اسلام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تاریخ کے ہر دور میں ہمیشہ ہی سپر طاقت ہی ثابت ہوا ہے ۔کبھی تو مسلمانوں کو سیاسی عروج کی بنیاد پر اسلام فاتح اور غالب بن کر رہا اور سیاسی غلبہ کے فقدان کی صورت میں اس نے قلوب پر حکمرانی کی۔ تاریخ میں چند ایسے موڑ بھی آئے ہیں جب لوگوں کومحسوس ہو چلا کہ اسلام اب زوال پذیر ہے اور اس کا چل چلاؤ شروع ہو چکا ہے لیکن تھوڑی ہی مدت میں اچا نک کایا پلٹ گئی اور اسلام پر پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہوگیا ۔ پہلی مرتبہ عالم اسلام پر اور خصوصاً اس وقت کی سب سے بڑی اسلامی حکومت خلافت عباسیہ اور بغداد پر تاتاریوں کی یورش کے موقعہ پر لوگوں کومحسوس ہوا کہ اب اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ تاتاریوں کے طوفان بلاخیز سے اسلامی علوم وفنون کی دھجیاں اڑ گئی تھیں اور تہذیب و تمدن کا چراغ غل ہو گیا تھا لیکن ایسے وقت جب اسلام کی سیاسی طاقت کا ستاره اقبال گردش میں تھا، اسلام کی روحانی طاقت قلوب کو سفر کر رہی تھی اور جنھوں نے مسلمانوں کو مفتوح بنالیا تھا اسلام نے اسی فاتح قوم کے قلوب کو فتح کرنا شروع کیا، تا کہ وہی تاتاری ایک دن اسلام کے سب سے بڑے محافظ اور پاسبان بن گئے۔
اسی طرح گذشتہ صدیوں میں جب ہندوستان سے سلطنت مغلیہ اور پھر خلافت عثمانی کا زوال ہوا ، اور نتیجہ کے طور پر اسلامی ممالک پر یوروپی استعار کا تسلط ہوا، اس وقت کچھ لوگوں کو محسوس ہونے لگا کہ اسلام اب شاید زوال پذیر ہے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کی سیاسی طاقت یقیناً شکست خوردہ اور زوال پذیر تھی، لیکن اسلام کی روحانی طاقت اور قوت تسخیر نے شکست تسلی نہیں کیا اور اس نے اہل یوروپ وان مریکہ کے قلوب کومسخر کرنا شروع کیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے زوال اور اکثر اسلامی ممالک و علاقہ جات پر یورپ کے استعماری قبضہ و تسلط کی وجہ سے گذشتہ انیسویں اور بیسویں صدی کے نصف اول میں یہ تصور بھی مشکل تھا کہ مسلمان بھی امریکہ یا یورپ میں اپنی بستیاں بسائیں گے اور وہاں پورے اسلامی تشخص و امتیاز کے ساتھ نہ صرف آباد ہوں گے، بلکہ مساجد و ن مراکز بنا کر یورپ و امریکہ کی ترقی یافتہ قوموں کو اپنامدعو بنائیں گے۔ آج صورت حال یہ ہے امریکی مسلمانوں کی تعداد تقریبا ایک کڑوڑ اور یورپ میں تقریبا پانچ کروڑ ہورہی ہے ۔ اسلام اس وقت امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ۔
اسلام کی تسخیری قوت اور اس کے روحانی طور پر سپر پاور ہونے کا تصورمسلمانوں کا بنایا ہوا کوئی خواب نہیں، بلکہ تاریخ اسلام کے مختلف مراحل میں اس کا تجربہ ہو چکا ہے اور ماضی قریب میں بھی ایسے خیالات پائے جاتے رہے ہیں۔ مشہور انگریزی مفکر اور فلسفی جارج برنارڈ ۃشا نے نہایت کھل کر اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ”آئندہ سو برسوں میں اگر کوئی مذہب انگلینڈ، بلکہ پورے یورپ پرحکومت کرنے کا موقع پاسکتا ہے تو وہ مذہب اسلام ہی ہوسکتا ہے۔ میں نے اسلام کو اس کی حیرت انگیز حرکت ونمو کی وجہ سے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ یہی صرف ایک ج ہے جو زندگی کے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ، جو اس کو ہر زمانہ میں قابلِ توجہ بنانے میں اہم کردار ادا سکتا ہے۔ میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کے بارے میں پیشین گوئی کی ہے کہ وہ کل کے یورپ کو قابل قبول ہو گا جیسا کہ وہ آج کے یورپ کو قابل قبول ہونا شروع ہو گیا ہے۔ فرانس کے طالع آزماسکندر مانیپولین بوناپارٹ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب میں سارے ممالک کے سمجھدار اورتعلیم یافتہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں گا اور قرآنی اصولوں کی بنیاد پر متحدہ حکومت قائم کروں گا۔ قرآن کے یہی اصول ہی میں صحیح اور سچے ہیں اور یہی اصول انسانیت کو سعادت سے ہم کنار کر سکتے ہیں۔
آج بھی مغربی مصنفین اور محققین کی طرف سے ایسے مضامین کثرت سے شائع ہورہے ہیں جس کا عنوان کچھ اس طرح ہوتا ہے۔ اسلام امریکہ کا اگلا مذہب، مغربی یورپ میں آئیندہ ۳۵ برسوں کے اندر مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی وغیرہ۔
اہل یورپ پر ان کی خوف چھایا ہوا ہے کہ ایک صدی کے اندر مسلمان متعدد یورپی ممالک میں نہ صرف بڑھ جائیں گے بلکہ دیگر ہم وطنوں سے آگے نکل جائیں گے۔ اہل مغرب کے اسی خوف اور اس کی بنیاد پر عالم اسلام کے خلاف اس کی خفیہ یلغار کی وجہ مغربی لٹریچر میں ایک نئے لفظ اسلاموفوبیا کا اضافہ ہوا جس کا مطلب ہے اسلام سے خوف کی نفسیات اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف تعصب کا اظہار۔ غرض یہ کہ اسلام کا وجود وظہور انسانی تاریخ کا سب سے اہم اور قابلِ ذکر واقعہ ہے ۔ یہ ایک ایسا نقطئہ انقلاب ہے، جس نے انسانی زندگی کے دھارے کو شر سے خیر کی طرف اور اندھیرے سے روشنی کی طرف پھیر دیا۔ اسلام کا بھی روحانیت کا سرچشمہ اعلی تھا اور وہ آج بھی انسان کی بھٹکی ہوئی روح اور اس کے آوارہ ذہن کو ایمان و یقین کی تازگی اور روحانیت کی لذت آگیں حلاوت سے بالیدہ و زندہ بناسکتا ہے۔
