Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بیٹے کی قربانی تحریر: محمد زمان

    آٹھویں ذی الحجہ کی رات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں یہ دیکھا کہ ایک فرشتہ اللہ کا حکم سنا رہا ہے کہ ابراہیم قربانی دو آپ نے صبع کو اٹھ کر ایک سو اونٹوں کی قربانی دی مگر دوسری رات بھی یہی خواب نظر آیا تو آپ نے علی الصباح دو سو اونٹوں کی قربانی دیں مگر تیسری رات بھی یہی خواب دیکھا تو آپ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں کیا چیز تیری راہ میں قربان کروں اس وقت خداوند کریم نے ارشاد فرمایا کہ ابراہیم تم میری راہ میں اس چیز کو قربان کرو جو دنیا میں تم کو سب سے زیادہ پیاری ہے آپ سمجھ گئے یہ میرے فرزند حضرت اسماعیل کی قربانی کا حکم ہے پھر آپ نہ گھبرائے نہ فکرمند ہوئے بلکہ میدان تسلیم و رضا کے شہسوار بن کر بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہوگئے اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر سات برس یا تیرہ برس کی تھی
    اور آپ بہت ہونہار اور صاحب حسن و جمال تھے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت ہاجرہ سے فرمایا کہ ایک نیک بخت بیوی آج تمہارے نور نظر کی ایک بہت بڑے بادشاہ کے دربار میں دعوت ہے یہ سن کر پیکر محبت ماں فرط مسرت سے جھوم اٹھیں اور اپنے لخت جگر کو نہلایا بھلا کر آنا اور نفیس پوشاک پہنا کر آنکھوں میں سرما بالوں میں کنگھی کر کے اپنے لال کو دولہا بنا کر باپ کے ساتھ میں بیٹے کی انگلی پکڑا دی حضرت خلیل اللہ اپنی آستین میں رسی اور چوری چھپے ہوئے ذوالحجہ کی دس تاریخ کو مکہ مکرمہ سے منیٰ کی گھاٹی کی طرف روانہ ہو گیے اور جب وادی منی میں پہنچے تو اپنے فرزند سے فرمایا کہ اے میرے پیارے بیٹے مجھے اللہ تعالی کا یہ حکم ہوا ہے کہ میں تم کو اس کی راہ میں ذبح کر دوں تو اے بیٹا تمہاری کیا رائے ہے مہربان باپ کی تقریر سن کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے مقدس باپ ضرور خدا کے حکم پر عمل کریں ابا جان آپ اطمینان رکھیں کہ میں نہ روں گا نہ چلاوں گا اور نہ فریاد کروں گا بلکہ ان شاء اللہ تعالی میں صبر و استقامت کا پہاڑ بن کر خدا کی راہ میں قربان ہو جاؤں گا اور خدا بندے سبحان کے رضوان و زعفران کی سربلندیوں سے سرفراز ہو جاؤں گا ابا جان اس سے بڑھ کر بھلا میری خواہش نصیبی اور کیا ہوگی کہ میرے سر کی قربانی خدا کی راہ میں قبول ہو جائے

    پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام عرض کرنے لگے کہ ابا جان میری تین وصیتوں پر دھیان رکھیے گا سب سے پہلے وصیت تو یہ ہے کہ آپ قربانی کے وقت میرے ہاتھ پاؤں کو خوب جکڑ کر کر رسی سے باندھ دیں تاکہ بوقت ذبح میرا تڑپنا دیکھ کر آپ کو کہیں رحم نہ آ جائے

    دوسری وصیت یہ ہے کہ آپ مجھ کو منہ کے بل لٹائیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے سینے میں دل دھڑک جائے اور آپ کا ہاتھ جنبیش کر کے رک جائے تیسری وصیت یہ ہے کہ میرے ذبع ہونے کی خبر میری ماں کو نہ دیجیے گا ورنہ ممتا کے ماری میری دکھیاری ماں میرے غم کو برداشت نہ کر سکیں گی
    اور شدت غم سے اس کے سینے میں شیشہ دل پاش پاش ہو جائے گا اس گفتگو کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں کو رسی سے باندھ کر انہوں نے ایک پتھر کی چٹان پر لٹایا اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اپنے نورِ نظر کو حلقوم پر چھری چلا دی لیکن شان خداوندی کا کرشمہ دیکھئے کہ چھری تیز حضرت اسماعیل کی گردن کو نہیں کاٹ سکیں

    اس مرحلہ پر باپ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امنڈ پڑا اور روتے ہوئے بارگاہ کبریا میں عرض کرنے لگے کہ اے الہی تیرے خلیل سے کون سی ایسی تقصیر ہوئی جو قربانی قبول نہیں ہو رہی ہے اور چھری کے نیچے لیٹے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی رو رو کر کہنے لگے کہ کہ خداوند مجھ سے کون سا ایسا قصور ہو گیا جو میرے سر کی قربانی بارگاہ کرم میں قبولیت سے سرفراز نہیں ہو رہی ہے

    پھر حضرت خلیل خوف خداوندی سے لرزتے ہوے چھری کو پتھر پر تیز کرنے لگے اور دوبارہ پوری قوت سے زبع کرنا چاہا مگر پھر بھی چھری نے کام نہیں کیا تو آپ نے جوش و غضب میں چھری کو زمین پر پٹک دیا اس وقت چھری زبان حال سے عرض کرنے لگی کہ اے ابراھیم آپ مجھ پہخفا ہو رہے ہیں میں کیا کروں ایک مرتبہ مجھ سے خدا کا خلیل کہتا ہے کہ کاٹ اور ستر مرتبہ رب جلیل فرماتا ہے کہ مت کاٹ
    تو اے خلیل اللہ اللہ آپ ہی بتا دیجئے کہ میں خلیل کا کہنا مانو یا رب جلیل کی فرمانبرداری کروں

