Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏نوجوان اور گمراہ کن تحریکیں  تحریر  ہادیہ سرور

    ‏نوجوان اور گمراہ کن تحریکیں تحریر ہادیہ سرور

    نوجوان کی مثال ایک ایسے برتن کی مانند ہے جو بالکل خالی ہو اور پھر اس میں جو چیز بھی ڈالی جاۓبرتن اس سے بھر جاتا ہے۔ اسی طرح نوجوان کا ذہن بھی جوانی کی دہلیز پر پہنچنے تک بالکل خالی ہوتا ہے،اس میں جس طرح کے بھی خیالات ڈالے جاتے ہیں، ذہن انہیں قبول کر لیتا ہے اور پھر وہی اچھے یا برے خیالات اس کے دین، اخلاق و کردار اور معاشرتی ادب و آداب کی بہتری یا برائی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور وہ لوگ جو دینی گمراہیوں،شیطانی قوتوں اور فحاشی و عریانیت کے فروغ کی لیے کام کرتے ہیں، وہ ایسے نوجوانوں کو اپنا خصوصی ہدف بناتے ہیں اور ان کے سامنے دنیا کی رنگینیوں اور عیاشیوں کی ایسی دلکش اور خوشنما تصویر پیش کرتے ہیں کہ نوجوان بغیر سوچے سمجھے اور اپنے اُخروی انجام سے بےپرواہ ہو کر مقناطیسی کشش کی مانند ان کے پیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیں۔
    لیکن اس حوالے سے اگر نوجوان اپنی فطری صلاحیتوں کا صحیح استعمال کریں، گمراہ کرنے والے لوگوں کی گمراہ کن باتوں سے اپنا دامن بچا کر رکھیں،ان سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لیں اور خالصتًا قرآن و حدیث سے اپنا دامن وابستہ کر لیں تو کچھ بعید نہیں کہ یہ ساری گمراہ کن تحریکیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔
    @iitx_Hadii

  • انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت؟؟ . تحریر:- فرمان اللہ

    انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت؟؟ . تحریر:- فرمان اللہ

    دنیا میں سب سے بڑے جمہوریت کے دعویدار ھندوستان کس منہ سے دنیا کی سب سے بڑے جمہوریت کا دعوی کررہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہم اکیلئے نہیں بلکہ کوئی بھی ملک جو دل میں توڑا سا بھی انسانی ہمدردری رکھتا ہو ان کی بغرتیاں ظلم اور جبر کو کبھی بھول پائنگے اور نہ کبھی ان کی یہ بھونگیاں تسلیم کرینگے کیونکہ بظاہر ھندوستان جہاں ایک طرف اپنی اپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلا جارہا ہے تودوسری طرف تقریبان ایک سال سے کشمیر میں نظام زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے کشمیریوں پر نماز جمعہ تک ادا کرنے کی پابندی ہیں کشمیری مسلمانوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے انکو انسان ماننے کو تیار نہیں نہیں دوسرے طرف اپنے ملک میں مقیم مسلمانوں کو چن چن کر مارہے ہیں مسلم فسادات کروارہے ہیں مسلمان طبقہ کو ملک بدر کرنے کی باتیں چل رہی ہیں۔

    اقلیت کو انکے حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے اقلیتوں کیلئے غنڈی بن گئے ہیں ھندوں نے ایک راج قائم کیا ہے پورے ھندوستان میں اقلیتوں پر زمین تنگ کردیا ہے دوسرے طرف کشمیری نوجوانوں کا قتل عام جاری ہیں انکے انکھوں کی روشنی چھینی جارہی ہیں پلیٹ گن کا استعمال کثرت سے جاری ہیں عزتیں پامال ہورہے ہیں ماوں بہنوں کو جیلوں میں ڈال رہے ہیں وہی مکروہ چہرہ جو ھندوستان کی غنڈہ گرد حکومت کی ہیں وہ اس نقاب سے چھپانا چاہتی ہیں کہ وہ 26 جنوری کو بطور جمہوریت کہ ھندوستان دنیا کے سب سے بڑے جمہوریت ہے مناتے ہیں خالانکہ ھندوستان دنیا کے سب سے بڑے جمہوریت نہیں دہشتگرد ملک ہیں دنیا میں فسادات راء کے اوارا کتے ار ایس ایس بجرنگ بلی اور شیوسینا جیسے لوگ کررہے ہیں لیکن اخرکار یہ دنیا کو کیوں نظر نہیں اتی یہ اقوام عالم کو نظر کیوں نہیں اتی ھندوستان لاکھ بار جمہوریت منائے لیکن وہ دہشتگرد تھا ہے اور رہیگا لاکھوں مسلمانوں کا قاتل ھندوستان نہ دنیا کا بڑے جمہوریت ہوسکتا ہے اور نہ تھا اگر ھندوستان سب بڑا جمہوریت ہے تو کشمیری مسلمانوں کو حق خود اردیت کیوں نہیں دیا جارہا مسلمان اقلیت کو اپنا حقوق کیوں نہیں دیا جارہے کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت دیا جائے مسلمان اور باقی اقلیتوں کو حق خود کو انکے حقوق دیا جائے تب جاکر یہ دہشتگرد جمہوریت منائے۔

