Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محنت کشوں کے شب و روز اور ہمارا معاشرہ تحریر: فجر علی

    محنت کشوں کے شب و روز اور ہمارا معاشرہ تحریر: فجر علی

    تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
    ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

    وطن عزیر میں قانون سازی کی حد تک حکومتوں نے محنت کشوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رکھی ہیں تاہم محنت کشوں کا معیار زندگی بہتر بنانے اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آج تک ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
    ہمارے ملک میں کارخانوں ، فیکٹریوں اور مختلف اداروں میں یومیہ اجرت اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے محنت کش لوگ جن کے خون پسینے سے قومی ادارے اور صنعتیں چل رہی ہیں کے حالات دگر گوں ہیں۔ متعدد محنت کش گھرانوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان جسی بنیادی ضروریات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ صحت اور تعلیم کی سہولیات تو ان کی پہنچ سے دور ہیں ہی پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔
    دنیا میں کون سا ایسا ذی روح ہوگا جس کو زندگی سے پیار نہیں ہوگا یا اس کے دل میں بہتر انداز میں زندگی بسر کرنے کی خواہش نہیں ہوگی۔ کوئی ایسا انسان نہیں ہوگا جو اپنے بچوں کو اعلیٰ مقام پر نہ دیکھنا چاہتا ہو۔ ہر انسان کی یہی چاہت ہوتی ہے کہ اللّٰہ کی تمام نعمتیں اور دنیا کی ساری آسائشیں اس کی اولاد کو میسر ہوں اور اس کی اولاد کا مستقبل روشن ہو۔ ایسی ہی خواہشات محنت کش اور مزدور طبقہ کے افراد بھی رکھتے ہیں۔ مزدور و محنت کش کبھی نہیں چاہتے کی جن مسائل و آفات کا سامنا وہ کر رہے ہیں کل کو ان ہی حالات سے ان کی اولاد دوچار ہو۔
    لیکن بد قسمتی میں پاکستان میں طبقاتی نظام اور انصاف و مساوات کی عدم فراہمی کے باعث غریب و متوسط طبقہ دن بدن غربت و مسائل کے دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے اور طبقہ اشرافیہ دن بدن پھل پھول رہا ہے۔ یہاں کسی کی محنت کا پھل کوئی غاصب کھا رہا ہے اور محکوموں کے سروں پر حکمرانی بھی کی جارہی ہے۔ معاشی ناہمواریوں کے باعث محنت کش و مزدور آئے روز بیروزگاری کا شکار ہوکر بھوک و افلاس کے ڈر سے اپنے بچوں کو دریائوں میں پھینکنے جیسے غیر انسانی افعال پر مجبور ہیں۔خوراک کی کمی اور علاج سے محرومی کے باعث اپنے پیاروں کو تڑپ تڑپ کر موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہے ہیں اور کسمپرسی کی زندگی کے باعث کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔
    جس معاشرہ میں ہم رہ رہے ہیں کہنے کو تو مسلم معاشرہ ہے لیکن یہاں غرباء سے غیر انسانی اور امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ معاشرہ میں غربت اور تنگ دستی کے باعث مزدوروں اور محنت کشوں کی خود کشیاں باعث شرم و حزیمت ہیں۔ غربت ، بیروزگاری اور تنگ دستی دنیا کے تمام ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے لیکن وہاں قوانین پر عملدرآمد اور مخلصانہ حکومتی کوششوں کے باعث ناامیدی اور مایوسی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے اور طبقاتی نظام کے باعث مایوسی اور ناامیدی جیسے حالات ہیں جو پوری قوم کے لیے باعث تشویش ہیں۔ یہ ناامیدی اور مایوسی ہمارے مستقبل کا گلا دبوچے ہوے ہے۔
    حالیہ بجٹ میں صوبائی و وفاقی حکومتوں نے مزدوروں کی کم سے کم اجرت میں اضافہ کا اصولی و قابل تعریف فیصلہ کیا ہے۔ لیکن مختلف اداروں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ طبقاتی نظام کے خاتمے اور نچلے طبقات کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ہم سب کو آواز اٹھانی ہوگی۔ حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنا ہوگا۔ مافیاز اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی۔

    اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
    کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
    جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی
    اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

    @FA_aLLi_

  • آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں مقیم کشمیریوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی: تحریر: حمیداللہ شاہین

    آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں مقیم کشمیریوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی: تحریر: حمیداللہ شاہین

