Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے

    حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے

    حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں مہنگائی، چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بھاری بجلی کے بل عوام کی زندگیوں کو مفلوج کر چکے ہیں۔ ایسے میں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کا حالیہ بیان عوامی غصے میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان میں بجلی اس لیے مہنگی ہے کیونکہ اس کا استعمال کم ہے اور جب تک استعمال نہیں بڑھے گا، نرخوں میں کمی ممکن نہیں۔ یہ بیان عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے کیونکہ بجلی ایک سہولت نہیں بلکہ ضرورت ہے اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ایسی منطق عام آدمی کی بے بسی کا مذاق اڑاتی ہے۔

    اویس لغاری ناقص پالیسیوں اور غیر ذمہ دار بیانات کی وجہ سے عوامی نفرت کا محور بن چکے ہیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اب انہیں بجلی کے بڑھتے نرخوں اور سلیب سسٹم کے جال میں الجھا دیا گیا ہے۔ موجودہ بل عوام کی قوتِ برداشت سے باہر ہو چکے ہیں اور لوگ متبادل توانائی ذرائع جیسے سولر پینلز کی طرف مجبوراً رجوع کر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مسلسل نرخوں میں اضافہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ محسوس ہوتا ہے۔

    چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی حکومت کی پالیسیوں میں تضاد کا واضح ثبوت ہے۔ اس وقت چینی کی قیمت 190 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے جو رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں 7.57 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمدات کا نتیجہ ہے۔ اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی اور قیمتوں نے آسمان کو چھو لیا۔ اب حکومت چینی درآمد کرنے جا رہی ہے، جس پر 55 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد ہوگی اور اس سے چینی کی قیمت 245 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ عوام کو مہنگی چینی خریدنے پر مجبور کر کے شوگر مافیا کو ایک بار پھر اربوں روپے کا نفع کمانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس پوری صورتحال کو "چینی سکینڈل” اور "قانونی کرپشن” قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ یہ پالیسیاں کسی عوامی مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقتور گروہوں کے مفادات کی تکمیل کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ وزارتِ منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی خاموشی اور حکومتی مشینری کی بےحسی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ ایلیٹ طبقہ شوگر مافیا کے سامنے بےبس ہے۔

    دوسری جانب بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ چھوٹے کاروبار بڑھتے ہوئے بلوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو چکے ہیں اور ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں، جس سے بیروزگاری میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اویس لغاری کا دعویٰ کہ بجلی کی قیمتیں اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ اس کا استعمال کم ہے، عام شہری کے لیے ایک بے ربط اور غیر سنجیدہ جواز ہے۔ جب ماہانہ بجلی کے بل 10 سے 20 ہزار روپے تک جا پہنچیں تو کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے انہیں ادا کرنا کسی سزا سے کم نہیں۔

    نیپرا کی طرف سے کی گئی معمولی کمی جیسے 99 پیسے فی یونٹ، اس شدید مہنگائی کے سامنے بے اثر دکھائی دیتی ہے۔ عوام اب خود کو بچانے کے لیے سولر پینلز کی طرف مائل ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہو چکا ہے کہ ریاستی ادارے اب ان کے مالی مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں۔ یہ وہ فضا ہے جس میں اعتماد کا رشتہ ریاست اور شہری کے درمیان ٹوٹنے لگتا ہے۔

    مہنگائی کا یہ طوفان صرف چینی اور بجلی تک محدود نہیں رہا۔ آٹا، دالیں، کوکنگ آئل، سبزی اور ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ سکھر میں آٹے کی قیمت 160 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھا دیے ہیں، جس سے ہر شے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    2025-26 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو صرف 10 فیصد اضافہ دیا گیا لیکن جب مہنگائی کی شرح 12 سے 15 فیصد سے زائد ہو تو یہ اضافہ دکھاوا معلوم ہوتا ہے۔ نتیجتاً متوسط اور نچلے طبقے نے تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات پر خرچ کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف بجٹ میں دیہاڑی دار مزدور کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے جو پہلے ہی بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ ہے، جس کے بچے سکول نہیں جا سکتے، جو بچوں کا علاج نہیں کرا سکتا۔ سرکاری ہسپتالوں میں غریب اور مزدور کے بچوں کو علاج کے بجائے موت کی نیند سلایا جا رہا ہے، جس کی تازہ مثال پاکپتن کے سرکاری ہسپتال میں گزشتہ ماہ ہونے والی بچوں کی 20 ہلاکتیں ہیں۔ اس کی انکوائری رپورٹ کچھ بھی ہو مگر غریب کے بچے تو مر گئے اور سوال یہ ہے کہ ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

    سوشل میڈیا عوامی غم و غصے کا آئینہ بن چکا ہے۔ روزانہ درجنوں پوسٹس میں یہ شکوہ دہرایا جا رہا ہے کہ حکومت مکمل طور پر مافیاز کے کنٹرول میں آ چکی ہے اور غریب آدمی کے لیے اس ملک میں جینا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہی بے بسی، یہی ناانصافی اور یہی مسلسل معاشی دباؤ وہ بنیادیں ہیں جو عوامی بےچینی کو تحریک میں بدلتی ہیں۔ حکومتی پالیسیوں میں شفافیت کا فقدان، ناقص منصوبہ بندی اور طاقتور طبقات کی خوشنودی پر مبنی فیصلے عوام کے صبر کو آزماتے جا رہے ہیں۔ چینی کی برآمدات کے بعد مہنگی درآمد، بجلی کے نرخوں میں من مانا اضافہ اور اویس لغاری جیسے وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات ، یہ سب مل کر اس نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

    اب ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوالات انگاروں کی طرح دہک رہے ہیں کہ غریب کے بچوں کے لیے سکولوں کے دروازے کیوں بند کر دیے گئے؟ کیا تعلیم اب صرف امیروں کی میراث بن چکی ہے؟ سرکاری ہسپتالوں میں مزدوروں اور عام شہریوں کے بچوں کو "علاج” کے نام پر موت کیوں دی جا رہی ہے؟ بجلی کے سلیب گرد بلوں میں جکڑے لوگ کب تک خودکشیاں کرتے رہیں گے؟ مہنگی چینی، آٹا، دال اور ادویات خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے کب تک زندہ دفن کیے جاتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہر مہینے کے اختتام پر گھروں سے مہنگائی کا مارا جنازہ نکلے گا؟

    یہ سوالات صرف احتجاجی بینروں یا سوشل میڈیا پوسٹس کے نعرے نہیں ہیں بلکہ ایک مجبور قوم کی چیخیں اور اضطراب ہیں جو اپنے جینے کے حق کی بھیک مانگ رہی ہے۔ اور جب ایک قوم اپنے حقِ زندگی کے لیے سوال کرنا شروع کر دے، تو یہ وقت اربابِ اختیار کے لیے فیصلہ کن گھڑی ہوتا ہے۔ اب تاریخ خاموش نہیں رہے گی،حکومتی بے حسی اور تکبر کی وجہ کتنے پاکستانیوں کےمزید جنازے اٹھیں گے؟،یہ سوالات کبھی نہ کبھی جواب مانگیں گے اور اگر اقتدار کے ایوانوں میں سننے والا کوئی نہ ہوا تو پھر عوام خود اپنے خون سے جواب لکھیں گے۔حکومتی ارباب اختیار کو اس وقت سے ڈرنا چاہیئے ،جب وہ کچھ کرناچاہیں گے تو اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی اور آناََ فاناََ سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے گا.

