Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مریم نواز مقبولیت کی معراج پر پہنچ گئیں،عوامی پذیرائی مقدر ٹھہری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز مقبولیت کی معراج پر پہنچ گئیں،عوامی پذیرائی مقدر ٹھہری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اعلیٰ سول و پولیس افسر وزیراعلیٰ کے بازو،کاش !وزراء بھی عوام کے خادم بن جائیں
    بجٹ پر پی پی بھی نالاں،اپوزیشن صرف بانی تک محدود،جماعت اسلامی عوام کی آواز
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    وفاقی بجٹ کو لے کر پیپلزپارٹی اور وزیر دفاع کے بیانات کو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہی قرار دیا جا سکتا ہے، اپوزیشن کے وہی پرانے بیانات عمران سے لے کر عمران تک ہی سامنے آئے ،عام آدمی کی نمائندگی جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق، موجودہ امیرجماعت اسلامی اورنائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کے بجٹ کو لے کر کررہے ہیں، جماعت اسلامی جیسی بڑی اور نظریاتی جماعت سے یہی توقع تھی جماعت اسلامی کی قیادت ماضی اور حال میں بھی صاف ستھری ہے ،جماعت اسلامی کی درویشی ایک پرانی روایت ہے جو اب تک چلی آرہی ہے ،جماعت اسلامی کے ماضی اور حال کے عمائدین کی درویشانہ زندگی کوئی راز نہیں، میں خود اس کا گواہ ہوں، ملکی تاریخ میں درجنوں بجٹ پیش کئے گئے ، بجٹ کے سینکڑوں صفحات اور کاغذوں کے ڈھیر پارلیمنٹ میں موجود ارکان اسمبلی بھی نہیں پڑھتے ، عام آدمی بجٹ کے ان ڈھیروں کا غذات کو کیا پڑھے گا،عام آدمی کو صرف یہ پتا ہے کہ وہ اپنے کچن اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کیسے پوری کرے گا؟ پنجاب میں مریم نواز کی پذیرائی کی بنیادی وجہ بنیادی ضروریات کی اذیت ناک کی محرومی میں سلگتے ہوئے عوام کی مظلومیت کے ساتھ ان کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیںیہ بھی ممکن ہے مریم نواز جس زور اندازسے سیاست میں اُبھر رہی ہیں اور سیاست کی انتہا پر جار ہی ہیں۔ مستقبل میں سیاسی گلیاروں میں اہم کردار ادا کریں ۔ پولیس سے لے کر سول انتظامیہ وزیراعلی پنجاب کے ہمسفر ہیں۔ بالخصوص آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کی جانب سے کھلی کچہریاں میرٹ ، گڈ گورننس ، پولیس کے اعلی افسران اور سول انتظامیہ کے اعلی افسران تک عوام کی رسائی نے وزیراعلی پنجاب کی مقبولیت کا سبب بن رہے ہیں۔

    اگر پنجاب میں صوبائی کابینہ کے وزراء بھی اپنے ٹیلی فون عوام کے لئے کھلے رکھیں تو وزیراعلی پنجاب کی گڈ گورننس ایک مثالی ہو سکتی ہے مگر صوبائی وزراء عوام سے دور ہیں ۔ اسی طرح صوبائی سیکرٹری بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔ پنجاب میں وقت پر دفاتروں میں افسران کا نہ ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے؟ وزیراعلی کو اپنے وزراء اور وقت کی پابند ی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، وقت کی پابندی بیدار قوموں کی نشانی ہے، اللہ تعالیٰ نے نظام کائنات کی بنیاد پابندی وقت پر رکھی ہے

  • دال بھی مہنگی ہوگئی

    دال بھی مہنگی ہوگئی

    دال بھی مہنگی ہوگئی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان میں سالانہ بجٹ عام طور پر ترقیاتی اہداف، عوامی ریلیف اور خزانے کے توازن کا آئینہ ہوتا ہے مگر حالیہ بجٹ جسے ’ترقی کا بجٹ‘ قرار دیا گیا ہے، متوسط اور نچلے طبقے کے لیے مشکلات کا نیا در وا کر رہا ہے۔ اس بجٹ میں جہاں دفاعی اخراجات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے وہیں ٹیکسوں کا ہدف ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 12.9 کھرب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد تک اضافے کی پیشگوئی کی جا چکی ہے جبکہ عوام کی قوت خرید پہلے ہی کم ترین سطح پر ہے۔

    حکومتی دستاویزات کے مطابق درآمدی دالوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 1.25 فیصد سے بڑھا کر 1.85 فیصد کر دی گئی ہے۔ دال جو ہر غریب پاکستانی کے دسترخوان کی واحد عزت ہوا کرتی تھی، اب وہ بھی آسودہ حال لوگوں کی چیز بنتی جا رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب دال چنا 250–280 روپے میں دستیاب تھی مگر اب اس کی قیمت 360 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ دیگر اقسام، جیسے مسور، ماش اور مونگ بھی مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پیکٹ دودھ، چینی، گھی، چاول، آٹا سب پر بلاواسطہ سیلز ٹیکس کا نفاذ غریبوں کی زندگی اجیرن بنا رہا ہے۔

    مہنگائی صرف خوراک تک محدود نہیں رہی بجلی، گیس اور متبادل توانائی جیسے شعبے بھی اب عوام کی پہنچ سے باہر ہو رہے ہیں۔ سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر کے حکومت نے قابلِ تجدید توانائی کا خواب بھی مہنگائی کے کچرے دان میں پھینک دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف توانائی کے بحران میں اضافہ کرے گا بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی دھچکا ہے جو بلوں سے بچنے کے لیے سولر نظام کی جانب بڑھ رہے تھے۔

    جہاں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور پنشن میں 7 فیصد کا اعلان کیا گیا ہے، وہیں نجی شعبے، مزدور طبقے، دیہاڑی داروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے نہ کوئی مراعات دی گئیں نہ کسی ریلیف کی کوئی گنجائش رکھی گئی ہے۔ حکومت کے ترقیاتی دعوے اُس وقت کھوکھلے لگتے ہیں جب عام آدمی اپنی تنخواہ سے مہینہ مکمل نہیں کر پاتا اور بچے دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔

    بجٹ میں محصولات بڑھانے کی حکمتِ عملی غیرپیداواری طبقات پر بوجھ ڈال کر کی گئی ہے، بجائے اس کے کہ ٹیکس نیٹ وسیع کیا جائے یا بے نامی جائیدادوں اور آف شور اثاثوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔ دال اور دودھ پر ٹیکس لگا کر عوام سے قربانی مانگنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست نے سہولت کے بجائے آسان شکار کو چنا ہے ، وہ طبقہ جو سڑک پر آ کر احتجاج بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی عدالت سے رجوع کی سکت رکھتا ہے کیونکہ عدالتوں سے عام آدمی کو کبھی ریلیف نہیں مل سکتا کیونکہ عدلیہ بھی مراعات یافتہ طبقہ پر مشتمل ہے ۔

