Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دنیا کی نظر میں گیم چینجرعلاقوں کی عوام پانی کی بوند کو ترس گئے . تحریر: زاہد کبدانی

    دنیا کی نظر میں گیم چینجرعلاقوں کی عوام پانی کی بوند کو ترس گئے . تحریر: زاہد کبدانی

    1 گوادر (گوادر پورٹ ، سی پیک)
    2_نوکنڈی ۔چاغی (سیندک،ریکوڈک)
    3_خاران (راسکوہ ایٹمی تجربہ گاہ)

    اس وقت پوری دنیا کی نظریں بلوچستان کے تین ڈسٹرکٹ میں لگے ہوئے ہیں،گوادر جس کو خطے میں ایک گیم چینجر علاقے کی اہمیت حاصل ہے،دنیا کے تمام طاقتور ملکوں کی نظریں گوادر میں سرمایہ کاری کے لیے لگے ہوئے ہیں،اسی طرح دنیا میں عالمی سطح پر سونے اور تانبے کے زیادہ زخائر رکھنے والے علاقے نوکنڈی چاغی جہاں پر سیندک اور ریکو ڈک جیسی قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ اور خاران میں راسکوہ جہاں پر ایٹمی تجربہ کر کے پاکستان ناقابل تسخیر ملک بن گیا،لیکن دنیا کے سامنے یہی گیم چینجر علاقے زندگی کی بنیادی ضرورت پینے کی صاف پانی سے محروم ہیں،گوادر میں آئے روز نلکوں سے مختلف رنگوں کے پانی نکلتا ہے، کھبی نیلا،کھبی پیلا کھبی سیاہ آئے روز مختلف رنگ کے پانی سے وہاں کے عوام سراپا احتجاج ہیں،اسی طرح دنیا میں سونے اور تانبے کے زیادہ زخائر رکھنے والے علاقے نوکنڈی چاغی جہاں کے لوگ ایک گیلن پانی کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرتے ہیں،پاکستان کے بالا ایوان سینٹ کے چئرمین کی کرسی بھی گزشتہ پانچ سالوں سے نوکنڈی کی پانی کی قلت کا مسلہ حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے،اسی طرح خاران میں بھی کل تک مختلف علاقوں کے مکینوں نے پانی کی قلت کے خلاف محکمہ پبلک ہیلتھ کے دفتر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے حکمرانوں کے تمام دعوے صرف باتوں تک محدود ہیں،عملی طور پر لوگوں کی زندگی قرون وسطی کی دور سے بھی بد تر ہے،صرف مین اسٹریم میڈیا میں خوبصورت اشتہارات کے ذریعے دنیا کے سرمایہ کاروں کو بےوقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن بلوچستان کے عوام کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا ہے.

    @Z_Kubdani

  • عمران ریاض خان . تحریر : کاشف علی

    عمران ریاض خان . تحریر : کاشف علی

    عمران ریاض خان صحیح معنوں میں صحافت کی حق ادا کر رہا ہے اور غیر جانبدارانہ صحافی ہے کھل کر اپنا موقف دیتا ہے جو بھی غلط کر رہا ہوں سب کی مخالفت کرتا ہے محب وطن ہے اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتا ہے.

    صحافت کے عظیم پیشہ سے وابستہ ہزاروں صحافی ہیں لیکن عمران خان نے صحافت کا عملی نمونہ پیش کیا، پاکستان کو مثبت انداز میں پیش کیا، ہمیشہ سے بنا خوف کے صحیح خبر بیان کرتا ہے قوم کا درد رکھتا ہے، پاک فوج سے بھرپور محبت رکھتا ہے، ٹھوس دلیل کے ساتھ ساتھ بات کرتا ہے ٹھیک کو ٹھیک غلط کو غلط کہتا ہے چاہے سامنے کوئی بھی ہوں صحافت کے نام پر جو صحافی پارٹیوں سے وفاداری نبھاتے ہیں ان پر بھی کھل کر تنقید کرتا ہے میڈیا کی منافقت پر بھی کھل کر بے خوف بات کرتا ہے.

