Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میراتجربہ (پارٹ ون) . تحریر : ہما عظیم

    میراتجربہ (پارٹ ون) . تحریر : ہما عظیم

    پڑھاٸی سے فراغت کے بعد تھوڑا آرام کیا۔ ذہن تھوڑا فریش ہوا تو دماغ میں نوکری کا کیڑا کلبلایا۔ پاپا جی کو آگاہ کیا پہلے تو کہا گیا کیا کمی ہے تمہیں۔ ہم نے کہا جی بی کام کروایا ہے آپ نے زبردستی۔ ورنہ ہم تو ادب سے دلچسپی رکھتے تھے۔ اب جاب کرنے دیں تاکہ دو اوردو چارجوسیکھا ہے اسے استعمال کر سکیں۔ تھوڑے شش و پیج کے بعد اور پچیس تیس نصیحتوں کے ساتھ اجازت مل گٸی۔ گویا زندگی کا پروانہ مل گیا۔

    اب اگلہ مرحلہ ایک ایسی نوکری کی تلاش تھی جہاں ہم تمام نصیحتوں پرعملدرامد کے ساتھ پایہ تکمیل ہو سو اخبار چھاننے شروع کیٸے ڈگری اورکچھ شارٹ کورسز کے سرٹیفیکیٹ یعنی اپنےعمال نامے کی فاٸل لیٸے ڈرتے ڈرتے گھر سے نکلے۔

    اچھا پہلا انٹرویو دینے جاٶ جو وہ احساس ہوتا ہے جو آپکا اسکول کے پہلے دن کا ہوتا ہے۔ دل اس بچے جیسا ہوجاتا ہے جسے اس کے والدین پہلے دن اسکول والوں کے حوالے کر جاتے ہیں. وہ چاروں طرف اجنبی ماحول دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اچھا جی پہلے ہم اپنے آس پاس اسکولز، آفیسز، کمپنیزمیں انٹرویو دیا۔ وہاں جو کچھ دیکھنے سننے کو ملا وہ یہ تھا۔ حجاب کے ساتھ نوکری نہیں ملے گی۔ بچوں کی نظرمیں جازب نظرہونے کے لٸیے جدید تراش خراش کے کپڑوں کےساتھ میک اپ سے مزیّن چہرہ لانا ہوگا۔ اپنا میک اوورکریں۔ یہ برقعہ ساتھ ہوگا تو کام کیسے ہوگا بی بی.

    او میرے خدا

    میں پریشان کہ میں نے اپنی خدمات کاغزی کام کے سلسلے میں دینی ہے یا ماڈلنگ کرنی ہے۔ غرض ہرطرح کے لوگوں کو پایا کسی کی باتوں کے ڈرسے تو کسی کی نظروں سے ڈرسے ساری پراعتمادی کبھی تو آنسوٶں میں بہہ جاتی یا غصہ کی آگ میں جل جاتی۔
    اسی تگ ودو میں اپنے کوچنگ کے پروفیسرسے ملاقات ہوگٸی فرمانے لگے بیٹا نیا اسکول کھولا ہے اساتذہ کی ضرورت ہے مہربانی کرو کچھ ٹاٸم میرے اسکول کو دے دو۔تنخواہ ابھی ہزارہوگی آہستہ آہستہ بڑھا دیں گے.
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کوٸی فضول ڈیمانڈ نہیں عزت یہ ہے خود چل کرآفرآٸی اپنی عزت کو ترجیح دی نہ کہ کم تنخواہ کی فکر کی وہ تو بڑھ ہی جانی تھی پراٸیویٹ اسکول تو چلتے نہیں دوڑتے ہیں۔
    سو خوشی خوشی حامی بھری اور جب تک وہاں جاب کی خوش اورپرسکون رہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ سب کو اچھے لوگوں سے ملاۓ اوربرے لوگوں سے بچاۓ۔آمین

    @DimpleGirl_PTi

  • ہمارا تعلیمی نظام اور بچوں  کی تعلیم کے مسائل   تحریر:  چوہدری عطا محمد

    ہمارا تعلیمی نظام اور بچوں کی تعلیم کے مسائل تحریر: چوہدری عطا محمد

    ملک خدا داد اسلامی جہموریہ پاکستان میں عرصہ دراز سے تعلیمی شعبے میں صرف واجبی اور رسمی سرمایہ کاری نے ارض پاک میں ایک شدید تعلیمی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس معمولی سرمایہ کاری اور حکومتی توجہ اس شعبہ میں نہ دینے کی وجہ سے ارض پاک پاکستان کے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد سکولوں میں جانے سے محروم ہے ہم سمجھتے ہیں۔ تعلیم کسی بھی قوم کی معاشی، معاشرتی، شعوری، اور اخلاقی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کرتی  ہے۔ اگر آج ہم اقوام عا لم یعنی پوری دنیا کی بات کی جاۓ تو دنیا میں جتنی بھی ترقی یافتہ اقوام ہیں، تقریبا سب ہی میں تعلیم کی شرح 90سے 95 فیصد ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے پیارے وطن اسلامی جہموریہ پاکستان کی بات کریں تو مطالعہ کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر تقریباً دو کروڑ چھبیس لاکھ بچے سکول نہیں جا سکے اور حالیہ برسوں میں اس تعداد میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔ ارض پاک میں ان بچوں کے سکول نہ جانے کی سب سے بڑی وجہ سکولوں کی تعداد میں کمی تھی۔
    جدید ٹیکنالوجی اور پوری دنیا میں تعلیمی نظام میں جدید صلاحیتیں پیدا کرنے والے اس دور میں ارض پاک میں اتنے بچوں کو آئینی ذمہ داری کے باوجود تعلیمی سہولتوں سے محروم رکھنا کسی بھی ترقی یافتہ اور مہذب ریاست کو زیب نہیں دیتا ہےاگر ہم اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کی بات لریں تو اس کے مطابق پاکستان کو اپنی قومی پیداوار کا چار سے چھ فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ لیکن ہمارے حکمران صاحب اقتدار حلقے اس سے بہت ہی دور ہیں مجموعی قومی پیداوار کا بہت ہی کم حصہ تعلیم جیسے اہم شعبے پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ معمولی رقم نہ صرف ارض پاک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر مزید تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے ناکافی ہے بلکہ مجموعی طور پر دنیا کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے معیار تعلیم کے ساتھ چلنے کے عمل پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اور ہمارے بچے جدید ٹیکنالوجی کے نظام سے پیچھے رہ جاتے ہیں

