Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہرشل گبز کے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا    مشعال ملک

    ہرشل گبز کے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا مشعال ملک

    جموں و کشمیر کی رہنما مشعال ملک کا کہنا ہے کہ ہرشل گبز کے کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں نے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : مشعال ملک کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیر پریمیئر لیگ کو ناکام منانا بنا جاتا ہے کیونکہ کشمیر پریمیئر لیگ کے ساتھ لفظ کشمیر جڑا ہے بھارت لفظ کشمیر کو دنیا کو مٹانا چاہتا ہے-

    مشعال ملک کاکہنا ہے کہ بھارتی انتہا پسند حکومت کھیل سے بھی خوفزدہ ہے عالمی پلئیرز کو کشمیر پریمیئر لیگ میں بھرپور رول ادا کرنا چاہیےآئی سی سی کو بھارتی اقدام کا نوٹس لینا چاہیے-

    واضح رہے کہ کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    بھارت کی دھمکی پر انگلینڈ کے سپن باؤلر مونٹی پنیسر، میٹ پرایئر ودیگر نے لیگ سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا تاہم سابق سری لنکن اوپنر تلکارتنے دلشان نے بھارتی دھمکیوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کیا ہے-

    گویا جنوبی افریقہ کے اوپنرہرشل گبز نے بھی کے پی ایل سے دستبراداری سے اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی دباؤ غیر ضروری ہے بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے بھارتی بورڈ نے دباؤ ڈال کر مجھے کشمیر پریمیر لیگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی-

    ہرشل گبز نے کہا کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ مجھے آئندہ بھارت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا مجھے کرکٹ سے متعلق کام سے روکنے کی دھمکیاں دی گئیں-

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

  • صفائی نصف ایمان اور پاکستان   تحریر : محمد ماجد

    صفائی نصف ایمان اور پاکستان تحریر : محمد ماجد

    ہمارے دین اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے بھی قرآن پاک میں کئی جگہ پاکیزگی اور صفائی کا حکم فرمایا ہے مگر بحیثیت مسلمان اور پاکستانی کیا ہم ان احکامات پر عمل کر رہے ہیں ؟
    پانچ وقت نماز کی پابندی تو ہم کرتے ہیں مگر اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم صفائی کا خیال نہ رکھیں اُس کو بھول جائیں ۔ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہمارے دین اسلام نے ہمیں نماز پڑھنے ، روزہ رکھنے ، حج کرنے زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے وہیں دین ہمیں صفائی کا حکم بھی دیتا ہے اس لئے تو صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔
    ‎بطور افراد معاشرہ ہم لوگ اپنے گھروں کا کچرہ سڑکوں اور گلیوں پر پھینکے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔کیا اس کے لئے کسی لمبی چوڑی قانون سازی کی ضرورت ہے یا ہمیں خود احساس کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ صفائی جتنی گھر کے لئے ضروری ہے اس کے ساتھ ساتھ ہماری گلیاں اور سڑکیں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔جیسے اپنے گھر کو ہم صاف رکھتے ہیں ویسے ہی ہمارا فرض ہے کہ اپنے گلی محلے اور شہر کو بھی صاف ستھرا رکھیں۔ ہمیں صفائی نصف ایمان ہے اس پیغام کو عام کرنا ہوگا اپنے معاشرے میں شعور پیدا کرنا ہوگا تب ہی ہماری عوام اس پہ سوچنے کے قابل بنے گی۔
    آج کل بارشوں کا موسم ہے پورے ملک میں ہی بارشیں ہو رہی ہیں۔نالے کوڑاکرکٹ کی وجہ سے بھرے پڑے ہیں تھوڑی سی بارش مومول سے زیادہ ہوجائے تو شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال بن جاتی ہے لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوجاتا ہے۔ پانی زیادہ دن کھڑا رہے تو بیماریاں اور مچھر پیدا ہوجاتے ہیں۔ان سب مسائل کا حل بروقت صفائی ہے جس کا خیال رکھنا پوری قوم کا فرض ہے۔ افسوس دوسری قومیں صفائی میں ہم سے آگے نکل اور ہمارے مذہب نے ہمیں حکم دیا اور ہم اُس پہ عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
    الحمدللہ پاکستان کے حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں پاکستان کو اللہ تعالٰی نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اُن میں سے ایک نعمت ہے پاکستان میں موجود خوبصورت مقامات جن کی سیر کے لئے پاکستان اور پوری دنیا سے سیاہ آتے ہیں ۔ مگر افسوس ہماری عوام ان خوبصورت جگہوں پر جاکر وہاں کی خوبصورتی کو نقصان پہنچاتے ہیں وہاں کوڑا کرکٹ پھینک آتے ہیں۔جب ایک انسان صاف ستھرا ہوگا تو سب لوگ اُس کو پسند کریں گے اور اگر کوئی صاف ستھرا نہیں رکھے گا تو سب لوگ اُس سے دور رہیں ۔ ایسے ہی جب ہم اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھیں گے تو باہر سے لوگ آکر یہاں خوش ہوں گے واپس جا کر پاکستان کی تعریف کریں گے اور پاکستان کا ایک مثبت چہرہ پوری دنیا کے سامنے جائے گااور ماحول بھی صاف ستھرا رہے گا۔حکومت کا کام ہے عوام میں شعور پیدا کرےاور تفریحی مقامات پہ کوڑادان نصب کریں اور عوام صفائی کا خیال رکھتے ہوئے کوڑا کرکٹ اُن کوڑا دانوں میں ڈال کر ایک زمیدار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
    اج کل پوری دنیا میں ایک وبا جو کورونا کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے جس سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں اس سے محفوظ رہنے کے لئے بھی صفائی پہ زور دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز بھی بار بار ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے کا مشورہ دےرہے ہیں جیسے کے ہمارا دین بھی صفائی کا حکم دیتا ہے۔
    کچھ دن ہی گزرے ہیں عیدالاضحٰی کو لوگوں نے جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد اُن کی آلائیشوں کو گلی محلوں اور سڑکوں پہ پھینک دیا جس کی وجہ سے شہریوں کا سانس لینا بھی مشکل ہوگیا تھا ہر سال ایسا دیکھنے کو ملتا ہے ہمارا فرض ہے جیسے گھر کو صاف رکھتے ویسے اپنے شہر اور پیارے ملک پاکستان کو بھی صاف رکھیں تاکہ ہم بیماریوں سے محفوظ رہیں۔
    آئیں ہم سب ملکر اپنے گھر پاکستان کو صاف رکھیں اور خوبصورت بنائیں۔
    Twitter Id: @mpakiiprince

