پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب جمہوریت کو نقصان پہنچا یا اس کا خاتمہ ہوا تو اس جمہوریت میں صرف اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ہی شامل نہیں رہی بلکہ اکثر سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین نے بھی کسی نہ کسی انداز میں کردار ادا کیا ہے سیاسی جماعتوں کی باہمی لڑائیاں اکثر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہیں نتیجہ جمہوریت کا ڈھانچہ اندر سے کمزور ہوا اقتدار کے حصول کے لیے سیاسی رہنما اکثر اصولوں پر سمجھوتا کرتے رہے خود سیاسی جماعتوں نے آمروں کے ساتھ اتحاد کیا یا انہیں جائز قرار دیا تاکہ اپنی سیاسی بقاء کو یقینی بنا سکیں سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری کلچر قائم کرنے میں ناکام رہیں ایوب خان کے مارشل لاء میں کچھ سیاسی رہنماؤں نے حمایت کی ضیاء الحق کے دور میں بھی کئی سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ شامل ہوئیں پرویز مشرف کے دور میں کنگز پارٹی کے نام سے سیاسی اتحاد وجود میں آیا ہر دور میں کچھ نہ کچھ سیاسی عناصر نے آمریت کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا تاریخ گواہ ہے اقتدار کی حوس اور آپسی اختلافات کے باعث جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ تحریک انصاف جمعیت علماء اسلام متحدہ قومی موومنٹ عوامی نیشنل پارٹی کئی سیاسی جماعتوں پر بدعنوانی اور اقرباء پروری کے الزامات لگے ایک دوسرے کے دور حکومت میں قید و بند کی صحبتیں بھی برداشت کیں سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں بھی دیں اور غلطیاں بھی کیں ان سیاسی جماعتوں کا مثبت کردار یہ رہا آئین کی بحالی عوامی نمائندگی آمریت کے خلاف جدوجہد کے ساتھ ساتھ منفی کردار بھی ادا کرتے رہے اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی کرپشن خاندانی سیاست اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش قصہ مختصر جہاں جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں وہاں جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ بھی کیا پارلیمان کو فعال کرنے کے بجائے زیادہ زور سڑکوں کی سیاست اور دھرنوں پر دیا گیا جس سے جمہوری عمل متاثر ہوا جمہوریت کے نام پر عوام کو گمراہ کیا گیا جمہوریت ہی نہیں جمہوری نظام کو بدنام کیا گیا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی ٹیم نے سن 1973 کا آئین دیا جو جمہوریت کا بنیادی ستون ہے اس آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا بھٹو کے بنائے گئے آئین کا آئینی سوال دو اور دو چار کی طرح بالکل آسان ہے پھر بھی ہمارے سیاسی رہنماؤں سے حل ہونے کا نام نہیں لے رہا تاہم جمہور کی حالت قابل رحم ہے
Category: بلاگ
-

معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کو سلام ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
قوموں کی تاریخ میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے ان کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جب ایک قوم اپنے وجود، عقیدے اور نظریے کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے بے شمار معرکے ہیں جن میں وطن کے بیٹے، ایمان کی حرارت اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر دشمن کے سامنے ڈٹ گئے۔ یہ معرکے صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی، فکری اور سماجی میدانوں میں بھی جاری رہے۔ انہی معرکوں کے نتیجے میں ہمارے پاس وہ گراں قدر سرمایہ شہداءو غازیان ہے، جن کی قربانیاں ہمارے آج اور آنے والے کل کی ضمانت ہیں۔
معرکہ حق” کا مطلب محض ایک جنگ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے موقف اور جدوجہد کا نام ہے جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ بن جائے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: ایک حق کا، جس میں قربانی اور استقامت درکار ہے، اور دوسرا باطل کا، جو وقتی سہولت اور ظاہری کامیابی فراہم کرتا ہے۔ معرکہ حق میں شریک ہونے والے افراد محض سپاہی نہیں ہوتے، بلکہ وہ حق کے نمائندے اور باطل کے سامنے جرات واستقامت اور بہادری وشجاعت کا مینار بن جاتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں 1947ءسے لے کر آج تک کئی ایسے مواقع آئے جب غازیوں اور شہیدوں نے اپنی جان، مال اور آسائش کو قربان کر کے قوم کو سربلند کیا۔
1948ءکی جنگِ کشمیر — قیامِ پاکستان کے فوراً بعد، جب کشمیر کے مسلمان بھارتی جارحیت کا شکار ہوئے، پاکستانی افواج اور قبائلی مجاہدین نے معرکہ حق میں شرکت کی اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ 1965ءکی جنگ — جب دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا، لیکن پاکستانی افواج اور عوام نے جس دلیری سے مقابلہ کیا، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ 1971ءکا دفاعی معرکہ — اگرچہ اس کے نتائج قوم کے دلوں کو غمگین کر گئے، لیکن اس معرکے میں ہمارے شہیدوں اور غازیوں کی بہادری آج بھی قابلِ فخر ہے۔ کارگل معرکہ 1999ئ— بلند و بالا پہاڑوں پر لڑنے والے جوانوں نے معرکہ حق کی نئی مثال قائم کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ — 2001ءکے بعد سے پاکستانی افواج، پولیس اور عوام نے جس طرح قربانیاں دیں، وہ ایک طویل مگر لازوال داستان ہے ۔
