّتی بنایا جہاں آپکو اپنی زندگی کو کامیابی کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے بیشمار ہیرے مل جاینگے لہٰذا وقت کی قدر کریں فضول کاموں سے پرہیز کریں اور جو کچھ آپ نے کھویا اس پر رنج و غم کرنے کے بجاے اگے کی سوچیں اور کوشش کریں کے اپنے اسلاف کی زندگی کا مطالع کریں جس میں آپکو بہت سے کامیابی کے راستے نظر آہی جاینگے

    اگر چاہ ہے کچھ پانے کی زندگی میں
    تو بیدار کر اپنی لگن وقت کی قدر کو

    ‎@FsAslm7

  • میرے ہمرکاب تحریر: حبیب الرحمٰن خان

    میرا بچپن اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیل کود کر گزرا۔ میری سکول میں ہمیشہ پوزیشن اچھی رہی اسی وجہ سے اپنے اساتذہ اکرام کی آنکھوں کا تارا رہا۔ کچھ دوست جو میرے بچپن کے ساتھی تھے زندگی کے بقیہ حصے میں بھی ساتھ رہے میں نے پراہمری سکول سے فارغ ہونے کے بعد ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور وہاں بھی اساتذہ کی توجہ اور والدین کی دعاؤں سے ہر سال پوزیشن لیتا رہا۔ پھر کالج میں آ گیا زندگی چلتی رہی میں نے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں منصوبہ بندی شروع کر دی۔
    لیکن بنیادی طور پر میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ سو سب خاندان کے افراد مجھے سرکاری نوکری کی طرف دھکیلنا چاہتے تھے۔بظاہر مجھے بھی متبادل راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ سو اپنی تعلیمی اسناد کے ساتھ ملازمت کے لیے کوشاں ہو گیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ملازمت ملنا جؤۓ شیر لانے کے مترادف ہے اور میری ڈگریاں اس کے حصول کے لیےشاید ناکافی ہیں۔لیکن میرے ساتھی مجھے ہر لمحہ حوصلہ دیتے رہے جن میں سے اکثر کا تعلق کھاتے پیتے گھرانوں سے تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میری ڈگریوں نے میرا ساتھ چھوڑ بھی دیا پھر بھی میں اپنے دوستوں کے توسط سے نوکری پانے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ گھر کے حالات مجھے زیادہ عرصہ تک بے روزگار رہنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ ایک دن میں اپنے ایک دوست کے گھر اس سے ملنے گیا تو اس کے والد صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ انھوں نے احوال پوچھا تو اپنی ساری تگ و دو ان کے گوش و گزار کر دی۔ انھوں نے انتہائی شفقت سے مجھے سمجھایا کہ ملازمت کا حصول آسان نہیں ہے اس سے بہتر ہے کہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو کاروبار پر صرف کرو۔ ان کی بات بظاہر معقول تھی لیکن کاروبار کے لیے پیسہ کہاں سے آۓ یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا جب ان کو صورتحال بتائی تو انھوں نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ بنک سے قرضہ دلوا دوں گا۔ ان کے اس مشورے کو باقی دوستوں کے سامنے رکھا تو سب نے انکی تائید کی پھر گھر والوں کو جیسے تیسے راضی کیا اور اپنے اکلوتے گھر پر قرض لے لیا۔ قرض کے حصول میں انھوں نے ہی میری مدد کی۔قرض ملنے پر میں اپنے دوست کے والد کے پاس گیا اور رہنمائی چاہی۔ تو انھوں نے فراغ دلی سے اپنی ہی فیکٹری میں حصہ دار بننے کی آفر کی مجھے یہ آفر انتہائی موزوں لگی کیونکہ کاروبار میں بھی میرا تجربہ نہیں تھا۔دیگر احباب کی مشاورت کے بعد میں انکا باقاعدہ حصہ دار بن گیا۔ میں زاتی طور پر فیکٹری کی نگرانی کرنے لگا اور زندگی چلنے لگی پھر تین سال بعد اچانک مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ فیکٹری خسارے میں چلی گئی ہے اور میرا سرمایہ ڈوب گیا ہے یوں یہ آسمانی بجلی مجھ پر ایسی گری کہ میرا گھر بک گیا ہم کراۓ کے مکان میں آگۓ۔ میں نے اپنے دوست کے والد سے اسی فیکٹری میں ملازمت کی درخواست کی تو انھوں نے یہ کہہ کر رد کر دی کہ فیکٹری پہلے سے خسارے میں ہے۔مالک مکان کا کراۓ کے لیے اصرار بڑھنے لگا۔ گھر میں نوبت فاقوں تک پہنچ آہی۔ میرے ایک غریب دوست نے مجھے ایک سکول کے باہر برگر لگانے کا مشورہ دیا مجھے عجیب سا لگا لیکن میرے اس دوست نے جبر کر کے (ایسا سمجھ لیں) مجھے آمادہ کیا اور ریڑھی سمیت دیگر چیزوں کے حصول میں نہ صرف مدد کی بلکہ کچھ دن بلامعاوضہ میرے ساتھ کام بھی کیا
    آج الحمدللہ میری زندگی گزر رہی ہے اور کبھی کبھار میرے دوست کے وہ والد جنھوں نے مجھے برباد کیا اسی سکول میں اپنے ایک اپاہج نواسے کو لینے آتے ہیں اور میرے پاس سے ایسے گزر جاتے ہیں جیسے جانتے ہی نہیں
    لیکن میں اللہ پاک کا شکر گزار ہوں کہ میں ان کی طرح صاحب ثروت تو نہیں لیکن ان کے نواسے کی طرح اپاہج بھی نہیں
    #حبیب_خان

