Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شاعر اور ادیب دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تحریر: ماہی لطیف

    شاعر اور ادیب دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تحریر: ماہی لطیف

    شاعر اور ادیب دلوں میں ہمشہ زندہ رہتے ہیں۔
    یہ تھا 1964ء کا ایک خوشگوار دن شام کا وقت تھا کہ عبد الرزاق کے آنگن میں ایک بچے نے جنم لیا۔ گھر میں خوشی کا سماں تھا کہ عبد الرزاق کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے لیکن کسی کو علم نہیں تھا کہ صرف بیٹا نہیں بلکہ اردو اور پنجابی ادب کے ایک درخشاں ستارے نے جنم لیا ہے۔ یہ جنم اردو اور پنجابی ادب کے مشہور شاعر اور ادیب محمد لطیف سیف کا تھا۔
    محمد لطیف سیف نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سوک خورد سے حاصل کی۔ اس کی کل تعلیم میٹرک تک تھی۔ زیادہ تعلیم نہ کرنے کی وجہ غربت تھی۔ وہ گھر کا بڑا بیٹا تھا اس وجہ سے گھر کی ساری زمہ داری ان کے کندھوں پر تھی۔ کم عمری میں روزی روٹی کی تلاش میں نکلے اور ایک شہر سے دوسرے شہر روزگار کے لیے دھکے کھائے۔ اس سفر میں انھیں سعودی عرب جانا بھی پڑا۔ لیکن اپنے ملک سے محبت نے انھیں واپس بلوایا۔ اور یہاں دوبارہ روزی کی تلاش میں رہے۔ اپنی زندگی کے زیادہ عرصہ غربت اور محنت مزدوری میں گزارنے کی وجہ سے طبیعت میں عاجزی اور انکساری تھی۔ لطیف، انسان تو انسان جانوروں کے درد پر بھی دردمند ہونے والے انسان تھے۔ ان کے عاجزانہ طبیعت کا انکی شاعری پر بڑا گہرا اثر ہے۔ ان کی شاعری میں درد و آہ زیادہ پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں ہمیں محبت اور محبوب کا رنگ بھی ملتا ہے ان کے اشعار میں محبوب کے آگے انداز بھی عاجزانہ ہے وہ محبوب کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ لیکن ان کی شاعری میں ہمیں درد اور غربت کا زیادہ زکر ملتا ہے۔
    ("غریبوں کو ہر دم ستاتی ہے دنیا

    ستم اس طرح بھی یہ ڈھاتی ہے دنیا”)

    محمد لطیف سیف کی شاعری میں حمدیں، نعتیں، غزلیں نظمیں وغیرہ شامل ہیں۔
    ان کے کلام مشہور گلوکاروں نے گائے ہیں، جن میں ملکہ ترنم میڈم نور جہاں بھی ہیں۔ میڈم نور جہاں نے ان کا پنجابی کلام "جدوں دیاں تیرے نال لڑ گیاہ اکھیاں” گایا ہے۔ ان کے کلام کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کے کلام کو سخن شناس پوری دنیا میں سنتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے مختلف گلوکاروں نے ان کے کلاموں کو اپنی آوازوں میں گایا ہے ۔
    ان کی شاعری کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی کتاب "اشک بہاتی تنہائی” جو کہ اردو زبان میں اس کی زندگی میں پبلیش ہوچکی تھی،
    ("میں بھول ک دنیا والوں سے اک بار بھی شکوہ کیوں کرتا

    گر سیف میری بربادی پر نا آشک بہاتی تنہائی”)
    جبکہ دوسری کتاب پنجابی زبان میں ہے "مٹی ملیاں سوچاں” اس کے وفات کے بعد پبلیش ہوئ تھی۔ دوسری کتاب مکمل ہوچکی تھی لیکن پبلیش کرنے ابھی نہیں دیا تھا کہ 6 دسمبر 2016 کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے اور رب کائنات خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات کا دن نہ صرف ان کے گھر والوں کے لیے بلکہ سب سخن شناس لوگوں کے لیے تکلیف کا دن تھا۔
    اس کے وفات ہونے کے بعد ان کے چاہنے والوں نے ان کے گھر والوں کے ساتھ مل کر ان کی دوسری کتاب شائع کی۔ ان کے چاہنے والے آج بھی ان کے نام کو بڑے احترام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے چاہنے والے اور اردو اور پنجابی ادب کو پسند کرنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی جگہ کبھی کوئی پورا نہیں کر پائے گا۔ ان کی شاعری ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ اللّٰہ ان کی آخری منزل آسان فرمائے۔ اللّٰہ ان کی شاعری کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ (امین)

    ("جان دوں گا میں اس ادا سے اسے
    موت دیکھے گی بار بار مجھے”
    جو ملا بن کے غمگسار مجھے
    کر گیا وہ بھی اشکبار مجھے

    زندگی کس طرح کروں گا بسر
    غم کی دلدل میں مت اتار مجھے

    جان دوں گا میں اس ادا سے اسے
    موت دیکھے گی بار بار مجھے

    میں خزاں کو دوش دیتا رہا
    د
    زخم دیتی رہی بہار مجھے۔

    ہے عبث سیف یہ مسیحائی
    اب نزع کا ہے انتظار مجھے۔” )

    ________________________
    twitter.com/MahiLatief1

  • عفو درگزر کرنا تحریر: امتیاز احمد سومرو

    عفو درگزر کرنا تحریر: امتیاز احمد سومرو

    آج کل ہمارے معاشرے میں آپس کی ناچاقیں و نفرتیں عروج پر ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو معاف کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ ہم جتنی بھی بڑی سے بڑی غلطی کریں چھوٹی لگتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ سامنے والا بندہ ہمیں فوری طور پر معاف کرے اگر وہ معاف نہ کرے تو ہم اسے مغرور سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ہم اسے معاف کریں اس کی غلطی ہمیں گناہ کبیرہ لگتی ہے آنا کا مسلہ بنا دیا جاتا ہے۔ جی ہاں گناہ کبیرہ لگتی ہے اب ایسا کیوں؟ کیوں ہمیں اپنی غلطی غلطی نہیں لگتی کیوں ہم اسے آنا کا مسلہ بنا لیتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے؟

    ایسا اس لیے کیوں کہ ہم نے نبی آخروالزماں سرور کونین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میرے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جس کا مفہوم یہ ہے

    "اگر معاف کرنے سے تمہاری عزت میں کمی آئے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا”

