Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سگریٹ ،غریب آدمی اور یہ معاشرہ.تحریر:لاریب اقراء

    سگریٹ ،غریب آدمی اور یہ معاشرہ.تحریر:لاریب اقراء

    سگریٹ ،غریب آدمی اور یہ معاشرہ
    از قلم: لاریب اقراء
    سگریٹ نوشی آج کے دور میں ایک عام عادت نہیں رہی بلکہ یہ ایک انتہائی خطرناک اور تیزی سے پھیلتی ہوئی معاشرتی، طبی اور معاشی بیماری بن چکی ہے۔ یہ بیماری غریب اور امیر دونوں طبقوں کو ایک جیسا نقصان پہنچا رہی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج معاشرے کے ہر طبقے میں، چاہے وہ غریب ہو یا امیر، نوجوان ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت، سگریٹ کو نہ صرف پیا جا رہا ہے بلکہ کہیں نہ کہیں اسے ایک “رواج” اور “ضرورت” سمجھ کر قبول بھی کیا جا رہا ہے۔ اور اس بات کو نجانے کیوں ہلکا لیا جارہا ہے ۔

    امیر طبقہ سگریٹ کو ایک “اسٹیٹس سمبل” یعنی عیش و آرام کی علامت سمجھ کر استعمال کرتا ہے، جبکہ غریب طبقہ ذہنی دباؤ، غربت، بے روزگاری یا ماحول کے منفی اثرات کے باعث اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ امیر آدمی کے لیے شاید سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت معمولی ہو، لیکن غریب کے لیے یہی سگریٹ روزانہ اس کی جیب سے روٹی، دوا، تعلیم، اور بچوں کی خوشی چھین لیتا ہے۔ سب سے زیادہ افسوس تب ہوتا ہے جب ایک شخص جو دن بھر محنت مزدوری کر کے چند روپے کماتا ہے، وہ انہی پیسوں کا کچھ حصہ سگریٹ میں جھونک دیتا ہے، اور یوں نہ صرف اپنی صحت بلکہ اپنے خاندان کا مستقبل بھی برباد کرتا ہے۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مہلک لت کو صرف غریب طبقے سے نہیں، بلکہ پورے پاکستان سے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ یہ عادت جہاں غریب کو فاقوں کی طرف لے جاتی ہے، وہیں امیر کو بیماریوں کی طرف دھکیلتی ہے۔ سگریٹ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے جُڑے ہر انسان، ہر خاندان، ہر محلے، ہر ہسپتال، اور ہر ملک کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

    اس زہر کو معاشرے سے ختم کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ حکومت سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگائے تاکہ یہ اتنا مہنگا ہو جائے کہ کوئی بھی اسے خریدنے سے پہلے کئی بار سوچے۔ غریب آدمی کو جب یہ احساس ہو کہ ایک سگریٹ کے بدلے وہ اپنے بچے کے لیے دودھ، کتاب یا دوا خرید سکتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ اپنی لت پر قابو پانے کا فیصلہ کرے۔

    حکومت کو سگریٹ فروشی پر بھی سخت قوانین لاگو کرنے چاہییں۔ دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ نابالغوں کو سگریٹ فروخت نہ کریں اور ایسی دکانوں کے خلاف کارروائی کی جائے جہاں یہ زہر عام مل رہا ہو۔ صرف یہی نہیں بلکہ دکانوں کے آس پاس اشتہارات، بورڈز یا ایسے پوسٹرز جو سگریٹ کو فروغ دیتے ہوں، انہیں مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے۔

    اس کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بیدار کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ خاص طور پر غریب اور کم تعلیم یافتہ افراد کو سمجھایا جائے کہ سگریٹ کا ہر کش ان کے جسم کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، ان کے پھیپھڑوں، دل، دانت، اور دماغ کو آہستہ آہستہ تباہ کر رہا ہے۔ وہ نادانی میں صرف اپنی ہی صحت کو نہیں بلکہ اپنے بچوں، بیوی، والدین اور آس پاس کے لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    اس مقصد کے لیے میڈیا، سوشل میڈیا، اسکول، مساجد، کمیونٹی سینٹرز اور فلاحی تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ایسے پروگرام ہونے چاہییں جن میں عوام کو آسان زبان میں، تصویروں اور مثالوں کے ذریعے بتایا جائے کہ سگریٹ کیسے خاموشی سے زندگی چھین لیتا ہے۔

    حکومت اور فلاحی ادارے اگر نکوٹین چھوڑنے کے پروگرامز جیسے مفت مشاورت، دوا، نکوٹین پیچ اور سپورٹ گروپس فراہم کریں تو بہت سے لوگ اس عادت کو خیر باد کہہ سکتے ہیں۔ اصل ضرورت صرف ایک "سہارے” کی ہے — ایک ہمدرد آواز، ایک خالص نیت والا ہاتھ، جو ان لوگوں کو اس دھوئیں سے نکال کر صاف اور روشن زندگی کی طرف لے جائے۔

    نوجوان طبقہ اس کا سب سے آسان شکار بنتا ہے۔ جب وہ اپنے بڑوں کو سگریٹ پیتے دیکھتے ہیں تو وہ اسے "معمول” سمجھ کر اپنانے لگتے ہیں۔ اس لیے والدین، اساتذہ اور کمیونٹی لیڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور نوجوانوں کو ابتدا سے ہی اس لت سے دور رکھنے کی تربیت دینا ہوگی۔

    سگریٹ نوشی صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک زہر ہے جو جسم، دماغ، تعلقات، معیشت اور نسلوں کو خاموشی سے نگل رہا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا کوئی بھی فرد ” چاہے وہ غریب ہو یا امیر ” اس زہر سے محفوظ رہے تو ہمیں پورے ملک میں اس کے خلاف ایک مضبوط، مسلسل، اور اجتماعی جدوجہد کرنا ہوگی۔ یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا، تو کل ہمارے بچے بھی اسی دھوئیں میں سانس لیں گے جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایک بات جو سوشل میڈیا پر کچھ دنوں پہلے بہت وائرل تھی ۔
    کہ سگریٹ مرد پیے تو پھپھڑے خراب اگر عورت پیے تو کردار خراب ۔۔۔۔ ایسا کیوں
    یہ کہاوت ہمارے معاشرتی اور ثقافتی نظریات کی عکاس ہے جہاں مردوں کی سگریٹ نوشی کو عموماً صحت کے نقصان کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ خواتین کی سگریٹ نوشی کو کردار کی خرابی اور سماجی بدنامی کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ یہ فرق درحقیقت ہمارے معاشرے میں صنفی امتیاز اور قدامت پسند سوچ کی عکاسی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ سگریٹ نوشی مرد و زن، ہر انسان کے لیے ایک زہر ہے جو نہ صرف جسمانی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ شخصیت، وقار اور زندگی کے ہر پہلو کو دھوئیں میں لپیٹ لیتا ہے۔

  • اویس لغاری  ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ

    اویس لغاری ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ

    اویس لغاری ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    جب جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں کے محنت کش کسان نے محدود وسائل کے باوجود اپنے چھوٹے سے گھر میں دو بجلی کے میٹر نصب کیے، تو یہ کوئی چالاکی نہ تھی بلکہ مہنگائی کے عذاب میں کچھ سانس لینے کی آخری کوشش تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر "پروٹیکٹڈ سلیب” میں رہے تو شاید چولہا جلتا رہے اور بچوں کی فیس ادا ہو جائے۔ مگر اویس لغاری کی وزارت توانائی نے ایسا حکم صادر کیا جس نے لاکھوں غریب گھرانوں کی آخری امید روند ڈالی۔ دو میٹروں پر پابندی لگا کر صارفین کو ظالمانہ "نان پروٹیکٹڈ” سلیب میں دھکیل دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب قوم کی کمر واقعی ٹوٹ گئی۔

