Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گالی دینا کتنا بڑا سنگین جرم ہے  تحریر: یاسمین راشد

    گالی دینا کتنا بڑا سنگین جرم ہے تحریر: یاسمین راشد

    • اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میرے پیارے پاکستانیو جس طرح ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کی جاتی ہے آج اس پر میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں میرے بھائیو اور بہنو سوشل میڈیا پر مجھے اگست میں ایک سال مکمل ہو جائے گا میں نے سوشل میڈیا سے بہت کچھ سیکھا بہت سے لوگوں سے میری دعا سلام ہوئی اس معاشرے میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں اور برے بھی ہیں ہاتھ کی پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں جیسے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ویسے ہی سب انسان برابر نہیں ہوتے الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور اللہ پاک نے الحمدللہ ایمان جیسی نعمت سے ہم کو نوازا ہم اللہ پاک کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے ابھی میں بات کرتی ہوں ایسے لوگوں کی جس میں میل اور فیمیل بھی شامل ہیں اسلام میں گالیاں دینا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اسلام بالکل اجازت نہیں دیتا کسی کو گالیاں دینے کی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دن رات سوشل میڈیا پر بے ہودہ گالیاں بکتے ہیں ان میں مرد بھی شامل ہے اور عورتیں بھی شامل ہیں ایسی گالیاں دیتے ہیں کے پڑھنے والے کو بھی شرم آتی ہے ہم جن سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہیں ان کی خاطر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور ایسی بیہودہ گالیاں ہوتی ہیں نہ کسی کی ماں کا احترام ہوتا ہے نہ کسی کی بہن کا احترام ہوتا ہے نہ کسی کی بیوی کا احترام ہوتا ہے جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہیں میرے بھائیو میری بہنوں کچھ اللہ کا خوف کرو جن سیاستدانوں کے لئے آپ گالیاں دیتے ہو میں گرنٹی سے کہتی ہوں آج آپ لوگ ان کے پاس چلے جائیں آپ لوگوں کو سلام بھی نہیں کریں گے تو پھر ایک دوسرے کو گالیاں دے کے کیوں اپنے لئے بہت دردناک عذاب تیار کرتے ہو آپ لوگوں کو شاید پتہ نہیں ہوتا جس کو گالیاں دیتے ہو کیا پتا اس کی ماں زندہ نہ ہو کیا پتا اس کی بہن زندہ نہ ہو کیا پتا اس کی بیوی زندہ نہ ہو تو سوچو جو انسان اس دنیا میں نہیں ہے ان کو آپ گالیاں دے رہے ہو تو کتنا بڑا گناہ ہوگا قرآن مجید میں اللہ پاک نے اہل ایمان کو یہاں تک حکم دیا ہے کہ غیر مسلموں کے جھوٹے معبودوں کو اور ان کے بتوں کو بھی گالیاں نہ دو. ارشاد ہوتا ہے : وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ فَيَسُبُّوا اﷲََ عَدْوًام بِغَيْرِ عِلْمٍ.ترجمہ : اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں غستاخی کرنے لگیں گے.‘‘(الأنعام، 6: 108) میرے بھائیو بہنوں سوچو جب اللہ پاک نے قرآن مجید میں نے منع کر دیا گالی دینے سے پھر اپنی جانوں کے ساتھ کیوں ظلم کرتے ہو ایک اور حدیث میں بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم ﷺ نے گالی گلوچ کرنے کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا منافق کی چار نشانیاں ہیں۔جب بولے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،امین بنایا جائے توخیانت کرے اور جب جھگڑا ہوجائے توگالی گلوچ پر اتر آئے یہی چار نشانیاں آج منافق لوگوں میں پائی جاتی ہے جب ان کے ساتھ دلیل سے بات کرو تو وہ گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں گالی دینا کسی مسئلہ کا حل نہیں کسی کی خاطر کسی کو گالی نہ دو آپ لوگ اپنے سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہو ان کو سپورٹ کریں لیکن ایک دوسرے کو گالیاں نہ دیں دلیل کے ساتھ بات کریں اگر دوسرا دلیل کے ساتھ آپ سے بات نہیں کرتا تو سوشل میڈیا نے ہم کو بہت سی آسانیاں فراہم کی اگر آپ کو کوئی ہراسمنٹ کر رہا ہے تو سائبر کرائم کو رپورٹ کریں اگر سائبر کرائم کو رپورٹ بھی نہیں کرتے تو آپ کے پاس بلاک کرنے کا آپشن موجود ہے ایسے لوگوں کو سیدھا بلاک کردیں گالی کا جواب گالی دینا ایک مسلمان کا کام نہیں ہمیں تعلیمات محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے محبت،اخوت،بھائی چارے کا درس دینا چاہیئے اور علمی گفتگو کا جواب علمی اندازمیں دینا چاہیئےاور گالی گلوچ سے بچنا چاہیئے اللہ تبارک وتعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین

    • @IamYasminArshad

  • دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں تحریر: کاوش لطیف

    دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں تحریر: کاوش لطیف

    ایک ناکام شخص نے کامیاب شخص سے پوچھا کہ کامیاب کیسے بنا جاتا ہے کامیاب شخص نے کیا ہی کمال کا جواب دیا اس نے کہا کہ کیا تمہاری زندگی میں پرابلمز ہے ناکام شخص نے کہا کہ بہت ہے تو کامیاب شخص نے کہا ان کو حل کرلو تم کامیاب بن جاؤ گے

    لوگوں کو زیادہ تر پرابلمز ہوتی ہے کہ پیسہ نہیں ہے اگر نہیں ہے تو یہ پرابلم ہے اور اس کا حل ہے کہ کمانا سیکھو ۔لوگوں کو پرابلم ہے کامیاب کیسے ہو اور سلوشن ہے کہ محنت کرکے ثابت قدم رہ کر پرابلم یہ ہے کہ ہم سولوشن سے زیادہ پروبلم پر فوکس بنا لیتے ہیں

    یاد رکھیں انسان کا فوکس جس چیز پر ہوگا اسے وہی ملے گا اگر پروبلم پر فوکس ہے تو پروبلم ہی ملے گی اگر سلیوشن پر فوکس ہے تو سلوشن ہی ملے گا میں پچھلے دنوں کالج اکیڈمی کا کام کر کر کے تھک گیا تھا میں نے فنی مووی دیکھنے کا پلان بنایا جس کا نام دھمال تھا بہت ہی اچھی مووی تھی اس مووی میں ایک سین آیا جس نے مجھے بہت بڑا سبق دیا سین یہ تھا کہ چار دوست جنگل میں پیدل جا رہے تھے کہیں سے شیر کی دھاڑ سنائی دی چاروں سہم گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے یار ڈراؤ مت مجھے پتا ہے تم میں سے ایک ایسی آوازیں نکال رہا ہے

    شیر نے پھر سے زور دار دھاڑ لگائی چاروں کو پتہ چل گیا کہ یہاں کوئی شیڑ ہے تبھی ان میں سے ایک اپنے جوتے کے تسمے باندھنے لگ پڑا ایک دوست بولا اس سے کیا ہوگا تم کیا شیر سے آگے نکل جاؤ گے پہلے دوست نے جواب دیا کہ شیڑ سے تو پتہ نہیں لیکن میں تم تینوں سے آگے ضرور نکل جاؤں گا

    زندگی میں مشکلات اور مصیبتیں بھی اچانک سے ہی شیر کی طرح ٹپک پڑتی ہے اگر ہم دوڑنے کے لیے تیار ہوں اور دوڑ پڑے تو ان لوگوں کو زندگی کے مسائل کا نوالہ بننے کے لیے پیچھے چھوڑ دیں گے جن کے دل میں کبھی دوڑنے تک کا خیال نہیں آتا

    اور کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ زندگی میں دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں ایک وہ جو سوچتے ہیں مگر کرتے کچھ نہیں اور دوسرے وہ جو کرتے ہیں مگر سوچتے کچھ نہیں

    ‎@k__Latif

  • سرداری غلامی تحریر،،محمد ابراہیم

    سرداری غلامی تحریر،،محمد ابراہیم

    اور سرداروں کے راتب خوروں کی نشانیاں۔
    الیکشن میں انھوں نے اپنے اپنے سردار کو فرشتہ ثابت کرنا ہوتا ہے اور انکی صاف دامنی کی قسمیں کھاتے ہیں اپنے آپ سے بھی بڑا حاجی نمازی ثابت کرتے ہیں۔

    الیکشن جیتنے کے بعد جس پارٹی میں سردار شامل ہوگا وہ جماعت انکی ماں باپ بن جاتی ہے اس جماعت کو وہ پاکستان کی سب سے اچھی جماعت ثابت کرینگے چاہے الیکشن سے پہلے اس جماعت کو جتنی بھی گالیاں دیتے تھے وہ سب بھول جاییگے۔

    حکومت کے پہلے تین سال اسکے خوب گن گاتے رہینگے لیکن آخری دو سال حکومت کو گالیاں دیتے ہیں تاکہ آئیندہ الیکشن میں اگر سردار(لوٹا) اس پارٹی کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے تو لوگ کارکردگی کا سوال نہ کریں اگر کریں بھی تو انکو یہی جواب دیا جایئگا کہ دیکھا نہیں ہم کہتے تھے یہ حکومت ٹھیک نہیں ہے تبھی تو سردار نے اس پارٹی کو چھوڑ دیا۔

