Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھٹو شہید کو انصاف مل گیا نواز شریف کو کب ملے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھٹو شہید کو انصاف مل گیا نواز شریف کو کب ملے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کو نام نہاد جمہوری قوتوں نے تین بار گھر بھیجا ،کئی چہرے بے نقاب ہوگئے
    مخالف سیاسی جماعتیں ہر نواز دور میں روڑے اٹکاتی رہیں،اپنوں نے بھی پیٹھ میں چھرا گھونپا
    آج پارلیمنٹ چور،غدار ڈاکو جیسے نعروں کا گھر ،سیاست مسخرے پن کی آخری حدوں کو چھو گئی
    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پارلیمنٹ ہائوس میں کسی زمانے میں مستحکم جمہوریت آئین قانون کی حکمرانی عوامی مسائل پر تقریریں ہوا کرتی تھیں آج اسی پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کو غدار چور ڈاکو کہہ کر ہائوس کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ، مسخرے پن کی حدیں کراس ہوگئیں ،سیاستدانوں نے آئین اور جمہوریت کو تماشابنا کر رکھ دیا ، جمہوریت کے اندر جمہوریت نہیں سیاسی قیادت کی اکثر یت کرپشن اقرباء پروری کا شکار رہی، عوام کی بڑی تعداد سیاسی شعور اور جمہوریت کی اہمیت سے ناآشنا ، اکثر جمہوری حکومتیں شفافیت اور عوامی خدمت کے معیار پر پورا نہیں اتر سکیں، بعض سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، غربت، مہنگائی اوربیروزگاری جیسے مسائل پیدا ہوتے گئے، ملک تین بار مارشل لاء سے بھی گزرا ان تین مارشل لاء کو سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھرپور تعاون رہا اور اپنی ہی سیاسی جماعت کے قائدین کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ،اسکی زندہ مثال نواز شریف ہیں، جنکو تین بار اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اس میں ن لیگ سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کا کردار موجود تھا، جمہوریت اور جمہوری حکومت کے خاتمے میں عدلیہ کا کردار رہا جس کو ہم نظریہ ضرورت کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس کی مثال ہمارے سامنے ایک قد آور سیاسی شخصیت بھٹو ہے، جنکی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا، اسی نظریہ ضرورت کا نشانہ نواز شریف کو نام نہاد پانامہ لیکس کے ذریعے بنایا گیا، اس کیس میں آج کے حقیقی آزادی اور جمہوریت کے طلبگار عمران خان نے فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا اور ایک منتخب جمہوری حکومت کو چلتا کرنے پر بھنگڑے ڈالے گئے، عمران خان نے تو مذہب کا بھی استعمال کیا اور معاشرے کو تقسیم کر دیا .

    ملک میں جمہوریت کی ناکامی کسی ایک فریق کی غلطی نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کا نتیجہ ہے جمہوریت صرف ایک نظام حکومت نہیں بلکہ ایک طرز زندگی ہے جسے اپنانا اور فروغ دینا سب کی ذمہ داری ہے سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے انتخابی اصلاحات پر بات کی جائے ملک کے تمام ریاستی اداروں کو آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے، آئینی ترمیم صرف قومی مفادات اور جمہوری طریقے کار کے تحت کی جائیں

  • یاسمین بخاری  سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    یاسمین بخاری سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    گزشتہ دنوں مجھے سعادت حاصل ہوئی کہ میں یاسمین بخاری صاحبہ کے گھر جا کر ان سے ملاقات کر سکوں۔ یہ ملاقات نہ صرف ایک عزت افزائی تھی بلکہ ادب کے ایک نادر خزانے سے بھی روشناس کرانے والی تھی۔ یاسمین بخاری صاحبہ نے مجھے ایک خوبصورت کتاب تحفے میں دی، جو رثائی ادب کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب ان کے استاد زاہد شمسی صاحب کے بہترین کلام پر مشتمل ہے، جو کربلا والوں کی پیاس کو ایک گہرے استعارے کی صورت میں بیان کرتی ہے۔

    یہ کتاب کربلا کے واقعات اور وہاں کے شہداء کی پیاس کو مرکزی موضوع بنا کر ان کی بے مثال جرأت، بہادری، قربانی اور مصائب کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ زاہد شمسی صاحب کا کلام اس کتاب میں ایک ایسا آفاقی پیغام دیتا ہے جو صرف تاریخی حقائق پر مبنی نہیں بلکہ انسانی جذبوں اور ایمانی قربانیوں کی عکاسی کرتا ہے۔کتاب کی ایک خاص بات اس کا عالی نسبی ذکر ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعلق سے کیا گیا ہے۔ اس میں حمد و نعت سے آغاز ہوتا ہے، جو روحانی فضا کو مزید معطر کر دیتا ہے۔ ہر شعر میں عقیدت، محبت اور عزم کی ایسی خوشبو ہے جو قاری کو سیدھا امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔

    کتاب کا ٹائٹل خود یاسمین بخاری صاحبہ نے رکھا ہے، جو کتاب کے موضوع اور مزاج سے بخوبی ہم آہنگ ہے۔ اس کے ساتھ ایک خوبصورت آیل پینٹنگ بھی شامل ہے، جو امام حسین علیہ السلام کے روضے کی شبیہ کو نہایت نفاست اور خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ یہ پینٹنگ کتاب کی روح کو مزید جلا بخشتی ہے۔یاسمین بخاری صاحبہ نے اس کتاب کو اپنے والد، ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے نام منسوب کیا ہے جو قائداعظم کے ذاتی معالج تھے۔ ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائداعظم کے آخری لمحات میں بھی ان کے ساتھ ایمبولینس میں موجود رہے۔ یاسمین صاحبہ نے اپنی اس کوشش کو ڈاکٹر صاحب اور ان کے خاندان کے ایصال ثواب کے لیے وقف کیا ہے، جو ایک انتہائی قابل تحسین عمل ہے۔

