میری عادت ہے کہ میں ہر شخص میں کوئی مثبت عادت ڈھونڈتی رہتی ہوں اسکی مثبت بات نوٹ کر لیتی ہوں اور اگر وہ مجھ میں موجود نہ ہو تو اسے اپنا لیتی ہوں کیونکہ اگر ایک انسان میں بہت ساری خوبیاں ہوتی ہیں تو وہیں اس میں چند خامیاں بھی ہوتی ہیں اور جس میں بہت ساری خامیاں ہوتی ہیں اس میں کوئی تو خوبی ہوتی ہی ہے اسلیے میں کوشش کرتی ہوں ہر انسان کی خوبی ڈھونڈوں "دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں جسے کچھ معلوم نہ ہو اور دنیا میں کوئی ایک فرد ایسا بھی نہیں جسے سب کچھ معلوم ہو” ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہم ہر انسان سے کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں کیونکہ سیکھنے سکھانے کا عمل ساتھ ساتھ چلتا ہے اسلیے آپ چاہیں تو دوسروں کو سکھا بھی سکتے ہیں
اپنے قلب کو وسیع اور ذہن کو کشادہ رکھ کر ہی ہم دوسروں سے کچھ سیکھ سکتے ہیں اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے دل میں کسی کے لیے بغض اور عناد نہ رکھیں ہمیں چاہیے کہ ہم ہر انسان کو عزت کی نظر سے دیکھیں
کیونکہ جب ہم کسی کے لیے تحقیر کا جذبہ رکھتے ہیں تو ہم اس سے کچھ نہیں سیکھ سکتے کیونکہ جس نے کچھ سیکھنا ہوتا ہے تو وہ چیونٹی سے بھی سبق سیکھ لیتا ہے اور ہاری ہوئی جنگ جیت لیتا ہے
زندگی میں مشکلات اور آسانیاں کبھی یہ فیصلہ نہیں کرتیں کہ ہم کتنے ناکام ہوں گے یا کامیاب ،ہماری کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہمارا ردعمل کرتا ہے اسلیے کسی مشکل یا آسانی کو ہم کبھی بھی کامیابی کی علامت نہیں کہہ سکتے نپولین کا ردعمل ہی تھا جسکی وجہ سے وہ چیونٹی سے سیکھ کر ہاری ہوئی جنگ جیت گیا۔ یہ بات بچوں کی تربیت میں شامل کریں کہ نشیب و فراز زندگی کا حصہ ہیں ہم جسطرح کے حالات سے گزرے ہیں انہیں مسائل یا وسائل کے روپ میں دیکھنا ہماری زندگی کا حصہ ہے یعنی برے حالات میں ان سے سیکھنا کہ ہم کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں اتنی ساری حالات کی زنجیروں کے باوجود اور اچھے حالات میں آگے بڑھنا یہ بھی امتحان ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو خود کو میسر آسودگیوں کی نظر کرنے کے بجائے ان سے بھی سیکھتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی انسان چاہتا ہے کہ وہ مشکل حالات سے سیکھے تو اسے چاہیے کہ ان مشکل حالات کو مسئلے کی شکل نہ دے ،پریشان نہ ہو بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ ایک امتحان کا مرحلہ ہے جو بہت جلد گزر جائے گا اور سب کچھ پہلے سے بھی بہتر ہو جائے گا لیکن مجھے موقع مل رہا میں ان سے کچھ سیکھوں میں آپ کو مثال دیکر سمجھاتی ہوں جو انسان حالات کی وجہ سے پیسے کی تنگی دیکھ رہا ہے اور اسکا کاروبار تباہ ہو چکا ہے تو اب وہ سیکھے گا ریسرچ کرے گا ،کتابیں پڑھے گا ،اپنا محاسبہ کرے گا اور ایک لائحہ عمل تیار کرے گا کہ اس کے پیچھے کونسی وجوہات تھیں اور دوبارہ سے وہ اپنا بزنس کیسے کھڑا کر سکتا ہے تو اس سب پہ عمل کرے گا اور جلد ہی دربارہ سے اپنے پیروں پہ کھڑا ہو جائے گا جبکہ جو انسان ہار تسلیم کرلے نہیں سیکھے گا وہ ان حالات میں جی بھی مشکل پائے گا اب کوئی انسان اس کی قدر نہیں کرتا کہ اسکا کاروبار تباہ ہو گیا ہے اور دوسری کوشش کر رہا پتہ نہیں کیا بنتا ہے اسکا اسکی کیا ویلیو ہے عین ممکن ہے کہ اسکا کاروبار بہت جلد پہلے سے بھی زیادہ ترقی کرے اور آپ اسکی ناقدری کرکے اس کے ملے تجربے سے بھی محروم ہو جائے گا
اگر آپ کو کوئی انسان اس وجہ سے ناگوار گزرے کہ اس میں کوئی خامی ہے تو اس خامی یا بری عادت کو دور کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آپ اسکی برائی کےبہت جگہ گُن گاتے پھریں اسکا طریقہ یہ ہے کہ آپ اسے الگ بلائیں اور انتہائی موزوں الفاظ کے ساتھ نرم لہجے میں اسے سمجھائیں کہ آپ ویسے تو اچھے ہیں لیکن تھوڑا سا یہ مسئلہ ہے اسے آپ ٹھیک کر لیں
اس طرح وہ انسان بھی آپ کے اچھے رویے سے بہت کچھ سیکھے گا اور آپ بھی انسانوں کی قدر کرکے ان سے بہت کچھ سیکھ سکیں گے
حُسنِ قدرت
Twitter: @HusnHere
Category: بلاگ
-

ہر ایک سے سیکھیے تحریر: حُسنِ قدرت
-

عذرااصغر تحریر : مہناز وحید
ایک ایسی ہستی جنھوں نے اپنی پوری زندگی اُردو ادب کی خدمت کے لئے وقف کردی ۔آپ ایک بہترین ناول نگار ، افسانہ نگار، مضمون نگار ، کالم نگار ،شاعرہ اور مدیر ہیں۔آپ بھارت کے شہر دہلی میں22-دسمبر 1940ء میں پیدا ہوئیں ۔قیامِ پاکستان کے وقت آپ اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستا ن آئیں ۔آپ کا اصل نام مبارک شاہی بیگم تھا۔ پاکستان میں آپ کا خاندان لائل پور(فیصل آباد) میں آکر آباد ہوا۔
