Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خواجہ سرا بھی انسان ہیں  تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    خواجہ سرا بھی انسان ہیں تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ با حثیت قوم ہم خواجہ سراؤں کے حقوق کا ہر ممکن تحفظ کریں گے لیکن عمل درآمد ناپید
    پاکستان میں خواجہ سراؤں کو سماجی رویے سمیت تعلیم اور صحت کے میدان میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے
    ایسا کیوں کیا وہ انسان نہیں ؟
    یا ان کی پیدائش پر انکا اختیار تھا ؟
    خواجہ سرا دنیا بھر میں اپنی قابلیت سے اپنی پہچان بناتے ہیں تعلیم کے شعبے میں سائنس و ٹیکنالوجی ڈرامے فلم ماڈلنگ انجینئرز ہر شعبے میں نظر آتے ہیں لیکن ہمارے ہاں منظر یکساں تبدیل ہے
    سڑکوں پر چہروں پر میک اپ لگائے ٹریفک سگنلز پر کمر پر ہاتھ رکھے بے ہنگم آوازوں میں گانے گاتے کھڑی گاڑیوں کے ادھ کھلے شیشیوں پر جھک کر عجیب و غریب حرکات کرتے نظر آتے ہیں اور یہ سب صرف پیسہ کمانے کے لئے اپنی ذات کی تذلیل سہتے ہیں
    اس لیے کہ ان کے والدین ان کو اپنانے سے قاصر ہوتے ہیں اس معاشرے کی باتوں اور تانوں سے کہ یہ ایک خواجہ سرا کے والدین ہیں کتنی شرم کی بات ہے حالانکہ اس میں انکا کوئی اختیار نہیں یہ اختیار صرف اور صرف اللہ تعالی کے پاس ہے
    اگر انہی خواجہ سراؤں کو اچھی تعلیم و تربیت مہیا کی جائے تو یہ ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی کارآمد افراد ثابت ہوں
    پاکستان میں سب سے پہلے صوبہ خیبر پختونخوا نے پشاور میں خواجہ سراﺅں کے لئے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا جسکے ذریعے ہر ایک خواجہ سرا سالانہ پانچ لاکھ چالیس ہزار تک صحت سے متعلقہ سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں
    خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے لیا جانے والا یہ اقدام پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی کوشش تھی جس سے خواجہ سرا سرکاری اور حکومت کی طرف سے منتخب پرائیویٹ ہسپتالوں سے صحت کی مفت سہولیات بلا کسی تفریق مستفید ہو سکتے ہیں اسی سلسلے کے پیش نظر جامعہ کراچی نے بار پہلی بار پورٹل پر اپ لوڈ کیے جانے والے ایم فل/پی ایچ ڈی کے داخلہ فارم میں میل اور فیمیل کے ساتھ ساتھ “ٹرانس جینڈر” transgender (خوا جہ سرا) کا کالم بھی خصوصی طور پر شامل کردیا ہے ٹرانس جینڈر کا علیحدہ کالم شامل کرنے کی سفارش پورٹل بنانے والی ٹیم نے کی تھی
    جس سے ان خواجہ سراؤں کے لئے PHD کی ڈگری حاصل کرنے میں بلا کسی امتیازی سلوک کے داخلہ آسان ہو گا اسی طرح کی ایک خوب صورت مثال کُچھ روز پہلے ملتان سے سامنے آئی باہمت خواجہ سرا نے ناچ گانے اور بھیک مانگنے کےبجائے باعزت روزگار کو ذریعہ معاش بنا کر الگ اور روشن مثال قائم کی ہے
    سائيکالوجی ميں ماسٹر خواجہ سرا شانی نے نوکری نہ ملنے پر کوئی غلط راستہ اختیار نہیں کیا ناں خود کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑا، شانی نے ملتان میں چھوٹا سا ہوٹل بنا کر خودداری کی شاندار روایت کی بنیاد رکھ کر اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ خواجہ سرا کُچھ نہیں کر سکتے شانی کےہوٹل کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کام کرنے والے تمام افراد خواجہ سرا ہیں جو پہلے بھیک مانگ کر یا ناچ گانے سے اپنی گزر بسر کرتے تھے اسی طرح 2020 میں پی ٹی آئی حکومت کی ایک اور بہترین کاوش ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی خواجہ سرا کو محکمہ پولیس راولپنڈی میں تعینات کیا گیا
    ریم شریف نامی خواجہ سرا کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد محکمہ پولیس میں شامل کیاگیا تھا ۔خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے سرگرم رہنے والی اور پولیس میں بھرتی ہونے والی ریم شریف کا اسکیل 14 ہے اور اسکی تنخواہ اس کے اسکیل کے مطابق ہے
    بی آئی ایس پی بورڈ کے 50ویں اجلاس کا اسلام آباد میں انعقاد
    اجلاس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ جن میں سے اہم فیصلہ بورڈ کی طرف سے تمام خواجہ سراوں کو احساس کفالت پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دینے کا ہے آہستہ آہستہ ہی صحیح ہم خواجہ سراوں کو انسان سمجھنے لگ گئے ہیں خدارا انسان کو انسان سمجھ کر عزت دیں ہم اس بات پر زرا برابر اختیار بھی نہیں رکھتے کوئی کالا ہے تو گورا کیوں نہیں کوئی چھوٹا قد رکھتا لمبا کیوں نہیں کوئی پتلا کیوں ہے موٹا کیوں ہے یہ مرد نہیں عورت نہیں تو کیا ہوا انسان تو ہے تو جب رب کریم کے محبوب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے حجتہ الوداع میں فرمایا
    "اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تم ایک باپ کی اولاد ہو لہذا
    کسی عربی کو کسی عجمی پر
    اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اِسی طرح کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر
    کوئی فضیلیت حاصل نہیں
    فضیلیت کا معیار صرف اور صرف تقویٰ اور پرہیز گاری ہے”۔