    یہ ملاقات اور تحفہ میرے لیے ایک قیمتی تجربہ رہا۔ رثائی ادب میں ایسے الفاظ اور احساسات کو دیکھنا جو تاریخ کی تلخیوں کو جذبات کی زبان میں ڈھال سکیں، واقعی ایک نعمت ہے۔ یاسمین بخاری صاحبہ اور ان کے استاد زاہد شمسی صاحب کو ادب کی خدمت پر میری دلی دعا ہے کہ وہ ایسے قیمتی کام جاری رکھیں اور ہماری تہذیب و ثقافت کو مزید روشنی بخشیں۔

  • یہی وہ روشنی ہے

    یہی وہ روشنی ہے

    جب قدرتی آفات آتی ہیں تو صرف وہی جماعتیں انسانیت کی خدمت کا فریضہ بخوبی ادا کرتی ہیں جو حقیقی معنوں میں عوام کے درد کو محسوس کرتی ہیں،عوام کے ووٹوں سے حکمرانی کرنے والی جماعتیں صرف بیانات،وعدے اور دعوے کرتی ہیں تو وہیں کچھ جماعتیں خدمت انسانیت کے فریضہ میں مصروف عمل ہوتی ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد جس انداز میں فوری امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست صرف اقتدار کی جنگ نہیں، بلکہ خلقِ خدا کی خدمت کا نام بھی ہے۔

    راولپنڈی، چکوال، جہلم اور گردونواح کے علاقے مون سون کی شدید بارشوں سے شدید متاثر ہوئے۔ کئی گھروں کی چھتیں زمین بوس ہو گئیں، ندی نالے بپھر گئے، سڑکیں ندیوں کا منظر پیش کرنے لگیں اور متعدد خاندان بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔چکوال کے علاقے کھیوال میں ایک دل خراش واقعہ پیش آیا جہاں محمد افضل کا بیٹا اور پوتا بارش کے باعث چھت گرنے سے جان کی بازی ہار گئے۔ یہ المیہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا لمحہ تھا۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے متاثرہ خاندان کے غم میں شریک ہو کر نہ صرف دکھ بانٹا بلکہ متاثرہ گھر کی دوبارہ تعمیر کا اعلان بھی کیا۔

    مرکزی مسلم لیگ کی امدادی مہمات بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں جاری ہیں، راولپنڈی کے خیابان سیکٹر 3 میں مفت میڈیکل کیمپ کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں مریضوں کو ماہر ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے ذریعے مفت علاج و معالجہ اور ادویات فراہم کی گئیں۔ جہلم میں بھی اسی طرز کے کیمپ قائم کیے گئے جہاں خواتین، بچے اور بزرگ طبّی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں،صرف طبّی سہولتیں ہی نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے پکی پکائی خوراک کی فراہمی کا سلسلہ بھی بلا تعطل جاری ہے۔ وہ علاقے جہاں سڑکیں زیر آب آ چکی ہیں، وہاں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار کشتیوں کے ذریعے خوراک، صاف پانی اور ضروریاتِ زندگی متاثرین تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ مناظر انسانیت کی معراج اور سیاسی شعور کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم اپنی تمام تر مصروفیات ترک کر کےبارش سے متاثرہ علاقوں میں پہنچے ہیں اور نہ صرف امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں سے براہِ راست ملاقات کر کے ان کے دکھ درد میں شریک بھی ہو رہے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر امدادی سرگرمیوں کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اُن کا یہ جملہ دلوں کو چھو جاتا ہے،ہماری سیاست خدمت کی سیاست ہے، اور آزمائش کی ہر گھڑی میں ہم اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس تمام منظرنامے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مرکزی مسلم لیگ نے سیاست کو صرف انتخابی میدان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک خدمت خلق کا ذریعہ بنایا۔ ان کا یہ طرزِعمل دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے کہ جب قوم پر مشکل وقت آئے، تو صرف دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔

    بارشوں کا سلسلہ تو قدرت کا حصہ ہے، مگر ان بارشوں میں بھیگتے، بلکتے، تڑپتے انسانوں کو سہارا دینا ہی اصل انسانیت ہے۔ مرکزی مسلم لیگ نے یہی پیغام دیا ہے – کہ انسانیت کی خدمت ہی اصل سیاست ہے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ جب قیادت مخلص ہو، اور کارکنان خدمت کے جذبے سے لبریز ہوں تو کوئی آفت، کوئی مصیبت قوم کو زیر نہیں کر سکتی۔ قدرتی آفات عارضی ہوتی ہیں، مگر انسانیت کی خدمت کا اثر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی امید کا دیا جلاتی ہے۔

  • جمہوریت یا معاشی آمریت؟

    جمہوریت یا معاشی آمریت؟

    جمہوریت یا معاشی آمریت؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    اگر چار ہزار من گندم 2200 روپے فی من میں بک سکتی ہے تو 5500 روپے والی چینی کی بوری 9000 روپے تک کیوں جا پہنچی؟ یہ محض ایک اقتصادی سوال نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کی گہرائیوں میں پیوست ایک تلخ سچائی ہے۔ ہمارے ہاں اشیاء کی قیمتیں نہ طلب و رسد کے اصولوں سے طے ہوتی ہیں، نہ مارکیٹ کی خودکار طاقتوں سے۔ قیمتوں کا تعین ہوتا ہے طاقتور طبقے کی مرضی، مفادات اور مافیاز کی اجارہ داری سے جو پیداوار عوام سے لیتے ہیں مگر منافع اپنی تجوریوں میں بھر لیتے ہیں۔

    گندم کاشت کرنے والا کسان جو سال بھر دھوپ، گرمی، قرضوں، کھادوں، مہنگے بیج اور ناکارہ زرعی نظام کا سامنا کرتے ہوئے زمین کا سینہ چیرتا ہے۔مگر جب اس کی فصل تیار ہوتی ہے تو اسے سرکاری امدادی قیمت کے نام پر اونے پونے بیچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر وہ آزاد منڈی کا رخ کرے تو وہاں بیوپاریوں کی اجارہ داری، کمیشن خور مڈل مین اور منڈی کا غیر شفاف نظام اس کی ریڑھ توڑ دیتا ہے۔ کسان کی محنت پر منافع لینے والے وہی طاقتور طبقات ہیں جو پالیسی بھی خود بناتے ہیں اور قیمت بھی خود طے کرتے ہیں۔