    ملک بھر میں خصوصا کشمیر میں آزاد و جموں کشمیر انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہونے کے بعد بالآخر 25 جولائی کو انتخابات ہوئے اور اس انتخابات میں کشمیریوں نے اپنے رائے دہی استعمال کرکے نمائندے چن لئے۔
    25 جولائی 2021 کو کشمیر انتخابات کے پیش نظر بلوچستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں نے بھی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں خاصی دلچسپی ظاہر کی۔
    الیکشن کمیشن نے کوئٹہ ، مستونگ ، سبی ، نصیر آباد ، بارکھان ، قلعہ سیف اللہ اور کیچ اضلاع میں پولنگ اسٹیشن قائم کیے تھے ، لیکن کشمیری ووٹرز نے صرف کوئٹہ اور سبی میں ہی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
    متعلقہ عہدیداروں کے مطابق نصیر آباد ، کیچ ، مستونگ ، بارکھان اور قلعہ سیف اللہ میں پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹر نہیں ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اضلاع میں انتخابی عملہ رائے دہندگی کے اختتام تک پولنگ اسٹیشنوں پر موجود رہا۔
    کشمیری پناہ گزینوں جن کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں رہتی ہے نے پاک گرلز ہائی اسکول اور گورنمنٹ سینڈیمین ہائی اسکول میں قائم تین پولنگ اسٹیشنوں میں اپنا ووٹ ڈالا۔
    پولنگ کے لئے مقرر سات اضلاع میں سے صرف دو ہی ووٹ ڈال رہے ہیں
    ایل اے 34 جموں کے لئے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 535 تھی ، لیکن ان میں سے 202 نے اپنے ووٹ ڈالے۔
    ریٹرننگ افسر کے اعلان کردہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ، پاک سرزمین پارٹی کے شاہ عبد اللطیف نے 158 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناصرحسین ڈار نے 12 اور پاکستان پیپلز پارٹی کے زاہد اقبال نے 11 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو گئے۔ ایل اے 40 وادی کشمیر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1059 تھی ، لیکن صرف 418 نے اپنا ووٹ کاسٹ ہوئے، جبکہ نو ووٹ مسترد کردیئے گئے۔
    غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سلیم بٹ نے 199 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون نے 125 اور مسلم لیگ (ن) کے طاہر وانی نے 81 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسرے امیدواروں کو گئے۔
    خواتین کی بڑی تعداد اپنے ووٹ کاسٹ نہیں کر سکی کیونکہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنے نام تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
    تحریک انصاف ، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے صوبائی رہنما کوئٹہ میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر موجود رہے۔
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں کے ہمراہ ایک پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔
    سبی میں صرف چار ووٹ ڈالے گئے۔ ان میں سے ایک ووٹ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون اور دو زاہد اقبال کو ملے ، جبکہ ایک ووٹ مسترد کردیا گیا۔ سبی میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے۔
    صوبائی انتظامیہ نے پولنگ اسٹیشنوں اور اس کے آس پاس کے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔
    بلوچستان میں کافی عرصے سے کشمیری شہری رہ رہے ہیں، انکے یہاں پہ اپنے کاروبار اور سرکاری نوکریاں ہیں، بلوچستان میں بیکری کے کاروبار میں کشمیری شہری خاصی شہرت رکھتے ہیں، خاص طور پر پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ شہر میں کشمیری بھائیوں کے بیکری کا کاروبار مشہور ہے اور انکی مہارت سے پورے بلوچستان کے عوام کے دل کے خاصے قریب ہیں۔

    ٹویٹر: @iHUSB

  • منظر جو کیمرہ میں قید نہ ہو پایا۔  تحریر: محمد اسعد لعل

    منظر جو کیمرہ میں قید نہ ہو پایا۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    صبح دیر سے اُٹھا تب تک گھر والے ناشتہ کر چکے تھے۔ فریش ہونے کے بعد کچن کی طرف منہ کیا جہاں امی الگ سے میرے لیے ناشتہ بنا رہی تھیں۔ جتنی دیر ناشتہ کیا امی کی باتیں بھی سنی ،،، اگر چائے اور پُراٹھا کھانا ہے تو جلدی اُٹھنے کی عادت بنا لو یا پھراپنے لیے خودناشتہ بنالیا کرو۔۔۔رہی سہی کسر بہن نے یہ کہتے ہوے پوری کر دی کہ کر لو مزے جب تک شادی نہیں ہو جاتی پھر تم جلدی بھی اُٹھ جایا کرو گے اور ناشتہ بھی خود بنا رہے ہو گے۔۔۔یہ روز کا معمول ہے میرے لیے الگ سے ناشتہ بنتا ہے اب جب تک چائے پُراٹھے کے ساتھ امی کی ڈانت نہ سننے کو ملے ناشتہ ادھورا لگتا ہے۔
    ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد لپ ٹاپ اُٹھایا اور ابھی کالم لکھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں بڑے بھائی کی آواز آئی اور اگلے لمحے میں بھائی کا بتایا گیا کام کرنے کے لیے گھر سے بازار جا رہا تھا۔ ٹائم تقریباً پونے بارہ کا ہو چکا تھا اور سر پہ جیسے سورج آگ برسا رہا ہو۔ راستے میں ایک گدھا گاڑی دیکھی جس پر سامان لدا ہوا تھا وہیں بچوں کے ساتھ اُن کے امی اور ابو بھی بیٹھے تھے۔ گدھا گاڑی کے ساتھ ایک کتا بھی تیز تیز قدم اُٹھاتے چل رہا تھا یقیناً یہ اُن کا پالتو کتا تھا ۔یہ لوگ شاید خانہ بدوش تھے۔
    بچوں کے ہاتھ میں ایک ایک قلفی ہے جسے وہ بڑے مزے سے کھا رہے ہیں۔ بچوں کا سارا دھیان قلفی پر ہے اُن کی آنکھوں میں الگ سی چمک دکھائی دی اور جیسے ایک ہی بات اُن کے ذہن میں چل رہی ہو کہ یہ قلفی کیسے دیر سے ختم ہوگی۔گرمی کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے لگتا ہے کہ بچے آدھی قلفی ہی کھا سکیں گے اور آدھی قلفی گُھل کر ٹپک جائے گی۔
    یہ منظر میں تصویر کی صورت میں قید کرنا چاہتا تھا لیکن موبائل ریڈی کرنے کا وقت نہ تھا۔یا تو منظر دیکھتا یا پھر ہمیشہ کی طرح ہڑبڑاہٹ میں نہ تو تصویر بنا سکتااور نہ ہی منظر دیکھ پاتا۔ لیکن بازارکےکام سے فارغ ہو کر گھر واپس آنے پر سب سے پہلا کام جو میں نے کیا وہ اس منظر کو قلم بند کرنے کا تھا۔
    اس کے بعد اب میں اپنا اگلا کالم لکھنے بیٹھوں گا جسے مکمل ہونے کے بعد آپ بہت جلد باغی ٹی وی کی ویب سائیٹ پر پڑھ سکیں گے۔تب تک کے لیے اللہ نگہبان۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • میرا تجربہ (پارٹ ٹو)  تحریر:  ہما عظیم

