Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لبرلزم  تحریر : عثمان غنی

    لبرلزم تحریر : عثمان غنی

    عزتوں کے کچرا دان میں ایک اور بھرے ہوئے شاپر کا اضافہ۔ڈالنے والے صاحب نے بڑی شان سے زلت کے بازار سےبےغیرتی کی چادر لی اور تمکنت بھری چال چلتا ہوابے حیائی کے دفتر پہنچا۔وہاں ایک لمبا عرصہ غلیض زہنیت کی کلاس لی۔اب تربیت مکمل ،جزبے بلند ،سوچ پختہ،اور دماغ اپنی حفظ کی گئی چیزوں کو عمل میں لانے کے لئے بےتاب ہے۔۔۔غالبا تھیوری کو جتنا بھی کلاس میں رٹا جائے مگر جب تک اسے پریکٹکلی پرفارم نہ کیا جائے وہ کسی کام کی نہیں ہوتی۔اب وہ صاحب بھی عملی زندگی میں ہیں۔اور وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس بات کا انحصار اس سے بلواسطہ یا بلاواسطہ منسلک لوگوں کی بزدلی اور کم فہمی پر ہے۔ایسے لوگ اس کا زبردست ترین شکار ہیں جو لبرل ازم (اندر ہی اندر اسی سے دوستی کے خواہاں)کے خواہاں ہیں۔وہ صاحب آہستہ آہستہ اپنا حلقہ احباب بڑھاتے جاتے ہیں۔اور حلقہ احباب میں ہے کون۔۔۔۔۔یا تو کچے زہن کا کم عمر طبقہ یا پھر انہیں صاحب جیسے آزادی (بےراہ روی)طلب گار۔۔یہ صاحب اپنی تبلیغ کا آغاز اخلاق سے عاری گفتگو کر کے کرتے ہیں۔اور اس گفتگو کے بعد ان کو تین طرگ کے لوگ ملتے ہیں ۔ایک وہ جو ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔دوسرے وہ جو چپ رہتے ہیں ۔تیسرے وہ جو ان کو برا خیال کرتے ہین اور ممکن حد تک ٹوکنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔اب جو پہلے گرہ کے لوگ ہوتے ہیں بغیر کسی محنت کے ان صاحب کی باتوں میں آجاتے ہیں۔بلکہ وہ ہوتے ہی انکے چیلے ہیں۔دوسرے لوگ ان کا مشکل ہدف ہیں مگر یہ بھی نا ممکن ثابت نہیں ہوتے۔اور آخری گرہ کو فرسودہ کہے کر ان پر خاص محنت نہین کی جاتی۔
    زرا سوچئے۔۔۔ایسے لوگ ہمارے درمیان بیٹھ کر ایسی گندی گفتگو کرتے ہیں ۔اور ہم سنتے رہتے ہین کہ صرف زبان خراب ہے دل کے صاف ہیں ۔ہماری زبان ہماری پہچان ہوتی ہے۔اس سے ہمارے خاندان ہماری روایات ہمارے مزہب کا پتہ چلتا ہے۔یہ لوگ کہیں باہر سے نہیں ہماری فیملیز سے ہوتے ہیں ۔ہمارے دوستوں میں سے ہوتے ہیں۔مگر ہم ان کو مارجن دیتے ہیں۔ایک ہدیث کے مطابق اگر کسی ن شخص نےجو چیز دو ٹانگوں کے درمیان ہے اور جو اور دو جبڑوں کے درمیان ہے اس کی حفاظت کر لی اس پر جنت واجب ہے گئی۔
    اور آج حالت ایسی ہے کہ گالی فیشن ہے گندی اور غلیظ گفتگو خوش اخلاقی ہے۔کیا آج جو گفتگو عام گھروں میں ہورہی ہوتی ہے وہ درست ہوتی ہے ؟؟؟؟کیا اس کو کچے زہن کے کم عمر بچوں کے سامنے کرنا درست ہے؟؟؟
    وہ لباس جو آپ روزانہ کی بنیاد پر زیب تن کر کے جاتے ہیں کیا درست ہے ۔چھوٹی بچیوں کے کپڑوں سے بازو غائب اور عورتوں کے کپڑوں سے دوپٹہ اور گفتگو کو تو رہنے ہی دیجئے
    آہستہ آہستہ عزتیں کچرا دانون کی زینت بنتی جارہی ہیں ۔اور جن لوگ ان کو اب سر کا تاج بنا رکھا ہے ان بیک ورڈ کہا جاتا ہے ہے۔
    کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ایک شخص نے اپنی کزن کے نام پرلکھ کر غیر اخلاقی شاعری خانہ کعبہ میں لگا رکھی تھی۔واضح رہے کہ ان لوگوں کے لئے ایک مخصوص لفظ جاہل اور اس زمانے کے لئے جاہلیت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔اور آج کے ماڈرن زمانے میں ہر شخص "کزن”کے عنوان سے آنے والی پوسٹس کو لائک کرتا ہے کمنٹ کرتا ہے وغیرو وغیرہ۔آج کل فیس بک کی مشہور پرسنیلٹی پھپھو کی بیٹی ہے۔زمانہ "جاہلیت”اور جدید دور میں بس اتنا فرق رہے گیا ہے کہ اس قت خالا کی بیٹی "تھی "اب پھپھو کی بیٹی "ہے”۔اور ہاں خصوصا سرائیکی و کو چاچے کی چھوکری نے بھی تنگ کر رکھا ہے۔بلکہ اب یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پہلے ایک تھی اب تو ساری ہی آگئیں۔
    زرا سوچئے ۔۔۔کیا ہوا کی بیٹیاں اتنی ارزان ہیں کہ ان کے کردار کو فیس بک کی زینت بنا دیا جائے؟؟؟اگر کوئی مرد کہے دے کے فلاں لڑکی مجھ پر مرتی ہے تو ہم بغیر کسی تحقیق کے مان لیتے ہیں۔اور آگے بھی اس کو خوب مرچ مسالے لگا کر پیش بھی کرتے ہیں۔اس سے ہم خود کو کیا ثابت کر نا چاہ رہے ہیں؟؟؟؟جبکہ ہم جاہل بھی نہیں ہیں ۔۔۔
    میں نے اکثر باپردہ لڑکیوں یونیورسٹیوں میں آتے ہی پردہ اتارتے دیکھا ہے۔غالبا پردہ ان کے لئے ایک تنگ زہنیت ہے ۔جب لوگ کہتے ہیں کہ اب جدید دور ہے اور ہر چیز میں تیزی آگئی ہے تو میں مان لیتی ہوں۔روز ہی ہزاروں لڑکیاں تنگ زہنوں(گھروںمیں پردہ) سےکھلے زہنوں (یونیورسٹیوں میں پردہ اتار دینے)میں سفر کرتی ہیں۔
    ہمیں ان فتنوں سے نکلنا ہے ۔ورنہ آج ہم میں اور زمانہ جاہلیت میں کوئی فرق نہیں رہے گیا۔جدید دور نے ہمیں اپنے پیچھے اسقدر ہلکان کر رکھا ہے ۔کہ ہم اپنا سب کچھ بھول چکے ہیں۔ہم آئڈیلزم کا شکار قوم ہیں ۔ہم میں اگر ایک شخص کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے تو اس کے بھی فالورز نکل آتے ہیں۔ہمیں اپنے زہنوں کو اسلام کے نور سے منور کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے اندر سے چھوٹی چھوٹی برائیاں ختم کرنی ہوں گی۔ہمیں دوبارہ انہیں "فرسودہ”روایات کو اپنانا ہوگا۔تب کہیں جاکر ہم اپنا آپ پہچانے گے۔۔


