Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بس خواب ہی یا جینا بھی ہے! تحریر:مریم صدیقہ

    بس خواب ہی یا جینا بھی ہے! تحریر:مریم صدیقہ

    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ اپنی ساری زندگی ایک ہی معمول کے مطابق گزار دیں اور آپ ” آفس پلانکٹن” بن جائیں پھر کیا ہو گا؟ کیا آپ اپنی زندگی کو اس قدر بورنگ کر کے گزارنا چاہتے ہیں کہ تمام تر زندگی خواب اور محض خواب دیکھنے میں ہی گزر جائے؟ اگر نہیں! تو ابھی رک جائیں اور سوچیں کہ جو خواب آپ دیکھ رہے ہیں انہیں پورا کرنے کے لیے کیا بدلا جا سکتا ہے اور زندگی کو جینے کا اصل مزہ کیسے لے سکتے ہیں؟
    لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زندگی میں ہم میں سے ہر شخص کم از کم ایک بار ضرور خوابوں کی دنیا میں کھو جاتا اور حقیقت سے کہیں بہت دور نکل جاتا ہے، ہم رات و رات سپر سٹارز بننے کا خواب کا دیکھنے لگتے ہیں اور سب کی توجہ کا مرکز بننے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔مگر ایسا صرف ہم اپنی سوچوں میں کررہے ہوتے ہیں کبھی سوچا کہ حقیقت میں اس کے لیے کیا کیا اب تک؟ بہت سے لوگ اب کہیں گے کہ خواب سچے ہوتے ہیں تو انہیں بتاتی چلوں خواب سچے ہوتے نہیں ہیں انہیں سچا بنانا پڑتا ہے، خواب پورے کرنے پڑتے ہیں، محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور خواب تب سچے ہوتے ہیں جب آپ رکتے نہیں ہیں ، جب آپ ہار نہیں مانتے اور پوری لگن کے ساتھ ان کو حاصل کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ جب آپ خوابوں کو جینا شروع کرتے ہیں۔
    اب وقت ہے جینا شروع کریں!!
    اپنی زندگی میں تاخیر سے کام لینا بند کریں۔فلموں اور پریوں کی کہانیوں پہ یقین کرنا چھوڑ دیں ، ان میں کوئی سچائی نہیں ہوتی۔ یہ سب جھوٹ ہوتا ہے، ان میں یہ بھی جھوٹ ہے ہوتا ہے کہ آپ کو بس صبر سے کام لینا ہےاور انتظار کرنا ہے سب کچھ ایک دن خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔ ایسے کیسے ٹھیک ہو جائے گا جب آپ نے اس کے لیے کبھی کوشش کی ہی نہیں! اس وہم کو اپنے دل و دماغ سے نکال دیں کہ جب آپ پریکٹکل زندگی میں قدم رکھیں گے تو خود بہ خود ایک مشروط مقام تک پہنچ جائیں گےجس کے خواب بچپن سے اب تک دیکھتے آئے۔اسے افسانہ سمجھیں – ایک ہوریزون لائن کی طرح جسے منزل کے قریب پہنچنے پہ ہٹا دیا جاتا ہے۔یہ بس ایک پوائنٹ ہے۔ اور اس کے پیچھے سوائے خاموشی اور اندھیرے کے کچھ نہیں ہے اور جہاں رکنے سے بہت دیر ہو سکتی ہے۔ آگے بڑھیں اور منزل کو پا لیں!
    جیو! ابھی جیو! خود کو محسوس کرو ، اپنی گزری ہوئی زندگی پہ نظر ڈالو۔ لمبی لمبی سانس لہں اور وقت کی گردش کو محسوس کریں یا پھر اسے رکنے دیں، آپ پہ منحصر ہے۔ہر اس چیز کو رستے سے ہٹا دو جو آپ کو منزل کی طرف بڑھنے سے روک رہی ہے، اپنے لیے آسانیاں اور سکون کے رستے ہموار کریں۔ اپنے سمارٹ فونز میں سے دوسروں کی زندگیوں، ان کے حقائق اور خوابوں کو دیکھنا چھوڑیں، لوگ جیسے سوشل میڈیا پہ خود کو دیکھاتے وہ اصل زندگی میں ویسے نہیں ہوتے۔ اپنی زندگی بنایں ، کچھ ایسا کر جایں کہ دنیا آپ کا نام سرچ کرے آنے والے دنوں میں۔
    پرانی باتیں، نفرتیں، ناکامیابیاں سب بھول کر محسوس کریں کہ آپ ہیں ! آپ کے پاس کودآپ ہیں ۔ جی آپ! مکمل، بلکل مکمل اور جب آپ ہیں تو کسی اور کی ضرورت نہیں۔ یہ سوچ یقینا آپ کو آپ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں کافی فائدہ مند ثابت ہو گی۔
    جان لیں کہ آپ اپنے خوابوں کے تخلیق کار ہیں۔یہ زندگی آپ کی ہے، اس میں ہر خوشی ، ہر دکھ ، ہر جیت اور ہر ہار کے آپ ذمہ دار ہیں۔ صرف آپ! اب یہ آپ کا کام ہے کہ سوچیں اب تک آپ کیا تھے اور آگے آپ کو کیا بننا ہے۔ سب کچھ آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔اپنے دل کی آواز سنیں اور چل پڑیں اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے۔سکون کا سانس لیں! پیار کریں! خوشیاں بانٹیں اور عمل کرنا شروع کریں۔جو بھی کرنا ہے یا زندگی میں جو بھی کچھ آپ کو چاہیے ابھی وقت ہے حاصل کر لیں، اسےمزید ملتوی نہ کریں۔
    آپ کے پاس ہر وہ چیز پہلے سے موجود ہے جس کی اپنے خوابوں کی تکمیل میں آپ کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔خوش رہیں اور شکر گزار بنیں۔ آپ اندر سے کون ہیں اس سے خوفزدہ نہ ہوں۔ خودکو خودسے پوشیدہ نہ رکھیں۔اپنے ٹیلنٹ کو کھل کے سامنے آنے کا موقع دیں۔ اور اب جینا شروع کریں!

