Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عید الاضحی اور ہمارے رسم و رواج

    عید الاضحی اور ہمارے رسم و رواج

    عید الاضحی اور ہمارے رسم و رواج
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    عید الاضحی کا سنتے ہی ساری دنیا کے مسلمانوں کے ذہن میں سب سے پہلا لفظ جو آتا ہے وہ ہے "خوشی”—اور کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار جس کا پورے اہتمام سے منانا ہم سب کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ اس خوشیوں بھرے دن کیلئے ہر گھر میں بڑھ چڑھ کر اہتمام کیا جاتا ہے اور اس اہتمام میں گھر کی صفائی، سجاوٹ اور سب سے بڑھ کر کپڑوں کی تیاری سرِفہرست ہے۔ اسی لیے اس دن ایک ناقابلِ بیان خوشی اور مسرت کا احساس ہوتا ہے۔

    اس دن کسی بھی شخص کے ماتھے پر شکن کے آثار دکھائی نہیں دیتے بلکہ سب سے بڑی بات تو یہ ہوتی ہے کہ دلوں میں پالنے والی کدورتوں اور رنجشوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے گلے لگ کر سارے گلے شکوے دور ہوتے ہیں۔ اس دن وہ خوشی نصیب ہوتی ہے جو کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی نہیں حاصل کی جا سکتی۔

    ایک زمانہ تھا جب کسی کو عید کارڈ بذریعہ ڈاکیا موصول ہوتا تھا تو گھر والوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ چاہے بچے ہوں، بوڑھے یا عورتیں، سب کارڈ کو چھو کر دیکھتے تھے۔ یہ ایک سادہ سا عید کارڈ ہوتا تھا جس پر مسجد کے خوبصورت مینار ہوا کرتے تھے اور اُس کی اوٹ سے عید کا چاند مسکرا رہا ہوتا تھا، یا کوئی حسینہ گلاب کا پھول اپنے پھول جیسے گالوں کو لگا کر عید مبارک کہہ رہی ہوتی تھی۔

    بڑے مزے مزے کے کارڈ ہوا کرتے تھے۔ عید کارڈز کے سٹالز سج جایا کرتے تھے۔ شاپنگ کرنے سے زیادہ عید کارڈ خرید کر خوشی ہوتی تھی۔ مگر اب تو سب کچھ موبائل میں سمٹ گیا ہے۔ کارڈ تو رہا ایک طرف، کارڈ پر عید کیک بھی بھجوا دیا جاتا ہے۔ البتہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے اتنی مہربانی کی کہ جو کارڈ 20 روپے میں مل جاتا تھا، وہ 10 پیسے کے خرچ پر موبائل کے ذریعے آپ کے کسی پیارے تک پہنچ جاتا ہے۔

    اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ عید کارڈ خریدنے مارکیٹ جائے اور پھر اسے پہنچاتا پھرے۔ بچوں کو عید سے ملنے والی خوشی میں اہم کردار بڑوں کی طرف سے ملنے والی "عیدی” کا بھی ہوتا ہے۔ نئے نئے نوٹوں سے اپنی چھوٹی چھوٹی جیبوں کو بھر لینا ان کے لیے بہت طمانیت بخش اور خوشی کا باعث ہوتا ہے۔

    عیدی کی روایت اگرچہ آج بھی پہلے کی طرح قائم ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان ماضی کی طرح عید کے موقع پر نئے نوٹ بھی جاری کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود دیکھنے میں آیا ہے کہ عیدی میں نئے نوٹوں کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے، جس کی مختلف وجوہات ہیں۔ ایک تو نئے نوٹ تک ہر آدمی کی رسائی نہیں ہوتی، پھر یہ کہ پہلے چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹ عام تھے، جنہیں بچے حاصل کرکے خوشی محسوس کرتے تھے۔

    لیکن اب ان کی قدر (ویلیو) اس قدر گھٹ چکی ہے کہ بچے بھی انہیں حاصل کرکے خوشی محسوس نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس سے وہ اپنی پسند کی چیزیں نہیں خرید سکیں گے۔ اس لیے وہ چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹوں کے مقابلے میں بڑی کرنسی کے پرانے نوٹوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

    ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مویشی منڈیوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے چارے اور آرائشی اشیاء کے اسٹال سج گئے ہیں۔ مویشی منڈیوں میں شہریوں کی بڑی تعداد اپنے من پسند جانور کی تلاش میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔

    پشاور، اسلام آباد، فیصل آباد، لاہور، ملتان، گجرات، سرگودھا، حیدرآباد، نوابشاہ، کراچی اور کوئٹہ سمیت ملک کے تمام شہروں میں لگنے والی منڈیوں میں مویشیوں کی آمد اور خرید و فروخت کا سلسلہ دن رات جاری ہے۔ بیوپاری اپنے مویشی ٹرکوں میں بھر کر مویشی منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں۔

    مویشی منڈیوں میں موجود اعلیٰ نسل کے بیل، بچھیا، بکرے، دنبے اور اونٹ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مویشی منڈی میں نئے قوانین نے بیوپاریوں کو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث مویشیوں کی قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے باعث شہریوں کے لیے سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی مشکل ہو گئی ہے اور اجتماعی قربانی کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔

    پاکستان میں عید الاضحی پر ایک اندازے کے مطابق 4 کھرب روپے سے زیادہ کے مویشیوں کا کاروبار ہوتا ہے، تقریباً 24 ارب روپے قصائی مزدوری کے طور پر کماتے ہیں۔ 4 ارب روپے سے زیادہ چارے کے کاروبار والے کماتے ہیں۔

    پاکستان میں عید الاضحی ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ جس کے باعث پاکستان کو اور خاص طور پر حکومت کو بھی ڈھیر سارا فائدہ سمیٹنے کا موقع ملتا ہے۔ ویسے تو بیرون ملک سے ہونے والی ترسیلاتِ زر کے باعث حکومت کو ہر وقت فائدہ ملتا ہی رہتا ہے، تاہم عین عید الاضحی سے ایک ڈیڑھ یا دو ماہ قبل جو ترسیلات زر ہوتی ہیں، اس کا فائدہ سال بھر کے سیزن میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

    بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر صورت اس عید کے موقع پر جانور کی قربانی کے لیے پاکستان اپنے گھرانوں میں پیسہ بھیجتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب آپ زرمبادلہ پاکستان بھیجیں گے، بے شک اس کا استعمال پاکستانی کرنسی میں آپ کا گھرانہ ہی کرے گا، تاہم بینکنگ اصطلاح میں اس کا فائدہ ملک کے خزانے کو ہی پہنچے گا۔

    اسی طرح وہ لوگ جو خاص طور پر عید الاضحی کے لیے مہینوں پہلے سرمایہ کاری کرتے ہیں، ان کو بھی اس کا خوب فائدہ پہنچتا ہے۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد جانوروں کی قربانی کی گئی، جس میں 35 لاکھ گائے، بیل، 55 لاکھ دنبے و بکرے، اور 80 ہزار کے قریب اونٹ قربان کیے گئے۔

    قربان کیے گئے جانوروں کی اوسط قیمت کے اعتبار سے پاکستان میں عید الاضحی کی معیشت اربوں روپے بنتی ہے۔ یہ محض جانوروں کے خرید و فروخت کے اعداد و شمار کا ایک اندازہ ہے، جبکہ چارے کا کاروبار، جانوروں کی نقل و حرکت، کھالوں کی خرید و فروخت اور دیگر کئی چھوٹی بڑی سرگرمیاں بھی اس عید سے منسلک ہیں۔