    مسلمانوں یہ وہ منظر تھا کہ اللہ کے فرشتے بھی حضرت خلیل اللہ کے جذبہ وفاداری اور جوش فدا کاری پہ تسکین اور آفرین کا نعرہ بلند کرنے لگے اور رب العالمین نے فرمایا کہ اے فرشتو دیکھ لو بلاشبہ ابراہیم میرا خلیل ہے دیکھ لو کس طرح میرا خلیل میری راہ میں اپنے محبوب فرزند کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر کے اعلان کر رہا ہے کہ ابراہیم کے قلب میں خدا کے سوا کسی کی محبت کی گنجائش نہیں ہے

    بالآخر حضرت خلیل اللہ کے اس فدا کارانہ جذبہ خلوص اور ایثار پر رحمت پروردگار کو ایسا پیارا گیا کہ جناب جبرائیل امین کو یہ حکم دیا کہ اے جبرائیل جنت سے ایک دونبہ کر حضرت اسماعیل کی جگہ لٹا دو چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک بہشتی دونبہ لا کر لٹا دیا اور خداوندے کریم میں حکم دیا کہ اے ابراہیم اب چھری چلاؤ چنانچہ اب کی مرتبہ جو حضرت خلیل نے ذبح کیا تو چھری چل گئی
    اور قربانی ہوگی مگر جب آنکھ کی پٹی کھول کر دیکھا تو یہ منظر نظر آیا کہ ایک دونبہ زبع ہوا پڑا ہے اور حضرت اسماعیل ایک طرف کھڑے مسکرا رہے ہیں

    اس وقت حضرت جبرائیل نے اللہ اکبر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا
    اور حضرت اسماعیل نے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان پر وللہ الحمد کا کلمہ جاری ہوگیا

  • کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز ، طالب علم کے ساتھ زیادتی   تحریر : محمد دانش

    کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز ، طالب علم کے ساتھ زیادتی تحریر : محمد دانش

    ‎بی ایس پروگرام، انٹر کے بعد چار سال کا ہوتا ہے
    ‎اور ماسٹر ڈگری کے برابر ہوتا ہے۔ یونیورسٹی لیول پہ طالب علم اس پروگرام سے بے حد مستفید ہوتا ہے کیونکہ یونیورسٹی بآسانی ان تمام سہولیات کو مہیا کر سکتی ہے جو کہ اس پروگرام کے لئے ضروری ہیں  جیسا کہ مناسب لائبریری، جدید کمپیوٹر لیب اور بہت ساری لیبارٹریاں۔
    ‎کالج لیول پر اس پروگرام کا آغاز سٹوڈنٹس کے مستقبل کو تاریک بنانے کے مترادف ہے۔ کالج میں انٹر اور ڈگری لیول کی کلاسز ہوتی ہیں اور اساتذہ کی تعداد پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے وہ بہت مشکل سے ان کلاسز کو منظم کرتے ہیں اور بی ایس پروگرام کو منظم کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔لیکن اعلی حکام صورت حال کو جانے بغیر پالیسی بناتے ہیں اور اس کو لاگو کر دیتے ہیں وہ ادارہ جو انٹر کی کلاسز کو مشکل سے منظم کر رہا ہے وہ کیسے بی ایس پروگرام کو شروع کروا سکتا ہے
    ‎اگر بی ایس پروگرام کا آغاز کالج لیول پر کرنا ہے تو پہلے وہاں موجود پرنسپل اور متعلقہ استاد میٹنگ کے لئے بلانا چاہئے تاکہ اعلی حکام کو اصل حقائق کی خبر ہو۔
    ‎کیا صرف ایک لیبارٹری، لائبریری میں موجود چند کتابوں اور کلاس روم کی ناممکل سہولیات  سے بی ایس پروگرام کا آغاز کیا جا سکتا ہے؟؟
    ‎وہ طالب علم جو کالج بی ایس پروگرام میں داخلہ لیں گے  ان کے ساتھ یہ بہت زیادتی ہو گی کیونکہ نہ تو وہ یونیورسٹی کے طالب علموں سے مقابلہ کر پائیں گے اور نہ کوئی بہتر جاب حاصل کر پائیں گے۔ تو ایسی تعلیم اور سند لینے کا کیا فائدہ ہے جس سے نہ تو علم حاصل ہوا اور نہ ہی معاشرے میں کوئی بہتر روزگار۔
    ‎البتہ اس سب سے طالب علموں کے اندر مایوسی بڑھے گی اور ڈپریشن کی بیماری میں اضافہ ہوگا
    ‎لہٰذا طالب علموں کے بہتر مستقبل کے لئے کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز کرنے سے پہلے کالج میں ہر وہ سہولت مہیا کی جائے جو اس کے لئے ضروری ہے تاکہ طالب علموں کے مستقبل کو روشن تابناک بنایا جاسکے۔

