ناظرین ہر سال زمین کے درجہ حرارت میں خطرناک شرح سے بڑھتا ہوا اضافہ دیکھا جا رہا ہے. کرہ ارض پہ انسانی سرگرمیوں بالخصوص کاربن گیسوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے. کاربن اور میتھین گیسیں ماحول میں درجہ حرارت کے بڑھنے کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک ہیں. کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس فیکٹریوں اور ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والے دھوییں سے پیدا ہوتی ہے جبکہ میتھین گیس کا اخراج انسانی سرگرمیوں اور جانوروں سے بتایا جاتا ہے. ایک سائینسی رپورٹ میں کہا گیا کہ بڑے جانوروں کی موجودگی بھی میتھین گیس میں اضافے کا سبب بن رہی ہے.
سائنسدانوں کے مطابق میتھین گیس 9 سال کے عرصے میں زمین کے گرد لپٹے غلاف (کرہ ہوائی) کی حدود سے باہر نکل جاتی ہے لیکن کاربن ڈایی آکسائیڈ تقریباً ایک صدی جتنا وقت لگاتی ہے کرہ ہوائی سے باہر نکلنے میں، اور وہ اتنے وقت تک کرہ ہوائی کے اندر رہ کر درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی رہتی ہے. ان گیسوں کو گرین ہاوس گیسین کہا جاتا ہے یہ گیسین جب اتنے لمبے وقت کرہ ہوائی مین ٹھہر جاتی ہین تو یہ ہماری زمین کے کرہ ہوائی میں ایک ایسا غلاف پیدا کرتی ہین جس سے سورج کی تپش ان سے گزر کر سطح زمین پہ ٹکراتی ہے لیکن وہ اس غلاف سے باہر نہیں نکل پاتی اور نتیجتاً فضا کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے. اور درجہ حرارت کے مسلسل اضافے سے زمین کے ماحول پہ فطرتی نطام کے برعکس اثر پڑنے لگتا ہے، ماحول میں گرمی سے برف پگھلنے لگتی ہے اور دریاؤں میں سیلاب کی سی روانی آ جاتی ہے، گرمی کی تپش خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے. جو انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے.
@MudassirAdlaka
Category: بلاگ
-

زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ، خطرے کی گھنٹی تحریر : مدثر حسین
-

سانحہ ، بائی پاس ڈی جی خان تحریر: محمد ابراہیم
اکرم نے اسلم سےکہا کہ بھائی ماں کے لیےاس عید پر دو سوٹ لیتے ہیں۔ امجد نے بھی ان سے اتفاق کیا۔ لیکن تینوں تھوڑی دیر تک خاموش ہو گئے۔ پھر اسلم نے کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ ابو جان کے لیے بھی دو سوٹ لیتے ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ تھوڑے توقف کے بعد امجد بولا ، اپنی تین بہنیں کیا سوچیں گی؟ ان کے لیے بھی دو دو سوٹ لیتے ہیں۔
سب نے اتفاق کیا۔ ماں اور بہنوں کے لیے چوڑیاں بھی خریدنی ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ جوتے بھی خریدے گئے۔ لیکن جب حساب ہونے لگا تو قربانی اورکرائے کا خرچہ نکال کر ان کے پاس اپنے سوٹوں کی رقم نا ہونے کے برابر تھی۔ تینوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے لیے لنڈے کے دو دو سوٹ لے لیتے ہیں۔ اس کو صحیح دھلوا کر استری کر لیں گے اور یوں ہم اپنوں کے لیے سب چیزیں اچھی والی خرید سکیں گے۔ تینوں بھائیوں نے اتفاق کیا۔ عید سے دو دن پہلے یہ سب چیزیں شاپنگز کر کے ایک بیگ میں رکھ لی گئی۔ ان میں سے ایک کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ گھر میں ان تینوں بھائیوں کا بڑی بے صبری سے انتظارہو رہا تھا۔ تینوں بہنوں کی بے چینی انتہاء پر تھی کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان کے تین ویر 6 ماہ بعد گھر آ رہے ہیں تو ان کے لیے بہت کچھ لائیں گے۔ ابو نے ان تینوں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ
سیالکوٹ سے راجن پور براستہ ڈیرہ غازی خان بس آ رہی ہے ہم کل بیٹھ جائیں گے۔ پھر اگلے دن وہ روانہ ہوئے۔ تینوں بہنیں ہر گھنٹہ بعد اپنے ابو سے کہتیں کہ رابطہ کریں کہ وہ کہاں پہنچ گئے ہیں۔ رات بارہ بجے تک انھوں نے رابطہ رکھا۔ پھر کچھ دیر کے لیے نیند آ گئی۔ صبح کی نماز کے وقت جلدی بیدار ہوئیں۔ ابو سے کہا کہ رابطہ کریں۔ پتہ چلا کہ پل قمبر کراس کر لی ہے۔ انتظار بڑھتا جا رہا تھا۔ کوئی ایک گھنٹے بعد ابو کا موبائل بجنے لگا، تو تینوں بہنیں چہک کر والد کے پاس آ بیٹھیں کہ شاید ان کے بھائی قریب پہنچ گئے ہیں۔ لیکن والد صاحب بس سن رہے تھے ، کوئی جواب نہیں دے رہے تھے۔ باپ کے چہرے پر سنجیدگی بہت گہری ہوئی۔ تو تینوں بہنوں نے اپنے ابو سے کہا کہ کیا ہوا ابو، کیا ہوا ابو۔ ابو سے اور کچھ نا بولا گیا، بس یہی کہا "میں بوڑھا ہو گیا ہوں دعا کرو اللہ پاک اس امتحان میں کامیاب کرے”۔ پھر چند لمحہ بعد مزید کالز آتی رہیں۔ ایک کالز پر ابا جی گر پڑے۔ بہنوں کو معلوم ہوا کہ بس کو حادثہ ہو گیا ہے۔ ماں صدمہ سے نڈھال ہوئی۔ بہنوں نے رو رو کر اپنا حال برا کیا۔