پاکستان کی تاریخ کا تازہ ترین معرکہ حق 10مئی کو لڑا گیا جس میں پاکستان نے اپنے دشمن بھارت پر شاندار فتح حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ بری، بحری اور فضائی افواج کے جوانوں نے جرا¿ت و بہادری کی ایسی مثال قائم کی جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ اس معرکے میں وطنِ عزیز کے کئی سپوت جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ بے شمار جوان غازیوں کے رتبے پر فائز ہوئے۔بری، بحری اور فضائی افواج نے جس جرا¿ت، حکمتِ عملی اور برق رفتاری کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر میں عسکری مبصرین کو حیران کر دیا۔ عالمی میڈیا نے اس کارروائی کو پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک درخشاں باب قرار دیا۔ بی بی سی، رائٹر اور الجزیرہ جیسے بڑے اداروں نے لکھا کہ پاکستان نے نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی میں مہارت دکھائی بلکہ جارحانہ اقدام کے وقت بھی بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی پاسداری کی۔ امریکی اور یورپی دفاعی ماہرین نے اس کارروائی کو “ Precision Strike” یعنی انتہائی درست اور کامیاب حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تیاری اور افواج کے باہمی تعاون نے دشمن کو غیر متوقع انداز میں پسپا کر دیا۔ عرب میڈیا نے اسے امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر قرار دیا، جبکہ بھارتی دفاعی مبصرین نے بھی یہ تسلیم کیا کہ پاکستان نے اپنی عسکری برتری اور جنگی تیاری کا بھرپور ثبوت پیش کیا ہے۔ مجموعی طور پر 10 مئی کی یہ کارروائی پاکستان کی عسکری صلاحیتوں اور دفاعی عزم کی زندہ مثال ثابت ہوئی، جس نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور طاقتور ملک ہے جو اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔
پاکستان کے دفاع کےلئے جانیں قربان کرنے شہیدوں اور جانیں ہتھیلی پر رکھ دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے غازیوں کی عظیم قربانیوں اور لازوال خدمات کے اعتراف میں اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزراء، معززین اور شہداءکے اہلِ خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور قومی ترانے سے ہوا۔ صدرِ پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداءہماری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں پاکستان کی بقا و سلامتی کی ضمانت ہیں۔ غازیوں کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا جبکہ شہداءکے اہلِ خانہ کو تمغے اور اسناد پیش کی گئیں۔ حاضرین نے کھڑے ہو کر شہداءکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کا اختتام دعائے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرہ تکبیر سے ہوا، جس سے ماحول جذبہ حب الوطنی سے لبریز ہو گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ غازی اور شہید — امت کی متاعِ گراں قدر ہیں ۔ اسلامی تعلیمات میں شہید کو زندہ قرار دیا گیا ہے، جنہیں اللہ کے ہاں رزق ملتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم شعور نہیں رکھتے” (البقرہ: 154)شہید کا مقام نہ صرف آخرت میں بلند ہے بلکہ دنیا میں بھی اسے اعزاز و افتخار سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح غازی وہ ہے جو معرکہ حق میں شریک ہو کر زندہ واپس آئے۔ غازی کی زندگی، ایمان و عمل کا چلتا پھرتا پیغام ہوتی ہے۔
پاکستان میں شہداءاور غازیوں کو اعزاز دینے کا ایک منظم نظام موجود ہے، جو نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ عوامی شعور میں بھی ان کی خدمات کو اجاگر کرتا ہے۔حکومت کی جانب سے شہداءاور غازیوں کو اعزاز دینے کے کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب ایک قوم اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہے تو اس کے اندر باہمی محبت اور اتحاد پیدا ہوتا ہے۔نوجوان نسل میں وطن کے لیے قربانی دینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان اپنے محافظوں کی قدر جانتا ہے۔معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کی خدمات کو صرف تقریبات یا اعزازات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے تذکرے تعلیمی نصاب میں شامل کیے جائیں — ان کے کارنامے نصاب کا حصہ بنیں تاکہ نئی نسل ان سے واقف ہو۔معرکہ حق کے غازی اور شہید وہ چراغ ہیں جو قوم کے مستقبل کو روشن کرتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے ان کے لیے اعزاز و اکرام نہ صرف ان کی قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ ایک پیغام بھی ہے کہ یہ ملک اپنے محافظوں کو فراموش نہیں کرتا۔ ہمیں بطور قوم یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم اپنے شہداءو غازیوں کی قربانیوں کو صرف یاد ہی نہ رکھیں بلکہ ان کے مشن کو بھی آگے بڑھائیں — تاکہ پاکستان ہمیشہ سر بلند، محفوظ اور باوقار رہے۔ -

ٹک ٹاک کا اے آئی ماڈریٹرز تعینات کرنے کا فیصلہ، ملازمین کی ہڑتالیں شروع
شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کی جانب سے انسانی ماڈریٹرز کو ہٹا کر مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈریٹرز تعینات کرنے کے اعلان کے بعد جرمنی میں ملازمین نے ہڑتالیں شروع کر دی ہیں۔
برطانوی اخبار کے مطابق ابتدائی طور پر جرمنی میں ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کو اے آئی اور کنٹریکٹ ورکرز سے بدلنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 150 ملازمین برطرف ہوں گے۔کمپنی کے اعلان کے بعد ملازمین کی نمائندگی کرنے والی ٹریڈ یونین نے مذاکرات کی کوشش کی، تاہم ٹک ٹاک نے فوری طور پر مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔برلن میں ٹک ٹاک کے سب سے بڑے دفتر میں تقریباً 400 ملازمین کام کرتے ہیں، جن میں سے 40 فیصد افرادی قوت ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کا حصہ ہے۔ برطرفی کے بعد یہاں عملے میں نمایاں کمی ہو جائے گی۔
جرمنی کے ماڈریٹرز روزانہ ایک ہزار تک ویڈیوز کا جائزہ لیتے ہیں اور نقصان دہ مواد جیسے تشدد، فحاشی، غلط معلومات اور نفرت انگیز تقاریر کو ہٹانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ٹک ٹاک نے دنیا بھر میں ٹرسٹ اینڈ سیفٹی کے عملے میں کمی کی ہے اور اس نظام کو زیادہ تر اے آئی کے حوالے کر دیا ہے۔