    @AmUsamaCh

  • قربانی کی روح   تحریر ؛صالح ساحل

    قربانی کی روح تحریر ؛صالح ساحل

    ہمارے ہاں قربانی کا موقعہ جب بھی آتا ہے یہ بحثیں جنم لیتی ہیں کے جانور ذبح کرنے کے بجائے فلاحی کاموں پر پیسے لگا دو واٹر کولر لگاوا دو تو ایسے لوگوں کے لیے میں صرف اتنا کہوں گا کے یہ لوگ قربانی کی اصل روح سے واقف نہیں کیونکہ بندے اور خدا کے درمیان زندہ تعلق قائم نہیں رہا اس لیے وہ قربانی کو ایک رسم کے طور پر لیتے ہیں حالانکہ یہ خالص بندے اور خدا کے درمیان تعلق کی آخری حد ہے قربانی کی روح بنیادی اپنے رب کے حضور اپنی جان قربان کر دینے کا جذبہ ہے اس جان کے قربانی کے فدیہ کے طور پر ہم جانور ذبح کرتے ہیں اور اس عہد کو دوبارہ سے زندہ کرتے ہیں کے اے ہمارے رب اگر تیری راہ میں جان بھی دینی پڑی تو پیچھے نہیں ہٹے گے اور یہی وہ قربانی تھی جو ابرہیم علیہ السلام نے دی مجھے حیرت ہوتی ہے کے ہمارے ملک میں جنگ ستمبر کے نام پر جشن منایا جاتا ہے یوم آزادی اور مارچ کی پریڈ پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں وہاں ہم یہ کہتے ہیں اس سے جذبہ پیدا ہوتا وطن کے لیے محبت بڑھتی تو میرا رشتہ میرے رب سے ماں باپ وطن جان سب سے بڑا ہے تو وہاں یہ جذبہ پیدا نہیں ہو گا اس لیے ایسے لوگوں سے التماس ہے کے قربانی صرف ایک رسم نے اپنے رب کے ساتھ زندہ تعلق کا اظہار ہے اور سب کچھ قربان کر دینے کا حتی کہ جان دے دینے کا جذبہ ہے برائے کرام اپنی خیالات پر نظر ثانی کریں
    @painandsmile334