    @iEngrDani

  • والدین اور اولاد اور والد کی بد دعا  تحریر: ذیشان علی

    والدین اور اولاد اور والد کی بد دعا تحریر: ذیشان علی

    ہمارا پیارا اسلام سب سے زیادہ والدین کے حقوق کی بات کرتا ہے،
    اسلامی تعلیمات کے مطابق ہمیں ہدایت دی گئی۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ عمر رسیدہ ہو جائیں تو ان کی خدمت کرو۔
    اور ان کے اگے اف تک نہ کرو عاجزی کے ساتھ ان کے اگے جھکے رہو اور ان کے لئے دعا کیا کرو۔
    اللہ تعالی نے دونوں کو بلند مقام و مرتبہ دیا ہے۔
    اور شریعت میں اس سلسلے میں دو طرفہ حقوق اولاد کے والدین پر اور والدین کے اولاد پر واضح کیے ہیں،
    والد ایک سائبان شفقت ہے اور اولاد اس سائے میں پروان چڑھتی ہے۔
    وہ اپنی ساری زندگی بالخصوص اولاد کہ جوان ہونے تک ان کے لئے محنت مشقت کرتا ہے،
    والد اللہ رب العزت کی طرف سے دنیا میں ایک عظیم نعمت ہے۔ جب تک اولاد پر باپ کا سایہ سلامت رہتا ہے اولاد بے فکری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتی ہے۔
    لیکن جب یہ سایہ شفقت قانون قدرت کے تحت اٹھا لیا جاتا ہے تب اولاد کو اس کی کمی محسوس ہوتی ہے اور اولاد کو زندگی کے اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز کا اندازہ ہوتا ہے،
    کہ باپ اولاد کے لیے کتنی مشکلات سے گزرتا ہے اور اولاد کو اپنی مشکلات کا اندازہ بھی نہیں ہونے دیتا۔
    والد ایک ایسا مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی اولاد کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور انہیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے،
    دعا ہے رب العزت سے کہ وہ ہمارے آپ کے سروں پر باپ کا سایہ تادیر قائم و دائم رکھے،
    اور جن کے والد اس دنیا سے گزر گئے ان کی بخشش و مغفرت فرمائے،
    اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کی نافرمانی سے اجتناب کرے کیونکہ یہ بہت ہی سخت گناہ ہے۔
    والد کی ناراضی اور اس کی بد دعا آپ کی کوئی دعا قبول نہیں ہونے دیتی۔
    والد کی بد دعا کے متعلق آپ سے ایک واقعہ شیئر کرتے ہیں،
    شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کے ہاں ایک شخص اپنے بیٹے کو بہت عرصے تک لے کر آتا رہا،
    شاہ صاحب رحمہ اللہ کبھی اس کے لئے دعا کرتے، کبھی کوئی عمل اس کے باپ کو بتاتے،
    تو کبھی تعویذ لکھ کر دے دیتے،
    لیکن اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،
    ایک دن انہوں نے باپ سے پوچھا کیا تم نے کبھی اسے کوئی بد دعا دی ہے۔
    تو باپ نے کہا ہاں حضور اس کی حرکتوں اور اس کی نافرمانیوں کو دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا اور بہت دکھ ہوا اور میں نے غصے میں اسے بد دعا دی،
    تو شاہ صاحب نے فرمایا تو خود اس کا علاج کر۔
    بد دعا دے کے علاج مجھ سے کروانے آیا،
    ایک تو ہمیں والدین کی نافرمانی سے بچنا چاہیے اور دوسری طرف میری مخلصانہ عرض ہے کہ والدین کو چاہیے اٹھتے بیٹھتے نماز کے بعد اپنی اولاد کے لیے دعا کریں،
    ان کے بہتر مستقبل کے لئے دعا کریں والدین کی دعا! اولاد کی نسلوں تک ان کا ساتھ دیتی ہے،
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے دعا کی تھی، اور ان دعاؤں کا اثر قیامت تک ان کی نسلوں میں موجود رہے گا،
    اس لیے اپنی اولاد کو ایسی دعائیں دے جائیں جو ان کی نسلوں میں بھی سب کو نظر آئے اور وہ خود بھی اس کا مشاھدہ کریں،
    اللّٰہ سب کے والدین پر اپنا خصوصی کرم فرمائے، اور سب کی اولاد کو والدین کا فرمابردار بنائے، آمین