چند گھنٹوں بعد ایمبولینس کی آواز آئی۔ سب رشتہ دار آ چکے تھے۔ تھوڑی دیر میں ان تینوں شہزادوں کی لاشوں کو الگ الگ چار پائی پر لایا گیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ در و دیوار رو رہے تھے۔ آسمان غم میں تھا۔ ماں باپ اور بہنیں ہوش میں نا تھیں۔ وہ شاپنگ بیگ جس میں چھ ماہ کی مزدوری تھی۔ کھولا گیا تو کیا شاندار کپڑے، جوتے اور چوڑیاں تھیں۔ اپنے لیے لنڈے کے وہ سوٹ لائے تھے لیکن ماں باپ اور بہنوں کے لیے بہترین کوالٹی کی چیزیں۔ اللہ اکبر۔
یہ کہانی میرے وسیب کے بیرون شہر و ملک رہنے والے مزدور شہزادوں کی ہے۔ جو اسلام آباد،راولپنڈی سے اپنا خون پسینہ ایک کر کے پتہ نہیں کس طرح اپنوں کو خوش کرتے ہیں۔ خود کڑی دھوپ اور گرمیوں میں کام کرتے ہیں لیکن اپنوں کو ہر سکون دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود لنڈے کے کپڑے پہن کر دنیا کو اچھا دکھاتے ہیں لیکن اپنوں کے لیے اصلی کپڑے اور جوتے لاتے ہیں۔
اس سانحہ عظیم پر بھی حکومت وقت نا جاگی تو کب جاگے گی؟؟ یہ قاتل انڈس ہائی وے تونسہ روڈ کب ڈبل کرے گی؟ یہ تیز رفتاری کو کب چیک کرے گی؟ یہ رشوت دے کر لائسنس بنانے اور بنوانے والوں کو کب سخت سے سخت سزا دے گی؟ ہم کب تک اپنے وسیب کے گھروں کو اجڑتا دیکھتے رہیں گے؟
اللہ پاک شہداء سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے تمام افراد کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ امیننوٹ: یہ میری تحریر سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے حوالے سے تخیلاتی ہے جس میں ایک گھر کے حقیقی درد کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور حکومت وقت سے چند سخت سوالات پوچھنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں فرضی نام ڈالے گئے ہیں۔.
-

میری زندگی تحریر : عابد حسین رانا
میرا نام عابد حسین رانا ہے میری
پیدائش 06:09:1997 میں ہوئی میرا تعلق ضلع مظفر گڑھ تحصیل کوٹ ادو شہر دائرہ دین پناہ سے ہے
میں نے مڈل تک تعلیم گورنمنٹ مڈل سکول دائرہ دین پناہ سے
حاصل کی اور 2010 میں سیلاب کی وجہ سے ہمیں اپنا کاروبار گھر سب چھوڑ کر چوک منڈہ تحصیل کوٹ ادو جانا پڑا جس کے ساتھ میں نے نہم اور دہم جماعت گونمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول چوک منڈا سے کی میں پڑھائی میں اس وقت کمزور تھا مجھ پر میرے بہت قابل احترام استاد سجاد رندھاوا نے محنت کی اور مجھے اچھا اور قابل لڑکا بنایا
نہم جماعت میں میں سکول کے بعد ریڑھی لگا کر چوک منڈا میں اپنی پڑھائی کا خرچہ پورا کیا کرتا تھا
اور کچھ وقت گزرنے کے بعد 2011 میں میں روزانہ 1 گھنٹہ سفر کر کے تعلیم حاصل کرنے دائرہ دین پناہ سے چوک منڈا جایا کرتا تھا
میرے میٹرک کے امتحان مکمل ہوتے ہیں کچھ ارسا بعد ہم گجرانوالہ کی تحصیل وزیرآباد کے شہر سوہدرہ میں اپنے ددیال شہر میں رہائش پزیر ہوئے
سوہدرہ آمد پر ہم نے ایک مکان کرایا پر لیا اور وہاں رہائش رکھی کچھ وقت گزرا میں ایک دوکان پر برگر لگانے کے کام پر لگا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ مجھے برانچ مینجر کے طور پر سوہدرہ ہی میں ٹیلی نار کے دفتر میں نوکری ملی
جو کچھ ارصہ گرنے کے ساتھ ساتھ مجھے ایک انٹرنیشنل برانڈ گل احمد کے طرف سے جاب انٹرویو کے لیئے بلایا گیا جس کے کچھ دن بعد سلکٹ کر کےمجھے ڈیوٹی کے لیئے بلا لیا گیا
اور ساتھ ساتھ مجھ جیسی ناچیز کو عنایت اللہ خان نیازی نے 2015 میں تحصیل ریپورٹر بنایا اور روز نیوز میں صحافت کے ساتھ نوکری بھی جاری رہی
لمہات گزرتے گئے کامیابی ملتی گئی پھر اللہ پاک نے ہمت دی اور گھر خریدا اور اس دوران سیاسی لوگوں سے تعلق بنتا گیا اور مجھے کامیابیاں ملتی گئی
پھر کچھ وقت کے بعد مجھے ایک نئی امید نظر آئی اور میں سیاست میں اتنا آگے بڑھا کے مجھے اب منسٹرز ترجمان اور دیگر لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے اور تعلق رکھنے کے موقہ ملتے گئے اور میرا تعلق اب عروج پر تھا اور ساتھ ہی مجھے غریبوں سے ہمداردی بھی تھی تو میں نے ایک تنظیم بنائی جسکا نام میں نے نیشنل ہیومینیٹی فورس رکھا اب مجھے فخر اس بات پے نہیں تھا کہ میں ایک تنظیم کا چیئرمین ہوں بلکے فخر اس بات پر تھا کے پہلے دن سے ہی کوئی 10 سے پندرہ بوتلیں خون کی میری ٹیم دونیٹ کرواتی تھی جس میں عدیل اور نعمان فیصل آباد سے میرے بازو تھے
