Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

    رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

    جہاں اسلام نے رشوت کو گناہ کبیرہ کہا وہاں رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو جہنمی قرار دیا۔
    آج رشوت کا جو بازار گرم ہے اور جو طریقے رائج ہیں انکو دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
    ایک وقت تھا جب رشوت پیسے کی صورت میں یا قیمتی سامان کی صورت پیش کی جاتی تھی لیکن بدقسمتی سے پچھلی چند دہائیوں سے کچھ نئے طریقے آئے جنکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
    اپنے چھوٹے سے عہدے اور فائدے کیلئے طوائفوں کو پیش کیا جانے لگا کچھ تو اس حد کو بھی پار کر گئے اپنی ہی بیوی،بہن اور بیٹی تک کو اس گھناؤنے کام کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔
    اندازہ لگائیں کہ معاشرہ کس قدر گر گیا اور سوچیں کہ اسلام نے آخر یہ کیوں منع کیا تھا اور کیوں اس پہ سخت وعیدیں آئیں کیوں رشوت لینے اور دینے والے کو جہنمی قرار دیا۔
    رشوت سے نا صرف کمزور طبقے،مظلوم اور بےگناہ لوگوں کو نقصان پہنچا بلکہ اس نے تو غیرت اور شرم و حیا کو بھی بیچ بازار فروخت کر دیا۔
    رشوت نے ہماری انسانیت کو ہمارے وقار کو ہماری عزت و آبرو کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔
    ہماری اسلامی تعلیمات کو تقریبا دفن کر دیا۔
    ہمارے معاشرے ہمارے نظام کو تہس نہس کر دیا۔
    ہمارے سکول کے چوکیدار سے لیکر بائیس گریڈ تک کا افسر رشوت دے کر بھرتی ہونے لگا۔
    جہاں ہمارے فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں ہوا کرتے تھے اسلامی قوانین کے مطابق ہوا کرتے تھے وہ اب رشوت کی بہتی گنگا کی نظر ہونے لگے۔
    ہمارا نظام انصاف ہماری خواہشات کے تابع ہو گیا ہمارا نظام عدل پیسے کی ریل پیل کی نظر ہو گیا۔
    ہمارا مظلوم ظالم کے سامنے بے بس ہو کر خودکشیاں کرنے لگا کیونکہ اس کو عدالتیں انصاف دینے میں ناکام ہو گئیں۔
    ہمارا معاشرہ کے پورا نظام رشوت کے زہر نے زہریلہ کر دیا۔
    قاتل رشوت دے کر آزاد ہو گیا مقتول کے ورثا عدالتوں کے چکر لگا لگا کر انصاف سے مایوس ہو کر بے بس ہو گئے۔
    مظلوم مزید کمزور ہوا ظالم رشوت دے کر مزید طاقتور ہو گیا۔
    مظلوم ظالم کی فریاد عدالتوں میں لے جانے سے ڈرنے لگا۔
    گواہ رشوت لیکر سچی گواہی سے مکر گیا۔
    نوکریاں قابلیت کی جگہ رشوت کے ساتھ تلنے لگیں۔
    غریب آدمی محبت کر کے آگے آنے کی کوشش کرتا رہا اور رشوت کی شاٹ کٹ نے کئی نااہل لوگوں کو آگے لا کر کھڑا کر دیا۔
    نظام تعلیم کو رشوت نے متاثر کیا الغرض ہمارے معاشرے کے ہر کام پہ رشوت کا زنگ چڑھ گیا آج ہر کوئی اسی شاٹ کٹ کو استعمال کرتا ہے بجلی کا میٹر لگانا یا اپنا ہی پیسہ نکلوانا ہے بجلی کا بل جمع کروانا ہے یا اس کو ٹھیک کروانا ہے رشوت تو دینی پڑے گی۔
    یہاں تک کہ کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری کسی بھی دفتر میں جائیں رشوت خور ملے گا۔
    لوگ رشوت دیں گے۔
    آخر کب تک اور کیوں؟
    ہمیں اس نظام کو ختم کرنا ہے اش نظام کے کوڑھ مرض سے اپنے معاشرے کو اپنی نسل کو بچانا ہے۔
    اس نظام کے خاتمے کیلئے ہمیں مل کر کوشش کرنی ہے۔
    ہم نے اپنے اوپر لازم و ملزوم کرنا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے رشوت نہیں دینی کسی کے حق پہ ڈاکہ نہیں ڈالنا۔
    ہم نے ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے جو ہمارے معاشرے میں یہ زہر پھیلا رہے ہیں۔
    رشوت سے پاک پاکستان۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • مرد روتے نہیں تحریر:دانش اقبال

    مرد روتے نہیں تحریر:دانش اقبال

    مرد کو اللہ نے ہر لحاظ سے مضبوطی عطأ کی ہے چاہے وہ ذہنی ہو یا جسمانی لیکن بعض اوقات یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ آخر کو مرد بھی ایک انسان ہے دل رکھتا ہے خواب دیکھتا ہے اور خواب پورے نا ہونے پہ درد اور تکلیف سہنے کے مرحلے سے گزرتا ہے لیکن مرد کو رونا منع ہے آہ و بکا کرنا منع ہے دکھ اور تکلیف کا اظہار کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ مرد ہے اور کٸ دفعہ یہ بات سننے کو ملتی کہ مرد بن مرد , مرد روتے نہیں 😊