    میرا تجربہ (پارٹ ٹو) تحریر: ہما عظیم

    زندگی پرسکون گزر رہی تھی۔۔ ایک دن کولیگ سے اپنی اسکول اور کالج لاٸف کی خوبصورت یادیں تازہ کر رہی تھی۔۔۔اسے بتایا کہ میں کالج لاٸف میں ایک شارٹ اسٹوری راٸٹر ، کالم نگار تھی اور ہلکی پھلکی شاعری بھی کرتی تھی۔۔۔اور اپنے کالج میگزین میں لکھتے ہوۓ بیسٹ اسٹوری راٸٹر ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہوں۔۔وہ مجھے بے یقینی سے دیکھنے لگی کامرس کی اسٹوڈنٹ اور ادب سے شغف۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔اسکی شک بھری نظروں کو دیکھتے ہوۓ۔۔ثبوت کے طور پر اگے دن اپنی میگزین میں چھپی ایوارڈ لیتے ہوۓ کی تصویر بھی دیکھا دی۔۔تب اس نے بتایا کہ اس کے کزن ایک میگزین چلاتے ہیں۔۔ان سے بات کرتی ہوں انہیں تم جیسوں لکھاریوں کی ضرورت رہتی ہے۔
    سو اس نے مجھ سے میگزین لے لیا۔۔جلد ہی میٹینگ سیٹ ہوٸی۔۔اور ہم ایک جانے مانے میگزین کا حصہ بن گۓ۔۔ایک اہم پیج کی زمہ داری سونپی گٸی۔۔شوق بہت اچھا پورا ہو رہا تھا ۔۔۔مشہور لوگوں سے انٹرویو لینے ٹیم کے ساتھ جانے کو ملتا ایسے میں اپنے پسندیدہ لوگوں سے ملاقات۔۔لگتا کہ اللہ تعالہ فل مہربان ہیں
    پھر ایک دن میگزین سے جڑے لوگوں کی میٹینگ تھی
    عموماً تمام میٹینگز دن میں رکھی جاتی تھیں۔۔مگر کچھ خاص لوگوں کے ٹف شیڈول کی وجہ سے میٹینگ رات میں رکھی گٸی۔اب چونکہ رات گھر سے باہر کی اجازت نہیں تھی۔۔تو پاپا جی سے درخواست کی اکیلے تو جانے نہیں دیں گے۔خود ہی ساتھ چلیں تا کہ میرا ساتھ بھی ہو جاۓ اور میں میٹینگ میں بھی شریک ہو سکوں۔بس وہ لاسٹ ڈے لاسٹ ناٸٹ ہو گٸی اس میگزین میں۔۔پاپا جی نے شرکا پر نظر ڈالی اور غصے سے میری طرف دیکھا۔۔کٸی ماڈلز اور ایکٹریسز اپنے لباس کی وجہ سے پاپا جی کہ غصے کی وجہ بن گٸی۔۔
    پاپا جی اگلے دن ہی گۓ میرے تمام مسودے تمام میگزین ایڈیٹر سے یہ کہہ کر واپس لے آۓ۔۔یہاں کا ماحول مجھے پسند نہیں۔۔میں نے کہا میں تو حجاب میں رہتی ہوں مجھے کیا فرق پڑتا کوٸی کیا پہنے۔تو پاپا نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ماحول بندہ بدل دیتا ہے۔۔ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گۓ۔بعد میں بس کولیگ اور اس کے کزن سے سوری کہہ دیا۔
    لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔اسکے بعد چند دن بعد ہی ہم ایک انگلش انجینٸرنگ میگزین میں جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گٸے۔۔۔مگر یہاں سب کچھ مختلف تھا۔باس ایک شفیق انسان تھے۔۔لڑکیوں کا اسٹاف۔۔بہترین ماحول۔ انہونی بات یہ ہوٸی پاپا جی نے باس سے میٹینگ کے بعد جاب اوکے کی۔میرے انٹرویو کےبعد پاپا جی نے بھی باس کا انٹرویو کیا پورا ایک گھنٹہ۔۔مجھے لگا بیٹا یہ جاب بھی گٸی ہاتھ سے۔۔باس کہیں گے جاب میں نےتمہیں دینی ہے یا باس کی جاب تم نے مجھے دینی ہے۔۔مگر یہاں پھر انہونی ہوٸی باس میرے آۓ اور بولو۔ بیٹا آپکے پاپا کے خدشات درست ہیں۔۔ ان شاء اللہ آپ یہاں خود کو محفوظ محسوس کریں گی۔۔اور واقعی باس نے اس بات کو ثابت کیا۔
    بیٹیوں کی طرح حفاظت رکھی۔سات سال میں اس جریدے کے ساتھ منسلک رہی۔جو شروع کی جاب تلاش کرنے کی تکالیف والی باتیں تھیں۔۔سب کا آزالہ ہو گیا
    حقیقت میں ایک اچھی نوکری کی تلاش ایک اچھے رشتے کی تلاش جیسی ہی مشکل ہے۔۔آپ کو نہیں پتہ ہوتا آپ جن لوگوں میں جارہے ہیں وہ کیسے ہیں۔مگر فرق یہ ہے کہ نا پسندیدگی پر آپ باآسانی استعفی دیکر جان چھڑا سکتے ہیں۔۔آج کے دور میں ایک مجبور لڑکی کا نوکری کے لٸیے نکلنا کھلے ہوۓ بھیڑیوں کے بیچ سے گزرنا ہے۔۔ہر طرف بھوکے حوس کے مارے بیٹھے ہوتے ہیں۔ایسے میں کسی ایک نیک انسان کا مل جانا کسی نعمت سے کم نہیں۔اور ہوتے ہیں ایسے لوگ بھی جو کسی کی مجبوری کا فاٸدہ نہیں اٹھاتے بلکہ ان کی پریشانی دور کر کے اللہ سے صلے کی امید رکھتے ہیں۔۔ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے تو دنیا اب تک برقرار ہے۔۔آخر میں پھر سے دعا ہے۔۔اللہ پاک اچھے اور نیک لوگوں سے ملاۓ۔۔بروں سے بچاۓ۔۔آمین