    آج کل ہم کہاں کھڑے ہیں ہم تو اسلام سے بہت دور ہو گئے ہیں بلکہ ہم تو اسلام کی مخالف سمت میں سفر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم جتنا بڑا گناہ کر لیں ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دیں لیکن اگر کسی انسان سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے معاف نہیں کریں گے کیوں بھائی اگر اللّٰہ تعالیٰ سے معافی کی امید رکھتے ہیں تو اس کے بندوں کو بھی معاف کرنا سیکھیں تب جا کے اللّٰہ تعالیٰ معاف کریں گے۔ غلطی انسان کی فطرت میں شامل ہے انسان نے غلطی کرنی ہے۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے سگے چچا کے قاتل کو بھی معاف کر دیا تھا۔بھائی غلطی انسان سے ہوتی ہے اپنی غلطی تسلیم کرنے والا بڑا ہے اور معاف کرنے والا اس سے بھی بڑا ہے۔ معاف کرنے سے یا معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا اس لیے دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کریں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کے گناہ معاف فرمائیں آپ کی غلطیاں معاف کریں تو دوسروں کو بھی معاف کرنا سیکھیں دوسروں کی غلطی کو انا کا مسلہ نہ بنایا کریں۔ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق معاف کرنا سیکھیں اللّٰہ تعالیٰ بھی آپ کو معاف کریں گے۔

    اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو معاف کرنا سیکھیں۔ درگزر کرنا سیکھیں انشاء اللہ زندگی حسین ہو جائے گی اور معاف کرنے سے جو خوشی ملتی ہے اس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو معاف کریں تو دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں۔

    @Imtiazahmad_pti

  • چمکتا ہوا سکہ تحریر: جواد یوسفزئی

    ایک سٹور کے کاونٹر پر بقایا میں ایک نیا چمکتا
    ہوا سکہ بھی آیا۔ کافی عرصے سے سکہ نہیں دیکھا تھا۔ معلوم ہوا کہ دس روپے کا بھی سکہ آیا ہے۔ پہلے ایک، دو پانچ، دس، پچیس اور پچاس پیسے اور ایک روپے کے سکے ہوتے تھے۔ ایک روپے کا نوٹ بھی چلتا تھا۔ شروع میں یہ سکے پیتل، تانبے یا نکل کے ہوتے تھے۔ پھر ایلیمونیم کے سکے آنے لگے۔ ایک پیسے سے شروع ہوکر دس پیسے تک۔ پرانے سکے غائب ہوگئے۔ پھر یہ ایلیمونیم کے سکے بھی غائب ہوگئے۔ بعد میں پچیس اور پچاس کے سکے بھی نکل گئے۔ ایک اور دو روپے کے نئے سکے نکل کے بجائے تانبے کے آگئے۔ ایک، دو اور پانچ کے نوٹ بند ہوگئے اور ان کی جگہ سکے چلنے لگے۔ اب یہ بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ ان سکوں کے غائب ہونے کی ایک وجہ تو ان کی ویلیو کا کم ہونا ہے۔ ایک دو بلکہ پانچ روپے کا بھی کچھ نہیں ملتا۔ لیکن زیادہ مقدار میں سکوں سے تو خریداری کی جاسکتی ہے۔ پھر یہ سکے کہاں جاتے ہیں؟ سکوں کی قیمت خرید مہنگائی بڑھنے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سکے کی سرکاری قیمت خرید اس دھات کی قیمت سے کم رہ جاتی ہے جس سے سکہ بنا ہوتا ہے۔ اس وقت لوگ اس سکے کو خرید و فروخت کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اسے پگھلاکر زیادہ قیمت پر فروخت کریں گے۔ یہ گراہم لا ہے۔ یہ صاحب سولہویں صدی میں انگلینڈ میں بینکر تھے یا شاید بادشاہ کے مالی مشیر بھی۔ ان کا خیال تھا کہ ملک میں سونے اور چاندی کے سکے ایک ساتھ چلیں گے تو چاندی کے سکے سونے کے سکوں کو مارکیٹ سے نکال باہر کریں گے۔ ہم ابتدائی معاشیات میں اسے پڑھتے تھے تو اسے زمانہ قدیم کی کہانی سمجھتے تھے۔ لیکن اب برسوں سے ہمارے ہاں یہ لاء کام کر رہا ہے۔ ایلومینم کے سکے آئے تو تانبے کے سکے غائب ہوگئے۔ ایلومینم کے سکوں کو کاغذ کے نوٹوں نے نکال باہر کیا۔ یہ دس روپے کا سکہ بھی ایک دو سال چلے گا۔ جب اس میں شامل پیتل کی قیمت دس روپے سے بڑھ جائے گی تو لوگ کاغذ کے نوٹوں کے بدلے سکے خرید کر انہیں پگھلا لیں گے۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.Com

  • ‏مذہب اور انسانیت   تحریر:  سجاول سلیم

    ‏مذہب اور انسانیت تحریر: سجاول سلیم

    انسان سے محبت اور احترام ہمیں ہمارا مذہب سیکھتا ہے
    اللہ تعالی نے انسان کو ایک جیسی اصلاحیتوں سے نوازا ہے انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک ساری ہدایت مذہب کرتا ہے ماں باپ بہن بھائی رشتےدار برادری ان سب کی پہچان مذہب کرواتا ہے
    دنیا کا کوئی مذہب برے کام کو اچھا کام نہیں بتاتا۔

    اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ظلم و زیادتی نہیں کی جائے انسانی حقوق سب سے اہم پہلو مذہب ہوتا ہے
    انسانی کے اخلاق کا معاشرتی زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمتہ اللعالمین بنا کر بھیجا تاکہ دنیا میں علم کا نور پھیلایا جائے۔ انسانیت کے ذریعے انسانوں کی عزت کی جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا سے اللہ کے اس حکم کے ساتھ اترے کہ نبوت کا اعلان کر کے اللہ کے پیغام کو ساری انسانیت میں عام کر دیں۔

    آپ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسلام انسانیت کے خلاف جنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کے احترام کا بیڑہ اٹھایا، آپ بیواؤں، غریبوں یتیموں، پڑوسیوں کے غمگسار ہیں۔ اس اصول کو آپ نے ساری انسانیت کے سامنے پیش کیا۔
    انسانیت اور اچھا اخلاق انسان کو ہمیشہ اونچے مرتبے پر فائز رکھتا ہے۔
    وہی انسان سب سے اچھا ہے جس کا اخلاق اچھا ہے۔ انسان کو اتحاد اور محبت کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہیے. انسانیت کی خدمت کا جو دائرہ دین اسلام نے دیا ہے وہ کسی بھی مذہب نے نہیں دیا۔
    قرآن مجید میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا اور ایک انسان کی جان کو بچانا پوری انسانیت کی جان کو بچانے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
    مذہب امن کا ضامن ہے کیونکہ مذہب اخوت، اتحاد ، محبت اور مساوات کو جنم دیتا ہے۔ اور نفرت ، عداوت کو بالکل ختم کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے کام انا انسانیت ہے۔ ہمارے معاشرے سے انسانیت مر چکی ہے
    غریبوں اور مظلوموں پر ہم ظلم کرتے ہیں حالات سے مجبور لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے لیکن ہمارا مذہب اس چیز کی اجازت بالکل بھی نہیں دیتا کہ کسی مجبور شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا جائے۔

    آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بے مثال خطبہ حجۃ الوداع میں اس حقیقت کاا ظہاربایں الفاظ فرمایا:’’ اے لوگو ! کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے ،تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔‘‘

    @Sajawal_13

  • نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

    نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

    کبھی لمحوں میں صدیاں بیت جاتی ہیں، کبھی لمحے گزارنے کے لیے صدیوں
    انتظار کرنا پڑتا ہے۔ فطری عمل تو اپنی جگہ،انسان کی زہنی کیفیات گردش ایام کی پیمائش کرتی ہیں۔حضرت عزیر ؑ اور اصحابِ کہف ؓ کے واقعات تو معجزہ وکرامت سے منور ہیں ہی لیکن عامۃالناس پر یہ پیمائشیں اثراندازہوتی ہیں۔ فلم تین گھنٹے کی دیکھنے کے بعد بھی وقت کا پتہ نہیں چلتا اور نماز کا آدھاگھنٹہ بھی بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہماری
    روح، ضمیر اور سوچ کی سمت کاتعین کرتی ہیں۔ قبرکے امتحان میں اگر کامیاب ہو گئے تو صدیوں کی زندگی چند لمحوں میں گزرجائے گی اگر خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو ایک ایک لمحہ اذیت ناک گزر ے گا اور کوئی چھڑانے والا بھی نہیں ہو گا۔
    قارئین محترم!دنیا میں اربوں کھربوں انسان آئے،انتہائی مختصر زندگی بسرکی اوراپنا باب زندگی سمیٹ کر چل بسے۔انسان کے جانے کے بعد بھی اگرکسی شخص کا تذ کرہ ہوتاہے تو صرف اُس کے کردار کی بدولت ہوتا ہے۔ مال ومتاع،جاہ ومنصب توعارضی چیزیں ہیں۔ لیکن وہ چیز جوزندگی کےبعدبھی انسان کوجلاہ بخشتے گی وہ اس کا کرداراورمشن ہے۔روز ازل سے دو کردارہمیشہ مدمقا بل رہے ہیں۔لیکن بے سرو ں سامانی کے با وجود فتح نے ہمیشہ حق کےپلڑے میں اپناجھکاؤ رکھا۔معرکہ کربلا ہو یا نمرود کے دربار میں حضرت ابرا ہیم ؑ، غزوہ بدر ہو فرعون کے مقابلہ میں موسی ؑکاکردار، ہمارے لیےحق والوں کی معیت مشعل راہ رہی ہے۔ نمرود، فرعون، یزید اور ابو جہل مال ومتا ع، روپے پیسے، جاہ ومنصب اور حواریوں کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود مٹ گئے۔آج ان کا نام لیوا تک نہیں رہا۔لیکن نیکوں کاروں کی سنگت کر نے والا چاہے اصحابِ کہف ؓ کا کتا ہو یا حضرت سلیمانؑ کے راستے پرآنے والی چیونٹی۔ان کے نام تا قیامت زندہ و تابندہ رہیں گے۔آج یہ کہاجاتا ہے کہ اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرو توجواب ملتاہےکہ ایک بندے کی کوشش سے کیا فائدہ ہو گا؟لیکن اصل بات کردارکی ہے۔حضرت ابرا ہیم ؑ کے لیے جب آگ جلائی گئی تھی تو ایک گرگٹ دورسے پھو نکیں مارنےلگا۔تا کہ آگ کی تپش میں اضافہ ہو جائے۔ وہ ایسا کر تو نہ کر سکا لیکن قیامت تک کے لیے نشان عبرت بن گیا۔ایک چڑیا اپنی چونچ میں پانی لاتی تاکہ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے جلائی گئی آگ کو بجھا ئے گو کہ وہ آگ کوبجھاتونہ سکی لیکن بجھانے والوں میں شامل ہو گئی۔آج صدیوں بعد بھی اُس کا تذکرہ ہوتا ہے۔آج لاکھوں کی تعدادمیں کفارنے اسلام کے خلاف ویب سائٹس
    لانچ کی ہو ئی ہیں۔جو مختلف میڈیا کے ذریعے ہماری نئی جنر یشن کے قلوب واذہان پر اثرات مرتب کر رہی ہیں۔کفار نے پلانگ کے تحت ہمیں مغلو ب کر نےکے لیے صدیوں پر محیط ورکنگ کی ہو ئی ہے۔ برِصغیر کے وائسرائے لارڈمیکا لے نے 1835 میں رعب ودبدبہ بٹھا نے کے لیے کہا تھا”یو رپ کی ایک الماری کی کتابیں برصغیرکے سارے لٹر یچر سے بہترہیں“۔حالانکہ اسے نہیں پتہ تھا کہ اس برصغیرکیے لٹر یچر میں قر آن مجید بھی ہے۔جس سے تمام علوم کے سر چشمے پھوٹتے ہیں۔اس نظریے کا تسلسل آج بھی نظر آرہاہے۔ہمارے لوگ یورپ کی نمو دو نما ئش سے مرعوب ہو کر وطن عز یز پاکستا ن کو چھو ڑ کر وہا ں رہا ئش پز یر ہو کر مغلوبی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
    اگران تمام حالات کو بنظر غائر دیکھیں تو قصورہمارااپناہی ہےاجتماعی طورپریہ سوچ غالب ہو تی جارہی ہے کہ اگرمیں اپنے حصے کا کردارنہ بھی اداکروں توخیرہے کیوں کہ باقی جو سب اپنا کرداراداکررہے ہیں،حالانکہ ایساہوتانہیں۔ایک بادشاہ نے اپنی راعیہ سے کہا کہ تمام لوگ رات کےاندھیرے میں اس تالاب میں ایک ایک گلاس دودھ کا ڈال دیں جب صبح اٹھ کربادشاہ نے دیکھا تو ساراتالاب پانی کا بھراہواتھا۔اس نے جب معاملے کی تحقیق کی تو پتا چلا کہ ہر بندے کی سوچ یہ تھی کہ میرے ایک گلاس پانی ڈالنے سے کیاہو گاجب باقی سب نے دودھ ڈالناہے۔ یہ سوچ کروہ سبھی پانی کاگلاس ڈالتے رہے اور ساراتالاب پانی سے بھر گیا۔یوں اگرانفرادی کوشش نہ کی جائے تو نتیجہ غلط نکلتاہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے حصے کاکرداراداکرتے جائیں اورنتیجہ اللہ پرچھوڑدیں تو ضرور بہتری آئے گی۔
    ہم دھوکہ کھانے کہ اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ سچے لوگ سامنے آنے پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ اور ہاں! اگر دھوکہ کھانا ہی ہے تو کم از کم اسلام کےنام پر توکھائیں،نیت سچی ہونے کا ثواب تو مل جائے گا۔ حضرت عمر ؓ اپنےجس غلام کو دیکھتے کہ لمبی نماز پڑھ رہا ہے آپ ؓ اسے آزاد کردیتے،کسی نےکہا کہ یہ آپؓ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں تو آپ ؓنے فرمایا کہ (مفہوم)کہ میں اللہ کے نام پرایسے ہزاردھوکے کھانے کو تیارہوں۔ترکی میں ہم نے دیکھاکہ عوام نے طیب اردگان کی ایک کال پر اتنی بڑی بغاوت کو کچل کر رکھ دیا۔ایسا تب ہوتا ہے جب لیڈر قوم کی توقعات پرپورا اترتا ہو۔مسلم اُمہ کی عوام کی سب سے بڑی توقع ایک ہی ہے کہ پوری دنیا پر اسلام کاپرچم بلند ہوجائے تاکہ برما،فلسطین،کشمیر،عراق
    ،افغانستان اورشام پرکفارکی بربریت ختم
    ہو جائے اور ان کامال، جان، عزت اورآبرو محفوظ ہوجائے۔معیشت کی ثانوی
    حیثیت ہے وہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔عوام کے جذبات اور اُمنگوں کی
    ترجمانی کرنے والالیڈر جب بھی مل جائے گا ملک کی ترقی و خوشحالی کی منازل
    بڑی برق رفتاری سے طے ہوں گی۔اقبالؓ کی روح تو آج بھی کہ رہی ہے۔
    نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
    حضور ﷺنے فرمایا تھا کہ (مفہوم) ”کفار کا سب سے پہلا حملہ میری
    اُمت کے نظام حکومت پر ہوگا،اور سب سے آخر پر حملہ نمازپرہوگا“(مستدرک
    الحاکم)۔توآج وطنِ عزیزکے نظام کو کفار دوست ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے
    لیے ما لی و بدنی کرداراداکرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو قائد
    اعظم اور علامہ اقبالؒ کے ویژن کے مطابق محفوظ اور خوشحال پاکستان فراہم
    کر سکیں۔