    اویس لغاری کی وزارت توانائی عوامی اذیت کا استعارہ بن چکی ہے۔ ان کے متضاد بیانات، گمراہ کن اعلانات اور فیصلوں نے عام شہری کو نہ صرف مالی نقصان دیا بلکہ عزت نفس کو بھی مجروح کیا۔ آج غریب کے بجلی کے بل مڈل کلاس کے بنک اکاؤنٹ سے زیادہ وزنی ہو چکے ہیں۔ اویس لغاری نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب وزیر اعظم کو کسی دشمن یا سازش کی ضرورت نہیں رہی بلکہ اویس لغاری کی وجہ سے عوامی غیظ و غضب خود دہکتا لاوا بن چکا ہے۔

    پاک بھارت جنگ کے بعد حکومت کی عالمی سطح پر سفارتی کامیابیاں بھی اس لاوے کو روکنے میں ناکام ہیں کیونکہ جب گھر کا بلب بجھ جائے، چولہا ٹھنڈا ہو اور بل ہزاروں میں ہوں تو قوم کے لیے حکومتی کامیابیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اویس لغاری کے اقدامات نہ صرف عوام پر معاشی بمباری ہیں بلکہ وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے بھی سیاسی بارودی سرنگ ہیں۔

    اویس لغاری کی وزارت کا آغاز ہی جھوٹے وعدوں سے ہوا۔ عام انتخابات سے قبل بلاول بھٹو نے 300 یونٹ مفت بجلی کا اعلان کیا جو غریب عوام کے لیے امید کی کرن تھا۔ لیکن جب اویس لغاری نے وزارت سنبھالی تو نہ صرف یہ وعدہ پورا نہ ہوا بلکہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور دیگر سرچارجز کے ذریعے بل کئی گنا بڑھا دیے گئے۔ ایک عام گھرانے کا بل جو پہلے چند ہزار کا تھا، اب لاکھوں تک جا پہنچا۔ اویس لغاری کے دعوے، جیسے "ہم نے قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کیے ہیں” یا "بلنگ کا نظام شفاف بنایا ہے”، عملاً بے معنی ثابت ہوئے۔ پروٹیکٹڈ سے نان پروٹیکٹڈ سلیب کی منتقلی، ناجائز ڈیٹیکشن بلز اور دو میٹروں پر پابندی نے ان کے تمام دعوؤں کو جھوٹا کر دیا۔

    بلنگ سسٹم میں سلیب کی تبدیلی خاص طور پر ظالمانہ تھی۔ 200 یونٹ سے ایک یونٹ زیادہ پر صارف "نان پروٹیکٹڈ” کیٹگری میں آ جاتا، جس سے بل کئی گنا بڑھ جاتا۔ وزیر اعظم نے اوور بلنگ پر برہمی کا اظہار کیا لیکن اویس لغاری نے معاملہ نیپرا کو سونپ کر جان چھڑا لی۔ سوشل میڈیا پر شکایات عام ہو گئیں کہ بل 8 ہزار سے 25 ہزار تک پہنچ گیا حالانکہ بجلی کا استعمال وہی تھا۔

    دو میٹروں پر پابندی نے دیہی علاقوں کے صارفین کی مشکلات دوچند کر دیں۔ کئی گھرانوں میں بجلی کا بوجھ تقسیم کرنے کے لیے دو میٹر استعمال ہوتے تھے، جس سے نہ صرف نظام بہتر چلتا بلکہ صارفین پروٹیکٹڈ سلیب سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ اب یا تو وہ استعمال کم کریں یا مہنگے سلیب پر بل ادا کریں۔ ایک دیہاتی صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ دو میٹروں سے فائدہ ہو رہا تھا، لیکن ایک میٹر ہٹانے سے بل دوگنا ہو گیا۔

    ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے بھی عوام کو نچوڑ کر رکھ دیا۔ بجلی چوری کے الزامات لگا کر بھاری جرمانے عائد کیے گئے، اکثر بغیر ثبوت۔ اویس لغاری نے خود تسلیم کیا کہ اوور بلنگ ہو رہی ہےلیکن ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ سوشل میڈیا پر ان پر رشوت خوری اور جاگیردارانہ ذہنیت کے الزامات لگے۔ ان کے فورٹ منرو کے گھر کا بل محض 124 روپے بتایا گیا جبکہ عوام ہزاروں روپے کے بل ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ وضاحت دی گئی کہ میٹر بند تھا، لیکن معاملہ عوامی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔

    بیوروکریسی اور اشرافیہ کو دی گئی مفت بجلی کی سہولت ختم نہ کی جا سکی۔ نگران حکومت نے اسے ختم کرنے کا عندیہ دیاتھا مگر اویس لغاری نے اسے جاری رکھا۔ سالانہ 500 ارب روپے سے زائد مفت بجلی اشرافیہ کھا جاتی ہے اور بوجھ عوام اٹھاتے ہیں۔ 2024 کے دوران بجلی کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس نے عوام کو بدترین معاشی بحران میں جھونک دیا۔ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو دی گئی یہ سہولت عوامی اشتعال کا باعث بنی۔

    اویس لغاری کے فیصلوں نے وزیر اعظم کی حکومت کو آتش فشاں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عوام کا غصہ اب قابو سے باہر ہو رہا ہے، جو کسی بھی وقت سڑکوں پر ابل سکتا ہے۔ دشمنوں کے خلاف سفارتی کامیابیاں بھی اب عوامی بھوک، پیاس اور اندھیرے کے سامنے غیر متعلق ہو چکی ہیں۔ جب عزت نفس اور بنیادی ضروریات چھن جائیں تو صرف اشتعال باقی رہ جاتا ہے.

    اویس لغاری کی پالیسیاں قوم کی اجتماعی خود کشی کامکمل سامان پیدا کر چکی ہیں۔ عوام کے پاس دینے کو کچھ نہیں بچا، لیکن قربانی کے لیے اویس لغاری جیسے وزراء کی فہرست طویل ہے۔ ان کا سیاسی ماضی بھی غیر مستقل مزاجی کی گواہی دیتا ہے ، مسلم لیگ (ق) سے مسلم لیگ (ن)، پھر تحریک انصاف کی چوکھٹ تک۔ ایسے افراد سے اصول اور وفاداری کی توقع عبث ہے۔ اگر حکومت عوامی غیض و غضب کی لپیٹ میں آئی تو اویس لغاری سب سے پہلے کشتی چھوڑ دیں گے۔

    لیکن میاں صاحب! اس عوامی طوفان کا سامنا آپ کو کرنا ہو گا۔ اگر اب بھی فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف آپ کی حکومت بلکہ مریم نواز شریف کی ابھرتی ہوئی قیادت کو بھی لے ڈوبے گا۔ اویس لغاری کو برطرف کرنا، بجلی کے نرخ کم کرنا، سلیب سسٹم کی اصلاح، ناجائز ڈیٹیکشن بلز کا خاتمہ اور دو میٹروں پر سے پابندی اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ورنہ تاریخ آپ کو عوام دشمن وزیر کا محافظ لکھے گی۔

    وزیر اعظم صاحب! اب فیصلہ کن اقدام کا وقت ہے۔ یہ محض ایک وزارت کی کارکردگی نہیں بلکہ آپ کی حکومت کے وجود اور سیاسی وراثت کی بقا کا سوال ہے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب یا آپ عمل کریں گے یا پھر عوام کا طوفان سب کچھ بہا لے جائے گا۔

