Baaghi TV

Category: بلاگ

  • زندگی  تحریر: محمد عدنان شاہد

    زندگی تحریر: محمد عدنان شاہد

    زندگی سفر کے آغاز کا نام ہے اس سفر کے اختتام کو موت کہتے ہیں اس سفر میں انسان کو بہت کچھ سہنا پڑتا ہے انسان بہت کچھ پاتا ہے انسان بہت کچھ کھو دیتا ہے ہم زندگی کے ان مراحل کو بیان کرتے ہیں
    زندگی ہر مخلوق کو ملتی ہے لیکن ہم انسانی زندگی کی بات کریں گے انسان اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے سفر کا آغاز بچپن سے ہوتا ہے یہ مرحلہ حیرت انگیز حد تک حسین اور پیارا ہوتا ہے اس مرحلے میں کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی اس مرحلہ میں انسان دھوکے سے بچا رہتا ہے انسان کی زندگی میں جتنی خوشیاں آ جائیں اسے بچپن کبھی نہیں بھولتا بچپن کی یادیں آپ کا سہارا ہوتی ہیں انسان جوں جوں آگے بڑھتا ہے اسے اپنا بچپن اس قدر ہی یاد آتا ہے بچپن دراصل زندگی کا ایسا دورانیہ ہے جس میں آپ کسی سے کوئی غرض نہیں رکھتے بچپنہ زندگی کا ایک بہترین حصہ ہوتا ہے جو ہر قسم کی پریشانیوں سے آزاد ہوتا ہے۔

    اس کے بعد آتا ہے لڑکپن یہ وہ دورانیہ ہوتا ہے جہاں آپ کی عادات بنتی ہیں آپ ہر لمحے کچھ نہ کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں آپ کے اندر جستجو ہوتی ہے آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں آپ دنیا پر اپنی نگاہیں جماۓ رکھتے ہیں

    اس کے بعد جوانی کا دورانیہ شروع ہوتا ہے یہ عملی اور مشکل زندگی کا آغاز ہے یہاں آپ خواب دیکھتے ہیں اور ان خوابوں کو پورا کرنے میں لگ جاتے ہیں یہ خواب آسان نہیں ہوتے ان خوابوں کو پورا کرتے کرتے آپ کی جوانی ختم ہو جاتی ہے، انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو بھی انجوائے کرے اپنوں کو وقت دے خوشی اور غمی کے لمحات میں ان کے ساتھ شریک ہو زندگی کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہی نہیں، جوانی کا وقت ہی انسان کا اصل امتحان ہوتا ہے اسی دوران انسان بھٹک بھی جاتا ہے یا پھر زندگی کے اصل مقصد کے حصول کیلئے سہی راستے پر چل پڑتا ہے۔ جوانی کا وقت انسان کیلئے ایک امتحان ہوتا ہے انسان کو چاہیے کہ اس دوران سمبھل کر چلے ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر اٹھائے۔

    اس دورانیے میں انسان اپنے مقاصد بناتا ہے ان مقاصد کی تکمیل کے لیے انسان سر توڑ کوشش کر جاتا ہے جو اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے وہ کامیاب ٹھہرتا ہے

    جوانی زندگی کا نازک مرحلہ ہوتی ہے اس مرحلے میں چھوٹی سی غلطی آپ کی گزشتہ کامیابیوں اور آنے والی زندگی پر پانی پھیر دیتی ہے یہاں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے اس مرحلے میں انسان کو اپنی حفاظت خود کرنا ہوتی ہے

    زندگی کا آخری مرحلہ بڑھاپا ہوتا ہے اس مرحلے میں انسانوں کو دو طرح کی زندگی ملتی ہے جن کی اولاد نیک ہو انہیں حسین اور پر آسائش زندگی ملتی ہے جن کی اولاد نا خلف نکلے انہیں موت سے پہلے موت جیسی زندگی ملتی ہے

    جیسا کہ شروع میں بولا تھا کہ زندگی ایک سفر ہے تو اس سفر کا اختتام بھی ہونا ہے زندگی کے سفر کے اختتام کو موت کہتے ہیں انسان زندگی میں بنایا سب کچھ چھوڑ کر آخرت کی جانب گامزن ہو جاتا ہے اس کا نام، دولت اور مرتبہ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے لیکن سچے لوگوں کا نام ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔

    بس انسان کو چاہیے کہ وہ جس مقصد کیلئے اس جہاں میں آیا ہے اپنے اس مقصد کو پورا کرنے میں کامیاب ہو اور اس مقصد کو پورا کرے نہ کہ بھٹک جائے، مشکلات اور مصائب آتے رہتے ہیں بس انسان کو ثابت قدم رہنا چاہئے، اللّه تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّه تعالیٰ ہمیں سہی معنوں میں زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    ٹویٹر ہینڈل: @RealPahore

  • شہادت مقصودِ مومن تحریر : عثمان غنی

    دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل یہ عجب چیز ہے لذتِ آشنائی بھی
    بے شک شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
    نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی

    مومن کی اصل میراث اللّہ کی راہ میں شہید ہونا بےشک مجاہد کا مستقبل مرنے کے بعد ہی گردانتا ہےاور ایمان، تقویٰ نگہبانی اور جہاد فی سبیل اللہ کا یہ جو مسلمان کے اندر جزبہ ہےافواج پاکستان کو مشکِ ہرن کی طرح ہر لمحہ ہرگھڑی ہرپل ہرنگر غازی بننے اور اس حالت میں شہید ہونے کے جذبے سے سرشاررکھتاہےان سپاہیوں میں یہ آرزو دعا بن کرہمیشہ پختہ رہتی ہے کہ ہم اپنے وطن کے لیے جان کا نظرانہ پیش کر رہے ہیں اور دشمن ہماری للکار سے ڈرتا ہے.ہم اپنی جانوں کی بازی لگا کر دشمن ہم اپنے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی پکار ان کے جزبہ کو اپنا بنا کر اس حکم اور اس جزبہ کو پوری ایمانداری سے پرا کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں الحمدللہ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    ’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے میں یہ اس بات سے شدید محبت کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں پھر شہید کردیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کردیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کر یا جاؤں۔‘‘

    نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق شہادت کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے خلوص نیت کے ساتھ اللہ کے لیے اپنی جان قربان کر دے۔جس طرح قربانی کے جانور میں اللہ کو جانور کا گوشت و خون مطلوب نہیں ہوتا اسی طرح شہات میں بھی خون نہیں بلکہ اخلاص اور رضا و تسلیم مطلوب ہے
    جہاں جزبہ مان پر جائے تو راستے بند ہونے لگتے ہیں اگر جزبوں میں پاکیزگی اور پختگی ہو وہ پروان چڑھ کر ہی دم لیتے ہیں.
    جیسے کہ ایمان کھڑا رہتا ہے اور نگہبان بھی کھڑا رہتا ہے ایسی تپتی دھوپ اور پے تہاشا گرمی میں. اور تب بھی کھڑا رہتا ہے جب درجہ حرارت منفی ہوجاتا ہے ہر چیز برف کی طرح جم جاتی ہے. تو سوچئے ہمارے جوانوں کو کیا چیز ہے جو کھڑا رکھتی ہے. ایمان، حب الوطنی کا جذبہ جنون اور بے شک ذوقِ شہادت…
    اللّٰہ پاک ہمارے فوجی جوانوں کو اپنی حفاظت میں رکھے اور انکے اس جزبہ ایثار قربانی کا اجردے اور سلام ان ماں باپ پر جو اپنے لخت جگر کو ملک اور قوم کی خاطر قربان کرنے کے لیے ایسی تربیت کرتے ہیں.. اللّہ سلامت اور کامیاب رکھے اسی جزبہ ایمانی کے ساتھ ہمیشہ.. آمین ثم آمین سلام پاک فوج.
    شکریہ۔


    Usman Ghani is a Freelancer, Blogger He is associated with many leading digital media sites in Pakistan. To find out more about him visit her        Twitter Account(@UsmanSay_)  

    Other Article Usman Ghani

     

     

  • پردیسوں کے دکھ تحریر : طاہر ظہور غوری

    پردیسوں کے دکھ تحریر : طاہر ظہور غوری

    رزق کی تلاش میں وطن سے بے وطن ہونے والے پردیسی لوگوں کے بہت سے دکھ ہیں جہاں انہوں اپنوں سے جدائی کا سامنہ ہوتا ہے وہاں وہ اپنے پیاروں کی خوشی وغمی میں شرکت نہیں کر پاتے
    اگر پچھلے دو سال کا جائزہ لیا جائے تو کورونا وبا کی وجہ سے پتہ چلتا ہے کہ مزدور اور اوسط درجے کا کمانے والے اک ہی صف میں نظر آتے ہیں کتنے ہی دوست ایسے ہیں جو یاں تو اپنے پیاروں کے جنازے میں بھی شرکت نہیں کر پائے کسی کی والدہ تو کسی کے والد کسی کی بیوی تو کسی کے بہن بھائی اور کچھ کے تو بچے بھی اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے پر وہ بچارے یہیں روتے نظر آئے جہاں عموماً ان کو تو تسلی دینے والا بھی کوئی اپنا نہیں ہوتا غیر ہی ہوتے ہیں۔
    کچھ تو ایسے نظر آتے ہیں جو بچارے دن رات مزدوری کرتے ہیں اک ہی کمرے میں چھے چھے آٹھ آٹھ لوگ رہتے ہیں اور اپنی کمائی اپنے پیاروں کو ارسال کرتے رہتے ہیں جن میں کچھ تو انکا خیال کرتے ہیں اور جمع کرتے ہیں کہ مشکل وقت میں کام آئے اور کہیں تو انتہائی عجیب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ انکے بھجے گئے پیسوں پر عیاشیاں کی جاتی ہیں اور اگر کوئی ان عیاش موصوف سے پوچھے کہ آپ کیا کرتے ہیں تو جواب ہوتا ہے “وڈے پائین / ابا جی باہر ہندے نے”
    خدا کیلئے اپنے پردیسی پیاروں کا خیال رکھیں کہ جب وہ جھکی کمر کے ساتھ واپس آئے تو انکو خوشحالی نظر آئے ورنہ یقین کریں پردیسی یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ ابھی تک وطن میں کچھ نہیں بنا جا کر کیا کرونگا اور یہی سوچتے سوچتے اک دن ختم ہو جاتا ہے اور یقین کریں ہم نے بہت سے تابوت وطن کو روانہ کئے ہیں۔
    کچھ کی کہانی تو انتہائی درد ناک ہے کہ جب وہ زندہ سلامت وطن پہنچتے ہیں تو ان کو سننے کو ملتا ہے تو نے ہمارا کیا ہی کیا۔
    بچے کہتے ہے جب ہمیں آپ کی ضرورت تھی تو آپ باہر تھے اب ہمیں آپ کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ وہ اپنے پاؤن پر کھڑے ہو چکے ہوتے ہیں
    کاش اسوقت کوئی اس شخص کو سمجھے کہ وہ پردیس گیا ہی کیوں تھا اس نے اپنے بچوں کی خاطر ہی تو اپنا آپ قربان کر دیا ماں، باپ بیوی سے دور رہا پر اسکو سمجھنے کیلئے ان حالات سے گزرنا ضروری ہے
    کچھ کے والدین ان کو ان کے حق جائیداد سے یہ کہہ کر مرحوم کر دیتے ہیں کہ تو نے تو بہت کمایا ہے اس لئے جائیداد کا اپنا حصہ تو اپنے بہن بھائیوں کے لئے چھواڑ دے
    اور وہ بیچارہ جس نے سب کی زندگی بھر کفالت کی ہوتی ہے اور ان کو ان کے پاؤں پر کھڑا کیا ہوتا ہے اور جس جائیداد کے متعلق مطالبہ کیا جا رہا ہوتا ہے عموماً اس کے بھیجے ہوئے پیسوں سے ہی بنی ہوتی ہے اپنے والدین کی احترام میں یاں تو خاموش ہو جاتا ہے یاں پورے خاندان میں بدنام ہو جاتا ہے کہ دیکھو اتنا کما کر بھی اس کی نظر والدین کی جائیداد پر ہے
    لکھنے کو اتنا کچھ ہے کہ تحریر ختم ہی نا ہو کیونکہ جس پردیسی کے پاس بیٹھ جاؤ اس کی الگ ہی داستان ہوتی ہے
    اہل وطن سے گزارش ہے کہ آپ کو اللہ پاک کا واسطہ پردیسیوں کے دکھ کو سمجھیں اور انکا احساس کریں
    شکریہ

