Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سوشل میڈیا کا بہترین استعمال   تحریر: فرمان اللہ

    سوشل میڈیا کا بہترین استعمال تحریر: فرمان اللہ

    سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے ایک عام انسان کو بھی دوسروں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا۔ جس طرح الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد پرنٹ میڈیا کی اہمیت کافی حد تک ختم ہوئی اِسی طرح سوشل میڈیا کے آنے کے بعد الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت میں بھی کافی حد تک کمی ہو چکی ہے.

    ایک وقت تھا جب ملک میں صرف پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا راج تھا اور بہت سارے مسائل جن کا تعلق ایک عام انسان سے ہوتا تھا اُن مسائل کی نشاندہی کبھی نہیں ہوتی تھی لیکن آجکل سوشل میڈیا کی بدولت کوئی بھی انسان اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتی کے بارے میں پوری دنیا کو بتا سکتا ہے لیکن میں نے نوٹ کیا ہے کہ آج بھی ہم کافی حد تک سوشل میڈیا کا استعمال بہترین انداز سے نہیں کر رہے۔

    بہت سارے لوگ اسے ٹائم پاس کے لیے استعمال کرتے ہیں فیک نیوز اور پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے سوشل میڈیا کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    سوشل میڈیا کے بڑے فوائد ہیں اچھی باتوں کو شیئر کرنا جس سے کسی اور کا اچھا ہو سکے، کسی مظلوم لاچار کی آواز بننا اور اس کی فریاد اعلی حکام تک پہنچانا، ملک میں ہونے والے ہر غلط کام کی نشاندہی کرنا اس پر بول کر اپنے آواز لاکھوں لوگوں تک پہنچانا، ملک و قوم کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا، دشمن کے غلط بیانیہ کو دھبڑدوس کرنا اس کی غلط چالوں کو بے نقاب کرنا۔ ایسے بے شمار فوائد ہیں سوشل میڈیا کے اگر آپ اِس کا بہتر استعمال کریں تو

    Twitter account: @ForIkPakistan

  • بھیک مانگنا ایک کاروبار . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    بھیک مانگنا ایک کاروبار . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    آجکل بھیک مانگنا ایک پیشہ بن گیاہے۔ اوربھکاری لوگوں سے پیسے لینااپنا حق سمجھتے ہیں۔ عموماً بھکاریوں کوشہر کے چوک, چوراہوں, ریسٹورینٹس, شاپنگ مالز, مارکیٹوں اور ہسپتالوں کے باہر دیکھا جاتا ہے۔ ٹریفک سگنلز بند ہوتے ہی بھکاریوں کا ایک ٹولہ امڈ آتا ہے اور ہر گاڑی, رکشے اوربائیک پر بیٹھے لوگوں کوتنگ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور اسطرح یہ گداگر پورا دن چاروں اطراف کے سگنلز پر گھومتے رہتے ہیں.

    گداگری ایک ایسی بیماری ہے جو ایک دفعہ لگ جائے تو گویا کینسر کیطرح جان لیکر ہی چھوڑتی ہے۔
    ہمارے شہری بھی اس گداگری کو پروان چڑھانے میں ان گداگروں جتنے ہی شامل ہیں۔ کیونکہ ہم جب انکو پیسے دیتے ہیں تو ان کے لاشعور میں یہ بیٹھ جاتا ہیں کہ گویا یہ تو ہمارا حق ہے جو انہوں نے دینا ہے۔ اسطرح یہ لوگ اس میں پختہ ہوجاتے ہیں اور پھر یہ کام تادمِ مرگ جاری رکھتے ہیں اور اپنی اگلی نسلوں کو بھی اس کیلئے تیار کرتے ہیں۔ اسطرح یہ لوگ اپنے بچوں کوانجنیئر, ڈاکٹر, سائنسدان اور تاجر نہیں بناتے بلکہ پیشہ ور اور بے ضمیر گداگر بناتے ہىں جو کہ ملک وقوم کیلئے ایک ناسور ہوتا ہے اور عالمی سطح پر بھی ہمارے لئے شرمندگی باعث ہوتا ہیں.

    من حیث القوم ہمیں اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا اور اپنے آنے والی کو بھی یہ سبق دیکر جائینگے کہ یہ گداگری ختم کرنا ایک تحریک ہے نہ کہ ایک وقتی جدوجہد-

