Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "آج کے دن میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔”(سورہ المائدہ:3)
    دین مکمل، شریعت کا ہر حکم مکمل، قانونِ الٰہی مکمل، بنوت مکمل، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر آ کر ختم الانبیاء کی مہر لگ گئی تو نبوت بھی مکمل ہو گئی۔ اب جو دین اسلام میں نئی بات گھڑے گا نیا قانون لائے گا وہ جھنمی ہو گا۔
    سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:” سب سے بہترین بات اللّٰہ کی کتاب ہے، سب سے بہترین ہدایت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور سب سے بد ترین کام دین میں نئے امور (بدعت) ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے "(صحیح مسلم:867)
    اللّٰہ رب العزت نے ہم سب کو آزاد پیدا کیا ہے خواہ وہ مرد ہے یا عورت، ہم سب اللّٰہ کے غلام ہیں اس کے بندے ہیں۔ مرد عورت کا قوام ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے قوام ہوتا کیا ہے؟ قوام کا مطلب حاکم ہرگز نہیں ہے بلکہ قوام وہ ہوتا ہے جو خاندان کی ذمہ داریاں اٹھاتا ہے۔ جو معاشی طور پر گھر اور گھر والوں کا خیال رکھتا ہے۔ یہ ذمہ داری اللّٰہ نے مرد پر ڈالی ہے۔ وہ جذباتی طور پر مضبوط ہوتا ہے اس لیے عورت کا خیال رکھنے والا ہوتا ہے۔ اللہ نے اس کو ایک درجہ بلند رکھا اس لیے کہ وہ ہر اچھے برے حالات میں اپنے خاندان کا محافظ ہوتا ہے لیکن ہوا کیا؟ آج کے مرد نے قوام کا مطلب خود کو عورت کا مالک سمجھ لیا ہے جب کہ مالک تو اللّٰہ سبحان و تعالیٰ ہے کیونکہ جو خالق ہوتا ہے ملکیت بھی اسی کی ہوتی ہے۔ کوئی انسان کسی انسان کے اوپر اپنی ملکیت نہیں رکھتا۔ ہر انسان کی پیدائش اس دنیا میں انفرادی طور پر ہوئی اس کی خوبیاں اس کی خامیاں اسی انسان کی ذاتی ہوتی ہیں۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پھر ہم ہر کسی کے اعمال کے ٹھیکدار کیوں بن جاتے ہیں؟ سوشل میڈیا کے دور میں کتنا آسان ہو گیا ہے نا کسی کو بھی جنتی یا جھنمی قرار دینا۔ ایسا لگتا ہے ہر شخص دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار بن گیا ہے۔ شریعت کے قانون کے مطابق انسان کا اختیار نہیں کہ وہ کسی کو جنتی یا جھنمی کہے لیکن ہم سب تو اتنے دیندار بن گئے ہیں کہ باقی سب کو بے دین تصور کرنے لگے ہیں۔ کئی جگہوں پر دیکھا جا سکتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں عورت اپنے گھر کے مردوں سے بھی محفوظ نہیں، اسے آزادی رائے نہیں وہ اپنا موقف کسی کے سامنے رکھنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ آئیے لمحے بھر کو اس ماضی میں چلتے ہیں۔

    جہاں درحقیقت عورت کو کوئی مقام حاصل نہ تھا۔
    جہاں اسے رائے کی آزادی نہ تھی۔
    جہاں شوہر اپنی بیوی کو نہ بساتے تھے نہ آزاد کرتے تھے۔
    جہاں بیٹی کی پیدائش پر والد منہ چھپاتا پھرتا تھا۔
    جہاں عورت کو صرف تفریح کا سامان سمجھا جاتا تھا۔
    جہاں عورت کے بیوہ ہونے پر اس کے لیے زندگی کے دروازے بند کر دیئے جاتے تھے۔
    جہاں بغیر نکاح کے ایک مرد کئی عورتوں کو اپنے ساتھ رکھنے کا اختیار رکھتا تھا۔
    جہاں عورت کی کوئی مرضی نہ تھی۔
    جہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ناجانے کیا کیا ظلم ہوتے تھے عورت پر۔۔

    پھر حرا سے ایک روشنی پھوٹتی ہے ایک پاکیزہ فرشتہ دنیا کے سب سے پاکیزہ انسان کے پاس آتا ہے اور اس کا سینہ بھینچتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ رب نے اسے اپنا رسول چن لیا ہے۔ اب دین اسلام کی برکات سے سب انسانوں کو ان کا حق ملے گا۔ اب کوئی کسی کا غلام نہ رہے گا سب انسان آزاد ہیں وہ صرف خالق و مالک کے غلام ہوں گے۔ آج کی ماڈرن عورت کیا جانے آزادی کیا ہوتی ہے؟ آزادی تو وہ تھی جو بریرہ کو ملی تھی۔ یہ اس دور کی بات ہے۔
    جہاں عورت کو تعلیم دینے کا حق نہیں تھا۔
    جہاں بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا۔
    جہاں اسے وراثت سے دستبردار کر دیا جاتا تھا۔
    جہاں اپنی پسند اور مرضی سے نکاح کرنے کا کوئی تصور نہ تھا۔
    لیکن دین اسلام نے آتے ہی عورت کو وہ سب حقوق دیے جس نے اسے معاشرے میں ایک الگ حیثیت سے روشناس کروایا۔

    صفحہ زیست میں ماضی کے دریچوں سے گزریں تو یہ کہانی یوں تو بہت پرانی لگتی ہے لیکن اپنے آپ میں ایک جدت لیے ہوئے ہے۔ یہ کہانی ہے ایک محبت کرنے والی خوشحال شادی شدہ جوڑے کی۔ یہ کہانی ہے ایک غلام اور ایک لونڈی کی۔ پتہ ہے غلام اور لونڈی کا کیا تصور ہے اسلام میں؟ جی ہاں! جن کی نہ کوئی مرضی ہوتی تھی نہ رائے نہ پسند یہاں تک کہ وہ سانس لینے میں بھی مالک کی اجازت کے مختاج ہوتے تھے۔ یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو ایک دن غلامی کی زندگی سے آزاد ہو گئی اسے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا نے آزاد کر دیا۔ آزادی کا حمار کیا ہوتا ہے کوئی اس وقت بریرہ سے پوچھتا۔ آج کی ماڈرن عورت کیا جانے آزادی کیا ہوتی ہے؟