  • تین لاشیں ۔ اور ایک سوال۔۔۔تحریر: شاہدہ مجید

    تین لاشیں ۔ اور ایک سوال۔۔۔تحریر: شاہدہ مجید

    کیا ہم سب زندہ ہیں ۔۔ یا صرف سانس لے رہے ہیں ۔۔
    "مثال ہے پنجابی کی: اولاد کلاد ہو جاندی اے، ما پے کماپے نئیں ہوندے” یعنی "اولاد بے وفا ہو سکتی ہے، لیکن ماں باپ کبھی ماں باپ ہونا نہیں چھوڑتے” —
    یہ والدین کی محبت کے لیے ایک محاورہ ہے،
    وہ محبت جو بے غرض، بے لوث اور غیر مشروط سمجھی جاتی ہے۔
    لیکن پھر ایک لاش ملتی ہے…
    تین ہفتے پرانی لاش ۔۔
    جو اس محاورے کو جھوٹا کردیا ہے ۔
    یہ لاش صرف حمیرا کی نہیں ہے… یہ انسانیت کی گلی سڑی لاش ہے۔
    یہ واقعہ محض موت نہیں، ایک ایسا طمانچہ ہے جو سماج کے چہرے پر پوری قوت سے پڑتا ہے۔
    اداکارہ، ماڈل، اور سوشل ورکر حمیرا اصغر — جو لاکھوں فالوورز رکھتی تھیں،
    ۔۔۔
    ماڈل تھی اداکارہ تھی ۔
    ۔، جو تنہائی میں اس طرح مریں کہ ان کے ماں باپ نے بھی لاش لینے سے انکار کر دیا۔
    پولیس نے فون کیا۔ بھائی نے کہا والد سے بات کریں۔ والد نے غصے سے کہا: ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
    جو کرنا ہے کریں۔ ہم لاش نہیں لیں گے۔ فون بند ہو گیا۔
    یہ صرف ایک بیٹی کی لاش نہیں تھی،
    یہ اس رشتے کے تقدس کا جنازہ تھا جسے ہم مقدس مانتے ہیں۔
    کیا رشتے اب بدنامی کے خوف، خودغرضی، یا مفاد پرستی کے ترازوں میں تولے جاتے ہیں؟
    وہ لڑکی جس کے ہزاروں چاہنے والے تھے، وہ سوشل میڈیا پر موجود تھی، اس کی مسکراہٹوں میں زندگیاں جھلکتی تھیں — آخر تنہائی میں کیوں مری؟ کیوں کوئی اس کی غیر موجودگی محسوس نہ کر سکا؟
    ایسی موت تنہائی کی نہیں، ہمارے ضمیر کی موت ہے۔
    یاد کریں سیمیں درانی — ایک بھولی ہوئی کہانی۔۔۔
    وہ حسین تھی…بہت حسین۔ روشن آنکھیں، زندہ دل، ہنسنے ہنسانے والی، سوال اٹھانے والی۔
    بہادر اور زندہ دل تھی ۔۔
    فیس بک کے کئی لوگ اسکے اچھے دوستوں میں شمار ہوتے۔۔
    لیکن دنیا اسے سمجھ نہ سکی۔ کچھ نے اس کی ہنسی کو آزادی کہا، ،،
    کچھ نے اس کی تحریروں کو بے باکی کہا،۔۔
    مگر وہ جن کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی، وہ خاموشی سے کنارہ کش ہو گئے۔۔۔
    ایسی عورت اگر خود کو فنا کر لے، تو یہ واقعہ نہیں، واردات ہے۔۔۔
    اس کی پنکھے سے لٹکی پانچ دن پرانی لاش کو خودکشی کہنا کافی نہیں۔
    اگر یہ خودکشی ہے تو سمجھنا چاہیے کہ انسانیت بھی اسکے ساتھ خودکشی کرچکی ۔۔
    ۔ کہاں تھے اس کے وہ اپنے، جو اس کی غیر موجودگی سے بھی لاتعلق رہے؟
    وہ دل کی مریضہ تھی، لیکن رشتے — جنہیں خون کہا جاتا ہے — اس کے دل تک نہ پہنچ سکے۔۔۔۔
    سیمیں کی موت صرف اس کی اپنی نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی بے حسی کی فردِ جرم ہے۔
    عائشہ خان —سینئر ادکارہ ۔۔
    ستر سالہ بزرگ خاتون ۔
    وہ چہرہ جو برسوں اسکرین پر جگمگاتا رہا —
    دلوں کو چھوتا، کہانیوں کو جان بخشتا۔
    عائشہ خان… صرف ایک اچھی اداکارہ نہیں ، بلکہ با اخلاق، مہذب اور شائستہ لب و لہجے والی شخصیت تھیں۔
    ان کے پڑھے لکھے، سیٹ ہنستے بنستے بچے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ایک ذمہ دار ماں بھی تھیں۔ ۔۔
    لیکن جب اولاد اپنی زندگی میں مصروف ہوئی تو ماں کو ہی بھول گئی۔
    وہ کرداروں میں جیتی رہیں، مگر شاید اپنی ذات میں مرتیں رہیں۔
    جب دم توڑ گئیں تو کئی دن کسی کو خبر نہ ہوئی۔۔۔۔۔
    اور جب خبر آئی، تو تنہائی کی بو ساتھ لائی —
    جو برسوں سے ان کے ارد گرد تھی۔
    عائشہ خان کی موت صرف ایک سینئر اداکارہ کی موت نہیں تھی — یہ فنکاروں کے لیے سماج کی بے رخی پر دنیا کی سٹیج پر انکا آخری سین تھا۔
    اور اب پھر ایک 21 دن پرانی لاش ملی ہے ۔۔۔
    اب سب کہانیوں ، انکی زندگیوں اور انکی لاشوں میں ایک بات مشترک ہے ۔۔اپنوں کی بے رخی اور تنہائی کی بو ۔۔۔
    تین لاشیں، تین کہانیاں ہیں اور سماج سے ایک لاوارث سوال ہے ۔۔
    کیا ہم سب زندہ ہیں؟

  • یزیدِ وقت اور غزہ کا کربلا ، امت کی خاموشی پر سوال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    یزیدِ وقت اور غزہ کا کربلا ، امت کی خاموشی پر سوال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    تاریخ کا پہیہ اکثر وہی مناظر دہراتا ہے جنہیں انسان بھولنا چاہتا ہے۔ چودہ سو سال قبل 61 ہجری میں سرزمینِ کربلا پر ایک خونی داستان رقم ہوئی، جہاں نواسۂ رسول ﷺ، حضرت امام حسینؑ نے اپنے خاندان سمیت دینِ محمدیؐ کی بقا کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ امامؑ نے یزید کی جابر حکومت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتے ہوئے قربانی، حریت، اور اصول پسندی کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

    یزید محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک نظام، ایک ایسا نظریہ ہے جو طاقت کے نشے میں عدل و انسانیت کو روند ڈالتا ہے۔ کربلا میں اسی سوچ نے پانی بند کیا، بچوں، عورتوں اور اہلِ بیتؑ پر ظلم کے پہاڑ توڑے، حتیٰ کہ نواسۂ رسول ﷺ کے سر کو نیزے پر چڑھا دیا گیا۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے ظلم کے خلاف بغاوت کا اعلان ہے۔

