Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میری باتیں تحریر: سمیرا راجپوت

    میری باتیں تحریر: سمیرا راجپوت

    یہ بات تو سب نے ہی سنی ہوگی کہ جس کے پاس جو ہوگا وہ اپنے معیار کے مطابق اپکو وہی دے گا ۔۔۔یہ بات بلکل درست ہے اور میں اس پر یقین بھی رکھتی ہوں کیونکہ تجربات ہی کچھ ایسے ہیں ۔۔
    ہم زندگی میں ہر کسی چیز کا گلا کر رہے ہوتے ہیں لوگوں کے برے رویوں کا، لوگوں کے دہرے معیار کا، اور ہر قسم کی بد عنوانی کا مگر ہم سوائے خود کے دوسروں کو جج کرنے پر ترجیح دیتے ہیں مگر ایسا کرنا نا تو ہمارے لیے ٹھیک ہے اور نا ہی معاشرے کے لیے جو کام ہم اپنے لیے منتخب کرتے ہیں پھر کسی دوسرے کو اسی کام پر غلط ٹہرایا جانا ایک جہالت ہے اسی طرح بہت سے لوگ دین کے بارے میں دوسرے لوگوں کو تلقین کرتے دیکھائی دیتے ہیں مگر خود کا عمل نا ہونے کے برابر ہوتا ہے اس وجہ سے پھر وہ تنقید کا نشانہ بنتے ہیں ہمیں دوسروں کی جو باتیں نا پسند ہیں پہلے ہمیں خود کے اندر سے انہیں ختم کرنا ہوگا اسکے بعد ہم معاشرے کو سنوار سکتے ہیں ۔۔۔

    ہمیشہ خوش رہنا سیکھ لیں کیونکہ آپ کے اداس رہنے سے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر لوگوں کے درمیان خوشیاں بانٹنے سے انکے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے سے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔۔

    زندگی کا ایک اصول اپنا لیں کہ کبھی کسی کا برا نا چاہے اور نا ہی برا سوچیں یقین کریں اس پاک پروردگار کی ذات اپکو اس قدر نوازیں گی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے انسانیت کا بھلا چاہنا ایک ایسی نیکی ہے جس کا اجر آپ کو دنیا میں ہی مل جائے گا ۔ بلکل اسی طرح خاموشی بھی انسان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اور ایک خاموشی ہی تو ہوتی ہے جسکا کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ورنہ اس جہاں میں تو ہر الفاظ کے سو مطلب نکلتے ہیں خاموش رہنے سے آپ کئی غلطیوں سے بچ سکتے ہیں کیونکہ الفاظوں کا منہ سے نکلنا ایسا ہے جیسے گویا کمان سے تیر کا نکلنا جیسے کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں جاتا ،جیسے گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا اسی طرح منہ سے نکلی ہوئی بات کبھی واپس نہیں جاسکتی اگر کبھی ہمارے منہ سے برے الفاظ ادا ہوئے ہوں تو اسکے سنگین نتائج آپکی زندگی میں مرکب ہوتے رہتے ہیں پھر کئی مشکلات کا سامنہ ہوتا ہے ۔۔

    اچھی کتابی باتیں صرف کتاب تک نا رکھیں اسے عملی طور پر اپنی زندگی میں شامل کر کے دیکھیے زندگی کتنی حسین ،خوش و خرم نظر آئے گی میرا ایک تجربہ ہے اگر انسان درگزر کرنا سیکھ لے وہ بہت بڑا فائٹر بن جاتا ہر طرح کے حالات کا سامنہ کرنے والا بہادر فائٹر

    مخلصی اپنائے مگر ایک حد تک حد سے زیادہ مخلصی بھی آپکی دشمن بن سکتی ہے مخلصی ایک کوالٹی سے ایک کمزروی بننے میں وقت نہیں لگاتی لہذا اپنے آپ کو پہچانیے اور اپنی زندگی اور لوگوں سے محبت کیجے ۔۔

    شکریہ

  • گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست  تحریر: سید لعل حسین بُخاری

    گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست تحریر: سید لعل حسین بُخاری