    @zsh_ali

  • بلبیر سنگھ  تحریر: علیہ ملک

    بلبیر سنگھ تحریر: علیہ ملک

    تاریخ اسلام ایسے ایسے روحانی و وجدانی واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جنہیں پڑھنے اور سننے کے بعد انسان ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے۔
    اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لانے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی اکثریتی تعداد غریب ہے دو چار کے علاوہ
    جس طرح ابتداء میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ غریب تھے (دنیاوی لہاظ سے) اسی طرح اُس وقت کے مشرکین مکہ کے ساتھ جنگ کی سکت بھی نہیں رکھتے تھے
    اگرچہ اس وقت جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
    اس طرح چند سال گزر گئے لیکن اسلام کو طاقت میسر نہ آئی
    پھر ایک دن حضرت سیدنا عمر پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام قبول کر لیتے ہیں
    اور ان کے قبول اسلام کے ساتھ ہی اسلام طاقتور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
    پہلے دن ہی جناب عمر رضی اللہ عنہ مشرکین کو للکارتے نظر آتے ہیں
    مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
    یہ سلسلہ رکتا نہیں بلکہ مزید تیز ہوجاتا ہے
    مکہ سے حبشہ اور مکہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت ہوتی ہے
    مسلمان ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں
    جہاد کا حکم نازل ہوتا ہے
    معرکہ بدر وجود میں آتا ہے
    کفار کوشکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    اور کفار اس کا بدلہ لینے کیلئے دن رات ایک کرتے ہیں
    یہاں تک کہ غزوہ احد کا دن آجاتا ہے
    مسلمانوں پر کفار غالب آجاتے ہیں
    اور اس پر مسلمانوں کا بھاری نقصان خالد بن ولید اپنی کامیاب جنگی چال سے کرتے ہیں۔
    وقت گزرتا ہے وہی خالد بن ولید حضرت خالد بن ولید بن جاتے ہیں یعنی اسلام کو سینے سے لگا لیتے ہیں
    اور اپنی بہادری و شجاعت کی وجہ سے رسول اللہﷺ سے ” سیف اللہ” کا لقب پاتے ہیں اور فاتح شام و ایران ہوتے ہیں۔
    دنیاء کی "سپر پاور” قیس و کسریٰ کو اپنے پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔
    یہ سلسلہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر دور کے اندر ایسے واقعات ملتے ہیں
    مذہب اسلام کوصفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے نکلنے والی درندہ صفت ہلاکو خان کی فوج جب بہت سارے علاقے فتح کرلیتی ہے اور عباسی خلیفہ "معتصم باللہ” کو گرفتار کرکے گھوڑوں کے سونبوں تلے روند چکی ہوتی ہے تو ہلاکو خان کا چچا زاد بھائی "برکہ خان” اپنی پوری فوج سمیت مسلمان ہونے کا اعلان کر دیتا ہے اور ہلاکو خان کی قمر ٹوٹ کے رہ جاتی ہے۔
    یہ تاریخ اسلام کے سنہری باب ہیں
    اسی طرح بر صغیر میں مسلمانوں کے عقائد کا پرچم بلند ہوتا ہے اور ایک ہزار کے لگ بگ سال اسلامی حکومت رہتی ہے
    لیکن وقتاً فوقتاً ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تعصب اور نفرت کی آگ کو بھڑکایا جاتا ہے
    اسی دوران برطانیہ کا انگریز بھی تجارت کی غرض سے ہندستان آتا ہے اور قابض ہوجاتا ہے
    کایا پلٹتی ہے تو بھاگ کے برطانیہ تک ہی محدود ہوجاتا ہے
    مگر انگریز کا بویا ہوا بیج ہندو مسلمان کے درمیان نفرت کو بڑھانا
    مزید ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔
    ہندستان کی قدیم اور سب سے بڑی مسجد "بابری مسجد” کو شہید کردیا جاتا ہے
    اور شہید کرنے میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ سب سے آگے رہنے والا "بلبیر سنگھ” ہوتا ہے
    مسلمانوں کے صرف جذبات مجروح نہیں کئے جاتے بکلہ مسلمانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دئے جاتے ہیں۔
    وقت کی کایا ایک بار پھر پلٹتی ہے اور "بلبیرسنگھ” مسلمان ہوجاتا ہے
    مسلمان ہونے کے بعد یہی بلبیر جب بابری مسجد کا ذکر کرتا ہے تو رو پڑتا ہے
    اور اس کا کفارہ اداء کرنے کیلئے ہندستان میں 100 مساجد تعمیر کرانے کا عہد کرلیتا ہے اور شب و روز اسی کار خیر میں گزارتا چلا جاتا ہے
    یہاں تک کہ 96مساجد کی تعمیر مکمل ہوچکی ہوتی ہے اور آج مورخہ 24/07/2021 کو یہ خبر گردش کرتی ہے کہ "بلبیرسنگھ” آج صبح اپنے دفتر میں مردہ پائے گئے۔
    إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

    @KHT_786

  • پاکستان میں آج کل سب سے بڑا مسئلہ اور پی ٹی آئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے   تحریر:   سلمان الیاس

    پاکستان میں آج کل سب سے بڑا مسئلہ اور پی ٹی آئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے تحریر: سلمان الیاس

    باقی ہر محاذ پر حکومت بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے مہنگائی کو چوڑ کر ۔
    مہنگائی کنٹرول نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ بیوروکریسی ہے ۔کیونکہ وہ لوگ کام تو کرتے نہیں بس حاضری لگوانے آتے ہیں ۔اور آکر اے سی میں بیٹھ کر اور پھر چلے جاتے ہیں ۔ ان سے سوال کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے ۔ دکھ کی بات یہی ہے
    ہمارے وزیر بھی ماشاءااللہ کسی سے کم نہیں ہے بیان بازی میں سب سے آگے ہیں اور آگے سب اچھا ہے کا رپورٹ دیتے ہے لیکن کام کرنا نہیں کئی کو چھوڑ کر ۔

    حکومت کی طرف سے سبسڈی دی جاتی ہے ۔لیکن اس کے ثمرات نیچے تک نہیں پہنچتی

    سستے بازار حکومت لگواتی ہے پر وہاں بھی غریب کے لئے کوئی چیز پہلے تو سستا نہیں ہوتا اور اگر مل جائے تو کھانے کے لائق نہیں ہوتا ۔

    یوٹیلیٹی سٹورز پر تو غریب آدمی صرف ذلیل ہوسکتا ہے ۔کیونکہ وہاں پر غریب کی ضرورت کا کوئی چیز تو پہلے ملتا نہیں اور اگر مل بھی جائے تو دکھے کھانے کے بعد کسی خوش نصیب کو ملتا ہے۔

    اب یہ سب کنٹرول کرنا کس کا کام ہے ہم عوام کا ؟
    مہنگائی نے لوگوں کی کمر تھوڑ کر رکھ دی ہے۔اور خاص کر سفید پوش لوگ بہت زیادہ متاثر ہوئے ہے لاک ڈاؤن کے بعد کیونکہ کاروبار کا تو ویسے بھی برا حال ہے ۔اور مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگیں ہے .