وقت گزرتا گیا اس کے ساتھ ساتھ میں ٹیم سرعام میں بطور صدر وزیرآباد سے منتخب ہوا اور اقرارلحسن صاحب نے مجھ پر بھروسہ کیا اور مجھے محبت سے نوازا اس دوران ٹیم سرعام میں شجر کاری کھانا کھلانا کپڑے تقسیم کرنا یہ اب میرا مشن تھا اور یہ مشن صحافت کے ساتھ ساتھ اور جاب کے ساتھ ساتھ جاری تھا اور پھر کچھ وقت گرزنے کے بعد مجھ ناچیز کو وزیراعلی پنجاب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا جس میں باہمی علاقائی
صورتحال پر گپ شپ ہوئی اور وزیرآباد آمد کے لیئے مدعو کیا اسکے ساتھ ہی بتاتا چلو کے میں آج بھی محنت کرکے آپنی جاب بھی کر رہا ہوں اور صحافت بھی کر رہا ہوں اور ساتھ صدر سرعام ٹیم اور چیئرمین نیشنل ہیومینیٹی فورس بھی چلا رہا ہوں یقینن نیند اس وقت تک نہیں آتی جب تک تمام خدمت خلق کے کام مکمل نا ہوں
اور اس دوران مجھے بہت سی مخالفت اٹھانی پڑی اور میں ابھی ان معملات کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوں مجھے کچھ اچھے دوست بھی ملے پی آر او ٹو سی ایم پنجاب رفی بھائی اور ڈیجیٹل میڈیا فوکل پرسن ٹو سی ایم پنجاب اظہر مشوانی جیسے اچھے دوست ملے مجھے اب فخر محسوس ہوتا ہے سوہدرہ میں رہ کر کے میں ناچیز خدمت خلق کے لیئے چنا گیا ہوں لوگوں کو اچھائی اور خدمت خلق کی طرف راغب کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں مجھے ایک فخر یہ بھی حاصل ہے کہ میں نے سرعام ٹیم اپنی ایڈمنسٹریشن اور پریس کلب وزیرآباد سے بہت سے سرٹیفیکیٹ حاصل کیئے اور ساتھ اختتام پر بتاتا چلوں کہ اس سب کامیابی کے پیچھے میرے دوستوں،بھائیوں،بہنوں،کے ساتھ ساتھ میری والدہ اور والد کا بہت بڑا کردار ہے اگر مشکل وقت میں اگر وہ میرا حوصلہ نا ہوتے تو اب تک میں ٹوٹ چکا ہوتا یقینن یہ میری کامیابی کا راز یہ ہی ہے کہ میں ماں باپ کی دعاؤں اور غریبوں کی دعاؤں کے نتیجے میں یہاں پہنچا ہوں اور میں شکر کرتا ہوں ہر حال میں اپنے رب کا کے مشکل وقت میں وہ مجھے گرنے نہیں دیتا
آپکو یہ سب پڑھنے میں شاید کچھ منٹ لگے پر یہ میری زندگی کا خلاصہ ہے * -

حُسنِ اخلاق اور ہمارا معاشرہ تحریر : ایم ابراہیم
اعلان نبوت سے پہلے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخلاق کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا یہی وجہ تھی کہ دشمنان اسلام بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گرویدہ ہوگئے اور آپ کو صادق و امین کے القابات سے پکارنے لگے. بعثت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخلاق کی تبلیغ کی. آدابِ گفتگو، لوگوں سے اچھا رویہ، عہد وفا کرنے اور سچ بولنے کی تربیت فرمائی. اور اسی اخلاق ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب اعلان نبوت کیا تو لوگوں نے دعوت حق کو تسلیم کرنا شروع کیا. آپ اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز تھے اور ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں. حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے”.
لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں حسن اخلاق کا بحران نظر آتا ہے. ہم اپنی اخلاقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کو بھول گئے. ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، جھوٹ، وعدہ خلافی، گالم گلوچ اور بہتان بازی جیسے عناصر سرایت کر گئے ہیں. نوجوان نسل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے بے راہ روی کا شکار ہے. خواتین کی عزت و عصمت غیر محفوظ اور بے حیائی کا بازار گرم ہے. ہم نے اپنے خود احتسابی کے بجائے دوسروں پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں گالم گلوچ کا کلچر اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنا معمول بن گیا. مذہبی یا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر پر ہم نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا حالانکہ اپنی بات صبر و تحمل اور منطق و دلیل سے بھی سمجھائی جا سکتی ہے. جمہوریت میں بے شک آپ کو تنقید کا حق ہے لیکن اخلاق کے دائرے میں رہ کر آپ تنقید برائے اصلاح کریں نا کہ اگر آپ کو کوئی حکومتی پالیسی یا فیصلہ اچھا نہیں لگتا تو گالم گلوچ شروع کر دیں.
زندگی گزارنا سب کا آئینی و اسلامی حق ہے، ان کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی مکتب فکر سے منسلک ہوں. ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کیا کھاتے ہیں یا کیا پہنتے ہیں، یہ ان کے ذاتی معاملات ہیں اور انہوں نے خود ہی فیصلہ کرنا ہے. بغیر حقائق جانے ہم نے دوسروں کی ذاتی زندگی پر بھی تبصرہ کرنے شروع کر دئے جو کہ نا صرف ناانصافی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے. یہ سب چیزیں کبھی بھی اسلامی معاشرے کو زیب نہیں دیتیں.
