Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پارلیمنٹ کی بالا دستی نہ آئین کی حکمرانی،ملک میں جمہوریت طوائف بن گئی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ کی بالا دستی نہ آئین کی حکمرانی،ملک میں جمہوریت طوائف بن گئی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بیانات ایسے ،سب شعلہ بیاں،عملی اقدامات صفر،عوام کوکب تک بے وقوف بنایا جائےگا
    دنیا ٹیکنالوجی میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ،ہماری ’’کل‘‘ بھی سیدھی نہ ہو سکی ،صرف نعرے رہ گئے
    بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی نہ عوام کو ترقی ملی ، ن لیگ کے سوا ہر جماعت صرف کاغذی منصوبے بناتی رہی
    تجزیہ، شہز ادقریشی
    ملکی سیاسی گلیاروں میں سیاستدانوں کے بیانات آ رہے ہیں، جمہوریت کو مستحکم کیا جائے گا، پارلیمنٹ کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی ، اور آئین کو لے لر بیانات سامنے آرہے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ تعصب اور اقتدار کا حصول رہا ہے اور پھر اقتدار کے جام کو تھام کر عقل و شعور کی جگہ جاہ وجلال نے لے لی،سیاسی جماعتوں کو جمہوریت ،پارلیمنٹ کی بالادستی ،قانون کی حکمرانی اور آئین کے بارے بیانات دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں نے جمور کے لئے کیا کارنامے سرانجام دئیے، جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں تاہم جمہوریت کے دعویداروں سے خطرات لاحق ہیں، ہماری سیاسی جماعتوں کا جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کو خیرآباد کہنے والوں کو دوبارہ کسی دوسری جماعت میں شمولیت کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے، ملکی جمہوریت کو کون سا نام دیا جائے، جمہوریت کی منڈی یا کاغذی جمہوریت ، مذہبی جماعتوں کی حالت بھی نازک ہے، سیاسی جماعتوں میں نظریات ، ضمیر ،اصول وغیرہ بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں، ایسی باتیں کرنے والوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے ، اب بھی وقت ہے سیاسی جماعتیں اپنا رُخ عوام کی طرف موڑ دیں ایمانداری اور دیانتداری سے عوام کی خدمت کریں، ذرا غور کریں ہم آج کی جدید ٹیکنالوجی کے زمانے میں بجلی اورگیس کے بحران سے گزر رہے ہیں،حالیہ برسوں میں عوام جن سنگین مسائل کا نشانہ بنے اُن میں سرفہرست دہشت گردی اور بجلی گیس کا بحران ،دہشت گردی کا مقابلہ پاک فوج ،جملہ اداروں اور پولیس نے کیا ، ہمارے افسران اور جوان شہید ہوئے، ملک وقوم کا دفاع کرتے ہوئے کئی سہاگنوں کے ساگ اُجڑ گئے،بچے یتیم ہو گئے، عوام 90 ء کی دہائی سے پہلے لوڈشیڈنگ سے آشنا نہیں تھے ایک ادارہ واپڈا بُرا بھلا جیسا بھی تھا پانی اوربجلی کے نظام کو بہتر انداز میں چلا رہا تھا ، واپڈا کے تربیت یافتہ انجنیئروں نے خلیجی ممالک بجلی کے نظام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، 1994 ء میں پیپلزپارٹی کی دوسری ٹرم کے دوران نئی توانائی پالیسی لائی گئی ۔ واپڈا کے ٹکڑے کرکے کمپنیاں تشکیل دی گئیں ، پیپلزپارٹی کی اس پالیسی کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج تک اس پالیسی کا خمیازہ ملک وقوم بھگت رہے ہیں، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے جات اُس صور ت مل سکتی ہے جب ان پالیسیوں کو دفن کیا جائے گا ورنہ عوام کی نجات مشکل ہے

  • جب کوفہ میں ضمیر قید ہوا اور سچائی تنہا رہ گئی

    جب کوفہ میں ضمیر قید ہوا اور سچائی تنہا رہ گئی

    جب کوفہ میں ضمیر قید ہوا اور سچائی تنہا رہ گئی.مکہ سے کربلا تک کا سفر.چار محرم 61 ہجری
    تحریر: سیدریاض حسین جاذب

    اسلامی تاریخ کے سب سے دردناک سانحات میں سے ایک واقعۂ کربلا محض میدانِ نینوا کا واقعہ نہیں، بلکہ اس سے قبل کے سیاسی و سماجی حالات بھی گہرے تجزیے کے متقاضی ہیں۔ چار محرم الحرام 61 ہجری کو کوفہ میں پیش آنے والے چند اہم واقعات نے تاریخ کا رخ بدل دیا اور امام حسینؑ کی تنہائی کو یقینی بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ دن ایک دھمکی آمیز خطبے سے شروع ہوا اور ضمیر کے قیدیوں کے زخموں پر ختم۔

    کوفہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد، جسے یزید نے امام حسینؑ کی آمد روکنے کے لیے مقرر کیا تھا، نے اسی دن مسجدِ کوفہ میں ایسا خطبہ دیا جو جبر اور خوف کی علامت بن گیا۔ اس نے امام حسینؑ کا ساتھ دینے والوں کو قتل کی دھمکیاں دیں اور قاضی شریح کا فتویٰ سنایا، جس میں امامؑ کے خون کو مباح قرار دیا گیا۔ یہ فتویٰ اس کوشش کی علامت تھا کہ ظلم کو شرعی رنگ دے کر جائز ٹھہرایا جائے۔

    ابن زیاد نے کوفہ کے تمام راستے بند کرا دیے تاکہ کوئی بھی فرد یا قافلہ امام حسینؑ کی نصرت کو نہ پہنچ سکے۔ یہ اقدام محض ایک فوجی یا سیاسی چال نہیں، بلکہ سچائی سے کوفہ کو کاٹ دینے کی شعوری سازش تھی۔ ایک طرف عوام کو دھمکایا گیا، دوسری جانب مال و منصب کا لالچ دے کر خریدنے کی کوشش کی گئی۔ یوں بہت سے لوگ خوف یا مفاد کی بنیاد پر ابن زیاد کے ساتھ جا ملے۔