    آج کی ماڈرن عورت دوپٹے سے آزادی کو آزادی تصور کرتی ہے۔ کھلے بالوں کو آزادی تصور کرتی ہے۔ گھر کے باہر در در بھٹکنے کو آزادی تصور کرتی ہے لیکن حقیقی آزادی تو وہ تھی جو بریرہ کے پاس تھی۔اسلام کے مطابق ایک غلام اور ایک آزاد اگر چاہیں تو نکاح قائم رکھ سکتے ہیں ورنہ جو آزاد فریق کی مرضی ہو وہی ہو گا۔ بریرہ کو آزادی اتنی پسند آئی کہ وہ دل و جان سے محبت کرنے والے شوہر کی محبت کو فراموش کر گئی۔ وہ اپنی رائے میں، اپنے فیصلوں میں آزاد ہو گئی۔ محبت کرنے والا مغیث گلیوں، بازاروں میں روتا پھرتا تھا۔ وہ ہر ایک سے کہتا پھرتا تھا ایک بار بریرہ کو منا دو، وہ روتا تھا بریرہ ایک بار تو مجھ سے بات کر لے۔ سب سے سفارش کرتے کرتے وہ اپنی سفارش لے کر رحمت العالمین کے دربار میں پہنچ گیا وہ رسول جو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے مغیث کو یقین تھا وہ میرے لیے بھی رحمت والا فیصلہ کریں گے۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مغیث کی بات سنی اس کی تکلیف اور دکھ کو محسوس کرتے ہوئے بریرہ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ بریرہ دربار رسالت میں پیش ہوتی ہے۔ وہ اب ایک آزاد عورت تھی وہ جانتی تھی۔
    وہ صرف رب کی غلام ہے۔ رب کے احکامات کی غلام ہے۔
    وہ صرف خود آزاد نہیں تھی بلکہ اس کی سوچ بھی آزاد تھی۔
    وہ اپنے حقوق و فرائض کے بارے میں آگاہ تھی جو دین اسلام نے ایک آزاد عورت کو عطا کیے تھے۔
    وہ پہلے غلام تھی مگر اب نہیں تھی۔
    وہ اپنی رائے اپنے فیصلوں میں آزاد تھی۔
    وہ جانتی تھی اب وہ کسی انسان کی غلام نہیں صرف رب کی غلام تھی۔
    دربار رسالت لگا ہوا تھا۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بریرہ کاش تم مغیث کے پاس لوٹ جاتیں۔” مغیث اپنی محبت بھری خوبصورت زندگی کے بارے میں سوچتے ہوئے بریرہ کے جواب کا منتظر تھا۔ شاید اس وقت مغیث کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ہو گی ضرور اس نے رب کی بارگاہ میں دعا کی ہو گی مگر بریرہ جو آزادی کا مزہ چکھ چکی تھی وہ ایک غلام شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ وہ دنیا جیت لینا چاہتی تھی وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنا چاہتی تھی وہ جانتی تھی زندگی ایک بار ملی ہے اسے غلامی کی نظر نہیں کرنا۔ وہ آزادی کی نعمت کو سمجھ چکی تھی۔ روشن خیال اپنے حقوق کو پہچاننے والی بریرہ نے رسول اللّٰہ کی مجلس میں ان کی بات قبول نہیں کی بلکہ الٹا اپنا موقف رکھ ڈالا۔

    "اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ آپ کا حکم ہے یا سفارش؟ اگر حکم ہے تو مان لوں گی کیونکہ بخثیت مسلمان مجھ پر آپ کی اطاعت فرض ہے لیکن اگر سفارش ہے تو نہیں مانوں گی کیونکہ میری زندگی کے بارے میں مجھے رب نے اختیار دیا ہے۔” کیسا مکالمہ چل رہا تھا سرور دو عالم اور ایک عام مسلمان خاتون کے درمیان۔ کیا آج کوئی بیٹی اپنے والد کے سامنے اپنی رائے دے سکتی ہے؟ جی ہاں! دے تو سکتی ہے مگر ایسی آزادی بہت کم بیٹیوں کو میسر ہے۔

    "رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:” میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔” بریرہ کا جواب آتا ہے۔ "پھر مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔”(صحیح بخارہ:5283)
    میں آزاد فضاؤں میں اڑنا چاہتی ہوں، اپنی مرضی سے سانس لینا چاہتی ہوں، اپنی اڑان بھرنا چاہتی ہوں۔ اللہ کی دی ہوئی آزاد زندگی کو صرف اللہ کی غلامی میں گزارنا چاہتی ہوں مجھے کسی انسان کی غلامی قبول نہیں اور مغیث غلام ہے میں اب اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔

    کیا آج کی لبرل عورت کبھی ایسا سوچ سکتی ہے؟ یہ وہی عورت سوچ سکتی ہے جس نے اپنی زندگی کو دین اسلام کے سانچے میں ڈھال لیا ہو۔ بریرہ کی اس بات نے کتنی خواتین کے لیے نئی سوچ کے در کھولے ہیں۔ عورت تب آزاد ہو گی جب وہ خود کو رب کے احکامات کی قید میں رکھے گی۔ بریرہ تو غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو گئی۔ آج اس کہانی کو گزرے صدیاں بیت گئیں سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا آج کی عورت آزاد ہے؟ اپنی گفتار میں، اپنے فیصلوں میں، اپنی سوچ میں، اپنی رائے دینے میں، اپنی پسند سے نکاح کرنے میں؟؟؟ سوچتے رہیے۔۔۔۔۔۔۔مثبت رہیے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹتے رہیے۔ اللہ پاک آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے۔ آمین!

  • کہاں گئی شہباز سپیڈ؟

    کہاں گئی شہباز سپیڈ؟

    کہاں گئی شہباز سپیڈ؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان کی سیاست میں شہباز شریف کا نام ایک ایسی رفتار کے ساتھ جڑا رہا ہے جو بظاہر نا ممکن کو بھی ممکن بنا دیتی تھی۔ جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو اُن کی شہرت اُن کی غیر معمولی انتظامی مہارت، منصوبوں کی تیزی سے تکمیل اور عوامی ریلیف پر مبنی پالیسیوں کی بدولت "شہباز سپیڈ” کے نام سے معروف ہوئی۔ لاہور میٹرو، آشیانہ اسکیم، دانش سکولز، فلائی اوورز اور ہسپتالوں کی بہتری کے منصوبے اُن کی شناخت بنے۔ لیکن آج جب وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں تو عوام حیران ہے کہ وہی شہباز سپیڈ کہاں کھو گئی؟ کیونکہ اب مسائل کے انبار لگے ہیں، وعدے ادھورے ہیں اور عوامی ریلیف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ یہ سوچنا بجا ہے کہ کیا وہی شہباز شریف ہیں یا اب رفتار کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے؟ یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ اب صرف فائلیں دوڑ رہی ہیں، عوام نہیں اور شہباز سپیڈ بس ایک سیاسی یادگار بن کر رہ گئی ہے۔

    جب وزیراعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ بجلی سستی کریں گے تو لوگوں کو امید بندھی۔ لیکن عملی طور پر وزارت توانائی نے ایسے اقدامات کیے کہ عوام پر مہنگائی کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے 201 یونٹ کا سلیب سسٹم متعارف کروا کر بجلی کے نرخ کئی گنا بڑھا دیے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے انکشاف کیا کہ آٹھ ڈسکوز نے 244 ارب روپے کی اووربلنگ کی، جس کا کوئی حساب نہیں۔ لاکھوں صارفین کو اضافی بل جاری ہوئے اور زرعی صارفین کو بھی 148 ارب سے زائد کی اووربلنگ کر دی گئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بجائے ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے، سب کچھ فائلوں میں دبا دیا گیا۔ عوام پریشان ہیں، حکومت خاموش ہے اور ظلم کا سارا بوجھ شہباز سپیڈ کے سر ڈال دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ سب ظلم اویس لغاری نے کیے، شہباز سپیڈ کا اس میں کوئی قصور نہیں۔

