Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شان پاکستان تحریر: زرین زاہد (نارووال)

    شان پاکستان تحریر: زرین زاہد (نارووال)

    شان پاکستان
    تحریر: زرین زاہد (نارووال)
    جنت سے کہیں بڑھ کر حسیں میرا وطن ہے
    ہمسر ہے فلک کی جو زمیں میرا وطن ہے

    پاکستان کے لفظی معنی:
    پاک کے معنی خالص اور صاف کے ہیں ؛ جبکہ ستان کا مطلب زمین یا وطن ہے ۔ لفظ پاکستان کا لفظی مطلب "پاک لوگوں کی سر زمین” ہے ۔

    شان پاکستان:
    شان پاکستان سے مراد پاکستان کا وقار ، جلال ، عظمت یا خوبصورتی ہے ۔ پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور یہ ایک منفرد شناخت اور تاریخ رکھتا ہے ۔ پاکستان نہ صرف اسلامی نظریے پر قائم ہوا ؛ بلکہ قدرتی وسائل، دلکش قدرتی مناظر، بہادر قوم، اور مضبوط افواج جیسی نعمتوں سے مالا مال ہے۔ پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا، خود مختار معیشت کی جانب بڑھتے قدم، باصلاحیت نوجوان، اور دین سے وابستگی یہ سب کچھ پاکستان کی شان اور فخر کی علامتیں ہیں۔ ہماری تہذیب، ثقافت، ادب، اور مہمان نوازی بھی پاکستان کی شناخت اور عظمت کا حصہ ہیں۔

    قیام پاکستان:
    ہمارا ملک پاکستان 27 رمضان المبارک 14 اگست 1947 عیسوی کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا ۔ علامہ اقبال نے پاکستان کا تصور پیش کیا ؛ جسے قائد اعظم نے عملی صورت دی ۔ پاکستان کے قیام میں محترمہ فاطمہ جناح ، سرسید احمد خان ، مولانا حالی ، مولانا شبلی ، مولانا محمد علی جوہر ، مولانا شوکت علی ، مولانا ظفر علی خان سر فہرست ہیں ۔ علامہ اقبال نے اپنی ولالہ انگیز شاعری کے ذریعے قوم کو خواب غفلت سے بیدار کیا ۔ پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ؛ بلکہ کڑوروں مسلمانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے ۔ یہ وطن پاکستان ہماری آن ،بان اور شان ہے ۔ یہاں کی فضا ،پہاڑ ، ندیاں ، دریا ، میدان اور ہر ذرے میں محبت اور قربانی کی خوشبو ہے ۔

    اسلامی نظریہ:
    پاکستان کا مطلب لا الہ الااللہ یعنی ایک ایسی ریاست ہے ؛ جہاں مسلمان اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں ۔ یہی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے ۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلام ہمارا مکمل ضابطہ حیات ہے ۔

    قدرتی خوبصورتی:
    پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے ۔ یہاں کے شمالی علاقے ، کشمیر ، سوات ،گلگت ، ہنزہ اور چترال کی پہاڑیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ یہاں چار موسم ہیں ۔ کھیتوں کی ہریالی ، دریاؤں کی روانی اور پہاڑوں کی شان و شوکت اسے مزید خوبصورت بناتی ہے ۔

    ثقافت اور روایات:
    پاکستان کی ثقافت دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ہے ۔ ہر صوبہ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ اپنی الگ الگ پہچان اور خوبصورتی رکھتا ہے ۔ پاکستانی مہمان نواز ،محبت کرنے والے اور جفاکش لوگ ہیں ۔

    افواجِ پاکستان:
    پاکستان کی افواج ہمارے ملک کا فخر اور شان ہے ۔ یہ بہادر سپاہی دن رات وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ پاک فوج نے نہ صرف دشمن کے حملوں کا دلیری سے مقابلہ کیا ؛ بلکہ ہر مشکل وقت میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ؛ پھر چاہے زلزلہ ہو ، سیلاب یا کوئی اور قدرتی آفت ہو ۔ پاکستان کی بری ، بحری اور فضائی افواج جدید ترین ہتھیاروں ، جذبہ شہادت اور بے مثال تربیت سے لیس ہے ۔ ان کی کی بدولت ہم سکون اور آزادی کی زندگی گزار رہیں ہیں ۔ پاکستان فوج دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہے ۔ ہماری افواج نے ہر مشکل میں ملک کا دفاع کیا جس میں 1965 اور 1971 کی جنگ شامل ہے ہو ۔

    تاریخ:

    پاکستان کی تاریخ تہذیبوں اور سلطنتوں سے بھری پڑی ہے ۔ جن میں موہنجوڈارو اور ٹیکسلا کی قدیم تہذیبں شامل ہیں ۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان ایک علیحدہ مملکت کے طور پر ابھرا ۔

    پاکستانی قوم کا اتحاد و یگانگت:
    پاکستان کی اصل شان اس کے عوام کا اتحاد اور باہمی یگانگت ہے۔ جب بھی وطن پر کوئی مشکل گھڑی آئی ہے ؛ پاکستانی قوم رنگ، نسل اور زبان سے بالاتر ہو کر ایک جھنڈے تلے جمع ہو جاتی ہے۔ 1965 کی جنگ میں قوم نے شانہ بشانہ دشمن کا مقابلہ کیا، جبکہ زلزلہ 2005 اور سیلاب 2010 میں پاکستانی عوام نے ایک دوسرے کی مدد کے لیے دل کھول کر تعاون کیا۔
    یہی اتحاد نہ صرف اپنے ملک کے اندر نظر آتا ہے ؛ بلکہ بیرونی دنیا میں بھی جھلکتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مصائب زدہ مسلمان ممالک کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ فلسطین، بوسنیا، افغانستان، شام اور دیگر خطوں میں مظلوم مسلمانوں کے لیے پاکستان نے مالی امداد، طبی سہولتیں اور انسانی ہمدردی پر مبنی تعاون فراہم کیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی قوم نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک مہربان دل رکھتی ہے۔

    پاکستان کے قدرتی وسائل:
    پاکستان قدرت کی بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہے۔ یہاں زمین کے نیچے اور اوپر دونوں سطحوں پر ایسے خزانے موجود ہیں ؛ جو کسی بھی اور ملک کی ترقی اور خود کفالت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ صوبہ بلوچستان معدنی دولت میں سب سے آگے ہے ۔ یہاں پر سونا، تانبہ، کرومائیٹ، لوہا اور قیمتی پتھروں کے بڑے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ پنجاب میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان کھیوڑہ واقع ہے ؛ جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ سندھ میں تیل اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر ہیں ؛ جو صنعت اور گھریلو ضرورت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    دریائے سندھ، جہلم اور چناب جیسے بڑے دریا نہ صرف زراعت کے لیے پانی فراہم کرتے ہیں ؛ بلکہ پن بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔زرعی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان ایک خوش نصیب ملک ہے۔ یہاں کی زرخیز زمین گندم، چاول، کپاس، گنا، کینو اور آم جیسی فصلیں پیدا کرتی ہے ؛ جو دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ مچھلی، جنگلات اور لائیو اسٹاک بھی ہمارے قدرتی وسائل میں شامل ہیں۔

    پاکستان کی سائنسی و تعلیمی کامیابیاں:
    پاکستان نے سائنسی اور تعلیمی میدان میں بھی نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے طبیعیات میں نوبل انعام حاصل کیا ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنایا اور یہ ہماری خودمختاری کی ضمانت ہے۔ سپارکو کے ذریعے پاکستان نے خلائی تحقیق میں قدم رکھا اور مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں بھیجے۔ تعلیمی ادارے بھی ہزاروں ذہین طلبہ کو تیار کر رہے ہیں۔

    پاکستان ہماری پہچان، ہمارا فخر ہے ۔
    اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہم سب کا اتحاد اور قربانی ہی اس کی اصل شان ہے۔

  • شانِ پاکستان .تحریر: محمد نوید عزیز ،لالہ موسی ضلع گجرات

    شانِ پاکستان .تحریر: محمد نوید عزیز ،لالہ موسی ضلع گجرات

    شانِ پاکستان
    تحریر: محمد نوید عزیز ،لالہ موسی ضلع گجرات
    "پاکستان زندہ باد!” یہ نعرہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک جذبہ، ایک عقیدہ، ایک امید ہے۔ یہ ایک ایسی سرزمین کی پہچان ہے جو قربانیوں کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ "شانِ پاکستان” کیا ہے؟ تو میرا دل بے ساختہ کہے گا، "یہ میرے وطن کے وہ گمنام سپاہی ہیں، وہ محنتی کسان ہیں، وہ مائیں ہیں جو شہیدوں کو جنم دیتی ہیں، وہ بچے ہیں جو کتابیں سینے سے لگا کر خواب دیکھتے ہیں، اور وہ سائنسدان ہیں جو ستاروں سے آگے سوچتے ہیں۔”

    14 اگست 1947 کو جب دنیا سو رہی تھی، ایک قوم جاگ رہی تھی۔ رات کے اندھیرے میں ایک نئی صبح نے جنم لیا۔ یہ صبح صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک نظریاتی فتح تھی۔ پاکستان کا قیام اس وقت ممکن ہوا جب لاکھوں مسلمانوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے، اس خاک کے لیے خون بہایا۔

    قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہمیں ایک ایسا وطن ملا، جہاں مسلمان آزاد ہو کر اپنے دین، ثقافت اور تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ آزادی ہی ہماری شان ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو۔