    مرد کے خواب اصل میں اس کے اپنے لۓ ہوتے ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور ان کے خواب پورے کرنے اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہی ذندگی گزر جاتی ہے
    چھوٹے ہوتے سے اس پریشر میں بڑا ہوتا کہ والدین کی خواہش کے مطابق ڈاکٹر یا انجینٸر بننا ہے اور خوب پیسا کمانا ہے پھر شادی کے لۓ ماں باپ کی خواہش اور خوشی سب سے پہلے سوچنی ہے بہنوں کی شادیاں کرنی ہیں

    شادی کے بعد ذمہ داریوں کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے جب بیوی اور پھر بچوں کی خوشی کی خاطر روزی روٹی کی تگ و دو کرتا ہے اور جب کبھی قدرت کی طرف سے تنگی آجاۓ تو بہت سی باتیں سنتا ہے

    بیوی اور اپنے ماں باپ بہن بھاٸی کے درمیان ایک بیلنس رکھنا بھی ایک دشوار مرحلہ ہوتا ہے جہاں اکثر دونوں طرف سے طرفداری کے الزام لگتے ہیں
    آندھی طوفان دھوپ بارش گرمی سردی یہ سب خود پہ سہتا ہے اور اپنے خاندان کی خواہشیں اور خوشیاں پوری کرتا ہے

    ان سب کے باوجود مرد کو ہمیشہ ظالم کے طور پہ پورٹریٹ کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی پتھر سمجھ لیا جاتا ہے جسے کوٸی تکلیف یا درد نہیں ہوتا
    مجھے یقین ہے کہ اکیلے میں عورت سے ذیادہ مرد روتے ہیں کیونکہ وہ کسی کے سامنے رو نہیں سکتے آخر مرد ہے نا

    یہ سب لکھتے ہوۓ ایک ہی مرد میرے ذہن میں ہے جو میرے آٸیڈل ہیں اور وہ میرے والد صاحب ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کی خوشیوں کے لۓ نا دن دیکھا نا رات بس اپنا آپ مار کے ہمیں دنیا جہان کی سہولتیں دیں جو انہیں نہیں ملی تھی

    عورت اللہ کا ایک تحفہ تو مرد اللہ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی مٹی میں خاندان کی محبت اور ذمہ داریوں کا احساس خوب اچھے سے ملایا گیا ہے

    بیٹا , بھاٸی , باپ اور شوہر , اِن سب رشتوں کو سوچتے ہی اَن گِنت ذمہ داریوں کا سلسلہ ذہن میں آتا ہے جو کہ ذندگی کے ساتھ ہی ختم ہوتا ہے

    @ch_danishh

  • انسان اور اس کی خواہشات  تحریر : اسامہ خان

    انسان اور اس کی خواہشات تحریر : اسامہ خان

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے، انسان ایک خواہشات کا پتلا ہے جو کہ آخری دم تک خواہشات کرتا رہتا ہے، انسان پیدا ہوتا ہے اور اس کی خواہشات کا عمل شروع ہوتا ہے کبھی انسان کو پیسہ چاہیے ہوتے ہیں تو کبھی کار انسان کا بس نہیں چلتا پوری دنیا کو خرید لے لیکن اس کے باوجود بھی اس کی خواہشات نہیں ختم ہو گئی، اس دنیا میں تین طرح کی خواہشات والے لوگ پائے جاتی ہیں پہلے تو وہ جو اللہ کی خدمت اور عبادت میں اپنی زندگی بسر کرتے ہیں تو صرف اللہ کو راضی رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں بے شک وہی مومن ہیں بے شک ہم سب میں سے بہتر وہی ہیں، ایسے لوگوں کی پیدائش پرورش ایسے ماحول میں کی جاتی ہے جہاں ان کو اسلام کا اصل مقصد سکھایا جاتا ہے اور وہ اس پر عمل کرنے اور سروں کو کروانے پر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی خواہش نہیں ہوتی، یہ ہوتے ہیں اللہ والے لوگ جن پر اللہ کا کرم ہوتا ہے، ایسے لوگوں کے پاس پیسے ہو یا نہ ہو ان کو فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی وہ پیسے کی طرف بھاگتے ہیں وہ صرف چاہتے ہیں تو اللہ کی رضا۔ اور دوسری طرف آتے ہیں امیر لوگ جن کے پاس جتنی بھی دولت ہو ان کے لئے کم ہے کیونکہ وہ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے لئے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو بے شک ان کو اس کے لیے کسی غلط طریقے سے بھی کیوں نا پیسے کمانے پڑے ایسے لوگوں کی خواہش بڑھتی جاتی ہے نہ کہ کم ہوتی ہے ان کو صرف اپنے بینک بیلنس سے پیار ہوتا ہے ایسے لوگ شراب زنا کو حرام نہیں سمجھتے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے دوست احباب کو بھی شراب پینے کا مشورہ دیتے ہیں ہمارے معاشرے میں شراب پر پابندی ہونے کے باوجود اس کو بیچا جا رہا ہوتا ہے اور خریدنے والے بھی فخر سے خریدتے ہیں جب ایسے لوگ ایسے حرام کام کرتے ہیں تم ان میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں رہ جاتی وہ اپنے سے نیچے کے لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ جب چاہے اس کو حقیر بنا سکتا ہے ایسی بے تحاشہ مثالیں آپ کو اس دنیا میں مل جائے گی جو کبھی بادشاہ ہوا کرتے تھے ایک وقت کو وہ ایک کھانے کو ترستے تھے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کے سب امیر ایسے ہی ہو آپ کو بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جو اتنے خوش اخلاق ہونگے کے آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکیں گے کہ اللہ پاک نے ان کو اتنا دیا ہوا ہے۔ تیسرے نمبر پر آتے ہیں وہ غریب لوگ جب بمشکل دو یا تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ایسے لوگ نہ تو حرام کام کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی اولاد کو کرنے دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کے پاس پیسہ تو ہوتا نہیں ہے ان کے پاس ان کی صرف عزت ہوتی ہے غریب کا بچہ اپنے والدین سے خواہشات تو ضرور کرتا ہے لیکن اس کے والدین سب خواہشات پوری نہیں کر پاتے کیونکہ ان کے اپنے گھر کا چلہ بہت مشکل سے جلتا ہے ایسے لوگ بے شک اللہ کو بہت پیارے ہیں کیونکہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے تھوڑے پر راضی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ دو وقت کا کھانا کھا بیٹھے ہیں اور باعزت طریقے سے اپنے گھر میں بیٹھے ہیں جہاں یہ کسی کا برا نہیں سوچ سکتے وہی اگر ان کے ساتھ برا ہو تو اللہ کی رضا کے لئے ان کو معاف کر دیتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو خواہشات سے نکل کر زندگی کے اصل مقصد کی طرف لائے اور آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے یہ تینوں قسم کے انسان بے شک ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں اللہ ہم سب کو دنیاوی خواہشات سے دور رکھے اور ہمارے دلوں میں اپنا نور منور کر دے