  • بہتری کی گنجائش تحریر: سہیل احمد چوہدری

    شروع کرتے ہیں 80 سے 90 کے دور سے.
    میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن
    علاقے میں پرائیویٹ سکول وہ بھی بابا جی کے نام سے مشہور تھا.مزاج بہت کڑک , شاید بزرگ ہوتے ہی کڑک تھے. اس وقت ایک بہترین نظام چل رہا تھا .سرکار ہو یاں پرائیویٹ بندہ .ہر ایک گود سے لے کر گور تک اپنے اپنے دائرے میں لگے ہوئے تھے. ہاں بات لوڈ شیڈنگ کی تو اس وقت بھی ہوا کرتی تھی. آبادی کم ہونے پر علاقے اور مکان اس طرح ترتیب دیئے جاتے تھے کہ ٹھنڈے رہیں. ماحول اور صحبت کا واقعی اثر ہوتا ہے
    گھر میں ماں باپ بوڑھے بزرگوں سے فاصلے پر بیٹھتے تھے.اور بہو کی تو جرآت نام کی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی تھی. اللہ کی رحمت صبح صادق کو نماز سے دن کا آغاز ہوا کرتا تھا بچوں کو مساجد میں نماز کے ساتھ ساتھ قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا. اسکے فورا بعد ناشتہ اور سکول کی تیاری ہوا کرتی تھی. سکول سے واپس آکر گلی میں کرکٹ یاں کوئی کھیل کود کے بعد پڑھائی پھر کھانا اور پورا گھر ایک بلیک اینڈ ٹی وی پر 8 بجے ڈرامہ اور پھر 9 کے بعد پردہ دار خاتوں گھر کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر بھی دکھائی دیتی تھی وہ بھی دن بھر کی خبروں کا مجموعہ.پھر گھر اور ٹی وی ٹرالی کے دروازے بند کر دیئے جاتے تھے. اس وقت 10 دس بچے ماں پالتی تھی اور گھر والوں کی تابعداری میں اعلئ مقام بھی پاتی تھی.جب کہ اب سینکڑوں چینل .مختصر اولاد .ہر ایک کا اپنا کمرہ. یو پی ایس . جنریٹر.موٹر سائیکل .کار .جیپ اے سی. سب سہولتیں پھر بھی ناشکری عام طور پر گھر سے باہر کا کھانا عام روٹین.ساس سسر کی کوئی روک تھام نہیں . اتنی سہولتیں پھر بھی ہم خسارے میں کیوں.
    وغیرہ وغیرہ
    اتفاق ہی اتفاق بڑے بوڑھے کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت پر تربیت پر گھر سے لے کر تعلیمی میدان سے رہنما کو مقام دیا جاتا تھا.
    آج ہم بہت آگے چلے گئے ہیں پر تعلیم کیلیے آج بھی 4 سال بعد بچہ کچھ بولنا سیکھتا.
    خیر اس وقت نام لے کر ریفرنس دیا جاتا تھا
    یہاں تک کہہ محلے میں اگر کسی کے ہاں کوئی خوشی غمی آتی تو رشتہ داروں کی صرف سیوہ کی جاتی باقی کام محلے دار ہی کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے.
    ریاستی ادارے اپنے کاموں میں لگے رہتے اور عوام اپنی زمہ داریاں بخوشی انجام دیتے تھے.
    تہزیب .تربیت .اور تعلیم . شعور کی بھٹی میں پکا کر ماں باپ سے لے کر استاد ایک مہزب انسان معاشرے میں اتارتے تھے.
    اچھی طرح یاد ہے.کہ ایک مرتبہ چینی ایک روپے مہنگی ہوئی تھی تو لوگ میدان میں آئے تو حکومت کو وہ فیصلہ واپس لینا پڑا تھا.
    بالکل یوپین ممالک جیسا احتجاج نوٹ کروایا جاتا تھا.
    علاقے کا ایک بڑا بزرگ منتخب کرکے علاقے کے مسائل حل کروائے جاتے تھے.
    جب کہ آج کل کوئی کسی کو بڑا نہیں سمجھتا.ہر کوئی نواب.
    کوئی مسئلہ آئے تو شاید کچھ ایسے افراد جن کی تربیت پرانے لوگوں نے کی وہ شاید اپنی عادت سے مجبور ہو کر کچھ سوشل ورک کر لیتے پر اب ان کو بھی کوئی شاباشی نہیں ملتی . بے حسی نے پنجے گاڑ لیے ہیں .
    اب حکومت کسی چیز کا ریٹ بڑھاتی تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی. شاید حرام کی کمائی والے کو ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں .
    رات لیٹ سونا. صبح دیر سے جاگنا.
    رہی سہی کسر چھوٹے بڑے میں تمیز بھی ختم
    بالآخر قصور کس کا.
    میں بہت فکر کرتا ہوں دوسروں کی طرف دیکھ کر غصہ بھی بہت آتا ہے.کیونکہ گھر سے لے کر سکول , سکول سے لے کر جاب .ہر جانب سخت اساتذہ سے واسطہ پڑا . شاید یہ اس وقت کی ریت ورواج تھا. آج بھی ماتحت ملازمین سخت رویے کی بدولت سر پھرا بھی کہتے ہیں .کیا کریں .ہم تو اپنی تربیت بولے تو بنیاد پر کھڑا رہنے پر مجبور .ورنہ نئی تعمیر ہونے والی بلڈنگ کے میٹریل اور ڈھانچے سے تو سب واقف اور پریشان وہ بھی بے تحاشہ خرچ کرکے.
    بنکوں نے قسطوں پر چیزیں دے دے کر عوام میں حرام حلال کی تمیز ختم کر دی ہے.
    آخر میں ہم سب یہی دسکس کرتے ہیں کہ بچوں کا کیا بنے گا.کیونکہ تعلیم .اور روزمرہ اخراجات نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا.
    جو سب سے اہم چیز شاید ہم بھول رہے ہیں اور مسلسل نظر انداز بھی کر رہے ہیں وہ ہے تربیت ,
    جس پر بہتری کی گنجائش تو ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے
    وہ تو ہم کر سکتے ہیں .جب توبہ کا دروازہ آخری سانس تک کھلا ہے تو پھر غم کاہے کا .ہم کوشش تو کر ہی سکتے ہیں کیا خیال.
    اب آپ کی باری
    @iSohailCh