    سردار کے ہر برے کام کا دفاع کرنا سردار کی ہر برائی کو اچھائی بتانا سرداری نظام کو اسلامی نظام کے بالکل قریب بتانا یہ انکا فن ہے۔

    مجھے یاد نہیں کہ ہمارے منتخب شدہ ان سردار نمائندوں نے کبھی اسمبلی میں اپنے وسیب کیلے آواز بلند کی ان سرداروں نے ہمارے بچوں کو قلم ،دینے کی بجائے کلاشنکوف انکے ہاتھ میں تھمائی کیوںکہ انکو پتہ ہے آگر نوجوانوں کو تعلیم جیسی سہولیات دی گئی سکول کالج انکو بنا کر دیے گئے تو کل کو یہ ہماری غلامی کرنے کے بجائے ہمارے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں،

    یہ جتنی بھی ڈیرہ غازی خان میں گینگز بنی اگر ان پر ریسرچ کی جائے تو انکے تانے بانے ہر بار ان سرداروں سے ہی کیوں جاکر ملتے ہیں ،
    چلو پچھلی گینگز کو چھوڑیں لادی گینگ جسنے ہمارے علاقے وسیب میں ظلم کا بازار سرگرم کیے رکھا اس گینگ کو 2008 میں سردار محسن عطا کی سرپرستی میں بنایا گیا سیمنٹ فیکٹری سے بھتہ لینے کی خاطر

    یہ گینگ ان سرداروں کی سرپرستی میں پروان چڑھا اور آخر میں اس گینگ نے ظلم کی وہ تاریخ رقم کی جسکی مثال نہیں ملتی ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے وزیراعظم عمران خان نے اس گینگ کے خلاف نوٹس لیا بالاآخر کچھ دن پہلے سیکورٹی فورسز کی جانب سے اس گینگ کے کمانڈر سمیت کچھ لوگوں کو مارا گیا اور کچھ نے گرفتاری دی ،

    سوال یہ ہے یہ گینگز آج ختم ہوگئی لیکن اسکے بنانے والے آج بھی موجود ہیں انکے خلاف بھی کارروائی کی جائے نہیں تو کل کو یہ سردار پھر کوئی دوسرا گینگ بنا لیں گے اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے ،
    آخر میں بات پھر وہی آتی ہے کہ اگر ہمیں سرداروں غلامی کی زندگی سے نکلنا ہے تو ان سرداروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا نہیں تو ہمیں ہمارے آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی ،

    ان سرداروں نے ہماری سوچ کی گلی سولنگ اور نالی پکی تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ہم انگریز کی غلامی سے تو نکل گئے لیکن آج بھی ہم انگریز کے اس چھوڑے ہوئے نظام سرداروں کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں

    یہ صرف میرا محمد ابراہیم کا کوئی ذاتی معاملہ نہیں بلکہ وسیب کے ہر نوجوان اور باشعور انسان کو اس سرداری غلامی کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے ،پھر جاکر ہمیں آزادی حاصل ہوگی نہیں تو یہ غلامی کی زنجیریں آپکا مقدر ہونگی ،

    Twitter , @IbrahimDgk1

    .