  • پاکستان کرکٹ ٹیم کا  ٹاس جیت کر اہم فیصلہ

    پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹاس جیت کر اہم فیصلہ

    پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹاس جیت کر اہم فیصلہ

    باغی ٹی وی : پاکستان کرکٹ ٹیم اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ شروع ہو چکا ہے . ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آج برج ٹاؤن کے کینسنگٹن اوول میں چار میچوں کی سیریز کا پہلا میچ کھیلا جارہا ہے۔

    ٹاس کے موقع پر پاکستانی کپتان بابر اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اچھی کرکٹ کھلنے کی کوشش کریں گے۔ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ کے لیے قومی ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئیں، صہیب مقصود، عماد وسیم اور محمد حسنین کی جگہ شرجیل خان، اعظم خان اور محمد وسیم جونیئر کو سکواڈ میں شامل کیا گیا

    پاکستانی سکواڈ:

    کپتان بابر اعظم، محمد رضوان، شرجیل خان، محمد حفیظ، فخر زمان، اعظم خان، شاداب خان، حسن علی، محمد وسیم جونیئر، شاہین شاہ آفریدی اور عثمان قادر

    ویسٹ انڈیز سکواڈ:

    لینڈل سیمنز، لوئس، کرس گیل، شیمرون ہٹمائر، نکولس پوران، آندرے رسل، پولارڈ، ڈیون براوو، ہیڈن والش، عقیل حسین، کوٹریل

  • سلطان صلاح الدین ایوبی اور آجکا مسلمان  تحریر: وسیم اکرم

    سلطان صلاح الدین ایوبی اور آجکا مسلمان تحریر: وسیم اکرم

    بارہویں صدی عیسوی میں ایک سلطان اپنی فوج کے ساتھ ایک میدان میں خیمہ زن تھا۔ اس خیمے کے باہر ایک کم عمر لڑکی کھڑی ہے جو خیمے میں داخل تو ہونا چاہتی ہے لیکن سلطان کے خوف سے اسکا جسم کانپ رہا ہوتا ہے۔ آخر کار اس نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور ڈرتے کانپتے ہوئے خیمے کے اندر داخل ہوگئی۔۔۔

    لڑکی کے سامنے وقت کا سلطان بیٹھا ہوا تھا سلطان نے لڑکی کو مخاطب کیا اور پوچھا تمہارے آنے کا مقصد کیا ہے۔۔؟ لڑکی نے کانپتے ہوئے کہا میں آپ سے ایذاز مانگنے آئی ہوں۔ ایذاز اس شہر کا نام تھا جسے حاصل کرنے کیلئے سلطان نے 38 دن کی لڑائی اور ہزاروں سپائی شہید کروانے کے بعد حاصل کیا تھا یہاں تک کہ اس شہر کی خاطر سلطان نے اپنی جان تک خطرے میں ڈال دی تھی۔۔۔

    لیکن سلطان پھر بھی اس لڑکی کو انکار نہیں کرسکا اور اسے کہا کہ تم مجھ سے ایذاز مانگتی ہو تو یہ تمہارا ہوا اور ساتھ بہت ساری دولت بھی دی اور رخصت کردیا۔ سلطان جانتا تھا اس لڑکی کو اس کے دشمنوں نے بھیجا ہے پھر بھی سلطان نے اسے سب کچھ دے دیا کیونکہ وہ سلطان کے محسن نورالدین زنگی کی بیٹی تھی۔۔۔

    وہی نورالدین زنگی جنہوں نے خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک تک سرنگ کھودنے کی ناپاک کوشش کرنے والے دو یہودیوں کو قتل کردیا تھا۔ اور وہ بیٹی جس شخص سے شہر مانگنے آئی تھی وہ بھی کوئی معمولی شخص نہیں بلکہ صلاح الدین یوسف تھا جسے دنیا سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانتی ہے۔۔۔

    صلاح الدین ایوبی اتنے رحمدل اور سخی تھے کہ مصر کے گورنر بنتے ہی قاہرہ کا سارہ خزانہ غریبوں میں تقسیم کردیا اور اپنے لیئے ایک سکہ بھی نہیں رکھا۔ صلاح الدین ایوبی شاید مصر کے گورنر کی حیثیت سے ہی اپنی زندگی گزار دیتے لیکن نورالدین زنگی کے انتقال کے انکی زندگی بدل کے رکھ دی۔ نورالدین زنگی کا بیٹا ابھی چھوٹا تھا اور محل میں موجود درباریوں نے سازشوں کے ذریعے زنگی سلطنت کو تقسیم کردیا۔۔۔