    @MS_14_1

  • بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ  کھیلنے کا اعلان کر دیا

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    کولمبو:کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، بھارتی دھمکیوں کے باوجود سری لنکن آل راؤنڈر تلکا رتنے دلشان نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہو گا بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔

    بھارت کی دھمکی پر انگلینڈ کے سپن باؤلر مونٹی پنیسر، میٹ پرایئر ودیگر نے لیگ سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا تاہم سابق سری لنکن اوپنر تلکارتنے دلشان نے بھارتی دھمکیوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کردیا ہے-

    گویا جنوبی افریقہ کے اوپنرہرشل گبز نے بھی کے پی ایل سے دستبراداری سے اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی دباؤ غیر ضروری ہے بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے بھارتی بورڈ نے دباؤ ڈال کر مجھے کشمیر پریمیر لیگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی-

    ہرشل گبز نے کہا کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ مجھے آئندہ بھارت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا مجھے کرکٹ سے متعلق کام سے روکنے کی دھمکیاں دی گئیں-

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

  • آزاد کشمیر کی صحافت  تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    آزاد کشمیر کی صحافت تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    میری اپنی سمجھ کے مطابق صحافت قوموں کی آزادی و خودمختاری میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور آزادی کے خیالات کو پھیلانے اور ان کی نشونما کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے مجھے اس کی تازہ ترین مثال بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کے کردار سے دی جاسکتی ہے کے وہاں سے صحافیوں نے اندرونی اور عالمی سطح پر اس تحریک کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پھر وہاں سے جو ایک اخبار کا غالبًا سیری نگر فلیش نکلتا ہے بقول ایک انگریز "ٹورسٹ” اس کو نکالنے والے کشمیری صحافی جن خطرناک حالات میں اسے نکالتے ہیں اس سے ان کی اپنی پیشہ اور قوم کے ساتھ جنون کی حد تک وابستگی کا پتا چلتا ہے یوں دیکھا جائے تو باقی مقبوضہ کشمیر میں الحاق ہندوستان کی قوتیں اپنا کردار صحیح طرح سے ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں کیوں کہ وہاں سے موجود مسلح تحریک کے شروع ہونے سے پہلے 22 روزنامہ اور بیسیوں ہفت روزے اور ماہنامے نکلتے تھے لیکن آزاد کشمیر میں الحاق پاکستان کی قوتوں نے اپنا کردار اس بھرپور طریقے سے ادا کیا ہے کہ یہاں صحافت بیچاری کا جنم ہی نہیں ہوسکا بالکل معیست کی طرح خدا خدا کرکے ایک روزنامہ آزادی نکلا تھا سنا ہے کے وہ بھی نہ نکلنے کا پابند ہوگیا ہے۔جس طرح باقی میدانوں میں آزاد کشمیر پاکستان کے سرمایا کاروں کی منڈی ہے اس طرح صحافت کی منڈی پر بھی پاکستان کے سرمایہ کاروں کی آجارہ داری ہیں اور آزاد کشمیر کا کوئی اخبار "جنگ” اور "نوائے وقت” کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور یہ دونوں اخبار الحاق کی تحریک کو پاکستان کے حکمرانوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق آگے بڑھا رہے ہیں اور آزاد کشمیر کی حکومتیں بھی آج تک اس میں کامیاب رہی ہیں کے یہاں سے کوئی اخبار نہ نکلے جس کی وجہ سے اس خطے میں افراد میں صحافتی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں وہ پاکستان کے ان اخباروں کے علاقائ رپورٹروں اور تقسیم کاروں سے آگے نہیں بڑھ سکتے یوں کشمیر کے اس خطے کے اخبار بینوں کا سیاسی اور سماجی شعور براہ راست پاکستانی اخبارات اور ان کے ذریعے پاکستان کے حکمرانوں کی مٹھی میں رہتا ہے اور ان کے مفادات کے مطابق "پروان "چڑھتا ہے۔
    نام : ذیشان وحید بھٹی
    ٹویٹر آئ دی :
    @zeeshanwaheed43