    کچھ عرصہ پہلے جب مولانا طارق جمیل صاحب نے کہا تھا کہ میڈیا پر زیادہ جھوٹ پھیلایا جاتا ہے اس پر میڈیا کو آگ لگی تھی لیکن عمران ریاض خان نے مولانا طارق جمیل صاحب کی حمایت کی تھی جس پر کچھ میڈیا چینلز نے عمران ریاض خان کو اپنا موقف دینے سے بھی روکا تھا.

    یہیں وجہ تھی کہ کچھ وقت پہلے عمران ریاض خان نے اپنی یوٹیوب چینل بنائی اور مولانا طارق جمیل صاحب کی حمایت میں اپنی پہلی ویڈیو بنائی جس پر لوگوں نے عمران ریاض خان کو بہت سراہا

    پھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور اب بہت کم عرصے میں عمران ریاض خان کے یوٹیوب چینل پر تقریباً دو ملین سبسکرائبر مکمل ہونے کو ہے جو کہ بہت بڑی بات ہے بہت سارے نام نہاد صحافی کو کئی سال گزرنے کے باوجود عمران ریاض خان کی طرح کامیابی نہیں ملی وجہ یہی ہے کہ عمران خان اپنا پورا حق ادا کر رہا ہے اور لوگ اسے دیکھنا سننا پسند کرتے ہے.

    بہت ساری باتیں جو عمران ریاض میڈیا پر کھل کر نہیں کہہ سکتے اپنے چینل کے زریعے لوگوں کو بے خوف ہو کر سارا حقیقت کھل کر بتاتا ہے.

    اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھیں اور مزید استقامت دے.

    @DirojayKhan1

  • "ملک کا روشن خیال بننا خواب سا لگتا ہے تحریر: سیدہ زہرا نقوی

    "ملک کا روشن خیال بننا خواب سا لگتا ہے تحریر: سیدہ زہرا نقوی

    برقع کیا تمبو بھی پہنا دو تو ہراسائی اور زبردستی کم نہیں ہوگی۔
    اس معاشرے میں اپنے بچوں، بیٹوں بھائیوں اور دوست مردوں کو عورت کی ماں بہن بیٹی کے بجائے انسان کی حیثیت سے پہچان کراو۔
    کچھ وقت پہلے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک عورت برقع میں تھی لیکن ایک مرد نے اُسے بھی نہ چھوڑا۔اگر جنسی ہراسائی اور ریپ کا تعلق پردے سے ہوتا تو ایک با حجاب لڑکی کو ادھیڑ عمر آدم بھی ایسے ہراساں نہ کرتے۔
    ان سب کا تعلق پدرشاہی کے بیمار نظام اور سوچ سے ہے جس میں عورت کو جنسی تسکین اور بچے پیدا کرنے کے علاوہ کچھ سمجھا ہی نہیں جاتا۔
    اور کس کس کو برقع پہنائیں گے۔ یہاں تو 3 سال کی بچی اپنے محلے میں، 8 سال کا بچہ مدرسے میں، ہندو لڑکی اپنے ہاسٹل میں اور بہت سے اپنے گھر میں محفوظ نہیں۔اب صرف یہی دیکھ لیں کہ
    پاکستان بچوں سے زیادتی جیسے جرائم میں دنیا بھر میں سرفہرست ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر روز دس بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔۔۔۔
    جبکہ دوسری طرف اس معاملے کو اجاگر کرنے کے لئیے کچھ وقت پہلے سرمدکھوسٹ نے بچوں سے زیادتی کے موضوع پر ایک فلم بنائی، جس پر سرمد نے اپنی تمام آمدنی لگا کر اس کو دو سالوں میں مکمل کیا اور جب ریلیز کا وقت آیا تو پابندی لگا دی۔
    ریاست اگر ان چند مولوی زادوں سے خوف کا شکار ہوکر ایسے پابندیاں لگاتی رہی تو اس ملک کا روشن خیال بننا ایک خواب ہے اس کی ترقی محض ڈھونگ ہی رہے گی۔
    اس ملک اس عوام اس نوجوان نسل کو سوچنے بولنے لکھنے کی آزادی دیں اگر اس ملک کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔

  • اسلام دین انسانیت . تحریر :‌ زوہا علی

    اسلام دین انسانیت . تحریر :‌ زوہا علی

    انسان اسلام کا جتنے غور سے مطالعہ کرے تو یہ بات انسان پر واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے۔اگر ہم یوں کہ دیں تو غلط نہیں ہوگا کہ اسلام انسانیت کا مذہب ہے اور اسلام کے ہر حکم میں انسانیت کا ہی فائدہ ہے۔

    اسلام اور انسانیت لازم و ملزوم ہیں جہاں اسلام ہوگا وہاں انسانیت ہوگی اگر کوئی انسان مسلمان ہونے کے باوجود بھی انسانیت کے خلاف جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام میں خرابی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اسلام کا مجرم ہے

    یوں تو اس کرہٗ ارض پر اللّہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ بے شمار مخلوقات ہیں اور اس زمین پر حاکم ومحکوم ہیں۔اگر انسانوں میں سے اخلاقیات کی بنیاد یعنی انسانیت کو نکال دیا جائے تو انسان کسی حیوان سے کم نہیں ہے۔

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو کہ زندگانی اور انسانیت کے تمام تر تقاضوں پر پورا اُترتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اللّہ اور اسکے رسول ﷺ نے جو بھی احکامات اور ہدایات دی وہ محض انسانیت سکھاتے ہیں اور انسانوں سے اچھے تعلقات رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے مجھے شوق ہوا کہ میں قرآن و حدیث کا مطالعه کروں جیسے جیسے میں پڑھتی گئی تو معلوم ہوتا گیا کہ بحیثیت سائنس کی طالبہ،جو چیز آج سائنس ثابت کر رہی ہے کہ اس چیز میں انسان کا نقصان ہے وہ اسلام ہمیں چودہ سو سال پہلے منع ہونے کا حکم دے کہ بتا چکا ہے۔دینِ اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں جس میں انسان کا نقصان ہو۔اسی طرح اسلام اپنے پیروکاروں کو بھی انسانیت کا ہی درس دیتاہے۔

    اسلام مىں کوئی بھی ایسی دلیل نہیں کی اسلام نے اپنے پیروکاروں کو دوسروں پر ظلم کرنے کا حکم دیا ہو،یا کسی مقام پر غیر انسانی فعل کرنے کا حکم دیا ہو۔حتیٰ کی اسلام انتقام لینے کا حکم بھی صرف اس وقت دیتا ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے۔بلکہ اسلام تو انتقام لینے کی بھی غیر محدود اجازت نہیں دیتا بلکہ یہ شرائط عائد کرتا ہے کہ انتقام ظلم کے مماثل ہو، اس سے متجاوز نا ہو۔

    ٓآج کل جن حقوق کو ہم نے عالمی انسانی حقوق تسلیم کیا ہے اس سے بہتر انداز میں ہمارے پاس وہ حقوق میثاقِ مدینہ، خطبہ حجۃ الوداع اور دیگر اسلامی تعلیمات میں ملتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم مسلمان ان تعلیمات کو نہیں پڑھتے اور اگر پڑھ بھی لیں تو عمل نہیں کرتے اور یوں ہم اپنی پسند کے راستے پر چل کر غلطی کرلیتے ہیں بووجہ یہ تمام اُمتِ مسلمہ پر انگلی اٹھانے کا موقع دوسرے مذاہب کو مل جاتا ہے اور نتیجتاً بے سکونی غالب آجاتی ہے۔

    اگر ہم مسلمان ہم خود اسلامی تعلیمات پر عمل شروع کریں اور اسلام کے امن پسند اور انسانیت دوست نظریے کو آگے بڑھائیں تو میرے نقطہء نظر سے یہ دنیا خوشحال ہوجائے گی۔