    جب صلاح الدین ایوبی نے یہ سب دیکھا تو انہوں نے مصر کو ایک الگ سلطنت میں تبدیل کردیا اور خود اس کے سلطان بن کر زنگی سلطنت میں موجود سازشیوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے شام پر حملہ کردیا۔ بہت جلد سلطان نے دمشق فتح کردیا اور مصر سے لے کر شام تک ایک بڑے علاقے کے سلطان بن گئے۔۔۔

    اب سلطان صلاح الدین ایوبی کیلئے بڑا چیلنج فلسطین کی صلیبی سلطنت تھی۔ صلیبوں نے 1099 میں بیت المقدس پر قبضہ کرلیا تھا۔ صلیبی بار بار صلاح الدین ایوبی سے صلح کے معاہدے کرتے اور توڑ دیتے تھے آخر کار سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1177 میں بہت بڑی فوج اکٹھی کی اور فلسطین پر حملہ کردیا۔۔۔

    اس حملے کے دوران بہت سی مشکلات پیش آئیں اور کہیں بار سلطان کو پیچھے بھی ہٹنا پڑا لیکن آخر کار صلیبوں کو شکست نظر آنے لگی اور انہیں لگا کہ مسلمان تو ہمارے بیوی بچوں کو اپنا غلام بنا لیں گے تو انہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے رحم کی بھیگ مانگنی شروع کردی۔۔۔

    سلطان تو سنت محمد صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنے والے تھے کیسے معاف نہ کرتے لہذا سلطان صلاح الدین ایوبی نے سب کو معاف کردیا اور یوں اکتوبر 1187 میں بیت المقدس پر سلطان صلاح الدین ایوبی کا مکمل کنٹرول ہوگیا۔۔۔

    سلطان فتح بیت المقدس کے بعد بھی 3 سال تک برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے جنگ لڑتے رہے اور بیت المقدس کا دفاع کرتے رہے اور پھر صلیبوں نے اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے صلح کرلی۔ صلح کے بعد سلطان واپس اپنے وطن دمشق پہنچ گئے لیکن ان کے دن میں ایک خلش تھی کہ وہ کبھی حج نہ کرسکے۔۔۔

    دمشق واپس آئے تو اس بار بھی حج گزر چکا تھا لیکن جب سلطان کو پتہ چلا کہ کچھ حاجی واپس آرہے تو سلطان ان سے ملنے نکل پڑے اور ہر حاجی سے گلے لگ لگ کر رونے لگے۔ حاجیوں سے ملاقات کے بعد واپسی پر سلطان صلاح الدین ایوبی کو سخت بخار نے گیر لیا اور یوں مارچ 1193 کی صبح سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔۔۔