    اس کے نتیجہ میں ہونے والے کاروبار کا اندازہ لگانا بہت دشوار ہے۔ یہ بھی تو دیکھئے کہ بڑی عید پر غیر ہنر مند افراد کی ایک بڑی تعداد کو بھی روزگار ملتا ہے۔ ان میں مویشی پالنے والے، فروخت کرنے والے، ٹرانسپورٹرز، لوڈنگ کرنے والے اور قصاب بھی شامل ہیں جن کے لیے یہ تہوار روزگار کے مواقع لے کر آتا ہے۔

    پاکستانی کاروبار کی دنیا میں سب سے بڑا کاروبار عید پر ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریبوں کو مزدوری ملتی ہے، کسانوں کا چارہ فروخت ہوتا ہے، دیہاتیوں کو مویشیوں کی اچھی قیمت ملتی ہے۔ اربوں روپے گاڑیوں اور ٹرکوں میں جانور لانے لے جانے والے کماتے ہیں۔

    بعد ازاں غریبوں کو کھانے کے لیے مہنگا گوشت مفت میں ملتا ہے۔ کھالیں کئی سو ارب روپے میں فروخت ہوتی ہیں، چمڑے کی فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملتا ہے۔ یہ سب پیسہ جس جس نے کمایا ہے وہ اپنی ضروریات پر جب خرچ کرتے ہیں تو نہ جانے کتنے کھرب کا کاروبار دوبارہ ہوتا ہے۔

    یہ قربانی غریب کو صرف گوشت نہیں کھلاتی، بلکہ آئندہ سارا سال غریبوں کے روزگار اور مزدوری کا بھی بندوبست ہوتا ہے۔

    دوسری جانب ملک میں آن لائن مویشیوں کی خریداری کے رجحان میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے قربانی کے جانور کی فروخت اور آن لائن قربانی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

    روایتی طریقے میں مویشی منڈی کا رخ کر کے اپنی پسند کی گائے، بچھیا، بکرے، دنبے اور اونٹ کا انتخاب ایک مشکل عمل ہے، تاہم انٹرنیٹ نے اب یہ مشکل بھی آسان بنا دی ہے اور قربانی کا فریضہ ادا کرنے والے گھر بیٹھے ہی جانور خرید سکتے ہیں۔

    شہری اپنے جانوروں کو خوبصورت بنانے کے لئے دیدہ زیب مورے، گلے کے پٹے، گھنگھرو، گھنٹیاں، ہار، مصنوعی پھول، چمڑے کی نکیل اور چارے کے لئے ہری گھاس، سوکھی گھاس، کٹی، لوسن، بھوسا، بھوسی، جنتر، چوکر دانہ، کھل، چنا اور دیگر اشیاء خرید رہے ہیں جن کی قیمتوں میں بھی پچھلے سال کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس مہنگائی میں 50 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن جانوروں کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے۔

  • سگریٹ نوشی کی روک تھام، ایک قومی ضرورت،تحریر۔ اقصی یونس رانا

    سگریٹ نوشی کی روک تھام، ایک قومی ضرورت،تحریر۔ اقصی یونس رانا

    سگریٹ نوشی کی روک تھام، ایک قومی ضرورت
    تحریر۔ اقصی یونس رانا
    سگریٹ نوشی پاکستان میں ایک سنگین اور تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، جو نہ صرف صحت عامہ کو متاثر کر رہا ہے بلکہ معیشت، ماحول اور نوجوان نسل کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ نوشی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں، جیسے پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، اور سانس کی خرابی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ سگریٹ نوشی نہ صرف خود پینے والے کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اُس کے اردگرد موجود افراد کو بھی "تمباکو نوشی کے دھوئیں” کے ذریعے خطرات لاحق ہو جاتے ہیں، جسے "passive smoking” کہا
    ‎جاتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہر سال 164,000 افراد ہلاک ہو جاتے ہیں اور صحت عامہ پر تمباکو کے تباہ کن اثرات سے ملکی معیشت کو 700 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

    ‎31 مئی کو انسدادِ تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان میں تمباکو کی خرید و فروخت اور استعمال پر مؤثر کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک 2030 تک پائیدار ترقی کے طبی اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔ ادارے نے تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف صحت کے شعبے کے لیے وسائل میں اضافہ ہوگا بلکہ ترقیاتی ترجیحات کو بھی تقویت ملے گی۔ ڈبلیو ایچ او نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ تمباکو سے پیدا ہونے والے صحت کے بحران سے نمٹنے میں پاکستان کی مکمل معاونت جاری رکھے گا۔

    ‎پاکستان میں سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن یہ اقدامات اکثر مؤثر طریقے سے نافذ نہیں ہو پاتے۔ حکومت نے پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری وارننگ، اور تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔ تاہم ان قوانین پر عملدرآمد کی کمی اور نگرانی کے نظام کی کمزوری کے باعث یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔

    ‎سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے سب سے اہم کردار آگاہی کا ہے۔ لوگوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں مکمل اور درست معلومات فراہم کرنا ضروری ہے، خاص طور پر نوجوانوں کو جو جلدی سے اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں تمباکو مخالف مہمات چلائی جانی چاہئیں تاکہ نوجوان نسل کو ابتدا ہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ میڈیا کو بھی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، اور تمباکو نوشی کو "فیشن” کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک خطرناک عادت کے طور پر دکھانا ہوگا۔

    ‎علاوہ ازیں حکومت کو تمباکو انڈسٹری پر مزید سخت پالیسی نافذ کرنی چاہیے۔ سگریٹ بنانے والی کمپنیوں پر بھاری ٹیکس عائد کیے جائیں، ان کے اشتہارات پر مکمل پابندی ہو، اور سگریٹ کی دستیابی کو مشکل بنایا جائے، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے۔والدین، اساتذہ، اور مذہبی رہنما بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں اور خود بھی سگریٹ نوشی سے گریز کریں تاکہ ایک مثبت مثال قائم ہو۔ اساتذہ اور مذہبی شخصیات نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں اس لت کے خطرناک نتائج سے آگاہ کریں۔

    ‎ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ تمباکو کی تمام مصنوعات انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہیں، اور ان کے منفی اثرات خاص طور پر بچوں اور نوعمر افراد پر زیادہ تیزی سے مرتب ہوتے ہیں۔ نوجوانی میں تمباکو نوشی کا آغاز مستقبل میں مستقل صحت کے مسائل اور لت میں مبتلا ہونے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اس کی روک تھام نہایت ضروری ہے۔

    ‎تحقیقی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے دوہرا فائدہ حاصل ہوتا ہے: ایک طرف حکومت کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، اور دوسری جانب تمباکو کا استعمال کم ہونے سے اس سے جڑی بیماریوں کا بوجھ اور صحت کے نظام پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ یہ حکمت عملی صحت عامہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مالیاتی استحکام میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

    ‎سال 2023 میں پاکستان میں تمباکو مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ اعداد و شمار کے مطابق تمباکو نوشی میں 19.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 26.3 فیصد سگریٹ پینے والوں نے تمباکو کا استعمال کم کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں 66 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2023-24 کے مالی سال میں ٹیکس آمدنی 237 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال 2022-23 میں یہ آمدنی 142 ارب روپے تھی۔ یہ واضح پیش رفت ٹیکس پالیسی کی افادیت کو ظاہر کرتی ہے۔

    ‎تاہم فروری 2023 کے بعد سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس وقت سگریٹ پر عائد ٹیکس کی شرح ‘ڈبلیو ایچ او’ کی سفارش کردہ حد یعنی خوردہ قیمت کے 75 فیصد سے کم ہے، جو کہ عالمی معیار سے کمزور حکمت عملی تصور کی جاتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او تجویز کرتا ہے کہ تمباکو مصنوعات پر ٹیکس کو عالمی معیارات کے مطابق بڑھایا جائے تاکہ عوام کو تمباکو نوشی سے بچایا جا سکے اور صحت کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔

    آخر میں، سگریٹ نوشی صرف ایک شخصی عادت نہیں، بلکہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے جس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ اگر ہم آج اقدامات نہ اٹھائیں تو کل ہمیں صحت، معیشت اور سماجی ڈھانچے میں اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر ایک سگریٹ فری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔

    ‎مجموعی طور پرپاکستان کو تمباکو کے خلاف پالیسیوں کو مزید مؤثر بنانے، ٹیکس میں مسلسل اضافے اور سخت قوانین کے نفاذ کی ضرورت ہے تاکہ ایک صحت مند اور تمباکو سے پاک معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستانی سنیما کی تاریخ میں "یہ امن” (1971) ایک ایسی فلم ہے جو نہ صرف فنکارانہ بصیرت کی حامل تھی بلکہ سماجی اور سیاسی شعور کی بھی عکاس تھی۔ ہدایت کار ریاض شاہد نے اس فلم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بے نقاب کیا۔ ابتدا میں اس فلم کا نام "امن” تھا لیکن سنسر بورڈ کی سخت پابندیوں نے اسے "یہ امن” میں تبدیل کر دیا۔ فلم میں کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظلم و ستم کو جرات مندانہ انداز میں پیش کیا گیا، لیکن سنسر بورڈ کی مداخلت نے اس کی اصل روح کو مسخ کر دیا۔ اس صدمے کا اثر ہدایت کار ریاض شاہد پر اتنا گہرا پڑا کہ وہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ فلم کے نغموں کی شاعری معروف انقلابی شاعر حبیب جالب نے لکھی، جن کے اشعار ظلم کے خلاف ایک توانا آواز تھے۔ ان میں سے گیت "ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو” جو میڈم نور جہاں کی سحر انگیز آواز میں گایا گیا اور اداکارہ سنگیتا پر فلمایا گیا، نہ صرف فلم کا مرکزی خیال تھا بلکہ آج بھی اس کی معنویت قائم ہے۔ یہ گیت ظلم کے مقابلے میں امن کی خواہش اور اس کی ناممکنات کو بیان کرتا ہے جو نہ صرف کشمیر بلکہ فلسطین، غزہ اور پاکستان کے اپنے اندرونی مسائل کے تناظر میں ایک عالمگیر پیغام رکھتا ہے۔

    فلم "یہ امن” نے کشمیر کے مظلوم عوام کی داستان کو اجاگر کیا تھا جو آج بھی جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالی، غیر قانونی گرفتاریاں، تشدد اور پرامن مظاہرین پر گولیاں چلانا معمول بن چکا ہے۔ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے، جہاں کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش اور فوجی چھاؤنیوں نے عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ اسی طرح فلسطین اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت نے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ غزہ پر ناکہ بندی نے 20 لاکھ سے زائد افراد کو بنیادی اشیاء جیسے خوراک، ادویات اور ایندھن سے محروم کر رکھا ہے۔ اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں میں ہزاروں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ دونوں خطے ظلم کی ایسی داستانیں ہیں جو عالمی برادری کی خاموشی کی وجہ سے مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ حبیب جالب کا شعر "اپنے ہونٹ سیے ہیں تم نے، میری زبان کو مت روکو” آج بھی ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

    پاکستان میں آج کے دور میں ظلم کی ایک نئی شکل عوام کو ناجائز بجلی کے بلز، غیر منصفانہ سلیب سسٹم اور بے لگام مہنگائی کی صورت میں جھیلنی پڑ رہی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں وزارت توانائی پر الزام ہے کہ وہ بجلی چوری اور لائن لاسز کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے بجائے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جن سے ایماندار صارفین کو بھی غیر منصفانہ ڈیٹیکشن بلز اور طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سلیب سسٹم جو بظاہر صارفین کو ریلیف دینے کے لیے بنایا گیا تھا عملاً ایک غیر منصفانہ نظام بن چکا ہے۔ اس کے تحت بجلی کے بلز میں اضافہ اور ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ خاندان اپنی بچیوں کا جہیز بیچ کر، اپنی جمع پونجی خرچ کر کے اور حتیٰ کہ قرض لے کر یہ بلز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ مہنگائی کے اس طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور کئی افراد اس معاشی بوجھ کو برداشت نہ کرتے ہوئے خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھا رہے ہیں۔

    عوام پر ہونے والا یہ وحشیانہ ظلم کیا وزیراعظم میاں شہباز شریف کو دکھائی نہیں دیتا؟ کیا اویس لغاری اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ وہ وزیراعظم کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عوام پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے؟ جہاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج گولیوں اور تشدد سے معصوم کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے اور غزہ میں اسرائیلی بربریت بمباری سے ہزاروں جانیں لے رہی ہے، وہیں پاکستان میں اویس لغاری کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی پالیسیوں نے عوام کو معاشی موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ کشمیر اور فلسطین میں ظلم کی شکل گولی اور بمباری ہے لیکن پاکستان میں یہ ظلم ناجائز بلز، غیر منصفانہ سلیب سسٹم اور معاشی دباؤ کی صورت میں ہے۔ عوام اپنے پیاروں کو داغ مفارقت دے رہے ہیں کیونکہ وہ اس معاشی بربریت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ اویس لغاری کی اس بربریت کا حساب کون لے گا؟ کیا وزیراعظم میاں شہباز شریف اس قابل ہیں کہ وہ عوام پر مسلط کردہ اس واپڈا گردی کے خلاف ایکشن لیں؟ کیا وہ ایک عوامی لیڈر ہونے کا حق ادا کر پائیں گے؟

    حبیب جالب کا شعر "ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو” آج بھی ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہم اس ظلم کے خلاف خاموش رہیں گے؟ کیا ہم میاں شہباز شریف اور اویس لغاری کی پالیسیوں کو چپ چاپ سہتے رہیں گے؟ کیا ہم یہ مان لیں کہ ظلم صرف دوسرے ممالک میں ہوتا ہے اور پاکستان میں یہ سلیب گردی اور واپڈا گردی محض ایک "نارمل” عمل ہے؟ فلم "یہ امن” ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کو بے نقاب کرنا اور اس کے خلاف جدوجہد کرنا ایک فنکار، شاعر اور شہری کا فرض ہے۔ اگر میاں شہباز شریف عوام کو اویس لغاری کی معاشی بربریت سے بچا سکتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں کامیاب نہ ہوئے تو عوام کو خود اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔

    جب تک غیر منصفانہ پالیسیاں، ناجائز بلز اور معاشی دباؤ عوام پر مسلط رہیں گے، امن ایک سراب ہی رہے گا۔ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کی طرح پاکستان کا عام شہری بھی ظلم کا شکار ہے۔ فلم "یہ امن” کا پیغام آج بھی زندہ ہے کہ ظلم کے خلاف جدوجہد ہی امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ حبیب جالب کا شعر "اپنے ہونٹ سیے ہیں تم نے، میری زبان کو مت روکو” ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہمارا حق ہے۔ یہ صرف ایک گیت نہیں بلکہ ایک سماجی اور سیاسی چیلنج ہے جو ہمیں عمل کی دعوت دیتا ہے۔ پاکستانی عوام کو اس معاشی ظلم اور سلیب گردی کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھانی ہوگی کیونکہ خاموشی ظلم کو تقویت دیتی ہے۔ آئیے، ہم حبیب جالب کے پیغام کو اپنائیں اور اس معاشی بربریت کے خلاف جدوجہد کریں۔ ظلم رہے اور امن بھی ہو، یہ ممکن نہیں،یہ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم خاموش رہیں یا اپنی زبان کو آزاد کریں۔

  • خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    لفظوں کی پکار

    غزہ کی زمین سرخ ہو چکی ہے۔ ملبے کے نیچے دبی ہوئی ننھی لاشیں، ماؤں کی سسکیاں، اور ویران مسجدیں… یہ سب ایک سوال بن کر اُمت مسلمہ کے ضمیر پر دستک دے رہی ہیں، مگر افسوس! یہ ضمیر شاید سو چکا ہے — یا بدتر، مر چکا ہے۔

    اسرائیلی بمباری صرف عمارتوں کو نہیں گرا رہی، بلکہ انسانیت کے دعووں کو بھی خاک میں ملا رہی ہے۔ عالمی ادارے، حقوقِ انسانی کی تنظیمیں، اور نام نہاد مہذب دنیا سب تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک کردار خود اسلامی دنیا کا ہے، جو محض بیانات، قرار دادوں اور تصویری مذمتوں تک محدود ہو چکی ہے۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

    "المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يخذله”
    یعنی: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ ہی اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔
    (صحیح بخاری)

    مگر ہم نے اپنے بھائیوں کو چھوڑ دیا۔ ہم نے اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے خاموشی اوڑھ لی۔ ہماری زبانیں مصلحت کے تالے میں بند ہیں، اور دل مفاد کی زنجیروں میں قید ہیں۔

    آج اسلامی ممالک کی طاقت صرف عسکری نمائشوں تک محدود ہے۔ اتحاد صرف کانفرنس ہالز کی میزوں پر موجود ہے۔ اور بیت المقدس کی اذیت…؟ وہ چیخ چیخ کر ہمیں پکارتی ہے، مگر ہم تجارتی معاہدوں اور سفارتی توازن کے نشے میں بے حس ہو چکے ہیں۔

    یہ کیفیت نئی نہیں۔ جب تک صلاح الدین ایوبی کی آنکھوں میں بیت المقدس کی غلامی کا دکھ تھا، وہ سکون سے سو نہیں سکتا تھا۔ مگر ہم…؟ ہم ہنستے ہیں، خریداری کرتے ہیں، تفریح کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں… ہم زندہ ہیں۔

    نہیں!
    ہم زندہ لاشیں ہیں، جو نہ بولتی ہیں، نہ تڑپتی ہیں، اور نہ ہی اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم اس نیند سے جاگیں۔ عملی اقدامات کی طرف بڑھیں۔ فلسطینی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ ظالموں کی معیشت کو کمزور کریں۔ دعائیں کریں، شعور پھیلائیں، اور اپنی نسلوں کو سچ سکھائیں۔

    ورنہ وہ دن دور نہیں جب تاریخ ہمیں اسی عنوان سے پکارے گی:
    "خاموش اُمت… زندہ لاشیں!”

    jabbaraqsa2@gmail.com

  • ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں ، کہتی ہے میری نظر شکریہ ۔۔۔۔۔۔

    آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے ۔۔۔۔

    جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں ۔۔۔۔

    اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔

    تھا یقیں کہ آئیں گی یہ راتاں کبھی ۔۔۔۔۔۔ جیسے لازوال گیتوں پہ اپنے منفرد رقص سے فلم انڈسٹری پہ دھاک بٹھانے والی ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے ۔
    غزالی آنکھوں والی رانی بیگم نے اپنے منفرد رقص اور لاجواب اداکاری سے تیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا ۔
    اپنے تیس سالہ فلمی کیریئر میں اس نے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کردار کو اس خوبصورتی سے ادا کیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے ۔ آغاز میں بیشک اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن کہتے ہیں کہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے یہی بات رانی بیگم پر بھی صادق آتی ہے ۔
    تین دہائیوں تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی اداکارہ رانی بیگم کا اصل نام ناصرہ تھا ، لیکن فلم انڈسٹری میں شہرت اس نے اپنے فلمی نام رانی بیگم سے حاصل کی ۔
    رانی بیگم ماضی کی معروف گلوکارہ مختار بیگم کے ڈرائیور کی بیٹی تھیں ۔ وہ 8 دسمبر 1946 ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔
    رانی کی فنی تربیت کے لئے اس کے والد نے اسے مختار بیگم کے حوالے کر دیا ۔
    ناصرہ جب سولہ برس کی ہوئی تو ہدایت کار انور کمال پاشا نے اسے رانی کا نام دے کر اپنی فلم ” محبوب” میں کاسٹ کیا ۔ یہ فلم فلاپ ہو گئی ۔ فلم محبوب کی طرح یکے بعد دیگرے دس فلموں میں ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد 1967 ء میں ہدایت کار حسن طارق بٹ کی فلم
    ” دیور بھابھی ” کی کامیابی کے بعد اداکار و ہدایت کار کیفی کی پنجابی فلم ” چن مکھناں” بھی سپر ہٹ فلم قرار پائی ، اس کے بعد رانی پہ کامیابیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ۔
    1968 ء میں ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم ” بہن بھائی” منظر عام پر آئی ، اس فلم کا ایک گیت” ہیلو ہیلو مسٹر عبد الغنی ” بھی بہت مشہور ہوا ۔
    1970 ء میں ریلیز ہونے والی فلم ” انجمن ” نے رانی بیگم کی شہرت و مقبولیت میں اور اضافہ کر دیا ، خاص طور پر اس فلم کے سونگ اور ان پہ رانی بیگم کے رقص نے وہ کامیابی حاصل کی جس کے بعد رانی بیگم نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ اس فلم میں رانی کے علاوہ سنتوش کمار ، صبیحہ خانم ، دیبا اور اداکار وحید مراد نے کام کیا ۔
    رانی بیگم نے اپنے عہد کے تقریباً سبھی قد آور اداکاروں کے ساتھ کام کیا مثلاً محمد علی ، وحید مراد ، سنتوش کمار ، درپن ، کمال ایرانی ، شاہد ، سدھیر ، حبیب ، ندیم ، علی اعجاز ، غلام محی الدین اور اداکار یوسف خان شامل ہیں ۔
    ان سب اداکاروں میں اداکار شاہد اور اداکار وحید مراد کے ساتھ رانی بیگم کی جوڑی کو بہت پسند کیا گیا ۔

    رانی بیگم کی کچھ قابلِ ذکر اُردو فلموں میں امراؤ جان ادا ، خوشبو ، تیری خاطر ، تہذیب ، سیتا مریم مارگریٹ ، ترانہ ، شمع پروانہ ، انجمن ، دیور بھابھی ، ایک گناہ اور سہی ، بہارو پھول برساؤ ، ثریا بھوپالی ، ناگ منی ، میرا گھر میری جنت ، دل میرا دھڑکن تیری ، پیاس ، ہزار داستان ، سہیلی ، گونگا اور فلم نذرانہ اور ان کی چند ایک پنجابی فلموں میں محرم دل دا ، دیوانہ مستانہ ، سونا چاندی ، موج میلہ ، دنیا مطلب دی اور فلم بابل شامل ہیں ۔
    جب بھارت میں فلم امراؤ جان ادا بنائی گئی تو بعد میں ان کی کاسٹ ٹیم نے یہ اعتراف کیا کہ وہ رانی بیگم جیسا کام کرنے میں ناکام رہے ۔
    رانی بیگم نے مجموعی طور پر 168 فلموں میں کام کیا ، جن میں 103 اُردو اور 65 پنجابی فلمیں شامل ہیں ۔
    ان کی آخری فلم ” کالا طوفان ” 1987 ء میں ریلیز ہوئی ۔
    رانی بیگم نے اردو اور پنجابی فلموں میں اپنی دلکش مسکراہٹ ، خوبصورتی ، معصومیت ، جذباتی مکالموں ، اور منفرد رقص سے لاکھوں دلوں پر راج کیا اور اتنی مہارت سے ہر کردار ادا کیا کہ وہ کردار امر ہو گیا ۔

