Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل ہے  ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل ہے ؟ تحریر: احسن ننکانوی

    پاکستان میں ٹک ٹاک پر ایک بار پھر پابندی ۔

    ذرائع کے مطابق :
    ٹک ٹاک پر پابندی غلط مواد اپلوڈ کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہے ۔
    پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں ٹِک ٹاک ایپ اور ویب سائٹ پر پابندی لگا دی ہے۔
    جس پر پی ٹی اے نے بیان دیا کے نا مناسب مواد اپلوڈ کرنے کی وجہ سے ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی۔

    اس سے پہلے رواں برس مارچ میں بھی پی ٹی اے نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر پابندی عائد کی۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ٹک ٹاک کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر ڈالی جانے والی ویڈیوز ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔‘ ہاں ایسا ہے بھی بہت ساری ویڈیوز ایسی ہوتی ہیں جو بالکل نا مناسب ہوتی ہیں

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں بے راہ روی پھیل رہی ہے، اسے فوری طورپر بند کیا جائے۔

    رواں برس جون میں سندھ ہائی کورٹ نے بھی ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کیے جانے کے حوالے سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ایپ پر پاکستان بھر میں پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بہت بار اس کی شکایت پی ٹی اے کو کی ہے لیکن انہوں نے اس پر ایکشن نہیں لیا ہے ۔
    درخواست گزار کی بات مانتے ہوئے ۔
    پھر سندھ ہائیکورٹ نے اس ایپ پر پابندی لگوا دی۔
    اب بات یہ ہے کیا ٹک ٹاک پر پابندی لگانا مسئلے کا حل ہے؟
    جب ٹک ٹاک پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اس کے مقابلے والی ویب سائٹس ہیں۔ لوگ ان پر منتقل ہوجاتے ہیں۔
    اس طرح جتنے بھی لوگ ٹک ٹاک پر موجود ہیں وہ سارے اب ایپس کو استعمال کرتے ہیں۔
    اور ان کی ریٹنگ بڑھتی ہے ۔
    ٹک ٹاک پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
    مسئلہ حل ہوگا جو مواد اپلوڈ کیا جاتا ہے ۔
    بے ہودہ اور غیر اخلاقی مواد اس کی روک تھام کی جائے ٹک ٹاک پر بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو پاکستان کے کلچر کو پروموٹ کر رہے ہیں۔
    جن میں سر فہرست ‘زنیر کمبوہ ‘ کبیر آفریدی ‘ اور بھی بہت سارے بھائی ہیں۔
    اس کے علاوہ بہت ساری معلوماتی ویڈیوز بھی لوگ بناتے ہیں۔
    میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو خالص اسلامی ویڈیوز بناتے ہیں اور لوگ کو شعور دلاتے ہیں۔
    بہت سارے دوست شاعری کی ویڈیوز بناتے ہیں اور اپنے ادبی ورثہ کو پروموٹ کرتے ہیں جن میں میں بھی سر فہرست ہوں۔
    میں یہ بات نہیں کرتا کہ پابندی لگی ہے تو کیوں۔ اس پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن کی کمپنی کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔
    کہ فلاں فلاں مواد کو اپنے ایلگورتھم میں ڈالے اور اگر ایسا مواد اپلوڈ ہو تو اس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بلاک کیا جائے ۔
    اور ان کو کمیونٹی گائیڈ لائنز کا میسج بیجھا کیا جائے ۔
    اگر ہم کوئی اسلامی بات کرتے ہیں تو ہم کو کمیونٹی گائیڈ لائنز کا پیغام آ جاتا ہے۔
    اس کے علاوہ جیسے اگر کوئی بندہ اسلحہ اور کوئی لڑائی کی ویڈیوز ڈالتا ہے تو اس کی ویڈیو بلاک کر دی جاتی ہے۔
    ایسے ہی اگر کوئی غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرتا ہے۔تو اس کی ویڈیو فوری طور پر بلاک کرنی چاہیے۔
    ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    کیوں اس ایپلیکیشن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
    اسلامک کلپس ، پاکستان کے سیاحتی مقامات، کھانے پکانے کی ٹپس، ادبی ورثہ شاعری، ایجوکیشنل اقوال ، اب ہم ٹیکنالوجی کی دنیا میں جی رہے ہیں۔
    تو ہم اس حالات کے مطابق چلنا ہوگا۔
    اگر لوگ اس کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ تو تم اس کو اچھائی کے لئے استعمال کرو ۔
    پابندی مسئلے کا حل نہیں ہوتی یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ تم اس سے ہار گئے۔

  • بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات  تحریر : ام سلمیٰ

    بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات تحریر : ام سلمیٰ

    ٹریفک حادثات کے دن با دن بڑھتے ہوئے واقعات یقیناً ٹریفک قوا نین کی سہی طرح آگہی نہ ہونے ظاہر کرتا ہے.

    پاکستان میں بڑے شہر ہوں یہ چھوٹے ٹریفک قوانین کی شاذ و نادر ہی پیروی کی جاتی ہے ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حادثات کوئی کنٹرول کرنے کا طریقہ سختی سے ٹریفک کے قوانین کی پیروی کرنا ہے۔

    صوبہ پنجاب میں پیر کی صبح ایک مسافر بس اور ٹرک کے تصادم میں 30 افراد ہلاک اور 74 زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو عہدیداروں نے بتایا کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب لاہور کے جنوب مشرق میں (289 میل) جنوب میں ضلع ڈیرہ غازیخان میں الصبح ایک بس کنٹینر ٹرک سے ٹکرا گئی اور یہ خوفناک حادثہ رونما ہوا اور 30 کے قریب افراد جان کی بازی ہار گئے اور 70 سے زیادہ زخمی ہوئے جن میں سے کافی کی حالت تشویش ناک تھی.

    ریسکیو سروس کے ذریعہ زخمی اور جاں بحق افراد کو قریبی اسپتال لے جایا گیا۔

    ڈیرہ غازی خان ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نجیب الرحمٰن نے بتایا ہلاکتوں کی تعداد بہت بڑھ سکتی ہے کیونکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں سڑک حادثات میں 1.2 ملین افراد کی موت واقع ہوتی ہے۔
    اسی وجہ سے موٹر وے پولیس سڑک استعمال کرنے والوں کے ذریعہ ٹریفک قوانین پر عمل پیرا ہونے کو یقینی بناتے ہوئے ایسی اموات کی روک تھام کے لئے پوری کوشش کر رہی ہوتی ہے.

    اس بات کی اشد ضرورت ہے کے ملک میں مختلف پلیٹ فارم پے میں ٹریفک قوانین کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لئے اجلاس منعقد کروانے چائیے تاکہ لوگوں میں ٹریفک قوانین کو فالو کرنے کا شعور بیدار ہو اور مستقبل میں خطرناک ترین ٹریفک حادثات سے بچا جا سکے.

    اعدادوشمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سڑک حادثات میں ہر سال دنیا بھر میں 12 لاکھ افراد کی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔اگر ڈرائیوروں اور موٹرسائیکل سواروں میں سڑک کے نشانوں اور ٹریفک قوانین کے احترام کا احساس پیدا کیا جائے تو موت کے واقعات میں کافی حد تک کمی واقع ہوگی۔

    پاکستان میں اس معاملے میں موٹر وے پولیس نے بلا تفریق ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی اور بھاری جرمانے عائد کرکے ڈرائیوروں کے ذریعہ موبائل فون ، ہینڈ فری فری ڈیوائس اور ہیڈ فون کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی ہمیشہ لیکن سب سے اہم ہے کے ڈرائیور حضرات یہ وہ کمپنیز جو اس کاروبار سے جُڑے ہیں وہ اپنے عملے میں آگا ھی پیدا کریں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے خطرناک ترین حادثوں سے بچا کا سکے جو اتنے زیادہ جانی نقصان کا باعث بنے.