    @ZoHaAli_15

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں تحریر: روبینہ سرور

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں تحریر: روبینہ سرور

    1* اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
    *صحیح بخاری، ۸*
    2* ‏ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں مر گئی ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھی، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟
    آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

    ”ہاں ، تو اس کی طرف سے حج کر لے“۔

    *جامع ترمذی، ۹۲۹*
    3* جب تم میں سے كوئی شخص قربانی كرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قربانی سے کھائے۔

    *مسند احمد،۸۷۱۷*
    4* اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔

    *جامع ترمذی، ۲۱۶۹*
    5* دو کلمے جو اللہ کومحبوب ہیں،زبان پر ہلکے ہیں، میزان پر بھاری ہیں –

    سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ،سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ

    *بخاری،٧٥٦٣*
    6* آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔

    *سنن ابی داؤد، ۴۸۳۳*
    7* جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔

    *ابوداؤد ،۱۵۳۱*
    8* جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھتا ہے اس کے لئے دونوں جمعوں کے درمیان ایک نور
    روشن کر دیا جاتا ہے ۔

    *مستدرک حاکم، حدیث 3392*
    9* جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے ۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔

    *صحیح مسلم،۱۷۳*
    10* جو شخص مر گیا اور وہ (یقین کے ساتھ) جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا

    *صحیح مسلم ،کتاب الایمان، ١٣٦*

  • پاکستانی سیاست، سیاست دانوں‌ کا رویہ . تحریر: حیدر زیدی

    پاکستانی سیاست، سیاست دانوں‌ کا رویہ . تحریر: حیدر زیدی

    آزادی پاکستان کے بعد سے اب تک پاکستان میں کئی دور ایسے گزرے جس میں عوامی حکومت رہی تو کبھی مارشل لاء ملک میں رائج رہا- لیکن ان چیزوں سے پاکستانی عوام کو کبھی کوئی فرق نہیں پڑا کہ ملک میں کون حکمران جماعت ہے کیوں کہ ان بے حس حکمرانوں نے عوام کو اتنا سوچنے کے لیے وقت ہی نہیں دیا وہ ہمیشہ اپنی روز مرہ ضروریات زندگی اور بنیادی سہولیات جیسا کہ صحت روزگار تعلیم اور بچوں کی پرورش میں ہی الجھا رہے- اسے آپ سابقہ حکمرانوں کی سازش کا حصہ بھی سمجھ سکتے ہیں حالانکہ کہ یہ سب سہولیات کسی بھی جمہوری حکومت کی ذمہداری ہوتی ہے کہ وہ صحت تعلیم روزگار جیسی بنیادی چیزیں عوام کی چوکھٹ تک پہنچائے پاکستان میں بہت سی ایسی سیاسی تنظیمیں ہیں جنہوں نے روٹی کپڑا اور مکان موٹر وے ڈیم ایٹم بم جیسی ریاستیں پراپرٹی کو بنانے کا سہرا اپنے سر پر چڑھنے کی کوشش کی ہر تقریب میں یہ سیاستدان بھیڑ بکریوں کی طرح ایک دوسرے پر سیاسی حملے کرتے ہے اور پس پردہ یہ آپس میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں- ایسے نام نہاد سیاستدان جلسوں میں تقریری کرکے پاکستانی قوم کا خون گرما کر ان سے ووٹ بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب قوم ان سے ان کی چوری کا حساب مانگے تو یہ لوگ پاکستان سے باہر بھاگ جاتے ہیں اور اگر وہاں بھی پکڑے جائیں تو یہ یہ چور اور ملک سے بھاگے ہوئے نااہل اور خود ساختہ سیاستدان گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں گذشتہ دن عابد شیر علی کا ایک پاکستانی شہری سے انگلینڈ میں سامنا ہوا پاکستانی شہری نے عابد شیر علی اور ان کے لیڈر کی چوری کے بارے میں ان سے جواب لینا چاہا لیکن عابد شیر علی گالیوں اور غلاظت بھرے الفاظ کا ذخیرہ جو انھیں ان کی لیڈرشپ کی طرف سے دیا گیا ہے سب کے سامنے اس شہری پر برساتے رہے بات یہ نہیں کہ ان دونوں کے بیچ کیا معاملہ تھا فکر کی بات یہ ہے کہ ان بے حس لوگوں نے سیاست کو اتنا گندا کر دیا ہے کہ ایک صاف ستھرا آدمی سیاست میں آنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے عابد شیر علی کو پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ جمہوریت کا چیمپیئن اور نواز شریف کا ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے یہ پاکستانی قوم کا حق ہے کہ وہ سابقہ حکمرانوں کی چوری اور مکاری کا سوال ان کے منہ پر ہی کر سکے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے اگر یہ سب سوالات عابد شیر علی سے پاکستان میں کیے جاتے تو عزیز دوستو آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ یہ جاگیر دار وڈیرے اور چور حکمران اس کا اور اس کے خاندان کا کیا حشر کرتے- ایک قوم کے لئے یہ ایک باعث شرم بات ہے کہ ہمارے نوجوان عابد شیر علی کو اس کی بے ہودہ زبان استعمال کرنے پر اس کی داد رسی کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی سپورٹ میں ایک سیاسی جماعت کی طرف سے ٹرینڈز چلائے جارہے ہیں جب سے پاکستان میں عمران خان نے احتساب کا عمل شروع کیا ہے یہ چور حکمران عمران خان کی نفرت میں اتنا گر چکے ہیں کہ یہ کوئی بھی بات کرنے سے پہلے مجھے اپنا اسٹیٹس بھی نہیں دیکھتے اور میرے خیال سے ان کا کوئی اسٹیٹس بھی نہیں ہے عمران خان پر پرسنل اٹیک کرنا موجودہ سیاست اور جمہوریت پر بدنما داغ ہے ہم سب کو سیاست سے بالاتر ہوکر پاکستان پاکستان کی ترقی اور سابقہ حکمرانوں سے وہ لوٹا ہوا پیسہ نکلوانا چاہیے جو انہوں نے پاکستان کی غریب عوام کو دھوکا دے کر اپنے محلات اور فیکٹریوں میں تبدیل کیا ہے اور جب ان سے اس چیز کا حساب مانگا جائے تو یہ لوگ بیماری کے بہانے بنا کر پاکستان ملک سے بھاگ جاتے ہیں- انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں ہیں جب عابد شیر علی جیسے لوگوں کو ان ہی کے سپوٹر اور پاکستان کی غریب عوام گریبانوں سے پکڑ کر رڈو پر گھسیٹیں گے اور اپنا حق مانگیں گی.

    @iamhaiderzaidi

  • عنوان:میرا عشق وی توں تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    عنوان:میرا عشق وی توں تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    یار کو ہم نے جابجا دیکھا

    کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

    کہیں وہ بادشاہ تخت نشیں

    کہیں کاسہ لیے گدا دیکھا

    عشق کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس کے وجود کو واضح کیا گیا

    عشق حقیقی
    عشق مجازی
    عشق حقیقی :اپنی زات کے اندر پاۓ جانے والی ہستی سے دل لگا لینا۔ اس عشق کے لیے ظاہری جسم کا ہونا ضروری نہیں ہے
    اسی لیے اس عشق کی پاکیزگی اس کے نام سے عیاں ہے۔
    یہ عشق اپنی زات سے آگے کی نشان دہی کرتا ہے
    اسی عشق کو صوفیاء کرام نے اپنا محور بنایا اور اپنی زات کی نفی کی۔
    اور یہی وہ عشق ہے جس میں موسی علیہ السلام کے دور میں ایک گڈریے کو مبتلا پایا کہ جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ کپڑے کے ساتھ اپنے جسم کو بھی سی رہا ہے۔
    اسی عشق میں رابعہ بصری، بابا بلھے شاہ، بابا فرید گنج شکر جیسی شخصیات نے محو ہو کر خود کو فنا فی اللہ کے سپرد کیا
    اور یہاں اگر حضرت جنید بغدادی ، علی ہجویری کا نام نہ لیا جاۓ تو عشق حقیقی سے زیادتی ہو گی کہ جنھوں نے شریعت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر رب کل کائنات کی اطاعت میں خود کو اس ذات باری تعالٰی کے سپرد کر دیا اور تاریخ میں خود کو امر کر دیا۔
    عشق مجازی: جسے عمومی طور پر انسانی جسم کے میلان کو کہتے ہیں
    یہ خالص انسانی جذبہ ہے جو کسی مادی شے سے مغلوب ہو کر اس کے حسن کے حصار میں آ جاتا ہے۔ عشق مجازی میں لفظ مجاز عربی زبان سے ماخوذ ہے جس کے معانی جاہز ہیں

