دنیا میں آپ کہیں بھی دیکھ لیں لبرل اور سیکولر ملحد آپ کو مختلف نظر آئیں گے۔
لیکن ان میں کچھ چیزیں قدرے مشترک بھی ہیں۔
آپ کہیں بھی دیکھ لیں یہ لوگ نہ تو عیسائیت کے خلاف ہوں گے نہ بدھ ازم کے اور نہ ہی یہودیوں کے نہ ہی ہندو ازم کے۔
لیکن جب اسلام کا نام آتا ہے تو ان لوگوں کو موت پڑ جاتی ہے۔
یہ دوسرے مذاہب کے تہواروں کو تو کچھ نہیں بولتا بلکہ ان کو پسند بھی کرتا ہے۔
لیکن اس کو جمعہ میں لوگوں کے اکٹھے ہونے سے اور عیدوں کے اجتماع سے اک انجانی تکلیف ہوتی ہے ۔
دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں روزانہ پوری دنیا میں کے-ایف-سی میکڈونلز اور بھی بہت سارے برینڈز جانوروں کا گوشت کرتے ہیں۔
لیکن جب مسلمان سنت ابراہیمی ادا کرتا ہے تو ان کو جانوروں پر ترس آنا شروع ہو جاتا ہے ۔
اگر دنیا میں کہیں بھی لوگ اپنے تہواروں ہولی دیوالی پر فضول خرچی کر رہے ہوں ان کو بھری نہیں لگتی لیکن حج پر جانے سے روکتا ہے۔
کہ اس سے اچھا کسی غریب کو دے دو ۔
یورپ میں لوگ سال میں لاکھوں ہزاروں کی تعداد میں اپنے پوپ کی زیارت کرنے کے لئے ویٹیکن سٹی کا رخ کرتے ہیں۔
ہندو لاکھوں کی تعداد میں اپنے سالانہ میلوں میں مختلف مندروں میں شرکت کے لئے پورے بھارت سے اجتماع میں آتے ہیں۔
اور وہ وہاں پر اکٹھے ہو کر اپنی رسومات ادا کرتے ہیں ۔
یہودی بدھ ازم سبھی مذاہب مختلف علاقوں سے اپنے سالانہ تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
مجال ہے کہ ان کے کان پر جوں تک رینگتی ہو ۔
لیکن جب مسلمان حج کے لئے جمع ہوتے ہیں۔تو ان ہی لبرلز کی چیخیں آسمان تک سنائی دیتی ہیں۔
جب چرچ کی راہبائیں برقعہ پہنتی ہیں یہودیوں کی عورتیں برقعہ پہنے ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی ۔
مسلمانوں کی عورتوں کے حجاب پر اس کو کوئی اندرونی دکھ ہوتا ہے ۔
اور میں نے بہت سارے ایسے لوگوں کی وال پر کافی دفعہ یہ بات بھی پڑھی کے مسجد میں پیسے دینے سے یا مسجد میں کوئی چیز دینے سے بہتر ہے۔
کہ کسی غریب کی بیٹی کو بیاہ دو تو میں ان کو کہنا چاہتا ہوں۔
الحمدللہ غریب کو بھی دیتے ہیں اور مسجد میں بھی دیتے ہیں۔تم لوگوں کو یہ دکھ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ ہے سیکولرازم اور الحاد کا اصل دکھ اور ان کا اصل چہرہ۔ ان کی کتابیں، ان کے رسالے، ان کی ویب سائٹس، ان کے فیس بک پیجز ان کے ٹوئٹر اٹھالیں آپ کو صرف اور صرف اسلام اور شعائر اسلام سے نفرت ملے گی.
آپ تازہ صورت حال ہی دیکھ لیں بہت سے لوگوں نے عید قرباں پر لوگوں کو بھٹکانے کی کوشش کی ۔
یہ پیسے کسی غریب کو دے دو
ایک نے تو یہ بھی پوسٹ کی ہوئی تھی کہ میں ان پیسوں سے اپنے محلے میں ٹھنڈے پانی کا کولر لگواؤں گا ۔
کیا ان کو اب ہی یاد آتا ہے کولر لگوانا سارا سال کدھر سوئے رہتے ہیں۔
اس کے علاوہ بہت ساروں نے تو یہاں تک مخالفت کی کہ جانور کی زندگی کا سوال ہے ۔
اور ان ہی حضرات کی وال میں پوسٹیں لگی ہوئی تھیں۔
کہ آج نہاری کھائی کسی نے کڑاہی کھائی تب ان لوگوں کو یاد نہیں آتا ہے کیا کی جانور مر رہے ہیں۔ یا ان کو سنت ابراہیمی پر ہی یاد آتا ہے ۔
ویسے ایک بات اور بھی بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے لے جا رہے تھے۔
تو شیطان نے اس وقت بھی روکا تھا ۔
کیونکہ یہ ملحد اور سیکیولر ز نہیں یہ منافق ہیں اور انتہائی گھٹیا دشمن ہیں اسلام کے
Category: بلاگ
-

لبرل اور سیکولر اسلام دشمن ! تحریر: احسن ننکانوی
-

ایمانداری کیا ھے ؟ تحریر .ڈاکٹر راہی
دنیا کا کوئی قبیلہ دنیا سے الگ نہیں
اس کائنات کی کی جڑ ایک ہے
مرکز ایک ہے
ساری کائنات ہمارا وطن ہے
اس دنیا میں پائی جانے والی ہر چیز (سارے وسائیل)تمام انسانوں کا مشرکہ ورثہ ہیں
کوئی بھی زبان مستقل نہیں
کوئی بھی نظریہ حتمی نہیں
کوئی بھی تہذیب حرف آخر نہیں
کوئی بھی گروہ عقل کل نہیں
کوئی بھی شے کامل نہیں
تاریخ گواہ ہے ہزاروں بولیاں ماضی کا قصہ ہوگئیں
ہزاروں رسمیں بدلیں
خیالات نظریات بدل گئے رہن سہن انداز تقاضے بدلتے گئے
سوچ کی سمت ہمیشہ روشنی کی طرف ہے
کوئی بھی سرحد مستقل نہیں رہی
اس دھرتی پر حکومتیں سرحدیں ہمیشہ بدلتی رہی ہیں
دریاوں کے رخ بدل رہے ہیں
کبھی گلیشیرزکے تیزی سے پگھلنے کا خوف ہے تو کبھی اوزون تہہ کے تباہ ہونے کی تشویش
سمندر کی لہروں بدلتے موسموں زلزلوں خانہ جنگیوں نے انسان کو کبھی ٹکنے ہی نہیں دیا
بدلتے ہوئےحالات کےساتھ ساتھ ہر مذہب کوبھی نئے تقاضوں کے مطابق تشریح کی ضرورت پیدا ہو رہی ہے
تو کیوں نا؟
مل بیٹھ کر آئندہ نسلوں کو تصادم سے بچانے کی کوئی سبیل تلاش کی جائے
ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ اک دوسرے کو سنا جائے
باہمی احترام کو فروغ دے کر
مکالمے کے ذریعے مسائیل کا حل نکالا جائے
نیکی کوئی بھی گناہ گار شخص کر سکتا ہے
برائی کسی مومن سے بھی ہو سکتی ہے
ہدائیت پر سب کا برابر کا حق ہے یہ نصیب والوں کو ملتی ہے
