Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟

    بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟

    بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں غربت کے خاتمے اور کمزور طبقات کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے دعوے کے ساتھ شروع کیا گیا "بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام” (BISP) آج ایک ایسے سوالیہ نشان کی صورت اختیار کر چکا ہے جو ارباب اختیار کے دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان وسیع خلیج کو واضح کرتا ہے۔ یہ پروگرام، جو 2008 میں غریب خاندانوں، بالخصوص خواتین کو مالی معاونت فراہم کر کے انہیں معاشی بھنور سے نکالنے کے نیک مقصد کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، اب خود کرپشن، ناانصافی اور عوامی تضحیک کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ کروڑوں غریب پاکستانیوں کی آنکھوں میں امید کی کرن جگانے والا یہ پروگرام آج قوم کو کشکول تھمانے اور اس کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ کیا یہ واقعی غربت مٹانے کی کوشش ہے، یا پھر حکمرانوں کی جانب سے قوم کو مستقل بھکاری بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش؟

    جب BISP کے تحت گھر گھر سروے کا اعلان ہوا تو عوام نے امید کی کہ شاید اب واقعی حق داروں کو ان کا حق ملے گا۔ دعویٰ کیا گیا کہ مستحق خاندانوں کی شناخت شفاف طریقے سے ہوگی، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نہ ہوا۔ یہ سروے گھر گھر نہیں کیے گئے، بلکہ ان کا عمل مخصوص ایجنٹوں کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے عوامی بھلائی کو اپنی ذاتی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ اطلاعات کے مطابق، ہر سروے ایجنٹ نے مستحق خواتین کے نام شامل کرنے کے لیے مبینہ طور پر 2000 سے 3000 روپے فی خاتون بطور رشوت لیے۔ اس کے نتیجے میں، وہ گھرانے جو حقیقتاً مدد کے مستحق تھے، وہ اس فہرست سے باہر رہ گئے، جبکہ رشوت دینے والے غیر مستحق افراد مستفید ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا۔ BISP کے ذریعے جو سہ ماہی قسط یعنی 13500 روپے کی رقم دی جاتی ہے، وہ بھی مکمل طور پر مستحق خواتین تک نہیں پہنچ پاتی۔ ایک بار پھر وہی ایجنٹ یا مقامی بینک عملہ میدان میں آتے ہیں اور فی قسط 1000 سے 2000 روپے "کٹوتی” کے نام پر اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ غریب عورتیں، جو پہلے ہی کسمپرسی کا شکار ہوتی ہیں، وہ اس کٹوتی کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر رہتی ہیں کیونکہ یہ پیسہ ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوامی پوسٹس اور رپورٹس اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ غریب خواتین کو یہ رقم حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے، اور کٹوتی کے بعد ان کے ہاتھ میں بہت کم رقم آتی ہے۔ کیا یہی ریاستی ریلیف ہے؟ یا یہ قوم کو بھکاری بنانے کا نیا انداز؟

    یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، یا کسی کی ماں 13500 روپے کے لیے لمبی لائنوں میں ذلیل ہو۔ کیا یہ ہمارا اسلامی، مشرقی اور اخلاقی معاشرہ ہے؟ خواتین جو اپنے گھروں میں پردے اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہیں، انہیں سرعام قطاروں میں کھڑا کر کے ان کی عزت پامال کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں بے غیرت ایجنٹ ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے رشوت لیتے ہیں، اور کئی بار ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ "یہ امداد نہیں، بلکہ قوم کو بھکاری بنانے کا منصوبہ ہے۔” یہ الفاظ درحقیقت کروڑوں پاکستانیوں کے دل کی آواز ہیں جو اس تذلیل کو روز دیکھتے اور جھیلتے ہیں۔ اگر حکمران واقعی قوم سے مخلص ہوتے، تو یہی پروگرام معاشی خود انحصاری کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ بجائے محض وظیفہ دینے کے، حکومت کو چاہیے تھا کہ ان خاندانوں کے سربراہان یا بے روزگار نوجوانوں کو "ون ٹائم گرانٹ” جاری کرتی تاکہ وہ اپنا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرتے۔ اس کے بعد ہر چھ ماہ بعد ان کے کاروبار کی انسپیکشن کی جاتی، بہتری کے لیے رہنمائی کی جاتی، اور انہیں عزت کے ساتھ جینے کا موقع دیا جاتا۔ مگر شاید حکمران چاہتے ہی نہیں کہ قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہو۔ انہیں ایک ایسی قوم چاہیے جو ہر سہ ماہی پر کشکول لے کر لائنوں میں لگے، عزت نفس قربان کرے، اور در در کی ٹھوکریں کھائے۔

    بی نظیر انکم سپورٹ پروگرام، جو غریب خاندانوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا تھا، کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ پروگرام غربت کو کم کرنے کے بجائے قوم کو محتاج بنا رہا ہے، اور عوام کے ہاتھ میں کشکول تھما رہا ہے۔ اگر حکمرانوں کی ترجیحات میں قوم کی فلاح شامل ہو، تو وہ اس پروگرام کو ایک بھکاری بنانے والی مشین سے تبدیل کر کے ترقی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ رشوت خور ایجنٹوں اور کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ شفاف ڈیجیٹل سروے کرایا جائے جو بغیر کسی انسانی مداخلت کے مکمل ہو، نادرا کے ڈیٹابیس سے منسلک کر کے اور مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر کے مستحقین کی درست شناخت یقینی بنائی جائے۔ BISP کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہنر مند تربیت، چھوٹے قرضوں، اور کاروباری رہنمائی پر خرچ کیا جائے۔ خواتین اور نوجوانوں کے لیے مفت ہنر مندی کورسز (جیسے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، یا زرعی تربیت) شروع کیے جائیں تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔ نقد امداد کی بجائے، بے روزگار نوجوانوں یا گھر کے سربراہوں کو ایک دفعہ کے لیے گرانٹ (مثلاً 1 سے 2 لاکھ روپے) جاری کی جائے جس سے وہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کر سکیں۔ امداد کی تقسیم کو ایجنٹس کے بجائے براہ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس یا موبائل ایپلیکیشنز (جیسے ایزی پیسہ یا جاز کیش) کے ذریعے کیا جائے۔ ہر تقسیم کے بعد آڈٹ کیا جائے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو۔

    حکمرانوں کو اب یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قوم کو خیرات نہیں، عزت چاہیے۔ یہ 13500 روپے کی سہ ماہی قسط اگر کسی ماں بہن کی عزت نفس کو پامال کر دے، اسے سڑکوں پر ذلیل کر دے، اور رشوت خوروں کی ہوس کا شکار بنا دے تو یہ ریلیف نہیں بلکہ ریاستی جرم ہے۔ جو ریاست اپنی خواتین کو معاشی تحفظ دینے کے بجائے بازاروں میں قطاروں میں کھڑا کر دے، وہ ریاست نہیں بلکہ تماشا بن جاتی ہے۔ اگر واقعی حکمران فلاحی ریاستِ کا خواب سچ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی قوم کو کشکول سے نجات دینی ہوگی، خیرات کے بجائے خودداری سکھانی ہوگی اور بھیک مانگنے کے بجائے روزگار پیدا کرنا ہوگا۔ قوموں کی ترقی وظیفوں سے نہیں بلکہ عزت، محنت اور شفاف نظام سے ہوتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکمران اپنی ترجیحات بدلیں، ورنہ یہی قوم ایک دن سوال کرے گی کہ کیا تمہیں بھکاری بنانے کے لیے ووٹ دیا تھا یا باوقار زندگی کی امید پر؟ اب یہ فیصلہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ قوم کو عزت دیتے ہیں یا اسے مزذلت کے اندھیروں میں دھکیلتے رہتے ہیں۔

  • آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں،تحریر:ملک سلمان

    آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں،تحریر:ملک سلمان

    ایک اوورسیز پاکستانی ملنے آئے تو کہنے لگے کہ”پنڈ وسیا نئیں، اُچکے پہلے آگئے“ کے مترادف ابھی آئی فون 17مارکیٹ میں نہیں آیا اور فلاں سرکاری صاحب نے ڈیمانڈ کردی ہے کہ آپکا کام ہوجائے گا لیکن ستمبر میں لانچ ہونے والے آئی فون کے نئے ماڈل کے دو موبائل سب سے پہلے اسے ملنے چاہئیں۔میرے لیے یہ کوئی حیرانی والی بات نہیں تھی کیونکہ سرکاری افسران کی ایسی ڈیمانڈ روٹین ہے۔اس حوالے سے گذشتہ سال میں نے ایک کالم بھی لکھا تھا۔
    حفیظ سینٹر لاہور میں ایک دوست کی موبائل شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا تو وہ ٹیلیفونک کال پر کسی کے ترلے کررہا تھا کہ سر ایسا نہیں ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اس وقت ڈالر ریٹ کم تھا اس دفعہ آپ کا شکوہ دور ہوجاتا ہے۔دکاندار نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے سپیکر فون اوپن کردیا۔ دوسری طرف موجود شخص کہہ رہا تھا کہ فلاں لاہور پوسٹڈ ہے تو تم اسکو زیادہ ریٹ دیتے ہو، اس نے اچھی پوسٹنگ کروا لی تو وہ مجھ سے بڑا افسر نہیں ہوگیا۔ میرا دوست جواباً صفائیاں پیش کرتے ہوئے نہیں نہیں سر ایسی بات نہیں آپ کے ساتھ تو دس سال کا تعلق ہے کبھی ریٹ میں فرق نہیں کیا۔ کال ختم ہوئی تو اس نے نمبر دکھایا تو سنئیر پولیس آفیسر کی کال تھی۔

    دکاندار کا کہنا تھا کہ یہ روز کا مسئلہ ہے چند دن قبل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شکوہ کررہے تھے کہ تم پولیس والوں کو زیادہ ریٹ دیتے ہو، یاد رکھنا دکان ہم ہی سیل کرتے ہیں پولیس والے نہیں۔مذید انکشاف کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر، اے ایس پی لیول کے افسران ماہانہ پانچ سے سات جبکہ اے ڈی سی آر، ایس پی، ڈی پی او، ڈی سی، ڈی جی، آرپی او، کمشنر اور سیکرٹری لیول کے افسران بسا اوقات ایک مہینے میں پچاس سے زائد باکس پیک آئی فون بیچنے کیلئے اپنے قابل اعتبار ہول سیل ڈیلر سے رابطہ کرتے ہیں لیکن ایک بات پر حیرت ہے کہ ان کے اندر کی غربت وہیں کی وہیں رہتی ہے اور چار سے پانچ ہزار کیلئے بھی دکان بند کروانے کی دھمکیاں لگاتے ہیں۔کرپٹ افسران گفٹ ملے آئی فون ہول سیل میں بیچتے ہیں تو ایماندار افسران کیلئے سرکاری تنخواہ میں گزارے لائک انڈرائیڈ لینا بھی مشکل ہے۔

    پاکستان شدید معاشی مسائل کا شکار ہے لیکن”آگ لگے بسی میں ہم ہیں اپنی مستی میں“ کے مصداق بیوروکریسی اپنی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ پہلے پہل سول بیوروکریسی میں اچھے پڑھے لکھے اور خاندانی لوگ آیاکرتے تھے، عام سرکاری ملازمین کی نسبت سی ایس ایس اور پی ایم ایس افسران کا رویہ اور کردار قابل تقلید و تعریف ہوتا تھا۔ نئے افسران کی اکثریت سیلفی سٹار اور ٹک ٹاکرز بنے ہوئے ہیں۔وقار و سائستگی خواتین آفیسرز کی پہچان ہوتی تھی جبکہ نئی خواتین آفیسرز خاص طور پر پولیس کی خواتین ماڈلنگ میں ٹی وی اینکرز اور فلم سٹارز کو مات دے رہی ہیں۔

    وزراء اور چیف منسٹر کے درباری بنے ”باس از آلویز رائٹ اور یس باس“ کی تسبیح کرتے افسران جی حضوری کے چیمپئین ہونے کی وجہ سے ہر حکومت میں ”فٹ“ ہو جاتے ہیں اور نہ صرف من چاہی پوسٹنگ لیتے ہیں بلکہ فیصلہ سازوں کی آنکھ کا تارہ بن کر صوبے اور ڈیپارٹمنٹ کے لئے ”اچھے افسران“سلیکٹ کرنے کی ٹھیکیداری بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ ”یو آر مائی انسپائریشن“ کے نعرے لگاتے چاپلوس اور ”کنسیپٹ کلئیر“ افسران کو”ملٹی ٹاسک اچیور اور ڈوئیر“ کا نام دے کر حکمرانوں کے دربار میں پیش کرکے اہم پوزیشن دلوائی جاتی ہیں۔ اہم کام نکلوانے کیلئے چھوٹے افسران کو بڑی سیٹوں پر تعنیات کیا جاتا ہے۔ اگر کسی آفیسر کو ایمانداری کا بخار ہو تو بخار اتارنے کیلئے او ایس ڈی کردیا جاتاہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ دیانت دار افسران ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ ایماندار افسران کی اہم جگہوں پر یہ کہہ کر تقرری نہیں کی جاتی کہ”اسکو افسری نہیں آتی اسے رہنے دو“۔ ”بندہ کمپیٹنٹ ہے لیکن زیادہ ایماندار ہے سسٹم کے ساتھ چلنے والا نہیں“۔