    اور عشق کے معانی پھٹ جانے کے ہیں
    سو جب انسان کسی مادی شے کے لیے اپنے دل میں اتنی شدید خواہش رکھتا ہے کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بناء وہ زندہ نہیں رہے گا تو اسی کو عشق مجازی کہتے ہیں۔ لیکن عرف عام میں کسی مرد کا کسی عورت یا کسی عورت کا کسی مرد پر فریفتہ ہونے کو عشق مجازی تسلیم کیا جاتا ہے۔
    ہمارے یہاں ایسے بہت سے قصے کہانیاں اور شاید کچھ حقیقی واقعات بھی مشہور ہیں جن سے عشق مجازی کو منسوب کیا جاتا ہے
    لیلیٰ مجنوں جو موجودہ سعودیہ اور یمن کے متعلق منسوب قصہ ہے۔
    جس کی انتہا موت پر ہوئی
    پھر سوہنی مہینوال اور دیگر ایسی بہت سی کہانیاں اس عشق کی داستان بیان کرتی ہیں
    لیکن اس عشق کا مطمح نظر یا تکمیل اس جسم کا حاصل کرنا ہی تھا۔
    کچھ احباب کا خیال ہے کہ ایسے عشق میں شہوت کا عنصر بھی ہوتا ہے
    لیکن آج کے دور میں ہر دو عشق ناپید ہو گۓ
    عشق حقیقی تو شاید کہیں گم ہی ہو کر رہ گیا
    لیکن عشق مجازی فلموں ، ڈراموں سوشل میڈیا اور ہاتھ میں تھامے موبائل نے اپنے ہاتھ میں لے کر احباب کے خیال کو تقویت دی
    اہم ترین پہلو یہ ہے کہ عشق مجازی کا دین حق میں کوئی وجود نہیں
    البتہ عشق حقیقی دین میں تسلیم کیا جاتا ہے
    متفق ہونا ضروری نہیں

  • ریاست مدینہ اور ہم . تحریر: معین وجاہت

    ریاست مدینہ اور ہم . تحریر: معین وجاہت

    پاکستان دنیا کی پہلی ریاست ہے جو ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی۔ پاکستان کے قیام کے بعد جب کسی نے بانی پاکستان سے سوال کیا کہ پاکستان کن قوانین کو فالو کرے گا تو قائد نے جواب دیا کہ پاکستان کی قانون سازی آج سے 14 سو سال قبل ہو چکی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ہم نے ریاست مدینہ کے تصور کو بھلا دیا، گزشتہ سات دھائیوں میں بہت دفعہ آئین کو تبدیل کیا گیا لیکن کسی نے بھی ریاست مدینہ کا ذکر نہیں کیا۔ اگست 2018 میں جب عمران خان وزیراعظم بنے تو انہوں نے پاکستان میں ریاست مدینہ کے اصولوں کو اپنانے کی بات کی لیکن ھمارے ملک میں ایک خاص طبقہ ایسا بھی ھے جسے یورپ کی برہنہ منڈیوں سے اتنی محبت ھے کہ انھیں خان صاحب پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں کو اپنانے پر شدید تکلیف ھوئی لیکن اس سب سے پہلے کیا ھم خود بطور پاکستانی اس قابل ھیں کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنا سکیں۔۔۔