    انہیں بہترین اداکاری پر تین مرتبہ ” نگار ایوارڈ ” سے نوازا گیا ۔
    رانی بیگم نے پاکستان ٹیلی ویژن کے کئی ڈرامہ سیریلز میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ، ان کے مشہور ڈرامہ سیریلز میں خواہش اور فریب سر فہرست ہیں ۔

    اپنے فلمی کیریئر میں اتنی کامیابیاں سمیٹنے کے باوجود رانی بیگم اپنی حقیقی زندگی میں ازدواجی زندگی کے سکون سے محروم رہی ۔
    ان کی پہلی شادی ہدایت کار حسن طارق سے ہوئی جس سے رانی بیگم کا بیٹا علی رضا پیدا ہوا ، جبکہ دوسری شادی معروف فلم ساز جاوید قمر اور تیسری شادی کرکٹر سرفراز نواز سے ہوئی ، مگر بد قسمتی سے ان کی یہ تینوں شادیاں ناکام رہیں جس کا رانی کو ساری زندگی افسوس رہا ۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کیا ۔

    زندگی کے آخری دنوں میں انہیں کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہو گیا ۔ جس کے طویل علاج کے بعد بھی یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوئی اور بالآخر 27 مئی 1993 ء کو 47 برس کی عمر میں رانی بیگم اِنتقال کر گئیں ۔
    (ان للہ وان الیہ راجعون)

    وہ لاہور کے مسلم ٹاؤن قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔
    اللّٰہ تعالیٰ مرحومہ رانی بیگم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ( آمین ثم آمین )
    آج 2025 ء میں رانی بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے لیکن ان کی اداکاری ، انداز گفتگو اور ان کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

  • بل: کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے

    بل: کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے

    بل: کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے
    تحریر: حبیب خان باغی ٹی وی نامہ نگار اوچ شریف
    یہ کوئی کہانی نہیں ہے بلکہ اس ملک کے لاکھوں گھروں کی حقیقت ہے جہاں بجلی کا بل اب صرف ایک کاغذ نہیں بلکہ ایک کفن بن چکا ہے جو ہر ماہ غریب کے گلے میں پھندے کی طرح لٹکتا ہے۔ وزیر توانائی اویس لغاری اپنی پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا پوسٹوں میں "بجلی سستی ہو گئی” کی رٹ لگائے ہوئے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ صارفین کے بل ہر ماہ نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔ ایک گھر جہاں صرف دو پنکھے، ایک بلب اور چند گھنٹوں کا واٹر پمپ چلتا ہو، وہاں 10 سے 20 ہزار روپے کے بل آ رہے ہیں۔ یہ کوئی رعایت نہیں، یہ معاشی قتل ہے، جو ایک ظالمانہ سلیب سسٹم کے ذریعے کیا جا رہا ہے جہاں 199 یونٹ تک رعایت ملتی ہے، لیکن 200 یونٹ پر تمام رعایتیں ختم ہو جاتی ہیں اور صارف پر 500 فیصد زیادہ نرخ لگ جاتے ہیں۔ ایک یونٹ کا یہ فرق ہزاروں روپے کے نقصان میں بدل جاتا ہے، گویا غریب کو سزا دی جا رہی ہو کہ اس نے بجلی استعمال کرنے کی جرات کیسے کی۔

    اس سے بھی بڑھ کر، ڈیٹیکشن بلز کا عذاب ہے، جو بغیر کسی ثبوت یا تفتیش کے صارف کو "چور” قرار دے کر لاکھوں روپے کے بل تھوپ دیتا ہے۔ اگر صارف اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہے تو اسے تھانوں، عدالتوں اور نیپرا کے چکر لگانے پڑتے ہیں، لیکن نتیجہ وہی ذلت اور وہی بل ہوتا ہے۔ ریاستی بجلی کمپنیوں نے صارفین کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ ایک گھر میں چاہے کتنی ہی فیملیاں رہتی ہوں، دوسرا میٹر لگانے پر پابندی ہے، اور اگر میٹر خراب ہو جائے تو نیا میٹر لگوانے کے لیے صارف کو دفتروں کے چکر لگوانے پڑتے ہیں، جہاں اسے کہا جاتا ہے کہ پہلے تھانے جا کر اپنی بے گناہی ثابت کرو۔ یہ کون سا انصاف ہے جو شہری کو بغیر جرم کے مجرم بناتا ہے؟

    عید کے موقع پر کئی شہروں سے دل دہلا دینے والی خبریں آئیں، جہاں ایک باپ نے بجلی کا بل دیکھ کر زہر کھا لیا اور ایک ماں نے اپنی بیٹی کے جہیز کے پیسے بل ادا کرنے میں خرچ کر دیے۔ یہ سب اس "ریلیف” کے دعوؤں کے باوجود ہو رہا ہے جو اویس لغاری ہر روز دہراتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نہ اس بحران پر قوم سے خطاب کیا، نہ کسی وزیر کو ہٹایا، نہ ہی ڈیٹیکشن بلز کی تحقیقات کا حکم دیا۔ یہ ایک منظم معاشی استحصال ہے، جہاں صارف کو پہلے مجرم قرار دیا جاتا ہے اور پھر اس سے جرمانہ وصول کیا جاتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں شہریوں نے ان ناجائز بلوں اور ڈیٹیکشن چارجز کو آئین کے آرٹیکل 9 یعنی زندگی کے حق کے خلاف قرار دیا ہے، اور نیپرا نے بھی اعتراف کیا کہ کئی کیسز میں کمپنیوں نے بغیر جائز طریقہ کار کے ڈیٹیکشن بلز عائد کیے۔ لیکن اس کے باوجود نہ کوئی سی ای او معطل ہوا، نہ کوئی پالیسی بدلی، نہ ہی کوئی وزیر جواب دہ ٹھہرا۔

    یہ قوم عجیب ہے۔ وہ سسکتی ہے، روتی ہے، چیختی ہے، لیکن پھر بھی ووٹ ڈالنے قطاروں میں کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن اب یہ زنجیر ٹوٹنے کے قریب ہے۔ دیہاتوں سے خواتین بجلی کے بل لے کر تھانوں کے باہر احتجاج کر رہی ہیں، بوڑھے بزرگ بل اور دوائیاں ہاتھ میں لے کر میڈیا کے سامنے اپنی داستان سنا رہے ہیں۔ یہ زنجیر اب خاموشی سے رقص نہیں کرنا چاہتی، یہ ٹوٹنا چاہتی ہے۔ اویس لغاری صاحب! اگر بجلی واقعی سستی ہوئی ہے تو بل ہر ماہ مہنگے کیوں آ رہے ہیں؟ اگر رعایت دی جا رہی ہے تو ڈیٹیکشن بلز کیوں بھیجے جا رہے ہیں؟ اگر عوام کو ریلیف مل رہا ہے تو خودکشیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ آپ کی کرسی سے اتر کر کسی غریب کے گھر کا بل ہاتھ میں لیں، اس کی کہانی سنیں، شاید آپ کا ضمیر جاگ جائے۔ ورنہ تاریخ لکھے گی کہ 2025 میں ایک وزیر توانائی تھا جو عوام کا خون نچوڑتا رہا اور مسکرا کر کہتا رہا کہ ہم نے تو ریلیف دے دیا۔