    یہی صورتحال گنے کی فصل کے ساتھ بھی پیش آتی ہے۔ گنا بھی وہی کسان کاشت کرتا ہے مگر شوگر ملز کے دروازے پر پہنچتے ہی کھیل بدل جاتا ہے۔ گنے کی قیمت، تول، کٹوتی اور ادائیگی کا نظام شوگر مافیا کے ہاتھ میں ہے جو حکمران جماعتوں اور وزارتی خاندانوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ کسان کو کم نرخ، کٹوتی اور تاخیر کے ذریعے کمزور کیا جاتا ہے جبکہ چینی کی قیمتوں پر کوئی قانون یا ضابطہ لاگو نہیں ہوتا کیونکہ چینی "عوامی ضرورت” نہیں بلکہ "اشرافیہ کی پیداوار” بن چکی ہے۔

    کھاد کی صورت حال اس سے بھی بدتر ہے۔ یوریا اور ڈی اے پی جیسی زرعی کھادیں ان کارخانوں میں تیار ہوتی ہیں جن کے مالکان اکثر وزراء، مشیر یا طاقتور خاندان ہیں۔ کسان کو یہ کھاد نہ صرف مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہے بلکہ جعلی یا ناقص مال کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے۔ کسان کی محنت کی لاگت بڑھتی ہے اور منافع ان صنعتکاروں کی جیب میں جاتا ہے جنہوں نے خود ہی قیمتیں بڑھانے کے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں۔

    پھر آتا ہے پٹرول اور ڈیزل جو نہ صرف کسان کے ٹریکٹر بلکہ ہر شہری کی نقل و حرکت اور روزمرہ کی معیشت سے جُڑا ہوا ہے۔ پٹرول پر مکمل کنٹرول حکومت کے پاس ہوتا ہے اور جب بھی بجٹ خسارہ یا آئی ایم ایف کی شرائط درپیش ہوں تو یہ کنٹرول عوام پر مہنگائی کے ہتھوڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مگر ریاستی خزانے میں آنے والے یہ ٹیکس براہ راست عوام پر خرچ نہیں ہوتے بلکہ حکمران اشرافیہ کی مفت سہولیات اور شاہانہ اخراجات میں جھونک دیے جاتے ہیں۔

    سب سے اذیت ناک پہلو بجلی کا ہے۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے والی بیشتر کمپنیاں نجی شعبے میں ہیں جن کے مالکان براہ راست سیاسی و انتظامی طاقتور طبقات سے وابستہ ہیں۔ یہ کمپنیاں بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، انہیں "کیپسٹی پیمنٹس” کے نام پر عوامی خزانے سے اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ اس کا بوجھ براہ راست عوام کے بلوں پر ڈالا جاتا ہے۔ اگر کوئی شہری 201 یونٹ بجلی استعمال کرے تو اس کا بل دس ہزار روپے سے تجاوز کر جاتا ہے، جبکہ انہی حکمرانوں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کو بجلی، پٹرول اور دیگر سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

    علاج معالجے کے میدان میں بھی یہی طبقاتی فرق نمایاں ہے۔ غریب شہری سرکاری ہسپتال میں پیناڈول کی گولی کے لیے ترستا ہے اور اگر کسی بڑے ٹیسٹ، بستر یا ڈاکٹر تک رسائی درکار ہو تو سفارش یا رشوت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے برعکس حکمران طبقے کے افراد معمولی بیماری پر بھی بیرون ملک علاج کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے لندن، دبئی، نیویارک کے ہسپتال کھلے ہیں اور خرچ ہوتا ہے پاکستان کے غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ۔

    یہ سب کچھ اس بنیادی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک میں پیداوار تو عوام کرتے ہیں لیکن منافع اور کنٹرول طاقتور طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ اشیاء کی قیمتیں معیشت کے اصولوں پر نہیں بلکہ اشرافیہ کے مفادات پر مبنی فیصلوں سے طے ہوتی ہیں۔ قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے اور طاقتور قانون سے بالا تر ہوتا ہے۔
    یہ نظام جمہوری نہیں، معاشی آمریت ہے ، ایک ایسا نظام جس میں عوام صرف ووٹر، ٹیکس دہندہ، بل دہندہ اور سائل ہے جبکہ حکمران طبقہ بادشاہ ہے جسے نہ احتساب کا خوف ہے نہ قانون کی پرواہ۔

    سوال یہ نہیں کہ چینی مہنگی کیوں ہے۔سوال یہ ہے کہ طاقتور اپنی پیدا کردہ اشیاء کی قیمت خود طے کرنے کا اختیار کب تک رکھے گا؟اور غریب جو ہر شے کا خریدار ہے، کب تک صرف بل ادا کرتا رہے گا؟

    اگر ہم واقعی جمہوریت کے دعوے دار ہیں تو جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ معاشی عدل بھی ہونا چاہیے۔ جمہوریت کا حسن عوام کے حقوق کے تحفظ میں ہے اور اگر وہ تحفظ صرف طاقتوروں کے لیے مخصوص ہو جائے تو یہ نظام جمہوریت نہیں بلکہ ایک "جمہوری آمریت” بن جاتا ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ اس نظام کو چیلنج کیا جائے۔ جمہوریت کو اشرافیہ کے دامن سے نکال کر کسان، مزدور اور متوسط طبقے کے ہاتھ میں دیا جائے۔ معیشت کو عوامی مفادات کے تابع بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ معاشی آمریت ہر روز ہزاروں گھروں کے چولہے بجھاتی رہے گی اور ہم صرف تحریریں لکھتے، سوالات اٹھاتے اور احتجاج کرتے رہ جائیں گے۔