  • وقت کی قدروقیمت تحریر: محمد اشرف

    وقت کی قدروقیمت تحریر: محمد اشرف

    اے شیخ کیا ڈھونڈے ہےشب قدر کا نِشاں
    ہر شب ہے شب قدر ،اگر تو ہو قدرداں!
    زندگی کا ہر لمحہ وقت ہے ۔ایک لمحہ اس وقت قیمتی ہوتاہے جب اسے قمیتی سمجھا جائے لیکن اگر اسکی قدر نہ کی جائے تو سال مہینے بھی بےکار اور بے معنی ہوجاتےہیں
    لوگ وقت کی قدروقیمت نہیں پہچانتے۔انہیں اندازہ ہی نہیں کہ انسان کے ہاتھ میں اصل دولت وقت ہی ہے۔ جس نے وقت کو ضائع کر دیا اس نے سب کچھ ضائع کر دیا ۔وقت گزرتے ہوئے واقعات کا دریا ہے ۔اسکا بہاؤ تیز اور زبر دست ہے ۔ یہ زد میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے جاتا ہے ۔ یہ ایسا تیز رفتار گھوڑا ہے جسے روکا جاسکتا ہے اور نہ واپس لایا جا سکتا ہے.
    کسی کام کو تعین وقت پر انجام دینا’ پابندی وقت’ کہلاتا ہے ۔وقت کی پابندی انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے ۔دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں ۔جو قومیں وقت کی قدر نہیں کرتی وہ ناکام و نامراد رہتی ہیں ۔
    اگر کائنات کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ھے کہ کیسے کائنات کا نظام بھی وقت کی پابندی میں جکڑا ہوا ہے ۔
    کائنات کے اس منظم نظام میں انسان کے لئے یہ سبق پو شیدہ ہے کہ وقت کی قدر کرے اور خود کو نظام کائنات سے ہم آہنگ کر کے فطرت کے مقاصد کی تکمیل کرے۔
    تاریخ ،وقت کا نا قابل تردید ریکارڈ ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں سر بلند قوموں نے کن اصولوں پر عمل کیا ۔دیگر ا صولوں سے قطع نظر وقت کی پابندی ترقی یا فتہ قوموں کی عظمت کا سب سے بڑا ذریعہ بنی۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی قوموں نے وقت کو اپنی جانوں سے بھی عزیز رکھا۔اُن کے اس طرز عمل کا نتیجہ نکلا کہ وہ دنیا پر حکومت کرنے لگیں ۔
    وقت انسان کا دوست بھی ہے اور دشمن بھی ۔ جو اسکی قدر کرتا هے ۔یہ اُسے فتح و کامرانی عطا کرتا ہے اور جو سرسری لیتا ہے،اُسے ناکامی کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے ۔ جو شخص وقت کا دامن تھام لیتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو خواب غفلت میں پڑا رہتا ہے ،وہ ناکام و نامراد ہو جاتا ہے ۔
    یوں وقت کی پابندی تمام تر افراد پر لازم ہے لیکن
    طلبہ کو بطور خاص اس کی قدر کرنی چاہیے ۔طلباء قوم کا قمیتی سرمایہ ہوتے ہیں ۔قوم کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے ۔ لہذا ہم سب پر ضروری ہے کہ وقت کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کا ایک ایک لمحہ درست طریقے سے بسر کریں

    @M_Ashraf26

  • ‘پاکستان کی ایٹمی طاقت بننے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات’ تحریر سید محمد مدنی

    ‘پاکستان کی ایٹمی طاقت بننے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات’ تحریر سید محمد مدنی

    وہ شخصیت جسے ہم محسن پاکستان کہتے ہیں اس کا نام ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان

    جی ہاں یہ وہ آدمی تھا جس نے ہالینڈ کی امریکی ڈالروں والی نوکری چھوڑی اور پاکستان میں کم پیسوں والی نوکری کی تاکہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا جا سکے جب ڈاکٹر صاحب پاکستان آنے لگے تو انھیں کچھ نقشے اور ایٹمی سینٹری فیوجز کی معلومات تصاویر درکار تھیں اس کو حاصل کر نے کے لئے ہالینڈ سے وہ معلومات اکٹھی کرنا بے حد ضروری تھا اس زمانے میں ہالینڈ جسے نیدرلینڈ بھی کہا جاتا ہے وہاں ایٹمی معلومات موجود تھیں اب باری تھی کہ ان کو حاصل کیسے کیا جائے اس کے لئے ڈاکٹر صاحب نے اپنی اہلیہ محترمہ کے زمے کام لگایا وہ وہیں کی شہریت رکھتی تھیں انھوں نے بغیر کسی انکار کے وہ سب معلومات حاصل کیں اور جب ہالینڈ سے پاکستان جانے کا وقت آیا تو ڈاکٹر صاحب نے اہلیہ سے پوچھا کیا تم میرے ساتھ چلو گی یا یہیں رہو گی ان کی اہلیہ نے کہا نہیں میں آپ کے ساتھ جاؤں گی اب مرحلہ آتا ہے کہ یہ معلومات رکھی کہاں جائیں اس کے لئے ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ نے وہ معلومات بجائے سوٹ کیس یا بیگ میں رکھنے کے خاص جگاہوں پر چھپائیں جہاں کوئی نا محرم چیکنگ نہیں کرسکتا تھا اس زمانے میں اتنی ٹیکنالوجی نہیں آئی تھی کہ اتنی گہرائی میں اسکیننگ ہوسکے اس کے بعد ان کی اہلیہ نے وہ معلومات رکھیں اور دونوں پاکستان روانہ ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب تک جہاز پاکستانی سر زمین پر لینڈ نہیں کر گیا سارے راستے ٹینشن میں رہے کچھ معلومات یہ بھی آئیں تھیں کہ ہالینڈ کی حکومت کو علم ہو چکا تھا کہ کچھ معلومات یہاں سے حاصل کی گئیں ہیں لیکن جب تک دونوں پاکستان بخیریت پہنچ چکے تھے یہ ہے ان دونوں کا احسان ہمارے اوپر