    جن لوگوں پر امام حسینؑ سے عقیدت یا حمایت کا شبہ تھا، انہیں قید کر دیا گیا۔ یہی قیدی بعد ازاں "توابین” کہلائے—وہ لوگ جنہیں اپنے جرمِ خاموشی پر ندامت تھی۔ ان کا ضمیر انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیتا تھا، اور آخرکار انہوں نے توبہ کے طور پر بنو امیہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔

    توابین نے سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے اور اپنی کوتاہی کا کفارہ ادا کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا اور یزیدی حکومت کے خلاف جنگ کی، یہاں تک کہ وہ بھی میدانِ شہادت میں اتر گئے۔ ان کی تحریک اس بات کی علامت بنی کہ تاریخ خاموش تماشائیوں کو معاف نہیں کرتی۔

    کوفہ کا قبیلوی نظام بھی امام حسینؑ کی تنہائی کا سبب بنا۔ بیشتر قبائل نے اپنے سرداروں کی اطاعت میں امام کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ سردار یا تو بنو امیہ سے قربت رکھتے تھے یا ابن زیاد کی طرف سے ملنے والے مفادات کے اسیر ہو چکے تھے۔ یوں ضمیر قبیلوی وفاداری کے نیچے دفن ہو گیا، اور عام قبائلی افراد بھی حق کا ساتھ نہ دے سکے۔

    چار محرم الحرام 61 ہجری کا دن محض تاریخ کا ایک صفحہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ابن زیاد کا خطبہ، قاضی شریح کا فتویٰ، اور کوفہ کی خاموشی.یہ سب مل کر امام حسینؑ کی تنہائی کا پس منظر بنے۔ مگر انہی اندھیروں میں سے "توابین” جیسی روشنی بھی نکلی، جو یاد دلاتی ہے کہ اگر ضمیر جاگ جائے تو توبہ بھی قربانی کا راستہ چن لیتی ہے۔

    کربلا کا پیغام صرف ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ خاموشی بھی جرم ہے۔ اور کبھی، تاخیر سے جاگا ہوا ضمیر بھی تاریخ میں جگہ پا لیتا ہے.اگر وہ سچائی کے لیے لڑ مرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

  • 20 ننھے جنازے، کوئی قاتل نہیں؟

    20 ننھے جنازے، کوئی قاتل نہیں؟

    20 ننھے جنازے، کوئی قاتل نہیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    کمشنر ساہیوال نے پاکپتن کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) میں 16 سے 22 جون 2025 کے دوران 20 بچوں کی اموات کا نوٹس لے کر ایک نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے تکنیکی عملے پر مشتمل ہے۔ یہ کمیٹی پانچ دن میں نئے سرے سے تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق ان چھ دنوں میں چلڈرن وارڈ میں 20 بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں جن میں 15 نومولود اور 5 ایک سال سے کم عمر بچے شامل تھے۔ خاص طور پر 19 جون کو 5 بچوں کی موت ہوئی۔ والدین نے الزام لگایا کہ عملے کی غفلت، آکسیجن کی کمی اور ادویات کی عدم دستیابی نے ان معصوم جانوں کو نگل لیا۔ ایک والد نے بتایا کہ ان کے نومولود کو آکسیجن کی ضرورت تھی لیکن وارڈ میں عملہ غیر حاضر تھا اور جب ڈاکٹر آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک ماں نے بیان کیا کہ ان کے بچے کو بخار کی دوا تک بروقت نہ دی گئی اور جب تک معائنہ ہوا، بچہ دم توڑ چکا تھا۔ یہ سانحہ نہ صرف پاکپتن بلکہ پورے ملک کے لیے ایک دردناک لمحہ ہے، جو نظام صحت کی زبوں حالی کو بے نقاب کرتا ہے۔

    حیران کن طور پر ابتدائی سرکاری انکوائری رپورٹ نے ڈاکٹرز اور نرسز کو کسی بھی قسم کی غفلت سے بری الذمہ قرار دیا اور کوئی ذمہ دار شناخت نہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عملے کی تربیت ناکافی تھی لیکن اسے جرم یا غفلت قرار نہ دیا گیا۔ اس کے بجائے صرف نچلے درجے کے ملازمین جیسے سویپرز اور وارڈ بوائز کو ہٹانے کی سفارش کی گئی۔ یہ رپورٹ انصاف کے بجائے ایک ایسی کوشش لگتی ہے جو ہسپتال کے اعلیٰ حکام اور انتظامیہ کی ناکامیوں پر پردہ ڈالتی ہے۔ اگر عملہ تربیت یافتہ نہیں تھا تو اسے حساس نیونیٹل وارڈ میں کس نے تعینات کیا؟ کیا تربیت کی کمی کو جواز بنا کر 20 بچوں کی اموات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش نہیں؟

    پاکپتن کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات جیسے آکسیجن، ادویات اور تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی رہی۔ والدین کے مطابق وارڈ میں اکثر اوقات ڈاکٹرز غیر حاضر ہوتے تھے اور نرسز کی تعداد بھی ناکافی تھی۔بے روزگاری ،غربت اور بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا۔ نجی ہسپتالوں کے اخراجات برداشت نہ کرنے کی وجہ سے غریب عوام سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن وہاں بدحالی اور سہولیات کی کمی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ صحت کا شعبہ براہ راست وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اگر سوات میں 12 افراد کے ڈوبنے پر کے پی حکومت اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورذمہ دار ہیں اور ان سے استعفےٰ کا مطالبہ جائز ہے تو پاکپتن میں 20 بچوں کی اموات پر پنجاب حکومت کی خاموشی کیوں؟کیا ان 20 معصوموں کی ہلاکت کی ذمہ دار مریم نواز نہیں ہیں ؟ کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟

    یہ سانحہ صرف ایک ہسپتال کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام صحت کی زبوں حالی کا ثبوت ہے۔ اگر 20 معصوم بچوں کی اموات کے بعد بھی کوئی جوابدہ نہیں تو یہ نظام غریب کے لیے موت کا پروانہ ہے۔ ہسپتال جو زندگی کی امید ہوتے ہیں، آج پاکستان میں موت کے گہوارے بن چکے ہیں۔ کمشنر ساہیوال کی نئی انکوائری کمیٹی سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ اس سانحے کی غیر جانبدارانہ چھان بین کرے گی ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیٹی اصل ذمہ داروں کو بے نقاب کر پائے گی؟ اس سانحے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے ایک آزاد جوڈیشل انکوائری ناگزیر ہے۔ جنہوں نے غیر تربیت یافتہ عملے کو بھرتی کیا، جنہوں نے سہولیات کی فراہمی میں کوتاہی برتی اور جنہوں نے والدین کی چیخوں کو نظر انداز کیا، ان سب کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ صرف نچلے درجے کے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنانا انصاف نہیں بلکہ ناانصافی ہے۔

    حکومت کو چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جائے، طبی عملے کی تربیت کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ہیلتھ کارڈ جیسے پروگراموں کو بحال کیا جائے تاکہ غریب عوام کو علاج کی سہولت مل سکے۔ پاکپتن کے 20 ننھے جنازوں نے ہر پاکستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اس نظام کی عکاسی ہے جو طاقتور کو تحفظ دیتا ہے اور غریب کی جان کو معمولی سمجھتا ہے۔ کیا ہم اس نظام کو بدلنے کے لیے آواز اٹھائیں گے؟ کیا 20 معصوم جانوں کا خون رائیگاں جائے گا؟ کیا وزیراعلیٰ پنجاب اس سانحے کی ذمہ داری قبول کریں گی؟ کیا نئی انکوائری کمیٹی محض ایک رسمی کارروائی ثابت ہوگی یا انصاف کی طرف پہلا قدم؟ کیا ہمارے ہسپتال کبھی زندگی کی امید بن پائیں گے یا موت کے گہوارے ہی رہیں گے؟ یہ چبھتے سوالات ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہے ہیں اور ان کے جوابات ہی ہمارے معاشرے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

  • امت مسلمہ کا اتحاد،حقیقت کا چیلنج ،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ کا اتحاد،حقیقت کا چیلنج ،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ کا اتحاد وہ خواب ہے جس کی تعبیر آج تک حاصل نہ ہو سکی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان، جو کبھی "امت واحدہ” کا عملی نمونہ تھے، آج انتشار اور تفریق کا شکار ہیں۔ دنیا کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود وہ عالمی سطح پر اپنی طاقت اور وقار کھو بیٹھے ہیں۔

    فرقہ واریت امت مسلمہ کی سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے۔ اسلامی ممالک مختلف فرقوں اور مسالک کے تضادات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ شیعہ سنی اختلافات ہوں یا دیگر فقہی تنازعات، یہ تنازعات صرف مساجد اور مدارس تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاست، معیشت، اور سماجی تعلقات میں بھی سرایت کر چکے ہیں۔ ان اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی طاقتوں نے اسلامی دنیا کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔

    علاقائی سیاست اور خودغرضی بھی اتحاد کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر، افریقہ کے معدنی وسائل، اور ایشیا کے اسٹریٹجک محل وقوع نے اسلامی دنیا کو عالمی طاقتوں کے لیے ایک میدان جنگ بنا دیا ہے۔ اسلامی ممالک کے رہنما اپنی کرسی اور اقتدار کو بچانے کے لیے بیرونی طاقتوں کے زیر سایہ کام کر رہے ہیں۔ وہ امت کے اجتماعی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے ذاتی اور علاقائی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    تعلیم اور قیادت کی کمی نے مسلمانوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ امت مسلمہ نے اپنی علمی وراثت کو فراموش کر دیا ہے۔ جدید تعلیم اور تحقیق میں پیچھے رہ جانے کے باعث مسلمان نہ تو عالمی مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے مسائل کو حل کر پاتے ہیں۔ آج اسلامی دنیا کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو فرقہ واریت، تعصب، اور خودغرضی سے بالاتر ہو کر امت کے مشترکہ مفادات کے لیے کام کرے۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
    (ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔)
    یہ وہ اصول ہے جو امت کو زوال سے نکال سکتا ہے۔ لیکن اس اصول پر عمل کرنے کے لیے قربانی، ایثار اور خلوصِ نیت کی ضرورت ہے۔

    امت مسلمہ کا اتحاد ممکن ہے، لیکن اس کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک مسلمان اپنی ترجیحات کو درست نہیں کرتے، فرقہ واریت اور تعصب کو ختم نہیں کرتے، اور عالمی سیاست میں اپنی حیثیت کو مضبوط نہیں کرتے، اتحاد کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ وقت ہے کہ امت مسلمہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرے، ان سے سبق لے، اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرے۔

    یہ چیلنج مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ امت مسلمہ کا اتحاد صرف ایک خواب نہیں، بلکہ ایک ضرورت ہے، جو اگر حاصل ہو جائے تو مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

  • افسران کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جائے.تحریر:ملک سلمان

    افسران کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جائے.تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ دنوں پنجاب میں اپنے ہی بیج میٹس کو جس طرح Disgrace کیا گیا یہ نہ تو پہلا واقع تھا اور نہ ہی آخری۔ اپنی سیٹ پکی کرنے کیلئے بیج میٹ اور سنئیرز کو فکس کروانا روٹین میٹر بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی دور میں رقم دو سیٹ لو کے تحت ہونے والی ٹرانسفر پوسٹنگ کے بعد بیوروکریسی میں شروع ہونی والی لوٹ مار اور عیاشی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ پیسوں کی عوض ہونے والی خلاف میرٹ ٹرانسفر پوسٹنگ اور تعیناتیوں نے افسران کے درمیان نفرت کی ایسی لکیر کھینچی کہ بیج میٹ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے۔