    @IjazPakistani

  • برین ڈرین اور پاکستان . تحریر : صالح ساحل

    برین ڈرین اور پاکستان . تحریر : صالح ساحل

    کسی بھی ملک کی افرادی قوت یا دوسرے لفظوں میں ہنر یافتہ لوگوں کا روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ملک کو چھوڑ کر چلے جانے کو برین ڈرین کہتے ہیں کسی بھی ملک کا سرمایہ اس کے ہنر یافتہ نوجوان ہوتے ہیں پاکستان ان خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں جوان سب سے زیادہ ہیں مگر اس کے ساتھ بد نصیب بھی کیوں کے پاکستان کے ہنر یافتہ نوجوان یہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے ان میں سے سب سے بڑی تعداد ڈاکٹروں کی ہے ایک ڈاکٹر پر ریاست لاکھوں روپے لگتی ہے اور کیا ہی بد قسمتی ہے کے وہ باہر چلا جاتا ہے اس کے بعد انجینر حتی کے الیکڑیشن تک یہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہیں اور ریاست ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی دیکھ رہی ہے اور اس میں ان نوجوان کا کیا قصور جب کسی کو یہ لگے کے نا اس کا یہاں مستقبل ہے کبھی سوچا ہے کے ہماری ریاست ہمارے ٹیکس کے پیسے سے ان کو ہنر دیتی ہے اور وہ اپنے اس ہنر کو باہر جا کر دوسروں کو دیتے ہیں ایک تو ریاست کے پاس وسائل نہیں اوپر سے سونے پر سہاگا کے یہ نظام اتنا گٹھیا اور بدبودار ہو چکا ہے کے جہاں ایک شریف اور ایماندار شخص کا کام کرنا ہی مشکل ہو چکا ہے ایسے میں کوئ پاگل ہی ہو گا جو یہ کام کرے گا اپنے قیمتی ذہن ہم کھو رہے ہیں پھر ہم روتے ہیں کے ہم ہر چیز میں مغرب سے پیچھے ہیں ایسا نا ہو کے ہمارے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے اس پر سوچنا شروع کرو.