    آج فلسطین، خاص طور پر غزہ، اسی یزیدی ذہنیت کا شکار ہے۔ اسرائیل 1948ء سے نہ صرف فلسطینیوں کے گھروں پر قبضہ کر رہا ہے بلکہ مسجد اقصیٰ کو بارہا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ہزاروں معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ 2023 سے جاری موجودہ جنگ میں تو ظلم کی انتہا ہو چکی ہے — اسپتال، اسکول، امدادی کیمپ، حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کے دفاتر تک محفوظ نہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی ایک نئی کربلا کی یاد دلاتی ہے۔

    کیا یہ سب ایک نیا یزید نہیں؟ کیا اسرائیل کی درندگی، نسل کشی، اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی کربلا کے یزیدی مظالم سے کم تر ہے؟ کربلا میں پانی بند کیا گیا، غزہ میں پانی، بجلی، دوا، خوراک — سب کچھ بند ہے۔ وہاں یزید تھا، یہاں اسرائیل ہے؛ وہاں حسینؑ تھے، یہاں ہزاروں مظلوم فلسطینی ہیں — لیکن جذبہ، صبر اور استقامت وہی ہے۔

    حضرت امام حسینؑ کا ایک قول ہے:> ” اگر تم دین نہیں رکھتے تو کم از کم آزاد مرد بنو۔” (بحارالانوار، جلد ۴۴)

    آج غزہ کے نہتے مگر غیرتمند لوگ اسی آزادی، عزت اور مزاحمت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس فلسفے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جسے ہم نے صرف مجلسوں اور نوحوں تک محدود کر دیا ہے۔

    امتِ مسلمہ کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر ہم نے واقعی کربلا سے سبق سیکھا ہوتا تو غزہ کی سرزمین پر ظلم اس قدر نہ بڑھتا۔ اگر ہم نے صرف ماتم کیا اور فلسفۂ کربلا کو نہ سمجھا، تو پھر آج ہم یزیدِ وقت کے سامنے کیوں خاموش ہیں؟

    کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کے لیے کھڑے ہونا فرض ہے، چاہے ہم تعداد میں کم ہوں، چاہے قربانی دینی پڑے۔ فلسطین کے معصوم بچوں کی چیخیں، ماؤں کی آہیں، اور شہداء کی قبریں آج ہم سے سوال کر رہی ہیں:

    "تم کون ہو؟ حسینؑ کے ماننے والے یا یزید کی خاموشی کے وارث؟”

    ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم ظلم کے خلاف کلمۂ حق بلند کریں گے یا صرف تاریخ کو یاد کر کے خود کو زندہ ضمیر سمجھنے کا فریب دیتے رہیں گے؟ کیا ہم کربلا کی پیروی کریں گے یا یزیدِ وقت کی خاموش تائید؟

  • چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی

    چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی

    چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی
    تحریر: حبیب اللہ خان، نامہ نگار باغی ٹی وی بہاولپور
    پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف عوام کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ گزشتہ برس شوگر ملز مالکان اور ڈیلرز نے حکومت کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ چینی کی برآمد سے نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ برآمدات کے باوجود مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں یا دستیابی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

    ان دعوؤں کی بنیاد پر حکومت نے چینی کی برآمد کی اجازت دے دی اور پُر اعتماد انداز میں کہا کہ کرشنگ سیزن سے قبل نہ چینی کی قلت ہوگی، نہ قیمتیں بڑھیں گی، اور نہ ہی درآمد کی ضرورت پیش آئے گی۔ لیکن آج صورتحال مکمل طور پر اس کے برعکس ہے۔

    چینی کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں، مارکیٹ میں قلت پیدا ہو رہی ہے، اور اب حکومت کو دوبارہ چینی درآمد کرنے کے لیے ڈالرز خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ دسمبر 2024 میں جو چینی ایکس مل ریٹ پر 125 سے 130 روپے فی کلو دستیاب تھی، وہ اب ریٹیل مارکیٹ میں 190 سے 200 روپے فی کلو کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اوچ شریف میں چینی کی قیمت 6 روپے کے اضافے کے ساتھ 190 روپے، احمد پور میں 5 روپے اضافے سے 195 روپے، اور بہاولپور میں صرف ایک ماہ میں 10 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں قیمت 200 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

    شوگر ڈیلرز نے برآمدات کے ذریعے ڈالر تو ضرور کمائے، لیکن اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا۔ برآمدات سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ بے معنی ہو جاتا ہے جب ملک کو دوبارہ وہی چینی درآمد کرنے کے لیے قیمتی ڈالرز خرچ کرنے پڑیں۔ یہ صورتحال حکومتی منصوبہ بندی میں خامیوں، شفافیت کی کمی اور فیصلہ سازی میں مفادات کے تصادم کو بے نقاب کرتی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے اس بحران کو جنم دیا؟ ماہرین کے مطابق چینی کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں شوگر ملز کی جانب سے پیداوار کے اعداد و شمار میں ہیر پھیر، برآمدات کو غیر ضروری طور پر ترجیح دینا، اور مقامی مارکیٹ کی طلب کو نظر انداز کرنا شامل ہیں۔ شوگر ملوں نے مبینہ طور پر پیداوار کو جان بوجھ کر کم ظاہر کیا تاکہ برآمدات کی اجازت حاصل کی جا سکے، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی دستیابی متاثر ہوئی۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے نے بھی درآمدات کو مزید مہنگا کر دیا، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑا۔

    چینی ایک بنیادی ضرورت کی شے ہے، اور اس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام کی قوتِ خرید پر ضرب لگا رہا ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ، جو پہلے ہی مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، چینی کے اس ہوشربا اضافے سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیکریوں، مٹھائی فروشوں اور چینی استعمال کرنے والی دیگر صنعتوں پر بھی اس بحران کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بحران کا حل کیا ہے؟ حکومت کو فوری طور پر چینی کی برآمدات پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور مقامی ضروریات کو ترجیح دینی چاہیے۔ شوگر ملز کی پیداوار اور اسٹاک کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ اعداد و شمار میں ہیر پھیر روکی جا سکے۔ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے سبسڈی یا دیگر اقدامات پر غور کیا جائے۔ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ بحران نہ صرف معیشت بلکہ سیاسی استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    چینی کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ نہ صرف حکومتی وعدوں کی ناکامی کا نتیجہ ہے بلکہ ناقص منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کی عدم موجودگی کا ثبوت بھی ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت سنجیدگی سے اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لے اور عوامی مفاد کو اولیت دے، ورنہ عوامی اعتماد اور ملکی معیشت دونوں شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

  • کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے ،میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے ،میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    حکومتوں کا آنا جانا مکافات عمل نہیں ،ہردور میں پہلا گیا اور نیا آیا
    نواز شریف دور میں ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے پابندیاں لگیں ،دوست ممالک نے بھرپور ساتھ دیا
    چین کی مدد سے جے ایف تھنڈر طیارہ بنانا بھی نواز شریف کا کارنامہ،مضبوط خارجہ پالیسی طرہ امتیاز رہا
    موجودہ حکومت میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی بہترین خارجہ پالیسی سے کامیابیاں ملنے لگیں
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    سابق وزیر اعظم عمران خان پر مقدمات حقیقت ہیں یا افسانہ، اس کو مکافات عمل قرار دیا جارہا ہے، تاریخ کا مطالعہ کریں اچھے سے اچھے تاجدار بھی ایک وقت میں اپنے اقتدار سے الگ ہوئے مثلا اورنگزیب عالمگیر اور عمر بن عبدالعزیز تو کیا ان کے لئے تخت شاہی سے علیٰحدہ ہو جانا کسی مکافات عمل کا نتیجہ تھا ،ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک پراسس ہے کہ اس دنیا فانی سے ہر ایک کو رخصت ہونا ہے اور اسکی جگہ دوسرے نے لینی ہے لہٰذا اس پراسس کو مکافات عمل قرار دینا ہرگز مناسب نہیں ،بھٹو سے قبل اور بھٹو کے بعد نواز شریف سے لیکر محترمہ بینظیر بھٹو شہید تک جتنے بھی وزارت عظمی کے عہدوں پر فائز رہے جو کچھ ان پر گزری اسکی بڑی وجہ سیاسی جماعتوں میں نہ سیاست نہ جمہوریت ہے، ہماری سیاست اور جمہوریت انتقام سے شروع ہو کر انتقام ہی پر ختم ہوتی ہے، آج بھی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچار کرنے والے موجود ہیں مگر ان کی آوازیں دب چکی ہیں ،سیاسی جماعتوں میں غیر جمہوری اور مفاد پرست اور مسخرے پن کی حدوں کو کراس کرنے والے سیاست دانوں کی اکثریت ہے کسی زمانے میں سیاست نظریہ کے گرد گھومتی تھی آج کی سیاست اور جمہوریت صرف اور صرف اقتدار اور اقتدار کے گرد گھومتی ہے، مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے کاروباری سیاست اور مفاداتی سیاست کو مدفن کرنا ہو گا، بقول شاعر ،،
    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے
    میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے

    پاکستان کے عالمی دنیا کے کئی ممالک کیساتھ تعلقات ہیں اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کہتے ہیں کسی بھی ملک کا داخلی اور خارجی استحکام ہے خارجہ پالیسی بناتے وقت سول حکومت اور ذمہ داران ریاست شامل ہوتے ہیں عمران حکومت کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان خارجہ محاذ پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہو گیا کہا جا رہا تھا شاہ محمود قریشی کی خارجہ امور پر گرفت بہت مضبوط ہے مگر نتیجہ صفر رہا، نواز شریف کے دور حکومت میں خارجہ پالیسی میں نمایاں کامیابی نظر آئی ہے، بینظیر بھٹو شہید کے دور حکومت میں امریکہ نے ایف 16 طیاروں کی قیمت وصول کرنے کے بعد پاکستان کو طیارے نہیں دئیے نواز شریف کے دورے حکومت میں جب ایٹمی دھماکوں کی پاداش میں پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگیں نواز شریف کی کامیاب خارجہ پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب چین اور دیگر ممالک نے پاکستان کی مدد کی اور چین کی مدد سے جے ایف تھنڈر طیارہ بنا لیا گیا، نواز شریف کے دور حکومت میں سعودی عرب نے چونتیس ممالک کا فوجی اتحاد بنایا جس کی سربراہی پاکستان کے حصے میں آئی، نواز شریف کے دورے حکومت میں چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کا معاہدہ ہوا چین کے تعاون سے متعدد منصوبے شروع کئے گئے نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کے مزید قریب ہوئے موجودہ حکومت نواز شریف کی ہی خارجہ پالیسی پر عمل کر رہی ہے ،سینیٹر اسحاق ڈار کو داد دینا ہو گی انھوں نے پاک بھارت ، اسرائیل ایران جنگ میں روایتی خارجہ پالیسی کے مقابلے میں ایسے اقدامات کئے پاکستان اور قوم پر مستقبل میں اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے بلاشبہ اسحاق ڈار کی کامیاب خارجہ پالیسی سے مستقبل میں نئے معاشی امکانات سمیت خارجہ پالیسی میں پاکستان کو کامیابیاں حاصل ہوں گی

  • بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی

    بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی

    بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں بجلی کے بل اب صرف ایک گھریلو خرچ نہیں رہے بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ یہ بل کسی بھی وقت کسی کا چولہا بجھا سکتے ہیں، کسی بچے کے سکول کی فیس روک سکتے ہیں یا کسی بوڑھے ماں باپ کی دوا چھین سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ اس ظالمانہ اور غیر منصفانہ "سلیب سسٹم” کا ہے جو عوام کو ایک ایسے شکنجے میں کس چکا ہے جہاں ایک یونٹ کا فرق زندگی اور موت کی لکیر بن چکا ہے۔

    حکومتی پالیسی کے مطابق اگر کوئی صارف 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتا ہے تو اسے سبسڈی دی جاتی ہے اور قیمت فی یونٹ 10.54 روپے سے 13.01 روپے تک ہوتی ہے۔ مگر جیسے ہی یہ تعداد 201 یونٹ ہو جائے تو وہ صارف نان پروٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل ہو جاتا ہے جہاں فی یونٹ قیمت 33.10 روپے ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کے بل میں کئی اقسام کے ٹیکس اور سرچارجز شامل ہو کر بل کو ناقابل برداشت بنا دیتے ہیں۔ ایک عام صارف کا 200 یونٹ کا بل تقریباً 3,083 روپے بنتا ہے، لیکن صرف ایک یونٹ اضافے پر یعنی 201 یونٹ پر بل 8,154 روپے ہو جاتا ہے۔ صرف ایک یونٹ کا فرق اور بل میں 5,071 روپے کا اضافہ؟ یہ مذاق نہیں، معاشی ظلم ہے۔

    ایکس(ٹویٹر) پر لوگ اپنے بل شیئر کر رہے ہیں۔ کہیں 199 یونٹس کا بل 2,000 روپے ہے اور وہی صارف اگر 201 یونٹس استعمال کر لے تو بل 9,000 روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اس پر اگر کوئی اضافی سرچارج بھی لگ جائے تو غریب کے لیے بجلی جلانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بے بسی، غصہ اور دکھ مل کر انسان کو یا تو خودکشی پر مجبور کرتے ہیں یا احتجاج پر۔

    یہ کوئی مفروضہ باتیں نہیں ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق گوجرانوالہ کے انور کا بل صرف 3,800 روپے تھا لیکن عدم ادائیگی پر اس کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ اس نے ہمسائے سے بجلی لی تو گیپکو نے بجلی چوری کا مقدمہ درج کر دیا۔ یہ صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے انور کا بیٹا فراز تیزاب پی کر مر گیا۔ اس کی ماں کی چیخ، "میرا بیٹا بلوں کے چکر میں مر گیا” ایک ایسا جملہ ہے جو ہر قانون ساز کے کان میں گونجنا چاہیے۔ لاہور کا ریڑھی بان فیصل ہو یا ڈسکہ کی نسرین بی بی، سب کی کہانیاں ایک جیسی ہیں۔ کسی نے بل کی زیادتی سے تنگ آ کر خودکشی کی تو کسی نے اپنے خاندان کو کھو دیا۔

