Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جب زمین بھی روئی اور آسمان خاموش ہو گیا

    جب زمین بھی روئی اور آسمان خاموش ہو گیا

    جب زمین بھی روئی اور آسمان خاموش ہو گیا (9محرم)
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    کربلا میں نو محرم کا سورج صرف روشنی نہیں، ایک اعلان تھا، یہ آخری دن ہے۔ یہ سورج افق پر نہیں، دلوں پر طلوع ہوا۔ اپنے ساتھ وہ سائے لے کر آیا جن کا نام فراق، پیاس اور وداع تھا۔ کربلا کی ریت تپ رہی تھی لیکن اس دن جو سورج طلوع ہوا، وہ صرف گرمی نہ لایا… وہ فیصلے کا سورج تھا، وہ آزمائش کی تپش تھا، وہ تاریخ کے عظیم ترین امتحان کا آغاز تھا۔

    جب خیموں پر سائے چھوٹے ہونے لگے اور خطرہ بڑا ہوتا چلا گیا۔ جب بچوں کے لب خشک، ماؤں کی آنکھیں نم اور جوانوں کی پیشانیاں وضو کے پانی سے نہیں بلکہ آنسوؤں سے تر تھیں۔ یہ سورج عباسؑ کی بصیرت پر پڑا، جو خیموں کے گرد پہرہ دے رہے تھے۔ یہ سورج زینبؑ کے آنچل پر پڑا، جو جانتی تھیں کہ اب حجاب کی آخری ساعتیں ہیں۔ یہ سورج سکینہؑ کے چہرے پر پڑا، جس کے ہونٹوں پر پیاس سے زیادہ ایک ہی سوال تھا: "بابا! کل ہم کہاں ہوں گے؟”

    نو محرم کی صبح عمر بن سعد نے لشکر کو تیار رہنے کا حکم دیا۔ خیموں کے گرد گھیرا مزید تنگ ہو گیا۔ اب لشکر کی تلواریں خیموں کی دیواروں کے سائے میں چمکنے لگیں۔ جیسے ظلم، خامشی کے پردے میں چلنے لگا ہو۔ حضرت عباسؑ گھوڑے پر سوار ہوئے، دشمن کے قریب پہنچے اور للکار کر پوچھا: "کس نیت سے آئے ہو؟” جواب آیا: "ہم جنگ کا آغاز کرنے آئے ہیں!” عباسؑ واپس امام حسینؑ کے پاس آئے اور امامؑ نے فقط ایک بات کہی: "بھیا، اُن سے کہو… ہمیں ایک رات کی مہلت دے دو!” یہ رات، عبادت کی رات تھی، رخصتی کی رات تھی، زندگی کا آخری چراغ تھی۔ ایک ایسی رات جس میں سجدوں کی نمی، رخصتی کے آنسو اور تقدیر کے فیصلے جمع تھے۔

    شام ڈھلنے لگی۔ قافلۂ حسینؑ کے چراغ روشن ہوئے اور خیموں میں تلاوتِ قرآن، دعائیں، اذانیں اور نالے بلند ہونے لگے۔ ہر سانس کے ساتھ لگتا تھا جیسے موت قریب آ رہی ہو، مگر خیموں میں کوئی خوف نہیں تھا۔ امامؑ نے سب اصحاب کو جمع کیا، اور کہا "کل میرے ساتھ رہنے والوں کی گردنیں کٹیں گی۔ تم سب چلے جاؤ۔ میں تمہیں رخصت کرتا ہوں!” مگر ہر زبان سے ایک ہی جواب آیا: "اے فرزندِ رسولؐ! ہم آپ کے بعد کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟” یہ جملہ صرف وفاداری نہیں، عشق کی زبان تھا۔ حضرت عباسؑ خاموشی سے خیموں کے گرد چکر لگاتے رہے… ہر خیمے کا در کھٹکھٹاتے، زینبؑ کے خیمے کے سامنے رک جاتے… اور صرف دل ہی دل میں کہتے: "کل اگر میں نہ رہوں، تو یہ خیمے کیسے محفوظ رہیں گے؟” اُن کے چہرے پر کوئی خوف نہ تھا، صرف فرض، غیرت اور اہلِ حرم کا تحفظ تھا۔

    رات گہری ہوئی… سکینہؑ امام حسینؑ کے سینے پر سوئی ہوئی تھی، مگر نیند بے چین تھی۔ اس معصوم بچی کے چہرے پر وہ پیاس لکھی تھی جو نہ صرف جسمانی تھی بلکہ دل کی بےچینی کا اظہار بھی۔ زینبؑ نے بھائی سے پوچھا: "کیا کل علی اکبرؑ بھی جائیں گے؟” امام خاموش ہو گئے۔ صرف آنکھ سے ایک آنسو گرا اور زمینِ کربلا نے اُسے اپنے سینے میں چھپا لیا۔ کوئی جواب نہ آیا، مگر خاموشی میں وہ صدمہ چھپا تھا جسے صرف بہنیں سمجھ سکتی ہیں۔

    کربلا میں نو محرم کا سورج صرف دن نہ تھا، وہ چراغوں کا الوداع تھا، وہ عباسؑ کی پہرہ داری کا آخری دن، وہ سکینہؑ کی گود کا آخری سایہ، وہ زینبؑ کی چادر کی آخری بے فکری اور حسینؑ کے لبوں پر "رضاً بقضائک” کی آخری مہک تھا۔ وہ دن جب حسینؑ نے خالق سے کہا: "اے پروردگار! اگر یہی تیرا فیصلہ ہے تو ہمیں قبول ہے!”، یہ وہ عزم تھا جسے میدانِ کربلا میں کسی تلوار نے نہیں توڑا، کسی نیزے نے جھکایا نہیں۔

    یہ سورج وہ سوال لے کر آیا جو آج بھی زندہ ہے، جب سچ تنہا رہ جائے، جب ظلم چاروں طرف ہو، جب وقت کا حسینؑ پکارے… تو کیا تم اُس کے ساتھ کھڑے ہو گے؟ کیا تم سکینہؑ کے سوال کا جواب دے سکو گے؟ کیا تم زینبؑ کی چادر بچانے کی ہمت رکھتے ہو؟

    اسی شبِ عاشور، امام حسینؑ نے اپنے خیمے کے باہر تمام اصحاب اور اہلِ بیت کو جمع کیا۔ خیموں کے چراغ مدھم ہو رہے تھے، مگر حسینؑ کا لہجہ مثلِ آفتاب روشن تھا۔ انہوں نے فرمایا: "میں تمہیں رخصت کرتا ہوں۔ یہ اندھیری رات ہے، جسے جانا ہے، چلا جائے۔ میں اپنی بیعت تم سے اٹھاتا ہوں۔ کل میرے ساتھ ہر وہ شخص مارا جائے گا جو میرے ساتھ رہے گا۔” مگر جواب میں ہر طرف سے ایک صدا آئی: "ہم آپ کے ساتھ جینے نہیں، صرف مرنے کے لیے آئے ہیں۔” یہ وہ رات تھی جب وفا نے تاریخ کی سب سے روشن قسم کھائی کہ کل سورج کربلا سے ڈوبے گا، مگر حسینؑ کا کارواں حق کی روشنی بن کر رہ جائے گا۔