  • دوستی تحریر : علی ملک

    دوستی تحریر : علی ملک

    ایک اچھا دوست انسان کے ہزار مطلبی دوستوں اور منافق دوستوں سے بہتر ہوتا ہے ۔
    پر آج کل انسان کو اچھا دوست ملنا بہت ہی مشکل ہے خصوصاً سوشل میڈیا پر اگر آپ کا ایک بھی اچھا دوست ہے تو آپ بہت خوش نصیب ہیں جو آپ کا ہر جگہ ساتھ دے آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے خلاف بات برداشت نا کر سکے ۔
    جہاں آپ پر بات آۓ آپ سے پہلے آپ کو سپورٹ کرنے کےلیے کھڑا ہو آپ کو اس پر اعتماد ہو کہ کوئی میرا ساتھ ہو یا نا ہو میرا دوست میرا ساتھ ہے ۔
    لیکن آج کل کے دور میں مطلب پرست لوگ بہت ہیں جیسے ہی آپ سے مطلب پورا ہوگا ویسے ہی ان کا آپ سے رابطہ بھی کم ہونے لگتا ہے پھر وہ پتلی گلی سے نکلنے والی کرتے ہیں۔
    کہتے ہیں جو برے وقت میں آپ کو پانی کا ایک قطرہ بھی پِلا دے آپ کو اس کا بھی احسان کبھی نہیں بولنا چاہیے اور جو برے وقت میں آپ کا ساتھ چھوڑ جاۓ اس کو بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کیونکہ صدا وقت ایک جیسا نہیں رہتا ۔
    دوست مظبوط ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کی دوستی کو ختم نہیں کر سکتی وہ مل کر بڑی سے بڑی مشکل کا بھی بآسانی مقابلہ کر سکتے ہیں ۔
    اگر آپ کا بیسٹ فرینڈ کبھی آپ سے کسی وجہ سے ناراض بھی ہو جاۓ تو انا غرور اور تکبر کو سائیڈ پر رکھ کر پرانا تعلق دیکھنا چاہیے ۔
    دوستی جیسا عظیم رشتہ دنیا میں کوئی نہیں لیکن جہاں جھوٹ بولا جاۓ اعتبار میں کمی ہو دوست کو دوسروں پر تقویت دی جاۓ غلط فہمیاں ہوں تو وہاں یہ رشتہ ڈھیلا اور کمزور پڑ جاتا ہے اور آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جہاں آپ کا دوست خوش وہیں اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاۓ اور آگے بڑھا جاۓ ۔
    آرٹیکل لکھنے کا مقصد یہی تھا کہ اس دور میں دوست بہت ملتے ہیں نھبانے اور وقت پر کام آنے والے اور دیکھاوا کرنے والوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔ کبھی آپ لوگوں کی طرف یا لوگوں کی باتوں میں آکر ایسا قدم نا اٹھائیں جس سے آپ ایک اچھے اور مخلص دوست سے محروم ہو جائیں ۔

    دل سے خیالِ دوست مٹایا نا جاۓ گا
    سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نا جاۓ گا

