Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میں انمول ہوں  تحریر: فریال نیازی

    میں انمول ہوں تحریر: فریال نیازی

    سترہ اٹھارہ سال کی عمر تک ماں باپ آپ پہ روک ٹوک کرتے ہیں ۔ لیکن یونیورسٹی کی عمر کو پہنچ جانے یا شادی ہوجانے کے بعد آپ اتنے بڑے ہوجاتے ہیں کہ کوئی آپ پہ روک ٹوک نہیں کر سکتا ۔ نہ آپ سے کسی کی روک ٹوک برداشت ہوتی ہے ۔ اس عمر میں آپ جو چاہیں کھائیں ۔ جب چاہیں کھائیں آپ کی مرضی ہے تو کام کریں نہیں ہے تو نہ کریں ۔ آپ یونیورسٹی یا جاب پہ جائیں یاسارا دن سو کے گزاریں اس عمر میں اماں اباکم ہی کچھ کہتے ہیں نہ ان کے کہنے کا اثر بچپن جیسا ہوتا ہے ۔ وہ جتنا کہہ لیں کہ آدھی آدھی رات تک نہ جاگو‘ موبائلز رکھ دو اور صبح جلدی اٹھو۔۔۔ فرق نہیں پڑتا ۔ پھروہ عموماََ کہنا چھوڑ دیتے ہیں
    میں اکثر کہتی اور لکھتی ہوں کہ اپنے ہیرو خود بنیں ۔ لیکن وہی شخص اپنا ہیرو خودبن سکتاہے جو پہلے اپنا پیرنٹ خود بننا سیکھے ۔ اپنی ماں بنے ۔ خود پہ روک ٹوک کرے ۔ خود پہ پابندی لگانے کا جگر پیدا کرے ۔ خود کو کام کے لیے اٹھائے ۔ کب کھانے سے ہاتھ روک لینا ہے اور کب ایکسرسائز کے لیے اٹھ جانا ہے ۔ اپنی ذات‘ کیرئیر اور دین کو بہتر بنانے والے کاموں پہ اس عمر میں کوئی آپ کو مجبور نہیں کرسکتا کوئی آپ سے یہ کام نہیں کرواسکتا ۔ اور یہ کام نہ ہونے کی صورت میں کوئی آپ کو نقصان سے بچانے بھی نہیں آئے گا کیا کرنا ہے اور کس سے رک جانا ہے۔
    اپنی پیرنٹنگ آپ نے اب خود ہی کرنی ہے ۔ اس کو کہتے ہیں سیلف ڈسپلن۔۔ ری پیرنٹنگ۔۔!!!!

    @Missfaryalkhan

  • رشتوں کی قدر  تحریر: محمداحمد

    رشتوں کی قدر تحریر: محمداحمد

    رشتے جزبات اور احساسات کے ہوتے ہیں اگر ہم سب رشتوں کی قدر کریں تو کوئی بھائی ، بہن ، والدین عزیز و اقارب دکھی نہیں ہوگا ہر جگہ کہیں جائیداد کا مسئلہ ہے تو کہیں لوگ ایک دوسرے کا حق کھا رہے ہیں بہنوں کے حقوق پر سانپ سونگھ جاتا ہے کہیں اولاد نہیں ہے تو کہیں لوگوں کے تعنوں سے گھر والے آپس میں اختلافات کر کے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ اولاد اللہ پاک کی دین ہے جن کی اولاد ہے وہ نیک نہیں ہے آج کل کے دور میں ماں باپ بچے کو اگر موٹر سائیکل لے کے دے دیتے ہیں وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ بچہ اس کے ساتھ کیا کر رہا ہے ماں باپ یا گھر کے بڑے کا فرض ہے اس کی دیکھ بھال کرے اس کو نصیحت کرے جہاں بچہ غلط کر رہا ہے اس کو ٹھیک کرے تاکہ رشتوں میں قدر بھی رہے اور اچھی صحبت میں بھی رہے

    آج کل کے دور میں اتنی تیزی آگئی ہے کہ ہر انسان کے لئے رشتے کی قدر ایسے ہی ہے جیسے سیڑھی پر پاؤں رکھ کر وہ آگے نکل جاتے ہیں جب کو اس سیڑھی کا کوئی استعمال نہیں کرتا تو اس کو کچرہ سمجھ کر کباڑ میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ ہر طرف نفسہ نفسی کا عالم ہے ہر کوئی مفادات کی خاطر تعلق رکھتا ہے ۔ تعلق کو کبھی مفادات کی خاطر نہیں رکھنا چاہیے عزت اللہ پاک نے دینی ہے

    معاشرے میں کچھ لوگوں میں اپنی طرف کھینچ لانے کی طاقت ہوتی ہے مگر اپنا بنا کے رکھنے کی قوت نہیں ہوتی ایسے ہی کچھ رشتے بہت خوبصورت ہوتے ہیں مگر ان کا کوئی نام نہیں ہوتا ان پر ہمارا حق خود بخود اس طرح کا ہو جاتا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں اپنے ساتھ چاہئے ہوتے ہیں بغیر کسی لالچ ، کسی غرض کے ، بس ان کا ہماری زندگی میں ہونا ہی ایک سکون ایک تسلی کا باعث ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا مرد شرم محسوس کرتا تھا کہ بیوی کام کرے اُسے اپنے آپ پہ فخر ہوتا تھا کہ وہ کما رہا ہے اپنے بچوں کے اخراجات اور گھر کے تمام اخراجات اٹھاتا تھا اب وقت کے ساتھ ساتھ ماحول بدل گیا ہے لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے معاشرے میں مغرب کو دیکھ کر لوگوں نے بیٹیوں کو کام کرنے کی طرف راغب کردیا ہے بعض لوگوں کو مجبوری کی وجہ سے کام کرواتے ہیں اور بعض لوگ شوق کی وجہ سے ۔ وہی بیٹی سے بیٹا بن کر کام کرنے لگ جاتی ہے اور مرد گھر کے باہر اس کو پروٹیکشن دیتا ہے اب معاشرے میں گھر سے باہر کام کرنے والی لڑکی کو شکار سمجھا جاتا ہے اس طرح لڑکیوں کا آگے بڑھنے سے نقصانات یہ ہوا کہ جو لڑکیاں نوکری کرتی ہیں ان کیلئے رشتے عام ہوگے ہیں اور جو لڑکیاں کام نہیں کرتی وہ گھر میں بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں جس گھر میں عورتیں سارا دن باہر کے کام کرتی ہیں وہی عورتیں گھر میں آکر کام کرتی ہے تو گھروں میں جھگڑے عام ہوگے ہیں اس سب کا اثر یہ ہوا کہ پہلے مرد کماتا تھا اُس کا انحصار گھر میں ہوتا تھا اب اگر عورت کماتی ہے تو وہ انحصار کم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے طلاق کی ریشو بڑھ گئی ہے