  • پرامن حج انتظامات، خادم الحرمین کاامت مسلمہ کےلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پرامن حج انتظامات، خادم الحرمین کاامت مسلمہ کےلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھماالسلام نے جب کعبة اللہ کی تعمیر فرمائی اور حکم ربی سے حج بیت اللہ کااعلان کیاتو اس کے بعد ایک عرصہ تک یقیناانسانوں کےلئے بیت اللہ کاسفر محفوظ اور پرسکون رہا ہوگاتاہم جیسے جیسے انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا چلاگیا لوگ آسمانی مذاہب سے دور اور خواہشات کے اسیر ہوتے چلے گئے تو حج کے راستے بھی پرخطر ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک جب اسلام کوہ فاران کی چوٹیوں سے ضیا فگن ہوا تواسلام نے حجاز اور سرزمین حرمین کو امن وامان کامثالی گہوارہ بنا دیا ۔ امن وامان کی یہ مقدس رداکئی صدیوں تک سرزمین حجاز پر سایہ فگن رہی اور لوگ مکمل اطمینان کے ساتھ حج وعمرہ کے مناسک بجالاتے رہے درمیان میں اگر چہ حجاج کرام کےلئے بہت مشکل وقت بھی آتے رہے ہیں ۔
    حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کا دور بھی مثالی رہاہے تاہم جب خلافت عثمانیہ کی گرفت کمزور ہوئی تو سرزمین حجاز میں ابتری پھیل گئی ، راستے پر خطر ہوگئے ، حجاز کے شہر، دیہات اورعام شاہرائیں بھی محفوظ نہ رہیں ۔ حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے اغواہونے اور قتل کئے جانے لگے ۔راستے اس قدر پرخطر تھے کہ جو سفر حج کا ارادہ کرتے وہ اپنے تمام معاملات زندگی سمیٹ کر دوست احباب رشتہ داروں سے معافی تلافی کر کے کفن باندھ کر سفر حج پر نکلا کرتے تھے اس دور میں یہ تصور عام تھا کہ سفر حج سے واپسی کی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔جو حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے سے بچ کر بیت اللہ پہنچ جاتے وہاں بیشمارو لاتعداد مشکلات ان کا استقبال کرتیں۔حالت یہ تھی کہ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور حدود حرم میں بھی تحفظ حاصل نہ تھاکیونکہ مکہ مکرمہ ا ور اس کے گرد ونواح میں ڈاکوﺅں اور لٹیروں کا راج تھا۔
    پھر اللہ رب العزت والجلال کو اپنے بندوں پر رحم آیااور اطراف عالم سے تشریف لانے والے اپنے مہمانوں اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کا بندوبست اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد، مجاہد،بہادر ،دین کے داعی، امن کے سپاہی اور انصاف پسند بندے شاہ عبدالعزیز آل سعود کو حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور مضافات کے تمام علاقوں میں شریعت محمدی کے نفاذ کا اعلان کیا،حدود اللہ ، نظام قصاص ودیت کا اجرا کیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ حجاج کرام ضیوف الرحمن کو لوٹنے، قتل کرنے والے مجرموں کیساتھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق سلوک کیا جائے گا چاہئے اس کا تعلق کتنے ہی بڑے قبیلے سے کیوں نہ ہو ۔شاہ عبدالعزیز نے اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آج کے بعد اگر کسی بھی شخص ، کسی بھی گروہ یا قبیلہ نے یا قبیلہ کے کسی فرد نے حجاج کرام کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا جو قبیلہ ایسے فرد کو پناہ دے گا اس قبیلے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ ۔حقیقتاََ ہوا بھی ایسے ہی حجاج کرام کو لوٹنے والے کتنے ہی ڈاکوﺅں ، لیٹروں ، رہزنوں اور قاتلوں کی بستیاں جلادی گئیں اس سے سفر حج پرامن ہوگیا ۔
    شاہ عبدالعزیز مرحوم کی وفات کے بعدان کی اولاد اور جانشین اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے آج تک ان سنہری روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اب حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو ان کے ملکوں میں سہولیات فراہم کرنے کےلئے خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ءکے تحت روڈ ٹو مکہ جیسا عظیم الشان اور تاریخ ساز پراجیکٹ شروع کیا گیاہے ۔جس سے سعودی عرب پہنچنے پر طویل امیگریشن اور کسٹم کی چیکنگ کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا اور عازمین کے ہوائی اڈوں پر انتظار کے وقت میں بھی نمایاں طور پر کمی ہوتی ہے۔
    روڈٹومکہ کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن اور کسٹم کلئیرنس کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے جارہے ہیں۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں جاری ہیں ۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی عازمین کو رخصت کو رخصت کیا۔جبکہ امسال اسلام آباد اور کراچی سے پچاس ہزار سے زائد عازمین حج روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت حج کےلئے جائیں گے ۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا ہے ہم کوشش کررہے ہیں جلد ہی پاکستان کے تمام بڑے شہروں سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں شروع کی جائیں ۔
    اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو ائیرپورٹ ، ملائشیا کے دارلحکومت پتراجایا ائیرپورٹ ، بنگلہ دیش کے ڈھاکہ ائیرپورٹ اور تیونس کے ائیرپورٹ سے روڈ ٹومکہ کاآغاز کردیا گیا ہے ۔اس سہولت کافائدہ یہ ہوگاکہ سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی حجاج کے سعودی عرب میں داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی جائے گی تا کہ انھیں سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی قیام گاہوں پرمنتقل ہوسکیں ۔ پاکستان میں یہ سہولت لاہور ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ پر بھی فراہم کرنے کےلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس سے یقینا حجاج کرام اور معتمرین کو بہت زیادہ سہولت دستیاب ہوگی ۔
    حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے وسائل کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین ،مشاعر مقدسہ اور حجاج کرام کے لئے وقف کیا، سعودی وزارت حج اور دیگر محکمے سال بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حجا ج کرام کی خدمت اور سہولےا ت کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔آج حجاج کرام اور زائرین حرمین شریفین کے آرام وراحت اور پرسکون و پرامن طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جو وسیع تراور خوبصورت انتظامات کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ ہر انصاف پسند شخص حرمین شریفین کے خوبصورت، وسیع تر انتظامات اور آل سعود کی حجاج کرام اور معتمرین کے لئے خدمات میں کوئی کمی یا کوتاہی کی شکایت نہیں کرسکتا ۔الحمد للہ نہ ہی آج تک کسی سلیم الفطرت شخص کو ایسا کرتے دیکھا یا سنا ہے ۔
    البتہ کچھ عناصر کو سعودی حکومت کے حج انتظامات پسند نہیں آتے ۔ وہ حج انتظامات کے خلاف پروپگنڈہ شروع کردیتے ہیں اورحج انتظامات عالمی کمیٹی کے سپرد کرنے کے راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ عناصر پہلے بھی ناکام تھے اور آئندہ بھی ناکام ہی رہیں گے ۔امت مسلمہ کا ہر سلیم الفطرت فرد وہ کسی بھی خطہ زمین یا کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہووہ حرمین شریفن کی تعمیر وترقی ، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمت کے لئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، انکے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام جو حرمین شریفین اور زائرین حرمین شریفین کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیںکے ممنون ہیں اور انکی خدمات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔بے مثال عدیم النظیر حج انتظامات ، حرمین شریفین کی تعمیر وترقی، حجاج بیت اللہ کے آرام وسکون اور خدمت کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں وقف کرنے پر امت مسلمہ کی طرف سے ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزارت حج اور دیگر سعودی حکام کے صدق دل سے شکر گزار ہیں اور انکی خدمات کو تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام سعودی حکام کی حفاظت فرمائے ،اور انہیں توفیق مزید سے نوازے آمین یا رب العالمین۔