    حکومتی سطع پر سر ماۓ میں کمی کے باعث نجی سرمایہ کاروں نے اس میدان میں قدم رکھا اور اپنے پنجے گاڑھنے شروع کر دئیے اس میں بہت سارے ایسے سرمایہ کار بھی شامل ہوگے جن کا تعلیم کے شعبے سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ انہوں نے اسے محض ایک کاروبار سمجھا اور ایک منافع بخش بزنس کے طور پر اس شعبہ کو لیا اپنی تما م تر توجہ بہتر تعلیمی سہولتیں مہیا کرنے کی بجائے صرف پیسہ بنانےاور زیادہ سے زیادہ منافع کما کر اپنے بینک بیلنس کو بڑھانے پر مرکوز رکھی۔ بہت سے تعلیمی ادارے داخلہ کھلنے اور تعلیمی سال کے مکمل ہونے کے ساتھ ہی نئی کلاسوں میں آنے والے طلباء کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ہر سال اشتہارات پر لاکھوں روپے خرچ کردیتے ہیں لیکن معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے اس قدر اخراجات تو دور کی بات ہے تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے پر توجہ ہی نہیں دیتے اس سرمایہ کاری سے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ تو ہوا جو دیکھنے میں ایک اچھی اقدام لگتا ہے مگر تعلیمی معیار کافی حد تک نیچے چلا گیا۔ اس خلا کو مذہبی مدرسوں نے بھی پر کرنے کی کوشش کی کیونکہ جو غریب طبقہ پرائیویٹ مہنگے تعلیم سسٹم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا انہوں نے اپنے بچوں کو مدارس تک ہی محدود کر دیا یہ مایوس کن صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس مسئلہ پر ہمارے حکمرانوں کو ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو ناخواندگی کے چنگل سے آزادی دلا سکیں ۔ اسی میں ارض پاک پاکستان کی ترقی کی بقا ہے۔اس امر میں سب سے ضروری بات اور زیادہ اہم بات شعبہ تعلیم کے بجٹ میں کھلے دل سے بڑا اضافہ ہے۔ ہمار حکمرانوں کو فوری طور پر اقوام متحدہ کے سفارش کردہ اعداد و شمار یعنی قومی پیداوار کا کم سے کم چار فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص کر دینا چاہیے اور اس میں ہر سال نئے آنے والے بجٹ کو بتدریج بڑھا کر چھ فیصد تک لے جانا چاہیے، چاہے اس کے لیے دیگر اخراجات میں کمی کرنی پڑے۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اچھی تعلیم کے بغیر کوئی قوم نہ تو ترقی کر سکتی اور نہ ہی اپنا دفاع کر سکتی۔یہاں یہ بات بھی کہتا چلوں سرکاری سکولوں میں بھی پرائیویٹ سکولوں کی طرح والدین کو ہر مہنے بلایا جاۓ اور والدین کو بچوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ یہ احساس دلایا جسکے کہ والدین کو ان سکولوں کی ملکیت کا احساس ہو اور وہ بھی ان سکولوں کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اور آخر میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کے ہر امیر گھرانے کا بچہ ہر غریب کے بچے سے تعلیمی لحاظ اور ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے لحاظ سے اتنا ہی آگے ہے جتنا کہ اقوام عالم میں کوئی بھی ترقی یافتہ ملک ہمارے ملک سے آگے ہے ۔