ٹرمپ استقبال، پیوٹن کے اوپر بی-2 اسٹیلتھ طیاروں کی پرواز
آسٹریلیا میں بھارتی طالب علموں کا گروہ چوری میں گرفتار
یاسین ملک کی بیٹی کی عالمی رہنماؤں سے والد کی جان بچانے کی اپیل
-

ٹرمپ،پیوٹن ملاقات، نتائج کیا ہوں گے،تجزیہ: شہزاد قریشی
الاسکا میں ٹرمپ اور پوٹن ملاقات ہوئی ہے اس ملاقات کے باوجود کوئی امن معاہدے یا جنگ بندی پر سمجھوتہ نہیں ہوا روس نے کوئی جنگ بندی قبول نہیں کی ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے اصل مسائل پر کوئی اثر نہیں ڈالا روسی صدر جنگ بندی کی شرطوں سے منحرف رہا، صرف مذاکرات کا تاثر پیدا کرنے تک محدود رہا تاہم روسی صدر کے لیے پہلی مرتبہ مغربی زمین پر ایسا اعزاز ملا حقیقی طور پر جنگ کا خاتمہ محض ڈپلومیسی سے ممکن نہیں، یوکرائن کی مزاحمت مغربی ممالک کی مدد اور روس یہ اقتصادی دباؤ ہی اسے جلد ممکن بنا سکتے ہیں روس اور یوکرائن کی جنگ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں پورے یورپ اور مغربی اتحادی ممالک کی شمولیت لازمی ہے اس کی چند بڑی وجوہات ہیں،
یورپی سلامتی کا مسئلہ نیٹو کے ممالک روسی جارحیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں یہ مسئلہ صرف امریکی صدر اور روسی صدر کا نہیں ہے
پاکستان میں اور دنیا بھر میں جشن آزادی منایا گیا زندہ قومیں اپنی آزادی کا دن جوش و خروش سے مناتی ہیں اور اپنے محسنوں کو یاد کرتی ہین ثابت کرتی ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں قوم تو زندہ ہے مگر نام نہاد سیاسی جماعتیں جو قومی سیاسی جماعتوں سے اب صوبائی اور علاقائی ہو چکی ہیں اپنے کرتوتوں سے خود تو اجڑ چکی ہیں قوم کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے ذاتی اقتدار ذاتی مفادات کی خاطر قوم کو تقسیم کر دیا ملک و قوم کی حفاظت پر معمور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف ماضی اور حال میں افواہیں پھیلائیں نوجوان نسل کے ذہنوں میں قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرکے انکو گمراہ کیا قوم تھوڑا نہیں پورا سوچے اور غور کرے جن سیاسی جماعتوں سے اقتدار چھن جاتا ہے وہ پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف صدائیں بلند کرتے ہیں ماضی حال ان سیاسی جماعتوں کا دیکھ لیں عوام کی لاشیں پانی میں بہتی دیکھ کر سندھ طاس معاہدے پر سینہ کوبی کرنے والے سیاست دانوں نے ڈیم بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی؟ کبھی ان قومی مسائل پر توجہ کیوں نہیں دی؟ نئے جھوٹ اور نئے فریب انکی تقریروں سے آپکو ملیں گے جمہوریت کے نام پر خود تو اجڑے ہیں قوم کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے امریکہ سے لیکر مغربی ممالک میں انکے اعمال کی وجہ سے ان سیاسی جماعتوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی پاک امریکہ تعلقات کی دوبارہ بحالی پاک فوج کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے بھارت بالخصوص مودی کو کون سمجھائے ہماری پاک فوج صرف فوج نہیں انکے اندر جذبہ جہاد ہے اگر دوبارہ کوئی قدم اٹھایا تو بھارت کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا
-

پاکستان ہمیشہ زندہ باد .تحریر۔ بنت حوا
آج فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایک بیان نظر سے گزرا جو کہ 14 اگست کے دن کی مناسبت سے پیغام تھا
"پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کا مظہر بھی ہے، مذہبی اقلیتیں آج بھی ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔”فیلڈ مارشل عاصم منیر
اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ پاکستان میں ہر مذہب کے لوگوں کو تحفظ حاصل ہے لیکن یہاں مسلمانوں کو خاص کر اہل تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے کی آزادی نہیں بلکہ اہلِ تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کے پی کے سے لے کر پنجاب تک اربعین واک اور دیگر علامتی اجتماعات پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ ایک طرف داتاصاحب کے عرس مبارک پر ہماری سی ایم صاحبہ کا بیان کہ زائرین کو ہر طرح سکیورٹی فراہم کی جائے اور سبیلیں اور لنگر نیاز دیئے جائیں نے عجیب کیفیت کر دی ،ایک طرف ہماری سی ایم بزرگان دین اللہ کے ولی کے زائرین کے لئے ایسا حکم دے رہی اور دوسری طرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زائرین کی علامتی اربعین واک پر پابندی عائد کردی جاتی ہے اور مسافروں کو کھانا اور سبیل اور پانی دینے والوں کو سخت کارروائی کی دھمکی دی جاتی ہےواک کا آغاز کرونا کی وبا کے وقت ہوا اور چہلم امام حسین علیہ السلام پر جو لوگ نجف سے کربلا جانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ عشق حسین میں یہاں پر ہی پیدل چل کر ضریح عباس،ضریح حسین علیہ السلام پر حاضری دیتے اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں
یہ نہ تو سیاسی جلوس ہوتا اور نہ ہی اس میں بد امنی ہوتی ہے
ہر زائر کے لبوں پر صرف عشق حسین علیہ السلام کےاس طرح کے نعرے ہوتے
"ہے ہماری درسگاہ،کربلا کربلا ”
لبیک یا حسین علیہ السلام
سلام شہنشاہ وفا