    اس سب کے باوجود حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ یہ بجٹ معیشت کو استحکام دے گا، معاشی اصلاحات کو فروغ دے گا اور قرضوں پر انحصار کم کرے گا۔ مگر جب بنیادی اشیاء ہی عوام کی پہنچ سے دور ہو جائیں، جب بجلی، گیس، دال، دودھ اور چینی پر ٹیکس لگ جائے تو استحکام کے خواب عام آدمی کے لیے عذاب بن جاتے ہیں۔

    یہ بجٹ خزانے کے لیے تو ممکن ہے کہ مثبت ہومگر عوام کے لیے یہ ایک زخم ہے جو ہر دن تازہ ہوتا ہے۔ ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ ٹیکس اصلاحات کا مطلب صرف ریونیو کا حصول نہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ بوجھ کس پر ڈالا جا رہا ہے۔ جب دال بھی مہنگی ہو جائے تو اس کا مطلب صرف خوراک کی قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کی رسوائی ہے، ایک پوری قوم کی بنیادی ضرورتوں کی توہین ہے۔

    ایسے میں سوال صرف یہ نہیں کہ لوگ کیا کھائیں گے بلکہ یہ ہے کہ وہ آخر جیئیں گے کیسے؟ دال وہ آخری چیز تھی جو غریب کے چولہے کو جلائے رکھتی تھی، اب وہ بھی چھن گئی ہے۔ حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ جب چولہا بجھ جائے تو صرف گھر نہیں، ریاستیں بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔ دال کی مہنگائی محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے جنازے کی پہلی گھنٹی ہے۔ اگر ریاست کو اب بھی ہوش نہ آیا تو آنے والا وقت صرف احتجاج کا نہیں، خدانخواستہ بغاوت کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بغاوت دال کے پیالے سے شروع ہوگی اور سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گی۔

  • غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو

    غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو

    غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا دور آیا ہو جب خوشیوں کی نوید بننے والی عید، عام شہری کے لیے یوں بوجھ، خوف اور کرب کی علامت بن گئی ہو۔ عیدالاضحیٰ جو کبھی بھائی چارے، ایثار اور قربانی کا مظہر ہوا کرتی تھی، آج بجلی کے بلوں، ہوشربا مہنگائی اور معاشی جبر کے ہاتھوں یرغمال بن گئی۔ اس بار لاکھوں پاکستانی اس دلی کرب سے گزرے کہ وہ قربانی جیسے دینی فریضے سے بھی محروم رہ گئے اور ان کی محرومی کا سبب صرف غربت نہیں بلکہ وہ پالیسی ساز ہیں جنہوں نے نظام کو عوام دشمن بنا ڈالا ہے۔

    عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ نئے عالمی معیار کے مطابق روزانہ 4.20 ڈالر سے کم آمدنی رکھنے والا فرد غریب تصور کیا جاتا ہے اور اس پیمانے پر پاکستان کی 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ تعداد پہلے 39.8 فیصد تھی اور موجودہ معاشی دباؤ کے تحت یہ تناسب بڑھ کر 9 کروڑ سے تجاوز کر گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 16.5 فیصد پاکستانیوں کی روزانہ آمدن 3 ڈالر سے بھی کم ہے جبکہ 88 فیصد سے زائد عوام 8.50 ڈالر روزانہ سے کم پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ صرف اعداد نہیں بلکہ لاکھوں خالی دسترخوان، ادھوری خوشیاں اور خون کے آنسو روتی کہانیاں ہیں۔

    اسی تناظر میں پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کی رپورٹ مزید افسوسناک تصویر پیش کرتی ہے، جس کے مطابق رواں برس عیدالاضحیٰ پر کھالوں کے حصول میں 30 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور قربانی میں واضح کمی ہے۔ جہاں پہلے ہر گلی میں اجتماعی قربانیوں کے کیمپ لگتے تھے، اب وہ یا تو خالی نظر آئے یا صرف نام کی سرگرمیوں تک محدود رہے۔ یہ صرف ایک مذہبی روایت کا زوال نہیں بلکہ ایک معاشرتی بحران کی عکاسی ہے۔

    بجلی کے ظالمانہ بل، نیپرا کی ناقابل فہم پالیسیاں اور وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں جاری سلیبز سسٹم نے لاکھوں پاکستانیوں کو معاشی طور پر دیوار سے لگا دیا ہے۔ صرف 199 یونٹس استعمال کرنے والے صارف کو 3 ہزار کا بل، اور 200 یونٹس ہوتے ہی 10 ہزار سے زائد کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس ناانصافی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایسے بلز جو نہ صرف آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ جعلی ڈیٹیکشن چارجز اور اوور بلنگ کے ذریعے لوگوں کو لوٹا جاتا ہے، آج لاکھوں پاکستانیوں کی خودکشیوں، بیماریوں اور ذہنی اذیتوں کا بنیادی سبب بن چکے ہیں۔

    فیصل آباد کا حمزہ، بہاولنگر کا ساجد، ٹیکسلا کا طاہر، گوجرانوالہ کی رضیہ بی بی، اور جہانیاں کی ایک ماں،یہ سب زندہ حقیقتیں ہیں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بجلی کے بل صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں بلکہ ظلم کی مہر ثبت کیے ہوئے وہ فرمان ہیں جو زندگی چھین لیتے ہیں۔ ان اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ واپڈا؟ نیپرا؟ وزیر توانائی؟ یا اس پورے نظام پر جو بجائے عوام کو ریلیف دینے کے، ان کے گلے میں قرض، مہنگائی اور مایوسی کا طوق ڈال دیتا ہے؟

    اور جب کوئی مظلوم آواز بلند کرتا ہے تو ریاستی ردِعمل صرف لاٹھی، آنسو گیس اور جھوٹے مقدمات کی صورت میں آتا ہے۔ گوجرہ، دیپالپور، کمالیہ، سرگودھاجیسے شہروں میں بجلی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل، اپنے گھروں کی روشنی اور اپنی زندگی کی بھیک مانگنے کی جسارت کی۔

    ان سب کہانیوں کے بیچ سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ انصاف کے دروازے بھی بند ہو چکے ہیں۔ عدالتوں، تھانوں اور انتظامیہ کے رویے بتاتے ہیں کہ اس ملک کا غریب صرف ٹیکس دینے، بل بھرنے اور سسٹم کو چلانے کے لیے ہے،اسے سننے والا، بچانے والا یا سہارا دینے والا کوئی نہیں۔ انصاف کے نام پر صرف فیسیں، تاریخیں اور ذلت کی راہیں ہیں۔

    اس بار عیدالاضحیٰ غریب اور درمیانے طبقے کے لوگوں کے لیے بہت مشکل حالات میں گزری۔ کئی گھرانوں کے حالات پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ جو لوگ گزشتہ سالوں میں دو سے تین قربانیاں کیا کرتے تھے، وہ اس بار قربانی سے قاصر رہے۔ ایک جاننے والے سے پوچھا کہ آپ نے قربانی کیوں نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’مہنگائی نے گھر کا بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر بجلی کے بل نے کچومر نکال دیا۔ سوچا تھا کہ اس بار اجتماعی قربانی میں شامل ہو جاؤں گا لیکن واپڈا نے 45 ہزار روپے کا بل تھما دیا۔ قربانی کے پیسے بھی بجلی کے بل کی نذر ہو گئے، اس لیے قربانی نہ کر سکا۔‘‘ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، ہزاروں بلکہ لاکھوں پاکستانی اسی طرح قربانی سے محروم رہے۔