  • ہمارے ذہن حقائق کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ہیں۔؟  تحریر: زاہد کبدانی

    ہمارے ذہن حقائق کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ہیں۔؟ تحریر: زاہد کبدانی

    بہت سے تجربات کیے گئے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ ہم ایسی معلومات کو ڈھونڈتے اور مانتے ہیں جو اس بات کی تائید کرتی ہے جو ہم پہلے سے درست سمجھتے ہیں ، یہاں تک کہ جب اس کے برعکس ٹھوس حقائق پیش کیے جائیں۔ سائنس میں اسے تصدیقی تعصب کہا جاتا ہے ، اور تحقیق کے طریقے اس طرح کے ہونے سے روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں ، کچھ اس رجحان کو "مائی سائیڈ” تعصب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور ، جب متضاد معلومات کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے ، تو اکثر دلیل یا بحث جیتنا اس سے زیادہ اہم ہوتا ہے جتنا کہ ہم جو کچھ مانتے ہیں اس سے مختلف حقائق کو سننا ، یہ دیکھنا کہ کیا ہم کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں۔ ماہر معاشیات ، جے کے گالبریتھ نے اس کا اظہار اس طرح کیا: "کسی کا ذہن بدلنے اور یہ ثابت کرنے کے درمیان انتخاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، تقریبا ہر کوئی ثبوت کے ساتھ مصروف ہو جاتا ہے۔

    الزبتھ کولبرٹ نے ٹھیک کہا ہے ، "وجہ کی وجہ سے انسانی صلاحیت کا سیدھا سوچنے کے بجائے جیتنے والے دلائل سے زیادہ تعلق ہوسکتا ہے۔ "لوگ حقیقی خوشی کا تجربہ کرتے ہیں ، ڈوپامائن کا رش ہوتا ہے جب معلومات پر کارروائی ہوتی ہے جو ان کے عقائد کی حمایت کرتی ہے۔ "اپنی بندوقوں پر قائم رہنا اچھا لگتا ہے چاہے ہم غلط ہوں۔” لیو ٹالسٹائی کے مطابق ، "سب سے مشکل مضامین سب سے سست ذہن والے آدمی کو سمجھایا جا سکتا ہے اگر اس نے پہلے سے ان کے بارے میں کوئی خیال نہیں بنایا ہے۔ لیکن سب سے ذہین آدمی کے لیے سب سے آسان بات واضح نہیں کی جا سکتی اگر اسے مضبوطی سے قائل کیا جائے کہ وہ پہلے سے جانتا ہے ، بغیر کسی شک کے ، اس کے سامنے کیا رکھا ہے۔ انسان سماجی مخلوق ہیں ، اور حقائق اور درستگی صرف وہی چیزیں نہیں ہیں جو انسانی ذہن کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم تعلق رکھنے کی گہری خواہش رکھتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر یہ "حقیقت میں غلط ، لیکن معاشرتی طور پر درست” کو قبول کرنے کی قیمت پر ہے۔
    جیمز کلیئر ، کتاب ، جوہری عادات ‘کے مصنف نے ایک بار لکھا ، "بہت سے حالات میں ، معاشرتی رابطہ دراصل آپ کی روز مرہ کی زندگی کے لیے کسی خاص حقیقت یا خیال کی حقیقت کو سمجھنے سے زیادہ مددگار ہوتا ہے۔” ہارورڈ کے ماہر نفسیات اسٹیون پنکر نے اس طرح کہا ، "لوگوں کو ان کے عقائد کے مطابق قبول کیا جاتا ہے یا ان کی مذمت کی جاتی ہے ، لہذا دماغ کا ایک کام اعتقاد کو برقرار رکھنا ہوسکتا ہے جو عقیدہ رکھنے والے کو اتحادیوں ، محافظوں یا شاگردوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں لاتا ہے۔ ایسے عقائد سے زیادہ جو سچ ہونے کے امکانات ہیں سماجی ماحول میں ، جب ہمیں دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ، لوگ اکثر حقائق اور درستگی پر دوستوں اور خاندان کا انتخاب کرتے ہیں۔ کسی کو اپنا ذہن بدلنے کے لیے قائل کرنا واقعی اسے اپنے قبیلے کو تبدیل کرنے کے لیے قائل کرنے کا عمل ہے۔ اگر وہ اپنے عقائد کو ترک کردیتے ہیں تو وہ سماجی روابط ختم ہونے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ اگر آپ ان کی کمیونٹی کو بھی چھین لیتے ہیں تو آپ کسی سے ان کی سوچ بدلنے کی توقع نہیں کر سکتے۔ آپ نے انہیں کہیں جانا ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ ان کا عالمی نظریہ ٹوٹ جائے اگر تنہائی نتیجہ ہے۔ ہمارا مذہبی پس منظر اس پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ہم کس طرح سوچتے ہیں ، اور یہ ہمارے عالمی نقطہ نظر کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ جو لوگ گہری مذہبی پرورش رکھتے ہیں انہیں محض دنیا کو اپنی روحانی عینک سے دیکھنے سے محتاط رہنا چاہیے۔ روحانیت استدلال کے خلاف نہیں ہے۔ ہمیں اپنی سوچ اور عقائد میں روحانی طور پر ہٹ دھرم نہیں ہونا چاہیے کہ ہم عقلی اور منطقی استدلال کے لیے تیار نہیں ہیں۔
    مجموعی طور پر ، میٹاکجنیٹیو سوچ پر عمل کریں۔ اپنی سوچ کے معیار سے آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ کیا کوئی عقیدہ ہے جو آپ کو روکتا ہے؟ کیا آپ کے ماضی کی تکلیف دہ یادیں ہیں جو اب بھی آپ کے آگے بڑھنے کے لیے خوف پیدا کرتی ہیں؟ ان چیزوں پر غور کرنے کے لیے وقت نکالیں تبدیلی خود آگاہی سے شروع ہوتی ہے۔