    Femikhan_01@

  • عید_قرباں کے کچھ اصول . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    عید_قرباں کے کچھ اصول . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    عید قرباں کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ قربانی کی عید ہے۔اس دن مسلمان اپنے پسندیدہ اور بے عیب مویشیوں کو قربان کرتے ہیں جو کہ سنتِ ابراھیمیؑ ہے۔ اسکو سنتِ ابراھیمیؑ اسلئے کہتے ہیں کہ ابراہیمؑ جواللہﷻ کے جلیل القدر پیغمبر ہےجنکو خلیل اللہ کالقب بھی حاصل ہے یہ انکا سنت ہے۔ کیونکہ ابراہیمؑ کو ایک دفعہ اللہﷻ نے خواب میں حکم دیاکہ اپنے محبوب بیٹے اسماعیلؑ کومیرے راستے میں قربان کردو۔ چنانچہ ابراہیمؑ نے صبح اسماعیلؑ کواس معاملے سے آگاہ کیااور اس کوعملی جامعہ پہنانے کیلیئے اسماعیلؑ کوذبح کرنا چاہااوراس مشکل امتحان میں کامیاب ہوئے۔

    قربانی ہم سنتِ ابراہیمیؑ کوپورا کرنے کیلئے کرتے ہیں لیکن قربانی کےوقت ہم قربانی کے اصولوں کوبھول جاتے ہیں بس یہی کوشش ہوتی ہے کہ گوشت کااچھاحصہ اپنے لئے بچائے۔
    دوسرا یہ کہ ہم قربانی توکرلیتے ہیں لیکن نیت یہ ہوتی ہے کہ گوشت آجائیگا جب کہ اس طرح کی نیت رکھنے سے گوشت تومل جاتی ہے لیکن قربانی ضائع ہوجاتی ہے۔ تیسرایہ کہ ہم قربانی کرکے اسکے باقیات کووہی چھوڑدیتے ہیں جوبعدمیں ماحولیاتی آلودگی اورہوائی جہازوں کے حادثات کا سبب بنتاہے جس میں اکثر ناقابلِ تلافی نقصانات ہوجاتے ہیں۔ میں چاہیے کہ باقیات کووہاں تک پہنچائے جہاں وہ کسی نقصان اورگندگی کی باعث نہ بنے۔ بحیثیتِ قوم ہمیں ان چیزوں پرغور کرناچاہئے اورذمہ دارشہری ہونے کاثبوت دیناچاہیے۔