آپ کا بچپن نامساعد حالات کا شکار رہا ۔جس کی وجہ سے آپ باقاعدہ سکول کی تعلیم حاصل نہ کر سکیں ۔اس کی بڑی وجہ والد کی دوسری شادی تھی ۔ آپ بے حد حساس طبیعت کی مالک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذہانت جیسی دولت سے نواز رکھا تھا یہی وجہ ہے کہ باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو زنگ آلود نہیں ہونے دیا اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے کہانیاں لکھتی رہیں ۔آپ نے بہت کم عمری میں کہانیاں لکھنی شروع کر دیں تھیں ۔آپ نے جو سب سے پہلی کہانی لکھی تھی وہ اپنے ہی گھر کے متعلق لکھی تھی ۔ گھر میں کسی نے بھی آپ کی حوصلہ افزائی نہ کی مگر آپ نے چوری چھپکے اپنی کوشش جاری رکھی ۔ شادی کے بعد آپ کے خاوند اصغر مہدی نے آپ کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے باقاعدہ لکھنے کی اجازت دے دی ۔ انھی کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے آپ نے شادی کے بعدبی -اے تک تعلیم بھی حاصل کی اور لکھنے کا شوق جاری رکھتے ہوئےدو ناول ” دِل کے رشتے“ اور ” مسافتوں کی تھکن“ لکھے ۔اس کے علاوہ سات افسانوی مجموعے بھی تحریر کئے، جن میں سے ایک پنجابی زبان میں ہے جس کا نام ”موتیے دِیاں کلیاں “ ہے۔ آپ کے اُردو افسانوی مجموعوں کے نام درج ذیل ہیں :۔i. پت جھڑ کا آخری پتّا
ii. بیسویں صدی کی لڑکی
iii. تنہا برگد کا دکھiv. گد لا سمندر
v. یادوں کی طاق پہ رکھی کہانیاں
vi. کھڑکی میں بیٹھا وقتعذرااصغرایک کامیاب کالم نگار بھی ہیں ۔آپ نے ریڈیو اور اخبارات کے لئے کالم لکھے ۔ آپ نے بنیادی طور پر معاشرتی مسائل پر کالم لکھے ۔ اس کے علاوہ سیاسی ، مذہبی اور ادبی موضوعات پر بھی کالم لکھے ۔ کالم نگاری کی کتاب”قلم پارے “ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ان کالموں کے ذریعے عذراا صغر نے معاشرے کی اصلاح وفلاح کا کام لیا ۔آپ نے ان معاشرتی مسائل کی طرف قاری کی توجہ دلائی جن کو امدادِ باہمی کے ذریعے آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے ۔ آپ کے کالم ہر ذہنی سطح کے فرد کے لئے یکساں سود مند ہیں ۔ آپ پیچیدہ مسائل اور ان کے حل کو اتنی آسانی سے بیاں کرتی ہیں کہ پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
آپ نے بحیثیتِ مضمون نگار ادبی شخصیات پر مضامین بھی لکھے ۔ آپ کی تحریر کا یہ کمال ہے کہ اگرچہ آپ کسی شخصیت پر لکھتی ہیں مگر اسے ہدفِ تنقید نہیں بناتیں بلکہ اس شخصیت کی خامیاں اور خوبیاں اس انداز سے بیان کر دیتی ہیں کہ فریق ثانی آپ کا گرویدہ ہو جاتا ہے ۔ آپ ادبی دنیا میں نئے آنے والوں کا کھلے دِل سے خیر مقدم کرتی ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں ۔ آپ نے اپنے مضامین کے ذریعے بہت سی ادبی شخصیات کو متعارف کروایا ۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو اُردو ادب کے پودے کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔
آپ نے ڈرامے ، نظمیں ، ہائیکو ، ماہیے،دوہے بھی لکھے ۔آپ کا تحریر کیا ہوا ڈرامہ ”ہیڈ کوارٹر “ کے نام سے پی ٹی وی پر نشر ہوا۔اس کے علاوہ ریڈیو پر جشنِ تمثیل کے سلسلے میں لکھے جانے والے ڈرامے بھی اوّل انعام یافتہ قرار پائے ۔ آپ نے بحیثیتِ مدیر ماہنامہ”نورونار“، ”تخلیق“ اور ”تجدیدِ نَو “ کے لئے خدمات سر انجام دیں ۔ شاعری کے حوالے سے بات کی جائے تو وہ خود باقاعدہ شاعرہ نہیں کہلواتیں اس کی وجہ وہ یہ بتاتی ہیں کہ ” وہ غزل نہیں کہہ سکتیں “۔ مگر نظمیں بہت خوب لکھتی ہیں ۔اس کے علاوہ جاپانی صنفِ شاعری” ہائیکو “ میں بھی طبع آزمائی کی۔
بحیثیتِ مجموعی عذرااصغر ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں ۔ جنھوں نے اردو ادب کی خدمتِ خاموش کے جذبے کے تحت کام کیا ۔آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو بغیر کسی لالچ کے محنت کو اپنا شعار بناتے ہیں ۔ آپ کی ادبی خدمات کے صلے میں ہی آپ کو 2017ء میں ”تخلیق ایوارڈ “ سے نوازا گیا ۔ اگر آپ کے تخلیقی سفر کو دیکھا جائے تو آپ کا کوئی استاد نہیں۔ آپ نے حالات سے بہت کچھ سیکھا اور اسی کو اپنی تحریر کا حصہ بنایا ۔ آپ کا اسلوبِ بیاں دہلوی ہے جو اس دور میں کمیاب ہے ۔ آپ ہمار ا قومی اثاثہ ہیں ۔ ہمیں فخر ہے کہ ایسی قابل ہستی ہمیں نصیب ہوئی ۔ -

پروفیسر احسن اقبال اور آرٹیکل 257 تحریر: شاہ زیب
گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ کےراہنما شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال صاحب اور راجہ فاروق حیدر نے آزاد کشمیر میں الیکشن ہارنے کے بعد پریس کانفرنس کی اور آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج کو بڑی شد و مد کے ساتھ مسترد کیا۔
الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے لیکن اِس کا کوئی ٹھوس ثبوت دکھانے سے قاصر رہے۔ خیر یہ تو پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ ہونے والے ہر الیکشن کو اپوزیشن دھاندلی زدہ قرار دیتی اور آئیندہ الیکشن تک اِسی بیانیہ کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔
لیکن میں یہاں خاصیت کا ساتھ ذکر پروفیسر احسن اقبال صاحب کے بیان کا کرنا چاہتا ہوں۔
احسن اقبال نے ویراعظم عمران خان کے اُس بیان پر نہ صرف تنقید کی بلکہ اُسے پاکستان کے بنیادی نظریے اور آئین پرحملہ قرار دیا، جس میں عمران خان صاحب نے کہا تھا کہ ہم آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کروائیں گے اور کشمیریوں کو اس بات کا حق دیں گے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں یا آزاد ریاست کے طور پر رہنا چاہتے ہیں۔
احسن اقبال صاحب کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے اس بیان میں آئین کی بڑی خلاف ورزی اور بنیادِ پاکستان کے خلاف بیان دیا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود احسن اقبال کو شائد آئین کا مکمل طور پر ادراک ہی نہی۔ یوں تو وہ ایک لمبے عرصے سے قانون ساز اسمبلی کے میمبر بنتے چلے آ رہے ہیں اور کسی کالج میں لیکچرار ہونے کے دعویدار ہیں لیکن شائد اتنی مصروفیت کے باعث وہ آئینِ پاکستان کا مطالعہ نہ کر سکے۔ آییے میں آپ کو آئین کی آرٹیکل 257 کی وہ دفعہ دکھاؤں جو معاملہِ جموں و کشمیر پر تفصیلی ظاہر کرتا ہے:
“ دفعہ257 کہتی ہے کہ جب ریاست جموں اور کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرلیں گے تو پھر پاکستان اور ریاست کے مابین تعلقات کا فیصلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔”
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ جب خود کو پروفیسر اور سینئر سیاستدان کہنے والے احسن اقبال صاحب صاحب علم ہیں یا ۔۔۔۔۔۔
عمران خان صاحب نے جو بیان دیا وہ بیعینہٖ آئین کے آرٹیکل 257 کی اس دفعہ کا عکاس ہے جبکہ احسن اقبال صاحب کا بیان نہ صرف محض سیاسی بیان بازی بلکہ بنیادِ پاکستان اور آئینِ پاکستان سے لاعلمی اور بہتان بازی۔
یہی المیہ ہے ہمارے سیاستدانوں کا کہ جب تنقید کرنے کو کُچھ ٹھوس بات نہ ملے تو محض جھوٹ اور بہتان بازی کا بھی سہارا لینے سے نہی کتراتے، اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
تحریر: شاہزیب
@shahzeb___ -

کشمیر- انسانی المیہ تحریر: سید غازی علی زیدی
جلتی بستیاں
خون کی ندیاں
عصمت دریاں
لاشوں کے انبار
لہورنگ وادی چنارانسانیت کی پامالی کے تمام ریکارڈ توڑتی، جبر و استبداد کی المناک تاریخ!
خون منجمند کرتی کہانیاں اور سفاکیت کا منظر پیش کرتے قصے، لیکن وائے افسوس یہ قصے کہانیاں جھوٹ نہیں بلکہ حرف بہ حرف، ورق بہ ورق سچائی کی وہ دلخراش داستانیں ہیں جن کی گونج برسوں سے کشمیر کے پہاڑوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ظلم وستم کا عریاں رقص جو پوری شدومد اور تال میل کے ساتھ جاری وساری ہے۔ عصمت دری کا شکار عورتوں کے زندہ لاشے، سبز پرچم میں لپٹے کڑیل جوانوں کے جنازے، آزادی کی راہ تکتے موت کی دہلیز پر کھڑے بوڑھوں کے نوحے، غرض کشمیر ایک خطہ نہیں بلکہ چلتی پھرتی لاشوں کا مسکن ہے۔ خواتین ہو یا نوجوان، شیرخوار اطفال ہوں یا بزرگوار، کون ہے جو بھارتی فوج کے ظلم و بربریت سے محفوظ ہے؟
سیکولرازم کا راگ الاپتے بھارتی انتہا پسندوں کا مکروہ چہرہ کشمیری مسلمانوں کی جرات کی بدولت تمام دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ تحریک آزادی کو کچلنے کی کوشش میں بھارت نے وادی میں خون کی ندیاں بہا دی لیکن آج تک کشمیری عوام کے جذبہ جہاد کو دبانے کی کوششوں میں بری طرح ناکام رہا ہے۔انگریز کی انصاف پسندی و امانتداری کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملانے والوں کیلئے مسئلہ کشمیر کا قضیہ بدعہدی اور بد دیانتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہندوستان کی غیر منصفانہ تقسیم کے زریعے برطانوی راج نے شرپسندی کا جو بیج بویا تھا وہ اب ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جس کی جڑوں میں ہزاروں انسانوں کا خون شامل ہے۔ لہو سے سینچا گیا یہ خون آشام پیڑ کاٹنے کیلئے دو ایٹمی طاقتیں سات دہائیوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ لیکن بھارتی عہد شکنی اور ڈھٹائی کی وجہ سے مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔
جدید ترین ہتھیاروں سے لیس بھارت کی نو لاکھ فوج کشمیریوں کے جدوجہد آزادی کے سامنے بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ جھنجھلاہٹ کا شکار مودی سرکار کشمیری عوام کو حق خودارادیت کیا دیتی الٹا آرٹیکل 370 کو کالعدم کر کےان سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ اٹوٹ انگ کا دعویٰ کرنے والوں نے کشمیر کا انگ انگ زخمی کردیا ہے۔ بیگناہ کشمیری عوام پر کیا گیا بھارت کا غاصبانہ قبضہ، بھارتی جمہوریت کے ماتھے کا سیاہ داغ ہے۔ بھارتی فوج کی چیرہ دستیاں خود بھارت کیلئے ناسور بن چکی ہیں۔ کشمیری مسلمان تمامتر بربریت کے باوجود، جذبہ شہادت سے سرشار، بھارتی تسلط کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں۔ بھارتی جنگی جرائم کے باوجود اپنی آزادی کیلئے صف پیرا، سر بہ کف مجاہدین بغیر ہتھیاروں کے قابض فوج کیلئے دہشت کی علامت ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری پوری قوت سے بھارت پر زور ڈالے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے حل کرے۔ بھارت کا ناجائز اور غاصبانہ تسلط نہ تو کسی کشمیری اور نہ ہی پاکستان کیلئے قابل قبول ہے۔ بھارتی فوج ظلم و ستم کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود تحریک آزادی کو روکنے میں ہمیشہ سے ناکام رہی جو کشمیریوں کی بھارت سے نفرت کا مظہر ہے۔ انسانی حقوق کی بدترین پامالی اس بات کی متقاضی ہے کہ کشمیر میں عالمی امن فوج تعینات کی جائے اور کشمیری عوام کو ان کا حق استصواب رائے دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔چنار ہے لہو لہو، بہار ہے لہو لہو
ہیں ان گنت شہادتیں، پکار ہے لہو لہو@once_says
-

خواتین کا ملک اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار تحریر: سحر عارف
عورت وہ ہستی ہے جو دیکھنے میں تو نرم و نازک ہوتی ہے پر مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ رکھتی ہے پھر چاہے کتنا ہی کٹھن وقت کیوں نا آجائے۔ عورت اللّٰہ کی بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے جو ہر رشتے میں خواہ وہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا بیٹی ہو اپنے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کے لیے قابلِ فخر ہے۔ اسلام سے قبل عودت کو کوئی حیثیت حاصل نا تھی۔ زمانہ جاہلیت میں مرد عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں جب پیدا ہوتی تو انھیں بوجھ سمجھ کر زندہ زمین میں درگور کردیا جاتا۔ عورت کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نا تھا۔ پر اسلام نے عورت کو تمام حقوق دیے۔ عورت کو ماں کا درجہ دے کر ماں کے قدموں میں جنت رکھی، بیوی، بہن اور بیٹی کو بھی ان کے حقوق دیے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں مردوں کی سوچ میں کافی حد تک فرق آچکا ہے۔ جہاں پہلے وہ عورت کو کوئی حق نا دیتے تھے آج وہیں عورتوں کو کافی حد تک آزادی حاصل ہوچکی ہے۔ اب زیادہ تر عورتیں تعلیم بھی حاصل کرتی ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے کی بہتری اور ملک کے ترقی میں بھی اپنا حصّہ ڈالتی ہیں۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کے طرح ہیں جس میں سے اگر ایک بھی خراب ہو جائے تو گاڑی اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ گاڑی کا اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں پہیے صحیح سے کام کریں۔ ٹھیک اسی طرح ملک اور معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مرد اور عورت ایک ساتھ مل کر کام کریں اور اپنے ملک کی خوشحالی میں کردار ادا کریں۔
عورت جہاں گھرداری سمبھالنا جانتی ہے وہیں ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈالنا بھی جانتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عورت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ صحیح سے ترقی نہیں کرسکتا۔ خواتین نے ہمیشہ یہ بات باور کروائی ہے کہ کوئی بھی شعبہ ہو وہ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا نام بنا سکتی ہیں۔ پاکستان کو اللّٰہ نے بےشمار ایسی خواتین سے نوازا ہے جنھوں نے عالم فارم تک اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے۔
زارا نعیم پاکستان کا وہ نام جس نے چند ماہ قبل تعلیمی میدان میں ایسا کارنامہ سرانجام دیا جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام بلند ہوا۔ زارا نعیم نے ایسے حالات میں اے سی سی اے کے امتحان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ نمبر لے کر پاکستانی قوم کو خود پر فخر کرنے کا موقع دیا جب دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے باقی کے طلبہ بےشمار پریشانیوں کا شکار تھے۔
شرمین عبید چنائے وہ خاتون جنھوں نے معاشرے میں موجود ایک ایسے عنصر پہ فلم بنائی جو کہ کئی سالوں سے پاکستان کو جکڑے ہوئے ہے۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر آئے روز عورتوں کا قتل ہوتا ہے۔ شرمین عبید چنائے کی اس فلم پر انھیں آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
بلقیس ایدھی پاکستان کی قابلِ فخر خاتون جنھوں نے اپنے شوہر ایدھی صاحب کے ساتھ مل کر بغیر کسی رنگ و نسل کی تفریق کے بے سہارا لوگوں کی بھرپور خدمت کی۔ بلقیس ایدھی کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