    @painandsmile334

  • ایف اے ٹی ایف کی غیر جانبداری سوالیہ نشان      تحریر:محمد زمان

    ایف اے ٹی ایف کی غیر جانبداری سوالیہ نشان تحریر:محمد زمان

    آخرکاربھارتی وزیر خارجہ جے ایس شنکر نے تسلیم کرہی لیاہے کہ بھارت پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے لئے ایف اے ٹی ایف پر اثر انداز ہو رہا ہے،اس اعتراف کے بعد یہ تو ثابت ہوا کہ ایف اے ٹی ایف بھارتی اثر و رسوخ میں کام کرنے والا ایک سیاسی ڈھونگ ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جی شنکر کا یہ اعتراف کہ ان کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل رکھا جائے۔بھارت کے وزیر خارجہ کا یہ بیان پاکستان کے اس مئوقف کی تصدیق کرتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور اس پربھارت کا اثر و رسوخ ہے۔ جے ایس شنکر نے یہ سچ بی جے پی کے سیاسی کارکنوں کے اجتماع میں بولا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آرایس ایس ہندوتوا کے نظریات کی بی جے پی کی بھارتی سرکار بین الاقوامی اداروں کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کیا بھارت کی طرف سے اعلانیہ اس اعتراف کے بعد ایف اے ٹی ایف اس تنازع سے باہر نکل سکتا ہے؟ کیا ایف اے ٹی ایف کو اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کے لیے اقدامات نہیں اٹھانے چاہئیں؟۔ کیا ایسے بیانات کے بعد یہ ادارہ اپنی ساکھ برقرار رکھ پائے گا؟ کیا اس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے فیصلوں کو انصاف پر مبنی کہا جا سکتا ہے؟۔ اب یہ ثابت ہوا ہے کہ یف اے ٹی ایف متعصب مغربی دنیا کے آلہ کار کی حیثیت سے کام کر رہااورمغربی کے نوآبادیاتی نظام کوپروان چڑھانے میں پیش پیش ہے جوممالک مغربی ممالک کی پالیسیوں سے انحراف کرکے اپنے ملکی مفاد میں فیصلے کرناچاہتے ہیں تو ان ممالک کوسبق سکھانے اورانہیں مفلوج کرنے کیلئے ان پرمنی لانڈرنگ اوردہشت گردوں کی معاونت کاالزام لگاکران پرپابندیاں لگادی جاتی ہیں جس کی واضح مثال پاکستان ہے جس نے ایف اے ٹی ایف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کیا اس کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھا گیا، جواس ادارے کی حقیقی روح کے خلاف ہے جبکہ پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ثبوت ڈوزئیرکی صورت میں اقوام متحدہ میں جمع کرائے اور ایف اے ٹی ایف کو بھی آگاہ کیا۔بھارتی دہشت گردی کی واضح مثال پاکستان میں گرفتاربھارتی نیوی کاحاضرسروس آفیسر راء کاایجنٹ کلبھوشن یادیوہے۔ بھارت داعش کو ہتھیار فراہم کرتا ہے لیکن اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق بھارت دنیا بھر میں حوالہ کے ذریعہ خفیہ طور پر رقم منتقل کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن یہ ایف اے ٹی ایف کودکھائی نہیں دیتاکیونکہ بھارت اس کے بڑوں کالے پالک ہے۔ بھارتی ادارے اور افراد غیر قانونی اور مشکوک لین دین کے ذریعے 1.53 بلین ڈالر کی منی لانڈرنگ میں ملوث تھے اتنے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کے باوجود بھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی،اسی طرح بھارت میں غیرمحفوظ ایٹمی اثاثے جہاں یورینیم چوری کی خبریں عالمی میڈیاکی اکثروبیشتر زینت بنتی ہیں لیکن یہ سب ایف اے ٹی ایف کودکھائی نہیں دیتے کیونکہ یہ پابندیاں صرف ان ملکوں پرلگائی جاتی ہیں جوان کی جی حضوری نہیں کرتے۔حقیقت میں ہونایہ چاہئے تھا کہ ایف اے ٹی ایف کو بھارت کے خلاف ایکشن لیکر سخت کارروائی کرتے ہوئے اسے بلیک لسٹ میں ڈالاجاتااورپاکستان کی بہترین کارکردگی پراسے گرے لسٹ سے نکال کروائٹ لسٹ میں شامل کیاجاتا۔ اب عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف کی جانبداری کاواضح ثبوت اورکیساہوگا ۔دنیا بھارت سے ہونے والی منی لانڈرنگ پر خاموش رہتی ہے۔ کیا بھارت سے دہشت گردوں کی مالی سرپرستی اور معاونت دنیاسے ڈھکی چھپی ہے ؟۔ ان سارے واقعات کے بعد پاکستان میں ہونے والے حالیہ واقعات کو کسی بھی طورپر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان پر پابندیوں کی سب سے بڑی وجہ مسلم ملک ہونا ہے اس کے بعد دوسری بڑی وجہ ایٹمی صلاحیت کا ہونا ہے تیسری بڑی وجہ کہ ہمارے دفاعی ادارے اور عوام کو ملک سے بے پناہ محبت ہے، پاکستان نے ہر مشکل میں دنیا کا ساتھ ضرور دیا ہے لیکن اس کے باوجودمتعصب دنیا نے پاکستان کو نشانے پر رکھاہواہے۔ ایف اے ٹی ایف کی مسلسل گرے لسٹ میں رکھنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، حیلے بہانوں سے پاکستان پر مزید پابندیاں لگانے کے لیے ماحول بنایا جارہاہے ۔ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت اس سلسلے میں منفی کردار ادا کر رہا ہے، بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان پر مزید سختی کی جائے، اس کے لیے سازشیں اور اپنا اثرورسوخ بھی استعمال کر رہا ہے۔ افغانستان جنگ میں پاکستان نے امریکہ کی حمایت کی اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا اتحادی بنا تو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ دنیا کو پر امن بنانے کے لیے ہم نے 70 ہزار قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کھربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کیا، ہماری ایک نسل خود کش بم دھماکوں کا نشانہ بنی، دوسری نسل نے دہشت گردوں کے خوف میں زندگی بسر کی، ہم بیرونی دنیا سے کٹ کر رہ گئے اوردنیاکے خطرناک ملک کاخطاب حاصل کیا، دنیا کو دہشت گردوں سے نجات دلاتے دلاتے ہم خود دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر آ گئے یہ سب کچھ امریکی حمایت کے باوجود ہوا۔ پاکستان نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے علاقائی سیاست میں غیر جانبدار رہنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ افغانستان کے معاملے میں بھی پاکستان خطے میں صرف پائیدار امن قائم کرنے کی پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے اور غیر جانبداری کے موقف پر قائم بھی ہے۔ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت، افغانستان میں غیرافغان نمائندہ اشرف غنی کی حکومت اور امریکی حمایت سے پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں (غیرنمائندہ اس لئے کہ افغانستان کا 85فیصدحصہ طالبان کے کنٹرول میںہے) پہلے داسوڈیم کا افسوس ناک واقعہ سے چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر کی بیٹی کا اغوا کاڈرامہ، یہ سب واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ان کا مقصد پاکستان کے امن کو تباہ کرنا ہے، پاکستان کی ساکھ کو خراب کرنا اور دنیا کو یہ بتانا کہ پاکستان میں کوئی محفوظ نہیں ہے، پاکستان کو چین کے ساتھ دوستی کی بھی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے کیونکہ سی پیک پاکستان کے دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہا۔ دنیا یاد رکھے کہ پاکستان نے دو دہائیوں تک ہر طرح کی دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، پاکستان کے دفاعی اداروں نے اپنی عوام کے ساتھ مل کر ملک دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ اس مرتبہ بھی پاکستان کے خلاف جو جال بچھایا جا رہاہے پاکستان کے دفاعی ادارے اپنے غیور عوام کے ساتھ مل کر اسے ناکام بنائیں گے اور ان شاء اللہ ایک بار پھر پاکستان سرخرو ہوگا لیکن اب ایف اے ٹی ایف کی ساکھ اور غیر جانبداری ایک سوالیہ نشان بن کر سامنے آچکی ہے کیونکہ بھارتی وزیرخارجہ جے ایس شنکرنے بیچ چوراہے کے ایف اے ٹی ایف کی ہنڈیا پھوڑدی ہے کہ بھارت پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے لئے ایف اے ٹی ایف پر اثر انداز ہو رہا ہے۔اس اعتراف کے بعد یہ تو ثابت ہوا کہ ایف اے ٹی ایف بھارت نوازہے کوئی غیرجانبدارانٹرنیشنل ادارہ نہیں رہاہے۔

  • کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری . تحریر: سردار امیر حمزہ

    کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری . تحریر: سردار امیر حمزہ

    کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری ،تحریر:سردار امیر حمزہ (ترجمان جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ)
    پانچ اگست انتفاضہ کشمیر کے بعد اِس پار کشمیر کی صورتحال بھی بدل چکی تھی۔سب جماعتیں اپنے اپنے منشور کو لے کر مفادات کی سیاست کررہی تھیں۔ایسے میں بے چین تھا اور کشمیر کا ہر نوجوان کسی خبر کے انتظار میں تھا۔میں نے عزم کیا کہ ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھیں جو حقیقی طور پر کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں کی عکاسی کرے۔سردار بابر حسین ہمارے دوست تھے۔پاکستان تحریک انصاف سے منسلک تھے۔میں ان سے ملاقات کی ان کے سامنے ساری صورتحال کو رکھا۔انہوں نے حامی بھری اور چند دوستوں کے ساتھ مل کر طے پایا کہ نئی جماعت کا نام جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ ہوگا۔دوسری طرف سردار بابر حسین نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔یہ اسی سال پانچ فروری کا دن تھا۔ہمارے لیے یہ نہایت تاریخ ساز دن تھا۔ایوان صحافت مظفرآباد میں ہم نے جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا باقاعدہ اعلان کردیا اور سردار بابر حسین کو صدر منتخب کردیا۔ساتھ ہی تنظیم کی تنظیم سازی کا بھی اعلان کردیا۔ہم نے جو اغراض ومقاصد طے کیے ان میں سب سے اہم یہ تھا کہ ہم حقیقی طور پر کشمیر کی تحریک کی پشتیبانی کریں گے اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آواز بلند کریں گے تاکہ نوجوان قیادت اوپر آئے اور کشمیر میں انقلاب کی ایک نئی روح بیدار ہو۔حالیہ تحریک آزادی کشمیر میں ہونے والے زخمی اور شہدا کے گھروں کی دیکھ بھال،دل جوئی اور عزت افزائی کرنا،نوجوانوں کو اپنے کشمیری ہیروز اور تاریخ کشمیر سے آشنا کرنا،تحریک آزادی کے لیے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال۔کرپشن کیخلاف جہاد،قانون کی حکمرانی،میرٹ کی پامالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے جدوجہد کرنا،آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو سامنے لانا۔ فائرسیفٹی، سول ڈیفنس کی تربیت دینا، اپنے علاقے کی بہتری کے لیے اتفاقِ رائے سے کام اورفیصلہ جات کرنا۔لوکل کونسل اوریونین کونسل کی تعمیر و ترقی کے لیے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پلان بنانا۔طلباء کے لیے تعلیمی وظائف اورکیریئر کونسلنگ کے لیے ورکشاپس کا انعقاد۔جوانوں کے لیے ٹیکنیکل تعلیم کے ساتھ ساتھ سمال بزنس کی انٹرنشپ کا انعقاد کرنا۔کھیلوں کے فروغ اورمنشیات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا۔ ماحولیات کی بہتری کے لیے جنگلات کا تحفظ و آگاہی۔لیڈرشپ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے تربیتی ورکشاپس اور یوتھ پارلیمنٹ کا قیام۔ختمِ نبوت اور حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاسبانی۔خوشحالیِ کشمیر کے لیے نوجوان اور ایماندار قیادت کو آگے لا کر آزاد کشمیر کو قابض، کرپٹ سیاسی مافیا سے آزاد کروانا۔خواتین کے تحفظ کے لیے مکمل قانون سازی کرنا۔

    اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی مکمل قانون سازی کرنا۔عوام کے فری علاج معالجے کو یقینی بنانا۔یہ ہمارے اغراض ومقاصد تھے۔نوجوان ہم سے متفق ہوئے۔جس کے پاس بھی جاتے وہ ہمارے مشن کو سراہتا اور ساتھ چلنے کی یقین دہانی کرواتا۔لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا۔وہ دن بھی آیا جب پورے کشمیر میں ہم نے اپنا بہت کم وقت میں منظم نیٹ ورک قائم کرلیا۔ہم نے بہت سے خدمت کے کام کیے۔بالخصوص کورونا کی حالیہ لہر میں ہم نے عوام کی خدمت میں اپنا کردار نبھایا۔ہم نے جہاں موقع ملا بلدیاتی انتخابات کے لیے آواز اٹھائی۔سردار بابر حسین نے پورے کشمیر کے دورے کیے۔ہم نے عملی سیاست میں بھی اترنے کا فیصلہ کیا اور الیکشن کمیشنکیطرف سے اعلان ہوتے ہی ہم نے تقریبا ہر حلقے میں اپنے امیدوار نامزد کیے۔یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے اس کو قبول کیا اور ہمیں کامیابی ملی۔ہم نے دین دار و دیانتدار اور کشمیر کاز سے مخلص امیدواروں کا چناؤ کیا۔الیکشن کمیشن کی طرف سے ہمیں کرسی کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا۔ہم نے آزاد کشمیر الیکشن میں بھر پور مہم چلائی۔بڑی بڑی جماعتیں ہماری مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوئیں۔ہم پرامید ہیں کہ مجموعی اعتبار سے انتخابات میں اچھا ووٹ بنک حاصل کرکے کشمیر کی سیاسی جماعتوں میں ایک الگ مقام بنالیں گے۔گذشتہ روز قبل ضلع باغ،نارووال،سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں بڑے ہمارے پاور شو ہوئے عوام نے ہمیں اپنی حمایت کا بھر پور یقین دلایا۔ہم حکومت میں آئیں یا نہ آئیں اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کرائیں گے۔رو ز گارکے مواقع فراہم کرینگے۔اوورسیز کشمیری اس میں ہمارے ساتھ تعاون کرینگے۔ ہم مہاجرین مقیم پاکستان‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور بیرو ن ممالک مقیم کشمیریوں کیساتھ مل کر سب کو متحد کرینگے۔ خواتین کی اسمبلی میں نمائندگی کو بڑھایا جائیگا۔ہم ایم ایل ایز کو نہیں یونین کونسل سطح سے نوجوان کونسلر ز کو آگے لائیں گے۔ تمام مسائل کا حل بلدیاتی انتخابات میں ہے۔ جب یہ نظام بحال ہو گا تو فنڈز براہ راست عوام تک جائیں گے۔ غریب آدمی آگے آئے گا۔ انصاف ملے گا۔ گزشتہ 30سا ل سے ایوانوں میں ایک مافیا مسلط ہے۔ یہ سب اپنے فائدے کیلئے الیکشن لڑتے ہیں کامیاب ہو کر لوٹ مار کرتے ہیں۔ یہ سب لوٹ مار روکنے کیلئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروانا چاہتے ہیں۔نوجوان ہمارے ساتھ ہیں بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لوکل لیڈرشپ کو اوپر لائینگے۔ موجود ہ سیاسی نظام میں ہر جماعت میں باپ کے بعد بیٹا اور اسکے بعد پوتا آگے لایاجارہاہے۔یہ لوگ خاندانوں کی سیاست کرتے ہیں۔اس نظام کو ختم کرینگے۔کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ان شاء اللہ امید کے ساتھ کہتا ہوں پچیس جولائی کا دن ہمارے لیے نوید کا باعث بنے گا آپ بھی آج باہر نکلیں اور کرسی پر مہر لگا کر ہمارے کارواں کو آگے بڑھانے میں ہمارا ساتھ دیں۔