    @DimpleGirl_PTi

  • خرگوش  تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    خرگوش تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    میری آج کی اس تحریر کا موضوع نہایت ہی خوبصورت تیز رفتار اور پست قامت جانور کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے متعلق ہے اور آج میں اپنی اس تحریر میں اُس جانور کی بنیادی معلومات جیسے کہ وضع قطع ، رہن سہن ، اسکی نسل اسکی اقسام اسکے خصائل اور اسکی خصوصیات وغیرہ کو بیان کروں گا انشاءاللہ عزوجل

    تو آئیے چلتے ہیں اپنے موضوع کی طرف…

    خرگوش یہ اسم جنس ہے جوکہ نر اور مادہ دونوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے
    خرگوش : بکری کے چھوٹے بچے سے مشابہت رکھنے والا ایک جانور ہے جس کے ہاتھ چھوٹے اور پاؤں لمبے ہوتے ہیں اور یہ پچھلی ٹانگوں کی مدد سے ہی چلتا پھرتا ہے

    اسکی اقسام : خرگوش کی سات مختلف اقسام ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں میں پائی جاتی ہیں اور خرگوش کی ایک قسم اس طرح کی بھی پائی جاتی ہے جس کے بدن کے ایک حصے میں ہڈی اور ایک حصے میں گوشت ہوتا ہے خرگوش رنگت میں سفید کالے اور بھورے پائے جاتے ہیں

    خرگوش کی عمر وزن……

    خرگوش کی عمر تقریباً 9 سے 12 سال ہوتی ہے اور ان کا وزن تقریباً 400 گرام سے 2 کلو تک ہوتا ہے

    خرگوش کے خصائل …….

    خرگوش میں ایک انوکھی بات یہ پائی جاتی ہے کہ یہ جانور ایک سال تک نر ہوتا ہے اور دوسرے سال میں وہ مادہ بن جاتا ہے
    اچھا اسکی دوسری خوبی یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ سوتے ہوئے اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہے اور جب کوئی اسکا شکار کرنے کو آتا ہے تو اس کی کھلی آنکھیں دیکھ یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ جاگ رہا ہے اور وہ خرگوش کا شکار نہیں کرتا
    بعض لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ خرگوش جب دریا کو دیکھتا ہے تو مرجاتا ہے
    جانداروں میں سے جن کو حیض آتا ہے وہ تعداد کے لحاظ سے چار ہیں
    عورت لگڑبگر چمگادڑ اور خرگوش

    خرگوش کا شرعی حکم……….

    حدیث شریف کی مشہور زمانہ کتاب بخاری شریف میں کتاب الھبہ میں ایک روایت بیان کی ہے کہ حضور اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے اس خرگوش کو نہ صرف قبولیت بخشی بلکہ اسے تناول بھی فرمایا ہے
    امام اعظم ابو حنیفہ اور سارے علماء کرام رحمھم اللہ السّلام کے نزدیک اسی روایت کی بدولت خرگوش کا گوشت حلال اور جائز ہے