    دوسری طرف وہ اشرافیہ ہے جسے بجلی یا تو مفت فراہم کی جا رہی ہے یا انتہائی رعایتی نرخوں پر۔ سینئر صحافی حامد میر نے ایکس (ٹویٹر)پر ایک بل کی تصویر شیئر کی جس میں واپڈا کے ایک ملازم نے 1,200 یونٹس بجلی استعمال کی اور صرف 716 روپے ادا کیے۔ ملتان میں ایک افسر کے 895 یونٹس کے بل کی رقم صرف 1,201 روپے تھی۔ یعنی یہ لوگ 1.5 روپے فی یونٹ سے بھی کم میں بجلی حاصل کر رہے ہیں جبکہ عام صارف 201 یونٹ پر 8,000 سے 11,000 روپے ادا کر رہا ہے۔ یہ دہرا معیار معاشرے میں غصہ، محرومی اور بغاوت کو جنم دے رہا ہے۔

    یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب موجودہ حکومت، خاص طور پر وزیر توانائی اویس لغاری بجلی کے مسائل کا کوئی عملی حل دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ عوام کو اس نظام میں پھنسا دیا گیا ہے جہاں لائن لاسز، بجلی چوری، مفت بجلی کی سہولیات اور مہنگے نجی پاور پلانٹس کے کیپیسٹی چارجز کا بوجھ ان صارفین پر ڈالا جا رہا ہے جو نہ چوری کرتے ہیں، نہ مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایماندار صارف ہی اس پورے کرپٹ نظام کا اصل شکار بن چکا ہے۔

    یہی وہ لمحہ ہے جب عوام نے توقع کی تھی کہ کوئی ان کا مقدمہ لڑے گا اور یہ توقع حافظ نعیم الرحمان سے تھی۔ وہی حافظ نعیم جو ماضی میں کے الیکٹرک کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے تھے، عوامی مظاہروں کی قیادت کرتے تھے اور بجلی کے ہر بحران پر سڑکوں پر احتجاج کرتے تھے۔ لیکن آج جب ظلم پورے ملک میں سلیب سسٹم کی صورت میں نافذ ہے، عوام خودکشیاں کر رہے ہیں تو حافظ نعیم کی خاموشی حیران کن اور تکلیف دہ ہے۔

    کیا جماعت اسلامی نے اپنی سیاسی حکمت عملی بدل لی ہے؟ کیا حالیہ انتخابی نتائج نے ان کے احتجاجی جذبے کو ماند کر دیا ہے؟ یا وہ کسی مفاہمتی پالیسی کے تحت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں؟ ان سوالات کا جواب خود حافظ نعیم الرحمن کو دینا ہوگا۔ کیونکہ عوام اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں جذباتی تقاریر نہیں، عملی مزاحمت چاہیے۔ ان کی خاموشی اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ جماعت اسلامی اب حکومتی دباؤ یا مصلحت کے تابع ہو چکی ہے۔

    عوام نے 201 یونٹ کی سلیب گردی کو مسترد کر دیا ہے۔اس سسٹم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ سوشل میڈیا پر "NoMoreSlabLooting” جیسے ٹرینڈز روزانہ کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ صارفین یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سلیب سسٹم کو ختم کیا جائے،اداکار نعمان اعجاز نے ایکس(ٹویٹر) پر لکھا، "200 یونٹ والی بدمعاشی ختم کریں۔” عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ سلیب سسٹم اصلاح کیا جائے، اشرافیہ کی مفت بجلی ختم ہو، پن بجلی اور قابل تجدید توانائی سے سستی بجلی بنائی جائے اور ٹیکسز و سرچارجز ہٹا کر شفاف نظام لایا جائے۔ یہ ظلم کب تک جاری رہے گا؟ جب تک اشرافیہ کو مراعات ملتی رہیں گی اور عام صارف پر بوجھ ڈالا جاتا رہے گا، عوامی غصہ بڑھتا رہے گا۔

    جناب وزیراعظم میاں شہباز شریف، عوام کا غیض و غضب نوشتہ دیوار ہے۔ 201 یونٹ کی سلیب گردی اور اشرافیہ کی مفت بجلی سولی کا پھندہ ہے جو غریب پاکستانیوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ آپ ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہیں گے۔ جب آپ عوام کے سامنے جائیں گے، تو اشرافیہ کے سہارے آپ کو عوام کے غیض و غضب سے نہیں بچا سکیں گے۔ یہ غصہ، جو سڑکوں پر، سوشل میڈیا پر اور ہر گھر میں پھیل چکا ہے، آپ کی حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔ فوری طور پر سلیب سسٹم کی اصلاح کریں، مفت بجلی کی مراعات ختم کریں اور غریب کو سستی بجلی دیں۔ ورنہ، تاریخ آپ کو اس حکمران کے طور پر یاد رکھے گی جس نے عوام کو معاشی عذاب میں جکڑ زندہ درگور کردیا۔

  • زہریلا دودھ . خاموش قاتل، بے حس ادارے

    زہریلا دودھ . خاموش قاتل، بے حس ادارے

    زہریلا دودھ. خاموش قاتل، بے حس ادارے
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    بحیثیت قوم اگر ہم دنیا کی دیگر اقوام سے اپنا موازنہ کریں تو حالیہ دنوں پاکپتن، سوات اور کراچی لیاری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ان سانحات کو دیکھ کر ہمیں شدت سے احساس ہوتا ہے کہ گزشتہ 78 برسوں سے ہماری ترقی، ترجیحات اور ریاستی نظام کس قدر بگاڑ کا شکار رہا ہے۔ ہم ترقی کے بجائے مسلسل تنزلی کی طرف گامزن ہیں اور اس زوال کی سب سے بڑی وجہ وہ ریاستی ادارے ہیں جنہوں نے فیلڈ ورک ترک کر کے مافیا کو طاقت بخشی، جیسا کہ پاکپتن کی حالیہ مثال سے ظاہر ہوتا ہے۔

    ان ہی تلخ حقائق کی روشنی میں آج ہمیں جس خطرناک اور نظر انداز کیے گئے مسئلے پر بات کرنی ہے وہ ہے دودھ مافیا۔ ایسا مافیا جو خاموشی سے نہ صرف ہماری بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی صحت کو تباہ کر رہا ہے۔ اس گھناؤنے کھیل میں شریک وہ سرکاری اہلکار بھی برابر کے مجرم ہیں جو عوامی تحفظ کے بجائے مفادات کے اسیر بن چکے ہیں۔ جب پنجاب فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا تو عوام کو امید ہوئی کہ اب ملاوٹ، آلودگی اور مضر صحت اشیاء کے خلاف سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے، مگر جلد ہی یہ امید دم توڑ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ فوڈ اتھارٹی بیشتر مقامات پر صرف فوٹو اتھارٹی بن چکی ہے۔ چند مخصوص فوٹو سیشن، سوشل میڈیا پوسٹس، اور پریس ریلیز اس کی کارکردگی سمجھی جاتی ہے جبکہ زمینی سطح پر صورتحال جوں کی توں ہے۔ نہ چیکنگ ہو رہی ہے، نہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں اس کا کوئی عملی اثر دیکھنے میں آتا ہے۔

    مارکیٹ میں بکنے والا زیادہ تر کھلا دودھ اب مکمل غذا کے بجائے ایک زہریلا مشروب بن چکا ہے۔ اس میں فارملین، سرف، یوریا، شیمپو، بال سافٹنر اور نہری پانی جیسے مہلک اجزاء شامل کیے جاتے ہیں۔ وہ دودھ جسے بچوں کی نشوونما، نوجوانوں کی توانائی، عورتوں کی صحت اور بزرگوں کی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے، بدقسمتی سے آج سفید زہر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ پنجاب بھر میں بالخصوص دیہی اور نیم شہری علاقوں میں دودھ فروش مافیا بے خوف ہو کر کیمیکل ملا دودھ بیچ رہا ہے۔ ان کے خلاف کارروائیاں یا تو صرف کیمروں کی حد تک محدود ہوتی ہیں یا پھر کسی رسمی کارروائی کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔ فوڈ اتھارٹی، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ صرف اپنی فائلیں اور تصاویر سنوارنے میں مصروف ہیں جبکہ اصل مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔

    اس زہریلے دودھ کے نتیجے میں بچوں، عورتوں اور بزرگوں میں متعدد خطرناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جن میں گیس، السر، بدہضمی، ہیپاٹائٹس اے، بی اور جگر کی سوزش، گردے کے امراض، پتھری، جلدی الرجی، خارش، چہرے پر دانے، ہڈیوں کی کمزوری، بچوں میں نشوونما کی رکاوٹ، خواتین میں ہارمونی تبدیلیاں، نظر کی کمزوری اور اعصابی مسائل شامل ہیں۔ یہ تو صرف چند بیماریاں ہیں، حقیقتاً اسپتالوں کی او پی ڈیز میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد خود اس زہریلے کاروبار کا زندہ ثبوت ہے۔

    اس پورے نظام میں شامل کالی بھیڑیں سرکاری دفاتر میں بیٹھی رشوت کے عوض آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں۔ دودھ فروش مافیا کو ان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ فوڈ اتھارٹی، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت کوئی راز نہیں رہی۔ دیہی علاقوں میں نہ لیبارٹری کی سہولت ہے نہ چیکنگ کا کوئی مؤثر نظام۔ گاؤں دیہات کے کروڑوں افراد روزانہ زہر پینے پر مجبور ہیں اور ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    یہ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ اب اس میں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کو ذاتی دلچسپی لینا ہوگی۔ آپ ایک بااختیار، باشعور اور عوام دوست رہنما ہیں جنہوں نے کئی شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے قابلِ تحسین مثالیں قائم کی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو بھی براہ راست آپ کی نگرانی میں لایا جائے تاکہ اس خاموش قاتل کا راستہ روکا جا سکے، اور عوام کو سفید زہر سے نجات ملے۔ اگر فوری، سنجیدہ اور غیر سیاسی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں ایک سنگین قومی المیہ بن جائے گا۔

  • مجروح قافلے  کی  مرے  داستاں  یہ  ہے ،رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ  ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مجروح قافلے کی مرے داستاں یہ ہے ،رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہور جمہور کرنے والی پارٹیاں پہلے اپنے اندر جمہوریت لائیں
    ماتمی سیاست چھوڑ کر ملک وقوم کےمستقبل کیلئے سوچنا ہوگا،کوئی تو پہل کرے
    نواز شریف کو تین بار گھر بھیجنے والوں نے کیا کمایا،ملک کو کہاں پہنچایا ،قوم کا سوال تو بنتا ہے؟
    بھٹو کوبار بار مٹانے والے آج کہاں ہیں ؟بلاول بھٹو نے پارٹی میں نئی روح پھونک دی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بلاول بھٹو نے 5 جولائی کے پیغام میں کہا ہے کہ عوامی حکومت پر شب خون مارا گیا پاکستان کو اندھیروں میں دھکیل کر نفرت کے بیج بوئے گئے،انہوں نے کہا کہ آئیں مل کر آمریت کے پھیلائے ہوئے اُن اندھیروں کا خاتمہ کریں، جمہوری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں، پیپلزپارٹی اس دن کویوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے، بلاشبہ بھٹو شہید کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ناقابل برداشت ہی نہیں قابل نفرت ہے، جمہوریت اور آمریت کے درمیان پاکستان اورعوام جھولتے رہے ، افسوس سیاسی جماعتوں نے تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا، نواز شریف کو تین بار عوام نے منتخب کیا اور تین بار اُن سے اقتدار چھین لیا گیا، نام نہاد پانامہ کو لے کر عدالت کے ذریعے اُن کو اقتدار سے الگ کردیا گیا، ملک کی سیاسی جماعتیں ان تین جمہوری حکومتوں کے خاتمے کو کون سا نام دیں گی ؟ کیا یہ عوامی رائے اور جمہوریت کا قتل نہیں تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی حکومتوں کی تاریخ بڑی درد ناک ہے ،سیاسی جماعتیں جمہوریت اور آئین کی صدائیں تو بلند کرتی ہیں مگر جمہوریت کے قتل میں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے
    بقول شاعر،
    مجروح قافلے کی مرے داستاں یہ ہے ،
    رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ،

    سیاسی جماعتیں اپنے کردار پر توجہ دیں پھر جمہوریت اور آئین کی بات کریں مکانوں کا حُسن سنگ وخشت سے نہیں اُن میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے، ماتمی سیاست کو چھوڑیں ملک وقوم کے اچھے مستقبل کے بارے سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہو گا، جمہوریت ایک ذمہ داری کا نام ہے عام لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کرنا سب سے معتبر چیز ہے، ذرا سوچئے ہم کن راہوں پر چل نکلے ،بلوچستان میں پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت مکروہ کھیل میں شریک ہے، افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی پاک فوج کے جوان ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں،گزشتہ کئی سالوں سے آخر ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ ملکی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کبھی یہ سوچا آخر ہمارے ملک میں دہشت گردی کی آگ کیوں بھڑک اُٹھتی ہے ؟ مشرق وسطیٰ کے حالات ہمارے سامنے ہیں ایک دوسرے کے تنازعات نے ان کو معیشت مستحکم ہونے کے باوجود کمزور بنا رکھا ہے، مشرق وسطٰی کے ممالک اپنا دفاع نہیں کر سکتے اس کی وجہ ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات،ملکی سیاسی جماعتیں پہلے جمہوری انداز اپنائیں پھر جمہوریت کی بات کریں

  • کیا کوئی سن رہا ہے؟

    کیا کوئی سن رہا ہے؟

    کیا کوئی سن رہا ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ے جہاں ہر عام شہری نہ صرف زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہا ہے بلکہ خود سے یہ سوال بھی پوچھ رہا ہے کہ "کیا میری آواز کسی تک پہنچ رہی ہے؟” مہنگائی کی چکی میں پسنے والا مزدور، روزگار کی تلاش میں سرگرداں نوجوان، بچوں کی فیس اور دوا کے بیچ جھولتا باپ اور بے یقینی میں ڈوبا ہر دل آج سراپا سوال ہے۔ سوشل میڈیا پر صدائیں بلند ہو رہی ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں یہ صدائیں یا تو دبی جا رہی ہیں یا نظرانداز کی جا رہی ہیں۔
    یہ صرف ایک فرد کی نہیں، پوری قوم کی کیفیت ہے ایک ایسا اجتماعی اضطراب جو ہر گلی کے خاموش کونوں میں، ہر ماں کی دعاؤں میں اور ہر نوجوان کی آنکھوں کے بجھتے خوابوں میں چھپا ہوا ہے۔