    @Waseemakrm_

  • لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے  تحریر :  مریم صدیقہ

    لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے تحریر : مریم صدیقہ

    لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے
    لاہور دنیا کے مشہور شہروں میں سے ایک ہے جو سیاحوں کے مطابق کوئی شہر نہیں بلکہ عادت یا نشہ ہے۔ یہ ،مشہور قول تو سنا ہی ہوگا کہ جن نے لاہور نہیں ویکھیا او جمیا ہی نہیں۔ کراچی کے بعد ملک کا دوسرا بڑا شہر لاہور جو کہ صوبہ پنجاب کا دارالحکومت بھی ہے ۔ یہ پاکستان کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہےجو کہ پاکستان کے سب سے زیادہ سماجی طور پر لبرل ، ترقی پسند اور کسمپولیٹن شہروں میں گنا جاتا ہے ، اسی طرح پنجاب کے بڑے صوبے میں یہ تاریخی ثقافتی مرکز ہے۔
    پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کی کوششوں میں لاہور کا بہت اہم قلیدی کردار رہا ہے کیوں کہ یہ شہر ہندوستان کے اعلان آزادی کے مقام کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہاں ہی قیام پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی تھی۔ دہائیوں تک لاہور نے پاکستان کی آزادی کے لیے کئی فسادات دیکھے۔ 1947 میں تحریک پاکستان کی فتح ہوئی اور اس کی بلآخر آزادی کے بعد لاہور کو صوبہ پنجاب کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔
    پاکستان بھر میں لاہور کی ثقافتی اہمیت ہے۔ یہ پاکستان میں اشاعت کا ایک اہم مرکز اور ادبی زندگی میں اس کا بہت قلیدی کردار ہے۔ شہر کے اندر متعدد مشہور تعلیمی اداروں کی موجودگی اسے پاکستان میں تعلیم کا ایک اہم مرکز بناتے ہیں۔ اس شہر میں سیاحوں کے لیے بہت سے پرکشش مقامات ہیں جیسے والڈ سٹی ، بادشاہی مسجداور وزیر خان جیسی مشہور مساجد اور مختلف صوفی کے مزارات بھی موجود ہیں، لاہور قلعہ اور شالیمار گارڈن بھیی یہاں واقع ہے جو سیاحت کو مزید فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔
    جدید شہر لاہور کا بہترین نظارہ اس کے شمالی حصےوالڈ سٹی میں واقع ہے جہاں دنیا کی معتدد اشیاء اور قومی اثاثے موجود ہیں۔لاہور کی شہری منصوبہ بندی نہ صرف ہندسی ڈیزائن پر بنی تھی ، بلکہ قریبی عمارتوں کے تناظر میں بنی ہوئی ایک بکھرے ڈھانچے پر بھی مبنی تھی ، جس میں چھوٹی چھوٹی کل-ڈی-ساکس اور سڑکیں تھیں۔ اگرچہ کچھ علاقوں کا نام مخصوص مذہبی یا نسلی گروہوں کے نام پر رکھا گیا تھا ، لیکن یہ علاقے خوداس سے اکثر مختلف ہوتے تھے اس لیے ناموں سے ان پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
    قدیم والڈ سٹی تیرہ دروازوں سے گھرا ہوا ہے۔ روشنایی ، مستی ، یکی ، کشمیری اور کزری ، شاہ برج ، اکبری اور لاہوری ان میں سے چند دروازے ہیں جو اب بھی قائم ہیں۔ عظیم برطانوی دور کا لاہور،والڈسٹی کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ والڈ لاہور دنیا کے قدیم شہروں میں سے ایک ہے اور اس میں بہت ساری کشش ہے۔ فورٹ لاہور مغلوں اور بعد میں سکھوں نے اپنے شاہی طریقوں کے ذریعہ سے ایک وسیع عمارت کی صورت میں تعمیر کیا۔ بادشاہی مسجد ، جو ایک عرصے تک کرہ ارض کی سب سے بڑی مسجد تھی ، مغل بادشاہ اورنگ زیب نے بنائی تھی۔
    لاہورکا پاکستان کےسیاحوں کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز بدستور قائم ہے۔ 2014 میں تجدید شدہ یہ شہر، لاہور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس کے لئے مشہور ہے۔ والڈ سٹی کے قریب لاہور کے کچھ مشہور قلعے ہیں جن میں شیش محل ، عالمگری گیٹ ، نولہ پویلین اور موتی مسجد شامل ہیں۔ 1981 کے بعد سے ، یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی سائٹ پر درج کیا گیا ، جیسا کہ قلعہ اور اس کے پڑوسی شالیمار باغات ہیں۔ اندرون شہر ،مندروں اور محلوں سے بھر پور ہے ، ان میں سب سے قابل ذکر آصف جاہ حویلی (حال ہی میں تجدید شدہ) ہے ۔یہاں پر کئی پرانے یادگاریں موجود ہیں ، جن میں مشہور ہندو مندر ، کرشنا مندر اور والمیکی مندر شامل ہیں۔ سمدھی رنجیت سنگھ بھی اس کے آس پاس ہی ہے جہاں سکھ بادشاہ مہاراجہ رنجیت سنگھ دفن ہیں۔1673 میں تعمیر ہونے والی بادشاہی مسجد دنیا کی مشہور عمارت ہے اور اس وقت یہ دنیا کی سب بڑی مسجد کے طور پہ بنائی گئی تھی۔ 1635 میں بنائی جانے والی وزیر خان مسجد اپنی بڑی بڑی ٹائلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ مینار پاکستان، قلعے اور بادشاہی مسجد کے بالکل بالمقابل واقع ہے۔ یہ ایک خاص مسلم ریاست (پاکستان) کے قیام کی 1940 میں منظوری کے مقام پر بنایا گیا تھا۔
    اب لاہوری کھانوں کی طرف چلتے ہیں اور اس بات سے انکار کرناممکن ہی نہیں کہ لاہور اور اس میں رہنے والے اپنے کھانے کی وجہ سے پاکستان کی ثقافت میں ایک اہم مقام رکھتےہیں۔ لاہور ایک ایسا شہر ہے جس میں ایک معتبر گیسٹرنومی روایت ہے۔ یہاں گیسٹرونک کے بہت سے مواقع فراہم کیے جاتےہیں۔ حال ہی میں ، اس طرح کا کھانا آسانی سے ہضم اور ہلکے ذائقہ کی وجہ سے دوسرے ممالک میں ، خاص طور پر پاکستانی ڈا ئسپورہ میں خاصے مشہور ہوچکے ہیں۔ لاہور کی کافی ڈشز میں مقامی پنجابی اور مغلائی ڈشز کا عنصر دیکھنے کو ملتا ہے۔ چینی ، مغربی اور بین الاقوامی کھانوں کے علاوہ روایتی مقامی کھانے شہر بھر میں مشہور ہے اور علاقائی ترکیبوں کے ساتھ مل کر ایسے بہترین ذائقوں کو تیار کیا جاتا ہے جس کو پاکستانی چینی کھانے بھی کہا جاتا ہے۔

    @MS_14_1

  • آئی سی سی کی نئی رینکنگ ، بابر اعظم کو حکمرانی بدستور جاری

    آئی سی سی کی نئی رینکنگ ، بابر اعظم کو حکمرانی بدستور جاری

    آئی سی سی کی نئی رینکنگ ، بابر اعظم کو حکمرانی بدستور جاری

    باغی ٹی وی : ، بابراعظم کی حکمرانی بدستور برقرار.آئی سی سی نے ون ڈے کی نئی رینکنگ جاری کر دی ہے

    انٹر نیشنل کرکٹ کونسل ن اپنی نئی رینکنگ جاری کر دی ہے .تازہ ترین رینکنگ کے مطابق ویرات کوہلی دوسری جبکہ روہت شرما تیسری پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔ چوتھی پوزیشن پر نیوزی لینڈ کی روز ٹیلر، پانچویں پر ارون فنچ، چھٹی پر جونی بریسٹو، ساتویں پر آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر، آٹھویں پر کوانٹن ڈی کک، نویں پر شائی ہوپ اور دسویں پوزیشن پر نیوزی لینڈ کے کین ولیم سن ہیں ۔