    ہمارے پیارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اسلام میں انسانیت کا پیغام لے کر آئے اور ایک طویل و صبر آزماء جدوجھد کے بعد اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جس کا منشور محبت، اخوت، انصاف اور مساوات کے ان چار سنہری اصولوں پر منحصر تھا جس پر حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین نے من و عن عمل کر کے ریاست مدینہ کو استحکام بخشا۔

    جب وزیراعظم پاکستان ریاست مدینہ کا نام لیتے ہیں تو سب سے پہلے ھمیں بطور معاشرہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ ہم خود کو ریاست مدینہ کا ذمہ دار بنا سکتے ہیں۔

    ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں، ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی تاریخ پیدائش کو چھپایا جاتا ہے اسکا اندراج کوئی 3 سے 5 سال بعد کروایا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں نوکری کے لیے عمر کا مسئلہ نا بنے لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ جب ہم بچے کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھ رہے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم بہترین انداز میں انسان سازی کر رہے ہیں۔

    تاجر کو ملاوٹ سے پاک مناسب قیمت پر اشیاء فروخت کرنا ہوں گی, رشوت کا جو بازار گرم ہے اسکو بند کرنا پڑے گا، کفرانہ سودی نظام سے جان چھڑانا ہو گی، طاقتور اور کمزور دونوں طبقہ کیلئے یکسان نظام انصاف لاگو کرنا ہو گا، جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تو سب سے پہلے انصاف کا بول بالا ہوا۔ انصاف سب پر لاگو کیا گیا۔ انصار و مہاجرین، مسلمان و یہود سب کیلئے یکساں نظام انصاف اپنایا گیا، قاضی کو پابند کیا گیا کہ انصاف اس کا شیوہ ھو گا کیونکہ ریاست کے مکمل ڈھانچے کا سانچہ قاضی کے قلم سے ھو کر گزرے گا۔

    جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تو طاقتور نے طاقت کا غلط استعمال نھیں کیا، اقربہ پروری کو نھیں اپنایا، پسند و نہ پسند کو کوسوں دور چھوڑا گیا، غلطی مسلمان نے بھی کی تو سزا پائی اور انصاف کا دروازہ یہودی نے بھی کھٹکایا تو جزاء پائی۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں انصاف کے نظام کو یکساں کرنا ہو گا تاکہ کسی غریب کا حق نا کوئی مار سکے،

    اسلام سے پہلے بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا پھر ہمارے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں، ریاست مدینہ نے جو حقوق دیے وہی حقوق دینا ہوں گے جسکی وہ اپنی پیدائش سے حقدار ھے، بیٹی کو اپنی جائیداد میں حصہ دار بنانا ہو گا،

    ہمسایے کے حقوق، والدین و بزرگوں کے حقوق پر عمل کرنا ہو گا، اسی طرح ہمیں معاشرے میں ہزاروں ایسی برائیوں کا قلع قمع کرنا ھو گا جو کسی بھی معاشرے کو ناسور بنا دیتی ھیں اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم خود کو ٹھیک کریں گے کیونکہ کسی بھی برائی یا خرابی کو ختم کرنے کے عمل کی ابتداء سب سے پہلے اپنی ذات سے کی جاتی ھے۔

    ہم سب کو ریاست مدینہ تو چاہیے لیکن ہم میں سے کوئی ایک فرد بھی اپنے آپکو تبدیل کرنے کو تیار نھیں۔ علامہ اقبال نے یہ الفاظ شاید ہماری ہی حالت زار پر لکھے تھے کہ۔۔۔۔۔