  • اسلام میں عورت کے احکام  تحریر: منصور احمد قریشی

    اسلام میں عورت کے احکام تحریر: منصور احمد قریشی

    الّٰلہ تعالٰی کے ہاں ایمان و عمل کے مطابق اجر و ثواب اور فضیلت میں عورت مرد کی طرح ہے ۔ آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
    “ بلاشبہ عورتیں ( عمومی احکام میں ) مردوں کی مانند ہیں ۔ “ (ابوداؤد)

    عورت اپنے حق کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے ۔ کیونکہ دینی احکام کے خطاب میں مرد و عورت برابر ہیں ۔ سواۓ ان مسائل کے جن میں شریعت خود فرق بیان کر دے ۔ اور یہ احکام مشترک احکام کے مقابلے میں بہت تھوڑے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ شریعت نے مرد و عورت کی خلقت کے اعتبار سے خصوصیات کو مدِ نظر رکھا ہے ۔

    الّٰلہ عزوجل کا ارشاد ہے :۔
    “ کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا جبکہ وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ “ ( الملک : ۱۴)

    چنانچہ کچھ امور و ذمہ داریاں عورت کے ساتھ خاص ہیں ۔ اور کچھ مردوں کے ساتھ ۔ ان کی ایک دوسرے کی خصوصیات میں دخل اندازی زندگی کا توازن بگاڑ دیتی ہے ۔ بلکہ عورت کو گھر میں رہتے ہوۓ مرد کے برابر اجر و ثواب کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے ۔

    کسی مرد کا اجنبی عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا حرام ہے الا یہ کہ اس عورت کا کوئی محرم رشتہ دار ساتھ ہو ۔

    آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
    “ کوئی مرد کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ علیحدگی ہرگز اختیار نہ کرے الا یہ کہ اس کا کوئی محرم ساتھ ہو “ ۔ ( بخاری و مسلم )

