Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیر الیکشن اور ہمارے ساستدانوں کی بڑی بڑی باتیں . تحریر :‌ محمد وسیم

    کشمیر الیکشن اور ہمارے ساستدانوں کی بڑی بڑی باتیں . تحریر :‌ محمد وسیم

    2013 کا الیکشن جب ہو رہا تھا تب سے مجھے سیاست کا شوق چڑھ گیا تھا اس وقت جب میں اپنے سیاستدانوں کے تقریریں اور وعدے سنتا تھا تو مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ واقعی میں ہمارے سیاستدان بہت مخلص ہے اپنے قوم کے ساتھ کچھ وقت جب گزرا نئ پارٹی کو حکمرانی کرنے میں۔ تو تب مجھے پتہ چلا کہ جو باتیں اور نعرے جلسوں میں لگائ گئ تھی وہ سب تو ایک دھوکہ تھا وہ باتیں وہ نعرے سب کچھ بھول گۓ تھے ہمارے حکمران اسکی کچھ مثالیں یہ ہے کہ ہمارے تھر چھوٹے چھوٹے اور پیارے بچے بھوک سے مر رہے تھے جب کہ ہمارے سیاستدانوں کو کھانے سرکاری ہیلی کاپٹر میں جاتے تھے ہرطرف مہنگائ، بجلی کی لوڈشیڈنگ، اور یہاں تک کے میرے پاکستانیوں کو پانی بھی صاف نہیں ملتی تھی۔ پاکستان میں غربت تیزی سے بڑھنے لگی ہر دوسرا بندہ بے گھر ہے ہر دوسرا بندہ قرضہ دار اور بےروزگار ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو اپنے ملک کی کوئ فکر نہیں ہے ان کے دور کے رشتہ دار بھی سرکاری املاک کا استعمال کلھم کھلا کررہے ہے۔ ہمارے سیاست دان الیکشن ہوتے ہی اپنے وعدے بھول جاتے ہے اور پانچ سالوں کیلۓ بادشاہ بن کر محل میں بیٹھ جاتے ہے عوام کے مسائل کے حل کیلۓ اسمبلیاں موجود ہے لیکن ہمارے سیاست دان وہاں بھی جاکر لڑائیاں کرکے آتے ہے اور وہاں پر عوام کے مسائل بتانے کے بجاۓ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہے اور ایک دوسرے پر حملے کرتے رہتے ہے۔ قائدءاعظم جب پہلے کابینہ کی اجلاس کی صدارت کر رہا تھا تو ان سے ای ڈی سی نے پوچھا کہ سر اجلاس میں قافی پیش کی جاۓ یا چاۓ؟ قائداعظم نے چونک کر سر اٹھایا اور فرمایا یہ لوگ گھروں سے چاۓ قافی پی کر نہیں آۓ؟ پھر قائداعظم نے فرمایا کے جس کو چاۓ یا قافی پینی ہے وہ اپنے گھروں سے پی کر آۓ اور کہا کہ یہ قوم کا پیسہ ہے قوم کیلۓ ہے وزیروں کیلۓ نہیں۔ ایسے بھی ہمارے لیڈرز ہوا کرتے تھے۔

    ہمارے ملک کو اس وقت باتوں والے لیڈرز کی نہیں بلکہ کام والے لیڈرز کی ضرورت ہے۔ اگر ایک حکمران پارٹی کام نہیں کریگی تو وہ خود کو بدنام کریگی۔ قائدءاعظم نےکوئٹہ میں 15جون،1948 ء کو میونسپلٹی سے خطاب کرتے ہوۓ کہا تھا کہ بلاشبہ نمائندہ حکومت اور نمائندہ ادارں کا ہونا بہت خوب اور بہت ضروری ہے ۔ لیکن اگر چند اشخاص انہیں محض ذاتی اقتدار اور املاک میں اضافے کا ذریعہ بنالیں اور انہیں ایسی پست سطح تک گسھیٹ لائیں تو ایسی حکومت اور ادارے نہ صرف اپنی قدر اور منزلت سے محروم ہوجاتے ہے بلکہ بدنامی بھی کمالیتے ہےاصل میں میرے ا س کالم لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں اب باشعور عوام بننا چاہیئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے ملک میں جتنے مسلۓ مسائل اسے کونسا وہ بندہ یا وہ پارٹی اچھی طریقے سے حل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک کے پڑھے لکھے لوگ بھی اپنا شعور الیکشن کے وقت بھول جاتے ہے اور اپنا ووٹ بیجھ دیتے ہے جس سے ہمارا ملک تباہی کی طرف جاتا ہے۔
    اب چونکہ کشمیر کا الیکشن نزدیک ہے تو میں اپنے کشمیریوں سے کہونگہ کہ آپ بہت ہی سمجھدار لوگ ہو۔اپنے ووٹ کو بیچنے کے بجاۓ اسے ایسے بندے کو دے جو آپ لوگوں کیلۓ سوچتا ہو نا کے وہ کل منتخب ہو کر آپ لوگوں کو بھول جاۓ اور آپ لوگوں کے پیسوں پر اپنے اور اپنی فیملی کے ساتھ عیاشیاں کرتے رہے. یہ وطن ہمارا ہے اور ہمیں خوو اس کا خیال رکھنا ہوگا نا کہ ہم اسے کسی کرپٹ کے حوالے کرکے اپنے ملک کو ترقی کی راہ سے ہٹا دے.