    @ChAttaMuhNatt

  • جنوبی پنجاب کی محرومیاں . تحریر : غلام نبی

    جنوبی پنجاب کی محرومیاں . تحریر : غلام نبی

    دوستو! میرا تعلق صوبہ پنجاب ضلع راجن پورتحصیل روجھان یونین کونسل کچہ راضی سے ہے اور یہ کچے کا علاقہ (No go area) ہے۔اس علاقے میں تعلیم کا ریشو نہ ہونے کے برابر ہے۔یہاں 3,4 پرائمری سکول کے علاوہ نہ مڈل سکول ہے نہ ہی ہائی سکول۔تعلیمی فقدان کی وجہ سے اس علاقے میں‏ امن بالکل بھی نہیں ہے۔لوگ معمولی رنجش کو بنیاد بنا کر کئ کئ عرصے تک لڑائی جھگڑے میں مصروف رہتے ہیں۔نوجوان نسل اکثریت بے روزگار ہے کیونکہ ادھر فنی تعلیم کا بھی خاطر خواہ کوئی انتظام نہیں۔ چوری و ڈکیٹی یہاں کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی۔ ‏Ngo’s جو کہ پسماندہ عاقے میں کام کرتے ہیں وہ بھی یہاں أنے سے کتراتے ہیں۔ صحت کے لیے کوئی ہسپتال نہیں اگر کوئی بیمار ہو تو اسے ضلع رحیم یارخان کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے۔‏ نادرہ کا کوئی نظام نہیں لوگ نادرہ ضلع رحیم یارخان کے تحصیل صادق اباد کا رخ کرتے ہیں۔یہاں کے لوگ زراعت سے منسلک ہیں اور مال مویشی کا کام کرتے ہیں۔دریاۓ سندھ پاس ہے لیکن یہاں کے کسان نہری نظام سے محروم ہیں۔ اکثریت کے پاس مال مویشی ہے ادھر لیکن ویٹرنری کا کوئی نظام نہیں۔ اگر کوئی‏ جانور بیمارہوجائے تو وہ مرجاۓ گا کیونکہ ویٹرنری سسٹم نہیں علاج کون کرے۔ ‏وفاقی حکومت اورپنجاب حکومت سے درخواست ہے اس پسماندہ علاقے پرتوجہ دیں کیونکہ ہم بھی صوبہ پنجاب کا حصہ ہیں۔

    @GN_bloch

  • سوشل میڈیا کا استعمال  تحریر : راجہ ارشد

    سوشل میڈیا کا استعمال تحریر : راجہ ارشد

    پورانے زمانے میں انسانوں کو صرف زمینی ،سمندری اور فضائی جنگوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ مگر اس وقت میدانِ جنگ سوشل میڈیا ہے جہاں انسانی دماغ بطورِ افواج لڑ رہے ہیں ۔
     
    سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے گزارش ھے کہ اس میڈیا کی اصل طاقت کے متعلق آگاہی حاصل کریں ۔اور اس دھوکے سے تو بلکل باہر نکل آئیں کہ سوشل میڈیا کا مقصد محض سماجی رابطے اور  تفریح کا حصول ہے۔

    یہاں پہ ہماری ایک ذاتی رائے ہمارے وطن عزیز کےلئے کس حد تک خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ،ہم سب کےلیے یہ جاننا بہت ضروری ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بہت سےفوائد بھی ہیں ۔ یہ شعور اور علم کی راہیں بھی ہموار کرتا ہے اور ہر خبر سے باخبر بھی رکھتا ہے
    میری اس تحریر کا مقصد آپ کو سوشل میڈیا کے قومی اور بین الاقوامی سطح پہ منفی اثرات کے متعلق آگاہ کرنا ہے۔

    سوشل میڈیا ایک ڈیجیٹل خوبصورت اور تیز ترین دنیا ہے یہاں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کےلیے چند سکینڈ درکار ہوتے ہیں۔
    اپنی بات کو مختصر کرتا ہوں آپ جب بھی اس میدان میں اتریں تو مکمل تیاری سے اپنے عقل و فہم کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کو استعمال کریںں ۔

    پاکستان کے ذمہ دار شہری بنئں۔ایک بات جو بہت ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پہ ملنے والی کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کے آگے مت پھیلائیں۔
    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت کرنا ہم سب پہ فرض ہے جس سے کوئی بھی بری الزمہ نہیں ہوسکتا۔

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • ہمارے محسن. تحریر: محمد احمد

    ہمارے محسن. تحریر: محمد احمد

    پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا جب بھی کہیں پر ذکر آئے گا سب سے پہلے ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام لیا جائے گا۔۔ پاکستان کو پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنانے میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔

    ڈاکٹرعبد القدیر خان 27اپریل 1936کو ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے آپ سات بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پر تھے،آپکے والد شعبہ تعلیم سے وابستہ تھے،وہ اپنے شاگردوں اور بچوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطہء نظر سے انکی اخلاقی تربیت پر بھی خاص توجہ دیتے تھے ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو مچھلیاں پکڑنے اور ہاکی کھیلنے کا بھی شوق تھا۔۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ڈی جے سائنس کالج کراچی سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔۔کالج کی تعلیم کے دوران انہیں فزکس کے مضمون سے بھی لگاؤ رہا، بی ایس سی کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے جرمنی چلے گئے، آپ ہالینڈ اور بلجیئم بھی گئے،ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد آپ ہالینڈ کی ایک فرم ایف ڈی او میں ملازمت اختیار کی۔۔یہ فرم ان دنوں کئی یورپی ممالک کےایک مشترکہ منصوبے کیلئے ہالینڈ میں یورینیم کے افزودگی کے پلانٹ تعمیر کررہی تھی۔۔ یورینیم کی افزودگی کا مطلب اسے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کے قابل بنانا تھا۔۔ڈاکٹر عبد القدیر خان جن دنوں جرمنی میں ڈاکٹریٹ کررہے تھے انہی دنوں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا المناک حادثہ پیش آیا تھا۔۔۔ ڈاکٹر صاحب بھی دیگر ہم وطنوں کی طرح شدید ذہنی صدمے سے دوچار تھے۔۔۔ انکے دل میں اس واقعے کے بعد وطن عزیز کیلئے کچھ کر گزرنے کی خواہش شدت اختیار کر گئی۔۔1974 میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے اپنے علم اور تجربے کو پاکستان کیلئے وقف کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔۔ ایف ڈی او سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپ یورینیم افزود کرنے کے فن میں مہارت حاصل کرچکے تھے۔۔انہیں یقین تھا وہ اپنی اس صلاحیت کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر عبد القدیر خان اس سال دسمبر میں جب چھٹیاں گزارنے وطن واپس آئے تو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملے،اور انکے ساتھ ایٹمی منصوبے پر گفتگو کی۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے مطابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی دلچسپی کے باعث پاکستان میں یورینیم افزودہ کرنے کے منصوبے پر اتفاق ہوگیا۔۔۔ اس موقع پر آپ نے وزیراعظم کو کہا کہ ” پاکستان کے وسائل انتہائی محدود ہیں جبکہ ہمارا پروجیکٹ بہت بڑا ہے” تو وزیراعظم نے کہا آپ کام شروع کریں فنڈ فراہم کرنا میرا مسلہ ہے۔