مریم مختار پاکستان کی بیٹی اور بہادر فائٹر پائلٹ جس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے جام شہادت نوش کیا۔ مریم مختار نے اس وقت شہادت حاصل کی جب ان کا طیارہ انجن میں آگ لگنے کی وجہ سے ایک حادثے کا شکار ہوا۔
ثناء میر پاکستان کی نامور خاتون کرکٹر جنھوں نے دنیائے کرکٹ میں اپنا نام اپنی محنت اور صلاحیت سے منوایا۔ ثناء میر نے کرکٹ کی دنیا میں بہت سے عالم ریکارڈ بنائے۔ وہ پاکستان کا فخر اور اپنے جیسی باقی عورتوں کے لیے مثال ہیں جو کہ مستقبل میں کرکٹ کے شعبے سے منسلک ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ان خواتین کے علاوہ اور بھی بہت سی خواتین ہیں جنھوں نے اپنی قابلیت اور جدوجہد سے دنیا کے ہر شعبے خواہ وہ ڈاکٹری کا ہو، انجیرنگ کا ہو، تعلیم کا ہو، فلم انڈسٹری کا ہو یا سیاست کا ہر ایک شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ چل کے اپنے ملک کی ترقی میں اپنے حصے کی شمع جلائی ہے۔ بےشک ایسی خواتین ہمارے ملک کا حقیقی سرمایہ ہیں۔
@SeharSulehri
-

یوم شہادت حضرت عثمانؓ بن عفانؓ تحریر: جہانتاب احمد صدیقی
حضرت عثمانؓ بن عفانؓ کا نام عثمانؓ کنیت ابو عبداللہ اور ابو عمر تھا، آپ کے والد کا نام عفانؓ بن ابی العاصؓ تھا، عثمانؓ بن عفانؓ تعلق شہر مکہ مکرمہ کے قبیلہ قریش کی شاخ بنوامیہ سے تھا
عثمان غنیؓ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں، آپؓ کا شمار آپﷺ کے اصحاب شوریٰ میں بھی ہوتا ہے اور اُمت مسلمہ میں کامل الحیاء والایمان کے الفاظ آپؓ کی ہی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں، آپؓ کا سلسلہ نسب پانچویں پُشت میں عبدِ مناف پر آپ ﷺسےجاملتاہے۔ آپ ؓ خليفہ سوم تھے، آپؓ کی نانی آپﷺ کی سگی پھوپھی اورآپ ﷺْ کے والد حضرت عبداللہؓ کی جڑواں بہن تھیں، اس رشتے سے بھی آپؓ حضرت محمدﷺْکےقریبی رشتے دار تھے
آپؓ چوتھے ایسے شخص تھے جہنوں نے اسلام ،
قبول کیا، آپﷺ عثمان غنیؓ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ آپؓ نبی کریمﷺ کےدوہرے داماد تھے، حضرت مُحَمَّد ﷺ نے آپؓ سے دو بیٹیوں حضرت رقیہ ؓ اور انکے انتقال کے بعد حضرت ام کلثومؓ کی شادی فرمائی اور ذو النورین کا خطاب دیا، اللہ تعالیٰﷻ نےآپؓ کوخوب مال عطافرمایاتھا، اور آپ اللہ عطا کردہ مال میں سےبہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے، اس لئے اللہﷻ کے آخری رسول حضرت مُحَمَّد ﷺ نے آپؓ کو "غنی” کا لقب عطا فرمایا۔آپؓ نے ٢٤ ہجری میں نظام خلافت کو سنبھالا،آپؓ خلیفہ مقرر ہوئے، تو شروع میں عثمان غنیؓ نے ٢٢ لاکھ مربع میل پر حکومت کی، مختلف علاقوں کو فتح کر کے آپؓ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا.
آپؓ کو اللہﷻ نے عظیم صفات سے مُتصف فرما کر صحابہ اکرام ؓ میں ممتاز فرمایا،جو اُن ہی کا حصہ ہے، آپؓ شرم و حیا کا ایسا پیکر تھے، کہ فرشتے بھی آپ ؓسے شرم وحیا کرتے تھے ۔آپؓ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبویﷺ کی توسیع اور قرآن مجید کو یکجا فرمایا۔
اسی طرح مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی بڑی کمی تھی شہر مدینہ منورہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا، جوحضرت عثمان نے ۳۵ ہزار درہم کے عوض یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا جس پر حضرت مُحَمَّد ﷺ نے عثمان کو جنت کی بشارت دی۔
٤٥ ہجری میں باغيوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کرکے آپؓ کا کھانا، پینا بند کردیا گیا، ٤٠ دنوں تک آپؓ اور آپؓ کے اہل خانہ کو بھوکا پیاسا رکھا گیا آپؓ کے ساتھیوں نے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپؓ نے فرمایا کہ میں اپنے نبی حضرت مُحَمَّد ﷺکے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا، عثمان غنیؓ نے تمام مصائب و آلام کے باوجود آپﷺ کی وصیت کے مطابق خلعت خلافت نہیں اتاری
٤٠ دن بھوکے، پیاسے ٨٢ سالہ آپؓ کو جمعہ کے دن ،١٨ ذو الحج ٣٥ ء ہجری کو قران مجید کی تلاوت کےدوران انتہائی درد ناک انداز میں عثمان غنی ؓ شہید کردیا گیا۔شہادت کے وقت آپؓ روزے سے تھے
اس جانکاہ حادثہ میں آپؓ کی زوجہ محترمہ کی اُنگلیاں بھی کٹ گئی تھیں اور تین دن تک عثمان غنیؓ کا جسد مبارک تدفین سے محروم رہا۔ شہید کرنے کے بعد باقیوں نے آپؓ کا گھر بھی لوٹ لیاآپؓ نے اپنی ساری زندگی دین اسلام، محبت رسولﷺ اور مخلوق خدا کی خدمت میں گزاری، آپؓ عبادت، حیاء، تقوی، طہارت، صبر، شکر کے پیکر تھے۔ آپؓ کی زندگی کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں بلکہ عالمِ انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔
آپؓ کی قبر مبارک مسجد نبویﷺ شریف کے پاس جنت البقیع میں ہے۔ اللہ پاکﷻ انکے درجات بلند فرمائے اور انکی قبر پر کروڑ کروڑ رحمتیں نازل فرماٸے۔آمین یار رب العالمین!