    @Z_Kubdani

  • ہم ٹیکنالوجی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔  تحریر : صفدر حسین

    ہم ٹیکنالوجی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ تحریر : صفدر حسین

    ہماری ضرورت کے مطابق ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر ایک تیز رفتار کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ میں مشکل ہی سے روزمرہ کی کسی بھی سرگرمی کے بارے میں سوچ سکتا ہوں جس کے لئے ہم ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کرتے ہوں۔ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک ہمیشہ کا پہلو بن گیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی سے پاک فضا میں سانس لینا ناممکن ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ اس کام میں ہماری مدد کرتا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بہت سارے کاموں میں ہماری دلچسپیوں کو فروغ دیتا ہے جو اس کے بغیر بورنگ ثابت ہوسکتا ہے۔ جب ہم ٹیکنالوجی کے بارے میں سوچتے ہیں تو پہلی چیز جو ہمارے ذہنوں میں آتی ہے وہ ہے "انٹرٹینمںٹ”۔ ہمیں اسمارٹ فونز ، گیمنگ سسٹمز ، آن لائن ویڈیوز ، ٹی وی اور ان گنت مزید ٹیکنالوجیوں سے اپنی نام نہاد ککس (kicks) مل جاتی ہیں۔ "تعلیم” وہ پہلو ہے جو ہمیں بڑی تعداد میں ٹیکنالوجیز سے ملتا ہے۔ اگرچہ یہ اس فہرست میں سرفہرست ہونا چاہئے لیکن افسوس یہ نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ رسائی ہے انٹرنیٹ کنیکشن والا کمپیوٹر ہی آپ کو برمودا کے مثلث کی جانب لے جاسکتا ہے جہاں آپ معلومات کے بہتے ہوئے پانی میں گم ہو سکتے ہیں۔ تعلیم کے لحاظ سے ٹیکنالوجی کی ایک نہ ختم ہونے والی اہمیت ہے۔
    ہم اپنا وقت بچانے ہجوم سے بچنے اور بلا جھجک قیمتوں کا موازنہ کرنے کے لیے (ONLINE) آن لائن خریداری کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کبھی کبھی خود کو دکانوں پر جانے کی زحمت دینا پسند نہیں کرتے اور میں ذاتی طور پر اس کو درست مانتا ہوں۔ بعض اوقات یہ خریدار کو بہت بڑے نقصان پہنچاتا ہے۔ ذہن میں رکھیے گا کہ یہ ہی وہ ایک فائدہ نہیں جو ٹیکنالوجی ہمیں دے رہی یے ۔
    "ایک تصویر ایک ہزار الفاظ کے قابل ہے” ، ایک ایسا جملہ جو ہمیں ہر دو دن بعد سننے کو ملتا ہے۔ اور یہ ایسا ہی ہے… ہمارے پیاروں کے ساتھ اپنے لمحات کو گرفت میں لینے کے لئے ہمارے پاس کیمرے ، موبائل فون اور لاتعداد چیزیں ہیں یہ خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم اپنی زندگی کے ہر سیکنڈ پر تصویروں پر کلک کرنا ضروری بناتے ہیں تو وہی بات پاگل پن تک پہنچ جاتی ہے۔ آج کل ہم "جینے ” کو فراموش کر چکے ہیں اور اسے "کیپچرنگ (CAPTURING)” کے ساتھ تبدیل کر چکے ہیں۔ میں نے اپنے آپ کو کچھ دن پہلے اس میں محسوس کیا اپنے بستر پر بیٹھ کر مطالعہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا بدقسمتی سے میں نے مطالعہ نہیں کیا لیکن میری فہرست میں موجود ہر فرد کو بتایا کہ میں پڑھ رہا ہوں۔ اس نے مجھے اپنے طور پر سوچنے پر مجبور کیا اور مجھے لکھنے پر مجبور کیا۔ ایک اچھی تصویر کیلئے ہم ہزاروں تصاویر کھینچتے ہیں اور ڈیلیٹ کرتے ہیں اور تصاویر دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
    ہمارے طلباء کے بہت ہی جدید کلاس روم ٹیکنالوجی کے نئے آپشن متعارف کرانے کی وجہ سے آگے بڑھے ہیں۔ ٹیکنالوجی ہماری سیکھنے کے عمل کے دوران متحرک رہنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ اس سے اساتذہ اور والدین کے مابین بہتر رابطے کو فروغ ملتا ہے جو طلبا کے لئے ایک بری خبر ہے جو اپنے والدین کو اپنے رپورٹ کارڈ نہیں دکھاتے ہیں جو کہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ ٹیکنالوجی صارف دوست بھی ثابت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ چلنا بہترین آپشن ہے۔ یہ ہمیں ہماری مستقبل کی دنیا کیلئے تیار کرتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں کمانڈ کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بہت فائدہ مند ہے لیکن دوسری طرف اس کے کچھ نقصانات ہیں۔ طلباء جب بھی وہ پڑھتے ہیں تو ان کا موبائل فون ان کے کنارے پڑے رہنا بھی پریشان کن ہوسکتا ہے۔ مطالعہ سے 20 منٹ کا وقفہ اور ٹیکنالوجی سے منسلک رہنا بالکل ٹھیک لگتا ہے لیکن جب یہ وقفہ لافانی حد تک بڑھ جاتا ہے تو یہ کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہے ۔ جہاں ٹیکنالوجی نے اچھے نمبر لینے میں آسانی پیدا کردی ہے وہیں دھوکہ دہی کرنا بھی آسان بنا دیا ہے ، کیسے؟ آپ اسے خوب جانتے ہیں! ٹیکنالوجی کا ایک نقصان جس سے ہر والدین متفق ہیں وہ ہے ہماری بینائی۔ سب سے عام دقیانوسی تصورات میں سے ایک ہے کہ جو بھی چشمہ پہنتا ہے اس نے ٹی وی کو اتنا قریب دیکھا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کو زیادہ وقت دینے سے تھکاوٹ ، موٹاپا ، بے خوابی وغیرہ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