    خرگوش کی خصوصیات……

    1… جاحظ کا کہنا ہے کہ دور جہالت میں عربی لوگ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر کوئی شخص خرگوش کے ٹخنے پہنے تو اس پر بری نظر اور جادو کا اثر نہیں ہوگا کیونکہ ( جن ) خرگوش کے حیض کی بناء پر اسکے نزدیک نہیں آتے
    2… اگر کسی آدمی کے صحتیاب ہونے کے بعد اسکے جسم کا کوئی حصہ ارتعاشی حالت میں مبتلا ہو جائے تو اس آدمی کو خشکی کا خرگوش بھون کر اسکا دماغ کھلائیں تو یہ اس کیلئے بہت فائدہ مند ہوگا
    3… اگر کوئی آدمی دو چنوں جتنا خرگوش کا دماغ لے اور آدھے رطل کے چھٹے حصے جتنا گائے کا دودھ لے کر اسے استعمال میں لائے تو وہ کبھی ضعیف نہیں ہوگا
    4… کینسر کی بیماری میں خرگوش کا انفحہ لگانا بہت فائدہ مند ہے
    5… اگر کوئی خاتون خرگوش کا پنیر کا پانی پئے تو اسکو اولادِ نرینہ ہوگی
    6… اگر کوئی خاتون خرگوش کی منگنی یا گوپر باندھے اور لٹکائے تو وہ خاتون حاملہ نہیں ہوگی
    7… خرگوش کا گوشت پیٹ کی صفائی کرتا ہے اور اس سے پیشاب کھل کر آتا ہے
    8… خرگوش کا گوشت استعمال کرنے سے نیند کا خاتمہ ہو جاتا ہے
    9… خرگوش کا گوشت سرد مزاج لوگوں کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے
    10… اگر کسی خاتون نے خرگوش کا خون پی لیا تو وہ پھر کبھی بھی اُمید سے نہیں ہوگی
    11… خرگوش کا خون سفید داغ دھبوں اور چھائیوں پر لگائیں تو ان شاء اللہ عزوجل داغ دھبے اور چھائیاں ختم ہو جائیں گی
    12…خرگوش کا مغز اگر بچوں کے مسوڑوں پر لگائیں تو بہت جلد اُن کے دانت نکل آئیں گے
    13… خرگوش کے لہو کا سُرمہ آنکھوں میں لگائیں تو آنکھوں بال نہیں آئیں گے
    14… خرگوش کا گوشت بلا ناغہ کھانے سے بستر پیشاب کرنے والوں کو افاقہ ہوگا
    15… ارسطو کا کہنا ہے کہ خرگوش کا پنیر مایہ سرکہ میں مکس کر کے پی لیا جائے تو اسکا پینا سانپ کے زہر کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا
    16… خرگوش کے گوشت میں دوسرے جانوروں کے مقابلے میں پروٹین کیلشیم اور وٹامن زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ چکنائی اور سوڈیم کم پائی جاتی ہے

    خرگوش کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر….

    1… خرگوش کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر یہ ہے کہ ایک حسین خاتون ملے گی جس میں محبت پیار نام کی کوئی شے نہیں ہوگی
    2… اگر خواب میں یہ دیکھا کہ خرگوش کو ذبح کیا ہے تو اسکی تعبیر یہ ہے کہ اسکی بیوی فوت ہو جائے گی یا اسکی الگ ہوگی
    3… اگر خواب میں خرگوش کا پکا ہوا گوشت کھایا تو اسکی تعبیر یہ ہے کہ اسے ایسی جگہ سے رزق ملے گا جس جگہ سے اُسے گمان بھی نہیں ہوگا
    4… اگر کسی نے خواب میں یہ دیکھا کہ اس نے خرگوش کا شکار کیا یا کسی نے اس کو خرگوش تحفے میں دیا یا اس نے خرگوش خریدا اور وہ خواب دیکھنے والا شخص کنوارا ہے تو اسے رزق کی نعمت عطا ہوگی اور اگر خواب دیکھنے والا شادی شدہ ہے تو اس کو اولاد کی نعمت عطا ہوگی
    Twitter id
    Waqaskh00123456

  • ہمارے رویے سے منسلک ہے کامیابی ہماری  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ہمارے رویے سے منسلک ہے کامیابی ہماری تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    زندگی میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے اگر میں کہوں کے ہر کوئی اس بات پر متفق ہے تو یقیناً یہ غلط نہ ہوگا۔ کامیابی حاصل کرنا اگر آسان ہوتا تو آج دُنیا میں ہر شخص ہی ہمیں کامیاب ملتا نہ کوئی مایوس ہوتا اور نہ ہی کوئی پریشان نظر آتا شاید کہ۔ اچھا تو بات کچھ یوں ہے ہر چیز کے دو رخ ہوا کرتے ہیں اب کامیابی کے متعلق بھی یہی چیز ہے کہ یا تو کوئی کامیاب ہوتا ہے یا نہیں ہو پاتا۔ اب اہم چیز یہ کہ وہ کیا ایسی چیز ہے جو کامیابی اور ناکامی میں فرق ڈالتی ہے ذرا آپ بھی سوچیں شاید کے آپکے پاس اسکا بہتر جواب ہو مگر میرے پاس تو اسکا جواب ہے ” رویہ” یہی وہ عنصر ہے جو فرق ڈالتا ہے اب میں آپکو ایک مثال دیتا ہے ہوں کہ میں اور میرا دوست ہم دونوں کی منزل ایک ہی ہے ہم نے اُس منزل کی جانب رواں ہونا ہے ہماری بہت سے چیزیں ایک جیسی ہو سکتی ہے اُن میں ہمارا رویہ بھی آتا ہے اب رویہ اگر ہمارا ایک جیسا ہے تو ہم کامیاب بھی ایک ساتھ ہونگے یا ناکام بھی ایک ساتھ ہی لیکن پھر ایک چیز اگر رویہ اس میں فرق آتا مثلاً کہ کل ہمارا بائیولوجی کا پیپر ہے میرا دوست توجہ سے پیپر کی تیاری کر رہا وہ اس میں سنجیدہ ہے اور اسکا ہدف ہے کہ 95 فیصد نمبر لینے ہیں مگر میں ہوں جو موبائل فون کا استعمال کر رہا سونے میں وقت گزار رہا اب ہمارے درمیان کس چیز کا فرق آیا رویے کا اب ہدف میرا بھی وہی ہے 95 فیصد نمبر کا مگر کیا میں اس صورت حال میں وہ ہدف پورا کر سکوں گا کبھی نہیں جب نتیجہ آئے گا تو میرے اور دوست کے نتیجے میں زمین آسمان کا فرق ہوگا شاید کہ میں پاس بھی نہ ہو سکوں۔ اب اسّی چیز کو اپنی روز مرہ زندگی میں لا کر دیکھیں ہم سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں ہمارے اہداف بھی مشترکہ ہوتے ہیں مگر جو چیز فرق ڈالنے والی ہے وہ رویہ ہی ہے لہٰذا اس پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے ہم کوئی بھی کام کر رہے ہوں تو ہمیں اپنے رویہ کو دیکھنا ہوگا سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا تب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ہر روز کہی لوگ ملتے ہیں جو اس چیز کی شکایت کرتے ہیں کہ فلاں شخص کامیاب ہوگیا ہم کیوں نہیں ہوتے اس کے لیے آپکو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی آپکو سنجیدہ ہونا ہوگا آپکو اپنے کام سے عہد کرنا ہونا ہوگا۔ اپنا احتساب کرنا ہوگا یاد رکھیں اپنے آپ کو آئینے کے روبرو کرنے والے ہی کامیابی کا مزہ چکھ سکتے ہیں، خود میں بہتری لا سکتی ہیں۔ یہ لمبی کہانی ہو گئی ہے یہ میں نے خود کو سامنے رکھ کر لکھی ہے میں بھی اسّی فیز سے گزر رہا ہوں کامیابی کی تلاش میں لہذا خود کو جانے گے تو کچھ کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے علم میں عمل میں قلم میں برکت عطا فرمائیں۔ شکریہ