  • 5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے

    5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے

    5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    5 جولائی 1977 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا دن ہے جو جمہوری نظام کے لیے بدترین مثال بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھا جب پاکستان کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمریت کا اندھیرا ہر طرف چھا گیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر کے نہ صرف ایک سیاسی نظام کو معطل کیا بلکہ ایک پوری نسل کے خواب، امیدیں اور سیاسی تربیت کو مسخ کر دیا۔ یہ واقعہ پاکستان کے جمہوری سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا، جس کے اثرات آج کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود سیاست، معاشرت، عدلیہ، معیشت اور صحافت میں موجود ہیں۔

    مارشل لا سے پہلے کا سیاسی منظرنامہ بھی کشیدہ تھا۔ مارچ 1977 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، مگر حزبِ اختلاف نے نتائج کو تسلیم نہ کیا اور دھاندلی کے الزامات کے تحت ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا۔ ملک میں احتجاجی مظاہرے، ہنگامے اور سیاسی کشمکش اس نہج پر پہنچ گئی کہ جنرل ضیاء الحق نے ‘ملک میں بڑھتی ہوئی انارکی’ کو جواز بنا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہ جواز کتنا مصنوعی اور سیاسی تھا، اس کا اندازہ وقت نے خود کروا دیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ان پر ایک سیاسی قتل کا مقدمہ بنایا گیا، جس کی نوعیت نہ صرف مشکوک تھی بلکہ عدالتی کارروائی بھی ضیاء کے زیراثر تھی۔ چیف جسٹس انوارالحق کی سربراہی میں وہ عدالتی نظام جو بھٹو کو انصاف فراہم کرنے کا پابند تھا، درحقیقت آمریت کے ہاتھوں یرغمال بن چکا تھا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کا بعد ازاں یہ اعتراف تاریخ کے سیاہ اوراق میں محفوظ ہے کہ عدالتی دباؤ کے باعث بھٹو کو سزائے موت دی گئی۔ اس فیصلے نے نہ صرف عدالت کی غیر جانبداری کو مشکوک بنا دیا بلکہ جمہوری عمل کے خلاف بھی ایک عدالتی ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے کا آغاز کیا۔

    ضیاء الحق کی آمریت نے مذہب کو ریاستی ایجنڈے میں شامل کیا، اور اسے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔ حدود آرڈیننس، زنا قوانین، کوڑوں کی سزائیں، سرِعام پھانسیاں اور میڈیا پر سنسرشپ ضیاء کی پالیسیوں کا حصہ بن گئیں۔ خواتین، اقلیتیں اور ترقی پسند عناصر ریاستی جبر کا نشانہ بنے۔ تعلیمی نصاب میں نظریاتی زہر بھر دیا گیا۔ آزادی اظہار رائے جرم قرار پائی اور صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ شاعر حبیب جالب کی نظم "ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا” اس دور کی آئینہ دار ہے۔

    5 جولائی کو ضیاء نے اعلان کیا کہ نوّے دن کے اندر انتخابات ہوں گے لیکن یہ وعدہ 11 سال پر محیط آمریت میں تبدیل ہوا۔ انتخابات بار بار ملتوی کیے جاتے رہے۔ 1985 میں بالآخر غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے، جس میں منتخب نمائندے ضیاء کے تابع رہے۔ سیاستدانوں کی نئی نسل فوجی نرسریوں سے تیار کی گئی، جن میں آج کے کئی سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔ آمریت کے اسی دور میں جہادی کلچر کو فروغ ملا، جس کا نقطہ آغاز افغان جہاد اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحاد تھا۔ اس کا نتیجہ شدت پسندی، کلاشنکوف کلچر، فرقہ واریت اور انتہاپسندی کی صورت میں نکلا، جو آج بھی پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

    ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد ملک میں نظریاتی تقسیم نے جنم لیا۔ بائیں بازو کی سیاست کو ریاستی بیانیے سے باہر نکال دیا گیا۔ طلبا یونینز پر پابندی عائد کی گئی، جو آج تک بحال نہ ہو سکی۔ اس مارشل لا نے نہ صرف سیاسی اداروں کو کمزور کیا بلکہ فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا مستقل حق بھی دے دیا۔ یہ روایت آج بھی بدستور قائم ہے۔ آج بھی جب کبھی جمہوریت کمزور ہوتی ہے تو 5 جولائی کی پرچھائیاں محسوس ہوتی ہیں۔

    اخبارات کے صفحات، ادیبوں کی تحریریں اور عوام کی زبانیں ضیاء کے دور میں بند کر دی گئیں۔ نصاب کو اس حد تک مسخ کیا گیا کہ آنے والی نسلوں کے اذہان میں آمریت اور اسلام کا ایک غیر فطری ملاپ پیوست ہو گیا۔ جمہوریت کو مغربی سازش قرار دے کر عوام کو آمریت سے محبت سکھائی گئی۔ اس پر فخر کیا گیا کہ جنرل ضیاء نے ملک کو "اسلامی ریاست” میں تبدیل کر دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دور نے پاکستانی ریاست کی روح، فکر اور سچائی کو مسخ کیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر آمریت کو دوام دینے کی کوشش کی گئی، مگر تاریخ نے اسے کبھی معاف نہیں کیا۔ بھٹو کو ختم کر کے جو خلا پیدا کیا گیا، وہ آج بھی پر نہیں ہو سکا۔ ان کا قتل ایک سیاسی قتل سے زیادہ قومی ضمیر کا قتل تھا۔ بھٹو نے کہا تھاکہ "تاریخ مجھے بری کردے گی” اور آج وہ تاریخ واقعی ضیاء کو آمریت کی علامت اور بھٹو کو جمہوریت کا استعارہ قرار دیتی ہے۔

    جب جب پاکستان میں جمہوریت کی بات ہوتی ہے تو 5 جولائی یاد آتا ہے۔ جب جب کوئی آئین کی بالادستی کی بات کرتا ہے تووہ ذوالفقار علی بھٹو کے انجام سے عبرت سیکھتا ہے۔ آج بھی ضیاء الحق کے نظریاتی وارث مختلف شکلوں میں موجود ہیں جو کبھی مذہب کے نام پر، کبھی حب الوطنی کے پردے میں تو کبھی احتساب کے نعرے میں جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔

    یہ دن ایک یاددہانی ہے کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور جب تک عوام اپنے ووٹ، اپنی آواز اور اپنے اداروں کا دفاع نہیں کریں گے، مارشل لا جیسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ ہمیں تاریخ سے سیکھنا ہو گا کہ جو قومیں آمریت کو قبول کرتی ہیں، ان کے مستقبل اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔ 5 جولائی کا مارشل لا صرف ایک رات کا حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا زلزلہ تھا جس کی آفٹر شاکس آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟

    کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟

    کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    کراچی جو پاکستان کا معاشی ہب، صنعتی مرکز اور ملک کی سب سے بڑی آبادی والا شہر ہے، یہ شہر اب صرف کاروبار، روشنیوں اور شور کا استعارہ نہیں رہا بلکہ یہاں ہر گرتی عمارت ایک چیخ ہے جو ملبے سے نکل کر آسمان سے سوال کرتی ہے کہ آخر مجرم کون ہے؟

    گزشتہ پانچ سالوں میں اس شہر میں کئی عمارتیں زمین بوس ہوئیں۔ کہیں پانچ منزلہ عمارت گری تو کہیں رہائشی اپارٹمنٹس یا فیکٹری کی چھت دھماکے سے نیچے آ گری۔ ان سانحات میں درجنوں زندگیاں چلی گئیں، سیکڑوں خواب دفن ہوئے اور ہر بار کچھ دن شور اٹھا، کچھ افسر معطل ہوئے، لیکن کوئی مستقل حل سامنے نہ آیا۔

    4 جولائی 2025 کو لیاری کے بغدادی محلے میں گرنے والی عمارت محض ایک عمارت نہیں تھی بلکہ وہ کراچی کی بلڈنگ پالیسی، حکومتی نااہلی، بلڈرز کی حرص اور عوام کی بے بسی کا علامتی مجسمہ تھی۔ وہ عمارت جو 50 سال پرانی تھی اور خطرناک قرار دی جا چکی تھی، آخر کیوں خالی نہ کرائی گئی؟ کیوں ان سات جانوں کو موت کے منہ میں دھکیلا گیا؟

    یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ مارچ 2020 میں گلبہار میں 27 افراد ایک غیر قانونی عمارت کے نیچے دب کر مر گئے۔ اپریل 2023 میں نیو کراچی کی ایک فیکٹری میں چار فائر فائٹرز جان سے گئے۔ 2021، 2022، 2023 اور 2025 کے مختلف مہینوں میں شاہ فیصل کالونی، مچھر کالونی، بھینس کالونی اور کھارادر میں بھی یہی ملبہ گرا . کبھی مزدور، کبھی بچے اور کبھی ماں باپ اس ملبے میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے 578 سے زائد خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی مگر ان میں سے بیشتر آج بھی لوگوں سے آباد ہیں۔ SBCA کو نہ وسائل دستیاب ہیں، نہ سیاسی آزادی، نہ تکنیکی استعداد۔ اکثر عمارتوں کو نوٹس تو جاری ہو جاتا ہے مگر نہ انخلاء ہوتا ہے، نہ انہدام اور آخرکار ایک دن موت کا بلاوا آ جاتا ہے۔

    ذمہ دار صرف ادارے نہیں بلکہ وہ بلڈرز بھی ہیں جو چند ٹکوں کی خاطر تعمیراتی اصولوں کو روندتے ہیں، وہ مالکان بھی جو خستہ حال عمارتوں میں کرایہ داری جاری رکھتے ہیں اور وہ رہائشی بھی جو غربت یا بے خبری میں خطرہ مول لیتے ہیں۔ سب اس جرم میں شریک ہیں، کچھ خاموشی سے، کچھ بے بسی سے اور کچھ جانتے بوجھتے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کڑوے سچ کا سامنا کریں۔ ہمیں خود سے یہ سوالات پوچھنے کی ہمت کرنا ہوگی کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نوٹس جاری کرنے کے بعد خاموش کیوں ہو جاتی ہے؟ بلڈرز کو قانون کے شکنجے میں کیوں نہیں کسا جاتا؟ ہر سانحے کے بعد چند افسران کی علامتی معطلی سے آگے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟ غیر قانونی عمارتیں تعمیر ہونے سے پہلے کیوں نہیں روکی جاتیں؟ سیاسی سرپرستی ہر بار مجرموں کی ڈھال کیسے بن جاتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بلدیاتی ادارے، صوبائی حکومت اور خود شہری اپنی جان کے تحفظ کے لیے کب جاگیں گے؟ اگر آج ہم نے ان چیخوں کو نہ سنا تو آنے والا کل ہم سے بھی بدلہ لے سکتا ہے۔

    کراچی کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اب ایک عظیم امتحان بن چکی ہے، جس سے نظریں چرانا صرف آنے والی تباہی کو دعوت دینا ہے۔ یہ وقت عمل کا ہے، ورنہ ہر اینٹ ہماری خاموشی کی گواہ بن کر ہماری بے حسی کا ماتم کرتی رہے گی۔

  • امام کا آخری خطاب: حسینؑ نے پکارا، مگر ضمیر سوئے رہے

    امام کا آخری خطاب: حسینؑ نے پکارا، مگر ضمیر سوئے رہے

    آٹھ محرم۔ امام کا آخری خطاب: حسینؑ نے پکارا، مگر ضمیر سوئے رہے
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب

    آٹھ محرم کی شام… کربلا کی پیاسی سرزمین پر سناٹا گہرے سائے کی مانند چھایا ہوا تھا۔ خیموں میں سسکیاں تھیں، خشک مشکیزے تھے، اور ہر چہرے پر اضطراب کی پرچھائیاں۔ چھوٹے بچے پانی کے ایک قطرے کو ترس رہے تھے، ماؤں کی گودیں اپنی تڑپتی اولاد کو خاموشی سے سینے سے لگا رہی تھیں، اور وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ آسمان پر سورج بھی جیسے شرمندگی سے جھک گیا ہو، اور زمین خاموشی سے اس اندوہناک منظر کی گواہی دے رہی تھی۔

    انہی گھڑیوں میں امام حسینؑ خیمے سے باہر تشریف لائے۔ یزیدی لشکر نے ہر طرف سے نرغہ تنگ کر رکھا تھا، مگر حسینؑ کے قدموں میں لرزش نہ تھی۔ ان کی نگاہوں میں جلال، لہجے میں وقار اور دل میں وہ درد تھا جو صرف نواسۂ رسولؐ کے سینے میں انگاروں کی طرح دہک سکتا ہے۔

    امامؑ نے دشمنوں سے مخاطب ہوکر وہ کلمات کہے جو رہتی دنیا تک مظلومیت کی بلند ترین صدا بن کر گونجتے رہیں گے:

    "کیا تم نہیں جانتے کہ میں محمدؐ کا نواسہ ہوں؟ کیا تم بھول گئے کہ میری ماں فاطمہؑ وہی ہیں جنہیں تم خاتونِ جنت کہتے ہو؟ کیا تم ان احادیث کو جھٹلا سکتے ہو جو رسولؐ خدا نے میرے اور میرے بھائی حسنؑ کے بارے میں فرمائی تھیں؟ اگر تمہیں شک ہے تو جابر بن عبداللہ، زید بن ارقم اور انس بن مالک جیسے جلیل القدر صحابہ سے پوچھ لو، جنہوں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا۔”

    یہ خطاب صرف ایک تاریخی بیان نہ تھا، یہ وہ احتجاج تھا جو ایک مظلوم امامؑ اپنی امت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کر رہا تھا… مگر ہر طرف سنگ دلی کے اندھیرے چھا چکے تھے۔