    عام شہری احتیاط سے ٹریفک کے قوانین کو فالو کرتے ہوئے گاڑیاں چلائیں ، اور سڑکیں عبور کرتے ہوئے بھی احتیاط کریں.

    @umesalma_

  • حب الوطنی تحریر: بنت زینب

    حب الوطنی تحریر: بنت زینب

    حب الوطنی کا مطلب ہے ایک فرد کا اپنے ملک اور وطن کے لئے بے لوث محبت. یہ ایک فطری جذبہ ہے. ہم اپنے ملک سے صرف اس لئے محبت نہیں کرتے ہیں کہ یہ خوبصورت ہے. در حقیقت، ہم اس سے محبت کرتے ہیں کیونکہ یہ ہماری آبائی سرزمین ہے. ہمیں اس سے محبت ہے کیونکہ ہم اس میں رہتے ہیں، ہم اسکی پرسکون ہوا میں سانس لیتے ہیں، ہم اسکا میٹھا پانی پیتے ہیں، ہم اسکا کھانا کھاتے ہیں، ہم اسکے خوبصورت قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں. درندے بھی اپنے گھروں سے پیار کرتے ہیں۔ اگر انسان کو اپنے ملک سے محبت نہیں ہے تو وہ حیوان سے بھی بدتر ہے.
    ‏وطنِ عزیز کی مٹی جیسی کوئی چیز نہیں، نہ وینس کی گلیاں، نہ روم کی ہزاروں برس کی تاریخ، نہ نیلے پانیوں کی سرزمین یونان، نہ سفید جزیرہ سینٹورینی. جو سکون ہمیں اپنے آزاد وطن میں ملتا ہے شاید ہی وہ ہمیں دنیا کے کسی اور کونے میں ملے.
    الحمدللہ ہم نے اپنے ملک سے پیار کرنے کا یہ جذبہ سید اقرار الحسن صاحب سے سیکھا ہے. جہاں حب الوطنی نہیں ہو گی، وہاں عوامی خدمت نہیں ہو گی. تاریخ گواہ رہے گی کہ ٹیم سرعام نے کرونا جیسے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور اپنے محاذوں پر ڈٹے رہ کر اس ملک کی بے لوث خدمت کرتے رہے. چاہے مستحق لوگوں تک مفت راشن پہچانا ہو، بارش کی تباہی میں لوگوں کی مدد کرنا ہو، خون کے عطیات ہوں، نیز اقرار بھائی نے ہر لحاظ سے اپنے ہم وطنوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتے رہے ہیں. اقرار بھائی نے ہمیں سکھایا کہ حب الوطنی ہمیں نہ صرف اپنے ملک اور وطن سے محبت کرنا سکھاتی ہے بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کی بہتری کے بارے میں سوچنے اور اس کے لئے کام کرنے کا بھی درس دیتی ہے.
    ایک سچے محب وطن ہونے کی وجہ سے ، مجھے اپنے ملک (پاکستان) سے بے انتہا پیار ہے. میں اپنے ملک کے دفاع میں اپنی جان و مال کی قربانی دینے کے لئے ہمیشہ تیار ہوں، مجھے امید ہے کہ اس پاک وطن کی مٹی میں اِک روز ہمارا خون بھی شامل ہو گا….! انشاء اللہ
    اپنی تحریر کا اختتام میں اس شعر پر کرنا چاہوں گی:
    "‏میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار
    میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایۂ تن”