ہدائیت کسی یہودی کو بھی نصیب ہو سکتی ہے کوئی مسلمان گھرانے میں پیدا ہو کر بھی بھٹک سکتا ہے
ہم نے خوامخواہ کی نفرتوں کی دیواریں بنا رکھی ہیں
نفرت بڑھنے کی وجہ طبقات کا اک دوسرے کے خلاف سنی سنائی باتوں پر یقین کرلینا ہے
دنیا میں جتنی بددیانتی اہل قلم کر رہے شاید ہی کوئی دوسرا طبقہ اتنی بد دیانتی کرتا ہو
اہل قلم نے اپنے اپنے طبقے کی خوشنودی کی خاطر قلم کے ذریعے ہمیشہ تصویر کا وہی رخ دکھانے کی کوشش کی ہے جس سے وہ راضی ہو
میں فنکشنل مسلم لیگ سے ہوں مجھے اس پارٹی کے سوا دوسری پارٹیوں کے خلاف بولنے میں آسانی محسوس ہوگی میں سنی ہوں شیعہ فقہہ کی خرابیاں خوب بیان کر سکتا ہوں
میں ہندوستان میں ہندو ہوکر مسلمانوں کی نیت پر سوال اٹھاوں گا کہ یہ بھارت سے مخلص نہیں
اور پاکستان میں مسلمان ہو کر ہندووں کی نیت پر شک کروں گا
پنجاب میں پیدا ہوکر سرائیکیوں کے خلاف سرگوشیاں کروں گا سندھی ہوکر پنجابیوں کو برا بھلا کہوں گا
ہر علاقے کی فضا الگ ہے
ہم نے اپنے دماغوں میں بھی ہر طرح کی سوچوں کی لکیریں کھینچ رکھی ہیں
مفادات کی خاطر ہم حالات سے سمجھوتا کر لیتے ہیں
جہاں ذاتی مفاد کی بات ہوتی ہےسچائی کو چھوڑ دیتے ہیں
ساری انسانیت تنہاتنہا ہوکر مر رہی ہے
ہم پر جو آسمانی آفات آتی ہیں وہ سرحدیں نہیں دیکھتیں رنگ نسل نہیں دیکھتیں
اکثر دیکھا ہے کہ قدرتی آفات کے سامنے بڑی بڑی سپر پاورز بے بس دکھائی دیتی ہیں
انڈیا میں سیلاب آئےیاایران میں زلزلہ امریکہ میں طوفان آئے یا کہیں قحط سالی دنیا کا کوئی بھی ملک تن تنہا کچھ نہیں کر سکتا ترقی کے اس دور میں بھی ہم اپنے آفت زدہ علاقوں سے زندہ لوگوں کو بر وقت بچا نہیں سکتے
ہمارا جینا مرنا اک دوسرے سےوابسطہ ہے ہم اک دوسرے کی ضرورت اور سہارا ہیں مگر ہم اپنا قیمتی وقت خواہمخواہ کی لڑائیوں میں ضائع کر رہے ہیں
وسائیل کی برابر تقسیم اور اور اک دوسرے کےوجود کو تسلیم کئیے بغیر کوئی بھی مسلہ حل نہیں ہو سکتا
سارا پاکستان ہندووں سے پاک نہیں ہو سکتا
سارا بھارت ہندووں پر مشتمل نہیں ہوسکتا
یہودی فلسطین میں بھی جی رہے ہیں مسلمان اسرائیل میں بھی ہیں
دنیا کے امن کے لئیے لازم ہے کہ دوسرے طبقے کی برائی دیکھ کر اس کی اچھائیوں یانیکیوں اور خدمات کو نظر انداز نہ کیا جائے
سنی سنائی باتوں پر رائے قائم نہ کی جائے
مخالفت برائے مخالفت نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا
ہم سچ صرف محدودلوگوں کے متعلق لکھتے ہیں
کوشش کر کے کبھی اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کیا جائے
جس دن ہم نے ایمانداری سے چیزوں کو پرکھنا اور ان کے متعلق ایمانداری سے لکھنا اور سوچنا شروع کیا
وہ کوشش پر امن دنیا کی منزل طے کرنے کے لئیے کسی عبادت سے کم نہیں ۔
Doctor Rahii -

مضبوط رشتے تحریر: ڈاکٹر زونیرا
انسان کی زندگی میں خوشی کا دارو مدار زیادہ تر اس کے رشتوں کی کوالٹی پہ ہوتا ہے۔ آپ کتنے بھی کامیاب ہوجائیں، کتنے بڑے عہدے پر چلے جائیں، کتنی دولت کما لیں لیکن جب تک آپ کے رشتے مضبوطی سے قائم نہیں ہوں گے، اپ دیرپا خوشی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان سماجی حیوان ہے، اسے ہر حال میں لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انسان کے رشتے مضبوط ہوں اور وہ رشتوں کے ساتھ مخلص ہو تو وہ دولت کے بغیر بھی خوش نظر آئے گا۔
ابراہم ماسلو (Abraham Maslow) ایک سائیکالوجسٹ گزرے ہیں۔ ان کی تھیوری کے مطابق انسان کی بنیادی ضروریات کے بعد اس کی دوستی اور رشتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس کو انسان کی ضرورت کہا ہے۔
رشتوں کو سمجھنا اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے ڈیل کرنا بھی ایک فن ہوتا ہے۔ رسمی تعلیم میں یہ چیز نہیں سکھائی جاتی۔ اس لئے جس کو جتنا سمجھ میں آتا ہے ویسا ہی نظریہ بنا لیتا ہے اور اس کے مطابق چلنے لگتا ہے۔ رشتوں میں پائیداری اور مضبوطی لانے کے لئے بہت سی چیزیں ہیں لیکن یہاں کچھ چیزوں کا ذکر کرتے ہیں۔
سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ سب انسان ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ سب کی ذہانت، پسند ناپسند، مقاصد، سوچ اور طریقہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ جب آپ یہ چیز سمجھ لیں گے کہ ہر کوئی آپ سے مختلف ہے تو آپ اپنی پسند اور نا پسند کو سختی سے نافذ کرنے سے رک جائیں گے۔ آپ کو پتہ ہوگا کہ آپ کی پسند یا ناپسند اگلے بندے کی پسند یا ناپسند نہیں ۔ ایسا انسان اپنے ہر عمل سے پہلے سوچے گا کہ اگلے بندے کو بھی پسند ہے یا نہیں۔ وہ ہر جگہ اپنی مرضی مسلط کرنے سے باز رہے گا۔ مثلا بچوں کو کس اسکول میں پڑھانا ہے، عید کی شاپنگ کب کرنی ہے، گھر میں فرنیچر کونسا ہونا چاہیے، وغیرہ۔ ایک چھوٹی سی مثال لے لیں اگر کوئی شخص ہر دفعہ اپنی مرضی کا کھانا اپنی بیوی سے بنواتا ہے، تو اس کو اپنا پسندیدہ کھانا تو ملے گا لیکن یہ ممکن ہے کہ اس کے رشتوں میں وہ مضبوطی نہ آئے ۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص خود اپنی بیوی کی مرضی کا کھانا باہر سے لے آئے گا۔ اپنی پسند کو چھوڑ کے اس کی پسند کو سامنے رکھے گا۔ تو ممکن ہے کہ اس کی بیوی دوسرے دن اس کی پسند کا کھانا بنایے اور اس کے رشتوں میں بھی کافی مضبوطی آ جائے۔ عورت کو تو ویسے بھی پیار دیا جائے تو وہ دگنا کرکے لوٹاتی ہے۔ یہ صرف ایک کھانے کی مثال تھی۔ اسی طرح آپ اپنے دوستوں میں، بہن بھائیوں میں اور والدین سے ان کی پسند اور نا پسند کا خیال رکھیں گے تو اس سے رشتوں میں مضبوطی آئے گی۔ سائیکالوجی میں جب سے individual differences کا تصور آیا ہے۔ تب سے انسان کو پرکھنے کا نظریہ بھی بدلا ہے۔ انسانوں میں فرق مختلف پہلو میں ہوتا ہے۔ مثلا ان کی پرسنلٹی میں، ان کے سیکھنے کے انداز اور رفتار میں، جیسے کچھ لوگ پڑھ کے اچھے سے سمجھتے ہیں، کچھ لوگ سننے سے سمجھتے ہیں، کچھ لوگ دیکھنے سے سمجھتے ہیں، اور کچھ لوگ کام کرکے اچھے سے سمجھتے ہیں، اپنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور ان کو کنٹرول کرنے ( emotional intelligence )میں بھی لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں آپ کو پتہ ہوں گی تو آپ کو دوسروں کی رائے پے غصہ بھی نہیں آئے گا۔
دوسری اہم بات کہ اپنے رشتوں میں مخلص رہیں۔ ان کو کبھی دھوکا نہ دیں۔ آپ جیسے ہیں ویسے ہی ان سے برتاؤ کریں۔ اپنے رشتوں کو بچانے کے لیے نقاب کا سہارا نہ لیں۔ یہ ایک ایسا راز ہے جسے اکثر لوگ نہیں جانتے مگر اس سے رشتوں میں بے پناہ مضبوطی اتی ہے۔ اگر آپ اپنے اردگرد غور کریں تو جو لوگ آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، تو آپ ان کی باتوں اور ان کی حرکتوں سے اندازہ لگا لیتے ہیں۔ اور جو لوگ آپ کے ساتھ مخلص ہیں ان کا بھی آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ انسان کی باتوں کے علاوہ انسان کا رویہ اس کے چہرے کے تاثرات (facial expressions)، اس کا باڈی لینگویج بھی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ کمیونیکیشن کی فیلڈ میں بتایا جاتا ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ ہم اپنے لہجے اور باڈی لینگویج سے رابطہ کرتے ہیں۔ اگر آپ اندر سے سچے ہوں گے تو آپ کا باڈی لینگویج بھی ویسا ہی اظہار کرے گا۔ آپ کی آنکھوں سے سچائی جھلک رہی ہوگی، آپ کی مسکراہٹ میں بھی معصومیت اور خوبصورتی ہوگی، آپ کی باتوں سے پھول جھڑیں گے، لیکن شرط یہ ہے کہ آپ اندر سے ایک دفعہ مخلص ہوں۔ یہ خوبی ہر رشتے کے لئے لازمی ہے چاہے وہ میاں بیوی کا رشتہ ہو، چاہے وہ استاد شاگرد کا ہو، چاہے ڈاکٹر مریض کا ہو، چاہے گاہک اور دکاندار کا ہو۔ جب آپ اندر سے مخلص ہوتے ہیں تو لوگ آپ کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ آپ نے کبھی نوٹ کیا ہوگا کہ کچھ دکانداروں سے آپ کو کشش ہو جاتی ہے، کئی دفعہ تو 2 یا 3 گلیاں چھوڑ کے آپ اسی دوکان دار کے پاس جاتے ہیں، جبکہ اس دکاندار سے نزدیک بھی کئی دکانیں ہوتی ہیں، اور ایک ہی ریٹ پر وہ سیل کرتے ہیں لیکن پھر بھی آپ اسی دکاندار کے پاس جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے آپ کا دل جیت لیا ہوتا ہے۔ کسی بھی رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے دل جیتنا ضروری ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جو رشتے ہمارے پاس ہوتے ہیں ہمیں ان سے ڈیل کرنے کا ہنر نہیں آتا۔ ہم ان کو کھو دیتے ہیں اور پھر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے باہر کی طرف بھاگتے ہیں۔ اور غیروں میں رشتوں کو تلاش کرتے ہیں۔ یہاں سے نئے مسائل کا آغاز ہوتا ہے۔
اگر آپ کی زندگی میں بھی خوشی ختم ہوگی ہے تو غور کیجئے کہ آپ کے رشتے کتنے مضبوط ہیں۔ زیادہ امکان یہی ہوگا کہ خوشی ختم ہو جانے کی وجہ رشتوں کی کمزوری ہے۔ ایسے میں ایک ایکٹیوٹی کیجیے۔ اپنی رشتوں کی پسند اور ناپسند کا انتخاب کیجیے۔ جو جو ان کو پسند ہے وہ کام کیجئے ان کے لیے وہ چیزیں خرید کر دیجئے۔ یقین کریں اس سے جو خوشی اور جو سکون آپ کو ملے گا وہ اپنی پسند کی چیزیں خریدنے سے نہیں ہوگا۔ اور سب سے بڑی بات کہ رشتے بھی مضبوط ہونے لگیں گے۔ ہر کام کو کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ پہلے ایک فہرست بنائیں جس میں لکھیں کہ کن کن رشتوں کو اپ نے مضبوط کرنا ہے۔ پھر ہر رشتے کے آگے اس کی پسند نا پسند لکھئے۔ اور پھر ان کو پورا کرنا شروع کیجئے۔ شاید آپ کی لسٹ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جن پر آپ کا کوئی اثر نہ ہوتا ہو۔ ایسے لوگوں پر آپ لاکھ کوشش کر لیں وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان کو اثر ہو نہ ہو لیکن آپ کے اندر ایک سکون کی کیفیت آئے گی۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا
” جو پتھر پہ پانی پڑے متصل
تو بے شبہ گھس جائے گی پتھر کی سل”