    @itx_safder

  • رب سے گفتگو  تحریر :محمد شفیق

    رب سے گفتگو تحریر :محمد شفیق

    انسان ،زمیں پہ خدا کا پیامبر ،اشرف المخلوقات ،جو ارد گرد موجود ہر چیز پہ دسترس پانے کا ہنر رکھتا ہے جب حالات کی چکی میں پستا ہے تو کندن بن کر نکلتا ہے لیکن کبھی حالات اس نہج پر چلے جاتے ہیں کہ انسان کندن بننے کی بجائے مایوسی کی چادر اوڑھ لیتا ہے ۔
    رکیے،زندگی ایک بار ہی ملتی ہے اسے مایوسی اور نا امیدی کی نظر مت کیجیے ،مایوسی سے بچنے کا بہت آسان طریقہ ہے رب سے اپنے تعلقات استوار کیجیے
    یہ زندگی ،زندگی کی رعنائیاں ،جس پروردگار کی عطا کردہ ہیں اس سے ملاقات کیلیے بھی وقت نکالا کریں ۔۔
    بالکل ایسے ہی جیسے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کا پروگرام بناتے ہیں۔۔۔۔
    دعوتوں پر جانے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔۔۔۔
    کام پر جانے کیلئے وقت کا خیال رکھتے ہیں۔۔۔۔
    اب آپ لوگ کہیں گے، رب سے ملاقات کیلئے نماز پڑھتے تو ہیں ہم۔۔۔ پتا ہے کے نماز سبھی پڑھتے ہیں مگر نماز میں جو خشوع وخضوع ضروری ہوتا ہے وہ ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا یہ بھی نصیب والوں کو ملتا ہے۔۔۔ ہم جیسے تو بس سجدے کر کے اٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔
    اللّٰہ پاک سے ملاقات کا وقت رکھیں۔ ٹائم مقرر کر لیں ایک، اس میں اچھے سے صاف ستھرے ہو کے صرف اللّٰہ پاک کیلئے خود کو پیارا بنائیں۔۔۔ بہت اہتمام سے اسکے سامنے حاضری دیں۔ کچھ نہیں کرنا آپ نے کوئی نفل نہیں پڑھنے کوئی لمبی لمبی تسبیحات نہیں کرنی۔۔۔۔ بس خود کو اپنے رب کیلئے پیارا سا بنائیں، جائے نماز بچھائیں اور بیٹھ جائیں۔۔۔۔
    اللّٰہ پاک کو اپنا حال چال سنائیں، اپنی مشکلات بتائیں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے اپنے کسی جگری دوست کو بتاتے ہیں۔۔۔ رونا ہے تو رو لیں اسکے سامنے۔۔۔ خوش ہونا ہے تو خوش ہو لیں۔۔۔ اس کو وہ توقعات بتائیں جو آپ نے اپنے رب سے امید کی ہوئیں ہیں۔۔۔ دوسروں سے جو شکوے شکایات اپنے رب کو بتائیں۔۔۔ اپنی کمزوریوں ،کوتاہیوں ،لغزشوں کا عتراف اس ہستی کے سامنے کریں جو طعنہ نہی دیتی جو کسی دوسرے پہ آپ کے راز آپ کے عیب عیاں نہی کرتی ۔۔۔ وہ جو غفور الرحیم ہے نا اس سے اپنی نادانیوں پہ معافی مانگو ۔ جو دل کرتا ہے جیسے کرتا ہے ویسے اس خالق سے گفتگو کریں ۔۔۔اور جب ملاقات ختم کر کے جائے نماز اٹھانے لگے تو بالکل ویسے ہی اٹھیں جیسے ایک دوست سے گلے لگ کر پیار محبت سے رخصت کرتے ہیں۔۔۔ آپ اللّٰہ پاک سے ایسے ہی رخصت ہوں۔۔۔
    پھر۔۔۔۔ پھر آپ سکون سے بھر جائیں گے۔۔۔ پتا جو شکایات آپ اللّٰہ پاک سے کر کے آئیں ہوں گے نا ،وہ خودبخود ختم ہونے لگیں گی۔۔۔ شکر بڑھ جائے گا۔۔۔ دل صاف ہونے لگے گا۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر اللّٰہ پاک کی ذات کے ساتھ ہونے کا احساس رہنے لگے گا ۔۔۔ آپ تنہا ہو کر بھی تنہا نہیں ہوں گے۔۔۔۔ آپ کے پاس بیٹھنے والے لوگ بھی سکون محسوس کریں گے۔۔۔ اور پتہ کیا آپکو اپنے رب سے بہترین دوست کہیں نہیں ملے گا۔۔۔ تو اپنے رب سے دوستی کریں۔۔
    @Ik_fan01