    اس عید پر لاکھوں گھروں میں موت کا سناٹا چھایا رہا۔ نہ نئے کپڑوں کی چمک دکھائی دی، نہ گوشت کی خوشبو، نہ بچوں کی ہنسی۔ بس بجلی کے بل، نوٹس اور دھمکیاں ہیں۔ عید، جو کبھی خوشیوں کی علامت تھی، اب غریب کی زندگی، عزت اور خوابوں کی قربانی بن چکی ہے۔

    یہ خاموشی ٹوٹنی چاہیے۔ یہ کرب قلم سے نکل کر قانون بننا چاہیے۔ اگر بجلی کا بل کسی کی قربانی، کسی کی تعلیم، کسی کی دوا یا کسی کی زندگی چھین لے، تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بحران ہے۔ جب 44.7 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہوں اور ریاست انہیں نہ تحفظ دے، نہ ریلیف تو وہ ریاست کس کام کی؟ وہ پالیسی ساز جو صرف قرضے، مہنگائی اور نئے ٹیکسوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، کیا ان کے دل میں کبھی ایک عید نہ منا سکنے والے پاکستانی کا درد جاگا ہے؟

    غریب کی عید کون کھا گیا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ جب عید بھی ہمیں خوشی نہیں دے سکتی، جب قربانی بھی بجلی کے بل کھا جائیں، جب کھالیں بھی جمع نہ ہو سکیں، جب گوشت سے زیادہ آنکھوں میں آنسو ہوں، تو پھر عید کیا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ غریب کی عید کون کھا گیا؟ وہ نظام، وہ وزیر، یا وہ پوری ریاست جو خاموش تماشائی بن چکی ہے؟ یہ خاموشی کب ٹوٹے گی؟

  • سندھ میں ریاستی رٹ ختم؟ عدالتیں بول پڑیں، سیاست دان مجرموں کے پشت پناہ

    سندھ میں ریاستی رٹ ختم؟ عدالتیں بول پڑیں، سیاست دان مجرموں کے پشت پناہ

    سندھ میں ریاستی رٹ ختم؟ عدالتیں بول پڑیں، سیاست دان مجرموں کے پشت پناہ
    تحریر: منصور بلوچ،تنگوانی
    سندھ، خصوصاً سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے اضلاع شکارپور، گھوٹکی، کشمور، کندھ کوٹ، جیکب آباد، خیرپور، قمبر شہدادکوٹ اور لاڑکانہ اس وقت بدترین بدامنی، اغوا برائے تاوان، اور جرائم کی لپیٹ میں ہیں۔ خیبرپختونخواکے کچھ علاقے جو ماضی میں شدت پسندی کا شکار رہے، آج امن و امان کے لحاظ سے سندھ سے کہیں بہتر نظر آتے ہیں۔ پولیس کے اختیار، وقار اور کردار پر سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔ سیاسی مداخلت اور اقربا پروری نے پولیس کو بےاختیار اور بےوقعت کر دیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس صلاح الدین پنہور کی فروری،مارچ 2023ء کی عدالتی ججمنٹس میں امن و امان کی خرابی کے اصل اسباب اور سیاسی سرپرستی میں سرگرم مجرموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان فیصلوں میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ کس طرح مجرموں کو سیاسی تحفظ دیا جا رہا ہے اور کیسے ریاستی ادارے ان کے خلاف مؤثر کارروائی سے قاصر ہیں۔

    ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں، جس کی صدارت صدر آصف علی زرداری نے کی، سیکیورٹی اداروں نے واضح طور پر بتایا کہ بدامنی کے مرکزی کردار خود حکمران جماعت سے وابستہ ہیں۔ اس اعتراف کے باوجود نہ رینجرز آپریشن ہوا، نہ پولیس کو بااختیار بنایا گیا اور نہ ہی جدید اسلحہ یا وسائل فراہم کیے گئے۔

    آئی جی سندھ کی جانب سے پیش کردہ "پلان اے” اور "پلان بی” پر بھی کوئی عملی پیشرفت نہیں ہوئی حالانکہ اربوں روپے کا بجٹ امن و امان کے لیے مختص کیا گیا۔ عوامی حلقوں کی جانب سے ان فنڈز کے آڈٹ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

    ان حالات میں جمعیت علماء اسلام واحد جماعت ہے جس نے مسلسل عوامی سطح پر آواز بلند کی۔ مولانا راشد محمود سومرو نے متعدد بار احتجاج، جلسے اور امن مارچ کے ذریعے حکومت کو متوجہ کیا۔ سکھر میں ایک تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں انہوں نے جرأت سے مطالبہ کیا کہ "پولیس کو بااختیار بنایا جائے ورنہ عوام خود سڑکوں پر نکلیں گے۔”

    سندھ میں جب تک اصل کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر پولیس کو مکمل اختیارات نہیں دیے جاتے، امن و امان ایک خواب ہی رہے گا۔ مولانا راشد محمود سومرو جیسے بےلاگ اور بہادر رہنما ہی سندھ جیسے محروم خطے کی حقیقی ضرورت ہیں۔

  • شکریہ وزیراعلیٰ مریم نواز، شکریہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم،تحریر:نورفاطمہ

    شکریہ وزیراعلیٰ مریم نواز، شکریہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم،تحریر:نورفاطمہ

    عید الاضحیٰ کا تہوار جہاں قربانی، ایثار اور محبت کا پیغام لے کر آتا ہے، وہیں یہ صفائی و ستھرائی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بھی بن جاتا ہے۔ لاکھوں جانوروں کی قربانی کے بعد آلائشوں کو بروقت اور مؤثر انداز میں ٹھکانے لگانا ایک ایسی ذمہ داری ہے جس سے عموماً کئی شہری ادارے نمٹنے میں ناکام رہتے ہیں۔ مگر سال 2025 میں، پنجاب حکومت اور خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی ہدایات پر قائم کی گئی "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی انتھک محنت اور عوامی خدمت کے جذبے سے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔

    لاہور جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں عید الاضحیٰ کے موقع پر آلائشوں کا ٹھکانے لگانا ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ لیکن اس بار "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی جانفشانی سے نہ صرف بروقت آلائشیں اٹھائیں بلکہ گلی گلی، محلہ محلہ جا کر جراثیم کش اسپرے بھی کیا، جس سے نہ صرف بدبو سے نجات ملی بلکہ بیماریوں سے بھی بچاؤ ممکن ہوا۔یہی وجہ ہے کہ اس بار لاہور کی گلیاں، بازار، چوراہے اور پارکس عید کے ایام میں بھی صاف ستھرے، خوشبودار اور قابل دید رہے۔ لاہور کی عوام نے اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی عید کی خوشیاں ہمارے لیے قربان کر دیں۔