    @IjazPakistani

  • پاکستان اورافسرشاہی . تحریر :‌ وقاص رضوی جٹ

    پاکستان اورافسرشاہی . تحریر :‌ وقاص رضوی جٹ

    پاکستان کی تاریخ بہت درد ناک ہے۔بانیانِ پاکستان نےیہ خطہِ ارض اسلام اور نظامِ انصاف کے قیام کیلیے حاصل کیا۔ مگر بدقسمتی یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے چند سال بعد ہی پاکستان حقیقی اورمخلص قیادت سےمحروم ہوگیا۔ قاٸداعظم کی اچانک وفات اوربعد ازلیاقت علی کی قتل پاکستان کی درِ و دیوار ہلاگیا۔اس کے بعد ملک کی باگ ڈورایسےلوگوں کے ہاتھوں میں چلی گٸ۔ اس میں بیوروکریسی اور فوجی قیادت کابڑاکردار رہا۔سیاستدان چونکہ اتنےتعلیم یافتہ نہیں تھے اور مختلف شعبہ ہاۓزندگی سےتعلق رکھنے والےماہرین کابھی فقدان تھا تو اس خلا کو بیوروکریسی نے بھردیا۔ اسی وجہ سےبیوروکریسی شروع سے نظام پرمکمل طور پر قابض ہے۔ مختلف حکومتوں نےبیوروکریسی کے ملک کےنظام پرغیرمعمولی کنٹرول کےخاتمےکیلیےکوششیں کیں مگر سیاسی عدم استحکام کیوجہ سےبیوروکریسی نے یہ کوششیں ناکام بنادیں۔ بیوروکریسی برطانوی سامراج کی پیداوار ہے۔ برطانوی سامراجی دور میں بیوروکریٹس عوام کیساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح سلوک کرتےتھے۔ سامراجیت کی باقیات آج بھی پاکستانی بیوروکریسی میں پاٸی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ Public Service Delivery پاکستان کاسب سےبڑا مسٸلہ ہے۔ جس سے نظام بہت سست روی کاشکارہے۔ کٸ کٸ مہینے فاٸیلیں ایک دفترسےدوسرےدفترمنتقل ہوتی رہتی ہیں۔ مالی سال 2019-20میں سابقہ فاٹاکےاضلاع کیلیے 100 ارب سے زیادہ مالیت کےترقیاتی فنڈز مختص کیےگۓ مگر بیوروکریسی کی سست روی کی وجہ سےسال کےاختتام پر صرف چند ارب ہی خرچ ہوپاۓ۔ اس جیسی بہت سی رپورٹس آۓدن پڑھنےکوملتی ہیں۔عوامی مساٸل کی کوٸی شنویدنہیں ہوتی۔ کٸ کٸ گھنٹوں تک شہریوں کو انتظار کروایاجاتاہے۔ میرٹ پرکام کروانےکیلیےبھی شہریوں کی تذلیل کی جاتی ہےاورشہریوں کےذہنوں میں بات بٹھادی گٸ ہے کہ کوٸی کام بغیررشوت یاسفارش کےکرواناممکن نہیں ۔ Red Tapism بہت ہے۔ ایک چھوٹےسےکام کیلیےکٸ مہینےلگ جاتےہیں۔

    @WaqasRizviJutt

  • پردیس کی عید . تحریر : محمد اصغر

    پردیس کی عید . تحریر : محمد اصغر

    پردیس کی عید پردیسی بھائیوں کے لئے کسی اذیت سے کم نہیں ہوتا جب بھی پردیس عید میں گزرتا ہے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کی ساری مشکلات ٹینشن آج ہی ایک ہی دفعہ آئی ہو پردیس میں عید گزارنا انتہائی مشکل ہی نہیں بلکہ ناگوار ہے پردیسی بھائی عید نماز پڑھنے کے بعد کھانا کھاتے ہیں اور بعض تو گھر کی یاد میں کھانا بھی نہیں کھاتے سو جاتے ہیں اور شام کو اٹھتے ہیں یہ لمحہ یہ عید کا دن کسی بھی پردیسی بھائی کے لیے کسی تکلیف سے کم نہیں گھر کی یاد ماں باپ کی یاد بیوی بچوں کی یاد بھائیوں بہنوں کی یاد عید کا سارا دن سونے اور ٹینشن میں گزر جاتی ہے عید پر گھر پر بات تو ہوجاتی ہے لیکن دل کو اطمینان نہیں ہوتا وہ خوشی وہ پیار جو عید کے دن دیس میں رہنے والوں کو ملتی ہے یہاں پردیس وہ دن یاد آتے ہیں یقینا یہ بات کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ کسی بھی پردیسی کے لیے عید کا دن کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا اگر آپ پردیسی ہیں تو یقینا آپکو میری تمام باتیں دل میں چھب رہی ہونگی.