    عورت کے لیۓ مسجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے ۔ البتہ اگر فتنے کا ڈر ہو تو مکروہ ہے ۔ حضرت عائشہ رضی الّٰلہ تعالٰی عنہا کا فرمان ہے :۔ جو کچھ عورتوں نے کرنا شروع کر دیا ہے اگر رسول الّٰلہ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم اس کا مشاہدہ فرما لیتے تو انھیں ضرور مسجدوں میں جانے سے روک دیتے ۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ ( بخاری و مسلم )

    جس طرح مرد کی نماز مسجد میں کئی گنا زیادہ ثواب کا باعث ہے ۔ اسی طرح عورت کے لیۓ گھر میں نماز پڑھنا زیادہ باعثِ اجر ہے ۔ ایک عورت نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : الّٰلہ کے رسول صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہوں ۔
    آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
    “ تم جانتی ہو کہ تمھیں میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے ۔ حالانکہ تیرا بند گھر میں نماز پڑھنا تیرے حجرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور حجرے میں نماز پڑھنا تیرے صحن والے گھر میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور تیرا صحن والے گھر میں نماز پڑھنا قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا تیرے لیۓ میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے “ ۔ ( مسند احمد )

    اور نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :-
    “عورتوں کی بہترین مسجدیں ان کے گھر ہیں “ ۔ ( مسند احمد )

    عورت کے لیۓ الّٰلہ تعالٰی نے وراثت میں جو حق رکھا ہے ، وہ حق اسے دینا ضروری ہے اور روکنا حرام ہے ۔

    نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
    “ جس نے وارث کی میراث روک لی ۔ الّٰلہ تعالٰی روزِ قیامت جنت سے اس کی میراث ختم کر دے گا “ ۔ ( ابن ماجہ )

    خاوند پر بیوی کا خرچ لازم ہے ۔ اور اس سے مراد دستور کے مطابق کھانے ، پینے اور رہائش و لباس کی ہر وہ چیز ہے ۔ جس کے بغیر عورت کا گزارہ نہ ہو ۔

    ارشادِ باری تعالٰی ہے :۔
    “ چاہیۓ کہ آسائش والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی روزی نپی تُلی ہو تو وہ الّٰلہ کے دیئے ہوۓ میں سے ( اپنی وسعت کے مطابق ) خرچ کرے “ ۔ ( الطلاق ۶۵ )

    اگر کسی عورت کا شوہر نہیں ہے تو اس کے اخراجات پورے کرنا اس کے باپ ، بھائی یا بیٹے کی ذمہ داری ہے ۔ اگر اس کا کوئی قریبی نہ ہو تو دیگر لوگوں کے لیۓ مستحب ہے کہ وہ اس کی ضروریات پوری کریں ۔

    جیسا کہ حدیثِ نبوی صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ہے :-
    “ بے شوہر عورتوں اور مسکینوں کے لیۓ دوڑ دھوپ کرنے والا الّٰلہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے “ ۔ ( بخاری و مسلم )

    Twitter Handle : @MansurQr

  • کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز  تحریر: زاہد کبدانی

    کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز تحریر: زاہد کبدانی

    ہر جگہ تعلیمی خلل پیدا کرنا ، کرونا وائرس وبائی بیماری نے طلباء کی زندگیوں میں رکاوٹ ڈالی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ شاید ان کی آئندہ کی تعلیمی زندگی پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ نسبتا کسی کا دھیان یہ نہیں رہا ہے کہ اس نے ترقی پذیر ممالک میں کہیں زیادہ مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں پہلے سے ہی انٹرنیٹ تک رسائی ، ای لرننگ حل فراہم کرنے والے ، اور مقامی سطح پر تعلیم کی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لئے حکومتی پالیسیاں نیز طالب علموں میں ذاتی وسائل کی کمی تھی۔کرونا وائرس بحران کو بہت سے ممالک سے بہتر طریقے سے نپٹانے میں ، پاکستان نے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت سے گریز کیا اور دنیا کے لئے ایک مثال قائم کی۔ اس کی سمجھدار پالیسیاں یہاں تک کہ معیشت کو چلتی رہیں۔ ہمسایہ ممالک چین (جہاں پہلا کرونا وائرس انفیکشن پایا گیا تھا) اور بھارت (دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک) سے قربت کے باوجود ، پاکستان حیرت انگیز طور پر محفوظ ہے جب یورپ اور امریکہ کے ساتھ مقابلے میں 98 فیصد بحالی کی شرح ہے۔

