Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقات تحریر: سید لعل بخاری

    نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقات تحریر: سید لعل بخاری

    تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
    ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے
    پروین شاکر کا یہ شعر نواز شریف جیسے لوگوں کے لئے ہی ہے۔جو ایک ایسے شخص سے ملاقات کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں،جو تمام تر سفارتی،اخلاقی اور دنیاوی آداب کو ایک طرف رکھ کر ہمارے ملک پاکستان کو چکلہ قرار دے۔جو کچھ اس بد تہذیب افغان سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب نے کہا،چلیں وہ تو اسکے اندر کی غلاظت تھا۔مگر پاکستان کے تین دفعہ کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اس سے ملاقات کرتے وقت شرم کیوں نہ آئ۔کیا پاکستان دشمن شخص سے ملاقات پاکستان دشمنی نہیں ؟
    یہ سوال ہمیشہ نواز شریف کا پیچھا کرتا رہے گا۔کیا یہ بھی عمران دشمنی میں کیا گیا ہے۔مگر یہ عمران دشمنی میں کیسے ہو سکتا ہے؟
    اس نے تو ارض پاک کو گالی دی تھی۔وہ گالی ہم سب کے لئے تھی۔شائد وہ گالی نواز شریف جیسے لوگوں کے لئے نہ ہو،جن کا اوڑھنا بچھونا ان کی دولت ہوتی ہے،چاہے وہ جائز طریقے سے آۓ یا نا جائز طریقے سے۔
    یہ لوگ اقتدار کے پجاری ہیں۔اقتدار میں آنے کے لئے انہیں ملکی اقدار کی پرواہ نہیں ہوتی۔انہیں ہر حال میں اقتدار میں آنا ہوتا ہے،اس کے لئے چاہے مودی سے ہاتھ ملانا پڑے،چاہے خفیہ طریقے سےاسرائیل وفد بھیجنا پڑے یا پھر حمداللہ محب جیسے مکروہ شخص سے ملنا پڑے۔
    جس ملک نے ان جیسے لوگوں کو عزت دی،دولت دی،شُہرت دی۔اسی کے ساتھ دغابازیاں،؟
    کہاں کا دستور ہے؟
    ایسی احسان فراموشیوں کی مثال نہیں ملتی۔
    اس بندے حمداللہ محب کی ہرزہ سرائ پر وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا تھا کہ آئندہ اس سے کوئ پاکستانی نہ تو ہاتھ ملاۓ گا اور نہ ہی ملاقات کرے گا۔
    میں بھول گیا کہ قریشی نے یہ بات پاکستانیوں کے لئے کی تھی جو شائد نواز شریف پر لاگو نہیں ہوتی۔کیونکہ وہ آجکل پاکستان کے قانون کو چکمہ دیکر بحیثیت مفرور اور اشتہاری کے لندن میں تشریف فرما ہیں۔انہیں نہ پاکستانی قانون کی پرواہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی۔انہیں پاکستان اسی وقت پیارا لگتا ہے جب وہ وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہوں۔
    پاکستان ایسے لوگوں کا مسکن اسی وقت ہوتا ہے،جب انہیں اس سے دولت آرہی ہوتی ہے۔اور وہ اقتدار کے مزے اُڑا رہے ہوتے ہیں۔
    پاکستان ان کے لئے پیسے بنانے کی مشین ہے۔
    دولت کے پجاریوں کا ملک ان کی دولت ہی ہوتی ہے۔
    ان کی زندگی کا محور اسی ہوس میں اندھا ہو کر آگے بڑھتے رہنا ہوتا ہے۔

    @lalbukhari

  • علم کا اجالا تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    علم کا اجالا تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    مرکزی کردار
    رشید۔۔۔۔۔ایک گاؤں کا ان پڑھ کسان
    بشیر۔۔۔۔۔رشید کا دوست جو تھوڑا پڑھا لکھا ہے اور گاؤں میں رہتا ہے اور دفتری کاموں کو جانتا ہے
    احمد۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہوتا ہے
    اسلم۔۔۔۔۔۔ایک گورنمنٹ کا ملازم پٹواری
    ظفر اقبال۔۔۔۔۔۔ اسسٹنٹ کمشنر

    آغاز میں ہوتا یوں ہے کہ رشید کسی سے زمین خریدتا ہے اور وہ اپنے دوست بشیر کے پاس جاتا اور کہتا ہے کہ وہ اس کا کام کروا دے۔۔۔۔۔

    رشید:- میاں بشیر کیا حال ہیں اور کدھر مصروف ہوتے ہو؟

    بشیر۔۔ الحمدللہ رب کا کرم ہے اور دفتروں کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔
    رشید:- یار بات یہ ہے کہ میں نے کچھ زمین خریدی ہے اور اسے اپنے نام کروانا چاہتا ہوں تم دفتروں کے معاملات جانتے ہو میں تو ان پڑھ جاہل ہوں۔

    بشیر:- اچھا بھائی کل تم تیار ہو کر آجانا ہم شہر چلے جائیں گے اور تمام معلومات لے کر آئیں گے اور بعد میں تمہارا کام کروا دوں گا۔
    (بشیر سرکاری لوگوں سے ملا ہوتا ہے اور پیسے لے کر سب کے کام کرواتا ہے اور وہ رشید کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے)

