Baaghi TV

Category: بلاگ

  • افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

    افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

    جن احباب کو افغانستان کی تاریخ کا علم نہیں تو ان کی معلومات کے لئے یہاں ایک تاریخی حقیقت بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
    تاریخ میں افغانستان پہ کسی غیر ملکی طاقت یا حکمران نے دو دفعہ حکومت کی ہے۔ ایک اشوک اعظم اور دوسرا اکبراعظم نے۔ اس کے علاوہ افغانستان پہ اج تک کسی نے حکومت نہیں کی ہے۔ اب کچھ دوست کہیں گے بھائی امریکہ نے حکومت کی تو عرض ہے امریکہ نے حکومت نہیں قبضہ کرنے کی کوشش کی جو وہ ناکام و نامراد ہوکے چلی گی۔

    اب آئے ذرا تفصیل سے موجودہ صورت حال پہ روشنی ڈالتے ہیں۔ امریکی انخلاء کے بعد افغان کا ماضی کیا ہوگا؟ اس پہ ہر کسی نے اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہئں اور مختلف قیاس آرائیاں اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم بھی چند گزارشات اپ کے نظر کرتے ہیں ۔
    ایک اہم بات امریکی گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان پہ مکمل کنڑول کبھی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ اس کا شہری علاقوں پہ قبضہ رہا جبکہ دہاتی علاقوں پہ طالبان کی حکومت رہی ہے۔ چونکہ افغانستان ایک قبائلی معاشرہ ہے اسلئے یہاں کوئی منظم اور مضبوط حکومت کبھی نہیں رہا ہے۔ افغانستان کے گیارہ فیصد علاقہ شہری ہے جبکہ انانوے فیصد حصہ دہاتی ہے اور وہ بھی پاکستانی دہات کی طرح نہیں۔ افغان کے دہات ایک خالص قبائلی اور مزہبی ذہنت کے لوگوں پہ مشتمل ہیں۔ جو موجودہ دور میں بھی قرون وسطی جیسی سوچ ہے۔ پسماندہ قبائلی روایات بہت مضبوط ہے۔

    موجودہ طالبان بھی وہ طالب نہیں رہے جو روس کے خلاف استمال ہوے تھے۔ اب یہ لوگ گزشتہ بیس سالوں سے امریکیوں سے لڑ لڑ کے سمجھ چکے ہیں کہ ریاست چلانے کےلے معاشی و سیاسی نظام بنانا ضروری ہوتا ہے۔ اب جب اچانک امریکہ باگ نکلا تو افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ اس کی وجہ امریکہ جاتے ہوے اپنا اسلحہ ساتھ لے کے نہیں گیا بلکہ اسے افغانستان میں چھوڑ کے جا رہا ہے۔ ابھی اگر وہ اسلحہ دائیش اور اِئی ایس جسے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا تو خطے میں امن کےمسائل پیدا ہونگے۔ ایسے میں اس خطے کے ممالک کو اس حوالے ضرور اپنی حکمت عملی بنانا ہوگا ۔پاکستان، ایران، روس، چین، تاجکستان، ازبکستان سمیت دوسرے ممالک اس وقت افغانستان کے معاملے پہ بہت سنجیدگی سے غورکر رہے ہیں ۔وہ کسی صورت افغانستان میں خانہ جنگی ہونے نہیں دینگے۔ اس حوالے سے اگست کا مہنہ بہت اہم ہے۔ میری راے میں اگست تک یا اس کے بعد افغانستان میں ایک ایسی حکومت ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس میں تمام فریق اپس میں مل کے نظام حکومت بنائیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو بھی حکومت ہوگی اسے بہت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ معاشی طور پہ اور دفاعی طور پہ بھی۔ کیونکہ افغانستان اس وقت شدید افراتفری اور معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ مختلف مفادات رکھنے والے وار لارڈز اور مسلح جھتوں کا ایک جنگل بن چکا ہے۔ جسے صاف کرنے میں کچھ عرصہ تو ضرور لگے۔

    امید ہے خطے کے ممالک افغانستان کو اس دلل سے نکالنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے اور ایک دفعہ پھر پر امن افغانستان ابھرے گا اور خطے کے ترقی کے لے اپنا کردار ادا کرے گا.

  • حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی ولی رح (1703 میں پیدا ہوے اور 1763 میں وفات پاگے ہیں ۔اج ہم شاہ صاحب کے ایک مختصر سا تعارف اپ کو کرواتے ہیں جو شاہ صاحب کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بہت کم سننے کو ملتا ہے۔ شاہ صاحب نے اپنا فلسفہ تب دیا جب یورپ اپنے جدید دور سے ابھی کئی دہائیاں دور تھا اور مارکس کے فلسفے سے تقریبا ایک صدی پہلے۔ ، شاہ ولی اللہ ہندوستانی معاشرے ، اس کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے پیشن گوئی کے نظریات پیش کررہے تھے۔ اس کے خیالات بڑے پیمانے پر انسانیت کے لئے امید کی کرن ہیں۔

    دور حاضر کے ذہنوں کو اسلام کے بنیادی خطوط بیان کرنے کے لئے شاہ ولی اللہ نے اپنی شاہکار کتاب حجت اللہ البلغا لکھا جس میں شاہ صاحب نے اسلامی نظام کے حوالے سے ایک بہترین نظریہ دیا۔ انہوں نے اپنے قلم کی طاقت کو مذہبی ، سیاسی اور معاشی امور کے بارے میں لکھنے کے لئے استعمال کیا۔ ایک طرف انہوں نے نظام حکومت کو صیح طور پہ نہ چلانے پر ہندوستانی حکمران کو تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری طرف انہوں نے تعلیم یافتہ طبقہ کو سیاسی اور معاشی میدان میں اصلاح کے مطالبے پر دھیان دینے پر راضی کیا۔ انہوں نے بادشاہت کے خاتمے کی حمایت کی اور اس کی جگہ ایک نئے سیاسی نظام لانے کی بات کی۔ جس کو ٹیکنوکریسی یا اداراجاتی نظام کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ مطلب اب جو دور دور اے گا اس میں شخصی ویلو نہی بلکہ ادارے فیصلہ کرینگے۔ ہر فیلڈ کا ماہرین کا ایک گروپ ہوگا کو مشاورت سے کام کرینگے۔

    شاہ ولی اللہ کے معاشی خیالات انسانیت پسند تھے۔ اپ نے کام کاج کے اوقات کار چھے گھنٹے مختص کے تھے تاکہ انسان اپنے اولاد کو تربیت بھی دے سکے۔ فلسفیانہ دائرے میں شاہ ولی اللہ نے ایک ایسا نظریہ پیش کیے جو دنیا کے تمام مذاہب کو قریب لاسکتے ہیں۔ انہوں نے چار بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی جو تمام مذاہب میں موجود تھیں: آخبات طہارت ، ، سماحت اور عدالت۔ مختلف مذاہب کی پیروی کرنے والے معاشروں کو شاہ ولی اللہ کے افکار پر مبنی نظام کے ضریعے آج بھی قریب لایا جاسکتا ہے۔شاہ صاحب اسلام معاشی سیاسی اور عدلتی نظام پہ مکل بحث کرتے ہیں ۔معاشی نظام کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں ۔کسی معاشرے میں دولت چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں نہی بلکہ معاشرے میں سرکولیٹ ہونا چاے۔ تاکہ ہر انسان کے مسلہ حل ہوجاے۔ دولت کی تقسیم جو محاذ محنت کے بنیار پر یا پیسوں کے بنیاد پہ تقسیم نا کی جاے بلکہ ضرورت کو مد نظر رکھا جاے۔ انشااللہ ہم شاہ صاحب کو جو معاشی فلسفہ ہے اس پے اگے لکھتا رہونگا۔