@JahantabSiddiqi
-

باغی عورت تحریر: ماہ رخ اعظم
عورت کو اتنا مت تنگ کریں۔کہ وہ بغاوت پر اتر آۓ کیونکہ جب ایک عورت بغاوت پر اتر آتی ہے تو اس باغی عورت میں شرم و حیاء اخلاقیات اور تہذیب کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ،وہ باغی ہوکر ہر شخص کی دھجیاں اڑا کے رکھ دیتی ہے ،اتنی بد لحاظ ہو جاتی ہے، کہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتی چاہے، وہ بڑا ہو یاجھوٹا ہو اور ہر مرد کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے چاہے وہ مرد اس باپ ہی کیوں نا ہو ،باغی عورت اس وقت تک ہی پرامن اور خاموش رہتی ہے جب تک وہ تہذیب میں ہے جیسے ہی باغی عورت تہذیب چھوڑتی ہے تو وہ فتنہ برپا کر دیتی ہے۔
پھر بڑے بڑے لوگ بھی اس سے پناہ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ باغی عورت تمیز تہذیب اخلاقیات سب بھول کر اگلے انسان کی اینٹ سے اینٹی بجا دیتی ہے۔
مرد حضرات توجہ فرماٸیں!! ان کو لگتا ہے کہ باغی عورت ہمارا کیا اکھاڑ سکتی ہے ؟ جب یہ ایک عورت باغی ہوتی ہے اور بغاوت پر اتر آتی ہے تو ہر انسان کا بھی ایمان ڈگمگا کر رکھ دیتی ہے ،باغی عورت کے شر سے بچنا ہے، تو عورت کے ساتھ حسن سلوک کروں، انہیں امن عزت، محنت اور اہمیت دو اسکی راۓ کا احترام کرو ،اسے کبھی مجبور اور تنگ کرنے کی کوشش نہ کرو ،پیار محبّت سے اس سے بےشک جان بھی مانگ لوں ،وہ باغی عورت ہنس کر دے دے گی ،لیکن اگر اس کے ساتھ زور و زبردستی کرنی کی کوشش کروگے، وہ باغی عورت اس وقت آپ کی بات کا مان بھی رکھ لے گی ، لیکن موقع ملتے ہی آپکو دھوکہ دیتے ہوۓ ایک لمحے کو بھی نہیں سوچے گی اور وہ حشر کریں کہ آپ روح تک کانپ جاٸیں گی ۔
اکثر دیکھا گیا ہے، کہ جس عورت کی زبردستی شادی کروائی جاتی ہے ،وہ عورت اس لہحے تو وہ صبر کا گھونٹ پی جاتی ہے، لیکن جس کی زندگی میں وہ عورت جاتی ہے، اسکی زندگی کو دوزخ بنا کر رکھ دیتی ہے ،جب ہمارے اہل خانہ جب بیٹی کی شادی کرتے ہیں تو اس وقت وہ بیٹی کے ساتھ داماد کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے ،کہ ہم اگر اپنی بیٹی کے ساتھ زور و زبردستی کر رہے ہیں تو اس خمیازہ انکے کو داماد بھی بھگتنا پڑیں گا۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ سو میں سے چالیس فیصد ہی عورتیں زبردستی کی شادی کو ایمانداری سے نبھاتی ہیں ورنہ ساٹھ فیصد عورتیں زبردستی کی شادی کے بعد باغی بن جاتی ہے اور مرد کے ساتھ بےوفا ، بے لحاظ بے بد زبان ، مروت ہی ثابت ہوتی ہیں!!
آخر میں بس یہی کہوں گی
رہزن ہے میرا رہبر منصف ہے میرا قاتل
سہہ لوں تو قیامت ہے، کہہ دوں تو بغاوت ہے!!>
-

صرف قیادت نہیں اپنی عادت بھی بدلیں تحریر : راجہ حشام صادق
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب
عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو خستہ حال قوم کو امید لگ گئی کہ اب سب کچھ سیٹ ہوجائے گا۔ہچکولے گھاتی کشتی یا دور بہت دور کہیں بجتی شمع کے پروانے ادھر کو ہی لپکے۔اور تصوراتی امیدوں اور خیالات کا مرکز عمران خان جیسے ہی کرسی پہ بیٹھے گا۔
ادھر بنجر زمین میں سبزہ اگنے لگے گا، دوبٹتی معیشت سنبھل جائے گی، چوری، ڈاکا، رشوت ،مہنگائی وغیرہ سب ختم ہوجائے گی ۔
نوکریوں کی کمی کا مسئلہ ایسے حل ہو جائے گا۔کہ دوسرے دن ہی سب بے روزگاری کام پے ہوں گے۔
عدالت سے مظلوم جیت کر نکلے گے۔ کینہ،بغض،حسد اور وعدہ خلافی ختم ہوجائے گی۔ لوگ مل جل کر رہنے لگیں گے۔تاجر ایماندار اور دکاندار دیانتدار ہوجائے گا۔
ایسے جیسے ہر طرف امن و سکون ہوجائے گا تمام مشکلات ختم ہو جائیں گی۔
مگر پھر ہوا کیا؟مہنگائی بھی ویسی رہی باقی کے حالات بھی ویسے ہی رہے؟
تو جناب اگر قیادت ہی بدلنے سے سب مسائل حل ہونے ہوتے تو کب کے ہو گئے ہوتے۔ اسلئے قیادت کے ساتھ ساتھ عادت بھی بدلیے۔
یاد رکھیں کوئی آسمان سے نہیں اتر گا جو اپنے پیشے سے ایمانداری کرے گا، جھوٹ نہیں بولے گا، وعدہ خلاف نہیں کرئے گا، انصاف قائم کرے گا،لین دین مین کھرا ہوگا، جو دکھائے گا وہی بیچے گا،رشوت نہیں لے گا اور قانون کو اپنے اور دوسرے کے لیے ایک جیسا رہنے دے گا۔
اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے۔اور اچھائی، برائی، نیکی اور بدی کا راستہ دکھا کر بھیجا ہے۔ اب اچھائی کے راستے پر چلتے ہوئے شیطان کی پیروی کرو گے تو کامیاب کیسے ہو گے؟
وہ تو ایسے ہی ہوگا کہ کوئی طلب علم اردو کے پرچے میں انگریزی سبجیکٹ کی تیاری کرکے چلا جائے۔
ہم ہر چیز کو ٹھیک دیکھنا چاہتے ہیں مگر جب خود کو ٹھیک کرنے کی بات آتی ہے تو خرابی بلکل نظر نہیں آتی وہاں یہ کہا جاتا ہے کہ صرف میرے کرنے سے کیا ہوجائے گا۔
میرے عزیز ہم وطنوں صرف قیادت نہیں اپنی عادت بھی بدلیں۔
ہماری قوم کو سوچنا ہوگا اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔ اس وقت اللہ نے ہم کو ایک لیڈر دیا ہے کچھ وہ کر رہا ہے کچھ تم بھی کر کے دیکھ لو۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو
@No1Hasham
-

سحر کی تاریخ اور برصغیر میں آمد تحریر: احسان الحق
سحر کی ابتداء کے متعلق کوئی حتمی معلومات دستیاب نہ ہونے کے مترادف ہیں. سحر کب، کہاں اور کس جگہ سے شروع ہوا مکمل یقین کے ساتھ کچھ کہنا بہت مشکل ہے. مگر زمانہ قدیم میں مختلف قوموں اور تہذیبوں میں سحر اور جادو کا وجود ملتا ہے. آسٹریلیا، یورپ، افریقہ، ایشیا اور قدیم یونانی، رومی اور مصری تہذیبوں میں جادو یا سحر کے متعلق تفصیل کے ساتھ تاریخ موجود ہے. آسٹریلیا کے Aborigines قبیلے میں، امریکہ میں Red Indians لوگوں میں، افریقہ کے Azande and Cewa باشندوں میں، قدیم مصری، یونانی، رومی باشندوں میں سحر کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود رہا ہے.