    بشیر:- اسلم بھائی (پٹواری) کیا حال ہیں اور یہ میرا دوست رشید ہے اس نے زمین نام کروانی ہے سرکاری فیس کے ساتھ جو بھی غیر سرکاری فیس ہے وہ بھی بتا دیں۔
    اسلم:- الحمدللہ۔
    زمین کی منتقلی کے لئے پچاس ہزار اور باقی پچاس ہزار غیر سرکاری فیس ہے۔ وہ بشیر کو علیحدہ کر کے بتاتا ہے کہ جس میں دس ہزار آپ کا ہے اور وہ بہت خوش ہوتا ہے۔
    بشیر:- اسلم بھائی آپ کا بہت شکریہ جو آپ نے مناسب ہدیہ لیا ہے باقی ہماری طرف سے فائنل سمجھیں اور وہ رشید کو آکر بتاتا ہے۔
    رشید:- بشیر بھائی مجھے کچھ پتہ نہیں جو سہی لگتا ہے وہ کر دیں۔
    (وہ شام کو گھر پہنچتے ہیں اور رشید اپنے گھر چلا جاتا ہے اور اسے احمد ملنے آتا ہے)
    احمد:- بھائی رشید کیا حال ہیں اور آج کل کیا چل رہا ہے؟
    رشید:- الحمدللہ بھائی جان۔۔۔۔۔ یار کچھ زمین خریدی ہے اور وہ کل منتقل کروانی ہے۔
    احمد:- بھائی سرکاری فیس کے علاوہ کوئی پیسے تو نہیں دیے؟

    رشید:- آپ کو تو پتہ ہے میں ان پڑھ ہوں بشیر کو ساتھ لے کر گیا تھا پچاس ہزار فیس کے ساتھ پچاس ہزار غیر سرکاری فیس دینی ہے۔
    احمد:- بھائی آج کل کوئی رشوت نہیں لیتا اور بشیر تو سب کچھ جانتا ہے، بھائی آج کل بہت سختی ہے۔
    رشید:- مجھے تو اس نے جو کہا میں نے تو اس کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔
    احمد:- میں کل تمہیں لے کر جاؤں گا اور تمہارا کام سرکاری فیس کے ساتھ کروا دوں گا۔
    رشید:- احمد بھائی آپ کی مہربانی ہوگی میں تو کچھ نہیں جانتا.
    (احمد اور رشید اگلے دن شہر جاتے ہیں اور احمد اس کا کام کرواتا ہے)
    (احمد اسسٹنٹ کمشنر ظفر اقبال کے پاس جاتا ہے اور کام کرواتا ہے)
    احمد:- ظفر اقبال صاحب یہ میرا دوست ہے اس نے زمین نام کروانی ہے اور سرکاری طور پر زمین نام کر دیں اور جو فیس ہے یہ ادا کر دیتا ہے۔
    ظفر اقبال:- جناب میں ان کا مسئلہ ابھی حل کروا دیتا ہوں۔

    (ظفر اقبال اپنے سیکرٹری کو بلاتا ہے اور اس کو کہتا ہے سرکاری طور پر اس کا مسئلہ حل کرو)
    احمد؛- رشید میاں مبارک ہو آپ کا کام ہو گیا اور ہمارے سب ادارے سرکاری فیس پر کام کرتے ہیں معاشرے کے چند لوگوں کی وجہ سے ادارے خراب ہو رہےہیں۔
    رشید:- احمد بھائی یہ سارا کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا۔
    احمد؛- بھائی یہ تو میرا فرض تھا جو میں نے پورا کر دیا۔

    رشید:- احمد بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ۔
    ( جب یہ بات بشیر کو پتہ چلتی ہے تو وہ رشید کے پاس آتا ہے)
    بشیر:- رشید یار مجھے پتہ چلتا ہے کہ احمد نے تیرا کام کروا دیا ہے اور میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں۔
    رشید:- یار کوئی بات نہیں تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا یہی کافی ہے اور بات یہ ہے کہ معاشرے کا ہر شخص برا نہیں ہوتا….

    معاشرے میں چند لوگ غلط ہوتے ہیں پورا معاشرہ کبھی بھی غلط نہیں ہوتا اور ہمیں ہمیشہ اچھے لوگوں کو دیکھ کر ان کی اچھائی بیان کرنی چاہیے نا کہ برے لوگوں کی خامیاں بیان کرتے زندگی گزار دیں۔
    @ibn_e_Adam424