    یہ صرف بجلی کا بل نہیں، یہ اس قوم کی بے بسی کی داستان ہے۔ یہ زنجیر بجلی کی ہے، گیس کی ہے، آٹے کی ہے، دوائی کی ہے۔ لیکن اب یہ قوم خاموش نہیں رہے گی۔ یہ زنجیر اب ٹوٹے گی کیونکہ بل اب کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے، لیکن اب یہ قوم اس کفن کو اتار پھینکنے کے لیے تیار ہے۔ حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے وزراء سے گزارش ہے کہ عوام کی آواز سنیں، ان کے بل دیکھیں، ان کی چیخیں سنیں۔ ورنہ یہ زنجیر آپ کے ایوانوں تک پہنچے گی اور پھر نہ کوئی رعایت کام آئے گی، نہ کوئی پریس کانفرنس۔

  • عید، خود کشیاں، اویس لغاری اور شہباز شریف ذمہ دار نہیں؟

    عید، خود کشیاں، اویس لغاری اور شہباز شریف ذمہ دار نہیں؟

    عید، خود کشیاں، اویس لغاری اور شہباز شریف ذمہ دار نہیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    عیدالاضحیٰ کا تہوار جو عام طور پر خوشیوں، محبتوں، ملاقاتوں اور قہقہوں کا پیغام لاتا ہے، اس سال پاکستان کے کئی گھروں میں صفِ ماتم لے کر آرہا ہے۔ معاشی بدحالی، بے روزگاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومت کی ناقص پالیسیوں نے عوام کو اس قدر بے حال کر دیا ہے کہ عید سے دو روز قبل ہی خودکشیوں کی خبریں عام ہو رہی ہیں۔ لاہور میں ایک باپ بچوں کے سامنے خود کو آگ لگا رہا ہے، سکھر میں ایک مزدور بیوی کے لیے کپڑے نہ خرید سکنے کے دکھ میں پنکھے سے جھول کر جان دے رہا ہے، کراچی میں ایک ماں بچوں سمیت کنویں میں چھلانگ لگا رہی ہے۔ یہ واقعات محض خبروں کی سرخیاں نہیں بلکہ ریاستی بے حسی کے چیختے ہوئے ثبوت ہیں۔ یہ عید خوشبوؤں سے نہیں، جنازوں کی بو سے مہک رہی ہے۔ نہ قہقہے گونج رہے ہیں، نہ چراغاں ہو رہا ہے ،ہرطرف صرف بین ہیں، کفن ہیں اور قبرستان کی خاموشی۔

    رحیم یار خان کے سردار گڑھ میں عبدالرحمان نامی ایک باپ اپنے دو گونگے بیٹوں، 9 سالہ محمد سفیان اور 11 سالہ محمد عمر اور بیٹی آصفہ بی بی کو عید کے کپڑوں کا مطالبہ برداشت نہ کرتے ہوئے گندم کی زہریلی گولیاں کھلاتا ہے اور خود بھی زہر نگل کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ریسکیو 1122 انہیں شیخ زید ہسپتال منتقل کرتا ہے مگر عبدالرحمان اور اس کے دونوں بیٹوں کی زندگی نہیں بچ پاتی ہے۔ آصفہ بی بی اب بھی ہسپتال میں موت و حیات کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اسی طرح اوچ شریف میں محنت کش امداد حسین کا بیٹا ثاقب حسین جو برف کےگولے کی ریڑھی لگا کر گھر چلاتا ہے، غربت اور گھریلو پریشانیوں سے تنگ آ کر زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لیتا ہے۔ یہ دل دہلا دینے والے واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ غربت اور بجلی کے ظالمانہ بلوں نے پاکستانی عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے۔

    غربت اور ظالمانہ بجلی بلوں کی وجہ سے ہونے والی خودکشیوں کی ذمہ داری اویس لغاری کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف پر عائد نہیں ہوتی؟ اویس لغاری کی وزارت توانائی کی پالیسیوں نے پاکستانی عوام کے لیے عید کی خوشیوں کو زہر آلود کر دیا ہے۔ دو میٹروں پر پابندی، نان پروٹیکٹڈ سلیب کی ظالمانہ منتقلی اور ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے غریب اور متوسط طبقے کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ یہ عید نہیں، قیامت ہے!” عبدالرحمان جیسے باپ کو اپنے بچوں کے لیے عید کے کپڑے نہ دینے کی شرمندگی خودکشی پر مجبور کرتی ہے جبکہ بجلی کے بھاری بل اس جیسے کئی عبدالرحمان کی آمدنی کھا جاتے ہیں۔ اویس لغاری عام پاکستانی کے چولہے بجھا رہے ہیں اور ان کے جھوٹے وعدوں اور دروغ گوئی نے عوام کو صرف مایوسی دی ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ اور سرچارجز نے بل ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچا دیے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف جو غیر ملکی دوروں میں ملکی مفاد کے لیے سفارتی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں کیا وہ اس سسکتی ہوئی قوم کی چیخوں سے بے خبر ہیں؟ اویس لغاری کی وزارت وزیراعظم کے دائرہ اختیار میں ہے اور وہ ان کے فیصلوں کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ شہباز شریف نے اویس لغاری کے ظالمانہ اقدامات پر کیا نوٹس لیا؟ ہر موبائل کال کے آغاز میں آنے والی ریکارڈنگ، جس میں شہباز شریف کی آواز میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "ہم نے بجلی سستی کر دی ہے”،عوام کیلئے بھونڈااور ایک ظالمانہ مذاق بن چکی ہے۔ یہ دعویٰ حقیقت سے کوسوں دور ہے کیونکہ بجلی کے نرخ کم ہونے کے بجائے عوام پر بھاری بلز کی صورت میں بمباری کر رہے ہیں۔ لاہور کی ایک خاتون کہتی ہے کہ "ہمارے گھر کا بل 15 ہزار سے 40 ہزار ہو گیا۔ عید پر بچوں کے کپڑوں کے بجائے ہم قرض مانگ رہے ہیں۔” یہ حالات اویس لغاری کی پالیسیوں اور شہباز شریف کی خاموشی کا نتیجہ ہیں۔

    عید جو محبت، قربانی اور خوشیوں کا تہوار ہے، اب غریبوں کے لیے ماتم کا منظر بن رہی ہے۔ عبدالرحمان اور ثاقب جیسے لوگوں کی خودکشیوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب عوام میں مزید بوجھ برداشت کرنے طاقت نہیں رہی اوپر سے بھاری بلوں کا بوجھ اب جان لیوا بن چکا ہے۔ ایک متوسط طبقے کا گھرانے اس بار قربانی چھوڑ رہے ہیں کیونکہ بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد جانور خریدنے کی گنجائش ہی نہیں بچی۔” اویس لغاری کی پالیسیاں نہ صرف غریبوں کی عید چھین رہی ہیں بلکہ متوسط طبقے کو بھی اس حال تک پہنچا رہی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے شرمندہ ہیں۔ شہباز شریف کی حکومت نے ان ظالمانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے کیا کیا؟ کیا وزیراعظم کو یہ خبر نہیں کہ ان کے وزیر توانائی کے فیصلوں نے عوام کو خودکشی پر مجبور کر دیا ہے؟

    اویس لغاری کی وزارت توانائی عوام کے لیے لعنت بن چکی ہے۔ ان کے فیصلوں نے نہ صرف معاشی تباہی پھیلائی بلکہ شہباز شریف کی حکومت کو بھی عوامی غیظ و غضب کے شعلوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام کا غصہ عروج پر ہے: "اویس لغاری کا اپنا بل چند روپے اور ہمارا 34 ہزار! یہ کیسا انصاف ہے؟” جب ایک باپ اپنے بچوں کو عید پر نئے کپڑے دینے سے قاصر ہوتا ہے تو وہ خودکشی کو ترجیح دیتا ہے۔ عوام کی حفاظت اور حکومت کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ عوام فوری عمل کا مطالبہ کر رہے ہیں.

    بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے، ناجائز ڈیٹیکشن بلز ختم کیے جائیں، دو میٹروں پر پابندی ہٹائی جائےاور ظالمانہ نان پروٹیکٹڈ سلیب نظام کو ختم کیا جائے۔ اگر یہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو عید صرف جاگیر داروں اور اشرافیہ کے لیے تہوار بن کر رہ جائے گی اور عام پاکستانی ہمیشہ کے لیے خوشیوں سے محروم ہو جائے گا۔ عبدالرحمان اور ثاقب کی المناک خودکشیوں کو روزمرہ کا واقعہ نہیں بننا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف، آپ کی ریکارڈ شدہ آواز میں بجلی سستی کرنے کا دعویٰ ایک ظالمانہ جھوٹ ہےاوراس جھوٹ اوردھوکے کا ذمہ دار کون ہے؟

    عیدالاضحیٰ جو قربانی اور ایثار کا درس دیتی ہے، اس سال پاکستانی عوام کے لیے ایک امتحان بن گئی ہے۔ اویس لغاری کی پالیسیوں اور شہباز شریف کی خاموشی نے غریبوں اور متوسط طبقے کی عید کی خوشیوں کو چھین لیا ہے۔ عبدالرحمان اور ثاقب جیسے واقعات صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ ایک قوم کی چیخ ہیں جو اپنی حکومت سے انصاف مانگ رہی ہے۔ اگر حکومت نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے اور عوام کو نہ سنبھالا تو عید ہر سال ماتم کا پیغام لاتی رہے گی۔ کیا شہباز شریف اور اویس لغاری اس قوم کے درد کے ذمہ دار نہیں؟ وقت ہے کہ حکومت جاگے، ظالمانہ پالیسیاں ختم کرے، بجلی کے نرخ کم کرے اور عوام کو وہ عید واپس دے جو خوشیوں اور مسرتوں کا پیغام لاتی ہے، نہ کہ جنازوں اور قبرستانوں کی خاموشی کا۔ اویس لغاری کو ہٹائیں اور پاکستانی عوام کو اس معاشی عذاب سے نجات دلائیں، ورنہ یہ خودکشیوں کا سلسلہ عید کے تہوار کو ہمیشہ کے لیے داغدار کر دے گا۔

  • اپووا وفد کا دورہ قصور،دفتر کا افتتاح،اک اعزاز،تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا وفد کا دورہ قصور،دفتر کا افتتاح،اک اعزاز،تحریر:طارق نوید سندھو

    گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیر اہتمام ایک خوبصورت اور بامقصد تقریب کا انعقاد لاہور میں ہوا، جس میں شرکت کا موقع ملا، اس تقریب کے دوران اپووا کے بانی و صدر محترم ایم ایم علی سے ملاقات ہوئی، جو نہایت شفیق اور ادب دوست شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ملاقات کے دوران انہیں قصور کے دورے کی دعوت دی گئی، جسے انہوں نے نہایت خوش دلی سے قبول کیا۔ وعدے کے مطابق وہ وفد کے ہمراہ قصور پہنچے۔

    قصور پہنچنے پر اپووا کے معزز وفد کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مقامی ہوٹل میں ایک پرتکلف ظہرانہ ترتیب دیا گیا تھا،وفد میں اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی کے ہمراہ حافظ محمد زاہد (سینئر نائب صدر)، سفیان علی فاروقی (نائب صدر)، اسلم سیال (نائب صدر میل ونگ) شامل تھے۔ وفد کے ہمراہ ایڈیٹر "باغی ٹی وی” ممتاز اعوان بھی اپنی فیملی سمیت موجود تھے۔استقبالیہ انتظامات میں مقامی صحافیوں عباس علی بھٹی، عابد علی بھٹی، چوہدری اکبر علی، اور مہر شوکت علی نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان تمام احباب کی جانب سے مہمانوں کے لیے محبت، خلوص اور ادب دوستی کا عملی مظاہرہ قابل ستائش تھا۔ظہرانے کے بعد اپووا کے وفد کو گنڈا سنگھ بارڈر لے جایا گیا جہاں پریڈ دیکھنے کا خصوصی پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ مقررہ وقت پر تمام شرکاء بارڈر پہنچے۔ بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جیسے ہی پریڈ کا آغاز ہوا، پاکستانی عوام کی جانب سے فلک شگاف نعرے گونجنے لگے:
    "اللہ اکبر”, "پاکستان زندہ باد”, اور "پاک فوج کو سلام”۔

    پاکستانی سائیڈ پر عوام کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ہر چہرے پر وطن سے محبت جھلک رہی تھی۔ جبکہ دوسری جانب یعنی بھارتی سائیڈ پر ماحول خاموش، سناٹے اور پژمردگی کا شکار نظر آیا۔ چند ہی بھارتی شہری وہاں موجود تھے، اور ان کے چہروں پر خوف، بے بسی اور مایوسی کے سائے نمایاں تھے۔یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پاکستان میں آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہو، اور بھارت کی جانب سے کیے گئے "آپریشن سندور” کا حال یہ ہوا کہ سارے بھارتی ہی "بیوہ” ہو گئے

    گنڈا سنگھ بارڈر سے واپسی پر قصور میں اپووا کے باقاعدہ دفتر کا افتتاح کیا گیا. یہ دفتر مستقبل میں ادیبوں، شاعروں، کہانی نویسوں اور لکھاریوں کے لیے ایک علمی و فکری پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اپووا کی جانب سے ادبی خدمات کی توسیع اور فروغ کے لیے یہ قدم نہایت اہم اور قابل تحسین ہے۔ قصور میں اپووا دفتر کا قیام یقینی طور پر اہل قلم کے لئے ایک سنگ میل ہے، جو ادب، ثقافت اور فکری سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔

    آخر میں ہم اپووا کی پوری ٹیم، بالخصوص بانی صدر ایم ایم علی اور ان کے رفقاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قصور جیسے تاریخی اور ادبی شہر کو اپنی موجودگی سے نوازا اور خدمت کا موقع دیا، امید ہے کہ اپووا کا یہ جذبہ خدمت مستقبل میں بھی علم و ادب کے فروغ کا ذریعہ بنے گا،اللہ کرے کہ اپووا کا یہ کارواں یوں ہی محبت، ادب اور علم کی شمعیں روشن کرتا رہے۔

    پاکستان زندہ باد

  • ایک چھوٹے  سے انقلاب کی  داستان،تحریر:بریگیڈیئر (ر) عتیق الرحمان

    ایک چھوٹے سے انقلاب کی داستان،تحریر:بریگیڈیئر (ر) عتیق الرحمان

    میں نے بڑے بڑے انقلابوں کی داستانیں پڑھی بھی ہیں ، سنی بھی ہیں – لیکن اپنی آنکھوں سے جس انقلاب کو دیکھا وہ پی ایم اے میں میری آپ بیتی ھے-
    پی ایم اے پہنچے تو فوج نے سب سے پہلے میرے نخرے کا علاج کیا- سر کے باھر بال نہیں رھنے دیئے اور سر کے اندر نخرا، نہ کوئی شک- ابھی پی ایم اے کا گیٹ کراس کئے دو دن ہی گزرے تھے کہ ہم بالکل good year ٹائر کی طرح روانی سے فرنٹ رول کرنا سیکھ چکے تھ-پی ایم اے جانے سے پہلے میں گھر پر گنی چنی چیزیں ،گوشت، قیمہ ، انڈے ، سموسے، چاٹ ، گول گپّے ،بسکٹ وغیرہ ہی کھاتا تھا- اڑھائی مہینے بعد میں جب پہلی بار ،گھر مڈ ٹرم کی چھٹی آیا، تو ماں میری حیران رہ گئی، میں قربانی والے بکرے کی طرح ، سب کچھ کھا رھا تھا- والد صاحب زیر لب مسکرا رھے تھے کہ ” پتر ھون سنا، تینوں کہنا ساں نہ پڑھ لے”-