    ہر صبح جب ایک عام پاکستانی اپنا بٹوہ کھولتا ہے تو مہنگائی کا ایک نیا جھٹکا اسے سکتے میں ڈال دیتا ہے۔ آٹا، چینی، دودھ، سبزی، بجلی کے ناجائز بل اور ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 44 فیصد پاکستانی روزانہ 1100 روپے سے کم کماتے ہیں۔ جب ایک کلو آٹاخریدنے کیلئےپیسے نہ ہوں تو ایک غریب آدمی اپنے بچوں کے لیے روٹی کیسے لے کر آئے؟ سوشل میڈیا پر عوام پوچھ رہے ہیں کہ جب تنخواہ وہی پرانی ہے تو یہ نئے ٹیکس اور بڑھتی قیمتیں کیسے برداشت کریں؟ بینک ٹرانزیکشنز پر نئے ٹیکس کو "معاشی قتل عام” قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھاکہ "ہماری کمائی پہلے ہی ٹیکسوں کی نذر ہو رہی ہے، اب بینک سے پیسے نکلوانے پر بھی ٹیکس؟ یہ کون سی انصاف کی حکومت ہے؟” عوام کا مطالبہ ہے کہ مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس وصول کیا جائے، دکانداروں اور بڑے کاروباریوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور عام آدمی پر بوجھ کم کیا جائے۔

    اس معاشی بحران کے ساتھ بے روزگاری نے بھی پاکستانی نوجوانوں کے خوابوں کو چکناچور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں نوجوان اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں کہ پڑھائی مکمل کی، ڈگری لی، لیکن نوکری کہیں نہیں۔ سرکاری ملازمتوں پر پابندی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور معاشی بدحالی نے روزگار کے مواقع ختم کر دیے ہیں۔ ایک صارف نے لکھاکہ "ہمارے والدین نے ہمیں پڑھایا کہ ڈگری ہماری زندگی بدل دے گی، لیکن اب ہم ڈگری لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔” نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، لیکن جب وہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب رہے ہیں تو ملک کا مستقبل کون سنوارے گا؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، نجکاری کے بجائے سرکاری اداروں کو مضبوط کیا جائے اور ہنر سکھانے کے مؤثرپروگرام شروع کیے جائیں۔

    سیاسی افراتفری نے پاکستانی عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ 2024 کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات اور سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم اتفاق نے عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام پوچھ رہے ہیں کہ جب لیڈر ہی ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں تو ہمارے مسائل کون حل کرے گا؟ ایک صارف نے ایکس (ٹویٹر)پرلکھاکہ "ہر سیاسی جماعت دعوے کرتی ہے کہ وہ عوام کی آواز ہے، لیکن اقتدار ملنے پر سب اپنے مفادات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔” سیاسی عدم استحکام نے معاشی اور سماجی اصلاحات کو روک دیا ہے اور عوام کا مطالبہ ہے کہ سیاسی استحکام لایا جائے، اداروں کے درمیان تناؤ ختم کیا جائے اور شفاف انتخابات کے ذریعے عوام کی آواز کو سنا جائے۔

    پانی کی کمی ایک خاموش قاتل بن کر پاکستان کے وجود کو چیلنج کر رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2035 تک پاکستان شدید پانی کے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسان پانی کے بغیر فصلیں اگاتے ہیں جبکہ شہری علاقوں میں صاف پانی کی عدم دستیابی بیماریوں کو جنم دے رہی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ "ہماری فصلیں سوکھ رہی ہیں، لیکن واٹر مینجمنٹ کے نام پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔” عوام کا مطالبہ ہے کہ واٹر مینجمنٹ کے موثر نظام بنائے جائیں، سندھ طاس معاہدے سے متعلق مسائل حل کیے جائیں اور پانی کی تقسیم صوبوں کے درمیان منصفانہ ہو۔

    دہشت گردی اور سیکیورٹی مسائل نے پاکستانی عوام کو خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، سرحد پار سے سمگلنگ اور عدالتی نظام کی ناکامی نے عوام کے تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ "ہم اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں، لیکن دل میں خوف رہتا ہے کہ وہ واپس آئیں گے بھی یا نہیں۔” عوام کا مطالبہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو مضبوط کیا جائے، عدالتی نظام کو شفاف بنایا جائے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

    قدرتی آفات نے بھی پاکستانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ 2022 کے سیلاب نے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تباہی مچائی، جس سے فصلوں، مویشیوں اور انفراسٹرکچر کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ جب ہر سال سیلاب آتے ہیں تو ہمارے ڈیم اور واٹر مینجمنٹ سسٹم کہاں ہیں؟ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آتا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیےمؤثر پالیسیاں بنائی جائیں، ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی جائے اور متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    پاکستان کے عوام مشکلات میں گھرے ہیں، وہ معاشی انصاف، روزگار، سیاسی استحکام، پانی، سیکیورٹی اور قدرتی آفات سے تحفظ مانگ رہے ہیں۔ یہ سوالات صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہیں۔ کیا ہمارے لیڈر اس آواز کو سننے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم ایک ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جہاں عام آدمی سکون سے سانس لے سکے؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ان مسائل کا حل تلاش کریں۔ اگر ہم آج خاموش رہے تو کل ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک ہوگا۔ آئیے، اس چیخ کو ایک تحریک میں بدلیں اور ایک بہتر پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

    پاکستان کے ہر گوشے سے اُٹھنے والی یہ صدائیں محض سوشل میڈیا کی پوسٹس نہیں بلکہ یہ مسائل کے زخموں سے چور قوم کی پکار ہیں۔ یہ آوازیں نہ سیاسی نعروں کا حصہ ہیں، نہ ہی کسی ایجنڈے کی گونج بلکہ یہ ان ماں باپ کی آہیں ہیں جن کے بچے بے روزگار ہیں، وہ کسان کی فریاد ہے جو پانی کو ترس رہا ہے، وہ طالبعلم کی مایوسی ہے جو ڈگری لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہاہے اور اس مزدور کی چیخ ہے جو بجلی کے بل کے نیچے دب چکا ہے۔ کیا ایوانوں کی بلند دیواروں سے باہر یہ آواز پہنچ رہی ہے؟ کیا وزیروں، مشیروں اور اشرافیہ کے قہقہوں کے بیچ میں ان آہوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ایک دن ایسا آئے گا جب صرف عوام نہیں بلکہ خود اقتدار کے ایوان بھی ان خاموش چیخوں کی لپیٹ میں آئیں گے۔ وقت گزرنے سے صرف تاریخ بنتی ہے، قومیں نہیں۔ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے رہنما عوام کی تکلیف کو اپنا درد سمجھیں، ان کی چیخ کو اپنا فرض اور ان کی امید کو اپنی ذمہ داری۔

    اب وقت آ چکا ہے کہ "کیا کوئی سن رہا ہے؟” کو ایک فریاد سے نکال کر، ایک نعرہ، ایک تحریک، ایک انقلاب میں بدلا جائے۔ ہر پاکستانی کو چاہیے کہ وہ اس آواز کا حصہ بنے کیونکہ اگر ہم خاموش رہے تو صرف ہمارا حال نہیں، ہمارا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن جائے گا۔ آئیے! سوال کرنے سے نہ ڈریں۔ آئیے! اپنی آواز کو ایک سمت دیں۔ آئیے! اپنے پاکستان کو بچا لیں… اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ "کیا کوئی سن رہا ہے؟” … ہاں، اب سننا پڑے گا!