    مُخلص رِشتوں کی قدر کریں کیونکہ جہاں رُوح کے رشتے قائم ھوں وہاں پھول موسموں کے محتاج نہیں ھوتے۔ اور رہ گئ بات آپ کی تو اچھے لوگوں کو کھو کر اپ نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا یہ وقت آپ کو بتاۓ گا

    @JingoAlpha

  • نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا تحریر: ذوہا علی

    نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا تحریر: ذوہا علی

    ‏نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا، دن دیہاڑے حوا کی بیٹی کی عصمت کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی نوچ لیا اور اُس معصوم عورت کی عصمت دری کے بعد مزاحمت پر اس کی گردن پر چھڑی چلا دی۔ ایک تو وہ درندہ تھا جس نے اس معصوم، غریب عورت کے ساتھ ظلم کیا لیکن اس کے علاوہ وہاں کچھ اور بھی درندے موجود تھے۔ اس معصوم، زخمی عورت کے جسم کو مرہم پٹی کی ضرورت تھی کیونکہ اس کے گلے سے خون بہہ رہا تھا۔ مگر افسوس کہ اس بے حس دنیا کے بے حس لوگ اُس معصوم عورت کی ویڈیو بنانے لگ گئے، اس سے بیان لینے لگ گئے۔ اس بنتِ حوا کو بروقت ہسپتال لے جانے کی بجائے اس کے انٹرویو لینے لگ گئے۔
    یہ واقعہ راولپنڈی کے تھانہ چونترہ کی حدود میں پیش آیا جہاں ایک بچے کو قتل کر دیا گیا اس کی ماں کی عصمت لوٹی گئی اور جب اس نے مزاحمت کی تو اس کے گلے میں چھڑی چلا دی گئی۔ وہ علاقہ غیر ہو چکا ہے وہاں کوئی قانون نہیں ہے لوگ بغیر کسی خوف و خطر کے معصوم لوگوں کو ازیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ معصوم عورت تو ابدی نیند سو گئی مگر اس کے ساتھ کیے گیے ظلم کا حساب معاشرے کو دینا ہو گا۔
    ہمارا معاشرہ ایسے درندوں سے بھرا پڑا ہے۔ ہوس کے اتنے پجاری ہو گئے ہیں کہ اپنی ہوس کی انتہا پر کسی معصوم انسان کی زندگی کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ بے حسی کی اس انتہا پر پہنچ چکے ہیں کہ ایسا کوئی انسان مر رہا ہو تو اُس وقت بھی پیسے اور شہرت کے چکر میں ہوتے ہیں کہ اُس کی مدد کی بجائے تصاویر بنانے لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ کب تک ایسی بے حسی کی زندگی گزار رہے ہوں گے اور اپنی شہرت اور پیسے کی خاطر دوسروں کی زندگیوں سے مذاق کر رہے ہوں گے۔ ایسے لوگ انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں جو انسانوں کی مدد کی بجائے گمراہی پھیلا رہے ہیں اور اپنی سستی شہرت کی خاطر کسی معصوم کی آخری سانس پر بھی اس کی مدد نہیں کرتے۔
    ایسے ظلم معاشرے سے تب ہی ختم ہو سکتے ہیں جب اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق قوانین نافذ کیے جائیں۔ جب تک شرعی سزائیں نافذ نہیں ہوتیں ایسے ظلم ہوتے رہیں گے۔
    اللّٰہ بڑا بے نیاز ہے۔ جب ظالم کے گلے اللّٰہ کا عذاب پڑتا ہے تو اُس عذاب کی لپیٹ میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو اس ظالم کے کیے گئے ظلم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اللّٰہ پھر ہمارے انفرادی عمل کو نہیں دیکھتا۔ اللّٰہ اپنے دین کے چلانے کا کام دوسری اقوام سے بھی لے سکتا ہے اور تاریخ میں بہت دفعہ لیا ہے۔

    ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
    پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے (اقبال)

    اور اب بھی لے سکتا ہے اور پھر پرانے مسلمانوں کی طرح ہمارے بھی صرف قصّے اور کہانیاں ہی رہ جائیں گی۔
    خدارا اس ظلم کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور آواز اٹھائیں اپنے ایمانوں کی خاطر، اس بات کی خاطر کہ کل کو یہ فتنہ ہمارے گھروں تک نہ پہنچ جائے۔ اور اپنی شہرت اور لالچ پسِ پردہ ڈالیں۔ اللّٰہ کی رضا کے لیے مظلوموں، مسکینوں کے لیے اٹھیں نا کے سوشل میڈیا پر شہرت اور پیسے کمانے کی خاطر۔ اگر ہم اللّٰہ کی رضا کی خاطر اُٹھے تو اللّٰہ سب کچھ دے گا اور اگر شہرت اور پیسوں کی خاطر اُٹھے تو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

    اللّٰہ رحم کرے اس ملک و قوم پر۔ پتہ نہیں یہ روز کی داستانیں جو لوگ اپنے رب کو سنانے چلے جاتے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلے گا !!

