Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟   تحریر: سحر عارف

    آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟ تحریر: سحر عارف

    عورت اللّٰہ تعالٰی کا سب سے انمول تحفہ ہے لیکن عورت پر تشدد ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کبھی اس پہ جنسی تشدد ہوتا ہے تو کبھی جسمانی تشدد۔ یہ بات سرے سے سمجھ میں نہیں آتی کہ جو مرد عورتوں پہ تشدد کرتے ہیں ان کے نزدیک آخر عورت کیا ہے؟ آخر مرد کی نظر میں عورت کیا ہے؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا اسے انسانوں کی طرح جینے کا حق نہیں؟ آخر کب تک عورت ظلم سہتی رہے گی؟ مرد کو اللّٰہ نے عورت سے ایک درجہ بلند اس لیے نہیں دیا کہ وہ عورت پر تشدد کر سکے بلکہ اس لیے دیا کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے۔ نکاح کی صورت میں عورت کو اللّٰہ کی امانت کے طور پر مرد کے نکاح میں دیا جاتا ہے۔ پر افسوس آج پھر جہالت اپنے قدم اٹھا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ایک سے ایک واقعہ جو منظر عام میں آتا ہے دل دہلا دیتا ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو کچھ روز قبل 15 جولائی کی رات قوم کی بیٹی قرةالعین کے لیے ایک بھیانک رات ثابت ہوئی۔ کوئی قیامت نہیں آئی کوئی زمین نہیں پھٹی جب چار بچوں کی ماں کو انہیں کے سامنے ان کے باپ نے کس قدر درندگی سے تشدد کر کے قتل کردیا۔ بچے سے دہائیاں دیتے رہے قوم کی بیٹی قرةالعین اپنی زندگی کے لیے گڑگڑاتی رہی اپنے شوہر سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی پر افسوس عمر میمن جو کہ نشے کی حالت میں چور تھا کسی کی ایک نا سنی اور اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قرةالعین بلوچ کی شادی 2012 میں عمر میمن جو کہ سابق سیکرٹری آبپاشی سند خالد حیدر میمن کا بیٹا ہے اس سے ہوئی۔ شادی کے ایک دو سال تک تو سب ٹھیک رہا پر پھر جیسے جیسے شادی آگے بڑھتی گئی عمر میمن اپنے بیوی بچوں پر تشدد کرنے لگا۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا ہے کہ عمر میمن ایک شرابی ہے۔ وہ بات بات پر میری بہن کو مارتا پیٹتا اور بچوں پر بھی تشدد کرتا ان کے سر پھاڑ دیتا، ہاتھ توڑ دیتا۔ اکثر اوقات میری بہن کو مار پیٹ کے گھر سے نکال دیتا اور دوسری عورتوں کو گھر بلوا کر عیاشی کرتا۔ قاتل کے والد کو اس تمام صورتحال کا علم تھا اور وہ اکثر کہتے تھے کہ اگر میرے بیٹے کو گرفتار کروایا تو میں اسے دوبارہ باہر نکلوا لوں گا۔

    15 جولائی کی قیامت خیز رات جب عینی کا قتل ہوا تو اس کی بڑی بیٹی رامین زہرہ جس کی عمر نو سال ہے اس نے اپنی ماں کا قتل ہوتے دیکھا وہ چھوٹی سی بچی جس نے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں اپنی ماں کو قتل ہوتے دیکھا اس کے ننھے دماغ پر کتنا بھیانک اثر پڑا ہوگا۔ پر عمر میمن، انسان نما حیوان کو زرا ترس نا آیا۔ نشے سے چور جب گھر لوٹا تو جانوروں کی طرح اپنا شکار تلاش کرنے لگا۔ بیٹی کو کیا خبر تھی کہ شکار اس ماں بن جائے گی پر ہوش تب آیا جب عمر میمن کے ہاتھوں اپنی ماں کو پیٹتے دیکھا۔ بچی تھی نا رونے سسکنے کے علاؤہ کیا کرسکتی تھی۔ جیسے جیسے رات بڑھتی گئی عمر کے تشدد میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ عمر میمن نے تشدد کر کر کے جب تھک گیا تو بیوی پہ ٹھنڈا پانی ڈالنا شروع کردیا اور ٹھنڈے پانی سے بھگانے کے بعد اےسی کے نیچے پھینک دیا۔ اتنا سب کرنے کے بعد بھی جب اس حیوان کی حیوانگی ختم نا ہوئی تو آخر میں اپنے ہی بچوں کی ماں کا گلا دبا کے عینی سے اس کی سانسیں چھین لی۔ بچے خوف کی حالت میں اس بات سے بے خبر کھڑے تھے کہ ان کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کٹوانی چاہی تو پہلے پولیس نے منع کردیا اور اب جب ایف آئی آر درج ہوگئ ہے تو پھر بھی پولیس اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہے اور وہ مسلسل اسی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ پولیس کی یہ کوشش رہی کہ جب پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ آئے تو اس میں کسی طرح ردوبدل کر کے قتل کو خودکشی کا رنگ دے دیا جائے تاکہ مجرم کو بچایا جاسکے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ مقتولہ میں شدید تشدد ہوا تھا۔ اگر اب بھی ہم چپ کرکے بیٹھ گئے تو ہمیں انصاف نہیں ملے گا اور درندہ آزاد ہوجائے گا۔ لیکن ہم چپ کرکے نہیں بیٹھیں گے ہم انصاف کی خاطر لڑیں گے۔

    اسی سلسلے میں ٹوئیٹر پر ‘جسٹس فار قرةالعین’ کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔ اس کے علاؤہ مقتولہ کے لیے موم بتیاں جلا کر کئی روز تک احتجاج کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے اور عینی کو انصاف دلوائیں ٹھیک اسی طرح سوشل میڈیا پر موجود عوام نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملزم عمر میمن کو پھانسی دی جائے تاکہ اس جیسے باقی درندوں کے لیے سبق ہو اور دوبارہ کوئی دوسری عینی ایسی حیوانیت کا شکار نا ہو۔

    ہم سب کو مل کر خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، ہمیں عینی کے ساتھ ساتھ ان تمام عورتوں کی بھی آواز بننا ہوگا جو دنیا سے ڈر کر خود پہ چپ کرکے تشدد سہتی رہتی ہیں۔ اور پھر ماں باپ کو بھی چاہیے کہ اپنے والدین ہونے کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے جب بیٹیوں کو رخصت کریں تو انھیں یہ بات ذہن نشیں کروا کے بھیجیں کہ اگر یہ انسان نما شخص جانور نکل آئے تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے واپس چلی آنا۔ اگر ایسا ہوجائے تو یقین جانیں اس دنیا میں بہت سی عورتیں شوہر کے ہاتھوں تشدد کی وجہ سے قتل ہونے سے بچ جائیں گی کیونکہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے ماں باپ دنیا داری کا سوچتے ہوئے اور بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر چپ سادھ لیتے ہیں اور بیٹیاں ان کی عزت کا پاس رکھتے ہوئے خود پر تشدد ہونے دیتی ہیں۔