    TA : @AhtzazGillani

  • ہم پڑھے لکھے بے کار تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    ہم پڑھے لکھے بے کار تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم ہم نے پڑھے لکھے جاہل کی اصطلاح تو بہت بار سنی اور سمجھتے بھی ہیں.
    مگر یہ پڑھے لکھے بے کار کیا بلا ہے
    ہم اگر آج سے دس بیس سال پیچھے چلے جائیں تو خال خال گریجوایٹ ہوا کرتے تھے.ہر گھر سے کوئی ایک کالج یا یونیورسٹی جانے والا ہوتا تھا.
    مگر اب پرائیویٹ اداروں کی بھرمار نے نقشہ بدلا پڑھے لکھے اور بلخصوص کالج اور یونیورسٹی جانے والوں کی "تعداد” میں نمایاں اضافہ ہوا.
    اور اب ہر گھر میں گریجویٹ ملتا ہے.
    ان اعدادوشمار پہ خوشی تو ہوتی ہے مگر ایک دکھ کی کیفیت طاری رہتی ہے
    کہ تعداد تو بڑھ گئی معیار نہ رہا
    ڈگریاں تو آگئیں ہنر نہ رہا
    ہمارے کمزور اور بے ہنر ہاتھوں کی کرامت ہے کہ ہم سے رہبری چھن گئی ہے
    آج چودہ سولہ سال پڑھنے لکھنے کے بعد بھی ہم بے ہنر رہ جاتے ہیں.
    ہم اپنے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے بھی محتاج اور سراپا احتجاج بنے رہتے ہیں

    کرونا وباء نے جہاں تعلیمی ادارے بند کروائے وہیں تعلیمی معیار کی قلعی کھول کے رکھ دی کہ ہزار پڑھے لکھوں نے مل کے وہ نہ کمایا جو ایک ہنر مند نے کما لیا.
    فری لانسنگ اور ای کامرس میں ہنر کی ضرورت اور اہمیت نے ہمیں جھنجوڑ کے رکھ دیا
    کمانے کے لیے ایسی راہیں کھولیں جن پہ ڈگریوں والے ڈگمگا گرے اور ہنر والے بازی لے گئے
    ڈگری کے حصول کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ڈگری پروگرامز وقت کا ضیاع ہیں اور ہمارے جوان یونیورسٹیوں سے محض کاغذ کا ٹکڑا حاصل کر. کے نکلتے ہیں.
    آزاد چائے والا کے فلسفے کو سو بٹہ سو نمبر دیتے ہوئے تائید کروں گی کہ ڈگری سے بہتر ہنر ہے
    اب ہنر کو محض ویلڈنگ سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے تو جو کام آپ اپنی عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کرتے ہیں اسکا مقابلہ کوئی ڈگری نہیں کر سکتی.
    ہمارے تعلیمی نظام کے تمام نقائص میں سب سے بڑا نقص پریکٹیکل کی کمی ہے.چین اور جاپان کے سکول سسٹم سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے
    جہاں طلباء حصول علم کے ساتھ گھرداری بھی سیکھتے ہیں .
    ہم پڑھ لکھ کر بے کار ہیں کیونکہ ہم نے صرف پڑھا ہے اس کو کہیں استعمال میں لانے کے لیے ہمارے پاس گراؤنڈ ہی نہیں تھا نہ ہی پریکٹس.
    علم اور ہنر کو جب تک لازم و ملزوم کر کے تعلیمی نظام کو ازسرنو تعمیر نہیں کیا جاتا ہم
    پڑھے لکھے بے کار پیدا کرتے رہیں گے.جو گلے شکوے اور شکایات کے ساتھ ٹائر جلایا کریں گے.
    عمل سے زندگی بنتی ہے ….