ہمیں اپنی کھوئی ہوئی اخلاقی اقدار کو واپس لانے کی ضرورت ہے. ہمیں اُس عصرِ مصطفیٰ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جس کی دشمن بھی تعریف کیا کرتے تھے. ایک سچا مسلمان، اسلامی ریاست کا زمہ دار شہری اور اسلامی معاشرے کا فرد ہونے کی حیثیت سے ہم پہ فرض ہے کہ ہم حُسنِ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں. منظم، با ادب اور تہذیب و ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے ہم اخلاق کو اپنانا ہو گا جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سکھائے ہیں. -

مہاجروں کی بدقسمتی تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان
صوبہ سندھ پاکستان کا واحد صوبہ جہاں کوٹہ سسٹم کا ناسور کا نفاذ کیا گیا ، اس کا مقصد صرف اور صرف اردو اسپیکرز کو نقصان پہچانا تھا ، جو کہ 10 سال کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور بدقسمتی سے ابھی تک جاری و ساری ہے ، مہاجروں کو کبھی بھی لیڈر اچھا نہیں ملا جو بھی آیا اس نے اپنے مفادات کو پہلے ترجیح دی ، کوٹہ سسٹم کے لیے پہلے تو ایم کیو ایم میدان میں آئی جن کا مہاجروں نے بھرپور ساتھ دیا پر افسوس وہ بھی مہاجروں کا سودا ہی کرتی رہی حالانکہ ایم کیو ایم مہاجروں کی واحد اسٹیک ہولڈر تھی اور الطاف حسین نے اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مہاجروں کو استعمال کرتے رہے اور اپنا پیسا سمیٹتے رہے اور اسی آڑ میں فسادات بھی ہوتے رہے اور اپنا اپنا حصہ سایڈ میں کرتے گئے اور معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاء ہوتا رہا اور انہیں بس خود کے استعمال کے لیے لندن میں بیٹھا شخص استعمال کرتا رہا، اب ایم کیو ایم کے بعد مہاجروں نے پاکستان تحریک انصاف پر بھروسہ کیا ہے کیونکہ عمران خان صاحب نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ میں مہاجروں کو تنہا نہیں چھوڑونگا اب وقت ہے آگیا ہے کہ وعدہ وفا کیا جائے اور جو 49 سالوں سے مہاجروں کی محرومیاں ہیں ان کا آزالہ کیا جائے حالانکہ اب تک کوٹہ سسٹم پر نا ہی پارلیمینٹ میں کوئی بل پیش کیا گیا ہے نا ہی قومی اسمبلی میں کوئی بحث ہوئی ہے پھر بھی مہاجروں کی تمام تر نظریں عمران خان اور ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی طرف مکروز ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم کب اور کیسے ختم کیا جانا ہے! کوٹہ سسٹم ایک ایسا ناسور ہے جس سے مہاجر نوجوانوں کی نوکریوں پر پہرا بٹھا دیا گیا جو کہ سب کو دکھتا بھی ہے ، سمجھتے بھی سب ہیں پر آواز اٹھانے کو کوئی تیار نہیں، حالانکہ حال ہی میں سندھ گورنمنٹ نے سندھ کمیشن کے ایک ہی گاؤں سے 100 آدمیوں کو بھرتی کیا ہے جو کہ اس بات کا آج بھی کھلا سبوت ہے کہ کیسے مہاجروں کا استحصال کیا جارہا ہے۔
"کوٹہ سسٹم ایک ناسور ایک گالی”
@Aahadpirzada
-

جدت کی زندگی تحریر: مزمل مسعود دیو
جیسے جیسے دنیا میں آبادی بڑھتی گئی ویسے ویسے اللہ تعالی نے انسانوں کے ذہن میں نئی نئی چیزوں کی ایجاد کی سوچ ڈالی تاکہ انسان بہتر طریقے سے اپنی زندگی بسر کریں۔ دیکھا جائے تو بہت سی چیزوں کی ایجاد نے دنیا میں اک انقلاب برپا کیا جیسے بجلی، الیکٹرونکس، موٹر انڈسٹری اور پٹرولیم۔ ان شعبوں میں مزید ترقی آئی اور انسان روز روز نئی چیزیں ایجاد کرنے لگے۔
دیکھا جائے تو بجلی سے پہلے کیسی زندگی ہوگی کہ ہر طرف شام ہوتے ہی اندھیرا پھیل جاتا تھا اور زندگی رک سی جاتی تھی اور صبح ہونے کا انتظار کیا جاتا تھا۔ موٹر انڈسٹری نے فاصلے کم کردئیے۔ مہینوں کے فاصلے گھنٹوں میں ہونے لگے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر گھنٹوں میں طے پانے لگا۔ الیکٹرونکس کی ایجاد میں بہت کچھ ایجاد ہوا لیکن ایک حیران کن چیز ایجاد کی گئی جس کو موبائل فون کا نام دیاگیا۔
کہتے ہیں کہ پہلا موبائل فون 1973 میں ایجاد کیا گیا اور اسکے موجد کا نام مارٹن کوپر ہے جس نے موٹرولا کمپنی کے اشتراک سے پہلا فون بنایا۔
موبائل فون میں اصل جدت 1990 کے بعد آئی جب بہت سی کمپنیوں نے اس کاروبار کو وسیع کیا اور نت نئے ماڈل متعارف کروائے جس سے لوگوں میں اسکی خریداری کا رجحان بڑھتا گیا۔ آجکل تو سمارٹ فون کھانا کھانے سے زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ موبائل فون کی آمد سی پہلے زمانہ بہت حسین تھا بے شک وسائل کم تھے لیکن لوگوں میں محبت بہت زیادہ تھی۔ کسی رشتے دار یا دوست کی خیریت معلوم کرنے کے لیے اس کے پاس جانا پڑتا تھا تو وہ ملاقات آپس میں محبت اور زیادہ بڑھا دیتی اور موبائل نے یہ کام قریبا ختم کردیا۔
ہر چیز کے فوائد کے ساتھ نقصانات بھی ہوتے ہیں دیکھا جائے تو جہاں موبائل فون کے فوائد ہیں جیسے آسان اور تیز رابطہ، دنیا کے حالات سے آگاہی۔، تعلیمی میدان میں معاونت وغیرہ وہیں نقصانات بھی ہیں۔