  • اپنا قیمتی اثاثہ بچا لیجئے۔ تحریر: نصرت پروین

    اپنا قیمتی اثاثہ بچا لیجئے۔ تحریر: نصرت پروین

    نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ملک و ملت کی ترقی یا تنزلی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے۔ نوجوان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ نوجوان اپنی ہمت، حوصلہ، صلاحیتوں، رجحانات، لگن، امنگ، محنت، جوش اور ولولہ کی وجہ سے کسی بھی قوم کا قیمتی فعال طبقہ سھمجے جاتے ہیں۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے شاعر مشرق علامہ اقبال کی بہت سی توقعات نوجوان نسل سے وابستہ تھی۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جتنی بھی اقوام نے ترقی کی اپنی نوجوان نسل کی بہترین تعلیم و تربیت کی بدولت ہی کی۔ "شیخ عبدالعزیز بن باز لکھتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں جو اپنی قوم میں نئی زندگی اور انقلاب کی روح پھونکنے کا کام کرتے ہیں وہ ثمر آور تونائی، تازہ دم اور خداداد صلاحیتوں سے مسلح ہوتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ بیشتر قوموں کی بیداری اور انکے انقلاب کا سہرا نوجوانوں کے سر ہی جاتا ہے” دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہے تو اسکی نوجوان نسل کو انحرافی راہوں پر چلادیں اسطرح وہ قوم راہِ راست، مقصدِ حیات ،فلاح و کامرانی سے ہٹ کر تباہی کے راستے پہ چل پڑتی ہے۔
    پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوان نسل پر مشمتل ہے تعلیم و تربیت کسی بھی قوم کی روحانی خوراک سھمجی جاتی ہے۔ آج کے مسلم نوجوان کو دیکھیں تو اسکے پاس ڈگری ہے لیکن تعلیم وتربیت نہیں ہے، اسلام نہیں ہے۔ آج کا نوجوان اسلام، روایات، معمولات، اور اقدار سے عاری ہے وہ اپنے دین، روایات، معمولات، اقدار کا محافظ نہیں المیہ یہ ہے کہ وہ خدا کی واحدانیت، رب کی ربوبیت اور اسکی قہاریت و جباریت کا قائل نہیں۔ آج کا نوجوان اپنے دن کا بیشتر حصہ فضول ترین مشاغل اور فتنوں سے سرشار سرگرمیوں میں گزارتا ہے
    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل فرمایا "میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہورہے ہیں۔ (بخاری:7060)”
    تو یہ فتنے کیا ہیں؟ تمام لہو و لعب، فحش اور منفی سرگرمیاں جنکی نذر آج ہمارا نوجوان ہے۔ تعلیم و تربیت کی بات کریں تو اسے تعلیم ناپسند اور خشک لگتی ہے تربیت پر وہ توجہ نہیں دیتا دین، علم و ادب سے دوری اسکے ذہنی بگاڑ کی بڑی وجہ ہےاور کامیابی کے لئے ناجائز حربے استعمال کرتا ہے اسطرح وہ علمی و ادبی میدان میں اپنے آپ کے ساتھ خود ہی خیانت کرتا ہےآج کا نوجوان مستقل مزاجی سے عاری ہے۔ اسکے پاس کوئی رول ماڈل نہیں۔ آج کا نوجوان مذہبی اقدار و معمولات کا قائل نہیں اسطرح ہمارا قیمتی اثاثہ مذہبی و ثقافتی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر ایسی راہ پر چل پڑا ہے جسکی منزل پستی، ناکامی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں۔ اخلاقی پستی کیا یہ عالم لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ ساتھ تشویشناک بھی ہے۔
    ہماری نوجوان نسل کے پاس بے شمار صلاحیتیں ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو نکھار کر انہیں صلاحیتوں کا بہترین استعمال سکھایا جائے۔ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے تاریخ میں جتنے بھی عظیم اور کامیاب لوگ گزرے ہیں انکی تعلیم و تربیت میں والدین اور اساتذہ نے بہترین خدمات انجام دی۔ والدین اور اساتذہ دونوں کو چائیے کہ اپنی زمہ داریوں کو سھمجیں اور نوجوانوں کی بہترین تعلیم و تربیت کریں انہیں زندگی کے اعلی و ارفع مقاصد کے تعین اور حصول کے لئے سرگرمِ عمل بنائیں۔
    والدین اور اساتذہ کیلئے اشد ضروری ہے کہ اپنا قیمتی سرمایہ بچانے کے لئے مربوط لائحہ عمل اپنائیں جس سے نوجوان نسل کی ذہنی و فکری نشوونما ہو اور پستی کا خاتمہ ہوسکے ایسی جدوجہد کی جائے کہ یہ بنجر زمین زرخیز ہو سکے۔
    نہیں ہے نو امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
    @Nusrat_186