    اسی دن پانی کا محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا۔ نہر فرات بہہ رہی تھی، مگر اہلِ بیتؑ کے لیے اس کے پانی کا ایک قطرہ بھی حرام کر دیا گیا۔ حضرت عباسؑ کی غیرت سلگ رہی تھی، سکینہؑ کے لب خشک تھے، اور امامؑ کی پلکوں پر امت کی بےحسی کا درد جھلک رہا تھا۔

    امام حسینؑ نے عمر بن سعد سے مذاکرات کیے۔ تین تجاویز پیش کیں:

    1. مجھے واپس مدینہ جانے دیا جائے
    2. کسی سرحدی مقام پر چلے جانے کی اجازت دی جائے
    3. یا پھر مجھے یزید کے سامنے پیش ہونے دیا جائے
    مگر یزیدی لشکر نے ہر دروازہ بند کر دیا۔

    رات ڈھلنے لگی۔ خیموں میں موت کی چاپ سنائی دینے لگی۔ اصحابِ حسینؑ اپنی تلواریں درست کرنے لگے، اور امامؑ اپنے رب کے حضور سر بسجود ہو گئے:

    "اے میرے رب! تُو جانتا ہے کہ ہم نے تیرے دین کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا… بچوں کی پیاس، بہنوں کے آنسو، اصحاب کی جانیں… سب تیری رضا کے لیے نچھاور کر دیے۔”

    آٹھ محرم وہ دن ہے جب دنیا نے ایک سچ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا … جب سارا عالم خاموش ہو جائے، تو ایک حسینؑ کھڑا ہو کر تاریخ کو جگاتا ہے۔

    یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر صرف خاموشی کا نام نہیں، بلکہ وہ عزم ہے جو پانی کی پیاس میں بھی سر نہیں جھکاتا۔ امام حسینؑ کا خطاب فقط احتجاج نہیں تھا، بلکہ وہ درد بھری آواز تھی جو ایک بیٹے کو اپنے باپ کی لاش اٹھاتے وقت محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ جلال تھا جو صرف حق پر قائم ولی کو نصیب ہوتا ہے۔

    کربلا کی پیاسی شام میں امام حسینؑ نے صرف حجت تمام نہیں کی، بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کو یہ سبق دیا کہ:

    > ظلم کے سائے چاہے جتنے گہرے ہوں، ایک نواسۂ رسولؐ کا سچ ان سب کو چیر کر روشنی بن جاتا ہے۔

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی پریشانیاں

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی پریشانیاں

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی پریشانیاں
    تحریر:ملک ظفراقبال
    آج ہر خاص و عام کی زبان پر ایک ہی جملہ ہے کہ "مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے”، جسے قابو کرنا اب ناممکن نظر آتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ وہ مافیاز ہیں جو ہر دور میں حکومتی اقدامات کو چیلنج کرتے آئے ہیں، اور نتیجتاً عوام کو لوٹنے کا یہ عمل تسلسل سے جاری ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان عناصر کو اکثر حکومتی سرپرستی بھی حاصل رہی ہے۔

    مثال کے طور پر، ایک قصاب 800 روپے کی بجائے 1100 روپے میں گوشت فروخت کرتا ہے، جو سرکاری نرخ سے 300 روپے زیادہ ہے۔ سرکاری ادارے صرف 500 روپے کا چالان کرکے خانہ پری کر لیتے ہیں، اور قصاب محفوظ ہاتھوں سے اپنی مرضی سے کاروبار کرتا رہتا ہے۔ گویا جرمانہ ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے، جو ملی بھگت کا ایک خوبصورت مظہر ہے۔ عوام کو گویا اس بدعنوان نظام کو برداشت کرنے کا عادی بنایا جا رہا ہے۔

    مہنگائی محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایسا ناسور ہے جو غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ رہا ہے۔ بجلی، گیس، پانی کے بل ہوں یا روزمرہ اشیاء کی قیمتیں، سب کچھ آسمان کو چھو رہا ہے۔ رہی سہی کسر ناجائز ٹیکسوں نے پوری کر دی ہے، جس سے عوام شدید اضطراب کا شکار ہیں۔

    بلوں کا بوجھ اور ٹیکسوں کی بھرمار سے ہر پاکستانی شہری سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہے۔ 200 سے 201 یونٹ بجلی استعمال کرنے پر اسپیشل اضافی چارجز، گرمیوں میں طویل لوڈشیڈنگ اور اوپر سے بجلی پر الگ سے ٹیکس، عوام کے لیے سوہان روح بن چکا ہے۔ گیس کے نرخوں میں ہوشربا اضافے نے سردیوں میں گزارا ناممکن کر دیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے لگائے گئے مختلف قسم کے ٹیکس، جن میں سے کئی غیر ضروری اور ناجائز محسوس ہوتے ہیں، عوام پر اضافی بوجھ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ ہو یا چھوٹے تاجر، ہر کوئی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ان بلوں اور ٹیکسوں کی ادائیگی میں جھونکنے پر مجبور ہے۔ اس پر فائلر اور نان فائلر کا مضحکہ خیز تماشا عوام کے ساتھ مزید ناانصافی ہے۔

    مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ قوت خرید اس حد تک کم ہو چکی ہے کہ دال، سبزی، آٹا، چینی، گھی جیسی بنیادی اشیاء بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ بچوں کی تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ والدین نہ بچوں کو اچھے اسکول میں پڑھا سکتے ہیں، نہ بیماری کی صورت میں مہنگا علاج کرا سکتے ہیں۔

    روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں، اور مہنگائی نے زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔ لوگ قرض لے کر گھر کا چولہا جلا رہے ہیں، اور مالی مشکلات دگنی ہو گئی ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کے برعکس، سرکاری سطح پر پروٹوکول اور عیاشیاں ویسے ہی جاری و ساری ہیں، جو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

    مہنگائی کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ جب عوام کی قوتِ خرید ختم ہوتی ہے تو مارکیٹ میں کاروبار ٹھپ ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے کاروباری دیوالیہ ہو رہے ہیں، اور بڑے سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ بے روزگاری میں اضافہ ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کئی بڑی صنعتیں پاکستان سے بنگلہ دیش منتقل ہو رہی ہیں۔

    یہ وقت کی پکار ہے کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ بیانات سے کام نہیں چلے گا، اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ناجائز ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے، بجلی و گیس کے بلوں میں ریلیف دیا جائے، اور ذخیرہ اندوزوں و منافع خوروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی کی جائے۔

    حکومت کو ایسی پالیسیاں وضع کرنی ہوں گی جن سے عام آدمی کی قوت خرید بحال ہو، اور وہ مہنگائی کے اس بوجھ سے نجات پا سکے۔ زراعت اور صنعت کو فروغ دے کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ یہی عوامی ریلیف ملکی معیشت کے استحکام اور سماجی ہم آہنگی کی ضمانت ہو سکتی ہے۔

    عوام مہنگائی کے عفریت سے نجات چاہتے ہیں۔ یہ حکومتِ وقت کی آئینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی چیخ و پکار سنے، اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ بصورت دیگر یہ سنگین مسئلہ سیاسی و سماجی انتشار کو جنم دے سکتا ہے، جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔

  • تشنگی کی راتیں: کربلا کی ساتویں اور آٹھویں شب

    تشنگی کی راتیں: کربلا کی ساتویں اور آٹھویں شب

    تشنگی کی راتیں: کربلا کی ساتویں اور آٹھویں شب
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    سلام ہو حسینؑ پر…
    سلام ہو ان پر جو پیاسے رہے مگر سچائی کو تر رکھا،
    سلام ہو عباسؑ پر… جو دریا کے کنارے تک پہنچے مگر وفا کے پیکر بن کر واپس لوٹ آئے۔

    محرم کی ساتویں شب وہ لمحہ ہے جب کربلا کے آسمان پر تپتی دھوپ کا سایہ گہرا ہونے لگا، جب خیموں میں معصوم بچے پانی کو ترسنے لگے، اور جب صحرائے کربلا کے ذرے ذرے نے پیاس کے مارے لبوں کی صدائیں اپنے سینے میں دفن کر لیں۔ چھٹے محرم کے بعد ذخیرہ شدہ پانی ختم ہو چکا تھا۔ سات محرم کا سورج آگ برسا رہا تھا۔ ماؤں کی گود میں بلکتے بچے، پانی کی تلاش میں دوڑتی بچیاں، اور خالی مشکیزوں کو دیکھتے مردوں کی آنکھیں… یہ سب کچھ کربلا کے ماتمی منظر کو اور ہولناک بنا رہا تھا۔

    امام حسینؑ جانتے تھے کہ پانی کا ایک ایک قطرہ اب امانت ہے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے حضرت سکینہؑ پیاس سے نڈھال تھی، مگر ان کے لہجے میں شکایت نہیں تھی، فقط ایک سوال تھا: "بابا! کل پانی ملے گا نا؟”

    شیعہ روایات اس بات پر متفق ہیں کہ امام حسینؑ کے قافلے کو ساتویں محرم سے دسویں محرم کی شب تک پانی میسر نہ تھا۔ تشنگی کی یہ حالت صرف جسمانی نہیں، بلکہ روحانی آزمائش بھی تھی۔ خیموں میں بڑوں کے ہونٹ خشک ہو چکے تھے، بچوں کی چیخیں دل چیر رہی تھیں، اور صبر کا وہ پہاڑ تھا جو صرف حسینؑ کے کارواں کو نصیب تھا۔

    امامؑ کے ایک وفادار ساتھی، یزید بن حسین الحمدانی، نے بچوں کی بلکتی آوازیں سن کر امامؑ سے عمر بن سعد کے پاس جانے کی اجازت طلب کی۔ وہ دربار یزید کے اس نمائندے کے سامنے گئے اور کہا: "تم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، کیا تم مسلمان نہیں ہو؟” ابن سعد نے جواب دیا، "کیوں نہیں، میں مسلمان ہوں!”
    الحمدانی بولے: "تو پھر رسول اللہؐ کے نواسے اور ان کے ننھے بچوں کو پانی سے محروم رکھنا کون سا اسلام ہے؟ کیا تم قیامت کے دن رسولؐ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟”

    ابن سعد نے بڑی سفاکی سے کہا، "قیامت کی فکر بعد میں کروں گا، ابھی مجھے رے کی حکومت چاہیے!”

    اس پر امام حسینؑ نے حضرت عباسؑ کو حکم دیا کہ بیس سواروں کے ساتھ دریا کی طرف جائیں اور پانی لانے کی کوشش کریں۔ جیسے ہی عباسؑ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرات کے کنارے پہنچے، یزیدی سپاہی حجاج نے انہیں روکا۔ دونوں جانب سے تلواریں چلیں، تیروں کی بوچھاڑ ہوئی۔ عباسؑ اور ان کے وفادار ساتھی چند مشکیزے بھرنے میں کامیاب ہوئے، لیکن واپسی پر ہجوم اور تیزی میں کچھ برتن الٹ گئے، پانی زمین پر بہہ گیا۔ جو پانی خیموں میں پہنچا، وہ پیاس بجھانے کے لیے ناکافی تھا، مگر سکینہؑ کے لب تر ہوئے تو ماں کی آنکھ بھیگ گئی۔

    انھی لمحوں میں ایک اور واقعہ کربلا کی تپتی ریت پر رقم ہوا۔ یزیدی لشکر کا ایک سپاہی، عبداللہ بن حسین العزدی، فرات کے کنارے کھڑا ہو کر طنز کرتا ہے: "حسین! یہ دیکھو، یہ شفاف پانی! خدا کی قسم، ایک قطرہ بھی تمہیں نصیب نہ ہوگا!”
    امامؑ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی: "اے پروردگار! اسے زندگی میں ایسی پیاس دے جو کسی نے نہ چکھی ہو!”
    راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ سپاہی دریا سے پانی پیتا رہا، قے کرتا رہا، بار بار پیتا، یہاں تک کہ اس کا پیٹ پھٹ گیا اور وہ فرات کے پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔

    یہ وہ لمحہ تھا جب ابن سعد کو غصہ آیا کہ حسینؑ کے سوار دریا سے پانی لا سکے۔ اس نے دریا کا پہرہ مزید سخت کر دیا، اب پانی کا ایک قطرہ بھی امامؑ کے کیمپ تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔

    آٹھویں شب کو امام حسینؑ خود چند ساتھیوں کے ساتھ ابن سعد سے گفتگو کے لیے نکلے۔ انہیں امید تھی شاید ضمیر کی کوئی چنگاری ابھی باقی ہو۔ امامؑ نے کہا: "کیا تو خدا سے نہیں ڈرتا؟ کیا تو نہیں جانتا میں رسولؐ کا نواسہ ہوں؟ کیا بنو امیہ کی خوشنودی کے لیے مجھے قتل کرو گے؟”

    اسی رات، سکینہؑ پھر اپنی ماں سے لپٹ کر کہہ رہی تھی: "امّی! کل پانی ملے گا نا؟”
    اور ماں… بس آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی، جیسے دعائیں بھی پیاسی ہو گئی ہوں۔