  • دروازے جو کبھی کھلے  نہیں،تحریر ؛ اقصیٰ جبار

    دروازے جو کبھی کھلے نہیں،تحریر ؛ اقصیٰ جبار

    کبھی کچھ دن تاریخ میں ایسے آتے ہیں جن کے ہونے سے زیادہ ان کا "نہ کھلنا” ہمیں یاد رہ جاتا ہے۔ 13 جولائی 1931ء بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ سری نگر کی فضا اُس دن خاموش نہ تھی، لیکن آج تک گونجی جا رہی ہے۔ جیل کے باہر سینکڑوں کشمیری جمع تھے۔ وہ کسی احتجاجی مارچ، کسی ہنگامہ آرائی، یا کسی بیرونی سازش کے لیے نہیں آئے تھے۔ وہ فقط ایک اذان مکمل کرنا چاہتے تھے۔ مگر ریاست نے یہ سادہ ترین مذہبی حق بھی برداشت نہ کیا۔ اذان شروع ہوئی، گولی چلی۔ ایک نوجوان شہید ہو گیا۔ دوسرا آگے بڑھا، پھر گولی۔ یہاں تک کہ بائیس نوجوانوں نے اذان کے ہر جملے پر اپنی جان دے دی، تب جا کے اذان مکمل ہوئی۔

    یہ اذان، صرف نماز کی دعوت نہیں تھی۔ یہ اذان، استبداد کے خلاف مزاحمت تھی۔
    یہ بغاوت نہیں، حق کی بازیافت تھی۔
    لیکن اُس دن جو دروازہ بند تھا—انصاف کا، آزادی کا، انسانیت کا—وہ آج 90 سال بعد بھی کھلا نہیں۔

    کشمیر کو "مسئلہ” کہنے والے اسے ایک زمینی تنازع، دو ملکوں کی ضد، یا علاقائی سیاست کا فٹ بال سمجھتے ہیں۔ لیکن جو کشمیری اپنی زندگی، عزت، شناخت اور دین کی حفاظت کے لیے روز جیتا اور مرتا ہے، اس کے لیے یہ مسئلہ نہیں، زندگی کا سوال ہے۔ اور یہ سوال، اُس دن سے باقی ہے جب بائیس جنازے اٹھے، اور دروازے بند رہ گئے۔

    وقت بدل گیا۔
    راجہ ہری سنگھ کی آمریت ختم ہوئی، مگر نئے چہرے نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ آئے۔
    1947 کے بعد کشمیر کا ایک حصہ پاکستان کے ساتھ اور دوسرا بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں منظور ہوئیں، استصوابِ رائے کا وعدہ کیا گیا، لیکن وہ وعدے بھی ان بند دروازوں کے ساتھ دفن ہو گئے۔

    5 اگست 2019 کو جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، تو گویا آخری قفل بھی جڑ دیا گیا۔
    نہ اب وہاں کوئی پرچم بلند ہو سکتا ہے، نہ آواز۔
    انٹرنیٹ بند، صحافت پر پابندی، سیاسی کارکن لاپتہ، اور ہر کشمیری ایک قیدی۔
    ایک ایسا قیدی جس کے ہاتھ میں زنجیر بھی ہے، اور دنیا اس کی زنجیروں کی آواز سن کر بھی انجان بن چکی ہے۔

    یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا بھارت کشمیر میں بدترین آمریت کی مثال بن چکا ہے۔ پیلٹ گنز سے بچوں کی بینائی چھینی گئی، خواتین کو ہراساں کیا گیا، بزرگوں کی داڑھیاں نوچی گئیں، اور نوجوانوں کو بنا مقدمے کے قید کر دیا گیا۔

    لیکن ان مظالم سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان سب پر دنیا خاموش ہے۔
    اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں کو فراموش کر چکی ہے، مسلم دنیا مفادات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، اور ہم—ہم صرف سال میں ایک دن، 5 فروری یا 13 جولائی کو، چند تقریریں، چند پوسٹر، اور کچھ اخباری مضامین کے ذریعے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں۔

    یہ بند دروازے صرف بھارت نے بند نہیں کیے،
    ہم نے بھی اپنی بے حسی، کمزوری، اور وقتی جذباتی ردِعمل سے ان دروازوں پر تالا ہی ڈالا ہے۔
    ہم نے کشمیریوں کو امید ضرور دی، لیکن عملی طور پر ان کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ نہ دکھا سکے۔

    آج اگر کشمیر میں گولی چلتی ہے، تو اس کی بازگشت پاکستان کے دل میں سنائی دینی چاہیے۔
    کیونکہ کشمیر کوئی علیحدہ سرزمین نہیں، یہ ہماری شہ رگ ہے۔
    لیکن اگر شہ رگ میں درد ہو اور ہم اُسے محسوس نہ کریں، تو ہمیں اپنے ضمیر پر سوال اٹھانا ہوگا۔

    مسئلہ کشمیر، صرف کشمیریوں کا نہیں—یہ انسانیت کا امتحان ہے۔
    اور اس امتحان میں ناکامی صرف مظلوم کی شکست نہیں، ظالم کے حوصلے کی جیت بھی ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے تک محدود نہ رہیں،
    بلکہ یہ طے کریں کہ ان بند دروازوں کو کھولنے کے لیے اب ہمیں کتنی ہمت، کتنی عقل، اور کتنی حکمت درکار ہے۔
    کشمیر کو آزاد دیکھنے کی خواہش اگر دل میں زندہ ہے،
    تو یاد رکھیں—دعاؤں کے ساتھ ساتھ فیصلوں کی بھی ضرورت ہے۔

    وہ اذان تو مکمل ہو گئی تھی،
    مگر جو دروازے اُس دن بند ہوئے تھے،
    اب اُنہیں کھولنے کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔

  • شور کی آلودگی . خاموش قاتل، ادارے تماشائی

    شور کی آلودگی . خاموش قاتل، ادارے تماشائی

    شور کی آلودگی . خاموش قاتل، ادارے تماشائی
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    آلودگی کی کئی ایک قسمیں ہیں مگر آج ہم شور کی آلودگی کے حوالے سے کچھ بنیادی معلومات آپ تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شور کی آلودگی کوئی معمولی مسئلہ نہیں، یہ انسان کے جسم، دماغ اور رویوں پر براہ راست حملہ آور ہے۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی صحت، تعلیم اور ماحولیاتی بہتری جیسے مسائل کو ثانوی حیثیت حاصل ہے، وہاں شور کی آلودگی (Noise Pollution) ایک تیزی سے بڑھتا ہوا مگر نظر انداز کیا گیا خطرہ بن چکا ہے۔ یہ وہ آلودگی ہے جس کا اثر نظر نہیں آتا، مگر دماغ، دل، نیند، تعلیم اور انسان کی پوری شخصیت کو اندر سے گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔

    جب آواز اپنی قدرتی حد (50-70 ڈیسی بل) سے بڑھ جائے اور انسانی سماعت، سکون، یا جسمانی صحت پر منفی اثر ڈالنے لگے، تو وہ شور آلودگی کہلاتی ہے۔

    شور کی آلودگی کے بڑے ذرائع یہ ہیں،لاوڈ اسپیکر کا بے جا استعمال (مساجد، دکانیں، سیاسی جلسے)، شادی ہال، کنسرٹس، DJ اور دھماکے دار موسیقی، گاڑیوں کے غیر ضروری ہارن (خصوصاً رکشے، بسیں، ٹرک)، انڈسٹری کا شور، تعمیراتی مشینری اور فیکٹریاں، ریڑھی بانوں، ٹھیلے والوں اور مارکیٹوں کی بلند آوازیں، پٹاخے، ہوائی فائرنگ اور تہواروں پر شور شرابا۔

    شور کی آلودگی کے انسانی صحت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن میں ذہنی دباؤ، چڑچڑاپن اور بے چینی، نیند میں خلل، جسمانی کمزوری، تھکن، بچوں کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہونا، بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن کا عدم توازن، سماعت کی کمزوری یا مکمل نقصان، بزرگوں اور بیماروں کے لیے اضافی اذیت شامل ہیں۔

    یہ سب ہونے کے باوجود ہم شعوری طور پر لاشعور ہیں اور ہمارے اداروں کی کارکردگی اس حوالے سے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہاں، البتہ فائلوں میں سب اچھا کی رپورٹ ضرور ہوگی اور ماہانہ لفافے ضرور ملتے ہوں گے جو ان کی نظر میں ان کا جائز حق ہے۔ صد افسوس ہماری ترجیحات کیا ہیں۔

    شور کی آلودگی کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری محکمہ ماحولیات، بلدیاتی ادارے، ٹریفک پولیس، اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے قوانین موجود ہیں، مگر عمل ندارد۔ بڑے ہوٹل، شادی ہال یا سیاسی پروگرام "رابطوں” کے باعث کارروائی سے بچ جاتے ہیں، جبکہ چھوٹے دکاندار، رکشہ ڈرائیور یا ریڑھی بان کو چالان کر کے رپورٹ مکمل کر دی جاتی ہے۔

    ماہانہ بھتہ، سیاسی دباؤ اور رشوت کی بنیاد پر شور پھیلانے والوں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ شکایت درج کرانے والے شہریوں کو "سائل” سمجھنے کی بجائے "تنگ کرنے والا” گردانا جاتا ہے۔

    عام شہری کیوں متاثر ہو رہے ہیں؟ کیونکہ عوامی آگاہی نہیں۔ لوگوں کو اس حوالے سے سیمینار، ورکشاپ اور میڈیا کے ذریعے آگاہی دی جائے۔

    جب قانون موجود ہو، ادارے قائم ہوں، مگر نیت نہ ہو تو مسائل صرف بڑھتے ہیں۔ اگر شور کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ہم ایک بے سکون، بیمار، اور ذہنی مریض قوم میں بدل جائیں گے۔ بلکہ بدل چکے ہیں کیونکہ یہ عوام الناس کا بنیادی مسئلہ ہے اور ہم نے ہمیشہ عوامی مفادات کو ترجیح نہیں دی، جس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں، انہی میں سے ایک شور کی آلودگی بھی ہے۔

    خاموشی صحت ہے، شور تباہی . اب فیصلہ اداروں نے کرنا ہے۔

  • لگی ہے آگ پھولوں کو، جبر کے موسم میں سچ کون بولے گا؟

    لگی ہے آگ پھولوں کو، جبر کے موسم میں سچ کون بولے گا؟

    لگی ہے آگ پھولوں کو، جبر کے موسم میں سچ کون بولے گا؟
    تحریر:شاہدریاض
    یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ درختوں کی شاخیں ساکت ہیں، پرندے خاموش ہیں، اور فضا میں گھٹن ایسی ہے کہ سانس لینا بھی جرم لگتا ہے۔ چمن میں آگ لگی ہے، مگر کوئی نہیں بولتا۔ شاید اس لیے کہ جو بولتا ہے، وہ جلا دیا جاتا ہے، یا پھر کفن پہنا دیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی سانس لیتا بھی ہے تو اس کے لہجے میں خوف، تحریر میں احتیاط، اور آنکھوں میں وہ چمک باقی نہیں رہتی جو سچ کا پہلا تعارف ہوتی ہے۔کسی شاعر نے اپنی نظم میں جھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ
    لگی ہے آگ پھولوں کو، چمن میں کون بولے؟
    ابھی زندہ ہوں، بولو تم، کفن میں کون بولے گا؟

    زبانیں کاٹ دو گے سب، اگر سچ بولنے والی،
    حکومت ظلم کی ہوگی، وطن میں کون بولے گا؟

    یہ خاموشی کسی طوفان کا لازم پیش خیمہ ہے،
    ذرّہ سی کھڑکیاں کھولو، گھٹن میں کون بولے گا؟

    صحافی کی زباں ہے یا قلم ہے ایک لکھاری کا،
    یہ سب چپ رہے تو آخر، سچائی کون بولے گا؟

    ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنے والوں کی زبانیں کاٹ دی جاتی ہیں۔ جہاں صحافت ایک پیشہ نہیں، بلکہ جرم بن چکی ہے۔ جہاں قلم چلانا، بندوق اٹھانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ جہاں لکھنے والے پر مقدمہ نہیں، فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ جہاں سوال پوچھنے والا "غدار” قرار پاتا ہے اور خاموش رہنے والا "محب وطن” مانا جاتا ہے۔

    کیا واقعی یہی وہ آزادی ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟ کیا یہی وہ جمہوریت ہے جس پر ہم ہر سال ووٹ ڈالنے کی رسم ادا کرتے ہیں؟ کیا واقعی اس وطن میں صرف وہی زندہ ہے جو حکومت کی زبان بولے؟ اور جو عوام کی زبان بنے، وہ غائب، خاموش یا مردہ قرار پاتا ہے؟

    آج جب مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، بے روزگاری ہر دروازے پر دستک دے رہی ہے، سیلاب سے شہر کے شہر ڈوب رہے ہیں، تعلیم ایک خواب بن چکی ہے اور علاج ایک نایاب سہولت… تب اگر کوئی صحافی ان سوالات کو آواز دیتا ہے تو وہ "ریاست مخالف” قرار پاتا ہے۔ جب ایک لکھاری ظالم کے چہرے سے نقاب اتارنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ جب ایک شاعر خون کے آنسو روتے عوام کا نوحہ لکھتا ہے تو اسے "مذہب، ریاست یا اداروں” کے خلاف پروپیگنڈا کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ جو اشعار ہیں "ابھی زندہ ہوں، بولو تم؛ کفن میں کون بولے گا؟” یہ صرف شاعری نہیں، ایک سوال ہے اس معاشرے سے، اس سسٹم سے اور ہم سب سے۔ اگر آج ہم چپ رہے تو کل ہماری خاموشی کا ماتم کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ ظلم کو دیکھ کر خاموش رہنے والے دراصل ظلم کے معاون ہوتے ہیں۔ اور اگر ہر درخت، ہر پنچھی، ہر دریا، ہر پہاڑ، ہر دیوار خاموش ہو جائے تو پھر سچ کے لیے کون بولے گا؟

    سوال صرف یہ نہیں کہ زبانیں کیوں بند ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ "کس نے بند کی ہیں؟” اور اگر ہم نے خود اپنے ہونٹ سِیے ہیں تو پھر ہم اس آگ کے ذمہ دار بھی خود ہیں جو چمن کو جلا رہی ہے۔

    یہ بھی سچ ہے کہ صرف ایک شخص کے بولنے سے کچھ نہیں بدلتا، لیکن اگر سب خاموش رہیں تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔ آوازیں کچلی جا سکتی ہیں، لیکن جذبے نہیں۔ قلم روکا جا سکتا ہے، لیکن خیالات کی پرواز کو زنجیر نہیں پہنائی جا سکتی۔ کاغذ جلا سکتے ہو، لیکن سوچوں کی آگ بجھانا تمہارے بس میں نہیں۔

    لہٰذا اب بھی وقت ہے۔ ذرہ سی کھڑکیاں کھولو، ہوا آنے دو، سچ کو سانس لینے دو۔ صحافیوں، لکھاریوں، شاعروں، اور فنکاروں کو مت روکو — کیونکہ اگر یہ سب چپ رہے تو اس وطن میں کون بولے گا؟ اگر آج ہم سچ کے ساتھ نہ کھڑے ہوئے، تو کل ہماری نسلیں سچ کا چہرہ پہچاننے کے قابل بھی نہ رہیں گی۔

    لگی ہے آگ پھولوں کو اور اگر ہم نے اب بھی لب نہ کھولے، تو نہ چمن بچے گا، نہ ہم۔

  • سیلاب، آفات، مہنگائی. عوام کا مقدر کیوں؟

    سیلاب، آفات، مہنگائی. عوام کا مقدر کیوں؟

    سیلاب، آفات، مہنگائی. عوام کا مقدر کیوں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان ایک ایسی ریاست بنتا جا رہا ہے جہاں عوام ہر سال قدرتی آفات، حکومتی نااہلی، اور معاشی بدحالی کے شکنجے میں کَس دیے جاتے ہیں۔ جونہی مون سون کی بارشیں شروع ہوتی ہیں، شہر ڈوبنے لگتے ہیں، نالے ابلنے لگتے ہیں اور انتظامیہ کی غفلت آشکار ہو جاتی ہے۔ 2025 کے حالیہ مون سون سیزن نے ایک بار پھر راولپنڈی، اسلام آباد، جہلم، چکوال اور آزاد کشمیر کے عوام کو بے رحم سیلاب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ہزاروں افراد محفوظ مقام کی تلاش میں در بدر ہیں، کئی جانوں کا چراغ گل ہو چکا اور اربوں روپے کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ مگر ریاستی ڈھانچے میں کوئی لرزش، کوئی احتساب اور کوئی پائیدار حل اب تک دکھائی نہیں دیتا۔

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں 230 ملی میٹر سے زائد بارش نے نالہ لئی کو دھاڑتا دریا بنا دیا۔ کٹاریاں، گوالمنڈی اور ڈھوک کھبہ کے مکین پانی میں پھنس گئے۔ پانی کی سطح 20 فٹ تک جا پہنچی اور ندی نالوں کی طغیانی نے شہری نظام کو مفلوج کر دیا۔ خطرے کے سائرن بج گئے، ریسکیو ادارے متحرک ہوئے، فوج سے مدد طلب کی گئی اور ایک دن کی چھٹی کا اعلان کر دیا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ہر سال یہی ہونا ہے تو پھر کیا ریاست نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا؟ کیا اربوں کے بجٹ صرف رپورٹوں اور اشتہارات کی نذر ہوتے رہیں گے؟