    @SeharSulehri

  • قانون کی آڑ میں لا قانونیت  تحریر  : راجہ ارشد

    قانون کی آڑ میں لا قانونیت تحریر : راجہ ارشد

    ۔

     موجودہ حکومت کو پاکستان کی بھاگ ڈور ایک ایسے وقت میں سنبھالنی پڑی جب ملک میں مسلہ ،مسائل نہیں بلکہ مسائلستان بنا ہوا تھا۔ سب سے بڑا مسلہ قانون کی بے بسی تھا۔

    یہ تو ایک حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں قانون کی ناانصافی ہو وہاں معاشرے کی مکمل بگاڑ کا سبب بنتی ہے اور یہ واحد بندہ ہے عمران خان جو مسلسل اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے۔کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہ ہو۔سب کے لیے قانون برابر ہو۔

    ہمارے ہاں مجرموں کی بھی اقسام پائی جاتی ہیں ۔پہلی قسم کے مجرم گلی محلے کے چھوٹے موٹے چور اچکے ہیں جن کو پکڑنے کے لئے قانون فورن حرکت میں آتا ہے۔فوری طور پر قانون ان چوروں کو پابند سلاسل کرتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق جیلیں لاکھوں کی تعداد میں اس قسم کے مجرموں سے بھری پڑی ہیں۔

    دوسری قسم کے مجرم وہ ہوتے ہیں جن کے پوچھے علاقے کے بااثر لوگوں کے ہاتھ ہیں۔ ان مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے قانون ان کے پشت پناہی کرنے والے بااثر لوگوں سے پوچھ کر حرکت میں آتی ہے گرین سگنل نہ ملے تو قانون اور اس کے رکھوالے چپ سادھ لیتے ہیں ۔

    تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو خود تھانے سنبھالتے ہیں مجرم بھی خود وکیل بھی خود اور خود ہی جج بھی ہیں۔
    آچھا یہ مجرم ہمارے معاشرے میں معزز بھی کہلاتے ہیں۔

    اس قسم کے مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے جاو تو پورا پولیس سٹیشن والے آپ کو اس ایف آئی آر کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنے لگ جاتے ہیں۔

    ان مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے وقت محرر کے ہاتھ کانپتے ہیں۔ پولیس افسران اور اہلکاروں کو ان پر چھاپے مارنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ وکلا صاحبان ان کا نام سن کر کیس نہیں لیتے۔ منصف  ان کے خلاف فیصلہ نہیں لکھ سکتے۔

    مطلب ان مخصوص مجرموں نے ملک اور ریاستی اداروں کے ناک میں دم کر رکھا ہے اور حیرت انگیز طور پر ان کی تعداد بھی کم ہے۔
    ان حالات میں معاشرہ خاک آگے بڑھے گا۔
    ملک کیسے ترقی کرے گا۔
    اللہ کا کرم ہے اب عمران خان تیسری قسم کے مجرموں کو پابند سلاسل کئے جا رہا ہے تو اے پی ڈی ایم والو
    کیوں روڑے اٹکانے کی ناکام کوشش میں لگے ہو۔

    کب تک لاقانونیت اور دہشت پھیلانے والوں کی پشت پناہی کرو گے۔اب مزید یہ ملک ان حالات کا متحمل نہیں ہو سکتاہمیں اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس چاہیئے جس کی کوشش عمران خان کر رہا ہے۔

    @RajaArshad56

  • جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    آج کا موضوع دو جڑواں بہنوں پہ ہے جو ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہیں جی ہاں! بالکل الٹ بات ہو رہی ہے دیانت اور بد دیانتی کی کہ یہ کیسے ہمارے معاملات زندگی میں اثر انداز ہوتی ہیں
    ذندگی میں ہمارا مخلتف لوگوں کےساتھ واسطہ پڑتا ہے اور ہمیں مختلف قسم کے معاملات کرتے ہوئے زندگی گزارنی پڑتی ہے یہ معاملات یا معاہدات کسی بھی نوعیت کے ہو سکتے ہیں جیسا کہ سیاسی ،سماجی یا معاشی نوعیت کے اور یہ معاملات ہر حالت میں اکثر دونوں طرف کے لوگوں کےلیے آزمائش ہوتے ہیں کیونکہ یہاں جب اپنے نفع کو سامنے رکھا جاتا ہے تو وہیں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ دوسرے انسان کا میری وجہ سے کوئی نقصان نہ ہو یہ بھی کوشش کی جاتی ہے کہ دوسرے فریق کو ممکنہ فائدہ ہو
    دیانت داری،ایمانداری کبھی بھی شکست نہیں کھائی سکتی اور وہیں جو بندہ خیانت کرتا ہے اسکی خیانت کبھی بھی پروان نہیں چڑھتی
    خیانت سے کمایا ہوا رزق یا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں نقصاندہ ثابت ہوجاتا ہے
    جب ہم اپنی اردگرد چیزوں کا بغور معائنہ کرتے ہیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دیانت کو فرار نہیں اور خیانت کو قرار نہیں
    مثلاً :ایک بندہ خیانت کرتا ہے حرام مال کماتا ہے اپنا معیار زندگی بلند کرتا ہے اپنے بچوں کو اعلی سکول میں پڑھاتا ہے اسکے برعکس ایک انسان رزق حلال کماتا ہے اپنے بچوں کو چھوٹے سکول میں پڑھاتا ہے اور انہیں حسب توفیق کھلاتا ہے تو اکثر دیکھنے کو یہ نتائج ملتے ہیں کہ خیانت کے مال سے معیارِ زندگی بلند کرنے والے کی اولاد بڑے سکولوں میں پڑھنے کے باوجود آگے نہیں بڑھ پاتی اور اس غریب مگر دیانت دار اور حلال کمانے ،کھلانے والے کی اولاد پڑھ لکھ اور سنور جاتی ہے
    جو لوگ بددیانتی،دھوکہ دہی اور خیانت سے پیسہ بناتے ہیں انہیں زندگی میں کبھی بھی قرار حاصل نہیں ہوتا انکی زندگی سے سکون چلا جاتا ہے وہ اِدھر اُدھر بھٹکتے ہی رہتے ہیں جبکہ ایک دیانت دار انسان اپنے آپ کو منوا کر رہتا ہے
    جب کوئی انسان خیانت سے مال کماتا ہے یا رشتوں میں خیانت کرتا ہے تو وہ خیانت اسکی ذات پہ بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے بددیانتی،عدم سچائی اور دھوکہ دہی اسکےلیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں جیساکہ سائنسی ضابطہ ہے ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے تو یہ بات ہمارے جسم سے نکلنے والے اور ہم سے سرزد ہونے والے اعمال پر بھی پوری اترتی ہے جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ حشر کے روز سب کو ان کے اعمال کی سزا ملے کی اور جزا بھی لیکن یہ سلسلہ صرف وہیں کے لیے محدود نہیں اس پہ تو عمل دنیا میں ہی شروع ہو جاتا ہے اور انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے برے اعمال کی جو فصل بوئی تھی وہ پک کر کٹنےکو تیار ہو چکی ہے
    بد دیانتی اور دھوکہ دہی سے کام کرنے والا انسان کچھ بھی کر لے خود کو مضر اثرات سے نہ نہیں بچا سکتا کیونکہ کوئی بھی انسان قدرت کے بنائے ہوئے قوانین سے بالاتر نہیں ہوسکتا
    چونکہ دیانت اور بد دیانتی جڑواں بہنیں ضرور ہیں لیکن ہمیشہ ایک دوسرے کے الٹ کام کرتی ہیں اور انکے نتائج بھی ایسے ہی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اسلیے انکی طرف راستے بھی مختلف جاتے ہیں اور انعام بھی اب اوپر لکھی گئی مثال سے آپ لوگوں نے سمجھا ہوگا کہ دیانت کا راستہ بظاہر بہت تکلیف اور جدوجہد والا ہے جبکہ اسکا انعام دائمی خوشی ،آرام اور سکون ہے جبکہ بددیانتی کی طرف جانے والا راستہ بظاہر آسان،خوبصورت اور پر تعیش ہے جبکہ اسکا انجام رسوائی ،پریشانی اور احساسِ جرم ہے اب یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ کونسا راستہ چنتے ہیں اور ان جڑواں بہنوں میں سے کسے پسند کرتے ہیں.
    Twitter: @HusnHere