    پردیس کی عید پہلے دن سوتے گزر جاتی ہے دوسرے دن مارکیٹ شہر بازار کا چکر لگا لیتے ہیں پھر بھی وہاں کوئی جاننے پہنچاننے والا کوئی نہیں ہوتا شام کو پھر دوستوں کی دعوت پھر لوگ دوسرے یا تیسرے دن اپنے اپنے جاب پر چلے جاتے ہیں
    پردیس کی عید پردیسی بھائیوں کے لئے ٹینشن کا دن ہوتا ہے اور یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جو خود پردیسی ہو یا اس نے کچھ عرصہ پردیس میں گزارا ہوا ہماری دعا ہے اللہ عزوجل تمام پردیسی بھائیوں کی مشکلات آسان فرمائے. آمین.

    Twitter Handle @ZiDDiBlochPTI

  • 2023 میں وزیراعظم پاکستان کون ہو گا؟ . تحریر : بابر شہزاد

    2023 میں وزیراعظم پاکستان کون ہو گا؟ . تحریر : بابر شہزاد

    2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آنے سے پہلے اس جماعت نے بہت بلند و بالا دعوے کر رکھے تھے۔ 2013 الیکشن کمپین کے مطابق یہ جماعت پوری تیاری کے ساتھ حکومت سنبھالنے آ رہی تھی اور ان کے دعووں کے مطابق ان کے پاس معاشی ٹیم پہلے سے موجود ہے جن کے سربراہ کے طور پر اسد عمر کا نام الیکشن جیتنے سے پہلے ہی لوگوں کو بتا دیا گیا تھا۔
    قصہ مختصر کہ 2013 میں تحریک انصاف سب سے ذیادہ سیٹیں جیتنے والی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ اکیلے اپنی حکومت بنا سکے لہزا چیچوں کا مربہ اکٹھا کر کے عمران خان پاکستان کا بائیسواں وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گیا.

    حکومت ملنے کے چند ماہ کے اندر ہی انہیں احساس ہو گیا کہ حالات تو بہت خراب ہیں کیونکہ ملک کی معیشت بلکل بیٹھ چکی تھی، زر مبادلہ کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر آ چکے تھے، قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں تھے جس سے ملک میں مہنگائی کی لہر نے قمر کس لی اور ہر چیز کے نرخ بڑھنے لگے۔ جلد ہی معاشی ٹیم میں تبدیلی لائی گئی کہ حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے۔ عمران خان آئی ایم ایف کا سخت ناقد تھا لیکن مجبوراً ان کے پاس بھی جانا پڑا۔ سعودی عرب سے 3 ارب کا قرضہ لیا گیا جس سے پرانے قرضوں کی قسطیں ادا کی گئیں۔ اس کے علاؤہ ان سے ادھار تیل لینے کا معاہدہ بھی کیا گیا کہ کسی طرح ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔ روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ دیکھنے کو ملی اور ملکی تاریخ کے بلند ترین سطح پر ڈالر ایکسچینج ہوا جو کہ 160 روپے ہو گیا جس سے مہنگائی کا طوفان آیا تاہم اس سے پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری کو بہت فائدہ ہوا جس کا ثمر مالی سال 2020 کے اختتام میں دیکھنے کو ملا کہ ملکی تاریخ میں سب سے ذیادہ ایکسپورٹ اس سال میں ہوئی اور تقریباً 28 ارب ڈالر سے زیادہ کی ایکسپورٹ ہوئی۔

    ہماری معیشت کچھ بہتر ہوئی تھی کہ اسی دوران کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے پوری دنیا کی معیشت کو شدید نقصان ہوا تاہم پاکستان حکومت کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے پاکستان ان چند ممالک میں تھا جسے اس کا کم سے کم نقصان ہوا۔
    3 مشکل ترین سال دیکھنے کے بعد حکومت نے معیشت کو استقامت دی، ملکی خارجہ پالیسی کو بڑی اچھی طرح لے کے چلی یہ حکومت.
    60 کی دھائی کے بعد پہلی دفہ ملک میں بڑے ڈیم بنانے کا کام شروع ہوا اور دیامیر بھاشا ڈیم کے ساتھ داسو ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوا جو کہ 2029 تک مکمل ہوں گے۔
    غرض یہ کہ حکومت نے مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وہ لوگ جو اس حکومت سے متنفر ہونا شروع ہو گئے تھے پھر سے اس حکومت کے گن گانے لگے ہیں۔