  • پردیس ایک میٹھی جیل   تحریر:محمد احسن گوندل

    پردیس ایک میٹھی جیل تحریر:محمد احسن گوندل

    میں لاہور ائیر پورٹ کے ویٹنگ ہال میں بیٹھا گھر والوں سے کال پر بات کرنے میں مصروف تھا ابھی فلائٹ میں کچھ وقت تھا۔
    میرے بلکل سامنے والی کرسی پر ایک اور شخص بھی کال پر بات کرنے میں مصروف تھا اور ساتھ ساتھ اپنے آنسو بھی صاف کر رہا تھا اس کی آواز مجھے صاف سنائی دے رہی تھی میں نے بات ختم کی اور کال بند کر دی۔
    وہ مسلسل یہی کہ رہا تھا بیٹی میں جلدی واپس آؤنگا بہت جلدی ۔ ادھر جاکر بہت سارے پیسے بھیجوں گا پھر تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ گی بس اب رونا بند کرو بیٹی میری فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے یہ کہ کر کال بند کر دی حالانکہ فلائٹ میں ابھی ٹائم تھا۔ اسکی آنکھوں میں زاروں قطار آنسو تھے اور وہ بار بار ٹشو سے صاف کر رہا تھا
    کرونا کی وجہ سے زیادہ رش نہی تھا اس بار ویٹنگ ہال میں وہ موبائل میں بار بار دیکھے جا رہا تھا اور آنسو تھے اسکے کہ رکنے کا نام نہی لے رہے تھے تھوڑی دیر تک وہ ریلکس ہوا تو میں نے پوچھ لیا کہ کہاں جارہے ہیں آپ تو انہوں نے بتایا کہ جدہ جارہے ہیں وہ میں نے بھی جدہ ہی جانا تھا تو حال حوال کے بعد میں نے ان سے خیر خیریت اور رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ مجبوریاں ہیں ورنہ پردیس والا زہر کون کھائے اللہ سب کو اپنے دیس میں رزق عطاء فرمائے میں نے آمین کہا اور پھر وہ کہنے لگے میں تین سال بعد دو بیٹیوں کی شادی کے لیے تین مہینے کی چھٹی لیکر آیا تھا لیکن ابھی فلائٹ بند ہونے کے ڈر سے دو مہینے بعد ہی جارہا ہوں۔دو بیٹیوں کی شادی کر دی ہے اور ایک چھوٹی بیٹی ابھی بیمار ہے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے اسے اسی حال میں چھوڑ کر واپس جانا پڑ رہا ہے میری مصوم سی پھولوں جیسی بیٹی ہاسپٹل میں مجھے بلا رہی ہے میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے دل کر رہا ہے ادھر سے ہی واپس چلا جاؤں لیکن مجبوریوں نے ایسا جکڑا ہے کہ نہ چاہتے ہوے بھی بھاری دل کے ساتھ واپس لوٹنا پڑ رہا ہے میرے نصیب میں اللہ نے شاید پردیس کی روزی ہی لکھی ہے ورنہ پھول جیسی بیمار بیٹھی چھوڑ کر کون جاسکتا ہے۔
    پردیس کے خواب بہت سہانے ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ سوچیں ایسا تانا بانا بنتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے لیکن جب حقیقت سے
    واسطہ پڑتا ہے تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ایک طرف محبتیں ہوتی ہیں تو دوسری طرف ان محبتوں سے جڑی مصلحتیں۔
    ایک پردیسی کچھ پیسے نہیں کما کر دیتا بلکہ آپنی دن رات کی محنت دیتا ہے ۔ خود پردیس میں ایک وقت کھانا کھاتا ہے تاکہ دیس میں بیٹھے بہن بھائی تین وقت کا کھانا کھا سکے ۔ ماں کی آواز سن کہ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ ماں کے ہاتھ کہ کھانے کو ترستے رہتے ہیں۔ بہنوں کی شادیوں پہ لاکھوں پیسے تو بھیج دیتے ہیں مگر بہنوں کے چہروں کی خوشی نہیں دیکھ پاتے۔
    پردیس ایک میٹھی جیل ہے جب انسان ایک بار اس میں داخل ہو جاتا ہے پھر نہ مجبوریاں ختم ہوتی ہیں نہ ہی خواہشات یہاں تک کہ پردیس میں بندہ اپنی جوانی ختم کردیتا ہے اور یہ ایک کڑوا سچ ہے۔
    اللہ پاک سب پردیسیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور رزق حلال اپنے وطن میں عطاء فرمائے آمین
    تحریر

    @ahsangondalsa

  • ہمارا مقصدِ حیات  تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    ہمارا مقصدِ حیات تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    دنیا ایک امتحان گاہ ہے جس میں اللّٰه نے ہمیں آخرت میں ہونے والے امتحان میں تیاری کے لیے پیدا فرمایا ہے تا کہ بروزِ قیامت یہ معلوم ہو سکے کون اطاعتِ خداوندی کا پیکر بنا رہا اور کون نافرمانوں کی فہرست میں رہا

    ہمیں اس امتحان کی تیاری کے لیے پیدائش سے لے کر موت تک کا جو مخصوص وقت دیا گیا ہے اس دورانیے میں اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی اللّٰه اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے بسر کرنی ہے اور یہی ہمارا "مقصدِ حیات” ہے

    آتے ہوئے اذان اور جاتے ہوئے نماز
    قلیل وقت میں آئے اور چلے دیئے

    اللّٰه نے ہمیں عبادت و اطاعت کے ذریعے اپنی رضا حاصل کرنے کے لیے زندگی کی انمول نعمت سے نوازا ہے پس جس شخص کی زندگی میں بندگی نہ ہو بھلا وہ بھی بندہ ہے؟؟ کیونکہ بے بندگی رضائے خداوندی کے حصول میں سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہ ہوگا

    ہزاروں مصروفیات کے باوجود دنیا کے لیے جیسے بھی ممکن ہو ہم وقت نکال ہی لیتے ہیں تو کیا جس مقصد کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے تھوڑا سا وقت بھی نہیں نکال سکتے؟ اس سلسلے میں ہمارا طرزِعمل کیسا ہے اس پر خود ہی غور فرما لیجیے کیونکہ ہمارا مقصدِ حیات تو رضائے خداوندی کا حصول ہے

    مگر افسوس! صد افسوس! ہم اس سب سے غافل ہو کر دنیا کی ترجیحات میں مگن ہو چکے ہیں۔

    ہمارے مذہب کا نام اسلام ہے اور ہم مسلمان ہیں اگر ان الفاظ کے معانی پر غور کر لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمیں تو احکامِ اللّٰه کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا حکم ہے مگر شاید ہم دَھن کی دُھن میں نہ صرف اپنے مقصدِ حیات کو بھول کر رحمتِ خداوندی سے دور ہو چکے ہیں بلکہ خود اپنے آپ سے بھی غافل ہو چکے ہیں

    حیرت شیخ ابوطالب فرماتے ہیں کہ اللّٰه نے اہلِ سلامتی و نجات کے دو گروہ بنائے ہیں جن میں سے کچھ، کچھ سے افضل ہیں جبکہ ہلاکت و بربادی والے افراد کا صرف ایک ہی درجہ ہے ان میں سے کچھ، کچھ سے پستی میں ہیں۔ لہٰذا بروزِ قیامت جن لوگوں کے بائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال ہوگا وہ ان کا دل اس حسرت میں مبتلا ہو گا کہ وہ دائیں ہاتھ والوں میں کیونکر نہ ہوئے۔ اور دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیئے جانے والے اس حسرت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ مقربین میں کیونکر نہیں اور مقربین اس حسرت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ شہدا میں کیوں شامل نہیں اور شہدا چاہتے ہوں گے کہ وہ مقامِ صدیقین پر فائز ہوتے