    گیند بازوں میں‌ کسی بھی پاکستانی باؤلر کا اوپر کے دس کھلاڑیوں میں نام نہیں ہے . باؤلنگ کے شعبے میں کوئی پاکستانی کھلاڑی ٹاپ 10میں شامل نہیں۔

    نیوزی لینڈ کی ٹرینٹ بولٹ پہلے، جوش ہیزل ووڈ دوسرے، مجیب الرحمان تیسرے، کرس ووکس چوتھے، مہدی الحسن پانچویں، میٹ ہنری چھٹے، جسپریت بمراہ ساتویں، مچل سٹارک آٹھویں، شکیب الحسن نویں اور کگیسو ربادا دسویں نمبر پر ہیں۔ شاہین شاہ آفریدی 13ہویں نمبر پر ہیں۔ٹاپ ٹین بولرز میں پاکستان کا کوئی بولر شامل نہیں، پاکستان کے بولرشاہین آفریدی 13 ویں نمبر پر موجود ہیں۔

  • پیار کرنا سیکھو۔  تحریر: نبیل آمین

    پیار کرنا سیکھو۔ تحریر: نبیل آمین

    ایک بار کی بات ہے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا اس کے گھر کے قریب ایک پہاڑ تھا جہاں پر وہ روز صبح جاتا اس پہاڑ پر وہ تھوڑی دیر کے لئے بیٹھتا پھر واپس آ جاتا تو روز کی طرح وہ صبح صبح جا رہا تھا پیچھے سے اس کا چھوٹا سا بیٹا آیا اس نے آ کرکے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کے آج میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا اس نے پہلے تو اسے تھوڑا سمجھایا اور منع کیا کہا کہ جو راستہ ہے وہ تھوڑا چھوٹا ہے اور چڑھائی بہت زیادہ ہے تو تم میرے ساتھ نہیں چل پاؤ گے لیکن پھر جب اس بیٹے نے زد کری تو باپ مان گیا تو دونوں پہاڑ پر چڑھنے لگے باپ نے بیٹے کا ہاتھ قس کے پکڑا ہوا تھا لیفٹ سائیڈ میں پہاڑ تھے اور رائٹ سائیڈ میں کھائی تھی اور راستہ بہت ہی چھوٹا تھا اور وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے والے تھے تب ہی راستے میں ایک بڑا سا پتھر آیا کیونکہ باپ اس راستے پر روز آتا تھا تو اس کو پتہ تھا کہ وہاں پر پتھر ہے تو وہ سائیڈ سے نکل گیا لیکن جو بیٹا تھا اس کا دھیان کہیں اور تھا تو اس کا گھٹنا جا کے بڑے سے پتھر میں ٹکرا گیاتو پھر اس بچے کے منہ سے ایک چیخ نکلی آہ جیسے ہی وہ چیخا اس کی آواز ان پہاڑوں میں گونجنے لگی اس سے پہلے اس بچے نے کبھی بھی اپنی آواز کی گونج کبھی نہیں سنی تھی تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے وہ اندر سے تھوڑا سا گھبرا گیا تو اسے لگا کے شاید کہیں کوئی ہے جو اسے چھپ کر دیکھ رہا ہے اور اس کا مذاق اڑا رہا ہے پھر اس بچے نے بولا کون ہو تم تو جب اس بچے نے اس گونج کو سنا تو اسے غصہ آگیا اس کو لگا کہ کون ہے یہ جو میرا مذاق اڑائے چلے جا رہا ہے پھر اس نے غصے سے کہا میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں اور پھر جیسے ہی اس نے اس گونج کو سنا تو وہ گھبرا گیا اس کا باپ سمجھ گیا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور اس نے اپنے باپ کا ہاتھ قس کے پکڑ لیا اور ان سے پوچھا کہ کون ہے یہ جو مجھے اتنا تنگ کر رہا ہے کون ہے یہ جو مجھے اتنا ڈرا رہا ہے تو اس کا باپ تھوڑا سا مسکرایا اور انہوں نے کھائی کی طرف دیکھا اور زور سے بولا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں یہ سن کر وہ بچہ حیران ہوگیا اسے سمجھ نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے کہ وہی انسان جو اس کا مذاق اڑا رہا ہے اس کو تنگ کر رہا ہے وہ اس کے باپ کو بول رہا ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں تو اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو دیکھا اور وہ سمجھ گئے کہ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے اور پھر دوبارہ انہوں نے بولا تم بہت اچھے ہو اور یہ سن کر ان کا بیٹا بھی تھوڑا سا مسکرایا اور یہ پوچھا اپنے باپ سے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور پھر اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو سمجھایا یہ جو آواز تم سن رہے ہو نہ یہ کسی اور کی نہیں ہے یہ تمہاری ہی آواز ہے جو کہ پہاڑوں میں گونج رہی ہے اور تمہیں اپنی ہی آواز سنائی دے رہی ہے جیسا تم بولتے ہو ٹھیک ویسا ہی تمہیں سنائی دیتا ہے اگر تم غصے سے کچھ کہو گے تو پلٹ کر کہ جو آواز آئے گی اس میں بھی غصہ ہوگا لیکن اگر تم کچھ اچھا کہو گے تو آواز بھی اچھی ہوگی بلکل اسی طرح سے ہماری زندگی میں بھی ہوتا ہے جیسا تم اپنے دل میں اس زندگی کے بارے میں سوچتے ہو یہ زندگی تمہارے لئے بلکل ویسے ہی ہو جاتی ہے اگر تم دل ہی دل میں اپنے آپ کو یہ بولتے رہو گے کہ میری زندگی تو بہت بری ہے تو تمہاری زندگی سچ میں بری ہو جائے گی اور اگر تم اپنی زندگی سے پیار کرو گے تو تمہاری زندگی بھی تم سے پیار کرے گی یہ بات اس بچے کے دماغ میں گھر کر گئی اور پھر وہ دونوں اس پہاڑی کی چوٹی پر گئے لیکن بچے کے دماغ میں یہی بات گھوم رہی تھی اور پھر وہ بچہ کھلکھلا کے ہنسا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ کھولے اور اپنی پوری طاقت سے بولا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں
    جزاک اللہ ! خوش رہیں اور خوش رکھیں ، تحریر محمد بخش
    Twitter user name @Im_NabeelAmeen