    بزدار کا سیاہ ترین اور شرمناک دور ختم ہوا تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کے مشن امپاسبل کو پاسیبل کر دکھایا۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ کے جذبے اور ایمانداری کو سلوٹ لیکن چیف سیکرٹری اور آئی جی میرٹ کے”سپنوں“ کی دنیا دکھا کر ”پک اینڈ چوز“ کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ افسران جو اخلاقی اور مالی لحاظ سے بدنام زمانہ کرپٹ ترین ہیں، بزدار اور پرویز الٰہی دور کے بڑے بینیفشریز تھے انکو اہم ترین سیٹوں پر لگایا ہوا ہے۔اس وقت پنجاب میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ 18سے گریڈ 22تک کے 59افسران OSD ہیں۔درجنوں افسران تعیناتی کی منتظر ہیں اور لاڈلوں کو پرموشن ٹریننگ کے باوجود بھی غیر قانونی طور پر سیٹوں پر رکھا ہوا ہے۔

    لاقانونیت اور فرعونیت کی انتہا دیکھیے کہ کچھ افسران 2022 اور 2023 سے اب تک OSD ہیں۔ جبکہ سنئیر سیٹوں پر جونئیر افسران تعینات ہیں۔ اپنے جونئیر کے ماتحت پوسٹنگ ملنے کی وجہ سے افسران کی اکثریت لاوارثوں والی زندگی گزار کر شدید پریشان ہیں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہر وقت key Posting والے احساس برتری کی وجہ سے اور OSD رہنے والے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر دونوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

    بیج میٹ، بیج میٹ کا دشمن بنا ہوا ہے جبکہ key posting والے جونئیرافسران سنئیرز کا احترام بھول چکے۔
    سرکاری ملازمین کی دنیا بہت چھوٹی ہے انڈرٹریننگ کے دور میں انکی غربت اور لاچاری کی کہانیاں ساتھی بیج میٹ بہت مزے سے سناتے ہیں کہ یہ جب ہمارے ساتھ ٹریننگ کیلئے آیا تو غربت کے کن حالات میں تھا۔ پھر کس پوسٹنگ میں کیا اندھیر نگری مچائی، کس شہر پوسٹنگ میں لوٹ مار کی وجہ سے عوام کے ہاتھوں گالیاں اور چپیڑیں تک پڑیں۔ ساتھی افسران سے ہر روز انکی نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ چند افسران کے بارے مشہور ہے کہ اگر ایک وقت میں انکا سگا باپ کال کرے اور دوسری طرف سے رشوت کے پیسوں کی ڈیل کروانے والا ٹاؤٹ تو وہ ٹاؤٹ کی کال پہلے اٹھائیں گے۔ عوامی اعتماد اور کرپشن کے خاتمے کیلئے چند افسران کو پنجاب سے نکالنے اور بیوروکریسی کی ری شفلنگ ناگزیر ہے۔ماضی میں کمشنر کی مشاورت سے ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی رائے سے اسسٹنٹ کمشنر لگائے جاتے تھے جس سے ایک بہترین ٹیم اور کوارڈینیشن سے سسٹم چلتا تھا۔ ابھی مبینہ طور پر پنجاب میں چیف سیکرٹری کی صورت ون مین شو چل رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سارے اضلاع کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنر ایک دوسرے کے احکامات کے برخلاف گئے ہیں۔ کسی بھی صوبائی محکمے کی کامیابی کا دارومدار اسی بات پر ہوتا ہے کہ وزیر اور سیکرٹری اپنی مرضی کی ٹیم بنا کر کام کریں۔�

    نگران حکومت سے شروع ہونے والے ”گینگ آف سیون” کے بیوروکریٹک مارشل نے جہاں حکومت سے عوام کا اعتماد خراب کیا وہیں سینکڑوں افسران بھی شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ ابھی بھی مذکورہ ”گینگ آف سیون“ درجنوں سنئیر سیٹوں پر جونئیر افسران لگا کر حصے وصول کر رہا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پک اینڈ چوز کی وجہ سے پولیس سروس آف پاکستان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں ہے سوائے ان کے جن کو آؤٹ دی وے جا کر نواز ا گیا۔

    وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ تمام ٹرانسفر پوسٹنگ کا ازسرنو جائزہ لیں۔ خاص طور پر بیرونی فنڈنگ والی تمام پوسٹوں پر افسران کی تبدیلی کی جائے بلکہ انکا آڈٹ بھی کروایا جائے کیونکہ زبان زد عام ہے کہ وہاں حصے بانٹے جاتے ہیں۔ ان پوسٹوں پر تعینات سفارشی جونئیر افسران نے اربوں روپے کی کرپشن کرکے بیرونی فنڈنگ والے اداروں کے سامنے پنجاب اور پاکستان کا ایمج خراب کیا ہے اس لیے یہ کسی صورت رعایت کے مستحق نہیں۔
    صوبائی سیکرٹری، ڈی جی، ایم ڈی، پراجیکٹ ڈائریکٹر، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسی طرح ایڈیشنل آئی جی، آر پی او، سی پی او اور ڈی پی او کی تقری کیلئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کی صورت فرد واحد کی حکمرانی ختم کرکے کم از کم چھے رکنی سلیکشن ٹیم بنائی جائے جس میں متناسب تعداد میں پارلیمینٹیرین اور افسران شامل کیے جائیں جو میرٹ پر افسران کی تقرری کیلئے سفارشات مرتب کر سکیں۔سندھ میں پیپلز پارٹی کے لگاتار کلین سویپ اور کامیابی کا ایک ہی راز ہے کہ وہاں بیوروکریسی نہیں پارلیمنٹ سپریم ہے۔ "کے پی آئی” کی وجہ سے افسران میں زیادہ سے زیادہ سروس ڈلیوری کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ "کے پی آئی” میں عوامی فیڈ بیک کو شامل کیے بن یہ کارگردگی رپورٹ ادھوری ہے کیونکہ "کے پی آئی” اسی صورت حقیقی اور میرٹ رپورٹ سمجھی جاسکتی ہے جب اس میں عوامی فیڈ بیک کے نمبر بھی شامل کیے جائیں۔ سٹیٹ لینڈ کی حفاظت اور تجاوزات کے خاتمے میں ناکام ہونے والوں کو آئندہ ہرگز فیلڈ پوسٹنگ نہ دی جائے۔ کے پی آئی کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ تین ماہ کی رپورٹ کے بعد ٹاپ فائیو کو انعام اور لاسٹ فائیو کو سزا دی جائے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • فرات پر پہرہ اور امام کا عزم:مکہ سے کربلا تک کا سفر ،3 محرم