  • لمحہ موجود میں جینا  تحریر:حُسنِ قدرت

    لمحہ موجود میں جینا تحریر:حُسنِ قدرت

    ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جو ہر وقت ماضی کا رونا روتا رہتے ہیں کہ ماضی میں ہماری پاس یہ یہ راحتیں اور نعمتیں تھیں مگر اب نہیں ہیں یہ سوچ کر وہ بہت کڑھتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مستقبل کو سوچ کر خوفزدہ ہوتے ہیں انہیں مستقبل سے خدشات ہوتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ ہر نیا روز کوئی نئی آفت لے کر آئے گا لیکن یہ ایک انتہائی فضول رویہ ہے کیونکہ ماضی میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ اچھا ہے یا برا اسے ہم چاہ کر بھی تبدیل نہیں کر سکتے لہذا کوئی بھی عقل مند انسان اپنے حال کو ماضی کا نوحہ کرکے ضائع نہیں کرے گا اور اسی طرح جو انسان اپنے مستقبل کو سوچ سوچ کر فکر مند ہوتا ہے وہ بھی اپنے حال سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ ان دونوں حالتوں میں مبتلا رہنا کسی بڑی بے وقوفی سے کم نہیں ان دونوں حالتوں میں انسان اپنے حال سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
    حال وہ لمحہ ہے جو کہ زندگی میں سب سے اہم ہے دنیا کبھی بھی کسی انسان کے بارے میں یہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتی کہ اسکا ماضی کیا تھا یا مستقبل کیا ہوگا وہ صرف حال کو دیکھتی ہے
    جیسا کہ ایک ریٹائرڈ افسر لوگ جب اس سے ملیں گے اگر وہ ریٹائر ہونے کے بعد بہت سخت مزاج اور جھگڑالو ہو جائیں تو لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ یہ کتنے بڑے عہدے سے ریٹائرڈ افسر ہیں اور نہ یہ دیکھیں گے کہ مسقبل میں انہوں نے کتنا بڑا بزنس کرنا ہے لوگ صرف اور صرف یہ دیکھیں گے کہ یہ ایک جھگڑالو انسان ہے
    ہمارے ماضی یا مسقبل کی کیفیت کسی بھی انسان کے لیے اہم نہیں ہوتی کوئی بھی شخص یا ادارہ کبھی بھی ہمارے حال کو نظر انداز کرکےمحظ ہمارے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہمیں مدد یا حفاظت فراہم نہیں کرے گا چنانچہ یہ ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے حال پہ قابو پائیں اور لمحہ موجود میں جینا سیکھیں اپنے حال پہ قابو پا کر اور درست منصوبہ بندی کرکے نہ صرف ہم اپنے مستقبل کو بہترین بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی ماضی میں کی گئی کوتاہیوں کا مداوا بھی احسن طریقے سے کر سکتے ہیں
    اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان پہ توجہ دی جائے نہ کہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کو بار بار دہرایا جائے اور ان پہ پشیمان ہوا جائے ہماری زندگی میں مختلف عوامل ہوتے ہیں اور لاتعداد پہلو اسلیے یہ ضروری نہیں کہ اپنی توجہ کو بس ایک ہی پہلو پہ موقوف کرلیا جائے ماضی سے صرف سیکھنے کا کام لیا جائے اس سے زیادہ ماضی کی اہمیت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اصل زندگی تو حال ہی ہے جو ہم آبھی وقت گزار رہےہیں یہ دن گزرنے کے بعد ہمارا ماضی بن جائے گا اور یہ لمحہ موجود ہم جسطرح سے گزاریں گے ویسا ہی ہمارا مستقبل ہوگا
    لمحہ موجود پہ یقین رکھنے والا شخص اپنی امیدوں اور کامیابیوں کو ان بے شمار چیزوں سے منسلک کرتا ہے جو اس کے لیے بہت زیادہ اہم ہوتی ہیں وہ اپنے ہر ایک لمحے کو بھرپور جیتا ہے کیونکہ جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ ہر دن اک نئی زندگی ہے ویسے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر لمحہ ایک نئی زندگی ہے
    اسلیے حال پہ یقین رکھنے والا انسان بہت کم پریشان ہوتا ہے اور لمحہ موجود پہ یقین رکھتے ہوئے کامیابی کی راہیں طے کرتا جاتا ہے
    لمحہ موجود صرف خوشی ہے اور آپ لوگوں نے یہ سن رکھا ہوگا خوشی کی سمت کوئی راستہ نہیں جاتا کیونکہ خوشی خود ایک راستہ ہے
    لمحہ موجود پہ یقین رکھنے والے اور جینے والے اسے محسوس کرتے ہیں
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں،ہرشل گبز کشمیر پریمیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں پر پھٹ پڑے –