  • تعلیم کی کمی، غربت ایک وجہ  تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    تعلیم کی کمی، غربت ایک وجہ تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ایک درخت کی طرح ، غربت کی بھی بہت سی جڑیں ہیں۔ لیکن عالمی غربت کی بہت سی وجوہات میں سے ایک عنصر کھڑا ہے” تعلیم”

    تعلیم کا شعبہ کسی بھی ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے مگر بدقسمتی سے ، پاکستان میں تعلیم کے شعبے کی حالت بہت خستہ ہے۔غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں بھی اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتے جس کے باعث ان کے بچوں کو بھی غربت میں زندگی گزارنی پڑتی ہے

    ہمارے ملک میں معیاری تعلیم کی کمی 21 ویں صدی کے چیلنجوں سے نمٹنے سے قاصر ہے غربت کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کے لئے معیاری تعلیم کے متحمل نہیں ہیں۔. اس کے علاوہ ، حکومت کی غفلت صورتحال کو مزید مایوس کررہی ہے۔

    اگرچہ تعلیم کے فروغ کے لئے مختلف حکومتوں کے مختلف اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، لیکن خواندگی کی شرح دہائی کے دوران 56٪ پر ہے۔. کم سرمایہ کاری کی وجہ سے ، سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے ناقص کلاس رومز ، پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات ، بجلی کی کمی ہے۔

    نجی شعبہ اس سلسلے میں قابل ستائش کام کر رہا ہے۔. لیکن اس شعبے کا مقصد کمانے والی رقم ، تعلیم ناقص کی رسائ سے بالاتر ہے۔ پاکستان میں یونیسکو کے ذریعہ دی جانے والی بنیادی تکمیل کی شرح خواتین میں 33.8٪ اور مردوں میں 47٪ ہے ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے 6 ویں سب سے بڑے ملک میں لوگ بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں

    حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ اگر ہم غربت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو غریب لوگوں کو پڑھنے کی سہولتيں دیں انہیں تعیلم دلاٶں کیونکہ تعلیم کو اکثر ایک عظیم مساوات کے طور پر جانا جاتا ہے اس سے ملازمتوں ، وسائل اور مہارتوں کا دروازہ کھل سکتا ہے جس کی وجہ سے ایک کنبہ کو نہ صرف زندہ رہنے کی ضرورت ہے بلکہ ترقی کی منازل طے کرنا ہے۔

    ‎@JahantabSiddiqi

  • صنعت اور کتابت میں فرق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    صنعت اور کتابت میں فرق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    آج کا موضوع پاکستان میں موجود نظام تعلیم کے ایک مخصوص حصہ سے متعلق ہے. جس پر توجہ وقت کی اشد ضرورت ہے. پاکستان میں ہر شعبہ زندگی کے لیے نصاب تو موجود ہے لیکن اس ہر ریسرچ کے مواقع اور ورکشاپس کی شدید قلت ہے. جس سے آنے والی پڑھی لکھی قوم انڈسٹری میں جاتے ہی اپنا مقام حاصل نہیں کر پاتی. ایک طویل عرصہ اور تجربہ اس زمدہ میں درکار ہوتا ہے. المختصر جو تعلیم حاصل کی جاتی ہے یا جو اعدادوشمار سیکھے جاتے ہیں اس کا حقیقی زندگی میں یا انڈسٹریل زبان میں استعمال موجود ہی نہیں ہوتا. نصاب کے اندر دی گئ ریسرچ پر جب عملی ورکشاپس میں تجربہ کیا جاتا ہے تو وہ حقیقت سے قدرے مختلف دکھائی جاتے ہیں. 16 سے 18 سال بچے تو تعلیم حاصل کرتے گزرتے ہیں لیکن وہ اپنے اصل مقصد میں کامیاب نہیں ہو پاتا. شعبہ انجینئرنگ میں جو تحقیقات اور ان پر جو پریکٹس کروائی جاتی ہے عملی زندگی میں اس میں بہت فرق ہوتا ہے. جس سے نت نئی ایجادات اور نت نئے طریقے متعارف کروانے کی بجائے پچھلی تصحیحات کو سمجھنے میں کئی قیمتی سال ضائع ہو جاتے ہیں. اور جو وقت بچتا ہے اس میں طالب علم اپنی نوکری کو پکا کرنے کے گر سیکھنے اور آزمانے میں وقت گزار دیتا ہے.
    پاکستان میں ریسرچ اور نت نئی ایجادات کے فقدان کی ایک بہت بڑی وجہ نصاب کا انڈسٹریل ضرورت کے مطابق نا ہونا ہے. ریاضی کے انگنت ایسے باب جن کا عملی زندگی میں آج تک سراغ نہ مل سکا.
    انجینئرنگ کے قوانین جو پاور اور ہیٹ سے متعلقہ ہیں عملی زندگی سے بہت مختلف ہیں. الغرض پڑھی گئی چیزوں کو من و عن اگر عمل پیرا کر دیا جائے تو کتابوں کی ریسرچ پر بنی ہوئی عمارت گرنے لگے. پاور سٹیشن کی ٹربائن گھومنے سے انکار کر دے. بوائلر اور اس جیسے تھرمل آلات گرم ہونے کی بجائے ٹھنڈک دیں اور تو اور کولنگ سٹیشن اور ٹھنڈک کے آلات آگ سیکنے کے کام آئیں. حقیقتاً یہ مزاق لگتا ہو گا لیکن حقیقت کچھ ایسی ہی ہے. یہاں کانسٹنٹ اور فیکٹر کے نام پر ایسی ایسی بلاوں سے واسطہ پڑتا ہے جنہیں سمجھنے سالوں لگ جاتے ہیں.
    ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان کو احساس ہونے لگتا ہے کہ اس نے زندگی کے 18 میں سے کوئی کم از کم 7 سے 8 سال ضائع کئے ہیں.
    وقت کی ضرورت ہے کہ انڈسٹریل کانسٹنٹ اور فیکٹرز پر ریسرچ کر کہ انہیں نصاب کا حصہ بنایا جائے. تعلیم کے نصاب میں اصطلاحات لائی جائیں. ہر شعبہ ہائے سے متعلق ایک بورڈ تشکیل دیا جائے جو عملی طور پر نصاب میں موجود کمی کو دور کرے اور اسے اپگریڈ کرے. تاکہ پڑھنے والے طلبہ اور طالبات کمرہ جماعت سے ہے حقیقی عمل سے قریب تر ہو کر روشناس ہوں اور صنعت اور تجربہ گاہ کے علم میں موجود اس فرق کو کم سے کم کر کے ریسرچ کی راہ ہموار کی جا سکے.
    پاکستان میں زیادہ سے زیادہ ریسرچ سینٹر قائم ہوں جن کو جدت اور انڈسٹری کے تعاون سے اس قدر فعال کیا جائے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انڈسٹری کی فوری ضرورت کو پورا کیا جا سکے. جب کوئی شعبہ صنعت متعارف کرایا جاتا ہے تو اس سے متعلق نصاب پر ریسرچ شروع تو ہو جاتی ہے. لیکن اس صنعت کے حقیقی علم اور کتابی مفروضات میں فاصلہ بڑھتا جاتا ہے. حتیٰ کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اس صنعت کے لیے خاص فائدہ مند ثابت نہیں رہتا. نصاب تو چھپتے ہیں لیکن ہوتے ہوتے حقیقت سے کہیں مختلف ہو جاتے ہیں. اس فرق کو کم کرنے کی ضرورت ہے. ہر شعبہ سے وابسطہ نصاب کو وقت کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں اور صنعت کے جدید قوانین سے متعارف کرانا بہت ضروری ہے. تاکہ صنعت اور کتابت کے اس فرق کو حتیٰ الامکان ختم کیا جا سکے.