Twitter | @IhsanMarwat_786
Category: بلاگ
-

اسلام روحانی سپر پاور : تحریر احسان اللہ خان
-

اسلامی قوانین وقت کی اہم ضرورت تحریر: مطاہر مشتاق
ہمارے ملک میں گزشتہ کئی برس سے جہاں ننھی بچیوں اور بچوں سے زیادتی اور ثبوت مٹانے کے لیے قتل وغارت کے واقعات ہو رہے ہیں وہیں درس و تدریس سے وابستہ معزز اور محترم سمجھے جانیوالے شعبہ سے منسلک چند افراد کی گھناؤنی اور مکروہ فعل انجام دیتے ہوئے وڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں،
بطور اسلامی معاشرہ ہم شدید ترین زوال کا شکار ہیں نا ہمیں مذھبی و تدریسی افراد تحفظ کا مکمل احساس دلانے میں سنجیدہ نظر آرہے ہیں نا ہی قانون مکمل تحفظ فراہم کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کر رہا ہے،
شیطانیت کا لبادہ اوڑھے چند درندے اپنے مکروہ فعل کے بعد سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر اپنے اوپر اٹھنے والے سوالات اور اپنی وڈیوز وائرل ہونے کے بعد عوام اور متاثرہ فرد کی آواز دبانے میں کامیاب ہیں،
وہیں قانون اور وزارتِ انسانی حقوق کے سربراہان سرعام پھانسی جیسی اسلامی سزا کے عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،
قرآن میں اللہ نے امن و امان کو ملحوظ رکھتے ہوئے سخت سزائیں اسی لیے بتائیں کہ معاشرہ میں امن قائم ہو سکے،
مگر حیراننگی ایوانوں میں بیٹھے اُن عوامی نمائندوں پر ہے جو اسلامی قوانین کے نافض العمل ہونے میں رکاوٹ ہیں،
انکو ملک میں بڑھتی ہوئی بے حیائی قتل و غارت کا علم بھی ہے مگر وہ جان بوجھ کر ایسے سخت قوانین کے خلاف ہیں کہ جن سے ظالم کو قرار واقعی سزا ہو سکے،
اور وہ دیگر افراد کے نشانِ عبرت بنے،
سُننے اور پڑھنے میں تو یہی آیا تھا کہ یہ مُلک اسلام کے نام بنا تھا،
اور بانیِ پاکستان جناب محمد علی جناح اسکو مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے،
مگر اس ُملک کی جڑوں کو اشرافیہ،سرداروں،وڈیروں،چوہدریوں،ملاؤں نے دیمک کیطرح ایسے کھوکھلا کیا ہے اور مزید بھی کر رہے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی خواہش شائد اگلے کئی سال مزید بھی بامراد نا ہو پائے،
موجودہ حکومت تاریخ کی پہلی حکومت ہے کہ جس کو کشمیر،پنجاب،بلوچستان،خیبر پختونخواہ(سرحد)اور گلگت بلتستان میں عوام کا اتنا اعتماد حاصل ہوا ہے کہ وہ بیک وقت تمام جگہ پر بھاری اکثریت سے الیکٹ ہوئی ہے،
اس حکومت کے پاس یہ تاریخی موقع ہے کہ وہ سرعام پھانسی سمیت کالا باغ ڈیم جیسے اہم عوامی مفاد کے معاملات میں مؤثر قانون سازی کرے،
تاکہ ہماری آنیوالی نسلیں امن و سکون سے بھرپور خوشحال پاکستان میں زندگی بسر کرسکیں۔@iamMutahir4
-

ظالم کے سامنے خاموش رہنا ظالم کو طاقتور بنانے کے مترادف ہے تحریر: عقیل احمد راجپوت
اپنی استطاعت کے مطابق ظالم کے سامنے ڈٹ جانا ہی جہاد ہے کیونکہ ظالم وہ نہیں ہے جو ظلم کر رہا ہے ظالم وہ ہے جو اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سے ڈرتا ہے سچ گوئی گناہ نہیں ہے ظالم سے ٹکرانے والوں کو دنیا صدیوں بعد بھی یاد رکھتی ہے ظالم کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا ہے معاشرے میں ہونے والے ظلم کو اپنی طاقت آواز یا کم سے کم دل میں برا کہنے پر بھی اللہ کے سامنے سرخرو ہونا چاہتے ہو اپنی قبروں پر عذاب سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہو آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریکیوں سے نکالنا چاہتے ہو تو ظلم کے سامنے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح ڈٹ جانا سیکھوں بچوں کو بھی جو اللہ کی رضا کی خاطر گھر چھوڑ کر نہیں آئے کیوں کہ حق کے راستے پر چلنے کے لئے قربانی بھی عظیم دینا پڑتیں ہیں معصوم بچوں کے خشک گلوں کی آہ جب آسمان پر پہنچتی ہیں تو رب تعالیٰ کا عرش بھی لرز جاتا ہے اپنے حصے کی آواز بلند کرو شہر کی محرومی اور ہونے والے ظلم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا کرو ظالم کے سامنے سرخرو ہونا ہی قبر میں کئے گئے سوالات میں آسانی پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے ظالموں کو ٹی وی لاؤنچ اور ہوٹلوں پر دوستوں اور عزیزوں کے سامنے گالیاں دینے سے ظالم کمزور نہیں ہوتا صبح ہونے تک وہ مزید طاقتور ہوجاتا ہے شہر میں ہر طرف پھیلی غلاظت بہتے گٹر اور لوڈ شیڈنگ جیسے بیشمار مسائل سے روزانہ نبرد آزما ہونے والی قوم کس مسیحا کے منتظر ہیں ان کے