  • ہنر سیکھے اور  فری لانسینگ شروع کرے۔ تحریر: محمد وسیم

    ہنر سیکھے اور فری لانسینگ شروع کرے۔ تحریر: محمد وسیم

    آج کل کے دور میں ہر کوئ چاہتا ہے کہ ان کے پاس بہت سارا پیسہ ہو اور وہ اسی پیسے سے اپنے دل کی ہر خواہش پوری کرے۔ لیکن کچھ لوگوں کو نہیں معلوم کہ وہ پیسے کس طریقے سے کماۓ اور اس کیلۓ کونسا پلیٹ فارم استعمال کرے جس سے وہ آسانی سے پیسا کماۓ۔
    آج کل جب کرونا کا وبا چل رہا ہے تو اس سے بہت ہی کم وقت میں بہت زیادہ ملکوں کی معیشت خراب ہوگئ جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے کاروبار خراب ہوگۓ کیونکہ وبا کے شروع ہوتے ہی بہت سے ملکوں میں لاک ڈاؤن لگ گۓ ۔ امیر سے امیرتر کی بھی بری حالت بن گئ ہے تو پھر غریب لوگوں کا کیا حال ہوا ہوگا۔
    جب دنیا میں لاک ڈاؤن لگ گیا تھا اور ہر قسم کے کاروبار بند تھے اور لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ملنے جلنے پر پابندی تھی تو اس وقت سب کچھ آنلائن ہورہا تھا اور لوگ اپنے دفاتر کے کام آنلائن کرتے تھے تو اس وقت جن لوگوں کو آنلائن کام آتا تھا اور جو لوگ فری لانسینگ کر رہے تھے وہی لوگ فائدے میں تھے ۔
    فری لانسینگ کے بہت فائدے ہے اگر کوئ بندہ فری لانسینگ کرتا ہو تو انہیں اپنی فیملی سے دور نہیں جانا پڑتا بلکہ وہ گھر بیٹھ کے بھی کام کرسکتے ہے جب کہ دوسرا بڑا فائدہ ایک ہنر ہوتا ہے اپنے ہاتھ میں اور جب بندہ چاہے وہ استعمال کرسکتے ہے ۔ تیسرا فائدہ اگر کوئ بندہ نوکری کررہا ہو تو وہ فری لانسینگ کو پھر ڈیوٹی سے آ کر بھی کرسکتا ہے
    فری لانسینگ کیلۓ دو چیزیں اہم ہے پہلا چیز ہنر سیکھنا اور دوسرا انگلش کا سمجھنا۔ جب انسان کو ایک چیز سمجھ میں آنا شروع ہوتا ہے تو اس کو اس چیز میں لگن ہوجاتی ہے اور وہ پھر اسی چیز کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اس طرح جتنے بھی ٹاپ فری لانسرز ہے وہ ہمیشہ یہی کہتے ہے کہ فری لانسنگ کا مزہ ایک بار ضرور لیں۔
    جب انسان کے پاس ہنر ہو اور انہیں پیسے کی ضرورت ہو لیکن بیچارے کو یہ نہ ہو معلوم کہ میں نے اس ہنر کو لے کے کس طرح اپنی ضروریات کو پوری کرنا ہے تو پھر اس ہنر کا فائدہ ہی کوئ نہیں۔
    میرا ایک یونیورسٹی کا دوست تھا جن کی گھریلوں حالت بہت خراب تھی ایک دن ہاسٹل میں کسی بندے کے ساتھ بیٹھ کے اپنے گھر کے حالات کا انہیں بتایا تو انہوں نے پوچھا بھائ کمپیوٹر سے متعلق کچھ آتا ہے جس پر میرے دوست نے کہا کہ ہاں مجھے گرافکس ڈیزائننگ آتی ہے اس بندے اسی ٹائم ان کو فائیور پر پروفائل بنا کر اسے فری لانسنگ کے بارے میں سمجھایا جب میرے دوست نے فری لانسینگ پر کام شروع کیا تو یقین جانے اس کے حالات بدل گۓ اور وہ اسی فری لانسینگ سے آج ایک لاکھ تک مہینہ کما رہا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہے جو کہ فری لانسینگ سے مہینے کے لاکھوں روپے کما رہے ہے ۔
    ایک طرف اگر ہم لوگ دیکھ لے تو اس سے ہمارے ملک کی معیشت کیلۓ بڑے فائدے ہے اور جتنا اگر لوگ فری لانسینگ کرینگے اتنا پیسہ آئیگا باہر کی ممالک سے اور ہمارے روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا اور ملک معیشت کے لحاظ سے مضبوط ہوگا۔
    آخر میں میں اپنے ملک کے پڑھے لکھے جوانوں س یہی کہونگہ کہ ایک دفعہ ضرور کوشش کرے اور اپنے ہنر کو چھپانے کے بجاۓ ا سے باہر لے آے اگر آپ چاہتے ہے کہ گھر بیٹھے پیسے کماۓ تو فری لانسینگ سیکھ کر اسے ایک دفعہ ضرور آزماۓ آپ کی زندگی بدل جاۓ گی۔