  • انگلینڈ کرکٹر بین سٹوکس غیرمعینہ مدت کیلئے ہرقسم کی کرکٹ سے دستبردارہو گئے

    انگلینڈ کرکٹر بین سٹوکس غیرمعینہ مدت کیلئے ہرقسم کی کرکٹ سے دستبردارہو گئے

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے آل راؤ نڈر بین سٹوکس نے غیر معینہ مدت کیلئے ہر قسم کی کرکٹ سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے بین سٹوکس نے کہا کہ میری توجہ ذہنی تندرستی اور انگلی کی انجری سے صحت یابی پر ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ نے بین سٹوکس کی بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے عدم دستیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین سٹوکس کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں ان کو مکمل مدد فراہم کرتے رہیں گے ۔

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ 14 جولائی 2019 کو لارڈز کے میدان میں ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں بین سٹوکس کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا تھا ،انہوں نے انگلینڈ کو عالمی چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔

    قومی ٹیم جس وقت انگلینڈ کے دورے پر تھی تو انگلش کھلاڑیوں میں کورونا کی تصدیق ہوئی جس پر ٹیم کو تبدیل کر دیا گیا اور کھلاڑیوں کو قرنطینہ کروایا گیا ، بعد ازاں انگلینڈ نے اپنی نئی ٹیم کا اعلان کیا جس کی قیادت بین سٹوکس نے کی اور پاکستان کو وائٹ واش کر دیا ۔

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

  • بچوں کی اچھی تربیت تحریر : ارشاد حسین

    بچوں کی اچھی تربیت تحریر : ارشاد حسین

    میری بہنو اور بھائیو بچے ایک پھول کی مانند کی طرح ہوتے ہیں والدین پر فرض ہے ان کی اچھی تربیت کریں آج ہم اپنے بچوں کی جیسی تربیت کریں گے وہ اس پر عمل کریں گے جب وہ بڑے ہو جائیں گے تو وہ اپنی اولاد کی بھی اچھی تربیت کریں گے یعنی ہماری اچھی تربیت سے ہماری نسلیں سنور جائیں گی تو آج اپنے بچوں کی تربیت صرف زبانی نصیحت نہ کریں آج جو عمل ہم کریں گے ہمارے بچے بھی ہمیں فالو کرتے ہیں اگر آج ہم اچھے عمل کریں قرآن مجید نماز پڑھیں تو ہمارے بچے ہمارے ساتھ آ کے نماز پڑھنا شروع ہو جاتے ہیں اگر ہم اپنے گھروں میں گالم گلوچ کرتے ہیں تو بچوں میں یہی عادتیں پروان چڑھتی ہیں اور جن گھروں میں دینداری کا ماحول ہوتا ہے اچھایاں ہوتی ہیں ایک ایک کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی ہوتی ہے بچوں میں بھی یہی عادتیں صفات ہوتی ہیں آپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنا چاہتے ہیں تو کم از کم ان کے سامنے اچھے عمل کرنے کی کوشش کریں اور برائیوں سے دور ہوجائیں اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم بھی دیں تعلیم سے انسان شعور سیکھتا ہے چھوٹے بڑے سے بات کرنے تہذیب ہوتی ہے اپنے بچوں کے ذہن میں اچھے خیال ڈالیں نماز اور قرآن مجید بڑھائیں۔ اپنے بچوں کو سمجھائیں ہمارے دین اسلام میں غلط کام کرنا کتنا بڑا گناہ ہے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے بچوں کو دور رکھیں جس طرح یہ لوگ ہمارے بچوں کی تعلیم کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں ایک مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے اور یہ بھی ضروری ہے نو عمر بلوغت کے قریب پہنچنے والی بچیوں اور بچوں کو اپنے وجود میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کرنا ہو گا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر سے بچوں کو اس چیز کی مناسب تعلیم نہ ملے تو وہ باہر سے لیں گے جو کہ گمراہی اور فتنہ کا باعث بنے گا کچھ لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے گھروں میں بہت سے والدین پریشان ہیں والدین اگر اس پریشانی سے نجات چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کو گھر میں زیادہ دیر تک اکیلا نہ چھوڑا کریں کیونکہ آج کل ہر گھر میں ٹی وی اور موبائل عام ہیں تنہائی میں انسان کو شیطان گمراہ کرتا ہے جس سے بچوں کے ذہن میں منفی خیالات آتے ہیں اور پھر وہ غلط کاموں کا شکار ہو جاتے ہیں اپنے بچوں پر نظر رکھیں وہ کس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اپنے دوستوں میں کیا وہ اچھے انسان ہیں یا برے کیونکہ آپ کے بچوں کا کسی برے انسان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے تو وہ بھی غلط کاموں میں لگ جائے گا اس سے بہتر ہے اپنے بچوں پر نظر رکھیں میں متحدہ عرب امارات میں رہتا ہوں پچھلے چھ سال سے عرب لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہت اچھی تربیت بھی کرتے ہیں ہم جب بھی مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں بچے اپنے والدین کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں یہاں ہر بچہ نماز پڑھتا ہے ان کو کسی بڑے سے بات کرنے کی تہذیب ہے عرب لوگ اپنی چھوٹے بچوں کو غلط کام کرنے سے منع کرتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    twitter.com/ir_Pti
    @ir_Pti