    اب مرحلہ آیا کہ پاکستان میں سینٹری فیوجز اور ایٹمی معاملے سے متعلق چیزیں کس طرح پاکستان امپورٹ کی جائیں کیونکہ یہ معاملہ اتنا آسان نہ تھا اس کے لئے اس وقت کے مشہور تاجر سیٹھ عابد کو ایپروچ کیا گیا جن کا تعلق بڑی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں سے بزنس تھا
    سیٹھ عابد سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود ملے اور یہ معاملہ پھر باقاعدہ ریاستی اور حکومتی ہو چکا تھا ڈاکٹر صاحب نے سیٹھ عابد سے کہا کہ مجھے کچھ مال چاہیے کیا آپ منگوا سکیں گے جس پر سیٹھ صاحب نے کہا کہ آپ حکم کریں پاکستان کے لئے جان بھی حاضر جس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں چیز چاہیے اب یہ آپ کیسے لائیں گے منگوائیں گے مجھے پریشانی ہے اس پر سیٹھ صاحب نے کہا کہ آپ پریشان نا ہوں بس یہ حکم کریں کہ کیا چیز کس وقت اور کہاں چاہیے پہنچ جائے گی اور پھر کچھ مال اسکریپ کے زریعے کراچی امپورٹ ہؤا اور وہاں اس کو جان بوجھ کر اسکریپ میں ہی پڑا رہنے دیا گیا تاکہ اس وقت کی بین الاقوامی طاقتوں خاص کر امریکہ کو علم نا ہو اسی طرح آہستہ آہستہ یہ سب معاملات حل ہوتے چلے گئے ایٹمی سرنگیں تو کافی پہلے ہی کھودنا شروع کی چکی تھیں لیکن امریکہ ہمیشہ جاسوسی کرنے میں لگا رہتا تھا اور اسے شک بھی ہؤا تھا جس پر مختلف دور حکومت میں ایسے کمال کے اور گھما پھرا دینے والے بیانات آئے کہ امریکہ کو بہت دیر سے جا کے علم ہؤا کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار پر کام مکل کرلیا ہے بس اب تو صرف ٹیسٹ کرنے کی دیر ہے ایک دور میں امریکہ کو شک ہؤا لیکن پاکستان نے بڑی ہی خوبصورت لہجے میں یہ کہا کہ جناب ہمارے پاس ایٹمی طاقت کہاں ہے ہم تو غریب سے ملک کے لوگ ہیں لیکن جب ﷲ کومنظور ہوتا ہے تو سب کچھ ہو جاتا ہے اور پاکستان ایٹمی طاقت کی صلاحیت سے ہمکنار ہؤا

    یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ اگر اس پر لکھا جائے تو کتابوں کے اوراق ہاتھ اور قلم سب ختم ہو جائیں مگر اس سے متعلق باتیں ختم نا ہوں
    ﷲ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے آمین پاکستان آج ایٹمی طاقت ہے اور اس نے یہ ہتھیار کم سے کم ڈیٹرینس کے لئے بنا کررکھے ہیں ورنہ یقین کریں آج اگر پاکستان ایٹمی صلاحیت سے محروم ہوتا (ﷲ نا کرے)
    تو صورتحال بلکل مختلف ہوتی جس کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے

    آخری اور اہم نوٹ
    اس کالم میں کچھ ایسی معلومات بھی ہیں جو مجھے اپنے آباؤ اجداد سے ملی ہیں اگر کوئی اعتراض کرنا چاہے تو بلکل کرسکتا ہے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جو میں نے سنا ہو وہ من و عن درست ہو

    اسی کے ساتھ یہ کالم اب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے

    @M1Pak Twitter id

  • مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم المرتبت شخصیت  تحریر : محمد صابر مسعود

    مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم المرتبت شخصیت تحریر : محمد صابر مسعود

    مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے عظیم المرتبت قائد، جنگ آزادی کے سپہ سالار، ، صاحب طرز انشاء پرداز، مقرر بے باک، قلم و قرطاس کے بادشاہ اور ایک عہد آفریں انسان تھے ۸ ذی الحجہ ۱۳۰۵ ھ (17 اگست 1888ع ) کو مکۃ المکرمہ (زادہ اللہ شرفا و عظمۃ ) میں پیدا ہوئے، والد کا نام خیر الدین تھا جو ایک جید عالم اور صوفی باعمل تھے، کلکتہ میں نشو نما پائ اور تعلیم کا مکمل سفر گھر پر ہی طے کیا۔
    مولانا ابوالکلام آزاد مجتہدانہ دماغ کے مالک تھے علوم و فنون پر گہری نظر تھی، اسی کے ساتھ ساتھ مقرر بے باک اور خطابت کے اعلی معیار پر فائز تھے۔
    آپ نے زبان و قلم کے جادو سے ہزاروں، لاکھوں سینوں میں آزادی وطن کی آگ لگادی تھی۔
    آپ کے اخبار ،،الہلال،، نے ملک کے چپہ چپہ میں آزادی کا بگل بجادیا تھا ،1915 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے حکومت بنگال نے جلاوطن کرکے رانچی میں نظر بند کردیا تھا اس کے بعد بھی لیلائے آزادی کے حصول میں بار بار قیدو بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا، تقریباً سولہ سال جیل کی سلاخوں میں رہے۔
    ابتداہی سے جمیعۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر رہے، اجلاس عام لاہور میں 1921ع اور اجلاس عام کراچی 1931ع کے صدر رہے ۔
    آزادی سے پہلے سات سال کانگریس کے صدر رہے ل، آزادی کی مشہور تحریک” کوئٹ انڈیا” 1942 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی قیادت میں چلائ گئ، آزادی کے بعد کانگریس وزارت میں وزیر تعلیم رہے ۔
    آپ کی علمی، ادبی، سیاسی و صفاحتی خدمات پر اس قدر لکھا گیا کہ صرف ان کا اشاریہ تیار کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ہوسکتی ہے 22/فروری/1985 کو یہ آفتاب علم و سیاست غروب ہوکر جامع مسجد دہلی کے سامنے ہمیشہ کے لئے روپوش ہوگیا ۔۔۔۔