    @BinteZainab33

  • ماں ایک انمول رشتہ اور ہم بے قدرے  تحریر :- فرمان اللہ

    ماں ایک انمول رشتہ اور ہم بے قدرے تحریر :- فرمان اللہ

    ماں ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس دنیا میں نہیں بلکہ پورے کائنات میں کوئی نعمل بدل نہیں لیکن اس کا احساس ہر کسی کی پاس نہیں اور نہ ہی ہر کسی کو یہ نعمت راس آتی ہے اکثر ہماری معاشرے میں ایسے بارہا واقعات رونما ہوتے ہے جو دل دہلا دینے والے ہوتے ہے جس کو دیکھ کر ایک عام انسان دور کی بات ہے بلکہ ایک پتر دل انساں بھی پوٹ پوٹ کر رونے پہ اتر آئیگا
    واقعات میں بشتر ماں پر کوئی ظلم جبر کرتا نظر آئیگا کوئی گھر سے نکال باہر کرتا ہے تو کوئی گھر پر ہی زاندان کی ماند ایک کوٹری میں بند کرکے بھوک و افلاص میں چھوڑ دیتے ہے۔۔
    اخیر کیسے کرلیتے ہے یہ بدبخت اپنے جننت کی ساتھ؟ جس ماں پہ ظلم کرتے ہے وہ بچپن میں اگر اسی بیٹے کو چھوٹی سے خروچ بھی آتی تو ایسی تڑپتی جسا کہ خنجر گھونپ گیا ہو سینے میں۔ جب ہلکا سا بخار ہوجاتا تو تو ساری رات نہ سونے والے ماں ایسی جاگتے جیسا کہ دل ڈھوب سا گیا ہو ایسا درد محسوص کرتے جسی بچے کو نہیں بلکہ ان کی سانسیں روکھ دے گئی ہو۔
    یہ تکالیف تو کچھ بھی نہیں میں نے کچھ محتصر سے ذکر کئی کچھ محبتیں لکھنا بھی تھے۔
    آج وہی بچہ اپنی ماں پہ ظلم جبر کرہا ہے جب وہ کسی چیز کا ضد کرتا تو اپنی اپ کو گیروی رھتے لیکن اپنے بچوں کو وہ سب میصر کرتے اس ماں پہ ظلم کرتے جب سکول جاتے تو سکول تک خود چھوڑنے جاتی بیگ سر پر رکھ لیتے اور اپ کو گود میں اٹھا کر چھوڑ آتی۔۔
    اپنی ہر خواہش ہر خوشی اپ پر قربان کرنے والے ماں کو آج یہ صلہ مل رہا ہے اے بد نصیب بیٹھے تجھے نہ دنیا راس آئیگے نہ آخرت اب بھی وقت ہے سدھر جائیں اب بھی وقت ہے ان کی خدمت کریں نہیں کرسکتے تو کم از کم ان کو ذلیل و رسوا نہ کریں ان کو گھروں سے نہ نکالیں ان کو گھروں سے باہر نہ پھینکے یاد رہے اگر ایسا ہی کتے رپی تو وہ دل دور نہیں جب اس کا بدلہ جلد اپ کی دھانے پہ ہوگا۔۔
    اللہ تعالی سے بس یہی ایک خواہش کہ مجھے کبھی ماں باپ کی دکھ نہ دیکھائیں ان کی جدائی نہ دیکھائیں اللہ میرے ماں باپ بلکہ ہر ماں ، باپ کو لمبی ، تندرست اور خوشیوں بری زندگی عطاء کریں آمین۔۔
    (Femikhan_01@

  • پردیسی اور انکی عید . تحریر : حسن ریاض آہیر

    پردیسی اور انکی عید . تحریر : حسن ریاض آہیر

    وہ عید بے دید ہی ہوتی ہے جو اپنے دیس اپنے پیاروں کے درمیان نہیں بلکہ پردیس میں ہو۔ روشن مستقبل کی تلاش میں بہت سے پاکستانی اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں جو محنت و مزدوری کر کے پاکستان میں موجود اپنوں اور انکی خوشیوں کے لیے قربانیاں دیں رہے ہیں۔
    پردیس کی ڈیوٹی بہت سخت ہے اکثر تو بیچارے کچھ لوگ عید کی نماز پڑھ کر اپنے کام پر پہنچ جاتے ہیں اور جنکو کو چھٹی ہو وہ موقعے کو غنیمت جان کر اپنی نیند پوری کرتے ہیں۔

    حالات کیسے بھی ہوں، کوئی تہوار ہو، خوشی ہو یا غمی، موسم کیسا بھی ہو پردیسیوں کے لیے راحت کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ یہ خود کو مشکل و مصیبت میں ڈال کر تکلیفیں سہہ کر اپنوں کی خوشیوں کا سبب بنتے ہیں۔