    جیسے ہی سرکاری اوقات کار ختم ھوتے ہیں ، جونیئر کیڈٹ سینئر کیڈٹ کی پناہ میں آ جاتے ہیں- یہ کیسے ھوتا ہے- جی، یہ جادوئی عمل ہر پلاٹوں میں ایک سینئر جنٹل مین کیڈٹ کے ذریعے عمل میں آتا ھے- جیسے ہر کلاس کا مانیٹر ہوتا ھے ایسے ہی ہر پلاٹوں کا اور پھر کورس کا ایک سینئر جنٹلمین کیڈٹ ( ایس جی سی) نامزد ہوتا ھے اور سارے احکامات اس کے ذریعے پوری پلاٹون تک پہنچتے ہیں- کوئی فون یا وائرلیس نہیں ہوتا – ایس جی سی ،دو ٹانگوں اور زبان کا ستعمال کر کے سارے نیٹ ورک کے درمیان رابطے کا کام کرتا ھے- ہر پلاٹوں کا ایک چھوٹا اور ایک بڑا والی وارث ہوتا ھے- چھوٹا تیسری ٹرم کا کیڈٹ ھوتا ھے جسے کارپورل کہتے ہیں- بڑا چوتھی ٹرم کا کیڈٹ ہوتا ھے جسے سارجنٹ کہتے ہیں- ان دونوں کا آپس میں روحانی رابطہ ہوتا ھے- چھوٹا چھوڑتا ھے تو بڑا بلا لیتا ھے اور بڑا جب کہتا ھے آپ لوگ جائیں تو چھوٹا باھر ہی مل جاتا ھے- ہمارا چھوٹا ھماری بیرک کے کنارے پہلے کمرے میں رھتا تھا-

    پی ایم اے کلچر میں میٹافورز اور سگنل کا استعمال بہت اھم ھے- ڈرل سکیئر، پی ٹی گراؤنڈ، کوت، میس، ایچ ایس، سیچل، ڈی ایم ایس، ڈرل شوز، مَفتی، مَفتی شوز، ایس ڈی، جی سی آفس ، اینٹی روم، ھینڈز ڈاؤن، رول، فراگ جمپ اور اسی طرح کے سینکڑوں میٹافور ذہن میں ایسے بیٹھے کہ آج تک ازبر ہیں-

    قیامت کی گرمی ھو یا مائنس ٹمپریچر، آپ ریگستان میں ہیں یا سیاچن پر، کھانا ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا ھے، پورے ڈریس کوڈ کے ساتھ- کھانے والا ٹیبل ٹینٹ میں لگے یا باقاعدہ کمرے کے اندر ، اس کا درجہ میس کا ہی رھے گا- دال بھی ، بھنی ھوئی مرغی کی طرح کانٹے سے اور نہایت ادب سے کھائی جائے گی- کھانے کے ایک ایک نوالے کا بل آفیسر کی اپنی ذمہ داری ھے- نہ کبھی کوئی کسی کا مذھب پوچھا، نہ ذات – سب کو اپنی سینیارٹی کا پتا ہوتا ھے- چپ چاپ بغیر کرسی کی آواز نکالے بیٹھتے جاتے ہیں – اس سارے ماحول میں صرف ایک شخص ایسا ہوتا ھے جو کوئی بھی لطیفہ سنا سکتا ھے، کوئی قصہ یا تاریخی واقعہ اور اگر موڈ ھو تو کل صبح روٹ مارچ کا حکم یا آج ھی رات نائیٹ ٹرینگ اور وہ شخص بلحاظ عہدہ CO کہلاتا ھے-

    بہت ہی محدود وسائل میں سلیقے کی زندگی گزارنا بہت بڑا فن ھے- زندگی میں پیسے اتنے معنی نہیں رکھتے جتنا، جینے کا سلیقہ- پی ایم اے سے یہی ” سلیقہ” سیکھ کر نکلے اور پھر عمر بھر اس سلیقے کے قیدی بن کر رھے- فوج کی کھٹی میٹھی یادیں میری زندگی کا اثاثہ ھے-

  • کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    کہانیاں صرف وہ نہیں ہوتیں جو قلم سے لکھی جاتی ہیں، اور نہ ہی وہ جو اشاعت کی زینت بنتی ہیں۔ کچھ کہانیاں خامشی کے دبیز پردوں میں لپٹی، وقت کے کانوں میں سرگوشی کرتی ہیں۔ یہ وہ داستانیں ہیں جو کبھی کسی کتاب کے صفحے پر نہیں آتیں، مگر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سانس لیتی ہیں۔ وہ جھروکوں سے جھانکتی ہیں، گلیوں کے گرد گھومتی ہیں، اور گواہی دیتی ہیں کہ انسان صرف جیتا نہیں، جھیلتا بھی ہے۔

    کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں سننے کے لیے کان نہیں، دل درکار ہوتا ہے۔ وہ ماں جو ہر روز مزدوری کے لیے نکلتی ہے، اور شام کو بچوں کے لیے ہنسی اوڑھ کر لوٹتی ہے — اُس کی زندگی ایک مکمل کہانی ہے، جو شاید کبھی لکھی نہ جائے۔ وہ بزرگ جو پنشن کے لیے قطار میں کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں، وہ بچہ جو سڑک پر کتابیں بیچتے ہوئے تعلیم کے خواب دیکھتا ہے، وہ نوجوان جو ہر در سے مایوسی لے کر بھی ہار نہیں مانتا — یہ سب کہانیاں ہیں، مگر ان کے لیے کوئی مصنف نہیں۔

    ادب کا اصل منصب یہی ہے کہ وہ اُن احساسات کو بھی جگہ دے جنہیں دنیا نظر انداز کر دیتی ہے، مگر بعض اوقات ادب بھی خاموش رہتا ہے، کیونکہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو بیان سے انکار کرتے ہیں، اور کچھ سچ ایسے جو سننے کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب "کہانی جو لکھی نہ گئی” وجود پاتی ہے — اور قاری کے دل میں کوئی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔

    ہم نے اکثر داستانوں کو انجام کی تلاش میں پڑھا، مگر یہ وہ کہانیاں ہیں جو انجام سے پہلے ہی بھلا دی گئیں۔ ان میں نہ کوئی ہیرو ہوتا ہے، نہ قافیہ، نہ منظرنامہ — فقط حقیقت ہوتی ہے، خالص اور بے رحم۔ وہ سچائی جو صرف نظر انداز کیے گئے لوگوں کے چہروں پر لکھی جاتی ہے، یا اُن آنکھوں میں جو سوال بن کر جمی رہتی ہیں۔

    یہ کالم اُنہی خاموش کہانیوں کی ایک پکار ہے — اُن لفظوں کی جو دل میں دب کر رہ گئے، اُن خوابوں کی جو بکھرنے سے پہلے پلکوں پر اترے ہی نہ تھے۔ یہ اُن لمحوں کی ترجمانی ہے جنہیں کبھی کسی نے لکھنے کے قابل نہ سمجھا، مگر وہ آج بھی ہمارے اردگرد سانس لیتے ہیں۔ وہ گلی کا نکڑ، وہ بند دروازہ، وہ خاموشی میں لپٹی کراہ — سب کچھ زبان بننے کو بےتاب ہے۔

    جب ایک دن یہ سب کہانیاں اپنے لکھنے والے پا لیں گی، تب ادب کا دامن بھی مکمل ہوگا۔ تب شاید کوئی مصنف کہے گا:
    "میں نے وہ کہانی لکھ دی جو لکھی نہ گئی تھی۔”

    ہر درد کے نام،
    ہر بے نام آواز کے احترام میں۔

    ای میل: jabbaraqsa2@gmail.com