    جنوری 1976 میں ڈاکٹر صاحب نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں بطورِ ایڈوائزر کام کرنا شروع کردیا۔۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں جو تنخواہ وصول کررہے تھے وہ ہالینڈ میں ملنے والی تنخواہ کے مقابل بہت کم تھی،لیکن وطن کی خدمت کے جذبے کے آگے تنخواہ کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔۔ جولائی 1976 میں راولپنڈی میں کہوٹہ نامی قصبے ایک منصوبے کی بنیاد رکھی گئی جو براہ راست وزارت دفاع کے ماتحت تھا۔۔ اس ادارے کا نام کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز رکھا گیا اس منصوبے کا مقصد دفاع اور اسکے مقاصد کیلئے یورینیم کی پر امن افزودگی کرنا تھا۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا چارج سنبھالتے ہی جس جانفشانی،گن اور جذبے سے اس پرعمل درآمد شروع کیا وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے۔ پلانٹ کیلئے عمارت کا ڈیزائن اسکی تعمیر اور اس میں کام کرنے والے محنتی اور باصلاحیت افراد کا انتخاب بھی ایک کھٹن مرحلہ تھا۔ اصل پلانٹ کے ساتھ ایک چھوٹی سی لیبارٹری میں یورینیم کی افزودگی پر تجرباتی کام شروع کردیا گیا۔۔ 1977 میں جب حکومت تبدیل ہوئی تو لوگوں کا خیال تھا کہ اب کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا کام بند ہو جائے گا۔۔۔ مگر نئے سربراہ مملکت جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو مزید اختیارات اور سہولتیں دے دیں اور ڈاکٹر صاحب کی صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کو ڈاکٹر عبد القدیر ریسرچ لیبارٹریز کا نام دے دیا گیا۔۔ 1981 میں ایٹمی پلانٹ کی تنصیب کا کام مکمل ہوا اور 1982 میں یورینیم کی باقاعدہ افزودگی شروع ہوئی۔۔اس دوران ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے جن انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہیں۔۔ آپ نے ثابت کردیا کہ وطن سے محبت کرنے والے لوگ کیا کچھ کرسکتے ہیں۔۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بہت کم لاگت اور بہت کم عرصہ میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کرنا ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب اور سنکے ساتھیوں کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا اور جب 28مئی1998ء کو پاکستان نے بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کیئے ملک بھر کے لوگ خوشی سے سجدہ شکر بجا لائے۔۔ ہندوستان کا غرور ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کی محنتوں کی بدولت پاکستان نے خاک میں ملا دیا تھا۔۔پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ہے ( الحمد اللہ) اور چاغی سمیت وطن کی فضائیں ڈاکٹرعبد القدیرزندہ باد اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی تھی.

    ڈاکٹرعبد القدیر خان صاحب ہمارے محسن ہیں اور ہم اپنے اس محسن کو اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔۔اللہ تعالیٰ انکو صحتیابی والی خوشحالی والی لمبی زندگی عطا فرمائے آمین ثم آمین۔۔۔ انہیں ہماری دعاؤں کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی آئیں سب ملکر ان کے لیئے دعا کریں،اللہ تعالیٰ انہیں اپنی امان میں رکھے اور انہیں ہر مصیبت سے بچائے. آمین ثم آمین