    @sabirmasood_

  • سندھ کے سرکاری ملازمین رل گئے عقیل  تحریر:احمد راجپوت

    سندھ کے سرکاری ملازمین رل گئے عقیل تحریر:احمد راجپوت

    عید سے پہلے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سرکاری ملازمین کی عید الضحیٰ کی خوشیاں ماند پڑ گئی وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے عید الضحیٰ سے قبل تنخواہیں اور پنشن دینے کا اعلان کیا گیا تھا مگر افسر شاہی نے محکمہ میں موجود ملازمین سے زیادہ ٹھیکیداروں کو عزت بخشی اور فنڈ ہونے کے باوجود ملازمین کی خوشیوں کا خیال رکھنے کی بجائے ٹھیکیداروں کو پیمنٹ کردی گئی کمیشن تنخواہوں سے کہا ملتا سندھ سرکار پورا سال پروڈنٹ فنڈ مزدوروں کی تنخواہوں میں سے کاٹ کر اس کے مانگنے پر دینے کی پابند ہے مگر سندھ کے محکموں میں خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ ایمپلائز سالوں سے ریٹائر ہونے کے باوجود اپنے فنڈز کے لئے چکر لگا رہے ہیں کچھ خود کشیاں بھی کر چکے اور کچھ اپنے حق کے لئے نعرے لگاتے ہوئے اپنی جان کی بازی ہار گئے مگر اپنا اور اپنے بچوں کا حق بھٹو سرکار سے وصول نہیں کر سکے افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بس ہو جائے گا کا راگ الاپنے کی تنخواہیں وصول کر رہے ہیں مہنگائی کے اس دور میں تنخواہوں میں پورا مہینہ گذارا ہوجائے یہ ہی بڑی بات ہے یہاں تو اپنے فنڈز کے حصول کے لئے بھی سالوں انتظار کرنا پڑرہا ہے کوئی ہے جو ملازمین کی خوشیوں کو پورا کرنے میں مدد کرے

  • خود کو سمجھو. تحریر: فضل عباس

    انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا قیمتی وقت دوسروں کو سمجھنے میں ضائع کر دیتا ہے انسان خود کو سمجھنے اور سنوارنے کی بجائے دوسروں کے دل میں موجود اپنی عزت دیکھنے کو ترجیح دیتا ہے

    انسان خود کو سمجھے گا تو ہی اپنی غلطیاں کم کر سکے گاجب انسان خود کو سمجھنے لگ جاتا ہے تو برائیاں اچھائیوں میں بدلتی ہے انسان نیکی کی راہ پر چلتا ہی تب ہے جب وہ خود کو پہچان لے خود کی پہچان درحقیقت نیکی کی پہچان ہے کیوں کے اگر ہم خود کو پہچان لیں تو نیکی کی راہ آسانی سے مل جاۓ گی

    انسان کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنی فطرت کو سمجھے پھر خود سے اپنی فطرت کا تجزیہ کرے اس میں جو غلط نظر آۓ اسے دور کرتا جاۓ جو اچھائی نظر آۓ اسے عاجزی میں بدلتا جاۓ یہ اسے ایک بہترین انسان بنا دے گا

    انسان کو چاہیے کہ اپنی طاقت کو سمجھے اسے پتہ ہو کہ کب اور کہاں طاقت کا استعمال کرنا ہے طاقت کا غلط جگہ استعمال کرنا درحقیقت بزدلی ہے طاقت ہے ہی وہ جو صحیح جگہ استعمال ہو آپ کی طاقت مظلوم کے حق میں استعمال ہو ظالم کے خلاف آپ کی طاقت کا مظاہرہ ہو
    کیوں کہ مظلوم کے خلاف طاقت کا استعمال ظلم کہلاتا ہے جب آپ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں تو سمجھیں آپ نے خود کو پہچان لیا