جو نہ تو کسی کی دل آزاری کرتے اور نہ ہی کسی کے خلاف بلکہ انسانیت اور وفا کی علامت ہیں لیکن سلام ہے ہماری صوبائی حکومت خاص کر ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی اور ہماری سی ایم صاحبہ پر اور ضلعی انتظامیہ چکوال پر جنھوں نے پیدل چلنے والے افراد کے خلاف دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا اور کنٹینر لگا کر رستے بلاک کئے اور ٹریفک بلاک کر دی گئی لیکن وہ بھول گئے کہ ایسے اقدامات سے سفر عشق کے مسافر رکتے نہیں اور زائرین کا سفر رکا نہیں لیکن مریضوں اور دوسرے لوگوں کے لئے زندگی مشکل ضرور بن گئیضلعی انتظامیہ چکوال کی کیا بات ہے 12 سے 15 اگست 144 کا نفاذ ہوتا ہے وہ بھی صرف اربعین واک پر باقی پوری تقریبات کو آزادی تھی خود 144 لگا کر پبلک ایونٹ محفل موسیقی پروگرام ہوتا ہے ،13 اگست کو ہی کریالہ کے مقام پر کبڈی میچ ہوتا ہے 14 اگست کھوکھر زیر کبڈی میچ کا انعقاد ہوتا ہے لیکن نہ تو "انصاف پسند "ڈی پی او چکوال اور نہ ہی ڈی سی صاحبہ کو خلاف ورزی نظر آتی ہے ۔زائرین کے لئے پانی اور کھانا دینے پر پابندی ہوتی ہے اور جگہ جگہ زائرین کو کھانا دینے والوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور ایک زائر کے گھر سے پکی ہوئی دیگیں اٹھا کر اپنے مہمانوں کو کھلادی جاتی ہیں
یہ دوہرا معیار کیوں؟ اگر ہمارے اعلی حکام کو سمجھ لگتی تو اربعین واک سے بہت سے لوگوں کو معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے
لنگر،فروٹ،خشک میوہ جات،پیکٹ والی اشیاء،دودھ دہی غرض ہر طرح کی اشیا خوردو نوش کی خریداری پر فائدہ ہی تھا نقصان نہیں لیکن یہاں دوہرا معیار ہے اس سے نقصان کس کا ہوا ؟حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کے امیج کا کیونکہ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ایک طرف اجتماعات کو آزادی ہے اور دوسری طرف اہل بیت کے نام پر نکلنے والے مسافروں کو رکاوٹوں،کنٹینرز اور مقدمات کا سامنا ہے تو پھر مثبت سوچ نہیں رکھی جا سکتی
اگر ریاست واقعی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی چاہتی ہےاور پاکستان کو پر امن،ہم آہنگی،اور یکجہتی کا مرکز دیکھنا چاہتی ہے اسے تمام مسالک،ہر عقیدے کے ساتھ برابری کا رویہ اور یکساں سلوک اپنانا ہوگا بصورتِ دیگر یہ دوہرا معیار نہ صرف عوام کے اعتماد کو کھوکھلا کرے گا بلکہ معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کرے گا اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے گا
پاکستان کو زندہ باد کہنا آسان ہے، مگر اس نعرے کو حقیقت بنانے کے لیے تلخ حقائق کا سامنا کرنا اور انصاف کے ترازو کو برابر رکھنا ناگزیر ہے۔سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
-

ملکی قومی جماعتیں صوبوں تک محدود کیوں ہوئیں،تجزیہ:شہزاد قریشی
ملکی سیاسی جماعتیں کسی زمانے میں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج وہی جماعتیں صوبوں تک محدود ہو چکی ہیں زیادہ تر جماعتیں یا تو علاقائی سیاسی قوتیں ہیں یا عملا اس مقام تک پہنچ چکی ہیں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی۔ پی ٹی آئی اندرونی بحرانوں کی زد میں ہے یہ جماعت بھی اب پیپلز پارٹی یا ن لیگ کی طرح صوبے تک محدود ہو چکی ہے تمام سیاسی جماعتوں میں دو قسم کے گروپ موجود ہیں ایک مزاحمتی اور ایک مفاہمتی گروپ مفاہمتی گروپ مزاحمتی گروپ پر حاوی ہے۔ جس سیاسی جماعت کو حکومت بنانے میں چھوٹی اور علاقائی مذہبی جماعتوں کا تعاون درکار ہو وہ جماعت قومی جماعت نہیں کہلوا سکتی ان سیاسی جماعتوں کی قومی حیثیت ختم ہو چکی ہے مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی تحریک انصاف روایتی طور پر قومی جماعتیں سمجھی جاتی تھیں ان جماعتوں کا اثر متعدد صوبوں میں رہا ہے مسلم لیگ (ن) پنجاب میں مضبوط تھی نواز شریف کی بار بار حکومتوں کا تختہ الٹ دیا گیا اسکے اثرات ان کی جماعت پر پڑے کسی بھی ن لیگ کی مرکزی قیادت نے (ن) لیگ بطور جماعت کو مقبول کرنے پر توجہ نہیں دی تاہم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے ن لیگ کے ورکروں اور عہدداروں کو پنجاب میں زندہ رکھا آج اس جماعت کی حیثیت یہ ہے کہ قومی سطح پر اسکی حمایت محدود ہوتی جا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہے کراچی جیسے شہر میں بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کی اکثریت کا جھکاؤ جماعت اسلامی کی طرف دیکھا گیا ہے پی ٹی آئی میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں یہ جماعت بھی اب قومی جماعت کہلوانے کے قابل نہیں رہی قیادت کا فقدان صاف نظر آرہا ہے۔ مذہبی جماعتوں کا حال بھی کچھ اسی طرح ہے اور روایتی قومی جماعتوں کی چنگاری ماند پڑ رہی جمہوری اداروں کی بہت سے قومی اور بین الاقوامی اُتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے جمہوری اداروں کی خود مختاری متاثر ہو رہی ہے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں ناکام آئین اور قانون کی حکمرانی پر عمل نہیں کیا پارلیمنٹ ہاوس میں ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے نہ سیاسی گلیاروں میں سیاست نظر آتی ہے نہ جمہوریت نہ جمہور کی فکر جمہور کی فکر کا عالم یہ ہے شدید گرمی میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ
-

شانِ پاکستان، تحریر سعد فاروق
شانِ پاکستان
تحریر سعد فاروق
زمین کے ہر گوشے میں کوئی نہ کوئی کہانی چھپی ہوتی ہے۔ کہیں کسی پہاڑ کی چوٹی صدیوں سے ہوا کو چیرتی کھڑی ہے، کہیں کوئی دریا اپنی موجوں میں صدیوں کا سفر سمائے بہہ رہا ہے، اور کہیں کسی دھرتی کا ذرّہ بھی اپنی پہچان، اپنی عظمت اور اپنی کہانی کا امین ہوتا ہے۔ ہماری دھرتی — پاکستان — بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو وقت کے اوراق پر سنہری حروف میں لکھی گئی ہے۔ یہ سرزمین صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر، ایک قربانی کا صلہ، اور ایک ایسی روشنی کا مینار ہے جو اندھیروں میں بھٹکتے انسان کو راستہ دکھاتا ہے۔پاکستان کی بنیاد کسی لالچ یا اقتدار کی ہوس پر نہیں رکھی گئی، بلکہ یہ ایک نظریہ تھا، ایک وعدہ تھا، اور ایک ایمان تھا۔ یہ وعدہ محمد علی جناحؒ اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایسی قوم سے کیا، جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑی تھی۔ یہ ایمان علامہ اقبالؒ نے اپنے اشعار میں بیدار کیا، وہ خواب جو انہوں نے دیکھا، ہر لفظ میں ایک عزم کی صدا تھی۔ اقبال کا یہ خواب محض سیاسی نقشہ نہیں بلکہ روحانی انقلاب کا پیش خیمہ تھا۔