    اگر ہم جغرافیائی لحاظ سے دیکھیں، تو پاکستان ایک جنت نظیر ملک ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، جنوب میں نیلگوں سمندر، مشرق میں زرخیز میدان اور مغرب میں پرشکوہ پہاڑ۔ یہ سرزمین ہر موسم، ہر منظر، اور ہر رنگ کا حسین امتزاج ہے۔

    کیا آپ نے کبھی سوات کی وادیوں میں بہتے چشموں کی موسیقی سنی ہے؟ کیا آپ نے سندھ کے تھر میں صحرا کے سینے پر اگتے پھول دیکھے ہیں؟ کیا آپ نے بلوچستان کے پہاڑوں میں چھپی خاموشی کو محسوس کیا ہے؟ یا پنجاب کے کھیتوں میں جھومتی فصلوں کی مہک کو سونگھا ہے؟ اگر نہیں، تو آپ نے "شانِ پاکستان” کا ایک اہم پہلو ابھی نہیں جانا۔

    پاک فوج، رینجرز، فضائیہ اور بحریہ کے وہ بہادر جوان، جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ملک کا دفاع کیا — یہی تو ہیں اصل شانِ پاکستان۔ چاہے وہ 1965 کی جنگ ہو ہمارے جانباز ہمیشہ آگے بڑھے۔

    آج جب ہم پرامن راتیں سوتے ہیں، تو یہ انہی محافظوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ وطن کے یہ سپوت ہر مشکل وقت میں سرحدوں پر سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ ان کی جرأت، ہمت، اور قربانی، پاکستان کی شان ہے۔

    شانِ پاکستان صرف ماضی کی عظمتوں میں نہیں چھپی بلکہ ہمارے آج کے نوجوانوں میں زندہ ہے۔ ارفع کریم، ڈاکٹر عبدالسلام جیسے عظیم افراد نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان صرف ایک ترقی پذیر ملک نہیں، بلکہ ایک باصلاحیت قوم ہے جو اگر موقع ملے تو دنیا کو بدل سکتی ہے۔

    پاکستان کے طلبہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ نوجوان موبائل ایپلی کیشنز، سافٹ ویئر، اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان ہی مستقبل کی امید ہیں اور یہ امید ہی ہماری شان ہے۔

    پاکستان ایک کثیرالثقافتی ملک ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی، اور ہزارہ وال ثقافتوں کا امتزاج، ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی خوشبو پوری دنیا میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

    چاہے وہ سندھ کی اجرک ہو یا پنجاب کی پگ، بلوچستان کی چادر ہو یا خیبر پختونخوا کی چترالی ٹوپی۔ ہر علاقہ اپنی الگ پہچان رکھتا ہے، اور یہی تنوع ہماری اصل طاقت ہے۔

    ہمارے لوک گیت، قوالیاں، صوفی شاعری، اور ادب دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، بانو قدسیہ، اور عمیرہ احمد جیسے ادیبوں نے "شانِ پاکستان” کو لفظوں میں ڈھالا۔

    کبھی قدرتی آفات آئیں، کبھی دہشت گردی کا سامنا ہوا، پاکستان نے ہر بار کمر باندھی۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کے سیلاب، پوری قوم نے جس اتحاد و بھائی چارے کا مظاہرہ کیا، وہ شانِ پاکستان کی ایک روشن مثال ہے۔

    ہم نے اندھیرے دیکھے، دہشتگردی کے سائے سہے، لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ہم نے لاشیں اٹھائیں لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ ہم نے اپنے بچوں کو شہید ہوتے دیکھا، مگر دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

    یہی جذبہ، یہی غیرت، یہی وفا ۔ ہماری اصل شان ہے۔

    اب ہمیں صرف ماضی پر فخر نہیں کرنا، بلکہ مستقبل سنوارنا ہے۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں ہر بچہ تعلیم حاصل کرے، ہر بیٹی محفوظ ہو، ہر مزدور کو حق ملے، ہر مریض کو علاج میسر ہو، اور ہر شہری کو انصاف حاصل ہو۔

    ہمیں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانی ہے، ناانصافیوں کو ختم کرنا ہے، اور وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہے۔ یہی نئے پاکستان کا خواب ہے، اور یہی خواب ہماری شان بن سکتا ہے۔

    "شانِ پاکستان” کوئی ایک واقعہ، ایک انسان، یا ایک جگہ نہیں۔ یہ ایک احساس ہے، ایک جذبہ ہے، جو ہر پاکستانی کے دل میں دھڑکتا ہے۔ جب ہم قومی ترانہ سنتے ہیں، جب ہم پرچم کو لہراتا دیکھتے ہیں، جب ہم عالمی مقابلوں میں اپنے کھلاڑیوں کو فتح حاصل کرتے دیکھتے ہیں — تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں۔

    آئیے! ہم سب مل کر وعدہ کریں کہ ہم اپنے وطن کو دل و جان سے چاہیں گے، اس کی خدمت کریں گے، اور اپنی نسلوں کو "شانِ پاکستان” کا مطلب سکھائیں گے۔

    پاکستان زندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر:رباب گل

    شانِ پاکستان.تحریر:رباب گل

    شانِ پاکستان
    تحریر:رباب گل
    جب وطن کی بات ہو، تو ہر محبِ وطن کا دل جوشِ محبت سے لبریز ہو جاتا ہے۔ پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ہمارے جذبات، ہمارے خواب، ہماری پہچان اور ہماری روح کی آواز ہے۔ جب ایک بچہ اس پاک سرزمین پر جنم لیتا ہے، وہ صرف ایک فردِ وطن نہیں ہوتا بلکہ ایک چراغ ہوتا ہے، جو آگے چل کر اس ملک کی روشنی بنے گا۔ اگر اسے گھر سے وطن کی محبت کا سبق ملے تو وہ چاہے ابھی دنیا کے علوم سے ناآشنا ہو، لیکن اتنا ضرور جانتا ہے کہ جب کوئی کہے "پاکستان”، تو اُس کا جواب "زندہ باد” کے نعرے سے دینا ہے۔

    پاکستان کا قومی ترانہ جب کسی محفل میں گونجتا ہے تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، جسم میں ایک عجب سا جوش دوڑنے لگتا ہے، آنکھیں چمکنے لگتی ہیں اور سینہ فخر سے تن جاتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو سرحدوں سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کے دلوں میں بھی ویسے ہی بیدار ہوتا ہے، جیسے وہ وطن کی مٹی میں سانس لے رہے ہوں۔ یہ مٹی اتنی پیاری ہے کہ پردیس کی چمک دمک بھی اس کے مقابلے میں ماند پڑ جاتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل کی وہ دولت عطا کی ہے، جس پر دنیا رشک کرتی ہے۔ یہاں کے میدان ہوں یا پہاڑ، سمندر ہو یا صحرا، دریا ہو یا سونا اگلتی زمین ہر منظر قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ ایسی زمین جو گندم، چاول، مکئی، کپاس، گنا، سبزیاں اور لذیذ پھلوں سے بھری پڑی ہے۔

    یہی نہیں، یہاں کی معدنیات، قدرتی گیس اور توانائی کے ذخائر دنیا کے لیے حیرت کا باعث ہیں اس خطے کو رب العالمین نے ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ دنیا رشک کرتی ہے، جو ہمارے پاس قدرتی طور پہ موجود ہے سارے یورپین ممالک اس طرح کی مصنوعی سجاوٹیں بنا کر دنیا کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔

    مالکِ کریم نے پاکستان کی سر زمین اس قدر خوبصورت بنائی کہ یہاں کونسی نعمت جو نہیں ہے سمندر ،دریا ، معدنیات ، پہاڑ ، صحرا اور سونا اگلتی زمین سے نوازا ہے کوئی ایسی فصل نہیں جو یہاں نہیں ہوتی گندم ، باجرہ ، مکئی ، گنا ، کپاس ہر طرح کی سبزیاں اور پھل یہاں اس زمین پہ اگتے ہیں ۔ دوسرے ممالک ہمارے ملک سے اشیاء فروخت کرتے درآمدات برآمدات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے اور اس طرح ملکی معیشت بھی بہتر رہتی ہے اور دوستانہ تعلقات بھی بحال رہتے ہیں ۔۔

    پاکستان کی معیشت کا پہیہ بھی اسی زرخیز زمین اور محنتی عوام کے باعث رواں دواں ہے۔ درآمدات و برآمدات کے ذریعے ہم نہ صرف دنیا سے روابط استوار کرتے ہیں بلکہ اپنے اقتصادی ڈھانچے کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک سے ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں، جن میں سب سے نمایاں چین ہے جس کی دوستی آزمائشوں کے ہر لمحے میں ہمارے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔

    پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔ یہی ہماری اصل پہچان ہے۔ جب کوئی پوچھتا ہے کہ "پاکستان کا مطلب کیا ہے؟” تو ہم سینہ تان کر، فخر سے کہتے ہیں:
    "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”۔

    یہی کلمہ ہماری رگوں میں لہو بن کر دوڑتا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ہر مذہب، ہر قوم، ہر رنگ اور ہر نسل کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ مسلمانوں کی مساجد، ہندوؤں کے مندر، عیسائیوں کے گرجا گھر اور سکھوں کے گردوارے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان میں ہر فرد کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ یہ وسعتِ قلبی اور رواداری شاید ہی کسی اور ملک میں دیکھنے کو ملے۔

    پاکستان چار خوبصورت صوبوں پر مشتمل ہے اور ہر صوبہ اپنی ثقافت، زبان، لباس، رسم و رواج اور قدرتی تحائف کے باعث پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز، محبت کرنے والے اور باہمی احترام کے جذبے سے سرشار ہیں۔ پاکستان وہ خوش نصیب ملک ہے جسے چار حسین موسم عطا ہوئے ہیں، ہر موسم اپنے ساتھ رنگ، خوشبو اور ذائقے کی ایک نئی دنیا لے کر آتا ہے۔