    افسران نے بیوروکریسی کا مطلب ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔انکی نت نئی اوچھی حرکتوں سے بیوروکریٹ گالی بنتا جارہا ہے۔ شدید کرپٹ افسران کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ کال رسیو نہیں کرتے کہ کہیں کسی سفارشی کال پر مفت میں کام نہ کرنا پڑ جائے۔ باس اور طاقتور کے سامنے لیٹ جاتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے سامنے انتہائی سخت گیر۔صرف اسی کو اپنے دفتر میں ویلکم کرنا پسند کرتے ہیں جو آتے ہوئے تحائف لاتا ہو اور امراء کے گھروں میں اس لیے حاضری لگواتے ہیں کہ ان کے ڈرائنگ روم سے کونسی قیمتی چیز دیکھ کہ کہہ سکیں کہ ابھی کل ہی انٹرنیٹ پر دیکھی لیکن اس لیے آرڈر نہیں کی کہ آن لائن چیز سہی نہیں ملتی، تب تک تعریف کرتے رہتے ہیں جب تک میزبان یہ نہ کہہ دے کہ یہ چیز اٹھا کر صاحب کی گاڑی میں رکھ دو۔
    نئے افسران اپنے جیسی بچگانہ فہم و فراست کے جوانوں کے ساتھ رات گئے والی محافل میں مگن ہوتے ہیں اور وہاں یہ انتہائی تفاخر سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ تیرا دوست اے سی /اے ایس پی لگ گیا ہے جو مرضی کرے۔ واقعی جو مرضی کرتے پھر رہے ہیں بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں میں مارا ماری کررہے ہوتے ہیں۔
    افسران کے”کنسیپٹ کلئیر“ ہیں اور مائنڈ سیٹ ہے کہ پیسا ہی سب کچھ ہے اس لیے دونوں ہاتھوں سے اور جھولیاں بھر بھر کے سمیٹنا ہے۔
    اس سے قبل کہ بیوروکریٹ شہرت کی لت میں پاگل ہوجائیں، قوم کے پیسے سے سرکاری افسران کی ذاتی تشہیر اور شخصیت پرستی کو فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں کیونکہ اس غلط روایت سے سرکاری افسران سارا دن نت نئے اشتہارات بنانے اور دکھانے کے سوا کچھ نہ کرتے اور نہ سوچتے ہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ملاوٹ کی لعنت، گدھے کا گوشت ،کیا یہی تربیت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملاوٹ کی لعنت، گدھے کا گوشت ،کیا یہی تربیت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور کے بعد اسلام آباد میں گدھے کا گوشت برآمد ، شہریوں کو گدھے کا بالٹی گوشت اور تکے کھلانے کا قومی فریضہ سرانجام دینے والوں کو محکمہ فوڈ اتھارٹی نے پکڑ لیا۔ ملاوٹ تو ایک الگ موضوع ہے اب گدھے اور کتوں کاگوشت برآمد ہونے لگا۔ کیا خوبصورت تربیت کی ہے ہمارے منبرو محراب ۔ نام نہاد پیر خانوں ،گدی نشینوں نے اپنے مریدوں کی ، ہم ترقی پذیر نہیں ہم زوال پذیر قوم بنتے جا رہے ہیں۔ قرآن پاک میں ایسی قوموں پر قہر نازل ہوئے۔ بھلا ہو پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز جس نے ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف جہاد شروع کیا ہے یہ جہاد سے کم نہیں ،مخلوق خدا کو ملاوٹ شدہ خوراک ادویات ،دودھ اور دیگر روز مرہ استعمال کی چیزوں پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں نہ سیاست نظر آتی ہے اور نہ جمہوریت تاہم سیاسی گلیاروں میں ہیرو بننے کا شوق پروٹوکول ہوٹر بجانے والی گاڑیاں آگے پیچھے گھومیں ،اسی تک سیاست اور جمہوریت رہ گئی ہے۔ سیاست نے کاروباری روپ دھار لیا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے قوم بالخصوص نوجوان طبقے سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی گئی ۔شخصیت پرستی کی راہ ہموار کی گئی۔ جمہوریت کے دور حکومت اور آمریت کے دور حکومت میں ہرایک قوم کا نجات دہندہ کہلواتا رہا

    میری عمر بیت گئی کس سے نجات دہندہ کہلواتے رہے ۔ پھر قوم کاہیرو تعلیم ، صحت اور مفاد عامہ کا کوئی معیار مقرر نہیں کر سکے۔ جاگیر داروں اور سرمایہ داروں نے قوم کو یرغمال بنایا۔ عقل اور شعور کے دشمنوں نے قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا پر عاشقان عمران کو کہتے سنا جا سکتا ہے ہمیں عمران چاہیئے پاکستان نہیں یہ شرک کی انتہا اور شخصیت پرستی کی حدکراس کرنے والی باتیں ہیں۔بلاشبہ وہ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں دوسری جماعتوں کی طرح ،ملکی وفاء اور قومی سلامتی کے درمیان کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ قومی سلامتی کے ادارے ریاست کی سلامتی ، خود مختاری اور داخلی وخارجی خطرات سے حفاظت کے لئے کام کرتے ہیں ان پر سیاسی جماعتوں کو حملہ آور نہیں ہونا چاہیئے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بنیاد ہیں ،ہماری سیاسی جماعتوں کی اس سلسلے میں کارکردگی ملی جلی ہے۔ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں اندرونی اصلاحات ، شفافیت ، میرٹ اور دیگر معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص اقربا پروری ، خوراک ، ادویات ،دودھ ، دیگر روز مرہ کی استعمال ہونے والی چیزوں میں ملاوٹ کی وجہ سے ہمارے خون میں ملاوٹ پھیل چکی ہے ۔ شاید اسی وجہ سے باتوں میں بھی ملاوٹ ، سو ہر کام میں ملاوٹ ہی نظر آتی ہے۔

  • خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں،
    کیا مقدمہ درج کرنے سے انصاف مکمل ہوگیا،سخت احتساب کرنا ہوگا
    راولپنڈی کے بڑے کہاں سو گئے،فون کال لینا بھی گوارا نہیں کرتے
    نازیبا ویڈیو کس کو دی گئیں معاملے کی تہہ تک جانا ہوگا کیاشہیدوں کے شہر کی خواتین معاف کریں گی؟
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بلوچستان کے ایک سردار کی عدالت کے فیصلے پر خاتون کے بارے میں ابھی سینہ کوبی کر رہے تھے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے 30 کلومیٹر شہر گوجرخان جس کو شہیدوں اور غازیوں کا درجہ حاصل ہے وہاں کی سینکڑوں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے پولیس اہلکار اور ایک ٹیچر کو بلیک میل کرنے والے پولیس اہلکار کی دو ایف آئی آرز سامنے آنے پر سر شرم سے جھک گیا پنجاب اور بالخصوص راولپنڈی پولیس کے اعلی افسران جو کسی نہ کسی اعلی شخصیت کی سفارش پر تعینات ہیں ایک سوالیہ نشان ہے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان بلا شبہ پولیس اور عوام کے درمیان دوستی کا رشتہ بنانے کے لیے لاتعداد اقدامات کر رہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز بھی روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کر رہی ہے حیرانگی اس بات پر ہے کہ جس ہسپتال میں یہ شرمناک واقعہ ہوا اس ہسپتال میں 32 سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں کہا جاتا ہے کہ 26 کیمرے عرصہ دراز سے خراب ہیں اور چھ عدد کیمرے ٹھیک ہیں ضلعی ہیلتھ افسران پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ کس قدر ذمہ دار ہیں اور اپنی وزیراعلی کے حکم پر وہ کس قدر عمل کرتے ہیں،