    Twitter id : Waseemk370

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میلا  تحریر: آفاق حسین خان

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میلا تحریر: آفاق حسین خان

    ٹی ٹوئنٹی کرکٹ آج کے دور کا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا طرز ہے- ٹی ٹونٹی کرکٹ کی شروعات سال دوہزارتین میں انگلش کاؤنٹی سے ہوئی اورآہستہ آہستہ پوری دنیا میں اس نئے طرز پرکرکٹ کھیلی جانے لگی- مختلف ممالک میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ دیکھنے کا رجحان بڑھنے لگا- اوراگرپاکستان کی بات کی جائے تو یہاں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا آغاز سال دو هزار پانچ میں اے-بی-این امرو ٹی ٹوئنٹی کپ کے نام سے ہوا اور اس باہمی کھیل کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقد کیا گیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے گیارہ ٹیموں نے حصہ لیا – شائقین کرکٹ نے بھرپور شرکت کرکے اس ٹورنامنٹ کو کامیاب کیا اور پاکستان میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مقبولیت روز بروز بڑھنے لگی جس کے بعد یہ سالانہ ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ بن گیا- پاکستان کے پہلے ٹی ٹوئنٹی کھیل کی فتح حاصل کرنے کا اعزاز فیصل آباد ٹیم کے حصے میں آیا جبکہ سیالکوٹ چھ ,لاہور تین , پشاور دو اور کراچی ایک بار چیمپیئن بنے-
    دنیا میں پہلا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ستمبرسال دو ہزار سات میں کھیلا گیا جس کی میزبانی ساؤتھ افریقہ نے کی, محض تیرہ دن کے اس ورلڈ کپ میں مختلف ممالک کی بارہ ٹیموں نے حصہ لیا – اب تک چھ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلے جا چکے ہیں جبکہ سال دو ہزارنو کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی عمدہ کارکردگی کے باعث چیمپین شپ کا تاج پاکستان کے سر پر سجا جو ایک اعزاز کی بات ہے- حال ہی میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سال دوہزاربیس آسٹریلیا میں منعقد ہونا تھا اور بہت سے شائقین کرکٹ کوبڑی بے تابی سے اس کا انتظار تھا لیکن کرونا وائرس کے پیش نظراس ورلڈ کپ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا- کرونا وائرس جیسی جان لیوا وبائی بیماری کے باعث تقریبا پوری دنیا لاک ڈاؤن کی طرف چلی گئی جس سے کرکٹ کے میدان بھی ویرانے کا منظرپیش کرنے لگے اوردوسرے کھیل بھی اس سے شدید متاثر ہوئے البتہ چند روز پہلے آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس کے ٹیم گروپس کا اعلان کیا ورلڈ کپ کی میزبانی بی سی سی آئی کرے گی جس کے میچز یو اے ای اور عمان میں کھیلے جائیں گے- سترہ اکتوبر سے اس باہمی کھیل کا آغاز ہوگا اگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ گروپ کی بات کی جائے تو اس کو دومختلف زُمرہ میں تقسیم کیا گیا ہے سپر بارہ میں آٹھ بڑی ٹیمیں رکھی گئی ہیں جس میں افغانستان کی ٹیم کا نام بھی شامل ہے جو ایک حیران کن اور قابل تعریف بات ہے "انتھک محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے” جبکہ راونڈ ایک میں بھی آٹھ چھوٹی ٹیمیں ہیں جس میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کا نام سر فہرست ہے- نوے کی دہائی میں دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیموں میں سری لنکن ٹیم کا شمار ہوتا تھا لیکن افسوس کے ساتھ آج کل خراب کارکردگی کے باعث مشکلات سے دوچارہے اورامید کی جاتی ہے کہ ورلڈ کپ سال دوهزارو کیس میں سری لنکن کرکٹ ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سپر بارہ میں بڑی ٹیموں کےمدمقابل ہوگی – راؤنڈ نمبرایک کودو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے, گروپ اے اور گروپ بی- گروپ اے میں چارچھوٹی ٹیمیں ہیں جس میں سے دو بہتر کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کا سپربارہ کے لیے انتخاب کیا جائے گا جبکہ گروپ بی میں بھی جو دوٹیمیں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کریگی وہ سوپر بارہ کے لیے کوالیفائی کر جائیں گی- پاکستان کو سپر بارہ کے گروپ نمبر دو میں رکھا گیا ہے اوراس کے ساتھ بھارت نیوزی لینڈ اور افغانستان کی ٹیمیں بھی شامل ہیں جبکہ سپر بارہ کے گروپ نمبرایک میں انگلینڈ, آسٹریلیا , ساؤتھ افریقہ اورویسٹ انڈیز شامل ہیں-
    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس شائقین کرکٹ کے لیے انبساط کی بات ہے اور امید کی جاتی ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دوہزاراکیس سے کرکٹ میدانوں کی رونقیں دوباره بحال ہوں گی اورایک اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی- اور اس کے ساتھ یہ بھی امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس میں عمده کارکردگی دکھائے گی اور ایک با پھر فتح یاب هوکر پاکستان کا پرچم بلند کرے گی-

    Twitter: @AfaqHussainKhan

  • اورسيز پاکستانی اور  وزيراعظم عمران خان     تحرير : عٽمان چوہدری

    اورسيز پاکستانی اور وزيراعظم عمران خان تحرير : عٽمان چوہدری

    بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمیشہ سے اربوں ڈالر کی ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعہ ملکی معاشی ترقی کی سمت ایک اہم ستون رہے ہیں۔