جو چالیس سال تک حکمرانی کرتے رہے ہیں یا ان کے جو آٹھ سالوں سے خیبرپختونخوا کو تو نیا نہیں بنا سکے پاکستان کو نیا بنانے نکلے ہیں ایک بار بہترین ایڈمنسٹریٹر سمجھ کر مصطفیٰ کمال کی آواز میں آواز ملا کر تو دیکھو ہوسکتاہے کہ تمہارے مایوسی کے چھائے بادل چھٹنے لگیں ہوسکتا ہے کراچی روشنیوں کا شہر بننے کی راہ میں حائل آپکی ایک لسانیت کی عینک کا کردار ہو جس کے ہٹنے کے ساتھ ہی تمہاری پریشانیوں کا حل نکل آئے کراچی میں رونقیں تمہارے ایک سوچ کے بدلنے سے بحال ہوسکتی ہیں کراچی حیدرآباد کی سڑکوں پر پھر سے ڈسٹ اڑنا بند ہوسکتا ہے پانی صاف آ سکتا ہے روڈ کوریڈور پھر سے بننا شروع ہوسکتے ہیں تم آج بھی کسی کو ووٹ دیکر پریشانیوں میں مبتلا ہو ایک بار مصطفیٰ کمال کو آزمانے کہ سوا تمہارے پاس دوسرا کوئی مقابل نہیں ہے
-

آزاد کشمیر و جموں الیکشن2021 تحریر:سکندر ذوالقرنین
تعارف
میرا نام سکندر ذوالقرنین ہے میرا تعلق ضلع سرگودھا پنجاب سے ہے میں اوورسیز پاکستانی بھی ہوں
باغی ٹی وی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے موقع دیا اپنی رائے دینے کا
تحریر!
25 July 2018 سے
25 July 2021 تک25 جولائی 2018 ایک امید کا دن تھا ایک 22 سالہ پارٹی کا تیس سالہ حکمران پارٹی سے مقابلہ تھا ایک طرف نظریہ تو دوسری طرف ووٹ کو عزت دو۔ ہوا یہ کہ نظریہ جیت گیا 2018 کے بعد تین سالوں میں بہت کچھ ہوا اور کچھ لوگ ہر روز رات کو حکومت کو گھر بھیج چکے ہوتے تھے کرو نا اور مہنگائی کے جھروکوں سے ہوتی ہوئی تین سال مکمل ہوئے اب معاشی حالات کافی بہتر ہورہے ہیں
اور وزیراعظم خان پر کرپشن کا کوئی الزام نہ آ سکا۔تین سال اپوزیشن اسی کا انتظار کرتی رہی ہیں کہ کوئی نہ کوئی کرپشن کا سکینڈل ضرور آئے گا
25 جولائی 2021 کادن امتحان کا دن تھا ضمنی انتخابات نے حکومت کی کارکردگی کوئی اچھی نہیں تھی حکمران جماعت کو فکر بھی لاحق تھی کہ کہیں کوئی ہوا ہی نہ چل پڑے اور کشمیر میں وہی ہوا جو روایت تھی اور عمران خان جیت گئے حکومت کو کافی حوصلہ ملا اور اپوزیشن کا وہی رونا شروع پریس کانفرنس اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے کشمیر میں حکمران جماعت کی حالت بہت ہی زیادہ پتلی رہی پیپلز پارٹی سے شکست کھائی حکمران جماعت یعنی نون لیگ کی مریم نواز نے کیمپین تو خوب کی لیکن ووٹ نہ لے سکی اب وہاں کسی لوکل لڑائی کو خوب مرچ مصالحے لگا کر حالات خراب ہونے کے دعوے کر رہی ہیں یہ تک احساس نہیں کہ اس وجہ سے ملک کی بدنامی ہوگی آزاد کشمیر ایک حساس علاقہ ہے اور وہاں کے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ کشمیری ابھی بھی غلامی میں ہی ہیں غلام تو آپ میاں نواز شریف کے بھی ہیں اس کے بارے میں کیا خیال ہے شاہد خاقان صاحب فرمایا رہے ہیں کہ الیکشن پر ریاست کا قضبہ ہے الیکشن وہی ہیں جو آپ جیت جاؤ اللہ صبر عطا کرے پیپلز پارٹی سے بھی مار کھائی اور اگر دھاندلی ہوئی ہے تو کیا پیپلز پارٹی نے بھی دھاندلی کی ہے
دھاندلی کے کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی کوئی تحریری درخواست دی گئی ہے
تحریک انصاف میں علی امین صاحب اور مراد سعید کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ بھرپور کمپین کی اور الیکشن جیت لیا حالانکہ دوسری طرف پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت تھی پیپلزپارٹی کی جیت حیران کن تھی بلاول کو چھوڑ کر امریکہ بھی چلے گئے تھے پھر بھی گیارہ سیٹوں پر جیت جانا بہت اچھی کار کردگی ہے وہ خود بھی حیران ہوگئےانڈین اخبار میں آیا تھا اگر عمران خان کشمیر میں الیکشن جیت گیا تو انڈیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا
انڈیا سے مدد مانگنے والو ں کو سبق مل چکا ہے لیکن الیکشن کمیشن کو بھی چاہیے اس کو تاحیات الیکشن لڑنے پر پابندی ہونی
چاہیے
تحریک انصاف کے 2 کارکن پیپلزپارٹی کے امیدوار کی فائرنگ سے جان بحق ہوئے ان کے لئے دعائے مغفرت اور پاکستانی فوج کے 4 نوجوان
شہید ہوئی اللہ پاک ان کی یہ قربانی قبول کرے اور ہمارے ملک کو سلامت رکھے آمین
عمران خان نے تقریروں میں بہت سارے وعدے کیے ہیں اب وہ وعدے پورے کرنے کا وقت آ چکا ہے اور امید ہے کہ ایک مضبوط وزیراعظم بنایا جائے گا جو کہ کرپشن سے پاک ہوگا
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ بھرپور محنت کریں اس کامیابی کو ثابت کریں کہ وہ لوگوں نے ان کو صحیح الیکٹرک کیا ہے اللہّ حکومت کو پاکستان اور کشمیر کے لوگوں کے لیے آپ کچھ کرنے کی توفیق دے
@sikander037 #sikander037 -

الیکشن اور اس کے کردار تحریر: قاسم ظہیر