    @SpokesmanJKUM

  • سوشل میڈیا اور ہماری زمہ داریاں   تحریر: سید لعل بُخاری

    سوشل میڈیا اور ہماری زمہ داریاں تحریر: سید لعل بُخاری

    اس بات میں کوئ شک نہیں کہ ڈیجیٹل سوشل میڈیا ،بطور ایک موثر قوت اور معاشرے کی آواز کے،اپنے آپ کو منوا چُکا ہے۔
    اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اب سوشل میڈیا کی پیروی کرنے پر مجبور ہے
    آپ شام کو ٹی وی پرکسی بھی ٹاک شو کو دیکھ لیں۔وہاں سوشل میڈیا کے ٹرینڈز پر پروگرام کیے جا رہے ہوں گے۔سوشل میڈیا پر چھاۓ رہے دن بھر کے موضوعات پر بات ہو رہی ہو گی۔
    سوشل میڈیا کے اس طرح اہمیت اختیار کر جانے سے بطور ایکٹوسٹ ہم سب کی زمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ہمیں اس فورم کا مثبت استعمال کرنا چاہیے۔تنقید کسی پر بھی کی جا سکتی،چاہے وہ حکومت ہو یا اپوزیشن،تنقید ضرور کریں،اسی تنقید سے معاشروں اور ملکوں کی اصلاح ہوتی ہے۔
    لیکن تنقید میں شائستگی کا پہلو نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔گالی گلوچ کو تنقید نہیں کہا جاسکتا۔آپ کسی کے لیڈر کو گالی دیں گے تو وہ آپ کے لیڈر کو مغلفات سے مخاطب کرے گا۔اس سے جہاں معاشرے میں منافرت اور کدورت بڑھے گی،وہیں آپ زاتی دشمنیاں بھی پال لیں گے۔جس سے کسی کا بھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اپوزیشن اور حکومت کے غلط کاموں پر تنقید ضرورکریں۔مثبت تنقید زندہ معاشروں کی نشانی ہوتی ہے۔آپکی تحریرکے کمنٹس میں جو لوگ سُلجھے ہوۓ طریقے سے تنقید کرتے ہیں۔اُن کا مناسب جواب دیں۔جو لوگ حد کراس کرتے ہیں یا اپنی تربیت کا اظہار کرتے ہیں۔اُن کی بے ہودگی پر یا تو خاموشی اختیار کر لیں یا پھر FIAسائبر ونگ جیسے اداروں کو رپورٹ کریں۔
    گالی گلوچ زیادہ تر فیک اکاونٹس سے کی جاتی ہے،فیک اکاونٹس والے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ انکو کوئ دیکھ نہیں سکتا۔
    حالانکہ ایسی بات قطعا” نہیں ہے،موجودہ دور میں یہ بدمعاشی نہیں چل سکتی۔اداروں کے لیے ایسے فسادیوں کو پکڑنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔یہ لوگ جب پکڑے جاتے ہیں تو رو رو کر پاوں پکڑ رہے ہوتے ہیں کہ معاف کر دیا جاۓ۔تو اس سے بہتر نہیں ہے کہ بندہ گاجریں ہی نہ کھاۓ تاکہ پیٹ درد سے بچا جا سکے۔
    اللہ تعالی نے اگر آپ کو قلم کی طاقت دی ہے تو اسکا اسعمال اپنے ملک کی بہتری اور معاشرے کی بہتری کے لیے کریں۔
    ریاستی مفادات کو اپنے زاتی یا سیاسی نظریات کی بھینٹ مت چڑھائیں۔اس ارض پاک کا ہم سب پہ قرض ہے،اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر کے اپنا یہ قرض اتارنے کی کوشش کیا کریں تا کہ آنے والی نسلوں کو ایک بہتر،مضبوط اور خوشحال پاکستان مل سکے #
    @lalbukhari