    تعلیمی ٹکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے — اسمارٹ فونز ، ٹیبلٹس ، بڑھا ہوا اور ورچوئل ریئلٹی ، اور تیز رفتار انٹرنیٹ ، 4 جی ، اور 5 جی کنیکٹوٹی۔ یہ سب آن لائن تعلیم کو زیادہ پیداواری ، انکولی اور قابل رسائی بناتا ہے۔ در حقیقت ، ای لرننگ انڈسٹری کی فی الحال قیمت 200 بلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے اور اس کی توقع ہے کہ 2026 تک اس میں 375 بلین ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے باوجود ، پاکستان کے دنیا کے کچھ بدترین تعلیمی نتائج بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ، اس میں دنیا کی دوسری بڑی تعداد بچوں کی ہے جو اسکول میں نہیں ہیں: 22.8 ملین بچوں کی عمر 5 سے 16 سال ہے ، جو پاکستان کے اسکول جانے والے بچوں کا 40 فیصد ہے۔ بدقسمتی سے ، اس وبائی امراض کا آغاز پاکستان کی تمام صوبوں میں یکساں نصاب کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد سے ہم آہنگ ہے۔ چونکہ جنوبی ایشیا میں کورونا وائرس کے کنٹرول کے اقدامات پھیل رہے ہیں ، محکمہ تعلیم اور اعلی سطحی یونیورسٹیوں نے خود کو ناقص سمجھا یا ، زیادہ تر معاملات میں ، آن لائن سیکھنے اور فاصلاتی تعلیم کی فراہمی کے لئے بالکل تیار نہیں ہے۔ ماضی میں ، پاکستان نے دہشت گردی کے حملوں اور سیاسی خطرات کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کردیئے تھے ، لیکن آن لائن تعلیم کے آس پاس ابھی تک کوئی سرکاری پالیسی موجود نہیں تھی۔ پاکستان میں ابھرتا ہوا موبائل فون استعمال کنندہ مارکیٹ ہے۔ اس وقت آبادی کا 75 فیصد موبائل ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ لیکن 220 ملین آبادی میں – جو دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ، وہاں صرف 76.38 ملین انٹرنیٹ استعمال کنندہ ہیں۔ یہی آبادی کا صرف 35 فیصد ہے ، جس میں صرف 17 فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی ای-لرننگ سسٹم کو اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آن لائن سیکھنے کی پالیسی کے خلاف مزاحمت میں ٹکنالوجی یا نئی پڑھنے کی تدریسی تعلیم کو اپنانے اور کلاس روم کے ماحول میں استعمال ہونے کی مزاحمت بھی منفی کردار ادا کرتی ہے۔