    میرے ایک دوست کی مجھے عید کے دن کال آئی اور وہ مجھے پریشانی میں مبتلا محسوس ہوا، جب میں نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ جن کی خاطر اتنے سالوں سے پردیس میں دھکے کھا رہا ہوں، تکلیفیں جھیل رہا ہوں آج عید کا سارا دن گزر گیا اسی انتظار میں کہ ابھی کوئی عید مبارک کہنے کے لیے کال کریں گا لیکن شاید کسی کو یاد ہی نہیں، ہاں لیکن ٹھیک ایک دن پہلے کال آئی تھی اور مجھے کہا گیا تھا کہ عید آ رہی پیسے بھیج دینا اور میں اسی دن کا بھیج چکا ہوں۔ یہ اس کے الفاظ بہت تکلیف دہ تھے۔ انسان کی قدر کم اور پیسے کی قدر زیادہ ہو چکی ہے۔

    تو جن کے گھر کے فرد خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا پردیس میں ہو تو اس کو بھولا نا کریں کیونکہ عید کے دن جو آپ خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں وہ اسی کے خون اور پسینے کی محنت کے بدولت ممکن ہو پاتا ہے۔

    @HRA_07

  • کشمیر الیکشن،  یونائیٹڈ موومنٹ  کی باغ میں ریلی

    کشمیر الیکشن، یونائیٹڈ موومنٹ کی باغ میں ریلی

    کشمیر الیکشن یونائیٹڈ موومنٹ کی باغ میں ریلی

    باغی ٹی وی : آزاد کشمیر الیکشن مہم کے سلسلے میں ضلع باغ میں بائی پاس سے ریلی شروع ہوئی جوالیکشن دفتر میں آ کے ریلی اختتام پذیر ہوئی حلقہLA 15 وسطی باغ کے یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدوار راجہ عبد الناصر کشمیری نے ریلی کی قیادت کی

    ریلی حلقہLA 15 وسطی باغ کے یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدوار راجہ عبد الناصر کشمیری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا میں مرکزی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھ سمیت پورے آزاد کشمیر میں پڑھے لکھے ،باکردار اور باصلاحیت امیدواروں کا انتخاب کیا اور آج حلقہ وسطی باغ کے نوجوانوں نے میر ساتھ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی جماعت جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ ہی ہے 25 جولائی کو یہ نوجوان کرسی پہ مہر لگا کہ موروثی سیاست کا خاتمہ کریں گے۔

    حلقہ وسطی باغ کے نسل درنسل لوگوں کے حقوق غصب کرنے والے سیاستدانوں کی نوجوانوں کے دلوں میں کوئی جگہ نہیں بچے گی جس طرح باغ کا لٹریسی پوائنٹ آزاد کشمیر و پاکستان میں نمایاں ہے اسی طرح یونائیٹڈ موومنٹ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے مختلف فورمز پہ اٹھانے کے لیے نمایاں اور پڑھی لکھی قیادت فراہم کرے گی. جس میں قاضی داؤد صاحب اور اختر عالم صاحب نے تقریر کی

  • پیش خیمہ قیامت . تحریر : کامران واحد

    پیش خیمہ قیامت . تحریر : کامران واحد

    ماحولیاتی تبدیلی زمین پر رونما ہونے والی سب سے ہولناک اور تباہ کن تبدیلی ہے اس مسئلےاور اس کی سنگینی کو پچھلی چند دہائیوں میں بالکل نظر انداز کیا گیا اس وقت زمین کی سطح کا درجہ حرارت صنعتی انقلاب سے قبل کے درجہ حرارت سے ۱یک اعشاریہ دو ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے.