    پاکستانی سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے لئے مشہور ہے۔حالانکہ یہ دنیا کے کچھ اور ممالک میں بھی ہوتا ہے۔مگر جس طرح کی بے اصولی اور مفادات ہماری سیاست میں نظر آتے ہیں۔وہ شائد ہی کہیں اور ہوں۔
    ان بے اصولیوں کا تاریخی مظاہرہ کرنے والی ،دہائیوں سے ایک دوسرے کی حریف سمجھی جانے والی ن لیگ اور پیپلز پارٹی سر فہرست ہیں۔
    وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ یہ اندر سے ایک ہیں،انہوں نے لوٹ مار کے لئے باریاں مقرر کر رکھی تھیں۔
    مل بانٹ کے کھانا ان کی سیاست کا بنیادی اصول تھا۔
    ایک دوسرے کو غدار کہا گیا،
    ایک دوسرے کی خواتین کی عزتوں کو سر بازار رسوا کیا گیا۔
    مگر جب اپنے مفادات کو بچانے کی نوبت آئ تو ایک دوسرے کے حق میں نعرے بلند کر دئیے گئے۔مزاروں پر جا کر سجدہ ریز ہو کر منافقت کو شرمندہ کیا گیا۔
    جب ایک دوسرے سے مفادات ٹکراۓ تو پھر سے ایک دوسرے کے لتے لینے شروع کر دئیے گئے۔
    ان سب لڑائیوں کے دوران اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ معرکہ مسلم لیگ کے اندر -ن اور ش -میں چل رہا ہے
    یہ کشمکش چچا اور بھتیجی کے مختلف نظریات کی نفسیاتی جنگ ہے-
    شہباز شریف نواز شریف کے ریاست مخالف بیانیے سے ہینڈز اپ کر چکے ہیں،مگر ن لیگ پر ابھی تک نواز شریف کی مضبوط گرفت کی وجہ سے وہ وقتی طور پر نواز شریف اور مریم کی کھل کر مخالفت نہیں کر پا رہے،تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی عبرتناک شکست سے اتنا پی ٹی آئ والے خوش نہیں،جتنا شہباز شریف کیمپ ۔
    پاکستانی سیاست میں ن لیگ کے گھر کی اس لڑائ میں فضل الرحمن کو کون بھول سکتا ہے۔
    جو اپنے مفادات کی خاطر شائد بی جے پی سے بھی اتحاد کرنے کو تیار ہو جاۓ۔
    آجکل انہیں کہیں سے بھی گھاس نہیں ڈالی جا رہی،جس کی وجہ سے وہ دم سادھے ہوۓ ہیں۔
    ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایکبار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ضرور ہیں،مگر ان دو جماعتوں کی منافقت بھری تاریخ کو دیکھتے ہوۓ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ یہ کب تک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں گے اور کب کسی میثاق کی آڑ میں باہم شیر وشکر ہوجائیں گے۔
    ان لوگوں کی مطلب پرستیوں اور سیاسی قلابازیوں سے عام آدمی سیاست سے اس قدر متنفر ہو چکا ہے کہ اب تو صدارتی نظام کی بازگشت سُنائ دینا شروع ہو چکی ہے-
    اس دو پارٹی سیاسی نظام کی تباہ کاریوں کے سامنے بند باندھنے کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔
    اگر ہماری سیاست میں عمران خان کی انٹری نہ ہوتی تو پتہ نہیں کب تک عوام ان دو پارٹیوں کی لوٹ مار کا شکار رہتے۔
    آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی شکست اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ لوگ اب ان کی مکاریوں کو سمجھنا شروع ہو چکے ہیں۔
    لوگ ان کے جھوٹے بیانیوں کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں۔
    پہلے ان کا ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ مسترد ہوا اب دھاندلی کا واویلہ بھی لوگوں کو متاثر نہیں کر پا رہا۔
    عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ ان کے ہر بیانیے کے پیچھے ریاست دشمنی چھپی ہوتی ہے۔
    ان آخری دو بڑی شکستوں کے بعد پارٹی کے اندر سے مریم صفدر کے بیانیے کو مسترد کیا جانا خاص اہمیت کا حامل ہے
    مریم نے آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کی شکست کو دھاندلی سے تعبیر کیا تو مصدق ملک،نوشین افتخار اور محمد زبیر نے مریم کے دعوے کی نفی کرتے ہوۓ کہا کہ دھاندلی نہیں ہوی بلکہ انہوں نے تو پی ٹی آئ کو سیالکوٹ کی جیت پر مبارکباد بھی دے ڈالی۔
    اب آہستہ آہستہ
    مریم کیمپ کے صحافی بھی مریم کے خود ساختہ بیانیوں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں
    جس کی تازہ ترین مثال سلیم صافی کا نواز شریف کی حمد اللہ محب سے ملاقات کو غلط قرار دینا ہے
    سلیم صافی نے کہا کہ حمداللہ نے کسی ایک شخص یا ایک ادارے کو گالی نہیں دی بلکہ ریاست پاکستان کو گالی دی،لہذا نواز شریف کو ایسے شخص سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔
    موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوۓ کہا جا سکتا ہے کہ ن لیگ کے ان بیانیوں کی تدفین سے پی ٹی آئ کا الیکشن 2023 جیتنا آسان ہو گیا ہے بشرطیکہ پی ٹی آئ عوام سے اپنا میثاق کرتے ہوۓ انکی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ان کو کچھ ضروری سہولیات دے سکے،جن میں سر فہرست مہنگائ کے خلاف جنگی بنیادوں پر برسر پیکار ہونا ہے #

    @lalbukhari

  • لاک ڈاؤن اور کراچی کی تباہ شدہ پبلک ٹرانسپورٹ   تحریر:  ام سلمیٰ

    لاک ڈاؤن اور کراچی کی تباہ شدہ پبلک ٹرانسپورٹ تحریر: ام سلمیٰ

    بے بس کراچی کے شہری جو کئی دہائیوں سے اپنے مسائل کے حل کے انتظار میں ہے.
    پہلے بھی یہاں ٹریفک کا انتظام اس قابل نہں ہے آبادی کے تناسب سے لوگ با آسانی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر سکیں پھر کورونا کے معاملات اس وقت بھی سندھ میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے لیکن کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کا وہی حال ہے گاڑیاں کھچا کھچ بھری ہوئی کورونا کے لیے بتائی گئے احتیاط تدابیر پر کوئی عمل نہں کر رہا. پبلک ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر حضرات بتائی گئی احتیاطی تدابیر نہں آپناتے اور نہ ہی اس پے عمل کرواتے نظر آتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے کورونا ہے ہی نہں. خدانخوستہ جس حساب سے بسوں میں عوام کا رش نظر آتا ہے یہ ہی ایک بڑی وجہ نہ بن جائے کررونا پھیلانے کی صوبائی گورمنٹ لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کرتے ہوئے اس چیز کو مد نظر رکھے کے جن احکامات کا اعلان کیا جا رہا ہے ان پر سختی سے لوگ عمل پیرا ہوں یا ان احکامات کے لاگو ہونے کا بعد کوئی چیک پوائنٹ ضرور ہوں مانیٹر نگ کا اور احکامات کو نہ ماننے والوں کو جرمانہ کیا جائے تاکہ لوگ سختی سے احکامات پر اعمال در آمد کریں.
    لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب تمام ادارے ایک ہی وقت میں بند کر دیے جاتے ہیں تو ٹریفک کا دباؤ بے تحا شا بڑھ جاتا ہے سڑکوں پر اور اس وجہ سے ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ پڑتی ہے اور لوگوں کے لئے سفر کا وقت بڑھاتی ہے ،اس سے بھی ذہنی تناؤ اور دیگر متعلقہ بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے عام لوگ نقل و حمل سے متعلق تشویش کا شکار رہتے ہیں اور ان کی ذہنی بیماریوں میں ہائی بلڈ پریشر اور اضطراب اضافہ ہوتا ہے.