    Waseem khan
    Twitter id: Waseemk370

  • ماں باپ اور بچے  تحریر: سحر عارف

    ماں باپ اور بچے تحریر: سحر عارف

    بچہ پیدا ہوتے سب کچھ سیکھ کر تھوڑی آتا ہے بلکہ وہ تو جو کچھ سیکھتا ہے اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھتا ہے جس میں سب سے پہلے اس کے ماں باپ، بڑے بہن بھائی، دادا دادی اور گھر کے باقی سب افراد آتے ہیں۔ لیکن ان میں بھی سب سے پہلے وہ ماں باپ سے سیکھنا شروع کرتا ہے۔

    ظاہر ہے جب بچوں کے اردگرد کا ماحول اچھا ہوگا تو وہ سب کچھ اچھا ہی سیکھے گا۔ اسی طرح سے ماں باپ اگر کچھ غلط کرتے ہیں، اگر وہ بچوں کے سامنے لوگوں کی غیبت یا ان سے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں تو اس وقت ان ننھا سا دماغ یہ سب کچھ کمپیوٹر کی میمری کی طرح اپنے اندر محفوظ کرلیتا ہے۔

    پھر جیسے جیسے وہ بڑا ہونے لگتا ہے تو ان باتوں کا جن کو اس نے چھوٹی سی عمر میں اپنے دماغ میں محفوظ کیا تھا استعمال میں لانا شروع کردیتا ہے اور یہ چیز اس کے رویے سے صاف ظاہر ہوتی چلی جاتی ہے۔
    بہت پڑھے لکھیں ماں باپ بھی اگر ہوں تو ان کی بھی اولاد غلط راہ پر نکل پڑتی ہے اور اس کی وجہ باز اوقات صرف اور صرف والدین کی لاپرواہی ہوتی ہے۔

    بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو انھیں صرف ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ پاس ہوں، ہماری ننھی ننھی شرارتیں دیکھیں اور خوش ہوں لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو بچے بہت کچھ اپنے ذہنوں پر سوار کرلیتے ہیں۔

    یہاں امیر ماں باپ دیکھے ہیں جو بچوں کو ان کی چھوٹی عمر میں ہی ملازموں کے حوالے کر دیتے ہیں صرف اپنی مصروفیات کی وجہ سے، پر کیا مصروفیات اولاد سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ پھر بچے بھی ماں باپ سے دور ہو جاتے ہیں۔

    اسی لیے ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کو سمجھیں انہیں اس وقت اکیلا نا چھوڑیں جس وقت بچوں کو سب سے زیادہ ماں باپ کے پیار اور ان کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یقین جانے وہی بچے پراعتماد اور باحوصلہ ہوتے ہیں جنہیں ماں باپ کی توجہ زیادہ ملتی ہے۔

    @SeharSulehri

  • والدین اور بچوں کا بچپن   تحریر  : راجہ حشام صادق

    والدین اور بچوں کا بچپن تحریر : راجہ حشام صادق

    اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے کیا وجہ ہے کہ ہم بچوں کے بچپن سے ہی یہ الفاظ بولنا شروع کر دیتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر پاٶ گے تم سےنہیں ہو گا یا تم یہ نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ ۔

    اس کائنات میں کوٸی بھی ایسی چیز یا کام نہیں جو ایک انسان کے لیے ناممکن ہو۔پھر ہم بچوں کے دماغ میں ایسی چیزیں کیوں ڈالتے ہیں؟؟؟
    انسان کسی کام کو کرنے کی کوشش کریں اور وہ نہ ہو۔ایسا ممکن نہیں
    بچہ بھی جب اٹھ کر چلنا شروع کرتا ہے تو آپ سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتے ہو کیونکہ اس کے گرنے پر آپ اسے تھام لیتے ہو شروع شروع میں بچہ لڑکھڑا بھی جاتا ہے مگر آہستہ آہستہ ماں اس بچے کو سہارا دے کر چلنا سکھا دیتی ہے آخر کار وہ صرف چلنا نہیں بلکہ بھاگنا شروع کردیتا ہے۔

    ایک رینگتے بچے کو آپ چلنا سکھا سکتے ہو تو زندگی کے طویل سفر کے لیے اسے مایوس کیوں کر رہے ہو
    میرے نزدیک والدین کا بہت آہم رول ہے اپنے بچے کی کامیابی میں۔

    انسانی دماغ میں ہر چیز ہر لفظ ٹہر جاتا ہے اب یہ آپ کے اختیار میں کہ آپ اپنے بچے کے دماغ میں امید کی کرن کو کیسے روشن کرتے ہیں۔اگر آپ اپنے بچے کے دماغ میں ایک بات بٹھا دیں کہ تم یہ کر سکتے ہو تو یقین کریں وہ بچہ کر بھی جائے گا

    اللہ تعالٰی نے انسان کو قابلیت ،صلاحیت سب کچھ عطا کیا ہے بس ہمیں تھوڑا سا پالش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے

    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں دنیا کی کوٸی طاقت انسان کو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتی جب تک انسان خود شکست تسلیم نہ کر لے۔