    ۲۰۱۹ میں زمین پر ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے جنم لینے والے چند مسائل درج ذیل ہیں
    ۱- گرین لینڈ ، جو کہ ایک جحیم برفانی جزیرہ ہے، اس وقت تیزی سے پگھل رہا ہے جس کی وجہ سے سمندروں کے پانی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے-
    ۲- برازیل، کولمبیا اور جنوبی امریکا کے دیگر ممالک میں پھیلا ہوا ایمازون جنگل ،جسے دنیائے ارض کا نظام تنفس سمجھا جاتا ہے ، بہت بڑی آگ کی زد میں آیا جس سے جنگلی حیات کو خطرات کے ساتھ ساتھ موسمی تغیرات میں اضافہ ہورہا ہے-
    ۳- اسی طرز کی ایک آگ انڈونیشیا کے جنگلات میں بھی بھڑک اٹھی ہے
    ۴- مختلف خطوں میں موسم کاشتکاری کیلئے غیر موزوں ہو رہا ہے جس سے دنیا میں غذائی اجناس کی قلت کا خوف ہے-
    ۵- موسمی آفات میں غیر معمولی شدت اور اضافہ ہے جن میں امریکی ریاست باہاماس میں آنے والا “ہری کین” سرِفہرست ہے-
    ۶- فضائی آلودگی کے سبب اس برس دنیا میں ناقابلِ رہائش شہروں کی فہرست مزید طویل ہوئی اور پاکستان کے تین شہر اس میں شامل ہوئے-
    ۷- دنیا میں اس وقت صاف اور تازہ پانی کی شدید قلت کا خطرہ ہے جس میں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ممالک شامل ہیں.

    اب جہاں عمران خان صاحب کا بلین ٹری سونامی پاکستان میں پنپ رھا ھے ، اسی طرح ساؤتھ اور سینٹرل ایشیاء کے ممالک کو بھی انیشیٹو لینا ھو گا۔ امید ھے اس بارے میں تمام ممالک سر جوڑ کر بیٹھیں اور مناسب حکمت عملی اپنائیں اور آنے والی نسلوں کا سوچیں۔

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان پائندہ باد

    Twitter : @KhanKamoo

  • گفتگو . تحریر : صابرحسین چانڈیو

    گفتگو . تحریر : صابرحسین چانڈیو

    آپ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ کی بات جب تک ان تین پہلوؤں سے گزر نہ جائے اس وقت تک آپ اپنی بات نہ ہی کہیں تو بہتر ہے اگر آپ اپنی بات کہنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی گفتگو کو سب سے پہلے سچ کے ترازو میں تولیں پھر اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ جو بولنے والے ہیں کیا وہ سچ ہے؟

    اگرآپ کو جواب درست میں آئے تو پھر آپ اس کے بعد اپنی بات کو اہمیت کے پہلوؤں سے گزاریں کیونکہ اہمیت اس چیز کی ہوتی ہے جو فائدہ مند ہو اگر آپ کی بات فایدہ مند ہے تو اس کی اہمیت بھی ہو گی پھر آپ اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ جو بات کرنے والے ہیں کیا وہ بات اہم ہے اگر جواب اہم کیلئے آئے تو آپ اس کے بعد اپنی بات کو مہربانی کے پہلوؤں سے گزاریں پھر آپ اپنے آپ سے سوال کریں کیا آپ کے الفاظ نرم اور لہجہ مہربان ہے؟

    اگر آپ کے الفاظ نرم نہیں ہیں اور لہجہ بھی مہربان نہیں تو آپ خاموش رہنے کو ترجیح دیں خواہ آپ کے سینے میں کتنا ہی بڑا سچ کیوں نہ ہو اور آپ کی بات کتنی ہی ضروری کیوں نہ ہو کیونکہ سخت بات کا اثر خود پر زیادہ پڑتا ہے
    کبھی کبھی جو کام تلوار نہیں کر سکتی وہ کام زبان کر گزرتی ہے تلوار کا زخم بھر جاتا ہے مگر زبان کا کاٹا عمر بھر نہیں بھرتا جو آگے کئی نسلوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے.