    تب صحت کے ان مسائل کا نتیجہ طبی بلوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں کم اور درمیانی آمدنی والے مزدور طبقے کو معاشی عدم استحکام کا زیادہ خطرہ بن جاتا ہے۔

    نقل و حمل کے محدود وسائل کی وجہ سے خواتین خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں مزید انفراسٹرکچر اور سہولیات میں صرف سرمایہ کاری کرکے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل توجہ طلب ہیں صرف بجٹ میں پیسہ مختص کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے بلکے انکو حل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی اور موثر اداروں میں ہے۔
    کراچی میں آبادی کے تناسب سے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات انتہائی کم ہیں رجسٹرڈ بسوں اور منی بسوں کی تعداد لگ بھگ 21،800 ہے ، اس لئے ایک بس میں روزانہ 257 مسافر سوار ہوتے ہیں ، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے چونکہ بسیں انفرادی لوگ چلاتے ہیں جو کرایہ کی آمدنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہتے ہیں ، چھت کے اوپر بیٹھنے سمیت ، بس اسٹاپ پر مسافروں کے لیے زیادہ دیر انتظار کرنا عام ہے ان کے لیے کوئی قوانین نہں بنائے گئے.

    اس کے علاوہ سرکاری اور نجی بسیں غیر مستحکم اور غیر آرام دہ ہیں۔اور ان بسوں کی بناوٹ کی وجہ سے ان بسوں میں خواتین کو تنگ کرنے کے واقعات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں.

    صوبائی گورنمنٹ بسوں کی وجہ سے کررونا کے پھیلاؤ کو روکنے پر فوری توجہ دے.

    @umesalma_

  • کٹھ پُتلی  تحریر : افشین

    کٹھ پُتلی تحریر : افشین

    ایسا کھلونا جسکو انگلیوں پہ نچوایا جائے انسان بھی کٹھ پتلی بنتا جارہا ہے سوشل میڈیا کی دنیا پہ اس کا رحجان بڑھتا جارہا ہے نوجوان نسل کا لگاو سوشل میڈیا کی طرف زیادہ ہے سوشل میڈیا پہ تعلقات بنائے جاتے ہیں پر ہر کوئ اپنے مفادات کے مطابق انکا استعمال کرتا ہے
    جیسے اپنی زندگی کا رموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں دے دینا جیسے لڑکیاں لڑکے جب آپس میں تعلقات گہرے بنا لیتے ہیں پر وہ جیسے چاہتے ہیں کرتے ہیں اکثر لڑکے/ لڑکیاں کسی کو محبت میں مبتلا کر کے اس سے ناجائز کام کرواتے ہیں اور پر ایک دوسرے کی زندگی خراب کر دیتے ہیں کسی کو اپنی ذاتی معلومات فراہم نا کریں اور رشتوں کے تقدس کو بھی خراب کرنے سے گریز کریں کاروباری دنیا میں بھی کہیں لوگ کٹھ پتلی کی طرح کام سر انجام دے رہے ہوتے ہیں کیوں بنتے ہے ہم کٹھ پُتلی ؟؟؟ کیوں اپنی زندگی کے فیصلے دوسروں پہ چھوڑ دیتے ہیں ؟؟ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے مفادات کا ذریعہ کیوں بناتا ہے ؟؟ دوسروں کو نقصان دے کے اللہ پاک کے انصاف سے بچ پاو گے ؟دوسروں کے دل دُکھانے سے بس خاک ہی پاو گے اللہ پاک کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے اور نا کسی کے آگے جُھکنا چاہئے ہمیشہ اللّه سے مدد مانگے نا کہ انسانوں کے آگے جُھکے اور سوشل میڈیا پہ ناجائز تعلقات سے گریز کریں تاکہ کوئ اپکا استعمال نا کر پائے سوشل میڈیا پہ نا تو کوئ بھائ ہوتا ہے نا کوئ دوست اور پیار یہاں صرف رشتوں کا استعمال ہوتا ہے بہت کم لوگ اچھے تعلقات استوار کرتے ہیں کٹھ پُتلی نا بنے اچھے انسان بنے کسی کی ظاہری مورت لازم نہیں حقیقی ہو چہروں میں چھپے بھید کون جانے فقط خدا جانے۔

    دوسروں کے لیے کٹھ پُتلی نا بنے اپنی راہ خود چُھنے اپنے فیصلوں کے خود مختار بنے انسان کو اللہ پاک خودمختار پیدا کیا ہے راہ منتخب کرنا ہمارا اپنا فیصلہ ہوتا ہے آج کے دور میں دوسروں کی ہاں میں ہاں ملائ جاتی ہے تاکہ ہم ان سے اپنا کام نکلوا سکے خوشامد کی جاتی ہے لیکن پر کیا ہوتا ہے پر اپ کو بھی کٹھ پُتلی کی طرح نچایا جاتا ہے جیسے ایک عہدے دار جیسے ایک پولیس والا پیسے کی خاطر اکثر جاگیرداروں کے اگے ڈُگڈُگی پہ ناچ رہا ہوتا ہے یہ بات میں ان لوگوں کی کی ہے جو ضمیر فروش ہوتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے اگر اس معاشرہ میں ڈُگڈُگی ناچ نا ہو تو معاشرہ سے بہت سے مسائل خود ہی حل ہوجائے جب پیسے پہ فیصلے ہونے لگے تو انصاف کا اختتام ہے خودمختاری خدا پاک کی ذات دی ہےلہذا نا ضمیر فروش بنے نا کٹھ پُتلی.
    اگر اپ صرف دوسروں کے اشاروں پہ چلیں گے تو آپ کی زندگی گویا اپنی نا ہوئ کسی کی جاگیر ہوئ ۔ اگر گھریلو مسائل کی طرف رخ کیا جائے تواکثر گھروں میں بھی کچھ شوہر بیوی کے لیے کٹھ پُتلی بنا ہوا ہوتا ہے جیسے کہتی ہے ویسے ہی فیصلے بنا سوچے سمجھے کر دیتا ہے بعض اوقات اپنے خاص رشتوں ماں باپ کو چھوڑ دیتا ہے یا تو رشتے کھو دیتا ہے یا پھر مال و متاع خالی جیب ہو جاتا ہے اسلئے عقل کے ناخن لے کٹھ پُتلی بننے کے بجائے انسان بنے تاکہ نا خود کو نقصان ہو نا اپکی وجہ سے دوسروں کو۔
    @Hu__rt7