    @No1Hasham

  • بے لوث محبت کی انمول داستان  ماں  تحریر : چوہدری عطا محمد

    بے لوث محبت کی انمول داستان ماں تحریر : چوہدری عطا محمد

    ایک ایسی آواز جو آپ کے کانوں میں رس گھول دے ایک ایسا لفظ جس کو بول کر آپ کا منہ مٹھاس سے بھر جاۓ ایک ایسا رشتہ جو ہر خوشی اور تکلیف میں آپ کے منہ سے بنا سوچے ہی نکل جاۓ جی بلکل آپ میں سے زیادہ تر سمجھ گے ہوں گے وہ ہے ماں کا اپنی اولاد سے رشتہ ماں کی عظمت اور ماں کی شان میں لکھنا میرے سمیت کسی کے بھی بس کی بات نہیں ماں کی شان اور عظمت پر کچھ لکھنا بلکل ایسے ہی ہے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کرنا ماں شفقت اور پیار اور خلوص و محبت کا ایسا بے لوث رشتہ ہے جس کی مثال کہی نہیں ملتی ماں ہمیشہ اپنی اولاد کے لئے محبت و قربانی کا دوسرا نام ہے سخت دھوپ ہو یا طوفان گرمی ہو یا سردی اس کا دست شفقت ایک گھنے سایہ دار درخت کی طرح سائبان کی شکل میں اپنی اولاد کو سایہ اور سکون عطا کرتا ماں سے زیادہ اپنی اولاد سے محبت کرنے والی ہستی پیدا ہی نہیں ہوئی ماں کا رشتہ ایسا رشتہ جو نہ تو کبھی کوئی احسان جتاتی اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی بلکہ بے غرض ہر وقت ہر گھڑی اپنی اولاد کی لئے اپنے مالک سے اپنی اولاد کی خوشیاں راحتیں اور سکون کے لئے دعائیں مانگتی رہتی دامن پھیلا پھیلا کے
    اللہ تعالی نے اس کے عظیم اور بے مثال ہونے اور ماں کی عظمت بتائی کہہ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی اور انسان کو یہ بات بتا دی کہہ اب جو چاۓ اس جنت کو حاصل کرے اپنی ماں سے پیار کر کے اس کی خدمت اور احترام کر کے اس جنت کو حاصل کر سکتا ہے اگر آپ بظاہر دنیاوی رشتوں کی بات کریں تو تمام رشتوں جیسے بھائی بہن چاچا ماما پھوپھی یا خالائیں ہر رشتہ میں کوئی نہ کوئی خود غرضی ہوسکتی لیکن یہ انمول رشتہ ہر غرض سے پاک بے لوث بے مثال ہے ایک بیٹا جب کہیں سےبھی آتا گھر میں باقی تمام رشتے جو کہ اس کے اپنے ہوتے ہیں ہر رشتہ آپ کی باہر اے لائی ہوئی چیزوں پر غور کرتا صرف ایک ماں ہی ہوتی جو صرف اپنے جگر کے ٹکڑے کی طرف متوجہ رہتی بغیر پلکیں جپھکے ماں کی دعائیں اپنی اولاد کا ساۓ کی طرح پیچھا کرتی ماں جہاں اور جس حال میں بھی ہو وہ اپنی اولاد کو ہمیشہ خوش وخرم دیکھنا چائیتی اولاد کس طرح بھی لاپرواہ اور دنیا کی نظر میں جتنی بھی بری کیوں نہ ہوں ماں اس کے ہر عیب پر پردہ ڈالتی

    ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا ”یارسول اللہﷺ !میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے “؟۔فرمایا ”تیری ماں “ پوچھا ”پھرکون“ فرمایا۔۔” تیری ماں “ اُس نے عرض کیا ۔۔”پھر کون “ ۔فرمایا ۔۔”تیری ماں“ تین دفعہ آپ نے یہی جواب دیا ۔چوتھی دفعہ پوچھنے پر ارشاد ہوا ۔”تیرا باپ “۔ دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیاگیا ہے      ماں اللہ رب العزت کا ایسا عطیہ اور نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل اولاد کے لئے اقوام عالم میں نہیں ہے ماں جو ہے اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دل کے اندر چھپی ہوئی خوشی اور غمی دونوں کو پہچان لیتی ہے اپنی اولاد کے دل میں کیا چل رہا ہے یہ ایک ماں سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ماں کا چہرہ تسبیح کے دانوں کی طرح ہوتا
        ایک بار ایک صحابی حضور نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اپنی ماں کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ہے ، کیا میں نے ماں کا حق اداکر دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: نہیں ، تُونے ابھی اپنی ماں کی ایک رات کے دودھ کا حق بھی ادا نہیں ہوا آج کے اس فیشن زدہ دور حاضر میں ہمارے لوگ ایک دن ماں کے نام پر مناتے ہیں جس دن مدَر ڈے کہا جاتا ہے اولاد سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کچھ اچھے اچھے پیغامات اپنی ماں کے لئے لکھتے اور ہمارے ناسمجھ یہ سمجھ بیٹھتے کہہ ہم نے ماں سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے کیا یہی پورے سال میں ایک دن کے لئے چند پیغامات شئیر کرنا ہی کافی ہے کیا اوپر اسی لئے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زکر کیا ہے
    آج کی اولاد بس اتنے می ہی خوش ہوجاتی اور سمجھ بیٹھتی میں اپنی ماں سے بہت پیار کرتا ہوں
    ماں کی قدر انسان کو تب ہوتی جب یہ انمول رشتہ اللہ پاک اپنے پاس بلا لیتا خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں زندہ ہیں اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت کما رہے ہیں ماں کا چہرہ پیار سے دیکھنا بھی عبادت ہے اللہ پاک جن کی مائیں سلامت ہیں ان کو ہمیشہ سلامت محفوظ رکھے اور جن کی مائیں فوت ہوگئ ہیں اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین
    اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں

    @ChAttaMuhNatt

  • تعلق اور رابطے۔پاٹ 2 تحریر : راجہ ارشد

    تعلق اور رابطے۔پاٹ 2 تحریر : راجہ ارشد

    بھٹی نے کامیابیوں کے سفر کا آغاز صحافت سے کیا اتفاق سے ایک بہت ہی آچھے ٹی وی چینل کے ساتھ سیٹ ہو گیا۔

    ایک دن اسے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے استاد محترم کا انٹرویو کیا جائے۔ چنانچہ بھٹی اپنے استاد محترم کے گھر پونچ گیا۔ابتدائی سلام دعا کے بعد بھٹی نے انٹرویو لینا شروع کیا۔
    بھئی اپنی تعلیم کے پرانے دور کی مختلف باتیں پوچھ رہا تھا۔ انٹرویو کے دوران بھٹی نے اپنے استاد محترم سے پوچھا سر ایک بار آپ نے اپنے لیکچر کے دوران contact اور connection کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے ان دو الفاظ کا فرق سمجھایا تھا اس وقت بھی میں کنفیوز تھا اب جب کہہ بہت عرصہ ہو گیا ہے مجھے وہ فرق یاد نہیں رہا آپ آج مجھے ان دو الفاظ کا مطلب سمجھا دیں تاکہ مجھے اور میرے چینل کے ناظرین کو آگاہی ہو سکے۔

    استاد محترم مسکرائے اور سوال کے جواب دینے سے کتراتے ہوئے بھٹی سے پوچھا کیا آپ اسی شہر سے تعلق رکھتے ہو ؟
    بھٹی نے کہا جی ہاں سر میں اسی شہر کا ہوں استاد محترم نے پوچھا آپ کے گھر میں کون کون رہتا ہے؟
    بھٹی نے سوچا کہ شاید استاد محترم میرے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے اس لیے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں بہر حال بھٹی نے بتایا میری والدہ محترمہ وفات پا چکی ہیں والد صاحب گھر میں رہتے ہیں۔
    تین بھائی اور ایک بہن ہے اور سارے شادی شدہ ہیں۔

    استاد محترم نے مسکراتے ہوئے بھٹی سے پوچھا تم اپنے والد محترم سے بات چیت کرتے رہتے ہو؟
    اب بھٹی کو غصہ بھی آرہا تھا اور اور بولا جی میں والد محترم سے گپ شپ کرتا رہتا ہوں استاد محترم نے پوچھا یاد کرو پچھلی بار تم اپنے والد سے کب ملے تھے؟
    بھٹی نے غصے کا گھونٹ پیتے ہوئے کہا شاید ایک ماہ ہو گیا ہے جب میں ابو جان سے ملا تھا۔
    استاد محترم نے کہا پھر تم اپنے بہن بھائیوں سے تو اکثر ملتے رہتے ہوگے ؟ بتاو لاسٹ ٹائم کب اکٹھے ہوئے تھے اور گپ شپ حال احوال پوچھا تھا؟

    اب تو بھٹی صاحب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور لینے کے دینے پڑ گیے وہ سوچنے لگا میں تو استاد محترم کا انٹرویو لینے چلا تھا مگر الٹا استاد میرا انٹرویو لینے لگے ہیں۔

    بھٹی نے ایک لمبی آہ بھری اور بولا شاید دو سال ہونے والے ہیں جب ہم بہن بھائی اکٹھے ہوئے تھے استاد محترم نے ایک اور سوال ڈالتے ہوے پوچھا تم لوگ کتنے دن اکٹھے رہے تھے؟ بھٹی نے پسینہ پونچھتے ہوئے جواب دیا ہم لوگ تین دن اکٹھے رہے تھے۔

    استاد محترم نے پوچھا تم اپنے والد کے پاس بیٹھ کر کتنا وقت گزارتے ہو؟
    اب تو بھٹی بہت پریشان ہو گیا اور میز پر رکھے ایک کاغذ پر کچھ لکھنے لگا۔ استاد محترم نے پوچھا کبھی تم نے والد صاحب کے ساتھ ناشتہ لنچ یا ڈنر بھی کیا ہے؟
    کبھی آپ نے ابو سے پوچھا وہ کیسے ہیں؟
    کبھی تم نے والد صاحب سے دریافت کیا کہ تمھاری والد محترمہ کے مرنے کے بعد اس کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟
    اب تو بھٹی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے استاد محترم نے بھٹی کا ہاتھ تھپ تھپایہ اور کہا کہ بیٹا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مجھے افسوس ہے کہ میں نے بے خبری میں تمھیں ہرٹ کیا اور دکھ پہنچایا لیکن میں کیا کرتا مجھے آپ کے سوال Contact اور connection کا جواب دینا تھا۔

    سنو ان دو لفظوں کا فرق یہ ہے کہ تمھارا contact یا رابطہ تو تمھارے والد صاحب سے ہے مگر connection یا تعلق والد صاحب سے۔نہیں رہا یا کمزور ہے کیونکہ تعلق یا کنکشن دلوں کے درمیان ہوتا ہے جب کنکشن یا تعلق ہوتا ہے تو آپ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ اور پھر ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے ہیں گلے سے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام خوشی خوشی کرتے ہیں۔

    بلکل ٹھیک ایسے جیسے ایک معصوم بچے کی ماں اس کو سینے سے لگا کر رکھتی ہے، بوسہ کرتی ہے بغیر مانگے دودھ پلا دیتی ہے بچے کی گرمی سردی کا خیال رکھتی ہے جب وہ بچہ چلنا شروع کرتا ہے تو سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتی ہے کہہ کہیں گر نہ جائے کوئی غلط چیز نہ کھا لے۔

    تو بیٹا آپ کے والد اور بہن بھائیوں کے ساتھ صرف contact ہے مگر آپ کے درمیان connection نہیں ہے۔

    بھٹی نے اپنے آنسو رومال سے صاف کیے اور استاد محترم کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا سر آپ نے مجھے آج ایک بہت بڑا سبق پڑھا دیا جو زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔

    بد قسمتی سے آج ہمارے وطن عزیز میں یہی حال ہے کہ ہمارے آپس میں بڑے رابطے ہیں مگر کنکشن بالکل نہیں۔ آج ٹویٹر ، فیس بک اور انسٹاگرام پر ہمارے پانچ ہزار فرینڈز ہیں مگر حقیقی زندگی میں ایک بھی نہیں۔ ہم صبح سویرے بزاروں دوستوں کو گڈ مارننگ کہہ کر بغیر خوشبو کے پھول بھیجتے ہیں۔

    حقیقی زندگی میں ایک پھول کی پتی بھی نہیں ملتی ہم تمام لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔
    کسی اپنے کے بچھڑنے کے بعد چند تعزیتی الفاظ اور رشتوں کے سارے تقاضے پورے کر کے ہم سرخرو ہو رہے ہوتے ہیں۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • غریب کا مقام اور اسلام کے احکام تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    غریب کا مقام اور اسلام کے احکام تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    اسلام اپنے پیروکاروں کو احساس کا درس دیتا ہے. اس زمرہ میں مختلف عوامل سے کمزوروں کا احساس کرنے کا درس دیتا ہے. کبھی صدقہ، کہیں خیرات کہیں فطرانہ تو کہیں زکواۃ غرض مختلف پہلو َاس احساس کے ہیں. حالیہ قربانی جیسا عظیم شعار_ اسلام اسی کی ایک کڑی ہے. جس میں 1 حصہ غریبوں کے لیے مختص کر کے احساس دلایا گیا کہ امیروں کی کمائی میں غریبوں کا رزق موجود ہے. اللہ کریم نے ایک نظام بنایا ہے. انہی عوامل میں امت کے لیے فوائد بھی رکھ دئیے تاکہ غریبوں کی امداد کا سلسلہ نہ رکے. جیسا کہ نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا.
    صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے. تو کسی کی بلائیں ٹلتی کسی کا پیٹ پلتا ہے.
    معاشرے کا سب سے کمتر دیکھا جانے والا یہ طبقہ حقیقت میں اس کا زمہ دار خود تو نہیں. یہ میرے رب کی رزق کی تقسیم ہے کسی کو دے کر آزما رہا ہے تو کسی کو محروم رکھ کر. یہ اسی کی حکمتیں ہیں.
    اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
    اور اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دے.
    تو یہ تو اللہ کی تقسیم ہے.
    اسی طرح زکواۃ دیجیے اور اللہ سے تجارت کا عہدہ پائیے.
    مال کی پاکیزگی بھی حاصل کیجیے. زکواۃ کو مال کی میل کچیل قرار دے کر اپنے مال کو پاک کرنے کا حکم دیا گیا.تو کسی کا مال پاک ہوا اور کسی کا پیٹ پال دیا گیا.
    الغرض کمزور طبقے کے فروغ کے لیے جو قوانین و ضوابط اللہ رب العزت نے اس دین اسلام میں مقرر فرماے ان کی مثال کہیں نہیں ملتی.
    غریب زمانے میں تو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس کے بڑے درجے ہیں.
    جیسا کہ نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. جو اللہ کے دیے تھوڑے رزق پر راضی ہو گیا. اللہ کریم کل بروز قیامت اس کے تھوڑے اعمال (صالح) پر راضی ہو جاے گا.
    غریبی میں صبر بہت مشکل لیکن بہت کامل عمل ہے جو بندے کو رب سے بلاواسطہ ملاتا ہے.
    دوسری جانب جو رب العالمین کے دئیے ہوے سے خرچ نہیں کرتے ان کے لیے سخت وعید بھی ہے.
    غریب کو حقارت کی نظر سے دیکھنا کفار کا طریقہ ہے اور اللہ کریم غریبوں کے زریعے امیروں کو آزماتا ہے اللہ رب العزت نے اس بارے کچھ ہوں سورۃ الانعام میں ارشاد فرمایا
    وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ(۵۳)
    یہاں آیت کی پہلے حصے میں فرمایا گیا کہ *اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی* یعنی مالدار کی غریب کو لیکر آزمائش کی جاتی ہے پہلی آیت کے حوالے سے یہاں فرمایا گیا کہ غریبوں کے زریعے امیروں کی آزمائش کی جاتی ہے صحابہ کے ساتھ بھی یہ ہوتا تھا کہ مالدار کفار غریب مسلمانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے اور ان کا مذاق اُڑاتے اور اسلام کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام سچا ہے تو مسلمان فقیر کیوں ہیں؟ تو یاد رکھیں غریب کو حقارت سے دیکھنا کفار کا عمل ہے. اپنے معاشرے میں توازن لانا ہماری زمہ داری ہے اسلام مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی اسی لیے قرار دیتا کہ اپنے ساتھ موجود غریبوں اور کمزوروں کی مدد کی جاے یہ مسلمان کی شان ہے. غریبوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہئے کیونکہ مشاہدے کی بات ہے غریب ہوتے دیر نہیں لگتی. دروازے کے باہر غریب اور اندر دینے والا امیر ہوتا ہے میرا رب بڑا بے نیاز ہے ہو چاہے تو پل میں دروازے کا رخ بدل ڈالے (ضرورت مند کو خوشحال اور دینے والے کو ضرورت مند کر دے) سوچنے کی بات ہے دروازہ تو ایک ہی ہے. رخ بدلتے دیر نہیں لگتی. کب وہ جھکے ہوے ہاتھ کو پھیلا کر مانگنے والا بنا دے. یہ اس اللہ کریم کے فیصلے ہیں اور وہ اپنے فیصلوں میں بے نیاز ہے. اس لیے غریبوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے.
    احساس کیجیے غریب بھی میرے رب کی مخلوق ہے. اور اسلام ہمیں اس مخلوق سے پیار سے پیش آنے اور ان سے نرمی کرنے ان کا احساس کرنے کا درس دیتا ہے. اللہ کریم ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @EngrMuddsairH