    ایندھن کی قیمتوں پر قابو پانے کا وعدہ بھی ہوا میں تحلیل ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی جائیں گی، لیکن عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط نے ان کے ہاتھ باندھ دیے۔ پٹرول اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ دوسری جانب چینی کا معاملہ لیں تو حکومت نے شوگر مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ چینی جو عام آدمی کے لیے ضروری تھی، اب ایک پرتعیش شے بن چکی ہے۔ یہ سب اس نظام کی خرابیاں ہیں جنہوں نے شہباز شریف کی رفتار کو باندھ رکھا ہے۔ ان کے ارادے جتنے بھی بلند ہوں، عملی پیش رفت ندارد۔ مگر یہ سب ناکامیاں شہباز سپیڈ کی نہیں، بلکہ مافیا نے شہباز سپیڈ کی ہینڈ بریک پر قبضہ جما کر بریک لگا دی ہے۔

    معاشی بحران کے اس دور میں اشرافیہ کی مراعات میں اضافہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ارکان اسمبلی، سپیکر اور وزراء کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا، ساتھ ہی ساتھ مفت بجلی، پٹرول، علاج، رہائش اور گاڑیوں کی سہولتیں بدستور جاری رہیں۔ کہا گیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے جاتے تو حکومتی اتحاد خطرے میں پڑ جاتا۔ دوسری جانب، پنشنرز، سرکاری ملازمین اور سفید پوش طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ آئی ایم ایف کو اشرافیہ کی ان مراعات پر کوئی اعتراض نہ تھا، لیکن جیسے ہی عوامی تنخواہوں میں اضافے کی بات آئی، قسط روکنے کی دھمکی دے دی گئی۔ یوں وسائل بالا طبقے کی جھولی میں ڈال دیے گئے اور عوام کو صرف قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ یہ سب دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ شہباز سپیڈ کی ناکامی نہیں بلکہ نظام کی وہ غلامی ہے جس نے شہباز سپیڈ کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔

    واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں میں کرپشن، اووربلنگ اور بجلی چوری جیسے معاملات نے حکومت کو اخلاقی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے۔ کمپنیوں نے آڈٹ ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا، اربوں روپے کی خرد برد کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔ کیا وزیراعظم اکیلے اس سب کا ذمہ دار ہیں؟ ہرگز نہیں۔ وزیر توانائی کی نااہلی، نیپرا کی خاموشی اور بیوروکریسی کی ملی بھگت نے عوام کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کا سوال بجا ہے کہ کہاں گئی شہباز سپیڈ؟ لیکن جواب یہ ہے کہ شہباز سپیڈ کو تو روک دیا گیا، لوٹنے والوں نے۔

    دوسری طرف، عمران خان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے 90 دن میں کرپشن ختم کر دی، لیکن ان کے دور میں آٹا، چینی اور پٹرول کے اسکینڈلز سامنے آئے۔ جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور دیگر وزرا پر الزامات لگے، لیکن کسی کو سزا نہ ملی۔ رپورٹیں دبائی گئیں، قوم کو سبز باغ دکھائے گئے۔ شہباز شریف پر تنقید ضرور کریں، لیکن یہ بھی دیکھیں کہ کیا عمران خان کی رفتار نے عوام کو کچھ دیا؟ یا صرف تقاریر اور دعوے کیے؟ یہ دونوں رہنما عوامی خدمت کے دعوے دار ہیں، لیکن عوام کے مسائل آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں کل تھے۔ اور اسی لیے شہباز سپیڈ پر تنقید سے پہلے سچائی کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے۔

    اگر کوئی توقع باقی ہے تو وہ صرف اسی وقت پوری ہو سکتی ہے جب شہباز شریف اپنی پرانی رفتار کو دوبارہ زندہ کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ عوام کے حقیقی مسائل کو سمجھیں، کرپشن کے خلاف بھرپور کارروائی کریں، بیوروکریسی کو قابو میں لائیں اور فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ عوام اب صرف وعدوں سے نہیں، عمل سے مطمئن ہو گی۔ اگر شہباز سپیڈ کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تو اب وقت ہے کہ فیصلے میدان میں کیے جائیں، صرف پریس کانفرنسوں میں نہیں۔ بصورتِ دیگر، شہباز سپیڈ صرف ماضی کا ایک قصہ بن کر رہ جائے گی۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا شہباز سپیڈ واقعی اپنے پرانے ٹریک پر دوبارہ دوڑنے کے قابل ہو سکے گی؟ کیا وہ تمام رکاوٹیں عبور کر پائے گی جنہوں نے اس کی رفتار کو جکڑ رکھا ہے؟ کیا بجلی بحران، سلیب سسٹم کا خاتمہ اور اویس لغاری کی برطرفی ممکن ہو پائے گی؟ کیا عوام کو سستی چینی اور ایندھن دوبارہ میسر آ سکے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا یہ سب کچھ شہباز سپیڈ ممکن بنا پائے گی؟ عوام ان سوالات کے جوابات کی منتظر ہے اور وقت ہی بتائے گا کہ شہباز سپیڈ پھر سے اپنا جادو جگا پاتی ہے یا نہیں۔

  • جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے، بالکل، ویسے جیسے پتے شجر سے گرتے ہیں۔ وہ خاموشی سے، آہستہ آہستہ اور بے آواز گرتے ہیں۔ نہ چیختے ہیں، نہ روکتے ہیں، بس خود کو ہوا کے حوالے کر دیتے ہیں، ایک آخری بار شجر کو دیکھتے ہیں اور پھر زمین پر آن گرتے ہیں، جہاں ہر قدم انہیں روندتا ہے۔ ہر جوتی ان کے وجود کو مٹاتی ہے، اور کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ کیوں گرے؟ شجر خاموش رہتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، جیسے کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ مگر پتے جانتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جدائی واقعی موت ہوتی ہے—ایسی موت جو جسم سے پہلے روح کو لے جاتی ہے، جو خاموشی سے دل میں اُترتی ہے اور جس کا نہ کفن ہوتا ہے، نہ جنازہ۔

    جدائی ایک بے نشان قبر کی طرح ہے، جہاں نہ کوئی نام ہوتا ہے، نہ تاریخ، نہ دعائیں—صرف تنہائی، اور وہ ہوا کا تھپڑ جو بار بار یاد دلاتا ہے کہ تم اب شجر کا حصہ نہیں رہے۔ تم اب بس زمین پر ایک بوجھ ہو۔ ہر گزرتا لمحہ ایک اور کچلا ہوا احساس ہوتا ہے، ہر گزرنے والا انسان ایک اور لاتعلق نظر۔ پتے سوچتے ہیں، شجر نے روکا کیوں نہیں؟ کیا وہ بے وفا تھا، یا وقت ظالم تھا، یا قسمت ہی ایسی تھی؟ جدائی کا لمحہ ایک قیامت جیسا ہوتا ہے، جیسے کوئی تمہارا آپ تم سے چھین لے۔ شجر کی ہر شاخ گواہ ہوتی ہے اُس لمحے کی جب پتہ الگ ہوا، جب رشتہ ٹوٹا اور ایک کہانی لفظوں کے بغیر، آواز کے بغیر، بس خاموشی کے کفن میں دفن ہو گئی۔

    ہم سب وقت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جیسے ہر پتہ۔ جدائی نے سب کو چھوا ہے—کسی کی ماں، کسی کا دوست، کسی کا پیار، کسی کی امید—سب ہی روندے گئے، جیسے پتے۔ شجر بدلتے رہے، کہانیاں بدلتی رہیں، مگر انجام ہمیشہ ایک ہی رہا: تنہائی، خاموشی، اور مٹی۔

  • سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت

    سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت

    سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ (ن) ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جس نے اپنے دورِ اقتدار میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو اپنی کارکردگی کا معیار بنایا۔ سڑکیں، موٹرویز، اور انفراسٹرکچر وہ شعبے تھے جہاں اس جماعت نے سرمایہ کاری کی، اور اپنے بیانیے کو اس ترقیاتی ماڈل کے گرد گھمایا۔ لیکن اقتدار میں بارہا آنے کے باوجود عوامی فلاح کے حقیقی مسائل — مہنگائی، توانائی، تعلیم، صحت، روزگار اور معاشرتی انصاف ، ہمیشہ ثانوی حیثیت رکھتے رہے۔

    آج جب مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، بجلی کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور بے روزگاری نوجوان نسل کی امیدیں نگل رہی ہے، تو ن لیگ کی کارکردگی پر سوال اٹھانا محض تنقید نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔ عوام اس وقت ایک ایسے معاشی جبر کا شکار ہیں جس کی جڑیں حکومتی پالیسیوں میں پیوست ہیں اور جس کے چہرے کو اویس لغاری جیسے وزرا کی صورت میں شناخت ملی ہے۔

    بطور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی کارکردگی عوامی ریلیف کے بجائے عوامی اذیت کا سبب بنی۔ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اور ناقابلِ برداشت اضافہ، شدید لوڈشیڈنگ اور توانائی کے شعبے میں ناقص حکمرانی نے عوام کو ذہنی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حیرت ہے کہ ایسے سنگین حالات میں بھی وزیراعظم شہباز شریف نہ صرف خاموش ہیں بلکہ ایسے وزیروں کی سرپرستی کرتے دکھائی دیتے ہیں جو عوامی مسائل کے حل کی بجائے انہیں مزید گھمبیر بنانے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

    عوامی اذیت کی ایک نمایاں مثال بجلی کے بلوں میں لاگو "سلیب سسٹم” ہے، جس کے ذریعے محض ایک یونٹ کی زیادتی پر عام شہری کو پندرہ ہزار روپے تک کا بل تھما دیا جاتا ہے۔ "سلیب گردی” کی اصطلاح عوامی شعور نے اس سنگین ناانصافی کے ردعمل میں وضع کی ہے۔ 200 یونٹ تک بجلی کا بل تقریباً 3000 روپے ہوتا ہے، لیکن 201 یونٹ ہوتے ہی یہی بل چھلانگ لگا کر پندرہ ہزار تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اضافہ محض ٹیکس نہیں بلکہ ایک قسم کی معاشی دہشتگردی ہے، جو ریاستی پالیسیوں کے نام پر عوام پر مسلط کی جا رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں شہری ریاست کو سہارا دینے کے بجائے خود کو اس کے ظلم سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔

    یہ تنقید صرف معیشت یا توانائی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے اندرونی بحران اور قیادت کی بے حسی کا بھی آئینہ دار ہے۔ پارٹی کے مقامی کارکنان اور ارکانِ اسمبلی متعدد بار اس بات کا شکوہ کر چکے ہیں کہ قیادت نہ انہیں سن رہی ہے، نہ ترقیاتی فنڈز فراہم کر رہی ہے، اور نہ ہی عوامی رابطے کو اولیت دی جا رہی ہے۔ نتیجتاً پارٹی کے اندر بداعتمادی، فاصلہ اور مایوسی جنم لے چکے ہیں، جو کسی بھی جماعت کے لیے زوال کی علامت ہوتے ہیں۔

    اسی زوال کا اظہار عوام کی اس شدید مایوسی سے ہوتا ہے جو اب محض خاموش ناراضی نہیں بلکہ ایک متحرک اور بلند احتجاج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ وہ بیانیہ جسے ن لیگ نے اپنے سیاسی وجود کی بنیاد بنایا تھا "ووٹ کو عزت دو” آج عوام کی نظروں میں اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ کیونکہ جب ووٹ دینے والا شہری مہنگائی سے بلکتا ہے اور اس کے صبر کا امتحان ہر بل، ہر اشیائے ضرورت، ہر سرکاری سروس میں لیا جاتا ہے تو وہ اس بیانیے کو ایک کھوکھلی نعرہ بازی سے زیادہ نہیں سمجھتا۔

    یہ حالات صرف ایک سیاسی جماعت کی ساکھ کا بحران نہیں بلکہ جمہوری اعتماد کے ٹوٹنے کا اشارہ بھی ہیں۔ اگر ایک جماعت مسلسل اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کے بنیادی مسائل کو حل نہ کرے تو عوام بھی بالآخر اس جماعت کو سیاسی سزا دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب ان نمائندوں سے جواب مانگتی ہیں، جنہوں نے اقتدار تو لیا مگر خدمت نہیں کی۔

    اگر مسلم لیگ (ن) واقعی اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے اب فیصلے کرنے ہوں گے ، وہ فیصلے جو صرف وزارتوں کی تبدیلی تک محدود نہ ہوں بلکہ پالیسیوں، ترجیحات اور طرزِ حکمرانی میں انقلابی اصلاحات پر مبنی ہوں۔ اویس لغاری جیسے وزرا کی موجودگی پارٹی کے لیے سیاسی بوجھ بن چکی ہے اور جب عوام ایسے افراد کو اپنا دشمن سمجھنے لگیں تو جماعت کا دفاع کرنا ممکن نہیں رہتا۔

    یہ لمحہ ن لیگ کے لیے محض بحران نہیں ہے بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے! پارٹی کو یا تو خود کو تبدیل کرنا ہوگایا پھر عوام اسے بدل ڈالیں گے۔ "سلیب گردی” جیسے الفاظ چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔

    اگر ن لیگ نے اب بھی عوام کے درد کو محسوس نہ کیا تو پھر یہ حقیقت بن جائے گی کہ اس جماعت کا تابوت عوام خود اپنے کندھوں پر اٹھائیں گے۔ اب وہ وقت دور نہیں جب انتخابی میدان سجے گا اور عوامی عدالت ن لیگ کو آخری بار طلب کرے گی۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جہاں یا تو وہ سرخرو ہوں گے، یا پھر تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائیں گے۔

  • "زمین پہ آسمانی کیفیت کا نام محبت ہے”.تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    "زمین پہ آسمانی کیفیت کا نام محبت ہے”.تحریر: ظفر اقبال ظفر

    دل کی آنکھ محبت کے نزول سے ہی کھلتی ہے۔دو دلوں میں احساس و جذبات کا تبادلہ محبت کے سوا ممکن نہیں مگرجو محبت عزت کا نقصان کرئے وہ نفس کی طرف سے زلت کا جال ہے۔پتھر کی طرح جمے جمائے معاشرے میں احساس کی دراڑ ڈالنا بغیر آسمانی چیز کے ممکن نہیں اس زمین پر اگر کوئی چیز آسمانی ہے تو وہ محبت ہے۔آسمانی محبت آسمان والے کی طرف سے پسندیدہ دلوں پر ہی نازل ہوتی ہے جو تقسیم محبت میں اتنے مدہوش ہو جاتے ہیں کہ وہ آسمان سے زیادہ زمین سے محبت کرنے لگتے ہیں ان کی محبت میں شدت و پاکیزگی دیکھ کر آسمان والوں کو بھی ان کی محبت سے محبت ہو جاتی ہے۔