  • پیناڈول، رائزک اور جگر کے امراض: سچ کیا ہے؟

    پیناڈول، رائزک اور جگر کے امراض: سچ کیا ہے؟

    پیناڈول، رائزک اور جگر کے امراض: سچ کیا ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    حال ہی میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوڈکاسٹ ویڈیو نے پیناڈول (پیراسیٹامول) اور رائزک (اومیپرازول) جیسی عام ادویات کے استعمال اور جگر کے امراض سے ان کے تعلق پر کافی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس ویڈیو میں کچھ حیران کن دعوے کیے گئے جو ایک طرف تو عوامی صحت کے لیے تشویش کا باعث بنے تو دوسری طرف کئی غلط فہمیوں کو بھی جنم دیا۔ ان دعوؤں کا حقیقت کی کسوٹی پر جائزہ لینا ضروری ہے۔

    ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانیوں نے پچھلے سال رائزک نامی دوا پر تقریباً 8 ارب روپے خرچ کیے اور یہ دوا معدے اور جگر پر "تیزاب ڈالنے” جیسا اثر رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رائزک دراصل اومیپرازول ہے جو کہ ایک پروٹون پمپ انہیبیٹر (Proton Pump Inhibitor) ہے اور اس کا کام معدے میں تیزاب کی پیداوار کو کم کرنا ہے۔ یہ سینے کی جلن، بدہضمی اور السر کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ دوا معدے یا جگر پر تیزاب ڈالتی ہے، سائنسی طور پر درست نہیں، کیونکہ یہ دوا تیزاب کی پیداوار کو روکتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں رائزک کا بے جا اور غیر ضروری استعمال عام ہے، جہاں لوگ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے اسے درد کش ادویات کے ساتھ یا معمولی تیزابیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سائنسی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس دوا کا طویل استعمال وٹامن B12 کی کمی، گردوں کے مسائل اور جگر کے افعال میں بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے، تاہم اس کا براہ راست تعلق جگر کے کینسر سے ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔ 8 ارب روپے کے خرچ کا دعویٰ بھی غیر مصدقہ ہے کیونکہ اس کی کوئی سرکاری رپورٹ دستیاب نہیں۔

    پوڈکاسٹ میں پیناڈول کے بارے میں کہا گیا کہ یہ دوا آج کل "ٹافیوں” کی طرح استعمال ہو رہی ہے اور اس کا زیادہ استعمال فیٹی لیور اور جگر کی دیگر پیچیدہ بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یہ دوا دنیا میں بند ہو چکی ہے اور پاکستان میں بھی سات سال پہلے بین ہو چکی ہے۔ یہ دعوے مکمل طور پر غلط ہیں۔ پیناڈول (پیراسیٹامول) درد اور بخار کے علاج کے لیے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی ایک انتہائی عام اور مؤثر دوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے بنیادی دواؤں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے اور پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ دوا آج بھی دستیاب ہے۔ البتہ، یہ بات سچ ہے کہ پیراسیٹامول کا زیادہ استعمال، خاص طور پر اگر روزانہ 4 گرام سے زیادہ مقدار لی جائے یا اسے شراب کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ جگر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے مریض جو پہلے سے ہی ہیپاٹائٹس یا جگر کی کسی بیماری میں مبتلا ہوں، ان کے لیے پیراسیٹامول کا بے احتیاط استعمال مزید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ دوا جگر کا کینسر پیدا کرتی ہے۔ جگر کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہیپاٹائٹس B اور C کے وائرل انفیکشنز ہیں۔

    ویڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان میں جگر کے کینسر کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگلے 15 سالوں میں 30 لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ جن لوگوں کے PCR ٹیسٹ "نیگیٹو” آتے ہیں، وہ بھی کینسر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں جگر کے امراض، خاص طور پر ہیپاٹائٹس B اور C ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں، اور ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن 30 لاکھ افراد کو کینسر ہونے کا دعویٰ مبالغہ آمیز ہے اور اس کی کوئی سائنسی رپورٹ یا ثبوت موجود نہیں۔ جگر کے کینسر کی اصل وجوہات میں غیر محفوظ انجیکشن، خون کی غیر معیاری منتقلی اور ناقص صفائی شامل ہیں۔ جہاں تک PCR ٹیسٹ کا تعلق ہے، یہ وائرس کی مقدار چیک کرتا ہے۔ اگر یہ نیگیٹو آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ فی الحال وائرس موجود نہیں، لیکن یہ کینسر یا دیگر بیماریوں کی موجودگی کو رد نہیں کرتا۔ ویڈیو میں کینسر کے کچھ مخصوص ٹیسٹس (جیسے ایلفا فیٹوپروٹین، CA125، CA15-3، CA19-9، اور CEA) کا ذکر کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ ان سے اکثر میں کینسر کی ابتدائی علامات نکل آئیں گی۔ یہ ٹیسٹ مخصوص کینسرز کی نشاندہی میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی تشریح صرف ماہر ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔ یہ تمام ٹیسٹ ہر مریض پر لاگو نہیں ہوتے اور ہر مثبت نتیجہ کینسر کی حتمی تشخیص نہیں ہوتا۔ مزید براں CA125، CA15-3، اور CA19-9 جیسے ٹیسٹ بنیادی طور پر جگر کے کینسر کے لیے نہیں، بلکہ بالترتیب رحم/بیضہ دانی، چھاتی اور لبلبہ/گال بلیڈر کے کینسر سے متعلق ہیں۔

    یہ پوڈکاسٹ اگرچہ کچھ غلط معلومات پر مبنی ہے، لیکن اس میں دواؤں کے غلط اور غیر ضروری استعمال کے بارے میں جو تشویش ظاہر کی گئی ہے وہ بالکل درست ہے۔ پاکستان میں عام لوگ اکثر معمولی بخار یا درد پر خود ہی دوا لے لیتے ہیں یا کسی کی رائے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ رویہ خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب بات جگر جیسے نازک عضو کی ہو۔ یہ معاملہ صرف ان دو دواؤں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے مجموعی صحت کے نظام اور عوامی شعور کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اوور دی کاؤنٹر دواؤں کی فروخت پر سخت قوانین نافذ کرے، فارمیسیوں کی نگرانی کرے اور عوام کو دواؤں کے درست استعمال کے بارے میں آگاہی دے۔ ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والے طبی دعوؤں کی سچائی جانچنا اور ان پر اندھا یقین کرنے سے گریز کرنا بھی ضروری ہے۔

    اس طرح کی ویڈیوز میں کئی بار خوف پھیلانے کا عنصر شامل ہوتا ہے اور وہ حقیقت سے دور ہو سکتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم اپنی صحت کے معاملات کو سنجیدگی سے لیں، اپنی زندگیوں کو غیر ضروری دواؤں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں اور اگر کسی دوا کا استعمال کریں تو مستند ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔ جگر ایک خاموش مگر نہایت اہم عضو ہے، جب یہ بولتا ہے تو اکثر دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لیے ہیپاٹائٹس B کی ویکسین لگوائیں، محفوظ انجیکشن استعمال کریں اور باقاعدہ چیک اپ کروائیں۔ سوشل میڈیا کے دعوؤں پر بھروسہ کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا معتبر ذرائع سے تصدیق کرنا ہمیشہ بہتر ہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    از قلم: رفعت شوکت کھرل
    تمباکو ایک زرعی پیداوار ہے جو کہ ایک سالانہ فصل ہے، جو عام طور پر سگریٹ، نسوار اور دیگر مواد بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سائنسی ریسرچ کے مطابق تمباکو میں نیکوٹین موجود ہوتا ہے جو نشہ آور ہوتا ہے۔ تمباکو کے پتوں سے مزید نشہ آور ادویات بنائی جاتی ہیں جو کہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ اس طرح، سگریٹ بھی تمباکو کے پتوں کو خشک کر کے تیار کی جاتی ہے۔ سگریٹ کو جلانے اور اس کے دھویں کو سانس لینے سے نیکوٹین مادے کا اثر زیادہ ہوتا ہے جو نشہ آور ہے اور جسم میں مختلف نقصان دہ اثرات پیدا کرتا ہے۔

    یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ مہنگائی کے اس دور میں بھی سگریٹ کا استعمال عروج پر ہے۔ یہ ایسی خاموش موت کا سبب بنتی ہے، جو انسان کو اندر ہی اندر سے ختم کر دیتی ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے امیر و غریب طبقہ موت کے موت میں دھنسا جاتا ہے۔

    دنیا میں سب سے زیادہ پسماندہ طبقات ہی اس نشے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو  آگاہی ہی نہیں ہوتی کہ جو سگریٹ کا استعمال وہ کثرت سے کر رہے ہیں تو اس کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟

    اس لیے لوگ نقصان کی پرواہ کیے بغیر سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ مگر سگریٹ بنانے والے اس بات سے با خبر ہوتے ہیں کہ وہ جو مواد استعمال کر رہے ہیں، وہ نہایت ہی زہریلا ہے۔ مگر اس کے برعکس ، سگریٹ بنانے والی کمپنیز دن رات ہی یہ زہریلا مواد تیار کر رہی ہیں اور سستے داموں بیچ رہی ہیں، تاکہ معاشرے کو جسمانی طور پر نقصان ہو۔

    سگریٹ نوشی لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اس کے شدید مضر اثرات ہیں۔ یہ جسم کو نقصان دہ کیمیکلز سے بے نقاب کرتی ہے جو پھیپھڑوں، دل اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے سانس کی بیماریاں، قلبی مسائل اور کینسر ہوتے ہیں۔ اس کا مسلسل استعمال سے عوام گاہے بگاہے مفلوجیت کا شکار ہو رہی ہے، مگر پھر بھی حکمران اس بات سے ناواقف ہیں کہ غلط پروڈکٹس کو زیادہ ترجیح کیوں دی جا رہی ہے؟

    سگریٹ نوشی کے نقصانات جاننے کے باوجود بھی عوام اسکو استعمال کر رہی ہے۔ اب غریب عوام کو اس نشے کی لت لگ چکی ہے، وہ تو ہر صورت خرید کر استعمال کریں گے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس پروڈکٹ کو سستے داموں بیچ کر عادی بنایا جا رہا ہے۔ جس سے غریب طبقہ مزید غربت کا شکار ہو رہا ہے۔ عوام اپنی جان کی پروا کیے بغیر اس کے استعمال کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

    حکمران ریاست سے درخواست ہے کہ وہ سگریٹ بنانے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دے اور جو پروڈکٹس تیار شدہ ہیں، ان پر مزید ٹیکس لگا دیں تاکہ یہ زہریلا مواد عوام کی پہنچ سے دور رہے۔ ایسا کرنا نہایت مشکل کام ہے مگر ان اقدامات سے معاشرے میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر: روبینہ اصغر

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر: روبینہ اصغر

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: روبینہ اصغر
    آج کل سگریٹ اور تمباکو نوشی کو فیشن سمجھا جاتا ہے۔یہ لت موجودہ دورمیں ہر عمر کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔مرد تو مرد آج کل بچے،نوجوان بوڑھے،جوان بچیاں اور خواتین بھی محفوظ نہیں۔یہ ایک ایسا شکنجہ ہے کہ جو شخص ایک دفعہ اس میں پھنس جائے تو مشکل سے ہی خلاصی ملتی ہے۔جو شخص ایک دفعہ اس کا ذائقہ چکھ لے اسےبار بار اس کی طلب ہوتی ہے۔یوں یہ زہر آہستہ آہستہ اس کی رگوں میں سرایت کرنے لگتا ہے۔آخر کار نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ وہ اس کا اس حد تک رسیا ہوجاتا ہے۔کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی کے بغیر وہ بِن موت مرجائے گا۔حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔سگریٹ اور تمباکو کسی بھی سگریٹ نوش کو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔

    موجودہ معاشرے میں جہاں ہر دوسرا شخص اس لعنت میں مبتلا نظر آتا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق اس کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس سے نجات اور بچاؤ ممکن تو ہے مگر کیسے؟

    اگر موجودہ موضوع کو لیا جائے کہ”سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا”تو میں اس سے مکمل اتفاق نہیں کرتی۔کیونکہ اس موضوع کے حوالے سے پھر ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا سگریٹ نوشی میں صرف غریب طبقہ ہی مبتلا ہے؟ یا امراء بھی اس کے عادی ہیں؟ایک لمحے کے لیے اگر سوچ لیا جائے کہ سگریٹ کا مہنگاپن غریب کو تو سگریٹ سے دور رکھ دے گا تو امراء کا کیا ہوگا؟ان کے لیے بھی کوئی ایسا لائحہ عمل ہونا چاہیے۔جس سے سگریٹ امیر طبقہ بھی ترک کرنے پر مجبور ہوجائے۔

    سگریٹ اور تمباکواستعمال کرنے والے احباب اس کے نقصانات سے بخوبی واقف بھی ہیں۔پھر بھی وہ اسے دھڑا دھڑ استعمال کررہے ہیں اور جانتے بوجھتے یہ زہر اپنے اندر انڈیل رہے ہیں۔وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تنہائی،غم،دکھ،ذہنی پریشانی اور تناؤ اس کےاستعمال کا سبب بنتے ہیں۔جب ان کا خاتمہ ہوگا تو یہ اسباب اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

    اس زہر قاتل سے نجات صرف ایک فرد کی ہی ذمہ داری نہیں بلکہ ہرشخص کو اپنے معاشرے کے بچاؤ کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔اس کے لیے امیر، غریب اور متوسط ہر طبقہ کو آگے بڑھنا ہوگا۔تاکہ ہم ایک صحت مند معاشرے کو جنم دیں اور ہماری آئندہ آنے والی نسلیں جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط،صحتمند اور خوشحال قوم بن کر ابھریں۔