    @malik_No27

  • عمران خان مسیحا پاکستان   تحریر : نواب فیصل اعوان

    عمران خان مسیحا پاکستان تحریر : نواب فیصل اعوان

    پچھلے ستر سالوں میں پاکستان کو کوٸ ایسا لیڈر نہیں ملا جو پاکستان کی عالمی سطح پہ کھل کر نماٸندگی کرتا .
    ایک کرکٹر اپنی ایک جماعت کی بنیاد رکھتا ہے جس کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا جاتا ہے .
    ایسی جماعت جس کا منشور ہی پاکستان میں انصاف کو عام کرنا ہو ہر نچلے طبقے کیلۓ انصاف کی راہیں کھولنا ہو تاکہ پاکستان میں امیر غریب کے فرق کو ختم کرتے ہوۓ مساوات کو ترجیح دی جاۓ ..
    دنیا ہنستی ہے کہ ایک کرکٹر سیاست میں آگیا ہے بہت زیادہ مذاق اڑایا جاتا ..
    پھر دنیا دیکھتی ہے کہ وہی کرکٹر پاکستان میں شوکت خانم کی بنیاد رکھتا ہے اور لوگ اس کو جی بھر کے چندہ دیتے ہیں اور ایک روز شوکت خانم پاکستان کے ٹاپ کے اسپتالوں میں شامل ہوجاتا ہے جہاں پہ بنیادی سہولیات اچھے سے میسر ہوتی ہیں جہاں غریب عوام کو علاج کی بہتر سہولیات دی جاتی ہیں .
    وہ پاکستان کی سیاست میں ایک نمایاں ستارہ بن جاتا ہے لوگ اس کے قافلے میں جوک در جوک شامل ہوتے جاتے ہیں .
    23 سال کی انتھک کوششوں کے بعد وہ کرکٹر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے .
    اب وہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم پاکستان ہوتا ہے واضع اکثریت سے کامیابی کے ساتھ وہ ملک پاکستان کا وزیراعظم بن جاتا ہے ..
    ماٸک میں آواز گونجتی ہے کہ
    لیڈیز اینڈ جینٹلمین زوردار تالیوں کی گونج میں تشریف لا رہے ہیں
    پاکستان کی شان پاکستان کی آن
    ہمارے اور سب کے عمران خان
    ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے ..
    پھر دنیا دیکھتی ہے کہ یہ تو وہی کرکٹر ہے جس کا ہم نے مذاق بنایا تھا اور آج وہ وزیراعظم پاکستان کے اعلی منصب پہ فاٸز ہوتا ہے .
    پاکستان کو عالمی دنیا میں عمران خان کی وجہ سے خوب پذیراٸ ملتی ہے جو کفر کے ایوانوں میں ہر خطاب پہ
    الحمداللہ سے شروعات کرتا ہے جو دنیا کو پاکستان کا حقیقی چہرہ دکھاتا ہے جو بھارت امریکہ و پاکستان دشمن ممالک کو انکی اوقات دکھاتا ہے .
    جس کے ایک بیان پہ عالمی میڈیا کوریج دیتا ہے جس کے ایک ایک لفظ کو عالمی رہنما بڑے احترام و خاموشی سے سنتے ہیں .
    جس کو عالمی دنیا میں پاکستان کا سب سے زیادہ اثرورسوخ والا سیاستدان گردانا جاتا ہے .
    عمران خان مسلہ کشمیر ہو یا مسلہ فلسطین بھارت و اسراٸیل کو ہر عالمی فورم میں آڑے ہاتھوں لیتا ہے جو کشمیریوں پہ بھارتی جارحیت کے بارے میں عالمی دنیا کو آگاہ کرتا ہے جو فلسطینی بہن بھاٸیوں کی حمایت میں اسراٸیل کو آنکھیں دکھاتا ہے ..
    جو افغانستان میں قیام امن کیلۓ طالبان کو مذاکرات کی میز پہ لاتا ہے ..
    جو پاکستان میں کرپٹ افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لاتا ہے جو پاکستان کی لوٹی ہوٸ دولت پاکستان میں واپس لاتا ہے ریکوریز کراتا ہے جو پاکستان میں مافیا کو ایک آنکھ نہہں بھاتا .
    جو عوام دوست منصوبے لاتا ہے جو ہر تھوڑے وقت کے بعد عوام سے خطاب کرتا ہے اور اپنے منصوبوں کیلۓ عوام کو اعتماد میں لاتا ہے .
    جو غریبوں اورمظلوموں کے مساٸل خود ڈاٸریکٹلی سنتا ہے
    جو پاکستان میں انصاف کے حصول کو ممکن بنانے اور ہر پاکستانی کی چوکھٹ پہ انصاف کی فراہمی کو ممکن بنانے کیلۓ جدید ایپس متعارف کراتا ہے جو انصاف کے حصول کو ہمارے ایک ٹچ پہ میسر کر دیتا ہے .
    جس کو ہٹانے کیلۓ عالمی سازشیں ہوں یا ملکی دشمن انتشار پھیلاٸیں وہ بڑے تحمل و بردباری سے تمام مساٸل کا حل نکالتے ہوۓ ہر سازش کو ناکام بناتا ہے .
    اس کی عوامی مقبولیت یہ ہے کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ و پاکستان کی غریب عوام اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے وہ جہاں قدم رکھتا ہے وہاں عوام کا سیلاب امڈ آتا ہے .
    جو امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کر دیتا ہے .
    جو پاکستان کی گرتی معیشت کو اسٹیبل کرتا ہے جو کرنٹ خسارہ سرپلس کرتا ہے جو عوام دوست بجٹ لاتا ہے جو عوام کو ان کی بنیادی سہولیات دینے کیلۓ دن رات ایک کرتا ہے جو کرپشن کا الزام بھی لگنے پہ وزیروں مشیروں کو ہٹا دیتا ہے
    ایسا سیاستدان واللہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے .
    ایسا سیاستدان پاکستان کا مسیحا ہے اور یاد رکھو
    ” جس نے اپنے مسیحا کی قدر نہیں کی وقت نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ".
    @NawabFebi

  • عنوان: گھی مافیا تحریر: ملک شیراز

    عنوان: گھی مافیا تحریر: ملک شیراز

    پاکستان میں ہمیشہ سے جب بھی مافیاز کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے آٹا مافیاز یا چینی مافیاز کا نام آتا ہے۔۔ سب سے ذیادہ کریک ڈاون بھی انہی پر ہوتا ہے۔۔ جو کہ ٹھیک بھی ہے کیونکہ یہ لوگ بھی بے جا منافع خوری سے باز نہیں آتے۔

    لیکن کیا کبھی آپ نے کسی کے منہ سے گھی مافیا کا نام سنا ہے؟؟؟

    نہیں نا، وجہ؟؟؟
    گھی بھی تو دن بدن مہنگا ہوتا جارہا ہے،2 سال پہلے تک مشہور برینڈ جیسا کہ ڈالڈا کا کلو گھی کا پیکٹ 180 روپے میں مل جایا کرتا تھا۔۔۔ اب اسی کی قیمت 300 روپے ہے۔۔۔۔