    Usman Ghani is a Freelancer, Blogger He is associated with many leading digital media sites in Pakistan. To find out more about him visit her        Twitter Account(@UsmanSay_)  

    Other Article Usman Ghani

     

     

  • ھمارے آباؤ اجداد اور ہم تحریر: محمد عاصم صدیق

    ھمارے آباؤ اجداد اور ہم تحریر: محمد عاصم صدیق

    ھمارے آباؤ اجداد نے ہمیں نہ صرف آزاد ریاست دی بلکہ ہمیں زندگی کے کئی اصول بھی بتائے ۔
    آج اگر ہم سکون سے بغیر کسی خوف ،بغیر کسی در کے جہاں چاہئے اپنے ملک پاکستان میں ره رہے ہیں ۔ہر طرح کی آزادی ہمیں حاصل ہے ۔تو وہ صرف ھمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔لاکھوں لوگوں نے بےانتہا قربانیاں دی ھمارے لیے تا کہ ہمارا مستقبل خوبصورت بو ۔ہم عیش و عشرت سے رہ سکے ۔
    ہماری ماؤں نے اپنی بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوتے دیکھا اپنی آنکھوں سے ۔بیٹوں کو قربان ہوتے دیکھا ۔یہ سب کس لیے تھا تا کہ میں آپ اور ہم سب غلامی سے نجات حاصل کر سکے ۔سکون کی سانس لے سکے ۔
    لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم آج اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یاد بھی کرتے ہیں ؟
    کیا ہم نے کبھی سوچا کے جن قربانیوں کے بعد یہ ملک ملا اِس کے پیچھے کوئی وجہ بھی تھی ؟
    آج ہم سب کچھ بُھول چکے ہیں اور اِس ملک کو بے دردی کے ساتھ ہر طرح سے نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
    کاش کے ہم اُن لوگوں سے سیکھ لیتے جو ابھی تک آزادی سے سانس بھی نہیں لے سکتے
    اج ہم ایک آزاد قوم تو ہیں لیکن ھماری سوچ آج بھی غلامانہ ہے ۔ہم آج بھی انگریز اور ہندو کو اپنے سے بہتر سمجھتے ھیں اور ہر لحاظ سے انہی کے نقشے قدم پر چلنا پسند کرتے ہیں ۔
    ھمارے آباؤ اجداد ہمیں آزاد ملک دے کر گئے تا کہ ہم اپنی پہچان بنا سکے ۔اپنے ملک کا نام روشن کر سکے ۔لیکن شائد ہم اپنے اسلاف کو بُھول گئے ۔
    آج ہم کرپشن ،چوری ، نا انصافی ،جھوٹ ہر طرح کے گناہ روز مرہ زندگی میں کر رھے ہیں اور اپنے آباؤ اجداد کی روحوں کو دکھ پہنچا رھے ہیں ۔
    ھمارے آباؤ اجداد نے اپنا سب کُچھ قربان کیا ،گھر باہر سب چھوڑ دیا یہاں تک کہ کچھ لوگ اپنے بچوں تک وہی چھوڑ آئے کیوں کہ اُنکا خواب تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کا اور اس کے لیے وہ ہر حد تک گئے ۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے رستے پر چلائے اور اُنکی زندگی سے کُچھ سیکھنے کی توفیق عطا کرے
    امین!

    Written By : Muhammad Asim Siddiq
    Username : @Asimsiddiq_
    Email : asimsak47@gmail.com

  • بیٹیوں کی تعلیم اور تربیت .تحریر ارم رائے

    بیٹیوں کی تعلیم اور تربیت .تحریر ارم رائے

    بیٹیاں جو گھر کی رونق ہیں۔ بیٹیاں جو کھلتی کلیاں ہیں۔ بیٹیاں جو مسکرائیں تو لگتا ہے کہ کائنات مسکرا رہی ہے۔ بیٹیاں جن کے بغیر گھر بے رونق ہیں۔ بیٹیاں جنکے بغیر والدین کی زندگی تو بے رونق ہے ہی انکے جنازے تک بے رونق۔ بیٹیاں جو والدین کی خدمت میں سب سے اگے۔ بیٹیاں جنکے بغیر کائنات کا وجود بے رونق۔ بیٹیاں جنہیں عزت اسلام نے دی۔ بیٹیاں جو آپ صلی الله عليه والہ وسلم کے جگر کا ٹکڑا۔ دین اسلام نے بیٹوں کے برابر بیٹیوں کی تعلیم و تربیت پر زور دیا لیکن کیا ہم اس پر عمل کررہے ہیں؟ آج کی بچی کل کی ماں کیا ہم اسے انے والے وقت کے لیے تیار کررہے ہیں؟ کیا مستقبل کی زمہ دار کو انے والے وقت کے لیے تیار کررہے ہیں؟ لاڈ محبت پیار اپنی جگہ کیا انہیں مستقبل کی زمہ داریوں کے بارے میں بتا رہے ہیں؟ کیا تعلیم دے رہے ہیں تو ساتھ تربیت کررہے ہیں؟ بدقسمتی سے تعلیم سے مراد ہم سکول کالج یونیورسٹی کی تعلیم لیتے ہیں ہم بی ایس ایم ایس ایم اے ایم فل پی ایچ ڈی کو تعلیم سمجھتے ہیں حالانکہ یہ تعلیم نہیں ہے یہ تو ہمارے فیس ادا کرنے کے سرٹیفکیٹس ہیں۔ ڈگری ایک کاغذ ہے کہ ہم کسی ادارے میں اتنے سال رہے۔ تعلیم تو وہ ہے جس کا مظاہرہ ہمارے الفاظ ہمارے کردار ہمارے رویے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہمارے عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہم ہر کسی کو اپنا تعلیمی کارڈ نہیں دیکھا سکتے ہم نے اپنے رویے سے بتانا ہے کہ ہم تعلیم یافتہ ہیں۔ کہیں ایک فنی بات پڑھی تھی کہ "آنے والی نسل کے تو بیڑے ہی غرق ہیں کیونکہ انکے بڑے بزرگ ہم ہیں” دیکھا جائے تو یہ بات مذاق نہیں بلکہ بہت بڑا المیہ ہے ہم اس پر توجہ کیوں نہیں کررہے؟ ہم سمجھ رہے ہیں کہ بچے کو مہنگے سکول میں داخل کروا دیا اور اسکی ہر چیز پوری کررہے ہیں ہر خواہش پوری کررہے ہیں تو مطلب ہم تربیت کررہے ہیں یہ تربیت نہیں ہے تربیت ماؤں کا اپنا رویہ ہے وہ جو کچھ کریں گی بچی وہی دہرائےگی۔ تو کیا اسکی تیاری ہے؟

    گھر میں سارا دن رشتوں کے خلاف ایک دوسرے کو کیا ہوا ہے بچے جو دیکھ رہے وہ سیکھ رہے ہیں اور مستقبل میں اسی ہر عمل کریں گے۔ مہنگی تعلیم کے ساتھ بچیوں کو وقت دیں انکی ایکٹویٹیز پر نظر رکھیں اس کی دوستوں کا سرکل دیکھیں اچھا برا ساتھ ساتھ بتائیں۔ کہیں غلطی پر ہے بچی تو منع کریں پیار سے سمجھائیں۔ میں حیران ہوتی ہوں جب بچیوں کو ایسے الفاظ استعمال کرتے دیکھتی ہوں جو غیر معمولی نہیںہوتے لیکن بچیوں کو پتہ ہی نہیں کہ وہ استعمال کرنے ہیں یا نہیں۔ لباس کے نام پر فیشن کے نام پر بچیوں کو ننگا مت کریں انکو بتائیں کہ زندگی گزارنے کے لیے کیا کیا ضروری ہے۔ حلال حرام کی تمیز سکھائیں۔ فیشن اور ماڈرنزم مادر پدر ازادی کو نہیں کہتے ہیں بلکہ وسعت قلب اور وسعت زین کو کہتے ہیں۔ میں نے بہت بڑے کالجز میں دیکھا ہے کہ انکا بڑا ہاتھ بچیوں کے بگاڑنے میں آپ سوچ رہے ہونگے کہ کیسے؟ وہ ایسے کہ پرائیویٹ ادارے ہوں یا گورنمنٹ کے بچیوں کو بری بات پے بھی منع نہیں کیا جاسکتا۔

    اساتذہ بچیوں کے رحم و کرم پر ہیں خاص طور ہر خواتین اساتذہ۔ مرد اساتذہ بھرتی کر کے بھی بچیوں کے دماغ کے ساتھ کچے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ ایف ایس سی کی بچیوں کے ساتھ تو کھلواڑ ہوہی رہا ہے۔حیرانگی ان پرائیویٹ اداروں کی یونیورسٹی کلاسز پر ہے جن پے بچیاں ادھی سے زیادہ دوسرے اور تیسرے سمیسٹر تک شادی کر لیتی ہیں وہ بھی نہیں جانتیں کہ کیا بات کرنی ہے کیسے بیٹھنا ہے کیسے چلنا ہے کیسے پہننا ہے۔ یہ مت سمجھیں کہ کالجز یا یونیورسٹی میں سوئپر ہے شاپ کیپر ہے گارڈ ہے آپ سٹیٹس کو چھوڑیں اسکی زہنیت نہیں بدل سکتے اس لیے اپنے اندر تبدیلی لائیں۔ اپنے آپ کو سمجھیں۔ راستے میں پڑی پلیٹ کو پاؤں سے سائڈ پر کرنا یا بوتل پی کر وہیں پھینک دینا ریپر پھینک دینا یا جوس کا خالی ڈبہ ڈسٹ بن کے بجائے کہیں بھی رکھ دینا فیشن نہیں ہے۔ ماڈرنزم نہیں ہے۔اور نا ہی یہ طریقہ اپکو امیر یا لاڈلا بناتا ہے یہ بدتہذیبی میں اتا ہے۔ آپ لاڈلے نہیں لوگوں کی نظر میں بدتہذیب کہلاتے ہیں اور بحثیت مسلم بھی ہم پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم صفائی کا خیال رکھیں کیونکہ یہ "نصف ایمان” ہے اس لیے اپنی بچیوں کی تربیت خود کریں اداروں میں صرف ڈگری دی جارہی ہے اپکی دی ہوئی فیسوں کی رسید دی جارہی ہے تربیت نہیں کی جارہی۔ یہ بچیاں آنے والے وقت میں گھر کیسے سمبھالیں گی؟ بچے کیسے پالیں گی؟ بچوں کی تربیت کیسے کریں گی۔ خدارا والدین توجہ دیں اس پر۔
    جزاک الله
    @irumrae

  • عید الاضحی کی روایتیں : تحریر عینی سحر

    عید الاضحی کی روایتیں : تحریر عینی سحر

    اللہ تعالیٰ نے سورہ حج کی آیت ٣٧ میں فرمایا
    لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوْمُهَا وَلَا دِمَاۤؤُهَا وَلٰـكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْۗ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَـكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمْۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ

    ‘نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے نیکو کار لوگوں کو’

    یہی عید الاضحی کی اساس ہے کے نہ نمود و نمائش نہ ہی فخر و غرور اور نہ ہی مہنگے جانور خرید کر اترانے کا نام عید الاضحی ہے _ مسلمانوں کا یہ مذہبی تہوار حضرت ابراہیم علیہ سلام کی اس عظیم قربانی کی یادگار میں ہے جب انہوں نے خواب میں ملنے والے حکم الہی پر عمل کرتے ہوۓ اپنے جگر گوشے حضرت اسماعیل علیہ سلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کی حکم بجالانے کی کوشش کی _ اللہ پاک نے انکی بندگی اور فرمانبرداری کو قبول فرماتے ہوۓ حضرت اسماعیل علیہ سلام کو بچا لیا اور انکی جگہ ایک دنبے کو قربان کیا
    یہ بندگی یہ عاجزی یہ خالق و ارض و عرش کا حکم بجا لانا ایک مثال ہے تمام جہان والوں کیلئے اللہ کی راہ میں اپنی سب سے عزیز شے کو قربان کرنے کا جذبہ پیدا کیا جاۓ ہر عید الاضحی پر سنت ابراہمی پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ اپنی استعاعت کےمطابق جانور خرید کر اللہ کی راہ میں قربان کئے جائیں

    اسمیں نہ تو نمود ونمائش کا عنصر ہو نہ ہی معاشرے میں اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش ہو بلکے اپنے عمل کو اللہ کی رضا کیلئے خالص کرلینے کا نام ہی بندگی ہے جسکا حکم اللہ نے سورہ حج میں ہمیں دیا کے قربانی کے جانور کا گوشت اور اسکا خون اللہ تک نہیں پہنچتا بلکے مسلمان کا تقویٰ اللہ تک پہنچتا ہے _ وہ خلوص نیت پر مبنی ہے کے ہم اپنی دی ہوئی قربانی کو صرف ثواب نیت سے اللہ کی راہ میں قربان کریں

    عید الاضحی کی بنیاد میں یہ عنصر پنہاں ہے کے ہم معاشرے کے محروم طبقے کو نظر انداز نہ کریں اور قربانی کا گوشت انھیں پہنچائیں تاکے انکی تنگدستی میں انکی مدد ہو سکے یہی وجہ ہے کے قربانی کے گوشت میں غربا کا ایک حصہ مقرر ہے . اسکے ساتھ رشتہ داروں اور قربت داروں کا خیال رکھنے کا بھی حکم ہے تاکے صلہ رحمی میں کوئی کمی نہ ہو
    عید الاضحی اس روایت کا نام ہے کے اپنے عزیز رشتہ دار پڑوسیوں اور دوست احباب کی بھی مدد کریں والدین اور رشتہ داروں کےحقوق پورے کئے جائیں تبھی رب کائنات کی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے

    عالم اسلام عید الاضحی پر قربانی کا فریضہ ادا کرکے سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہے
    بحیثیت پاکستانی ہمارا فریضہ محض قربانی کر کے اور اسکا گوشت بانٹ کر ہی پورا نہیں ہوتا بلکے لازم ہے کے ہم اپنے گردو نواح کا بھی خیال رکھیں اور حکومتی ہدایت کے مطابق قربانی کی آلائشوں کو ٹھکانے لگائیں ، گلی محلے اور سڑکوں پر الاینشیں پھینکنے کی بجاۓ مقامی حکومت کی ہدایت کے مطابق مطلوبہ مقام پر ہی الائشیں پہنچائیں تاکے گلی محلوں اور سڑکوں میں تعفن پیدا نہ ہو اور بیماریاں نہ پھیلیں

    مسلمان کا فریضہ صرف جانور کی قربانی سے ہی پورا نہیں ہوتا بلکے ضروری ہے کے نیت کو صرف رب کی رضا کیلئے خالص رکھتے ہوۓ اسکی پیدا کردہ مخلوق اور بناۓ گۓ رشتوں کے حقوق پورے کریں اور عید الاضحی کی اس اصل روح پر عمل کریں کے انسان کی اپنی کوئی انا نہیں بلکے اسکے پاس جو کچھ ہے وہ رب العزت کا ہے اور وہ اسکی راہ میں سنت ابراہیمی کو پورا کرتے ہوۓ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرے کیوں کے وہی ایک تقویٰ ہے جو اللہ کے ہاں پہنچتا ہے

  • جمعہ کی فضلیت   تحریر: فہد ملک

    جمعہ کی فضلیت تحریر: فہد ملک

    جمعہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اجتماع سے مشابہہ ہے، جمعہ (جمع ہونے کا دن)
    ہم (امت محمدیہ) بہت خوش نصیب ہیں کہ اللہ تَعَالٰی نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے ہمیں جُمُعۃُ الْمبارَک جیسی بہت بڑی نعمت سے نوازا ہے۔ مگر افسوس! ہم نا قدرے لوگ جُمُعہ مبارک کوبھی عام دنوں کی طرح غفلت میں گزار دیتے ہیں حالانکہ جُمُعہ کا دن تو عید کا دن ہے، جُمُعہ کا دن ہفتے کے دنوں کا سردار ہے، جُمُعہ مبارک کے روز جہنَّم کی آگ نہیں سُلگائی جائے گی، جُمُعہ کی رات دوزخ کے دروازے بند رہتے ہیں، جُمُعہ کے دن کو قِیامت کے دن دلہن کی طرح اُٹھایا جائیگا، جُمُعہ کے روز مرنے والا شخص خوش نصیب مسلمان شہید کا رُتبہ پاتا ہے۔ اور قبر کے عذاب سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔ حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کے فرمان کے مطابق، جُمُعہ مبارک کو حج ہو تو اس کا ثواب ستَّر حج کے برابر ہوتا ہے ، جُمُعہ کی ایک نیکی کا ثواب ستّرگنا ہوتا یے۔ (چونکہ جمعہ کا شرف بہت زیادہ ہے لہٰذا ) جُمُعہ کے روز گناہ کاعذاب بھی ستّرگنا ہی ہے۔ (مُلَخَّص از مِراٰۃ ج۲ص ۳۲۳، ۳۲۵ ، ۶ ۳ ۳)

    جمعہ المبارک کے فضائل کے تو کیا کہنے ۔ اللّٰہ تعالٰی نے جُمُعہ مبارک کئ فضلیت بیان فرماتے ہوئے ایک پوری سورت ’’ سُوْرَۃُ الْجُمُعَہ’’ نازل فرمائی جو کہ قرآن پاک کے 28 پارے میں جگمگا رہی ہے۔

    ارشاد ہے۔

    ذیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۹)

    ترجمہ: ا ے ایمان والو ! جب نَماز کی اذان ہوجُمُعہ کے دن تواللہ کے ذِکر کی طرف دوڑواور خریدوفروخت چھوڑدو،   یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم جمعہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام اس دن پیدا کئے گئے تھے۔ اور اس دن میں جنت میں داخل کئے گئے تھے۔ اور اس دن کو ہی جنت سے نکالے گئے اور قیامت بھی اسی دن آئے گی

    ‎@Malik_Fahad333

  • پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم   تحریر : اقصیٰ صدیق

    پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تحریر : اقصیٰ صدیق

    حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 12 ربیع الاول عام الفیل بمطابق 570ء یا 571ء کو دنیا میں رہ تشریف لائے ۔
    آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ کا نام محمد رکھا، عربی زبان میں لفظ “محمد” کے معنی تعریف کے ہیں، یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی طرف سے انسانیت کی جانب طرف بھیجے جانے والے انبیاء اکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی تکمیل کے لیے بھیجا.
    پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور حیات طیبہ ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی قرآن کریم کا عملی نمونہ ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی سے ہدایت میسر آسکتی ہے، اللّٰہ پاک ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔
    رسولؐ اللہ سے محبت ایک مسلمان کے ایمان کا عملی تقاضا ہے حضور ؐ نے فرمایا:” کوئی شخص اس وقت تک ایمان والا نہیں ہے ہو سکتا جب تک میں اس کو اسکے ماں باپ اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاٶں“۔

    سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنا ہر اس شخص کے لیےضروری ہے، جو دین اسلام کو جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا خواہش مند ہے۔ اور خود کو سیرت طیبہ کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے،

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو،
    لہٰذا سیرت نبوی کو جانے بغیر یہ ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتباع رسول کو لازم اور فرض قرار دیا ہے۔
    صحابہٴ کرام سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس تھے ان کی عبادات میں ہی نہیں بلکہ چال ڈھال میں بھی سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور جھلکتا تھا۔
    اگر کسی کو عہدِ رسالت نہ مل سکا تو پھر ان کے لیے عہدِ صحابہ معیارِ عمل ہے۔

    اللہ رب العزت نے دین اسلام کو نظامِ حیات اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے مکمل نمونہ حیات بنایا ہے یہی طریقہ اسلامی طریقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سنت کہلاتا ہے اور آپ نے فرمایا ہے من رغب عن سنتی فلیس منی جس نے میرے طریقے سے اعراض کیاوہ مجھ سے نہیں ہے۔
    انسائیکلوپیڈیا کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب ترین شخصیت قرار پائے ہیں ۔
    دنیا وآخرت میں کامیابی وسرفرازی کا عنوان اتباع سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا زیادہ تر وقت مکہ سے باہر واقع ایک غار میں جا کر عبادت میں صرف کرتے تھے اس غار کو غار حرا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر 610ء میں ایک روز حضرت جبرائیل علیہ السلام (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا پیغام دیا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن کی پہلی آیت ( پہلی وحی) چالیس برس کی عمرمیں نازل ہوئی۔
    اس کے بعد سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رسول کی حیثیت سے تبلیغ اسلام کی ابتداء کی اور لوگوں کو توحید کی دعوت دینا شروع کی۔
    اس سے پہلے ہر طرف درندگی اور حیوانیت کا راج تھا ہر طاقتور فرعون بنا ہوا تھا۔ قتل وغارت عام تھی نہ عزت و عصمت محفوظ، نہ عورتوں کا کوئی مقام، نہ غریبوں کے لیے کوئی پناہ،
    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا۔

    @_aqsasiddique

  • بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان  تحریر: منصور احمد قریشی

    بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان تحریر: منصور احمد قریشی

    پاکستان کی آزادی کے وقت ، پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کا نظام وراثت میں ملا جو برطانوی عہد کا عظیم ورثہ تھا ۔ یہ نظام صحتِ عامہ کی خدمات اور کچھ علاج معالجہ کی شکل میں تھا ۔ پاکستان میں صحت کی پالیسیاں بنانے اور منصوبہ بندی کا معاملہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ صوبائی حکومتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان پالیسیوں کے نفاذ کو یقینی بنائیں ۔ سب سے بڑا مسئلہ جو نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں پبلک ہیلتھ سکولوں اور ٹیکنیشین ٹریننگ اداروں کو متعارف کروا کر میڈیکل پروفیشنلز کو تربیت دے کر صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے میں سرمایہ کاری کرنے کی بجاۓ میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ترقی میں اپنے محدود وسائل خرچ کر رہی ہیں۔

    پاکستان میں کوالیفائیڈ نرسز ، دائیوں ، دانتوں کے ڈاکٹرز اور فارماسسٹس کی کمی ہے ۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کے حوالے سے کوئی ٹھوس حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جا رہی ۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں زچگی کے دوران خواتین کی شرح اموات خاصی زیادہ ہے ۔ ملک میں خواتین کی اکثریت خون کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہے ۔

    صحتِ عامہ کے ناقص نظام کا اثر اسہال کے بڑھتے ہوۓ معاملات خصوصاً بچوں میں دیکھا جا سکتا ہے ۔معاشرے کے امیر طبقے کو صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہے کیونکہ وہ نجی ہاسپٹلز کے متحمل ہو سکتے ہیں ۔ لیکن دوسری طرف غریبوں کو بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ حکومت صحت کی خدمات کی فراہمی میں معیار کو یقینی بناۓ ۔ اسے صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کو بہتر مراعات فراہم کرنی چاہیئیں ۔ اور تربیتی اداروں کے نظام کو بہتر کرنے کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیۓ ۔ تاکہ پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے ۔ کیونکہ ایک صحت مند قوم ، بہتر پیداواری اور صحت مند معیشت کو یقینی بنا سکتی ہے ۔

    آئینِ پاکستان کے مطابق سواۓ وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں کے ، صحت کی دیکھ بھال بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ کورونا، ایڈز ، پولیو اور کچھ دیگر توسیعی پروگراموں کے نفاذ کی اور حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام کی ذمہ داری بڑی حد تک وفاقی وزارتِ صحت پر ہے ۔

    پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ نجی اور سرکاری شعبہ پر مشتمل ہے ۔پاکستان میں نظامِ صحت کی حالت یہ ہے کہ نجی شعبہ ، آبادی کا تقریباً 70 فیصد خدمت کرتا ہے ۔ پاکستان میں بنیادی طور پر خدمت کے نظام کی فیس ہے ۔ سرکاری طور پر صحت کے حوالے سے بدانتظامی اس حد تک عیاں ہے کہ نہ تو نجی اور نہ ہی سرکاری شعبے ریگولیٹری فریم ورک کے اندر کام کرتے ہیں ۔

    ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 30 فیصد سے بھی کم آبادی کو پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز کی سہولیات تک رسائی حاصل ہے ۔ اور اوسطً ہر فرد ایک سال میں ایک سال سے بھی کم ہیلتھ کیئر سینٹرز تک جاتا ہے ۔ ہیلتھ کیئرسینٹرز میں جانے میں عدم دلچسپی کی وجہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد اور خاص طور پر وہاں خواتین کی کمی ، غیر حاضری کی اعلٰی شرح ، سہولیات کا ناقص معیار اور ادویات کی عدم دستیابی شامل ہے ۔ جبکہ دوسری طرف پاک فوج ، پاکستان ریلوے ، اٹامک انرجی اور بہت سے دیگر ادارے ایسے بھی ہیں جو اپنے ملازمین کو بہترین صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

    صحت کی پالیسی کی تعریف فیصلے ، منصوبے ، اور اقدامات کے طور پر کی جاسکتی ہے ۔ جو معاشرہ میں صحت کی دیکھ بھال کے مخصوص اہداف کے حصول کے لیۓ کئے جاتے ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ مل بیٹھکر عوام کی صحت کے حوالے سے ایک واضح اور جامع پالیسی مرتب کریں ۔ نئے ہاسپٹلز بناۓ جائیں ۔نئے ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز کو ملازمتیں دی جائیں ۔ پیشہ ور نرسز کو تعینات کیا جاۓ ۔ غریب عوام کے لیۓ مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاۓ ۔ تاکہ غریب عوام کو بہتر اور مفت صحت کی سہولیات میسر آ سکیں اور اُنکا معیارِ زندگی بہتر ہو سکے ۔

    Twitter Handle : @MansurQr

  • انصاف کا نظام    تحریر:   فرح خان

    انصاف کا نظام تحریر: فرح خان

    ’’مسلمانو!انصاف کے علم بردار بنو اور سچی گواہی دو چاہے وہ تمھارے اپنے،والدین ،رشتے داروں یا امیر وبااثر لوگوں کے خلاف ہو۔اگر تم نے عدل وانصاف کرتے ہوئے ہیراپھیری سے کام لیا تو اللہ تمھارے اعمال سے باخبر ہے۔‘‘(سورہ النساء۔135)
    قیام پاکستان کے بعد بد قسمتی سے وطن عزیز میں انصاف کا نظام آہستہ آہستہ انتہائی سست روی کا شکار ہو گیا.. کہیں بیس سال بعد معزز شہری جیل کی صعوبتیں کاٹ کر رہا ہوتے ہیں تو کہیں قاتل سینہ طان کر قانون کو گھر کی لونڈی سمجھ کر آزاد گھوم رہے ہیں.. یقیناً کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں. یہ بات اٹل ہے کہ ظالم زیادہ دیر تک ڈٹ کر نہیں کھڑا ہو سکتا کیونکہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے.
    پاکستان میں نظام کی خرابی کی وجہ سب سے زیادہ انصاف اور میرٹ کی کمی ہے کیونکہ جب کسی شہری کو انصاف نہ ملے تو وہ قانون سے نالاں ہو جاتا ہے پھر وہ دیگر ایسے راستے اپناتا ہے جس کی وجہ سے وہ ریاست اور اپنے لئے مزید پریشان ماحول پیدا کرتا ہے.

    پاکستان میں بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا انصاف کا نظام کمزور ہوچکا ہے.ایک لمحے کے لئے اگر حالیہ واقعات کی طرف نظر دوڑائیں تو موٹروے پر خاتون سے زیادتی کرنے والا عابد علی پچھلے کئی سالوں سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ وہ کئی بار قانون کے گرفت میں آیا تھا مگر ہر بار رشوت ، سفارشی کلچر کی وجہ سے رہا ہوجاتا۔ عابد نے ان تمام معاملات کو دیکھنے کے بعد اس طرح کی مجربانہ حرکت کی.

    ناانصافی کا چلن معاشرے کو انتشار، بے چینی اور لاقانونیت کی سمت لے جاتا ہے. ۔آج کل بد قسمتی سے ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی کسی ظلم بربریت اورہناانصافی کا شکار نظر آتا ہے اور اسے انصاف نہیں مل پاتا.

    مظلوم کو انصاف فراہمی میں تاخیر کرنا بھی ظلم کے مترادف ہے اور پاکستان میں یہ تاخیر عدالتی نظام کا وطیرہ بن چکا ہے. چند عرصہ پہلے پاکستان کے ادارے،نیشنل جوڈیشنل پالیسی میکنگ کمیٹی کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ۔اس رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں ’’بیس لاکھ‘‘ سے زائد مقدمے زیر التوا ہیں۔ بعض مقدمے تو سینکڑوں برس پرانے ہیں۔ ان سے وابستہ سائل انصاف کی راہ تکتے تکتے اللہ کو پیارے ہوگئے مگر اپنے حق سے محروم رہے۔

    کمزور قانونی نظام نے شہریوں کے درمیان غلط اور صحیح کی تمیز ختم کر دیتا ہے. جب خیر اور شر درمیان فرق ختم ہو جائے تو وہ معاشرہ زوال کی طرف گامزن ہو گا. ۔پاکستان میں انصاف نہ ملنے سے پاکستانی معاشرے میں انتشار اور بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے.. کوئی تیل چھڑک کر خود کشی کر رہا ہے تو کوئی ٹرین کے آگے لیٹ کر پاکستان کے قانونی نظام پر ایک زوردار تھپڑ رسید کر کے کوچ کر جاتا ہے.
    معاشرے میں تبدیلی لانے کے لئے ہم سب پر زمے داری ہے کہ ہم حق و انصاف کے لئے ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں تا کہ خدانخواستہ آپ کے ساتھ ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ ہو جائے ..

    ‏‪@iam_farha

  • سیاحت میں رکاوٹ  تحریر: عمران راجہ

    سیاحت میں رکاوٹ تحریر: عمران راجہ


    پاکستانی سیاحت کو درپیش مسائل
    ‎پاکستان کے شمالی علاقے اپنی بے مثال خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ گرمیوں کا آغاز ہوتے ہی سیاحوں کی بڑی تعداد شمالی علاقہ جات کا رخ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ لیکن گذشتہ دنوں ناران کاغان جانے والوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہوا کیونکہ ناران کاغان روڈ پر ناجائز تجاوزات کے خلاف ہونےوالے آپریشن کی وجہ سے وہاں حالات کشیدہ ہو گئے۔ کشیدگی پر تو مقامی انتظامیہ نےجلد ہی قابو پا لیا، لیکن کیبن اور ہوٹلوں کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے وہاں کی خوبصورتی بے حد متاثر ہوئی۔ اگرچہ شمالی علاقہ جات کی قدرتی خوبصورتی کو بحال رکھنے کے لیے یہ آپریشن ضروری تھا لیکن مناسب یہ تھا کہ اس کام کو سردیوں میں کیا جاتا جب سیاح یہاں کا رخ کم ہی کرتے ہیں۔ یا پھر یہ کام گذشتہ سال بھی کیا جا سکتا تھا جب پورا سال سیاحتی مقامات کرونا کے باعث بند رہے۔

    ‎گزشتہ کچھ سالوں سے دہشت گردی کی وجہ سے سیاحوں نے پاکستان کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن آپریشن ضرب عصب اور آپریشن ردالفساد کی کامیابی کے بعد اب آہستہ آہستہ سیاحتی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہورہی تھیں کہ کرونا کی آمد نے شعبہ سیاحت کو ایک بار پھر بری طرح متاثر کیا۔ کرونا کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ٹورازم انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

    ‎دنیا بھر میں سیاحت کو ایک صنعت کا درجہ حاصل ہے۔ سیاحت کی بدولت نہ صرف ملکی معیشت مضبوط ہوتی ہے بلکہ مقامی افراد کے لیے روزگار اور کاروبار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے سیاحت کے لیے موزوں ترین ملک پاکستان میں سیاحت پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ پاکستان کے جی ڈی پی کا صرف 7.1 فیصد سیاحت سے حاصل ہوتا ہے جبکہ دیگر ممالک میں اس کی شرح 10 فیصد ہے۔
    ‎پاکستان دنیا کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جو سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس کی بھرپور ثقافت ، جغرافیائی اور حیاتیاتی تنوع اور تاریخ کی وجہ سے سیاحت کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ بلند و بالا برف پوش پہاڑی سلسلہ کوہ ہمالیہ، جہاں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پائی جاتی ہے، وسیع و عریض صحرا تھر اور چولستان اپنی تمام تر خوبصورتی اور اسرار لیے، سرسبز اور مسحور کن وادیاں جن میں وادئ نیلم، ہنزہ، کالاش، ناران کاغان شامل ہیں، تاریخی مقامات جیسے قلعہ روہتاس، شاہی قلعہ لاہور، شالامار باغ بادشاہی مسجد اور مسجد وزیر خان، صدیوں پرانی تہذیب کی نشانیاں ٹیکسلا، موہنجو دڑو اور ہڑپہ، مختلف مذاہب کے اہم مذہبی مقامات، اس کے علاوہ پاکستانی ثقافت جو کہ کراچی سے لے کر خیبر تک ہر طرح کے رنگ لیے ہوئے ہے، یہ سب چیزیں مل کر سیاحوں کے لئے بے پناہ کشش کا سامان پیدا کرتی ہیں۔ یہاں کے مقامی تہوار شندور کا میلہ، پولو فیسٹیول، مالم جبہ میں ہونے والا ski tournament اور اسی طرح کی دوسری سرگرمیاں سیاحوں کے لیے خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔
    ‎پاکستان میں سیاحت کا شعبہ ابتدا سے ہی عدم توجہ کا شکار رہا ہے۔سیاحت کے شعبے کی زبوں حالی کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، غیر معیاری ریستوران ، صفائی کا ناقص انتظام اور ناکافی سہولیات اندرون اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تاریخی عمارات جو کہ آرٹ کا بہترین شاہکار ہیں انتہائی خستہ حال ہوتی جا رہی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی ناقص سہولیات کی وجہ سے آئے دن حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان بدترین دہشت گردی کا شکار رہا۔ میڈیا خاص طور پر بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے دنیا بھر کے سیاحوں کے قدم روک دیے۔

    ‎موجودہ حکومت سیاحت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔کرتار پور راہداری اس سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔ جس کی بدولت سکھ زائرین کے ساتھ ساتھ دوسرے سیاح بھی بڑی تعداد میں پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں سیاحت کی وسعت اور فروغ دینے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک نیا ویزا سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت پاکستانی حکومت 175 ممالک کو 7 سے 10 کاروباری دنوں کی مدت میں تین ماہ کا ای ویزا فراہم کرے گی اور 50 ممالک کو پاکستان آمد پر ویزا کی پیش کش کی گئی ہے۔ سی پیک کا منصوبہ ایک اہم پیشرفت ہے جو نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ اس سے سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

    ‎یوریشین ٹائمز میگزین کے مطابق پاکستان کو 2020 میں تعطیلات کے لیے بہترین مقام قرار دیا گیا اور دنیا کا تیسرا سب سے اعلی مہم جوئی کا مقام بھی قرار دیا گیا۔ چونکہ ملک میں سیکیورٹی کے حالات بہتر ہوئےہیں، سیاحت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ دو سالوں میں ملکی سیاحت میں 300 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں ٹریول ولاگرز کی آمد ہوئی ، جنہوں نے ملک کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کیا، خاص طور پر شمالی علاقوں ہنزہ اور اسکردو۔

    ‎حکومتی کوششوں کے ثمرات تو نظر آنا شروع ہو گئے لیکن حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ میڈیا پر اکثر اوقات سنسنی پھیلانے کے لیے ایسی خبریں نشر کی جاتی ہیں کہ سیاحوں پر مقامی افراد نے حملہ کر دیا یا ان کو اغواء کر لیا ۔ ایسی خبریں نہ صرف ملک کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں بلکہ بیرون ملک یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ مقام ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے میں میڈیا سب سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بے مقصد پروگراموں کی بجائے پاکستان کی ثقافت اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے دستاویزی پروگرام پیش کیے جائیں۔ بلاگرز اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یو ٹیوب پر زیادہ سے زیادہ پاکستانی علاقوں اور پاکستانی ثقافت کو اجاگر کرنے والی ویڈیو پیش کی جائیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا بہت اہم ہتھیار ہیں جن کا مثبت استعمال کر کے ہم بہت سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر سیاحت کے شعبے پر اسی طرح توجہ دی جائے جیسے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے دی جا رہی ہے تو اپنی متنوع خصوصیات کے باعث پاکستان دنیا کا بہترین سیاحتی ملک بن سکتا ہے اور بین الاقوامی سیاحت کو فروغ دے کر اتنا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے کہ ملک کا قرضہ بھی بآسانی ادا کیا جا سکے اور ملک ترقی کی راہ پربھی گامزن ہو

    ۔
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • راج کا راز .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    راج کا راز .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    پیشہ جو کہ فارسی زبان سے اردو زبان میں آیا جس کو انگریزی میں Profession، عربی میں کسب، فن اور شغل پراکرت میں کام اور ازبک میں کسب کہتے ہیں۔اسی پیشہ سے پیشہ وارانہ، پیشہ وری جیسے مرکب الفاظ معرض وجود میں آے۔ اسی سے پیشہ اٹھانا بھی مستعمل ہے جس سے مراد پیشہ اختیار کرنا ہے۔ایک لفظ پیشہ آموز بھی ہے جس سے مراد کوئی کام یا فن وغیرہ سکھانے والا ہے۔اگر بات کی جاے انگریزی کے لفظ Professionکی تو یہ لاطینی زبان سے لیا گیا ہے جب کہ فرانسیسی زبان میں اسے حلف نامے سے جوڑا گیا ہے۔اسی لفظ پیشہ سے جڑا ایک بنیادی لفظ مزدور نہ ہوتا تو اس جہان رنگ و بو میں اونچے اونچے محلات، دیدہ زیب عمارتیں اور نظر سے اوجھل ہوتی بلند وبالا چھتیں بھی نہ ہوتیں۔حیدر علی جعفری کا شعر ہے
    ؎خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں
    نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا
    فارسی کے لفظ ”مُزد“ کے ساتھ ”ور“بطور لاحقہ صفت لگانے سے مُزدور بنا۔فارسی کے مزدور سے وہی مراد ہے جو انگریزی کے لفظ Labourerاور سنسکرت کے سیوک سے مراد ہے۔عام زبان میں لفظ مزدور مجور کا تلفظ اختیار کرلیتا ہے اب یہ بھی محض اتفاق ہی ہوگا کہ لفظ مجور عربی کے لفظ ماجور کے قریب ترین ہے جس کے معنی اجر دینے کے ہیں۔ظریف لکھنوی شامت الیکشن میں لکھتے ہیں
    ؎حسب خواہش گر بدل مجھ کو عطاکردیں جناب
    کیا عجب پیش خدا ماجوربھی ہوں اور مثاب
    اب لفظ مستری کی طرف ذرا غور فرمائیے اور پھر ذرا مسطر کو دیکھیں جس سے مراد ایسا آلہ جس سے سطریں بنائی جائیں جسے ہمارے ہاں فُٹا بھی کہتے ہیں۔اب اگر لفظ مستری اور مسطری کو دیکھیں تو کیاخیال آتاہے؟ یہ لفظ اصل میں مسطری ہوگاجو بعدازاں مستری ہوگیا۔اسی لفظ مستری کے لیے راج مستری کا لفظ بھی استعمال میں رہا ہے۔ راج عربی زبان کے لفظ راز کی تبدیل شدہ شکل ہے جس کا معنی ماہر کے ہیں اور راج کے بھی یہی معنی ہیں۔اسی طرح فارسی کے لفظ خدمت کے ساتھ لفظ گار کو صفت فاعلی استعمال کرکے خدمت گار کا لفظ بنایا گیا جس کا مطلب خدمت کرنے والا ہوتا ہے۔اسی لفظ خدمت کے ساتھ رسیدہ لگاکر خدمت رسیدہ کردیا جاے تو اس سے مراد ایسا ملازم ہوگا جو نوکری کے قابل نہ ہو۔اب اسی لفظ ملازم کو دیکھیے جو کہ عربی کے لفظ لزوم سے نکلا ہے۔ ساتھ رہنے والے، چپکے رہنے والے اور تنخواہ یا اجرت پر کام کرنے والے کو مُلازِم کہتے ہیں۔لفظ ملازم کے مرکبات اگر دیکھیں تو ملازم پیشہ، ملازم خاص، ملازم درگاہ سرکار اور ملازم متعہد وغیرہ ہیں۔ قارئین کے لیے میری طرح ملازم متعہد لفظ نیا ہوگا تو اس کا معنی بتاتا چلوں کہ اس سے مرادوہ ملازم ہوتا ہے جس کو خاص شرائط پر ملازمت ملی ہو۔
    ؎آاے اثرملازم سرکار گریہ ہو
    یاں جزگہر خزانے میں تنخواہ ہی نہیں

    ریلوے اسٹیشن پر لال کپڑے پہنے بوجھ اٹھاتے لوگ تو آپ سب نے دیکھے ہی ہوں گے۔ پاکستانی ریل کی خستہ حالی کے سبب اس طبقے کا حال بھی کافی پتلا ہوچکا ہے۔لفظ قلی جہاں سے آیا ہے وہ علاقہ تو اس وقت پاکستانیوں کی نظروں میں سمایا ہوا ہے۔ لفظ قلی ترکی زبان سے اردو میں آیا۔ اردو میں تو اس سے مراد وہ مزدور ہے جو باربرداری کا کام کرتا ہے اور ترکی میں اس سے مرادغلام /بندہ ہے جیسے ہمارے ہاں عبداللہ، عبدالخالق وغیرہ۔اب جب انگریز ہندوستان میں آیا تو گجرات کی ایک ذات یا برادری غربت کے ہاتھوں بار برداری کا کام کیا کرتی تھی جنھیں کولی کہا جاتا تھا۔ لفظ کولی انگریزی میں پرتگالی سے لیا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انگریز اس لفظ سے ہندوستان میں ہی واقف ہوے ہوں۔انگریز اسے ک کے ساتھ لکھا کرتے تھے اور اردو میں اہل ترک کی وجہ سے قلی مستعمل ہوا۔منور رانا کا شعر ہے
    ؎بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے
    رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہوجاتے ہیں
    شنید ہے کہ جب انگریز آے تو انھوں نے نوکر کو Boyکہنے کا رواج ڈالا۔ ہوسکتا ہے کہ اس لفظ Boy میں Slaveچھپا بیٹھا ہو۔ کیوں کہ کمپنی کا دور انسانی لحاظ سے ایسا کوئی قابل قدر نہیں ہے اور ویسے بھی انگریز ہندوستانی عوام کو بلڈی سویلین ہی سمجھتی تھی۔ انگریزوں نے اپنی کالونیوں سے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کو خرید کریا پھر مختلف حیلوں بہانوں سے ان کی آزادی کو چھین کر انھیں Slaveبنا کر اپنے کام نکلواے ہیں۔ویسے خدمت گاروں کو رقم دے کر خریدنے کی روایت بھی موجود رہی ہے جس کے لیے اردو زبان میں لفظ ”غلام“ مستعمل تھا۔حالاں کہ عربی زبان میں غلام سے مراد ایسا نوجوان لڑکا ہے جس کی مونچھیں اور داڑھی ابھی صرف نام کی ہو۔ اردو زبان میں ایسے لڑکے کے لیے اغلام کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔سنسکرت میں غلام کے لئے لفظ داس استعمال ہوتا ہے۔سراج فیصل خان اسی لفظ داس کو کس طرح اپنے شعر میں عبرت کا ساماں بناتے ہیں۔

    لکھاہے تاریخ کے صفحہ صفحہ پر یہ
    شاہوں کو بھی داس بنایا جاسکتاہے
    ہوٹلوں میں کام کرنے والوں کی ایک قسم waiterبھی کہلاتی ہے۔اگر انگریزی زبان کے لفظ waiterکو دیکھیں تو اس سے مراد ایک ایسا ملازم ہے جو کھانے کی میز پر منتظر رہتا ہو۔ جسے آج سے چند سال قبل بیرا کہہ کر پکارا جاتا تھایہ انگریزی کے لفظ Bearerکی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ شروع کے ادوار میں بوجھ اٹھانے والوں کے لیے یہ لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔ انگریزی میں یہ لفظ لاش کو قبر تک لے جانے والے کے لیے بھی مستعمل رہا ہے۔انگریز جب ہندوستان پر قابض ہوا تو نچلی ذاتوں کے لوگ جو چھوٹے موٹے کام کیا کرتے تھے ان کے لیے کئی قسم کے نام بھی ساتھ لایا جن میں یہ ایک یہ لفظ بھی تھا۔شروع میں تو پانی بھرنے والوں کو یہ لفظ دیاگیا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ان میں سے کچھ کو صاف ستھرے سفید کپڑوں میں ملبوس کرکے کھانے کی میزوں کے اردگرد تعینات کردیا گیا اوران کے ذمہ میزوں پر کھانا پہنچانالگا دیاگیا۔جب یہ لفظ ہندوستانیوں کے ہاتھ لگا تو انھوں نے دوسری زبانوں کے دیگر الفاظ کی طرح اسے بھی اپنی زبان پر چڑھانے کے لیے Bearerسے بیرا کردیا۔احمد راہی کی ایک نظم ”بہت ضروری بات اک تم سے کرنا تھی“ میں لکھا ہے
    ؎کوئی بیرانہ کوئی بٹلرنہ کوئی ماماں شاماں
    کوئی گراج نہ کوئی کارکوئی ڈرائیورنہ خانساماں
    کسی دور میں خانساماں کی بڑی عزت اور قدر ہوا کرتی تھی۔اس بات کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ مکاتیب امیر مینائی میں اسی خانساماں کے متعلق لکھا ہے کہ ”آپ کا ممنون ہوں خانساماں صاحب نے سفارش کی“ انگریز نے آکر جہاں ملک کو لوٹا وہی اس عالی مرتبت عہدے کو کم کرتے کرتے صرف کھانا پکانے تک محدود کردیا جب کہ اس سے قبل کسی بڑے گھرانے کے میرسامان کو خانساماں کہاجاتا تھا۔اگر خان کو الگ کردیا جاے اور ساماں کو علاحدہ تو میری بات کی تصدیق ہوسکتی ہے۔انگریزی کے لفظ بٹلر کی بات کروں تو لفظ سے ہیbottleعیاں ہوکر شراب کی ایک ولایتی قسم کی یاد دلاتی ہے۔یہ لفظ فرانسیسی زبان سے انگریزی میں آیا اور شروع میں wineکی رکھوالی کرنے والے کو Butlerکہتے تھے پھر آگے بڑھتے بڑھتے Headکے معنوں میں آیا اور پھر اسے گھر کے کاموں خصوصاََ کھانے سے جڑی چیزوں سے جوڑ دیا گیا۔سیماب اکبرآبادی کیا خوب کہہ گئے
    ؎کیوں جام شراب ناب مانگوں
    ساقی کی نظر میں کیا نہیں ہے
    کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن ان رازوں سے پردہ اٹھانا میرے بس میں کہاں؟ میں بھی سیکھ رہا ہوں آپ بھی تھوڑا تھوڑا کرکے میرے ساتھ سیکھتے جائیے۔احمد علوی صاحب کے شعر میں اگرچہ لفظ ادائیگی ادا ہوا ہے لیکن دل کو چھو سا گیا ہے آپ بھی پڑھ لیجیے
    ؎الفاظ کی ادائیگی طرزبیان سیکھ
    کرنا اگر ہے عشق تو اردو زبان سیکھ