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سائوتھ افریقن کرکٹر ہرشل گبز نے اپنے ٹوئٹ میں بھارتی سازشیں مضحکہ خیز قرار دے دیں انہوں نے کہا کہ بھارتی دبائو غیر ضروری ہے-

    ہرشل گبز نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے کرکٹر نے انکشاف کیا کہ بھارتی بورڈ نے دبائو ڈال کر مجھے کشمیر پریمیر لیگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی –

    ہرشل گبز نے بتایا کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ مجھے آئندہ بھارت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،مجھے کرکٹ سے متعلق کام سے روکنے کی دھمکیاں دی گئیں-

    واضح رہے کہ کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔

  • پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے تحریر: خالد اقبال عطاری

    پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے تحریر: خالد اقبال عطاری


    دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے مضر اثرات پیدا ہو رہے ہیں جسکے روکنے اور سدباب کرنے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ شجر کاری کی جائے. کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ٹوٹل آبادی کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے. جبکہ ہمارے پاکستان میں یہ 4 سے 5 فیصد ہے. بڑھتی ہوئی گرمی کو روکنے کیلئے بھی شجر کاری نہایت اہم ہے. اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا پروجیکٹ بلین ٹری سونامی بھی کافی زبردست رہا. جسے عالمی طور پر بھی سراہا گیا. ماحولیاتی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ایک مزہبی تنظیم دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس عطار قادری صاحب نے بھی پودے لگانا کا ذہن دیا. تو انکے ایک ذیلی ادارے عالمی تنظیم فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRF نے بھی ایک اگست کو پاکستان بھر میں 26 لاکھ پودے لگانے کا اعلان کیا ہے. جن کا نعرہ یہ ہے کہ پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے. پودے تو ہر کوئی لگا دیتا ہے لیکن اکثریت بعد میں اس کا دیہان نہیں رکھتی جسکے بنا پر وہ ضائع ہو جاتا ہے. فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRG کا ایک وسیع نیٹ ورک پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں موجود ہے. فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن اتنی کوشش کر رہی ہے کہ سوشل میڈیا پر پاکستان کے ہر علاقے کے لحاظ سے بتا رہی ہے کہ کس علاقے میں کونسی قسم کا پودا موزوں رہے گا. پودا لگانا ثواب کا کام اور صدقہ جاریہ بھی ہے. جیسا کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہو رہا ہے.
    ہما پیارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نے ارشاد فرمایا :
    "درخت لگانا ایک ایسی نیکی ہے. جو بندے کی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے جبکہ وہ اپنی قبر میں ہوتا ہے” .
    تو ہمیں چاہیے کہ آئیں اور ایک اگست کو فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRG کے تحت ہونے والی شجرکاری میں ان کا ساتھ دیں جس سے ہمیں نیکیوں کا خزانہ بھی ہاتھ آئے گا اور ہمارے پیارے وطن پاکستان کو سر سبز و شاداب، خوبصورت اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک کریں.