    DrAkAliOfficial

  • سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    ہر کوئ چاہتا ہے کہ انہیں صاف و شفاف ماحول ملے لیکن بدقسمتی سے ہم وہ لوگ ہے جو کہ اپنے ماحول کو صاف بنانے کیلۓ کچھ بھی نہیں کر رہے اور ہر روز اپنے ماحول کو بدترین بنا رہے ہے ۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ صفائ نصف ایمان ہے ۔ یعنی صفائ ہمارے ایمان کا آدھا حصہ ہے ۔ چونکہ ہم مسلمان ہے اور حضورﷺ کو اپنا آخری نبی مانتے ہے تو ہمیں چاہئیے کہ ہم حضورﷺ کی اس بات پر عمل کرتے ہوۓ صفائ کو اپنا نصف ایمان بناۓ۔ اس سے ہم نہ صرف ہمیں فائدہ پہنچے گا بلکہ ہمارا ملک بھی صاف رہے گا اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
    پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ملکوں میں سے ہوتا ہے جو کہ آلودگی سے بری طرح متاثر ہے۔ اور یہ سب کچھ ہماری خود کی وجہ سے ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی خاص وجوہات میں شامل ایندھن کا جلانا، سڑک کے اطراف کچھرا پھینکنا، جنگلات کی کٹائ، گاڑیوں اور بجلی کے آلات کا غیر ضروری استعمال، کیڑے مار ادویات کا غلط استعمال اور صنعتی فضلہ یہ سب ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ کر رہے ہے جو کہ ماحولیاتی آلودگی کا بنیادی وجوہات ہے۔
    جب گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ موسم کی تبدیلی میں بھی شدت سے اضافہ ہوتا ہے ۔ اس موسمیاتی تبدیلی کے نتائج ہمارے خوراک، موسم، اور ہمارے صحت پر بھی پڑتا ہے۔
    نیشنل جیوگرافک کے مطابق موسمیاتی حالات میں شدت کی وجہ سے گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا جیسے برف کی چادریں پگھل جاتی ہے اضافی پانی جو کہ کبھی گلیشئرز میں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سے سمندر میں پانی کافی حد تک بڑھ جاتی ہے جو کہ ساحلی علاقوں میں سیلاب کا سبب بنتا ہے۔
    ماحولیاتی آلودگی ہمارے لیۓ ایک بہت ہی خطرناک صورتحال پیدا کرسکتا ہے ۔ جب اگر بارشیں نہیں ہوگی تو ہماری زمینیں زرخیز نہیں ہوگی۔ جب زمینیں زرخیز نہیں ہوگی تو فصل سہی نہیں ملےگا اور جب سہی فصل نہیں ملے گے تو اچھی صحت نہیں ہوگی اور بیماریاں زیادہ ہونگی کہیں ہم خشک سالی کا شکار ہونگے اور کہیں سیلاب کا۔ ہمارے پاس بھوک سے مرنے والے چہروں کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
    ہمیں اگر اپنے ملک پاکستان کو آلودگی سے پچانا ہو تو ہمیں چاہئیے کہ پولی تھین بھیگ کا ہرگز استعمال نہ کرے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بہت چھوٹی چیز ہے لیکن زمینی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ یہ بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے .پولی تھین بیگ بہت نقصان دہ ہیں جن کا دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا لہذا ہمیں اس کے استعمال پر پابندی عائد کرنی ہوگی. شمسی اور ہوا سے توانائی کا استعمال کیا جانا چاہئے جو گرین ہاؤس گیس کا اخراج پیدا نہیں کرتا ہے۔ بہاولپور میں پاکستان کا فوٹو وولٹک پاور اسٹیشن ، 100 میگاواٹ کا قائد اعظم سولر پارک کام کر رہا ہے.
    ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے باقائدہ حکومتی سطح پر بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کے تحت پورے ملک میں 1 بلین درخت اگاۓ جائینگے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ یہ ایک انتہائ سحر انگیز اقدام ہے ۔ جس میں نہ صرف درخت اگانے ہے بلکہ جگہ جگہ پر جو گندگی پڑی ہے اس کا بھی خاتمہ کرنا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم حکومت کے ساتھ بلین ٹری سونامی میں جوش و جزبے کے ساتھ شامل ہو

    جیسا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ ہمارے ایک متحدہ عمل اور منزل مقصود پر اعتماد کے ساتھ ہی ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت میں تبدیل ہونے میں کامیاب ہونگے۔ پاکستان کو صاف و شفاف اور سرسبز و شاداب بنانا بھی ہمارا ایک خواب ہے جسے ہم ایک دن ضرور پورا کرینگے. اور اپنے ملک سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کرینگے۔ اپنے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ ہر پاکستانی سے درخواست کرونگا کہ اس مون سون میں اپنے حصے کا ایک پودا لازمی لگواۓ.