    انسان جب خود کو پہچان لے وہ اپنے آپ ایک طاقت ہوتا ہے کیوں کہ جب وہ اس منزل پر پہنچتا ہے اسے دوسروں کی اچھائیاں اور اپنی برائیاں نظر آتی ہیں تب وہ اپنے آپ کو برائیوں سے دور کرتا جاتا ہے اور اچھائیاں اس کے اوصاف میں شامل ہو جاتی ہیں

    اس لیے دوسروں کی بجائے خود کو سمجھیں اور ایک زبردست انسان کے طور پر ابھر کر آئیں تحریر: (فضل عباس)

  • بلڈ ڈونیشن اور معاشرے کے صورتحال۔   تحریر: اعزاز شوکت

    بلڈ ڈونیشن اور معاشرے کے صورتحال۔ تحریر: اعزاز شوکت

    انسان کے اندر جب احساس انسانیت ہوتا ہے تو وہ دوسروں کی مدد کرتا ہے ، مدد کرنے کے بہت سے طریقے ہیں ان میں سے ایک ” خون کا عطیہ ” ہے ۔ اس وقت پاکستان میں کافی تعداد میں والنٹیرز بلڈ سوسائیٹیز کام کر رہی ہیں ۔

    میں خود بھی اپنے چند دوستوں کے ساتھ ان بلڈ سوسائیٹیز کا حصہ ہوں ، بلڈ ارینج کرنے میں جو مشکلات پیش آتی ہیں آئیں آپکو ان کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں کہ لوگوں میں شعور بیدا ہو :_

    لوگ ہمیں کال کر کہ یا میسج بھیج دیتے ہیں کہ ہمیں اس گروپ کا خون چاہیے آپ ارینج کر دیں ہم اس پہ ورک شروع کر دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ارینج کردیں ، اس میں ہمارے معاشرے کی کہاں پہ غلطی ہے آئیں آپکو بتاتے ہیں ۔

    تھیلسیمیا، کینسر اور ایکسیڈنٹ کے مریض خون کے اصل حقدار ہوتے ہیں ، تھیلیسیمیا میں تو پہلے ایک ماہ بعد خون لگتا پھر 15 دن بعد پھر 3 دن اور کبھی کبھی ہر 2 گھنٹے بعد ایک بوتل خون کی ہائے اللہ 💔۔

    جو لوگ ہمیں بلڈ کیس بھیج رہے ہوتے ہیں ان کے اپنے خاندا میں بھی افراد موجود ہوتے ہیں اور ان کا بھی کوی نہ کوی بلڈ گروپ ہوتا ہے ، لوگوں کو چاہئے کہ اگر ان کے کسی عزیز و اقارب کو خون چاہیئے تو سب سے پہلے اپنے خاندان، رشتہ داروں سے پتہ کریں اگر کسی کا بلڈ گروپ میچ نہ کرے پھر لاسٹ آپشن کے طور پہ بلڈ سوسائیٹی والوں سے رابطہ کریں ۔

    اسی طرح اکثر لوگ ڈلیوری کیسز بھیج دیتے ہیں کہ ہمیں ارینج کر دیں ، ان سب سے گزارش ہے کہ ڈلیوری میں ساری صورتحال واضح ہوتی ہے 2 خاندان کے افراد ہوتے ہیں لوگ اپنوں کو چھوڑ کر باہر والوں کو کہتے ہیں خون ڈھونڈ دیں ۔

    ایک دوست بتاتے ہیں وہ 5 بہن بھائ تھے اور وہ سب تھیلیسمیا کے مریض تھے اور صرف وہ ایک زندہ رہا ، ایک رات ہوسٹل میں تھے کال آئ کہ ہمیں چھوٹے بچے کے لیے خون چاہیے پھر وہ اور میں رات 1 بجے ہسپتال گئے ، جب خون ارینج ہو جاتا ہے تو جو مریض کے گھر والے دعائیں دیتے ہیں ویسی راحت جہاں بھر میں کہیں بھی نہیں ہوتی۔

    خدارا لوگوں دوسروں کا خیال کرو خون کے اصل حقداروں تک خون پہچانے میں اپنا کرداد ادا کرو۔
    @Zee_PMIK