    Name : زوہا علی
    Twitter handle : @ZoHaAli_15
    Topic :
    سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میں

    وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا

  • حالات حاضرہ اور نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری  تحریر: مجاہدحسین

    حالات حاضرہ اور نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری تحریر: مجاہدحسین

    تازہ خبریں: تحریک انصاف نے آزاد جموں و کشمیر سے 25 نشستوں پہ کامیابی سمیٹی، عمران خان نے اگلا ہدف سندھ کو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
    اور تاریخ گواہ ہے کہ جب عمران خان کسی چیز یا کام کے بارے میں فیصلہ کر لے تو پھر وہ اسے پورا کر کے رہتا ہے۔

    ووٹ چرانے والوں کو استعفی مانگتے وقت شرم آنی چاہیئے۔ مریم اورنگزیب
    یاد آیا، کچھ دن پہلے ایک ٹی وی شو میں بیٹھے ن لیگ کے سینئر سیاستدان اور پاکستان کے سابق وزیراعظم یہ فرما رہے تھے کہ جتنا ووٹ چوری کرنے کا تجربہ ہمارا ہے اتنا کسی کا بھی نہیں۔ سوچ رہا ہوں کہ کیا موصوف اور موصوفہ بھی شرم محسوس کرتے ہونگے یا ان کی شرم والی حس مر چکی ہے؟

    کرونا کے کیسسز میں خطرناک اضافہ، مئی کے بعد کیسسز بلند ترین سطح پر۔
    ہم اس قوم کو بار بار اس وائرس سے احتیاط کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جو یہ بات شوق سے کہتے ہیں کہ جو رات قبر میں ہے وہ دنیا میں نہیں۔ ان پہ خاک کسی دلیل کا اثر ہونا ہے۔ لیکن اس وقت تک جب ہر ایک کے گھر سے کوئی رشتہ دار اس بیماری سے جانبحق نہ ہو تب تک کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔

    پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی اور تشدد کا سہارا لیا۔ بلاول زرداری
    قارئین! آپ کو بتاتے چلیں کے انہیں کی پارٹی کے عہدیداروں کے خلاف الیکشن والے دن تحریک انصاف کے دو نوجوانوں کو سیدھی گولیاں مار کے شہید کرنے کا پرچے ہو رہے ہیں۔

    بھارت سے مدد مانگنے کے بیان کا معاملہ، ن لیگ نے اسماعیل گجر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
    یہ سن کے یاد آیا کہ ہمارے ہاں ایک محاوہ بہت مشہور ہے کہ "وچوں وچوں کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جائی۔ مطلب پہلے اپنے لوگوں چاہے وہ نہال ہاشمی ہو، جاوید لطیف یا پھر اشرف گجر۔ یہ لوگ اتنے بڑے سیاستدان نہیں کہ اپنی مرضی سے کوئی بھی بیان دے دیں، قوی امکان ہے کہ ان کی پشت پناہی ن لیگ کی سیاسی وارث اور شاہی خاندان کی ولی عہد مریم صفدر ہی فرما رہی ہونگی۔

    اور اب نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری

    ‏یہی نہیں مرے سرکار جھوٹ بولتے ہیں
    یہاں کے کوچہ و بازار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏یہ میرے شہرِ خرابی میں بسنے والے لوگ
    عجیب ہیں کہ سر دار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏دیئے جلائے ہوئے شام کی حویلی میں
    تمام ریشمی کردار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏کمال یہ ہے ترے چشم و لب کے آئینے
    بڑے یقین سے ہر بار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏یہ باب عشق، اسے روشنی سے نسبت ہے
    یہاں تو صرف سیاہ کار جھوٹ بولتے ہیں۔

    اور اب آخر میں ایک مطلع:

    ‏قرار دل فسانہ ہو گیا ہے
    تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