  • تبصرہ کتب،شخصیت سازی کے سنہرے اصول

    تبصرہ کتب،شخصیت سازی کے سنہرے اصول

    مصنف : محمد بلال لاکھانی
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    قیمت :770روپے ۔4کلر آرٹ پیپر
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ’’ 21ویں صدی کے ماڈرن مسلمان کے لئے شخصیت سازی کے سنہرے اصول ‘‘ دارالسلام کی بہت ہی خوبصورت اور مفید کتاب ہے۔ اس کتاب کے مصنف محمد بلال لاکھانی ہیں جو قرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ جدید علوم پر بھی دسترس رکھتے ہیں محمد بلال لاکھانی نے اصل میں یہ کتاب انگریزی زبان میں real Life Lesson From The Holy Quran(for the 21 Ist Century Muslim) کے نام سے لکھی تھی ۔ زیر نظر کتاب انگلش کااردوترجمہ ہے جسے دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے آرٹ پیپر پر چہار کلر، دلکش اور جاذب نظر طریقے سے باتصویر شائع کیا ہے ۔ اس کتاب کی افادیت اور اہمیت کااندازہ اس کے نام سے بھی کیاجاسکتا ہے ۔یہ کتاب کامیاب زندگی گزارنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے مشعل راہ اور کامیابی کازینہ ہے ۔ زندگی بہت قیمتی شئی ہے ، اسے ہم اپنی مرضی سے نہیں گزارسکتے۔ اس لئے کہ زندگی کاایک ایک پل اور ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ زندگی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق بسر کی جائے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ کامیاب زندگی بسر کرے ، اس کی زندگی میں آرام اورسکون ہو ۔ آرام دہ اور پرسکون زندگی کاراز اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہے ۔ دنیاامتحان گاہ ہے اور زندگی ایک امتحان ہے ۔امتحان میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو محنت کرے اور امتحان کی تیاری کے لئے سب سے پہلے طے شدہ نصاب پڑھے ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں پر بہت مشفق ومہربان ہے یہ اس کی شفقت ومحبت اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں دنیا میں ہی نصاب اور امتحان کے بارے میں سب کچھ بتادیا ہے مقصد یہ ہے کہ ہم اچھے طریقے سے تیاری کرلیں ۔ یہ نصاب قرآن مجید ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے اس نصاب کو بہت کم پڑھاجاتا ہے یا پڑھتاتو جاتا ہے لیکن سمجھا نہیں جاتا ۔ زندگی کے پرچے حل کرتے وقت جوبڑی غلطیاں کی جاتی ہیں وہ نصاب ِ زندگی کوتوجہ سے نہ پڑھنے کا ہی منطقی نتیجہ ہے ۔ چنانچہ دنیا کے دیگر امتحانوں کی طرح زندگی کے امتحان کے نصاب کو پڑھنا اور سمجھنا بے حد ضروری ہے ۔ پیش نظر کتاب کا مقصد بھی یہی باور کروانا ہے کہ اکیسویں صدی کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان قرآن مجید سے زندگی کے اسباق تلاش کریں اور اس کو نصاب زندگی کے طور پرپڑھیں ۔ یہ کتاب ان شاء اللہ قارئین میں قرآن مجیدکے تفصیلی مطالعے اور اس پر گہرے غوروخوض کاشوق اور جذبہ پیداکرے گی ۔ اس کتاب میں اکیسویں صدی کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان کے لئے قرآن مجید سے اخذ کئے گئے سو سے زائد اسباق دیے گیے ہیں اور زندگی کے معاملات ومسائل کے متعلق قرآن مجید سے براہ راست رہنمائی حاصل کرنے کے آسان اور موثر طریقے بتائے گئے ہیں ۔ کتاب کاانداز بیان سادہ ، دلنشین اور عام فہم ہے ۔ قرآن مجید سے براہ راست رہنمائی حاصل کرنے کے لئے مختلف اسالیب کی مناسب تشریح بھی کتاب میں شامل ہے ۔ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں بتایاگیا ہے کہ زندگی خوشگوار ہوتوکیاکرنا چاہئے ،زندگی خوشگوار نہ ہوتو کیاکرناچاہئے ،اللہ تعالیٰ دولت اور صحت واپس لے لے توکیاکرناچاہئے ؟مشکلات ومصائب میں کون سی قرآنی آیات مددگار ہیں ، آدمی خود کوشیطان کاپیروکار بنتادیکھے توکیاکرے ؟ ۔ دوسرے باب میں حصول جنت کی قدم بہ قدم منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ اور ان افعال ، احوال اور معاملات کاتذکرہ کیاگیاہے جن پر عمل پیرا ہوکر بندہ یقینی طور جنت کاحقدار بن جاتا ہے ۔ تیسرے باب میں جہنم سے بچنے کے طریقے بیان کئے گئے ہیں اور کارآمد نصیحتیں بیان کی گئی ہیں ۔چوتھے باب میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کی روشنی میں حقیقی زندگی کے اسباب بیان کئے گئے ہیں ۔ آخری باب میں بیان کیا گیا ہے کہ روپیہ اور اسلام دوست ہیں یادشمن ؟ ۔اہم بات یہ ہے کہ کتاب میں مذکور تمام واقعات اور تمثیلات قرآن مجید سے ہی لئے گئے ہیں اور قرآن مجید سے خوب استفادہ کیا گیا ہے ۔ کتاب کاہرہر باب اچھی ، کامیاب اور حقیقی زندگی گزارنے کے متعلق کئی کئی اسباق پر مشتمل ہے ۔ قرآن مجید کے زریں اصولوں ، ہدایات ، اسباق پر مشتمل یہ کتاب ہرنوجوان بچے ، بچی کی ضرورت ہے ۔ قرآن مجید سے ماخوذ نصاب ِ زندگی کی یہ کتاب اکیسویں صدی کے جدید مسلمان کو غلطیوں سے بچائے گی اور سیدھی راہ پرچلائے گی ۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب دنیا کے انسان اپنے مسائل کے حل کے لئے قرآن مجید سے رہنمائی لیں ۔ ظاہری اعتبار سے یہ کتاب جس قدر خوبصورت ہے مضامین کے اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت اور دلکش ہے ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر لائبریری کی ضرورت ہے ۔ یہ کتاب اپنے بچوں ، بچیوں اور دوست احباب کو تحفہ میں بھی دی جاسکتی ہے ۔

  • قرآن سے دوری، امت مسلمہ کا زوال،تحریر: اقصیٰ جبار

    قرآن سے دوری، امت مسلمہ کا زوال،تحریر: اقصیٰ جبار

    اسلامی معاشرے کی بنیاد قرآن کریم پر رکھی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہے جس نے انسانیت کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف گامزن کیا۔ یہ کتاب صرف عبادات کا ضابطہ نہیں، بلکہ سیاسی، سماجی، اخلاقی، معاشی اور فکری زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کی امت مسلمہ اپنے ہی ضابطۂ حیات سے بے خبر ہو چکی ہے۔ ہم نے قرآن کو صرف ثواب، تعویذ، رسمِ قل، اور رمضان کی رسمی تلاوت تک محدود کر دیا ہے۔ جس کتاب نے غلاموں کو حکمران، جاہلوں کو معلم، اور بکھری قوم کو ایک قیادت عطا کی، آج ہم نے اُسی کتاب کو طاقچوں کی زینت اور دفتری فائلوں کا عنوان بنا کر رکھ دیا ہے۔ قرآن جسے اللہ نے "ھدیً للناس” قرار دیا، آج ہم نے اسے صرف "مردوں کی بخشش” کا ذریعہ بنا دیا۔

    اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "وقال الرسول يا رب إن قومي اتخذوا هذا القرآن مهجوراً” (اور رسول نے کہا: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا — الفرقان: 30)۔ یہ شکایت آج کی امت مسلمہ پر پوری اترتی ہے۔ ہم نے قرآن کو صرف الفاظ کی سطح پر اپنایا، معنیٰ اور مقصد سے غفلت برتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے۔ مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں، نوجوان نسل مغربی تہذیب کے فریب میں گم ہے، اسلامی تہذیب صرف ماضی کے صفحات تک محدود ہو گئی ہے، حلال و حرام کا شعور مدھم پڑ چکا ہے، قرآن کی زبان سے ناواقفیت عام ہو چکی ہے، اور فرقہ واریت نے ہمیں ایک جسم کے بجائے متصادم گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ قیادت کے میدان میں ہم محروم ہو گئے ہیں، کیونکہ قیادت قرآن کے عدل، امانت، اور شوریٰ جیسے اصولوں پر استوار ہوتی ہے — جنہیں ہم نے فراموش کر دیا۔