    اگرچہ سابقہ ​​تمام حکومتوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کی شراکت کے لئے مختلف مراعات سے نوازنے کا وعدہ کیا تھا ..
    لیکن کسی نے بھی ان کے وعدوں کوتکميل تک نہیں پہنچایا جتنا وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکومت کر رئ ہے۔

    کورونا وائرس وبائی بیماری کے پھیلاؤ کے بعد 500 سے زائد ملکی اور بین الاقوامی پروازوں پر متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے 304،000 پاکستانیوں کی کامیاب وطن واپسی اس کے غیر ملکی شہریوں کے لئے حکومت کی سنجیدگی ، عزم اور ترجیح کی عکاسی کرتی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید ذوالفقار بخاری پورے منصوبے کو کامیابی کے ساتھ منصوبہ بنانے اور اس پر عمل کرنے میں معاون تھے۔ یہ اس وقت کی سب سے بڑی وطن واپسی کا پروگرام تھا جو جنوبی ایشین ملک نے اپنی تاریخ میں چلایا تھا۔
    حال ہی میں شروع کیے گئے نئے وزیر خارجہ کے پورٹل کی بدولت ، متحدہ عرب امارات میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے مسائل کو جلد حل کر سکتے ہیں۔

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو شکایات ، مشورے اور آراء درج کرنے میں مدد کے لئے دبئی ، جدہ ، لندن ، نیویارک اور بارسلونا سمیت بیرون ملک مقیم پاکستان کے پانچ مشنوں میں پاکستان کا ’وزیر خارجہ کا پورٹل‘ ابتدائی طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نئے اقدام کی خاص بات یہ ہے کہ ان ممالک میں غیر ملکی شہری بھی پورٹل ڈاؤن لوڈ اور اندراج کرسکتے ہیں اگر ان ممالک میں غیر ملکی مشنوں سے نمٹنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو وہ اپنے خدشات اور تجاویز کا اظہار کرسکتے ہیں۔ یہ پورٹل آہستہ آہستہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی مشنوں میں متعارف کرایا جائے گا۔

    وزیر اعظم خان نے حکم ديا کہ کم مزدوری حاصل کرنے والے مزدوروں پر پہلے ہی بیرون ملک سخت کاروباری حالات کا بوجھ پڑا ھوتا ھے ، اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو آسان بنائے اور انہیں اور ملک میں ان کے اہل خانہ کے لئے ضروری سہولیات اور مراعات فراہم کرے۔

    وزیر اعظم نے متنبہ کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ملکیت پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متعلقہ ہدایات جاری کی جائیں گی۔

    اميد کرتے ہيں عمران خان صاحب ايسے ہی اورسيز پاکستانيو ں کے مسا ئل ترجيی بنيادوں پر حل کرتے رہے گے ۰

  • عورت اور ہمارا معاشرہ  تحریر : امیرحمزہ کمبوہ

    عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر : امیرحمزہ کمبوہ

    ‏ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب بہو بیاہ کر گھر میں آتی ہے تو اس سے بیٹا پیدا ہونے کی امیدیں لگا لی جاتی ہیں ، اگر بیٹا پیدا نہ ہو اور بیٹی کے بعد پھر بیٹی پیدا ہو جائے تو جب تک بیٹا پیدا نہ ہو تب تک خاندان میں اضافہ جاری رکھنے کا سوچا جاتا ہے چاہے اس کوشش میں پہلے سے موجود بیٹیوں کی صحیح تربیت ، صحت اور خوراک کو نظر انداز ہی کیوں نہ کرنا پڑے

    اور اس بات کا الزام بھی ہمیشہ عورت کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے کہ تیسری بیٹی کے بعد چوتھی بیٹی پیدا کیوں ہوئی ہے ، لیکن شاید کبھی کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہو کے تیسرے بیٹے کے بعد چلو چوتھی بیٹی ہی پیدا ہو جاتی

    ہمارے معاشرے میں آنے والے بچے کی جنس چاہے مرد ہو یا عورت لیکن اس عمل میں ہمیشہ عورت کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے جس عورت کے ہاں خدانخواستہ زیادہ بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو اس کے سسرال والے بھی اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے اور یہ سب کرنے والی بھی ایک عورت یعنی کے اس کی ساس ہی ہوتی ہے

    لیکن اگر عورت کے بھائی اور ماں باپ کا سایہ سر پر ہوگا اور وہ خیال کرنے والے ہوئے تو عورت کا قادر سسرال میں قدرے مضبوط ہوگا ، لیکن اگر اسی عورت کے ہاں بیٹے پیدا ہوجائیں تو اس کی بطور بیوی اور بہو کی حثیت مضبوط ہوگی اور اس سے گھر میں بطور خوشیاں لانے والی عورت کا تصور کیا جائے گا

    اللہ پاک سورہ شوری میں ارشاد فرماتے ہیں
    ترجمہ: اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے۔

    اگر اس ارشاد باری کو مدنظر رکھا جائے تو آج کی عورت سمجھنے سے قاصر ہے کہ اولاد کی جنس کا ذمہ دار ہمیشہ عورت کو ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے !

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد باری کا مفہوم ہے کہ
    جس نے اپنی دو بیٹیوں کو پالا پرورش کی اور ان کا نکاح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے یہ دو انگلیاں آپس میں جڑی ہوئی ہیں

    اس لیے ہمیشہ بیٹی کی پیدائش پر مجرم عورت کو ٹھہرانا بالکل بھی درست نہیں ہے

    Twitter handle @AHK_313

  • بحیثیت قوم ہم سب کرپٹ ہیں  تحریر:وسیم اکرم

    بحیثیت قوم ہم سب کرپٹ ہیں تحریر:وسیم اکرم

    ہم ہر روز سیاستدانوں کو گالیاں دیتے ہیں اور کرپٹ کہتے ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ کرپٹ ہونے کیلئے لازم نہیں سیاستدان ہونا، بحثیت قوم ہم سب لوگ کرپٹ ہیں بس ہمیں جس جگہ جتنا موقع ملتا ہے ہم کرپشن کرتے ہیں۔۔۔

    میں نے جب سے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو کرپشن میں لت پت دیکھا تو سوچ میں پڑھ گیا کہ ایسا کیوں ہے؟ ہمارے لیڈرز کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں، فراڈ کرتے ہیں، مالی لٹیرے ہیں، منافقت کرکے ایک ڈبکی لگا کر پاک صاف بھی ہوجاتے ہیں۔۔۔

    دوستو غور کریں تواصل میں سارا قصور ہمارا ہے، کرپٹ ہم ہیں، جھوٹ ہم بولتے ہیں، فراڈ ہم کرتے ہیں، دھوکہ ہم دیتے ہیں، دودھ میں پانی اور پاؤڈر ہم ملاتے ہیں، دوائیوں تک میں ملاوٹ ہم کرتے ہیں، گردے ہم چوری کرتے ہیں، یہاں تک کہ قبروں سے ہڈیاں تک نکال کر بیچ جاتے ہیں۔۔۔

    بحیثیت ڈاکٹر ہسپتال اور پرائیویٹ میں رویے الگ الگ رکھتے ہیں، بحیثیت استاد وقت کی پابندی نہیں کرتے، بحیثیت آفیسر بد دیانتی کے مرتکب ہوتے ہیں، بحیثیت بوس غریب کو دباتے ہیں، پرائیویٹ سکولوں میں دھوکہ دیتے ہیں، پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی بجائے بزنس سمجھ کر ڈیل کرتے ہیں۔۔۔

    حکومتی محکموں میں رشوت اور سفارش کے بغیر کام نہیں کرتے، غریب کو پھیرے لگاتے ہیں، محکموں میں سیاسی تقرریاں اور تبادلے کرواتے ہیں، پھر کام صرف سیاسی محسنوں کو دیتے ہیں۔۔۔

    بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں عزت کا معیار پیسہ ہی ہے، کوٹھی کار والے کو بڑا سمجھتے ہیں، غریب سے منافقت کرتے ہیں، برادریوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں، دکھاوے کی نمازیں اور بے وضو جنازے پڑھتے ہیں۔۔۔

    جنازوں پر ثواب کی نیت چھوڑ کر منہ دکھانے پر زور ہوتا ہے، کسی بیمار کی عیادت پر جاتے ہیں تو مکان اور کھانے پینے پر زور ہوتا ہے، فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں تو سو سالہ پلان ڈسکس کرتے ہیں، قبر کی فکر کی بجائے رنگ روغن پر دھیان ہوتا ہے۔۔۔

    میرے عزیز ہم وطنوں جب اس طرح کا میں ہوں تو میرا لیڈر بھی میرے ووٹ سے بنے گا نا، وہ بھی میری طرح ہوگا نا، میں خود اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوں تو لیڈر بااخلاق کیسے ہو گا، جب میں دھوکہ باز ہوں تو ایسا ہی لیڈر چنوں گا نا تو گلہ کس سے شکوہ کس سے اور شکوہ کیوں۔۔۔؟

    ہمارے پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر اگر غریب کا خون چوس سکتے ہیں، ہمارے پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ قانون کے رکھوالے اگر غریب کا خون چوس سکتے ہیں، ہمارے پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ تعلیم کو کاروبار بنا سکتےہیں، ہم پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ کامرس کی تعلیم رکھنے والے مزدور کا خون چوس سکتے ہیں۔۔۔

    اسکے باوجود سب سے زیادہ کرپٹ ہم خود ہیں پٹواریوں کی صورت میں، نیب قاصد کی صورت میں، منشی کی صورت میں، ڈاکٹر کی صورت میں، نرس کی صورت میں، لیبارٹری کے ٹیسٹ کرنے والوں کی صورت میں وکیل کی صورت میں اور انکے فوٹو کاپی منشی حضرات کی صورت میں، تعلیم کی صورت میں، پرائیویٹ اداروں کی صورت میں، فیس زیادہ سے زیادہ رکھنے والوں کی صورت میں، تنخواہ کم دینے والوں کی صورت میں، میڈیا کی صورت میں ہم سب کے سب کرپٹ ہیں۔۔۔

    پھر بھی ہماری عوام کی اکثریت اس بات پر پریشان ہے کہ ہمارے حکمران کرپٹ ہیں، ہماری عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا وغیرہ۔۔۔

    مطلب کوئی بھی ملکی ادارہ جھوٹ اور کرپشن سے پاک نہیں ہے۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ ان سب کی وجوہات کیا ہیں۔۔۔؟ ہمارا دین اسلام کی تعلیمات سے دوری اور خوف خدا کا نہ ہونا ہے۔۔۔