    @Being_Faani

  • مضبوط سامراجی قوت کا خواب تحریر: محمد معوّذ

    مغرب کی طرف سے مسلسل اسلام سے متعلق منفی پروپیگنڈا جس سے بنیاد پرستی کی قدامت پسندی اور انتہا پسندی شامل ہیں زور وشور سے کیا جارہا ہے اور اسلام کو دقیانوسی نا قابل عمل اور دہشت گرد مذہب کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ دنیا میں جب بھی کہیں بھی کوئی گڑبڑ تخریب کاری حادثہ یا سانحہ رونما ہو تو فوری طور پر تمام ذرائع ابلاغ اس کی تشہیر اس حساب سے کرتے ہیں کہ جیسے تمام تر مسلمان اس میں بیک وقت ملوث ہوں ۔ اگر وہ براہ راست نہیں تو بلا واسطہ وہ اس میں ضرور شریک ہیں ۔ مغربی دنیا ویسے تو حقوق العباد پر سب سے زیادہ ڈھونگ رچاتا ہے لیکن خود امریکا بهادر بغیر جواز کے عراق پر چڑھ دوڑا ۔ سیکوریٹی کونسل کی اس نے پروانے کی دنیا بھر میں عراق پر فوج کشی کے خلاف جلوس اور مظاہرے ہوئے مگر امریکا ٹس سے مس نہ ہوا اور کسی اخلاقی اور قانونی جواز کے بغیر عراق پر فوج کشی کی اور قابض ہوا ساتھ میں برطانیہ شیطان کو بھی ملالیا ۔ اب جب کہ عراق میں منظم گوریلا جنگ شروع ہو چکا ہے تو مختلف ملکوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ عراق میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی فوجیں دیں تا کہ امریکا اپنا ظالمانہ تسلط قائم رکھ سکے ۔ بھارت نے امریکی درخواست پرعراق میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار کردیا ہے ۔ فوج نہ بیجھنے کا فیصلہ وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی زیر صدارت کابینہ کی سیکوریٹی کمیٹی کے دو گھنٹے کے اجلاس میں کیا گیا امریکا نے بھارت سے اپنی 17 ہزار فوجی عراق بھیجنے کی درخواست کی تھی جسے واجپائی کابینہ نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ۔ امریکا ہندوستان کو جدید ہتھیار سپر الیکٹرانک آلات جنگی ساز و سامان اور مالی امداد فراہم کرتا ہے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ ترجیح دیتا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت نے عراق میں فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے ۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی فوجیں عراق بھیجے تا کہ وہ پاکستان کو پوری طرح عرب دنیا اور اسلامی ملکوں کے درمیان بدنام کرسکے ۔ بھارت پروپیگنڈہ کرے گا کہ پاکستانی فوج عراقی مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے اور اس طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ عربوں کا دوست ہے۔
    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ 1990 ء میں جہادکشمیر شروع ہونے کے بعد سے اب تک بھارت تین بار اپنی فوجیں سرحدوں پر لے آیا لیکن یہ کشمیری مجاہدی تھے جنھوں نے بھارتی فوج کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ الجھا کر بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہونے دی لیکن ہم نے ان مجاہدوں کے مدد کے ہاتھوں کو جھٹک دیا ہمیں امریکی صدر کے ہاتھوں زیادہ مضبوط نظر آئی جس کا بحری بیڑہ مشرقی پاکستان کو بچانے کے لیے بڑے دعووں کے باوجود آخر تک نہ پہنچ سکا ۔
    ہمارے حکمران کی کم عقلی کو دیکھو کہ جب امریکا دباؤ ڈالے تو کہتے ہیں ہم دراندازی بند کر دیں گے کہ کون کی سیاست ہے بلکہ یہ بے وقوفی ہے 1948 ء میں مجاہدین نے ہند وفوج سے کشمیر کا جو حصہ آزاد کروایا وہ علاقہ اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی لائن قرار دیا گیا دنیا کے کسی بھی قانون میں سیز فائر لائن کو بارڈر تسلیم نہیں کیا جاتا جب بارڈر لائن ہی نہیں تو پھر دراندازی کا مطلب کیا ہے ؟ خدا حکمرانوں کو ہوش دے یہ سب کچھ پاکستان کو پوری اسلامی دنیا سے تنہا کرنے کی سازش ہے جس کا سہرا بھی امریکا مکار کو ہی جاتا ہے۔

    @muhammadmoawaz_

  • نماز تحریر : اعجاز حسین

    نماز تحریر : اعجاز حسین

    ہزاروں سوچیں الجھاتی ہیں مجھے
    اور ایک سجدہ سلجھا دیتا ہے سب

    اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن نماز کی اداٸیگی ہے۔جو ہر مسلمان مرد اور عورت پر دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گٸی ہے۔
    نماز فجر ،نماز ظہر،نماز عصر،نماز مغرب اور نماز عشإ۔
    جس طرح ہر عمارت کی بنیاد ہوتی ہے اور اس بنیاد کے بغیر کوٸی بھی عمارت قاٸم نہیں رہ سکتی اسی طرح نماز کو ”دین اسلام کا ستون“ قرار دیا گیا ہے۔
    نماز کامیابیوں کی کنجی ہے اور سجدہ دل و روح کا سکون ہے۔قیامت کے دن ہر انسان سے پہلا سوال نماز کی اداٸیگی کے متعلق ہو گا۔
    اگر کامیابی چاہتے ہو تو نمازی بن جاٶ،کیونکہ نماز کے بغیر کوٸی بھی کامیابی ممکن نہیں۔
    نماز گناہوں اور بے حیاٸی سے روکتی ہے ۔جیسے سورج کی شعاٸیں کتنی تیز ہوتی ہیں مگر معمولی سے بادل ان تیز شعاٶں کو روک دیتے ہیں اسی طرح گناہ کتنے ہی زیادہ طاقتور کیوں نہ ہوں نماز انہیں روک دیتی ہے۔
    نماز شیطان کی شکست اور مومن کی جیت ہے۔اور نماز فجر انسان کی شیطان کے خلاف دن کی پہلی فتح ہے۔
    یقین کریں کہ نمازِ فجر قاٸم کرنے سے انسان سارا دن رب تعالٰی کی رحمتوں کے ساۓ میں رہتا ہے۔جب ہم نماز محبت سمجھ کر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ دوسری نماز کیلیے خود کھڑا کر دیگا۔
    جب اللہ تعالٰی ناراض ہوتا ہے تو وہ روٹی نہیں چھینتا بلکہ انسان سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔
    اللہ کے لیے وقت نکالو اور وقت پر نماز ادا کرو اللہ تمہاری زندگی سے برا وقت نکال دیگا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا کہ” نماز کی فکر اپنے اوپر فرض کر لو خدا کی قسم دنیا کی فکر سے آزاد ہو جاٶ گے اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔“
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا” بندہ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔“
    حضرت علیؓ نے فرمایا” کہ نماز کے لیے سستی ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔“
    اس لیے مسلمان اور نماز میں سستی یہ دو باتیں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں نماز جنت کی کنجی ہے۔
    ایک صحابیؓ نے حضورﷺ سے پوچھا ”ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ ہماری نماز قبول ہو گٸی ہے،آپﷺ نے جواب دیا ،جب تمہارا اگلی نماز پڑھنے کا دل کرے۔“
    نماز انسان کو مٹی سے سونا بنا دیتی ہے۔نماز ایسے پڑھو جیسے تم سے زیادہ گنہگار کوٸی نہیں بےشک اللہ سے زیادہ مہربان کوٸی نہیں۔نماز اللہ تعالٰی سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
    نماز وہ واحد حکم ہے جسے اللہ نے آسمان سے وحی کے ذریعے نہیں اتارا بلکہ اپنے محبوب حضرت مُحَمَّد ﷺ کو آسمان پہ بلا کر تحفے میں دیا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا ” اپنے بہترین وقت کو نماز میں وقف کرو کیونکہ تمہارے سب کام تمہاری ”نماز“ کے بعد ہی قبول ہونگے۔
    ایک اور جگہ حضرت علؓی نے فرمایا ”جب میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے رب سے بات کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں۔اور جب میرا جی کرتا ہے کہ میرا رب مجھ سے بات کرے تو میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں“۔
    سجدے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم زمین پر سرگوشی کرتے ہیں اور وہ عرش پر سنی جاتی ہے۔ وضو سے شکل،قرآن سے عقل اور نماز سے نسل پاک ہوتی ہے۔
    ایک میڈیکل ریسرچ کہتی ہے کہ دل پورے جسم کو خون فراہم کرتا ہے لیکن دماغ ،دل کے اوپر ہونے کیوجہ سے خون پورے پریشر کے ساتھ دماغ تک نہیں پہنچتا ۔اور یہ کمی دماغ کی کمزوری اور ڈپریشن کیوجہ بنتی ہے ۔اگر انسان روز ایک بار بھی ایسی پوزیشن میں آۓ کہ اسکا دماغ اسکے دل سے نیچے ہو ۔جیسے مسلمان سجدہ کرتے ہیں تو خون صحیح طرح سے دماغ تک پہنچتا ہے اور دماغ کو طاقتور اور ترو تازہ رکھتا ہے۔
    نماز اور قرآن بعض دفعہ آپکے حالات تو نہیں بدلتے لیکن آپکو ان حالات میں اچھی طرح سے رہنا سکھا دیتے ہیں ۔آزماٸشیں صرف دین پر چلنے سے نہیں آتیں بلکہ جو آزماٸشیں لکھ دی جاتی ہیں۔نماز اور سجدہ ان سے نکلنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔سجدے کی توفیق ملنا رب کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔
    اگر نماز کے وقت طواف کعبہ رک سکتا ہے تو ہمارے کام اور کاروبار کیوں نہیں؟
    حضرت امام حسینؓ نے فرمایا کہ” مجھے جنت سے زیادہ عزیز نماز ہے کیونکہ جنت میری رضا ہے اور نماز میرے رب کی رضا ہے“۔