    یہ صرف لاہور تک محدود نہیں تھا۔ پنجاب کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں صفائی کے غیرمعمولی انتظامات دیکھنے کو ملے۔ ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، بہاولپور، سیالکوٹ، سرگودھا سمیت ہر علاقے میں "صاف ستھرا پنجاب” کی ٹیمیں دن رات متحرک رہیں۔ ہر کال پر فوری رسپانس، ہر گلی میں حاضری، اور ہر شکایت پر فوری ایکشن نے اس پروگرام کو عوام میں بے حد مقبول کر دیا۔

    صفائی صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری کی بھی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔ "صاف ستھرا پنجاب” کی کامیابی اسی وقت دیرپا اور مؤثر ہو سکتی ہے جب عوام بھی اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ گندگی سڑک پر پھینکنے، نالیاں بند کرنے، اور کچرا عوامی مقامات پر ڈالنے کی عادت ترک کرنا ہوگی۔عوامی شعور کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا، تعلیمی ادارے، اور مقامی تنظیمیں صفائی کے موضوع پر مسلسل آگاہی مہمات چلائیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ کچرے کو ری سائیکلنگ اور واٹر ٹریٹمنٹ کے جدید طریقوں سے ٹھکانے لگایا جائے۔کچرا جلانے یا زمین میں دبانے کی بجائے ماحول دوست طریقے اپنائے جائیں۔شہری علاقوں کے قریب ڈمپنگ کا سلسلہ بند کیا جائے۔

    "صاف ستھرا پنجاب” پروگرام اب صرف ایک صفائی مہم نہیں رہا بلکہ یہ ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکا ہے جس پر دیگر صوبوں کو بھی عمل کرنا چاہیے۔ اس کی کامیابی کا سہرا وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت، ٹیم کے اخلاص، اور عوام کے تعاون کو جاتا ہے۔ہم بحیثیتِ شہری دل کی گہرائیوں سے "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم، حکومتِ پنجاب اور وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں ایک صاف، ستھرا اور صحت مند عید کا تحفہ دیا۔

  • سرائیکی تصوف: حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ

    سرائیکی تصوف: حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ

    سرائیکی تصوف: حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی بزرگ اور سادات بخاریہ کے ممتاز روحانی پیشوا تھے، جن کا تعلق سرائیکی وسیب کے روحانی مرکز اوچ شریف (تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان) سے تھا۔ ان کی زندگی دین اسلام کی اشاعت، فلسفہ تصوف، اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف رہی۔ ان کا لقب "جہانیاں جہانگشت” ان کی عالمگیر سیاحت اور دین کی تبلیغ کے لیے وسیع سفر کی عکاسی کرتا ہے۔

    آپ کی ولادت 14 شعبان 707ھ (9 فروری 1308ء) اوچ شریف میں حضرت سید سلطان احمد کبیر بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے گھر ہوئی، اور آپ کا سلسلہ نسب 17 واسطوں سے حضرت امام حسین علیہ السلام تک جاتا ہے۔ آپ کے دادا حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ تھے، جن کے نام پر آپ کا نام رکھا گیا۔ ابتدائی تعلیم اوچ شریف میں قاضی بہاؤالدین سے حاصل کی، پھر ملتان شریف میں شیخ موسیٰ اور مولانا مجد الدین سے فیض اٹھایا۔ مزید تعلیم کے لیے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، جہاں قرآنی علوم، حدیث، تفسیر، فقہ، اور تصوف کی تکمیل کی۔

    مکہ میں حضرت شیخ عبداللہ یافعی اور شیخ عبداللہ مطری سے صحاح ستہ اور عوارف المعارف کا مطالعہ کیا۔ آپ سلسلہ سہروردیہ، قادریہ، چشتیہ، اویسیہ، اور نقشبدیہ سے منسلک تھے اور اپنے والد، چچا، اور 14 عظیم روحانی ہستیوں سے خرقہ خلافت حاصل کیا، جن میں حضرت خضر علیہ السلام کا خصوصی خرقہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اور حضرت شیخ رکن الدین عالم ملتانی سے بھی اجازت حاصل کی۔

    دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آپ نے مکہ، مدینہ، بیت المقدس، یمن، ایران، عراق، افغانستان، اور برصغیر سمیت دنیا بھر کا سفر کیا اور ہزاروں غیر مسلموں کو کلمہ طیبہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ سرائیکی وسیب میں رجپوت قبیلہ منج کی آپسی لڑائی ختم کروائی اور گجرات و کاٹھیاواڑ کے نوابوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ آپ نے متعدد دینی مدارس، مساجد، اور خانقاہیں تعمیر کروائیں۔ آپ کی کرامات میں ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ ایک ظالم حاکم کو دعا سے دیوانگی میں مبتلا کیا اور معافی مانگنے پر اسے شفا دی۔

    آپ کے ملفوظات میں چند اہم فرمودات شامل ہیں: اللہ کا ولی صرف رب سے ڈرتا ہے؛ جاہل صوفیوں سے دور رہو، وہ دین کے چور ہیں؛ علم لدنی کے لیے تقویٰ شرط ہے؛ اور ہر سانس کے ساتھ اللہ کو یاد کرو۔ یہ ملفوظات "خزانہ جلالیہ”، "سراج الہدایہ”، اور "جامع العلوم” کے نام سے مشہور ہیں۔

    آپ کا وصال 10 ذوالحجہ 785ھ (2 فروری 1384ء) اوچ شریف میں ہوا، اور آپ کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے، جہاں ہزاروں زائرین فیض حاصل کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ اوچ شریف میں آپ کے نام سے عالمی صوفی انسٹی ٹیوٹ، لائبریری، میوزیم، اور پارک قائم کیا جائے تاکہ آپ کا فلسفہ جلال ہر خاص و عام تک پہنچے۔

  • قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    عید الاضحی، جسے "بڑی عید” بھی کہا جاتا ہے، اسلامی تقویم میں ایک اہم تہوار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف قربانی کی علامت ہے بلکہ ایمان، ایثار، اور اللہ کی رضا کے لیے خود کو وقف کرنے کا مظہر بھی ہے۔

    اسلامی تاریخ کے ایک اہم واقعے میں، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دینے کے لیے تیاری کی۔ یہ واقعہ اللہ کی رضا کے لیے مکمل اطاعت کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کرتا ہے۔ اللہ نے ان کی نیت کو قبول کیا اور قربانی کے بدلے ایک مینڈھا بھیج دیا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی سب سے عزیز چیز قربان کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔

    آج کے دور میں، جب دنیا مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، عید الاضحی کا پیغام مزید اہم ہو جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات، سماجی عدم مساوات، اور انسانی ہمدردی کی کمی جیسے مسائل کے بیچ یہ تہوار ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ غزہ کے موجودہ حالات، جہاں معصوم لوگ ظلم و ستم کا شکار ہیں، ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ یہ تہوار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانی کے جذبے کو محض رسم تک محدود نہ رکھیں بلکہ مظلوموں کی مدد اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔

    عید الاضحی کے موقع پر مسلمان قربانی کرتے ہیں، جو صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے۔ اس عمل کے ذریعے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی اطاعت کریں اور اپنے مال و دولت کو معاشرے کے محروم طبقات کے ساتھ بانٹیں۔ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے، اور تیسرا غریبوں اور محتاجوں کے لیے۔ یہ عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق مساوات، اخوت، اور دوسروں کے حقوق کی یاد دہانی ہے۔

    معاشرتی طور پر، یہ تہوار ہمیں اتحاد اور محبت کا درس دیتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور محدود وسائل کے باوجود ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شامل کریں۔ غزہ کے معصوم بچوں اور ان کے خاندانوں کی مشکلات ہمیں اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنی دعاؤں، مالی تعاون، اور اخلاقی حمایت کے ذریعے ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔

    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عید الاضحی کا حقیقی مقصد قربانی کے ظاہری عمل سے زیادہ دل کی حالت اور نیت کی پاکیزگی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، لیکن اس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” (سورۂ حج: 37)۔ لہٰذا، ہمیں اپنی نیت کو خالص رکھنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہماری قربانی صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو۔

    آج کے حالات میں، عید الاضحی ہمیں یہ عزم کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اندر قربانی، ایثار، اور خدمت خلق کی صفات پیدا کریں گے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں عملی تبدیلی لاتے ہوئے دوسروں کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ غزہ کے مظلوم عوام کی حالت پر غور کرتے ہوئے، ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم ان کے لیے دعا کے ساتھ عملی اقدامات بھی کریں گے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی معاملات کے ساتھ ساتھ آخرت کی تیاری بھی ضروری ہے۔ اگر ہم عید الاضحی کے حقیقی پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگیوں میں شامل کریں، تو نہ صرف ہماری زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ایک مثالی معاشرہ بن سکے گا۔

    عید الاضحی کے اس بابرکت موقع پر، ہم سب کو چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں قربانی کے اسباق کو نافذ کریں اور اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کریں۔ دعا ہے کہ یہ عید ہمارے لیے رحمتوں اور برکتوں کا باعث بنے اور غزہ کے مظلوموں کے لیے امید اور سکون کا پیغام لے کر آئے۔ عید مبارک!

  • ستھرا پنجاب کی کامیابی ویلڈن وزیراعلی پنجاب لیکن..تحریر:ملک سلمان

    ستھرا پنجاب کی کامیابی ویلڈن وزیراعلی پنجاب لیکن..تحریر:ملک سلمان

    پنجاب میں عید کے تینوں دن ناصرف الائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگایا گیا بلکہ پنجاب کی گلیاں بازار اور وہ جگہیں بھی صاف سھتری اور اجلی نظر آئیں جہاں اس سے قبل میونسپل کارپوریشن والے کبھی پہنچے ہی نہیں تھے، عید کے تینوں دن”ستھرا پنجاب“ اور ”شکریہ مریم نواز شریف“ ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ صفائی کے بہترین انتظامات پر پنجاب کا ہرشہری تعریف کیے بن نہ رہ سکا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس دفعہ جب عید پر پنجاب کی گلی کوچوں کی مکمل صفائی کا اعلان کیا اور انتظامی افسران نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پنجاب کا تاریخی گرینڈ صفائی آپریشن شروع ہونے لگا ہے تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ مشن اتنی جلدی اور واقعی کامیاب ہوجائے گا لیکن حکومت پنجاب نے ناممکن کو ممکن کردکھایا۔ ستھرا پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا فلیگ شپ پروگرام ہے جس پر ماضی میں بہت تنقید ہوتی رہی کہ اتنے زیادہ وسائل کے باوجود صفائی والا عملہ کام نہیں کر رہا لیکن اس ایک ہفتے میں ایسا انقلاب کیسے آگیا کہ کام چوری کی وجہ سے گالی بنے ویسٹ مینجمنٹ والے ہر طرف ایکٹو اور کام کرتے نظر آئے جبکہ پنجاب کی عوام تعریف کرنے پر مجبور ہوگئی۔ فرق صرف فیصلہ سازی، فوکس، چیک اینڈ بیلنس اور عوامی فیڈ بیک کیلئے وزیراعلیٰ شکایات سیل فعال کرنے کا تھا۔ وزیراعلیٰ نے صفائی مہم کی کامیابی کیلئے ستھرا پنجاب، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو بھی اس مہم کو کامیاب بنانے کا واضح ٹاسک دیا تھا۔ صفائی اور الائشوں کو ٹھکانے لگانے میں کوتاہی کی شکایات کیلئے واٹس ایپ نمبر دیا گیا کہ جسے بھی شکایات ہو وزیراعلیٰ شکایات سیل پر واٹس ایپ کردے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے دوٹوک الفاظ اور زیرو ٹالرینس کے تحت صفائی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرنے کا حکم اور عوامی شکایات کیلئے واٹس ایپ نمبر جاری کرنے سے سب کو احتساب کا ڈر تھا اس لیے مشن امپاسیل پاسیبل ہوگیا۔

    تاریخی اور کامیاب ترین صفائی مہم اور حقیقی ستھرا پنجاب کیلئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ناصرف مبارکباد بلکہ دل سے شکریہ بھی لیکن گزارش ہے کہ جس طرح آپ نے ستھرا پنجاب کو کامیاب کروایا اسے صرف پانچ دن کی مہم تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ باقاعدگی سے فالواپ لیتی رہیں اور اسی طرح عوامی شکایات اور فیڈبیک کیلئے وزیراعلیٰ سیل فعال رہنا چاہئے تاکہ محکمہ صفائی اور انتظامی افسران کو احتساب کا ڈر موجود رہے۔
    میڈم وزیراعلیٰ تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھی پنجاب کی عوام نے آپ کو بہت زیادہ شاباش اور دعائیں دی تھیں لیکن ستمبر 2024سے شروع ہونے والا آپریشن ابھی تک نامکمل ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کے اعلان کو انتظامی افسران نے سابقہ حکومت کی طرح محض اعلان سمجھا اور فارگرانٹڈ لیتے ہوئے رسمی کاروائی کا جعلی فوٹو شوٹ کیا۔