"یعنی ایک پتھر پے اگر پانی لگاتار پڑتا رہے گا تو وہ پتھر کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔”
آپ بھی کوشش جاری رکھیں، امید کا دامن نہ چھوڑئیے، ایک امید ہی تو ہوتی ہے جو زندگی میں زندگی بھر دیتی ہے، ورنہ مایوسی تو کفر کے زمرے میں آ جاتی ہے، ایک امید ہی ہے جو آپ کو صبح صبح تازگی کے ساتھ دن کا آغاز کرواتی ہے۔ مجھے بھی امید ہے کہ اپ اپنے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے مخلص ہو کے رشتوں کی پسند کا خیال رکھیں گے، اس کے بعد بھی کچھ ٹیکنیکس بتاتا رہوں گا لیکن اس ایک ایکٹیوٹی پر عمل کریں، اس سے ہی آپ کے رشتوں میں کافی بدلاؤ نظر آئے گا . -

عزتیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر: واجد علی
شائد ہی کوئی لڑکی ہو جس کو گلی، محلے، بازار یا سکول کالج جاتے ہوئے چھیڑ چھاڑ یا کم از کم کھا جانے والی اوباش نظروں کا سامنا نا کرنا پڑا ہو اور اگر زرا خود کو اس 10 بارہ سال کی لڑکی کا سوچیں اس کے معصوم ذہن میں کتنا ڈر بیٹھ جاتا ہے کتنا سہم جاتی ہو گی اور اسکو تنگ کرنے والا بھی تو انسان ہے اسکے گھر پر بھی تو ماں بہنیں ہوں گی
لیکن یہ احساس لوگوں میں نہیں پایا جاتا افسوس کے ساتھ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بنیادی طور پر تربیت ہی کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ انہیں اس معاملے میں تمیز نہیں سیکھائی جاتی بازاروں گلیوں اور سڑکوں پر جانے والی خواتین کو ایسے نازیبا الفاظ سننے کو ملتے ہیں جس سے وہ ذہنی طور پر خوف کا شکار ہوجاتی ہیں
اور اجکل تو سوشل میڈیا پر بھی خواتین کو شکار بنانے کی کوشش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے خواتین کو گلیوں اور بازاروں، دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، پبلک ٹرانسپورٹ غرض ہرجگہ ہراساں کیے جانے کا سامنا بڑھتا ہی چلا جارہا ہے یہ عمل پاکستان میں کئی سالوں سے جاری ہے عورتوں کے تحفظ کی کئی تنظمیں بن چکی مگر وہ بھی اس میں کمی نا لا سکے
بلکہ ہمارے معاشرے میں چھیڑ چھاڑ یا انہیں ہراساں کرنا کوئی سنجیدہ جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر جس طرح ہر ایک آدمی اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو اہم سمجھتا ہے اسی طرح دوسری خواتین کے احترام کو بھی لازمی سمجھے ۔۔
کچھ خواتین خوف کا شکار ذیادہ ہوتی ہیں اس وجہ سے شکایات نہیں کر پاتی اور اگر کوئی خاتون کسی مرد کے خلاف شکایت کرے تو اسے بدکردار سمجھا جاتا ہے افسوس ۔۔۔
آج کل ہمارے معاشرے میں بچوں اور عورتوں سے ذیادتی بہت عام ہو چکی ھے ہر ایک روز ایک نا ایک بچی یا عورت ذیادتی کا نشانہ بنتی ھے اور دو تین دن نیوز چینل پر بریکنگ چلتی ھے اس کے بعد نیوز چینل بھی خاموش ہو جاتی ھے کیا ہم نے پھر کبھی اس مظلوم عورت یا وہ بچی جو زیادتی کا شکار ہوٸی ہم نے کبھی اس سے پوچھا ھے؟ کیا ہم نے اسے انصاف دیا ھے گزشتہ کٸی ماہ پہلے قومی اسمبلی سے یہ قانون پاس ہوا کہ ذیاتی کرنے والے ملزم کو نامرد بناٸنگے کیا اس قانون پر عمل ہوا ھے؟ ذیادتی کرنا زنا کے زمرے میں آتا ھے اور اسلام مزہب میں زنا گناہ کبیرہ ھے بلکہ حرام ھے اس کا سزا یہ ھے کہ اسے سنگسار کیا جاۓ لیکن افسوس پاکستان میں اب تک کوٸی ایسی قانون نافز نہیں ہوا جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دی جاۓ یہاں امیر کےلٸے الگ قانون اور غریب کےلٸے الگ قانون چلتا ھے اگر مظلوم امیر گھرانے کا ہو تو عدالت اس کے حق میں فیصلہ کرتا ھے اور اگر غریب ہو تو تاریخ پہ تاریخ
کیا غریب صرف عدالتوں کے چکر کاٹینگے یا انصاف بھی ملے گالیکن یہ ختم کیسے ہوگا ؟؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اس کو ختم کرنے کی شروعات ہم کرینگے؟؟ کیا کبھی آپ نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت انہیں ہر اچھے برے عمل کی تمیز سیکھائے گے تاکہ معاشرے سے ان سب کی روک تھام کی جا سکے ۔۔۔
تحریر : واجد علی
@Munna_Wajji (twitter) -

جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط سوم) تحریر: رانا بشارت محمود:
امید ہے آپ نے اِس سلسلے کی پہلے شائع ہونے والی دو اقساط ضرور پڑھی ہوں گی، جو کہ جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہماری نوجوان نسل کی زندگیوں پہ پڑنے والے اثرات کے بارے میں تھی۔ تو چونکہ یہ بھی اُسی سلسلے کی تیسری قسط ہے تو آئیے پھر اُسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔
~ ریڈیو، کیمرے، ٹیپ رکارڈر و کیسٹ، وی سی آر، چراغ، موم بتی، لال ٹین و ٹارچ لائیٹیں اور وقت دیکھنے کے لیے ہاتھ پہ باندھی جانے والی گھڑیوں سمیت سب کچھ گُم سا ہو کے رہ گیا ہے۔
تو اِس سے پہلے شائع ہونے والی پہلی دو اقساط میں بھی موجودہ دور میں اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے جن اثرات کا ذکر کیا گیا تھا، اُن کے ساتھ ساتھ یہ جدیدیت بھی آگئی ہے کہ جو پہلے ہماری استعمال کی جانے والی بہت سی چیزیں تھیں، جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، یا تو پہ سب تقریباً ختم ہی ہو گئی ہیں یا پھر اگر کچھ موجود ہیں بھی تو وہ صرف اس وجہ سے کہ ان میں جدیدیت لائی گئی ہے۔