    اب آ جاتے ہیں کہ 2023 میں پاکستان کی حکومت کونسی جماعت بنائے گی؟ میرے ناقص تجزیے کے مطابق 2023 میں تحریک انصاف ایک دفہ پھر سے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی اور اس دفہ اسے بیساکھیوں کا سہارا نہیں لینا پڑے گا کیونکہ اس دفہ دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائیں گے۔ اس وقت سینیٹ میں بھی اکثریت تحریک انصاف کی ہے اور آئندہ سینیٹ انتخابات کے بعد جو کہ 2024 میں منعقد ہوں گے تو وہاں بھی تحریک انصاف 2 تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جس کا مطلب ہے کہ عمران خان اگلے 5 سال میں ملکی تاریخ کا مضبوط ترین وزیراعظم ہو گا۔
    دعا ہے کہ جو بھی ہو ملک کے لیے اچھا ہو. آمین۔

    @babarshahzad32

  • ‏پاکستانی سیاست   تحریر : عثمان غنی

    ‏پاکستانی سیاست تحریر : عثمان غنی

    سب سے بڑے بھٹو جنکو عرف عام میں ایوب کی اولاد کہا جاتا ہے۔ بہت ہی مہربان ہستی تھے کہنے کو تو سب لین تھے مگر بدترین ڈکٹیٹر سے بھی زیادہ برا تھا ان کا دور لاڑکانہ چلو ورنہ جیل چلو کے نعرے انہوں نے لگوائے۔ اپنے وقت کے بدترین عامر تھے 86 سیٹیں لے کر پورے ملک پر قبضہ کیا اور خود وفادار رہ کر مجیب الرحمن کو غدار قرار دے دیا..

    ویسے تو ان تینوں کے بارے میں اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ میں نے صرف تین ٹکڑوں نے پاکستان کو دو ٹکڑے کر دیا مگر خیر وہ ایک الگ معاملہ ہے. یہاں بات ہو رہی تھی بھٹو خاندان کی بھٹو نے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کے بعد ناکارہ نوے ہزار فوجی لاکر خود کو کمال مہارت سے ہیرو ثابت کردیا اس کے بعد آتے ہیں ان کی بیٹی محترمہ کی طرف سابق صدر پاکستان ذلفقار لغاری نے اپنے آخری انٹرویو میں کہا تھا کہ ہیں بے نظیر جب دوسری بات بار پاکستان واپس آئیں تو میں ان کے ساتھ فرنٹ پر بیٹھا تھا بہت آبدیدہ ہو کر مجھ سے سوال کیا کہ میں نے اتنی کرپشن کی کیا عوام اب بھی میرا ساتھ دیں گے اور پاگل عوام نے ان کا ساتھ دیا انڈیا کی تھری وفادار تھی کے خالصتان بنانے والے سکھوں کی لسٹ ہے انڈیا کو خیر سگالی کے طور پر دی۔

    اس کے بعد آتی ہے ان کی تیسری نسل جو سرائیکی اور سندھ دیر کی دھمکی دیتی ہے
    روز کرپشن کرنے کے بعد پلی بارگیننگ کر لیتے ہیں جی ہم نے چوری کر لی اور ہم آدھا واپس کر دیں گے اور پاکستانی عوام کو یہ تک نہیں پتا کہ پلی بارگیننگ ہوتا کیا ہے خیر یہ کمال خاندان ہے کرنا میں بہت زیادہ ہے اور سارا ہی پاکستان مخالف ان کی نسل ابھی چل رہی ہے حکمرانی کے خواب دیکھ رہی ہیں لیکن اب عوام کا شعور بتاتا ہے کہاں گئے یہ کارنامہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے..

    @UsmanSay_

  • پردیسوں کی عید قربان  تحریر: راشد عباسی ریاض سعودی عرب

    پردیسوں کی عید قربان تحریر: راشد عباسی ریاض سعودی عرب

    بقول غلام فرید

    عیداں والے پئے عیداں کر دے
    اساں رو رو عید لنگائی
    غلام فریدا اس عید توں صدقے
    جس عید تےملسی ماہی

    کسی نے سچ کہا ہے

    کہ پردیس ماں کے شیر پتر ہی کاٹتے ہیں بزدل نہیں
    بزدل تو اپنے باپ کے پیسے پر عیاشی کرتے ہیں.