    مقامی پولیس کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے دو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے شام کو جیل بھیج دیا تفتیش کرتے کہ وہ اہلکار عورتوں کی نازیبا ویڈیو بنا کر اتنی بڑی تعداد میں کس کو دیتا تھا؟ کوشش کے باوجود کہ آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کا اس سلسلے میں موقف لیا جائے لیکن دونوں ذمہ داران افسران فون کال ہی کسی کی نہیں سنتے تاہم نہ جانے راولپنڈی کو کس کی نظر کھا گئی جرائم کے حوالے سے بھی راولپنڈی کی خبریں اعلی پولیس افسران کے لیے سوالیہ نشان ہیں؟ اگر گوجرخان کے اس شرمناک واقعہ کو لے کر ایف آئی اے سائبر کرائم وزیراعلی پنجاب سپریم کورٹ آف پاکستان دیگر ذمہ داران ریاست کو نوٹس لینا چاہیے اس تحصیل کی ماؤں نے ملک و قوم کی خاطر اپنے بیٹوں کو شہید کروایا اور شہید ہو رہے ہیں کیا اس کا صلہ یہ ہے کہ اس تحصیل کی ماؤں بیٹیوں کی نازیبا ویڈیو بنائی جائیں؟ وہ بھی ایک سرکاری ہسپتال میں جو علاج معالجہ کے لیے دور دراز دیہات سے گوجرخان شہر کے سرکاری ہسپتال کا رخ کرتی ہیں.

    افسوس صد افسوس اس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے انکوائری متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی اور متعلقہ ضلع کے ڈاکٹرز کی زیر نگرانی نہیں ہونی چاہیے سی ایم پنجاب انکوائری ٹیم دوسرے اضلاع کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے ڈاکٹرز کی تشکیل دے کر صاف اور شفاف انکوائری کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں محکمہ پولیس راولپنڈی کے اعلی افسران اور محکمہ ہیلتھ کے افسران کہ اس دلخراش واقعہ کو لے کر بقول شاعر
    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں
    نظر سے گرتے رہتے ہیں عبادت ہوتی رہتی ہے

  • 1958سے آج تک، پاکستانی عوام پر برستا قہر

    1958سے آج تک، پاکستانی عوام پر برستا قہر

    1958سے آج تک،پاکستانی عوام پر برستا قہر
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستانی عوام پر برستے اس قہر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ آئیے، آج تاریخ کے اوراق پلٹ کر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ ظلم کے خلاف ایک ایسی فریاد ہے جو دہائیوں پر محیط ہے۔ یہ اس درد کی داستان ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں گھر کر چکا ہے، جب وہ مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری، قرضوں، اور طاقتور اشرافیہ کے مظالم تلے دب کر زندگی گزارنے پر مجبور رہا۔ یہ اس قوم کے خون نچوڑنے والے نظام کے خلاف ایک احتجاجی نوحہ ہے۔ یہ سطریں عوام کے لیے ہیں، ان کی چیخوں، ان کے دکھوں اور ان کی بے بسی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

    جب ایک ماں بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہ کر پائے، جب ایک باپ بجلی کا بل دیکھ کر دل تھام لے، جب ایک نوجوان روزگار کی تلاش میں مایوس ہو جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ عوام سے جینے کا حق کس نے چھینا؟ مہنگائی، بیروزگاری، بدعنوانی اور ریاستی نااہلی نے عوام کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جینا ایک بوجھ بن چکا ہے۔ آٹا، چینی، دال، سبزی اورسب کچھ عام انسان کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک شہری کی تحریر نے یہ درد یوں بیان کیاکہ "تنخواہ وہی، بل دوگنے، زندگی جہنم بن چکی ہے!”جس کا جواب واضح ہےکہ وہ اشرافیہ جو اس ملک کی دولت کو اپنی مٹھی میں قید کیے بیٹھی ہے ،ان میں سیاستدان، جرنیل، سرمایہ دار، جاگیردار ودیگرشامل ہیں جو عوام کے خون سے اپنی سلطنتیں قائم کرچکے ہیں۔

    آئی ایم ایف سے لیے گئے اربوں ڈالر کے قرضے بظاہر معیشت کو سہارا دینے کے لیے ہوتے ہیں مگر اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟ کیا یہ پیسہ عوام کے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہوا؟ کیا اس سے ہسپتالوں میں ادویات آئیں؟ کیا روزگار کے مواقع پیدا ہوئے؟ نہیں! یہ قرضے صرف اشرافیہ کے بینک اکاؤنٹس میں پہنچتے ہیں اور ان کی عیاشیوں کا ایندھن بنتے ہیں۔ معروف معیشت دان ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے ڈی ڈبلیو کو انٹرویو میں واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط نے پاکستانی عوام پر مہنگائی کا بم گرایا، مگر اصل مجرم وہ حکمران ہیں جو ان رقوم کو عوام کی فلاح کے بجائے اپنی جائیدادیں بنانے پر لگاتے ہیں۔ آج گھی ،کوکنگ آئل،بجلی اور پٹرول کی قیمتوں نے عوام کی زندگی مفلوج کر دی ہے۔ قرضے عوام نے نہیں کھائے مگر ان کی قیمت عوام ہی چکا رہے ہیں۔

    کرپشن وہ ناسور ہے جس نے اس قوم کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ گندم سکینڈل، شوگر مافیا، جعلی انوائسز، پانامہ لیکس وغیرہ یہ سب وہ زخم ہیں جو حکمران طبقے نے عوام کے اعتماد پر لگائے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے مطابق صرف گزشتہ برس 873 ارب روپے کی جعلی انوائسز پکڑی گئیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ یہ اس قوم کا خون ہے جو چوسا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کی 30 شوگر ملز میں سے 9 شریف خاندان، 5 زرداری خاندان اور باقی ان کے اتحادیوں کے قبضے میں ہیں۔ یہ وہی طبقہ ہے جو اقتدار میں آکر قومی خزانے کو اپنے خاندانی کاروبار میں بدل دیتا ہے۔ اور جب کوئی سوال اٹھاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ "یہ سب سیاست ہے!”