  • بتیسی فکس کراون یا ڈینٹل ایمپلانٹ (3) ،تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    بتیسی فکس کراون یا ڈینٹل ایمپلانٹ (3) ،تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر : @nabthedentist

    جوان انسان کہ منہ میں 32 دانت ھوتے جن میں چار عقل ڈارھیں ضروری نھیں سبکو آئیں اس حساب سے کم از کم ایک نارمل انسان کے منہ میں 28 دانت تو آنا لازم ھے
    جسم کے مضبوط ترین حصوں میں سب سے مضبوط ھڈی ھے اور ھڈیوں میں دانت سب سے مضبوط ترین مانے جاتے ظاہر ھے اگر یہ اتنے مضبوط ھیں تو اللہ نے ان سے کوی سخت قسم کا کام بھی لینا ھوگا اور جب یہ سارے یا ایک یا ایک سے زیادہ دانت نکل جاتے تو ان کے نیچے موجود مسوڑھے جو جسم کے کمزور حصوں میں سے ایک ھیں ان کو وہ سخت کام کرنا پڑجاتا جو وہ کر نھین پاتے جس سے مسوڑوں میں انفیکشن زخم ساتھ والے دانتوں میں مسئلے ٹوٹ پھوٹ کیڑا لگنا ٹیڑھا ھوکر اس خالی جگہ میں گرنا اوپر والے دانتوں کا قد نکال لینا یہ سب کچھ ھونا شروع ھوجاتا جسکے نتیجے میں مزید دانتوں کے نکلنے کا خطرہ درد تکلیف کا دائمی ھوجانا تکلیف والے سایئڈ سے کھانا نا کھاکر اس سایئڈ کا ناکارہ ھوجانا شامل ھے وہ ھوسکتا
    اسلئے جب کبھی کسی کا دانت کسی بھی وجہ سے نکل جائے یا نکلوانا پڑ جائے تو وہ ایک ماہ سے لیکر 6 ماہ کے اندر نئے دانت لگوا لے
    نئے دانت کبھی بھی اصل کے متبادل نھیں ھوسکتے مگر وہ کسی بھی طور نا لگوانے سے ھزار گنا بہتر ھے
    آپکا کھانا پینا شروع ھوجاتا زندگی میں سکون آجاتا ساتھ والے دانت یا پھر مسوڑوں کے مسئلے ختم ھوجاتے
    نئے دانت لگوانے میں آپکے پاس درج ذیل آپشن موجود ھیں

    1۔ اتارنے لگانے والے دانت
    Removable Denture

    مشہور زمانہ بتیسی اسی کٹیگری میں آتی یہ ایک دانت سے لیکر پوری بتیسی یعنی 32 دانت تک حسب ضرورت لگوائے جاسکتے یہ باقی آپشن کی نسبت سستے ساتھ والے دانتوں کو نقصان دیئے بغیر لگ جاتے انکا نقصان یہ اتارنے لگانے والے ھوتے خیال کم رکھا جانے کی وجہ سے خراب ھوجاتے منہ میں ایڈجسٹ نسبت مشکل سے ھوتے وقت کیساتھ ڈینٹل کلینک چکر لگتے ھی رھتے جسکے منہ میں کوی دانت نا ھو اسکے لئے یہ آپشن سب سے بہتر ھے

    2۔ فکس دانت کراون یا بیریج
    Crowns and Bridge

    جب کوی دانت کی دیوار ٹوٹ جائے یا اسکا روٹ کینال ٹریٹمنٹ ھوا ھو تو ایسے دانت کو مضبوطی دینے لئے فلنگ کیساتھ اس پر فکس کراون لگایا جاتا ھے جب دانت موجود نا ھو تو ساتھ والے دانتوں کو کٹنگ کرکے انکا ناپ لیکر خالی جگہ میں دانت لگایا جاتا اسکو bridge کہا جاتا ھے
    یہ فکس ھوتے اسلئے یہ اتارنے والوں سے بہتر رھتے یہ ان سے نسبتا زیادہ قیمت کے ھوتے ھیں اسوقت دنیا میں سب سے زیادہ یہی لگائے جاتے

    3.ایمپلانٹ Implant

    فکس برج میں جہاں ایک دانت لگانے لئے ساتھ والے دو دانتوں کی کتنگ کی جاتی وہ ایک لحاظ سے دو دانتوں کا نقصان بھی ھے جو اور 5 سال بعد خراب ھونے کی صلاحیت رکھتے جس سے برج کو اتار کر ساتھ والے مزید دانتوں کو لینا پڑ سکتا ایسے میں فکس دانت لگانے لئے ایک اور آپشن ھے وہ ھے ایمپلانٹ اس میں ساتھ والے دانتوں کو چھیڑا نھیں جاتا جو ایک دانت نکلا اسکی جگہ ایمپلانٹ screw کردیا جاتا اوپر کراون لگایا جاتا یہ سب سے بہترین آپشن ھے مگر کافی مہنگا ھوتا ھے اسلئے پاکستان میں بہت کم لوگ اس جانب راغب ھوتے

    دانت فکس ھوں یا اتارنے لگانے والے لیکن اگر انکی صفائ نا رکھی گئی خیال نا رکھا گیا تو لیبارٹری کے بنے ھوئے یہ دانت بہت جلد خراب ھوجاتے اسلئے اصل دانتوں کی حفاظت سے زیادہ انکی حفاظت ضروری ھے