  • انسانی جسم کی پہچان . تحریر : عبید الله

    انسانی جسم کی پہچان . تحریر : عبید الله

    انسانی پہچان میں فنگر پرنٹ کا بہت بڑا کردار ہے، کسی فرد کی الگ سے پہچان اٹھارہ سو اسی میں ڈاکٹر ہنری فالڈز جنکا تعلق فرانس سے تھا، انہو نے کی تھی. تب سے انسانی پہچان کا سلسلہ شروع ہوا جو آجکل کے جدید دور میں بھی سرِ نمایاں ہے جسکا متبادل کوئی اور زریعہ نہیں ہے. دنیا میں کم و بیش سات ارب نوے کروڑ سے زیادہ انسان رہتے ہیں اور کئ ارب سے زیادہ انسان اس دنیا فانی سے جا چکے ہیں اور نہ جانے قیامت تک کتنے انسان اس فانی دنیا میں جنم لیں گے لیکن تمام انسانوں کی فنگر پرنٹس ایک دوسرے سے جدا ہونگی حتیٰ کہ جُڑوا بھائیوں کے فنگر پرنٹس بھی جدا تھے اور ہوں گے. اس سب کے باوجود کئی لوگ جو اللہ تعالی کو نہ ماننے والوں میں سے ہیں وہ شکوہ کرتے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی میں مِل جاتا ہے اور اسکے جسم کی ہڈیاں خاک میں مِل جاتی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہیکہ انسان کے جسم کا ایک ایک ٹکڑا اکٹھا کرکے انسان کو پہلی والی شکل میں اتارا جائے گا، یہ ناممکن ہے لیکن اگر اسطرح ہو بھی جائے تو روزِ محشر کیسے اس انسان کی پہچان واضح ہوگی.

    اس کا جواب اللہ تعالی نےقرآن مجید کی سورۃ قیامت کی آیت نمبر 3 اور 4 میں دیا ہے.
    "أَيَحۡسَبُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَلَّن نَّجۡمَعَ عِظَامَهُۥ”
    ترجمہ
    "کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں”

    یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالٰی یقیناٙٙ انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں

    دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    "بَلَىٰ قَٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُۥ”
    ترجمہ
    "ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں”

    بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا. جن میں اللہ تعالیٰ کو نہ فقط بوسیدہ ہڈیوں کے جمع کرنے بلکہ انسان کے انگلیوں کے سروں کو بھی دوبارہ بنانے پر قادر قرار دی گئی ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آج سے چودہ صدیوں پہلے کسی کو علم تھا کہ ہر انسان کی انگلیوں کے نشانات ایک دوسرے سے جدا ہیں ؟
    بالکل یہ علم رکھنے والی زات الله تعالیٰ کی ہے اور کوئی زات نہیں.