    چکوال میں کلاؤڈ برسٹ سے 423 ملی میٹر بارش نے تباہی کی نئی داستان رقم کی۔ بچوں سمیت کئی افراد جاں بحق ہوئے، سینکڑوں زخمی اور مکانات زمین بوس ہو گئے۔ قدیم مذہبی مقام کٹاس راج مندر بھی پانی میں ڈوب گیا۔ علاقہ مکین چھتیں چھوڑ کر اونچی جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے اگرچہ دعویٰ کیا ہے کہ تمام ادارے فیلڈ میں موجود ہیں مگر سچ یہ ہے کہ عوام کی نظروں میں یہ اقدامات ہمیشہ دیر سے آتے ہیں اور ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ضرور ہوتی ہے لیکن زخمیوں کو دوا، راشن اور رہائش کی سہولیات اب بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔

    این ڈی ایم اے کا بتانا ہے کہ 26 جون سے اب تک مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 178 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 85 بچے بھی شامل ہیں جبکہ اس دوران 491 افراد زخمی ہوئے۔ صرف 24 گھنٹوں میں 63 اموات رپورٹ ہوئیں۔ لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، پاکپتن اور اوکاڑہ جیسے شہروں میں یہ المناک واقعات پیش آئے۔ بارش کے پانی نے گھروں کو روند ڈالا، بچوں کو چھین لیا اور مویشیوں تک کو بہا لے گیا۔ مگر حکمران اشرافیہ صرف پریس کانفرنسوں اور رسمی دوروں تک محدود ہے۔

    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہر سال یہی کیوں ہوتا ہے؟ کیا نالہ لئی کی صفائی کے دعوے محض دکھاوا تھے؟ کیا واسا اور بلدیاتی ادارے صرف تنخواہوں کے لیے بنائے گئے ہیں؟ پاکستان میں مون سون کوئی نئی شے نہیں۔ ہر سال جون سے ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر ہر سال حکومت "اچانک” جاگتی ہے۔ جب تک گلیاں ندی نالوں میں نہ بدل جائیں اور لوگ مدد کے لیے چیخ نہ اٹھیں، حکومتی مشینری متحرک نہیں ہوتی۔ ایسی صورتحال کسی آفت کا نہیں بلکہ ریاستی نااہلی کا ثبوت ہے۔

    اگر ہم بھارت، بنگلہ دیش یا انڈونیشیا جیسے ممالک کی مثال دیکھیں تو وہاں بھی بارشیں ہوتی ہیں، مگر شہری منصوبہ بندی، ڈرینج سسٹم، ابتدائی وارننگ سسٹم اور انخلاءکا پلان اس قدر منظم ہوتے ہیں کہ جانی و مالی نقصان کم سے کم ہوتا ہے۔ پاکستان میں الٹا نظام ہے ،یہاں پہلے آفت آئے، پھر اجلاس بلائے جائیں، پھر بیان دیے جائیں اور آخر میں میڈیا سے کہا جائے کہ "صورتحال قابو میں ہے”۔ مگر عوام جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہےکیونکہ وہ ہر سال کیچڑ، مچھروں، وبائی امراض اور بے گھر ہونے کی اذیت جھیلتے ہیں۔

    مہنگائی کا عذاب اس سے علیحدہ ہے۔ جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے، وہاں سبزیاں نایاب، دودھ مہنگا اور پینے کا پانی خریدنا پڑ رہا ہے۔ تعمیر نو کا خواب ایک دور افتادہ وعدہ بن چکا ہے۔ امدادی پیکج اگر آتے بھی ہیں، تو ان میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور کرپشن کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ عوام بے بسی سے صرف یہی سوال دہراتے ہیں کہ آخر ہم کب تک آفات کا سامنا کرتے رہیں گے؟ کیا ہم محض موسمی قربانی کے بکرے ہیں؟ یا پھر یہ نظام ہی ہمیں قربانی کے لیے پیدا کرتا ہے؟

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آفات کو مواقع میں بدلنے کا کوئی ادارہ موجود نہیں۔ یہاں قدرتی آفات سے نمٹنے کے بجائے ان کا استعمال سیاسی فائدے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا فرض ہوتا ہے کہ پہلے سے نقشہ جات، خطرناک علاقوں کی نشاندہی اور بروقت نقل مکانی کے پلان تیار رکھے۔ مگر یہاں سب کچھ بعد میں ہوتا ہے اور اس تاخیر کی قیمت عوام اپنی جان، مال اور عزت سے ادا کرتے ہیں۔ اگر NDMAs اور PDMAs صرف رپورٹیں بنانے اور غیرملکی فنڈنگ کی وصولی تک محدود رہیں تو حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔

    پاکستانی عوام اب اس اذیت کو معمول سمجھنے لگے ہیں۔ سیلاب ہو یا زلزلہ، گیس کی لوڈشیڈنگ ہو یا مہنگائی، ہر سانحہ صرف "خبر” بن کر رہ جاتا ہے۔ اصل تبدیلی صرف اس وقت آئے گی جب ریاست اپنی ذمہ داری قبول کرے، مقامی حکومتوں کو فعال بنائے، وسائل کو شفاف طریقے سے استعمال کرے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید سائنسی اور ڈیجیٹل نظام اپنائے۔ بصورت دیگر، ہر مون سون، ہر زلزلہ اور ہر آفت ایک بار پھر یہی سوال دہراتی رہے گی کہ "سیلاب، آفات، مہنگائی… آخر عوام کا مقدر ہی کیوں؟”

  • خدایا…ماں کو سلامت رکھ،تحریر:نور فاطمہ

    خدایا…ماں کو سلامت رکھ،تحریر:نور فاطمہ

    ماں، وہ لفظ جس میں دنیا کی ساری محبت اور شفقت سمٹ کر آتی ہے۔ ماں وہ ذات ہے جس کے قدموں تلے جنت بستی ہے، جس کی دعاؤں میں ہزاروں خوشیاں پنہاں ہوتی ہیں، اور جس کی محبت میں انسان کو زندگی کا حقیقی مطلب سمجھ آتا ہے۔ ماں کی عظمت کا اندازہ صرف ان لمحوں میں ہوتا ہے جب ہم اس کے بغیر زندگی کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    یا اللہ! میرے رب، تو ہی سب کا خالق اور سب کا مالک ہے، ماں کی صحت، اس کی سلامتی، اور اس کی زندگی میں برکت دے۔ ماں کی ہنسی کبھی ختم نہ ہو، اس کے قدموں کی تھکن دور کر، اس کے دل کو سکون دے، اور اس کی عمر دراز فرما۔ ماں کی دعاؤں کی روشنی ہماری زندگیوں کو ہمیشہ روشن رکھے، اور اسے ہر بیماری، ہر دکھ، اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھ۔ اے رب، ماں کی صحت کو اپنی رحمتوں کی چھاؤں میں رکھ، اور اسے ہمیشہ خوش و خرم رکھ۔آمین