  • پاکستان ہائبرڈ وار فئیر کا فاتح ، ممکن کیسے ہو گا۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    پاکستان ہائبرڈ وار فئیر کا فاتح ، ممکن کیسے ہو گا۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    میں ایک عرصہ سے آپ کو ففتھ جنریشن وار کے بارے میں بتا رہا ہوں ، اور آئے دن آپ کو خبروں میں سُننے کو بھی ملتا رہتا ہے کے بھارت پاکستان میں اپنی پراکسی وار مضبوط کر نا چاہتاہے۔ اور یہ کام وہ اعلانیہ کرتا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے ففتھ کارمسٹوں کی طرف سے پاکستانی فوج کہ خلاف حضیان بکنا جُھوٹے الزامات گھڑ کر اور بڑا گلیمرائز ڈکر کے پوسٹوں کی شکل میں سوشل میڈیا میں پھیلانا مختلف گروپوں میں اِس کیوشئیر کرنا اور عوام کو یہ تاثر دینا کے فوج خُدانخواستہ اُنہیں لُوٹ کر کھا رہی ہے۔ ایسی گھٹیا حرکات کا تصور آپ کسی مُحبِ وطن پاکستانی سیاستدان سے یا کسی اور سے کر سکتے ہیں۔؟ ہرگز نہیں۔
    آپ یہ بات اچھی طرح سے جان لیں اور سمجھ لیں کے یہ سب دُشمن کا پروپیگنڈہ ہے اور دُشمن یہی چاہتا ہے۔ پاکستان کے مختلف اِداروں کی ویب سائٹس ہائی جیک کرنے کی ہیک کرنے کی خبریں آپ نے اکثر پڑھی ہی ہوں گی اور ایسی ہی ایک تازہ ترین واردات بھارتی خُفیہ ایجنسی "را” نے اِسرئیل کے این ایس او سسٹم کی مدد سے کی ہے جو بڑا ہی جدید ترین سسٹم ہے جس کی مدد سے یہ دنیا بھر کا ڈیٹا چُرا سکتے ہیں۔ پاکستان پر اِس کا سائبر اٹیک کیا گیا اِس پر حکمتِ عملی یہ تھی” را” کی کہ پاکستان کے جتنے بھی آرمرڈ فورسیز کے جتنے بھی آفیسرز ہیں اُن کی فون کالز کا یا واٹس ایپ کا ڈیٹا وہ چُورایا جائے جو یہ گُفتگو کرتے ہیں اُسے ہیک کیا جائے اور پاکستان میں ایک ایسا سسٹم لانچ کیا جائے جس کہ ذریئے سے وہ اِن کی گُفتگو آسانی سے سُن سکیں۔

    دُشمن کی اِس کوشش کو پاکستان کی کاؤنٹرانٹیلیجنس کے سائبر ونگ نے بڑی ہمت سے ناکام بنادیا ہے۔ سوال یہاں یہ ہے کے یہ ہیکنگ سسٹم کیلئے بھی کچھ ایسی معلومات درکار ہوتی ہیں جس سے سسٹم ہیک کیا جاتا ہے اب سوال یہ ہے کہ دُشمن تک یہ معلومات کیسے پہنچتی ہیں۔؟
    یہ معلومات ایسے پہنچتی ہیں جب ہم جُھوٹے الزامات لگاتے ہیں فوجی افسران پر کے فلاں نے جائداد لے لی فلاں نے جزیرہ خرید لیا اور یوں کر دیا یہ کر دیا وہ کر دیا اور اِس جُھوٹے الزامات کو پھیلاتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اور بھارتی خُفیہ ایجنسی را نے اِن الزامات کو پھیلانے کیلئے بہت بڑی انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے خاص طور پر اِس مرتبہ سینٹرل پنجاب کو ٹارگٹ کیا ہے اور ہمارے اُن لوگوں کو استعمال کریں گے جو بیچارے اپنے اُن لیڈران کی محبت میں اپنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے یا اپنی عقل استعمال نہیں کرتے کے اپنا اور ملک کا بُرا بھلا سوچ سکیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

    الحمدُللہ ہماری ملٹری انٹیلیجنس کا اپنا کاؤنٹر سسٹم اتنا مظبوط ہے کے اِس میں سُراخ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ لیکن میں آخری بات یہی کروں گا کہ جب تک گھر کا بھیدی لنکا نہ ڈھائے کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور ہم لوگ یہ نہیں سمجھتے کے جو لوگ اِس طرح کی پوسٹس کرتے ہیں بنا سوچے سمجھے بنا تحقیق کئے آگے سے آگے فارورڈ کرتے ہیں ۔ کیا اِن میں سے کسی نے تصدیق بھی کی کہ کیا یہ بات یہ خبر درُست بھی ہے یا نہیں ؟ یا اندھی تقلید میں یہ اپنا ایمان اپنا وطن ایسے ہی ضایا کر دیں گے۔؟ اصل میں ایسے لوگ جو اپنے ذہن سے نہیں سوچتے بس جو لیڈر نے کہہ دیا وہ سو فیصد سچ ہے کیا یہ سوچ یہ ذہن پی ٹی ایم اور ایم کیو ایم والی دانشوری ہے اُس کو بنیاد بنا کر وہ سمجھتے ہیں کے وہ بہت بڑا جہاد کر رہے ہیں یا وہ جمہوریت پرست ہیں لیکن اصل میں وہ ایک کٹ آؤٹ استعمال ہو رہے ہوتے ہیں کٹ آؤٹ اِنٹیلیجنس کی اسطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ کو دُشمن اِنٹیلیجنس اِس طرح استعمال کر رہی ہوتی ہے کے آپ کو پتا ہی نہ ہو اور آپ مجاہد بنے رہیں اور دُشمن کیلئے کام کر رہے ہوں۔
    یاد رکھئے یہ ففتھ جنریشن وار ہے اِس میں یہی کچھ ہوتا ہے پراکسی وارز ہی ہوتی ہیں اب وہ بندوقوں پستولوں کی لڑائی بہت دُور کی بات ہے اب دشمن آپ کی ثقافت، مذہب، اور خاندانی نظام پر ضرب لگاتا ہے جس سے آپ اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ آپ کے اتحاد کو اتفاق کو ختم کرتا ہے جبکہ نبیﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کے اتحاد میں برکت ہے کامیابی ہے ۔ آپ یاد کریں لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب کی پریس کانفرسیز کو بار بار سُنیں دیکھیں اور سمجھیں اور دیکھیں وہ جو کہتے تھے وہ آج آپ کو آجکل ہوتا نظر بھی آئے گا ۔
    ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنا ہے اور دُشمن کو کاؤنٹر کرنا ہے اور یہ کاؤنٹر ہم اپنے اتحاد کو قائم رکھ کر ہی کر سکتے ہیں ۔ سوشل میڈیا جھوٹ اور سچ کی جنگ ہے یہاں آپ نے اپنے جزبات کو ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے اپنے عصاب پر کسی جھوٹ کا حاوی نہیں ہونے دینا یہی کامیابی ہے کہ بنا تصدیق کسی بات پر یقین نہیں کرنا اور سچ کی تلاش میں رہنا اور اپنے دوست احباب کو حقائق سے اگاہ رکھنا ۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان پائندہ باد