    دنیاوی خواہشات کے گدھے پر سوار ہو کر زندگی کے فاصلے طے کرکے موت کی منزل پر پہنچنے والے آسمانی محبت کی کمائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔محبت ایک انسان تک بھی محدود ہو تو تاثیر رکھتی ہے یہ چھوڑ جانے والے کو بددُعا نہیں دیتی مگربددُعا فقط ہاتھ اُٹھا کر منہ سے نکلے الفاظوں کا مجموعہ تو نہیں ہوتی کہ جو دی جائے تو لگ جائے،دولت بیدار کے لوگ جانتے ہیں کہ محبت کے بددیانت لوگوں کی طرف سے دی گئی بے سکونی بدحالی درد میں قید رُوح صبر میں گرفتار جسم بھی اک بددُعا ہے جو خودبخودلگ جاتی ہے۔

    وہ جو سنجیدہ و مخلص لوگوں کے جذبات کا مزاق اُڑاتے ہیں ان کی محبت و عقیدت پہ طنزیہ قہقہے لگاتے ہیں وہ تنہائی کے بستر پر بے بسی کی بیماری میں جکڑتے ہیں تو آنسوؤں سے باتیں کرنے لگتے ہیں بے قدری کی معافیاں مانگتے ہیں جہاں محبت اپنے مجرموں کا خود احتساب کرتی ہے وہاں اپنے مخلصوں پر نوازشات کی بارش بھی کرتی ہے محبت کا انتخاب غلط ہو سکتا ہے مگر محبت خود کبھی غلط نہیں ہوتی۔

    ناسمجھ لوگوں کی وجہ سے محبت کے بارے میں ناقص رائے قائم نہیں کرنی چاہیے جیسے کسی مزار کے خادمین اپنی ناسمجھی کے تناظر میں صاحب مزار کی محبت میں گرفتار عقیدت مند کو ڈانٹ دیتے ہیں تو اس میں صاحب محبت اور محبت کاکوئی قصور نہیں ہوتا۔سمندر سے بھی گہری محبت کے مستحق ہیں وہ لوگ جو نفرتوں کے خنجر کھا کر بھی محبت کا لنگر تقسیم کرنا نہیں چھوڑتے۔محبت فریب نہیں دیتی نہ کبھی بدلتی ہے لوگ بدل جاتے ہیں،جہاں اکثریت ناقابل اعتبار ہووہاں کچھ محبت کے سفیر بڑے کمال کے کردار رکھتے ہیں جن پر قدرت کے نظارے ناز کرتے ہیں ان اندر کے خوبصورت لوگوں کی ترجمانی کے لیے قدرت باہر کے منظر حسین بنا کر اپنی تعریف کی وجہ پیداکرتی ہے۔جس طرح رُوح پر جسم کے اصول لاگو نہیں ہوتے اسی طرح نفرتیں وجود محبت پہ اثر انداز نہیں ہوتیں۔

    قدرت اسی لیے سب سے قیمتی ہے کہ وہ ہر چیز سے مہنگی ہو کر مفت دستیات رہتی ہے اس مزاج کے انسان نایاب ہوتے ہیں جن کا نہ ملنا مشکل نہ اس کی محبت بوجھ پرسکون خوشگواراحساس سے لبریزجو دنیا کی طرف سے جھوٹی محبت کے دئیے گئے زخموں پر آسمانی محبت کی مرہم رکھتے ہیں تو شفا پورے وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔اگر انسان آسمانی محبت میں گرفتار نہیں تو شہ رگ سے قریب خدا ساری زندگی کے سفروں کے باوجود نہیں ملتا محبت تمہیں تمہارے وجود میں موجود خدا سے ملوانے کا معجزہ کھلی آنکھوں سے دیکھانے کی طاقت رکھتی ہے۔

  • ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی

    ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی

    ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں منصوبہ بندی کا فقدان ہے اور منصوبہ ساز نااہل ہیں، تو شاید ہی کسی کی اس پر دوسری رائے ہو۔ جی ہاں، آپ نے درست سمجھا، پچھلی کئی دہائیوں سے ہم تجربات کرتے آ رہے ہیں، عوام کو اور پاکستان کو لوٹنے کے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی ایک مقروض ملک ہیں اور آئی ایم ایف کی پالیسی سازوں کے زیرِ اثر۔

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان پانی کی قلت کا نہیں بلکہ نیتوں کی کمی کا شکار ہے۔ اگر آج بھی ریاست، ادارے اور عوام مل کر سنجیدہ اقدامات کریں تو بارش کا ہر قطرہ خزانے سے کم نہیں۔ بصورتِ دیگر، یہ قیمتی پانی ہر سال ضائع ہوتا رہے گا، زمین بنجر ہوتی جائے گی، اور ہم صرف رپورٹس میں کامیابی کے خواب دیکھتے رہیں گے۔

    ہم قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں پانی زراعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں اربوں لیٹر بارش کا پانی زمین پر گرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ بیش قیمت قدرتی نعمت ہمارے ناکام پالیسی سازوں اور غیر سنجیدہ اداروں کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔

    یہی پانی نہ صرف شہروں کی سڑکوں اور گلیوں کو دریا بنا دیتا ہے — جیسا کہ حالیہ بارشوں میں ہم نے دیکھا — بلکہ زرعی زمینوں سے بھی بہہ کر ندی نالوں میں چلا جاتا ہے، بنا کسی ریچارج کے، بنا کسی ذخیرہ اندوزی کے۔

    اب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سسٹم کیا ہے۔
    ریچارج کا مطلب ہوتا ہے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو قدرتی یا مصنوعی طریقے سے دوبارہ بھرنا۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بارش کے پانی کو محفوظ کر کے نہ صرف زمین کو ریچارج کیا جاتا ہے بلکہ شہری علاقوں میں بھی اسے قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اگر جدید طریقہ کار اختیار کر لیا جائے تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ پانی کی قلت جیسے سنگین مسئلے سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔

    ہمارے ہاں سیاسی اکھاڑوں میں ہماری ترجیحات انتقامی سیاست ہے۔ کیا یہی سوچ ہمارے بانی پاکستان کی تھی؟ یقیناً نہیں۔

    اصل مسئلہ پانی کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی کمی ہے۔ ہمارے پالیسی ساز حضرات اور بیوروکریسی کی دلچسپی صرف کاغذی منصوبوں میں ہوتی ہے، جہاں فنڈز کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر کوئی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔

    شہروں میں ڈرینج سسٹم ناکارہ ہے، دیہات میں پانی کے نکاس کا کوئی بندوبست نہیں ، جس کی مثالیں حالیہ بارشوں میں کئی دیہات کے زیرِ آب آنے سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ ناقص کارکردگی کی وجہ سے کوئی بھی ادارہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتا دکھائی نہیں دیتا۔

    آئیں اب بات کرتے ہیں ہم ناکام کیوں ہیں اور اداروں کی ناکامی کی وجوہات کیا ہیں:
    ×واٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہو یا محکمہ آبپاشی ، سب کی کارکردگی صرف فائلوں تک محدود ہے۔
    ×بلدیاتی ادارے نکاسیٔ آب پر توجہ دیتے ہیں، مگر پانی کو محفوظ کرنے کا کوئی مؤثر نظام نہیں۔
    ×ماحولیاتی ادارے صرف رپورٹس تیار کرتے ہیں، عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
    ×سیلاب کنٹرول ڈپارٹمنٹ صرف ہنگامی حالات میں متحرک ہوتے ہیں، مستقل منصوبہ بندی ناپید ہے۔