یہ سرزمین گنگا جمنا کی تہذیب کی دھرتی بھی ہے اور قرآن کی ہدایت کا مرکز بھی۔ یہاں کے پہاڑوں میں ہمالیہ کی سادگی اور وقار جھلکتا ہے، تو صحراؤں میں ریت کے ذروں کی صدیوں پرانی دانائی چھپی ہے۔ وادیٔ سندھ کی گواہی دینے والے کھنڈرات آج بھی بتاتے ہیں کہ یہ خطہ تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی مٹی میں نہ جانے کتنے قصے دفن ہیں، جو وقت کی زبان میں کہے جانے کے منتظر ہیں۔
پاکستان کی شان اس کے قدرتی حسن میں بھی ہے۔ شمال کے برف پوش پہاڑ، وادیٔ ہنزہ کے شفاف جھرنے، سوات کی سبز وادیاں، گلگت کے چمکتے گلیشیئرز، اور بحیرۂ عرب کے نیلگوں پانی—یہ سب مل کر قدرت کا ایسا شاہکار بناتے ہیں، جو دنیا میں نایاب ہے۔ دنیا کے دوسرے حصے میں لوگ کروڑوں خرچ کر کے ایسی فضا تلاش کرتے ہیں، جو یہاں ہر سانس میں گھلتی ہے۔
مگر پاکستان کی اصل شان صرف اس کی مٹی، پہاڑ یا دریا نہیں، بلکہ اس کے لوگ ہیں۔ وہ کسان جو دھوپ میں جل کر، پسینے کو بارش بنا کر فصل اگاتے ہیں۔ وہ مزدور جو اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں محنت کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ وہ سپاہی جو اپنی نیند قربان کر کے ہماری نیند کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ استاد جو کچے سکول میں بیٹھ کر بھی علم کا چراغ جلاتا ہے۔ یہ سب پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں وہ لمحے بھی ہیں جب دشمن نے اس کی طرف میلی نظر ڈالی، مگر اس دھرتی کے بیٹے دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے۔ 1965 کی جنگ میں لاہور کی فضاؤں میں گونجتے ہوئے نعرے، 1971 کی آزمائش میں بھی عزم کا مینار، اور کارگل کی برفانی چوٹیوں پر بہادری کی داستانیں—یہ سب پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہمارے سپاہی اپنی جان دے کر بھی دشمن کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ دھرتی کبھی خالی نہیں ہوگی، یہاں ہمیشہ ایک سپاہی کھڑا ہوگا، ایک جوان سانس لے گا، اور ایک ماں اپنے بیٹے پر فخر کرے گی۔
پاکستان کی شان اس کے نوجوان ہیں، جن کے خواب ستاروں سے بھی اونچے ہیں۔ یہ نوجوان جب قلم پکڑتے ہیں تو علم کے میدان میں جھنڈے گاڑ دیتے ہیں، جب ہنر دکھاتے ہیں تو دنیا حیران رہ جاتی ہے، اور جب کرکٹ کے میدان میں اترتے ہیں تو پوری قوم ایک ساتھ دھڑکتی ہے۔ عبدالستار ایدھی جیسے لوگ اس شان کو انسانیت کی معراج تک لے جاتے ہیں، جن کی زندگی ایک پیغام تھی کہ محبت اور خدمت سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں۔
یہ سرزمین مشکلات سے بھی گزری ہے—سیلابوں کا قہر، زلزلوں کا زخم، معاشی بحرانوں کا بوجھ—مگر پاکستانی قوم نے ہر بار راکھ سے اٹھ کر نیا جنم لیا۔ یہاں کا بچہ بھی اگر کھلونا ٹوٹ جائے تو لکڑی اور ڈبے سے نیا بنا لیتا ہے، یہ قوم بھی اسی بچے کی طرح ہر مشکل میں سے راستہ نکال لیتی ہے۔
پاکستان کی شان اس کے رنگ، اس کی زبانیں، اس کی ثقافت اور اس کی محبت میں چھپی ہے۔ پنجابی کی مٹھاس، سندھی کا وقار، بلوچی کی بہادری، پشتون کا غیرت مند دل، اور کشمیری کی وفاداری—یہ سب ایک ہی پرچم کے سائے تلے جُڑ کر ایک ایسی قوسِ قزح بناتے ہیں، جسے دیکھ کر ہر دل فخر سے بھر جاتا ہے۔
پاکستان کا پرچم صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں، یہ قربانیوں کی چادر ہے۔ اس کا سبز رنگ امید اور ایمان کا نشان ہے، اس کا سفید رنگ اقلیتوں کی عزت اور محبت کی علامت ہے۔ جب یہ پرچم ہوا میں لہراتا ہے، تو اس کے سائے میں لاکھوں شہیدوں کی ارواح مسکراتی ہیں۔
آج کا پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک چیلنج اور ایک موقع دونوں ہے۔ یہ ملک اپنی صلاحیت، اپنے وسائل اور اپنی نوجوان نسل کی طاقت سے وہ سب کر سکتا ہے جو بڑے بڑے ملک بھی نہیں کر پاتے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم اپنی شان کو پہچانیں، اپنے اختلافات کو بھول کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، اور اس عزم کو زندہ رکھیں جو 1947 میں ہمارے بڑوں کے دل میں تھا۔
شانِ پاکستان یہ ہے کہ ہم نہ صرف اپنی پہچان پر فخر کریں بلکہ دنیا کو دکھائیں کہ یہ قوم محنت، محبت اور قربانی سے کیا کچھ کر سکتی ہے۔ یہ شان ہمیں ورثے میں ملی ہے، اور ہمیں اسے آنے والی نسلوں تک امانت کے طور پر پہنچانا ہے۔ کیونکہ پاکستان صرف ہمارا آج نہیں، یہ ہمارے کل کا ضامن بھی ہے۔
پاکستان زندہ باد۔
-

شانِ پاکستان .تحریر: ردا آرزو ، ڈیرہ اسماعیل خان
شانِ پاکستان
تحریر: ردا آرزو ، ڈیرہ اسماعیل خان
14 اگست سن 1947ء کو وجودیت کے پیرائے میں ڈھلنے والی ریاستِ خداداد اسلامی جمہوریہء پاکستان تاریخی، جغرافیائی، تہذیبی، ثقافتی، اور دفاعی لحاظ سے ایک منفرد عظمت اور شان کی حامل ریاست ہے۔اس کی تاریخ یوں منفرد ہے کہ یہ کوئی وراثتی ریاست نہیں، بلکہ ہمارے آباء واجداد کی انتھک محنت اور بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ کوئی حادثاتی طور پر وجود میں آنے والا ملک نہیں، بلکہ اس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا لہو شامل ہے اور اس کے قیام کی یہ تاریخ اس کی انفرادی شان اور بین الاقوامی پہچان کا سب سے معتبر حوالہ ہے۔