    آئل 190 کا تھا،وہ 320 کا ہوا ہے۔۔۔

    مطلب ایک۔کلو گرام کے لئے 100 سے ذیادہ کا اضافہ صرف 2 سال میں۔۔۔
    کیا یہ مافیا اتنا بڑا ہے جس سے کوئی ٹکر نہیں لے سکتا؟؟؟
    یا کہ ایسی کونسی مجبوریاں ہیں ہماری کہ ہم ان کے خلاف نہیں بول سکتے۔۔۔

    ہر حکومت آتے ہی سب سے پہلے یہی کہتی ہے آٹا ملز مالکان اپوزیشن پارٹی سے ہیں،چینی ملز مالکان یہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔

    کبھی ہمیں یہ بھی تو بتائیں کہ یہ گھی ملز مالکان کہاں سے تعلق رکھتے ہیں؟؟؟
    ایسی کیا وجہ ہے کہ یہ حکومت کے کنٹرول سے بلکل باہر ہوچکے ہیں۔۔۔کیا گھی ملز کے مالکان آٹا اور چینی ملز والوں سے ذیادہ طاقتور ہیں؟؟؟
    یا کہ ان کا تعلق پاکستان سے نہیں؟؟؟
    اگر ایسا مان بھی لیا جائے کہ ان کا تعلق پاکستان سے نہیں تو کیا حکومت دوسرے ملک کے بزنس مینز کو پاکستان کو کھل کر لوٹنے کا موقع دے گی؟؟؟

    عجیب اتفاق ہے یہ۔۔۔
    ہمیں انتظار رہے گا کہ کب اس گھی مافیا پر کریک ڈاون ہوتا ہے۔۔۔ کب گھی مافیا کو اس کی اوقات میں لایا جاتا ہے۔۔

    اپ سب بھی اس کے خلاف اپنی آواز ضرور بلند کریں ۔۔۔

    @MShirazOfficial

  • فلاحی مقاصد کیلئے تیار کی گئی مہنگی ترین موم بتی ،قیمت کتنے لاکھ؟

    فلاحی مقاصد کیلئے تیار کی گئی مہنگی ترین موم بتی ،قیمت کتنے لاکھ؟

    دنیا کی سب سے مہنگی موم بتی فروخت کیلئے پیش کر دی گئی ہے جس کی قیمت 2021 برطانوی پاؤنڈ ہے جو قریباً چار لاکھ 40 ہزار روپے پاکستانی روپے بنتی ہے ۔

    باغی ٹی وی : فلیمنگ کریپ نامی کمپنی کی تیار کردہ موم بتی 30 گھنٹے تک مسلسل جل سکتی ہے ، سمیلز لائک کیپٹلزم نامی موم بتی جب جلتی ہے تو اس سے خالص چمڑے کے بتوے اور کرنسی نوٹوں کے جلنے کی بو آتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کا احساس دلاتی ہے ۔

    اس کو بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم اس سے حاصل ہونے والی تمام رقم بے گھر برطانوی لوگوں کی امداد پر خرچ کریں گے ، گویا یہ مہنگی ترین شے فلاحی مقصد کیلئے تیار کی گئی ہے ۔

    فلیمنگ کریپ کے مالک اولیوربور کا کہنا ہے کہ خوشبودار موم بتیوں کے بہت سے برانڈ ہیں جن کی قیمت ایک ہزار پونڈ تک ہوتی ہے تاہم اسے بیچنے والے اس ہوشربا قیمت کی کوئی وضاحت نہیں کرسکتے لیکن ہم اس رقم کو فلاحی کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔

    اولیور نے کہا کہ تمام موم بتیاں ہاتھوں سے تیار کی جاتی ہیں جس کی تیاری میں جنون اور محبت نمایاں ہے۔ ’اس طرح ہم ایک معیاری شے تو دے ہی رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ہرممکن مدد بھی کررہے ہیں-

  • ترک حکومت نے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی

    ترک حکومت نے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی

    ترک حکومت کی جانب سے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی گئی۔

    باغی ٹی وی : ترکی اردو کے مطابق جنگلوں میں جن درختوں کی نشونما رک گئی تھی ان میں کتابوں کے فیکس بنا کر یہاں لائبریری کھولی گئی ہے حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی اس لائبریری میں دو ہزار کے قریب کتابیں موجود ہیں –

    بچوں،نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد اس لائیبریری سے استفادہ حاصل کر رہی ہے ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ہریالی کے درمیان بیٹھ کر کتابیں پڑھنے ک الگ ہی مزہ ہے۔