    فرات پر پہرہ اور امام کا عزم:مکہ سے کربلا تک کا سفر ،3 محرم

    فرات پر پہرہ اور امام کا عزم:مکہ سے کربلا تک کا سفر ،3 محرم
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    محرم الحرام کی ہر تاریخ اپنے دامن میں قربانی، صبر، اور بیداری کا پیغام لیے ہوئے ہے، مگر جب ہم تین محرم کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو کربلا کی سرزمین پر جاری ظلم و ستم اور امام حسینؑ کی استقامت ہمیں بے اختیار رُلا دیتی ہے۔
    یہ وہ دن ہے، جب امام عالی مقامؑ، ان کے اہلِ بیتؑ اور وفادار اصحاب کو عملی طور پر دریائے فرات سے محروم کر دیا گیا اور مظالم کے پہاڑ توڑے جانے لگے۔

    امام حسینؑ کا قافلہ مکہ سے روانہ ہوا تو ان کا مقصد واضح تھا: یزید کی بیعت سے انکار، دینِ محمدی ﷺ کی بقا اور امت کو خوابِ غفلت سے جگانا۔
    یہ سفر اقتدار یا حکومت کے لیے نہیں بلکہ حق و صداقت کے لیے تھا۔ امامؑ کے ہمراہ اہلِ بیت کے علاوہ وہ جانثار اصحاب بھی تھے جو صبر، وفا، اور قربانی کا استعارہ بنے۔

    تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ قافلے کے ہمراہ دو سو سے زائد اونٹوں پر صرف پانی کے مشکیزے لادے گئے تھے تاکہ راستے میں قافلے کے افراد، دیگر مسافروں، جانوروں اور یہاں تک کہ دشمنوں کی پیاس بھی بجھائی جا سکے۔جب حر بن یزید کا لشکر قافلے کے قریب پہنچا تو امام حسینؑ نے نہ صرف انہیں پانی پلایا بلکہ ان کے جانوروں کو بھی سیراب کیا۔ یہ عمل امام کی اعلیٰ ظرفی اور انسان دوستی کو تاریخ میں امر کر گیا۔

    افسوس! تین محرم کو وہی امامؑ، جو دشمنوں کو بھی پانی پلاتے تھے، خود اور ان کا قافلہ فرات کے کنارے ہوتے ہوئے بھی پیاسا کر دیا گیا۔
    یزیدی لشکر نے دریا پر پہرہ بٹھا دیا تاکہ امامؑ کے خیموں تک ایک قطرہ بھی نہ پہنچ سکے۔
    خیموں میں بچوں کی سسکیاں، عورتوں کی بے قراری اور پیاس کی شدت نے قیامت کا منظر پیدا کر دیا، مگر امامؑ نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔

    اسی کٹھن گھڑی میں امام حسینؑ نے حضرت زینبؑ کے ہمراہ اپنے دیرینہ دوست اور صحابیٔ رسول ﷺ، حبیب بن مظاہر کو خط لکھا۔
    خط کا مضمون سادہ مگر پراثر تھا:

    "اے حبیب! میں کربلا میں ہوں، میرا ساتھ دو۔”

    حبیب نے خط پڑھتے ہی اپنے قبیلے اور اہلِ خانہ کو چھوڑا اور فوراً امامؑ کی مدد کو روانہ ہو گئے۔
    یہ واقعہ امام حسینؑ کی حکمت، روابط اور اعتماد کا مظہر ہے، اور حضرت زینبؑ کی شراکت نے اس لمحے کو روحانی عظمت عطا کی۔

    اسی روز امام حسینؑ نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
    "رات کی تاریکی ہے، تم جا سکتے ہو۔ دشمن صرف مجھے چاہتا ہے، تم پر کوئی جبر نہیں۔”

    مگر تمام جانثاروں نے یک زبان ہو کر کہا:

    "ہم آپ کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ ہم نے آپ کے ساتھ جینا ہے اور آپ کے ساتھ مرنا ہے۔”

    یہی وہ لمحہ تھا جب وفا اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔
    تین محرم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سچائی، صبر اور استقامت کی راہ پر چلتے ہوئے پیاس، تکلیف اور قربانی بھی سر بلندی کا باعث بنتی ہے۔

    امام حسینؑ نے فرمایا:

    "ہم نہ بیعت کریں گے، نہ ظلم تسلیم کریں گے۔ پیاسا مرنا قبول ہے، مگر ذلت کی زندگی ہرگز نہیں۔”

    یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ باطل کے سامنے جھکنا مومن کا شیوہ نہیں۔
    حق پر قائم رہنا مشکل ضرور ہے، مگر یہی قربانی تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔

    آج جب دنیا ظلم و ناانصافی سے بھری ہوئی ہے، تو تین محرم ہمیں حسینؑ کے راستے کی یاد دلاتی ہے — وہ راستہ جو صبر، قربانی، حق گوئی اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا راستہ ہے۔

  • سانحہ سوات: سیاح بہہ گئے، تبدیلی رہ گئی

    سانحہ سوات: سیاح بہہ گئے، تبدیلی رہ گئی

    سانحہ سوات: سیاح بہہ گئے، تبدیلی رہ گئی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    26 جون 2025 کو دریائے سوات کے کنارے ایک دلخراش سانحہ پیش آیا جب سیالکوٹ سے آئے ایک خاندان سمیت 17 سیاح اچانک آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ 11 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، 4 کو بچایا گیا جبکہ 2 کی تلاش جاری ہے۔ یہ واقعہ محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 12 سالہ حکمرانی کی انتظامی ناکامی کا عکاس ہے۔ پی ٹی آئی نے "تبدیلی” کا نعرہ لگایا لیکن سوات کا یہ المناک سانحہ بتاتا ہے کہ سیاحوں کی حفاظت، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور عوامی فلاح کے وعدے محض کاغذی نعروں تک محدود رہے۔