    اج چودیویں عیدِ قرباں ہے جو میں اپنے وطنِ عزیز اور اپنے پیاروں سے دور صحرا عرب کے ریگستانوں میں منا رہا ہوں اب تو بھول ہی گیا ہو کہ عید قرباں کیسے منائی جاتی ہے

    ان چودہ سال میں ایک مشاہدہ رہا ہے کہ سب پردیسوں کی عید والے دن تقریباً ایک ہی روٹین ھوتی ہے. عید پڑھ کر واپس رہائش پر آکر باری باری سب رشتہ داروں اور دوستوں کو عید مبارک باد کے پیغامات دینے کے بعد پھر لمبی تان کر سو جاناہے

    دوپہر کے وقت آٹھ کر یا تو کمپنی کے کیفے ٹیریا پر روایتی کھانے یا پھر چند دوستوں کے ساتھ مل کر مارکیٹ سے مہنیوں سے منجمد گوشت خرید کر حسب معمول طریقے سے سالن بنا کر عید منا لیتے ہیں. اور بعض بیچارے پہلے سے فریج میں موجود سالن پر گزارا کر لیتے ہیں اور بعض کمپنی کے رحم و کرم میں ھوتے ہیں مدیر (منیجر)کی مرضی ہے منیو میں دال رکھ لیں یا سبزی .

    ایک پردیسی کے لئے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہیں جب گھر والوں کی طرف سے پاکستان سے عید کے مختلف جانوروں کی تصاویر اور وڈیوز بھیجی جاتی ہیں حالانکہ اس جانور کے پیسے ان پردیسیوں کی جیب سے ہی گۓ ہوتے ہیں.اور پھر وطن عزیز سے دوستوں اور رشتے داروں کے منہ سے قربانی کے جانور کی بڑھا چڑھا کر خوبیاں اور خصوصیات بعد میں اسکے ذبح کرنے کے واقعات اور گوشت کا لذیذ ہونے کے تبصرے (گائے کے گوشت کو ہرن کا گوشت ثابت کرتے ہیں)اور پھر اس پر مزید چٹخارے دار کھانوں بار بی کیو کے تذکروں سے پردیسوں کے دلوں پر مزید نشتر چلائے جاتے ہیں.
    لیکن ھم پردیسی اپنے پیاروں کی چہروں پر وہ خوشیاں دیکھ کر اپنے سب دردبھول جاتیں ہیں.
    واقعی پردیس کاٹنا کافی کٹھن ھوتا لیکن ہر لمحہ جب اپنے پیاروں کی خوشیاں جو ھماری قربانی کی وجہ سے میسر ھوتی ہیں اس سے ایک عجیب راحت محسوس ھوتی ہے ۔
    دعا ہے اللہ تعالیٰ ھم سب کا رزق اپنے وطن میں لکھ آمین ثم آمین