    یہ وطن بڑی قربانیوں سے حاصل ہوا۔ ماؤں نے اپنے لختِ جگر قربان کیے، بہنوں نے اپنے بھائیوں کو شہادت کے لیے رخصت کیا اور جوانوں نے اپنے خون سے اس پاک پرچم کی لاج رکھی۔ 14 اگست 1947 صرف ایک تاریخ نہیں، یہ ایک خواب کی تعبیر ہے، ایک نئی صبح کی امید ہے، جو قربانیوں کی سرخی سے روشن ہوئی۔

    اس وطن عزیز کے لیے کئی ماؤں نے اپنے لخت جگر قربان کیے، کئی بچے یتم ہوئے اور یہ سر زمین 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کے حصے میں آئی ۔لوگ رشک کرتے ہیں اس سر زمین پہ کے جنت کے خطوں میں سے ایک خطہ ہے یہ ملک کشمیر کی وادیوں اور حسین مناظر سے مالا مال یہ ملک اور اس اس ملک سے محبت کرنے والے لوگ پاکستانی پرچم کے سائے تلے ایک مٹھی ہیں کی مانند ہیں ۔۔

    پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ہے، جو وطن کی حفاظت کے لیے ہر پل تیار رہتی ہے۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ اٹھائی، ہمارے بہادر سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس سرزمین کو بچایا۔ ہماری فوج صرف ہتھیاروں سے نہیں، ایمان، قربانی اور غیرت سے لیس ہے۔

    پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور یہی طاقت دشمن کو حملے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ چاہے ہم میں اختلافات ہوں، لیکن جب بات پاکستان کی عزت اور سالمیت کی ہو، تو ہم سب ایک پرچم تلے، ایک قوم بن جاتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ اس اتحاد اور حب الوطنی کی روشن مثال ہے، جب بچے، جوان، بوڑھے سب وطن کے لیے یکجان ہو گئے۔

    ہمیں اپنے پاکستان پر فخر ہے اور ہم دعا گو ہیں کہ رب العالمین اس وطن کو ہمیشہ سلامت رکھے، ترقی دے اور ہم سب کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔

    اللّٰہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین، ثم آمین۔

  • شان  پاکستان . تحریر:سیدہ فاطمہ

    شان پاکستان . تحریر:سیدہ فاطمہ

    شان پاکستان
    تحریر:سیدہ فاطمہ
    اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہمارا ملک پاکستان ہےجو ہمارے بانی قائد اعظم محمد علی جناح اور لاکھوں مسلمانوں کی جان و مال کی قربانیاں دینے کے بعد حاصل ہوا ۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے۔

    اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے ملک پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔پاکستان ہمارا ملک بہت ساری خوبصورتیوں سے مالا مال ہے۔ قومی زبان ، قومی ترانہ ، عظمت ، وقار ، تاریخ ثقافت ، قدرتی حسن ، قدرتی خزانے،مساجد ،پاکستان میں کئی تاریخی اور خوبصورت مساجد ہیں جو اس کی اسلامی شناخت کو ظاہر کرتی ہیں ۔

    پاکستان کی سرزمین پر کئی عظیم تہذیبوں نے جنم لیا ،جن میں وادی سندھ کی تہذیب بھی شامل ہے۔پاکستان کی معیشت زراعت ،صنعت اور خدمات پر مشتمل ہے۔سیاست ، پاکستان ایک جمہوری ریاست ہےاور اس کا نظام حکومت پارلیمانی ہے ۔

    پائیدار ترقی کے لیے امن کی ضرورت ہے ـ غربت کا خاتمہ ، بھوک کا خاتمہ ، بہتر صحت ، آسودہ زندگی ، معیاری تعلیم ، صنعتی مساوات ، صاف پانی اور صفائی ، باکفایت اور صاف توانائی ، معقول روزگار اور معاشی نمو ، پائیدار شہر اور آبادیاں ، ذمہ دارانہ تصرف اور پائیدار ، صنعت جدت پسندی اور انفراسٹرکچر ، عدم مساوات میں کمی ، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدام ، زیر آب حیات ،زمین پر زندگی ، امن ، انصاف اور مضبوط ادارے ، مقاصد کے لیے شراکت داری ۔

    ان تمام شرائط پر عمل کرنے کے بعد ہی پائیدار ترقی کے لیے امن کی ضرورت مکمل ہو سکتی ہے۔امن کے لیے قوم میں اتحاد اور یکجہتی قائم کرنے کے بعد ہی ملک پاکستان میں پائیدار ترقی ہو سکتی ہےـ!

    قدرتی حسن ، پاکستان میں ہمالیہ ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلے ، سرسبز و شاداب وادیاں ، صحرا اور ساحل سمندر جیسی متنوع قدرتی خزانے خوبصورتیاں پائی جاتی ہیں۔پاکستان کی ثقافت بہت امیر اور متنوع ہے، جس میں مختلف زبانیں ، روایات اور فنون لطیفہ شامل ہیں ۔پاکستانی عوام محنتی ، مہمان نواز اور بہادر سمجھے جاتے ہیں ۔

    ہمارا پرچم ملک پاکستان کی شان ہے۔ ہم سب پاکستانی قوم جشنِ آزادی جوش و خروش سے مناتے ہیں ۔ اپنے گھر ، سکولوں ، گلیوں کو سجاتے ہیں ۔ کپڑے بناتے ہیں اور اسٹیکرز بھی خریدتے ہیں ۔

    ہمیں اپنے وطن سے محبت کرنے کے لیے خدمات انجام دینی چاہیے ۔ امن ، اتحاد ، بھائی چارہ قائم کرنے کے بعد ہی ہمیں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ۔!
    پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الااللہ

    پہلے ہمیں پاکستان کا مقصد سمجھنا چاہیے ۔ ہمارا ایمان ، عقیدہ درست ہونا چاہیے تاکہ آزاد ملک پاکستان کی حفاظت ، خدمات ایمانداری سے انجام دیں ۔ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ معاشرتی ، اقتصادی اور سماجی نظام قائم کرنا ضروری ہے ۔ تعلیمی اداروں کا نظام اعلیٰ ہونا چاہیے تاکہ تعلیم ہر فرد کا حق ادا ہو جائے ۔ شہری کو انصاف ملے ، غربت کا خاتمہ ہو، کوئی بھوکا ، پیاسا نہ سوئے ۔ ہر فرد کی انفرادی اور اجتماعی آزادی ، عزت نفس ،حقوق اور انصاف کی فراہمی سے جڑی ہوتی ہے ۔

    ہماری پاکستانی افواج ہمارے ملک پاکستان کی شان ہے ۔

    معاشرے میں انسان کی شخصیت کی پہچان اس کے اچھے اخلاق سے نمایاں ہوتی ہے ۔ انسان کی شخصیت ہی اس کے کردار کا آئینہ ہوتی ہےـ!

    ایک خوبصورت معاشرہ کامیاب ہونے کے لیے ہمیں اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ گھر کے ماحول میں آپس کے تعلقات کو نرم لہجے اور صبر وتحمل کے ساتھ سب کو برداشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔!

    جب ہمارا ہر کام اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ہو جائے گا تو دنیا آخرت میں کامیابی حاصل ہو جائے گی ـ
    "پیارے نبی محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔!”ہمیں بھی سیرتِ مبارکہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے ۔

    ایک خوبصورت معاشرہ کامیاب ہونے کے لیے ہمیں اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ گھر کے ماحول میں آپس کے تعلقات کو نرم لہجے اور صبر وتحمل کے ساتھ سب کو برداشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔!

    پاکستان کی معیشت زراعت ، صنعت اور خدمات پر مشتمل ہے۔ 14اگست ہمیں یاد دلاتا کہ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا ۔
    دلانے کا دن ہے بلکہ یہ بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ ابھی ہمیں بہت کچھ کرنا باقی ہےـ آ زادی کی حفاظت اور اس کے ثمرات کو ہر شہری تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے ـ

    ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کے درپیش مسائل کا سامنا کریں گے اور اسے حقیقی معنوں میں آزاد اور خوشحال بنائیں گے ـ صرف اسی صورت میں ہم اپنے اسلاف کے خواب کو پورا کر سکیں گے اور 14اگست کو ایک حقیقی آزادی
    کا دن قرار دے سکیں گے ـ کیونکہ آزادی محض ایک لفظ تاریخ کا حصہ نہیں ، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے جس کا مقصد ہر شہری کو آ زادی اور انصاف فراہم کرتا ہے ۔ 14اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا ہمیں اپنی تمام تر کوششیں اس مقصد کے حصول کے لیے وقف کرنی ہیں ـ!

    ہمارے اسلاف نے جو خواب دیکھا تھا وہ ایک فلاحی ریاست کا تھا جہاں ہر شہری کو انصاف ملے ، جہاں کوئی بھوکا پیاسا نہ سوئے ، جہاں تعلیم ہر فرد کا حق ہو اور جہاں قانون کی حکمرانی ہوـ لیکن آ ج ہمیں خود احتسابی کرنی چاہیے کہ ہم اس خواب کی کتنی تکمیل کر پائے ہیں۔ 14 اگست کا دن ہمیں ہر سال ملک پاکستان کی آ زادی یاد دلاتا ہے۔

    ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کے درپیش مسائل کا سامنا کریں گے اور اسے حقیقی معنوں میں آزاد اور خوشحال بنائیں گے ۔ صرف اسی صورت میں ہم اپنے اسلاف کے خواب کو پورا کر سکیں گے اور 14 اگست کو ایک حقیقی آزادی کا دن قرار دے سکیں گے ۔

    آزادی محض ایک لفظ تاریخ کا حصہ نہیں ، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے۔!