    پتا نہیں کیا جادو ہے سجدے میں
    جتنا جھکتا ہوں اتنا اوپر جاتا ہوں

    اللہ پاک ہم سب کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔جب بچہ سات سال کا ہو جاۓ تو اس پر نماز فرض ہو جاتی ہے۔خود بھی نمازپڑھیں اور بچوں سے بھی پڑھاٸیں۔کیونکہ بچے وہ نہیں کرتے جو آپ انہیں کرنے کا بولتے ہیں بلکہ بچے ہماری نقل کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں۔

    @Ra_jo5

  • حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔  تحریر: طیبہ

    حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔ تحریر: طیبہ

    حسد عربی ذبان کا لفظ ہے
    جسکے معنی ہیں جلن، کینہ پروری ،بدخواہی کے ہیں۔ اگر اس کے مفہوم کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی کی کامیابی اور خدادا صلاحیتوں کو برداشت نا کرنے کا نام ہے۔ اور دل میں یہ خیال آنا کے اس کو ہی یہ سب کچھ کیوں مل رہا ہے کیا مجھ میں ایسی کوئی کمی ہے جیسا کے کسی کی شہرت،دولت ، علم، کامیابی کو دیکھ کر جلنا کہ یہ سب میرے پاس کیوں نہیں ہے۔اصل میں ایمان کی کمزوری ہی انسان کو حسد کی طرف لے کر جاتی ہے دنیاوی چیزوں کی ہوس اور لالچ انسان کو تباہ کر دیتی ہے ۔اللہ تعالی کی دی ہوئی صلاحیتوں سے جلن کرنا بے حد بیوقوفی کی علامت ہے۔ اس طرح کے متعد سوالات جہنم لیتے ہیں جس سے دل میں بدخوی پیدا ہو جاتی ہے اور انسان حسد کرنے لگ جاتا ہے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے ۔اج کل معاشرے میں حسد جیسی برائی عام ہو چکی ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں نفرت اور تشدد کا رحجان پیدا ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہتان اور الزام تراشی بھی بڑھ رہی ہے ۔زاتی زندگیوں کو نشانہ بنا یا جاتا ہے کریکٹر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس طرح کے رحجان سے معاشرے میں انتہا کی جہالت پھیل چکی ہے۔ ایک دوسرے سے سبقت لیے جانےمیں یہ بھول چکے ہیں کہ اخلاقی رویہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے ۔اسی لیے اسلام میں بھی اس پہ ذور دیا گیا ہے کہ حسد سے بچیں عقل کو کھا جاتا ہے دوسروں کا نقصان کرتے کرتے اپنا نقصان ہو جاتا ہے۔یہ بھول جاتاہے کہ عزت وذلت اور ترقی و تنزل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ۔
    اللہ تعالیٰ نے بہت صاف اور واضح طورپر ارشاد فرمایاہے
    کہو : اے اللہ! ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔(اٰل عمران
    )3:26)
    اللہ تعالی ہی کی زات ہے جو انسان کو صلاحیتوں سے نوازتی ہے ۔جس کی قدرت کیے بغیر ایک پتا تک نہیں ہل سکتا ہے ۔زوال اور عروج انسان کی زندگیوں سے جڑے ہیں۔ کبھی نعمتیں چھن بھی جاتی ہے اور کبھی انسان کے گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ کچھ مل جاتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے ۔حسد اخلاقی برائیوں کی ایک قسم ہے جس سے انسان کی شخصیت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے ۔حسد کرنا ذہنی پستی کی علا مت ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک بہت مشہور حدیث ہے کہ ایک بار غریب و مفلس مہاجرین کی ایک جماعت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ عرض کی: یارسول اللہ! مال دارو خوش حال لوگ مرتبے میں ہم سے آگے بڑھتے جارہے ہیں۔ وہ لوگ ہماری ہی طرح نمازیں پڑھتے ہیں، ہماری ہی طرح روزے رکھتے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ چوں کہ وہ ارباب ثروت ہیں، اس لیے وہ حج بھی کرلیتے ہیں، عمرہ بھی کرلیتے ہیں اور جب جہادکا وقت آتاہے تو وہ مال و دولت سے بھرپور مدد کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر غریبوں،مفلسوں اور حاجت مندوں کی بھی امداد کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ ہم ان پر سبقت نہیں حاصل کرسکتے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی اْس جماعت کی بات سنی اور ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتادوں، جس سے تم بھی ان سب کے برابر ہوجاؤ، تم اپنے پیچھے رہنے والوں سے بہت آگے بڑھ جاؤ، اور تمھاری برابری اْن لوگوں کے سوا کوئی نہ کرسکے جو وہی عمل کریں، جو میں تمھیں بتانا چاہتاہوں؟ سب نے خوشی خوشی بہ یک زبان کہا: کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسولؐ! ضرور ارشاد فرمائیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوق وطلب کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد 33، 33 مرتبہ سبحان اللہ، الحمد للہ اور 34مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ (بخاری، مسلم، بیہقی، کتاب الصلوٰۃ ، باب ما یقول بعد السلام، حدیث: 348)
    حسد سے بچنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اخلاقی رویوں کو درست کر نا ہے برداشت پیدا کرنی ہے ۔دوسروں کی کامیابی اور خوشیوں پہ خوش ہونا ہے ان کی خوشی میں شامل ہونا چاہیے۔جس سے انسان کے اندر مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ انسان خود بھی خوش رہتا ہے مایوسی سے بچ سکتا ہے۔اللہ تعالی پہ کامل اور بھروسے سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم محنت اور لگن سے جو چاہتے ہیں حاصل کر سکتے ہیں کوئی انسان بھی کسی سے کم نہیں ہے اللہ تعالی نے سب کو ایک جیسا دماغ دیا ہوا ہے اس کا صحیح اور درست استمال کیا جائے تو ہم تو وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتےہیں ۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    تم سے پچھلی امتوں کی بیماریوں میں سے بغض و حسد کی بیماری تمھارے اندر سرایت کرگئی ہے۔ کیا میں تمھیں کوئی ایسی چیز نہ بتاؤں، جو تمھارے اندر محبت پیداکردے؟ وہ یہ ہے کہ تم باہم سلام کو عام کرو۔