    @MohhammadAhmad

  • کوشش سے قوت . تحریر : زید علی

    کوشش سے قوت . تحریر : زید علی

    ایک طالب علم کو اس کے استاد نے کہا وہ تتلی کی زندگی پرتحقیق کرے اور اس کی زندگی کے آغازکا عملی طورپرمشاہدہ کرے۔ اس کے لیے انہوں نے اسے ایک کوکون دیئے۔ کوکون داراصل ایک ایسا گول سا غلاف ہوتا ہے جس میں تتلی پرورش پاتی ہے۔ طالب علم میں بہت زیادہ تجسس تھا کہ وہ یہ جان لے کہ تتلی اپنی زندگی کیسے شروع کرتی ہے؟ کچھ دن بعد طالب علم نے دیکھا کہ اس کوکون میں ایک سوراخ ہو چکا ہے۔ تتلی پورا زور لگا کر اس خول سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تتلی اپنی قوت اور جدوجہد کے باوجود اس خول سے باہر نہیں نکل پارہی تھی۔ اس کے پر ناتواں اور نہ ہونے کے برابر تھے۔ طالب علم نے فورا اس کی مدد کا فیصلہ کر کے اس خول کا سوراخ بڑا کر دیا کہ تتلی آسانی سے باہر نکل آئے مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تتلی اڑ ہی نہ پائی اور مر گئی۔ وہ بہت حیران ہوا اور اس نے یہ ساری بات اپنے استاد کو بتائی۔ استاد نے پوری تسلی سے طالب علم کی بات کو سنا ارو کہنے لگے۔ بیٹا! تتلی کی زندگی کے چار عہد ہوتے ہیں جنہیں انڈہ، لاروہ، پیوپا اور مکمل تتلی بن جانا کہا جا سکتا ہے۔ تتلی کے لیے فطرت کا اصول یہ ہے تتلی کو اس خول کو خود ہی توڑ کر باہر نکلنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے زندگی کے آغاز میں ہی خول سے جتنا زیادہ محنت کر کے باہر آئے گی اس کے پر اتنے ہی مظبوط اور خوشنما ہوتے ہیں۔ اس میں مشکل حالات میں جینے کی امنگ اور حوصلہ اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ بیٹا! ہم انسانوں کی زندگی بھی ایسی ہی ہے ہمیں ضرورت سے زیادہ مدد تبا و برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ ہماری زندگی کو بھر پور قوت اور طاقت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے مشکل اور سخت حالات میں خود ہی ہمت، جرات اور استقامت سے اپنی مشکلوں، مصیبتوں اور راستے کی رکاوٹوں پر قابو پا کر زندگی میں اپنا راستہ خود بنائیں۔ ہمیں زندگی میں قوت صرف کوشش سے ہی ملتی ہے۔ ہارتا صرف وہی ہے جو کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ بار بار کوشش کرنے والا اور ہمت نہ ہارنے والا کبھی ناکام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خدا کا اصول ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائے (آمین)

    @ZaidAli0000

  • گمنام ہیروز  تحریر : سیف اللہ عمران

    گمنام ہیروز تحریر : سیف اللہ عمران

    پاکستان کی سب سے اہم ایجنسی انٹر سروسس انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) ہے۔ وہ نہ صرف وطن کے دفاع کے لئے اہم ترین خدمات انجام دے رہا ہے ، ملک دشمن قوتوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھنے اور دشمن کے پوشیدہ اور واضح ارادوں کو ناکام بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہے۔

    یہ پاکستانی خفیہ ایجنسی ، جس نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے ، کارکردگی ، پیشہ ورانہ مہارت اور کوالیفائی کے لحاظ سے اسے دنیا کی پہلی نمبر کی خفیہ ایجنسی کے طور پر جانا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے۔
    اسی لئے آئی ایس آئی اپنے ناقابل فراموش کارناموں سے پاکستانیوں کے خون کو گرم رکھتی ہے اور پوری پاکستانی قوم ان بہادر بیٹوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے آئی ایس آئی میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی حفاظت اور کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔

    اپنے قیام سے ہی اس مغرور پاکستانی ادارے نے جنوبی ایشیاء میں ہندوستان کی تسلط ختم کرنے اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ایک کامل انٹلیجنس نظام کی بنیاد رکھی تاکہ کافروں کے مذموم منصوبوں اور تدبیروں سے آگاہی حاصل ہو۔

    آئی ایس آئی پاکستان کا دفاعی ضامن ، جولائی 1948 میں جدید عالمی تقاضوں کے مطابق انٹیلی جنس مقاصد کے حصول کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ آئی ایس آئی نے شروع سے ہی بہت ساری لڑائیوں میں اپنی تدبیر کو ثابت کیا ہے ، اور بغیر کسی بڑی جنگ کے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    کئی عشرے پہلے ، پاکستان غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا مرکز بن گیا ، 40 سے زائد ممالک کے انٹیلیجنس ادارے اپنے اپنے ممالک کے قومی مفاد میں کام کر رہے تھے۔ جو بلوچستان میں امن بگڑ میں بھی ملوث تھیں ، مزید یہ کہ ہمارا سڑا ہوا سیاسی نظام ، جو عدم استحکام کا شکار ہے ، ان انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہورہا تھا۔ لیکن خوش قسمتی ہے کہ پردے کے پیچھے ، آئی ایس آئی آہستہ آہستہ ان تمام غیر ملکی ایجنسیوں کے مذموم مقاصد اور ان کے خلاف داخلی سیاسی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا رہی تھی۔

    بظاہر کوئی آئی ایس آئی کا ترجمان نہیں ہے لیکن ہر پاکستانی اپنی اعلی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بے لوث خدمات اور بے لوث قربانیوں کو مانتا ہے۔ اور ہم اپنے گمنام فوجیوں کے عظیم کارناموں پر دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو اس ادارہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    بعض اوقات انہیں کفن اور تدفین کی خوشی صرف اس وجہ سے نہیں ملتی ہے کہ وہ "پاکستان کے سپاہی” ہیں اور انہیں کوئی گارڈ آف آنر نہیں ملتا ہے۔ اور نہ ہی کوئی اعزاز تمغہ یا ستارہ۔ اس کے برعکس ، آئی ایس آئی کے یہ گمنام فوجی حب الوطنی سے بھری تاریخ کے صفحوں میں بھر چکے ہیں۔ آئی ایس آئی کسی نامعلوم سیارے کی مخلوق نہیں ہے ، لیکن یہ عظیم لوگ ہمارے درمیان ہیں۔

    لہذا ہم سب اس کے ترجمان ہیں۔ کبھی کبھی جنگ میں حصہ لینے کی پاک فوج کی باری ہوتی ہے۔ لیکن آئی ایس آئی ہر دن جنگ میں ہے۔ یہ آئی ایس آئی ہی جاگتی ہے اور پوری قوم سوتی ہے۔