جادو یا سحر ہر زمانے میں ہر قوم کے لوگوں کے عقیدہ میں رہا ہے. قدیم مصر کے پجاری اسی جادوئی دعوے یا عقیدے کی بنیاد پر عبادت اور مذہب کی بنیاد رکھتے تھے. قدیم بابلی، ویدک اور دیگر روایات میں اپنے دیوتاؤں اور خداؤں کی طاقت کا منبع یا زریعہ جادو کو ہی تصور کیا جاتا تھا. دنیا کے مختلف حصوں کی دریافت شدہ باقیات یا غاروں میں ملنے والی تصاویر، تحاریر اور پتھروں پر تراشیدہ مجسموں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان میں سحر کی تصویر کشی کی گئی ہے مگر یہ محض دعویٰ یا قیاس آرائی بھی ہو سکتا ہے.
سحر کے مظہر یا وجود کے متعلق زیادہ قابل بھروسہ معلومات قدیم مشرق وسطیٰ، یونانی، رومی، نصرانی یورپ اور ان کے ہم عصر تہذیبوں کے بارے میں موجود ہے. مصر اور mesopotamia جس کا زمانہ تقریباً 2300 قبل مسیح ہے کے سحر کے متعلق کافی مواد ملتا ہے جس سے جادوئی منتر، جادوئی قواعد و ضوابط اور ترکیبات کا احساس ہوتا ہے. اس کے بعد دیگر اقوام یا تہذیبوں میں جادو کا ذکر ملتا ہے ان میں انڈمان کے جزائر، کلاہاری سان، جنوب مغربی امریکا کے Navajo، ہمالیہ کے ترائی لوگوں میں بحرالکاہل کے جزائری، بابلی وینیوائی، قدیم مصری، کنعانی، یونانی اور رومی باشندوں میں.برصغیر میں سحر کی ابتداء اور ترویج کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ سحر کی ابتداء ارض فارس سے ہوئی اور یہیں سے یہ علم برصغیر اور عرب دنیا میں پھیلا. قدیم ایران میں مگ نامی ایک قوم آباد تھی جو زرتشت کے پیروکار تھے. سنسکرت زبان میں جادو کو "مای گگ” مطلب مگوں کا علم کہا جاتا ہے. انگریزی میں لفظ magic میجک اسی لفظ سے ماخوذ ہے. یہ قوم ایران سے جب یہ برصغیر میں آئی تو جادو کا علم بھی ساتھ لیکر آئی. یہاں کے باشندوں نے یہ علم سیکھا جس سے وہ لوگوں کو مفتون و مسحور کیا کرتے تھے. برصغیر میں زمانہ قدیم میں ہندوؤں کے نزدیک سحر کو خاص اہمیت اور شہرت حاصل رہی ہے. موجودہ دور میں بھی اس علم کو خاص اہمیت حاصل ہے بلکہ کچھ ہندو اس کو اپنے مذہب کا ایک جزو سمجھتے ہیں. ان کے نزدیک چار یوگوں میں سے "ہٹ یوگ” سحر کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے زبردستی، جبر، ہٹ، ضد اور زبردستی خالق کائنات تک پہنچنا.
انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مطابق لفظ ماگی Magus کی جمع ہے. یہ ایک ایرانی قبیلہ تھا جو مذہبی رسومات کے لئے مختص تھا. اسی سے لاطینی لفظ Magoi ہے اس کی اصل بھی ایرانی ہے. ماگی قبیلے کے لوگ ابتداء سے زرتشت تھے یا نہیں، اس بابت کچھ وثوق سے کہنا مشکل ہے. ماگی ساسانی اور پارسی ادوار میں ایک مذہبی طبقے کے طور پر جانا جاتا تھا. زرتشی مذہبی کتاب اویستا Avesta کا آخری حصہ غالباً اسی سے ماخوذ ہے.
نوٹ: مندرجہ بالا تحریر کو لکھنے کے لئے ان کتب کا مطالعہ کیا گیا
1: جادو کی حقیقت اور اس کا قرانی علاج
2: انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا@mian_ihsaan
-

والدین معاشرتی بگاڑ روکیں تحریر : انجینیئر مدثر حسین
بچے من کے سچے ہوتے ہیں عقل کے بھولے ہوتے ہیں اور زہن کے کچے بھی ہوتے ہیں. بچوں کے معاملات میں بچپن سے ہی احتیاط ضروری ہوتی ہے. کیونکہ جب کوئی انوکھی چیز بچے کے زہن میں اترتی ہے تو اس کے دو اثرات ہوتے ہیں. ایک اسکے زہں میں اس حرکت واقع یا چیز کے بارے کئی نے سوالات جنم لیتے ہیں تو دوسرا اس تحقیقی عمل کو بچہ ہمیشہ کے لیے اپنے زہن میں محفوظ کر لیتا ہے. اسی وجہ سے بچوں کی پرورش میں بچپن کا دور انتہائی معنی رکھتا ہے.