صدیوں سے ذہنی و فکری غلامی کی زنجیروں میں جکڑے برصغیر کے مسلمان انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ جہاں اُنہیں مذہبی آزادی حاصل تھی نہ ہی معاشرتی حقوق۔ ایسے میں شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے اُن کے لیے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا خواب دیکھا، جسے بعدازاں قائدِ اعظم محمد علی جناح اور دیگر مسلمان رہنماؤں کی انتھک محنت اور جہدِ مسلسل نے شرمندہء تعبیر کر دکھایا۔وہ مسلمان جو برصغیر میں بے نام و نشان زندگی گزارنے پر مجبور تھے، جب متحد ہوئے تو اس شان سے ابھرے کہ تاجِ برطانیہ سے اپنے لیے ایک علیحدہ خطّہء ارض حاصل کر کے پوری دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ اگر کوئی قوم متحد ہو کر کسی مقصد کے لیے جدوجہد کرے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت اپنا مقصد پانے سے روک نہیں سکتی۔
جغرافیائی حیثیت:
جغرافیائی لحاظ سے یہ ایک انتہائی اہم خطے میں واقع ہے۔ یہ ناصرف براعظم ایشیا کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے اقتصادی اور دفاعی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی سرحدیں پانچ ممالک سے ملتی ہیں۔ یہ محلِ وقوع پاکستان کو براعظم ایشیا کے دل میں ایک "پل” (bridge) کی حیثیت دیتا ہے اور اسے تجارتی، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل بناتا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان قدرتی حسن اور وسائل سے بھی مالامال ہے۔ یہاں دنیا کی حسین ترین وادیاں، جھیلیں، خوبصورت ترین پہاڑی سلسلے، وسیع و عریض صحرا اور گلیشئرز وغیرہ موجود ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ایٹمی طاقت:
28 مئی سن 1998ء میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں پاکستان نے چاغی (بلوچستان) کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا۔ یہ پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنا اور اس کی یہ ایٹمی صلاحیت ناصرف پاکستانی قوم کے لیے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے تحفظ کی علامت بن گئی۔ یہ اعزاز 57 اسلامی ممالک میں صرف پاکستان کے حصے میں آیا۔
اس ایٹمی صلاحیت کی بدولت امریکہ جیسی سوپر پاورزکثیر ثقافتی ریاست:
ہمارا پاکستان ایک کثیر ثقافتی ریاست ہے۔ یہاں مختلف قوموں اور مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں مختلف خطوں میں مختلف زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ہر علاقے کی اپنی ایک منفرد تہذیب اور ثقافت ہے۔ رسم و رواج ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن اس سب کے باوجود تمام پاکستانی آپس میں اتفاق اور اتحاد سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ کیونکہ سب پاکستانی ہیں اور پاکستان ہی وہ کڑی ہے جو مختلف قوم، رنگ، مذہب اور نسل سے تعلق رکھنے والوں کو آپس میں اتحاد کے رشتے میں جوڑتا ہے۔کھیلوں کا میدان:
علم و فن میں ترقی کے ساتھ ساتھ پاکستان کھیلوں کے میدان میں بھی انفرادی مقام رکھتا ہے۔ کرکٹ، ہاکی، فٹ بال اور اسکواش جیسے کھیلوں میں پاکستان کے نامور کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اپنے ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ کھیلوں کی مصنوعات میں بھی ہمارا پاکستان دنیا بھر میں ایک انفرادی پہچان رکھتا ہے۔ یہاں سیالکوٹ میں بننے والا کھیلوں کا سامان مثلاً فٹ بال، ہاکی، بلّے اور گیند وغیرہ اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں استعمال ہوتی ہیں، جو پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔افواجِ پاکستان:
امن ہو یا جنگ، دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہو یا قدرتی آفات جیسا کہ سیلاب اور زلزلے کی مشکلات سے نمٹنا ہو، ہماری افواج ہر محاذ پر صفِ اوّل میں وطن کی حفاظت اور خدمت کے فرائض سرانجام دیتی نظر آتی ہیں۔
حالیہ پاک بھارت جھڑپ (جسے بنیان المرصوص کا نام دیا گیا) میں ہماری افواج نے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر پوری دنیا کے سامنے ایک بار پھر اپنی اعلیٰ عسکری صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور آئندہ کے لیے دشمن کو خبردار کر دیا کہ ہم اپنے پاک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔
حقیقی شان:
پاکستان کی اصل شان پاکستان کی وہ غیور عوام ہے، جو کبھی اعتزاز حسن کی شکل محض پندرہ سال کی عمر میں قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر عظمت کی اُس بلندی پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنے سکول کے کم و بیش دو ہزار بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی موت کو خوشی خوشی گلے لگا لیتا ہے۔کہیں وہ ولید خان کی شکل میں چہرے اور گردن پر چھے گولیاں کھا کر بھی زندہ بچ جاتا ہے اور اُن گولیوں کے نتیجے میں اپنے چہرے اور بننے والے نشانات کو اپنی بہادری کا میڈل قرار دیتا ہے۔
فہرست طویل ہے، لیکن دامنِ تحریر مختصر ہے۔پس قصہ مختصر، کہ وہ پاکستان جو سن 1947ء میں ایک ناتواں اور لاغر ریاست تھا، جس کا وجود قائم رہنا ہی اقوامِ عالم کے نزدیک ناممکن تھا، جس کے اِدارے، صنعتیں اور معیشت اپنے ہی وجود کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھے، وہی پاکستان اپنے قیام کے چند سال بعد اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوا اور پھر دنیا بھر میں اپنی ایک انفرادی پہچان قائم کرنے اور اُسے برقرار رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا نظر آیا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اپنی اس جدوجہد میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا ہے اور مزید ترقی کی منزلیں زینہ بہ زینہ طے کرتا نظر آ رہا ہے۔
آج پاکستان سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیکل، انجینئرنگ، یہاں تک کہ اسپیس ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملانے کے لیے کوشاں ہے۔