  • ‏وقت، سب سے بڑی عدالت . تحریر:عامر سہیل

    ‏وقت، سب سے بڑی عدالت . تحریر:عامر سہیل

    جب انصاف کا معیار غریب کے لیے الگ اور امیر کے لیے الگ ہو جائے ۔ غریب مجبور اور بے بس کے ساتھ انصاف کے تقاضے اور سلوک جب انصاف پر مبنی نہ رہیں بلکہ دولت اور تعلقات کے پلڑے میں تولے ہوئے فیصلے ہوں تو بے بس غریب لاچار لوگ اللہ کی مقرر کردہ وقت کی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہیں ۔ وقت کی عدالت میں وکیل کے فرائض وہ بددعائیں ہوتی ہیں جو بے بس اور مجبور لوگوں کے دلوں سے آنسوؤں کے ساتھ نکلتی ہیں ۔ پھر اللہ کے حکم سے وقت کی عدالت سے فیصلہ جاری ہوتا ہے ۔ وہ فیصلہ اپنے مقررہ وقت پہ جاری ہوتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ اللہ جو فیصلہ وقت کی عدالت کے ذریعے کرتا ہے اس وقت کی عدالت کے فیصلے خلاف اپیل نہیں نہیں کی جا سکتی.

    وہ فیصلہ کیسا ہوتا ہے ؟
    جب ظالم ، سفاک لوگ کسی غریب کی جائیداد پہ طاقت کے بل بوتے پہ قبضہ کر لیتے ہیں اور عدالت سے فیصلہ اپنے حق میں خرید لیتے ہیں
    جب ظالم امیر لوگ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ناجائز منافع کی صورت میں غریب کی جیب پہ ڈاکہ ڈالتے ہیں۔
    جب بیوروکریٹ رشوت اور کک بیکس سے ناجائز دولت جمع کر لیتے ہیں
    جب سیاستدان اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دولت جمع کر لیتے ہیں
    جب کوئی سفاک کسی معصوم کے ساتھ درندگی کر کے اسے قتل کردیتا ہے
    جب غریب رشتے داروں کا حق مار لیا جاتا ہے
    جب بے گناہ قتل کیا جاتا ہے

    اس طرح کے ہزاروں واقعات کے گواہ ہونے کے باوجود انصاف بک جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے وقت فیصلے کرتا ہے
    ظالم اور سفاک لوگوں کے پاس دولت کے انبار ہوتے ہیں لیکن اس میں سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بیماری ایسی لگ جاتی ہے کہ زندگی صرف بستر تک رہ جاتی ہے ۔ ایک لباس ایک کمبل ایک تکیہ نہ جوتے کی ضرورت نہ استری شدہ کپڑوں کی ضرورت، نہ گاڑیوں بنگلوں کی ضرورت۔ایسا عذاب کہ جس کا علاج ممکن نہیں ہوتا
    الماریاں کپڑوں سے بھری ہوتی ہیں لیکن کپڑے پہن نہیں سکتے کہ جسم پہ خارش شروع ہوجاتی ہے ۔ یا جسم اکڑا ہوا ہوتا ہے کہ حرکت نہیں کر سکتا۔

    مخمل کے کروڑوں روپے کے نرم نرم بستر ہوتے ہیں لیکن سو نہیں سکتے ۔ نیند کی گولیاں کھاتے ہیں پھر بھی نیند نہیں آتی ۔ بے چینی ایسی رہتی ہے کہ سکون برباد ہو جاتا ہے ۔
    ہزاروں طرح کی ڈشیں ڈائننگ ٹیبل پہ ہوتی ہیں لیکن کھا نہیں سکتے
    ہر ماہ خون نکلوانا پڑتا ہے کہ بلڈ پریشر نہ بڑھ جائے اور موت واقع نہ ہو جائے
    کپڑوں میں پاخانہ نکل جاتا ہے لیکن باتھ روم جانے کی سکت نہیں ہوتی ۔ کسی کے محتاج ہو جاتے ہیں کہ گندگی کو کوئی صاف کرے ۔
    ہزاروں جوتوں کے جوڑے ہوتے ہیں لیکن شوگر سے پاؤں پھول چکے ہوتے ہیں کہ جوتے پہن نہیں سکتے بولنا چاہتے ہیں لیکن فالج زدہ زبان سے آواز نہیں نکلتی اولاد معذور پیدا ہوتی ہے جس کو دیکھ کے ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں لیکن علاج نہیں ملتا۔
    گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ایسی حرکت کرتا ہے کہ معاشرے میں سر جھک جاتے ہیں۔ اپنا گھر بار چھوڑ کے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ سب کچھ ہوتا ہے لیکن گلی کے کتے بھی سلام نہیں کرتے موت آتی ہے تو کوئی لاش کو دفنانے والا نہیں ملتا
    بیماری ایسی آتی ہے کہ تڑپ تڑپ کے روز مرتے ہیں۔ موت کی دعائیں مانگتے ہیں لیکن موت نہیں آتی۔

    بے شک اللہ کی لاٹھی بہت بے آواز ہے۔ جس ظالم پہ پڑ جائے اسے عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔
    وقت کی عدالت کا انصاف بہت بے رحم ہوتا ہے ۔۔ اپیل کی گنجائش نہیں ہوتی.