رابطہ تو بہت تیز ہے لیکن اس میں محبت ختم ہوگئی، گھریلو اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا کیونکہ ہر فرد کو موبائل چاہئیے۔ بچوں میں اکیلا رہنے کی عادت زیادہ ہو گئی جس سے بڑوں کا احترام کم ہوتا جارہا ہے، انسانی جسم پر اسکے بہت منفی اثررات ہو رہے ہیں جیسے نظر کا کمزور ہونا، دماغی کمزوری وغیرہ۔ انٹرنیٹ کے استعمال سے فحش چیزوں کو دیکھنے سے معاشرے میں بے حیائی بھی بڑھ رہی ہے۔
موبائل فون کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جائے اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ اسکے استعمال سے بچایا جائے لیکن یہ ناممکن ہی نظر آتا ہے۔ موبائل فون کو معاشرے کی بہتری کے لیے زیادہ استعمال میں لائیں نہ کہ بس فضول گیمز اور فلمیں دیکھنے کے لیے۔ اسلامی تعلیمات کو عام کریں تاکہ معاشرے کی اصلاح میں کردار ادا کیا جائے۔
جدت انسان کو دو راستے دکھاتی ہے ایک جو بہت مہنگا ہے اور دوسرا وہی پرانے سٹائل طرز زندگی اب یہ ہماری مرضی کہ اپنے وسائل کے مطابق کونسا راستہ اختیار کریں۔@warrior1pak
-

علماء اور علم کا مقام تحریر : محمد بلال اسلم ۔
علماء کا معاشرے میں بہت اہم کردار ہوتا ہے اگر ہمارے معاشرے کے علماء اللہ سے ڈریں اور اپنے علم کے مطابق عمل کریں تو معاشرہ ایک بہترین سمت پر چل سکتا ہے اور اگر علماء اپنے علم سے ہٹ جائیں اور دل کی خواہش کے مطابق عمل شروع کردیں تو یہ ہی علماء معاشرے کو غلط راستے پر لیجانے کا سبب بن سکتے ہیں۔۔۔حقیقی علماء کا مقام بہت بلند ہے ۔قران ,احادیث اور صحابہ کے اقوال کی روشنی میں علماء کا مقام آپکے سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں
*قرآن کریم کی روشنی میں* ( 1 ) اِنَّمَا يَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا۔۔ترجمہ ۔بے شک ﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔( 2 ) قُلْ هَلْ يَسْتَوِی الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۔۔ترجمہ ۔فرما دیجیے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں ( مطلب یہ ہے علم رکھنے والے اور علم نا رکھنے والے ہرگز برابر نھیں ہو سکتے
( 3)قُلْ اٰمِنُواْ بِهِ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا ط اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ اِذَا يُتْلٰی عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِـلْاَذْقَانِ سُجَّدًاo ترجمہ ۔فرما دیجئے: تم اس پر ایمان لاؤ یا ایمان نہ لاؤ، بیشک جن لوگوں کو اس سے قبل علمِ (کتاب) عطا کیا گیا تھا جب یہ (قرآن) انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔( یعنی کے جنکو علم دیا جاتا ہے وہ آسانی کے ساتھ اللہ تعالی کی کتاب اور احکام کو سمجھ سکتے ہیں*احادیث کی روشنی میں*
( 1 ) قَالَ رَسُوْلُ ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم وَمَنْ سَلَکَ طَرِيْقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ عِلْمًا سَهَلَ اﷲُ لَهُ طَرِيْقًا إِلَی الْجَنَّةِ. ۔ترجمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علم کی تلاش میں نکلتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔( مسلم شریف )
( 2 ) قَالَ رَسُوْلُ ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ، کَانَ فِي سَبِيْلِ اﷲِ حَتّٰی يَرْجِعَ.۔ترجمہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حصولِ علم کے لئے نکلا وہ اس وقت تک ﷲ کی راہ میں ہے جب تک کہ واپس نہیں لوٹ آتا۔ ترمذی*صحابہ کے اقوال روشنی میں* ۔عرب کے معروف عالم دین صالح احمد شامی نے ملفوظاتِ صحابہ کرامؓ کا ایک مجموعہ ’’مواعظ الصحابۃؓ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس مجموعے میں سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے منتخب ملفوظات ترجمہ وتشریح کے ساتھ پیش خدمت ہیں، جن کا براہِ راست تعلق طلباء اور علماء کرام سے ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب نوجوانوں کو طلبِ علم میں مشغول دیکھتے تو خوش ہو کر فرماتے:
’’مرحباً بینابیع الحکمۃ، ومصابیح الظلم، خلقان الثیاب، جدد القلوب، حبس البیوت، ریحان کل قبیلۃ۔‘‘’اے حکمت ودانش کے چشمو! جہالت کے اندھیروں میں علم کے روشن چراغو! حصولِ علم کی کوششیں تمہیں مبارک ہوں۔ تمہارا لباس بوسیدہ، لیکن دل تروتازہ رہتا ہے۔ بے مقصد گھومنے پھرنے کے بجائے اپنی اقامت گاہوں تک محدود رہتے ہو، تم ہر قبیلے کے پھول ہو۔۔۔مزید فرماتے ہیں کہ علیکم بالعلم قبل أن یرفع، ورفعہ موت رواتہ، فو الذي نفسي بیدہٖ! لیؤدن رجال قتلوا في سبیل اللّٰہ شھداء أن یبعثھم اللّٰہ علماء لما یرون من کرامتھم، فإن أحدا لم یولد عالما، وإنما العلم بالتعلم۔‘‘
’’علم کو اس کے اُٹھ جانے سے قبل ہی حاصل کر لو، اہلِ علم کا فوت ہو جانا ہی علم کا اُٹھ جانا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، قیامت کے دن اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہوئے شہید ہوجانے والے لوگ جب اپنی آنکھوں سے علماء کی قدرومنزلت کا مشاہدہ کریں گے تو حسرت کریں گے کہ کاش! اللہ تعالیٰ انہیں بھی علماء کی صف میں اُٹھاتا، کوئی شخص بھی عالم بن کر پیدا نہیں ہوتا اور علم‘ علم حاصل کرنے سے آتا ہے