دنیا میں کہیں بھی جب الیکشن ہوتا ہے عوام کی رائے بھٹی بھی نظر آتی ہے کچھ موجودہ حکومت کو دوبارہ سے حکومت میں لانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ لوگ اسے گھر جانے کی ترغیب دیتے ہیں مختصر یہ کہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا مختصر کردہ شخص حکومت میں آئے. زمینی حقائق, عوام کی رائے اور کچھ اندرونی طاقتیں سب اپنے اپنے حصے کا کردار نبھاتی ہیں اور آخر پاکستان میں کوئی نہ کوئی حکومت آ جاتی ہے
تاریخ میں دیکھا جائے تو کبھی بھی عوام کی رائے کو فوقیت نہیں دی گئی.جس کی وجہ سے بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے .جمہوریت کا مطلب خالصتا عوام کی حکومت ہے جہاں پر اکثریت کی رائے کا احترام ہر شخص پر لازم ہے.اس کے برعکس کرنے سے نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.پاکستان میں آئے روز الیکشن کو لے کر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ہر آنے والی حکومت کو اپنی مدت کے پہلے دو سال تو صرف اسی بات کی وضاحت میں لگ جاتے ہیں کہ وہ جس گورنمنٹ میں بیٹھے ہیں اس کو لوگوں کی اکثریت حاصل ہے.ہر اسمبلی میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان یہی چیز زیر بحث رہتی ہے کہ وہ جس طرح حکومت میں آئے ہیں وہ قانونی طریقہ نہیں عوام کی اکثریت حاصل نہیں جس سے نہ صرف ٹیکس پیر کے پیسے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ انٹرنیشنل سطح پر بھی کوئی اچھا پیغام نہیں جاتا. دوسرے ممالک اس حکومت کو ترجیح نہیں دیتے اور نہ ہی اس کو ڈیموکریٹک تسلیم کرتے ہیں.آج کل دنیا میں دیکھا جہاں پر بھی سویلین بالادستی ہے انکو کو لوگ زیادہ عزت اور احترام دیتے ہیں
ان تمام مشکلات کو دور کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ایک جامعہ اور واضح پالیسی لانا ہے جس پر سب کا اتفاق ہو اور جس سے ہمارے الیکشن میں بہتری آئی ہے جیتنے والا جیت مان جائے اور ہارنے والا اپنی خوشی خوشی ہاں تسلیم کر لے آج کل کے ترقی یافتہ دور میں ایسا کرنا بالکل مشکل نہیں رہا ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اپنے انتخابات کو مکمل صاف شفاف بنا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ایک سنجیدہ اور اعلی ظرف کی ضرورت ہے
کسی بھی ملک کے بیرونی مضبوط ہونے کا انحصار اس کے اندر مضبوط ہونے میں ہے اور الیکشن کا شفاف نہ ہونا اندرونی خلفشار اور ناچاقی کا باعث بنتا ہے.ہمیں پاکستان میں جلد سے جلد اس مشکل پر قابو پانا ہوگا.کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر زیادہ سے زیادہ لوگ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے اور جس کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیلا رہے گا.ان تمام مصیبت سے چھٹکارا پانے کا حل صرف اور صرف الیکشن ریفارمز میں ہے جو ہمیں جلد سے جلد کرنا ہوں گے.الیکشن فارم سے نہ صرف ایک مضبوط حکومت سامنے آئے گی بلکہ سویلین بالادستی قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اس کو وہاں کی عوام کی اکثریت حاصل ہوگی جس کی وجہ سے کوئی بھی غیر قانونی طاقت اس کو ہٹا نے یا مضموم عزائم رکھنے سے باز رہے گی.
پاکستان کے ایک شہری ہونے کے ناطے سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی پارٹیاں مل کر ایک جگہ پر بیٹھ کر ان کا حل نکالیں گی اور الیکشن کو سنجیدگی سے لیں گے جس کی وجہ سے ہمارے آنے والے الیکشن کا نظام صاف شفاف ہو گا اور جو شخص بھی وزیراعظم ہاؤس کا خواں ہوگا.وہ قوم کی اکثریت کا رہنما ہوگا.@QasimZaheer3
-

عورت مارچ کے معاشرے میں پھیلتے برے تحریر: سمیرا راجپوت
یوں تو عورت مارچ عورتوں کے تحفظ کے نام بنی ہے جس میں نام نہاد عورتوں کے حقوق کے لیے بنی تنظمیں بھی پیش پیش ہوتی ہیں لیکن کیا عورت مارچ میں اٹھائے گئے اصل ایشوز واقعی ہمارے معاشرے کا اصل مسلہ ہے؟؟؟
کیا واقعی عورت کو اپنے شوہر کو کھانا گرم کرکے دینا ایک ایسا ایشو ہے جسے اٹھایا جانا چاہیے ؟؟ کیا واقعی عورت کے سیگریٹ پینا ، چھوٹے لباس پہننا ، سڑکوں پر ناچنا ، جیسے مسائل اتنے اہم ہیں کہ یہ عورت مارچ میں اٹھائے گئے پلے کارڈز کی زینت بنے رہتے ہیں؟؟
دراصل عورت مارچ کی آڑھ میں معاشرے کی تباہی ہورہی ہے ہمیں اپنی خواتین کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیے ہیں تاریخ گواہ ہے پہلے عورتوں کو حیوانوں سے بد تر سمجھا جاتا ہے بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ دفن کردیا جاتا تھا بیٹی پیدا ہوتے ہی اسکا قتل کرنا عام تھا لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت و پستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس انتہا کو پہنچ چکی تھی ،اس کے باوجود ماننے سے بھی انکار کیا جارہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت اللہ العلمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا اور زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی اور عملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اسکو ذمداریاں سونپی گئی