    @iAmir29

  • جدید دور کی جدید محبتیں .تحریر: فروانذیر

    جدید دور کی جدید محبتیں .تحریر: فروانذیر

    کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر بہت خوبصورت فکرے دیکھے جو دل کو بھا گئے

    وہ فکرے کچھ یوں ہیں:

    نکاح سے پہلے،
    محبت چاہے زمزم سے دھلی ہو،
    یا قرآنی آیات سے دم کی گئی ہو،
    گمراہی ہے،دھوکہ ہے،
    فریب ہے،بے حیائی ہے،
    حرام ہے اور بے سکونی ہے

    میں نے سوچا اس موضوع پر مجھے اپنے خیال کا اظہار کرنا چاہیے
    چونکہ آج کل یہ معاملہ سب سے زیادہ دیکھنے میں آتا ہے، ہر دوسرا شخص دل کا مرض دکھائی دیتا ہے اسکی کوئی تو وجہ ہو گی

    ایک وقت تھا جب محبت کا نام لیا جاتا تو دماغ میں ہیر رانجھا لیلہ مجنوع جیسی کہانیاں اتی تھیں جن کی
    محبت میں لازوال قربانیاں ہر طرف مشہور تھی
    ہمارے بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ اس وقت کی محبت بہت خالص ہوتی تھی تو اب کیا ہم خالص انسان نہیں رہے ؟؟
    ہماری محبت صرف دکھاوے کی حد تک محدود ہو گئی ہے۔۔۔؟؟

    کیا عشق جیسا خوبصورت احساس کرنے سے لوگ قاصر ہیں۔۔؟؟

    یہ سب آخر ایسا کیوں؟؟؟
    آئے روز ہم بہت سی کہانیاں سنتے ہیں کچھ دن محبت کے نام پر لوگ بات چیت کرتے ہیں اور محبت ہو جاتی ہے اور ٹھیک چند دنوں بعد بریک-اپ ہوجاتا اور سب معاملہ ختم

    ایک مہینے بعد خبر آتی یے کہ انہی محبت کرنے والوں نے کسی اور کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔
    یہ بات سمجھے سے قاصر ہوں کہ وقتی طور پر بات چیت کو محںت کا نام کیوں دیتے ہیں یاپھر معاشرے میں دکھاوا اس قدر ہو گیا یے کہ ہم رشتوں کی خوبصورتی کو بھول چکے ہیں

    اس جدید دور میں جہاں احساس ختم ہوتا جا رہا ہے وہاں ہم ایک غلطی یہ بھی کرتے ہیں کہ اپنے بڑوں کو ان معاملات سے دور رکھتے ہیں جس کے بدلے میں ہمارا اپنا نقصان ہوتا ہے

    نفسا نفسی کا یہ الم ہر طرف پھیل چکا ہے بہت سے لوگ اپنی نفسیاتی خواہشات کو پورا کرنے کیلیے وقتی طور پر محبت جیسے خوبصورت رشتوں کا استعمال کرتے ہیں اور جب انکا دل بھر جاتا ہے تو اور کوئی رشتہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    یہ کیا نظام چل رہا ہے کیا ہم اسطرح ملک میں کام کرسکتے ہیں کیا یہ ہمارا اسلامی نظام ہے جس کے نام پر لاکھوں پیاروں کی قربانیوں کے بعد ہمیں یہ چمن ملا۔۔۔

    ہم سب مسلمان ہیں اسلام کے پیروکار ہیں ہمارا مذہب یہ تعلیمات نہیں دیتا
    اگر ایسا کرنا ہی ہے تو اللہ پاک نے ایک بہت پیارا جائز رشتہ دیا ہے نکاح کا
    نکاح کرو اور اپنی خواہشات پوری کرو

    یہ معاشرے کو خراب کرنے والے کام نہ کرو جس سے شرمندگی اٹھانی پڑے

    میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ معاشرے میں شر انگیزی کو پھیلانے سے روکا جائے اور سنت رسول پر عمل کریں تاکہ دنیا اور آخرت میں عزت کا مقام پائے

    اللہ پاک ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دیں

    آمین ثمہ آمین

    Twitter : @InvisibleFari_

  • نفرت کا جواب محبت سے . تحریر : تاج ولی خان

    نفرت کا جواب محبت سے . تحریر : تاج ولی خان

    افغانستان حکومت جو آج کل پاکستان کے خلاف نفرت اور پروپیگنڈے پھیلانے اوربےبنیاد الزامات لگانے میں مصروف رہا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ نفرت کا جواب محبت سے دیا ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا اور امن کیلئے اپنے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
    چند روز پہلے افغان فوجیوں نے پاکستان سے چترال کے اندو سیکٹر پرپناہ کیلئے 26 جولائی کو درخواست کی تھی کیونکہ وہ اپنے بارڈر پر کنٹرول رکھنے کی طاقت کھو گئے تھے جس پر پاکستان نے ہمدردی دیکھاتے ہوئے ضروری ضابطہ کی کارروائی کے بعد افغان فوجیوں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ پاکستان میں پناہ لینے والے فوجیوں میں پانچ افسراوں سمیت 46 افغان فوجی شامل تھے۔ پاکستان نے ان فوجیوں کا استقبال کیا اور ان کی خوب مہمان نوازی کی جبکہ افغانستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے اس بات سے انکار کیا گیا کہ ہمارے فوجیوں نے آج تک کسی بھی ملک میں پناہ لی ہے اور پاکستان میں تو بلکل نہیں۔ اس بات سے یہ بات ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان جو ہمیشہ امن کیلئے کوشا رہتا ہے لیکن افغانستان پاکستان سے نفرت کرنے سے بعض نہیں رہتا۔

    افغان وزیر خارجہ کی بیان کے بعد پاکستان کی طرف سے افغان فوجیوں اور ان کی مہمان نوازی کی ویڈیو اور تصاویر جاری کردی گئے جس نے افغانستان کے بیانیے کو پورے دنیا کے سامنے بےنقاب کردیا اور یہ ثابت کردیا کہ پاکستان امن کیلئے کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا
    پاکستان نے ان پانچ افسروں سمیت 46 افغان فوجی 26 جولائی کو باجوڑ کے راستے افغان حکام کے حوالے کردیے اور صرف یہی نہٰں اس سے پہلے 35 افغان فوجی یکم جولائی کو واپس بھیجے گئے تھے، جنہوں نے پاکستان سے محفوظ راستے کی درخواست کی تھی۔
    اس کے بعد بدھ کے دن پاکستان نے پناہ لینے والے مزید پانچ افغان فوجی افغانستان حکام کے حوالے کردیے جو پاکستان کا افغانستان میں امن کیلئے کوشش کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے پاک افغان بارڈر پر محفوظ راستے کے لیے پناہ حاصل کرنے والے مزید پانچ افغان فوجیوں کو باجوڑ میں نوا پاس کے مقام پر پانچ بج کر 45 منٹ پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔

    صرف یہی نہیں اس سے پہلے افغانستان کا پاکستان میں سفیر کی بیٹی کی اغواء کے معاملے کو اگر دیکھا جائے تو اس میں بھی افغانستان کا پاکستان پر بےبنیاد الزامات لگانا اور بغیر کسی تحقیقات کے اپنے سفیر کو واپس بلانا سب اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان پاکستان سے نفرت کی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ افغان حکومت بھارت سے اتنا متاثر ہے کہ جو حکم نئی دہلی سے کابل آتی ہے کابل اس کو اسطرح مانتا ہے جیسے افغان اسمبلی میں کوئی نئا قانون منظور ہوگیا ہو اسلئے پاکستان سے نفرت کی یہی حال ہے۔ بھارت اب تک افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا آرہا ہے اب جب افغانستان میں افغان طالبان نے قبضہ کرنا شروع کردیا ہے تو یہ سب لوگ ڈر گئے ہیں کہ پاکستان کو کس طرح نقصان پہنچائیں گے اور کسطرح پاکستان کو اپنے قابو میں رکھیں گے جس کیلئے راء اور این ڈی ایس نے دن رات ایک کردی ہیں۔ اسلئے راء ایسے کام کررہے ہیں جس سے پاکستان بدنام ہوجائے اور افغان امن عمل کو ناکام ہوجائے۔ افغان سفیر کی بیٹی کی اغواء کا قصہ بھی بھارتی ایجنسی راء کا کام تھا۔ تحقیقات کی بعد یہ بات سامنے آئی تھی کی افغان سفیر کی بیٹی اغواء ہوئی ہی نہیں تھی اس سب ڈرامے کا مقصد پاکستان میں افغان امن عمل کیلئے ہونے والے کانفرنس کو روکنا۔

    افغان حکومت بھارت کی ہاتھوں کی کٹھ پتھلی بن چکی ہے جو ہر وہ کام کررہی ہے جو بھارت پاکستان کے خلاف کرنا چاہتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک ہفتہ پہلے بھارت کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے گری لیسٹ میں رکھنا مودی حکومت کی کامیابی ہے جس کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کو فیٹف کے گری لیسٹ میں رکھا گیا ہے۔ جس سے اگر ایک طرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کچھ بھی کرسکتا ہے جس سے پاکستان عالمی دنیا میں بدنام ہوجائے تو دوسرے طرف یہ کہ فیٹف ایک خودمختار ادارہ نہیں ہے۔ پاکستان کو غیر مخفوظ ثابت کرنے کیلئے راء نے اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کی اغوا کا ڈرامہ رچایا۔
    کچھ دن پہلے افغانستان کے حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف یہی پروپیگنڈا کیا گیا تھا کہ پاکستانی عوام نے چمن میں افغان طالبان کا سپین بولدک پاک افغان بارڈر قبضہ کرنے کی خوشی میں ریلی نکالی تھی جو ایک بےبنیا اور منگھڑت الزام تھا تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ وہ لوگ پاکستانی نہیں تھے بلکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین تھے جو افغان طالبان سے محبت کرتے ہیں اور طالبان کو سپورٹ کرنے کیلئے کوئٹہ کے علاقے میں ریلی نکالی تھی۔

    @WaliKhan_TK

  • نظام عدل اور عوام تحریر  : راجہ حشام صادق

    نظام عدل اور عوام تحریر : راجہ حشام صادق

    دنیا کے نقشے پر ہمارا پیارا وطن پاکستان، اور اس ملک بسنے والی عوام کو سمجھنا ہو گا کہ کچھ ذمہ داریاں ہماری بھی تو ہوتی ہیں تمام معاملات طاقتور طبقے اور حکمرانوں پر چھوڑ دیئے جائیں تو پھر انصاف کا نظام تو بالکل ہی ختم ہو جائے گا وطن عزیز بھی نظام عدل ختم ہو چکا طاقتور خریدار ہو تو ہمارا کرپٹ نظام عدل فیصلوں کی قیمت وصول کرتا بے۔

    اس نظام میں چھوٹے موٹے مجرم کو تو سالوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا جاتا ہے مگر کبھی طاقتور کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

    اس نظام سے مایوس عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اس ظلم کے خاتمے کیلئے اپنی آواز بلند کرنی ہو گی۔

    یاد رکھیں اس ملک کا یہ اشرافیہ مٹھی بھر ہے یہ پیسے کے پجاری طاقتور لوگ کوئی قانون یا کوئی ادارہ تو نہیں
    ہمہیں اجتماعی کوشش کر کے اس سارے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا ایک صاف شفاف نظام کے لیے سولی پر چڑھنا بھی قبول ہے قربانیاں بھی دینا ہوں گی اپنی آنے والی نسلوں کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے اپنے تمام فیصلے صرف اللہ پاک کی ذات اور روز محشر پر چھوڑ کر۔
    یاد رکھیں اللہ پاک بھی ان کی مدد کرتے ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت منزل کے حصول کے لئے سفر جاری رکھتے ہیں ۔

    اس ظالم اور کرپٹ نظام عدل سامنے ڈٹ جائیں تاریخ ایسے ہی چند کرداروں کو یاد رکھتی ہے جو سولی تو چڑھ مگر کسی فرعون کے سامنے سر نہیں جھکائے آج ہمارے اوپر انصاف کے لئے منصفوں کا ایک ایسا گروہ مسلط ہو چکا ہے جن کے کردار جن کے فیصلے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے ہوتے ہیں جو اس ملک کا سب سے بڑا مافیا بن جکے ہیں ان کے فیصلوں سے چوروں ڈاکوؤں اور قاتلوں کو تحفظ ملتا ہے یاد رکھیں اگر آج ہم مایوس ہو کر بیٹھ گئے تو اللہ پاک کی عدالت میں ہم بھی مجرم ہوں گے اس گندے نظام کے خاتمے کے لئے اٹھیں اور اپنا کردار ادا کریں انشاءاللہ ظلم کی یہ کالی رات ختم ہو کر رہے گی۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    @No1Hasham