    @hsbuddy18

  • اسلام میں حضرات صحابہ کرام کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    اسلام میں حضرات صحابہ کرام کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    اسلام جب وجود میں آیا تو اللّه تبارک و تعالی نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہ السلام کو دنیا میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کیلئے بھیجا اور انکی اس دعوت و تبلیغ کے لیے کچھ مخصوص لوگ چنے،
    اسی طرح جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اور آپکو جب نبوت سے نوازا گیا تو آپﷺ کے اس مشن کیلئے جو لوگ چنے رب العزت نے وہ حضرات صحابہؓ کی جماعت تھی اور صحابہ کرامؓ کی تعداد کم و بیش چونتیس ہزار بتائی گئی ہے بعض روایات میں یہ وہ جماعت تھی جن کی تربیت براہ راست میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔۔
    صحابہ کرام رضوان اللّه تعالی علیہم اجمعین میں بھی ہر صحابیؓ کو الگ الگ درجہ حاصل ہے جس میں عشرہ مبشرہ دس خوش نصیب صحابی رسولؑ بھی موجود ہیں جنہیں دنیا میں ہی جنّت کی بشارت سنا دی گئی تھی جن کے نام یہ ہیں
    ابو بکر
    عمر
    عثمان
    علی
    طلحہ بن عبید اللہ
    الزبیر بن العوام
    عبدالرحمن بن عوف
    سعد بن ابی وقاص
    سعید بن زید
    ابو عبیدۃ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ

    یہاں عوام الناس کچھ غلط فہمیوں کا شکار بھی رہی ہے کہ اگر یہ صحابہ کرامؓ جنتی ہیں تو کیا باقی جنتی نہیں ہے؟
    تو یہاں یہ بات بتانا چاہوں گا صحابہ کرامؓ میں بھی ہر صحابیؓ کو اپنا الگ مقام حاصل ہے لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں حضور اکرمﷺ کے سارے صحابہ کرامؓ جنتی اور معیار حق ہیں۔
    انبیاء علیہ السلام کے بعد
    صحابہ کرامؓ میں سب سے افضل مرتبہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام اور حضورﷺ کی پیروی میں گزاری اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے آپؓ نے حضورﷺ کی موجودگی میں انکے کہنے پر امامت بھی کروائی اسی طرح حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ جن کی شان یہ تھی کہ رب العزت نے انہیں حضورﷺ کی دعا کے مانگنے پر ساتھی چنا اور حدیث کی متعدد روایات میں محمد عربیؐ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔۔
    اسی طرح حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کی شان دیکھیں جنہیں دو نور والا لقب حاصل ہے آپؓ کے نکاح میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں تھیں ایک بیٹی جب فوت ہوئی آپﷺ نے دوسری بیٹی نکاح میں دی اور جب دوسری بھی فوت ہوگی تو آپؐ نے فرمایا اگر میری اور بیٹیاں بھی ہوتی تو وہ بھی عثمانؓ کے نکاح میں دیتا حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن سے اللہ پاک بھی حیا کرتے ہیں اور قیامت کے روز آپؓ کی شہادت
    کی گواہی قرآن مجید دے گا۔۔
    حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ جنکو حیدر کرار کا لقب حاصل ہے
    آپؓ کی شجاعت اور بہادری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں آپؓ وہ صحابی ہیں جنہوں نے فتح خیبر کے موقع پر خبیر کا دروازہ اکیلے کھولا جو اس وقت بیس سے تیس لوگ بھی مل کر نہیں کھول سکتے تھے آپؓ کے نکاح میں خاتون جنت اور لخت جگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا تھی۔
    اسی طرح پھر سیدنا امیر معاویہؓ جنہوں نے شام و روم کو فتح کیا آپؓ کو کاتب وحی کا لقب حاصل ہے آپؓ زہین اور باوقار شخصیت کے مالک تھے اور رشتے میں پوری امت مسلمہ کے ماموں لگتے ہیں آپ کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ جب فتح مکہ ہوا تو حضور اکرم صلی وسلم نے فرمایا جس نے ابو سفیان کے ہاں پناہ لی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا،
    یہ تاریخ کا ادنا سا حصہ صرف بتایا ہے بلکے ادنا سے بھی ادنا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگی پر خدا کی قسم ہزاروں کتب بھی لکھی جائے کم ہے اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے ہمیں سیدھی راہ پر چلنے اور حضرات صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین

    @SyedUmair95

  • آزاد کشمیر انتخابات: ضلع باغ کے حلقہ ایل اے 16 کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر آج دوبارہ پولنگ ہوگی

    آزاد کشمیر انتخابات: ضلع باغ کے حلقہ ایل اے 16 کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر آج دوبارہ پولنگ ہوگی

    الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں حلقہ ایل اے 16 شرقی باغ کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا تھا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تاہم اب آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے حلقہ ایل اے 16 کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر آج دوبارہ پولنگ ہوگی ان پولنگ اسٹیشنز پر 25 جولائی کو ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوسکی تھی، جس کی وجہ سے اس حلقے کے نتائج روک لئے گئے تھے باغ میں دیگر 2 پولنگ اسٹیشنز پر بیلٹ پیپر جلانے کے بعد پولنگ نہیں ہوئی تھی۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاروں پولنگ اسٹیشنز پر مجموعی طور پر 2 ہزار 300 ووٹ رجسٹرڈ ہیں پی ٹی آئی کے امیدوار سردار میر اکبر اور پیپلزپارٹی کے امیدوار سردار قمر زمان کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے-