  • شانِ پاکستان. تحریر: جواد اکبر

    شانِ پاکستان. تحریر: جواد اکبر

    شانِ پاکستان
    تحریر: جواد اکبر
    دنیا میں ہر قوم کی ایک پہچان، ایک وقار اور ایک منفرد شان ہوتی ہے۔ یہ شان کسی فرد، کسی علامت یا کسی نظریے سے جنم لیتی ہے، جو قوم کے اجتماعی شعور، تاریخ، ثقافت، قربانیوں اور کامیابیوں کا عکاس ہوتی ہے۔ جب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ہمارے پیشِ نظر صرف ایک جغرافیہ نہیں ہوتا بلکہ ایک خواب، ایک جدوجہد، ایک نظریہ اور ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے جس نے لاکھوں قربانیوں کی بدولت جنم لیا۔ پاکستان کا قیام محض زمینی حدود کی تشکیل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ یہ نظریہ "لا الہ الا اللہ” کے گرد گھومتا ہے، جو مسلمانوں کو ایک الگ شناخت، ثقافت، عبادات اور طرزِ زندگی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ جیسے باوقار رہنماوں کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ وطن کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔ یہ وطن صرف ایک پناہ گاہ نہیں، بلکہ اسلامی اقدار، عدل، مساوات، حریتِ فکر اور معاشرتی انصاف کی علامت کے طور پر قائم ہوا۔

    شانِ پاکستان کی سب سے بڑی بنیاد وہ قربانیاں ہیں جن پر اس مملکتِ خداداد کی عمارت کھڑی ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران لاکھوں مسلمان شہید ہوئے، ہزاروں خواتین کی عصمتیں پامال ہوئیں، کروڑوں افراد نے ہجرت کی، اپنے گھربار، زمینیں، مال و دولت سب کچھ قربان کر دیا، صرف اس لیے کہ وہ آزاد فضاؤں میں اپنے دین، اپنی تہذیب اور اپنی اقدار کے ساتھ زندہ رہ سکیں۔ یہ قربانیاں ہی ہیں جو پاکستان کو شان عطا کرتی ہیں۔ ہر سال 14 اگست کو جب ہم یومِ آزادی مناتے ہیں تو ہمیں ان شہیدوں، مہاجروں اور بزرگوں کو یاد کرنا چاہیے جن کی قربانیوں کے بغیر ہم آج آزاد نہیں ہوتے۔

    پاکستان کی شان کو بلند رکھنے میں افواجِ پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ دشمن کی جارحیت ہو، دہشت گردی کا ناسور ہو یا قدرتی آفات، ہماری بہادر افواج ہر محاذ پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہیں۔ کارگل، سیاچن، 1965 اور 1971 کی جنگیں ہوں یا اندرونی خطرات، افواجِ پاکستان نے ہمیشہ ملک کا دفاع کیا اور قومی سلامتی کو یقینی بنایا۔ یہ نہ صرف جنگی مہارت میں ماہر ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں بھی ان کی خدمات دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی ہیں، جو ہماری قومی عزت اور شان کا روشن پہلو ہے۔

    پاکستان کے سائنسدانوں، ماہرینِ تعلیم، محققین اور انجینئرز نے بھی ملک کی شان میں اضافہ کیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام، جو نوبل انعام یافتہ ہیں، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، اس ملک کی علمی شان کے درخشندہ ستارے ہیں۔ پاکستان نے 1998 میں ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم نہ صرف امن پسند قوم ہیں بلکہ اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں۔

    یہ شان صرف دفاعی یا سائنسی طاقت سے نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیب و ثقافت، ادب و شعر، موسیقی و مصوری اور دستکاری و روایت سے بھی جھلکتی ہے۔ علامہ اقبال، فیض احمد فیض، احمد فراز، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، اور عمیرہ احمد جیسے ادیب اور شاعر قوم کی فکری و روحانی پہچان ہیں، جبکہ صوفیاء کرام کی تعلیمات نے پاکستان کی روحانی بنیادوں کو تقویت دی ہے۔ لوک موسیقی، قوالی، کلاسیکی رقص، ٹرک آرٹ، اور مختلف لسانی و علاقائی ثقافتیں دنیا بھر میں ہماری تہذیبی شناخت بن چکی ہیں۔

    پاکستان کی سرزمین اللّہ تعالیٰ کی بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہے۔ شمالی علاقے، وادی ہنزہ، سوات، گلگت بلتستان، کشمیر، چترال اور مری کو دیکھ کر انسان قدرت کی صناعی پر عش عش کر اٹھتا ہے۔ بحرِ عرب سے لے کر قراقرم تک پھیلا یہ ملک موسم، معدنیات، زراعت اور سیاحت کے وسائل سے مالا مال ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو، جھیل سیف الملوک، وادی کاغان اور صحرائے چولستان جیسے مقامات نہ صرف پاکستان کی شان ہیں بلکہ سیاحتی دنیا کے خزانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

    اس شان کو قائم رکھنے میں سب سے اہم کردار نوجوان نسل کا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو قوم کی اصل طاقت ہیں۔ آج کے نوجوان تعلیم، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میڈیا، کاروبار اور فنونِ لطیفہ میں عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ ارفع کریم، ملالہ یوسفزئی، علی معین نوازش، ہارون طارق اور دیگر کئی نوجوان عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کر چکے ہیں۔

    پاکستانی قوم کا ایک اور روشن پہلو ان کی انسان دوستی، ہمدردی اور جذبۂ خدمت ہے۔ قدرتی آفات، سیلاب یا زلزلے ہوں یا کوئی اور بحران، پاکستانی قوم ہمیشہ ایک جسم کی طرح متحد ہو کر ایک دوسرے کی مدد کرتی ہے۔ ایدھی، چھیپا، سیلانی، الخدمت اور دیگر کئی ادارے دنیا کے سب سے بڑے فلاحی اداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جس کی شان دراصل ہماری تاریخ، ہمارے نظریے، ہماری قربانیوں، ہماری افواج، ہمارے علما و دانشوروں، ہماری ثقافت، ہماری صلاحیتوں اور ہمارے جذبے کا مجموعہ ہے۔

    اگر ہمیں واقعی "پاکستانی” ہونے پر فخر ہے تو ہمیں ہر شعبۂ زندگی میں دیانت، اخلاص، محنت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اپنے قائدین کے سنہرے اصولوں پر چل کر ہم پاکستان کو ایک باوقار، باعزت، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنا سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، اور پاکستان کی شان ہی ہماری پہچان ہے۔

  • شانِ پاکستان . صرف نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے.تحریر: فیضان شیخ

    شانِ پاکستان . صرف نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے.تحریر: فیضان شیخ

    شانِ پاکستان . صرف نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے
    تحریر: فیضان شیخ
    ملک صرف زمین کے ٹکڑے نہیں ہوتے۔ بعض اوقات وہ خواب ہوتے ہیں — خون سے سینچے گئے، قربانیوں سے بوئے گئے، اور امیدوں سے اگائے گئے۔ پاکستان بھی ایک ایسا ہی خواب ہے۔ ایک نظریے کا خواب، ایک وعدے کی تعبیر، ایک عقیدے کی زمین۔

    مگر سوال یہ ہے:
    کیا ہم اس خواب کے حقیقی وارث ہیں یا صرف اس کے نعرہ باز؟
    کیا "شانِ پاکستان” ایک احساس ہے، یا محض ایک نعرہ؟
    کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ اس دو لفظی نعرے میں کتنا گہرا مفہوم پوشیدہ ہے؟

    یہ تحریر کسی نعرے کا پرچار نہیں، بلکہ ایک سوال ہے۔ ایک صدا ہے۔ ایک آئینہ ہے — جو ہر پاکستانی کو اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے۔ ایسا چہرہ جو کبھی جذبے سے روشن تھا، مگر آج مصلحتوں، مایوسیوں اور مفادات کی دھند میں گم ہو چکا ہے۔

    پاکستان کی "شان” صرف اس کے ترانے، پرچم یا تقریبات میں نہیں، بلکہ اس کی روحانی، فکری، اور اخلاقی بنیادوں میں ہے۔ ان خوابوں میں ہے جو ایک کسان نے اپنے کھیت میں کاٹے، ان دعاؤں میں ہے جو ایک ماں نے اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد آنکھوں میں چھپا لیں، ان سسکیوں میں ہے جو شہداء کی بیواؤں نے رات کی تنہائی میں اپنے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے روکی تھیں۔

    وہ ماں، جو بیٹے کے خون میں بھی صبر کے آنسو بہاتی ہے — شانِ پاکستان ہے۔
    وہ مزدور، جو پسینہ بہا کر دیانتداری سے نوالہ کماتا ہے — شانِ پاکستان ہے۔
    وہ معلم، جو تنخواہ کی پروا کیے بغیر نسلوں کو سنوارتا ہے — شانِ پاکستان ہے۔
    اور وہ نوجوان، جو بیرونِ ملک جا کر محض کامیاب ہی نہیں ہوتا، بلکہ پاکستان کا وقار بھی بلند کرتا ہے — یہی پاکستان کی اصل شان ہے۔

    لیکن افسوس، آج ہم نے اس "شان” کو صرف تصویروں، بینروں، اور میڈیا کے نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ ہم نے عمل کو الفاظ کی جگہ دے دی، اور نظریے کو مفاد سے بدل دیا۔ ہم جشنِ آزادی مناتے ہیں، مگر آزادی کی روح کو بھلا بیٹھے ہیں۔