  • یومِ عاشور: وہ دن جب کربلا کی ریت لہو سے سیراب ہوئی

    یومِ عاشور: وہ دن جب کربلا کی ریت لہو سے سیراب ہوئی

    یومِ عاشور: وہ دن جب کربلا کی ریت لہو سے سیراب ہوئی
    تحریر: سیدریاض حسین جاذب
    کربلا کی وہ زمین، جہاں کبھی قافلوں نے پڑاؤ ڈالے ہوں گے، جہاں کبھی ہوائیں مہربان ہوں گی، دسویں محرم کی صبح ایک الم ناک سناٹے کے ساتھ طلوع ہوئی۔ سورج نے اپنی کرنیں نہیں بکھیریں بلکہ ایک مغموم اداسی کے ساتھ آسمان پر چمکا، جیسے جانتا ہو کہ آج انسانیت پر ایسا زخم لگنے والا ہے جو قیامت تک ہرا رہے گا۔ خیموں میں بےچینی، سکوت اور دعاؤں کا شور تھا۔ امام حسینؑ رات بھر سجدے میں گڑگڑاتے رہے، آنکھیں اشکبار، دل پر بار عظیم اور زبان پر بس ایک جملہ "یا رب ہمیں صبر دے۔”

    علی اکبرؑ، قاسمؑ، عباسؑ، سب جان چکے تھے کہ آج جسم کٹے گا، سر جدا ہوں گے مگر حق کا پرچم جھکنے نہ پائے گا۔ بچوں کی سسکیاں، بیبیوں کی آہیں، اور بی بی زینبؑ کا بےتاب چہرہ فضا میں ایسا نوحہ بکھیر رہا تھا جو دلوں کے تار چیر دیتا تھا۔ مگر ان سب میں سب سے دل دہلا دینے والا منظر وہ تھا، جب امام حسینؑ نے اپنے معصوم، چھ ماہ کے لخت جگر علی اصغرؑ کو گود میں لیا۔ اس بچے کی آنکھیں خشک تھیں، ہونٹوں پر زخم، چہرے پر مٹی اور بدن پر کپکپاہٹ۔ امام نے دشمن کے لشکر کے سامنے آ کر نہ شمشیر اٹھائی، نہ کوئی خطبہ دیا، بس ہاتھ اٹھا کر علی اصغرؑ کو پیش کیا اور کہاکہ "اگر مجھے پیاسا رکھنا چاہتے ہو تو رکھو، مگر اس معصوم پر تو رحم کرو، اسے پانی دے دو۔”

    مگر نہ دل پگھلے، نہ آنکھیں نم ہوئیں۔ حرملہ، یزیدی فوج کا ایک تیر انداز، تین شاخوں والا ایسا تیر چھوڑتا ہے جو سیدھا علی اصغرؑ کے نازک گلے کو چیر دیتا ہے۔ ایک لمحہ میں امام کے بازو میں تھرتھراتا بچہ خاموش ہو گیا۔ اس تیر نے صرف ایک گردن نہیں کاٹی بلکہ انسانیت، رحم، شفقت اور وفا کو بھی لہولہان کر دیا۔ امام حسینؑ کا دل چور چور ہو گیا، مگر زبان سے شکوہ نہ نکلا۔ انہوں نے ننھے شہید کا خون اپنے ہاتھوں میں لیا اور آسمان کی طرف اچھال دیا۔ روایات کہتی ہیں کہ زمین نے وہ خون قبول نہ کیا، آسمان نے تھام لیا کیونکہ یہ خون ایک معصوم کا نہیں، شہادت کا تاج پہنے ہوئے ایک عظیم پیغام کا تھا۔

    پھر جب میدان خالی ہوا اور ایک ایک چراغ بجھ گیا، امام حسینؑ تنہا رہ گئے۔ جسم زخموں سے چور، پیاس سے نڈھال، دل زخمی، مگر نظریں بلند۔ انہوں نے خیموں کی طرف دیکھا، جہاں زینبؑ کا لرزتا وجود تھا، سکینہؑ کے آنسو، سجادؑ کی بےبسی اور ام کلثومؑ کی سسکیاں۔ امام نے وداعی کلمات ادا کیے، بچوں کو آخری بار گلے لگایا، بہن کو صبر کی تلقین کی اور میدانِ کربلا کی طرف روانہ ہو گئے۔ ان کے قدموں کے نیچے وہی ریت تھی جس پر ان کے یاروں کے لاشے پڑے تھے۔ دشمنوں نے چاروں طرف سے حملہ کیا، تلواریں، نیزے، تیر برسائے گئے، مگر امام حسینؑ کا سر نہ جھکا، ان کی زبان پر کلمہ جاری رہا۔ آخر کار جب سجدے میں گئے اور خدا کے حضور سر رکھا، شمر جیسے بدبخت نے ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔

    وہ سر، جسے رسول اللہؐ نے چوما تھا، آج نیزے پر بلند ہو چکا تھا۔ وہ سینہ، جس پر نبیؐ سوتے تھے، آج خاک پر روند دیا گیا۔ زمین خون سے بھر گئی، آسمان سیاہ ہو گیا اور مظلومیت نے اپنا پرچم کربلا کے میدان میں گاڑ دیا۔ مگر ظلم یہیں پر نہیں رکا۔ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد خیموں پر حملہ ہوا۔ آگ کے شعلے بی بیوں کے پردوں سے ٹکرا گئے۔ سکینہؑ، رقیہؑ، ام کلثومؑ، سب جلتے خیموں سے نکل نکل کر دوڑنے لگیں۔ زینبؑ نے اپنے ہاتھوں سے بچوں کو سمیٹا، چادر کو سنبھالا اور خاک میں لپٹی عزت کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئیں۔

    وہ شام، جسے تاریخ نے "شامِ غریباں” کہا، وہ صرف اندھیرے کی نہیں تھی، وہ ایک قیامت کی رات تھی۔ بی بیوں کے سروں سے چادر چھین لی گئی، بچوں کو کوڑے مارے گئے، امام سجادؑ کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ سکینہؑ بار بار پوچھتی کہ "میرا بابا کہاں ہے؟” مگر جواب میں صرف سسکیاں ملتیں۔ رقیہؑ جب قیدخانے میں بابا کے سر کو دیکھتی ہے تو اس سے لپٹ کر کہتی ہے، "بابا! مجھے کیوں چھوڑ گئے؟ میں آپ کے بغیر کیسے زندہ رہوں؟”

    یہ منظر، یہ نوحہ، یہ قیامت آج بھی ہر دل کو لرزا دیتا ہے۔ عاشورہ ختم ہو چکا، مگر کربلا زندہ ہے۔ علی اصغرؑ کا خون آج بھی امت سے سوال کرتا ہے: "کیا تم نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی؟” امام حسینؑ کی تنہائی، ان کا سجدہ، آج بھی ہر غیرت مند دل کو بیدار کرتا ہے۔ بی بی زینبؑ کی قیادت، ان کا صبر، ان کا خطبہ آج بھی بتاتا ہے کہ پردہ نشین عورت جب میدان میں اترتی ہے تو یزید جیسے تخت لرز جاتے ہیں۔

    یہ کربلا کا پیغام ہے۔ یہ درد کا قصہ نہیں، یہ عشق کا دستور ہے۔ یہ وہ قربانی ہے جس نے دینِ محمدی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا۔ حسینؑ کا سر نیزے پر گیا، مگر جُھکا نہیں۔ اگر چاہو تو زندہ رہنے کا سلیقہ حسینؑ سے سیکھو اور مر مٹنے کا مفہوم علی اصغرؑ کے گلے سے سیکھو۔