    @EngrMuddsairH

  • شُکر گزاری ایک نعمت تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    شُکر گزاری ایک نعمت تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    ہر انسان اپنا موازنہ اپنے اردگرد لوگوں سے کرتا ہے تاکہ وہ جان سکے کہ اس میں کون سی خوبیاں اور کونسی خامیاں ہیں ،اسے کن چیزوں کو مزید بہتر کرنا ہے اور کن چیزوں میں وہ اچھا ہے لیکن اکثر اوقات جب انسان یہ کرتا ہے تو وہ بہت زیادہ گہرائی میں جا کر موازنہ کرتا ہے حسد اور جلن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بہت زیادہ ناخوش رہنے لگ جاتا ہے اسلئے انسان کو چاہیے اپنی صلاحیتوں کو بہتر کرنے پہ کام ضرور کرے- اپنی چیزوں صلاحیتوں یا نعمتوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا بنتا ہی نہیں کیونکہ ایسا کرنے والا انسان بہت زیادہ پریشان اور غم زدہ رہتا ہے
    اکثر لوگ اس عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی چیز یا نعمت کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں جو کہ انکے پاس موجود ہوتی ہے ایسے وہ خواہ مخواہ اپنے پریشانی خرید لیتے ہیں

    جیسے کسی کے پاس موبائل فون ہے اور کسی دوسرے انسان نے اسکے سال بعد لیا لیکن کمپنی تھوڑی سی اچھی ہے تو وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس نے کتنے عرصے بعد لیا وہ صرف یہ موازنہ کرکے دکھی ہوگا کہ اسکے پاس میرے سے زیادہ اچھی کمپنی کا فون ہے- کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے انکے پاس جو کار ہے اسکا موازنہ دوسرے کی کار سے ،اپنے
    بیگ کا موازنہ دوسرے کے بیگ سے،اپنی گھڑی کا موازنہ دوسرے کی گھڑی سے اور یہاں تک کہ لوگ دوسروں کے پاکٹ میں لگے قلم تک کی قیمت کا موازنہ اپنے پاکٹ میں لگے قلم کی قیمت سے کرتے ہیں اور اپنی آل اولاد تک کا موازنہ بھی دوسروں کی آل اولاد سے کر رہے ہوتے ہیں
    اپنی شے کا موازنہ کسی دوسری شے سے کرنا بہت بڑی بے وقوفی ہےاس کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی ۔ہم کسی بھی عہدے پر ہوں کسی بھی سطح پر ہوں کچھ لوگ ہم سے کم تر ہوتے ہیں اور کچھ برتر (یہاں کمتر اور برتر کے الفاظ صرف فرق سمجھانے کی خاطر ہیں ) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک فرد ایک معاملہ میں ہم سے بہتر ہو تو دوسرے میں ہم سے کمتر ایسے ہی یہ بھی ممکن ہے کہ ایک خوبی ہم میں ہو اور وہ خوبی دوسرے انسان میں نہ ہو
    موازنہ کرنے کی عادت بہت خطرناک ہے یہ جن لوگوں میں پائی جاتی ہے وہ عموماً ان چیزوں ک لے کر پریشان ہوتے ہیں جو ان میں نہیں وہ کبھی اپنے پاس موجود نعمت سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے

    یہ رویہ انہیں اس قدر پریشان رکھتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود ہر انسان سے حسد کرتے ہیں دنیا کا تو دستور ہی بدلنا ہے تو پھر کیسی پریشانی ہر انسان پہ اچھے برے حالات آتے ہیں اسلیے ہم سب کو چاہیے کہ ہم لوگ لا حاصل پہ جلنے کڑھنے کے بجائے موجودہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور موازنہ کے نقصانات جن میں ناامیدی،حسد ،بلڈپریشر اسکے علاؤہ کئی ذہنی و جسمانی بیماریاں شامل ہوتی ہیں
    ان سے بچنے کیلیے ضروری ہے کہ ہمیں اس عادت کو ترک کر دینا چاہیئے،خود سے بہتر لوگوں کے بجائے اپنے سے کم تر سے موازنہ ہو تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رب باری تعالیٰ کی کتنی لاتعداد نعمتوں سے ہم فائدہ ہیں جو کروڑوں دیگر افراد کو میسر نہیں ہیں

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

     