    ہمارے معاشرے کا اسلام پسند محبت وطن خوف خدا رکھنے والا مخلص طبقہ فقط خود تک یا وعظ و نصیحت تک محدود ہوگیا ہے۔ جبکہ موجودہ دور میں اس طبقہ کی عملی طور پہ ملک کو ضرورت ہے کہ خود کو دنیاوی علوم و فنون سے آراستہ کریں اور اپنے خلوص اور قابلیت کو لے کے ملکی اداروں میں جائیں۔۔۔

    انہوں نے اس میدان کو خود خالی چھوڑ کر لادین اور دشمن کے آلہ کار لبرل طبقے کیلئے راہ ہموار کی ہے۔۔۔ اسلئے اپنے ملک کو بچانے اور اسلام کے نام پہ حاصل کیے گئے اس ملک میں اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کیلئے ہمارے محب وطن اور دین پسند نوجوان نسل کو دنیاوی تعلیم کے میدان میں آگے آنا ہوگا۔۔۔

    ہمارے لوگ بہت باصلاحیت ہیں مگر موجودہ نظام اور کرپشن کو دیکھ کے مایوسی کا شکار ہیں۔۔۔ ہمیں اس مایوسی کو ختم کرنا ہے ایک نئی امید اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اور پاکستان کو کرپشن سے، بددیانتی سے پاک کرکے اپنی آنے والی نسلوں کیلئے حقیقی پاکستان بنانا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم خود اپنے آپکو ٹھیک نہیں کرلیتے۔۔۔
    ت

  • سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے فائدے  تحریر : سیف اللہ عمران

    سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے فائدے تحریر : سیف اللہ عمران

    ایک مسلمان کے لیے مطالعہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت و اہمیت ظہور سورج سی ہے۔ کیونکہ ایک مسلمان سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کو قانون و شریعت کا مآخذ سمجھتا ہے اور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا عملی تقاضا

    اور اس کے ساتھ یہ بات بھی مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی اطا عت ہی میں نجات ہے۔ ہدایت کا ذریعہ صرف اور صرف اطاعت ِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایمان والا نہیں جو مجھے اپنے والدین اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ رکھے۔

    اگر کسی کے لئے خوبصورتی کا کوئی معیار ہے ، تو یہ صرف سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    ” تم کو رسول خدا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا بہتر ہے یعنی اس شخص کو جسے اللہ تعالی سے ملنے اور روز آخرت کے آنےکی آس ہو اور وہ کثرت سے زکر الہی کرتا ہو "(سورۃ الا حزاب:آیت 21)

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا پہلا تقاضا یہ ہے زندگی کے مختلف پہلوؤں میں آپ کی صفات اور اخلاق کو آپ کی نبوت کے ثبوتوں اور خصوصیات کے ذریعہ حاصل کیا جائے۔ کیونکہ جو شخص آپ کے اخلاق اور اوصاف کو جانے گا وہ یقینا آپ سے محبت کرے گا۔

    سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کاعلم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے کیونکہ سعادتِ دارین سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر مبنی ہے۔

    سیرت نبوی ؐ، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ کے جذبہ ایمان و یقین کے واقعات سے لبریز ہے
    خدا کے اعلی کلام کی شان کے ان کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو پڑھنے اور سننے سے مومنین کے عزائم و قوت کو تقویت ملتی ہے اور حقیقی دین کے دفاع کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے اور دلوں کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے رہنمائی موجود ہے چاہے حاکم ہو یا محکوم ، طالب علم ہو یا استاد گویا آپ ؐ کی سیرت ِ طیبہ ایک انسان ِ کامل کے لیے ہر اعتبار سے اعلیٰ درجے کی نادر مثال ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعہ سے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ قرآن مجید کا تعلق سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت گہرا ہے۔

    سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات اور امتیازات کا صحیح علم صرف سیرت سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعے سے طے ہوتا ہے۔

    رب کائنات کی سوانح حیات کا مطالعہ کرکے عقیدہ اور اعتقاد ، شریعت ، اخلاقیات ، تفسیر ، حدیث ، سچائی ، سیاست ، انصاف ، دعوت اور تربیت اور معاشرے اور مختلف کے بارے میں درست اور مستند اور کارآمد معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں

    سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور حدیث مبارکہ میں گہرا تعلق ہے سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے صحیح احادیث کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ دعوتِ اسلام کے مراحل کی روشنی فراہم کرتا ہے۔ اور ان مشکلات و تکالیف کا پتہ چلتا ہے جن سے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ کو کلمہ طیبہ کی سربلندی کے لیے گزرنا پڑا ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ ؐ نے پیش آمدہ دشواریوں کی گھاٹیاں عبور کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا۔

    سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اس لیے کہ سعادت دارین، رسولؐ اللہ کی لائی ہوئی ہدایت اور رہنمائی پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت کا ذریعہ صرف اور صرف اطاعتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
    Twitter @Patriot_Mani

  • سوشل میڈیا کا کردار  تحریر: سلمان الیاس

    سوشل میڈیا کا کردار تحریر: سلمان الیاس

    سعودی عرب میں آج کل ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے ۔

    کچھ دن پہلے ایک بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہوا تھا ۔

    سعودی کے شھر ریاض میں کچھ شر پسند افغانیوں نے ایک نہتے پاکستانی اخونذادہ محمود پر انتہائی تشدد کے بعد انکی بے عزتی بھی کی تھی اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی ۔
    جو کہ انتہائی قابلِ مذمت حرکت تھی ۔
    اور اس معاملے کو سوشل میڈیا پر اتنی غلط طرف پر موڑ دیا گیا ۔اور لوگوں کو اتنا غصہ دلایا گیا