    رواں سال جنوری میں مریم نواز شریف نے تجاوزات مافیا کے خلاف زیروٹالرینس کا حکم دیا تو یہ آپریشن بڑی کامیابی سے شروع ہوا، ہر کوئی تعریف کرنے پر مجبور ہوا کہ یہ پہلی وزیراعلیٰ ہیں جو قبضہ مافیہ کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔ اشرافیہ کی سرپرستی میں بدمعاشیہ کے زیراثر چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمین کی واپسی اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے اقدامات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نوجوانوں کی مقبول ترین لیڈر بن کر ابھریں۔ انتظامی افسران کے تاخیری حربوں کی وجہ سے کئی مہینوں سے جاری آپریشن کے باوجود بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ہوسکا وجہ وہی کہ انتظامی افسران تجاوزات لگوا کر ملنی والی ریگولر کمائی پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ رسمی آپریشن کے بعد تجاوزات وہیں واپس آجاتی ہیں۔ میڈم وزیراعلیٰ ستھرا پنجاب ایک ہفتے میں اس لیے کامیات ہوا کہ عوامی فیڈ بیک کیلئے واٹس ایپ نمبر دیا گیا تھا جس سے انتظامی افسران کو احتساب کا ڈر تھا۔ یہاں چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمینوں کی واگزاری کا مشن ہے اس مشن کی کامیابی کیلئے وزیراعلیٰ انکروچمنٹ مانیٹرنگ سیل قائم کرنا چاہئے پھر اثر دیکھیے گا کہ تجاوزات دنوں میں ختم ہوں گی کیونکہ عوام بتائے گی کہ کس کس جگہ پر کس کا قبضہ ہے اور کون سے سیاسی اور انتظامی افراد یہاں سے بھتہ لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک سال سے مسلسل کوششوں کے باوجود پنجاب کی ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ، بلانمبر پلیٹ رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کاروائی نہیں کرتی کہ یہ بنا نمبر پلیٹ پبلک ٹرانسپورٹرز اور پارکنگ مافیا پنجاب کی ٹریفک پولیس، پنجاب ہائی ویز پولیس اور چیف ٹریفک آفیسرز کو مجموعی طور پر سو ارب سے زائد کی رقم ماہانہ دیتے ہیں۔
    پاکستان میں سب سے زیادہ جعلی اور کیمیکل ملادودھ پنجاب میں فروخت ہوتا ہے، گدھوں اور مردہ گوشت کی کہانیاں اس قدر عام ہیں کہ دوسرے صوبوں والے ہم پر میمز بناتے ہیں لاہور اور پنجاب والوں کو بکرے کا گوشت صرف عید پر ہی نصیب ہوتا ہے۔ غیر معیاری فوڈ آئٹمز کی وجہ سے ہسپتال بھرے پڑے ہیں لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی والے سارا دن ریسٹورنٹس سے خصوصی ڈسکاؤنٹ کیلئے مارے مارے پھر ہوتے ہیں اور بعد میں انکی چاکری کرتے ہیں۔ فوڈ اتھارٹی میلوں ٹھیلوں کیلئے سپانسرشپ لیکر انھی فوڈ پراڈکٹس مالکان کے بینیفشری ہوکر ان کے خلاف کاروائی کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ میڈم وزیراعلیٰ، صحت مند پنجاب، ٹریفک مینجمنٹ اور تجاوزات فری پنجاب بھی آپ کے فلیگ شپ پروگرامات ہیں ان کیلئے بھی وزیراعلیٰ مانیٹرنگ سیل قائم کریں جہاں عوام واٹس ایپ کے زریعے فوری فیڈ بیک اور شکایات درج کروا سکیں۔ شکایات سیل اور خصوصی مانیٹرنگ سیل کی کامیابی کیلئے اس سیل کی سربراہی کسی ریٹائرڈ آرمی آفیسر کو دی جائے تاکہ زیروٹالرینس کے ساتھ جدید، صاف ستھرے، صحت مند، ماحول دوست اور تجاوزات فری پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
    maliksalman2008@gmail.com

  • شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی

    شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی

    شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    یہ1992 کی بات ہے جب راقم الحروف میٹرک کا طالب علم تھاتو اس وقت ذرائع ابلاغ نہایت محدود تھے۔ ٹیلی ویژن چند گھرانوں تک محدود تھا، لیکن ریڈیو ہر گھر کی چوپال کا لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔ رات آٹھ بجے بی بی سی اردو پر خبریں اور مشہور زمانہ پروگرام سیربین نشر ہواکرتاتھا جس میں رضاعلی عابدی کا پروگرام شیر دریا ایک منفرد اور دلکش اضافہ تھا۔ اس پروگرام نے نہ صرف دریائے سندھ کے کناروں کی کہانیاں سنائیں بلکہ ان سے جڑی تہذیبوں، تمدنوں اور ان میں سانس لیتی زندگیوں کو بھی بیمثال انداز میں اجاگر کیاتھا۔

    جب رضا علی عابدی نے بی بی سی اردو سروس کے لیے ایک دستاویزی پروگرام ترتیب دیا تو اس کا مقصد دریائے سندھ کے منبع سے لے کر بحیرہ عرب تک اس کے سفر کو ایک زندہ جاوید داستان میں ڈھالنا تھا۔ یہ عظیم دریا ہمالیہ کی بلند گھاٹیوں اور تنگ گزرگاہوں سے ہوتا ہوا پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں اترتا ہے۔ اس کے کناروں پر آباد لوگوں کی معاشرت، سماجی تغیرات اور تہذیبی رنگوں کو رضا علی عابدی نے اپنی مسحور کن آواز اور بے مثال اسلوب میں نہایت مہارت سے پیش کیا۔

    انہوں نے اس پروگرام کا نام دریائے سندھ کے قدیم تبتی نام سنگھے کھا بب سے مستعار لیتے ہوئے شیر دریا رکھا۔ یہ دریا واقعی شیر کی مانند ہے، جو صدیوں سے ہمالیہ کی برفانی بلندیوں سے جھاگ اُڑاتا، غُراتا اور گرجتا ہوا میدانی علاقوں کی طرف بہتا چلا آتا ہے۔ انڈس ویلی سویلائزیشن ہو یا اپر انڈس ویلی، اس دریا کے کناروں پر پروان چڑھنے والی تہذیبوں کا رنگ جداگانہ ضرور ہے مگر ان کی باہمی ہم آہنگی قابل دید ہے۔

    اس پروگرام میں رضا علی عابدی نے لداخ کے بالائی گاؤں اپشی میں پشمینہ بکریوں کے چرواہے محمد علی خان سے لے کر بحیرہ عرب کے قریب شاہ بندر گاؤں کے گل محمد تک 1500 میل کے سفر کو عام انسانوں کے مکالموں، روزمرہ تجربات اور ذاتی کہانیوں کے ذریعے پیش کیا۔ یہ سفرنامہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا اس ڈیلٹا تک پہنچتا ہے جہاں یہ دریا سمندر سے بغلگیر ہوتا ہے۔ اس سفر کے دوران سندھ کے کناروں پر آباد نئی اور پرانی بستیوں کی سیاحت ہوتی ہے اور قدیم و جدید تمدن کے کئی راز وا ہوتے ہیں۔

    اردو ریڈیائی سفرناموں کا سہرا بلاشبہ رضا علی عابدی کے سر جاتا ہے۔ بی بی سی اردو سروس میں ان کی مسحور کن اور پراثر آواز نے برصغیر پاک و ہند کے کروڑوں سامعین کو اپنا گرویدہ بنایا۔ شہروں سے لے کر دور دراز دیہاتوں اور پہاڑی علاقوں تک ان کی آواز گونجتی تھی اور سامعین ان کے لفظوں سے بندھی تصویروں میں کھو جایا کرتے تھے۔