    Twitter id
    @rashidabbasy

  • پانی پینے کے فوائد   تحریر: علی حيدر

    پانی پینے کے فوائد تحریر: علی حيدر

    اگر آپ صرف پانی پیئے تو پھر کیا ہوگا؟
    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آخرکار کیا ہوگا؟
    آپ کا وزن تیزی سے کم ہوجائے گا(1)
    اگر آپ سخت خوراک پر اپنا وزن کم کرنے کی کوشش سے تنگ آچکے ہیں تو صرف مائع غذا کی جگہ صرف پانی کا استعمال دراصل آپ کو خود ہی وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا
    آپ اپنی تحول کو فروغ دیں گے (2)
    مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ صبح صرف 17 فلڈ اونس پانی پینے سے تحول کو 24 فیصد بڑھا سکتا ہے اگر آپ کسی خاص وقت پر ہر دن پانی پینا بھول جاتے ہیں تو اپنے موبائل یا اپنے کیلنڈر میں یاد دہانی شامل کریں۔ اس سے پہلے کہ آپ اپنی توانائی کی سطح اور جسمانی وزن دونوں میں فرق محسوس کرسکیں اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا
    (3) آپ کا دماغ بہتر کام کرے گا
    آپ شاید پہلے ہی جانتے ہو کہ ہمارے دماغ میں 75 فیصد پانی موجود ہے؟ اس طرح ، پانی پینے سے آپ کے دماغ کی افعال کو بڑھاوا ملتا ہے پانی پینا دراصل آپ کو بہتر توجہ مرکوز کرنے اور دماغی کاموں اور توانائی کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے
    یہ آپ کو زیادہ کھانے کا کم خطرہ بناتا ہے (4)
    اگر آپ کثرت سے اپنی پسند سے بھوک مبتلا کرنے کی بجائے خود سے زیادہ پیوند لگاتے ہو جیسے گولیوں کی طرح قدرتی چیز جو آپ کر سکتے ہیں وہ ہے پانی پینا۔ پانی ایک قدرتی بھوک کو دبانے والا ہے اور یہ سگنل بھیجتا ہے کہ آپ مکمل ہیں لہذا آپ کو ضرورت سے زیادہ کھانے اور کیلوری کو ڈھیر نہیں کرنا پڑتا ہے۔
    (5) یہ آپ کے جسم کو سم ربائی میں مدد کرتا ہے
    روزانہ کی بنیاد پر خوراک اور ماحول سے ہونے والے زہریلےمادے ہمارے سسٹم میں گزرتے ہیں اگر آپ اپنے سسٹم کو سم ربائی کے عمل میں مدد کے ل عوامل نہیں دیتے ہیں تو زہریلا آسانی سے ہر طرح کی صحت کی پریشانیوں کا باعث بن سکتا ہے اور ایسی وجہ سے زہریلے پانی کو تیزی سے نکالنے میں مدد ملے گی۔ اگر آپ یہ کام کرنا چاہتے ہیں تو ذيادہ پانی کا استعمال کرئے
    آپ کو کچھ بیماریوں کے بڑھنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے (6)
    ہائی بلڈ پریشر
    دل کے مسائل
    جگر کی بیماری
    ذیابیطس
    اور دیگر صحت سے متعلق مسائل کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جب آپ ذيادہ پانی نہیں پیتے ہیں لہذا ان کی روک تھام میں مدد کے لئے ذيادہ پانی پیئے۔
    (7) آپ کی جلد زیادہ واضح اور ہموار ہوجائے گی
    بعض اوقات ہمیں اپنی ظاہری شکل کے حقیقی نتائج کو دیکھنے کے لئے اندر سے چیزوں کو آزمانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ پانی جلد سے ہونے والی جلد کی خرابی کو نمیش کرنے اور صاف کرنے میں مدد ملے گی لہذا آپ کو جلد کی دیکھ بھال کرنے والی مصنوعات پر ڈھیر لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔
    (8) پانی کھانے کو ہضم کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے
    ہمارے نمکین میں موجود پانی جو ہمارے کھانے کو ہضم کرنے اور منہ ، ناک اور آنکھوں کو نم رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ پانی پینے سے بھی منہ صاف رہتا ہے۔
    (9) پانی ہمارے دانتوں اور ہڈیوں کی حفاظت کرتا ہے
    پانی ہمارے دانتوں اور ہڈیوں کو بوسے ہونے سے بچاتا ہےوہ ہڈیوں اور دانتوں میں کیلشیئم رکھنے میں مدد کرتے ہیں
    (10) یہ دماغ ، ریڑھ کی ہڈی ، اور دیگر حساس ٹشو آرام دیتا ہے
    پانی کی کمی آپ کے دماغی ڈھانچے اور کام کو متاثر کرسکتی ہے یہ ہارمونز اور نیورو ٹرانسمیٹر کی تیاری میں بھی شامل ہے۔ طویل عرصے سے ڈائی ہائیڈریشن سوچنے اور استدلال کے ساتھ مسائل پیدا کرسکتی ہے