    یہ کہانی نئی نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں ایوب خان کے دور (1958-1969) سے جڑی ہوئی ہیں، جب محض 22 خاندانوں کو ملکی معیشت کا کنٹرول دیا گیا۔آدم جی، سیہگل، حبیب، داؤد، ولیکہ، منو، فینسی،نشاط اور کریسنٹ جیسے خاندان یہ وہ خاندان تھے جنہیں ریاستی سرپرستی میں زمینیں، صنعتیں اور وسائل دیے گئے۔ گوہر ایوب، جو ایوب خان کے بیٹے تھے نے اپنے سسر جنرل (ر) حبیب اللہ خٹک کے ساتھ مل کر یونیورسل انشورنس اور گندھارا انڈسٹریز جیسی کمپنیوں کو پروان چڑھایا۔ گوہر ایوب کی سیاسی و کاروباری سرگرمیوں نے ریاستی وسائل کو خاندانی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کی۔ بی بی سی کے مطابق اس دور کی پالیسیوں نے سرمایہ دارانہ اشرافیہ کو اتنی طاقت دی کہ آج تک وہ طبقہ مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہ 22 خاندان آج 42 ہو چکے ہیں اور بعض تجزیہ کار اس تعداد کو اس سے بھی زیادہ بتاتے ہیں۔ اگرچہ درست اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہے، لیکن یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ اشرافیہ کے طبقات مسلسل پھیلتے جا رہے ہیں۔ شریف، زرداری، ترین، چوہدری اور دیگر خاندان ملکی معیشت، سیاست، زراعت، رئیل اسٹیٹ اور صنعت پر قابض ہو چکے ہیں۔ شوگر ملز، سیمنٹ، میڈیا ہاؤسز، بینکس ودیگر سب پر ان ہی کا راج ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریاستی مشینری تحفظ دیتی ہےاور قانون ان کے دروازے پر دستک دینے سے گھبراتا ہے۔ گوہر ایوب کی سرپرستی میں ایوب خان نے معیشت کو چند خاندانوں کے حوالے کیا، جنہوں نے نجکاری کے نام پر قومی ادارے خریدے اور پھر سیاست میں آ کر ان اداروں کو اپنی جاگیر سمجھا۔ بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق گوہر ایوب نے اپنے والد کے اقتدار سے خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی اولاد کو بھی اسی ڈگر پر لگایا۔ ان کے بیٹے عمر ایوب آج بھی پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے سیاسی میدان میں متحرک ہیں۔ یہ نسل در نسل اقتدار اور دولت کے سوداگر ہیں جو پاکستانی عوام کی تقدیر کے فیصلے اپنے محلات میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔

    کیا یہ ظلم کبھی ختم ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں گونجتا ہے۔ جب تک اشرافیہ سے اقتدار اور دولت کا ارتکاز ختم نہیں ہوتا، جب تک قانون سب کے لیے یکساں نہیں ہوتا، جب تک عوام کو ان کا جائز حق نہیں ملتا، تب تک یہ قہر جاری رہے گا۔ جب تک عوام سیاسی شعبدہ بازی اور شخصیت پرستی سے باہر نہیں نکلیں گے، باشعور نہیں ہوں گے، سوال نہیں پوچھیں گے، احتساب نہیں کریں گے، تب تک یہی چند خاندان اس ملک کی سانسوں پر قابض رہیں گے۔ لیکن تبدیلی کی کنجی عوام کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس ظلم کو سہتے رہیں گے یا اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔

  • میں خود معاشرہ ہوں

    میں خود معاشرہ ہوں

    "میں خود معاشرہ ہوں،مگر میں اپنی برائی چھپا کر دوسروں کی نشاندہی کرتا ہوں”
    تحریر:ملک ظفراقبال بھوہڑ
    آج ہم اپنے معاشرے کے وہ خدوخال آپ کے ذوقِ مطالعہ کے لئے رکھیں جو یقیناً آپ کو بھی اچھے لگیں گے مگر عملاً کچھ نہیں ہوگا کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں مگر اپنے گریبان میں جھانکنے سے گریزاں ہیں ۔جی ہاں یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر شخص کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ معاشرتی اصلاح کی راہ اسی وقت کھلتی ہے جب انسان اپنی ذات کا محاسبہ کرے، بجائے اس کے کہ ہر وقت دوسروں پر انگلی اٹھائے۔
    میں خود معاشرہ ہوں، مگر میں اپنی برائی چھپا کر دوسروں کی نشاندہی کرتا ہوں مگر ہمیں ضرورت کس چیز ہے۔

    خود احتسابی کی ضرورت . جواصلاح کی پہلی شرط
    ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بگڑ گیا ہے، لوگ برے ہو گئے ہیں، ایمانداری ختم ہو گئی ہے، اور اخلاقیات ناپید ہو چکی ہیں۔ لیکن یہ "معاشرہ” کون ہے؟ یہ لوگ کون ہیں؟ اگر ہم غور کریں تو جواب واضح ہے — "یہ معاشرہ میں خود ہوں، آپ خود ہیں، ہم سب ہیں۔”
    مگر سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کی برائیوں پر تو تنقید کرتے ہیں، مگر جب اپنی باری آتی ہے، تو ہم یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا دفاع میں آ جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کے جھوٹ، فریب، کرپشن، ریاکاری اور بدتمیزی پر تو چیختے ہیں، مگر اپنے جھوٹ، چغل خوری، حسد، بغض اور خود غرضی کو "چالاکی” یا "مجبوری” کا نام دے دیتے ہیں۔
    اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خود احتسابی کیا ہے
    اسلام نے فرد کو معاشرے کی اصلاح کا پہلا قدم قرار دیا۔ قرآن و حدیث میں بارہا "نفس کا محاسبہ” کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

    قرآن:
    "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ…”
    (سورۃ المائدہ: 105)
    ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنی ذات کی فکر کرو…”
    حضرت عمر بن خطابؓ کا قول:
    "اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے…”

    حدیث نبوی ﷺ:
    "مومن اپنی خطاؤں پر نگاہ رکھتا ہے، اور منافق دوسروں کی برائیاں تلاش کرتا ہے۔”
    دوسروں کی نشاندہی، اپنی برائی سے فرار ہے
    ہم دوسروں کو نصیحت کرنے کے شوقین ضرور ہیں، مگر خود عمل سے محروم ہیں
    ہم کہتے ہیں لوگ جھوٹ بولتے ہیں،
    مگر خود سچ چھپاتے ہیں۔
    ہم کہتے ہیں لوگ بدعنوان ہیں،
    مگر خود سفارش اور رشوت کو "ترجیحات میں شامل کرتے ہیں
    ہم کہتے ہیں قوم تباہ ہو رہی ہے،
    مگر خود وقت، بجلی، پانی، وسائل ضائع کرتے ہیں۔
    ہم کہتے ہیں: نوجوان بگڑ گئے ہیں،
    مگر ان کے سامنے ہم نے کون سی اچھی مثال قائم کی؟
    اصلاح کا آغاز خود سے تو معاشرے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں

    اگر ہر فرد یہ سوچ لے کہ:
    مجھے سچ بولنا ہے، چاہے نقصان ہو
    مجھے اپنا وعدہ نبھانا ہے، چاہے مشکل ہو
    مجھے اپنے اندر کی کینہ پروری اور خود غرضی کو ختم کرنا ہے
    مجھے تنقید سے پہلے اپنا کردار درست کرنا ہے
    تو صرف ایک شخص کی اصلاح نہیں ہوگی، بلکہ ایک نیا معاشرہ جنم لے گا۔
    آئیں چند عملی قدم خود کو بدلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں

    روزانہ اپنا محاسبہ کریں:
    آج میں نے کیا غلط کام کیا؟ کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کوئی وعدہ توڑ تو نہیں دیا؟
    تنقید سے پہلے خود پر نظر ڈالیں۔
    جو بات میں دوسروں کو کہہ رہا ہوں، کیا وہ مجھ پر بھی لاگو ہوتی ہے؟
    سوشل میڈیا پر دوسروں کو نہیں، خود کو درست کریں:
    کسی پر تنقیدی پوسٹ لگانے سے پہلے سوچیں کہ میں خود کہاں کھڑا ہوں؟
    اپنے بچوں، شاگردوں یا کارکنوں کے سامنے اپنی اصلاحی مثال بنیں۔

    معافی مانگنا سیکھیں:
    اپنی غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ انسانیت کی معراج ہے۔
    ہم سب چاہتے ہیں کہ معاشرہ بہتر ہو، لوگ نیک ہوں، جھوٹ، فریب، کرپشن ختم ہو۔
    لیکن اگر ہم خود کو تبدیل نہیں کرتے، اور صرف دوسروں کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں، تو یہ رویہ معاشرتی بگاڑ کو اور بڑھائے گا۔
    یاد رکھیں،
    "معاشرہ وہ نہیں جو ہم تنقید سے بدلیں، بلکہ وہ ہے جو ہم کردار سے سنواریں۔”

    لہٰذا، آئیں آج سے عہد کریں:
    "میں خود معاشرہ ہوں، اور تبدیلی کا آغاز میں خود سے کروں گا!”
    امید ہے آپ کو آج کا موضوع پسند آیا ہوگا اور تبدیلی بھی انشاء اللہ

  • ادب کی بےنصیب نسل — ادب کا بچھڑتا رشتہ.تحریر: اقصیٰ جبار

    ادب کی بےنصیب نسل — ادب کا بچھڑتا رشتہ.تحریر: اقصیٰ جبار

    ہم ایک ایسی نسل میں سانس لے رہے ہیں جس نے نئی دنیا کو خوش آمدید تو کہا، لیکن اس راستے میں سب سے پہلے جس چیز کو پیچھے چھوڑا، وہ "ادب” تھا۔ یہ وہی نوجوان نسل ہے جو دنیا بھر کی خبریں اور معلومات ایک کلک پر حاصل کر لیتی ہے، مگر غالب، فیض اور اقبال جیسے نام اس کے لیے بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ جسے نئے گانوں کے بول تو یاد ہیں، لیکن "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” جیسے الفاظ اجنبی لگتے ہیں۔

    ادب کو زندگی سے یوں الگ کر دیا گیا ہے جیسے وہ کسی پرانے وقت کی چیز ہو۔ اب نہ وہ کلاس میں گفتگو کا حصہ ہے، نہ گھروں میں کتابوں کی مہک باقی ہے، نہ شام کی چائے کے ساتھ افسانوں اور نظموں کی باتیں ہوتی ہیں۔ زبان کی خوبصورتی، احساس کی گہرائی اور سوچ کی نرمی اب تیز رفتار ویڈیوز میں کہیں کھو چکی ہے۔

    حالانکہ ادب صرف لفظوں کا کھیل نہیں۔ یہ ہماری تہذیب، ہماری پہچان، اور ہمارے شعور کا آئینہ ہے۔ جب ادب سے رشتہ کمزور ہوتا ہے تو صرف لفظ نہیں، بلکہ سوچ، احساس اور اخلاق بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔

    افسوس یہ ہے کہ جو نسل خود کو "ڈیجیٹل دور” کی نمائندہ کہتی ہے، وہ اپنی زبان، اپنی شاعری، اور اپنے قصے کہانیوں سے ناآشنا ہے۔ اب بچے قاعدہ پڑھنے کے بجائے موبائل ایپ سے زبان سیکھتے ہیں، اور جوان میر و غالب کو "پرانی باتیں” کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مشاعرے خاموش ہو چکے ہیں، کتابیں صرف امتحان کے دنوں میں کھلتی ہیں، اور جہاں کبھی ادبی محفلیں ہوتی تھیں، اب وہاں ڈانس ویڈیوز اور وی لاگز کا راج ہے۔

    ادب صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ہمیں خود کو اور دوسروں کو سمجھنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ منٹو کو پڑھیں تو ایک تلخ سچائی آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ اقبال کو سمجھیں تو ایک جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی تحریریں انسان کو اپنے دل میں جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ادب ہمیں اچھا انسان بننے کا ہنر سکھاتا ہے۔

    آج طالب علم کے لیے ادب ایک اضافی بوجھ بن چکا ہے۔ وہ بحث، سوال اور سوچ کے عمل سے دور ہو چکے ہیں۔ اب علم کا مطلب صرف نمبر لینا ہے، نہ کہ سمجھ پیدا کرنا۔ لطیفے، میمز اور کلپس نے گہرے خیال کی جگہ لے لی ہے۔ یہ صرف زبان کا نقصان نہیں، یہ سوچ کی سطحیت، احساس کا ختم ہونا، اور ذہنی زوال کی علامت ہے۔

    جب انسان کتاب سے رشتہ توڑتا ہے، تو سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ شاعری سے دور ہوتا ہے، تو دل سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اور جب وہ کہانیاں نہیں پڑھتا، تو زندگی کو صرف اوپر سے دیکھتا ہے، اس کی گہرائی اسے نظر نہیں آتی۔

    ادب ہمیں سوچنا، محسوس کرنا، اور بہتر انداز سے جینے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ادب کو نصاب کا بوجھ نہ بنائیں، بلکہ دل سے جینے کا ذریعہ بنائیں۔ بچوں کو کہانیاں سنائیں، ان سے بات کریں، ان کی رائے سنیں۔ گفتگو اور سوال کی فضا پیدا کریں، تاکہ لفظ صرف لفظ نہ رہیں، بلکہ احساس بنیں، روشنی بنیں، تربیت بنیں۔

    یہ خوشی کی بات ہے کہ آج بھی کچھ نوجوان ایسے ہیں جو چپکے چپکے فیض کے اشعار پڑھتے ہیں، کچھ آن لائن بلاگز میں اردو افسانے لکھتے ہیں، اور کچھ ریختہ جیسے پلیٹ فارم پر ادب کی شمع روشن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں انہی چراغوں کو ہوا دینی ہے۔

    ادب ہمیشہ زندہ رہے گا…
    اگر ہم زندہ دل، زندہ دماغ، اور زندہ ضمیر کے ساتھ اسے پڑھیں گے، لکھیں گے اور محسوس کریں گے۔

    ورنہ وہ وقت دور نہیں جب لکھنے والے تو شاید بچ جائیں —
    لیکن پڑھنے والے ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔

  • عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟

    عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟

    عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    چینی اسکینڈل کے دھوئیں سے ابھی فضاء صاف نہیں ہوئی تھی کہ خوردنی تیل کے نرخوں کی آگ نے ایک اور معاشی سانحے کا دروازہ کھول دیا۔ عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتیں 24 فیصد تک کم ہوئیں لیکن پاکستان میں اس کے برعکس کوکنگ آئل 4.5 فیصد مہنگا کر دیا گیا۔ صارفین فی لیٹر 150 روپے اضافی ادا کرنے پر مجبور ہو گئے اور اس کا فائدہ ان عوام دشمن مافیاز کو ہوا جو ہر بحران کو اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آخر یہ منافع خور کون ہیں؟ ان پر ہاتھ ڈالنے سے حکومتی ادارے کیوں گھبراتے ہیں؟ اور اگر ریاستی مشینری بے بس ہے تو کیا عوام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے؟