    الغرض یہ دن حسرت کا ہوگا جس سے غافلین کو ڈرایا گیا ہے پس جو لوگ آج یہاں مردہ ہیں کل وہاں ان کی حالت کیسی ہوگی؟ کیونکہ ان کے پاس تو کوئی نیکی نہ ہو گی۔

    اپنے مقصدِ حیات کو پہچانیے اور اللّٰه کی رضا و عبادت میں خود کو پا لیں اور زندگی کو حقیقت معنوں میں جیئیں۔ ہماری زندگی کا حقیقی مقصد یہی تو ہے

    اور بے شک دونوں جہانوں میں اللّٰه کی رضا اور خوشنودی کا کوئی نعم البدل نہیں
    اور اللّٰه کی خوشنودی پانے کا بہترین ذریعہ اس کے رسولؐ کی سنت و احکام پر عمل کرنا ہے۔ اللّٰه اور اس کے رسول کی پیروی ہم سب پر واجب ہے

    اپنی سانس کی مالا کے ٹوٹنے سے خود کے آنے کا مقصد پہچانیے اسی میں بھلائی و بہتری ہے آج کی بھی اور آنے والے کل کی بھی اور اس کے بعد روزِ محشر میں بھی یہی ہماری مددگار بھی ہوگی

    وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ

    @H___Malik

  • پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس  تحریر: رانا محمد عامر خان

    پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس تحریر: رانا محمد عامر خان

    پانچویں صدی ہجری کے آخر میں جب کہ خلافت عباسیہ زوال پذیر تھی اور امت مسلمہ مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر کمزور ہو چکی
    تھی میسحئ اقوام کو اپنی ناپاک آرزوکی تشکیل کا موقع مل گیا۔ میڈیاوار کے تحت پطرس راہب نے مسلمانوں کے مظالم کی
    فرضی داستانیں سن کر پورے یورپ میں اشتعال پیدا کر دیا اور مسحیی دنیامیں ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگادی
    ۔ پوپ اربن دوئم نے اس جنگ کو "صلیبی جنگ کانام دیا اور اس میں شرکت کرنے والوں کے گناہوں کی معافی اور ان کے
    جنتی ہونے کا مژ دہ سنایا- زبردست تیاریوں کے بعد فرانس انگینڈ اٹلی جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی افواج پر مشتمل تیره
    لاکھ افراد کا سیلاب عالم اسلام کی سرحدوں پر ٹوٹ پڑا- روبرٹ نارمنڈی ‘گاڈ فری اور ریمون الطلولوزی جیسے مشہور یور پی
    فرمانروان بپھری ہوئی افواج کی قیادت کر رہے تھے۔ شام اور فلسطین کے ساحلی شہروں پر قبضہ کرنے اور وہاں ایک لاکھ سے
    زائد افراد کا قتل عام کرنے کے بعد شعبان 496 جولائی 1099 میں صلیبی افواج نے بیالس دن کے محاصرے کے بعد بیت
    المقدس پر قبضہ کیا اور وہاں خون کی ندیاں بہادیں۔ فرانسی مورخ "میشو کے بقول صلیبیوں نے ایسے تعصب کا ثبوت دیا
    جس کی مثال نہیں ملتی عربوں کو اونچے اونچے برجوں اور مکانوں کی چھتوں سے گرایا گیا آگ میں زندہ جلایا گیا گھروں سے
    نکال کر میدان میں جانوروں کی طرح ذبح کیا گیا-صلیبی جنگجو مسلمانوں کو مقتول مسلمانوں کی لاشوں پر لے جاکر قتل کرتے- کئی
    ہفتوں تک قتل عام کا یہ سلسلہ جاری رہا – ستر ہزار سے زائد مسلمان صرف اقصی میں تہ تیغ کیے گئے۔ عالم اسلام پر نصرانی
    حکمرانوں کی یہ وحشیانه یلغار تاریخ میں پہلی صلیبی جنگ کے نام سے مشہور ہے۔
    عیسائی کمانڈروں نے فتح کے بعد یورپ کو خوشخبری کا پیغام بیجھا اور اس میں لکھا: ‘اگر آپ اپنے دشمنوں کے ساتھ ہمارا سلوک
    معلوم کرنا ہیں تو مختصر یہ لکھ دینا ناکافی ہے کہ جب ہمارے سپاہی حضرت سلیمان علیہ اسلام کے معبد (مسجد اقصی) میں داخل
    ہوئے تو ان کے گھٹنوں تک مسلمانوں کا خون تھا۔( تاریخ یورپ اے جے گرانٹ )
    بیت المقدس کے سقوط کے بعد مسحی اقوام نے مقبوضہ شام و فلسطین کو تقسیم کرکے القدس,طرابلس, انطاکیہ, اور یافاکی کی چار
    مستقل صلیبی ریاستیں قائم کر لیں- حالات نہایت پر خطر تھے- عالم اسلام کے اکثر حکمران خانہ جنگیوں میں مست تھے -بعض صلیبیوں کے حلیف بن گئے۔
    ان میں سے کوئی بھی نصرانیوں سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا تھا-
    *Twitter ID @pakdefsd*

  • بیوی ایک حسین ساتھی  تحریر:  محمد بلال اسلم

    بیوی ایک حسین ساتھی تحریر: محمد بلال اسلم

    حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ خوش خلقی، حسن معاشرت کی عظیم مثالیں قائم کرکے گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے اصول بتا دیے ۔ آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ جس طرح کا محبت بھرا انداز تھا اسکو اگر ہم اپنی زندگیوں میں لے ائیں تو ہمیں گھریلو ناچاقیوں سے چھٹکارہ مل سکتا ہے اور ہمارے گھر سکون اور خوشیوں بھر سکتے ہیں۔ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے گھر کو جنت بنا سکتے ہیں