    اگر قانون صرف غریب پر لاگو ہو،
    اگر انصاف طاقت کے قدموں میں جھک جائے،
    اگر تعلیم کاروبار بن جائے،
    اور اگر سیاست ذاتی مفادات کی غلام ہو جائے —
    تو پھر قومیں صرف وجود رکھتی ہیں، وقار نہیں۔

    ہم نے اپنے قومی ہیروز کو نصاب کی کتابوں تک محدود کر دیا ہے۔ ان کے کردار کو اپنانے کے بجائے صرف ان کی تصویریں لگاتے ہیں۔ ہم قائداعظم کے اقوال پڑھتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کرتے۔ علامہ اقبال کے خوابوں کو اشعار کی صورت میں سنبھال رکھا ہے، مگر ان کی روح کو اپنے نظام سے نکال چکے ہیں۔

    شانِ پاکستان وہ وقت تھا جب ایک بے سروسامان قوم نے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت برداشت کی۔ وہ وقت تھا جب لکڑی کی چارپائیوں پر لیڈر بیٹھتے تھے اور راتوں کو چراغوں کی روشنی میں فیصلے ہوتے تھے۔ آج وہی ملک کروڑوں کے فرنیچر، اربوں کی گاڑیوں، اور کھربوں کے وعدوں میں الجھ کر اپنی اصل کو بھول چکا ہے۔

    ہمیں ہر سطح پر یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارا کردار اس شان کے لائق ہے؟
    کیا ایک دکاندار ایمانداری سے تولتا ہے؟
    کیا ایک استاد اپنی ذمہ داری سمجھ کر پڑھاتا ہے؟
    کیا ایک عالم لوگوں میں اخلاق بانٹتا ہے، نفرت نہیں؟
    کیا ایک سیاستدان عوام کی خدمت کو ترجیح دیتا ہے، اقتدار کو نہیں؟

    تلہ گنگ کی پنجابی میں ایک پرانی کہاوت ہے:
    "اے داند کہڑا، جیڑا میلہ کراہ وچ نہ کھلووے؟”
    یعنی وہ بیل کیا بیل، جو اصل وقت میلہ کروائے بغیر صرف ڈیرے میں شوخی دکھاتا پھرے؟

    آج ہم سب وہی بیل ہیں — صرف ڈیرے میں شوخی دکھانے والے! ہم صرف تقاریب، بینرز، اور سوشل میڈیا پر چمک دکھاتے ہیں۔
    جب اصل میدانِ عمل آتا ہے — تو یا ہم خاموش ہو جاتے ہیں، یا پسپائی اختیار کرتے ہیں۔

    قوموں کی عظمت صرف ان کے ہتھیاروں سے نہیں، ان کے نظریات سے ہوتی ہے۔
    ہم ایٹمی طاقت ضرور ہیں، مگر کیا ہم اخلاقی قوت بھی ہیں؟
    کیا ہم سچ برداشت کر سکتے ہیں؟
    کیا ہم اپنی غلطی تسلیم کر سکتے ہیں؟
    کیا ہم اصلاح کے لیے قدم بڑھا سکتے ہیں؟

    پاکستان کی اصل شان اس کے ادارے ہیں —
    آزاد عدلیہ، باوقار پارلیمان، بااخلاق میڈیا، اور جواب دہ بیوروکریسی۔
    اگر یہ سب کمزور ہو جائیں، تو جھنڈے کا سایہ لمبا ضرور ہوتا ہے، مگر سایہ کبھی ستون نہیں بنتا۔

    "شانِ پاکستان” ہر اس فرد سے شروع ہوتی ہے جو ایمانداری، دیانت، سچائی اور محنت کو اپنا شعار بناتا ہے۔
    وہ شہری جو قطار میں کھڑا ہونا سیکھتا ہے،
    وہ طالبعلم جو نقل نہیں کرتا،
    وہ اہلکار جو رشوت کو حرام سمجھتا ہے،
    اور وہ رہنما جو اقتدار کو امانت مانتا ہے — یہی وہ لوگ ہیں جو شانِ پاکستان کو زندہ رکھتے ہیں۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان صرف ایک شناختی کارڈ پر لکھا ہوا نام نہیں، یہ ایک طرزِ زندگی ہے۔
    ایک نظریہ، جو ہر قدم، ہر فیصلے، اور ہر سانس میں جھلکنا چاہیے۔
    ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا:
    کیا ہم پاکستان کو صرف سوالوں کی زد میں رکھنا چاہتے ہیں؟
    یا ہم خود کو اس کا جواب بنانے پر تیار ہیں؟

    پاکستان کسی ایک قوم، زبان، یا علاقے کا نام نہیں — یہ ایک اجتماعی خواب ہے۔
    ایک ایسی تعبیر، جو ہر پاکستانی کے خلوص، قربانی، اور دیانت سے جُڑی ہے۔

    یاد رکھیں، یہ تحریر کوئی قصیدہ نہیں۔
    یہ تعریف کا ترانہ نہیں۔
    یہ تلخ سچ کی روشنی ہے، جو اندھیرے میں جلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
    یہ ہم سب کے لیے دعوتِ فکر ہے —
    کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ "شانِ پاکستان” صرف ایک خواب بن جائے…
    اور ہم صرف خواب دیکھتے رہ جائیں۔

  • شان پاکستان. تحریر: ظفر اقبال ظفر

    شان پاکستان. تحریر: ظفر اقبال ظفر

    شان پاکستان
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    پاکستان کی شان آسمانی تحفہ ہے جس کا اندازہ مسلمانیت ایمان کی روح سے اس طرح لگا سکتی ہے کہ پاکستان رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو مسلمانوں پر نازل ہوا جو رات نزولِ قرآن کی ہے، وہی رات نزولِ پاکستان کی ہے۔ یہ شانِ پاکستان کی وہ دلیل ہے جیسے کمزور سے کمزور ایمان والا مسلمان بھی فراموش نہیں کر سکتا۔ پاکستان سے محبت کرنا سنت، اس کی حفاظت کرنا فرض، اور اس سے یزیدی نظام ختم کرنا مقصدِ شہادتِ حسینؓ ہے۔

    پاکستان کی آسمانی عطا کردہ شان کو برقرار رکھنے کے لیے ماضی میں جا کر اس ملک کی بنیادوں کی سچائیوں سے آج کی نسل کو واقفیت دلانا بہت ضروری ہے۔ یہ شان پاکستان کے مقدروں میں یونہی نہیں آئی۔ چلیں آپ کو قیامِ پاکستان کی بنیادوں سمیت مختلف پہلوؤں سے ملواتے ہیں۔

    آج پونی صدی ہوگی آزاد ہوئے، مگر پلٹ کر قیامِ پاکستان کے وقت کو یاد کرتے ہیں تو روح غمزادہ ہو کر آنکھوں سے آنسو ٹپکاتے ہوئے اُس دشوار مرحلے کی داستان سنانے لگتی ہے۔ ایک ایسی ہجرت جو پاکستان بننے والی زمین کو اپنا خون پلا کر آباد کرنے پر مبنی تھی۔ وہ منظر حیرت و حوصلے پر مبنی تھے جب لاکھوں خاندان پاکستان کے نام پر اپنا سب کچھ ایک پوٹلی میں باندھ کر چل دئیے تھے۔

    پونی صدی بیت جانے کے بعد اپنے بزرگوں کی ہجرت کا مقصد اور شانِ پاکستان کے نظریات اپنے سامنے رکھتا ہوں تو میرے اندر دورانِ ہجرت جیسے زخم نمودار ہونے لگتے ہیں۔ آزادی کے نام پر اس ملک کے لیے قربانیاں دینے والوں کی نسلوں پر غلامی کے حالات دیکھ کر خون کھولتا ہے۔ تب پاکستان بنانے میں غریبوں کا خون بہا تھا، آج پاکستان کو چلانے کے لیے غریبوں کا خون نچھوڑا جاتا ہے۔

    آزادی آخر ہے کیا؟ طاقت کے استعمال سے انسانیت پر ظلم کرنے والوں سے آزادی؟ یا قانون کو اپنے مفاد میں استعمال کرکے دوسروں کا مفاد ہتھیانے والوں سے آزادی؟ یا ناانصافی کرنے والوں سے آزادی؟ یا وسائل پر قابض لوگوں سے آزادی؟ یا ایک مذہب پر دوسرے مذہب کے لوگوں کی حکومت سے آزادی؟ یا ہماری قسمت و مستقبل کے غلط فیصلے کرنے والوں سے آزادی؟ گویا تمام ظالمانہ حالات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پانے کی تحریک کا نام تھا آزادی۔ یہ وہ مقصد تھا جو قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ اقبالؒ اور ان کے تمام ساتھیوں کی کاوشوں کا محور تھا۔

    ہندوستان کی کثیر مذہبی و سیاسی قیادتیں آزادی کو انگریز کی روانگی سے منسلک کرتی تھیں اور مسلمانوں کے نزدیک آزادی کا جو مفہوم تھا اسے حضرت علامہ اقبالؒ نے ترجمانی کرتے ہوئے یوں بیان کیا کہ پاکستان دارالسلام بن جائے، ہم نہیں بلکہ اسلام آزاد ہوجائے۔

    تصورِ پاکستان کا حقیقی مقصد ہی یہی تھا۔ اس نظریے کو ہندؤں نے مسلمانوں کو قائل کرنے کے لیے یہ اعلان و اقرار کیا کہ مسلمان مطالبہ قیامِ پاکستان سے پیچھے ہٹ جائیں، ہم یہاں اسلام کی آزادی اور تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ جس پر علامہ اقبالؒ نے تبسم لب سے مسلم علما کو جواب دیا کہ جو فرق آزادی اور آزادی کے مفہوم میں بیان کیا ہے اس سے کہیں زیادہ فرق اسلام اور اسلام کے مفہوم میں ہے۔