    خدا نے اج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

  • بھاشاڈیم کی افیسرکالونی معمولی سیلاب کےزد میں  تحریر: محمد عرفات بدر

    بھاشاڈیم کی افیسرکالونی معمولی سیلاب کےزد میں تحریر: محمد عرفات بدر

    اس بوسیدہ نظام میں عوام کو پیسہ ملے حلال حرام سے کوئی تعلق نہیں اور افیسر کو کرپشن کا موقع ، پھر ملکی املاک وجائداد جاے باڑ میں ، زیرنظر تصویر افیسرکالونی بھاشا ڈیم کی ہے اس کالونی کی لوکیشن ایسی جگہ پہ ہے جہاں ہر وقت سیلابی ریلے کا خطرہ لاحق رہتا ہے ، یہ کالونی تھور نالے کے اس پاس تعمیر کی گئی ہے جہاں بارش کے موسم میں سیلاب کا گزرنا معمول کا حصہ ہے ، مستقبل میں مورخ لکھنے پہ مجبور ہو گا کہ اس کالونی کی جگہ کا انتخاب انتہائی آحمقانہ اور بےوقوفانہ عمل تھا زیرتعمیر بھاشا ڈیم کے افیسرز اس کالونی میں رہائشپزیر نہیں کیونکہ ڈیم زیرتعمیر ہے اور وابڈا افیسرزکی تعیناتی ابھی تو مکمل طور پہ شروع نہیں ہوئی وقت انے افیسرز بھی تعینات ہونگے لیکن کوئی افیسریہاں رہنے کو تیار نہیں ہوگاکیونکہ یہ کالونی موت کے کنویں سے کم نہیں ، یہاں رہائش پزیر لوگ ہر وقت سیلابی ریلے کے خوف کی زندگی گزاے گے، افیسر کالونی کے لئے اس پاس کئ اچھے جگے موجود تھی ، لیکن اس جگہ کا انتخاب کیوں کیا گیا سمجھ سے بالاتر ہے، یہاں پانی کےعلاوہ کوئی خاطرخواہ وجہ نظر نہیں آرہی، کیا مستقبل میں یہی کالونی سے کام لیاجاے گا؟ اگر لیاجاتاہے تو سیلاب سے کیسے بچایا جاےگا؟ اگرمتبادل جگہ فرہم کی جاتی ہے تو اس پہ ہونے والاحکومتی نقصان کا زمہ دارکون؟

    @ArafatBadr6

  • صفائی نصف ایمان ہے . تحریر: نعمان خان

    صفائی نصف ایمان ہے . تحریر: نعمان خان

    اللہ پاک نے دین اسلام کو کتنا آسان کر دیا کہ آدھا ایمان صرف صفائی کو قرار دے دیا۔
    لیکن کیا ہم پاکستانی اس پر عمل کرتے ہیں؟
    جواب اکثریت کا نہیں میں ہو گا کیونکہ ہم اپنی ذمےداری سے بھاگتے ہیں۔ہر کام حکومت کے ذمے نہیں ڈالا جا سکتا۔بحثیت شہری ہماری بھی ذمےداری ہے کہ جس طرح ہم اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں بلکل اسی طرح اپنے محلے اور شہر کو صاف رکھیں۔
    ہر جگہ کچرا پھینکنے سے گریز کریں۔جہاں حکومت نے جگہ بنائی ہے کسی کاغز کے بڑے تھیلے میں اس جگہ ہی رکھیں تاکہ گند تمام جگہ نا پھیلے۔

    کیا ہم پان سگریٹ اپنے گھر میں ہر جگہ پھینک دیتے ہیں؟
    کوئی ایسا نہیں کرتا کیونکہ ہم گھر میں صفائی پسند ہیں لیکن باہر جا کر ہم ایسا نہیں کرتے کہ یہ حکومت کی ذمےداری ہے جبکہ ایسا بلکل نہیں۔غلط جگہ کچرا پھینکنے پر جرمانہ ہے۔
    یہ تمام غلطیاں کہیں نا کہیں مجھ سے بھی ہوتی ہیں۔
    آئیں مل کر کوشش کریں کہ ایسی غلطیاں نہیں کریں گے اور اللہ کے حکم کو دل سے مانیں گے اور اپنے محلے اور شہر کو صاف رکھیں گے۔ساتھ حکومت کی یہ ذمےداری ہے کہ جس جگہ کچرا پھینکنے کی جگہ بنائی گئی ہے اسے روز کی بنیاد پر صاف رکھے تاکہ بہت ذیادہ کچرا جمع نا ہو۔

    Twitter ID:@dtnoorkhan