    جو اُس کے جواب میں اس واقعے کے کچھ دن بعد ایک پبلک مقام وادی حنیفہ ریاض میں کچھ پاکستانیوں نے افغانیوں کو پکڑ کر مارنا شروع کردیا اور ویڈیو بھی بنائی جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔

    وہ کہتے ہیں ایک گندھا مچلی پورے تالاب کو گندھا کر دیتی ہے ۔

    وہاں کام کیا کسی نے اور یہاں شامت آئی کسی کی کیونکہ جن افغانیوں کو پاکستانیوں نے مارا – انکا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
    انہوں نے اپنا غصہ نکالنا تھا تو انہوں نے نکال دیا۔

    کل کو پھر پاکستانی اور پھر افغانی اس طرح اگر یہ رواج چل پڑا تو یہ بہت خطرناک ہوگا ۔

    اور سب سے دکھ کی بات یہ ہے ہمارے کچھ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ اس معاملہ میں بہت ہی بھیانک کردار ادا کر رہی ہے ۔ جن میں افغانی اور پاکستانی دونوں شامل ہے۔
    جو لوگوں کو غصہ دلا رہے ہے ۔

    اور باقی جو سوشل میڈیا پر بڑے بڑے گروپس ہے ۔
    جو اچھا کردار ادا کرسکتے ہے

    اس معاملہ میں بلکل خاموش ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔

    سوشل میڈیا ایک بہت بڑی طاقت ہے ۔ خدا کے لئے اس معاملےمیں اپنا کردار ادا کرکے پاکستانی سفارت خانے کو جگانے کی کوشش کرے ۔

    تاکہ یہ معاملہ یہی پر رک جائے اور کسی اور کے ساتھ ایسا واقعہ نہ ہوں۔

    میں سمجھتا ہوں ایمبیسی کو سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرنا چاہئے ۔تاکہ لوگوں کو پتہ ہو ایمبیسی اس معاملہ میں سنجیدہ ہے ۔

    کیونکہ محمود والے واقعے کے بعد لوگ بہت غصے میں ہے –

    سعودی عرب کے قوانین بہت سخت ہے ۔اللہ نہ کرے کل کو باقی غریب لوگ کسی مصیبت میں نہ پڑ جائے ۔

    میں زاتی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہو
    جو بیوی کا زیور یا اپنا زمین بیچ کر یہاں مزدوری کے لئے آئے ہے
    ایسا نہ ہو ان لوگوں پر بھی اثر پڑ جائے

    جو پاکستان ایمبیسی کے لئے پھر سنبھالنا بہت مشکل ہو جائیگا۔

    تو مہربانی کرکے ہوش کے ناخن لے اور اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے اور سنجیدگی سے حل کرنے کی –
    ‏ @Salmanjani12