آسلام نے عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد عورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو بدلا انسان کے دل و دماغ میں عورت کا حق مقام و مرتبہ اور وقار اس کو متعین کیا اور اس کی سماجی ،تمدنی ،اور معاشی حقوق کا فرض ادا کیا
اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے خواتین
کو ان کے حقوق دلائے اور
خواتین کو معاشرے میں چا عزت مقام دلایا ۔ہمیں اب معاشرے میں ایسے مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو در حقیقت عورتوں کو پیش آتے ہیں عورت مارچ میں سوائے عورت کے تحفظ پر بات کرنے کے تمام تر بے حیائی کو پروموٹ کیا جاتا ہے ۔۔۔کچھ بہنیں جو عورت مارچ کی حقیقت سے واقف نہیں انہیں اب پہچان کرنی ہے کہ کوئی بھی معاشرہ مرد اور عورت پر مشتمل ہوتا ہے اور ان دونوں میں سے کسی بھی ایک جنس کے حوالے سے ایک دوسرے کے دلوں میں نفرتیں پھیلانا دور جہالت ہے ایک دوسرے کے خلاف لوگوں کو اکسانہ ایک احمقانہ حرکت ہے اس سے معاشرے میں تیزی سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔۔۔سلطان صلاح الدین ایوبی "کا ایک قول ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس قوم میں بے حیائی برہنگی کو عام کر دو اور یہ بیرونی طاقتیں پاکستان کے ساتھ یہی سب کچھ کرنا چاہتی ہیں یہ ففتھ جنریشن وار کا ایک رخ ہے میری تمام بہنوں سے گزارش ہے ان کے اصل مقصد کو سمجھیں اور دیکھیں
ک آپ کے اصل مسائل کیا ہیں ؟۔۔ عورت تحفظ کے نام پر بنی تنظمیں بیرون ملک فنڈنگ وصول کرتی ہیں اور مغربی کلچر کو پروموٹ کرتی ہیں جس میں انہیں اسلام میں عورتوں کے تحفظ پر آگاہی دینا تو دور کی بات انہیں مذہب کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہورہا ہے اس سازش کو ہمیں مل کر روکنا ہے اور اس کے خلاف لڑنا ہے انشاء اللہ -

جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات تحریر: سویرااشرف
آپ سب کو یاد ہو گا قصور کی زینب سے زیادتی کے بعد اسمبلی میں ایک بل زینب الرٹ کے نام سے منظور ہوا اور یہ امید بڑھ گٸی کہ اب زیادتی کے مجرموں ک سزا ملے گی اور لوگ انصاف حاصل کر سکیں گے لیکن سب بے سود۔۔
حالیہ دنوں میں ہمارے ملک میں عورتوں سے زیادتی اور تشدد کے واقعات میں تشویس ناک حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ روزانہ سماجی رابطوں کی ویب ساٸٹس پر کسی کے لیے انصاف مانگنے کا ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے۔۔ واقعہ ہوتا ہے۔عوام جذبات کا اظہار کرتی ہے ٹرینڈ بنتے ھیں کاغذی کارواٸی کیجاتی ہے اور پھر اگلے واقعے کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن کوٸی موثر اور عملی اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جسٹس فار ںسیم آج کا ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ نسیم بی بی اور اسکے 14 ماہ کے بیٹے کا قتل صرف اس وجہ سے کیا گیا گہ نسیم نے واجد نامی شخص کو اپنے ساتھ زیادتی کرنے سے روکا جس کی وجہ سے واجد نامی درندے نے پہلے نسیم کے چودہ ماہ کے بیٹے کو چاقو سے قتل کیا پھر ریپ کرنے کے بعد نسیم کو بھی قتل کردیا لیکن سوشل میڈیا پر ملزم کی تصاویر اور ویڈیوز ہونے کے باوجود وہ اابھی تک آزاد ہے
اسلام آباد، کراچی اورلاہور سمیت ملک بھر کے مختلف شہروں میں جنسی زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں جو ہماری تباہ حال معاشرتی اقدار پر ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ علمائے دین، اساتذہ اور خونی رشتے جب ایسے واقعات میں ملزمان قرار پاتے ہیں تو مختلف نوعیت کے سوالات جنم لیتے ہیںزیادتی کے چند واقعات
لاہور میں حال ہی میں موٹر وے پر جنسی زیادتی کا واقعہ ہوا۔ ثنا نامی ایک خاتون جو بہن سے ملنے کیلئے لاہور آئی تھیں، انہیں 2 ملزمان نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔20 جولاٸی کو جٹس فار نور مقدم ٹاپ ٹرینڈ رہا۔نور پاکستان کے ایک سابق سفیر کی بیٹی یہ واقعہ دارلحکومت اسلام آباد میں پیش آیا۔ جسے ظاہر نامی ملزم جو کہ ذہنی مریض تھا نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا جب نور نے اس سے جان بچانے کیلیے بھاگنے کی کوشش کی تو اس نے نور کو فاٸر کر کے جان سے مار دیا بعد میں چاقو سے اسکے سینے اور کنپٹی پروار کیا اور اسکا سر تن سے جدا کردیا۔ ملزم چونکہ ایک مشہور و معروف بزنس مین کا بیٹا ہے اسلیے وہ سزا سے بچ جاۓ گا۔
15 جولاٸی کو بھی قرة العین کے لیے ایک ٹرینڈ ٹاپ ٹرینڈ بنا ۔ ٹرینڈ کا مقصد حیدرآباد کی 32 سالہ قرة العین جو کہ چار بچوں کی ماں تھی اسکے لیے انصاف مانگنا تھا۔۔ قرة العین کا قاتل وزیر آبپاشی سندھ کا بیٹا اور اسکا اپنا شوہر تھا۔جس نے غصے میں بیوی کو قتل کردیا۔۔۔ ملزم گرفتار ہو چکا ہے لیکن اس ملک میں جلد انصاف ملنا ایک نا ممکن سی بات ہے۔۔