    ماں کی محبت اور قربانی کے سامنے دنیا کی تمام نعمتیں بے رنگ ہیں۔ ماں وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے گھر کو مہکاتا ہے، وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی امید جگاتی ہے۔ ماں کے بغیر گھر خالی سا لگتا ہے، اس کی دعا کے بغیر انسان بے سہارا سا محسوس کرتا ہے۔ماں ایک ایسی مخلوق ہے جس کی ہمت، صبر، اور محبت کی کوئی حد نہیں۔ اس کی محبت بے لوث اور بے مثال ہوتی ہے۔ وہ اپنے خوابوں کو پیچھے رکھ کر اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے زندگی وقف کر دیتی ہے۔ ماں کی گود میں انسان کو سکون ملتا ہے، اس کے سینے سے چمٹ کر دنیا کی ہر پریشانی بھاگ جاتی ہے۔

    ادب اور شعور نے ہمیشہ ماں کی عظمت کو اپنی زبانوں میں پرویا ہے۔ شاعر کہتے ہیں،ماں کی دعا میں جنت بسی ہے، ماں کے قدموں تلے دنیا چھپی ہے۔اور سچ یہی ہے کہ ماں کی دعا میں جنت کی خوشبو ہے، جو ہر دکھ کو دور کر دیتی ہے۔ماں کی محبت نہ صرف ہماری زندگی کو روشن کرتی ہے بلکہ ہمیں انسانیت، اخلاقیات، اور قربانی کا درس بھی دیتی ہے۔ ماں کے بغیر زندگی ایک کتاب ہے جس کے صفحات خالی ہوں۔

    آئیے ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو صحت مند رکھے، انہیں خوش رکھے، اور ان کی عمر میں برکت دے۔ ماں کی عظمت کو پہچانیں اور ان کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں کیونکہ ماں کی خدمت ہی خدا کی محبت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

  • ٹرمپ کا ممکنہ دورہ،اسحاق ڈار کی سفارتکاری  سے بھارتی ایجنڈا زمین بوس

    ٹرمپ کا ممکنہ دورہ،اسحاق ڈار کی سفارتکاری سے بھارتی ایجنڈا زمین بوس

    نواز شریف اور ٹیم نے اس ملک کی تقدیر بدل دی،ہردور میں میگا پراجیکٹس دئیے
    معرکہ حق میں بھارت کی ذلت آمیز شکست نے پاکستان کو دنیا کا مقبول ترین ملک بنا دیا
    ٹرمپ جنوبی ایشیا آئے تو کشمیر پر ثالثی کرسکتے ہیں کیونکہ وہ اس خواہش کا اظہار کرچکے

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    امریکی صدر پاکستان آئیں گے یا نہیں ،دفتر خارجہ اور امریکی سفارتخانہ لاعلم،تاہم صدر ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان اور بھارت کو کئی زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے ، اس وقت دونوں ملکوں کے معاملات کشیدہ ہیں،امریکی صدر اپنے اس دورے میں کشمیر پر بات کر سکتے ہیں، بھارت کشمیر کو لے کر بیرونی مداخلت کو ناپسند کرتا ہے ، پاکستان ہمیشہ ثالثی کا حامی رہا ہے، دو جوہری طاقتوں کو کیا امریکی صدر جو ایک عالمی قوت ہے ،سفارتی میز پر لے آئیں گے ؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟ امریکی صدر ٹرمپ خود کو ایک ڈیل میکر کے طور پر پیش کرتے ہیں ، امریکی صدر پیچیدہ تنازعات میں قدم رکھ کر کسی بڑی پیش رفت کے دعوے کرنا پسند کرتے ہیں، یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کشمیر تنازع پر پہلے ادوار میں ثالثی کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، امریکی صدر دوبارہ کشمیر پرثالثی کی بات کر سکتے ہیں جس سے سفارتی ہلچل پیدا ہو سکتی ہے، یہاں بات ذہن میں رہے کہ خطے میں استحکام کے لئے پاکستان بہت اہم ہے، چین اور روس امریکی صدر کے ممکنہ دورے پر گہری نظر رکھے گا ، دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی ، چین کا بڑھتا ہوا اثر ، افغانستان کا موجودہ منظر نامہ ، تاہم امریکی صدر اس خطے میں ا یک مضبوط سفارتی کارڈ کھیلنے کی خواہش رکھتے ہیں، اس وقت پاکستان عالمی ممالک میں توجہ کا مرکز ہے،جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے ، پاکستان کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں،

    حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں پاک فوج نے ایک مستحکم پیشہ وارانہ اور موثر کردار ادا کیا، بروقت دفاع جوابی کارروائیاں ٹیکنالوجی پر انحصار اورایک مضبوط عسکری قیادت نے اندرون ملک اور عالمی دنیا پاکستان توجہ کا مرکز بنا ، سفارتی سطح پر بھارت نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا مگر عالمی و پاکستان کی وزارت خارجہ اور موجودہ وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار جو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں وزیر خزانہ بھی رہے ، انہوں نے بھارتی پروپیگنڈے کو زمین بوس کردیا، نواز شریف اور ان کی ٹیم کا ہی کمال ہے کہ انہوں نے پاکستان کی عوام کو موٹرویز، میٹرو بسیں،سی پیک توانائی منصوبوں کے ذریعے ترقیاتی سیاست کو فروغ دیا ، نواز شریف کو اکثر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ، نواز شریف کو ترقی اور مضبوط معیشت کا علمبردار کہا جاتا ہے