    Follow @IamYasif

  • پنجابی زبان   تحریر : مقبول حسین

    پنجابی زبان تحریر : مقبول حسین

    پنجابی زبان نہ صرف پاکستان اور ہندوستان میں بولی جاتی ہے بلکہ یہ کینیڈا ، برطانیہ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور دیگر تمام ممالک میں بھی بولی جاتی ہے جہاں جہاں بھی پنجابی تارکین وطن موجود ہیں وہاں پر پنجابی زبان بولی جاتی ہے ۔ برصغیر میں ، دو بڑے گروہ ہیں جو پنجابی کو اپنی مادری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بھارت میں مشرقی پنجاب کے سکھ اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مغربی حصے میں رہنے والے پنجابی۔ ہندوستان کی ایک ریاست پنجاب میں پنجابی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیتی ہے۔ ہندوستانی پنجاب میں پنجابی زبان لکھنے کے لئے گورموکی اسکرپٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جسے مشرقی پنجاب بھی کہا جاتا ہے جبکہ اسکرپٹ جو پاکستانی پنجاب میں پنجابی زبان لکھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جسے مغربی پنجاب کہا جاتا ہے اسے "شاہ مکھی” کہا جاتا ہے ۔ مشرقی پنجاب کے رہائشیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جو سکھ ہیں ، وہ اپنی زبان کے بارے میں بہت خاص ہیں اور اسے وقار اور فخر کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ سکھ برادری کے ایک عام تاثر کے مطابق ، اگر کوئی سکھ پنجابی نہیں بول سکتا ، تو اسے جعلی سکھ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے سکھوں کا تعلق رہائش پزیر بین الاقوامی برادری سے ہے اور وہ کبھی ہندوستان کے اصل مقام تک نہیں رہے ، یہاں تک کہ وہ مہارت کے ساتھ پنجابی زبان بھی بول سکتے ہیں ۔
    پاکستانی پنجابیوں کی بات کرتے ہوئے ، پنجابی پاکستان میں اکثریتی آبادی کی مادری زبان اور صوبہ پنجاب کی صوبائی زبان ہے ۔ فوج اور بیوروکریسی جیسے طاقت کے شعبوں میں پنجابی بولنے والی برادری کا غلبہ ہے۔ بدقسمتی سے ، یہ تسلط ان کی زبان کی حیثیت سے ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ خود پنجابی کے علاوہ کوئی بھی اپنی زبان کو فروغ دینے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ جیسا کہ زیدی کے مطابق ، وہ اسے رسمی ترتیبات میں استعمال نہیں کرتے ہیں ، لہذا یہ صرف غیر رسمی بات چیت جیسے معمولی کام انجام دیتا ہے۔ تاریخی بصیرت کے تناظر میں پنجابی زبان کی موجودہ کم حیثیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ انگریزوں کے آنے اور نوآبادیاتی آباد ہونے سے پہلے ہی مسلمانوں نے کافی عرصہ تک ہندوستان پر حکومت کی۔ مسلم حکمرانی کے دوران ، فارسی ہندوستان کی سرکاری زبان تھی اور انتظامیہ اور عدلیہ جیسے اقتدار کے ڈومینز میں بڑے پیمانے پر مستعمل تھی۔ اس وقت ، ہندوستان کی تمام مقامی زبانیں ترقی کر رہی تھیں کیونکہ ان میں سے کچھ جیسے پنجابی بھی تعلیم کا ذریعہ تھا۔ انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہی ، جب انہوں نے اپنا کنٹرول قائم کرنا شروع کیا تو صورتحال بدل گئی ، لہذا انہوں نے انگریزی کے ساتھ فارسی کی جگہ دفتری زبان کی جگہ لے کر ہندوستان کی تعلیمی پالیسی پر روشنی ڈالی اور انگریزی کو بھی ذریعہ تعلیم اور انتظامیہ کا ذریعہ بنایا۔ انگریزی انگریزی اخبارات کی وسیع گردش کے ساتھ اشرافیہ کی زبان کے طور پر ابھری۔ براس کے مطابق ، انگریزوں نے اردو کو شمالی ہندوستانی ریاستوں کی فارسی اور دیگر مقامی زبانوں کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا ۔ صوبہ پنجاب کی فتح کے ساتھ ہی انہوں نے پنجابی کی جگہ اردو زبان سے لے لی کیونکہ انہوں نے اردو کو صوبہ پنجاب کی سرکاری زبان قرار دیا۔ انگریزوں کا مقصد مقامی زبان کو ختم کرنا اور انگریزی کو اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے لئے استعمال کرنا تھا۔ انگریز نے پس منظر میں پنجابی کو آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم اور انتظامیہ میں اردو نافذ کرکے پنجابی زبان کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے یہاں تک کہ پنجابی کو ایک آزاد زبان نہیں سمجھا اور اس کے ساتھ ، انہوں نے یہاں تک کہ پنجابی بولنے والے طبقے کی ثقافت اور ان کی انوکھی شناخت کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی ۔ اگلا قدم انگریزی زبان کو ادارہ بنانا تھا اور لارڈ میکالے نے انگریزی کو اشرافیہ اور حکمران طبقے کی زبان قرار دیا۔ انہوں نے اس کے درس اور عمل درآمد کی وکالت کرکے انگریزی زبان اور ثقافت کی فوقیت کو قائم کیا۔ جب دو قومی نظریہ نے مقبولیت حاصل کی تو ، مسلمان اردو کو اپنی مسلم شناخت کا نشان سمجھے جبکہ ہندی ہندو کی شناخت کی علامت بن کر ابھری۔ اس ہندی تنازعہ نے اس صورتحال کو مزید بڑھاوا دیا تھا کیوں کہ پنجابی زبان کو بھی پیچھے دھکیل دیا گیا تھا کیونکہ اس کو سکھوں کی شناخت سمجھا جاتا تھا ۔ صرف سکھوں کے پاس پنجابی زبان اور اس کے ادب کو فروغ دینا باقی تھا ، لہذا انہوں نے اس کو اورینٹل کالجوں میں متعارف کرایا۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں نے پنجابی زبان کو ویران کردیا اور اردو کو اپنی شناخت کا نشان بنا دیا۔ پاکستان کے آزاد ہونے سے پہلے ہی ، پنجابی زبان ایک زبان کی حیثیت سے سماجی ، سیاسی اور معاشی طور پر تکلیف میں مبتلا رہی ہے ۔ اسے کبھی بھی ہندوستان میں ترقی اور خوشحالی کا کوئی موقع نہیں ملا جس پر مغل شہنشاہوں کا راج تھا اور انہوں نے اپنی زبان فارسی کو طاقت کے ڈومین میں ترقی دی۔ اردو ایک فائدہ مند مقام پر تھی کیونکہ اس میں فارسی کے درمیان قریبی لسانی قربت تھی ، ہندی کے ساتھ باہمی رابطے اور پنجابی کے ساتھ ہم آہنگی وابستگی ۔ جب انگریزوں نے اپنی مغل انجمن کی وجہ سے فارسی زبان کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے صوبہ سندھ میں فارسی زبان کو سندھی سے بدلنے کا فیصلہ کیا ، لیکن انہوں نے فارسی کی جگہ پنجابی میں پنجابی نہیں لگایا۔ اردو ان کی ترجیحی انتخاب تھی اور انہوں نے اس دلیل کو پیش کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر زور دیا کہ پنجابی آزاد زبان نہیں ہے۔ بلکہ یہ اردو کی بولی تھی جس کی معاشرتی قدر کم تھی۔ ان کے فیصلے کی جڑ زبان کو جانچنے کے معاشرتی معیار پر ہے کیونکہ انہوں نے سماجی و سیاسی بنیادوں پر پنجابی زبان کا جائزہ لیا ۔ اگر وہ لسانی خوبیوں پر پنجابی کا جائزہ لیتے ، تو وہ پنجابی زبان کے بھر پور ادب کو نثر اور شاعرانہ دونوں ہی انداز میں اہمیت دیتے۔ وسیع و عریض عرصہ میں پنجابی زبان میں نمایاں ادب شائع ہوا تھا۔ ہیر رانجھا پنجابی زبان میں لکھی جانے والی بہت سی لافانی محبت کی کہانیوں میں سے ایک ہے ، بدقسمتی سے ، پنجابی زبان کی اعلی ادبی قدر کو اس کی کم سیاسی قدر کے خلاف سمجھوتہ کیا گیا۔ پنجابی بھی سکھ شناخت سے وابستہ ہونے کا نقصان کررہے تھے اور یہی وجہ تھی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں نے بھی کبھی بھی سیاسی بنیادوں پر اس کی اہمیت کا اعتراف نہیں کیا ۔ پاکستان تحریک کے دوران ہندی کو ہندوؤں کا شناختی نشان قرار دینے میں زبان کی سب سے آسان تقسیم کی عکاسی ہوتی ہے۔ مسلم شناخت اردو سے وابستہ تھی جبکہ پنجابی سکھ شناخت کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔

    Twitter handle
    @Maqbool_hussayn

  • ‏عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف سفر  تحریر: عائشہ رسول

    ‏عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف سفر تحریر: عائشہ رسول

    کائنات کا یہ چھوٹا سا کرہ ارض جسے ہم دنیا کہتے ہیں ایسے کروڑہا کرےّ ہیں جن میں اللہ کی مخلوق ہے . دنیا جہاں میں بسنے والوں کو انسان کہتے ہیں۔
    خالق مطلق کا انسان پر سب سے عظیم احسان یہ ہے کہ اس نے زندگی اور موت کا راز پنہاں رکھاہے…قلوب انسانی اور قلوب حیوانی میں فرق صرف احساس ہے.. اگر انسان کو موت کے وقت کا یقین ہو جائے تو اس کی زندگی میں سے یکسوئی نکل جائے. یکسوئی وہ احساس ہے جس پر زندگی قائم ہے.