اسی طرح روز ایک نیا دن آتا ہے، اپنے ساتھ ظلم کی ایک نٸی داستان لاتا ہے۔ کبھی کسی بچے سے زیادتی ہوتی ہے کبھی کسی عورت کا قتل ہوتا ہے۔ ٹرینڈ چلتا ہے شور اٹھتا ہے اور پھر سالوں عدالتوں می کیس چلتے ہیںایک سروے کے مطابق پاکستان میں موجود 72 فیصد خواتین جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں جو ایک انتہائی خطرناک شرح ہے۔
آئینِ پاکستان میں جنسی زیادتی بطور جرم
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت جنسی زیادتی ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ قانون کے تحت ایسے مجرموں کو سزائے موت اور 10 سے 25 سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب اجتماعی زیادتی کے کیسز میں سزا صرف سزائے موت یا عمر قید ہوسکتی ہے جبکہ سزا دینے سے قبل ڈی این اے ٹیسٹ اور دیگر طبی ثبوت سامنے رکھے جاتے ہیں تاکہ مجرم پر جرم ثابت ہوجائے۔
گزشتہ برس حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں خصوصی عدالتیں قائم کیں جن کا مقصد خواتین کے خلاف ظلم و تشدد اور جنسی زیادتی جیسے واقعات پر فوری انصاف کی فراہمی ہے۔عمومی رویے
یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے کہ کسی شخص کے ساتھ جنسی زیادتی یا ظلم ہوا ہو اور آپ اسے مختلف نصیحتیں کرنا شروع کردیں۔ بلا شبہ سادہ لباس پہننا اور پردہ کرنا شرعی اصول ہیں لیکن ان اصولوں کی تبلیغ کو جنسی زیادتی کیلئے اخلاقی جواز کے طور پر پیش کرنا خود کسی جرم سے کم نہیں۔
ہمارے مذہب اسلام نے ہمیں بہت سی باتیں سمجھائی ہیں جن میں سے اہم ترین بات اخلاقیات اور معاشرتی رویوں میں اعتدال ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ پاکستان میں رہنے والا ہر شخص مسلمان ہو یا پھر اِسلامی اصولوں پر اتنا ہی عمل کرتا ہو جتنا کہ معاشرے کو ضروری لگتا ہے ، چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے۔
جب کسی کے ساتھ جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ یہ رائے دینے لگتے ہیں کہ متاثرہ خاتون نے شاید پردے کی پابندی نہیں کی تھی یا ان کو رات کے اندھیرے میں گھر سے نہیں نکلنا چاہئے تھا۔ ایسی تمام آراء جنسی زیادتی کے مجرموں کو شہ دیتی ہیں۔ہمیں مظلوم کو مشورے دینے کی بجاۓ ظالم کی سزا پر زور دینا چاہیےسب سے پہلی بات یہ ہے کہ جرم کوجرم سمجھا جائے اور اس کی رپورٹ کی جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام فرض شناسی کے ساتھ سرانجام دیں۔ عدلیہ فیصلے سنانے میں تاخیر سے کام نہ لے کیونکہ بعض اوقات دیر سے انصاف مہیا کرنا بھی ایک جرم بن جاتا ہے اور پاکستان میں جراٸم کی بڑھتی وجہ ہی کیسیز کا سالوں عدالتوں میں چلتے رہنا ہے
بہت سے بچوں، لڑکوں اور لڑکیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا جاتا ہے۔اسلام ایسے جرائم کیلئے سخت سے سخت سزا کی حمایت کرتا ہے جبکہ آئینِ پاکستان میں ایسے جرائم کیلئے مناسب سزائیں موجود ہیں۔
بدقسمتی سے اس کے باوجود جرائم بڑھ رہے ہیں تو یہ ساری ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومتِ وقت اور عدلیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض کا احساس کریں اور عدالتیں جلد از جلد سزاٸیں دیں تا کہ مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو سکے
@IamSawairaKhan1 -
اظہار محبت تحریر : شفقت سجاد دشتی
یقیناً محبت اظہار مانگتی ہے مگر افسوس کہ ہم خالی اقرار کو اظہار سمجھ لیتے ہیں۔
دراصل دور حاضر میں کوئی ایسی عام یا خاص درس گاہ نہیں جہاں محبت کا سبق کم از کم پڑھایا ہی جاتا ہو۔
بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فلموں ڈراموں اور قصہ کہانیوں میں جو ہوس دکھائی دے رہی ہے ہم اسی کو محبت مان کر چل رہے ہیں۔ اس وجہ سے شاید معاشرے میں بگاڑ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
مگر محبت تو بڑا جذبہ ہے۔ یہ بے لوث عقیدت ہے۔
محبت چاہے والدین سے کی جائے یا اولاد سے، خواہ اساتذہ سے خواہ اپنے روزگار و کاروبار سے، خواہ کسی محبوب یا محبوبہ سے یا پھر حقیقی محبت حق تعالٰی اور اسکے محبوب مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی ذات پاک سے کی جائے۔ اس میں بے لوث ہونا تو فرض ہے۔یعنی محب اپنے لیئے کچھ نہ چاہے اور ہر اس حال میں کلمہ شکر پڑھے جس حال میں اسکا محبوب اس سے راضی ہو۔ اور وہ خود محبوب کے لیئے ہر طرح سے خیر بن جائے۔
بیدم شاہ وارثی فرما گئے
"یہاں ہونا نہ ہونا ہے نہ ہونا عین ہونا ہے
جسے ہونا ہو کچھ خاک در جانانہ ہو جائے”مطلب محب کے لیئے محبوب کے در کی خاک بن جانا ہی بڑی عزت، تسلی اور تشفی کا مقام ہے کہ جب محبوب وہاں سے گزرے تو اپنے قدم مجھ پر رکھ کر گزرے۔