عام طور پہ دیہاتوں اور قصبوں میں شام ہونے کے بعد (چوپال، دارا، ڈیرہ یا حویلی کے نام سے مشہور جگہیں) جہاں بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ پھر ان کا آپس میں حالاتِ حاضرہ پہ گفتگو کرنا، جس کے ساتھ ساتھ ہُکا بھی پیا جاتا تھا اور ریڈیو پہ خبریں اور طرح طرح کے پروگرام بھی سُنے جاتے تھے۔ یہاں تک کے اگر پچیس تیس سال پہلے کے دور کو دیکھیں تو بڑے شہروں میں بھی کئی جگہ پر یہی طریقہ عام ہوا کرتا تھا۔ اور ریڈیو پہ خبریں اور پروگرام سننے کے بہانے سب کا اکٹھے ہو کر مِل بیٹھ جانا بھی ایک دل کو موہ لینے والا منظر پیش کر رہا ہوتا تھا۔
اور پھر تصویریں بنانے یا بنوانے کے لیے استعمال کئے جانے والے مختلف کمپنیوں کے کیمرے جو کہ تب بہت کم لوگوں کے پاس ہوا کرتے تھے اور پھر تصویریں بنوانے کی غرض سے دیہاتوں اور قصبوں میں رہنے والوں کا ( جن کے قریب یہ سہولت موجود نہیں ہوتی تھی) اپنے نزدیکی شہروں میں موجود فوٹو سٹوڈیوز میں جانے والا بھی ایک سہانا دور ہوا کرتا تھا۔
پھر اسی طرح سے اپنی یا کسی کی آواز کو ریکارڈ کرنے کے لیے ٹیپ ریکارڈر کا استعمال کرنا بھی ایک انوکھا تجربہ ہوا کرتا تھا جن میں کیسٹ ڈالی جاتی تھی، اس کے بعد وی سی آر جو اُس وقت فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کے لیے سب سے جدید ٹیکنالوجی مانی جاتی تھی۔ ان کا استعمال بھی ایک شاندار تجربہ ہوتا تھا۔
اِس کے بعد اب آگے چلیے تو آپ کو بتلاؤں کہ اگر ہم زیادہ نہیں تو صرف تین عشرے ہی پیچھے چلے جائیں تو تب تک پنجاب کے بھی بہت سارے علاقوں میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی، تو وہاں کے طلباء پھر اپنا سبق پڑھنے کے لیے یا پھر گھر والے روشنی حاصل کرنے کی غرض سے رات کے وقت موم بتی، چراغ یا لال ٹین اور پھر بجلی کی سہولت آ جانے کے بعد تک بھی ٹارچ لائٹیں استعمال کیا کرتے تھے۔ (البتہ! اس اکیسویں صدی میں بھی جنوبی پنجاب کے کئی علاقے، اندرونِ سندھ کے بھی بہت سے علاقے، پختونخواہ کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں تو اب بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچائی جا سکی ہے)۔
اور پھر اُس کے بعد تب وقت دیکھنے کی خاطر مختلف اقسام کی گھڑیوں کا بھی کلائیوں پہ باندھنے کا ایک شاندار دور ہوا کرتا تھا۔ اور اُس دور میں جس کے پاس گھڑی ہوتی تھی تو اُس کی بھی اپنے حلقہ احباب میں بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی، کیونکہ دوسروں کو اُس سے وقت جو پوچھنا پڑتا تھا۔ (البتہ! ابھی بھی گھڑی پہننے کا بہت رواج ہے لیکن اب یہ صرف فیشن کی حد تک ہی رہ گیا ہے اور وقت دیکھنا غرض بالکل بھی نہیں رہا)۔
اور اب اگر اِس کا دوسرا رُخ دیکھا جائے تو اِن سب مندرجہ بالا چیزوں کو تیار کرنے والی کمپنیاں، پھر اِن کو بیچنے والے دوکاندار اور پھر اِن کے خراب ہو جانے پہ تصلیح کرنے والے مکینک تک تقریباً سب کے سب لوگ بے روزگار بھی ہوئے ہیں۔
اور اس سب کے پیچھے صرف اور صرف ایک یہ ہی وجہ ہے، اور یہ کہ اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد یہ سب کچھ اب پرانے وقتوں کی طرح ماضی کا حصہ ہی بن کے رہ گیا ہے۔ اور زیادہ تر یہ سبھی چیزیں اب صرف فلموں، ڈراموں، کہانیوں اور تصویروں تک ہی رہ گئی ہیں، اور وہ بھی جن میں پرانے دور کا دِکھانا مقصود ہو اُن میں یہ چیزیں آثارِ قدیمہ کی صورت میں دکھائی جاتی ہیں۔
اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ دوستو کیونکہ اب اِس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہمیں اِن سب چیزوں کی بالکل بھی ضرورت نہیں رہی، لیکن اگر ہمارے پاس ان میں سے کچھ چیزیں موجود ہیں تو اُن سب چیزوں کو اپنا قیمتی ورثہ جانتے ہوئے انہیں سنبھال کے حفاظت کے ساتھ رکھیں۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی ہماری اُن پرانے وقتوں کی چیزوں کو دیکھ اور پرکھ سکیں ناکہ وہ یہ سب صرف فلموں اور ڈراموں میں ہی دیکھ کر حیران ہوا کریں۔
اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين
دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ
Author Name:
Rana Basharat Mahmood – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK -

ہم مدارس کے خیرخواہ ہیں تحریر: حفیظ الرحمن قلندرانی
السلام علیکم
آج قائد جمعیت کی ایک پرانی تقریر حکمرانوں کی منافقت کے بارے میں سنی تو سوچا اس موضوع پر کچھ لکھ لوں
امید ہے آپ دوستوں کو یہ پوسٹ اچھا لگے گادوستوں آپ کو معلوم ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے افسوس کا اظھار کیا تھا
اور فرمایا تھا میں چاہتا ہوں کہ مدارس سے بھی ڈاکٹر اور انجنیئر نکلیں