    اس کے لیے ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
    1-تمباکو کی کاشت اور اس کی درآمد پر پابندی لگانا حکومتِ وقت کا فرض ہے اور سنجیدگی سے اس پر غور کرنے کی ضرورت بھی ہے۔
    2-سگریٹ تیار کرنے والے کارخانوں کو فی الفور بند کیا جائے۔تاکہ اس کی ترسیل کا خاتمہ ہوسکے۔
    3-جب ایسی مضر صحت اشیاء کی پیداوار کم ہوگی تو تمباکو اور سگریٹ نوشی کی عادت بھی رفتہ رفتہ کم ہو جائے گی۔ایک دن ایسا آئے گا کہ ہمارا معاشرہ تمباکو سے پاک معاشرہ کہلائے گا۔
    4-سگریٹ مہنگا کرنے کی بجائے اس کی تیاری اور تمباکو کی پیداوار کو روک کر کیوں نہ اس نشے کا جڑ سے ہی خاتمہ کردیا جائے۔نہ رہے گابانس نہ بجے گی بانسری
    5-سگریٹ اور تمباکو کے استعمال میں امیر اور غریب دونوں طبقات ملوث ہیں لہذا ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے اس طرح دوررس اثرات مرتب ہوں کہ تمباکو اور سگریٹ دونوں طبقات کی پہنچ سے دور ہوجائیں۔کیونکہ دونوں طبقات ہمارے معاشرے کی ضرورت ہیں۔ان میں سے کسی کوبھی ہم تباہی میں نہیں دھکیل سکتے۔
    6-یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پہلے سگریٹ کی ڈبیہ تیار کرتے ہیں پھر اس پر”خبردار!تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے”لکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا فرض ادا ہوگیا۔بھئی! ایسا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا یہ اندھوں کا دیس ہے۔بِن دیکھے اور سمجھے سب ایک ہی رو میں بہتے جارہے ہیں۔کوئی تو وقت کا مسیحا ہو جو اس معاشرے کو اندھے کنویں میں گرنے سے بچا لے۔
    7-تمباکو اور سگریٹ نوشی معاشرے کا ایک ناسور ہیں۔صرف "ایک” دن منانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ہمیں ہر روز اس غلط عادت کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور کرتے رہنا چاہیے تاوقتیکہ اس کا کاروبار ٹھپ ہو جائے اور معاشرہ تمباکو سے پاک معاشرہ کہلائے۔اس سلسلے میں ہمارے مصنفین اور ادباء کو بھی اپنے قلم کا زور آزمانے کی ضرورت ہے۔برقی اور اشاعتی ذریعے سے عوام کو اس کے نقصانات سے آگاہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
    8-یہ دونوں انسانی جسم کو اندرونی طور پر مکمل کھاجاتے ہیں۔جس کے نتیجے میں انسان پھیپھڑوں کے کینسر اور دیگر کئی عوارض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔نتیجتاً بیمار معاشرہ دیکھنے کو ملے گا۔سگریٹ نوش کے ساتھ ساتھ اس کے ارد گرد بیٹھے لوگ بھی اس کے زہریلے دھویں سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔سانس کے ذریعے ہوا میں شامل یہ دھواں ان کے اجسام میں سرایت کرکے اپنا اثر دکھاتا ہے۔جس سے کئی قسم کی سانس کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
    9-یہ غلط لت معاشرے میں ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اس زہریلے درخت کو چوٹی سے کاٹنے کی بجائے جڑ سے ہی اکھاڑ کر ختم کردینا چاہیے۔تاکہ ہمارے معصوم شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔
    10-تمباکو نوشی چونکہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔اس میں ہرملک و ملت کو بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ہر ملک اپنے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی درآمد و برآمد پر پابندی عائد کرے۔اس سلسلے میں چور بازاری کو ہوا نہ دے۔تو "ان شاءاللہ”وہ وقت دور نہیں جب ان زیریلی چیزوں کا خاتمہ ہوگا اور ایک مثالی صحت مند معاشرہ دیکھنے کو ملے گا۔جو ملکی خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔جس سے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔نہ۔صرف ملک بلکہ ہرشخص خوشحال ہوگا۔

  • کلبھوشن سے بنگلزئی تک،آپریشن بنیان مرصوص II،وقت کا تقاضا

    کلبھوشن سے بنگلزئی تک،آپریشن بنیان مرصوص II،وقت کا تقاضا

    کلبھوشن سے بنگلزئی تک،آپریشن بنیان مرصوص II،وقت کا تقاضا
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    سوراب جوکہ بلوچستان کے قلب میں واقع ایک چھوٹا سا شہرہے جہاں شہری امن سے اپنی روزمرہ زندگی گزار رہے تھے، اچانک دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا۔بھارتی پراکسی دہشت گردوں نے بازاروں، بینکوں اور معصوم شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا۔ ان دہشت گردوں کا بلوچوں سے یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ صرف بھارتی پیڈ اور قاتل ہیں جو معصوم شہریوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اس خونریز حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی نے شہریوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی زندگی قربان کر دی۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسے "فتنہ الہندوستان” کا نام دیا جو بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کی حمایت یافتہ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) جیسے پراکسی دہشت گرد گروہوں کی تخریبی کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ یہ حملے نہ صرف بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش ہیں بلکہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش کا حصہ ہیں جو پاکستان کی معاشی خوشحالی کا ضامن ہے۔

    یہ تنازع کوئی نیا نہیں ہے بلکہ مئی 2025 میں بھارتی زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میںمودی کے فالزفلیگ اپریشن کے نتیجہ میں 26 افراد کے قتل کے بعد انڈیا نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں انڈیا نے "آپریشن سندور” کے نام سے پاکستان کے اندر شہری آبادی پر حملے کیے، پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا سے ٹھوس ثبوت مانگے لیکن بھارت کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا اور یہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا تاکہ عالمی برادری میں پاکستان کو بدنام کیا جائے۔ اس کے برعکس پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔تین مارچ 2016کو پاکستانی ایجنسیوں نے چمن کے علاقے ماشخیل سے کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔ 53 سالہ کلبھوشن یادیو 2003 سے بھارتی ایجنسی را کے لیے پاکستان میں منظم دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھا۔اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ یادیو نے اعتراف کیا کہ وہ RAW کے لیے کام کر رہا تھا اور بلوچستان میں بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔

    2020 میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے سامنے ایک ڈوزیئر پیش کیا، جس میں RAW کی بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں کے شواہد شامل تھے۔ مزید برآں 2023 میں بلوچ نیشنل آرمی کے کمانڈر سرفراز بنگلزئی نے ہتھیار ڈالتے ہوئے بھارتی مالی اور لاجسٹک حمایت کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں، جن میں تیسرے ممالک کے ذریعے فنڈنگ اور زخمی بھارتی پراکسی دہشت گردوں کو بھارت میں طبی امداد فراہم کرنے کے ثبوت شامل تھے۔

    ان ثبوتوں کے باوجود عالمی برادری کا دوہرا معیار پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب انڈیا بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر حملہ آور ہو سکتا ہے، تو کیا پاکستان کے پاس کلبھوشن یادیو جیسے واضح ثبوتوں کے ساتھ جوابی کارروائی کا حق نہیں؟ چین کے ماہر لیو زونگئی نے بھارت کے دوہرے معیار کی نشاندہی کی، جو ایک طرف دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف بلوچستان میں بھارتی پراکسی دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے۔ جب پاکستان نے بھارتی مداخلت کے ثبوت مغربی ممالک کے سامنے پیش کیے ہوئے ہیں تو ان کی خاموشی ان کے تعصب کو عیاں کرتی ہے۔

    یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اب وقت ہے کہ اپنی سفارتی اور فوجی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دیا جائے۔ بھارتی دہشت گردی کے ثبوتوں کو عالمی فورمز پر زیادہ جارحانہ انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کلبھوشن یادیو جیسے کیسز کو عالمی عدالت انصاف میں لے جا کر بھارت پر دبائو بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے عوام کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بھارتی پراکسی دہشت گردوں کی حمایت کو کم کیا جا سکے، جن کا بلوچستان یا اس کے عوام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ صرف بھارت کے ایجنڈے کے آلہ کار ہیں۔ CPEC جیسے منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانا پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے۔

    بھارت کی چانکیہ سیاست اور اس کے ناپاک ہتھکنڈوں نے اب صبر کے پیمانے لبریز کر دیے ہیں۔ مودی، اجیت ڈوول، جے شنکر، راج ناتھ سنگھ اور آر ایس ایس جیسے عناصر کی سرپرستی میں RAW کی تخریبی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی دبائو اور مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر بھارت کو اس کے جرائم کی سزا دی جائے۔ پاکستان کو اپنی سرزمین پر بھارتی پراکسی دہشت گردوں کے حملوں کے جواب میں بھارت کے اندر جا کر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