    اگر یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہو تو ریچارج ویل (Recharge Wells) کا قیام شہروں اور زرعی علاقوں میں مخصوص مقامات پر کنویں نما گڑھے کھود کر بارش کے پانی کو زیرِ زمین پہنچایا جا سکتا ہے۔

    ریگولر واٹر ہارویسٹنگ اسکیمز کو ہر ضلع کی سطح پر شروع کیا جا سکتا ہے تاکہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے۔کاشتکاروں کو جدید زرعی تکنیکوں کے ذریعے پانی کی بچت اور قدرتی ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔

    قانون سازی کے ذریعے نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تعمیراتی منصوبوں میں واٹر ریچارج سسٹم کو لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    بہرحال، اُمید کا دامن کبھی چھوڑنا نہیں چاہیے… مگر، کب تک؟

  • پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ ن صرف امیر مقام،پورا خاندان بھرتی کرلیا،دیکھیں کوئی رہ تو نہیں گیا
    کسی کوبرا لگے یا اچھا ، دنیا میں عزت اور مقام صر ف پاک فوج کو ملا،سیاست صرف گپ شپ تک محدود
    اکثر سیاسی اقتدار میں صرف پروٹو کول انجوائے کرتے رہے ،مریم نواز نے پہلی بار ہی پنجاب کا نقشہ بدل دیا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    پیپلزپارٹی ،پی ٹی آئی ہو یا جمعیت علماء اسلام ، جو کچھ سینٹ کے الیکشن میں ہوا، اس نظام زر میں سیاست نہ جمہوریت، عوام کاکوئی مقدر نہیں، سیاسی گلیاروں میں منڈی کا راج ہے،جمہوریت نہیں ہے،عوام کو اس نرکھ میں سسکنا ا ور سلگنا پڑے گا، ملکی سیاسی جماعتوں میں حاکمیت دولت کی رہے گی، سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے، پہلا اور آخری معیار دولت ٹھہرا، نورا کشتیاں ، مفادات کے تابع ہیں ، امریکہ سے مغربی ممالک اور مغربی ممالک سے مڈ ل ایسٹ تک دنیا ہماری سیاست اور جمہوریت سے مکمل آگاہ ہے، کے پی کے مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی امیر مقام اپنی فیملی میں دیکھیں اگر کوئی باقی رہ گیاہے تو اُسے بھی ٹکٹ یا عہدہ دلوانے میں دیر نہ کریں، لگتا ہے مسلم لیگ ن کے پی کے میں صرف آپ اور آپ کے خاندان تک محدود ہے، امریکہ سے لے کر مغربی ممالک مڈل ایسٹ کسی کو اچھا لگے یا بُرا ان ممالک کا اعتماد پاک فوج اور جملہ اداروں پر ہے ، دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں ایک منظم اور طاقت ور ادارہ فوج اور جملہ ادارے ہیں ، دنیا ہمارے سیاسی گلیاروں اور ہماری جمہوریت سے باخبر ہے،

    عوام ان سیاسی سوداگروں کی باتوں میں آکر ملکی سلامتی کے اداروں کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کرنے سے گریز کریں، ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ اقتدار کا حصول رہا ہے ، ان دلخراش حالات میں اگر جمہوریت سیاسی گلیاروں میں زندہ ہے تو ہر سیاسی جماعت میں بااصول شخصیات کی بدولت لیکن بااصول شخصیات کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے جو ملک میں جمہوریت ، پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین کی حکمرانی ،ایمانداری اور دیانتداری کا پرچار کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں میں موجود جمہوریت ،ایمانداری ،دیانت داری کا پرچار کرنے والے موجودہیں مگر ان کی آواز دب چکی ہے،اس وقت 25 کروڑ عوام سیاسی تماشے دیکھ ر ہےہیں ، نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے پنجا ب میں عوام کی خدمت کی مثال قائم کردی ، مریم نواز کی مقبولیت پنجاب کے نوجوان طلباء اور خواتین میں دیکھی جا سکتی ہے ، مریم نواز کا سیاسی مستقبل اُمید اور امکانات سے بھرپور ہے

  • جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    ہم ایک ایسے سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں نکاح، جو قرآن کی رو سے عبادت ہے، معاشرتی عزت کے "قانون” کے خلاف جائے تو جرم بن جاتا ہے۔ جہاں بیٹی کا مسکرانا گوارا ہے، مگر اس کا فیصلہ کرنا ناقابلِ برداشت۔ جہاں بیٹی کے ہاتھ میں اگر قرآن ہو بھی، تب بھی اس کے حقِ انتخاب پر گولی حلال اور محبت حرام سمجھی جاتی ہے۔

    حالیہ دنوں ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جس میں ایک جوڑے کو، جو مکمل شرعی نکاح کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے تھے، ایک قبائلی غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں خوشی کی تقریب کے بہانے بلایا گیا، مگر وہ دعوت کھانے کی نہیں تھی، وہ غیرت دکھانے کی تھی۔ قرآن کے سائے میں بندوقوں کے سامنے کھڑے کیے گئے ان دو انسانوں نے موت کو سامنے دیکھا، مگر پیچھے نہیں ہٹے۔ لڑکی کے ہاتھ میں قرآن تھا، اور زبان پر سکوت۔ اس نے بس اتنا کہا: "صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔”

    یہ جملہ فقط ایک جملہ نہیں تھا، یہ پوری صدیوں پر محیط خاموش چیخ تھی—اس چیخ سے بلند، جو مظلوم عورتوں نے آج تک کبھی نہ نکالی۔ لیکن جو نکاح کے دائرے میں اپنی مرضی سے جینا چاہے، اس کے لیے نہ چیخ کا حق ہوتا ہے، نہ رحم کی کوئی گنجائش۔

    ہمیں سوچنا ہوگا:
    اگر نکاح جرم بن جائے،
    اور محبت گناہ،
    تو پھر دین کی کون سی بنیاد سلامت رہے گی؟

    قرآن مجید سورۃ النساء کی تیسری آیت میں واضح ارشاد فرماتا ہے:
    "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم…”
    "نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں۔۔۔”

    یہ آیت دونوں فریقین کے انتخاب کی آزادی کو تسلیم کرتی ہے۔ نہ صرف مرد کو، بلکہ عورت کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ نکاح کے فیصلے میں اپنی پسند کو مقدم رکھے۔ یہ شریعت کا دیا ہوا اختیار ہے، نہ کہ کوئی مغربی نظریہ یا غیر شرعی دعویٰ۔ مگر افسوس، ہمارے قبائل، ہمارے معاشرتی ادارے، اور بعض اوقات ہمارے گھروں کے در و دیوار بھی اس اختیار کو بغاوت سمجھتے ہیں۔

    اصل مسئلہ غیرت نہیں، بلکہ اختیار کا ہے۔ عورت کے فیصلے کو تسلیم کرنا، ایک ایسی برابری ہے جو مردانہ انا کو قبول نہیں۔ اسی لیے جب کوئی عورت اپنی مرضی کا اظہار کرتی ہے، تو یہ "غیرت کے خلاف” گناہ قرار پاتا ہے۔ اور اس گناہ کا کفارہ صرف موت ہے—وہ بھی زندہ گواہیوں کے سامنے۔