انھوں نے مزید کہا تھا کہ مجھے بھت دکھ ہوتا ہے کہ مدارس کے طلباء ڈاکٹر اور انجنیئر کیوں نہیں بنتے؟؟؟
تو میں کہنا چاہتا ہوں خان صاحب مدارس کو چھوڑو اور جو ادارے آپ کے ماتحت ہیں ان سے ڈاکٹر اور انجنیئر پیدا کرو
خان صاحب آپ کے ماتحت چلنے والے اسکول کالجز اور یونیورسٹیز میں کونسے ڈاکٹر اور انجنیئر پیدا ہوئے ہیں کبھی ان کو بھی بیان کیا کریں
ان بیچاروں کے لئے بھی دکھ کا اظھار کریں جو ڈاکٹر اور انجنیئر بننے کے لئے اپنے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر اور انجنیئر نہیں بنتے
اور جو بات ہے مدارس کے طلباء کی وہ الحمد للہ عالم اور حافظ بننے کے ارادے سے آتے ہیں عالم اور حافظ ہی بنتے ہیں
ان کا خاص جو کام ہے بقول آپ لوگوں کے مردے نہلانا الحمد للہ انھوں نے اس میں بھی اتنی مہارت حاصل کی ہوتی ہے کہ مدرسے کا ناکارہ ترین طالبعلم بھی مردے کو نہلا لیتا ہے
اور عوام کو کوئی بھی مسئلا درپیش ہو وہ ان کے اس مسئلے کو شرعی طریقے سے بھترین طریقے سے بیان کرتے ہیں
اور جب حافظ قرآن کی ضرورت ہو رمضان میں ہر مسجد میں قرآن سنانے والے مدارس کے ہی حفاظ ہوتے ہیں
ہر مسجد کا امام و خطیب مدرسے کا فارغ ہوتا ہے اور الحمد للہ یہ نا ممکن بات ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس مدرسے یا وفاق المدارس کا جعلی سند ہو
اور جو اسکول کالج یونیورسٹیز کی بات ہے جو ہمیشہ حکمرانوں کے ماتحت رہے ہیں
ان میں آپ نے آج تک کیا کیا ہے ذرا میں اس کی وضاحت کردوں
ہمارے ملک میں جب کوئی منصوبہ بنانا ہو مثلا روڈ بن رہے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں وہاں کام کرنے والا اور اس کام کا ٹھیکہ لینے والے چین کے انجنیئرز ہیں اب یہاں پوچھنے کی بات یہ ہیکہ ہمارے انجنیئرز کہاں ہیں
جو ہمیں چین کے انجنیئرز کی ضرورت پڑی
اور جب خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوتا ہے ہم اس کی تحقیقات کے لئے فرانس سے تحقیقاتی ٹیم بلاتے ہیں ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز کے پڑہے لکھے کہاں گئے
اور تو اور کچھ دن پہلے ایک خبر چلی یورپ نے پاکستانی جہازوں کی پرواز پر پابندی لگائی اس وجہ سے کہ ہمارے پائلیٹز کی ڈگریاں جعلی تھیں آپ کے سیاستدانوں کی ڈگریاں بھی جعلی ہیں آپ کے اسکولوں میں پڑہانے والے ماسٹرز کو پڑہنا نہیں آتا میں آپ کو آپ کے اپنے ہی اداروں کی کتنی خامیاں بیان کروں جناب
بس ہم آپ کو اتنا کہنا چاہتے ہیں آپ ایسی باتیں کر کے مدارس کے طلباء اور عام عوام کے ذھن میں مدارس کے بارے میں تشویش میں ڈالنے کی کوشش نہ کریں ہر کوئی جانتا ہے کہ آپ اس ملک میں کس مقصد سے آئے ہیں اور کیا چاہتے ہیں
الحمد للہ ہمارے اکابرین نے آپ جیسوں کی چالوں سے بچنے کے لئے ہماری خوب اصلاح کی ہے
اور آپ وہی کام کریں جو آپ کے ماتحت ہیں آپ ہماری فکر نہ کریں کہ ہم کیوں ڈاکٹر اور انجنیئر کیوں نہیں بنتے اور خدا کے واسطے ہماری اصلاح کرنے کی بھی کوشش نہ کریں
انشاءاللہ جب میں عالم بن گیا میں خود آپ کی اصلاح کرنے کی کوشش کروں گا
اور جیسا کہ قائد جمعیت نے فرمایا تھا مدارس بنتے ہی آپ جیسوں کی اصلاح کرنے کے لئے ہیں
تو انشاءاللہ ہمارے مدارس آپ کو یہ ثابت بھی کر کے دکھائیں گے
اور الحمد للہ ہمیشہ ثابت بھی کیا ہے
#دینی_مدارس_زندہ_باد
#پاکستان_پائندہ_باد
آپ کی دعائوں کا طلبگار -

عورتوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریاستی قانون کی گمشدگی تحریر : نادر علی ڈنگراچ
جب ریاست کا وجود بھی نہ تھا تب بھی شاید ایسا ہوا ہوگا جیسے اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے کون کہے گا کہ یہ انہی لوگوں کا دیس ہے جو عورتوں کی عزت کے تحفظ کیلئے اپنے آپ کو قربان کر دیتے تھے. اب یہ دھرتی عورتوں کے لئے جہنم بنا دی گئی ہے. جہاں پر عورت کا غیرت کے نام پر قتل, اجتماعی زیادتی, جنسی اور جسمانی تشدد, ان کو پیسوں کے عوض بیچنا, جرگوں میں انکی عزت کی قیمت لگانا عام بن چکا ہے. یہ واقعات اتنی زیادہ تعداد میں ہونے لگے ہیں کہ لوگوں میں اس کی حساسیت ہی ختم ہوگئی ہے. عورتوں کے قتل اور تشدد کے حوالے سے اس حد تک بے حسی بڑھ گئی ہے کہ اب لوگوں کے رونگٹے بھی کھڑے نہیں ہوتے. اب تو یہ ان کے لئے جیسے معمول کی کوئی خبر ہو کچھ دنوں سے عورتوں پر تشدد اور قتل کے حوالے سے غیر معمولی خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں پر وہ خبریں اس ملک کی عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں کی آنکھوں کو بھگا بھی نہ سکیں. مدیجی میں ملزم نے اپنی بیوی, دو بیٹیوں سمیت اپنی چاچی گولیاں مار کر قتل کر دیا کچھ دن پہلے حیدرآباد میں قرت العین کو شوہر نے تشدد کر کے مار ڈالا, ٹنڈو جام میں عورت کو زندہ جلا کر قتل کردیا یے تو وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوتے ہیں کئی ایسے واقعات ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے.