    انسان سمجھتا ہے مرجانے کے بعد اس کے سر سے گناہوں کا بوجھ اتر جائے گا. ہاں لیکن وہ بوجھ روح اٹھائے رکھے گی.
    دانائی ایسی میں ہے کی صراط مستقیم پر سے خیرو عافیت سے گزرنے کی تیاری کی جائے
    ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمیں کیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے.
    ہمارا زندگی اور موت پر کیا اختیار ہے. حثیت کیا ہے. منزل مقصود ہمیں معلوم ہونی چاہئے. عذابِ الٰہی اور اذیت قبر کی خبر ہونی چاہئے
    راہ غیر مستقیم پر چلنے والا انسان نہیں جانتا اور نہ جاننے کی کوششں کرتا ہے کہ اس کی ابتدا جراثیم حیات اور اسکی انتہا خوراک حشرات ہے. پہلے وہ اپنی ضروریات زمین سے حاصل کرتا ہے بعد میں اُسکا جسم زمین کی ضرورت بن جاتا ہے. پہلے وہ اسی مٹی سے پیدا ہوا مرنے کے بعد اُسی مٹی ملا دیا جائے گا
    اے غافل انسان ! تیرا سفر عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف ہے. خدا نے جو کچھ تجھے عطا کیا ہے اس پر تجھے اختیار بھی دیا گیا ہے مگر حدود کا تعین بھی کر دیا گیا ہے .اس حد سے آگے مت جاؤ جہاں وہ( اللہ) غضب ناک ہوجائے. اس کے غضب کو جو دعوت دیتا ہے وہ انہیں عبرت بنا دیتا ہے
    دنیا مقامِ الوداع ہے اور قبر ابدی اور آخری آرام گاہ….
    دنیا میں جو آئے ہیں وہ جانے کے لئے ہیں اور جو چلے گئے ہیں وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے یہ ہی دنیا کا اصول ہے
    اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنے اس دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھنے اور سچی توبہ اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے
    آمین…

    Official Twitter Handle
    ‎@Ayesha__ra

  • ایک کہانی تحریر : عثمان غنی

    ایک کہانی تحریر : عثمان غنی

    ‏اچھا تو بات ہورہی تھی ہماری
    ارے ہماری ہورہی تھی۔۔۔۔۔
    ہماری ہی ہورہی تھی ناں
    بھئی آپ سے پوچھ رہے ہیں
    ہم ٹھرے صدا کے بھلکڑ ۔۔بھلکڑ سے بھی زرا آگے
    ارے نہیں زیادہ آگے مت جاییے گا اپ پاگل پر پہنچ جائیں گے
    اوہ بلکہ پہنچ گئے آپ
    چلیے الٹے بانس بریلی کو والا محاورہ استعمال کرتے ہوئے واپس ائیے۔۔۔۔ آئیے نا راستے میں آپکو مریم بی بی کا قافلہ ملے گا
    کیا سوچ رہے ہیں
    آتے ہوئے بھی مل سکتا ہے جاتے ہویۓ بھی بھئی وہ تو ماہر ہیں المپک میں چمپئین ٹرافی جیت چکی ہیں
    ہیں اولمپک میں چیمپئن ٹرافی
    ارے پھر سے غلط بول دیا چلیں اپ بھلکڑ سے ککڑ ککڑ دھکڑ دھکڑ کڑکڑ کڑ کڑ کڑ سے ہوتے ہوئے پاگل تک چلے جائیں
    ارے اب کیا سوچ رہے ہیں یہ منہ پر اتنا بڑا الٹے نو کی شکل کا کیا ہندسہ بنا رکھا ہے کہیں چھ تو نہیں
    ارے نہیں نو ہی بس رخ دوسری طرف ہے
    اچھا سوالیہ نشان ہے
    مگر کس بات کا بھلکڑ ککڑ کا یا پریم بی بی کا
    ارےےےےےے مریم بی بی کا
    آپ مریم بی بی کو نہیں جانتے
    ویسے بتائین پاکستانی ہی ہین نا
    آپ ارے ہم تو آگرے میں بیٹھ کر شاہی قلعہ اور دلی میں بیٹھ کر تاج محل دیکھ آتے ہیں
    اور اگر کبھی لاہور سے گزر ہو تو اجمیر شریف ضرور جاتے ہیں
    ویسے یہ بھارت ماتا گائیں اور پتا مودی کا زکر کہاں سے آگیا
    اوہ ایک تو اپ اتنے نا لائق ہیں اب آپ پتا مودی کا نہیں پتا ارے مریم بٹیا کے چاچا ہیں کاہے اب سمجھ گئے نا
    ویسے نالائق سے آگے بھی ککڑ دھکڑ پاگل آتا
    ارے مودی پتا کر تعارف کرا دیا اپ کو تو مریم بٹیا کا ہی نہیں پتہ
    ارے وہی نامی گرامی معزز ترین چور نواز شریف کی لاڈو بٹیا ہے مریم
    حق حا
    بیچاری پھوٹے نصبوں والی نکلی
    بہت سیکھا بہت سیکھا میٹرک فیل ہوتے ہویے بھی انگریجی فل سپیڈ مین سیکھی اور تو اور لہوریوں میں بیٹھ کر لکھنو کی اردو بھی بول دیتی ہیں
    مگر نصیب ہی ماڑا ہے ہماری بٹیا کا
    جیسے ہی ابا حضرت چور المعروف بیماریوں والی سرکار کا پتہ کٹا ادھر بیٹی آئی چچا استعفے والے المعروف خادم اعلی کو کھڈے لائن لگا کر یہاں سے نیازی آیا بیٹھا تھا
    پھر کیا ہوا بیچاری کو زوروں سے بدنام کیا اس سنکی کریکٹر نے
    عجیب انسان ہے کوئی وہ بھی ابریم بٹیا اللہ کی ثنائی کا بہترین نمونہ ترس نا آوے اسے بٹیا کو پریشان کرتے ہوۓ
    ساری زندگی اس غریب صفدری کے ساتھ گزار دی اور اف تک نا کی
    بس اقتدات کا سوچ سوچ کر ٹیڑھے انگن میں تھک تھیا تھا کرتی رہی ناچ ناچ کر گھنگرو کی فیکٹریاں بند کرا دی مگر ملا کیا
    تین کوجھے بچے جن میں سے دو تو اس صفدری سے ملتے ہی نہیں
    اور وہ یوتھیے سارا دن ان کے ابا دھونڈنے کا کام کرتے ہین کمینے۔۔۔۔۔
    ارے میں بھی کیا کہانی لیکر بیٹھ گیا
    بڑھا ہوگیا ہوں اب کہانیاں یاد نہیں رہتیں بس مریم بیٹیا کی پارٹی میں آئی لڑکیوں کو دیکھ کر دل جوان کر لیتا ہوں
    اور او او او ہۓ وہ کہاں گئی چٹی گوری سی
    نہیں سمجھ آرہا
    پاس آؤ
    ارے وہ تنظیم سازی والی
    لگتا ہے بھائیوں مے گھر بٹھا دیا بچی کو
    ہۓ ہۓ بڑی کوئی فرمابردار بچی تھی کبھی اف تک نا کی
    ارے ارے کیا سمجھ رہے ہیں آپ لوگ
    مریم بی بی کے آگے اف تک نا کی
    اچھا تو بات کچھ اور ہوری تھی
    مریم بی بی روز بریلی جاتی ہیں
    ارے نہیں یہ نہیں
    وہ تو بریلی آتی جاتی رہتی ہیں
    وہ نااہل نیازی ہے نا
    وہ کرتا ہے یہ
    بیچاری اسکے لیے ارے وہ کہتے ہیں انگریزی میں ارے کیا کہتے ہیں اسے پڑھے لکھے نہیں ہو کیا
    ہاں سیلف ڈیفینس کے لیے کبھی جھوٹ بولیں تو وہ نا اہل صدا کا نیازی ورلڈ کپ کہ آجری گیند کی طرح انہیں چکھا لگا کر گراؤنڈ کیا کراؤڈ سے بھی باہر پکھوا دیتا ہے
    ویسے بانس تو بریلی میں بہت ہوتے ہیں جیسے جناب فارمر پرائمنسٹر چور پاکستان کی پارٹئ میں کھوتے
    مگر کیا کریں انکی بڑی مارکیٹیں ہی وہی لگتی ہین جہاں یہ بڑی تعداد میں ہوں
    اب اگر امرتسر کی ہیرا منڈی کے باہر پھولوں کی مارکیٹ نا ہو اور تو بھلا مزا آیے گا
    ارے پھولو کا استعمال ہی وہی ہے
    تم کیا دیکھ رہے ہو
    ایسے دیدے پھاڑ پھاٹ کے
    ارے نگلو گے کیا منحوس
    اچھا امرتسر کی ہیرا مینڈی
    بڑے ہی شریر ہو کمینے نا ہو تو
    ہۓ وہ بھی کیا دن تھے مریم بی کے پرداد ہے اللہ بخشے ہیرا منڈی سے بڑا کمایا انہیوں نے بڑا کمایا
    سہی سمجھ رہے ہو انہیں پیسوں سے تو مریم بی بی کومیڈیکل کالج میں داخلہ دلایا
    ارے کیا کیا
    اور کیا پوچھنا ہے
    چل چھچھورے اب بس باقی کل