    اسلام میں غیرت کا مفہوم عزت، حیاء، اور طہارت سے جڑا ہوا ہے۔ مگر ہم نے اسے بندوق، قتل اور دھمکی سے منسلک کر دیا ہے۔ غیرت اب ایمان کا جزو نہیں رہی، بلکہ مردانگی کے زخم پر رکھی جانے والی پٹی بن چکی ہے۔ جس کی تہذیب، تربیت اور تقویٰ سے کوئی نسبت نہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ صرف ایک بیٹی ماری گئی۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں قرآن کے ساتھ کھڑے ہونے والی کو گولی مار دی جائے، وہاں دین اور ظلم کا فاصلہ کتنا رہ جاتا ہے؟

    یہ قتل ایک لڑکی کا نہیں تھا—یہ قتل تھا اُس حق کا جو دین نے اسے دیا۔ یہ قتل تھا اُس قرآن کی سچائی کا، جسے اس نے اپنا محافظ سمجھا۔ یہ قتل تھا اُس اسلام کا، جس نے لڑکی کو دفن ہونے سے بچایا، مگر ہم نے اُسے نکاح کے بعد دفن کر دیا۔

    آج اگر ہم خاموش رہے، تو کل نہ صرف مزید بیٹیاں مریں گی، بلکہ اسلام کی روح، اس کی تعلیمات، اور اس کا پیغام بھی قاتلوں کی زبان پر رسوا ہوتا رہے گا۔

    وقت آ گیا ہے کہ ہم پگڑی بچانے کی غیرت کے بجائے بیٹی بچانے کی غیرت کو زندہ کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ قبیلے کی عدالت کے بجائے قرآن کی عدالت کو مانا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—کیا ہم قرآن کے ساتھ ہیں یا اس کے خلاف؟

    اگر معاشرہ قاتل ہے،
    تو ہمیں گواہ بننا ہوگا—
    اسلام کے، انصاف کے، اور انسانیت کے۔

  • ٹرمپ کا سچ، مودی سرکار کے لیے سونامی بن گیا

    ٹرمپ کا سچ، مودی سرکار کے لیے سونامی بن گیا

    ٹرمپ کا سچ، مودی سرکار کے لیے سونامی بن گیا
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 19 جولائی 2025 کے بیان نے بھارتی سیاست میں زلزلہ پیدا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان نے بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے۔ ان کے اس غیر متوقع بیان نے نہ صرف نریندر مودی کی حکومت کو شدید دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا بلکہ بی جے پی کے اُس بیانیے کو بھی چکناچور کر دیا جو "آپریشن سندور” کو بھارتی فتح اور مودی کی قیادت کا مظہر قرار دیتا تھا۔

    بی جے پی حکومت اس آپریشن کو ایک بڑی سفارتی اور عسکری کامیابی کے طور پر پیش کر رہی تھی، لیکن ٹرمپ کے انکشاف نے سوالات کی ایک نئی لہر کو جنم دے دیا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے فوری طور پر اس موقع کو سیاسی حملے کے لیے استعمال کیا۔ راہول گاندھی نے ایکس پر ٹرمپ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہاکہ "مودی جی، پانچ طیاروں کا سچ کیا ہے؟ قوم جاننا چاہتی ہے۔” کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ حکومت آپریشن سندور کے نقصانات اور جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے۔ اُنہوں نے کارگل ریویو کمیٹی کی طرز پر ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن بنانے کی بھی تجویز دی۔

    پارٹی کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے یہ الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے جان بوجھ کر جنگی نقصانات کو چھپایا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ انڈونیشیا میں تعینات بھارتی دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار نے نجی ملاقاتوں میں تسلیم کیا ہے کہ پانچ طیارے تباہ ہوئے تھے، لیکن حکومت نے خاموشی اختیار کی۔ پون کھیڑا نے ایکس پر لکھا کہ مودی اپوزیشن سے اس لیے بھاگ رہے ہیں کہ وہ سچ کو سامنے لانے سے قاصر ہیں۔

    متعدد اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے، آل پارٹی کانفرنس کرنے اور مودی حکومت کو مکمل شفافیت کے لیے مجبور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بینرجی نے الزام لگایا کہ مودی کی جارحانہ خارجہ پالیسی نے بھارت کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ ایکس پر ہزاروں صارفین نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو ناکام اور عوام دشمن قرار دیاجبکہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ تک کہا گیا کہ فوج اور عوام دونوں سطحوں پر بے چینی بڑھ رہی ہے۔

    معروف صحافی کرن تھاپر نے لکھا کہ "آپریشن سندور ایک جھوٹی سیاسی کہانی تھی، جس کا مقصد بی جے پی کی گرتی ساکھ کو وقتی سہارا دینا تھا۔” دفاعی تجزیہ کار اجے ثانی نے کہا کہ میڈیا نے جان بوجھ کر حقائق کو چھپایا تاکہ مودی حکومت کی ناکامی بے نقاب نہ ہو۔

    اس تمام پس منظر میں معاشی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے احتجاج اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز پالیسیوں نے حکومت کے لیے زمین مزید کھسکنے جیسی کر دی ہے۔ ہندوتوا پر مبنی طرز حکمرانی اور میڈیا کی یکطرفہ حمایت نے عوامی غصے میں مزید شدت پیدا کی ہے۔ اپوزیشن اتحاد "انڈیا” نے ان تمام عوامل کو جوڑ کر بی جے پی کو آمرانہ، غیر شفاف اور عوام دشمن حکومت قرار دیا ہے۔

    اس پورے تنازع میں ایک اور پہلو یہ ہے کہ مودی حکومت عالمی سطح پر بھی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ پاکستان کے خلاف جنگ بندی کے فیصلے کو بی جے پی نے دو طرفہ سفارتی کامیابی قرار دیا، مگر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی مداخلت نے اسے بھارتی خودمختاری پر سوالیہ نشان بنا دیا۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے اگرچہ اسے دوطرفہ مشاورت کا نتیجہ قرار دیا مگر اپوزیشن اسے امریکی دباؤ کا نتیجہ سمجھتی ہے۔

    عالمی سطح پر مودی حکومت کو میانمار میں کی گئی فوجی کارروائیوں پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہے، جسے بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کا حالیہ انکشاف ان تمام چیلنجز کو ایک جگہ سمیٹ کر بی جے پی کے بیانیے پر کاری ضرب لگا چکا ہے۔

    اب مودی حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس سونامی کا سامنا کس طرح کرتی ہے۔ کیا وہ حقائق کو سامنے لا کر شفافیت کا راستہ اپنائے گی یا ہمیشہ کی طرح میڈیا، بیانیے اور جارحانہ تقاریر کے سہارے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کرے گی؟
    یا پھر کوئی اور فالزفیلگ اپریشن کے راستے پر چلنے کی کوشش کریگی،جیسا مودی سرکار ماضی میں کئی بار ایسا کرچکی ہے.