    ترکی لائبریریوں کو فروغ دینے کے لیے پہلے بھی کئی اقدامات کر چکا ہے ترکی میں اس سے قبل کچھ عرصہ پہلے پارک میں اوپن لائبریری کھولیں گئی تھی جسے لوگوں نے بہت پسند کیا تھا۔

  • اردوادب میں عیدالاضحی  تحریر: محمد فہیم خان

    اردوادب میں عیدالاضحی تحریر: محمد فہیم خان

    اردو کی غزالیہ شاعری میں عید؛عید کاچاند حلال وآبرو محبوب سے روز عید کی ملاقاتیں اور اس کے متعلق ہی اہم رہے لیکن 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب اردو شاعری کی حدود میں وسعت پیدا ہوئی اور نظموں کی طرف توجہ تیز ہوگئی تو عید کے بعد موضوع میں بھی اشارتی اور علامات یا امکانات زیادہ اجاگر ہوئے اور اردو شاعری کو 1757 کے بعد ملی احساسات کی ترجمانی کا وسیلہ بھی بنایا گیا اور اس طرح مسلمانوں کی فکری زندگی کے خط و خال نے اردو ادب میں اسلامی اقدار اور روایات کی پاسداری کے عمل کو شدید سے شدید تر کر دیا۔عید الفطر پر نظموں کی کثرت کا سبب بھی یہی ہے اور شعرا و ادبانے جب تخلیقی جوہر کے حوالے سے ان افکار کی پیشکش کا سامان فراہم کیا تو یہ موضوع کئی جہتوں میں پھیل گیا ۔ عید کب محدث خوشیاں عید کے چاند کو محض سال میں ایک بار جھلک دکھا کر غائب ہونے کے حوالے سے دیکھنے کی بجائے اسے مسلمانوں کی تہذیبی اور فکری زندگی کے وسیع تر جغرافیے سے ملا دیا گیا ؛ جسے عید کے موضوعات میں نئی نئی باریکیاں پیدا کرکے اسے ادبی خوشی کے ملے جلے جذبات تک لے گئے گلدستہء عید میں موضوعات ؛ صحن عیدگاہ میں ملاقات اور دوران خانہ عید ملن تک محدود نہیں رہے بلکہ جذبات کے وسیع تر رقبوں میں لاکر رکھ دکھایا گیا ہے۔”مسلمان فیشن ایبل خاتون کی ڈائری” سے چل کر”رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عید”؛”سہاگن کی عید” ؛ ” بچوں اور بڑوں کی عید” ؛ "دوگانی عید” ؛ ” ترکن ماما کی عید” ؛”عید اور قرض” ؛ "عیدی”گھر کی مالکہ کی عید” ؛ "یتیموں کی عید” تک عیدالاضحیٰ میں متوسط طبقے اور غریب طبقے کے مسائل و حالات سے منسلک نظر آتی ہے۔اس تمدنی وسعت پذیری سے موضوع کی جڑیں ہماری ادبی روایات میں پھیل گئی ہیں۔ خواجہ حسن نے دلی کی بربادی کے جو نوحے لکھے ہیں ؛ ان میں دولت و عزت سے محروم ہونے والے شہزادوں اور شہزادیوں کی کس مپرسی میں عید بسر کرنے کا زکر اہمیت رکھتا ہے اس روایت کا آغاز سر سید احمد خان سے ہوتا ہے ؛ جنھوں نے” مسلمانان ہند کی عید” کے عنوان سے مسلمان کی معاشرتی زندگی کی خامیوں کو بیان کرنے کے علاوہ ؛ ان کی غریبی کے نقشے بھی تفصیل کے ساتھ بیان کیے۔حسن نظامی کے موضوعات میں "عظمت رقتہ کی یاد”عید کو علامتی حوالہ عطا کرتی ہے ” یتیم شہزادے کی عید” ؛ "عید گاہ ماغریباں کوئے تو” دینی جذبے کی شدد اور مزہبی امور سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے
    "اے مہ عید! بے حجاب ہے تو
    حسن خورشید کا جواب ہے تو
    تو کمند غزال شادی ہے
    لزت افزائے شور طفلی ہے”