  • میاں بیوی کا رشتہ  تحریر: امتیاز احمد سومرو

    میاں بیوی کا رشتہ تحریر: امتیاز احمد سومرو

    دنیا کا سب سے بڑا رشتہ میاں بیوی کا ہوتا ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جس کا مفہوم یہ ہے

    "اگر اللّٰہ تعالیٰ کے بعد کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ شوہر ہوتی کہ اس کی بیوی سجدہ کرے۔”

    میاں بیوی کی محبت اسلام ہمیں سیکھاتا ہے اور حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس محبت کا عملی ثبوت دیا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اماں عائشہ صدیقہ راضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جیسی محبت کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ایک بار پانی پی رہی تھیں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا عائشہ اپنے اس پانی سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی بچا کے دینا ہے جب حضرت عائشہ صدیقہ نے اپنے حصے کا بچا ہوا پانی دیا تو حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ مجھے وہ جگہ بتائیں جہاں سے آپ نے اپنے ہونٹ لگائے ہیں۔سبحان اللّٰہ دیکھیں کیسی محبت ہے۔
    اسلام نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا پردہ کہا ہے۔ دنیا میں کامیاب انسان اگر دیکھے جائیں تو ان کی کامیابی میں ان کی بیوی کا ہاتھ ہو گا جو اس ہر مشکل حالات میں اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اور تاریخ بھری پڑی ہے جس میں کسی شخص کی ناکامی میں اس کی بیوی کا ہاتھ ہوگا۔شیطان روز کچہری لگاتا ہے اور اپنے چیلوں سے پوچھتا ہے کہ آج کیا کام ہے سب باری باری بتاتے ہیں کہ حضور آج جھوٹ بلوایا ہے کوئی کہتا ہے زنا کرایا کوئی کہتا ہے چوری کرائی ہے اس طرح سارے بتاتے ہیں آخر میں ایک چیلا رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے حضور میں نے میاں بیوی کی لڑائی کرائی ہے۔تو شیطان فورا خوش سے تالیاں بجاتے ہوئے کہتا ہے اصل کام تو تو نے کیا ہے اور اس چیلے کو اپنے ساتھ بیٹھتا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ کتنا بڑا یہ رشتہ ہے۔ میاں بیوی کی لڑائی مطلب شیطان کی خوشی تو کیا ایک مومن کبھی چاہے گا کہ اس کے عمل سے شیطان خوش ہو؟؟
    آج کل مرد عورت کو غلام بنانا چاہتے ہیں اور عورتیں مرد کو۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے درمیان رشتہ کتنا بڑا ہے ان کی لڑائی نسلیں تباہ کر دیتی ہے۔کوئی یہ کوشش نہیں کر رہا کہ کیسے ہم اس رشتے کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ کمپرومائز کریں تو زندگی حسین بن سکتی ہے ۔ مرد عورت کو سمجھے اس کی تکلیف سمجھے عورت مرد کو سمجھے تو وہ ایک خوش حال زندگی گزار سکتے ہیں۔ اپنی لڑائی ایک بند کمرے میں لڑی جائے کسی تیسرے فریق کو خبر بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ایک گھر کو خوش حال کرنے میں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔مرد عورت کو خوش رکھیں اس کے لیے مرد کوشش کرے۔ عورت کو خوش کیسےرکھا جا سکتا ہے یہ طریقہ ہمیں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا ہے انہوں نے ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے
    ” عورت مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اس لیے وہ پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر آپ طاقت سے اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو عورت ٹوٹ جائے گی اور اگر پیار سے آہستہ آہستہ سیدھا کرو گے تو سیدھی ہو جائے گی”

    بس میاں بیوی ایک دوسرے سے پیار کریں اپنے بچوں کو وقت دیں ان کی تربیت اچھی طرح کریں اور زندگی حسین بنائیں۔