    وبائی مرض سے سیکھا گیا اسباق پڑھنے کی جگہوں کو دوبارہ ڈیزائن کرنے اور نصاب کی تشکیل نو کے موقع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ شکل 1 میں دکھایا گیا ہے۔ اس ملک میں تعلیم کا مستقبل۔ پاکستانی انسٹی ٹیوٹ میں ، تکنیکی طور پر تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی ہے کہ آن لائن کلاس آسانی سے چلائیں۔ ملاوٹ ، فاصلہ ، اور آن لائن تعلیم کو تقویت دینے کے لئے،MOOCs ، Corseera اور EdX کو زیادہ سے زیادہ آگاہی اور رسائ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ورچوئل ، بڑھا ہوا ، اور مخلوط حقیقت والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جدید ، عمیق سیکھنے کی ٹکنالوجیوں اور جدید تعلیم کی جگہوں کو بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز ، مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے استعمال کے ساتھ ، مزید انٹرایکٹو ، شخصی اور نتیجہ خیز سیکھنے کے حل کی تعمیر میں ہماری مدد کرکے سیکھنے کے مستقبل کو تبدیل کرسکتی ہیں۔ مزید خاص طور پر ، جب ہم اسٹیم میں عملی ، عملی طور پر سیکھنے کے بارے میں بات کرتے ہیں ، جہاں سیکھنے کے مواد کی اشد ضرورت ہوتی ہے ، تو بڑھتی ہوئی حقیقت نسبتا سیکھنے کے نقطہ نظر کے ساتھ تعلیم دینے میں مجازی مواد فراہم کرسکتی ہے, تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں ای لرننگ کے لئے جدید اور جدید نظام موجود ہیں ، جس کی وجہ سے وہ اس تعلیمی سال کے دوران سیکھنے کے بہاؤ کو متحرک رکھیں۔ لیکن پاکستان میں ، آن لائن سیکھنا ایک نوزائیدہ مرحلے پر ہے۔ ایمرجنسی ریموٹ پڑھنے کے طور پر شروع کرنے کے بعد ، اس کو مزید اپنانے اور حدود کو دور کرنے کے لئے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں انٹرنیٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ ، تصنیف کے خصوصی اوزار تیار کرنا ، اور آن لائن سیکھنے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے آگاہی

    @Z_Kubdani

  • شاہ محمود قریشی  تحریر: دانش اقبال

    شاہ محمود قریشی تحریر: دانش اقبال

    آج پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہ لکھنے کا دل کیا

    کچھ سال پہلے تک شاہ جی کو میں اتنا خاص پسند نہیں کرتا تھا اور میرے ذہن میں ان کے بارے میں کچھ منفی خیالات تھے – میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ شاہ جی اپنے کچھ ذاتی مفادات کے حصول کے لۓ عمران خان کے ساتھ ہیں جو کسی کو پارٹی میں اہم حیثیت حاصل کرتے نہیں دیکھ سکتے اور ایک دن یہ خان صاحب کو دھوکہ دیں گے

    سب سے ذیادہ خطرہ 2018 کے الیکشن کے بعد ہوا جب وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی خواہش دل میں رکھنے والے شاہ جی کی خواہش ادھوری رہ گٸ اور مجھے یقین ہو گیا کہ قریشی صاحب اب گۓ کہ گۓ لیکن میرے اندازے غلط ثابت ہوۓ اور آج جب بھی کوٸی مجھ سے خان کے نمبرون اور بااعتماد کھلاڑی کا پوچھتا ہے تو فوراً زبان پہ شاہ جی کا نام آتا ہے

    پی ٹی آٸی جواٸن کرنے کے بعد سے اب تک قریشی صاحب نے پارٹی کے لۓ جان توڑ محنت کی ہے اور ایک اثاثہ ثابت ہوۓ ہیں
    اپوزیشن میں رہ کے خان صاحب کے ساتھ ساتھ جنگ لڑی دھرنے دٸیے ریلیاں نکالی اور اس وقت جب جاوید ہاشمی جیسے لوگ پھسل گۓ انہوں نے پارٹی کو سنبھالنے اور مورال اوپر رکھنے میں اہم کردار ادا گیا
    اور پھر 2018 کے الیکشن میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوۓ جنوبی پنجاب سے پی ٹی آٸی کو بھرپور کامیابی دلواٸی اور ان کے تجویز کردہ تقریباً سب امیدوار جیت گۓ جس کا کریڈٹ بلاشبہ خان کی سحر انگیز شخصیت اور بے انتہأ شہرت کے بعد قریشی صاحب کو ہی جاتا ہے