قائدِ اعظم کے فرمان کے مطابق ایمان، اتحاد اور تنظیم ہی اس ملک کی کامیابی اور ترقی کی ضمانت ہیں۔ یہ ہم سب کی قومی ذمے داری ہے کہ ہم اپنے وطن کی حفاظت اور ترقی کی خاطر اس اصول کو اپنی زندگیوں کا محور بنائیں اور اپنے وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
-

شانِ پاکستان . تحریر :عبدالحفیظ شاہد،مخدوم پور پہوڑاں
شانِ پاکستان
تحریر :عبدالحفیظ شاہد،مخدوم پور پہوڑاں
قیامِ پاکستان کا خواب 14 اگست 1947 کو حقیقت بنا اور ہمیں آزادی ملی۔پاکستان بنا تو اس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا خون اور اس کی فضاؤں میں لا إلہ إلا اللہ کا نور شامل تھا۔ یہ مملکتِ خداداد اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر معرضِ وجود میں آئی۔عظیم اسلامی مملکت ، اسلامی جمہوریہ پاکستان محض ایک ملک نہیں بلکہ عشق ، محبت ، عظمت اور قربانی کی داستانوں کے ایک طویل سلسلے کانام ہے۔لاکھوں خاندانوں نے اپنے آبا و اجداد کی قبریں، زمینیں، گھر، محلے، دکانیں، حتیٰ کہ اپنے پیارے تک قربان کر دیے۔ سکھوں کے قافلے، ہندو انتہاپسندوں کے ہجوم اور بے رحم فسادات نے مسلمانوں کی بستیاں اجاڑ ڈالیں ۔
جب 14 اگست 1947 کو پاکستان آزاد ہواتو نہ بینک تھے، نہ اپنا مرکزی نظام، نہ افسران کی بھرمار، نہ صنعتیں، نہ زرعی نظام مستحکم، نہ ہی تعلیمی ڈھانچہ۔ مگر یہ قوم عزم سے مالا مال تھی۔پہلی کامیابی تب ملی جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان 1948 میں قائم ہوا۔ یہ محض ایک ادارہ نہیں تھا، بلکہ خودمختاری کی جانب پہلا قدم تھا۔ پھر تعلیم کی طرف توجہ دی گئی۔ لاہور، کراچی، پشاور اور ڈھاکہ جیسے شہروں میں جامعات کا قیام عمل میں آیا۔
پاکستان کی افواج نے صرف دفاع کا فرض ہی نہیں نبھایا بلکہ ایک منظم، بہادر اور جذبہ ایمانی سے لبریز ادارہ بن کر دکھایا ۔ 1965 کی جنگ ہو یا کارگل کی جنگ یا پھر بنیان المرصوس کا موقع ہو ہر بار پاکستانی سپاہیوں نے وطن کی خاطر سینہ سپر ہو کر دنیا کو بتایا”ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔”
ایئر فورس کے ایم ایم عالم جیسے سپوت نے محض چند لمحوں میں پانچ بھارتی جہاز گرا کر عالمی تاریخ رقم کی۔ دشمن حیران رہ گیا کہ یہ چھوٹا سا ملک اتنی بڑی ہمت کہاں سے لایا؟
یہ ہمت، اس ماں کی دعا سے آئی جو بیٹے کو صبح اسکول ، مسجد، مدرسے بھیجتے وقت اصل میں میدان کے لیے تیار کر رہی ہوتی ہے ۔1974 میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو دنیا کی نظریںپاکستان پر تھیں مگر پاکستانی سائنسدانوں، خصوصاً ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قیادت میں پاکستان نے 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں اپنے آپ كو ایک بہادر اور غیرت مند ملک ثابت کردیا ۔
یہ صرف بم نہیں تھا، یہ ایک پیغام تھا کہ ہم امن چاہتے ہیں، مگر غلامی نہیں۔
ہاکی، اسکواش، سنوکر اور دیگر کھیلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے دنیا کو حیران کیا۔ جہانگیر خان، جان شیر خان جیسے نام صرف کھلاڑی نہیں قوم کے ہیرو ہیں
پاکستانی ادب، شاعری، مصوری، موسیقی، فلم اور تھیٹر نے دنیا کو بتایا کہ یہ قوم نہ صرف بہادر ہے، بلکہ حساس اور تخلیقی بھی ہے۔
فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، پروین شاکر، عمیرہ احمد، مستنصر حسین تارڑ جیسے ادیبوں نے اپنے لفظوں سے قوم کو جگایا۔
نصرت فتح علی خان، مہدی حسن، نور جہاں، عابدہ پروین جیسے فنکار صرف فنکار نہیں محبت کے امین ہیں۔
گزشتہ دہائیوں میں پاکستان نے تعلیمی میدان میں بھی غیر معمولی ترقی کی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تشکیل، نیسپاک، پی آئی اے، پاکستان ریلوے، پاکستان نیوکلیئر انرجی کمیشن جیسے ادارے قائم ہوئے۔پاکستانی طلبا نے بیرون ملک اسکالرشپس حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ انجینئرنگ، میڈیکل، سافٹ ویئر، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، اسپیس سائنسز ہر میدان میں پاکستانی نوجوان ابھر رہے ہیں۔
نمل یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) جیسی جامعات عالمی سطح پر مقام بنا چکی ہیں۔
عبدالستار ایدھی، ایک ایسا نام ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔ انھوں نے صرف ایک ایمبولینس سے آغاز کیا اور پوری دنیا میں سب سے بڑا فلاحی نیٹ ورک قائم کیا۔
ڈاکٹر رتھ فاؤ، جس نے کوڑھ جیسے موذی مرض کا پاکستان سے خاتمہ کیا، وہ ایک غیر ملکی ہوتے ہوئے بھی پاکستانی بن گئیں۔ ایسے ہی بے شمار افراد، جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کرتے رہے۔آج کا پاکستان مشکلات کے باوجود آگے بڑھ رہا ہے۔ نوجوان ہاتھوں میں قلم، ٹیکنالوجی، ہنر اور حوصلہ لیے کھڑے ہیں۔
سی پیک جیسے منصوبے مستقبل کی اقتصادی ترقی کا اعلان ہیں۔بلوچستان، گلگت، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کے دور افتادہ علاقوں میں اسکول، ہسپتال، سڑکیں، اور انٹرنیٹ سہولیات کا قیام ہو رہا ہے۔
پاکستان کا اصل چہرہ وہ مزدور ہے جو صبح سویرے روزی کے لیے نکلتا ہے۔ وہ طالبعلم ہے جو موم بتی کی روشنی میں پڑھتا ہے۔ وہ ڈاکٹر ہے جو مفت کیمپ میں لوگوں کا علاج کرتا ہے۔ وہ کسان ہے جو دھوپ میں جھلس کر بھی فصل کاٹتا ہے۔
یہ وطن ان سب کا ہے۔
یہ وطن اُن دعاؤں کا ہے جو ہر جمعے کو بوڑھی مائیں آسمان کی طرف اٹھاتی ہیں:
"یااللہ! میرے ملک کی حفاظت فرما۔”
ہمیں اب ماضی پر فخر کے ساتھ حال کی اصلاح کرنی ہے۔ نفرت، تعصب، کرپشن، جہالت اور مایوسی کے اندھیروں کو ختم کر کے ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جو قائداعظم کے وژن کا مظہر ہو۔ ہمیں صرف شکایت نہیں کرنی، کام کرنا ہے۔ہمیں یہ سوال خود سے پوچھنا ہے:
"ہم پاکستان کو کیا دے رہے ہیں؟”
آئیے! آج پھر ہم وہی نعرہ لگائیں جو ہمارے آباؤ اجداد نے لگایا تھا،
“پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ!”