    آپ حضرات کے نزدیک اسلام وہ ہے جو ہمارے دورِ ملکیت میں وضع ہوا اور تراشا گیا۔ اُس میں تو مسلمان غلام کا غلام ہی رہا۔ مسلمانوں کے نزدیک آزادی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ایک خدا کے اطاعت گزار ہوں اور کسی انسان کی حکومت ان کے اوپر نہ ہو۔ اور آپ جس اسلام کو اسلام کہہ رہے ہیں، اس میں سوائے اس کے کہ آپ کو چند اقدامات یا کچھ شخصی قوانین کی آزادی ہے، اس سے آگے تو کوئی آزادی ان کو نہیں ملے گی۔ یہ فرق ہے آپ کے اسلام میں اور اُس اسلام میں جس کی خاطر ہم آزادی چاہتے ہیں۔

    اس حالت کو حضرت علامہ اقبالؒ نے اپنے شعر میں یوں کہا:
    ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
    ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

    مسلمان ہونے کی حیثیت سے انگریز کی غلامی کے بند توڑ کر اس کے اقتدار کو ختم کرنا ہمارا فرض ہے، لیکن اس آزادی سے ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم آزاد ہو جائیں بلکہ ہمارا اول مقصد یہ ہے کہ اسلام آزاد ہو اور مسلمان طاقتور بن جائیں۔ اس لیے مسلمان کسی ایسی حکومت کے قیام میں مددگار نہیں ہو سکتا جس کی بنیادیں انہی اصولوں پر ہوں جن پر انگریزی حکومت قائم ہے۔

    ایک باطل کو مٹا کر دوسرے باطل کو قائم کرنا ہمارا مقصد نہیں۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کلیۃً نہیں تو بڑی حد تک دارالسلام بن جائے۔ لیکن اگر آزادیٔ ہند کا نتیجہ یہ ہو کہ جیسا دارالکفر ہے ویسا ہی رہے یا اس سے بھی بدتر ہو جائے تو مسلمان ایسی آزادیٔ وطن پر ہزار مرتبہ لعنت بھیجتا ہے۔ ایسی آزادی کی راہ میں لکھنا، بولنا، روپیہ خرچ کرنا، لاٹھیاں کھانا، جیل جانا، گولی کا نشانہ بننا— سب کچھ حرام اور قطعی حرام ہے۔

    آزادی زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے پہ ہجرت کرنے کا نام نہیں بلکہ آزادی ظالمانہ نظام سے چھٹکارا پا کر حقوقِ انسانیت کے حصول کا نام ہے۔ عزت، سکون، تحفظ، قانون، روزگار، اور مذہبی اصولوں میں زندگی گزارنے کا نام ہے آزادیٔ پاکستان۔

    وطن کے اچھے حالات ہی وطن سے محبت کرنا سکھاتے ہیں اور برے حالات ہی آزادی کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ زمینیں انسانوں پر ظلم نہیں کرتیں بلکہ انسان ہی زمین پر ظلم کرتے ہیں، یعنی لوگوں پر زمین تنگ کر دیتے ہیں۔

    پاکستان کی پاکیزہ زمین کی شان تو دیکھئے، جو اپنے مقدس پن میں سجدوں کے قابل ہے۔ جس طرح اس زمین پر کیا جانے والا سجدہ خدا کو پہنچتا ہے، اسی طرح اس زمین پر ہونے والا ہر ظلم بھی خدا تک پہنچتا ہے۔

    آزادی نظام کی تبدیلی سے ہی ترقی و مضبوطی پر فائز ہوتی ہے۔ غربت، مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی، لا قانونیت، اور سب سے بڑھ کر اسلام مخالف اقدامات، اس مقدس سرزمین پاکستان کی شان کے خلاف سب سے بڑی توہین ہیں۔ اس قابلِ شرمندگی نظام سے آزادی ہی حقیقی آزادی کا مفہوم ہے۔

    سچا محب وطن وہی ہے جو اس ملک کو اقبال و جناح کا پاکستان بنانے کی جدوجہد کرے۔ پاکستان کو شان خدا نے بخشی ہے، اس شان کو بڑھائے رکھنا ہماری محب وطنی ہے۔

  • شانِ پاکستان .تحریر: عیشل فاطمہ تلہ گنگ

    شانِ پاکستان .تحریر: عیشل فاطمہ تلہ گنگ

    شانِ پاکستان
    تحریر: عیشل فاطمہ(تحصیل تلہ گنگ، ضلع چکوال)
    پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، خواب اور عہد کا نام ہے۔ یہ وہ عظیم نعمت ہے جس کی بنیاد لا الٰہ الا اللہ پر رکھی گئی۔ اس وطن کی شان نہ صرف اس کی سرزمین، پہاڑوں اور دریاؤں میں ہے، بلکہ ان قربانیوں، خوابوں اور ارادوں میں بھی ہے جن سے یہ ملک وجود میں آیا۔ ہجرت کے قافلے، کٹے پھٹے جسم، اور لہو میں ڈوبے خواب، یہ سب پاکستان کی قیمت ہیں۔ اس وطن کو سجدوں کی حرارت، دعاؤں کی شدت اور قلم کی جرأت سے حاصل کیا گیا۔ شانِ پاکستان کا مطلب صرف ترانہ، پرچم یا قومی دنوں کی تقریبات نہیں، بلکہ اس تصور اور حقیقت کا ادراک ہے جس نے اس ملک کو اقوام عالم میں ایک الگ پہچان بخشی۔ شانِ پاکستان اس کی تہذیب میں ہے، اس کے نوجوانوں کی امنگوں میں ہے، اس کی ماؤں کی دعاؤں میں ہے، اس کے کسانوں، مزدوروں، سپاہیوں اور علما کی جدوجہد میں ہے۔ شانِ پاکستان صرف شاندار ماضی یا تابناک فتوحات کا نام نہیں، بلکہ ایک عہد ہے اُن خوابوں کا جو اس وطن کے قیام کے وقت دیکھے گئے تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے واقعی ان خوابوں کے مطابق آج کا پاکستان تشکیل دیا؟ یہی سوال اس تحریر کا مرکزی نکتہ ہے۔

    پاکستان کی شان کا سرچشمہ سب سے پہلے اس کے نظریاتی وجود سے پھوٹتا ہے۔ دو قومی نظریہ، جس نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کی حیثیت دی، وہی اس شان کی بنیاد بنا۔ علامہ اقبال نے جس روحانی اور تہذیبی خودی کا تصور دیا، اور قائداعظم محمد علی جناح نے جس حکمت، قانون پسندی اور بصیرت کے ساتھ اسے عملی جامہ پہنایا، وہ شانِ پاکستان کی اساس ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے اس نظریے کو بحیثیت قوم اپنی عملی زندگی میں جگہ دی؟ کیا ہم نے اقلیتوں کو وہی مقام دیا جو قائداعظم نے 11 اگست 1947 کی تقریر میں وعدہ کیا تھا؟ کیا عدل، مساوات، دیانت داری اور میرٹ کو وہی تقدس دیا گیا جس کا خواب تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے دیکھا تھا؟ اگر نہیں، تو یہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

    پاکستان کی ثقافت و تمدن، اس کی شاعری، موسیقی، زبانیں، اور روایات، اس کی اصل پہچان ہیں۔ پنجاب کے لوک گیت ہوں یا سندھ کی صوفیانہ محفلیں، بلوچستان کے غیرت مند قبائل ہوں یا خیبر پختونخوا کے رسم و رواج، یہ سب “شانِ پاکستان” کے رنگ ہیں، لیکن موجودہ دور میں ہماری تہذیب خطرات کا شکار ہے۔ مغرب زدہ میڈیا، غیر ملکی ثقافت کی یلغار، اور نئی نسل میں اپنی روایات سے لاتعلقی نے اس شان کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیا ہے۔ جدیدیت کی آڑ میں اپنی شناخت کھونا کوئی ترقی نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم زوال کی نشانی ہے۔

    پاکستان کی سب سے بڑی دولت اور شان اس کے نوجوان ہیں، جو آبادی کا 60 فیصد ہیں۔ ان میں صلاحیت ہے، جوش ہے، ذہانت ہے۔ عبد الستار ایدھی سے لے کر ملالہ یوسف زئی، ارفع کریم سے لے کر نسیم شاہ تک، پاکستانی نوجوانوں نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا، لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بے روزگاری، تعلیم کی خراب صورتحال، اور میرٹ کی پامالی نے نوجوانوں کو یا تو مایوسی میں دھکیل دیا ہے یا بیرون ملک ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ ملک کی شان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

    افواجِ پاکستان ہماری سرحدوں کی نگہبان اور ہمارے فخر کی اصل علامت ہیں۔ چاہے وہ 1948، 1965، 1971، کارگل یا 2025 کی تازہ ترین جنگ ہو، پاک فوج نے ہمیشہ وطن کا دفاع کیا۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ 2025 کی پاک بھارت جنگ میں جب دشمن نے جارحیت کی کوشش کی، تو پاک فوج نے جرأت، حکمت اور دلیری سے جواب دیا۔ دشمن کو پسپا کر کے ایک بار پھر پاکستان کی شان کو دوام بخشا۔