فی زمانہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کا زمہ سکول یا کوچنگ سنٹر پر ڈال کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں جو کہ قطعاً درست نہیں. دوسرا بچوں کو رواج اور فیشن میں انکی پسند پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے. دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے والدین رواج اور فیشن میں بچے کو اچھائی برائی کی پہچان کے بجائے خود اس کے پہناوے اور صحبت کو نظر انداز کرتے ہیں.
حدیث شریف میں حضور اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے.
تو بچے کی قربت رکھنا اور اس کی قربت میں رہنے والوں کی معلومات رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کس سے کس قسم کا اور کس حد تک تعلق اور میل جول ہے.
فیشن انڈسٹری نے پاکستان میں جس رفتار سے پنجے گاڑے ہیں اور جس بے دردی سے موجودہ جوان نسل اور چھوٹے بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کی تیاری میں مصروف ہے آج کل کے ماں باپ اس پر توجہ دینے کی بجائے الزام تراشی اور معاشرے پر اس کا زمہ ٹھراتے اور خود کی زمہ داری سے نظریں چرا رہے ہیں.
بچہ جب چھالیہ یا سپاری کھاتا ہے تو ماں باپ یہ کہ کر ٹال دیتے ہیں چلو ابھی بچہ ہی تو ہے. وہی بچہ عمر کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ جب سگریٹ نوشی تک ترقی پاتا ہے تو والدین کہتے ہیں زمانہ خراب ہے. بھئ زمانہ تو تب بھی ایسا ہی تھا جب اس نے چھالیہ کھایا. تب آپ اگر مطمئن تھے تو اب زمانے کو مت کوسئیے. بچے جب سکولوں میں رقص کرتے والدین شوق سے تصویریں کھنچواتے ہیں. یاد رکھیں یہ وہی تربیت کل اس کو جوانی میں بھی نچواے گی. زمانہ تو اب بھی ویسا ہی ہے تب بھی ایسا ہی ہو گا. زمانہ ایسا بنیا کس نے؟ آپ کی غیر زمہ داری نے.
متوسط طبقہ کے ماں باپ یہ کہکر بچوں کو چست لباس پہنا دیتے کہ آج کل بازار میں ہے ہی یہی کیا کیا جائے. جس بچی کو آپ نے آج سے ہی بنا بازو شرٹ پہنا دی ہے وہ اس کے زہن میں نقش ہو چکی ہے صاحب. کل کو اسے نافرمانی کے طعنے دینے کی بجاے اپنی غلطی پر ندامت کیجئے کیوں کہ یہ سب آپ نے ہی تو سکھایا ہے.یاد رکھیں ایک عادت جو بچپن کی ہوتی ہے وہ کبھی نہیں بدلتی خصوصی طور پر ہر وہ عادت جسے خود فروغ دیا جائے.
فحاشی کا لباس بازاروں میں بکتا رہا. دوکاندار کو منافع خوری سے غرض، مل مالکان کو منافع خوری کی ہوس. کپڑے کا معیار گھٹیا سے گھٹیا کر دیا کی جسم کی رنگت دکھائی دیتی ہے. فیشن کے نام پر آدھا بدن ننگا کر دیا گیا. ایسا منافع دنیا میں بھی بیماریوں میں خرچ ہوتاہے اور آخرت میں بھی زوال کا باعث ہو گا. کیونکہ
اس بارے سخت وعید موجود ہے.
جو شخص چاہے قوم میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے.کل کو یہی نسل جو بچپن سے بے حیائی کا لباس پہنتی آئی ہو گی آج بھی پہنے گی اور اس کی نظر میں اس میں کوئی برائی والی بات نہیں. اس کی مثال حالیہ وزیراعظم عمران خان کے فحاشی کےبیان پر تلملاتے لبرل فسادیوں کی بکواسیات سے لگایا جا سکتا ہے.
خدارا اپنی نسلوں کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر برباد ہونے سے بچائیےوالدین معاشرتی بگاڑ کو روکیں اور اپنی زمہ داری نبھائیں
1. بچوں کی صحبت پر نظر رکھیں.
2. کردار پر نظر رکھیں.
3. لباس پر نظر رکھیں خود سلا لیں لیکن مناسب پہنائیں اور مستقبل کی ندامت اور شرمندگی سے بچیں. تاکہ کل کو آپ کو اپنی اولاد سے لاتعلقی والی بیان بازی نہ کرنی پڑے.
4. اپنے والدین اپنے بہن بھائیوں کا ادب سکھائیں. ان سے تعلق کیسا ہونا چاہیے سکھائیں.
بلوغت میں یہ زمہ داری بھائی کے زمہ بھی آتی ہے کہ ماں باپ کی تربیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرے.
بہنوں کو بھی چاہیے کہ بحیثیت بیٹی باپ کی عزت، بحیثیت بہن بھائی کی غیرت بحیثیت بیوی شوہر کے وقار اور بحیثیت ماں بچوں کے مستقبل کی محافظ رہے.
یاد رکھئیے!
ایک مرد کا سدھرنا ایک فرد کا سدھرنا اور ایک عورت کا سدھرنا ایک نسل کا سدھرنا ہے کیونکہ عورت اپنی نسل کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے.
حضور نبی اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل بروز قیامت عورت اپنے ساتھ چار مرد جہنم میں لے کر جاے گی. باپ بھائی شوہر اور بیٹا کہ مجھے اس نے مجھے گناہ سے نہیں روکا.
فیصلہ آپکا@EngrMuddsairH