    @ObaidVirk_717

  • اسپن بولدک کی بدلتی ہوئی صورتحال   تحریر: محمد اسعد لعل

    اسپن بولدک کی بدلتی ہوئی صورتحال تحریر: محمد اسعد لعل

    آج سے تقریباً بیس سال قبل افعانستان پر طالبان کی حکومت تھی۔11 ستمبر 2001 میں امریکہ میں ہونے والے حملہ کے بعد امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج افغانستان پر حملہ آور ہوتی ہیں اور طالبان کی حکومت کے خاتمے کا علان کیا جاتا ہے۔بیس سال تک افواج اور طالبان کے درمیان جنگ جاری رہتی ہے۔طالبان کی طاقت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا گیا۔اب غیر ملکی افواج کے انخلا کے موقع پر طالبان نے پھر سے افغانستان کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر نا شروع کر دیا ہے۔ اب تک طالبان افغان فوج کی چوکیوں، قصبوں اوربڑے شہروں سے متصل دیہاتوں کو قبضے میں لے چکے ہیں۔
    چمن بارڈر کے پاس کے علاقوں میں پہلے افغان فوج تھی جبکہ حال ہی میں طالبان نے وہاں کا کنٹرول سمبھال لیا ہے۔ یہ علاقے افغان فوج کے لیے ایک مصیبت بن گےہیں۔ افغان حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ یہ علاقےہمارے کنٹرول میں ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے ثابت کیا کہ یہ وہ جگہ ہے جو بادستور طالبان کے کنٹرول میں ہے ۔
    یہ تو ہے دونوں طرف کے بیانات لیکن وہاں کے لوکل میڈیا کے مطابق سپن بولدک( جو کہ پاکستان کی سرحد سے متصل علاقہ ہے) کے مین بازار میں گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے،گزشتہ دو دنوں سے وہاں جنگ کی سی کیفیت ہے۔ بہت بڑی تعداد میں دونوں طرف کے لوگ جان سے گئے اور بہت بڑی تعداد میں زخمی بھی ہوے ہیں ۔
    ایک اور بڑی دلچسپ صورت حال تب پیدا ہوئی جب افغان حکومت نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے ہم سے کہا ہے کہ سپن بولدک کے وہ علاقے جو طالبان نے آپ سے چھینے ہیں اگر آپ نے ان علاقوں کو واپس طالبان سے چھین لینے کی کوشش کی تو پاکستان کی فضائیہ آپ پر حملہ کر دے گی۔جب کہ دوسری طرف افغانستان کی حکومت کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ یہ علاقہ جس پر طالبان نہ قبضہ کر لیا تھا افغان فوج نے طالبان سے آزاد کروا لیا ہے اور اب وہاں افغان حکومت کا کنٹرول ہے۔
    اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ افغان حکومت نے وہ علاقہ طالبان سے واپس لے لیا ہے تواب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی آئیر فورس نے حملہ کیوں نہیں کیا اگر کیا ہے تو کہا کیا؟
    افغان حکومت کی دونوں باتوں میں سے کوئی ایک بات جھوٹ ہو سکتی ہے یا تو انہوں نے طالباں سے سپن بولدک کا علاقہ واپس لے لیا ہے یا پھر پاکستان نے حملہ کرنے کی دہمکی دی۔
    پاکستان نے تردید کرتے ہوئے واقعے کے بارے میں بتایا کہ افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے رابطہ کیا اور یہ رابطہ فوج کی سطح پر ہوا کہ ہم طالبان پر ایک بڑا حملہ کریں گے اور یہ حملہ سپن بولدک میں کریں گے جو کہ پاکستان کی سرحدی علاقے کے بلکل قریب ہے۔پاکستان نے کہا کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن افغان حکومت نے کہا کہ وہ اس علاقے میں فضائی حملہ کریں گے اور پاکستان کو اس لیے پہلے بتا رہے ہیں کہ ممکنہ نقصان کا پاکستان کو پہلے سے علم ہو۔
    اس بات کے جواب میں پاکستان نے تحفظات کا اظہار کیا کہ یہ چمن بارڈر کا ایریا ہے یہاں ہماری املاک اور شہری بھی ہیں۔ اور اس ایریا میں ہمارے فوجی بھی ہیں ، ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ سرحد کی اس جانب کو مالی و جانی نقصان نہ ہو۔ آپ اپنی سرحد کے اندر جو بھی کریں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر سرحد کی اس طرف کوئی نقصان ہوا تو ہم اس کا جواب ضرور دیں گے۔
    یہ بات بلکل ٹھیک ہے کہ ان کی آپس کی لڑائی میں اگر ہمارے فوجی شہید ہو جائیں تو ہم ضرور جواب دیں گے اور جواب بھی کیوں نہ دیں اگر ہمارے شہری شہید ہو جائیں تواس کا مطلب کہ ہماری ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ میں نا کام رہی۔ پاکستان کے تحفظات بلکل درست ہیں کیوں کہ افغان فوج پروفیشنل نہیں ہے۔کچھ دن پہلے افغان فوج طالبان کو مارنے اپنا ایک ہوائی مشن لے گئی اور اس گروپ کو مار دیا جو کہ افغان حکومت کی طرف سے شمالی اتحاد کے علاقے ہیں طالبان سے لڑ رہا تھا۔افغانستان کی ائیر فورس کو پتا ہی نہیں چلا کہ وہ کس کو مار رہے ہیں
    پاکستان نے دو ٹوک بات کی کہ ہم ایسی کوئی بھی چیز برداشت نہیں کریں گے کہ جس میں پاکستان کو زرہ بھر بھی نقصان پہنچے، یہ تھا پاکستان کا جواب ایک ذمہ دار ریاست کا جواب۔
    افغانستان نے اس بات کا پتنگر بنایا کہ پاکستان طالبان کے حق میں ہے،پاکستان طالبان کو بچا رہا ہے ۔ افغان حکومت کا جھوٹ اپنے ہی بیان سے ثابت ہو گیا،اگر تو آپ نے طالبان سے علاقہ واپس چھین لیا ہے تو آپ پاکستان سے فضائی حملے کی اجازات کیوں مانگ رہے ہیں اور اب افغان حکومت یہ کیوں کہ رہی ہے کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ طالبان سے علاقے واپس لیے جائیں۔
    برحال موجودہ صورتحال کے مطابق اس وقت ایران ، تاجکستان،ترکمانستان،چین اور پاکستان کے بارڈر پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ ازباکستان کے بارڈر کےکچھ علاقوں پر ابھی بھی افغان فوج کا کنٹرول ہے۔
    دوسری جانب چائینہ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔اور اب اس صورتحال کو سمبھلنے کی ذمہ داری پاکستان،چائینہ،تاجکستان،ازبکستان،ایران اور ترکی پر ہے۔ خطے کے یہ ممالک مل کر اب افغانستان کی صورتحال کو بہتر کریں گے۔لیکن اس کے لیے سارے سٹیک ہولڈرز کو بیٹھنا ہو گا اور میرے مطابق اگلے تین دنوں میں یہ پاکستان میں بیٹھنے والے ہیں۔
    آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ آمین
    پاکستان زندہ آباد
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • واپڈا، کرپشن اورعوام . تحریر :‌ منیب خان

    ھمارے علاقے مطلب کے پی بنوں میں زیادہ تر بجلی نہیں ہوتی جتنی ہوتی ہے ان سے گھر کے ضروریات بامشکل پوری ہوتی ہے جیسے پانی وغیرہ جس وقت بجلی ہوتی تو ولٹیج اتنا کم ہوتا ہے کہ کوئی بھی کام نارمل بجلی سے نہیں ہوتا مجبور بڑا والا سٹیبلیزر لگانا پڑتا ہے۔

    کنڈہ سسٹم اور زیادہ جرمانے کی وجہ سے واپڈہ والوں نے لوگوں کے میٹر تو ضبط کرلئے لیکن دوبارہ لگائے نہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے چوری کی بجلی استمعال شروع کردی ہے۔جسکا نقصان خکومت کو ہورہا ہے. 100 میں 10 لوگ بجلی کا بل ادا کرتے ہیں۔
    باقیوں سے یہاں کے واپڈا والے 500 روپے نقد گھر کا لیتے ہیں جہاں تک میں نے سننا ہے بل یا رسید کے بغیر پیسوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ یہ پیسے کہا جاتے اللہ بہتر جانتا ہے۔ اوپر سے امیر، غریب کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیتے ہیں۔ جہاں پر غریب کے گھر میں بمشکل ایک پنکھا اور بالب ہوتا ہے تو دوسری طرف امیر کے گھر میں اےسی ،فریج اور ہائی ولٹیج بالب لاگے ہوئے ہوتے ہیں۔