    نبی پاک ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’تم میں بہترین انسان وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم میں سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ (ترمذی)

    انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے وہ اپنی زندگی کی داستان بیان کرسکے اور یہ ضرورت ایک اچھی بیوی پوری کرتی ہے اور اسی طرح انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سکون حاصل کرے تو بیوی ایسی ذات ہے کہ جسکے ذریعے انسان سکون حاصل کرتا ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے: ’’اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو۔‘‘ ( القرآن )

    حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ازواج سے محبت ۔۔
    ( 1) آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔۔۔( 2) حضرت ربیعہ بن عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکار ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم مجھے مکھن ملی کھجور سے بھی زیادہ محبوب ہو۔ ( الطبقات الکبری لابن سعد)(3) حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مقام حُر) سے واپس آرہے تھے، میں ایک اونٹ پر سوار تھی جو دوسرے اونٹوں میں آخر میں تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہائے میری دلہن“۔ (مسند احمد: 26866 ) ایسے ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کاموں میں اپنی ازواج کا ہاتھ بٹاتے اور انکے ساتھ مزاح فرماتے ۔۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش ائیں

    اور مردوں کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مرد بیوی کو گھر کے کام پر مجبور نہیں کر سکتا، اگرچہ مستحب ہے کہ عورت گھر کے کام کو انجام دے ۔۔عورت کا اخلاقی حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کے افراد کے کام کرے لیکن اسپر ضروری نھیں ۔۔اور شوہر ماں اور بیوی دونوں کو ساتھ لیکر چلے بیوی کی وجہ سے ماں کے ساتھ نا انصافی نا کرے اور ماں کی وجہ سے بیوی کے ساتھ نا انصافی نا کرے ۔۔کسی کے سامنے دوسرے کو نا ڈانٹے بلکے کسی اکیلے وقت میں انکو سمجھائے۔۔۔۔۔اللہ پاک ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلائے ۔آمین

    @BilalAslam_2

  • سبق آموز از    تحریر: صدام حسین

    سبق آموز از تحریر: صدام حسین

    یہ کہانی میری آپ بیتی ہے بس سانپ اور دوسرے کردار نقلی ہیں کہانی کو سمجھنے والے دماغ سے اگر پڑھا جائے تو بہت زبردست پوائنٹ ہے کسی کے لئے

    *سبق آموز ____*
    گاؤں میں میرے ایک دوست نے ایک سانپ رکھا ہوا تھا نہایت ہی خوبصورت اور دلکش سفید رنگ دھاری دار تھا
    میں اکثر اس کے گھر پر جاتا اور سانپ کے ساتھ دل بہلاتا تھا، یا آپ یوں کہ لیں کہ میں اس سے بہت مانوس ہوگیا تھا، ایک دن میں سانپ کے ساتھ کھیل رہا تھا میں لیٹا ہوا تھا کہ سانپ نے مجھے پاؤں پر ڈس لیا، ﷲ کی قدرت خون کڑوا ہونے کی وجہ سے مجھے کچھ خاص پریشانی تو نہ ہوئی بس ڈنگ کی تھوڑی سی تکلیف ہوئی_

    میں دوست کو بتائے بغیر واپس آگیا کچھ دنوں بعد جب دوبارہ اس کے گھر گیا تو سانپ نے ایک بار پھر خلافِ توقع مجھے ڈس لیا، اور حیرانی کی بات مجھے کچھ نہ ہوا اب کی بار میں ایک دن کے ناغہ کے بعد گیا تو سانپ نے اپنا نرم سا جسم میرے اردگرد لپیٹ لیا، میں بے خبری میں اس سے کھیلتا رہا جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میں اس سانپ کم دوست زیادہ سے بہت مانوس ہو چکا تھا اس لئے اسے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا _
    خیر مجھے کسی کام سے شہر جانا پڑ گیا جب ایک ہفتے بعد میں واپس آنے لگا تو دوست نے کال کی کہ کسی ماہر ڈاکٹر کو ساتھ لے آنا سانپ بیمار ہوگیا ہے اسے چیک کروانا ہےمیں ڈاکٹر کو لے کر سیدھا دوست کے گھر آیا، میرے دوست نے بتایا کہ سانپ نے ایک ہفتے سے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے کمزور ہو گیا ہے،
    جب ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کرنے کے بعد جس چیز کا انکشاف کیا تو ہم دونوں حیران رہ گئے_______

    ہوا یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب سانپ میرے جسم کے اردگرد گھیرا ڈال کر کھیل رہا تھا تو بظاہر وہ کھیل رہا تھا مگر اصل میں وہ جا ئزہ لے لیا تھا کہ کتنے دن وہ کھانا نہ کھائے تو مجھے وہ کھا سکتا ہے اس لئیے سانپ نے ایک ہفتے سے کھانا نی کھایا- مزید یہ کہ جب میں نے بتایا کہ سانپ دو دفعہ مجھے ڈس چکا ہے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر آپ پہلی دفعہ ہی اِسے مار دہتے تو اچھا ہوتا مگر آپ نے خود موقع دیا اسے اس میں سانپ کی نہیں آپکی غلطی ہے اگر آپ اُسی دن مار دیتے تو آج یہ آپکو کھانے کی تیاری نہ کر رہا ہوتا_____ لہذا میں نے دوست کے ساتھ مل کر اُس سانپ کو ٹھکانے لگایا اور ﷲ کا شکر ادا کیا_____