    وقت بتائے گا کہ ٹرمپ کا سچ مودی سرکار کے لیے اٹھنے والا سونامی کس سمت بہتا ہے،کیا یہ صرف بی جے پی کے سیاسی بیانیے کو بہا کر لے جائے گا یا اقتدار کی بنیادیں بھی ہلا ڈالے گا؟

  • آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی

    آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی

    آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آج 20 جولائی 2025 کو پاکستان کے بڑے اخبارات جیسے ڈان، جنگ، ایکسپریس، نوائے وقت اور بی بی سی اردو کے اداریوں اور خبروں میں عوام کو درپیش گوناگوں مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان مسائل پر نہ صرف پرنٹ میڈیا میں کھل کر بات کی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر بھی یہ موضوعات ٹرینڈ کر رہے ہیں، جو عوام کی بے چینی، مایوسی اور حکمرانوں کی بظاہر بے حسی کو واضح طور پر دکھاتے ہیں۔ ان تمام مباحثوں سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عوامی درد شدت اختیار کر چکا ہے اور حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کی کمی اس درد میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

    ملک میں سیلاب اور واٹر مینجمنٹ کا مسئلہ ہر سال معمول کا بحران بن چکا ہے اور اس سال بھی اس پر کھل کر بات کی گئی ہے۔ ڈان کے ایک اداریے نے سیلاب کو پاکستان کا "معمول بن جانے والا بحران” قرار دیا، جو واٹر مینجمنٹ کے فقدان اور ڈیموں کی تعمیر میں سیاسی و قوم پرست رکاوٹوں کا نتیجہ ہے۔ یہ اداریہ صرف پانی کی تباہ کاریوں کا ذکر نہیں کرتا بلکہ اس کے پیچھے کارفرما سیاسی رکاوٹوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس اور قوم پرستی کی سیاست کے خاتمے سے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی تجویز ہے جو سالہا سال سے دہرائی جا رہی ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے عوام کے اندر شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ واٹر مینجمنٹ کے مسائل، جیسے پانی کی قلت اور تباہ کن سیلابوں کا غیر متوازن سلسلہ، ملک کی زرعی معیشت اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس مسئلے پر شدید بحث جاری ہے، جہاں ایک صارف @Khyousufzai90 جیسے افراد ڈان کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیموں کی تعمیر میں سیاسی رکاوٹوں پر تنقید کر رہے ہیں اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ یہ عوامی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ مسئلے کی جڑ کو سمجھتے ہیں لیکن حکمرانوں کی جانب سے ٹھوس حل نہ ہونے پر نالاں ہیں۔

    امن و امان کی صورتحال ملک بھر میں بالخصوص خیبرپختونخوا میں بدستور ایک تشویشناک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایکسپریس نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تفصیلی تبصرہ کیا ہے، جہاں علی امین گنڈاپور نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال کس قدر سنگین ہے کہ صوبائی حکومت کو تمام فریقین کو ایک میز پر لانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ڈان نے انسداد دہشت گردی کے عدالتی فیصلوں اور مقدمات کی منتقلی کے بارے میں لکھا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ان عدالتی فیصلوں اور مقدمات کی پیچیدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف فوجی کارروائیوں سے حل ہونے والا نہیں بلکہ ایک جامع قانونی اور عدالتی نظام کی بھی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں ہونے والی شہادتوں پر والدین کے صبر اور حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت کی ناکامی پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق انصاف کی مانگ آج بھی سوشل میڈیا پر ایک اہم موضوع ہے، جہاں ان کے خاندان کی جدوجہد کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ عوامی احساسات کا آئینہ دار ہے کہ وہ انصاف اور امن کی فراہمی میں حکومت کی جانب سے مزید فعال کردار کے منتظر ہیں۔

    ملک کی معاشی صورتحال بھی عوام کے لیے ایک مستقل درد سر ہے۔ ڈان نے فری لانس اور ریموٹ ورک سیکٹر کی ترقی پر روشنی ڈالی ہے، جہاں برآمدات میں 90 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 77 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مثبت پہلو ہے اور معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم یہ خوش آئند خبر ملک کی مجموعی معاشی مشکلات کو چھپا نہیں سکتی۔ اے آر وائی نیوز اور آج ٹی وی نے سونے کی قیمتوں میں اضافے اور موٹر سائیکل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر بات کی ہے، جو عام صارفین پر معاشی بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو براہ راست ہر طبقے کے افراد کو متاثر کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین مہنگائی کے اثرات اور حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی یہ لہر عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس سے زندگی گزارنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور حکومت سے اس پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ عوامی سوچ یہ ہے کہ جب تک بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں نہیں آتی، معاشی ترقی کے دعوے بے معنی ہیں۔

    کشمیر ایشو بھی ایک ایسا دیرینہ مسئلہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عوامی جذبات کا اہم حصہ ہے۔ ڈان اور نوائے وقت نے کشمیر سے متعلق تاریخی اور موجودہ حالات پر تبصرہ کیا ہے، خاص طور پر 19 جولائی 1947 کو پاکستان سے الحاق کی قرارداد کی یاد تازہ کی گئی ہے۔ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو "وحشیانہ اقدام” قرار دیا گیا ہے، جو کشمیری عوام کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ مسئلہ ہر پاکستانی کے دل میں بسا ہوا ہے اور اس پر حکومتی غیر فعالیت عوام کو مزید پریشان کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت میں آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اس مسئلے پر کسی قسم کی کمپرومائزنگ پوزیشن قبول کرنے کو تیار نہیں۔ حکمرانوں کی جانب سے اس مسئلے پر عملی اقدامات کا فقدان عوامی بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔

    صحت اور سماجی مسائل بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو اور نوائے وقت نے اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار ہلاکت کے کیس میں پیش رفت پر تبصرہ کیا ہے، جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹس میں کوئی زہریلی یا نشہ آور چیز نہ ملنے کی بات کی گئی ہے۔ اس کیس میں شفافیت اور انصاف کی فراہمی کے لیے عوامی دباؤ مسلسل موجود ہے۔ اس کے علاوہ، نوائے وقت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومتی رویے پر شدید تنقید کی ہے۔ یہ وہ سماجی مسئلہ ہے جو طویل عرصے سے عوام کے ذہنوں میں موجود ہے اور ان کی رہائی کے لیے ایکس (سوشل میڈیا) پر بھی ایک بھرپور مہم جاری ہے۔ عوامی سوچ یہ ہے کہ حکومت کو اپنی بیٹی کی رہائی کے لیے مزید سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں اور موجودہ رویہ حکمرانوں کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مسائل انسانی حقوق اور ریاستی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

    تعلیم اور سرکاری اصلاحات کی ضرورت پر بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ڈان نے سرکاری افسران کی بھرتی، ترقیاور تربیت کے نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا ہے، جیسا کہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس میں بتایا۔ یہ اصلاحات ملکی ترقی اور گڈ گورننس کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم، ان اصلاحات کا صرف اجلاسوں میں ذکر کرنا کافی نہیں بلکہ ان پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر تعلیم کے معیار اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان پایا جاتا ہے اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ حکومت اس شعبے میں حقیقی بہتری لائے گی۔

    مجموعی طور پر آج کے اخبارات اور سوشل میڈیا پر زیر بحث تمام مسائل پاکستان کے عام شہری کے روزمرہ کے درد کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے لے کر امن و امان کی خراب صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی، کشمیر کے حل طلب مسئلے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسے سماجی معاملات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر شعبے میں عوام حکومت کی جانب سے فوری، مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کے منتظر ہیں۔ کیا حکمران واقعی عوام کی اس بے چینی، اضطراب اور مایوسی کو محسوس کر رہے ہیں یا یہ درد صرف اداریوں اور سوشل میڈیا کی زینت بن کر ہی رہ جائے گا اور حکومتی بے حسی بدستور برقرار رہے گی؟