    Waseem khan
    Twitter id: @Waseemk370

  • موجودہ دور میں پاکستانی ڈراموں کا معیار  تحریر: سید محمد مدنی

    موجودہ دور میں پاکستانی ڈراموں کا معیار تحریر: سید محمد مدنی

    میں ان میں سے ہوں جس نے موجود دور کے ایک یا دو ڈرامے مشکل سے دیکھے ہوں گے اب پاکستانی ڈرامے سبق آموز نہیں بلکہ نوجوان نسل کو بگاڑتا اور انھیں نت نئے فسادات کروانے پر اکساتا ہے آپ نوے کی دہائی میں جائیں یا اس سے بھی پہلے تو آپ کو بہترین ڈرامے دیکھنے کو ملتے تھے اور سبق آموز ہؤا کرتے تھے اب صرف بے باکی ریپ تشدد گلیمر عشق دولت ساس بہو ناچاقی نند بھاوج کی لڑائی دیور بھابی جیسے مقدس رشتے کو غلط رمگ دے کر عشق دکھانا بس اس پر توتوجہ دی جاتی ہے
    کیا وجہ ہے کہ ترکی کا ایک ڈرامہ ارطغرل اتنا مشہور ہؤا ہے پاکستان میں بھی برصغیر پاک و ہند پر ڈرامے بنے ایک بہت پرانا ڈرامہ تعبیر بنا تھا بہت عمدہ تھا مگر اب نوجوان نسل کو اول فول چیزوں کا اتنا دلدادہ بنا دیا گیا ہے کہ وہ کچھ اور پسند ہی نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ تو بورنگ ڈرامہ ہے معین اختر مرحوم کا ایک ڈرامہ روزی آیا جسے بہترین انداز میں بنایا گیا میری ناقص معلومات کے مطابق معین اختر نے عورت کا روپ دھارنے والا ایک ہی ڈرامہ کیا بظاہر انھوں نے ایک عورت کا روپ دھارا لیکن اس ڈرامے میں ایک سبق تھا کہ عورت ہونا اور اس کے لئے زندگی کا مقابلہ کرنا کتنا سخت مرحلہ ہے اورچروزی روٹی کے لیے کتنی مشکلات آتی ہیں مگر آج کل کے دور میں آپ جب تک بے ہودگی نا دکھائیں آپ کا ڈرامہ مکمل ہی نہیں ہوتا اور اب اس بے ہودگی کو فیشن اور ماڈرنیزم کا نام دے دیا گیا ہے آپ شائد مجھ سے ایگری نہ کریں مگر اب کے ڈراموں کا اثر بہت حد تک اور بہت جلدی پڑتا ہے کیا وجہ ہے کہ ہمارے ڈرامے ایک دور میں بھارت میں مقبول تھے اور اب ہم نے ان کی کاپی کرنا شروع کر دی ہے افسوس ہمارا معیار اب وہ نہیں رہا جب تک ہم اپنا کھویا ہؤا معیار واپس نہیں لاتے کامیابی حاصل نہیں کر سکتے
    آپ اپنے ڈراموں میں اپنی تاریخ کے حوالے سے بتائیں جیسے کے پاکستان جب آزاد ہؤا تو کس کس طرح سے بھارت سے لوگ بھاگے جب پاکستان آزاد ہو رہا تھا تو اس الگ ملک کا خواب دیکھنے والے بھارت سے بھاگ کر پاکستان پہنچنے کی کوشش کرنے لگے لیکن راستے میں جو ان کے ساتھ ظلم ہوتا وہ بیان کرنا بہت مشکل ہے انھوں نے بہت تکلیفیں اٹھائیں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ اپنی ثقافت اپنا کلچر اور اپنی روایات کے مطابق ہی ڈرامے بنانے چاہئیں ورنہ ہم اپنا کھویا ہؤا مقام واپس حاصل نہیں کر سکتے
    پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں کمی بس بہترین ڈرامے لکھنے کی ہے پہلے جب پاکستانی ڈرامے آیا کرتے تھے تو لوگ اس دن کی تاریخ پر شادی بیاہ کا فنکشن تک نا رکھتے تھے اور جب وارث ڈرامہ آتا تھا تو سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں یہ میں نے اپنے والد والدہ سے سنا اور پھر ٹی وی کے بہترین کردار اور ایکٹرز ایکٹریسز سے بھی ہماری تاریخ واقعات سے بھری پڑی ہے اگر عسکری حوالے سے دیکھا جائے تو کتنے اہم واقعات ہوئے پاکستان آرمی کے حوالے سے بھی بہترین ڈرامے بنے ہیں جیسے سنہرے دن ایلفا براوو چارلی لیکن مزید ڈراموں کی شدت سے ضرورت ہے تحریک پاکستان اور آزادی پھر کارگل کی جنگ، ٦٥ اور ٧١ کی جنگ ان سب سے متعلق اور بھی ڈرامے بننے چاہئیں پرانے دور میں کچھ ڈرامے بنے تو تھے مگر اب ناپید ہوچکے ہیں اسی طرح پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی کے حوالے سے بھی کچھ ڈرامے بنے مگر اب نظر نہیں آتے ہمیں اپنہ تاریخ دکھانی ہے نا کہ دوسرے ملک کے ڈراموں کو پروموٹ کرنا ہے

    پاکستانی ڈراموں کو بہترین بنائیں تاکہ ہماری نسلیں کچھ سبق حاصل کر سکیں اور اس پر عمل بھی کر سکیں
    بس یہی میں کہنا چاہتا تھا

    @ M1Pak

  • مہنگائ۔حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن  تحریر-سید لعل بُخاری