    Usman Ghani is a Freelancer, Blogger He is associated with many leading digital media sites in Pakistan. To find out more about him visit her        Twitter Account(@UsmanSay_)  

    Other Article Usman Ghani

     

     

  • ذیابیطس کا مرض اور انسولین کے 100 سال.  تحریر شاہ زیب احمد

    ذیابیطس کا مرض اور انسولین کے 100 سال. تحریر شاہ زیب احمد

    شوگر یعنی ذیا بیطس ایک دائمی مرض ہے اور جسم کے تقریباً ہر حصے کو متاثر کرتا ہے، پاکستان میں تقریبا 4 کروڑ لوگ ذیا بیطس کا شکار ہیں.
    دراصل جو غذا ہم کھاتے ہیں اسی سے ہمارا جسم توانائی حاصل کرتا ہے، وہ توانائی پروٹین ، فیٹ اور کاربوہائڈریٹ کے صورت میں ہوتی ہے جو نظام ہضم سے پورے جسم میں تقسیم ہو جاتی ہے، جسم کے لئے توانائی کا ایک بنیادی ذریعہ کاربوہائڈریٹ ہے جو مختلف گلوکوز سے مل کر بنتا ہے۔ یہی توانائی یعنی جو کھانا ہم نے کھایا ہوتا ہے وہ نظام انہضام میں چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، کاربوہائیڈریٹس بھی چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر گلوکوز بن جاتے ہیں جہاں سے خون میں شامل ہو کر پورے جسم میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور سیلز (خلیوں) میں چلے جاتے ہیں اور خلیوں یعنی پورے جسم کو توانائی مل جاتی ہے!
    کاربوہائیڈریٹس ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر گلوکوز بن جانے کے خون میں شامل ہو تو جاتے ہیں لیکن گلوکوز کے ساتھ یہاں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انسولین کے بغیر یہ خلیوں کے اندر نہیں جا سکتے، جیسے کسی افسر سے ملنے کے لئے وہاں کے سیکورٹی گارڈ اندر لے کے جاتے ہیں ایسے ہی ہر سیل (خلیے) پر موجود انسولین ریسپٹر (گارڈ) ہوتے ہیں اور ان ریسپٹر کے مدد سے گلوکوز خلیے کے اندر جاتے ہیں اور جسم کو توانائی حاصل ہو جاتی ہے.
    *اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسولین ہے کیا؟*
    انسولین ایک ہارمون ہے جو ہمارے جسم کے حصے Pancreas یعنی لبلبے میں پیدا ہوتا ہے،
    لبلبہ انسولین بنا دیتا ہے جو خون میں شامل ہو کر خلیوں تک پہنچ جاتا ہے جہاں یہ انسولین گلوکوز کے لئے راستہ بنا کر خلیوں کے اندر جانے میں مدد دیتا ہے،
    خون میں اگر گلوکوز کا لیول بڑھ جائے (عموما زیادہ میٹھی چیزیں کھانے سے) تو لبلبے کو میسج چلا جاتا ہے جہاں سے وہ زیادہ انسولین خارج کر دیتا ہے اور گلوکوز کو زیادہ مقدار میں خلیوں میں پہنچا کے خون میں گلوکوز کی مقدار کم کر دیتا ہے یعنی خون میں گلوکوز لیول کنٹرول رکھتا ہے،
    شوگر یعنی ذیا بیطس کے صورت میں صورتحال مختلف ہوتی ہے جس میں اگر خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے تو وہ کم نہیں ہوتی، اس کے دو اہم وجوہات ہے
    پہلا یہ کہ لبلبہ ٹھیک کام نہیں کر رہا اور انسولین پیدا ہی نہیں ہے رہا، اس حالت کو ٹائپ 1 ذیا بیطس کہتے ہیں، جسکا علاج صرف انسولین کے ٹیکے لگانا ہی ہیں

    دوسرا یہ کہ لبلبہ ٹھیک کام کر رہا لیکن خلیوں پہ موجود انسولین ریسپٹر کام چھوڑ دیتے ہیں اور گلوکوز کو خلیوں کے اندر جانے نہیں دیا جاتا، اس قسم کو ٹائپ 2 ذیا بیطس کہتے ہیں، اس کا علاج انسولین کے ٹیکے کیساتھ ساتھ مختلف گولیوں کے شکل میں بھی موجود ہے.