  • سندھ کا فرسودہ تعلیمی نظام  تحریر: ام سلمیٰ

    سندھ کا فرسودہ تعلیمی نظام تحریر: ام سلمیٰ

    ہزاروں کی تعداد میں موجود سندھ کے سرکاری اسکول جن کا کوئی پرسان حال نہں ، سندھ کے سرکاری اسکو لوں کی کر کردگی مایوس کن نظر آتی ہے ، جس کی ایک اہم وجہ تدریسی عملے کی عدم موجودگی بھی ہے اور اساتذہ کا تعليمی معیار بھی جدید دور کے مطابق نہں ہے.

    تعلیم کسی بھی فرد کے معاشرے کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے اور ایک اچھے معاشرے کا سبب بھی تعلیم کا معیار ہے ۔ کئی دہائیوں سے اگرچہ بنیادی طور پر سندھ میں تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور بوسیدہ سرکاری اداروں کی وجہ سے سندھ کا نظام تعلیم ایک مایوس کن حالت سے گزر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی 1970 کی دہائی سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے ، لیکن انہوں نے صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے کئی سالوں سے کوئی خاص توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں نظام تعلیم کی بہتری میں بہت رکاوٹیں ہیں.

    ہزاروں کی تعداد سندھ کے سرکاری اسکول ایک مایوس کن کر گردگی دیکھا تے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے والدین بچوں کو پرائیویٹ اسکول بھیجنے پے مجبور ہوجاتے ہیں ، زیادہ تر اسکول جس میں تدریسی عملے کی عدم دستیابی اور بیت الخلا کی عدم دستیابی ، پینے کے پانی کا نہ ہونا اور بجلی جیسی مناسب بنیادی سہولیات کا فقدان ہونا ہے ، اور کھیل کے میدانوں یا لیبارٹریوں کی تو بات ہی نہ کریں کیوں کے وہ تو بلکل میسر نہں سرکاری اسکول میں جب کے اسکول بُنیادی درس گاہ ہے بچوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے.

    سندھ میں تقریبا لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا تناسب لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سندھ کے قبائلی اور دیہی علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے میں صنفی فرق انتہائی واضح ہے۔ تاہم ہر سال اربوں روپے تعلیم کے شعبے کے لئے مختص کیے جاتے ہیں ، لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں استعمال ہوتا ہے۔

    مزید یہ کہ پرائیویٹ اسکول مافیا ہر سال اربوں روپے پیدا کررہا ہے لیکن بچوں کے لئے معیاری تعلیم اور مناسب تعلیمی ماحول مہیا نہیں کررہا ہے۔ سندھ میں نجی اسکولوں کی بہت ساری عمارتیں 600 سے 700 فٹ سے زیادہ کی جگہوں پر واقع ہیں ، جہاں بچوں کے پاس کھیلوں کے میدان اور لیبارٹری نہیں ہیں۔جو کے بچوں کی بُنیادی ضرورت ہے.

    نظام تعلیم میں بہتری لانے کے لئے ، حکومت سندھ نے اسکول کے عملے کی موجودگی کی جانچ پڑتال کے لئے بائیو میٹرک تصدیقی نظام متعارف کرایا لیکن ہر کام توجہ مانگتا ہے نظام لگانا اور پھر اس کی مسلسل جانچ پڑتال کرتے رہنا کسی بھی کام میں بہتری لانے کا صحیح طریقہ ہے ،سندھ سرکار اس میں ناکام رہی۔ نظام کو چلانے کے لئے ، مانیٹرنگ آفیسرز کو بڑی تنخواہوں پر مقرر کیا گیا، حالانکہ ان کی ذمہ داری صرف اساتذہ کی دستیابی کی تصدیق تک محدود ہے اور سب مانیٹرنگ افسران کو صورتحال کی اطلاع دینا لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نظر نہں آتا انتظامی سطح پر ، کوئی بھی خالی عہدوں ، غیر معیاری تدریسی طریقہ کار اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو خراب کرنے جیسے مسائلِ پر توجہ نہں دیتا اور نہ ہی ان مسائل کو ختم کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کرتا ہے۔ در حقیقت ، بایومیٹرک سسٹم کو شامل کرنے سے تعلیم کے معیار میں بہتری نہیں آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ، ہزاروں اساتذہ استعفی دے چکے ہیں۔ اور ان کی جگہ کوئی نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں ، اسکول بند کردیئے گئے ہیں۔ان مسائل کا فوری حل نہں نکالا گیا جس کی وجہ سے اسکول میں تدریسی عملہ نہ ہونے کے برابر ہے.