    آج ہر پاکستانی کو اس ادارے کی کارکردگی پر فخر ہے۔
    کیونکہ جب تک یہ ادارہ موجود ہے ، پاکستان مخالف عناصر پر یہ واضح ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی براہ راست کارروائی نہیں کرسکتے ہیں۔
    Twitter @Patriot_Mani

  • طوائف کی زندگی  تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف کی زندگی تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف تو دنیا کی تھی بے حیاء
    رہے نسبتاً ہم ہی بےباک کم

    آ پ نے اکثر دیکھا ہو گا نئی چم چماتی گاڑیاں لیکن ان گاڑیوں کا استعمال لوگ کچرہ اٹھانے کے لئے گندگی صاف کرنے کے لیے نہیں کر سکتے بلکہ اس کام کے لئے الگ سے گاڑیاں ہوتی ہیں جو کہ آ پ کو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں اور اگر آپ پاس سے گزر جائیں تا ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں کیوں؟ کراہت محسوس ہوتی ہے بدبو آ تی ہے اسی لیے نہ ؟ پر ان گاڑیوں کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ آ پ کو ہر گلی کوچے میں گندگی کے ڈھیر نظر آ ئیں گے اور آ پکا جینا مشکل ہو جائے گا۔
    بلکل اسی طرح طوائف کی بھی زندگی ہے یہ وہ عورت ہوتی ہے جو ایسے مردوں کی گندی کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے جو عیاش ہوتے ہیں حوس کے پوجاری ہوتے ہیں اور جیب میں چاندی کے سکے اور بہت سے پیسے لے کر گھومتے ہیں۔
    ایک عورت کو طوائف بنانے والے بھی مرد ہی ہوتے ہیں وہ لڑکی جو کسی مرد کے پیار میں گھر سے بھاگ جاتی ہے یا تو اسے بیچ دیا جاتا ہے یا چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ لڑکی کیا کرے جس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تو ایسی ہی لڑکی پھر ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور زندگی گزارنے کے لئیے غلط راستہ اختیار کر لیتی ہے۔
    یقین جانیں اگر یہ طوائف نہ ہو تو مرد کی گندگی آ پ کو ہر جگہ دکھائی دے گی اور شاید حوس کا پوجاری مرد اپنے ہی گھر کی بہو بیٹیوں کے ساتھ گندہ کھیل کھیل بیٹھے اور میں ایسے واقعات سنے بھی ہیں کہ باپ نے بیٹی کے ساتھ زیادتی کی،یہاں تک کہ بے زبان جانور تک کو نہیں چھوڑتے یہ لوگ،ایک معصوم بلی کے ساتھ لڑکوں کا وحشیانہ سلوک تو سب کو یاد ہی ہو گا ۔
    جس چیز کی مانگ زیادہ ہوگی وہ تو مارکیٹ میں ضرور آئے گی اور مرد کی مانگ ہے عورت اور رنگین رات اسی لیے آ ج بھی کہیں نہ کہیں چکلہ آ پکو ملے گا اور اگر مرد اچھا ہو جائے تو یقین کیجیے یہ چکلے ہر جگہ سے خود بخود بند ہو جائیں ۔
    ایک عام عورت اور ایک طوائف میں یہ فرق ہے کہ طوائف اپنے لیے خود کماتی ہے اور عام عورت کے پاس کمانے کے بہت لوگ ہوتے ہیں اسکا باپ بھائی یا بیٹا۔
    اور ایک بات یہ کہ اچھے اور برے لوگوں میں فرق صرف ہم انسان کرتے ہیں خدا تو کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔
    میں نے دیکھا ہے نیک لوگوں کو دوسروں کا مذاق اڑاتے ہوئے ان پر ہنستے ہوئے اور گناہ میں ڈوبے لوگوں کو راتوں میں اللّٰہ کے سامنے روتے ہوئے۔ہم نہیں جانتے کون اچھا ہے کون برا تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر بھی فتوا لگانے والے۔
    یہاں آ پ کو ایک مثال سے بھی سمجھا دیتی ہوں کہ آپ کی اولاد میں سے ایک بچہ لائق اور ایک نالائق ہے تو کیا آ پ اپنے نالائق بیٹے کو اکیلا چھوڑ دیں گے نہیں بلکہ اس پر زیادہ توجہ دیں گے کہ کسی طرح یہ بھی لائق ہو جائے پر آ پ انکا موازنہ یا مقابلہ ہر گز نہیں کریں گے۔
    بلکل اسی طرح ایک عام عورت اور طوائف کا کوئی مقابلہ ہے ہی نہیں بلکہ کسی ایک انسان کا دوسرے انسان سے نہیں ہے ہر انسان اپنے آ پ میں ایک ہیرا ہے کوئی نہ کوئی خوبی موجود ہے کیونکہ اللّٰہ نے کسی کو بھی فضول نہیں بنایا ہے۔
    بی
    بہت سے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آ پ سیاہ قلم ہو کڑوا لکھتی ہو تو میں کہنا چاہوں گی کہ میں معاشرے کا چہرہ دکھاتی ہوں اور اگر آپ میرا لکھا آ پ برداشت نہیں کر سکتے تو پھر یہ معاشرہ بھی بھیانک ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    نوٹ: میں نے اس تحریر میں ہر مرد کو برا نہیں کہا ہے جو برے ہیں انکو برا لکھا اور بیان کیا ہے بے شک پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ایسے ہی ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا شکریہ تحریر کیسی لگی ضرور بتائیے گا۔ خوش رہیں محبتیں بانٹتے رہیں