  • عنوان :: چار حلقوں سے چار صوبوں تک  تحریر : سیف اللہ عمران

    عنوان :: چار حلقوں سے چار صوبوں تک تحریر : سیف اللہ عمران

    پاکستان انصاف انصاف (پی ٹی آئی) انصاف کیلئے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد پر قائم ہوئی
    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد زمان پارک ، لاہور میں 25 اپریل 1996 کو ورلڈ کپ کے فاتح ، فلسفی اور سماجی کارکن پاکستانی کرکٹر عمران خان نے رکھی ۔
    پی ٹی ائی نے انصاف تحریک کے طور پر کام کرنا شروع کیا اور پاکستان میں صحت ، تعلیم ، شہری ، بہبود اور اظہار رائے کی آزادی ، روزگار، مذہبی اہلیت ، باہمی فرقہ وارانہ نقصان کے بارے میں ریاست کی ذمہ داریوں کے بارے میں شعور بیدار کرنا شروع کیا۔ اس کی توجہ پاکستان میں سماجی اور سیاسی ترقی پر ہے۔ تحریک انصاف قابل اعتماد جمہوریت ، حکومت میں شفافیت اور رہنماؤں کے احتساب کے ذریعے پاکستان میں سیاسی استحکام کے لئے پرعزم

    پی ٹی آئی نے 1996 میں ابھرتے ہوئے عمران خان کی سربراہی میں 6 رکنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ پی ٹی آئی نے 1997 کے عام انتخابات میں ایک نئ جماعت کی حیثیت سے حصہ لیا ، اگرچہ تحریک انصاف عام انتخابات میں جیتنے میں ناکام رہی۔ لیکن تحریک انصاف نے ثابت کردیا کہ وہ مستقبل میں دوسری جماعتوں کے لئے خطرہ

    2002 عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے دو سیٹیں جیتیں ، ایک میانوالی سے ایک عمران خان نے اور دوسری نصیر گل نے

    تحریک انصاف نے 18 فروری 2008 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

    اس کے بعد عمران خان نے 30 اکتوبر 2011 کو لاہور میں ایک جلسئہ کیا جس میں لاکھوں افراد جمع تھے۔ پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔

    2013 میں ، تحریک انصاف نے انتخابات میں حصہ لیا اور وہ ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری۔
    لیکن خیبرپختونخوا صرف حکومت بنا سکی اور پنجاب میں مقابلہ کیا لیکن اپوزیشن کے طور پر سامنے آئی
    جبکہ خیبر کی صوبائی اسمبلی میں ، پرویز خٹک کی سربراہی میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی کی حیثیت سے مخلوط حکومت تشکیل دی گئی۔

    2013 ء الیکشن میں ن لیگ دھاندلی کر کے جیتی تھی خان نے ن لیگ کی دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی ۔
    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ چاروں حلقوں این اے 57 ، این اے 110 ، این اے 122 اور این اے 125 میں آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف تحقیقات کروائے۔
    پی ٹی آئی ریسرچ ونگ نے یہ ثابت کرنے کے لئے 2100 صفحات پر مشتمل کتابچہ تیار کیا ہے کہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔
    پی ٹی آئی نے الیکشن کے اختتام کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توجہ مبذول کروانے کے لئے تمام دستیاب ذرائع استعمال کیے۔ عمران خان کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ کو ملک کی معزول عدلیہ کو اس کے نتیجے کا نوٹس لینا چاہئے۔
    تمام قانونی فورموں سے مایوس پاکستان تحریک انصاف نے باضابطہ طور پر 22 اپریل 2014 کو مستحکم انتخابات کے خلاف اپنی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔
    احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اسکے بعد پی ٹی آئی نے چودہ اگست 2014 کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا۔ جو 126 دن تک جاری رہا 💞
    2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں اور خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی۔ عمران خان نے بطور وزیر اعظم حلف لیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنی حکومت قائم کی۔
    تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایک غالب پوزیشن سمیٹی اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان کی سربراہی میں اپنی ایک صوبائی حکومت تشکیل دی۔
    پنجاب اور بلوچستان میں تحریک انصاف نے اپنی مخلوط حکومتیں تشکیل دیں۔انتخابات میں 16.8 ملین ووٹوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔

    2020 کے گلگت بلتستان انتخابات میں ، گلگت کے غیرت مند لوگوں نے تحریک انصاف کو انتخابات میں جیتوا کر حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا۔

    اور اب عمران خان نے 25 جولائی 2021 کشمیر انتخابات میں مخالفین کو کلین بولڈ کردیا ہے۔ پی ٹی آئی 26 سیٹوں کے ساتھ حکومت بنا رہی ہے
    کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات میں ، پی ٹی آئی نے سادہ اکثریت حاصل کی ، کپتان کے کھلاڑیوں نے 45 میں سے 26 نشستوں پر اپنے مخالفین کو شکست دی۔

    اور اور آخر پر اہم بات جہاں سے گیم پلٹی وہ یہ کہ عمران خان نے بات 4 حلقوں سے شروع کی تھی جو پھر وفاق سے شروع ہوئی اور وہاں سے ہوتی ہوئی 4 صوبوں کی حکمرانی تک آگئی ہے✌️وفاق ، پنجاب ، بلوچستان، گلگت کے بعد اب آزاد کشمیر بھی لے لیا✌️🤗

    @Patriot_Mani