    رضا علی عابدی نے اپنے اسی پروگرام میں پاکستان کے سرائیکی خطہ کے اہم شہر ڈیرہ غازی خان کی ایک منفرد روایت ہماچا کو متعارف کرایا، جو ایک ایسی بڑی چارپائی ہے جس پر ایک وقت میں دو سو افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ اسے ہماچا اسمبلی کا نام دیا گیا۔ پاکستانی چوک کے قریب ایک رہائشی بلاک میں رکھی یہ چارپائی محلے داروں کے لیے ایک سماجی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی، جہاں روزانہ رات کو چھوٹے بڑے، بوڑھے اور نوجوان جمع ہوتے۔ مذہب، سیاست، محلے کے دکھ سکھ، شادی بیاہ، خوشی و غم کی خبریں سب یہیں شیئر ہوتیں۔ یہ ہماچا نہ صرف ایک چارپائی تھی بلکہ ایک مضبوط سماجی بندھن کی علامت تھی جو لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنی ہوئی تھی۔

    اسی پروگرام کے ذریعے رضا علی عابدی نے ڈیرہ غازی خان کی ایک عظیم شخصیت حاجی غلام حیدر عرف پتھر حلوائی کو بھی متعارف کرایا۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ انہیں پتھر کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ قیام پاکستان سے قبل جب تحریک آزادی زوروں پر تھی، وہ اس تحریک کا ایک سرگرم کارکن تھے۔ پاکستانی چوک پر جلسے جلوسوں میں شریک ہوتے۔ ایک دن ایک جلوس کے دوران ہندوؤں نے حملہ کیا، ان پر تشدد کیا، ان کی چادر اتر گئی، قمیض پھٹ گئی لیکن انہوں نے پاکستان کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔ وہ بے ہوش ہوگئے مگر پرچم زمین پر نہ گرنے دیا۔ اس بے مثال جرات اور استقامت پر انہیں پتھر کا لقب ملا۔

    پاکستان بننے کے بعدغلام حیدرپتھر ایک عام حلوائی بن کر رہ گئے، مگر ان کا جذبہ غیر معمولی تھا۔ جنرل محمد ضیا الحق کے دور میں ان کی تحریکِ پاکستان میں خدمات کو باقاعدہ تسلیم کیا گیا۔بقول ان کے ایک دن اچانک پولیس نے ان کی دکان کو گھیر لیا اور انہیں گرفتار کرکے اسلام آباد کے صدر ہاؤس لے جایا گیا، جہاں صدر جنرل ضیا الحق نے ان سے خصوصی ملاقات کی، ان کی خدمات کو سراہا اور بطور اعزاز انہیں حج پر سعودی عرب بھیجا۔ واپسی پر انہوں نے اہلِ محلہ کو بتایا کہ صدر پاکستان نے انہیں یہ اعزاز عطا کیا ہے۔

    شیر دریا جیسے پروگراموں نے نہ صرف دریائے سندھ کے کناروں کی داستانیں عام کیں بلکہ ایسے گمنام ہیروز کو بھی منظرِ عام پر لایا جنہیں تاریخ نے نظر انداز کیا تھا۔ اگر رضا علی عابدی ڈیرہ غازی خان نہ آتے اور بی بی سی پر یہ پروگرام نشر نہ ہوتا تو شاید ہم پتھر حلوائی جیسے مجاہدوں سے ناواقف ہی رہتے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ہر ضلع اور تحصیل میں تحریک پاکستان کے ان گمنام ہیروز کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ آگاہی پروگرام شروع کرے تاکہ ہماری نئی نسل اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے آگاہ ہو سکے اور ان کی جدوجہد سے سبق لے کر اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنا سکے۔

  • ماروی: صحرائے تھر کی بہادر بیٹی

    ماروی: صحرائے تھر کی بہادر بیٹی

    ماروی: صحرائے تھر کی بہادر بیٹی
    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    صحرائے تھر کی سنہری ریتوں میں بسی ایک ایسی کہانی گونجتی ہے جو صدیوں سے سندھ کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ یہ داستان ہے ماروی کی، تھرپارکر کے گاؤں بھالوا کی ایک سادہ، باوقار اور نڈر لڑکی کی، جس نے جبر، طاقت اور لالچ کے سامنے نہ جھکتے ہوئے اپنی مٹی سے محبت، عزتِ نفس اور وفاداری کی لازوال مثال قائم کی۔ ماروی کی یہ لوک داستان صرف ایک روایت نہیں بلکہ سندھ کی تہذیب، مزاحمت اور ثقافتی شناخت کا آئینہ ہے، جو ہر نسل کو اپنی جڑوں سے جڑے رہنے اور حق کے لیے ڈٹ جانے کی ترغیب دیتی ہے۔

    ماروی کی کہانی تھرپارکر کے صحرائی خطے سے جڑی ہے، جو اپنی سادگی، روایات اور مزاحمتی جذبے کے لیے مشہور ہے۔ تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے نواحی گاؤں بھالوا میں پیدا ہونے والی ماروی اس خطے کی ثقافتی روح کی عکاس ہے۔ بھالوا ایک ایسی دیہاتی بستی ہے جہاں زندگی ریت کے ذروں، روایات کے رنگوں اور معاشرتی اقدار کے سائے میں سانس لیتی ہے۔ یہ خطہ جو قدرتی وسائل کی کمی کے باوجود اپنی ثقافتی دولت سے مالا مال ہے، ماروی کی کہانی کا نقطہ آغاز بنا۔ آج بھی بھالوا کا وہ کنواں، جہاں سے یہ داستان شروع ہوئی، ایک زیارت گاہ کی مانند ہے، جہاں لوگ ماروی کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے آتے ہیں۔

    ماروی کے والد، پالنو پنہوار، ایک معزز دیہاتی تھے جنہوں نے روایات کے مطابق اپنی بیٹی کی منگنی ایک دیانت دار اور سادہ نوجوان کھیت سین سے طے کی۔ یہ فیصلہ علاقے کے ایک بااثر شخص پھوگ کو ناگوار گزرا، جو ماروی سے شادی کا خواہشمند تھا۔ اپنی ناکامی سے بھڑک کر پھوگ نے انتقام کی آگ سلگائی اور عمرکوٹ جا پہنچا۔ وہاں اس نے سومرو خاندان کے حکمران عمر سومرو کے سامنے ماروی کے حسن، سادگی اور دلکش شخصیت کی ایسی داستانیں بیان کیں کہ عمر اسے دیکھنے اور حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہو گیا۔ پھوگ کا یہ عمل نہ صرف ذاتی حسد کا نتیجہ تھا بلکہ اس نے ایک ایسی زنجیر کو حرکت دی جس نے ماروی کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