  • لفظوں کی حکومت تحریر : مدثر حسن

    لفظ، الفاظ ہمارے خیالات ،سوچ ضرورت کے اظہار کا ذریعہ ہیں ان کے ذریعے انسان دوسرے سے گفتگو کرتا ہے اور اپنی ضرورت کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے

    کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کے منہ سے ادا ہوئے لفظ بھی اپنی تائثر رکھتے ہیں اور یہ الفاظ ہی دوسرے انسان کے دل ودماغ پر حکومت کرتے ہیں

    اب آپ سوچیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے ؟
    جب ہم کسی سے اچھے الفاظ میں بات کرتے ہیں یا اس کے لیے اچھے اچھے الفاظ بولتے ہیں تو وہ اس انسان کو خوشی دیتے ہیں اسی طرح جب ہم برے یا کھردرے لفظ سے بات کرتے ہیں تو وہ انسان کو دکھی کر دیتے ہیں
    لفظ انسان کی پہچان کرواتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا پر جہاں ہم ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن ان کی وجہ سے ہم اپنے خاندان کا اپنی تربیت کا بتاتے ہیں
    آج کل کے لوگ بنا سوچے سمجھے کسی کو بھی کچھ کہہ دیتے ہیں یا سوچے بغیر کہ ان کے کہے الفاظ سے کسی کی شخصیت ،کسی کی زندگی ،کسی ک کیریئر ،کسی کا کردار مشکوک ہوسکتا ہے کہنے والا تو کہہ کر چلا جاتا ہے جو ان الفاظ کو اور ان کی وجہ سے بھگتاتا ہے یہ وہ جانتا ہے کہ اس پر کیا گزری ۔۔۔۔

    انسان کے الفاظ اس کی وہ طاقت ہیں جس سے وہ کسی کو بھی زندگی بخش سکتا ہے کوئی کتنا بھی دکھی کیوں نہ ہو آپ اس کو اچھے الفاظ میں تسلی دیں گے تو اس کی آدھی پریشانی وہیں ختم ہو جائے گی
    برے لفظ بہت کھردرے اور نوکدار ہوتے ہیں جو اگلے انسان کے دل و دماغ کی دنیا کو تہہ وبالا کر دیتے ہیں

    اگر آپ مالی طور پر اتنے مظبوط نہیں ہیں تو ذہنی طور پر اتنے مظبوط اور امیر ضرور ہوں کہ کسی کو اپنے بہترین الفاظ سے اس کی تکلیف کم کرسکیں
    آج کے اس دور میں جب سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دکھی کرنے میں مصروف ہیں تو کوشش کریں آپ مسیحا بنیں جواپنے الفاظ سے دوسرے کی تکلیف پر مرہم رکھتاہے
    خوش کلامی زبان کا صدقہ ہے
    خوش کلامی انسان کو صراط مستقیم کی طرف لے جاتی ہے
    خوش کلامی انسان کی طاقت ہے
    خوش کلامی تقاضائے ایمان ہے
    اور بطور مسلمان ہمارا یقین ہونا چاہیے کہ

    "قیامت کے دن مومن کے نامہ اعمال میں خوش اخلاقی سے بڑھ کر کوئی چیز بھاری نہ ہوگی”

    (حدیث مبارکہ )