    نچلے طبقے والے لوگوں کے ساتھ لوگ امداد کرتے ہے ۔کسی نے زکوٰة دیا صدقہ خیرات دیا انکا گزارہ ہو جاتا ہے
    لیکن سفید پوش نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہے ۔اور نہ خود سے کوئی دیتے ہے۔

    اب اگر حکومت پوری دنیا بھی فتح کرلے تو غریب آدمی کا اس سے کوئی غرض نہیں ۔کیونکہ انکو تو دو وقت کی روٹی چاہئے جو عزت سے اور سکون سے مل جائے

    اس لئے میں کہتا ہو ۔حکومت بمقابلہ اپوزیشن نہیں
    بلکہ حکومت بمقابلہ مہنگائی ہے کیونکہ یہ کنٹرول ہوگئی تو حکومت کو کوئی ہلا بھی نہیں سکتا اور اگر نہیں۔۔۔۔

    میں بحیثیت پی ٹی آئی کا ایک ادنا سا کارکن یہ سب بڑی دکھ کےساتھ لکھ رہا ہوں ۔لیکن یہ صرف میری آواز نہیں بلکہ ان کروڑوں ورکرز کی آواز ہے جنہوں نے پارٹی کے لئے جان لڑا دی ہے اب تک چاہے وہ سوشل میڈیا کے محاذ پر ہوں یا گراؤنڈ پر ۔

    تو خدارہ اس طرف بھی تھوڑا توجہ دے کر ہم ورکرز پر احسان کردے ۔ شکریہ

    🌷خوش رہے اور خوشیاں بانٹھے یہی اصل زندگی ہے 🌷

    عنوان
    پی ٹی آئی بمقابلہ مہنگائی

    ٹویٹر اکاؤنٹ
    @Salmanjani12

  • صفائی ایک قومی فریضہ تحریر : محمد وقاص عمر

    صفائی ایک قومی فریضہ تحریر : محمد وقاص عمر

    صفائی ستھرائی ہمارے ایمان کا آدھا حصہ ہے۔صفائی کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا کیونکہ صفائی کو ایمان کا نصف حصہ قرار دیا گیا ہے۔ایک حدیث نبویﷺ میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا پاکیزگی نصف ایمان ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی آسمانی کتاب قرآن مجید میں کئی جگہ تاکید فرمائی کہ صفائی اور پاکیزگی کو یقینی بنایا جائے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں جسم کے ساتھ لباس، جگہ، ماحول اور روح کو بھی پاکیزہ رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اور یہ سب تک ہی ممکن ہو سکتا ہے جب ہم اپنے دماغ کو صاف ستھرا رکھیں گے۔تب جا کر ہم اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جس کو ایمان کا نصف قرار دیا گیا ہے۔

    دنیا کے تمام مذاہب صفائی پر زور دیتے ہیں۔لیکن ان میں صرف ظاہری صفائی پر ہی توجہ دی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم خوراک میں حلال یا حرام کو نہیں دیکھتے۔جن دین اسلام صفائی اور پاکیزگی کی بنیاد پر حلال اور حرام میں فرق کرتا ہے۔

    صفائی پسند معاشرے کو ہر کوئی پسند کرتا ہے جیسے ایک صاف ستھرے شخص کو ایک گندے شخص کی نسبت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔صفائی ستھرائی کے لیے امیر ہونا ضروری نہیں نہ ہے مہنگے کپڑے پہنے کی کوئی شرط ہے۔اس طرح مہنگے صابن یا شیمپو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں بس دین اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم صاف ستھرے رہ سکتے ہیں ۔وضو اور غسل کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم پاکیزہ رہ سکتے ہیں۔صفائی ستھرائی ہمیں بہت سے بیماریوں سے بچاتی ہے۔ہم چاہیے کہ اپنے گھر کچن برتنوں کو اچھے طریقے سے صاف رکھیں تا کہ بیماریوں سے بچا جا سکے۔بارش کی صوردت میں گھر میں پانی نہ کھڑا ہونے دیں۔کوڑے کرکٹ کو گھر کے دور کسی جگہ پھینک کر تلف کر دیں۔خاص طور پر ہمیں بارش کا پانی گھر میں کہیں بھی جمع نہیں ہونے دینا چاہیا کیوں کہ اس سے ڈینگی وائرس جنم لیتا ہے۔یہ وائرس انتہائی خطرناک ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔خاص طور پر یہ پاکستان کے دو بڑے شہروں راولپنڈی اور لاہور میں پھیلا ہوا ہے۔اس لیے ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بارش کے پانی کو اپنے گھروں میں جمع نہیں ہونے دینا۔

    یہ کالم اصل میں عید قربان کے حوالے سے لکھ رہا ہوں کیونکہ اس عید پر لوگ بالکل بھی صفائی کا خیال نہیں رکھتے اور جانوروں کو ذبح کرنے بعد ان کی آلائیشں سڑکوں اور گلی محلوں میں پھینک دیتے ہیں۔ان آلائیشوں سے تعفن پھیلاتا ہے اور اس سے کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں لہذا جانور قربان کرنے کے بعد ہمیں چاہیے کہ ان کی آلائشوں کو ایک خاص جگہ جمع کریں تا کہ پورے شہر کو صاف اور پاک رکھا جا سکے۔صاف ستھرائی کرنے کا کام صرف حکومت کا نہیں ہوتا بلکہ بحیثیت شہری یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنے گھر، گلی اور محلے کو صاف ستھرا رکھیں، کوڑا کرکٹ نالیوں میں پھینکنے کے بجائے مقرر کردہ کوڑا دانوں میں ڈالیں۔ تا کہ ہم اپنے آپ کو اور دوسروں کو کئی بیماریوں سے سے محفوظ رکھ سکیں۔