    ایک دن، جب ماروی اپنی سہلیوں کے ساتھ گاؤں کے کنویں پر پانی بھر رہی تھی، عمر سومرو نے موقع پاکر اسے زبردستی اغوا کر لیا اور اپنے شاہی محل میں لے آیا۔ محل کی چمک دمک، ریشمی لباس، قیمتی زیورات اور اقتدار کی پیشکش ماروی کے قدموں میں رکھ دی گئی۔ عمر سومرو نے اسے شہزادی بنانے کا خواب دکھایا، مگر ماروی کے دل میں اپنی مٹی کی خوشبو، اپنی جھونپڑی کی چھاؤں اور اپنے منگیتر کھیت سین کی محبت کی حرارت تھی، جو کسی بھی شاہی جاہ و جلال سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔

    ماروی نے نہایت سادگی لیکن پرعزم لہجے میں عمر کی ہر پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ اس نے کہا، "میں اپنی دھرتی، اپنے لوگوں اور اپنی عزت کو کسی تخت یا دولت سے نہیں بدل سکتی۔” اس کے اس انکار نے نہ صرف عمر سومرو کی طاقت کو للکارا بلکہ وہ جبر، ظلم اور لالچ کے خلاف ایک عظیم مزاحمت کی علامت بن گئی۔ ماروی کی یہ ثابت قدمی اس بات کی گواہ ہے کہ اصل طاقت دولت یا اقتدار میں نہیں بلکہ اپنے اصولوں پر ڈٹ جانے اور اپنی شناخت کی حفاظت میں ہے۔

    ماروی کی یہ بہادری سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے دل تک جا پہنچی۔ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "شاہ جو رسالو” میں "سر ماروی” کے ذریعے اس کردار کو امر کر دیا۔ بھٹائی نے ماروی کی اپنی دھرتی سے محبت، غیرت اور وفاداری کو اپنے اشعار میں سمو دیا:

    ماروی نہ وٹھی محل، نہ مانی سومر سنگ،
    سونھن ساندھی سچ میں، مٹ نہ ویئی منگ!

    یہ اشعار صرف شاعری نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہیں جو سچائی، عزت اور ثقافتی شناخت کی حفاظت کا درس دیتے ہیں۔ بھٹائی نے ماروی کے کردار کو ایک عالمگیر پیغام بنا دیا، جو نہ صرف سندھ کی خواتین بلکہ ہر اس فرد کے لیے مشعلِ راہ ہے جو جبر کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ "سر ماروی” میں بھٹائی نے ماروی کی جدوجہد کو ایک روحانی سفر کے طور پر پیش کیا، جہاں وہ اپنی ذات سے بالاتر ہوکر اپنی قوم اور ثقافت کی آواز بن گئی۔

    روایت کے مطابق ماروی کی ثابت قدمی اور سچائی نے بالآخر عمر سومرو کے دل کو موم کر دیا۔ اس کی بہادری اور وفاداری سے متاثر ہوکر عمر نے اسے عزت کے ساتھ رہا کیا اور اسے اپنے گاؤں واپس جانے کی اجازت دی۔ ماروی اپنے منگیتر کھیت سین اور اپنی دھرتی پر واپس آئی، جہاں اس کا استقبال ایک ہیرو کی طرح کیا گیا۔ اس کی کہانی نے نہ صرف اس کے گاؤں بلکہ پورے سندھ میں ایک عظیم مثال قائم کی کہ محبت اور عزت کی حفاظت ہر شے سے مقدم ہے۔

    ماروی کی کہانی صرف ایک لوک داستان نہیں بلکہ سندھ کی خواتین کی خودمختاری، ثقافتی شناخت اور مزاحمت کی علامت ہے۔ یہ کہانی سندھ کے لوگوں کے لیے ایک نظریہ اور فلسفہ ہے، جو انہیں اپنی مٹی، زبان اور روایات سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ماروی کا کردار ایک ایسی عورت کا ہے جو اپنی مرضی، اپنی عزت اور اپنی شناخت کی حفاظت کے لیے ایک بادشاہ کی طاقت کو چیلنج کرتی ہے۔ اس کی کہانی صنفی برابری، عزت نفس اور سماجی انصاف کے موضوعات کو بھی اجاگر کرتی ہے، جو آج کے دور میں بھی انتہائی متعلقہ ہیں۔

    بھالوا کا وہ کنواں، جہاں ماروی اغوا ہوئی، آج بھی موجود ہے اور ایک تاریخی و ثقافتی مقام کے طور پر سیاحوں، ادیبوں، محققین اور طلبہ کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ کنواں نہ صرف ماروی کی کہانی کا نقطہ آغاز ہے بلکہ سندھ کے لوگوں کی مزاحمتی تاریخ کا ایک نشان بھی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ اس مقام پر جاتے ہیں، ماروی کی کہانی سنتے ہیں اور اس کی وفاداری و بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    آج کے دور میں، جب مادیت پرستی، مفاد پرستی اور جبر ہر سطح پر غالب ہیں، ماروی کی کہانی ایک روشن مینار کی طرح ہے۔ یہ ہمیں چند اہم سبق سکھاتی ہے

    عزت نفس کی حفاظت کیلئے ماروی نے ہر لالچ کو ٹھکرا کر ثابت کیا کہ عزت اور خودداری کسی بھی مادی دولت سے بڑھ کر ہیں۔ اپنی مٹی اور روایات سے محبت وہ سرمایہ ہے جو کسی تخت یا سلطنت سے زیادہ قیمتی ہے۔سچائی اور وفاداری کا راستہ کٹھن ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ ہمیشہ عزت اور احترام کی شکل میں پھل لاتا ہے۔
    ماروی کی محبت نہ صرف اپنی کی طرف سے تھی بلکہ اپنی سرزمین، اپنی ثقافت اور اپنی کے لوگوں سے بھی تھی جو محبت کی ایک عظیم اور جامع شکل ہے۔

    ماروی کی کہانی ہر اس فرد کے لیے ایک سبق ہے جو اپنی شناخت، اپنی عزت اور اپنی اقدار کی حفاظت کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ خاص طور پر آج کی خواتین کے لیے ایک عظیم مثال ہے، جو سماجی، معاشی اور ثقافتی چیلنجوں کا سامنا کرتی ہیں۔

    ماروی، صحرائے تھر کی بیٹی، آج سندھ کی تاریخ، ادب اور عوامی شعور کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ وہ ایک کردار سے بڑھ کر ایک نظریہ، ایک فلسفہ اور ایک ثقافتی اثاثہ بن چکی ہے۔ اس کا نام صحرائے تھر کی ریت میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے، جو ہر نسل کو اپنی جڑوں سے جڑے رہنے اور سچائی کے لیے ڈٹ جانے کی ترغیب دیتا ہے۔

    ماروی کی لوک داستان سندھ کے لوگوں کے دل کی دھڑکن ہے۔ وہ ہر اُس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو حق کے لیے ڈٹتا ہے، جبر کے سامنے سینہ سپر ہوتا ہے، اور اپنی دھرتی، ثقافت اور عزتِ نفس سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ ماروی صدیوں تک زندہ رہے گی ، وہ سندھ کی بہادر بیٹی، سچ کی علامت اور وفا کا استعارہ تھی۔