    معاشی خود مختاری کسی بھی ملک کی شان کا بنیادی جز ہے۔ پاکستان کے پاس زرخیز زمینیں، معدنی ذخائر، نوجوان افرادی قوت، اور صنعتی بنیادیں موجود ہیں، جو کسی بھی ملک کے لیے ترقی کی ضمانت بن سکتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے کرپشن، ناقص پالیسی سازی، سیاسی عدم استحکام، اور قرضوں کی معیشت نے پاکستان کی اصل شان کو دھندلا دیا ہے۔ آج اگر ہم آئی ایم ایف کی شرائط پر اپنے فیصلے کرتے ہیں، اپنی کرنسی کو مسلسل گرتے دیکھتے ہیں، تو ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچنا ہوگا کہ ہم نے خود کو کیوں محتاج بنایا؟ اصل شان خود کفالت میں ہے، اور اس کے لیے سنجیدہ، دیانتدار اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    شانِ پاکستان کا ایک پہلو اس کی بین الاقوامی شناخت سے بھی جڑا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ، او آئی سی، اور دیگر پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی حمایت میں ہمیشہ جرأت مندی کا مظاہرہ کیا، افغانستان میں امن کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا، اور اسلامی دنیا کی یکجہتی کی بات کی، فلسطینی عوام، خصوصاً غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کی۔ تاہم، حالیہ برسوں میں خارجہ پالیسی میں تسلسل کی کمی، داخلی کمزوریوں، اور سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے پاکستان کا بین الاقوامی اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک باوقار، خوددار اور دوراندیش خارجہ پالیسی ہی ملک کی اصل شان بن سکتی ہے۔

    اس لیے ہمیں صرف ماضی کے کارناموں پر فخر کرنے کی بجائے، حال کے چیلنجز کا تنقیدی ادراک بھی کرنا ہوگا۔ کرپشن، اقربا پروری، شدت پسندی، لسانی و فرقہ وارانہ منافرت، اور ادارہ جاتی ٹکراؤ جیسے مسائل نے قوم کی جڑوں کو کمزور کر دیا ہے۔ جب تک ہم ان مسائل کو دیانت داری سے نہ سمجھیں اور ان کے حل کے لیے متحد نہ ہوں، تب تک شانِ پاکستان صرف ایک نعرہ ہی رہے گا، حقیقت نہیں۔

    اہلِ پاکستان خوش نصیب ہیں کہ ان کے پاس امید کی کرنیں ابھی موجود ہیں۔ دنیا گواہ ہے کہ پاکستان کے ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دان، فنکار، کھلاڑی، سول سوسائٹی، اور عام شہری جب ایک عزم کے ساتھ کام کرتے ہیں، تو ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ کرونا وبا کے دوران ڈاکٹرز اور نرسز کی قربانیاں، زلزلوں اور سیلابوں میں نوجوانوں کی رضاکارانہ خدمات، اور کھیل کے میدان میں کامیابیاں، اور سب سے بڑھ کر حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران سارے سیاسی و مذہبی اختلافات کو بھلا کر پوری قوم کا متحد ہونا، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی اصل شان ابھی زندہ ہے۔

    شانِ پاکستان محض ماضی کا تذکرہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد، خود احتسابی، اور اجتماعی بیداری کا نام ہے۔ اگر ہم اپنے تعلیمی، معاشی، سیاسی، اور ثقافتی نظام کو درست کر لیں، اپنے اداروں کو مضبوط بنائیں، میرٹ اور عدل کو فروغ دیں، اور نوجوانوں کو مثبت راستے پر ڈالیں، تو یقیناً پاکستان نہ صرف اقوام عالم میں ایک شان دار مقام حاصل کرے گا بلکہ حقیقی معنوں میں "شانِ پاکستان” کہلانے کا حقدار بھی بنے گا۔

    آج ہمیں جس شدت کے ساتھ پاکستان کی تعمیرِ نو، حفاظت اور ترقی کے لیے اپنے جذبات، اپنے وسائل، حتیٰ کہ اپنی جان تک وقف کرنے کی ضرورت ہے، وہ شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ آج ہم سب کو خود سے اور اس ملک سے یہ وعدہ کرنا ہو گا کہ وطن کے سبز ہلالی پرچم کی سربلندی، قوم کے معصوم چہروں کی خوشیاں، اور آنے والی نسلوں کا محفوظ مستقبل کرنے کے لیے ہم ہر حد سے گزر جائیں گے۔

    آؤ وعدہ کریں، آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم، پھر ارادہ کریں
    جتنی یادوں کے خاکے نمایاں نہیں
    جتنے ہونٹوں کے یاقوت بے آب ہیں
    جتنی آنکھوں کے نیلم فروزاں نہیں
    جتنے چہروں کے مرجان زرداب ہیں
    جتنی سوچیں بھی مشعلِ بداماں نہیں
    جتنے گل رنگ مہتاب گہنا گئے، جتنے معصوم رخسار مرجھا گئے
    جتنی شمعیں بجھیں، جتنی شاخیں جلیں
    سب کو خوشبو بھری زندگی بخش دیں، تازگی بخش دیں
    بھر دیں سب کی رگوں میں لہو نم بہ نم
    مثلِ ابرِ کرم رکھ لیں سب کا بھرم
    دیدہ و دل کی بے انت شاہی میں ہم
    زخم کھائیں گے حسنِ چمن کے لیے
    اشک مہکائیں گے مثلِ رخسارِ گل
    صرف آرائشِ پیرہن کے لیے
    مسکرائیں گے رنج و غم دہر میں، اپنی ہنستی ہوئی انجمن کے لیے
    طعنِ احباب، سرمایہ کج دل، بجز اغیار سہہ لیں گے، فن کے لیے
    آؤ وعدہ کریں
    سانس لیں گے متاعِ سخن کے لیے
    جان گنوائیں گے ارضِ وطن کے لیے
    دیدہ و دل کی شوریدگی کی قسم
    آسمانوں سے اونچا رکھیں گے عَلم
    آؤ وعدہ کریں
    آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم

    یہ صرف اشعار نہیں، ایک مکمل منشورِ محبتِ وطن ہے۔ ہمارے جذبات کی ترجمان ہے۔ آئیے ہم سب اس نظم کو اپنے ضمیر کی آواز بنائیں اور پاکستان کو امن، ترقی اور عظمت کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں اور مل کر عہد کریں کہ ہم وطن کی خوشبو کو زندہ رکھیں گے، چمن کے زخموں پر مرہم رکھیں گے، اور اپنے فن، فکر، قلم، ہنر اور کردار کے ذریعے شانِ پاکستان کو دنیا میں سر بلند کریں گے۔ کیونکہ پاکستان صرف ایک زمین کا نام نہیں، یہ ہماری پہچان، ایمان اور قربانیوں کی روشن دلیل ہے۔

    نوٹ: کالم نگار نے اس کالم میں شامل نظم کا ریفرنس نہیں دیا کہ یہ نظم کہاں سے لی گی ہے اورکس کی تخلیق ہے ؟

  • شانِ پاکستان .تحریر: زاہدہ کاظمی

    شانِ پاکستان .تحریر: زاہدہ کاظمی

    شانِ پاکستان
    تحریر: زاہدہ کاظمی
    پاکستان، جس سرزمین پر ہم آج آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، یہ محض ایک ملک نہیں، بلکہ لاکھوں قربانیوں اور اذیت بھری داستانوں کا اجالا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس دھرتی کے حصول کے لیے خون کا دریا عبور کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں جانیں وطن کی بنیادوں میں دفن ہیں، ماؤں نے اپنے لختِ جگر قربان کیے، بہنوں نے اپنے سہاگ وطن پر نچھاور کیے، اور نوجوان اپنی جانیں ہنستے ہوئے وطن پر وار گئے۔

    اس ملک کی عظمت اس لیے نہیں کہ یہاں وسیع و عریض زمینیں، سرسبز وادیاں، جھیلیں اور دریا ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہاں کا ہر ذرہ شہداء کے خون سے رنگین ہے۔ یہاں کا پرچم ان عظیم قربانیوں کا امین ہے۔ پاکستان کی سرحدوں پر آج بھی ہمارے سپوت اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، جن کی جرات، حب الوطنی اور وفاداری ہی شانِ پاکستان ہے۔

    شہادت ایک ایسا مقام ہے جسے سعادت اور عظمت کا درجہ حاصل ہے۔ ہمارے شہداء کی آنکھوں میں وطن کی محبت، دل میں ایمان کی روشنی اور قدموں میں عزم کی مضبوطی ہوتی ہے۔ ان کا سرزمینِ پاکستان سے رشتہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ وہ بغیر کسی لالچ یا شہرت کے خود کو قربان کر دیتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔

    ایک شہید کا جنازہ صرف ایک گھر کے لیے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے فخر اور عزم کی علامت بن جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں، انہیں احترام دیں اور ان کے اہلِ خانہ کی عزت کریں۔ شہداء کی بدولت ہی پاکستان ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔

    14 اگست وہ دن ہے جب ظلمت چھٹی، غلامی کا خاتمہ ہوا، اور ایک روشن صبح کا سورج اُفق پر چمکا۔ یہی وہ دن ہے جب دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست، پاکستان، نمودار ہوئی—ایسی ریاست جو صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی امیدوں، قربانیوں اور دعاؤں کا ثمر تھی۔ یہ دن جشنِ آزادی کا ہی نہیں، بلکہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔

    پاکستان کا قیام کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک طویل جدوجہد اور لاکھوں قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت، علامہ اقبالؒ کے خواب اور برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیوں نے اس معجزے کو ممکن بنایا۔ پاکستان ایک نظریے پر قائم ہوا:
    پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ

    پاکستان کی فوج، ایئر فورس، نیوی اور دیگر دفاعی ادارے دنیا بھر میں اپنی بہادری، نظم و ضبط اور حب الوطنی کی مثال ہیں۔ 1965ء کی جنگ ہو، 1998ء کے ایٹمی تجربات ہوں یا دہشت گردی کے خلاف جنگ—ہماری بہادر افواج نے ہر موقع پر ملک کی شان اور خودداری کو بلند رکھا۔ پاکستان دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت ہے، جو ہمارے وقار اور دفاع کی علامت ہے۔