    @FK5623

  • عید ِقرباں پہ انا کی قربانی  تحریر: محمد اسعد لعل

    عید ِقرباں پہ انا کی قربانی تحریر: محمد اسعد لعل

    مسلمان ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں۔ ایک عیدالفطر جو کہ یکم شوال کو مناتے ہیں اور دوسری عید الاضحیٰ جسے عید قربان بھی کہا جاتا ہے، دس ذی الحجہ کو مناتے ہیں۔ عید الاضحیٰ کے موقع پہ مسلمان حضرت ابراہیم کی سنت ادا کرتے ہوئے حلال جانور قربان کرتے ہیں، اسی کو قربانی کہتے ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے تھے۔ قرآن نے انہیں صادق الوعد کا لقب دیا۔ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا اباجان جو کچھ آپ کو حکم ہوا کر ڈالئے آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
    قربان جائیں اس پیغمبر زادے کی ایمانی عظمتوں پر جنہوں نے باپ کے خواب کو اللہ کا حکم سمجھتے ہوئے سر تسلیم خم کر کے تاریخ انسانیت میں ذبیح اللہ کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔
    جب حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے لیے لٹایا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا، اے ابراہیم (کیا خوب) تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔ ہم نیکو کاروں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں۔
    آسمان سے ایک مینڈھا آتا ہے اور حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کو ذبح کرتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے ابراہیم! تمہاری قربانی قبول ہوگئی۔ ہم نے اسماعیل کی ذبح کو ’’ایک عظیم ذبح،، کے ساتھ فدیہ کر دیا۔بے شک باپ کا بیٹے کے ذبح کے لئے تیار ہوجانایہ ایک بڑی صریح آزمائش تھی ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اس آزمائش میں پورا اترے۔
    اب ذہن انسانی میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو بچانا ہی مقصود تھا تو پھر ان کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم کیوں ہوا؟ اور اگر حکم ہوا تھا تو ان کی زندگی کو تحفظ کیوں دیا گیا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
    حکم اس لئے ہوا کہ سراپائے ایثار و قربانی پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لخت جگر سے ذبح کی تاریخ کی ابتدا ہوجائے کہ راہ حق میں قربانیاں دینے کا آغاز انبیاء کی سنت ہے اور بچا اس لئے گیا کہ اس عظیم پیغمبر کی نسل پاک میں نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہونا تھی۔ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تشریف لانا تھا اس لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذبح کو جنت سے لائے گئے مینڈھے کی قربانی کی صورت میں’’عظیم ذبح،، کے ساتھ بدل دیا گیا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام محفوظ و مامون رہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اسی قربانی کی یاد میں ہر سال مسلمان عید الاضحیٰ مناتے ہیں اور جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔
    سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا عید الاضحیٰ پرصرف جانور کو ذبح کر دینے سے قربانی کا مقصد پورا ہو جاتا ہے؟
    عید ِقرباں کے موقعے پر اپنے اندر کے جانور(انا) کو بھی قربان کرنا چاہے۔ عید کے مقدس تہوار پر انسان ’’انا ‘‘ کی قربانی بھی کر لے تو قربانی کی حقیقی روح کو پا سکتا ہے۔عید قرباں کا مقصد بھی یہ ہے کہ جانور کی قربانی کے ساتھ اپنی خواہشات و انانیت کو قربان کیا جائے۔ عید کا یہ دن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کے توسط سے ہم اپنی ذاتی رنجشوں، ناراضگیوں اور ایک دوسرے کی غلطیوں وخامیوں کو نظر انداز کرکے کھلے دل سے ایک دوسرے کوگلے لگا لیں۔ اگر انسان اس مبارک موقعے پر’’انا‘‘ کی قربانی کر لے تو نہ صرف بہت سی مشکلات سے چھٹکارہ پا سکتا ہے، بلکہ خدا کی بہت قربت بھی حاصل کرسکتا ہے،کیونکہ یہ ’’انا‘‘ ہی بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔اس کی وجہ سے انسان کی زندگی دوبھر ہوجاتی ہے۔بہت سے رشتے ’’انا ‘‘ کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
    آج ہمارا معاشرہ آپس میں اختلافات، تعصبات اور افرا تفری اور انتشارکا شکار ہے، اپنے علاوہ کوئی کسی دوسرے کی بات تک کو تحمل وبرداشت سے سننا نہیں چاہتا۔اس کا واحد سبب ہمارے نفس کی سرکشی ہے اور یہ تہوار ہمیں اپنے نفس کو دوسروں کے لیے قربانی دینے کا درس دیتا ہے۔ عید الاضحیٰ ہمیں آپس میں پیارومحبت اور اتحاد ویکجہتی کے ساتھ رہنے کا درس دیتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ سب ایک دوسرے کے حقوق کی پاس داری کریں اور اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔
    دوسروں کو بھی آپس کے اختلافات اور نفرتوں کو بھلانے کا درس دیں اور ایسا معاشرہ تشکیل دیں، جس کا تقاضا ہمارا دین کرتا ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائیں۔(امین)
    پاکستان زندہ آباد۔
    @iamAsadLal