مزید فرمایا لا یزال الفقیہ یصلي‘‘ ۔۔۔ ’’فقیہ ہمیشہ نماز میں ہوتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: کیسے؟ آپ نے فرمایا: ’’ذکر اللّٰہ تعالٰی علٰی قلبہٖ ولسانہٖ‘‘ ۔۔۔’’ اس کا دل اور اس کی زبان ذکرِ الٰہی سے معطر رہتے ہیں۔ ‘@BilalAslam_2
-

سگریٹ کا دھواں قریبی افراد کے لئے موت کا سایہ،تحریر:- محمد دانش
خبردار تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے
یہ سلوگن ہر سگریٹ کی ڈبی پہ لکھا ہوتا ہے اور ہم میں سے ہر کوئی اس کا مطلب جانتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ سگریٹ سے انسان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ میں تقریبا سات سو سے زائد کیمیکلز موجود ہوتے ہیں ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 70 کیمیکلز کینسر کی وجہ بنتے ہیں اور کچھ کیمیکلز جیسا کہ امونیا فارم ایلڈی ہائڈ وغیرہ جو کہ پھیپھڑوں کی بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں اور وہ لوگ جو سگریٹ نوشی زیادہ کرتے ہیں ان میں کورونا وائرس اور اس طرح کی بڑی مہلک بیماریوں کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ سگریٹ کا دھواں انکے جسم کے مدافعتی نظام کو پہلے ہی کمزور کرچکا ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگ کورونا وائرس کا حملہ برداشت نہیں کر پاتے اور اس کے بچنے کے چانسز بہت کم ہو جاتے ہیںجو انسان سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ خود تو ان بیماریوں کا سامنا کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ شخص ارد گرد کے ماحول کو بھی آلودہ کر رہا ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگ جو خود تو سگریٹ نوشی نہی کرتے لیکن اسکے گرد موجود ہونے کی وجہ سے ان کو بھی بالواسطہ ان سب بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آج کل لوگ اس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور مختلف بیماریاں خاص طور پہ کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور یہ سب اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ ہمارے ارگرد ہمارے بہت قریبی رشتے دار یا گھر کا کوئی فرد جب گھر میں سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ اپنے ساتھ باقی سب کو بھی اس آلودگی کا حصہ بنا رہا ہوتا ہے اور اسی طرح کے مثائل سے ہمارے تعلیمی ادارے، مارکیٹیں،گاڑیوں میں موجود افراد بھی دوچار ہیں خاص طوران میں بالواسطہ سگریٹ نوشی بہت عام ہے
میری آپ سب لوگوں سے گزارش ہے کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں خود کو اور اپنے قریبی عزیزوں کو اس مہلک دھوئیں سے بچائیں تاکہ ہم بہتر صحت مند زندگی گزار سکیں اور اپنے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا سکیں
میں حکومت پاکستان سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ بالواسطہ سموکنگ سے بچنے کے لئے وہ جگائیں جہاں آمدورفت زیادہ ہو اور لوگوں کا میل جول زیادہ ہو وہاں پہ یا تو سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کی جائےاور سگریٹ نوشی کرنے والے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے خاص طور تعلیمی اداروں میں بھی سگریٹ نوشی بین ہونی چاہئے
تاکہ ہم اس زہریلے دھوئیں سے چھٹکارا پا سکیں اور اپنے وطن عزیز کو اس طرح کی آلودگی سے پاک کر سکیں
صاف صاف پاکستان
پاک پاک پاکستان
تحریر:- محمد دانش
@iEngrDani -

بچپن کی شرارت قسط 5۔ تحریر۔طلعت کاشف سلام
تنبیہ۔۔۔ یہ پڑھنے والے میرا اسٹنٹ آزمانے کی بلکل کوشش نہیں کریں۔
اب جو شرارت بتانے جا رہی ہوں اس وقت میری عمر شاید تیرا یا چودہ سال ھو گی۔
جیسا کے میں پہلے ہی بتا چکی ہوں کے ھم لوگ ابوظہبی میں رہتے تھے اور گرمیوں میں پاکستان جایا کرتے تھے۔
میری بڑی بہن جو کے مجھ سے ایک سال بڑی تھی اسے ابو نے کہا تھا کے اس بار پاکستان جاو تو تھوڑی بہت کسی ڈرائیونگ اسکول سے گاڑی چلانا سیکھ لینا۔
اس لیے جب ھم پاکستان گئے تو میری بہن کو امی نے گاڑی سیکھنے کے لیے اسکول میں ڈال دیا۔ بہن جب بھی گاڑی چلانے جاتی میں اسکے ساتھ پیچھے بیٹھ جاتی۔اور ڈرائیورنگ ٹیچر کی باتوں کو غور سے سنتی رہتی۔ میری بڑی بہن گاڑی چلاتے ہوئے بہت ڈرتی تھی۔ اور میں اس وقت پیچھے بیٹھی سوچتی رہتی کے یہ کونسا مشکل کام ہے جو ثروت (میری بڑی بہن) اتنا ڈر رہی۔
خیر اس طرح کوئی ایک ھفتہ گزر گیا۔ میں نے آمی سے ضد کی کے مجھے بھی سیکھنا ہے۔ آمی نے ڈانٹ دیا کے تم ابھی بہت چھوٹی ھو۔
میں آمی کی بات سن کے اس وقت تو چپ ھو گئی۔ پر میری شرارتی فطرت نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔
زیادہ تر تو ھم سب بہن بھائی ہر وقت ساتھ ہی ھوتے تھے۔ اسلیے مجھے کافی دن تک تو کوئی موقع نہیں مل پایا۔ پر ایک دن دوپہر میں میرے بھائی سو رہے تو اس وقت مجھے خیال آیا کے بھائی اور آمی تو گاڑی چلانے دیتے نہیں ابھی موقع اچھا ہے آمی اور بھائی دونوں ہی سو رہے ہیں۔ تو کیوں نہ ان سے چھپ کے گاڑی چلائی جائے۔