    ٹرانسفارمر ٹھیک کرنا واپڈا والوں کا کام ہے لیکن یہ کام بھی ھمارے ہاں علاقے والے خود کرتے ہیں اپس میں پیسے جمع کرکے۔
    اسکا خال ہوسکتا ہے اگر واپڈا والے اخساس سروے کا ڈیٹا لیکر اسی کے مطابق لوگوں پہ بوجھ ڈالے۔ میں نے بہت عرصے اپنے علاقے میں میٹر ریڈر نہیں دیکھا۔ مسجد کے بل میں بھی پی ٹی وی کا بل اتا ہے۔ یہی سے ھماری زوال شروع ہوتا ہے۔
    اگرخکومت وقت نے اس طرف توجہ دی اور اسکو ٹھیک کرے تو خکومت اور عوام کے بہت سے مسلے ٹھیک ہوجایئنگے ایک تو پیسہ خکومت کو ملنا شروع ہونگے اور دوسری طرف عوام کو کچھ خد تک ریلیف بھی مل جائے گا۔ پاکستان کے ہر مخکمہ میں اصلاحات ضروری ہے لیکن شروعات وپڈا سے کرے ۔

    @Moneebk6759367

  • عزت اور زلت  تحریر : اسامہ ذوالفقار

    عزت اور زلت تحریر : اسامہ ذوالفقار

    ‏وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ ٱلْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

    اس کا یہ ترجمہ کیا جاتا ہے وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    ‏عزت اور زلت کی باتیں ہر گلی محلے میں ہو رہی ہوتی ہیں مثلا ایک شخص ابھی کل جاتیاں چٹخاتا پھر رہا تھا اور آج لاکھوں کا مالک ہو گیا خواہ وہ دولت سٹے بازی چور بازاری سمگلنگ رشوت وغیرہ کے زریعےہی کیوں نہ حاصل ہوئی ہو اور دوسری طرف کوئی نوابوں کےخاندان کا لڑکا جو کل تک مرسیڈیز ہر ‏ہوا خوری کرتا تھا آج بھیک مانگتا دکھائی دےرہا خواہ اس نےاپنی جائیداد شراب خوری میں ہی کیوں نہ آڑا دی ہو۔۔۔ اور لوگ پتہ ہے کیا کہتے ۔۔۔۔ ہاں بھائی اللہ کی شان وہ جسے چاہے شاہ بنا دے جسے چاہے گدا اسکے ہاں کسی کو دم مارنے کی اجازت نہیں یہ ہے باطل مفہوم جو ہم لیتے ہیں.
    ‏پہلی بات قرآن میں جسے عزت اور زلت کہا گیاہے ہمارے معاشرے میں اس عزت اور زلت کا مفہوم بلکل الٹا ہے ہمارے ہاں عزت کا معیار کیا ہے؟ دولت ہے نا؟ خواہ اس کا کیریکٹر جو بھی ہو معاشرہ تو اسے ہی بڑا آدمی سمجھتا ہے اور غریب کا بچہ جتنا ہی شریف کیوں نہ معاشرہ اسے کبھی عزت کی نگاہ ‏سے نہیں دیکھتا ابھی تجربہ کریں آپکے گھر میں ایک کروڑ پتی شخص نے آنا ہو تو آپکا اہتمام قابل دید ہو گا ۔۔۔
    نہ صرف یہ کہ ہمارا عزت اور زلت کا معیار قرآن کے بالکل الٹ ہے اورتو اور ایک ظلم اور کرتے کہ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے بس یونہی اور وہ جسے چاہتا زلت دیتا ہے.
    ‏بس یونہی؟ یعنی اللہ کے ہاں کوئی قانون اور ضابطہ سرے سے ہے ہی نہیں؟؟ نعوذ باللہ؟ یعنی یونہی کسی کو عزت دے اور دل کرے تو زلیل کر دے؟؟ نعوز باللہ؟ یہ ہے ہماری قرآن فہمی؟ یہ تصور ہے اللہ رحمان کا کہ جیسے ہمارے معاشرے میں کوئی قانون قاعدہ نہیں ایسے خدا کےہاں بھی نعوز باللہ ‏کوئی اصول نہیں؟؟؟ کیا اللہ رحمان ایسا ہو سکتا؟؟؟
    اللہ تعالی کے ہاں کوئی بے اصولی نہیں ہوتی اور کائنات کے جملہ امور مشیعت الہی کے کے تحت میرٹ پر انجام پاتے ہیں پہلے اسے تو اپنے پلے سو فیصدی یقین سے باندھ لیں. اللہ کے ہاں کوئی شارٹ کٹ نہیں ایک منظم اور مہذب نظام ہے جس کے تحت ‏عزت اور زلت ملتی ہے اور ہاں ہمارے معاشرے کی جھوٹی عزت اور زلت مراد نہیں قرآن کے اندر عزت اور زلت کے معانی اور ہیں.

    Twitter id : RaisaniUZ_