    اس زوال سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے: قرآن کی طرف واپسی۔ لیکن یہ واپسی صرف زبانی یا رسم و رواج کی نہیں، بلکہ شعوری، فکری، عملی اور اجتماعی سطح پر ہونی چاہیے۔ ہمیں قرآن کو صرف تلاوت کی نہیں بلکہ فہم اور تدبر کی کتاب بنانا ہوگا۔ ہر فرد روزانہ ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنے کی عادت اپنائے، اسے زندگی کے فیصلوں میں رہنمائی کا ذریعہ سمجھے۔ گھروں میں والدین قرآن فہمی کی مجلسیں منعقد کریں، بچوں کو محض قرأت نہیں، قرآن کی اخلاقیات بھی سکھائی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں قرآن کا نصاب صرف ناظرہ کی حد تک نہ رہے، بلکہ تدبر، سیاق و سباق، اور عملی استنباط کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ریاستی سطح پر عدل و انصاف کے وہی اصول لاگو کیے جائیں جو قرآن نے بیان کیے ہیں۔ قیادت، سیاست، معیشت، اور عدالتی نظام میں قرآن کی تعلیمات کو بنیاد بنایا جائے۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر قرآن سے ربط کو فروغ دینے والی مہمات چلائی جائیں تاکہ نوجوان نسل دوبارہ قرآن سے جڑ سکے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ خلافت راشدہ کا عدل، اندلس کا علم و حکمت کا دور، اور صلاح الدین ایوبی کی قیادت ایسے ادوار تھے جن کی بنیاد قرآن سے جڑے رہنے پر تھی۔ جن قوموں نے قرآن کو تھاما، وہ دنیا کی قیادت پر فائز ہوئیں، اور جنہوں نے اسے چھوڑا، وہ غلام بن کر رہ گئیں۔ آج کا اسلامی سال کا آغاز ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم رک کر سوچیں، اپنا جائزہ لیں، اپنی کوتاہیوں پر نادم ہوں، اور قرآن سے اپنا رشتہ پھر سے جوڑیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں "اقْرَأْ” — یعنی "پڑھ!” — کی صدا دوبارہ سننی چاہیے، کیونکہ یہی صدا انسانیت کے لیے بیداری کا پہلا اعلان تھی۔

    آج امت مسلمہ کو صرف جلسوں، جلوسوں، اور نعروں کی نہیں بلکہ عملی رجوع کی ضرورت ہے۔ ہمیں قرآن کو اپنے انفرادی اور اجتماعی فیصلوں میں شامل کرنا ہوگا، اسے صرف مدرسے اور مسجد کی دیواروں تک محدود نہیں رکھنا، بلکہ بازار، عدالت، میڈیا، اور سیاست تک پھیلانا ہوگا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم ایک ایسی منتشر قوم بنے رہیں گے جو ماضی پر فخر تو کرے گی، لیکن حال میں خوابِ غفلت میں مبتلا رہے گی۔ لیکن اگر ہم نے قرآن سے دوبارہ جڑنے کا عزم کر لیا، تو وہ رب جو رحمٰن اور رحیم ہے، ہمیں نہ صرف معاف کر دے گا، بلکہ دوبارہ عزت، قیادت، اور بیداری عطا فرما دے گا۔

  • ایک بل، ایک لاش اور وزیروں کی مسکراہٹ

    ایک بل، ایک لاش اور وزیروں کی مسکراہٹ

    ایک بل، ایک لاش اور وزیروں کی مسکراہٹ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ انڈیکس ایک لاکھ اکتیس ہزار پوائنٹس کی حد پار کر چکا ہے اور سرمایہ دار طبقے کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لیکن اس معاشی پیش رفت میں ایک سوال ہے جو دماغ پر ہتھوڑے برسا رہا ہے اور ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ کیا یہ ترقی عام پاکستانی کے لیے بھی ہے یا یہ صرف چند مخصوص خاندانوں، اشرافیہ اور مالیاتی مافیاز کی جیبیں بھرنے کا ذریعہ ہے؟ جب غریب کا چولہا بجھا ہوا ہو، بچے فاقوں پر ہوں اور گھر کا مالک بجلی، پانی، آٹا اور دوائی کے اخراجات سے تنگ آ کر دیوار سے سر ٹکرا رہا ہو، تو سٹاک ایکسچینج کا یہ جشن سراسر تماشہ معلوم ہوتا ہے۔

    ملک کا عام شہری آج مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی ناہمواری کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ بجلی کے بلوں نے اس کا ذہنی سکون چھین لیا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں عام سواری کو بھی لگژری بنا چکی ہیں۔ ریلویز نے کرایوں میں اضافہ کر دیا، بسوں نے کرائے بڑھا دیے اور گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کی دھمکیاں دے رکھی ہیں۔ ملک شہزاد اعوان جیسے نمائندے ٹیکسوں اور ٹولز ٹیکس سے تنگ آ کر احتجاج کر رہے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں ان کی گاڑیاں نذرِ آتش اور لوٹ مار کا شکار ہو رہی ہیں۔ یہ صرف ٹرانسپورٹ کا بحران نہیں، یہ ہر اس شہری کا درد ہے جس کی روزمرہ اشیاء ان گاڑیوں سے جُڑی ہوئی ہیں اور جب ان اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ان کا بوجھ بھی عوامی کمر پر آ گرتا ہے۔

    یہ معاشی دباؤ صرف تاجر یا ٹرانسپورٹر نہیں بلکہ ہر عام پاکستانی کی گردن پر ہے۔ گوجرانوالہ میں انور نامی محنت کش کا بجلی کا بل صرف 3800 روپے کی عدم ادائیگی پر کاٹ دیا گیا۔ جب اس نے ہمسائے سے بجلی لی تو گیپکو نے اس پر چوری کا مقدمہ درج کرا کے جیل بھجوا دیا اور 700 یونٹ کابل بنادیا۔ یہی مقدمہ اس وقت قیامت بن گیا جب اس کا بیٹا فراز تیزاب پی کر زندگی سے منہ موڑ گیا۔ ماں کی فریاد "میرا بیٹا بلوں کے دفتر کے چکر لگاتا رہا اور آخر مر گیا” صرف ایک بین نہیں، پورے سسٹم پر ایک تھپڑ ہے۔کچھ عرصہ قبل اسی شہر میں ایک بھائی نے بجلی کے بل کے جھگڑے پر اپنے ہی بھائی کو قتل کر دیا۔ ڈسکہ کی نسرین بی بی نے بیس ہزار روپے کے بل سے تنگ آ کر خود کو جلا لیا۔ یہ خبریں نہیں، ماتم ہیں، جن پر پورا معاشرہ آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے بجلی کی قیمت میں سات روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا تھا مگر یہ کمی بنیادی ٹیرف میں نہیں بلکہ عارضی فیول ایڈجسٹمنٹ میں کی گئی، جو اپریل سے جون تک محدود تھی۔ اب وہ ریلیف ختم ہو چکا ہے اور عوام پھر اسی ظلم کے شکنجے میں آ چکی ہے۔ وفاقی وزیر اویس لغاری کا یہ کہنا کہ "ہم نے مستقل ریلیف دیا ہے”، گویا ان ماں باپ کے زخموں پر نمک پاشی ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے کھو دیا۔ آج ایک دو کمروں کے گھر کا بجلی بل آٹھ سے دس ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے، جو ایک تنخواہ دار یا مزدور کے لیے موت کا پروانہ ہے۔