پاکستان میں قانون پر عملدرآمد تو دور کی بات ہے اس کی موجودگی کو بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا. عورتوں پر ظلم اور تشدد کے خلاف قانون انکا سہارا نہیں بن سکا. لوگوں کے دلوں میں سے قانون کا ڈر ہی نکل گیا انسانی حقوق تو دور کی بات ہے. پاکستان کی آدھی آبادی کو تو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا. ہمارے حکمران خود کو دنیا میں لبرل اور روشن خیال گنوانے کے لئے عورتوں کے حقوق کے لئے قانون سازی تو کرتے ہیں پر اس قانون پر عمل ہو نہیں پاتا. پاکستان کے حکمرانوں کی ادا ہی نرالی ہے ہر بات پر نوٹس لینا انکا مرغوب مشغلہ ہے معاملہ شاید ہی اس سے آگے بڑھا ہو بہت کم دیکھنے کو ملا ہے. دراصل پاکستان میں عورتوں کے خلاف ظلم اور بربریت کا گولا جس گائے کے سینگ پر رکھا ہوا ہے انکا نام ہے جرگائی بھوتار. انکی رسائی اقتدار اور اختیار کے ایوانوں تک ہے. انہوں نے انصاف کے نام پر ناانصافی کا نظام قائم کیا ہوا ہے. جہاں پر یہ عدالتی اختیار استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سزا دلواتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرواتے ہیں وہ جرگہ کرواتے ہیں جہاں پر عورت کے سر کی قیمت اور عصمت دری کی قیمت مقرر کردی جاتی ہے. عورت کے قتل کے فتوے جاری کردیے جاتے ہیں. مظلوم عورتوں کی چیخیں ان ناانصافیوں کے خلاف حکمرانوں کی اناوں کی دیواروں تک بھی نہیں پہنچ پاتی.
پاکستان میں عورتوں پر بڑھتے ظلم, جنسی اور جسمانی تشدد اور انکے قتل کے واقعات میں اضافہ پر حکمرانوں کا پریشان نہ ہونا بھی بڑی پریشانی کی بات ہے. پاکستان میں عورتوں پر تشدد بند کروایا جائے ریاستی قانون کو فعال کیا جائے اور عورتوں کے قتل کے کیسز کو جلد از جلد میرٹ پر فیصلا دے کر ملزمان کو سزا دے کر مظلوم عورتوں کو انصاف مہیا کیا جائے.
@Nadir0fficial
-

Our self and we writen ByBobswiffey
جس نے اپنے نفس پہ قابو پا لیا گویا وہ دنیا کا بہادر ترین انسان ہے لیکن اپنے سرکش نفس پہ قابو پانا آسان کام نہیں ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ ہے کہ ”تم میں سے بہتر مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرسکے”
جہاد کے معنی جدوجہد کے ہیں اللّٰہ سبحان تعالیٰ کے راہ میں پر امن کوششوں اور جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں۔اپنے نفس کے خلاف عمل کرنے کو بھی جہاد کہتے ہیں۔
جہاد کی دو اقسام ہیں کہ جہادِ اصغر اور ایک جہادِ اکبر ہے۔
صحابہ اکرم رضوان اللہ علیہم اجمین جب کفار کے ساتھ جہاد کرکے واپس آتے تو کہتے تھے:
”ہم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف لوٹ آئے ہیں۔“
اور صحابہ نے نفس، شیطان اور خواہشات سے جہاد کو اس لیے اکبر اور عظیم جہاد کہا کہ نفس سے جہاد ہمیشہ جاری رہتا ہے اور کفار کے ساتھ جہاد کبھی کبھی ہوتا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ مجاہد اپنے دشمن کو سامنے دیکھتا رہتا ہے مگر شیطان نظر نہیں آتا اور دکھائی دینے والے دشمن سے لڑائی آسان ہوتی ہے چھپ کر حملہ کرنے والے دشمن سے۔نفس کے خلاف جہاد جہاد اکبر ہے۔اور تمہاری بادشاہی اس دن حقیقی ہوگی جس دن تم اپنے نفس کی غلامی سے آزاد ہو جاو گے۔لہذا پہلا جہاد اپنے نفس کے خلاف ہے۔
امام غزالیؒ آگے مزید حضرت علی ؓ کا ایک قول بیان کرتے ہیں جس میں شیرِ خدا کہتے ہیں کہ
”میں اپنے نفس کے ساتھ بکریوں کے ریوڑ پر ایسے نوجوان کی طرح ہوں کہ جب وہ ایک طرف سے انہیں جمع کرتا ہے تو وہ دوسری طرف نکل جاتی ہیں۔“حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
خدارا، خدارا!! نفس کے خلاف جہاد کرنا، کیونکہ تمہارے لیے سب سے بڑا دشمن یہی نفس ہے۔یہاں نفس سے مراد صرف ذاتِ انسان نہیں دل کی خواہشات اور خواہشاتِ نفسانی کا بھڑکتا سمندر ہے جو انسان کو اپنے حساب سے چلاتا ہے اور دینی تعلیمات بُھلا دیتا ہے۔ اپنے جذبات و نفسانی خواہشات کو قابو کرنا ہی اصل جہاد ہے۔
نفس کے خلاف جنگ میں ‘سکونِ قلب’ ہی
اصل مالِ غنیمت ہے۔اب اگر ہم جدید میڈیکل سائنس اور نفسیات کی تحقیقات کا مطالعہ بھی کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بہت ساری بیماریاں زیادہ کھانے اور زیادہ نیند سے سامنے آتی ہیں۔
ہم اگر اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا شروع کر دیں تو دین اور دنیا کی تمام تر دولتیں حاصل کر سکتے ہیں۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے:
نفس کے خلاف جہاد کیے بغیر
الله سے وفاداری ممکن ہی نہیں ہے
Bobswiffey
Bobswiffey is a freelance Journalist on Baaghitv For more details about visit twitter account
Bobswiffey Twitter Account handle
Follow @Bobswiffeyhttps://twitter.com/Bobswiffey
bsp;
-

جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق
آجکل ہمارے معاشرے میں بے شمار اخلاقی برائیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک جھوٹ بھی ہے آئیں آج ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جھوٹ سے بچنے کے حوالے سے ہمیں کیا فرمایا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤوں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا، اس وقت آپ ﷺتکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے، پھر (سیدھے ہوکر ) بیٹھ گئے اور فرمایا سن لو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، سن لو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، آپ ﷺاسی طرح (بار بار) فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ آپﷺ خاموش نہ ہوں گے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 936حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا: یا آپﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا، کسی جان کا (ناحق) قتل کرنا، والدین کی نافرمانانی کرنا، پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں اور فرمایا کہ جھوٹ بولنا یاجھوٹی گواہی دینا، شعبہ نے کہا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے جھوٹی گواہی فرمایا۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 937