اور اس نعرے کو صرف زبان تک محدود نہ رکھیں، اسے دل میں اُتاریں، کردار میں ڈھالیں اور عمل سے ثابت کریں۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اس کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھا رہے ہیں؟ کیا ہم اس کے اداروں، اس کی اقدار اور اس کے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر اجتماعی اور قومی فلاح کا سوچیں۔ ہمیں اپنی تمام تر ذہنی، جسمانی اور اخلاقی صلاحیتیں پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے وقف کرنی ہوں گی۔ ہر فرد اگر یہ عزم کر لے کہ وہ اپنے حصے کی شمع جلائے گا، تو اندھیروں کو روشنی میں بدلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
یاد رکھیں ہم ہی ہیں جو اسے سنوار سکتے ہیں۔ہمیں صرف خود پر یقین رکھنا ہے اور عمل کی راہ اختیار کرنی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلو ں میں خلوص، ہمارے . عمل میں سچائی اور ہمارے ارادوں میں پختگی عطا فرمائے۔ اور اس پاک سرزمین کو ہمیشہ سلامت، آباد اور محفوظ رکھے۔ آمین
-

شان پاکستان .تحریر: ردا فاطمہ اعوان گوجرنوالہ
شان پاکستان
تحریر: ردا فاطمہ اعوان گوجرنوالہ
ہر طرف ہے روشنی، چمکتا ہے آسمان
یہ وطن ہمارا ہے، یہی ہے شانِ پاکستان”پاکستان 14 اگست 1947 کو ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا: "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ”
یہ ملک آزاد زندگی گزارنے کے لیے حاصل کیا گیا۔پاکستان کی شان تو اس کے وجود میں ہے، اس کی بقا میں ہے، اس کی ترقی میں ہے۔ یہ ملک ہمارے بزرگوں کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔پاکستان کی شان اس کی نوجوان نسل میں ہے جو ملک کے مستقبل کی امید ہیں۔ پاکستان کی شان اس کی فوج میں ہے جو ہمیشہ بنا دن رات کا تعین کیے دشمنوں کو چار شانے چت کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔
زراعت، پانی اور جنگلات کی فراوانی سب پاکستان کی شان کا حصہ ہیں۔
قومی ہیرو:
قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، سر سید احمد خان، اور لیاقت علی خان، ڈاکٹر عبد القدیر خان ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ثقافت:
پاکستان کا ثقافتی نظام قدیم جو چاروں صوبوں کی قومیتوں، زبانوں، مذہبی روایات اور تاریخی ورثے پر مشتمل ہے۔ یہ بھی تو پاکستان کی شان ہے کہ یہاں بزرگوں کا احترام، مہمان نوازی اور شرم و حیا کا نظام راج ہے۔قدرتی حسن:
پاکستان کے شمالی علاقہ جات قدرتی حسن سے مالا مال ہیں۔ یہاں کے دلکش پہاڑ، ندیاں، جھیلیں، گلشیرز اور سرسبز وادیاں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ وادی سوات کو پاکستان کا منی سوئزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے۔عوام پاکستان:
پاکستان کی عوام باہمت، محنتی، مہمان نواز اور غیرت مند ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں، پاکستانی عوام ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے، اپنے ملک سے محبت ہر پاکستانی اپنے ایمان کا حصہ سمجھ کر نبھاتے ہیں۔ایٹمی طاقت:
پاکستان نے عالمی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود خفیہ طریقے سے ایٹم بنایا۔ یہ پہلا اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے، پاکستان کی ایٹمی طاقت اس کی خودمختاری کی ضمانت ہے۔صنعت و زراعت:
پاکستان کی زرخیز زمینیں دنیا کے بہترین زرعی خطوں میں شامل ہیں۔ یہاں کپاس، گندم، چاول، آم، کینو اور دیگر فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری دنیا بھر میں مشہور ہے۔ سیالکوٹ کا سرجیکل اور اسپورٹس سامان پوری دنیا میں برآمد ہوتا ہے۔عالمی سطح پر مقام:
پاکستان اقوامِ متحدہ، OIC، اور دیگر عالمی تنظیموں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کھیلوں میں کرکٹ، ہاکی، فٹ بال میں عالمی کامیابیاں بھی پاکستان کی شان ہیں۔تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگاشانِ پاکستان صرف ماضی کی قربانیوں، عظمتوں نہیں بلکہ ایک وعدہ ہے کہ ہم اپنے ملک کا نام مزید بلند کریں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کہ ہم ایک پُرامن اور عظیم قوم ہیں۔
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے”