Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کے حالات اور امید کی کرن – توقیر عالم

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن – توقیر عالم

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن
    توقیر عالم

    موجودہ ملکی حالات میں ایک عام پاکستانی عجیب کشمکش میں مبتلاء ہے مہنگائی بیروزگاری اور بے شمار سماجی مسائل نے پاکستان کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے حکومتِ وقت اپنے منشور پر عمل درآمد میں ناکام ہے تو اپوزیشن بھی فقط سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف نظر آتی ہے عمران خان کے ریاست مدینے کے دعوے پر بھی محض ایک سیاسی نعرے کا گمان ہوتا ہے جہاں کابینہ میں بیٹھے چند وزیر کھلم کھلا اس دعوے کی مخالفت کر رہے ہیں
    بدلتے ھوئے علاقائی حالات کے باعث پاکستان میں دشمن کی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں بلوچستان میں بڑھتی ھوی دہشتگردی بیسوں فوجی جوانوں کی شہادتیں سوشل میڈیا پر فوج مخالف بیانے کو پھرپور انداز میں پیش کیا جانا اپوزیش کی طرف سے ایسے بیانیے کو پھرپور انداز میں پھیلانا قابل تشویش ہے
    افغان حکومت انڈیا اور امریکہ کے اشتراک سے پاکستان پر الزام تراشیوں کا سلسہ تیز کر چکی ھے اسی سلسلے کی ایک کڑی افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کا معاملہ ہے تفتیش کے بعد معاملہ کھلا تو پتہ چلا یہ ایک خود ساختہ کہانی تھی جس کو پاکستانی اپوزیشن جماعتوں اور نام نہاد صحافیوں نے خوب اچھالا
    عالمی سیاست میں پاکستان ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے افغان امن کے معاملے پر وزیراعظم کا دو ٹوک موقف چین کا سی پیک کے دوسرے فیز کا آغاز روس کا پاکستان کی بھرپور فوجی و سفارتی حمایت کا اعلان فیٹف کا پاکستان کی کارکردگی کو سراہنا کشمیر کے موقف کو بھرپور انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کرنا
    اور عرب ممالک سے بگڑتے تعلقات کی بحالی پاکستان کی عالمی سطح پر اہم.کامیابیاں ہیں

    اللہ اس وطنِ عزیز کا حامی و ناصر ہو

    توقیر عالم @lovepakistan000 فری لانس رائٹر ہیں اور ملکی سیاست اور ترقی پر لکھتے ہیں۔

  • ماری عید پردیس میں  تحریر: عزیز الرحمن

    ماری عید پردیس میں تحریر: عزیز الرحمن

    (یو اے ای) اور سعودی عرب میں ہمارے بھائیوں کی عید کس طرح ہوتی ہے میں خود ایک خود ایک اوورسیز پاکستانی ہوں اور عید کا نماز پڑھا اور گاڑی میں سفر کر رہا تھا اور سوچا کہ ہماری عید مسجد سے لے کر کپمنی کے رہائش تھا ہے اور ہر کوئی گھر میں فون کرتے ہے کہ عید مبارک اور کچھ دوست مسجد سے آئے سو جاتے ہے ، اللہ بہتر جانتا ہے پردیسیوں کی عید کچھ لوگوں تو اس عید میں اپنے اپنے ملک ہی نہیں گئے کیوں کورونا کی وجہ سے فلیٹ نہیں مل رہی تھی بار حال اس میں بھی اللہ کی رحمت اور رضا کی شامل ہوگی ۔
    اور کچھ دوست تو ایک دوسرے کے پاس ملنے جاتے ہے اور خواب ایک دوسرے کو تسلی دے رہا ہے ۔ کہ ایک دن ہمارا پاکستان بھی ترقی کرگا اور ہم پردیسی ان شاء اللہ اپنے ہی ملک میں کام کرگئے یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوتی کہ یہاں پر ہمارا مزدور طبقہ اس طرح سوچا رہا ہے ۔ الحمدللہ یہ بہت ہی خوشی کی بہت ہے ۔ لہذا میرا پیغام ہے سب پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو ہمیشہ خوش رکھے اور یہاں پر( یو اے ای) میں رہنا والے کو بہت بہت عید الاضحی مبارک اللہ پاک سب کو ہمیشہ خوش رکھے امین ثمہ آمین ۔

    @Aziz_khattak1

  • فیصل آباد میں گداگری کا راج  تحریر – شاہ زیب

    فیصل آباد میں گداگری کا راج تحریر – شاہ زیب

    ام روٹین ہو یا کوئی تہوار عید الفطر ہو یا عید الاضحی جیسے ہی نزدیک آتی مانگنے والوں کی تعداد میں بے حد اضافہ دیکھنے کو ملتا، ہر شہروں کی صورتحال یقننا ایک جیسی ہو گی لیکن میں اپنے شہر فیصل آباد کی بات کروں گا ہمارے فیصل اباد میں پچھلے دس سالوں میں گداگروں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور دن بدن بڑھتا جا رہا جسے روکنا مشکل ہو گیا ہے کبھی غور کیجئے یہی گداگر جسے ہم (بھکاری) کہتے ان کے مانگنے کے بھی مختلف طریقے ہوتے ہیں اور آج کل تو جو نظر آرہا ہے کہ اگر کسی دکان پر گاہک بیٹھا ہے تو ان کو پریشان کرنے لگ جاتے ان کو اللہ نبی کے واسطے دینے لگ جاتے جس سے گاہک خود شرمندہ ہو جاتے ہیں دیکھیں حق دار تک ڈھونڈ کر اس کو حق دینا چاہیے میں یہ نہیں کہتا کسی بھکاری کو جھڑک دیں لیکن اصل حقدار ہو اسے لازمی دیں لیکن صحیح معنوں میں دیکھا جائے ان کی بدولت غریب مساکین اور فقراء ان کے حق پر بھی ڈاکہ پڑ جاتا۔دوسری بات یہی بھکاری شہریوں کے جذبات کے ساتھ بھی کھیلتے ہیں جس اگلا اکتا جاتا اور جو یہاں فیصل آباد میں جو دیکھا گیا جو مجھے علم صبح دکانیں جوں ہی کھلتی ساتھ ہی تیس چالیس عورتوں کا گروہ گود میں بچے اور ہاتھوں میں کشکول لیے اللہ کے واسطے دے کر مانگ رہی ہوتی تو کچھ معذوری کا بہانہ بنا کر اور کچھ مرد حضرات بھی ان میں پیش پیش ہاتھ پاؤں سلامت ہونے کے باوجود کام بھی کر سکتے لیکن مانگنا جیسے پیشہ بنا لیا ان میں بیشتر نشہ کرنے کے عادی شخص موجود ہوتے جنہیں دیکھ انسانیت دھنگ رہ جاتی ۔۔
    میری بالخصوص فیصل آباد کی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ گداگری کا یہ بڑھتا ہوا عمل روکیں وگرنہ یہ عمل مزید پھیلے گا۔۔ شکری (@shahzeb___)

  • عید اور ہم لڑکیاں۔   تحریر: کنزہ صدیق

    عید اور ہم لڑکیاں۔ تحریر: کنزہ صدیق

    لو جی عید آگئ ہے اور ہمیشہ کی طرح ہم لڑکیوں کی خوشی دیدنی ہے کیونکہ ظاہر ہے بھئ جہاں بات آجائے سجنے سنورنے کی اور نئے نئے کپڑے جوتے جیولری پہننے کی تو ہم لڑکیاں سب سے زیادہ خوش ہوتیں ہیں۔
    یوں تو عید کی تیاریاں عید سے کافی دن پہلے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔
    بازار کے بار بار چکر لگانا،درزی کو جلدی کپڑے سینے کا کہا، چوڑیاں جوتیاں میچنگ لیسز لینا اور نجانے کیا کیا سیاپے ہیں ہم لڑکیوں کے۔۔
    تیاریاں کرتے کرتے عید سر پہ آن پہنچتی ہے لیکن یہ ٹینشن دماغ پہ سوار ہی رہتی ہے کہ ابھی تک درزی نے کپڑے نہیں دئیے تو بار بار درزی کو کال کرنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جناب درزی صاحب تو اپنے آپ میں ماشااللہ سے انجینئر بنے ہوتے ہیں وہ اپنا نمبر ہی بند کر دیتے ہیں اور اب ہماری پریشانی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ بھلا درزی کا نمبر کیوں بند ہے کہیں اس نے کپڑے نہ سئیے تو کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
    اسی ٹینشن کے چلتے ہی بھائی وہ فرشتہ ثابت ہوتے ہیں تو بائیک پہ بیٹھا کر ہمیں درزی کے سر پہ لا کھڑا کرتے ہیں اب غصہ تو بہت آرہا ہوتا ہے لیکن درزی کو کچھ کہا بھی نہیں جاسکتا کیونکہ اگر یہ غصہ ہوگیا تو بھئ ہوگیا کام تمام۔۔
    پھر یاد آتا ہے کہ مہندی بھی تو لگوانی ہے وہ تو رہ ہی گئ جی جناب ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم لڑکیاں مہندی نہ لگائیں تو اب مہندی لگانے والی کی تلاش شروع ہوجاتی یے محلے میں مہندی لگانے والی لڑکیوں کے الگ ہی نخرے ہوتے ہیں بھلا کوئی ان سے یہ پوچھے کہ باجی آپ تھوڑی نہ مفت میں مہندی لگارہی ہیں لیکن نہ نہ اگر یہ کہہ دیا تو مہندی کون لگائے گا۔۔
    خیر اسکے نخرے بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ اپنی زلف اٹھا کر کان کے پیچھے کرکے منہ بنا کر تھکن کا اظہار کرتی ہے تو بس دل کرتا ہے اسے کہیں بی بی "توں رہن دے اسی آپ لاں لیں گے”
    لیکن ایسا تو کہنا ہی گناہ ہے اللہ اللہ کر کے مہندی لگ ہی جاتی ہے پھر آجاتی ہے بھائیوں کے اور اپنے کپڑے پریس کرکے رکھنے کی۔
    جی تو اکثر گھروں میں چاند رات کو ہی سب کے کپڑے استری ہوجاتے ہیں تاکہ صبح سویرے پریشانی نہ ہو لیکن ہم لڑکیوں کو اس لمحے استری کرنا کسی عذاب سے کم نہیں لگتا کیونکہ ابھی پارلر بھی تو جانا ہے لیکن جیسے تیسے منہ بنا کر استری کرنی پڑتی ہے کیونکہ اگر استری نہ کی تو بھائی پارلر نہیں چھوڑ کر آئیں گے اور یہی تو قیامت ہے اگر پارلر نہ گئے تو بس۔۔۔۔۔
    سمجھ ہی گئے ہوں سب ۔۔
    لہذا عید جتنی مزے دار اور خوشگوار احساس دلاتی ہے وہی ہم لڑکیوں کو بے شمار پریشانیاں بھی لاحق ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود پہ ہم اپنے بناو سنگھار کا خیال خوب اچھے سے رکھتی ہیں اب جیسا کہ عید الاضحیٰ آنے والی ہے تو اس عید پہ زیادہ تر وقت کچن میں ہی گزرتا ہے مزے مزے کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور خوب لطف اٹھایا جاتا ہے لیکن کہاں بھی ہم لڑکیاں بڑی پریشان ہیں وہ کیوں بھلا؟
    وہ اس لیے کہ اتنا تیار ہو کر کچن میں کون جائے لیکن اماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے یہ بھی کرنا پڑتا ہے صبح کلیجی بنانی ہے دوپہر میں قورمہ پلاو وغیرہ ابھی دوپہر والا ہضم نہیں ہوتا کہ پھر رات کے لیے باربی کیو تیار کرنا ہے۔۔۔
    بہرحال جو بھی ہو مزہ تو اسی میں ہے کہ ہم لڑکیاں سب کا باقاعدہ خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ خود کے بناؤ سنگھار پہ بھی خوب توجہ دیتی ہیں۔
    اسی لیے آپ سب لڑکیوں کو میرا پیار بھرا سلام۔۔

    @KinzaSiddiq

  • فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان  حُسنِ قدرت

    فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان حُسنِ قدرت

    پاکستان کی پہلی نابینا پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور مصنفہ ڈاکٹر فرزانہ سلیمان کی زندگی کے بارے میں آج میں آپ کو بتاؤں گی
    وہ لوگ جو کسی جسمانی معذوری کو روگ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے لئے ایک بہترین مثال ڈاکٹر فرزانہ سلیمان ہیں جن کی بصارت ہی چلی گئی

    محترمہ فرزانہ سلیمان ایک نارمل بچی پیدا ہوئیں انکا تعلق کراچی سے ہے جب وہ آٹھویں جماعت میں پہنچیں تو ٹائیفائیڈ انکی بصارت چرا گیا اب زندگی انہیں دشوار لگنے لگی اور یہ بھی اب پڑھائے گا کون لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری نہم اور دہم جماعت کا امتحان پرائیویٹ دیا ،سینٹ لارنس کالج سے انٹر اور جوزف کالج سے گریجویشن کی ،فلسفے میں ماسٹرز کیا تو احساس ہوا کہ یہ مضمون انکے مزاج کے مطابق نہیں پھر انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا
    ماسٹرز مکمل ہوتے ہی ” گورنمنٹ کالج پی ای سی ایچ کالج کراچی” میں اسلامک اسٹیڈیز کی لیکچرر ہوئیں
    لیکن
    انکا خواب پی ایچ ڈی کرنے کا تھا تو انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا اور پی ایچ ڈی مکمل کی اس دوران انکی دوست سارہ نے انکی بہت مدد کی وہ انہیں کتابیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتی تھی
    ڈاکٹر فرزانہ سلیمان نے قرآن کریم حفظ کیا ،تفسیر کا مطالعہ کرتی رہیں اور اب تک 4 کتب تصنیف کر چکی ہیں جن کے نام یہ ہیں
    1۔قرآن،قرآن کی روشنی میں
    2۔توبہ قرآن کی روشنی میں
    3۔تقوی قرآن کی روشنی میں
    4۔تذکرہ آدم قرآن کی روشنی میں
    شامل ہیں
    ڈاکٹر فرزانہ کو بے مثال کارکردگی پہ کئی شیلڈز،تمغے اور اعزازات حاصل ہوئے جن میں سابق صدر (ر) پرویز مشرف کے دور میں ملنے والا "فاطمہ جناح گولڈ میڈل”
    اور گورنر سندھ سے ملنے والا
    "تمغہ حُسنِ کارکردگی”
    نمایاں ہیں
    یہ کہانی کروڑوں لوگوں کےلئے ایک سبق ہے کہ اگر آپ میں ہمت ہے اور آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر فرذانہ کی طرح اپنے حوصلے بلند رکھیں آپ ضرور کامیاب ہوں گے

    Twitter: @HusnHere

  • قربانی…!!! . تحریر : محمد اسامہ

    قربانی…!!! . تحریر : محمد اسامہ

    الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر وله الحمد الله اكبر كبيرا والحمد كثيرا واسبحان الله بكرة وأصيلا

    کچھ ممالک میں کل عید الاضحٰی منائی گئی تھی اور کچھ ممالک میں آج عید الاضحٰی منائی جارہی ہے. اس عید کا صرف ایک ہی پیغام ہے.

    "قربانی”

    بظاہر تو ہم جانور اللّٰه کی راہ میں قربان کرتے ہیں. ان کا خون بہا کرتے ہیں. ان کا گوشت تقسیم کرتے ہیں. دعوتیں کی جاتی ہیں. غرباء و مساکین کو بھی خوشیوں میں شامل کیا جاتا ہے.

    قربانی، انا کی، رویوں کی، حق پر ہوتے ہوئے پہل کرنے کی، ناراضگی کو دور کرنے کی اور ہر اس چیز کی جس سے محبت اور ایثار کا بول بالا ہو.
    جانوروں کی قربانی کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کی قربانی بھی دی جائے تو قربانی کا مقصد پورا ہوجاتا ہے.

    الله ہمیں توفیق عطا فرمائے. آمین.

    تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال
    عید الاضحٰی🐑 مبارك

    @its_usamaislam

  • آزاد کشمیر کا الیکشن اور ضمیر کی آواز . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    آزاد کشمیر کا الیکشن اور ضمیر کی آواز . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جا رہا ھے تمام تر سیاسی پارٹیاں جدوجہد کر رہی ہیں۔اپنی انتخابی مہم میں لاکھوں کیا اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ان پارٹیوں میں کہیں نام تو آتا ھے تحریک انصاف کا جن کی وفاق میں حکومت ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز،پاکستان پیپلز پارٹی بھی سرگرم ہیں۔میں نے مختلف احباب کی تقاریر کو سنا تو کسی کا موقف لسانیت کا تھا تو کسی کا موقف قومیت پر مبنی تھا۔کسی پارٹی نے اپنا مقصد دعوں کو بنا رکھا تھا۔
    سب سے پہلے آتے ہیں پاکستان مسلم۔لیگ نواز کی طرف۔پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز صاحبہ نے الیکشن مہم کے حوالے سے جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ہم حکومت میں آتے ہیں تو کشمیر کی آزادی پاکستان مسلم لیگ ن کے اقتدار سے ہی ممکن ہے”

    پاکستان مسلم لیگ ن وہ سیاسی جماعت ہیں جو ملک پاکستان میں 3 بار حکومت کر چکی ہے اور ان کے قائد نواز شریف نے مودی کو اپنی نواسی کی شادی پر بلایا تھا اور جب یہ بھارت گئے تو کشمیر کی حریت قیادت ان سے ملاقات کے لیے انتظار کرتی رہی لیکن انھوں نے کشمیر پر ظلم کرنے والے سے ملاقات کی لیکن ان بطل حریت قائدین سے ملاقات کرنا مناسب نہ سمجھا۔اب اس سے واضح ہو گیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کا بیانیہ اور منشور جو ہے وہ باطل ہے اور حق سچ پر مبنی نہیں ھے۔اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے بیانیہ کی بات کر لیتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی وہ سیاسی جماعت ہے کہ جن کا مقصد صرف و صرف  اقتدار ہے چاہے وہ مودی کی یاری سے ملے یا امریکہ کی چاکری سے ملے اس لیے اس سے واضح ہو جاتا کہ یہ جماعت کشمیر کے عوام کی نمائندہ جماعت ہونے کے اہل نہیں ھے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وفاق میں بھی ھے لیکن مجھے افسوس سے لکھنا پڑ رہا کہ تقریبا 2 سال کا عرصہ ہو رہا کشمیر میں لاک ڈاؤن کو لیکن ہمارے وزیراعظم نے اس انداز سے کشمیری عوام کی مدد نہیں کی جس انداز سے وہ چاہتے ہیں۔

    جب میں مختلف سیاسی جماعتوں کا جائزہ لے رہا تھا تو میری نظر سے ایک جماعت "جموں و کشمیر یونائیٹڈر موومنٹ”
    کا نام گزرا ان کے منشور کو میں نے پڑھا۔جموں وکشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا موقف ہے کیا ان کا منشور نہ تو لسانیت پر مبنی اور نہ جاگیردارانہ نظام پر مبنی ھے۔بلکہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا موقف کشمیر کی نصرت پر مبنی ہے۔اور صرف دعوی ہی نہیں بلکہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ان کا عملی کام بھی ھے۔اس کے بعد خدمت خلق اور نوجوانوں کی تربیت ان کا بنیادی مقصد ہے جس سے واضح ہو جاتا کہ یہ جماعت نہ صرف آزاد کشمیر کی نمائندہ جماعت ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر کی بھی نمائندہ ھے۔اس کے علاوہ منشیات کا خاتمہ بھی ان کے منشور کا حصہ ہے۔منشیات کا خاتمہ وہی کروا سکتا جس کا منشیات کا کاروبار نہ ہو اور الحمدللہ اس جماعت کے قائدین اور نمائندگان میں ایسا کوئی فرد موجود نہیں ھے۔جموں وکشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا مقصد کرپشن کا خاتمہ بھی ہے اور یہ ایسا دعوی نہیں ہے جیسا پاکستان تحریک انصاف نے کیا کہ دوسروں کو کرپشن کیسز میں پھنسا دو اور جب باری آئے جہانگیر ترین کی تو اسے این آر آو دے دیا جائے۔بلکہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ عوامی یگانگت اور اتحاد کو قائم کرنا چاہتی ہے۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا مقصد نوجوانوں میں اسلام کے شعور کو بیدار کرنا ھے۔ان کا مقصد جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ اور اسلام کی سربلندی مقصد ہے۔اس سے پہلے بھی بہت سی سیاسی جماعتوں نے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ چاہا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا وہ بس دعوی ہی تھا کیونکہ وہ جماعت خود ہی جاگیردار کے زیر انتظام تھی۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا منشور دو قومی نظریہ کی سربلندی ہے اور دو قومی نظریہ اسی وقت اجاگر ہو گا جب اسلام پر چلنے والے لیڈران ہماری اسمبلیوں میں جائے گے۔

    محترم قارئین! آپ میرا یہ سوال آزاد کشمیر کی غیور عوام تک پہنچا دے کہ انھوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ کا فیصلہ کرنا ہے نہ کہ نوٹوں کی کھنک پر ذہنی غلامی کی بنا پر ووٹ نہیں ڈالنا۔25 جولائی کے دن آزاد کشمیر کے عوام کا امتحان ہے کہ وہ 73 سالہ ذہنی غلامی سے نکل کر با سیرت اور نیک نمائندگان کو سردار بابر حسین کی قیادت میں کرسی پر مہر لگا کر کامیاب کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔کیونکہ اگر اس جماعت کو موقع دیا گیا تو پھر مودی اور انڈین افواج کو جواب سیف جہاد سے دیا جائے گا نہ کے منت سماجت سے جیسا کہ موجودہ حکومت نے بھی کیا اور گزشتہ حکومتوں نے بھی کیا۔آپ لوگوں کا ضمیر کبھی مطمئن نہیں ہو گا ان لوگوں کو ووٹ کرنے کے لیے جو کہ کشمیر کا سودا کر چکے ہیں۔اس لیے کرسی پر مہر لگا کر جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کو کامیاب بنانے۔
    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

    @ABGILL_1

  • کشمیر کی تاریخ . تحریر : اسامہ ذوالفقار

    کشمیر کی تاریخ . تحریر : اسامہ ذوالفقار

    کشمیر کے نام کے دو حصے ہیں ایک "کش” سے مراد ندی نالے اور "مر” سے مراد پہاڑ ہیں. قدیم روایت اورسروے کے مطابق کشمیر کی تاریخ 10 کڑور سال پرانی ہے جس میں دیومالائی کا قصہ، کشب رشی، ہڑپہ، منجوداڑو کی تاریخ بھی شامل ہے.
    قدیمی تاریخ کے مطابق کشمیر کا پہلا حکمران "گومندوان” تھا اور اسی کے بعد جنگ مہا بھارت کا قصہ ہے اور اس کے بعد پانڈو خاندان کے 22 حکمرانوں نے کشمیر پر حکومت کی راجہ سندر سین اس خاندان کا آخری حکمران تھا اور یہ کشمیر پر بدھ مت کا دور تھا اور اسی دور میں 326ع کو سکندر اعظم بھی آیا تھا.

    1128ع میں راجہ جے سنگھ حکمران بنا جو ایک نیک دل حکمران تھا اس کے دور میں کشمیر میں خوشحالی آئی اس کی حکومت ختم ہونے کے 200 سال تک کوئی بھی حکومت قائم نہیں ہو سکی اور یہ دور افراتفری کا دور رہا اس کے بعد سردار رنچن نے 60 ہزار کا لشکر لے کر کشمیر پر حملہ کیا اور اس نے لوٹ مار مچائی اس پر لداخ کے حکمران کرم سین نے اس پر حملہ کر کے اس کا لشکر تباہ و برباد کیا۔ اس دور کے بعد مسلمانوں کا دور شروع ہوتا ہے. حضرت شاہ ہمدان 700 سادات کے ساتھ کشمیر آئے اور 37 ہزار لوگوں نے اسلام قبول کیا. شاہ صاحب کے ہاتھ پر 10 ہزار سے زائد ہندوؤں نے اسلام قبول کیا.

    حقیقت یہ ہے کہ 700 پیروکاروں کے اس گروہ میں مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے تاکہ دور دراز علاقوں سے کشمیر تک نہ صرف ایک محفوظ اور آسان سفر اور وادی میں آرام سے قیام کو یقینی بنایا جاسکے ، کیونکہ وہ ایک مخصوص طرز زندگی کے مطابق تھے ، لیکن اسلام اور اسلامی ثقافت کو پھیلانے کے ان کے ایجنڈے کا حقیقت میں ترجمہ کرنے کے لئے۔ اس کے ساتھ ہی ، شاہ حمدان اپنی ایک بہت بڑی لائبریری لائے جسے ایک کتبور ، لائبریرین سید کاظم نے برقرار رکھا تھا۔ ان میں سے کچھ نے تبی اور حکیم کے نام سے بھی کام کیا ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں مسلم دوائیوں کے بارے میں بھی کچھ معلومات ہیں۔ انہوں نے عرب دنیا سے وسطی ایشیائی ثقافت کی بھرپور ثقافت کے ساتھ اسلام کو ناکام بنا دیا اور ایسی جگہ پر تجربہ کیا جو معاشرتی مداخلت کا بھوکا تھا۔ ایران سے کشمیر میں نئی ​​علوم ، ثقافت اور اقدار لانے کے اس عمل سے ، حمادانی نے کشمیر کے منفرد معاشرتی اور ثقافتی اور مذہبی ماحول کو فروغ دینے میں مدد فراہم کی۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ کشمیر میں کچھ دستکاری موجود تھیں لیکن زوال پذیر تھیں۔ انہوں نے امیر کو حمام دری ، کفش دوزی ، دزندگی ، کباب پازی ، حارثہ پازی ، قلعہ پازی ، گلکاری ، زرگری ، احفی ، قلین بافی ، کاگاز سازی ، قلمدان سازی ، اکاکی ، سوزان کاری ، اور جلد کی تعارف کا سہرا دیا۔ مثال کے طور پر ، پہلی جماعت حمام ، خانقاہ موالہ میں قائم کی گئی تھی۔ یہ کشمیر کا واحد مقام ہے جہاں ایک منزل پہلی منزل پر چلتی ہے۔ عام طور پر حمام زمین کے فرش میں کام کرتے ہیں۔ اس نے اسلامی اخلاق کو انسانی ترقی کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا۔

    1339 میں ، شاہ میر شاہ راج خاندان کا افتتاح کرتے ہوئے ، شاہ میر کشمیر کا پہلا مسلم حکمران بن گیا۔ اگلی پانچ صدیوں تک ، مسلم بادشاہوں نے کشمیر پر حکمرانی کی ، جس میں مغل سلطنت بھی شامل ہے ، جس نے 1586 سے 1751 تک حکمرانی کی اور افغان درانی سلطنت ، جس نے 1747 سے 1819 تک حکومت کی۔ اسی سال رنجیت سنگھ کے ماتحت سکھوں نے کشمیر کو الحاق کرلیا۔ 1846 میں ، پہلی اینگلو سکھ جنگ ​​میں سکھ کی شکست کے بعد ، معاہدہ لاہور پر دستخط ہوئے اور معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں سے اس خطے کی خریداری پر ، جموں کے راجہ ، گلاب سنگھ ، کشمیر کا نیا حکمران بن گیا ۔ برطانیہ کے ولی عہد کی بالادستی (یا اقتدار) کے تحت اس کی اولاد کی حکمرانی 1947 تک برقرار رہی ، جب سابقہ ​​سلطنت متنازعہ علاقہ بن گئی ، جس کا %49 حصہ پر ہندوستان نے زبردستی قبضہ کر لیا اور اب تک وہاں کے لوگوں پر ظلم و ذیادتی کرتا ہوا آ رہا ہے۔

    @RaisaniUZ_

  • پاکستان میں کاروباری ماحول . تحریر : محمد ذیشان

    پاکستان میں کاروباری ماحول . تحریر : محمد ذیشان

    پاکستان کی طرح ، دنیا بھر میں بھی کاروبار مخصوص خاندان چلاتے ہیں۔ نہ صرف یہ خاندان چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار چلاتے ہیں بلکہ انہوں نے پوری دنیا میں کامیابی کے ساتھ بڑے کاروبار بھی چلائے ہیں۔ ڈوپونٹ جیسے کاروبار کا انتظام اس خاندان نے 170 سال تک برقرار رکھا ، یہاں تک کہ سن 1970 کی دہائی میں پیشہ ورانہ منیجروں نے اسے سنبھال لیا تھا۔

    میرے نزدیک پاکستان میں کاروبار کرنے والے خاندان رحمت کا مجسمہ ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو روزگار مہیا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ ، پاکستان کے موجودہ تناظر میں ، کاروبار کرنا جوئے کے مترادف ہے۔ اور ناجائز حالات میں کاروبار کرنے والے نوجوان کاروباری خاندان اپنے عملی اقدامات کے ذریعہ اپنی حب الوطنی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ آج ہم ان میں سے کچھ تجاویز کا ذکر کریں گے جن سے پاکستانی کاروباروں کی پیداور میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
    یہ کہنا بجا ہے کہ زیادہ تر ہماری کمپنیوں میں انگوٹھے کا راج ہے۔ سیٹھ صاحب کے آس پاس میں ہمیشہ خوف و ہراس رہتا ہے۔ خوف تخلیقی صلاحیتوں کو کھا جاتا ہے جیسے دیمک لکڑیاں نگل جاتا ہے۔ خوف و ہراس کے ماحول میں اپنی مرضی کا اظہار کرنے سے منع کرتا ہے اور معمول بن جاتا ہے۔ اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ کاروبار ایسے مکالمے پر فروغ پزیر ہوتے ہیں جو بغیر کسی نفسیاتی عدم تحفظ کے جاری رہتا ہے۔

    خوف نفسیاتی عدم تحفظ پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر خوف مفید معلومات کے تبادلے کو روکتا ہے ، اور معلومات کا تبادلہ کسی بھی کاروبار کی گروتھ کی ضمانت دیتا ہے۔ مسٹر سیٹھ کو بے ہوشی میں یہ جملہ سناتے ہوئے سنا گیا ہے ، "میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک مجھے سچ کہے ، چاہے انہیں اس سچائی کے نتیجے میں ملازمت چھوڑنی پڑے۔” آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ان "سازگار حالات” میں سچ بولنے والا کتنا بے وقوف ہوگا۔
    خوفناک ماحول میں کام کرنے کے مضر اثرات یہ ہیں کہ ہر ملازم ایک فوری دلچسپی دیکھتا ہے اور اپنی ملازمت کو بچانے کے لئے ہمیشہ بے چین رہتا ہے۔ جو لوگ خوف زدہ ماحول میں کام کرتے ہیں وہ اپنی غلطیاں چھپاتے ہیں اور پھر جب ان قالینوں کے نیچے جان بوجھ کر چھپی غلطیوں کا پہاڑ ہمالیہ بن جاتا ہے تو پوری کمپنی گر جاتی ہے۔ ایسے افراد جو کسی کمپنی میں کام کرتے ہیں وہ صرف تب ہی اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں گے جب کمپنی کے مالکان اپنی غلطیوں کا کھل کر اعتراف کریں۔ "اگر کوئی داغ نہیں ہے تو کوئی سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے” میں بڑی حکمت ہے اور انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور سی ای او غلطیوں سے آزاد نہیں ہیں۔ ۔
    ہماری سیٹھ کمپنیوں میں ، لوگوں کو عام طور پر شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور یہ مفروضہ کہ "لوگ نوکری چور ہیں” بزنس الہیات کا ایک لازمی جزو بن جاتا ہے۔ نفسیات سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ ان توقعات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتے ہیں جو ان سے وابستہ ہیں۔ جب ہم کسی مزدور کو مزدور سمجھتے ہیں ، تب وہ حقیقت میں کام چور ہوگا۔ اس کے برعکس ، اگر ہم یہ خیال رکھیں کہ لوگ سخت محنت کرنا چاہتے ہیں اور تھوڑی حوصلہ افزائی کریں، تو ہم ان پر اعتماد کریں گے تاکہ ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کیا جا سکے.

    ہمارے پاکستانی کاروبار میں اکثر ماضی کا غلبہ ہوتا ہے۔ ہم اپنے ادارے یہاں میموری کی بنیاد پر چلاتے ہیں۔ ماضی میں کامیابی لانے والی حکمت عملی کے ساتھ ، ہم مستقبل میں بھی کامیابی کی تحریک چاہتے ہیں۔ تاہم ، کامیابی مسلسل سوچنے کا نتیجہ ہے۔ کاروبار میں سوچ سمجھ کر درج ذیل فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
    1. ہم اپنی جبلت کے غلام نہیں بنتے ہیں۔
    2. ہم کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتے ہیں۔
    3. ہم آنکھیں بند کرکے احکامات پر عمل نہیں کرتے ہیں۔
    4. ہم عارضی جذبات کے بہاؤ سے گریز کرتے ہیں۔

    چاپلوسی کی وبا سیٹھ کمپنیوں میں بھی عام ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ نمو کارکردگی کی بنیاد پر کم اور چاپلوسی کے ذریعہ زیادہ تیزی سے ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہے اور ناپسندیدگی کو ناپسند کرتا ہے۔ تو وہ سیٹھ صاحب کو ہاں کہتے رہتے ہیں اور ترقی کی سیڑھی پر چڑھتے رہتے ہیں۔ جو لوگ جھک جاتے ہیں وہ اونچائی ڈھونڈتے ہیں اور جو اپنے آپ کو بلند کرتے ہیں وہ کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ بہرحال ، "سب ٹھیک ہے” کی آواز کانوں میں پگھل جاتی ہے ، جبکہ وہ لوگ جو عیب کی نشاندہی کرتے ہیں وہ من مانی گھٹن کا سبب بنتے ہیں۔
    انتظامی عہدوں پر بھرتی کے لئے، ان امیدواروں کو نظرانداز کرنا ضروری ہے جو سب کو خوش رکھنا چاہتے ہیں یا جو کسی کی خوشی کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ ایک مینیجر جو دو سالوں میں جانشین پیدا نہیں کرتا ہے وہ ایک کرسی کے لیے پاگل ہوتا ہے اور کرسی کے پاگلوں سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں۔
    ادارے لوگوں سے بنے ہوتے ہیں اور جب لوگوں کو مشینی حصوں کی طرح نکال دیا جاتا ہے تو پھر کمپنیاں مکان نہیں بنتی بلکہ دروازے بنتے ہیں جو آتے جاتے رہتے ہیں۔
    لہذا ہمیں ان نکات پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تا کہ کاروباری ماحول پروان چڑھے.

  • اولاد کی تعلیم و تربیت . تحریر : محمد وقار

    اولاد کی تعلیم و تربیت . تحریر : محمد وقار

    اولاد قدرت کا انمول تحفہ ہوتی ہے. جب اللہ اس نعمت سے نواز دے تو پھر اس کی پرورش کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کی ایک بھاری ذمہ داری بھی والدین پر عائد ہوتی ہے.اپنے بچوں پرورش و پرداخت کے لیے ماں باپ سے جو بن پڑتا ہے وہ کرتے ہیں. لیکن انجانے میں والدین سے اولاد کی تربیت کے حوالے سے بہت کوتاہیاں ہو جاتی ہیں.
    .اس ضمن میں سب سے پہلی غلطی ہے بے جا لاڈ پیار… تمام والدین کو اپنی اولاد عزیز از جان ہوتی ہے لیکن بچے کی ہر بات پر لبیک کہنا کوئی عقلمندی نہیں. بچے کو دل پسند چیزوں کی عدم دستیابی پر چپ رہنا سکھانا ہوگا…. موجود اشیا پر شکرگزاری کی عادت ڈالنی ہو گی.
    بے جا ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک بھی بچے کی شخصیت کو تباہ کر دیتی ہے. اس سے بچہ ضدی ہو جاتا ہے.. بچے میں اخلاقیات منتقل کرنے لیے آپ کا اپنا اخلاقی ہونا بہت ضروری ہے… مار دھاڑ، غصے اور چڑچڑے پن سے تمیز سکھانا امرِ محال ہے.
    جب بچہ سکول جانے لگتا ہے تو والدین اس پر پڑھائی بہت زیادہ بوجھ ڈال دیتے ہیں اور کھیل کود کے لیے وقت بچتا ہی نہیں، بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما کے لیے کھیل اور ورزش بہت ضروری ہے.

    اکثر والدین تعلیم پر بہت توجہ دیتے ہیں جبکہ تربیتی پہلو کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں..تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن تربیت بچے کی شخصیت کو چار چاند لگاتی ہے.. اور اچھی تربیت کا سب سے بہترین اور آسان طریقہ یہ ہے کہ جو اوصاف آپ اپنے بچے کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں وہ اپنے اندر بھی پیدا کر لیں اور جو کام پسندیدہ نہیں ہیں ان اعمال سے خود کو بھی پاک رکھیں. کیونکہ بچہ وہ نہیں سیکھتا جو آپ سکھاتے ہیں بلکہ بچہ وہی سیکھتا ہے جو آپ کرتے ہیں.

    بچہ جب لاڈ پیار سے بگڑ جاتا ہےتو اس سے جان چھڑانے کے لیے اس کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا جاتا ہے جو کہ مزید تباہ کن ثابت ہوتا ہے… والدین کو چاہیے کہ بچے کو وقت دیں اور ایک دوستانہ ماحول میں ان سے گفتگو کریں تا کہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہو بچے کو سکول بھیجتے وقت یہ تا کید مت کریں کہ اپنا لنچ کسی کوبھی مت دینا بلکہ بچے کے بیگ میں ایک اضافی لنچ بھی بھیج دیں اور اسے یہ بتائیں کہ جو بچہ لنچ گھر بھول آیا ہو یہ آپ اسے دیں گے اور اس سلسلے میں اس بات کی بھی تربیت ضروری ہے کہ بچہ لنچ شیئر کرتے وقت ایسے الفاظ کا استعمال نہ کرے کہ جس سے دوسرے بچے کی عزتِ نفس مجروح ہو دنیاوی تعلیم اور کامیابی کے لیے والدین ہر وقت متفکر نظر آتے ہیں جبکہ دینی تعلیم اور اخروی نجات کی سوچ خال خال ہی نظر آتی ہے. بچوں میں دین کی فکر پیدا کرنا ہی اصل کامیابی ہے.

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ ماں باپ کو چاہیے کہ اولاد کو دین و دنیا کے حقیقی مدارج سکھائیں اور انہیں محبِ وطن شہری اور اچھا مسلمان بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں..

    waqarkhan104@