اب بھائی اس کے بعد تو مجھے نہیں لگتا کہ میں نے جاگتی آنکھوں سے کچھ زیادہ محبت کرنے والے دیکھے ہیں۔ ہاں بہت قلیل بے حد قلیل دیکھے ہیں۔
افسوس کہ اس جہاں میں بے انتہا اکثریت خود پرست باقی ہیں۔ تو پھر انہیں خدا کیسے سمجھ میں آ سکتا ہے۔
بابا بلہے شاہ علیہ رحمتہ فرما گئے کہ
"”جیں دل وچ پیار دی رمز نہیں، بس اوں دل کوں ویران سمجھ،””
یعنی اندھیرا اور تاریکی ہے ایسے دل میں اور روشنی و نور کی گنجائش ہی نہیں۔آگے فرماتے ہیں،
"”جیں کوں پیار دی جانڑ سنجانڑ نہیں، اوں بندے کوں نادان سمجھ،””
نادان کا مطلب تو دانائی سے عاری۔ تو واقعی ظلمت اور حکمت ایک ہی بت میں یکجا تو نہیں ہو سکتی ہے۔"”ایہو پیار ہے درس ولی یاں دا، اے مسلک پاک نبی یاں دا،””
اب اس شعر کی اس سے زیادہ آسان تشریح میں کیا کروں؟ بھائی یہ محبتیں بانٹنا اللہ والوں کا کام ہے۔"”انمول پیار دی دولت ای یہ، ایں کوں عقبا دا سامان سمجھ،
ہیں پیار دی خاطر عرش بنڑے، ہیں پیار دی خاطر فرش بنڑے،
خد پیار خدا وچ وسدا ہے، میں سچ اہداں قران سمجھ،”
یہاں تو میری عقل کی حد ختم ہی سمجھیں، محبت کو عاقبت کی تیاری بھی کہہ دیا گیا اور اسکو تخلیق جہاں کی وجہ بھی بتا دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ اللہ پاک خود بھی پیار اور محبت کرنے والا رب ہے کہ یہی سبق قرآن بھی دے رہا ہے۔"”ناں چاونڑ پیار دا سوکھا اے، ہیں کوں طوڑ نبھاونڑ اوکھا ہے،
معراج تھیندن ایندے سولیاں تے، کئی چڑھدے نوک سنان سمجھ،””
ہاں یہ بات بالکل درست ہے کہ محبت کا نام لینا یا دعوی کرنا تو واقعی بہت آسان ہے لیکن نبھانے والے مر مر کے جیتے اور کٹ کٹ کر مرتے ہیں۔"”ایہو پیار تاں رب ملوا ڈیندے،
سُتے لیکھ نظیر جگا ڈیندے،””
فرماتے ہیں کہ یہی محبت بالآخر رب ذالجلال سے جوڑ دیتی ہے اور خوشبختی و خوش نصیبی کی آمد کا ذریعہ بنتی ہے۔"”جیں دل وچ پیار دے دیرے ہن، بس ہوں دل کوں عرفان سمجھ،””
اچھا اب عرفان تو کہتے ہیں معرفت رکھنے والے کو، یعنی کہ جو اللہ کو پہچاننے والا ہو۔ گویا محبت و سوز رکھنے والا دل یقیناً اللہ کا عارف ہے۔اب بھلا ایسے بزرگوں کے عارفانہ کلام سے ہٹ کر کوئی کیا سیکھے یا سکھائے گا عشق و محبت کے اسرار و رموز۔
اللہ اکبر!
دعا کریں خدا محبت کرنے والا بنا دے تاکہ مرنے سے پہلے ہم بھی اللہ کو پیارے ہو جائیں۔ آمین
@balouch_shafqat
-

مہنگائی اور بیروزگاری تحریر : توقیر عالم
ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے میعار زندگی کو بہتر کرے اچھی خوراک اچھا گھر اور بہتر سہولیات کا حصول انسان کی جبلت میں شامل ہے عمر بھر انسان اسی کوشش میں مصروف عمل رہتا یے اسی خواہش کے زیر اثر نئی نئی ایجادات وقوع پذیر ھوتی ہیں کسی بھی معاشرے میں ان سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا حق ہر فرد کو حاصل ہے ان سہولیات کو ہر انسان کی پہنچ میں لانے کے لیے معاشرے میں روزگار کے مواقع پیدا کئیے جاتے ہیں تاکہ ہر فرد اپنی ضروریات کا حصول ممکن بنا سکے اور اپنا میعار زندگی بلند کر سکے معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم معاشرے کے امن کی ضامن ہوتی ہے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے بہت سے سنگین مسائل پیدا ھوتے ہیں
افسوس پاکستان میں پچھلے بیس سال سے بیروزگاری اور اس سے پیدا ھونے والے مسائل کو جس طرح نظر انداز کیا وہ قابل مذمت ہے بیروزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو کہ خطرے کی علامت ہے ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ساٹھ لاکھ کے قریب لوگ بیروزگار ہیں موجودہ اور گزشتہ حکومتوں نے اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا نہ اس کے تدارک کے لیے کوئی جامع حکمت عملی بنائی پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی تیس سال سے کم عمر لوگوں پر مشتمل ہے جن کو بیروزگاری جیسا مسئلہ درپیش ہے اکثر نوجوان بیروزگاری سے پریشان ھو کر نفسیاتی مسائل کا شکار ھو جاتے ہیں یا پھر مختلف قسم کے جرائم کے مرتکب ھوتے ہیں ہزاروں کی تعداد میں بیروزگاری سے پریشان نوجوان منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں جس سے نہ صرف ایک فرد متاثر ھوتا بلکہ پورا گھرانہ برباد ھو جاتا ہے ایسے لوگ امن و امان کے لیے بھی ایک خطرہ ہوتے ہیں
تیزی سے بڑھتی ھوئی مہنگائی نے سفید پوش طبقے کو پیس کر رکھ دیا ہے غریب لوگ بچوں کو سکول بھیجنے کی بجائے کام پر بھیجنا شروع کر دیتے ہیں جس سے شرح خواندگی میں کمی آتی ہے مہنگائی سے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ھوتا ہے غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور بیروزگار لوگ پیسہ کمانے کے لیے غیر قانونی طریقے اخیار کرتے ہیں جس سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے
ہماری حکومت اور اپوزیش اک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور سیاسی بیان بازی کے سوا کوئی کام نہیں کرتے
حکومت کو چاہیے اس مسئلے کو سنجیدہ لے اور ان کے دیرپا حل کے لیے جامع حکمت عملی اپنائے تاکہ نوجوانوں میں پھیلتی ھوئی بے چینی اور مایوسی ختم کی جا سکے پاکستان پر اللہ کا کرم ہے اس کی زیادہ آبادی جوان ہے جو اس ملک کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی نصاب کو اپنی عملی ضروریات کے مطابق مرتب کیا جائے فنی مہارت کے لیے قائم کردہ اداروں کو متحرک اور موثر انداز میں چلایا جائے پاکستان میں ایسی پر کشش صنعت دوست پالیساں بنائی جائیں جو بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو لبھائیں تاکہ ملک میں سرمایہ آئے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں مختلف ممالک کو حکومتی سرپرستی میں اپنی افرادی قوت سپلائی کریں جس سے کثیر زر مبادلہ بھی حاصل ھو گا اور بیروزگاری میں کمی آئے گی چھوٹے کاروبار کے لیے بلاسود قرض دئیے جائیں جن سے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا کئیے جا سکتے ہیں
حکومت کو اس معاملے میں سنجیدہ ہونا پڑے گا ورنہ تیزی سے بڑھتی ہوی بیروزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل آنے والے دنوں میں بہت خطرناک صورت اختیار کر جائیں گے
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
@Lovepakistan000 -

آپکی خیرات کے اصل حقدار تحریر : آصف گوہر
ارشاد باری تعالی ہے ۔۔۔
"انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔”
سورة البقرة 272
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ خیرات دی جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں بھیک مانگنے کا شعبہ ایک صنعت کا درجہ حاصل کر چکا ہے ۔ بھیک مانگنے والوں کے باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں جو اپنے اڈے علاقے میں کسی دوسرے کو بھیک مانگنے کی اجازت نہیں دیتے یہ نیٹ ورک اتنا وسیع ہے کہ بھیک مانگتے کے لئے بچوں کا اغوا کرنے اور انہیں معذور بنانے کے قبیح عمل میں بھی ملوث ہے۔
بھیک مانگنے والے معذور بچوں کو باقاعدہ کرائے پر لیتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کو نیند آور شربت پلا کر عورتیں سارا دن گود میں اٹھائے بھیک مانگتی آپ کو بازاروں گلی محلوں میں نظر آجائیں گی ۔ مختلف فیشن کی طرح بھیک مانگنے والوں کی بھی الگ الگ کیٹگریز ہیں
اپاہج زحمی کوڑ زدہ بس کا کرایہ پورا کرنے کے نام پر علاج کے لئے بیٹی کی شادی کے نام پر مزدوری نہیں ملی نیا نیا اسلام قبول کیا ہے بچے کے لئے دودھ خریدنا ہے ملنگ اور دولے شاہ کی چوہے یہ چند پیشہ ور بھکاریوں کے حیلے ہیں ۔اس کے علاوہ جدید منگتے بھی ہیں بس سٹاپوں ریلوے اسٹیشنوں لاری اڈوں اور اوور ہیڈ پلوں پر زکوة صدقات کے بکسز رکھے عام ملتے ہیں اللہ رسول کا واسطہ پچاس روپے کا بیلنس کروا دیں مسجد زیر تعمیر ہے سوشل میڈیا پر کئ بیوہ ڈی ایم کرتی ہیں کہ اتنے پیسے دے دو میرے سابق شوہر کی جائیداد میرے نام جب ٹرانسفر ہوجائے گی میں آپ سے شادی کر لوں گی۔
بڑے شہروں میں پیشہ ور بھکاریوں کی پسندیدہ جگہ ٹریفک سگنلز اور ہسپتال ہیں۔
انتظامیہ اور پولیس ان کےخلاف وقتا فوقتا آپریشنز بھی کرتی ہے انکو جیل میں بھی ڈالا جاتا ہے کم سن بچوں کو بازیاب کرکے پنجاب چائیلڈ پروٹیکشن بیور کے حوالے کیا جاتا ہے لیکن یہ چند دنوں بعد پھر آجاتے ہیں۔پولیس گاہے بگاہے شہریوں کے نام آگاہی کے پیغامات بھی جاری کرتی ہے کہ
اپنے صدقات و خیرات ضرورت مند اور مستحق افراد کو ہی دیں۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بڑا فضیلت والا کام ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہمیں معاشرے کے نادار مفلس اور بےکسوں کی مدد کرنا کا درس ملتا ہے اسلام نے معاشرے کے غریب مسکین اور ناداروں کی مدد کے لئے زکوة کا خوبصورت اور زبردست نظام دیا ہے ۔
آپ خیرات ضرور دیں لیکن اس کے لئے اپنے اقربا اور اردگرد میں موجود اصل حقدار کا انتخاب کریں حالیہ کرونا وبا کی ابتداء سے ہی لاہور میں ہمارے ایک دوست سوشل میڈیا کا بڑا نام نوجوان محترم وقاص امجد نے بڑی خوبصورتی اور رات کی تاریکی میں راشن کے سیکنڑوں تھیلے اپنے گردونواح کےضرورت مند گھروں میں خود پہنچائے سوشل میڈیا کے چند ضرورت مندوں کی شناخت ظاہر کئے بغیر باعزت چھوٹے کاروبار کے لئے مالی امداد دی اور درجنوں معذور افراد میں وہیل چیئرز تقسیم کیں اللہ سبحان و تعالی انکی کاوشوں کو قبول فرمائے آمین ۔ یہ عمل ہمارے لئے قابل تقلید ہے ۔پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنے اردگرد اصل حقداروں کی مدد کریں یقینا یہ صدقہ جاریہ اور نیکی کے عظیم کاموں میں سے ہے۔
آصف گوہر @EducarePak