    آخرہم کب تک اپنے شہریوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ ہم کب تک سوراب جیسے شہروں میں خون کی ہولی دیکھتے رہیں گے؟ ہم کب تک عالمی برادری کو ثبوت پیش کرتے رہیں گے جبکہ وہ بھارت کے جرائم پر خاموش رہتی ہے؟ پاکستانی قوم کا صبر اب جواب دے چکا ہے۔ ہر پاکستانی کے دل سے ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ بھارت کو اس کی دہشت گردی کا جواب دینا فرض بن چکا ہے۔ پاکستانی قوم اب "آپریشن بنیان مرصوص II” کا مطالبہ کر رہی ہے جو نہ صرف بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجائے بلکہ اس کی تخریبی سازشوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے۔ یہ ہمارے شہیدوں کا قرض ہے، یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی امانت ہے اور یہ ہماری قوم کی عزت کی جنگ ہے۔ اب وقت ہے کہ پاکستان ایک آہنی طاقت بن کر بھارت کو سبق سکھائے اور اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے۔

  • "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بچپن کی ایک دھندلی یاد آج بھی میرے حافظے میں دھوئیں کی طرح اڑ رہی ہے۔ لاری اڈے کے باہر ایک بوڑھا فقیر اکثر دکھائی دیتا تھا۔مٹی سے اٹے کپڑے، جھریوں سے بھرا چہرہ، آنکھوں میں تھکن کی نمی، اور ہونٹوں میں دبی ہوئی ادھ جلی ایک سگریٹ۔ ایک دن میں نے پوچھ لیا،”بابا جی، پیسے ملنے کے بعد سب سے پہلے کیا لیتے ہیں؟”۔ اس نے لمحہ بھر کو میری طرف دیکھا، پھر دھواں چھوڑتے ہوئے کہا،”سگریٹ۔۔۔۔کیونکہ ایک کش لگ جائے تو بھوکے پیٹ بھی نیند آسان ہو جاتی ہے”۔ یہ لمحہ میرے ذہن پر نقش ہو گیا۔ اور آج جب میں ریاست کی انسدادِ تمباکو پالیسیوں کا جائزہ لیتا ہوں، تو وہی فقیر یاد آتا ہے۔کیونکہ ہمارا ریاستی رویہ بھی اسی بھکاری جیسا ہے۔ہاتھ میں کشکول، اور ہونٹوں پر سگریٹ کا دھواں۔

    ہر سال 31 مئی کو "یوم انسداد تمباکو” منا کر حکومت خود کو بری الذمہ سمجھ لیتی ہے۔ اشتہارات چلتے ہیں، نعرے لگتے ہیں، اور تمباکو کے خلاف ایک دن کی جنگ لڑی جاتی ہے۔مگر اگلے دن سب کچھ ویسا ہی ہو جاتا ہے۔مگر اس حکومتی آگاہی مہم سے زیادہ موثر تو "کرومیٹک” کی آگاہی مہم ہے، کرومیٹک وہ واحد غیر سرکاری تنظیم ہے جو ہر وقت آپ کو تمباکو نوشی کے خلاف جہاد کرتی نظر آئے گی۔ حکومت ایک دن جبکہ کرومیٹک کے سی ای او شارق خان پورا سال اس لعنت کے خلاف جنگ کرتے نظر آتے ہیں۔

    معزز قارئین! تمباکو نوشی کوئی انفرادی مرض نہیں، یہ ایک اجتماعی لعنت ہے۔ یہ صرف پھیپھڑوں کو نہیں کھاتا، یہ پورے معاشرے کا جگر چاٹ کے رکھ دیتا ہے۔ یہ نوجوانوں کو وقت سے پہلے بوڑھا کرتا ہے، اور بڑوں کو قبل از وقت قبر کی دہلیز پر پہنچا دیتا ہے۔ یہ وہ دھواں ہے، جو صرف پھپھڑوں کو کالا نہیں کرتا، بلکہ نسلوں کو برباد کردیتا ہے۔
    پاکستان میں تمباکو نوشی کی صورت حال خاصی الم ناک ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہاں ہر سال ایک لاکھ سے زائد اموات تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ حکومت نے ان اموات کو روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے؟

    کیا سگریٹ کمپنیوں کی بے لگام تشہیر پر قدغن لگائی؟
    کیا نوجوانوں کو اس زہر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی؟۔حکومتیں بس اتنا کرتی ہیں کہ کچھ اشتہارات، چند تقریبات، اور چند دکھاوے کی مہمات چلا دیتی ہیں۔ جیسے کسی مریض سرطان کو پیناڈول کی گولی دے کر تسلی دی جاتی ہے۔ اس لعنت سے چھٹکارے کا واحد اور آخری حل یہی ہے کہ اس پر بھاری بھرکم ٹیکس لگایا جائے، اور اسے روٹی کو ترستی نوجوان نسل کی پہنچ سے دور کر دیا جائے۔

    یہ کہنا کہ سگریٹ پر زیادہ ٹیکس لگے گا تو غریب متاثر ہوگا، دراصل ایک خودساختہ مفروضہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سگریٹ نوشی کی شرح نچلے طبقے میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنی روزی روٹی، بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے تو ترستا ہے، مگر روزانہ اوسطاً پچاس سے دو سو روپے تک سگریٹ پھونک ڈالتا ہے۔ اگر سگریٹ کی قیمت بڑھا دی جائے، اگر اس پر بھاری ٹیکس لگا دیا جائے، تو سب سے پہلے، فائدہ اسی غریب کو ہی ہوگا۔کیونکہ جب چیز مہنگی ہوتی ہے تو خواہشیں ماند پڑنے لگتی ہیں، لت کمزور پڑ جاتی ہے، اور آدمی اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جب وہاں سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کیا گیا تو تمباکو نوشی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ فلپائن، برطانیہ، جنوبی افریقہ، جیسے کئی ممالک اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ مگر ہمارے ہاں سگریٹ پر ٹیکس کی بات آتے ہی سیاسی و معاشی مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں۔

    ریاست کی یہ مجرمانہ خاموشی قاتل پولیسی دراصل ان قوتوں کے سامنے شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہے،جو تمباکو کو ایک منافع بخش صنعت سمجھتی ہیں۔ چند کمپنیاں، چند لابی گروپس، اور چند کرسیوں کے غلام جب مل کر پالیسی بناتے ہیں تو اس میں عوام کے حق کی بجائے سرمایہ دار کی تجوریاں ہی محفوظ کی جاتی ہیں۔سگریٹ بنانے والی کمپنیاں دن رات سوشل میڈیا اور روایتی اشتہارات کے ذریعے نئی نسل کو اپنی زنجیر میں جکڑنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔جبکہ ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ نوشی کو اس قدر فنٹاسائز کیا جاتا ہے کہ نوجوان نسل اسے فیشن سمجھنے لگتی ہے۔ جبکہ حکومت ایسی سرگرمیوں کے خلاف کمر کسنے کی بجائے ان کے پر "18+، صحت کے لیے مضر” کی چھاپ لگا کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتی ہے۔

    سگریٹ پر ٹیکس محض مالیاتی پالیسی کا حصہ نہیں، بلکی یہ ایک اصلاحی اقدام ثابت ہوگا ہے۔ اس سے نہ صرف تمباکو نوشی میں کمی آئے گی بلکہ حکومت کو صحت عامہ کے شعبے میں ٹیکس کولیکشن کی مد میں بھاری سرمایہ بھی میسر آئے گا۔ اور اس سرمائے کو مختلف طریقوں سے خرچ کیا جاسکتا ہے،جیساکہ؛

    * سگریٹ نوشی ترک کرنے والوں کےلیے مفت کونسلنگ سنٹرز
    * نوجوانوں کے لیے انسداد تمباکو نصاب
    * سرکاری اسپتالوں میں تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کے مفت علاج کی سہولت
    * اور تمباکو ساز اداروں کے اشتہارات پر سخت پابندی۔

    اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو محض چند سالوں میں ہی تبدیلی ممکن ہے، مگر اس تبدیلی کےلیے اقدامات خان صاحب کی طرح جذبات سے نہیں، بلکہ عقل سے کرنے ہونگے۔

  • ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کا قیام اور پاکستان کا کردار

    ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کا قیام اور پاکستان کا کردار

    ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کا قیام اور پاکستان کا کردار
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    30 مئی 2025 کو پاکستان نے ہانگ کانگ میں قائم ہونے والی عالمی ثالثی تنظیم (International Organization for Mediation – IOMed) کے کنونشن پر دستخط کیے۔ یہ اقدام عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس تقریب میں پاکستان کی نمائندگی کی اور چین کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے عالمی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور جموں و کشمیر کے تنازع کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی حالیہ فوجی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازع کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق چین IOMed کو عالمی عدالت انصاف (ICJ) کے ہم پلہ ادارے کے طور پر دیکھتا ہے، جس کا مقصد ہانگ کانگ کو تنازعات کے حل کا ایک معتبر عالمی مرکز بنانا ہے۔ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے دعویٰ کیا کہ یہ تنظیم دی ہیگ کی اقوام متحدہ کی ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration – PCA) کے مساوی حیثیت رکھے گی۔ اس تنظیم کا صدر دفتر ہانگ کانگ کے وان چائی علاقے میں ایک سابقہ پولیس اسٹیشن میں قائم کیا جائے گا جو 2025 کے آخر یا 2026 کے اوائل میں فعال ہوگا۔ دستخطی تقریب میں چین، پاکستان، انڈونیشیا، لاؤس، کمبوڈیا، سربیا اور اقوام متحدہ سمیت 20 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    ہانگ کانگ کا انتخاب اس کی تاریخی حیثیت کی وجہ سے اہم ہے کیونکہ اسے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک "سپر کنیکٹر” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم ہانگ کانگ کی چین کے خصوصی انتظامی علاقے کی حیثیت اس کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتی ہے، خاص طور پر مغربی ممالک کے نقطہ نظر سے جو اس کی عالمی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 2019-2020 کے احتجاج اور چین کے بڑھتے ہوئے کنٹرول نے ہانگ کانگ کی بین الاقوامی ساکھ پر اضافی دباؤ ڈالا ہے، جو IOMed کی قبولیت کو محدود کر سکتا ہے۔

    IOMed کا مقصد عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو موجودہ اداروں جیسے کہ ICJ اور PCA سے عدم اطمینان رکھتے ہیں۔ چین کی حالیہ سفارتی کامیابیاں جیسے کہ 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان صلح کرانا، اس کی ثالثی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ تنظیم ایشیا اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک پرکشش فورم ہو سکتی ہے کیونکہ موجودہ عالمی اداروں پر مغربی ممالک کا غلبہ بعض اوقات غیر مغربی ممالک کے لیے تحفظات کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس کی غیر جانبداری اور شفافیت پر ہوگا۔ اگر یہ تنظیم چین کے سیاسی ایجنڈے سے وابستہ سمجھی گئی تو مغربی ممالک اور ان کے اتحادی اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھا سکتے ہیں۔

    پاکستان کے لیے IOMed ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے علاقائی تنازعات، خاص طور پر جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے اور پاکستان میں بھارت کی پراکسی وار اور دہشت گردی سے متعلق مسائل کو عالمی سطح پر اٹھائے۔ پاکستان کی چین کے ساتھ گہری شراکت، جو سی پیک (CPEC) اور 1963 کے سرحدی معاہدے جیسے منصوبوں سے ظاہر ہوتی ہے، اسے اس تنظیم میں ایک اہم شراکت دار بناتی ہے۔ تاہم پاکستان کی معاشی کمزوریاں اور چین پر بڑھتا ہوا انحصار اس کی خودمختاری پر سوالات اٹھاتا ہے۔ اسے اس پلیٹ فارم کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنے معاشی اور اسٹریٹجک توازن کو برقرار رکھنا ہوگا۔

    IOMed کی عالمی تنازعات کے حل میں صلاحیت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایشیا اور ترقی پذیر ممالک کے تنازعات کے لیے ایک مؤثر فورم بن سکتی ہے، لیکن اس کی عالمی سطح پر قبولیت اس کی غیر جانبداری پر منحصر ہوگی۔ ICJ کے ہم پلہ ادارے کے طور پر اسے تسلیم کیے جانے کے لیے اسے ایک طویل مدتی عمل سے گزرنا ہوگا۔ IOMed کے لیے PCA کے مساوی حیثیت حاصل کرنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اسے عالمی برادری کی حمایت اور ایک مضبوط فریم ورک کی ضرورت ہوگی۔ IOMed کے لیے ICJ یا PCA کا مکمل متبادل بننے کے بجائے ان کے ساتھ تعاون کرنا زیادہ عملی ہوگا۔ یہ تنظیم ایشیا میں تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن سکتی ہے، لیکن عالمی تنازعات کے حل کے لیے اسے موجودہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگی۔ پاکستان کو اس تنظیم کی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ یہ صرف چین یا پاکستان کے ایجنڈے تک محدود نہ رہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا. تحریر: سدرہ قیوم

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا. تحریر: سدرہ قیوم

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر: سدرہ قیوم

    سگریٹ نوشی دنیا بھر میں ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔ لاکھوں افراد ہر سال تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، اور ان میں بڑی تعداد ترقی پذیر ممالک کے غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ پاکستان میں بھی سگریٹ نوشی ایک عام عادت بن چکی ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور دیہی علاقوں کے افراد میں۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے سگریٹ پر ٹیکس عائد کرنا ایک اہم پالیسی اقدام سمجھا جاتا ہے۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ اس سے سگریٹ غریب کی پہنچ سے دور ہو جائے گا، جو کہ ایک مثبت پہلو بھی ہو سکتا ہے۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ، خاص طور پر نوجوان اور غریب افراد، اس مہنگی عادت کو ترک کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ اقدام انہیں مہلک بیماریوں جیسے کہ دل کی بیماری، پھیپھڑوں کا کینسر اور سانس کی بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔ ٹیکس میں اضافے سے سگریٹ ساز کمپنیاں مجبور ہوتی ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں، جو کہ بالآخر صارفین کو کم کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ اس سے نہ صرف صارفین کی تعداد کم ہوتی ہے بلکہ نئی نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کو صحت کے شعبے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ہسپتالوں میں سہولیات بہتر بنائی جا سکتی ہیں اور تمباکو کے خلاف آگاہی مہمات کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیکس لگنے سے غریب متاثر ہوں گے، لیکن دراصل سگریٹ کی قیمت بڑھنے سے غریب افراد اسے خریدنے سے گریز کریں گے۔ اس طرح ان کی آمدنی تمباکو جیسے نقصان دہ شوق کے بجائے خوراک، تعلیم اور صحت پر خرچ ہو گی۔

    اسکولوں، کالجوں، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ عوام خود اس بری عادت سے دور رہیں۔ نوجوانوں کو کھیل، مطالعہ اور مثبت مشاغل کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ سگریٹ جیسی منفی عادات کا شکار نہ ہوں۔ ٹی وی، اخبارات اور دیگر میڈیا پر سگریٹ یا تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مفت یا کم لاگت والے "Quit Smoking Centers” قائم کرے جہاں لوگ ماہرین کی مدد سے سگریٹ نوشی ترک کر سکیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود تمباکو نوشی سے گریز کریں اور بچوں کو بچپن سے ہی اس کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

    سگریٹ پر ٹیکس لگانے کا مقصد غریب طبقے کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ انہیں ایک بہتر، صحت مند زندگی کی طرف راغب کرنا ہے۔ یہ قدم نہ صرف صحت عامہ کے لیے مفید ہے بلکہ معیشت اور معاشرتی بہبود کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر حکومت، معاشرہ اور فرد، سب مل کر تمباکو نوشی کے خلاف کام کریں تو ہم ایک صحت مند نسل اور روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