    سب سے اہم خارجہ کا محاز سنبھالنے کے بعد انہوں نے عملی طور پر وہ کارکردگی دکھاٸی جس کی پاکستان کو اشد ضرورت تھی

    عمران خان نے بہت سے اہم خارجہ محاز ان کے حوالے کۓ اور شاہ جی اب تک خان صاحب کے اعتماد پر پورا اترے ہیں

    آج کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان کے دنیا سے نا صرف پہلے سے بہت بہتر تعلقات ہیں بلکہ پاکستان کی عزت اور وقار بحال ہو چکی جو کہ پچھلے دو ادوار میں ایک مذاق بن چکی تھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے مل کے پاکستان کا جھنڈا پوری دنیا میں گاڑا اور مضبوط موقف کے ساتھ ہر اہم فورم پر بھرپور نماٸندگی کی

    آپ کے سی این این کو دٸیے گۓ انٹرویو نے کچھ "ڈیپ پاکٹس” کو چھوڑ کے باقی ساری عوام کو بہت خوش کیا اور یہودی میڈیا کو ایکسپوز کرنے پر سب نے دل کھول کر تاٸید اور تعریف کی

    پی ٹی آٸی کے بہت سے پرانے ارکان جو پارٹی چھوڑ چکے لیکن انہیں ابھی تک پی ٹی آٸی کے بانی رکن کہہ کے خان صاحب پہ تنقید کی جاتی ہے کہ خان صاحب نے پرانے ساتھیوں کے بجاۓ الیکٹیبلز کو فوقیت دی

    میرے خیال میں جو خود کو بانی رکن کہتے ہیں لیکن خان صاحب کو چھوڑ چکے ہیں ان کی کوٸی حیثیت نہیں کیونکہ قریشی صاحب جیسے ساتھی بے شک بانی رکن نہیں لیکن لاثانی رکن ہیں

    تبدیلی کے سفر میں خان صاحب کا ساتھ دینے والے ہی ہمارے لیڈر ہیں اور سر آنکھوں پر ہیں اور شاہ محمود قریشی صاحب اس فہرست میں سب سے اوپر دکھاٸی دیتے ہیں

    ایک اور بات جو شاہ جی کو سب سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے ان کا شفاف اور بے داغ سیاسی کیرٸیر- شاہ جی پہ کبھی کوٸی کرپشن کا الزام نہیں لگا اور ان کے کردار کے سب ہمیشہ معترف رہے

    شاہ محمود قریشی کی مدبرانہ گفتگو اور اس پہ گفتگو کا سٹاٸل سب کو بھاتا ہے
    شاہ جی نے کبھی کسی کی ذات پہ گھٹیا ریمارکس نہیں دٸیے اور ہمیشہ اخلاق کے داٸرے میں رہ کہ اپنا موقف پیش کیا

    میں پی ٹی آٸی کے تمام سپورٹرز کی جانب سے شاہ محمود قریشی صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں

    @ch_danishh

  • تمباکو  نوشی کی وجوہات  ونقصانات   تحریر   سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    تمباکو نوشی کی وجوہات ونقصانات تحریر سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    تمباکو نوشی بظاہر ایک عام سا نشہ لگتا ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک صحت مند انسان کے جسم کو مختلف بیماریوں کا مسکن بنا دیتا ہے طبی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی پیھپڑوں کی مختلف عوارض دمہ سانس کی مختلف بیماریوں سمیت کینسر جیسے موذی مرض کی ایک بڑی وجہ بھی ہے تمباکو نوشی کے کٸی سماجی نقصانات بھی ہیں تمباکو نوشی کا عادی فرد خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن بلاوسطہ اس کے ساتھ موجود افراد بھی غیر ارادی طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں ان وجوہات کی بنا پرمختلف ممالک کی حکومتوں نے پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کے سدباب کے لیے قوانين وضع کٸے ہیں جنکی خلاف ورزی پر جرمانے و تادیبی سزاٸیں دی جاتی ہیں ہمارے ملک میں بھی اس بابت قوانين موجود ہیں جن کی پاسداری صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اشد ضروری ہےتاکہ تمباکو نوشی کے نتيجے میں غیر ارادی طور پر متاثر ہونےوالے غیر تمباکو نوش افراد کو تمباکو کے مضر اثرات اور نقصانات سے بچایا جاسکے اگر تمباکو نوشی کی بنیادی وجوہات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو عام طور پر تمباکو نوشی کی طرف راغب ہونے والے افرادتمباکو کے عادی افراد کی صحبت میں انکی دیکھا دیکھی مبتلا ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس لت کا مستقل شکار بنتے ہیں بعض نے ابتدا میں اسے بطور فیشن اپنایا اور آہستہ آہستہ تمباکو کے عادی ہوٸے بعض تمباکو نوش حضرات اپنی تھکاوٹ زہنی پریشانی اور سماجی محرومیوں کو جواز بنا کے بطور تریاق بھی اس جانب راغب ہونے کو جواز قرار دیتے ہیں اور یوں وہ تمباکو نوشی کے لت میں مستقل پڑگٸے اگر تھوڑی سی توجہ دی جاٸے تو تمباکو نوش حضرات اس لت سے نجات پاکر صحت مندانہ سرگرميوں اور ماحول کی طرف لوٹ سکتے ہیں نشہ درحقيقت عادت کی تکرار کا نام ہے اس تکرار سے نجات کے لیے مناسب رہنمائی سے باآسانی تمباکو نوشی سے چھٹکارا دلایا اور پایا جاسکتا ہے تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے بنیادی طور پر قوت ارادی ہی بنیادی تریاق اور ہتھیار ہے قوت ارادی کو بروۓ کار لاکر ہی اس سے بچا اور نجات پاٸی جاسکتی ہے اور مناسب کونسلنگ اور رہنمائی کے لیے طبی و نفسياتی ماہرین سے بھی رہنمائی اور علاج معالجے کی ضرورت ہے ہمارے ملک میں اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ہمارا ملک ترقی پذیر ملک ہے خطیر سرمایہ تمباکو نوشی پر صرف ہورہا ہے اس بابت مذہبی ، سماجی و فلاحی ادارے بھی توجہ دے کر آگاہی مہم کے زریعے اس کو کم کروانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تمباکو نوشی کو خاموش قاتل سے تشبیہ دی جاتی ہے ہمارے ملک میں خاص کر نوجوان طبقہ اور طلبا بڑی تیزی سے اس جانب راغب ہو رہے ہیں جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے تعلیمی اداروں میں اس بابت باقاعدہ نفسياتی ماہرین کے زریعے تربيتی کلاسیں منعقد کی جانی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لت سے دور رکھا جاسکے اور انکا رجحان دیگر مثبت سرگرميوں کی طرف راغب کیا جاسکے اس سے انکار صحت مند زندگی سے پیار کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔ Twitter Handle Srufaq@