    خیبر پختونخوا سیاحت کا گہوارہ ہے، جہاں سوات اور چترال جیسے دلکش مقامات لاکھوں سیاحوں کو کھینچتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے 2013 سے اپنی حکمرانی میں سیاحت کے فروغ کے بلند بانگ دعوے کیے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ دریائے سوات کے کنارے غیر قانونی تجاوزات اور غیر محفوظ ناشتہ پوائنٹ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ 2 جون سے دفعہ 144 کے تحت دریا کے کنارے جانے پر پابندی تھی، لیکن نہ سیاحوں کو روکا گیا اور نہ ہی انتظامیہ نے اس پابندی کو نافذ کیا۔ انتباہی بورڈ تو لگے تھے مگر پولیس اور مقامی انتظامیہ کی غیر فعالیت نے انہیں بے اثر کر دیا۔ محکمہ موسمیات کی یکم جولائی تک موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کے باوجود سیلاب کی پیشگی اطلاع کا نظام یا موسمیاتی خطرات کے انتظام کا کوئی موثر طریقہ موجود نہ تھا، جس نے اس سانحے کی شدت کو بڑھایا۔

    ریسکیو 1122 اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) ہنگامی حالات سے نمٹنے کے کلیدی ادارے ہیں لیکن ان کی کارکردگی اس سانحے میں شرمناک حد تک ناکافی رہی۔ متاثرین نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بروقت نہ پہنچیں اور نہ ہی ان کے پاس ضروری سازوسامان جیسے کشتیاں یا جال تھے۔ مردان کے روح الامین جو خود توبچ گیا لیکن انہوں نے اپنی بیٹی اور کزن کو اس سانحے میں کھو دیا، نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں لیکن کوئی مدد نہ کر سکیں۔ پی ڈی ایم اے نے خوازہ خیلہ میں پانی کی بلند سطح پر ہائی الرٹ جاری کیا، لیکن پیشگی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ 120 سے زائد ریسکیو اہلکار تعینات تھے مگر خراب موسم اور پانی کے تیز بہاؤ نے امدادی کارروائیوں کو معطل کر دیا، جس کے باعث پاک فوج کو طلب کرنا پڑا۔ یہ صورتحال صوبائی اداروں کی محدود صلاحیت اورناکامی کو بے نقاب کرتی ہے۔

    سانحے کے بعد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سمیت چار افسران کو معطل کر کے تفتیشی کمیٹی بنائی، لیکن کیا صرف نچلے درجے کے افسران کو قربانی کا بکرا بنانا کافی ہے؟ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہوئے کیا علی امین گنڈاپور پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ اس سانحے نے 11 قیمتی جانیں چھین لیں، جن میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد شامل تھے۔ کیا ان اموات کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر نہیں آتی؟ عوامی حلقوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ صوبائی قیادت نے سیاحوں کی حفاظت کے لیے بنیادی ڈھانچہ کیوں نہ بنایا؟ کیا وفاقی حکومت اس سانحے پر نوٹس لے کر گنڈاپور کی لاپرواہی اور غفلت کے باعث ہونے والے اس ناقابل تلافی نقصان پر انہیں ذمہ دار ٹھہرائے گی؟ پولیس کی تاخیر، غیر قانونی تجاوزات کی روک تھام میں ناکامی اور ہوٹل مالکان کی لاپروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کیا، لیکن نہ وہ جاں بحق ہونے والوں کے جنازوں میں شریک ہوئے اور نہ ہی ورثاء سے ملے۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی قیادت کی ترجیحات عوامی مسائل سے زیادہ سیاسی مفادات ہیں۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی کی قیادت صرف احتجاج اور سیاسی مہمات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟

    پی ٹی آئی کی 12 سالہ حکمرانی میں نہ صرف سیاحت بلکہ بنیادی ڈھانچے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی۔ صوبے کی سڑکیں، ہسپتالوں کی ناقص سہولیات اور تعلیمی اداروں کی بدحالی اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ "تبدیلی” صرف نعروں کی زینت رہی۔ معاشی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں غربت اور بے روزگاری کی شرح میں کوئی خاص کمی نہ آئی۔ سوات جیسے سیاحتی مقامات پر ہسپتالوں کی خراب حالت اور ایمرجنسی سہولیات کی کمی نے اس سانحے کے اثرات کو اور سنگین کر دیا۔ عوام سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی نے صوبے کے وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا؟

    دریائے سوات کا سانحہ ایک دردناک آئینہ ہے جو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی ناکامیوں کو عیاں کرتا ہے۔ سیاح بہہ گئے، لیکن تبدیلی کہیں پیچھے رہ گئی۔ کیا صوبائی حکومت اس سانحے سے کوئی سبق سیکھے گی؟ کیا سیاحوں کی جانوں کی حفاظت کے لیے سیلاب کی پیشگی اطلاع کا نظام اور موثر ہنگامی خدمات قائم ہوں گی؟ کیا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اپنی توجہ سیاسی مہمات سے ہٹا کر عوام کے دکھوں کی طرف موڑیں گے؟ کیا پی ٹی آئی اپنے "تبدیلی” کے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے گی یا یہ سانحہ بھی ایک اور فراموش شدہ خبر بن کر رہ جائے گا؟ جب ایک ہی خاندان کے 10 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، کیا صوبائی قیادت کے ضمیر کو کوئی جھٹکا بھی لگا؟ یہ سوالات خیبر پختونخوا کے ہر شہری کے دل میں گونج رہے ہیں اور ان کے جوابات کا انتظار سوات کے کنارے بہہ جانے والے معصوم سیاحوں کے لواحقین کی چیخیں مانگ رہی ہیں۔ کیا صوبائی حکومت ان چیخوں کو سن پائے گی یا یہ خاموشی بدستور ان کی ترجیحات کو بیان کرتی رہے گی؟