    آج سے سو سال پہلے یعنی 1921 تک ذیا بیطس (شوگر کا مرض) ایک لاعلاج مرض تصور کیا جاتا تھا، جہاں یہ تصور عام تھا کہ ٹائپ 1 ذیا بیطس کے شکار مریض ایک یا دو سال ہی زندہ رہ سکتے ہیں،
    لیکن بیسوی صدی میں ایک عظیم ایجاد کیا گیا جس سے بے شمار انسانوں کی زندگیاں بچائی جانے لگی اور اس ایجاد کو "ہیمولین/انسولین” کا نام دیا گیا جس سے آج کروڑوں لوگ ذیا بیطس کا علاج کر رہے،

    1920 تک سائنس دانوں نے لبلبے کے خلیوں پر تحقیق کر لی تھی جسے islets کا نام دیا گیا اور یہ دریافت ہو گیا کہ islets ہی وہ خلیے ہے جن کے ناکارہ ہونے سے لوگ ذیا بیطس ٹائپ 1 کا شکار ہوتے ہیں، یہ معلوم کرنے کے بعد مزید تحقیق آسان ہوگئی جس سے اس مرض کا علاج ڈھونڈا جا سکیں.
    اکتوبر 1920 میں کینڈین سرجن فریڈریک بینٹنگ Frederick Banting نے انسولین کے بارے میں ایک آرٹیکل پڑھا جہاں سے اسے تحقیق کرنے کا ایک آئیڈیا مل گیا، یہ بات بھی واضح ہوگئی تھی کہ شوگر کا تعلق میٹھی اور زیادہ کلیوریز والی خوراک کے کھانے سے ہے اور میٹھا کھانا چھوڑنے سے مریضوں میں کچھ بہتری آتی ہیں،
    فریڈریک بینٹنگ چونکہ سائنس دان نہیں تھے اور تحقیق کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھی تو 7 نومبر 1920 کو انہوں نے یونیورسٹی آف ٹورنٹو کا دورہ کیا جہاں پہ وہاں کے ٹاپ پروفیسر جوہن جیمس ریکارڈ میکلاڈ سے ملاقات کی اور دونوں نے ایک ساتھ تحقیق کرنے کا ارادہ کر لیا۔
    مہینوں محنت کے بعد بالآخر 17 مئی 1921 کو تجربہ شروع کر لیا ، میکلاڈ نے تجربہ گاہ فراہم کرنے سمیت ایک ریسرچ اسٹوڈنٹ چارلس ہربرٹ بیسٹ جو خون میں گلوکوز کا مقدار ناپنے میں ماہر تھے کو فریڈریک بینٹنگ کا اسسٹنٹ بنا دیا.
    بینٹنگ، میکلاڈ اور بیسٹ تینوں نے مل کر ریسرچ شروع کی کہ کیسے *کتے* کے لبلبے سے انسولین ہٹایا جا سکتا ہے، آپریشن کے ذریعے کتوں کے لبلبے نکالے گئے، جس سے دوائی بنانا شروع کر دیا، یہاں یہ واضح ہو گیا تھا کہ لبلبے کے بغیر کتے ذیا بیطس کے مرض کا شکار ہو گئے ہیں،
    کئی تجربات ناکام ہونے کے بعد جولائی میں ایک کامیاب تجربہ کیا جسکا بالآخر 10 نومبر 1921 کو پہلا کامیاب نتیجہ سامنے آگیا، ابھی بھی اتنی خاص دریافت نہیں ہوئی تھی لیکن انہوں نے ذیا بیطس کے شکار کتے میں انسولین کے ٹیکے لگانے سے 70 دن تک کتے کو زندہ رکھا، مزید کئی تجربات کئے،. کتوں پر کامیاب تجربے کے بعد اب اسے انسانوں پر آزمانے کے لئے 12 دسمبر 1921 کو ایک بائیو کمیسٹ جیمس کولیپ بھی فریڈریک کی ٹیم میں شامل ہوگئے، تاکہ وہ حاصل شدہ انسولین کو مزید صاف کر سکے اور انسانوں پر آزمانے کے قابل بنا سکیں، اس دفعہ انسولین ایک گائے کے لبلبے سے حاصل کی گئی.
    *انسانوں پر تجربہ*
    11 جنوری 1922 کو ایک 14 سالہ نوجوان لیونارڈ تھامسن جو ٹائپ 1 ذیا بیطس کا شکار تھا اور شوگر لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے مرنے کے قریب تھا کو ٹورنٹو ہسپتال میں انسولین کا ٹیکہ لگا دیا گیا 24 گھنٹوں کے اندر تھامسن کا ہائی شوگر لیول کم ہو گیا، لیکن ساتھ ہی تھامسن کو انجکش کی جگہ انفکشن ہوگیا تھا جو ایک سائیڈ ایفکٹ تھا، بائیو کمیسٹ کولیپ نے دن رات محنت کی تاکہ انسولین کو بالکل شفاف بنایا جا سکے اور سائیڈ ایفکٹس کم سے کم تر کرسکیں، 23 جنوری 1922 کے دن تھامسن کو انسولین کا دوسرا ٹیکہ لگایا گیا اور اس بار اسکا ہائی شوگر لیول نارمل پہ آگیا اور کوئی انفکشن/ سائیڈ ایفکٹس بھی ظاہر نہیں ہوئے جو ایک مکمل طور پر کامیاب تجربہ ثابت ہو گیا،
    بینٹنگ اور بیسٹ اب مزید تحقیق اور محنت کر رہے تھے تاکہ انسولین کو زیادہ مقدار میں حاصل کیا جا سکیں ، ایلی لیلے پہلے انسان تھے جنہوں نے اس میں مدد کی اور انسولین کو زیادہ مقدار میں بنانا شروع کیا، تجربہ کامیاب ہو گیا تھا لوگ ٹھیک ہونے لگ گئے تھے
    یہ خبر دنیا میں آگ کی طرح پھیلنے لگی، اور اس ایجاد کو ایک عظیم کارنامہ بتایا گیا،
    25 اکتوبر 1923 کو یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے کے اعتراف میں بینٹنگ اور میکلاڈ کو مشترکہ طور پر نوبل پرائز انعام سے نوازا گیا (جو انہوں نے ٹیم کے ساتھ شئیر کر دیا تھا).
    ذیا بیطس کے علاج کے لئے کافی عرصے تک انسولین جانوروں (گائے اور خنزیر) سے حاصل کیا جاتا رہا، لیکن یہ زیادہ مؤثر نہیں تھا زیادہ تر مریضوں میں اس کے سائیڈ ایفکٹس آرہے تھے بالآخر محنت اور تحقیقات سے 1978 میں پہلی دفعہ انسانوں کے خلیوں سے حاصل شدہ انسولین بنایا گیا جسے humulin کا نام دیا گیا، 1983 میں ایلی لیلے نے باقاعدہ طور پہ یہ انسولین بنانا شروع کیا اور اسکی سپلائی بھی تیز کر دی گئی، آج انسولین مختلف اقسام میں مختلف ناموں سے مارکیٹ میں دستیاب ہے جس سے کروڑوں لوگوں کا علاج ہو رہا ہے.
    اج انسولین کے کامیاب تجربے کو 100 سال پورے ہوگئے ان سو سال میں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں آسان ہو چکی ہے سو سال پہلے جو لا علاج مرض تھا اب اس مرض کے ساتھ لوگ روز مرہ کی خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں جس کا سہرا یقیناً بینٹنگ اور اسکی ٹیم کو جاتا ہے..