  • اگلے الیکشنز کون فاتح  تحریر: انوارالحق

    اگلے الیکشنز کون فاتح تحریر: انوارالحق

    دیکھنا یہ ہے کہ پی۔ٹی۔آئی حکومت سوشل میڈیا کی طاقت کے بل پر کب تک پذیرائی برقرار رکھتی ہے۔ پی۔ڈی۔ایم چاروں خانے چت ہو کر عملی طور پر دوبارہ حصے بخروں میں بٹ کر اپنی اپنی بقاء کی جنگ کے روائتی مورچوں میں جاچکی ہے۔ پی پی پی اور ن لیگ اپنے سیا سی محرکات کی نمائش کیلیے ایکدوسرے کیخلاف چھوٹے پیمانے پر شرلیاں پٹاخے چھوڑتے رہتے ہیں اس سلسلے میں بلاول کے بیانات تو واضح ہیں لیکن ن لیگ محتاط بیان بازی پر کاربند نظر آتی ہے وہ سمجھتے ہیں اور شائید ٹھیک سمجھتے ہیں کہ اس طرح حکومت کی مخالفت بھی ہوتی رہے گی اور اپنا اپنا ووٹ بینک بھی مستحکم رہے گا وہ الگ بات ہے کہ مریم اور بلاول عمران مخالفت میں جتنا قریب آگئے تھے ان کے سپورٹرز شائید اتنا قریب کبھی نہ آسکیں۔ن لیگ، پی پی پی اور اب پی ٹی آئی ورکرز کے درمیان جو نظریاتی تکون بن گئی ہے اس کا پاٹنا اتنا آسان نہیں ہے۔ پرمشکل اور مزیدار کام یہ ہے کہ اس سیاسی تکون کے دو کونوں نے عمران کی مخالفت کیساتھ ساتھ ایک دوسرے سے مفاہمت کرتے ہوئے مخالفت کا تاثر بھی برقرار رکھنا ہے۔ عمران تو واضح طور پر دونوں کیخلاف ہے لیکن مصیبت ن لیگ اور پی پی پی کے ووٹرز کیلئے ہے کہ انہیں کبھی پتہ نیں چلتا کہ کب پی پی پی کی مخالفت کرنی ہے اور کب حمائیت۔ انکی جماعتوں کا چھوٹا ورکر یا بڑا لیڈر ان سے نہیں پوچھتا کہ کوئی ایک لائن کیوں نہیں اختیار کرتے اگر پی پی پی سے دوستی ہے تو دوستی کرنے دیں اور اگر مفاہمت ہی کرنی تھی تو ہماری ایک ایک دو دو نسلوں کو سیاسی مخالفت سے لیکر ذاتی دشمنیوں کی بھینٹ کیو ں چڑھایا گیا۔ پھر بھی اب کھل کر بتا دیں کہ بیانیہ کیاہے پی پی پی سے دوستی ہے کہ دشمنی۔سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن لگتاہے کہ دنیا کے بعض خطوں میں دل کیساتھ ساتھ دماغ بھی نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی درست معلوم ہوتی ہے کہ پھر سیا سی لیڈر کو سیاسی لیڈر کون کہے اگر اس کی لفظی یا عملی شعبدہ بازی عام جنتا جناردن کی سمجھ میں وقت پر آجائے، جب تک لیڈر کو ئی ایک داؤ سمجھ میں آتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ن لیگ والوں کو اب سمجھ میں آیا کہ بے نظیر بھٹو کی بطور خاتون تضحیک نہیں کرنی چاہئے تھی، صدر ضیا ء الحق کے مارشل لاء کو سپورٹ نہیں کرنا چاہئے تھا، جونیجو کی منتخب حکومت کیخلاف سازشیں نہیں کرنی چاہئیں تھی۔ اسی طرح آصف زرداری ایک طرف ببانگ دہل ٹی۔وی پر بیٹھ کر نواز شریف کو گریٹر پنجاب کو سہولت کار کہتا ہے غدار کہتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ وہ لیڈر ہی کیا جس کو مجمع باندھ کر رکھنا نہ آتا ہو، جنتا جناردن ایک بات سمجھنے کی کوشش کرہی رہی ہوتی ہے کہ لفاظی کا اگلا بم گرادیا جاتا ہے جس میں پچھلی سمجھ بو جھ بھی غائب ہو جاتی ہے۔
    شائید اقبال نے ایسے ذہنی محکوموں کے لئے بھی کہا تھا کہ؛
    خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
    پھر سلا دیتی ہے اسکو حکمراں کی ساحری
    وہ کون سا ایسا بڑے سے بڑا یا گھٹیا سے گھٹیا الزام ہے جو سیاسی لیڈران نے ایک دوسرے پر نہ لگایا ہو؟ بھینسوں کی چوری چکاری سے لیکر ملک سے غداری تک، قادیانیت تک، یہودیت تک، بدفعلیوں سے بدکرداری تک سب عوام کو مشتعل کرنے والے الزامات لگائے گئے اور لگائے جا رہے ہیں اور عوام اس بڑھی ہوئی شرح تعلیم کے باوجود بڑھکتی جارہی ہے۔ آج بھی سیاسی مخالفت کب ذاتی مخالفت میں بدل جائے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ایک پارٹی کا سپورٹر دوسری پارٹی سے محض سیاسی سوچ کے اختلاف کی بنیاد پر دوستیاں، یارانے حتٰی کہ رشتے داریاں تک ختم کردیتا ہے۔ الیکشنز کی چہل پہل میں گالم گلوچ، ہاتھا پائی، ماردھاڑ، ہوائی فائرنگ بلکہ سیدھی فائرنگ قتل وغارت عام بات بن گئی ہے جس سے نہ جانے کتنی معصوم جانیں چلی جاتی ہیں، گھر وں کے واحد کفیل مارے جاتے ہیں،مرنے اور مارنے والے اصل میں دونوں مر جاتے ہیں، حالیہ ضمنی انتخابات میں سیالکوٹ، دینہ اور گجرات کے علاقوں میں ہونے والی قتل وغارت اس سیاسی وحشت کی تازہ مثالیں ہیں۔ سیاسی لیڈران کی زبان سے بھڑکائی آگ میں نہ جانے کتنے جیالے، متوالے، بے نام نشان مارے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتاکہ آکے پوچھے سناؤ جذباتی ورکر صاحب کیابنا، تمھارے ماں باپ، بھائی بہن یا بیوی بچوں کی کیا خیرخبر ہے۔ بڑے ٹی وی چینلز اس ساری آگ کو برابر ہوا دیتے ہیں بڑا اینکر وہی ہے جس کے شو میں شرکاء دست و گریبان ہوں یا کم از کم گالم گلوچ کر یں جو لفظوں سے دوسرے کو گھائیل کردے اسے ہی بڑا تجزیہ کار اور ماہر مانا جاتا ہے۔عوام جانے کب سیکھے گی کہ کس لیڈر کی کون سی بات صحیح ہے اور اسکو سپورٹ کرنا ہے اور کس لیڈر کی کون سی بات غلط ہے اسکی مخالفت کرنی ہے۔
    اپوزیشن عملی طور پر ہے ہی نہیں اب حکومت ہی حکومت ہے، ہر بل پاس ہورہا ہے، ہر طرح کی قانون سازی میں کو ئی رکاوٹ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی جس طرح چاہے قانون سازی کر سکتی ہے اور انتظامی طور پر بھی پرانے عدالتی نظام کے باوجود انصاف کی فراہمی اور شہری سہولیا ت کے حوالے سے بہت کچھ کرسکتی ہے۔ دیکھتے ہیں اس ڈیڑہ دو سالوں میں کیا ایساکرتی ہے کہ عوام الناس اگلے الیکشنز میں بھی دوبارہ ووٹ دیتی ہے۔ بال اب پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے۔