    @Imtiazahmad_pti

  • ‏معاشرے میں اساتذہ کیوں اہم ہیں ؟   تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ‏معاشرے میں اساتذہ کیوں اہم ہیں ؟ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اساتذہ ہمارے معاشرے کے سب سے اہم ممبر ہیں۔ وہ بچوں کو مقصد دیتے ہیں ، انہیں ہماری دنیا کے شہری کی حیثیت سے کامیابی کے لئے مرتب کرتے ہیں ، اور ان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ آج کے بچے کل کے قائد ہیں ، اور اساتذہ وہ نازک نکتہ ہیں جو کسی بچے کو اپنے مستقبل کے لئے تیار کرتا ہے۔ اساتذہ کیوں اہم ہیں؟
    بچے پوری زندگی میں جو کچھ انھیں سکھایا جاتا ہے وہ پوری زندگی میں وہی کرتے ہیں جو وہ سیکھتے ہیں ۔ وہ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ معاشرے کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ آج کا نوجوان کل کے قائد بن جائے گا ، اور اساتذہ کو ان کے سب سے زیادہ متاثر کن سالوں میں نوجوانوں کو تعلیم دینے کی سہولت ہے – چاہے وہ پری اسکول کی تعلیم ، غیر نصابی تعلیم ، کھیلوں یا روایتی کلاسوں کی تعلیم ہو ۔ اساتذہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ معاشرے کے لئے مستقبل کے رہنماؤں کی تشکیل کے لئے بہترین اور موثر مستقبل کی نسلوں کی تشکیل کریں اور اسی وجہ سے معاشرے کو مقامی اور عالمی سطح پر ڈیزائن کریں۔ حقیقت میں ، اساتذہ کا دنیا میں سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو معاشرے کے بچوں پر اثر ڈالتے ہیں وہ زندگی کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ نہ صرف خود ان بچوں کے لئے ، بلکہ سب کی زندگیوں کے لئے ۔ عظیم اساتذہ کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے کہ وہ زندگی کو بہتر سے بہتر بناسکیں۔ اساتذہ امدادی نظام کی حیثیت سے کام کر سکتے ہیں جس میں طلبہ کی زندگیوں میں کہیں اور کمی نہیں ہے۔ وہ ایک رول ماڈل اور آگے بڑھنے اور بڑے خواب دیکھنے کے لئے ایک تحریک بن سکتے ہیں۔ وہ طلبا کو اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے لئے جوابدہ ٹھہراتے ہیں اور اچھے اساتذہ اپنے ہونہار طلبا کو اپنی پوری صلاحیتوں کے مطابق نہ رہنے دیتے ہیں۔ ہر شعبہ ہائے زندگی اور مضامین کے اساتذہ قابلیت کی تشکیل کرنے اور معاشرے ، زندگی اور ذاتی اہداف کے بارے میں نظریات کی تشکیل میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اساتذہ طلباء کی حدود کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ تعلیم دینا کا ایک مشکل کام ہے ، لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کسی اور شخص کی زندگی میں سب سے زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔ اساتذہ طلبا کے لئے حتمی رول ماڈل ہیں۔ اس حقیقت کی حقیقت یہ ہے کہ طلباء اپنے تعلیمی کیریئر میں متعدد مختلف قسم کے اساتذہ کے ساتھ رابطے میں آجاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ امکان نہیں ، ایک ایسا استاد ہوگا جو ان سے بات کرے۔ اساتذہ طلباء کا ربط کچھ طلباء کے لئے انمول ہے ، جن میں دوسری صورت میں استحکام نہیں ہوسکتا ہے۔ اساتذہ اپنے طلبا کے لئے مثبت رہیں گے یہاں تک کہ چیزیں بھیانک محسوس ہوسکتی ہیں۔ ایک عظیم استاد ہمیشہ اپنے طلباء کے لئے ہمدردی ، اپنے طلباء کی ذاتی زندگی کو سمجھنے اور ان کے تعلیمی اہداف اور کامیابیوں کے لئے تعریف کرتا ہے۔ اساتذہ بچوں کے مثبت ہونے ، ہمیشہ زیادہ محنت کرنے اور ستاروں تک پہنچنے کے لئے رول ماڈل ہیں۔ علم اور تعلیم ہی ان تمام چیزوں کی اساس ہیں جو زندگی میں پوری ہوسکتی ہیں۔ اساتذہ آج کے نوجوانوں کو تعلیم کی طاقت فراہم کرتے ہیں ، جس سے انہیں بہتر مستقبل کا امکان مل جاتا ہے۔ اساتذہ کمپلیکس کو آسان بناتے ہیں ، اور خلاصہ تصورات کو طلباء تک قابل رسائی بناتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کو ایسے آئیڈیاز اور عنوانات سے بھی روشناس کرتے ہیں جن سے وہ بصورت دیگر سیکھنے میں نہیں آئے تھے۔ وہ مفادات کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنے طالب علموں کو بہتر کام کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اساتذہ ناکامی کو قبول نہیں کرتے ہیں ، اور اسی وجہ سے طلباء کے کامیاب ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اساتذہ جانتے ہیں کہ طلبا کو کب دھکیلنا ہے ، کب صحیح سمت میں ہلکا ہلکا انداز دینا ہے اور کب طالب علموں کو خود ان کا پتہ لگانا ہے۔ لیکن وہ کسی طالب علم کو ہار نہیں ماننے دیں گے۔ اساتذہ ہر طرح کے طلباء کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اساتذہ ہر بچے کی طاقت اور کمزوریوں کو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں اور مدد اور رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں تاکہ یا تو انھیں تیز رفتار سے بڑھایا جائے . یا اس سے زیادہ بلند کیا جاسکے۔ وہ طلبا کی بہترین صلاحیتوں کو ظاہر کرنے اور زندگی کی قیمتی صلاحیتوں جیسے مواصلات ، ہمدردی ، پیش کش ، تنظیم ، مندرجہ ذیل سمتوں اور مزید بہت کچھ سکھانے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ تحریک الہامی اور محرک کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ اساتذہ طلبا کو اچھے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں ، اور انہیں محنت سے کام کرنے اور اپنے تعلیمی اہداف کو راستے پر رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ تعلیم کسی ملک کی ترقی کا ایک بنیادی پہلو ہے۔ اگر معاشرے کے نوجوان تعلیم یافتہ ہوں تو مستقبل پیدا ہوتا ہے۔ اساتذہ ایسی تعلیم مہیا کرتے ہیں جس سے معیار زندگی بہتر ہوتا ہے ، لہذا مجموعی طور پر افراد اور معاشرے دونوں میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ اساتذہ طلباء کی پیداوری اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں اور اس وجہ سے آئندہ کارکنوں کی جب طلبا کو تخلیقی اور نتیجہ خیز بنانے پر مجبور کیا جاتا ہے تو ، ان کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ کاروباری ہوں اور تکنیکی ترقی کریں ، اور آخر کار یہ کسی ملک کی معاشی ترقی کا باعث بنیں۔

    Twitter handle :
    ‎@Maqbool_hussayn