  • سکوٹیاں اور ٹریفک پولیس

    سکوٹیاں اور ٹریفک پولیس

    سکوٹیاں اور ٹریفک پولیس
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    یہ کالم سکوٹی استعمال کرنے والے بچوں اور خواتین میں ٹریفک قوانین کی آگاہی کی کمی اور حکومتی غفلت کو اجاگر کرتا ہے۔ مصنف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سکوٹی کی تقسیم سے پہلے تربیت اور لائسنس کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے تھا، تاکہ بڑھتے ہوئے حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔ ٹریفک پولیس اور متعلقہ اداروں کی فوری توجہ اس اہم مسئلے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی معاشرہ پہلے ہی بے راہ روی کا شکار ہے۔ سگنل توڑنا، بغیر کٹ کے گاڑی موڑ لینا اور دورانِ سفر اشارہ نہ دینا، ہماری روزمرہ ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مثبت پہلو کم جبکہ منفی کرداروں کی کوئی کمی نہیں۔

    ان ہی حالات میں آج کل گورنمنٹ کی سطح پر سکوٹیاں تقسیم کی جا رہی ہیں، جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی عورتیں اور بچے ان کے خریدار بن رہے ہیں۔ تاہم، سکوٹیاں تو فراہم کی جا رہی ہیں لیکن انہیں چلانے والے بچوں اور خواتین کے لیے کسی قسم کے مناسب حفاظتی یا تربیتی اقدامات نہیں کیے گئے۔

    ہم نے ہمیشہ عوامی منصوبوں کو بغیر کسی منظم منصوبہ بندی یا حکمت عملی کے نافذ کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا نتیجہ منفی اثرات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہی حال سکوٹی چلانے والوں کا ہے۔ شہروں اور گردونواح میں حادثات کی بڑی وجہ یہی ہے کہ بچوں اور خواتین کو ٹریفک قوانین اور ڈرائیونگ اصولوں سے آگاہی حاصل نہیں۔ نہ لائسنس، نہ تربیت اور نتیجتاً حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی سطح پر ان بچوں اور خواتین کی باقاعدہ تربیت اور آگاہی کے لیے پروگرامز ترتیب دیے جائیں، تاکہ حادثات میں کمی لائی جا سکے اور یہ عمل سست روی کا شکار نہ ہو۔

    کاش سکوٹیاں تقسیم کرنے سے قبل ٹریننگ سیشنز کا اہتمام کیا جاتا اور باقاعدہ لائسنس جاری کیے جاتے۔ نرمی اختیار کی جا سکتی تھی، لیکن مکمل غفلت اختیار کرنا موجودہ حالات میں شدید نقصان دہ ہے۔ مگر افسوس، حالات اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں ، وجہ وہی پرانی: ڈنگ ٹپاؤ پالیسی۔ سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا؟

    آئی جی پنجاب ٹریفک پولیس کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس جانب فوری توجہ دینی چاہیے۔ یقیناً وہ ایسا کریں گے۔ ممکن ہے کسی مصروفیت یا لاعلمی کے باعث تاحال اس مسئلے پر توجہ نہ دی جا سکی ہو، لیکن ہمیں امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

  • سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    دریائے سوات میں پکنک منانے آئے سیاحوں کی ہولناک ہلاکتوں نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 11 افراد میں سے 8 کی نماز جنازہ ڈسکہ میں ادا کر دی گئی جبکہ 2 افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ کئی سوالات چھوڑ گیا ہے جن کے جوابات لواحقین، عوام، اور سوسائٹی مانگ رہی ہے۔

    جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور عینی شاہدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں، اور جب پہنچیں تو ان کے پاس نہ کشتیاں تھیں، نہ جال۔ متاثرین بتاتے ہیں کہ ان کے عزیز دریا کے بیچ ایک ٹِیلے پر پھنسے رہے، چیختے رہے، مدد کے لیے پکارا، مگر موجیں سب کچھ بہا لے گئیں۔ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ سیاحوں کو خطرے سے خبردار کیا گیا تھا اور انہیں روکا بھی گیا، لیکن وہ نہ مانے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ فیملی صبح 8:30 پر ہوٹل کے کیفے میں ناشتے کے لیے پہنچی مگر ہوٹل بند تھا، جس کے بعد وہ پچھلے راستے سے دریا کے اندر چلے گئے۔ سیاحوں نے دریا کے اندر جا کر سیلفیاں لینا شروع کر دیں، مقامی لوگوں نے بار بار خبردار کیا کہ پانی کا ریلا آ سکتا ہے، مگر وہ باز نہ آئے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق 9:50 پر ریسکیو 1122 کو کال کی گئی، مگر حادثے کی نوعیت کا اندازہ نہ ہونے کے باعث ٹیمیں بغیر کشتی و جال کے پہنچیں۔ بعد ازاں 10 منٹ میں یہ سامان منگوایا گیا اور کارروائی شروع کی گئی۔ کارروائی کے دوران تین سیاحوں اور ایک مقامی شخص کو بچایا گیا۔

    واقعے کی سنگینی کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر سوات سمیت متعدد افسران کو معطل کر دیا ہے اور ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات بار ایسوسی ایشن نے احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور سانحے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ سیاحتی پوائنٹس پر تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ جس نجی ہوٹل سے سیاح دریا کی طرف گئے تھے، اسے سیل کر کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ دریائے سوات کے اندر اور اطراف غیر قانونی مائننگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ تھی، جس پر عملدرآمد پولیس کی ذمہ داری تھی۔ مگر حیرت انگیز طور پر پولیس جائے وقوعہ پر سب سے آخر میں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون لاگو تھا تو دریا کے اندر سیاح کیسے پہنچے؟ ہوٹل کا پچھلا راستہ کیوں کھلا تھا؟ پولیس اور انتظامیہ کہاں تھی؟

    اہم سوالات جو اب بھی جواب طلب ہیں ،اگر دفعہ 144 نافذ تھی تو سیاحوں کو دریا میں جانے سے کس نے روکا؟ریسکیو اہلکار بغیر سامان کیوں پہنچے؟حادثے کے وقت ہوٹل کھلا کیوں نہ تھا، اور پچھلا راستہ بند کیوں نہ تھا؟انتظامیہ اور پولیس موقع پر تاخیر سے کیوں پہنچے؟اگر سیاحوں نے مقامی لوگوں کی بات نہ مانی تو کیا سرکاری ادارے مزید سختی نہیں کر سکتے تھے؟