    @MudasirWrittes

  • کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود

    کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود

    ” حضرات ایک ضروری اعلان سنیں ، محترم جناب کمشنر صاحب کا کتا گم گیا ہے جس صاحب کو ملے وہ کمشنر آفس پہنچا دے ۔ اگر ہماری کارروائی کے دوران وہ کتا کسی سے برآمد ہوا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاے گی” یہ اعلان کل گوجرانوالہ کی سماعتوں سے ہوتا ہوا سوشل میڈیا پر پہنچا اور پھر ٹویٹر پر #کمشنرکاکتا گم گیا ہیش ٹیگ کے ساتھ چند ایک ٹویٹس نظر آئیں ۔ جانوروں سے محبت کرنا اچھی بات ہے اور پالتو جانوروں سے محبت تو کچھ زیادہ ہی ہوجاتی ہے ۔ ابھی چند دن قبل عید قرباں پر چند ایک مناظر نظروں سے گزرے تھے جن میں قربانی کے جانوروں کو پالنے والے یا پھر انھیں خرید کر قربان کرنے والے رو رہے تھے ، مضطرب تھے لیکن زبان پر شکر کے کلمات تھے ۔ خیر یہ تو ایک الگ معاملہ ہے ۔ اصل بات پر واپس آتا ہوں ۔ کمشنر انگریزی باقیات میں سے وہ چیز ہے جو ابھی بھی اپنے آپ کو ضلع کا مالک کل سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ خدا ترس ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اہل ضلع پرسکون رہتے ہیں وہ درویش صفت لوگوں کو تنگ کرنا گوارا نہیں کرتے اور مجرموں اور قانون شکنوں کے خلاف زمین تنگ کیے رکھتے ہیں ۔

    اب ہمیں یہ تو بات معلوم نہیں کہ کمشنر صاحب نے اعلانات کروانے کا خرچہ بذمہ سرکار کیا ہے یا پھر اپنی جیب سے ادا کیا ہے ۔ یہاں تو سرکاری مال کو اس طرح سے خرچ کیا جاتا ہے جیسے وہ حرام کا مال ہو۔ سرکاری گاڑیوں میں سبزی لانے ، بچوں کو سکول چھوڑنے ، ماسی و پھوپھی کو لانے، سسرال کے کام کرنے اور گھر کا دیگر سودا سلف لانے کا کام بھی کیا جاتا ہے اور سرکاری ڈرائیور کو نجی ڈرائیور سمجھ کر خاتون خانہ کی چاکری پر لگا دیا جاتا ہے ۔ سرکاری مالیوں کو گھر کے لان کی صفائی ستھرائی کے لیے بلایا جاتا ہے ۔ خیر یہ تو ضمنی باتیں آگئی ہیں ۔ جناب کمشنر کے کتے کی بات ہورہی تھی ۔ گوجرانوالہ میں روز کسی نہ کسی تھانے میں کسی کی گم شدگی کی درخواست آتی ہوگی ۔ روز کوئی نہ کوئی لاش سرراہ ملتی ہوگی جسے سردخانے پہنچا دیا جاتا ہوگا کہ ورثا کے ملنے تک محفوظ رہ سکے ۔ کمشنر گوجرانوالہ نے اس طرح کے معاملات میں کتنے اعلانات کروانے کا تردد کیا ہوگا ۔انسان کو تو درخواست نمبر سے زیادہ وقعت ہی نہ ملی کیوں کہ دل میں درد ہو تو صاحب بہادر رات کی نیند سے محروم ہو جائیں ۔ رات کمشنر صاحب امید واثق ہے کہ کتے کے نہ ملنے کی وجہ سے نیند سے محروم ہوں گے ۔ اس سے پہلے کسی غریب ، اجڈ ، گنوار ، جاہل ، لاچار و معذور کی فریاد پر شاید ہی اس طرح سے مضطرب ہوے ہوں کہ سرکاری سرپرستی میں سرکاری اہلکاروں کو کتا ڈھونڈنے پر لگا دیا ۔ کمشنر صاحب کو ہم یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ کچھ شرم ہوتی ہے ، کچھ حیا ہوتی ہے کیوں کہ ہم ٹھہرے عام شہری جن کی اوقات کمشنر کے کتے سے بھی کم ہے ۔

  • درخت اور جاندار   تحریر : سید اویس بن ضیاء

    درخت اور جاندار تحریر : سید اویس بن ضیاء

    حضور اکرم (ص) فرماتے ہیں کہ "کوئ بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے پھر اس میں سے پرند، انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے”