    قانون دان اور ماہرنفسیات بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ یہ مہنگائی نہ صرف معاشی تباہی کا پیش خیمہ ہے بلکہ معاشرتی تنزلی، تشدد اور ذہنی بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔ گھروں میں جھگڑے، طلاقیں، قتل، خودکشیاں…یہ سب سلیب گردی کے بدترین نتائج ہیں۔ اگر یہی تسلسل جاری رہا تو ہم ایک ایسا معاشرہ بن جائیں گے جہاں انسانیت صرف کتابوں میں رہ جائے گی۔

    اور اب وہ خونی سوال جو ہر دل کو چیر رہا ہے کہ جب سٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے تو کیا اس کا کوئی فائدہ عام پاکستانی کو مل رہا ہے؟ جب ایک غریب محنت کش کا بیٹا بجلی کے بل کی وجہ سے خودکشی کر لیتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جب بھائی بھائی کا قاتل بن جاتا ہے اور خواتین خودسوزی پر مجبور ہوتی ہیں تو کیا یہ نظام کی ناکامی نہیں؟ وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری، آپ کے فیصلوں نے عوام کی زندگیوں کو عذاب بنا دیا ہے۔ آپ اس "سلیب گردی” کے نتیجے میں معصوم پاکستانیوں کی اور کتنی جانیں لیں گے؟

    کیا کوئی ادارہ یا لیڈر اس معاشرتی تباہی کو روکنے کے لیے آگے بڑھے گا یا ہم صرف اعدادوشمار کی چمک دمک میں کھوئے رہیں گے جبکہ عام آدمی کی چیخیں دبتی رہیں گی؟ اربابِ اختیار سے سوال ہے کہ آپ کے پاس اس درد کا کوئی مداوا ہے یا بس وعدوں اور عارضی ریلیف کے جھانسوں سے عوام کو مزید ٹھگتے رہیں گے؟ کب تک اویس لغاری کے غلط فیصلوں کی وجہ سے بچے یتیم، عورتیں بیوہ اور مائیں اپنے لخت جگر کی لاشوں پر بین کرتی رہیں گی؟ اس ظلم کے خلاف کون بند باندھے گا؟ کب تک سلیب گردی کی بھینٹ چڑھ کر جنازے اٹھتے رہیں گے؟ کیا کوئی آج کے دور کا عمر پیدا ہوگا جس نے کہا تھا کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اس کا جوابدہ عمر ہوگا؟

    اب ان بھوکے، بے بس اور اویس لغاری کی سلیب گردی کی وجہ سے مرنے والوں کے خون کا ذمہ دار حاکم وقت وزیر اعظم میاں شہباز شریف نہیں تو اور کون ہے؟

  • زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا

    زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا

    کل میرا زندگی سے نیا تعارف ہوا۔ فیصل ٹاون مون مارکیٹ میں میں نے ایک ایسا واقعہ دیکھا جس نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ شاید اگر میں اس کو ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرتی تو بات کی تشریح آسان ہوجاتی مگر میں اس وقت بغیر کسی دباو کے مشاہدے کرنا چاہتی تھی۔

    رات کالی ہوچکی تھی ، لوگ کھانے کے بعد چائے کی چسکیاں لگا رہے تھے، کہیں قہقہے اور کہیں زندگی کی تلخیوں کی بات چل رہی تھی۔ مںظر وہاں رکا جب گھاس پر سوئے بچے کی اچانک آواز آئی ” ٹائم ہوگیا؟ ” اس کا تکیہ ٹوٹے جوتے تھے لیکن اس کے چہرے کے اطمینان سے لگا رہا تھا گویا وہ روئی کا گولے ہوں۔ اسکی ماں نے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جواب دیا ” 10 بج گئے نیں اٹھ جا ” اور ساتھ ہی ایک ڈبہ اٹھایا۔ بچے نے ایک توڑے میں سے گولڈن جیکٹ نکالی، بٹن ٹھیک کئے اور فوری سیدھا ہوکے بیٹھ گیا۔ ماں نے ڈبے میں سے گولڈن رنگ اس کے منہ اور گردن پر ملنا شروع کیا۔ وہ ایسے بیٹھا رہا جیسے اس کو اس کا کام معلوم ہو اور کسی سیٹ پر پرفارمنس کیلئے جارہا ہو۔ اس کے فوری بعد اس نے ٹوپی پہنی اور درخت کے نیچے پڑے تھیلے میں سے لائٹوں والے جوگر نکال کر پہنے۔ مجھے وہ تھکا ہوا دکھائی دیا مگر اس نے کسی جوان مرد کی طرح خود کو تھپکی دی اور وہاں سے نکل پڑا۔ اسکی ماں دوپٹہ اوڑھ کر وہیں زمین پر سو گئی جہاں اس کا باپ پہلے سے سویا ہوا تھا۔
    میں نے گردن موڑ کر اس کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ وہ ایک ٹیبل پر گیا اور اچانک روبوٹ بن گیا۔ بچہ بہت چھوٹا تھا لوگ فوری پیسےدے رہے تھے۔ کچھ دیر میں میری باری آئی وہ ایسے ہی مخصوص انداز میں مجھ تک پہنچا میں نے اس سے پیار سے پوچھا ” تھک گئے ہو؟ اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا اور بڑی بردباری سے کہا ” نہیں ” میں نے اس کی ٹوپی کو سرکاتے ہوئے پوچھا سکول جاو گے؟ اس بار اس نے ایک لمحہ بھی نہیں لیا اور ذرا اونچی آواز میں کہا ” نہیں ”

    اس کے بعد وہ خاموش کھڑا رہا وہ میرے لیے آج بہت سے سوال چھوڑ گیا تھا کیونکہ اس کی نم آنکھیں، تھکا ہوا چہرہ اور دوسری طرف سوئے ہوئے اس کے ماں باپ اور بہن بھائی اسکی ہمت نہیں آزمائش تھے۔ اسکا لہجہ بہت تکلیف دہ تھا۔
    وہ وہاں سے چلا تھا زندگی کے 5 سال نے اسکو 50 سال کا درد دیا تھا۔
    میں ہرگز نہیں کہہ رہی کہ وہ قابل ترس ہے مگر میں نے اسکے حوصلے سے سیکھا کہ زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے۔