    *خلاصہ* :- آپ بھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ آپ کے دوستوں، رشتے داروں، اور خیر خواہوں کی شکل میں کئی ایسے سانپ ہونگے جو آپکو ڈسنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اپنے آپکو محفوظ رکھئیے زمانے سے اور لوگوں کے شر سے، ضروری نہیں وہ سانپ بظاہر ہی کوئی سانپ ہو کسی کسی انسان کا دل، دماغ، زبان، آنکھ غرض کُچھ بھی ایسا سانپ ہو سکتا ہے جس سے آپکو نقصان تو ہوتا ہے پر پتا تب چلتا ہے جب آپ برباد ہو چُکے ہوتے ہیں_
    ایک بات اور قارئین انسان کی سب سے بڑی دولت اُسکی عزت ہے اسے سنبھال کر رکھیں کیونکہ یہ ایک بار چلی گئی تو واپس نی آئے گی اپنے آپ کو معاشرے میں ایسے بنائیں کہ دوسرے آپکی کاپی کریں نا کہ آپ سے نفرت کریں_
    @SAA_afridi

  • مستقبل کے امین تحریر: انوشہ امتیاز

    مستقبل کے امین تحریر: انوشہ امتیاز

    بچے کسی بھی معاشرے کا روشن کل اور آنے والے مستقبل کے امین ہوتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں۔۔
    ننھی زینب کا کیس ہو یا قصور کے ان بدقسمت بچوں کا کیس ہو جو حیوانیت کا شکار ہوئے ، ان سے ہمارے پورے معاشرے کی وہ مسخ شکل سامنے آتی ہے جسے دیکھ کر انسان تو انسان جانور بھی شرما جائیں۔
    ان بڑھتے ہوئے واقعات کی اہم وجوہات میں والدین اور بچوں میں ہم آہنگی نہ ہونا، رشتہ داروں اور محلے داروں پہ اندھا یقین ہونا جو کہ ان واقعات کو جنم دینے اور بڑھانے کی ایک اہم وجہ ہے، زینب ریپ کیس اور قصور میں بچوں کے جنسی ہراسانی سکینڈل نے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ۔۔
    یہ کیسز کم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں ،اور بہت سے کیسز میں تو والدین پولیس میں رپورٹ بھی درج نہیں کرواتے کیونکہ پولیس کا رویہ متاثرہ افراد کے ساتھ غیر زمہ دارانہ ہوتا ہے ، اس لئیے درست اعدادوشمار کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ،
    ایک این جی او ( ساحل ) کی رپورٹ کے مطابق 2007 میں 2,321 ، 2008 میں 1831، 2009 میں 2012، 2010 میں 2252، اور 2011 میں 2303 کیسز رپورٹ ہوئے،
    2017 میں 3445 اور 2018 میں اس میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا،
    2018 میں یہ اعدادوشمار ایک دن میں 9 کیسز سے بڑھ کر انکی تعداد 12 کیسز فی دن تک پہنچ گئی تھی ۔۔
    پنجاب میں ان جرائم کی شرح 65٪ ، سندھ میں 25٪ ، خیبرپختونخوا میں 3٪، اور بلوچستان میں 2٪ ، ہے ۔۔
    ابھی یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو کیسز رپورٹ ہوئے، یا میڈیا کے ذریعے جن کے بارے میں پتا چلا ، ابھی ایسے بہت سے کیسز ہوں گے جو منظر عام پر نہیں آئے، لیکن یہ اعدادوشمار بھی رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہیں،
    حال ہی میں قصور میں ہونے والے ایک اور گینگ ریپ جس میں ایک چھوٹی بچی کے ساتھ چار درندے جنسی زیادتی کرتے رہے،
    ایک اور کیس جس میں 11 سالہ بچے کو دو ملزم کچے کے علاقے میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے، اسی طرح ایک اور واقعے میں متاثرہ بچے کو نہ صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس کو اور خاندان کو بلیک میل کرنے کے لئے ویڈیو بھی بنائی،
    اسی طرح ” بھلہ ” گاؤں میں 14 سالہ بچی کو اسکول جاتے ہوئے 3 اوباش نوجوانوں نے اغوا کیا اور کئی دن تک زیادتی کا نشانہ بناتے رہے،
    قصور میں یہ واقعات ایک وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جن کا سدباب انتہائی نا گزیر ہو چکا ہے۔۔۔
    ان واقعات سے معاشرے اور بچوں پہ گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔۔
    متاثرہ بچے یا تو قتل کر دیئے جاتے ہیں اور اگر کچھ بچ بھی جائیں تو وہ تمام عمر کے لئیے نفسیاتی پیچدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں،
    زینب ریپ اور قتل کیس میں مجرم کو پھانسی دینے جیسی سزائیں اس طرح کے قبیح اور غیر انسانی فعل کے لئے ناکافی ہیں، ان سے نمٹنے کے لئے حکومت کو آہنی ہاتھوں شکنجے کی ضرورت ہے ساتھ ہی ساتھ پولیس ، سماجی کارکنوں اور این جی اوز کو بھی ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان جرائم کا مکمل طور پہ سدباب کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے تحفظ کے لئے سکول کی سطح پر جنسی ہراسانی سے بچاؤ کی ٹریننگ دی جانی چاہیے، تاکہ اس عفریت سے چھٹکارہ پایا جا سکے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے

    دھوپ کتنی بھی تیز ہو
    سمندر کو سوکھا نہیں کرتے.

    اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

  • پاکستان اور ٹریفک حادثات تحریر: احسان الحق

    پاکستان اور ٹریفک حادثات تحریر: احسان الحق

    کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے سڑکیں اہم ترین اور بنیادی کردار ادا کرتی ہیں. دراصل پختہ سڑکیں یا لمبی چوڑی شاہراہیں اہم کردار ادا نہیں کرتیں، ان کے اوپر زرائع آمد ورفت اور اشیاء کی نقل وحمل کے لئے چلنے والی گاڑیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں. ان گاڑیوں سے زیادہ ان گاڑیوں کو چلانے والے لوگ زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں.
    ہم تیزی سے عمدہ اور پختہ سڑکوں کے جال بچھا رہے ہیں. خطے میں موٹر وے، ہائی وے سمیت سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے ہم سب سے آگے ہیں. اسی طرح ان سڑکوں پر حادثات اور قانون شکنی میں بھی شاید سب سے آگے ہیں. سڑکیں مناسب ہیں مطلب ان حادثات کے پیچھے سڑکیں وجہ نہیں. مسافروں اور اشیاء کی ترسیل کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی اتنی بری نہیں جتنے برے ان گاڑیوں کو چلانے والے لوگ ہیں اور ان لوگوں سے زیادہ موٹر وے یا ٹریفک پولیس کے اہلکار برے ہیں جو معمولی سی رقم یا سفارش یا غفلت کی وجہ سے بڑے حادثے کی وجہ بن جاتے ہیں.
    پاکستان خطے میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں روڈ یا ٹریفک حادثات میں اگر پہلے نمبر پر نہیں تو چند پہلے آنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں سالانہ سب سے زیادہ ٹریفک حادثات میں اموات ہوتی ہیں. ان اموات کے پیچھے غیر تربیت یافتہ ڈرائیور یا نشے کے عادی ڈرائیور ہیں. موٹر وے یا ہائی وے پر تعینات پولیس اہلکاروں کی کرپشن بھی ایک وجہ ہے جو اوور اسپیڈنگ، اوور لوڈنگ، لائسنس کی عدم موجودگی، یا ڈرائیور کا نشے میں ہونا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سزاء اور جرمانہ نہیں کرتے. ہماری دوہری بدقسمتی کہ حادثے کی صورت میں ہنگامی حالت کو ڈیل کرنے اور زخمیوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے کے لئے وسائل نہیں اور ہسپتال بہت دور ہوتے ہیں. بعض اوقات زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے گھنٹوں انتظار اور سینکڑوں کلومیٹرز کا سفر کرنا پڑتا ہے جس سے زخمیوں کی حالت اور بگڑ جاتی ہے.
    اب چند دن پہلے ایک بس سیالکوٹ سے راجن پور کے لئے نکلی. بس کی 46 نشستوں پر 46 مسافروں کو بٹھانے کی گنجائش تھی مگر بس انتظامیہ نے 75 لوگوں کو بس کے اندر بٹھایا، 16 لوگوں کو چھت پر بٹھایا. 46 سواریوں کی جگہ تقریباً 91 لوگوں کو سوار کیا گیا. بس کی باڈی میں، بس کے اندر اور بس کی چھت پر ان مسافروں کا سامان بھی لادا گیا تھا. بس سیالکوٹ سے ڈیرہ غازی خان پہنچ گئی مگر کسی پولیس یا ادارے والے نے بس کو روکا اور نہ ہی جرمانہ کیا. بس ڈرائیور کی غلطی یا ٹینکر ڈرائیور کی غلطی، یا اوور لوڈنگ کی وجہ سے یا پولیس کی غلفت یا کرپشن کی وجہ سے 3 درجن لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے.
    ٹریفک حادثات روزانہ کی بنیاد پاکستان کے ہر علاقے میں ہوتے ہیں. ان حادثات میں اکثر جان لیوا ہوتے ہیں مطلب روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو رہے ہیں. تحقیق کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ڈرائیور کی غفلت سے حادثہ ہوا ہے. ڈرائیور غیر لائسنس یافتہ ہوتا ہے، یا شراب میں دھت ہوتا ہے یا موبائل کا استعمال کر رہا ہوتا ہے یا ڈرائیور کی نیند پوری نہیں ہوتی. کبھی کبھی اوور سپیڈ یا ساتھ والی بس سے ریس لگاتے ہوئے بھی حادثات ہو چکے ہیں.
    ٹریفک کے نظام کو ٹھیک کرنا ہو گا، ان فٹ گاڑیوں اور ان فٹ ڈرائیوروں کو سخت سزائیں اور جرمانے کرنے ہونگے. گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں کا معائنہ بھی ہونا چاہئے. نشے کے عادی افراد کو کسی بھی صورت میں کسی بھی گاڑی پر نہیں بیٹھنے دینا چاہئے. ٹرانسپورٹ شعبے میں اکثریت ڈرائیور باقاعدگی سے شراب نوشی کرتے ہیں. آپکو یاد ہوگا کہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر شاہیںن ائیرلائن کا طیارہ خوفناک حادثے میں بال بال بچا اور بعد میں پتہ چلا کہ پائلٹ شراب کے نشے میں دھت تھا. پاکستان میں جب تک کوئی ڈرائیور کسی حادثے میں کسی کی جان نہ لے چکا ہو اس وقت تک اسکو ڈرائیور ہی تسلیم نہیں کیا جاتا. سڑک حادثات کو کم سے کم کرنے کے لئے ٹرانسپورٹرز، حکومت اور اداروں کو سنجیدگی اور ایمانداری سے کام کرنا ہوگا تاکہ سالانہ سینکڑوں لوگوں کو ہلاک ہونے سے بچایا جا سکے.
    @mian_ihsaan