  • تاخیر کی شادی اور مسائل تحریر: مجاہد حسین

    تاخیر کی شادی اور مسائل تحریر: مجاہد حسین

    موجودہ دور کی نوجوان نسل میں تاخیر سے شادی کرنے کا رجحان اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب اسے فیشن گردانا جانے لگا ہے۔ اس سب میں بالعموم ہمارا معاشرہ اور بالخصوص والدین قصور وار ہیں۔ یہ والدین کی ذمہ داری میں شامل ہے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے بلوغت کو پہچتے ہیں ان کے لئے مناسب رشتہ تلاش کر کے ان کی شادیاں کر دیں اور انہیں معاشرتی مسائل اور بے راہ روی سے محفوظ بنا لیں۔

    تاخیر سے شادی کرنے کی ہمارے معاشرے میں بہت سے وجوہات ہیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے نکاح کو اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ کوئی اوسط طبقے کا خاندان اس کے خرچے اٹھانے سے پہلے سو بار سوچتا ہے۔ نکاح جیسے بہترین عمل، جسے ہمارے نبی ﷺ نے نہایت آسان اور سادہ بنایا تھا، اسے ہمارے فیشن، مقابلے بازی اور انا نے انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگے مہنگے جہیز بھی نکاح میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں۔ والدین اپنی زندگی بھر کی کمائی لگا کر بھی اپنی بیٹیوں کا نکاح نہیں کر پاتے صرف اس وجہ سے کہ بیٹی کو سسرالیوں یا محلے والوں کی باتیں نہ سننی پڑیں جس کے باعث ہزاروں بچیاں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں یا پھر بے راہ روی میں پڑ کر اپنے آپ کو خراب کر لیتی ہیں۔ کئی نوجوانوں سے جب پوچھا جاتا ہے تو وہ اچھی نوکری، اچھے گھر، اچھی گاڑی وغیرہ کے بہانے بنا کر شادی کو ٹال دیتے ہیں اور اپنی فطرتی ضروریات پوری کرنے کے لئے "گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ” کلچر کا حصہ بن کر اپنی جوانی تباہ کر لیتے ہیں۔ پھر اگر ان کی شادی ہو بھی جائے تو جوانی کی لگی عادتیں انہیں بیوی تک محدود نہیں رہنے دیتیں جس کے نتیجے میں گھر برباد ہو جاتے ہیں۔
    کئی سرویز کے مطابق پاکستان میں غیر شادی شدہ مرد و زن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ اب شادی کی عمر میں شادیاں نہیں کر پا رہے اس اس کے کئی نقصانات ہیں جن میں سر فہرست بانجھ پن ہے۔ اور بانجھ پن مرد اور عورت دونوں میں ہو سکتا ہے۔ جب بڑی عمر میں شادی کے بعد کافی عرصہ تک بچہ پیدا نہ ہو تو شادیاں ناکام ہو جاتی ہیں۔
    موجودہ دور میں جب عریانی اور فحاشی ٹی وی کے ذریعے ہر گھر میں داخل ہو چکی ہے تو نوجون لڑکوں اور لڑکیوں کے بلوغت میں پہچتے ہیں ان کے جذبات اور خواہشات تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ اگر ان کی بر وقت شادی نہ کی جائے تو معاشرے میں بہت خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اور نوجون لڑکے اور لڑکیاں اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے غیر انسانی، غیر اسلام اور غیر فطری کاموں کے اندھے گڑھوں میں گر جاتے ہیں۔ اس لئے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق بچوں کے بلوغت میں پہنچتے ہیں اچھے رشتے ڈھونڈ کر ان کی شادی کر دینا ہی بہتر حل ہے۔
    نکاح کی ان پیچیدگیوں سے معاشرے کو پاک کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر اس نیک کام کو پیدا کردہ خرابیوں جیسے فضول خرچی، ڈانس پارٹیز، فنکشنز، میوزک کنسرٹس، جہیز اور غیر ضروری غیر اسلامی رسموں سے آزاد کروانا ہوگا۔ صرف اور صرف تب ہی نکاح کو نبی ﷺ کی سنت کے مطابق بروقت سادگی سے انجام دے کر اپنے بچوں کو بے راہ روی سے اور ہمارے معاشرے کو برائی اور خرابی سے بچایا جا سکتا ہے۔

    @Being_Faani