    مہنگائ۔حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن تحریر-سید لعل بُخاری

    حکومت کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اپوزیشن تو اپنی موت آپ مر چُکی ہے-
    مگر بُری خبر یہ ہے کہ بڑھتی ہوئ مہنگائ اور اس کے بڑھنے پر مناسب چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا،عوام کی کمر توڑ رہا ہے۔
    جو حکومت کے لئے یقینا” باعث تشویش بات ہے-
    اس حوالے سے کوئ بھی حکومتی موقف لوگوں کو اس وقت تک مطمئن نہیں کر سکتا،جب تک مہنگائ کو کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے جائیں۔
    مہنگائ کی بات کرتے وقت یہ حقائق ہمارے زہن میں ہونے چاہییں کہ خصوصا” کرونا آنے کے بعد مہنگائ کی لہر
    بین الاقوامی طور پر آئ ہے۔بعض چیزوں مثلا”خوردنی تیل وغیرہ کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بھی دو سو فیصد تک بڑھی ہیں۔
    علاوہ ازیں پاکستان بننے کے بعد سے مہنگائ کبھی ایک جگہ رُکی نہیں۔کبھی کم بڑھی،کم زیادہ لیکن بڑھی ضرور
    مہنگائ بڑھنے کی شرح کے لحاظ سے جنرل ضیاالحق مرحوم کا دور سب سے بہترین تھا،اس وقت فوجی حکومت ہونے کی وجہ سے چیک اینڈ بیلنس بہت اچھا تھا۔
    مافیاز خوف زدہ رہتے تھے کہ اگر بلاوجہ چیزوں کے نرخ بڑھاۓ تو مشکلات پیدا ہونگی۔اسی کے باعث اعداد و شمار کے لحاظ سے وہی گیارہ سالہ دور تھا جب عوام مہنگائ کے ہاتھوں قدرے کم ستاۓگئے ورنہ تو ہمیشہ ہی سے
    بے چارے لوگ مسلسل مہنگائ کی چکی میں پستے آرہے ہیں
    موجودہ مہنگائ کے پیچھے وہ مافیاز بھی کارفرماہیں،جن کی آبیاری نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے بعض کرپٹ راہنماؤں نے کی۔اُن کی جڑیں اب اتنی مضبوط ہو چُکی ہیں کہ وہ جب چاہییں مارکیٹ میں اشیاۓ ضروریات کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کروا لیتے ہیں،چینی اسکینڈل اسکی ایک مثال ہے۔
    ان سب حقائق کے باوجود حکومت کو اسکی زمہ داری سے استثنا نہیں دیا جا سکتا۔
    معاشرے میں کوئ بڑے سے بڑا بدمعاش بھی حکومت سے تگڑا نہیں ہو سکتا۔
    ایسے معاشرتی ناسوروں کو کُچلنے کے لئے مزید قانون سازی کریں،کسی بھی قسم کی چور بازاری کا خاتمہ کرنے کے لئے سخت سے سخت سزائیں دیں۔اسسٹنٹ کمشنرز کے اختیارات بڑھائیں۔مختلف چھاپہ مار ٹیمیں بنائیں۔ان ٹیموں میں کام کرنے والے افراد کو ترغیبات دیں
    کچھ بھی کریں۔عوام کو اس مہنگائ کے عفریت سے نجات دلائیں
    اپوزیشن اگرچہ اپنے کرتوتوں اور باہمی خلفشار کے باعث بیک فُٹ پر جا چکی ہے،۔
    ایسے میں حکومت کی اصل اپوزیشن یہی مہنگائ ہے۔جس پر کنٹرول حاصل کر کے حکومت عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کر سکتی ہے۔
    اللہ تعالی کے فضل و کرم وحکومت کے کچھ اچھے اقدامات سےملکی معاشی صورتحال بھی اب بہتر ہے۔
    سیاسی طور پر بھی
    پُر سکون حالات خصوصا”آزاد کشمیر کا الیکشن جیتنے کے بعد پی ٹی آئ حکومت کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں عوامی فلاوبہبود پر صرف کرے اور پریشان حال عوام کی جائز پریشانیوں کا مداوا کرے#

    تحریر-سید لعل بُخاری
    @lalbukhari

  • گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    آپ نے اکثر سنا ہوگا گلگت بلتستان سوزیرلینڈ سے خوبصورت ہے کبھی دنیا کے کسی اور ترقی یافتہ ملک سے تشبیح دی جاتی ہے۔ اب یہ نعرے سن کے ہمارے سادی عوام واہ واہ کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان دس اضلاع اور تین ڈویژن پہ مشتمل علاقہ ہے یہاں کی آبادی تقریبا بیس لاکھ اور ایریا اٹھائیس ہزار مربع کلو میڑ ہے۔ گلگت بلتستان کا جغرافعہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ گلگت بلتستان کی سرحدیں چین روس کی ریاست تاجکستان بھارت کے زیر انتظام علاقوں سے لگتی ہیں۔ گلگت بلتستان جانے کے لیے آپ کے کے ایچ یا بابوسر روڈ کا استعمال کرسکتے ہو۔ اس کے علاوہ چترال سے شندور کے راستے سے بھی جاسکتے ہو۔