    @iam_FoziaCh

  • پاکستان میں ٹیکسی ڈرائیورز کا معاشی قتل تحریر :ثاقب محمود

    پاکستان میں ٹیکسی ڈرائیورز کا معاشی قتل تحریر :ثاقب محمود

    ۔
    تقریبا” پورے پاکستان میں ہی
    ٹیکسی ڈرائیورز کا معاشی قتل
    ہورہا ہے جسکی وجہ سے ٹیکسی والوں کو فاقے تک کی نوبت آچکی
    ہے ،ٹیکسی ڈرائیور بیچارہ کرے تو کیا کرے ،ایک طرف کرونا نے ٹیکسی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ختم کردیا،اور دوسری طرف مختلف کمپنیز نے جیسے (اوبر) (کریم) (بائکی)( بی فور یو) اور دیگر کی وجہ سے جو پرانے اور
    پروفیشنل ٹیکسی والے ہیں ان کا کام نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے مہنگائی کے اس دور میں گزارہ کرنا مشکل ترین ہو گیا ہے ،صرف ان کمپنیز کی وجہ سے نہیں بلکہ پرائیویٹ کاروں کی وجہ سے بھی یے حالات ہوئے ہیں ، (اوبر ) (کریم) (بائیکیا)اور دیگر ایسی کمپنیز نے لوگوں کو راستہ دکھایا جس کی وجہ ہر پرائیویٹ گاڑی اور موٹر سائیکل والا سواریاں اٹھاتا نظر آتا ہے ،جو لوگ ملازمت پیشہ ہیں اچھی نوکری ہونے کے باوجود اپنا خرچہ نکالنے کے لئے آتے جاتے اپنی موٹر کار اور موٹرسائیکل سواریاں اٹھاتے نظر
    آتے ہیں ،کسی بھی پبلک سروس بس سٹینڈ یا ٹیکسی سٹینڈ پر جائیں یے لوگ آپ کو گھیرنا شروع کر دیں گے ،کئی لوگ اپنے پرانے اور انتہائی خستہ حال موٹر بائیک لے کر ہیلمٹ کو سبز رنگ کر کے آوازیں لگاتے نظر آئیں گے بائیک سروس بائیک سروس جو کے غلط اور انتہائی غیر قانونی ہے ،پرائیویٹ گاڑی جو کے بغیر پرمٹ کے ہے وہ اگر سواری اٹھائے گی تو جو لوگ سالانہ پرمٹ کے پیسے بھرتے ہیں وہ کیوں بھریں پھر ایک پرائیویٹ موٹر کار اور پبلک سروس گاڑی میں کچھ تو فرق ہونا چاہئیے ،پرائیویٹ گاڑی لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس ہوتی ہے ،اور پبلک سروس گاڑی ہر 6 ماہ بعد ایکسائز ٹیکس دیتی ہے،پبلک سروس گاڑی کا فٹ ہونا بھی ضروری ہے فٹنس سرٹیفیکٹ ہر 6 ماہ بعد بنتا ہے پاسنگ ہوتی ہے اور پرائیویٹ موٹر کار کا نہیں
    اس لئے فٹنس نہ ہونے کی وجہ سے بھی کافی حادثات ہوتے ہیں ، اور قیمتی جانوں کا نقصان ہوتا ہے ،اگر ہر بندہ ہی ٹیکسی ڈرائیور یا پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیور بنا ہوگا بغیر پرمٹ بغیر لائسنس بغیر کسی نالج کے تو مستقبل قریب میں بہت سے نقصانات ہونے کا خدشہ ہے ، سب سے پہلے تو ٹرانسپورٹ بزنس تباہ ہو رہا ہے ،اس کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کی مد میں جو ٹیکس اور ریونیو اکھٹا ہوتا ہے وہ بڑھنے کی بجائے کم ہوتا جائے گا جو ملک اور قوم کا بڑا نقصان ہے ،اس کے علاوہ اناڑی موٹر کار ڈرائیور اور پبلک سروس لائسنس ہولڈر ڈرائیور میں بہت فرق ہے جسکی وجہ سے آئے روز حادثات ہوتے ہیں اور مستقبل قریب میں مزید حادثات کا خدشہ ہے ، قارئین کرام زرا سوچئیے ہم سستے کے چکر میں کس طرف جارہے ہیں اور کتنا نقصان کر ہیں ، سب سے پہلے ملک کا نقصان اپنے ملک کی ٹرانسپورٹ کے سسٹم کو بہتر کرنے کی بجائے اور خرابی کی طرف لے کر جا رہے ہیں ،ہمیں نہیں پتا کہ جس شخص کے ساتھ ہم سفر کرنے جا رہے ہیں وہ ایک پروفیشنل پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیور ہے یا کوئی اناڑی ہے یا کوئی جرائم پیشہ عناصر میں سے ہے ، پتہ نہیں ہماری حکومت سوئی ہوئی ہے یے سب نظر نہیں آرہا ان کو ان کے ناک کے نیچے کتنی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ،ٹیکسی کمپنیز والوں کو بھی چاہیے کے حکومت کے ساتھ ملکر کوئی ایسا نظام بنائیں جس سے یے خامخواہ ٹیکسی ڈرائیور سے جان چھڑائی جا سکے اور لیگل طریقے سے ٹیکسی کاروبار کو آگے بڑھایا جا سکے اور جوان انلیگل لوگ قوم کا نقصان کر رہے ہیں ان سے بچا جا سکے ، اگر کوئی کریم کی گاڑی ہے یا اوبر کی تو اس کے اوپر مارکہ ہونا چاہیے جس بھی کمپنی کی ہو ،اور رہی بات بائیک کی تو بائیک پر سواری اٹھانا ممنوع قرار دیا جائے ، فوڈ پانڈہ یا فوڈ ڈیلیوری تک تو بائیک صحیح ہے لیکن سواری اٹھانے کے لئے انتہائی خطرناک ہے جب سے بائکیا اور دیگر کمپنیز نے بائک سروس شروع کی ہر بندہ خود ساختہ بائک رائڈر بنا پھر رہا ہے جو کے آنے والے وقت میں انتہائی خطرناک رخ اختیار کر جائے ،اس لئے اس پر کنٹرول ضروری ہے ، اس سے پہلے کے یے معاشرے کا ایک خطرناک مسئلہ بن جائے اس پر قابو پانا ضروری ہے ، اور ٹرانسپورٹ کےکاروبار کو بہتر بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے اگر ہم مستقبل میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں تو اس کے لئے ہمیں بہتر کرنا پڑے گا اپنی ٹیکسی سروس کو اور لوکل پبلک سروس ٹرانسپورٹ کو، ہماری حکومت کو چاہئے کے ٹریفک پولیس کو الرٹ کرے اور چیک کیا جائے غیر قانونی ٹیکسی پر مکمل پابندی لگائی جائے غیر قانونی بائیک رائیڈر اور پرائیویٹ موٹر کار ڈرائیور کو پبلک سروس سے الگ کیا جائے ، تاکہ مستقبل میں نقصانات سے بچا جا سکے اور پلک سروس ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جائے کرایہ بارگیننگ سسٹم ختم کر کے میٹر پر بنایا جائے تاکہ ہر مسافر کو پتا ہو میرا کتنا کرایہ بنا ہے ، اس سے مستقبل میں وطن عزیز میں آنے والے سیاحوں کو آسانی ہوگی اور ایک مشورہ میری طرف سے یے ہے کے سعودی عرب کی طرح ہر ٹیکسی میں کیمرہ ہونا چاہئے میٹر ہونا چاہیے اور اس کے علاوہ پبلک سروس ڈرائیور کو سال میں قوانین کی آگاہی کے لئے ہر سال 10 دن کی کلاسسز اور امتحان دینا ضروری ہو اور ان کو بتایا جائے کہ قیمتی جانوں کی ذمہ داری آپ پر ہے ،ہر ٹیکسی مانیٹر ہو تاکہ کسی بھی وقت کسی بھی گاڑی کو ٹریک کیا جاسکے تاکہ ملک کو بدنام کرنے کے لئے دشمن عناصر افغان سفیر کی بیٹی جیسا مزید کوئی ڈرامہ نہ کر سکیں ۔
    اس تحریر کے تمام نکات پر غور کریں اور شئیر کریں حکومت وقت کو جگائیں اور اپنے معاشرے
    میں بہتری لائیں شکریہ ۔