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف اور نیکی ہدایت کرتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدیق ہوجاتا ہے اور جھوٹ بدکاری کی طرف اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کاذبین میں لکھا جاتا ہے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1047
سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ شخص جس کو تم نے معراج کی رات میں دیکھا تھا کہ اس کے جبڑے چیرے جا رہے تھے وہ بہت بڑا جھوٹا تھا اور اس طرح جھوٹ باتیں اڑاتا تھا کہ دنیا کے تمام گوشوں میں وہ پھیل جاتی تھیں قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1048حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1049مسدد نے بواسطہ بشر اس طرح حدیث بیان کی، کہ آپﷺ تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ سن لو جھوٹ سے بچو اور اس کو بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1227
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، اور جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا۔ یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1801
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو کہ اس میں منافق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو توڑ ڈالے جب وعدہ کرے تو وعدے کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے تو آپے سے باہر ہو جائے سفیان کی حدیث میں یوں ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی علامت ہو گی۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 212
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 261
ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چائیے اور کوشش کرنی چائیے کہ کبھی بھی کسی بھی وجہ سے جھوٹ نہ بولیں
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں جھوٹ سے بچنے اور ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائیں آمینجدہ ۔ سعودیہ
@mmasief -

پاکستان کا اصل دشمن کون؟؟ تحریر:- فرمان اللہ
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے یہ تو ہر کوئی جانتا ہے جو لوگ پاکستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں جو دہشت گردوں کو ٹرینڈ کرکے پاکستان بھیج رہے ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس بات انکشاف وہ خود بھی کر رہے ہیں وہ کون ہے وہ افغان ایجنسی این ڈی ایس کے ایجنٹ وہ کروا رہے ہیں پاکستان میں دہشت گردی تمام دہشت گردوں کو افغانستان میں بھارت کے ساتھ مل کر افغان ایجنسی این ڈی ایس کے ایجنٹ ٹریننگ دیتے ہیں اور وہاں سے ان کو اسلحہ دے کر بارڈر کراس کرواکے پاکستان میں داخل کرواتے ہیں
این ڈی ایس کے ان تمام دہشت گردوں کو پی ٹی ایم اور دیگر سرخے سپورٹ کرتے ہیں جیسے کہ محمود خان اچکزئی ہوگیا اسفندیار ولی خان ہو گیا اور بی ایل اے کی طرف سے ماما قدیر ہو گیا یہ تمام لوگ ان دہشتگردوں کو سہولت بھی فراہم کرتے ہیں اور ان کو ہر طرح کی سپورٹ بھی کرتے ہیں
پی ٹی ایم کو افغان ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی ایجنسی را نے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کا انتشاری اور سہولت کاری کا ونگ بنایا جو ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرتی ہے اور ٹی ٹی پی کے تمام دہشت گردوں کو پی ٹی ایم اور دیگر سرخے اپنے گھروں میں پناہ دیتے ہیں اور پی ٹی ایم تمام تر ہدایات ٹی ٹی پی کو فراہم کرتی ہے جس کے مطابق ٹی ٹی پی پشتونوں کو قتل کرتی ہے اور انہیں پشتونوں کے لاشوں پر پی ایم سیاست کرتی ہے اور الٹا ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرتی ہے اصل میں ان کو مروانے والے بھی پی ٹی ایم والے خود ہی ہیں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں
اب یہ ہوئی بات پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے افغان ایجنسی این ڈی ایس کا ہاتھ ہے اور ان کے پالے ہوئے دہشت گردوں کو پاکستان میں پناہ پی ٹی ایم اور دیگر سرخے دیتے ہیں پاکستان میں دہشت گردی کروا کے پاکستانیوں کا خون بہا کہ افغان ایجنسی والے بہت خوش ہوتے ہیں جن کے ساتھ ساتھ پی ٹی ایم والے بھی خوش ہوتے ہیں جس دن بھی پاکستان آرمی کا کوئی جوان ہو بی ایل اے کے ہاتھوں یا ٹی ٹی پی کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے اس دن پی ٹی ایم والے جشن مناتے ہیں
تمام تر لوگوں کو اپنی آنکھیں کھولنی چاہیے اور تمام تر لوگوں کی آنکھیں کھل بھی چکی ہیں پی ٹی ایم اور دیگر قوم پرست سرخوں کے خلاف یہی لوگ ہیں جو ایک طرف سے امن کا نعرہ لگاتے ہیں دوسری طرف سے دہشت گردوں کے ذریعے دہشت گردی کرواتے ہیں اور لوگوں کو مروا کر انہیں لوگوں کے اوپر پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور امن کی بات کرتے ہیں لیکن اصل میں یہی دہشت گرد اور تمام کر دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں جس دن ٹی ٹی پی کے دہشت گرد مارے جاتے ہیں اس دن پی ٹی ایم میں مایوسی اور غم اور غصہ ہوتا ہے اور اگر اسی دن پاکستان آرمی کے جوان شہید ہوتے ہیں تو پی ٹی ایم والے خوش ہوتے ہیں