    یہ تھا ایک مختصر سا تعارف باقی گلگت بلتستان خوبصورتی کے لحاظ سے بیشک دنیا کے چند ایک علاقوں میں سے ہے۔ لیکن اس علاقے کے باسی اکیسیوں صدی میں بھی بنیادی انسانی ضروریات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں ۔ میں گلگت بلتستان کے چیدہ چیدہ مسائل آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ مثلا بجلی کا شدید بحران ہے صاف پانی ۔تعلیمی ادارے۔ میڈیکل کالج انجنئنرینگ یونیورسٹی ٹیکنکل کالج انٹرنیٹ صحت کا نظام یہ سب کے سب یا تو ہے ہی نہیں اگر ہے تو ناکارہ ہے۔ اب کچھ سوال اٹھائیں گے کہ گلگت بلتستان کے لوگ بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں تو ان کے تسلی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ حضور ہمارے ہاں جن علاقوں میں تعلیم بہتر ہے وہ پرائیویٹ سیکٹر کی وجہ سے ورنہ سرکاری سکول کم بھوت بنگلہ زیادہ لگتے ہیں۔ ایک اہم بات گلگت بلتستان سے شاید ایک فیصد بچہ یونیورسٹی لائف دیکھ سکتا ہے۔ باقی میڑک کے بعد یا تعلیم کو خیرباد کرکے فوج میں بھرتی ہو جاتے ہیں یا علامہ اقبال سے بی اے بی ایڈ کر کے استاد بھرتی ہوجاتے ہیں یا کسی اور ادارے میں۔ چونکہ میں نے پہلے بجلی کی بات کی تھی تو اس پہ آپ کو اس بابت تھوڑی تفصیل دیتا چلوں۔ گلگت بلتستان کو بجلی کی جو ضرورت ہے وہ تقریبا دوسو دس میگاواٹ تک کی ہے۔ اس وقت جو پاور ہوسسزز سرکاری کھاتوں میں ہیں وہ تو اس سے شاید زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہوں لیکن حقیقت میں اس وقت گلگت بلتستان میں بیس بیس گھنٹوں کے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے کئی علاقوں میں دو دو دن بعد نمبر اتا ہے۔ اب جب بجلی نا ہو تو ذندگی کے تمام پہیے جام ہوجاتے ہیں بجلی کا ڈاریکٹ لینک تعلیم کے ساتھ صحت کے ساتھ انڈسٹری کے ساتھ ہے انٹرنیٹ کے ساتھ یےاور صاف پانی کے ساتھ ہے۔ گلگت بلتستان کسی ایک شہر میں اگر صاف پانی بجلی انٹرنیٹ صحت اور تعلیم کا نظام موجود نہیں ۔صورت حال اس قدر ابتر ہے کہ گلگت شہر جو کے دارلخلافہ یے وہاں پہ لوگوں کو صاف تو چھوڑو گندہ پانی پینے کو نہیں مل رہا آئے روز جلسے جلوس ہوتے ہیں تو باقی شہروں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ اب یہ مت پوچھنا وہاں اتنے بڑے دریا ہے تو پانی کا مسئلہ کیوں تو یہ نالائقیاں حکمرانوں سے لیکر انتظامیہ سب کی ۔ ہمارے ہاں ایک محکمہ ہیں جس کا کام چور پیدا کرنا جیسے عرف عام میں پی ڈبلیو ڈی کہا جاتا ہے یہ محکمہ اس قدر کرپٹ ہے یہاں سیکٹری سے لیکر منشی تک سب کرپشن کرتے ہیں اب اس ادارے کے حوالے سے کسی اور دن لکھوں گا۔ تعلیم اور صحت معاشرے کے دوبنیادی ستون ہیں لیکن جی بی میں ان دونوں کے حالت قابل رحم ہے ہسپتالوں کے حالت یہ ہے کہ جہاں ڈااکٹر ہے وہاں مشنری نہیں اور جہان مشنری ہے وہاں ڈاکٹر نہیں ۔ہمارے ایک عزیز سرجن ہے ان کا دیامیر ہسپتال میں دو سال ڈیوٹی رہی ان کا کہنا ہے وہ جس شعبے کا ماہر وہاں اس کے بنیادی آلات ہی نہیں تھے مجھ سے میڈکل افسر کا کام لیا گیا ۔باقی تعلیم وہ تو ناپید ہے۔ جو پرائیویٹ فیس افورڈ کر سکتا ہے وہ بچوں کو پڑھاتا ہے ورنہ اکثر و بشتر دیہی سکول میں پڑھنے والے بچے میڑک کرنے کے کے بعد بھی درخواست نہیں لکھ پاتے ہیں ۔اب آپ فیصلہ کریں گلگت بلتستان مسائلستان ہے کہ نہیں ؟

    @rohshan_Din

  • کیا آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟  تحریر: ماہا ارشد

    کیا آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟ تحریر: ماہا ارشد

    تاہم جب ورزش کرتے ہیں تو کیا محسوس ہوتا ہے؟ ورزش آپ کے عروقی نظام (آپ کے دل اور پھیپھڑوں) کو بہتر بنانے ، صحت مند ہڈیوں ، پٹھوں اور جوڑ کو بڑھانے اور صحت مند وزن برقرار رکھنے میں معاون ثابت کرنے کے لئے سمجھی جاتی ہے۔ متعدد دائمی بیماریوں کو روکنے اور ان کا انتظام کرنے کو بہتر بناتی ہے. ورزش کو اجتماعی طور پر بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے موثر دکھایا گیا ہے ، جیسے پولیجینک بیماری اور امراض قلب۔

    ورزش کے ان فوائد کا شاید آپ نے پہلے ہی پتہ لگا لیا ہو۔ تاہم ، جب آپ ورزش کریں گے تو کیا آپ کا دماغ ترو تازہ محسوس ہوگا؟ کیا کوئی خوشی محسوس ہو گی ؟ کیا نیند آنے میں آسانی ہو گی؟

    ذہنی بیماری
    بالکل اسی طرح جیسے ہم وقتا فوقتا بیمار ہوجاتے ہیں سر درد یا بخار ہونے کے بعد) اس طرح ہمارے دماغ کے اجزاء بھی ہوسکتے ہیں جو ہم محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کی عدم صحت کو ذہنی کیفیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسے "قلبی مرض” جیسے امراض کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی وضاحت کے لئے کام کیا جاتا ہے ، آپ ذہنی حالت کے بارے میں سوچیں گے کہ دماغ کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی وضاحت کے لئے ایک وسیع اصطلاح ہے۔ ذہنی حالت میں ان حالات کا پھیلاؤ بھی شامل ہے جس کا آپ نے پتہ لگایا ہو ، نیز افسردگی اور اضطراب بھی ، ذہنی حالت کا تجربہ بڑے پیمانے پر بزرگ افراد کے لئے ہوتا ہے ، اس کے نتیجے میں انہیں روزانہ کچھ کرنے کی کوشش کرنے کے لئے صرف کچھ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے. اور ان کی ذہنی حالت کا سبب بننے والی چیزوں میں کم حرکت اور زیادہ سوچنا شامل ہے. ۔ بزرگ افراد کو ان کی ذہنی حالت سے دور کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرنےچاہیے
    نفسیاتی حالت اور ذہنی حالت کے مابین فرق جاننا ضروری ہے۔ آپ کو خراب نفسیاتی حالت کا تجربہ کرنے کیلئے تشخیص شدہ ذہنی حالت کی ضرورت نہیں ہے۔
    جسمانی بیماریوں کی طرح ، ذہنی حالت کا سامنا کرنے والے افراد عام طور پر ورزش میں باہمی روابط رکھنا زیادہ پائیدار محسوس کرتے ہیں اور ، اوسطا ، زیادہ دیر تک غیر فعال (بیٹھنا یا لیٹنا) گزارتے ہیں ، جسے ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ہماری صحت کے لئے غیر صحت بخش ہے۔ ایک بار جب آپ پریشان محسوس کرتے ہیں تو ورزش کریں۔یہاں تک کہ عام آبادی میں بھی ، ورزش کرنے کی ترغیب کم ہے ، جب کہ آبادی کا صرف پچاس حصہ جسمانی سرگرمی کی صلاحی مقدار حاصل کرتا ہے۔ لہذا ، یہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ دماغی حالت کے حامل افراد مربع پیمانہ عام طور پر اس سے بھی کم منتقل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