    @SabirHussain43

  • بلدیاتی الیکشن میں عوام اس بار خود کو بدلنا . تحریر: شاہ زیب

    بلدیاتی الیکشن میں عوام اس بار خود کو بدلنا . تحریر: شاہ زیب

    جوں ہی بلدیاتی الیکشن کا اعلان ہوتا تو تمام بلدیاتی نمائندے اپنے روایتی انداز میں اچھا سوٹ بوٹ پہن کر لوگوں سے ملتے جلتے اور گھروں پر دستک دیتے دیکھائی دیتے، بیشک ہم انہیں بخوبی جانتے ہوتے لیکن ہر کوئی نمائندہ اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہوتا کہ کسی طریقے سے بلدیاتی الیکشن جیت جاوں ان میں بیشتر سابقہ ممبر ہی سیٹوں پر آتے، لیکن عوام کو بھی اب زمہ دار شہری بننا پڑے گا یہ کسی فرد واحد کے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا وگرنہ یہ نسل در نسل سلسلہ چلتا رہے گا اور اپ منہ دیکھتے رہ جائیں گیں۔

    صرف عوام اگر زاتی تعلق کی بجائے آنکھیں کھول کر اپنی اپنی وارڈ کا معائنہ کریں کہ چار سالوں کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کہ ہمارے منتخب نمائندوں نے کیا گل کھلائے تو حقیقت واضح ہو جائے گی۔ اگر تو منتخب نمائندہ کارکردگی کی بدولت اپنے معیار پر پورا اترتا تو دوبارہ منتخب کروانا آپ سب کی زمہ داری ہے لیکن اگر منتخب کردہ نمائندہ کی کارکردگی صفر ہے تو اس پر پوری وارڈ کی عوام کو سوچ وچار کرنی چاہیے جس پر انکا پورا حق ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں منفی سوچ کے ساتھ جڑ دیا گیا کہ ہمارے ہاں نمائندہ وہی اچھا جو لوگوں کے جنازوں میں جائے جو لوگوں کی خوشی پر باقاعدگی سے پہنچے جو یقننا ہم ایسا ہی سب چاہتے ہیں اور نمائندہ بھی عوام کی امنگوں کے عین مطابق ایسے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، میں یہ نہیں کہتا نمائندہ کسی کی خوشی غمی میں شرکت نہ کرے لیکن جس مقصد کے حصول کے لیے عوام منتخب کرتی کم ازکم وہ تو پورا کرے انکو اپنے حلقہ کے مسائل حل کروانے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے جو کہ حل کروانا نمائندہ کی زمہ داری ہے جس حصول کے لیے عوام نے سلیکٹ کیا۔اور عوام کو بھی اسی کارکردگی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

    میں یہ نہیں کہتا نمائندہ کسی کی خوشی غمی میں شرکت نہ کرے لیکن جس مقصد کے حصول کے لیے عوام منتخب کرتی کم ازکم وہ تو پورا کرے انکو اپنے حلقہ کے مسائل حل کروانے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے جو کہ حل کروانا نمائندہ کی زمہ داری ہے جس حصول کے لیے عوام نے سلیکٹ کیا۔اور عوام کو بھی اسی کارکردگی کو مدنظر رکھنا چاہیے.
    امید کرتا ہوں اپ میری بات کو سمجھیں گے اور اس پر عمل بھی کریں گیں۔ شکریہ

    @shahzeb___

  • ٹیچراور سزا . تحریر :  محمد وقاص شریف

    ٹیچراور سزا . تحریر : محمد وقاص شریف

    نبی آ خر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا فخر آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر نہیں کیا۔ جتنا اپنے آپ کو معلم کہنے پر کیا۔ زبان زد عام میں دیکھا جائے تو نبی کا درجہ ایک معلم سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ معلم ہونے اور کہلانے پر متفخر ہیں۔ ایک استاد اپنے طالب علم کو سزا دے سکتا ہے یا نہیں اس بات کا اندازہ لگانے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ اسلام میں سزا کا تصور ہے یا نہیں۔ انسانی زندگی میں جس طرح جزا کا تصور ہے۔ اسی طرح سزا کا بھی تصور ہے۔ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا اور فرمایا کہ نیکی اور بدی کا اختیار تیرے ہاتھ میں دیتا ہوں مگر یاد رکھ نیکی کی صورت میں جنت اور بدی کی صورت میں دوزخ تیرا مقدر ہو گی۔ یہ تو آخرت کی بات تھی۔ دنیا بھر میں عدالتی نظام موجود ہیں۔ پولیس اور ایجنسیز متحرک ہیں.

    وہ مختلف جرائم کرنے والوں پر ہاتھ ڈالتی ہیں۔ ان کو گرفتار کرتی ہیں۔ اور ایک منظم عدالتی نظام کے ذریعے ان کو اپنے کیے کی سزا ملتی ہے۔ اسی دوران بے گناہ افراد کو باعزت رہائی بھی ملتی ہے۔ نماز کے بارے میں حکم ہے۔ کہ بچہ 7سال کا ہو جائے تو اسے پیار سے نماز پڑھنے کا کہیں نہ پڑھے تو ڈانٹے اور اگر ڈانٹ بھی کم پڑ جائے تو آ سے سزا دیں۔ یاد رہے کہ سزا سے مراد تشدد ہرگز نہیں۔ کیونکہ مقصدیت بچے کی اصلاح ہے۔ کھال اتارنا ہرگز نہیں۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ بچوں پر درندگی کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر استاد بندہ بشر ہونے کی بنیاد پر کسی بچے کو معمول سے زیادہ سزا دے بیٹھتا ہے تو آس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے کہا جاتا ہے کہ” غلطی فطرت آ دم ہے کیا کیا جائے۔ اس کا ایک اعلی ترین اخلاقی اور مذہبی حل یہ ہے کہ اس کو ایک موقع دیا جائے کیونکہ اس نے یہ فعل ذاتی دشمنی یا رنجش کی بنیاد پر نہیں کیا ہوتا بلکہ اس کو اس بات کا صدمہ دکھ اور رنج ہوتا ہے کہ آس کی اتنی زیادہ توجہ اور محنت کے باوجود بچہ اس کے کیے کرائے پر پانی پھینک دیتا ہے اس کی توقعات کا جنازہ نکالتا ہے تو وہ مایوسی اور ذہنی تناؤ کی بنیاد پر بچے پر ہاتھ اٹھا دیتا ہے۔ جس سے بعض اوقات بچے زخمی ہو جاتے ہیں اور والدین اپنے بچوں کی تکلیف برداشت نہیں کر پاتے اور یوں ایک جھگڑے کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ پچھلے دنوں سند یلیا نوالی کے ایک نجی سکول میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا۔ بچے پر تشدد کا معاملہ سامنے آیا جس پر ورثاء نے ٹیچر کو کوئی موقع دئیے بغیر اس پر چڑھائی کر دی۔ اور بھرے شہر میں اس کی عزت مٹی میں ملا دی۔

    بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی دوران تشدد ٹیچر کی نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ اسے وائرل بھی کیا گیا۔ پیغمبرانہ پیشے کے حامل استاد پر جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا وہ باعث شرم ہے۔ اگر استاد کو ایک موقع دیا جاتا تو یقیناً اس طرح کا واقعہ کبھی بھی پیش نہ آتا لیکن ایک عالم کو جہالت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ جس سے انسانی سر شرم سے جھک گئے اس تشدد سے بچے کے زخم تو نہیں بھرے لیکن استاد کے زخم ہمیشہ کے لئے ہرے ہو گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد ہے جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا آ قا اور مولا ہو گیا۔مہذب معاشرے میں انجانے میں کسی شخص کو عدالت میں بلایا جاتا ہے جب جج صاحب کو پتا چلتا ہے کہ یہ شخص جو اس وقت عدالت میں موجود ہے وہ ایک ٹیچر ہے تو وہ کرسی چھوڑ کر احتراماً کھڑا ہو جاتا ہے۔غور طلب بات یہ ہے جس بچے کو ٹیچر چھ سال سے پڑھا رہا تھا اور اس کی تعلیم و تربیت کر رہا تھا اس کے مرتبے کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔
    تھوڑا کہئیے کو بہت جانئے گا۔

    @joinwsharif7