    وزیر اعظم شہباز شریف نے رواں برس فروری میں عوام کو ریلیف دینے کے بلند بانگ دعوے کیےلیکن اپریل اور مئی میں بناسپتی مینوفیکچررز سے ہونے والے اجلاسوں کے باوجود قیمتیں کم نہ ہو سکیں۔ کیا یہ ریلیف محض سیاسی دعوے تھے یا پھر پسِ پردہ مفادات نے ہر کوشش کو ناکام بنا دیا؟ عوام آج بھی انتظار میں ہے کہ حکومت مہنگائی کے سیلاب کے آگے کوئی بند باندھے گی، مگر اس سیلاب کے ساتھ اگر ریاست خود بہتی نظر آئے تو عوام جائے تو کہاں جائے؟

    ادھر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے بجلی کے صارفین پر ایک اور بجلی گرائی ہے۔ 8 بجلی کی تقسیم کار کمپنیاںجن میں آئیسکو، لیسکو، میپکو، پیسکو، کیسکو، سیپکو، حیسکو، اور ٹیسکو ہیں جو 244 ارب روپے کی اوور بلنگ میں ملوث پائی گئیں۔ صرف ایک ماہ میں 2 لاکھ 78 ہزار صارفین کو 47 ارب روپے کے اضافی بل بھیجے گئے اور ملوث افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔

    کیسکو نے زرعی صارفین کو 148 ارب روپے سے زائد کی اوور بلنگ کی، فیڈرز پر 18 ارب روپے کے جعلی بل ڈالے گئے، آڈٹ کے لیے ریکارڈ مانگا گیا تو کمپنیوں نے تعاون سے گریز کیا۔ آخر یہ کون سے بااثر لوگ ہیں جو قانون اور انصاف سے بالا تر ہیں؟

    اب ایک اور تلخ حقیقت کی جانب توجہ درکار ہے کہ ہر سال جب بارشیں اور سیلاب آتے ہیں تو غریبوں کے گھر، مویشی، فصلیں اور زندگی کی ساری جمع پونجی بہا لے جاتے ہیں۔ کبھی کوہِ سلیمان کے پہاڑوں سے آنے والا سیلاب ہوتا ہے تو کبھی دریائے سندھ کا پانی اپنے کنارے توڑ دیتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سنا کہ کسی حکمران کے محل میں پانی داخل ہوا ہو؟ ان کے خاندان کا کوئی فرد سیلاب میں بےگھر ہوا ہو؟ یا ان کے بچے کسی ریلیف کیمپ میں فاقے سے بیٹھے ہوں؟

    قدرتی آفات ہوں یا دہشت گردی، طوفان ہوں یا زلزلے، ہر آفت کا شکار ہمیشہ عام آدمی ہی کیوں ہوتا ہے؟ آخر یہ کیسی ریاست ہے جہاں حکمران تو ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں اور عوام ہر مصیبت کا ہدف بنتے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ حکمرانوں نے اپنے محلوں کے گرد حفاظتی بند باندھ رکھے ہیں؟ کیا ان کی طاقتور گاڑیاں، محافظ، بیرونِ ملک اکاؤنٹس اور ایلیٹ کلاس رابطے انہیں ان آفات سے بچا لیتے ہیں جو عوام کے لیے قیامت بن کر آتی ہیں؟

    تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر اقتدار میں بیٹھے لوگ ان اسکینڈلز، اوور بلنگ، مہنگائی، قدرتی آفات اور دہشت گردی سے متاثر نہیں ہوتے تو کیا وہ عوام کے درد کو محسوس بھی کر سکتے ہیں؟ اور اگر محسوس نہیں کرتے تو پھر ان سے بہتری کی امید رکھنا محض فریب نہیں تو اور کیا ہے؟

    اب وقت آ گیا ہے کہ عوام حکمرانوں سے سوال کرے کہ ان اسکینڈلز میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟. عوام کو ریلیف دینا کس کی ذمہ داری ہے؟. کیا ان بااثر مجرموں کے کھرے ایوانِ اقتدار میں جا کر گم ہو جاتے ہیں؟. اگر حکمران واقعی ان اسکینڈلز میں ملوث نہیں تو پھر کارروائی کیوں نہیں ہو پاتی؟. اور سب سے اہم سوال کہ عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟

    دہشت گردی، پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی، بجلی کے بلوں کی "سلیب گردی” اور ہر طرف معاشی استحصال کا بازار گرم ہے۔ عوام آخر کب تک خاموش رہے گی؟ کیا یہ قوم قربانی کے بکرے بننے کے لیے بنی ہے؟

    اب عوام کے لیے فیصلہ کن وقت آن پہنچا ہے یا تو وہ خاموش رہ کر مزید تباہی کے لیے تیار ہو جائیں یا پھر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ کیونکہ اب سوال یہ نہیں کہ کب ریلیف ملے گا بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست واقعی عوام کی ہے یا صرف چند خاندانوں کی جاگیر؟

    کیونکہ اگر ریاست صرف امیروں کو بچانے کا نام ہے، تو غریبوں کے لیے اس ریاست کا کیا مطلب باقی رہ جاتا ہے؟

  • ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جھوٹ،فریب،افواہ سیاست ٹھہری،معاشرہ کیسے سدھرے گا؟
    ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی حکمرانی ،انصاف سیاست کے معیارات،ہم کہاں کھڑے ہیں؟
    بڑھتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،منبر ومحراب بھی خاموش،محاسبہ کون کریگا؟
    وڈیروں کی ذاتی جیلیں،سوشل میڈیا ایٹم بم بن چکا،انصاف نہ قانون،عام عوام کہاں جائیں
    تجزیہ ، شہزاد قریشی
    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے ،افواہ شر پسندوں کا بڑا ہتھیار، افواہ جھوٹ کی وہ منزل ہے جہاں سچ کی ایک نہیں چلتی اور بے بسی سچ کا مقدر بن جاتی ہے، افواہ جو تباہی پھیلاتی ہے، وہ ایٹم بم سے بھی ممکن نہیں، دنیا بھر کے اہل سیاست افواہ سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ملکی سیاست میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، آج کل یہ فریضہ سوشل میڈیا سرانجام دے رہا ہے ،عوام کو گمراہ ، ملک میں انتشار پیدا کرنے اپنے ہی ملک کی عسکری قیادت جملہ اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے کون سا قومی فریضہ ،کون سی قومی خدمت ہو رہی ہے؟ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن جیسا کردار ادا کرے، اپنی کہو اور دوسروں کی سنو بہتان تراشی سے کام نہ لیا جائے ،صحیح اور صاف راستہ ایک ہی ہے جو حکومت کر رہا ہے وہ انصاف سے حکومت کرے ،حزب اختلاف پرامن حزب اختلاف کے فرائض سرانجام دے باقی سب غلط ہے اور غلطیوں پر فخریہ اعادہ احمق لوگ کرتے ہیں، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے عمر بیت گئی ،معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف دھرنا دیکھا نہ لانگ مارچ نہ منبر و محراب نے اپنی ذمہ داری سمجھی، بحیثیت مسلمان ہماری ایمانداری نیکی تقوی دیانت داری پاکیزگی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے مدرسوں میں معصوم بچوں کو مار دیا جاتا ہے، جاگیرداروں اور وڈیروں نے اپنی عدالتیں اپنی جیلیں بنا رکھی ہیں کیا یہ قانون کی حکمرانی ہے، سوشل میڈیا اس گند کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتا؟ پی ٹی آئی کے اندرون اور بیرون ملک سوشل میڈیا کا نشانہ پاک فوج جملہ ادارے، نواز شریف اور مریم نواز ہی کیوں ہیں؟ کیا وہ ان معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر ہیں؟ حکمران سیاسی جماعتیں علمائےکرام، گدی نشین، پیر خانے اور عوام اپنا محاسبہ کریں تو ملک افراتفری نفسا نفسی سے باہر نکل سکتا ہے، ہوس زر نے انسانوں کو انسانیت سے دور کر دیا ہے ، سول بیوروکریسی ، انتظامیہ، پولیس کے اعلیٰ افسران سمیت ملک کے تمام ادارے اپنا اپنا محاسبہ کریں، تب ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا، امریکہ اور مغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل میں ہے، قانون کی حکمرانی، انصاف، ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے، ملکی سیاست میں بھڑکوں دھمکیوں اور ہلڑ بازی کا شدت اختیار کرتا رجحان بے سبب نہیں اس سے معاشرتی نظام تنزلی کا شکار ہوتا ہے ،خدارا !بس کیجیے معاشرے کو سدھارنے پر توجہ دی جائے

  • ہمارا تعلیمی نظام اور معیارِ زندگی

    ہمارا تعلیمی نظام اور معیارِ زندگی

    ہمارا تعلیمی نظام اور معیارِ زندگی
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان کا نظامِ تعلیم آج بھی بنیادی ضروریات اور جدید تقاضوں سے کوسوں دور ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اگر کوئی نوجوان بی ایس ٹیکسٹائل یا سافٹ ویئر انجینئرنگ کر بھی لے تو وہ عملی میدان میں مؤثر کارکردگی نہیں دکھا پاتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا معیار صرف ڈگری کے حصول تک محدود ہو چکا ہے۔ تعلیمی منصوبہ سازوں اور ذمہ داران کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم نئی نسل کو کیسی تعلیم دے رہے ہیں۔

    پاکستان کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے تنقید کی زد میں ہے۔ اس نظام نے نسلوں کو نہ صرف فکری طور پر الجھایا ہے بلکہ عملی زندگی میں بھی ناکامی کا سامنا کروایا ہے۔ ایک طالبعلم اگرچہ میٹرک، انٹر، بی اے، ایم اے، ایم فل یا پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ اسناد حاصل کر لے، حتیٰ کہ سافٹ ویئر یا ٹیکسٹائل انجینئرنگ جیسے فنی شعبوں میں مہارت بھی رکھتا ہو، تب بھی وہ خوداعتمادی، پیشہ ورانہ قابلیت اور فکری پختگی کے بحران کا شکار نظر آتا ہے۔

    یہ نظام اب بھی نوآبادیاتی دور کی باقیات کو ڈھوتا آ رہا ہے۔ آج بھی بیشتر سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں رٹا سسٹم رائج ہے، جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو محدود کرتا ہے۔ نہ تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے، نہ تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کی جاتی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے محض اسناد تقسیم کرنے کے مراکز بن چکے ہیں۔ مضمون فہمی، عملی تربیت اور تحقیق کی افادیت کہیں نظر نہیں آتی کیونکہ تعلیم اب ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے اور تعلیمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    ہمارا نصابِ تعلیم عملی زندگی سے کٹا ہوا ہے۔ جو کچھ طلبہ کو پڑھایا جاتا ہے، وہ زندگی کے حقائق سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب ایک نوجوان ڈگری لے کر عملی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو نہ اس کے پاس مطلوبہ مہارت ہوتی ہے، نہ زبان پر عبور اور نہ ہی کسی شعبے کی جامع فہم۔ وہ صرف ایک ڈگری کا لفافہ تھامے ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان بیروزگاروں کی فوج میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

    جب تعلیم روزگار کی ضمانت نہ ہو، جب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی اور فرسٹریشن کا شکار ہوں، جب تعلیمی ادارے صرف ڈگری ہاؤسز بن جائیں تو معاشرے میں معیارِ زندگی کی بہتری کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ غربت، بیروزگاری، ذہنی امراض، جرائم اور معاشرتی بے چینی جیسے مسائل اسی تعلیمی نظام کی ناکامی کا شاخسانہ ہیں۔

    ایک طرف ایلیٹ کلاس کے لیے مہنگے نجی سکول اور جامعات موجود ہیں جہاں جدید نصاب، تحقیق، تربیت اور سہولیات میسر ہیں جبکہ دوسری طرف عوام کے بچے ایسے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جو بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ یہ طبقاتی تفاوت نہ صرف معاشرتی ناہمواری کو جنم دیتا ہے بلکہ ایک تقسیم شدہ اور غیرمنصفانہ نظام کو بھی مضبوط کرتا جا رہا ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نصاب کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ ہمیں ایسے مضامین کو شامل کرنا ہوگا جن میں ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، کاروباری مہارتیں، ماحولیات اور شہری شعور شامل ہوں۔ معیاری تعلیم کے لیے اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں کی تربیت دینا ضروری ہے، تاکہ وہ طلبہ کو محض تھیوری نہیں بلکہ عملی میدان کے لیے بھی تیار کر سکیں۔

    سکول کی سطح سے انٹرن شپ اور پراجیکٹ بیسڈ لرننگ کو فروغ دیا جائے۔ سرکاری سکولوں میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ انفراسٹرکچر، سہولیات اور تدریسی معیار بہتر ہو سکے اور ہر طبقے کو یکساں تعلیمی مواقع مل سکیں۔ ہمیں تعلیم کو اس سطح پر لانا ہوگا جہاں غریب و امیر کی تفریق ختم ہو جائے۔

    اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی اور ووکیشنل تعلیم کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہر بچہ یونیورسٹی جانے کی بجائے کسی ہنر میں مہارت حاصل کر سکے اور باعزت روزگار کما سکے۔

    پاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہمارا تعلیمی نظام جدید، ہم آہنگ اور عملی تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہو۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول نہیں بلکہ ایک باشعور، باہنر اور باوقار شہری کی تیاری ہونا چاہیے۔ جب تک ہم اپنی تعلیم کو اس نصب العین کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہیں گے، ہمارا معیارِ زندگی پست ہی رہے گا۔ قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے تعلیم کا حصول سب کے لیے یکساں، معیاری اور عملی ہونا ضروری ہے۔