    سانحہ سوات صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک نظام کی ناکامی کی علامت بن گیا ہے۔ انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے، سب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسی غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب نہ بنے۔

  • کربلا: جہاں قافلۂ حق نے قیام کیا.مکہ سے کربلا تک سفر: 2 محرم

    کربلا: جہاں قافلۂ حق نے قیام کیا.مکہ سے کربلا تک سفر: 2 محرم

    کربلا: جہاں قافلۂ حق نے قیام کیا.مکہ سے کربلا تک سفر: 2 محرم
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    بعض سرزمینیں صرف مٹی کی چادر اوڑھے ویران نہیں ہوتیں، وہ وقت کے سینے میں دفن صداؤں کی گونج رکھتی ہیں۔ کربلا بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے: خاموش، مگر سچ بولتی ہوئی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ، تقدیر اور قربانی ایک دوسرے سے آ ملے۔

    جب امام حسینؑ کا قافلہ صحرا کی تپتی وسعتوں کو عبور کرتا ہوا فرات کے قریب پہنچا، تو حر بن یزید ریاحی نے مؤدب ہو کر عرض کی:
    "مولا! یہاں قیام کیجیے، فرات قریب ہے، پانی میسر ہے، زمین ہموار ہے۔”

    امام حسینؑ نے ایک لمحے کو قدم روکے، زمین کی طرف دیکھا، پھر سوال کیا:
    "اس جگہ کا نام کیا ہے؟”
    جواب ملا: "یہ کربلا ہے۔”

    نام سنتے ہی امامؑ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ گہری خاموشی چھا گئی۔ ایک آہ، جو صدیوں کے دکھ میں لپٹی ہوئی تھی، سینے سے نکلی۔ امامؑ نے فرمایا:
    "یہ کرب (غم) اور بلا (مصیبت) کا مقام ہے۔”

    یہ نام فقط ایک جغرافیائی پہچان نہ تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں حضرت علی صفین جاتے ہوئے ٹھہرے تھے، اور پوچھا تھا:
    "یہ جگہ کون سی ہے؟”
    جب نام سنا، تو فرمایا:
    "یہی وہ سرزمین ہے جہاں ان کا خون بہے گا، جہاں خاندانِ محمدؐ کا قافلہ اترے گا۔”

    اب وہ لمحہ آ چکا تھا۔ قافلہ اتر گیا، ساز و سامان کھولا گیا، خیمے نصب ہوئے۔ لیکن امامؑ کا دل اضطراب سے بھرا ہوا تھا۔ یہ دو محرم 61 ہجری کا دن تھا۔

    امام حسینؑ نے اپنے اہلِ خاندان کو جمع کیا۔ بیٹے، بھتیجے، بھائی، بھانجے سب سامنے موجود تھے۔ ایک نظر سب پر ڈالی، وہ نگاہ جو محبت سے لبریز اور آگاہی سے پر تھی۔ پھر آپؑ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور امامؑ نے آسمان کی طرف رخ کر کے وہ دعا مانگی جو رہتی دنیا تک مظلوموں کی زبان بن گئی:

    "اللهم انا عترة نبيك محمد، وقد اخرجنا وطردنا، وازعجنا عن حرم جدنا، وتعدت بنو امية علينا، اللهم فخذ لنا بحقنا، وانصرنا على القوم الظالمين”

    "اے اللہ! ہم تیرے نبیؐ کا خاندان ہیں، ہمیں ہمارے وطن سے نکالا گیا، ہمیں حرمِ نبویؐ سے ہراساں اور بے دخل کیا گیا، اور بنو امیہ نے ہم پر ظلم ڈھائے؛ اے اللہ! ان سے ہمارا حق لے لے اور ہمیں ان ظالموں پر نصرت عطا فرما!”

    یہ صرف ایک ذاتی فریاد نہ تھی، بلکہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے والے ہر حریت پسند کی زبان تھی۔ یہ پکار تھی ہر اس دل کی جو اقتدار کے ایوانوں میں بند سچائی کو آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔

    اسی لمحے امامؑ نے اپنے باوفا ساتھیوں کی طرف رخ کیا اور وہ جملہ کہا جو صدیوں سے اہلِ حق کے لیے آئینہ اور اہلِ دنیا کے لیے تنبیہ ہے:

    "الناس عبيد الدنيا، والدين لعق على السنتهم، يحوطونه ما درت معايشهم، فإذا محصوا بالبلاء قل الديانون”
    "لوگ دنیا کے غلام ہیں، دین صرف ان کی زبانوں پر ہے، جب تک ان کے مفادات محفوظ رہیں، دین کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں؛ لیکن جب آزمائش آتی ہے تو سچے دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں۔”

    یہ ہے کربلا کی روح ، حق کی وہ کسوٹی جو ہر دور کے باطن کو بے نقاب کرتی ہے۔

    امام حسینؑ نے صرف روحانی تیاری پر اکتفا نہ کیا بلکہ عمل کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ آپؑ نے کربلا کی زمین کو نینوی اور غاضریہ کے باشندوں سے چھے ہزار درہم میں خریدا اور شرط رکھی کہ وہ آپ کی قبر کی طرف آنے والوں کی رہنمائی کریں گے اور کم از کم تین دن تک ان کی مہمانی کریں گے۔

    اس عمل نے یہ طے کر دیا کہ کربلا صرف ایک معرکہ نہیں، بلکہ یاد، شعور، زیارت، اور بیداری کا مرکز ہے۔ ایک سوال آج بھی زندہ ہے: کربلا آج بھی ہمیں بلاتی ہے۔

    پوچھتی ہے کہ:
    کیا تم دین کو زبان تک محدود رکھتے ہو؟ یا بلاء کی گھڑی میں بھی حسینؑ کے قافلے میں شامل ہو سکتے ہو؟

    یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں ، یہ ایک جاری سوال ہے، جو ہر دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے:

    حق کے ساتھ ہو؟ یا خاموش تماشائی؟