    Twitter Id @WaqasUmerPk

  • اسلامی معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر: آمنہ فاطمہ

    اسلامی معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر: آمنہ فاطمہ

    نوجوانی کی عمر انسان کی زندگی کا قوی ترین دور ہوتا ہے کسی بھی قوم و ملک کی کامیابی و ناکامی, فتح و شکست, ترقی و تنزلی اور عروج و زوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے
    اللّہ تعالیٰ کو جوانی میں کیا گیا عمدہ کام بشمول عبادات اتنی محبوب ہیں کہ جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے اللّہ تعالیٰ نے اصحاب الکہف کے بارے میں فرمایا وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں مزید رہنمائی بخشی اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت مضبوط کر دیا حب انہوں نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ: ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی اور الہ کو نہیں پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو یہ بعید از عقل بات ہوگی 148 ۔ یہ وہ نوجوان تھے جو وقت کے حاکموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اللّہ کی وحدانیت پر ایمان لائے
    اسلام میں نوجوانوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور روز قیامت اسی جوانی کے بارے میں خصوصی سوال کیا جائے گا حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ اللّہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: یعنی قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے عمر کن کاموں میں گنوائی؟ جوانی کی توانائی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا؟
    دین اسلام کی سنہری تاریخ میں اسلام کی خدمت اور اشاعت میں نوجوانوں کا بڑا کردار ہے نوجوان صحابہ نےبڑے بڑے کارنامے انجام دیے دور شباب میں ہی حضرت على کرم اللہ وجہہ, حضرت معصب بن عمیر, حضرت خالد بن ولید, حضرت ابن عباس, اور دوسرے نوجوان صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ساتھ دیا اور بے شمار غزوات میں اپنی بے مثال قربانیاں پیش کیں. اسی دور میں صلاح الدین ایوبی, طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے سالاروں نے اپنے کارناموں سے اسلامی تاریخ کو تابناک بنایا یہ ایسے نوجوان تھے جنہوں نے اپنی جوانی اور اپنی صلاحیتوں کو اللّہ کے دین پر قربان کیا
    اس کے بر عکس آج کا نوجوان بے راہ روی کا شکار ہے سستی شہرت حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے آج کے نوجوانوں کی زندگی کا مقصد سوشل میڈیا پر اپنے آپ کو وائرل کر کے لائیکس, کمنٹس لینا اور فالورس بنانا رہ گیا ہے معاشرے میں اچھا گھر, گاڑی اور ملبوسات سے اسٹیٹس سمبل بننا چاہتا ہے خود پسندی اور خود نمائی نوجوانوں کی زندگیوں میں زہر گھول رہی ہے دیر رات تک چیٹنگ کرنا اور دن بارہ بجے تک سوئے رہنا مسلم نوجوانوں کا مشغلہ بن چکا ہے آج کے نوجوان کردار و اخلاق, شرم و حیا, ادب و احترام جیسی صفات سے محروم نظر آتا ہے آج دشمن اسلام ہر جانب سے مسلم نوجوانوں کے ایمان اور پہچان کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے اکثر نوجوان اس سازش کا شکار بھی ہو رہے ہیں
    آج کے مسلم نوجوان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کا اصل مقصد تلاش کریں اور اپنے آپ کو پہچانیں اور یہ پہچان اسے صرف اسی صورت حاصل ہو سکے گی جب وہ قرآن و سنت کے ساتھ اپنا تعلق جوڑیں گے
    وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
    شباب جس کا ہے بے داغ, ضرب ہے کاری

    @AamnaBukhari

  • مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ، 6 نوجوان شہید

    مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ، 6 نوجوان شہید

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 3 روز کے دوران قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6 نوجوان شہید ہوئے۔

    باغی ٹی وی :کشمیر میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے اور حالیہ ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں مزید 2 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے جس کے بعد 3 روز میں شہید نوجوانوں کی تعداد 6 تک پہنچ گئی ہے۔

    بھارتی فوج نے ضلع کلگام میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کر کے مزید 2 نوجوانوں کو شہید کردیا جب کہ اب بھی سرچ آپریشن جاری ہے۔ علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے گزشتہ 3 روز کے دوران قابض فوج کے ہاتھوں اب تک 6 نوجوان شہید ہوچکے ہیں۔ اس سے قبل ضلع سوپور اور بانڈی پورہ میں بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے متعدد نوجوانوں کو شہید کیا تھا۔

  • پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ   تحریر : انجینئر عنصر اعوان

    پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تحریر : انجینئر عنصر اعوان

    حال ہی میں پاکستان کی انگلینڈ کے ساتھ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز اختتام پذیر ہوئی ہے. ون ڈے سیریز میں بری طرح شکست کھانے کے بعد پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی عمدہ پرفارمنس کی بدولت کچھ امید کی کرن نظر آئی جو فی الوقتی ثابت ہوئی اور بقیہ دو میچز میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی طرف سے پچھلی ون ڈے والی ناقص کارکردگی کو دہرایا گیا. اب ٹیم ویسٹ انڈیز پہنچ چکی ہے جہاں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی جانی ہے. جو کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے کھیلی جائے والی پاکستان کی آخری سیریز ہے. یہ پاکستان کے پاس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متوقع الیون بنانے کا آخری موقع ہے.
    انگلینڈ کے ساتھ ہونے والی حالیہ سیریز میں مڈل آرڈر بیٹنگ اور باؤلنگ مکمل طور پر فلاپ ہوئی. یہ بات یقینی نظر آئی کہ بابر اعظم جس میچ میں رنز بنائے گا پاکستان کے وہ ہی میچ جیتنے کے چانسز ہیں بابر اعظم اور محمد رضوان کے علاوہ کسی بیٹسمین کی طرف سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھائی نہیں دی. مڈل آرڈر میں کوئی بھی بیٹسمین زمہ داری قبول کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا. اس وقت شعیب ملک صرف واحد بیٹسمین ہے جو پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ کو سہارا دے سکتا ہے. اس لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سکواڈ میں شعیب ملک کی شمولیت اشد ضروری ہے.
    اسی طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کی باؤلنگ کا بھی یہی حال نظر آیا انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان کی باؤلنگ مکمل طور پر فلاپ دکھائی دی. تمام باؤلرز وکٹیں نہ لینے کے ساتھ رنز کو روکنے میں بھی مکمل ناکام نظر آئے. حسن علی کے علاوہ کوئی بھی باؤلر خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا. ون ڈے میں 331 رنز بنانے کے باوجود پاکستانی باؤلرز ٹارگٹ کا دفاع نہ کر سکے جبکہ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں بھی ریکارڈ 232 رنز بنانے کے باوجود بڑی مشکل سے میچ جیت پائے. جبکہ پاکستان کی باؤلنگ ہمیشہ سے دنیا کی بہترین باؤلنگ لائن میں شمار ہوتی آئی ہے. پاکستان اگر ٹی ٹوئنٹی میں 160 پلس سکور کر دیتا تو مخالف ٹیم کے لیے ٹارگٹ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا تھا. مگر حالیہ سیریز میں 200 پلس کا سکور بچانا بھی مشکل نظر آیا.
    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل دیگر ٹیمز کے مقابلے کے لیے پاکستانی باؤلنگ کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے جو کے محمد عامر اور وہاب ریاض کی قومی سکواڈ میں شمولیت سے ہی ممکن ہو سکتی ہے. ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہونے والی حالیہ سیریز میں پاکستان کو چاہیے کے سکواڈ میں موجود تمام پلئیرز کو مواقع فراہم کئے جائیں اور ورلڈ کپ کے لئے متوازن سکواڈ کا انتخاب کیا جائے. مصباح الحق اور وقار یونس کو چاہیے کہ آنکھوں سے انا کی پٹی اتار کر شعیب ملک، محمد عامر اور وہاب ریاض کو ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کر کے ایک متوازن ٹیم ورلڈ کپ میں بھیجیں نہیں تو ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی کارکردگی انگلینڈ سیریز سے مختلف نہیں ہو گی.