  • اردو، زوال کا شکار.  تحریر: احسان الحق

    اردو، زوال کا شکار. تحریر: احسان الحق

    کہتے ہیں کہ جسمانی غلامی سے ذہنی غلامی بڑی لعنت ہے. جسمانی غلام قوم ایک نہ ایک دن آزاد ہو جاتی ہے مگر ذہنی طور پر غلام قوم نسل در نسل غلام ہی رہتی ہے. ان کے ذہنوں سے غلامی کبھی ختم نہیں ہوتی. پاکستان نے جسمانی طور پر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی مگر بدقسمتی سے آج تک انگریزی زبان کی ذہنی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکا۔ وطن عزیز میں انگریزی زبان ہی پڑھے لکھے ہونے کا معیار چانچنے کا پیمانہ بن چکی ہے. آپ اردو یا اپنی مادری زبان میں جتنی زیادہ انگریزی کی ملاوٹ کریں گے آپ اتنے ہی زیادہ پڑھے لکھے تصور کئیے جائیں گے. لوگوں پر رعب ڈالنے یا متاثر کرنے کے لئے بھی اردو میں انگریزی الفاظ کی زبردستی ملاوٹ کی جاتی ہے. دنیا میں جتنے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے انگریزی پر اپنی مقامی اور قومی زبانوں کو ترجیح دی. چین، جاپان، روس، عرب ممالک اور کوریا سمیت دنیا کے ترقی یافتہ اور بڑے ممالک اپنی قومی زبان کو بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے اور سرکاری اور قومی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں.

    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی قومی زبان اردو ہے. اردو پاکستانیوں کی صرف قومی زبان ہی نہیں بلکہ بزرگوں کی شان، شناخت اور غیرت بھی ہے. بزرگوں کی اس لئے کیوں کہ نوجوان نسل اب اردو بولنے لکھنے میں عار محسوس کرتے ہیں. اب پاکستانیوں کا خیال ہے کہ علم و فراست اور پڑھے لکھے کی نشانی یہی ہے کہ بندہ اردو کی جگہ زیادہ سے زیادہ انگریزی کا استعمال کرے. یقین جانیں ہم بھی اسی کو زیادہ پڑھا لکھا سمجھتے ہیں جو انگریزی بولنا جانتا ہو، حالانکہ انگریزی علم نہیں بلکہ زبان ہے. خاکسار کے نزدیک موجودہ میڈیا اور انٹرنیٹ کی ترقی کے دور میں خالص اردو بولنا مشکل کام ہے بلکہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے.

    سقوط ڈھاکہ میں سب سے اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. خاکسار کے مطابق پاکستان کے دو لخت ہونے کی سب سے بڑی اور اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. پہلی بار ڈھاکہ میں11 مارچ 1948 کو اردو کے مقابلے میں، بنگالی زبان کے حق میں اور اردو کے خلاف ایک جلوس نکالا گیا جس کی منزل وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین کا دفتر تھی. جلوس شرکاء کا مطالبہ تھا کہ اردو کی جگہ بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے.

    اردو کی مخالفت میں مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہوتے جا رہے تھے. اسی لئے 21 مارچ 1948 کو بانی پاکستان جناب حضرت قائداعظمؒ ڈھاکہ میں تشریف لے گئے اور ریس کورس میں ایک عظیم مجمعے میں کھلے الفاظ میں فرمایا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اردو ہی رہے گی البتہ بنگال صوبائی سطح پر سرکاری زبان کے طور پر "بنگالی” زبان اختیار کر سکتا ہے. حضرت قائداعظمؒ نے فرمایا کہ
    "میں آپ سب پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بلاشبہ پاکستان کی قومی اور ریاستی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی، کوئی دوسری زبان نہیں. کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے اہم ہے کہ اس کی زبان ایک ہو”
    قائداعظمؒ کے رعب دار خطاب سے بنگالی خاموش اور کسی حد تک مطمئن ہو گئے. 26 جنوری 1952 میں خواجہ ناظم الدین نے بھی ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہی ہوگی. حالانکہ خواجہ ناظم الدین کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور وہ خود بنگالی تھے.

    بدقسمتی سے اب ہماری عزت، غیرت اور شناخت اردو پاکستان میں زوال پذیر ہے. ہم آہستہ آہستہ اپنی غیرت کا گلہ گھونٹ رہے ہیں. خدانخواستہ اردو جس طرح پستی کی طرف جا رہی ہے اگلی نسلیں اردو کا تذکرہ کتابوں میں پڑھیں گی کہ اردو زبان بھی ہوا کرتی تھی. ہماری آئینی، سرکاری، سیاسی، عدالتی حتیٰ کہ چھوٹے سے چھوٹے ادارے اور محکمے کی زبان انگریزی ہے. سونے پہ سہاگہ ہمارے انتہائی غیر معیاری اور کسی حد تک غیر اخلاقی ڈرامے بھی اردو کا ستیا ناس کر رہے ہیں. ایک زمانہ تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے اخلاقیات کے ساتھ ساتھ ثقافت سے بھی بھرپور ہوتے تھے جس میں اردو کے الفاظ کا بہترین انداز میں استعمال کیا جاتا اور خیال کیا جاتا تھا. مگر اب ایسا نہیں ہے. ہم نے صرف انگریزوں سے آزادی حاصل کی مگر بدقسمتی سے انگریزی سے نہیں. ہم انگریزی سے کب آزادی حاصل کریں گے؟ اردو زبان کو ہم پاکستانی عزت نہیں دیں گے تو اور کون دے گا؟

    @mian_ihsaan