  • خون عطیہ کریں، زندگیاں بچائیں   تحریر: سیدہ بنت زینب

    خون عطیہ کریں، زندگیاں بچائیں تحریر: سیدہ بنت زینب

    کیا آپ ایک منٹ کے لیے وقت نکال سکتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے سوچ سکتے ہیں کہ جب آپ اس صورتحال میں ہوں کہ آپ کو کسی ایسی چیز کا انتظار کرنا پڑے جو واقعی، واقعی آپ کے لئے اہم ہے؟ اس واحد چیز کا انتظار کرنا جو آپ کو اس دنیا میں زندہ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہو. ایک لمحے کے لیے سوچیں آپ یا آپ کے پیارے ایمرجنسی روم میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ سرجری میں بہت خون بہہ رہا ہے اور آپکو فوراً خون کی ضرورت ہے لیکن خون کی فراہمی کافی نہیں ہے اور آپ کو خون کہیں سے نا مل رہا ہو….!
    ایسی صورتحال سے گزرنا تو دور کی بات ہم ایسا سوچنا میں نہیں چاہیں گے لیکن یہ حقیقی زندگی میں ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے کچھ نے پہلے ہی اس صورتحال کا تجربہ کر لیا ہو.
    بدقسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر لوگ خون عطیہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر کافی اموات ہوتی ہیں مگر اس کا سب سے زیادہ نقصان تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا معصوم بچوں کو ہوتا ہے کیونکہ وہ بوقت خون کا عطیہ نا ملنے کی صورت میں اپنی زندگی کی بازی ہارتے جا رہے ہیں. شاید اس سب کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان میں لوگ اس مسلئے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے.
    جب ہم اپنے ننھے بیٹوں اور بیٹیوں کے رخسار کا لمس محسوس کر رہے ہوتے ہیں تب نہ جانے تھیلیسیمیا سینٹرز میں کتنی بے درد سوئیاں بچوں کی کلائیوں میں پیوست کی جا رہی ہوتی ہیں. کتنے ننھے پھول بہار سے پہلے ہی خزاں کی نذر ہو جاتے ہیں.
    اپنے بچپنے کو پیشِ نظر رکھ کے تصور کیجیے تھیلیسیمیا کا شکار ان لاکھوں بچوں کا کہ سانسوں کی ڈور سلامت رکھنے کے لیے جو ہر پندرہ دن بعد خون کے عطیات کی بھیک مانگتے ہیں.
    خون کا یہ عطیہ انکی معصوم آنکھوں کے بجھتے ہوئے خوابوں کو تعبیر دیتا ہے. ان کو دیگر صحتمند ہم عمروں کے ساتھ قدم بقدم چلنے کی توانائی فراہم کرتا ہے.
    ٹیم سرعام پاکستان سید اقرار الحسن کی سربراہی میں ان معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کے لیے تین سال سے اپنی جدوجہد (میرا خون بھی حاضر پاکستان) کا آغاز کیے ہوئے ہے. تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کےچہروں پر زندگی کی خوشیاں بانٹتے ہوئے الحمدللہ ٹیم سرعام پاکستان کے جانباز پورے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون سے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے میں مصروف ہیں. ایمرجنسی میں خون کا عطیہ دے کر قیمتی جان بچانی ہو یاں تھیلیسیمیا سے لڑتے ننھے پھولوں کو مرجھانے سے بچانا ہو، ٹیم سرعام کے جانباز ہر جگہ اپنے خون کا عطیہ کرنے کے لیے صف اول میں ملتے ہیں. مجھے بتاتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں ٹیم سرعام نے پاکستان کے ہر بڑے شہر میں بلڈ کیمپس کا انعقاد کیا تھا کہ کہیں بھی خون کی کمی کی وجہ سے کوئی زندگی نا مرجھائے.
    اقرار بھائی نے ہم جانبازوں میں یہ سوچ پیدا کی کہ "خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کا خون کسی زندگی کا وسیلہ بن جائے. ‏خون عطیہ کرنا وہ نیکی ہے، جس میں ہم کسی کی جان بچانے کے کام آتے ہیں.” ہماری ٹیم کا ہر جانباز انتہائی شوق اور جذبہ جنون کے ساتھ اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹا ہوا ہے.
    خون کا کوئی نعم البدل نہیں. ہر خون کا عطیہ دینے والا تین معصوم زندگیاں بچاتا ہے. تو آئیں آج ہی یہ عہد کریں انشاء اللہ ہم سب خون کا عطیہ ضرور دیں گے. آپکے خون عطیہ کرنے سے کسی معصوم بچے کے چہرے پر جینے کی جو امید ملے گی، یقین کیجئے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی خوبصورت احساس نہیں ہو سکتا. یہ عہد کر لیں کہ
    "‏خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے”

    @BinteZainab33