میں نے اپنا پلان چھوٹی بہن کو بتایا۔ کیونکہ صرف وہ ہی تھی جو میرا ساتھ دے سکتی تھی بڑی کو بتاتی تو اس نے بھی ڈانٹ دینا تھا۔ چھوٹی والی جھٹ سے تیار ھو گئی۔
ھم دونوں لگے گاڑی کی چابی ڈھونڈھنے۔ جو کے کافی ڈھونڈنے کے بعد بھی نہیں ملی۔
پھر چھوٹی بھائی کے کمرے میں گئی۔ اور اس وقت اس نے دیکھا کے چابی تو بھائی کی پینٹ کی جیب میں ہے، یہ دیکھنے کے بعد چھوٹی میرے پاس آئی اور مجھے بتایا کے اب کیا کریں۔
پھر ھم دونوں نے پلان بنایا کے کسی طرح جیب سے چابی نکالتے ہیں۔ میں بھائی کے کمرے میں گئی اور بڑی مشکل سے آھستہ آھستہ انکی جیب سے کسی طرح چابی نکال لائی۔اسکے بعد ھم دونوں خوشی سے بھاگے باہر۔ اب یہ بات زہن میں رکھیں کے اس دن سے پہلے چلانا تو دور کی بات میں نے نہ تو کبھی چابی تک گاڑی میں نہیں ڈالی تھی۔
خیر ھم باہر آئے گاڑی باہر ہی کھڑی تھی۔ دونوں بیٹھے سن سن کے اتنا سمجھ چکی تھی کے گئیر کیسے ڈالتے ہیں۔ گاڑی اسٹارٹ کی اور گیئر ڈالا تو جھٹکے سے بند ھو گئی۔ پھر اسٹارٹ کی اور پھر کوشش کی دو بار کی کوشش سے گاڑی چل پڑی۔ ھم دونوں بڑے خوش ھوئے۔ گاڑی کیونکہ کبھی سیکھی ہی نہیں تھی اسلیے گیئر والی گاڑی ھونے کی وجہ سے بار بار جھٹکے لیتی رہی۔ گیئر بھی دو سے زیادہ نہیں ڈالنے آتے تھے۔ اور اسی طرح ہچکولے لیتی گاڑی چلاتی رہی پورے اپبے علاقے کا چکر لگایا۔ کئی بار بند ھوئی دو جگہ تو ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
اور چکر لگا کے لا کے واپس کھڑی کر دی۔ واپس کھڑی ویسی نہیں کر سکی جیسے بھائی نے کھڑی کی تھی۔ میں نے ٹیڑھی پارک کی۔
اور ھمت دیکھیں کے چابی لا کے بھائی کی جیب میں واپس اندر بھی ڈالی اور انہیں سوتے میں پتہ تک نہیں چلا۔
لیکن۔۔۔۔
میں پھر بھی پکڑی گئی۔ چابی کی وجہ سے نہیں گاڑی غلط پارک کرنے کی وجہ سے اور محلے کی آنٹیوں کی وجہ سے۔
اففففف یقین کریں جب آمی سے محلے کی آنٹی نے پوچھا کے طلعت بھی گاڑی چلانے لگی۔ تو سارا پول کھل گیا۔ اور آنٹی نے یہ بھی بتایا کے تین بار بند ھونے کے بعد کتنی مشکل سے گاڑی چلائی تھی۔
پھر تو میری جو شامت آئی افففف۔ اور تو اور چھوٹی بہن بھی آمی کے ساتھ شامل ھو گئی اور امی کو کہا کے اس نے مجھے روکا تھا پر آپی زبردستی ڈانٹ کے مجھے لے گئی تھی۔
اس دن مجھے نہ صرف گرانڈ کیا گیا بلکہ خاصی جھاڑ بھی پڑی۔
ویسے اللہ کا شکر ہے کسی کو ٹکر نہیں ماری ورنہ یہ شرارت کافی نقصان کا باعث بن سکتی تھی۔ اب سوچتی ہوں کے اس حرکت سے کسی کی جان بھی جا سکتی تھی۔ پر جب نئی نئی جوانی ھو تو ان سب باتوں کا ہوش نہیں ھوتا۔
آپ سب بھی سوچتے ہونگے کے طلعت کتنی شیطان کی پڑیا تھی۔@alwaystalat
-

پاکستان کے دو ہی اصل دُشمن۔ تحریر: محمد شعیب
میں تو اس نیتجے پر پہنچ چکا ہوں کہ پاکستان کے دو دشمن ہیں ایک تو بھارت جس کے بارے سب جانتے ہیں دوسرا مریم ۔ کیسے ہیں یہ میں آپکو آگے چل کر بتاتا ہوں ۔
۔ اس وقت آزاد کشمیر میں پارلیمانی نشستوں کے انتخابات کے لئے انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ پہلے بلاول اور مریم ، پھر آصفہ اور اب عمران خان کے آزاد کشمیر میں جانے سے اس الیکشن کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ مگر سیاست کے نام پر ۔ الیکشن کے نام پر وہاں گند ڈالا جا رہا ہے اور اچھالا جا رہا ہے ۔
۔ اب آزاد کشمیر میں بھی وہ ہی سلیکٹڈ ، دھاندلی ، کٹھ پتلی ، گالم گلوچ ، فائرنگ ، گاڈ فادر ، مافیا ، چور ، ایجنٹ اور غدار کا کھیل شروع ہوچکا ہے ۔
۔ حکومت کی نااہلی ، کرپشن ، مہنگائی، بیڈ گورننس اور کرتوت اپنے جگہ ہیں ۔ اس پر میں اکثر انکو آڑے ہاتھوں بھی لیتا رہتا ہوں ۔ اپوزیشن کو بھی حق ہے کہ وہ حکومت پر تنقید کرے اور جہاں وہ غلط ہو اس کو ٹف ٹائم دے۔ مگر اس تنقید میں مریم نواز نے آج لائن کراس کر دی ہے ۔ آج وہ بغض عمران میں ریاست مخالف بیان دے گئی ہیں اور وہ بھی آزاد کشمیر میں کھڑے ہوکر ۔ ان کو پتہ نہیں ہے یا اندازہ ہے کہ نہیں یا پھر انھوں نے جان بوجھ کر اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے یہ بیان دیا ہے ۔
۔ بلکہ بیان نہیں مطالبہ کیا ہے جھوٹی شہزادی نے ۔ کہ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا پر وزیر اعظم عمران خان افغانستان سے معافی مانگیں کیونکہ افغان سفیر کی بیٹی کی حفاظت کی ذمہ داری ہماری تھی ۔ وزارت داخلہ کہتی ہے کہ وہ اس لئے اغواء ہوئی کیوں کہ اکیلی باہر نکلی تھی ۔
۔ اب ان کے اس بیان کو افغان میڈیا ، بھارتی میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پاکستان کے خلاف ایک پرپیگنڈاہ کے طور پر استعمال کررہا ہے اور تاریخ کےاس اہم موڑ پر جب ہم ہر جگہ سے دشمنوں کے بیچ گھرے ہوئے ہیں ۔ اس سے عمران خان کو تو پتہ نہیں نقصان ہوتا ہے یا نہیں۔ مجھے اس سے کوئی غرض بھی نہیں ہے ۔ مگر آج مریم نے ریاست پاکستان کو یقینی طور پر زک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