    جسمانی ساخت پر ذہنی حالت کے اثرات
    دماغی بیماری کسی کے روایتی جسمانی کام کو خراب کردے گی۔ اس کے نتیجے میں سنگین جسمانی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ دباؤ جیسے مسائل بھی ہوں گے۔

    ہائی پریشر
    ذہنی بیماری تناؤ کی شدید سطح کا سبب بنے گی اور دباؤ بڑھائے گی جس
    کے نتیجے میں دل کا فالج اور دماغی ہیمرج ہوسکتا ہے۔

    تھکاوٹ
    ذہنی بیماری تھکاوٹ اور جاگنے کا سبب بنے گی (بے خوابی)

    بھوک میں کمی
    دماغی بیماری کھانے کو کم ہضم کرنے سے پیٹ اور بھوک کو پریشان کرتی ہے

    علاج
    ہمیں فی الحال سمجھنا ہے کہ ورزش مختصر اور طویل دماغی حالتوں میں رہنے والے افراد کی دیکھ بھال کا ایک انتہائی ضروری حصہ ہوگا۔ ورزش موڈ کو بہتر بنائے گی اور ذہنی حالت کی علامات کو کم کردے گی ، نیز افسردگی اور اضطراب کو بھی۔ ورزش سے نیند کا معیار بھی بہتر ہوسکتا ہے ، توانائی کی سطح میں اضافہ اور دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ خود اعتمادی بڑھانے اور ہر میموری اور حراستی کو بہتر بنانے کے لیے ورزش بہت اہم ہے۔ مزید یہ کہ ورزش ان فوائد کی پیش کش کرتی ہے جبکہ مضر اثرات کا خطرہ نہیں ، اگر ورزش کی گولی ہوتی تو ، یہ ہر ایک کے لئے ہر ڈاکٹر کے ذریعہ مریض کو دی جاتی ہے۔

    مشق کا فائد
    حیاتیاتی میکانزم کی شرائط میں ، ورزش کو انور باؤنڈ کیمیکلز میں تبدیلیوں کا سبب دکھایا گیا ہے جن کو انڈورفنز کہا جاتا ہے۔ اینڈورفنز اسکوائر کیمیائی میسینجر کی جانچ پڑتال کرتے ہیں جو پورے مشق میں درد اور تناؤ سے نجات فراہم کرتے ہیں۔ ورزش قزاق سے ڈوپاسٹیٹ ، کیٹکولامین ، اور مونوامین نیورو ٹرانسمیٹرز کے نام سے جانے والے مختلف کیمیکلوں کے خارج ہونے کی ترغیب دیتی ہے … یہ دماغی کیمیکل ہمارے موڈ کو کنٹرول کرنے میں ایک اہم نصف ادا کرتے ہیں۔ در حقیقت ، وہ مربع پیمانہ ہیں.
    ورزش باآسانی کورٹف کے نام سے جانے والے تناؤ کے خاتمہ کی ڈگری کی پیمائش کرنے میں معاون ہوتی ہے ، لہذا ہم کم تناؤ محسوس کرتے ہیں۔
    آخر میں ، ورزش کو متنوع بنائے جانے والے طریق کار کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے
    ورزش کرنے سے اکثر نفسیاتی حالت کو تقویت نہیں ملتی ہے ، تاہم ، اس کے علاوہ جسمانی صحت کے لئے بہت زیادہ مفید ہے

    دورانیہ
    عام آدمی نفسیاتی حالت اور جسمانی خوشحالی کا خیال رکھنے کے لیے آدھے گھنٹہ معیاری ورزش کافی ہے۔ ورزش ایک شخصیت کے مزاج کو تیز کردے گی.
    وقت
    چلنا پھرنا بھی ایک طرح کی ورزش ہے ، صحتمند چہل قدمی خوبصورت نتائج فراہم کر سکتی ہے ، اس سے بھوک اور نیند کو تقویت ملتی ہے ایک شخص کو ہر دن تیس سے چالیس منٹ تک چلنا چاہئے. صبح کے چلنے سے آپ کا موڈ حالیہ ہوجاتا ہے ، توجہ اور تخلیقی سوچ کے ساتھ آپ کی مہارت میں اضافہ ہوگا۔
    روزانہ چلنے اور ورزش کرنے سے صرف نفسیاتی حالت برقرار نہیں رہتی ہے۔ اس سے اعزازی طور پر ذہانت کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے. .

    اگلا قدم
    ان فوائد کے بارے میں جاننا اچھا ہے ، تاہم ، اگر ہم اپنی ذہنی حالت کے علاج کے طریقہ کار کو تبدیل نہیں کرتے ہیں تو یہ یقینی بناتے ہیں کہ ورزش علاج کے ایک حصے کے طور پر منسلک ہے ، تو صرف سائنس ہی کسی کی مدد کرنے کا امکان نہیں ہے۔ اگرچہ اس وقت متعدد ممالک دماغی حالت کے علاج کے ایک حصے کے طور پر ورزش کو مجسم بناتے ہیں ، ہمیں جسمانی اور نفسیاتی حالت کی دیکھ بھال کے مابین تفریق کو توڑنے کے سلسلے میں ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔ اگرچہ ورزش ادویات یا مختلف علاج کا متبادل نہیں ہے ، لیکن یہ ذہنی حالت کے علاج کا ایک اہم اور مددگار حصہ ہے۔
    ہم نے دماغی حالت کا سامنا کرنے والے افراد کے لئے ورزش کے فوائد کے سلسلے میں کافی بات کی ہے ، تاہم ، ورزش سے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ اس سے آپ خود کو زیادہ محسوس کریں گے حالانکہ اگر آپ پہلے ہی ٹھیک محسوس کررہے ہیں تب بھی. ہر ایک خود کو دماغی غیر صحت مند کہیں نہ کہیں پائے گا ، اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ پاگل نہیں ہیں۔ ورزش کے فوائد کا تجربہ کرنے کے لیے ، ذہنی حالت نازک ہونا ضروری نہیں ہونا چاہئے، ، نارمل آدمی کو بھی ورزش کرنا چاہیے۔ دنیا بھر سے معلومات کو جمع کرنے والے ایک بڑے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش آپ کے ذہنی دباؤ کے امکانات کو ختم کردے گی۔

    @mayajaal12345