    رابطہ: +923238869398 لاہور، پاکستان

  • سالگرہ کی خوشیاں     تحریر: عمیر وحید

    سالگرہ کی خوشیاں تحریر: عمیر وحید

    سالگرہ کا دن بھی خوب ہوتا ہے کیونکہ یہ سال میں ایک ہی دفعہ آتا اور زندگی کا ایک سال کم کر کے چلا جاتاہے۔ امیر لوگ اسے بہت خوشی سے مناتے ہیں۔ امیر لوگ بہت خوب کھانے مثلاً فروٹ چاٹ، ریشین اور پیزا وغیرہ کا اہتمام کرتے اور گھریلو کھانوں کا الگ سے انتظام ہوتا۔ جب سالگرہ کا فنکشن شروع ہوتا ہے تو سب مہمان اکھٹے ہوتےاور کیک کاٹتے ہیں۔ اور خوب انجوائے کرتے ہیں۔
    یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں انھیں مل کر خوب سے خوب تر بنانا چاہیے۔
    لیکن ان خوشیوں کے وقت لوگ بہت زیادہ فضول خرچی اور کھانوں کو ضائع کرتے ہیں۔ کیک برتھڈے بوائے کے منہ پر لگا رہے ہوتے، کوک سے اسے نہلا رہے ہوتے ہیں۔ رزق کو ضائع کر رہے ہوتےہیں۔
    اس کے ساتھ ساتھ اسے کیمرے کی آنکھ میں بند بھی کر رھے ہوتے ہیں تا کہ بعد میں اسے لوگوں کو دیکھا سکے کہ ہم نے خدا کے دیئے ہوئے رزق کو کیسے ضائع کرتے رہیں ہیں اور رزق کی بے خرمتی کرتے رہے ہیں۔
    نا جانے ہمارا معاشرہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ ناجانے کتنے غریب لوگ سڑکوں پر سو رہیں ہیں۔ نا ان کے پاس کھانے کو کچھ ہے اور نا ہی پہننے کو۔ وہ بیچارے ناجانے کیسے اپنی سادہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔
    ان امیر لوگوں کو چاہیے کہ اگر خدا نے انہیں اپنی دولت سے نوازا ہے تو اسے فضول خرچی اور دوسرے برے کاموں میں خرچ نا کریں بلکہ اس سے ان غریب مسکینوں کی مدد کریں تاکہ انھیں بھی دو وقت کا کھانا نصیب ہو سکے۔

    Twitter I’d: UmmisSays

  • گناہ سے توبہ تحریر:  ذیشان علی

    گناہ سے توبہ تحریر: ذیشان علی

    اللہ تعالی کے تمام انبیاء معصوم ہیں، باقی ہر انسان میں عیب ہیں وہ خطا کار بھی ہیں وہ گناہ گار بھی،
    لیکن جو اللہ تعالی کے دوست بن کر رہتے ہیں، اور جو اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہوئے گناہوں سے بچنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں،
    اللہ ان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور اللہ تعالی بڑا غفور الرحیم ہے ،
    اور ہمیں ہر وقت گناہوں سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے،
    لیکن انسان تو انسان ہے خطا کا پتلا ہے اور اس کے اندر ایک نفس ہے اور پھر اس کے ساتھ ایک شیطان ہے جو اسے دنیاوی لذتوں کا جھانسہ دے کر اسے سے خطائیں اور گناہ سرزد کرواتا ہے،
    ایسے میں اللہ تعالی نے انسان کے سامنے دو راستے رکھ دیئے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جس راستے پر تم چلنا چاہتے ہو چلو لیکن دونوں راستوں کے انجام سے باخبر بھی کر دیا،
    شیطان کے راستے پر چلو گے تو وہ تمہیں ہر وقت گناہوں اور سرکشی میں مبتلا کرتا رہے گا،
    لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے ہوئے گناہوں سے بچتے رہو گے سیدھے راستے پر رہوگے اللہ تم پر اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل فرمائے گا،
    لیکن اگر گناہ ہو جائے تمہارا ضمیر تمہیں ملامت کرے اور تم اپنی اصل کی طرف پلٹنا چاہو تو اللہ نے ایسے میں پچھلے تمام گناہ معاف کرنے اور اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے بشرطیکہ گناہوں سے سچی توبہ کی جائے،
    اگر گناہ ہو جائے تو پھر بندہ/ بندی کیا کہے اور اسے کیا کرنا چائیے،
    وہ اچھی طرح وضو کرے پھر وہ دو رکعت نماز ادا کرے اور نماز کے بعد وہ اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی بخشش مانگے۔ شک وہ بخشنے والا بڑا مہربان ہے،
    اور شیطان سے اللہ کی پناہ کیسے حاصل کی جائے ؟
    جب کوئی کام شروع کرو تو اس سے پہلے اعوذ باللہ پڑھ لیا کرو اور پھر بسم اللہ،
    جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے اللّٰہ شیطان سے تمہاری پناہ میں آتے ہیں اور تمہارے نام سے شروع کرتے ہیں بے شک تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے،
    ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ پہلے تو کسی گناہ کے نزدیک بھی نہ جائے لیکن کسی غفلت اور نفس کی خواہش میں آکر گناہ کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ گناہ سے توبہ کرے اور توبہ کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ گناہ پھر کوئی دعا قبول نہیں ہونے دیتے اور گناہگار کے مقدر میں رسوائی ہے،
    دعا ہے رب ذوالجلال سے کہ وہ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق دے،
    آمین

    @zsh_ali