۔ مریم نے یہ ایک بیان دے کر حکومت کی crediability کے ساتھ تو جو کرنا تھا کیا مگر ساتھ ہی ریاست پاکستان اور اداروں کو بھی کٹہرے میں کھڑے کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ۔ حالانکہ وہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں۔ ان کی پارٹی بھی جانتی ہے ۔ کہ اشرف غنی کس کے ایماء پر افغان سفیر کو واپس بلا رہا ہے ۔ اور یہ سب ایک ڈرامہ ہے ۔ مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا اور افغانستان کے حالات کی ذمے داری پاکستان پر ڈالنا ہے ۔
۔ آپ دیکھیں سفیر کی بیٹی نہ تو صحیح بیان دے رہی ہے نہ سوالات کے جواب دے رہی ہے اور کس نے اس کو کہا تھا کہ بغیر سیکورٹی کے وہ باہر نکلیں ۔
۔ مریم کو یہ ہمت تو نہیں ہوئی کہ وہ یہ سوال کرتی۔ کٹھ پتلی افغان حکومت اور اشرف سے پوچھیں کہ وہ کس کے ایماء پر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں ۔ الٹا وہ ریاست پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے پاکستان کے دشمنوں کی زبان بول رہی ہیں۔ آج کے ان کے اس بیان سے بھارت میں خوشیوں کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں ۔
۔ یہ خارجہ پالیسی پر بڑے لیچکر دے رہی ہیں ۔ پر مریم بھول گئیں ان کے دور میں تو وزیر خارجہ کا عہدہ کسی کو دیا ہی نہیں گیا ۔ جس کو نقصان ایف اے ٹی ایف سمیت پتہ نہیں کس کس معاملے میں ہم کو اٹھنا پڑا ہے ۔ اب یہ جو چینخ چلا رہی ہیں کشمیر میں ۔ برہان وانی ، کلبھوشن یادو کے معاملے پر ان کی زبان کوتالے لگ جاتے ہیں ۔
۔ دوسری جانب بھارت میں ایک اسکینڈل آیا ہے جس کا ڈائریکٹ تعلق پاکستان کے ساتھ ہے ۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ جاسوسی کےاسرائیلی نظام کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کا نمبر بھی ہیک کرنےکی کوشش کی گئی ہے ۔
۔ چھوڑ دیں عمران خان کی گورننس کیا ہے یا نہیں ہے ۔ بھارت نے وزیر اعظم پاکستان کا فون ہیک کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مگر مریم اس پر نہیں بولیں گی ۔ مودی کی بینڈ نہیں بجائیں گی ۔ ہاں البتہ ساڑھیاں اور آم ضرور بجھوائیں گی ۔
۔ ایف اے ٹی ایف پر جے شنکر کا بیان آپ نے سن لیا ہوگا اور اب یہ ۔ اس کے بعد بھی ہمارے لیڈر ایسے بیان دیں جو مریم نے دیا ہے تو پھر تف ہے اُن پر بھی۔۔
۔ امریکی اخبار نےیہ بھی بتایا ہے کہ جاسوسی کے اسرائیلی نظام سے پاکستان سمیت کئی ملکوں کی شخصیات کے فون ہیک کیےگئے ہیں۔ جبکہ بھارت میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے فون کی بھی ہیکنگ کی گئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جبکہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ ان تمام افراد کی جاسوسی اسرائیلی سائبر فرم این ایس او کے سافٹ وئیر ۔۔۔ پیگا سس ۔۔۔ کے ذریعے کی گئی۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس جاسوسی، نگرانی اورڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت ہے اور بھارت میں اسرائیلی جاسوس نظام ۔۔۔ پیگاسس ۔۔۔ کے ذریعے ہیکنگ کی جاتی ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت دس ممالک اسرائیلی کمپنی کے کلائنٹ ہیں۔
۔ اب مریم ان صحافیوں کے حق میں بات نہیں کریں گی جن کے فون مودی ہیک کر رہا تھا ۔ اب مریم نہیں بولیں گی جو سازشیں بھارت پاکستان کے خلاف کر رہا ہے ۔ اب مریم کو یاد نہیں آئے گا وہ ایکٹنگ کرنا اور رونا دھونا کہ مودی پاکستان توڑنے کی سازشوں میں ملوث ہے ۔ اور ہمارا دشمن نمبر ون ہے ۔
۔ یقینی طور پر پاکستان ، ادارے اور عوام ان دشمنوں سے نبڑ لیں گے ۔ مگر یہ جو جونکیں مریم کی شکل میں پاکستان کے اندر بیٹھی ہوئی ہیں ۔ ان کو ہینڈل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ یہ جو پاکستان کو اندر سے کمزور کررہے ہیں ان کا قلع قمع کرنا بہت ضروری ہے ۔
۔ یہ جو ووٹ کو عزت دو ، دھاندلی ، کرپشن اور نااہلی کے نام پر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں نقصان پہنچا رہے ہیں ان کو آڑے ہاتھوں لیے بغیر پاکستان اپنے دشمنوں کے خلاف کامیاب نہیں ہوسکتا ہے ۔
۔ میری نظر میں تو جو مریم کشمیر کی پاک دھرتی پر کھڑے ہوکر یہ کٹھ پتلی افغان حکومت کے بیانیے کو پروان چڑھانے کی بھونڈی کوشش کر رہی ہے یہ treason ہے ۔ یہ مریم کھاتی پاکستان کا ہے اور گن بھارت اور کٹھ پتلی اشرف غنی کے گاتی ہے ۔ یہ کشمیر میں کھڑے ہوکر باتیں تو بڑی بڑی کر رہی ہے مگر مودی کو للکارتے ہوئے اس کی زبان لڑ کھڑا جاتی ہے ۔ یہ اجیت ڈول اور جے شنکر کو شٹ اپ کال دینا بھول جاتی ہے ۔ یہ کلبھوشن یادو کا نام لیتے ہوئے ڈر جاتی ہیں ۔
ناجانے کس نے انہیں یہ کہہ دیا ہے کہ ایسے اگر یہ بولیں گی تو کشمیر کا کیس صحیح طریقے سے لڑ پائیں گی۔اور عمران خان کو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔نہ جانے کس نے ۔