    درخت اللہ تعالی کی عطاء کردہ بیشمار نعمتوں میں سے خاص نعمت ہے۔ انسانوں سے لیکر چیونٹیوں،پرندے اور جانور سب کی زندگیاں درختوں سے جڑی ہیں۔ سیلاب اور قحط سے بچاؤ، پانی کی مسلسل دستیابی، لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ، زراعت کی بہتری اور انسانی صحت کی بہتری، آکسیجن کی فراہمی، گرمی کی شدت میں کمی، مٹی میں زرخیزی، ماحولیاتی توازن اور سیاحت کا فروغ جنگلات کے اہم فوائد ہیں

    گزشتہ کئ سالوں سے جنگلات میں نمایاں کمی آئی ہے جسکی وجوہات میں سے ایک وجہ جہاں جنگلات ہیں وہاں کے مقامی لوگوں کا بہتر روزگار نا ہونا ہے، لوگ درخت کاٹ گھروں میں ایندھن کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں اور بیچ کر اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ حکومت وقت کو وہاں ملازمت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہیے تاکہ لوگ جنگلات کا خاتمہ نا کریں دوسری اور سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے جب بھی سرکاری سطح پر کوئ منصوبے تیار کئے جاتے ہیں نا تو جگہ کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ یہاں جنگلات کا کتنا نقصان ہوگا نا یہ سوچا جاتا ہے کہ اسکے متبادل درخت لگا کر انکی کمی پوری جائے گی لہذا اگر کہیں بھی کوئ بھی سڑک بنے یا کوئی بھی سرکاری عمارت سب سے پہلے درختوں کو مد نظر رکھنا لازمی جزو ہونا چاہیے

    پچھلی کئ حکومتوں کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے درختوں جیسے بڑے مسئلے پر کبھی کسی کا دھیان نہیں گیا،

    پاکستان میں جنگلات پر تحقیق کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان میں 90 کی دہائ میں تقریباً 36 لاکھ ایکڑ رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا جو کہ دو ہزار کی دہائ میں کم ہو کر 33 لاکھ 20 ہزار ایکڑ تک رہ گیا ہے۔ پاکستان کا شمار اب دنیا کے ان ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے اور اگر جنگلات کے اس کٹاؤ کو نا روکا گیا تو دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کےلئے یہ بہت بڑا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    جنگلات کی بڑھوتری کےلئے موجودہ حکومت کی حکمت عملی قابل ستائش ہے، عمران خان کے کامیاب بلین ٹری سونامی کی وجہ سے ملک میں درختوں کی شرح میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے جوکہ خوش آئند ہے، پی ٹی آئ حکومت کے اس احسن اقدام کو نا صرف پاکستان میں سراہا گیا ہے بلکہ عالمی دنیا بھی اسکی کافی حوصلی افزائ کی گئ ہے،

    بلین ٹری سونامی جیسے بڑے منصوبے کی وجہ سے نوجوان نسل میں پھر سے درخت لگانے کی لگن پیدا ہوگئ ہے جوکہ اس کامیاب حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان میں ترقی کے خواب کو تعبیر دینے کے لئے جنگلات کے تحفظ پر خصوصی توجہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اللہ تعالٰی پاکستان کو ترقی اور خوشحالی عطاء فرمائے آمین۔