    @alihaiderrr5

  • اسلام میں عورت کا مقام۔۔  ‏تحریر : انوشہ امتیاز

    اسلام میں عورت کا مقام۔۔ ‏تحریر : انوشہ امتیاز


    الحمدللہ بفضلہ تعالیٰ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والی بچیاں ہیں اور ہمارا مذہب اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو پوری انسانی زندگی کے مسائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ وہ الہامی مذہب ہے جس نے عورت کو ماں، بہن اور بیٹی کی حثیت سے شرف بخشا ہے۔۔
    ہمارے مذہب سے پہلے عورتوں کو کم تر مخلوق تصور کیا جاتا تھا اور ان کے وجود سے انکار کیا جاتا رہا اور انکے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک روا رکھا گیا۔۔
    تاریخ شاہد ہے کہ عورتوں کے ساتھ بہیمانہ رویہ رکھا گیا، ظلم و شقاوت کے پہاڑ ان پہ ڈھائے گئے۔ قبل از اسلام عورت کو پلید اور نجس سمجھنے کے ساتھ ساتھ خاندان بھر کے لیئے رسوائی سمجھا جاتا رہا،اور اگر کسی کے گھر بیٹی پیدا ہو جاتی تو اس کو زندہ درگور کرنے سے بھی گریز نہ کیا جاتا۔۔ باپ اس کی پیدائش ہے لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا اور ماں لوگوں کے طعنوں اور خاوند کے خوف سے سہمی رہتی۔۔
    صد افسوس کہ اکثر آج بھی بیٹی کی پیدائش پہ سسرال والوں کے منہ لٹک جاتے ہیں اور اگر کسی عورت کے گھر بیٹیاں ہی پیدا ہوں تو اس کا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے۔
    جبکہ بیٹے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔۔
    حالانکہ اسلام نے تو لڑکی/بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ
    ” جس گھر میں بیٹی نہ ہو وہ گھر خدا کی رحمت و برکت سے خالی ہوتا ہے۔”
    جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو اس نے مروجہ نظریات کے بر عکس عورت جو بلند مقام عطا کیا۔ اسلام نے اگر عورت کو مرد کے برابر رتبہ نہ دیا تو وہ مرد سے کم بھی نہیں ۔۔
    اس کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے ، خاندان میں عورت کو ماں، بہن، بیٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔
    عورت اگر ماں کے روپ میں ہے تو جنت اسکے پیروں کے نیچے رکھی گئی ہے،
    اگر شریک حیات ہے تو اسکی رضا اور حق مہر کی نے اس کی برتری پر مہر لگا دی ہے، اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا، اس جو معاشرتی اور قانونی طور پر تحفظ دیا ہے ۔۔اسلام نے یونان اور مغرب کے ان نظریات کو رد کر دیا ہے جس میں عورت کی حیثیت ایک باندی اور تسکین حاصل کرنے کے ذریعے سے زیادہ نہیں تھی۔۔
    یہ فخر صرف اور صرف مذہب اسلام کو ہے اس نے عورت کو اس کے اصل مقام سے نوازا ہے اور ہمارے سامنے کئی عظیم عورتوں کی زندہ مثالیں ہیں جن میں خاتون جنت فاطمتہ الزہرا ہیں جو خواتین عالم کے لئیے عملی نمونہ ہیں۔ جو بہترین بیٹی، بہترین بیوی ، اور بہترین ماں ہیں ۔۔۔
    ہمارے سامنے حضرت زینب کی روشن مثال ہے ، جنہوں نے یزید جیسے ظالم کے آگے کلمہ حق بلند کیا، باطل کو جھٹلایا اور حق کو زندہ رکھا۔۔
    اسلام میں اگر عورت پیغمبر نہیں ہیں تو پیغمبروں کو جنم دیتی رہی ہیں ، عورتوں کو نسل انسانی کے فروغ کا ذریعہ بنا کے ہمیشہ کے لئیے عزت وتکریم بخش دی گئی۔۔
    انسانی معاشرے کی تکمیل میں عورت کا اہم رول ہے اس لئے تو نپولین نے کہا تھا ،
    تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھا معاشرہ دوں گا ۔۔
    آج ہم عورتوں کو مل کر اپنا محاسبہ کرنا ہو گا اور دیکھنا ہو گا کہ ہم اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہیں یا کھوکھلے ماڈرن ازم کا شکار ہیں، اگر ہیں تو کیوں۔۔؟؟
    سلامت رہے تو سے مادر پاکباز
    تیرا عزم محکم ترا سوز و ساز
    تو ہی مشکلوں میں رہی کارساز
    بجا تم پہ ہے اہل ملت کو ناز۔۔۔

    Twitter account
    @e_m_ee_