    @Zee_PMIK

  • ذرا سوچیے تحریر: محمد مبین اشرف

    ذرا سوچیے تحریر: محمد مبین اشرف

    ‏پاکستان میں موبائل فون سوشل ایپلیکشن جہان عام ہوئی وہاں نئ نسل نے اپنے شوق کو زریعہ معاش بنایا ۔۔۔ یوٹیوب چینلز اور ٹک ٹاک سٹارز نے مختلف ویبز پر پیڈ پروموشن سے کمایا ۔۔۔ ان ایپس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر ہر تیسرا بندہ اپنے اکاونٹ نہ صرف بنا رہا بلکہ الٹی سیدھی حرکتیں کر کے مشہور ہونے کی لالچ میں بھی مبتلا ہے شہرت کا نشا ایسا چڑھا کہ کہیں ٹک ٹاکر بیوی اپنے خاوند کے انتقال کی جھوٹی خبریں چلا رہی ہیں تو کہیں لڑکے لائکس اور فالوورز بڑھنے کے لئے اپنی بہنوں کو نچا رہے ہیں، کہیں لڑکے پبلک پليسز پر اس طرح سے ویڈیو بناتے ہیں کہ کوئی عزت دار گھرانے کی لڑکی کی بھی ساتھ میں ویڈیو بن جاتی ہے جس سی ان کو تو لائکس، ویوز اور فالوورز مل جاتے ہیں لیکن اُس شریف گھرانے کی لڑکی پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور اس کی عزت اُس لڑکے کے لائکس،ویوز حاصل کرنے کی بیہودہ حرکت سے خاک میں مل جاتی ہے اور کہیں یوٹیوبر جھوٹی ویڈیوز بنا کر ، ایک دوسرے کو گلام گلوچ کر کے، ایک دوسرے کے خلاف بول کر ویوز اور لائک کی تمنا کر رہے ٹک ٹاک اور یوٹیوب کی صارفین آپ یہ ایپ استعمال ضرور کریں لیکن ایک ضروری بات جو توجہ طلب ہے کوئی بھی فلم گانا ڈرامہ چل رہا ہوتا آپ لوگ کمیٹ میں اللہ اور رسول کے واسطے دے رہے ہوتے حج عمرہ کی دعائیں مسلمان ہونے کے ثبوت مانگے جارہے ہوتے یا والدین کی لمبی عمر کی دعائیں دی جارہی ہوتی ۔۔۔۔
    زرا نہیں پورا سوچئے گا یہ آداب واحترام ہے آپ لوگوں کے دلوں میں ان ہستیوں کا یہ دیکھا رہے دنیا کو آپ ۔۔۔ زبانی عشق رسول کے دعوے چھوڑیے ۔۔۔۔ کسی نے آپ سے ثبوت نہیں مانگا ۔۔۔۔ خدارا احترام لازم کیجئے ۔۔۔ لائک ویوز کیلئے کوئی یہ نام استعمال نہ کریں۔

    اور دوسری بات یہ کا لوگوں نے فیسبک پر پوسٹس کی ہوتی ہیں کہ جو بھی مسلمان ہیں وہ اسے شیئر کریں یہ پھر پوسٹس ہوتی ہیں کہ ایک بار ،تین بار یہ دس بار اللہ لکھیں جو نہیں لکھے گا وہ مسلمان نہیں اور وہ شخص اللہ سے پیار نہیں کرتا تو بھائی یہ غیر مسلم لوگ ہوتے ہیں جو ایسی پوسٹ کر کر کے ہماری ایمانی غیرت کو کم کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں اس سے وہ ہمارا ایمان کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ان کی ایسی باتوں میں آ جاتے ہیں تو بھائی ایسے نہ کیا کریں بلکہ اس پوسٹ کو جس میں ایسا کچھ لکھا ہے تو ایسی آئی ڈی کو رپورٹ کر دیں یہ پھر اس پوسٹ کو رپورٹ کر دیں تاکہ وہ پوسٹ آگے سے آگے نا جا سکے بلکہ یہ پروپیگنڈہ یہی ختم ہو جائے نا کہ اسی آگے سے آگے شیئر کریں اور ان کو اپنے مقصد میں کامیاب ہونے دیں لہٰذا ایسی پوسٹ دیکھیں تو اسی وقت رپورٹ کر دی جائے۔
    یہ پھر وٹس ایپ کے میسیجز بنائے ہوتے ہیں کہ اس پوسٹ کو پانچ گروپس میں سینڈ کرو یہ پھر اپنے بیس کانٹیکٹس کو سینڈ کریں جو سینڈ کرے گا اس کے گھر اس ہفتے میں خوشی آئے گی یہ آپ کی کوئی دعا قبول ہو جائے گی اور اگر آپ اسے آگے شیئر نہیں کریں گے تو آپ کی دعا قبول نہیں ہو گی یہ پھر اس ہفتے میں کوئی بری خبر آئے گی۔
    تو میرے پیارے بھائی بہنوں دینے اور لینے والی ذات صرف اور صرف ایک ہے اور وہ ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لہذا اسی پوسٹ کو آگے شیئر نا کیا کریں بلکہ جس نے آپ کو سینڈ کی ہو اس سے بات کریں اُسے سمجھیں کا ایسی پوسٹ آگے شیئر نہ کیا کریں

    میری باتوں کے بارے میں ذرا سوچیے گا ضرور۔ شُکریہ

    @Its_MuBii