    @SyedAwais_

  • غریب عوام اور امیرسیاستدان   تحریر : وقاص رضوی جٹ

    غریب عوام اور امیرسیاستدان تحریر : وقاص رضوی جٹ

    پاکستان کی تاریخ کاالمیہ رہاہے کہ قیام پاکستان کےبعد جیسےہی بانیان پاکستان اس دنیاسےرخصت ہوۓتو ملک کی باگ ڈور چندامیرزادوں کےہاتھوں میں چلی گٸ۔ پنجاب کےبڑےبڑےجاگیردار ٗ سندھ کے وڈیرے ٗ بلوچستان کے سردار اور خیبرپختونخواہ کے قباٸلی سردار سیاست پر مکمل قابض ہوگۓ۔ ملک میں سیاست کو اس انداز میں مروج کیاگیاکہ کوٸی غریب اور مڈل کلاس سیاست میں آنےکاسوچ بھی نا سکے۔1970 کی دہاٸی میں جو سیاسی جماعتیں وجود میں آٸیں ان کےسربراہ انہیں جاگیرداروں میں سےتھے۔ بعدازاں موروثی سیاست نےایسی جڑیں مضبوط کیں کہ باپ کےبعد بیٹا پھر پوتااور یہ سلسلہ چل نکلا۔اس کی واضح مثال پیپلزپارٹی کی ہے جس کی بنیاد سندھ کے زمیندار ذولفقار بھٹو نے رکھی۔اسکےبعد پارٹی کی باگ ڈور اسکی بیکم نصرت بھٹو کےہاتھ میں چلی گٸ ۔ بعدازاں انکی بیٹی بینظیر بھٹو نے پارٹی پہ قبضہ کیا۔ بینظیر کی وفات کےبعد اس کےشوہرآصف زرداری چٸیرمین بنے۔اب انکے بیٹے بلاول بھٹو چٸیرمین ہیں۔ اور جب کبھی بلاول کسی جلسےمیں شرکت نہ کرسکیں تو اس موقع پہ آصفہ بھٹو کو بھیج دیاجاتاہے۔ اور یہی حال ملک کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن کا ہے جس کا صدر پہلےنوازشریف تھاجب وہ جلاوطن ہواتواسکی بیگم مرحومہ کلثوم نوازٗ پھر اب جب نوازشریف جلاوطن ہےتواسکی بیٹی مریم نواز پارٹی چلارہی ہیں۔ایسا کرنا دراصل پاکستان اور اسکے انتہاٸی قابل اور پڑھےلکھےنوجوانوں کی توہین ہے۔ کیا پاکستان کی 22کروڑ آبادی میں سےکوٸی اس قابل نہیں جو شریف اور زرداری خاندان کی جگہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی چلاسکے؟یہ امیر زادے باقی عوام کو کیڑےمکوڑےسمجھتےہیں۔عوام کےٹیکس کےپیسےسےعیاشیاں کرتےہیں۔ پھر پارٹی ٹکٹ بھی ایسےلوگوں کودیتےہیں جو انکو کروڑوں روپےٹکٹ کےعوض دیتےہیں۔ پارٹی ٹکٹ ایسےلوگوں کی دی جاتیں جو بڑےبڑےتاجر ٗ ٗ جاگیردار ٗ وڈیرے ٗ سردار اور ریٹاٸرڈ اور بیوروکریٹس ہوتےہیں۔ جن کےہاتھ کرپشن سےرنگےہوتےہیں۔انہیں غریب کےمساٸل کا زرہ برابر بھی ادراک نہیں ہوتا۔
    ساری زندگی ایٸرکنڈیشنڈ گھر اور مہنگی مہنگی گاڑیوں میں گھومنے والے بلاول بھٹو کو کیاپتہ کہ تھر کے بچے بھوک پیاس سے مررہےہیں ۔ راٸونڈ کے محلات میں رہنے والی اور کروڑوں کی سرجری مریم نواز کو کیا پتہ کہ ایک غریب کی بیٹی جہیز نہ ہونےسے شادی کےانتظار میں بوڑھی ہورہی ہے۔
    تین سو کنال کے گھر میں رہنے والے عمران خان کو ان بےگھر افراد کے دکھ کاکیاپتہ جن کےگھر تجاوزات کے نام پر مسمار کردیےگۓاور وہ سر چھپانےکیلیےدر بدر کی ٹھوکریں کھارہےہیں۔ اربوں روپے کے بینک بیلنس رکھنے والے اسد عمر کو ا باپ کےدکھ کاکیا پتہ کہ لاک ڈون کی وجہ جس کی دہاڑی نہ لگنےسےاسکےبچےبھوکے سوتےرہےہوں۔سرکاری خرچ پر حج کرنےوالے پیرنورالحق قادری کو اس 70 سالہ بوڑھی کےدکھ کاکیااحساس نے حج کرنےکیلیے پاٸی پاٸی جمع کرکے 3لاکھ جوڑےتھےکہ حج مہنگا ہوکر 8لاکھ تک پہنچ گیا۔
    ان امیر سیاستدانوں کوغریبوں کا نہ احساس پہلےکبھی تھانہ اب ہے۔اس لیےغریبوں کو اب خود اپنےلیےاوراپنی آٸندہ آنیوالی نسلوں کیلیے آگےبڑھناچاہیےاور سٹیٹس کاخاتمہ کرناچاہیے۔