  • عورت اور معاشرتی رویّے  تحریر: سویرااشرف

    عورت اور معاشرتی رویّے تحریر: سویرااشرف

    مرد اور عورت اللہ تعالی کی پخلیق کردہ دو اصناف ہیں اور دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے ۔آج کے ماڈرن اورنام نہاد لبرل دور میں صنفی امتیاز کا لفظ تو زبانِ زدِ عام ہے جس کا مطلب کسی صنف کو اس کے حقوق سے محرومی یا عدم دستیابی کا لیا جاتا ہے، جو یقینا کہیں نہ کہیں دیکھنے میں بھی آجاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں ناانصافی inequality. کی ٹرم بیسویں صدی سے باقاعدہ جانی جانے لگی تھی اور مرد اور خواتین کی برابری کی فضا باقاعدہ ماحول میں بدلنے لگی۔ اس اہمیت کو جانتے ہوئے لوگوں میں شعور بیدار ہوا کہ حقوقِ انسانی، خصوصاً عورتوں کے حقوق ، بھی کسی بلا کانام ہے۔ تحریک چلی تو چلتے چلتے ہر سُو پھیلنے لگی اور یوں ہم نے Gender Equality یا Gender Discriminationجیسے الفاظ سے نیا ناتا جوڑلیا۔پاکستان میں حالیہ برسوں میں صنفی مساوات کو فروغ دینے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے آج کی پاکستانی خواتین اپنی پچھلی نسلوں کی نسبت فیصلہ سازی کے زیادہ اختیارات رکھتی ہیں۔ لیبر فورس ہو یا ریاست، خواتین کی نمائندگی ہرشعبۂ زندگی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس کے مثبت نتائج اس طرح دیکھنے میں آتے ہیں کہ آج کی خواتین ہر محاذ پر مردوں کے شانہ بشانہ نظر آتی ہیں۔ ملکی ترقی اور استحکام ہو یا اُمورِ خانہ داری، صنفِ نازک کی اوّل صفوں میںموجودگی اِس بات کا اظہار ہے کہ خواتین کسی صورت مردوں سے کم نہیں۔