    پاکستان کئی زبانوں، ثقافتوں اور رنگوں کا حسین گلدستہ ہے۔ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، کشمیری اور اردو—یہ سب پاکستان کی تہذیبی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں۔ ادب میں اقبال، فیض، منٹو اور پروین شاکر نے ایسے شاہکار تخلیق کیے جو دنیا بھر میں پڑھے جاتے ہیں۔ فلم، موسیقی، ڈرامہ اور خطاطی میں پاکستان کی منفرد پہچان ہے۔

    کھیلوں میں بھی پاکستان کا نام روشن ہے۔ 1992ء کا کرکٹ ورلڈ کپ، اسکواش میں جہانگیر خان کی فتوحات، ہاکی کے عالمی کپ—یہ سب پاکستان کے عزم اور صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ آج بھی پاکستانی نوجوان کھیلوں میں اپنے جوش و جذبے سے دنیا کو حیران کر رہے ہیں۔

    عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر رتھ فاؤ، انصار برنی اور دیگر فلاحی کارکنان نے پاکستان کو انسانیت کی خدمت میں نمایاں مقام دلایا۔ قدرتی آفات یا کسی بھی مشکل وقت میں پوری قوم ایک ہو کر مدد کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل شان ہے۔

    آج جب ہم 14 اگست کو جھنڈے لہراتے اور چراغاں کرتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری اصل شان صرف ماضی کی کامیابیاں نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ ہمیں اپنے ملک کو کرپشن، ناانصافی، غربت اور بدامنی سے پاک کرنا ہے۔ تعلیم، عدل، رواداری اور ترقی کو اپنا مقصد بنانا ہے۔

    شانِ پاکستان سرحدوں، ہتھیاروں یا صرف تاریخ کے کارناموں میں نہیں—بلکہ ہر اُس پاکستانی کے دل میں ہے جو دیانت، قربانی اور وفاداری سے جیتا ہے۔ اگر ہم سب اپنا کردار ایمانداری سے ادا کریں، تو کوئی طاقت پاکستان کو جھکا نہیں سکتی۔

    پاکستان زندہ باد!

  • شان پاکستان.تحریر:وجیہہ سجاد ہمدانی

    شان پاکستان.تحریر:وجیہہ سجاد ہمدانی

    شان پاکستان
    ازقلم :وجیہہ سجاد ہمدانی
    پاک سرزمین جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر رکھی گئی تھی، لاکھوں قربانیوں، بے مثال جدوجہد اور ان گنت دعاؤں کے بعد 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم ملک ہے اور اپنے قدرتی وسائل، تہذیب و تمدن، ثقافت، عسکری قوت اور عوام کی محنت و ہنر کے باعث ایک عظیم ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئیں ان تمام پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں جو "شان پاکستان” کی وجہ ہیں۔

    لازوال قربانیاں
    شان پاکستان کی اصل بنیاد اس کی تاریخ میں پنہاں ہے۔ تحریکِ پاکستان جس کی قیادت کا سہرا قائداعظم محمد علی جناح کے سر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ہندو اکثریت کے تسلط اور انگریزوں کے ظلم و جبر سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک الگ وطن کے لیے جدوجہد کی۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، گھر بار چھوڑا، جانوں کے نذرانے دیے، عزتیں لٹتی رہیں لیکن عزم و حوصلے میں کمی نہ آئی۔ یہی قربانیاں پاکستان کی شان کی وجہ ثابت ہوئیں۔

    پاکستان کی بنیاد — نظریہ اسلام
    پاکستان کی بنیاد زمین کے ایک ٹکڑے پر نہیں رکھی گئی، بلکہ یہ ایک نظریے پر قائم ہوا — وہ نظریہ جو اسلام کے اصولوں پر مبنی تھا۔ اس ملک کا خیال سر سید احمد خان نے پیش کیا۔ علامہ اقبال نے ایک ایسا خواب دیکھا تھا، جس میں مسلمان آزاد اور خود مختار ہوں، اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جدوجہد قائداعظم محمد علی جناح نے کی۔ یہی نظریہ پاکستان کی اصل شان قائم رکھے ہوئے ہے۔

    بہترین عسکری قوت
    قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور برصغیر کے مسلمانوں کے عزم نے ایک علیحدہ وطن کے خواب کو حقیقت بنایا۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی ریاست کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سب سے بڑا مسئلہ سیکیورٹی کا تھا۔ انہی حالات میں وطن کے بہادر سپوتوں نے وطن کی حفاظت کا بیڑہ اٹھایا۔

    پاک فوج اپنی پیشہ ورانہ مہارت، اعلیٰ نظم و ضبط اور قربانی کے جذبے سے سرشار دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے۔ اس کا نصب العین "ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ” ہے، یہی ان کا مشن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا قدرتی آفات، اقوامِ متحدہ میں امن مشنز ہوں یا سرحدی حفاظت — ہماری پاک فوج آج تک کسی محاذ پر پیچھے نہیں ہٹی۔ ہمہ وقت چوکس اور مستعد، وطن کے بیٹے سرحدوں پر ہماری یعنی اپنی قوم کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔

    شاعر نے کیا خوب لکھا ہے:
    خاکی وردی میں جتنے بھی ملبوس ہیں
    پاک دھرتی کے جگمگ یہ فانوس ہیں
    اس وطن کے درخشاں ستارے ہیں یہ
    دیس والوں کی آنکھوں کے تارے ہیں یہ
    اپنی دھرتی سے شر کو مٹاتے ہیں یہ
    دیپ امن و اماں کے جلاتے ہیں یہ
    فوج اپنی علی تا قیامت رہے
    تاکہ دھرتی ہماری سلامت رہے

    قدرتی حسن و وسائل
    پاکستان جغرافیائی خصوصیات کا حامل ملک ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، جنوب میں بحیرہ عرب، مغرب میں صحرا اور مشرق میں سرسبز و شاداب میدان — سب قدرتی حسن کے شاہکار ہیں جو ہمارے ملک کو اور خوبصورت بناتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی "کے ٹو” پاکستان کا حصہ ہے۔ وادیٔ سوات، ہنزہ، ناران و کاغان جیسے علاقے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتے ہیں۔

    قدرتی وسائل کی بات کی جائے تو پاکستان کو کوئلہ، نمک، گیس، تیل، سونا، تانبہ، یورینیم، اور قیمتی پتھروں جیسے بیش بہا خزانے میسر ہیں۔ زرعی پیداوار میں گندم، چاول، کپاس اور آم جیسے اجناس پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

    خوبصورت ثقافت
    پاکستان کی خوبصورت ثقافت اس کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور قبائلی علاقوں کی الگ الگ زبانیں، لباس، موسیقی و رقص، کھانے اور رسم و رواج پاکستان کو ایک کثیر الثقافتی ملک بناتے ہیں۔ پنجابی بھنگڑا، سندھی اجرک، بلوچی چپل، پشتون مہمان نوازی اور کشمیری کڑھائی دنیا بھر میں پاکستان کی ثقافت کی علامت ہیں۔

    ہر خطے کی اپنی بولی ہے جیسے اردو، پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو اور براہوی — یہ سب ملک کو لسانی دولت سے مالامال کرتی ہیں۔ اردو کو بطور قومی زبان اپنانا قومی اتحاد کی علامت ہے۔

    شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
    میں سندھی، میں بلوچی،
    میں سرائیکی، میں پنجابی،
    میں مہاجر، میں پٹھان ہوں
    سب رنگ ہیں میرے
    میں ہر رنگ میں مسلمان ہوں
    میں پیارا پاکستان ہوں

    سپورٹس و فنونِ لطیفہ
    پاکستان کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور سنوکر جیسے کھیلوں میں عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، جہانگیر خان اور محمد یوسف جیسے بہترین کھلاڑی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ پاکستان نے 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ جیت کر دنیا کو حیران کر دیا اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان کسی میدان میں پیچھے نہیں۔

    فنون لطیفہ میں بھی پاکستان نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ صوفی موسیقی، قوالی، غزل، فلم و ڈرامہ اور مصوری میں پاکستان نمایاں مقام رکھتا ہے۔ نور جہاں، مہدی حسن، نصرت فتح علی خان اور فیض احمد فیض جیسے فنکار پاکستان کی ثقافتی شان میں اضافہ کرتے ہیں۔

    بحیثیت پاکستانی عوام ہماری ذمہ داریاں
    اگرچہ پاکستان کو کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان کی نوجوان نسل میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔

    موجودہ حالات میں صرف فوج اور حکومت پر انحصار کافی نہیں۔ ملک کی ترقی، استحکام اور سلامتی کے لیے ہر پاکستانی کو اپنی ذمہ داری کا احساس اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں قانون کی پاسداری، قومی یکجہتی کا فروغ، منفی پروپیگنڈے سے بچاؤ، ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے اقدامات، اور صبر و تحمل سے حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

    بقول شاعر:
    غیر کی باتوں میں یوں جو آتے ہو تم
    اپنی املاک کو کیوں جلاتے ہو تم
    دل میں حبِ وطن تا قیامت رکھو
    دیس گھر ہے اسے تم سلامت رکھو
    یہ سیاست ہمیشہ رہے گی کہاں
    اس میں الجھو نہ تم اس کو چھوڑو میاں
    ان کی خاطر جو گھر کو جلاو گے تم
    خود ہی اپنا جنازہ اٹھاو گے تم