    @Ssatti_

  • وطن سے محبت   تحریر:  حادیہ سرور

    وطن سے محبت تحریر: حادیہ سرور


    وطن پہ فدا ہے جو انسان ہے
    کہ حب وطن جزو ایمان ہے

    وطن سے مراد ایسا خطہ جہاں انسان پیدا ہوتا ہے، پرورش پاتا یے،جہاں اس کے عزیز و اقارب رہتے ہوں اور جہاں اس کی تلخ و شیریں یادیں وابستہ ہوں۔ انسان کو فطری طور پر اپنے وطن کے درودیوار سے ، گل و خار سے اور کوچہ و بازار سے محبت ہوتی ہے۔ اس فطری وابستگی کو حبِ وطن کہا جاتا ہے۔
    سیدنا رضی الله عنھا کا فرمان اقدس ہے
    "وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے”
    اس کا مطلب ہے جس طری دیگر ارکان اسلام کا ایمان لانا ضروری ہے اس طرح وطن سے محبت کرنا بھی ضروری ہے۔ جو سرزمین انسان کو پالتی ہے۔ تقاضائے ایمان ہے کہ اس سے بھی ویسی ہی محبت کی جائے۔
    وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ جو کوئی بھی جہاں بھی جس شعبے میں بھی ہو وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے۔اپنے ذاتی مفادات کو وطن کی خاطر قربان کرنا اور وطن کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر عمل کرنا محب وطن ہونے کا ثبوت ہے۔
    وطن کی سرحدوں کی حفاظت بھی وطن سے محبت کا تقاضا ہے۔ سرحدوں سے مراد جغرافیائی سرحد کے ساتھ وطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ضروری ہےاور نئی نسل کو اپنے نظریہ وطن سے آگاہ کیا جائے۔
    ہم نے یہ وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا اس کی نظریاتی اساس میں اسلام شامل یے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس ملک میں اسلامی نظام رائج کریں۔ملکی روایات اور ثقافت کو فروغ دیں۔ غیروں کے طریقے اور طرز پر مبنی چیزیں دیں اور خالصتاً اسلام اور قرآن کے احکامات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں۔ تب ہی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب پورا ہوسکے گا۔
    تحریر:

    @iitx_hadii