    یہ تو ہوگئی مردوں اور عورتوں میں امتیاز کی بات لیکن ایک امتیاز ہماری سوسائٹی میں خواتین کا خواتین کے مابین بھی دیکھا جاتا ہے جس کوWorking Woman اور Housewife کے نام سے منسوب کردیاگیا ہے۔یہ تفریق معاشرے سے کہیں زیادہ ہمارے رویوں نے پیدا کی ہے لہٰذا ہم اس کا بوجھ معاشرے کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے۔ ایک مشرقی معاشرے میں، گھر میں رہ کر پورا دن گھر میں کام کرنے والی خاتون کو، 9 سے5 ملازمت کرنے والی خواتین سے، کم تر سمجھا جاتا ہے، یایہ کہا جائے کہ ملازمت کرنے والی گھر کی خاتون کو غیر ملازمہ گھر کی خواتین کی نسبت زیادہ عزت دی جاتی ہے لیکن یہ صورت حال ہر جگہ ایک سی نہیں ، ہم دیہی علاقوں کا رُخ کریں تو وہاں گھریلو خاتون کودی جانے والی ترجیح واضح دکھائی دیتی ہے۔ اسے عزت دی جاتی ہے جبکہ ایک عورت کے لئے باہر کے کام کرنا وہاں معیوب گردانا جاتا ہے۔یہ ہمارے معاشرے کے مختلف رویے ہیں جو ایک ہی صنف کے لئے مختلف نوعیت کا انداز رکھتے ہیں۔
    اب یہ ہمارے ماحول پر منحصر ہے کہ ہماری سوچ کس زوایے سے سب پرکھتی ہے اور کیسے پروان چڑھے گی۔ ماحول مثبت ہوگا تو سوچ اورخیالات بھی مثبت سمت میں پروان چڑھیں گے اور اگر ماحول منفی ہوگا تو نتائج بھی منفی ہوں گے۔ اِن تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم ایک شوہر کی حیثیت سے دیکھیں تو وہ ہمیشہ ایک کام کرنے والی خاتون کو بہتر سمجھتا ہے کیونکہ ایک ورکنگ لیڈی معاشی طور پر کنبے میں حصہ ڈال سکتی ہے اور شوہر کا بوجھ بانٹ سکتی ہے لیکن ہر جگہ ایسا نہیں سمجھا جاتا اسلیے ساتھ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو قدامت پسند سوچ رکھتے ہیں اور اپنی بیویوں کو کام کرنے، کی اجازت دینے میں عار محسوس کرتے ہیں ۔
    ایک بچے کی حیثیت سے دیکھیں تو ایک غیر ملازمت والی ماں بہتر ہے کیونکہ وہ بچے کی بہتر تربیت کرتی ہے اور اس کو اپنا سارا وقت دیتی ہے جس کی اس کی اولاد کو زندگی میں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جاۓ تو ایک ورکنگ لیڈی بھی اچھی ماں ثابت ہو سکتی ہے ۔ ہمارے پاس بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک عورت نوکری کے ساتھ ساتھ بہترین ماں بھی ثابت ہوئی ہے، وہ عورت جو گھر اور نوکری کے فراٸض میں توازن رکھے اور ایک ساتھ باخوبی نبھائے تو وہ معاشرے کے لئے قابلِ تحسین بھی۔ بچے کی پرورش میں ماں کا کردار باپ سے زیادہ اہم ہوتا ہے اور اس لئے یہ ترجیح ہوتی ہے کہ ماں بچوں پر خصوصی توجہ اور وقت دے جس اور مزیدیہ کہ اپنے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق بچے کی پرورش کرے۔
    گھر سے باہر رہ کر مردوں کے معاشرے میں کام کرنا یقینا ایک بہت بہادر عمل ہے لیکن اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں اپنی مائوں، بہنوں کو جو دن رات24/7گرمی کی حدت اور سردی کی شدت میں ہمارے اور گھروالوں کے لئے اپنے دل و جان سے کام کرتی ہیں۔ معاشرتی طور پر ہمارا رویہ ایسا ہے کہ ایک ورکنگ وومین کا کام پہاڑ توڑنے کے مترادف سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جب کوئی گھریلو خاتون اپنی پریشانی کا تھوڑا سا اظہار کردے تو ہم اسے کسی خاطر میں نہیں لاتے۔
    بس یہی فرق ہے ہماری سوچ کا۔۔۔۔ ہمارے رویوں کا۔۔۔ خواتین کسی بھی جگہ ہوں،کسی بھی رشتے،کسی بھی ذمہ داری کو نبھا رہی ہوں، گھریلو یا ورکنگ ،وہ قابلِ عزت ہے،قابلِ احترام ہے ۔ہمیں اپنے معاشرتی رویوں کو بدلنا ہوگا ہمیں یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ ایک گھریلو خاتون کسی طور پر بھی ورکنگ وومین سے کم نہیں ہے۔
    ایک طرف دیکھا جاۓ تو ورکنگ لیڈی کو اپنے کام کی اجرت ملتی ہے جبکہ گھریلو عورت کو کام کرنے کے باوجود اکثر لعن طعن ہی ملتی ہے
    ان حقائق کو مدِ نظر ہوئے اس بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون کس سے بہتر ہے ۔
    ایک عورت ماں بھی ہے، بیٹی بھی،بہن بھی اور بیوی بھی۔ زندگی کے ہر روپ میں عورت کو اللہ نے ایک خاص مقام عطا کیا ہے اور اس خاص مقام کی بدولت ہی خدا نے اس کے قدموں تلے جنت رکھی ہے ۔ غرض عورت کے وجود سے ہی کائنات کی رونق ہے اور خود عورت ہونا ایک فخر کی بات ہے۔۔۔ لیکن افسوس کا مقام وہاں آتا ہے جب ہم ورکنگ ویمن کو گھریلو خاتون کے مقابلے میں زیادہ عزت دیتے ہیں۔ یہ بات انتہائی قابلِ افسوس ہے کہ ہمارا زیادہ تر پڑھا لکھا طبقہ بھی اس طرح کی سوچ رکھتے ہوئے زمانۂ جاہلیت کی باتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ اگر ایک مرد گھریلو اور ملازمت پیشہ خواتین کے لئے الگ الگ رائے قائم کرتا ہے تو اس کی یہ سوچ کسی حد تک قابلِ قبول ہو سکتی ہے لیکن ایک عورت ہو کر دوسری عورت کے لئے اس طرح کی سوچ رکھنا یقینا غیر مناسب ہے۔
    اگر کام کرنے والی خواتین اپنے کیرٸیر کیساتھ ساتھ بچوں،شوہر کی دیکھ بھال کے لئے وقت نکالنے کی جدو جہد کرتی ہیں وہی ایک گھریلو خاتون کو اپنے لئے وقت نکالنے کیجدوجہد کرتی ہے ۔ گویا دونوں کو وقت اور حالات کے تناظر میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی بھی بات یا فعل ایسا نہ ہو جس سے معاشرے کا کوئی بھی فرد حوصلہ شکنی کا شکار ہو یا اس میں احساسِ کمتری پیدا ہو کیونکہ زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور انسانی رویّوں کی دیکھ بھال ہر دَور کی ضرورت رہی ہے۔ اس لئے اس طرح کے امتیاز کو ذہنی اور معاشرتی طور پر کم کرنا چاہئے کیونکہ حوّا کی بیٹیوں کے دَم سے ہی اس بزمِ جہاں میں رونق ہے اور وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں، معاشرے کی فلاح اور پروان میں دونوں کا اپنااپنا کردار ہے اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پرانتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    @IamSawairaKhan1