    اس کے علاوہ ، سرکاری اسکولوں کے ناقص معیار کی وجہ سے ، والدین جو کے خود بھی انہی اسکول کے عملے سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ سرکاری اسکول اساتذہ بھی شامل ہیں انہوں نے اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرایا ہے۔

    اس کے علاوہ ، سرکاری اسکولوں میں اوسطا ایک کلاس روم میں 200 طلبہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں معیاری تعلیم کیسے دی جاسکتی ہے؟ وفاقی تعلیم کا اصول صرف 25 طلباء فی استاد ہیں۔ اس کے علاوہ کلاس رومز اور اساتذہ کی بھی کمی ہے۔ بہت سارے اسکولوں میں ، ایک ہی استاد مختلف گریڈ میں طلبا کی دیکھ بھال کرتا ہے اور سات سے آٹھ مضامین پڑھاتا ہے۔ تعلیم کے معیار کو متاثر کرنے والی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اسکول مینجمنٹ کمیٹیاں دیانتداری و احساس کے ساتھ اپنے کردار اور ذمہ داریوں کو نہں نبھاتی ہیں۔

    سندھ میں نظام تعلیم کو ٹھیک کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کی طویل مدت انتھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کو تعلیمی اصلاحات کو ترجیح بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ایک یکساں نظام تعلیم ہو۔ ضلعی اور صوبائی سطح پر محکمہ تعلیم مضبوط بنانا ہوگا۔ اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو اسکول اور والدین فاصلے کو ختم کرنے پر توجہ دینی ہوگی اور اسکول کے فنڈز کو دیانتداری سے استعمال کرنا ہوگا تاکہ بچوں کی اسکول میں جو بنیادی ضرورت کی کمی ہے اس کو ان فنڈز کے صحیح استعمال سے میسر کیا جا سکے۔ بدعنوانی کیلئے صفر رواداری ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں سے اقربا پروری کا بھی خاتمہ کیا جانا چاہئے اور تعلیم کے شعبے میں سیاسی مداخلت کو بھی روکا جانا چاہئے۔

    سب سے بڑھ کر اساتذہ کی کے تعلیمی معیار پر توجہ دینی ہوگی اِنکی صلاحیتوں کو بڑھانا اور مناسب تربیت دے کر تدریسی طریقہ کار کو بہتر بنانا ہوگا تبھی سندھ کے تعلیمی نظام میں جنگی بنیادوں پر بہتری آسکے گی.

    @umesalma_

  • تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک پاکستان کاقیام 2017میں وجود میں آیا۔ اس تحریک کےقیام کےپیچھےجو وجہ کارفرما تھی وہ ممتاز قادری کی گرفتاری اور سزاۓموت تھی۔ حافظ خادم حسین رضوی نے ممتاز قادری کی رہاٸی کیلیے مذہبی تحریک لبیک یارسول ﷺ کی بنیاد رکھی۔ 2017میں ختم نبوت ﷺکےقانون میں تبدیلی کیخلاف فیض آباد میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺنےدھرنادیا جسےتاریخ کامیاب دھرناماناجاتاہے۔ اس دھرنےکےبعد اس تحریک کےسیاسی ونگ کےقیام کی ضرورت محسوس کی گٸ اور تحریک لبیک پاکستان کوالیکشن کمیشن میں رجسٹر کروایاگیااور کرین کانشان الاٹ کیاگیا۔ TLPنے2018کےانتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی اور ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن کرابھری۔ اسکی شاندار کامیابی سے سب چونک اٹھے۔ اور بڑےبڑے مگرمچھ جو گزشتہ 73سالوں سےپاکستان کو نسل در نسل لوٹتےآرہےہیں انہیں اپنی طاقت خطرےمیں پڑتی نظر آٸی ۔غریب جوکٸ سالوں سے معاشی استحصال کاشکارہیں انکو کوٸی آپشن نہیں مل رہاتھا کیونکہ تمام قومی سطح کی سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی نماٸندگی کرتی ہیں۔ تحریک لبیک کی بڑھتی ہوٸی مقبولیت سےبڑے بڑے دیاسی برج اور سرمایہ دار خوفزدہ ہیں۔آخر وہ کیاوجہ ہے جس کی وجہ سے بیورو کریسی سےلیکر تاجرمافیا تک اور کرپٹ سیاستدانوں سےلیکر بڑےبڑے میڈیا ہاٶسسز TLP سےخوفزدہ ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ TLPمتوسط اور غریب طبقےکی جماعت ہے جبکہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں ٗ میڈیا ٗ بیوروکریسی ٗ سرمایہ دار ٗ بڑےبڑے عیش پرست گدی نشین سب اشرافیہ کی نماٸندگی کرتےہیں۔ اور پوری دنیاجانتی ہےکہ یہ اشرافیہ کس طرح پاکستان کےغریب اورمتوسط طبقےکاکٸ سالوں سےاستحصال کررہےہیں۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ تحریک لبیک بمقابلہ دیگر سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ غریب بمقابلہ اشرافیہ کی جنگ ہے۔ اور اس جنگ میں وقتی طور پراشرافیہ جیتتی ہوٸی نظر آرہی ہےکیونکہ یہ پورےسسٹم پر قابض ہے۔مگر یہ ایک لاوا ہے جو پھٹنےوالاہے اور یہ لاوا تمام اشرافیہ اور سرمایہ داروں کو بہاکر لےجاۓگا۔کیونکہ اب غریب کو تحریک لبیک کی شکل میں ایک پلیٹ فارم مل چکاہے۔جلد یا بدیر غریب اور متوسط طبقےسے تعلق رکھنےوالٕےپاکستانیوں کو اس اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا ملنےوالاہے۔

    @waqasRizviJutt