    @JeeTaiba

  • کشمیر عمران خان کا مگر   تحریر:محمد شہباز سرکانی

    کشمیر عمران خان کا مگر تحریر:محمد شہباز سرکانی

    آذاد کشمیر میں حالیہ الیکشن ہوۓ جس میں پاکستان تحریک انصاف کا سادہ اکثریت سے 25 کے قریب سیٹیں ملیں اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگٸ ہے ۔ اب وفاقی کی ایک اور حکومت آذاد کشمیر میں بھی بن گٸ ہے مگر سوال یہ ہے کہ گزشتہ حکومتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں فرق نظر آۓ گا یا ان کی طرح یہ بھی ویسے چلیں گے ۔
    وزیراعظم عمران خان نے اپنی الیکشن کمپین میں بہت سے وعدے تو کیے مگر یہ تو ویسے ہی ہے جس طرح عمومی الیکشن کمپین میں ہوتا ہے ۔ مگر اب پاکستان تحریک انصاف کو اور حکومتوں کے درمیان فرق تو دکھانا پڑے گا تاکہ ایک واضع صورتحال نظر آۓ اور عمران خان کا نعرہ کرپشن سے پاک اور ترقی پسند کشمیر کی تقدیر بدلے
    حالیہ الیکشن کے بعد عمران خان کی حکومت کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں جس سے ان کو عوامی مساٸل پر توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔ یہ حکومت تو مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی کو ہمیشہ کرپٹ کہتی رہی ہے اب تو ان کی اپنی حکومت بنے گی اب یہ کرپشن سے پاک حکومت کو چاہیے کہ عوام کے حقیقی معنوں میں مساٸل حل کرے تاکہ تھوڑے بہت عوام کے مساٸل حل ہوں ۔
    آذاد کشمیر میں عمران خان پہلی بار حکومت بنانے جارہے ہیں اور اس حکومت کو بہت سے مساٸل کا سامنا بھی ہوگا اور یہ ایک چیلنج سے کم نہیں ۔ کشمیر میں حکومت کو ایک چیز کا ہمیشہ سے فاٸدہ رہا ہے کہ جس کی حکومت وفاق میں ہوتی ہے اس کی حکومت آذاد کشمیر میں بنتی ہے اور اس بار بھی ہمیشہ کی طرح ایسا ہوا ہے اور اب عمران خان کی وفاق میں حکومت ہونے کے ناطے وہ اپنا بجٹ عوام کے مساٸل حل کرنے پر صرف کریں اور نا صرف مساٸل حل کریں بلکہ سیاحت کےلیے بہت سے اور نۓ راستے کھولیں اور سیاحتی مقامات کو پر رونق بنانے کےلیے حقیقی معنوں میں پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہت سا ریونیو حاصل کرکے ہم دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ اجاگر کریں ۔
    کشمیر جنت نظیر وادی ہے جہاں بہت سے سیاحتی مقامات قابل ذکر ہیں اور وہاں کی آب و ہوا بھی قابل رشک ہے ۔ حکومت کا چاہیے کہ وہ بہت سے نۓ مواقع پیدا کرے جس سے سیاحت کو فروغ حاصل ہو اور اس کا براہ راست فاٸدہ حکومت اور عوام کو پہنچے اس سے روزگار کے نۓ مواقع پیدا ہونگے اور مقامی افراد کو ترقی کا موقع حاصل ہوگا اور بہت سے مساٸل حل ہونگے. تحریر : https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09

  • پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    1947 قیام پاکستان کے بعد ہی مختلف شعبوں میں خود کفیل ہونے کے لیے، متعلقہ ادارہ تشکیل دیئے گئے تھے، ان میں سپیس ٹیکنالوجی کےلیے 1961 میں ڈاکٹر عبدوسسلام سپارکو(خلائی و بالائے فضائی تحقیقاتی مأموریہ) کی بنیاد رکھی گئی ۔ابتداء میں سپارکو نے خوب ترقی کی جس کا اندازہ اپ اس بات سے لگائے سکتے ہیں کہ 7 جون 1962 کو ، رہبر راکٹ کے لانچ کیاجس سے پاکستان ،اسلامی دنیا اور جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ، ایشیاء میں تیسرا ، اور بغیر پائلٹ خلائی جہاز کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے والا دنیا کا دسواں ملک بن گیا۔اسی کے ساتھ ہی کامیابیوں کا سفر طےکرتے ہوئے سپارکو نے متعدد ساؤنڈ راکٹ لانچ کیے , پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ -بدر 1 ، 1990 میں , بدر-بی کو 2001 میں ۔ 2011 میں ، پاکس سیٹ -1 جو پاکستان کا پہلا مواصلاتی مصنوعی سیارہ بن گیا۔
    1971 کی جنگ کے بعد پاکستان کو معاشی طور پر کمزوری کی وجہ سے ملک کو مستحکم کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت نے بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے مختص رقوم میں کمی کی وجہ سے جس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ 2021 میں سپارکو کا بجٹ صرف 46 ملین ڈالر تو 1971 میں چند ملین تھا جس میں تمام معاملات چلانا ناممکن تھا جس سے پاکستان سپیس مشنز التوٰا کا شکار ہوتے گئے،یہئ سے سپارکو کا زوال شروع ہواجو کئی دہائیوں سے چل رہاہے، اس کے علاوہ ایک وجہ 70 و 80 کی دہائی میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا جووقت کی اہم ضرورت تھا جوعسکری و سیاسی توجہ کے سبب اس پرزیادہ کام ہورہاتھا ، جس سے فنڈ میں دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے سپیس مشنز کو بریک لگ گئی۔
    اس کے علاوہ چین کی طرف بڑھنے سے پاکستان کے جوہری عزائم کے بارے میں امریکی پالیسی حلقوں میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ، جو 1980 کی دہائی کے دوران تیزی سے واضح ہورہے تھے۔ مواصلاتی مصنوعی سیارہ لانچ کرنے کا منصوبہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ضائع ہو گیا تھا کیونکہ ضیا الحق کے دور حکومت میں بجٹ میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ بجٹ میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ خلا میں مزید گھٹ جانے والے عزائم کے ساتھ ساتھ اس وقت بھی آگیا جب پاکستان سوویت یونین کے ساتھ افغانستان میں اپنی جنگ میں مصروف تھا۔ پاکستان کے لئے سیاسی ترجیحات میں تبدیلی نے سپارکو کی پیشرفت میں طوقیں ڈال دی ہیں۔
    لیکن سپیس ٹیکنالوجی کی طرف کم دھیان ہونے کی وجہ سے ریسرچ و ڈیلومنٹ کے ساتھ نئی سٹیلائٹ تیار کرناو لانچ بروقت نہیں کرسکا جو زیرالتوا ہوتے ہوتے 2000 کی دہائی تک مزید سست روی کا شکار ہوگیا۔9/11 کے بعد کی دہشت گردی کی لہر نے امریکی پاپندیوں نے پاکستان کو مالی طور پر شدید کمزور کردیا جو 2015 تک پاکستان کے مستحکم ہونے تک سپیس مشنز بلکل ہی غائب ہوگئے۔
    سپیس ٹیکنالوجی کی اہمیت جدید دور کے ساتھ ساتھ کافی حد تک بڑھ چکی کیونکہ سٹیلائٹ کی مدد سے کوئی بھی ملک موسمیاتی تبدیلی ، سیلاب ، ظوفان ، بارشوں کا وقت سے پہلے پتہ لگاسکتاہے، جس سے ناصرف بہت بڑی تباہی سے بچا جاسکتاہے، اسی تناظر میں موجودہ دور میں دفاعی میدان میں بھی سپیس ٹیکنالوجی بے انتہاہ ضروری ہے کیونکہ فوجی دستہ آپس میں خفیہ پیغامات بھی سٹیلائٹ کی مدد سے بھیجتے ہیں، میزائل بھی مقررہ ہدف کو کامیابی دے نشان بنانے کے لیے سٹیلائٹ کا استعمال کرتاہےاور اس کے علاوہ دشمن کے علاقہ کی جاسوسی کےلیے بھی سٹیلائٹ کا استعمال کیا جاتاہے۔ اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ لوگ آپس میں موبائل کالز و میسجز آپس میں رابطہ کے لیے سگنلز سے جو سٹیلائٹ کی مدد سے ہی برق رفتاری سے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچتے ہیں، مجموعی طور پر یہ بات کی جائے تو ایک ملک کے تمام معاملات حالیہ دور میں انٹرنیٹ کے ساتھ جودراصل سپیس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی چل رہے ہوتے ہیں، جس کوچند منٹ میں مکمل تباہ بھی کیاجاسکتاہے جس پورا ملک مفلوج ہوسکتاہے، اس کی طاقت اس وقت روس ، امریکہ ، چین وغیرہ کے پاس جو ایک میزائل کی مدد سے کسی بھی ملک کی تمام سٹیلائٹس کوتباہ کرسکتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے بروقت توجہ نہ دینے کی وجہ سے آج پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گیاہے، جس کا صرف اس خطے میں ہی مقابلہ بہت مشکل ہے۔2022 میں چین کی مدد سے پاکستان سے ایک خلاباز خلا میں بھیجاجائے ، جس کاتکمیل موجودہ حالات کو دیکھ کر کہا جاسکتاہے کہ ناممکن نظر آرہاہے، اس کے علاوہ پاکستان خود سے سٹیلائٹ خلا ءمیں بھیجنا تو دور خودساختہ سٹیلائٹ بھی تیار نہیں کرپارہاہے،اس کے برعکس دنیا کے باقی ممالک چاند و مریخ پر پہنچ چکے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرنی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے ماحول کی دستیاب ہو جو اس کے لئے سازگار ہو اور سیاسی مرضی جو اس کا حامی ہو۔
    ایک پاکستانی ہونے کی ناطے حکومت ِوقت سے میری ذاتی طور پر گزارش ہے کہ خداراہ جس طرح ایٹمی پروگرام کو ممکن کربنایا تھا ، اسی طرح سپیس ٹیکنالوجی کی طرف بھی توجہ دی جائے جس سے ملک کی افواج و عوام اور کاروبار کو فائدہ ہوگا ناصرف قدرتی آفات کی تباہی سے بچنے میں مدد حاصل ہوگئی، اس کے علاوہ سپیس ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہوگاتو پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔
    اللہ پاک پاکستان کو سپیس ٹیکنالوجی میں ترقی و عروج عطا فرمائے ، آمین۔
    Name Muhammad Haris MalikZada
    Twitter ID:@HarisMalikzada

  • اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الۡاَبۡتَرُ  تحریر: سیدہ بخاری

    اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الۡاَبۡتَرُ تحریر: سیدہ بخاری

    کہاں گئے وہ گستاخیاں کرنے والے؟
    کہاں گئے وہ قریش کے متکبر سرداران جو
    نبی اکرمﷺ کو ایذا پینچایا کرتے تھے ،کہاں گیا ابو جہل، ابو لہب ، عتبہ، عتیبہ ،ولید اور کہاں ہیں باقی سب؟
    اور ابو لہب کو تو دیکھو کہ نبی ﷺ کا سگا چچا لیکن ایذا رسانی میں سب سے پیش پیش ہے۔ بغض و عناد اور تکبر کے اعلی درجے پر فائر ہے۔
    کیا تمہیں معلوم ہے کہ اسکا کیا ہوا؟
    اللہ کے اسقدر غصے کا شکار ہوا کہ اللہ نے قرآن میں فرما دیا
    تَبَّتۡ يَدَاۤ اَبِىۡ لَهَبٍ وَّتَبَّؕ‏ 
    ابولہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو  ﴿۱﴾
    یہ کیسے ممکن کہ تم میرے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرو اور میرے رب کا غضب تمہیں جا نہ لے؟
    چیچک کی بیماری میں مبتلا ہوا اور گل سڑ کر مرگیا۔لاش کے قریب کوئی پھٹکتا نہ تھا چند حبشیوں کو اجرت دے کر لاش گڑھے میں پھنکوائی گئی اور دیکھو تو اوپر سے پتھر یوں برسائے گئے جیسے رجم کو سزا دی جا رہی ہو۔
    اور اسکی بیوی ام جمیل جو اسکے ساتھ مل کر نبی اکرمﷺ کو ایذا دیا کرتی تھی دیکھو تو قرآن کیا کہتا ہے اسکے بارے میں

    فِىۡ جِيۡدِهَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ
    اس کے گلے میں مونج کی رسّی ہو گی ﴿۵﴾

    ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مری اور اسکی گردن میں مونج کی رسی ڈال کر جہنم میں بھیجا گیا۔
    اور کہاں گیا ان بدبختوں کا گستاخ بیٹا عتیبہ؟
    نبی اکرم ﷺ کی بددعا کا ایسا شکار ہوا کہ اللہ نے ایک شیر کو اس پر مسلط کردیا اور وہ یوں ہلاک ہوا۔
    اور مکے کے متکبر سرداروں کے بارے میں تو سنو
    "عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلیﷺ  نے کعبہ کی طرف منہ کر کے کفار قریش کے چند لوگوں شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ اور ابوجہل بن ہشام کے حق میں بددعا کی تھی۔ میں اس کے لیے اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے (بدر کے میدان میں) ان کی لاشیں پڑی ہوئی پائیں۔ سورج نے ان کی لاشوں کو بدبودار کر دیا تھا۔ اس دن بڑی گرمی تھی”۔
    سب کے سب بدر کے کنوئیں میں گلتے سڑتے چیل کووں کا شکار ہو گئے اور انکا غرور اور تکبر کسی کام نہ آیا۔
    کہاں گیا وہ کعب بن اشرف جو میرے نبی ﷺ پر سب و شتم کرتا تھا اور آپﷺ کی ہجو میں اشعار لکھتا تھا؟
    صحابہ کرام رض نے نبی پاک ﷺ کے حکم سے اسکو جہنم واصل کیا۔
    کہاں ہے وہ اسماء بنت مروان اور وہ بوڑھا بدزبان ابو عفک؟
    سب کے سب جہنم کے نچلے درجوں میں پڑے سڑ رہے ہیں،سب نے اپنی جانوں کیساتھ دشمنی کی اور اپنے تکبر سمیت بے نام و نشان ہو گئے کہ میرے رب نے یہ فرما دیا

    اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الۡاَبۡتَرُ ﴿3﴾
    (اے نبیﷺ )بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہ بے نام و نشان رہے گا

    اور آج تک ایسا ہی ہوتا آرہا ہے کہ میرے پیارے نبیﷺ کا ہر دشمن زلت کی موت کا شکار ہوا اور دنیا و آخرت میں زلیل و رسوا ہوا اور میرے نبی ﷺ کی شان ایسی اونچی ایسی نرالی ہے کہ قرآن نے انکی مدح بیان کی، اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور میرے نبی ﷺ کا ذکر ازل سے بلند تھا اور ابد تک بلند رہے گا۔
    اور گستاخیاں کرنے والے ہمیشہ سے زلیل و رسوا تھے اور ہمیشہ رہیں گے
      اور میرے  پیارے نبی ﷺ کی شان پر زرہ برابر فرق نہ آئے گا
    اور انکا ﷺ ذکر ہمیشہ بلند رہے گا
    وَرَفَعۡنَا لَـكَ ذِكۡرَكَؕ‏ ﴿۴﴾
    اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا  ﴿۴﴾