  • بجلی والو! بوں۔۔۔۔۔۔۔۔او  تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    بجلی والو! بوں۔۔۔۔۔۔۔۔او تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    ملک عزیز کے سارے سرکاری و نیم سرکاری محکمے کامل ہڈحرامی و ناکامی کے بے مثل نمونے ہیں لیکن محکمہ واپڈا اس معاملے میں کئی خاص اعزاز رکھتا ہے ۔

    پورے ملک میں بلا تخصیص رنگ و نسل گالیاں کھانے کا جو مقام اب تک اس محکمے نے بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل کیا ہے اس کے لئے اک خاص قسم کی بے عزتی پروف مادہ چاہئے ہوتا ہے جو خدا تکبر سے بچائے اس کے پاس بے حد کی حد سے بھی زیادہ ہے۔

    اجی! موسم نے تیور دکھائے نہیں اور انہوں نے ٹھانی نہیں کہ عوام الناس کی صحیح چیخیں نکالنی ہیں ۔اب بندہ پوچھے کہ حضور آپ نے لوڈ شیڈنگ کرنی ہے جم جم کریں تہتر کے آئین کے تناظر میں اور موجودہ حکومت کی عوام دوستی کے وسیع تر تناظر میں یہ آپکا سرکاری حق ہے لیکن اگر عوام کو مطلع کر دیا جائے کہ اس "وقت سے لے کر اس وقت تک” آپ نے پسینے میں نہانا ہے، جنرییٹر بابو کو تکلیف دینی ہے یا ہمیں گالیاں نکالنی ہیں تو اس میں آپ کا کیا جاتا ہے۔

    اب حال یہ ہے کہ پرانی گالی منہ میں ہی ہوتی ہے کہ لائٹ آکر پھر جاچکی ہوتی ہے ۔کوئی نظام الاوقات نہیں کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ۔

    گرڈ اسٹیشن والے اپنی مرضی سے تو بٹن نیچے نہیں کرتے ہوں گے ان کے پاس کہیں سے تو کوئی حکم نامہ آتا ہوگا ۔ظالمو وہی سرکولیٹ کردیا کرو ۔کم سے کم کسی درجہ تو سکون ملے کہ امتحان اتنے گھنٹے ہے ۔اتنی مدت کے بعد بجلی آہی جائے گی ۔ موجودہ دور میں کونسا مشکل کام ہے۔

    مگر محکمہ سرکاری ہو اور عوام کا فائدہ، سوچنا بھی نا۔۔۔

    تحریر ۔ ڈاکٹر راہی
    @IamRahiii

  • پیروی پرعمل اور تضاد . تحریر: سہیل احمد

    پیروی پرعمل اور تضاد . تحریر: سہیل احمد

    آج کل عید الاالضحئ کیلیے بہت اہتمام کیا جا رہا ہے ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑا مسلمان ثابت ہونے کیلیے بے دریغ پیسا خرچ کیا جا رہا ہے.ہر کوئی اپنی استطاعت کے بل بوتے پر ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور مہنگا جانور لینے کی ریس میں لگا .اس میں حرج بھی نہیں بس میرا اپنا ماننا یے ار ناقص العقل کی بدولت عرض کرنے پر مجبور بھی ہوں کی شاید اسکے دل میں اتر جائے میری بات ورنہ جیسے گزرا دن ویسے گزر جائے گی رات اب بات کرتا ہوں محلوں کی آپ اس بات سے اتفاق اس لیے کریں گے کیونکہ پڑھنے والوں میں ہر کوئی مریم نواز یاں سیٹھ عابد کا رشتہ دار نہیں .اللہ تعالئ نے کسی کو جاب عطا کی تو کسی کو اپنا بزنس. گزارہ تو عمران خان صاحب کی حکومت میں کرنا اب تھوڑا مشکل کیونکہ ہمیں عادت نہیں ہے ایف بی آر کی لسٹ میں اپنا نام ٹاپ پر لکھوانے کی. محلوں میں ماشاءاللہ بہت رونق ہوتی ہے کچھ معاملات میں ہم ایک دوسرے کے حق میں بھی چل پڑتے ہیں.

    کیسا وقت آگیا ہے کہ گلی میں ایک بزنس مین اور اسکے سامنے 50 سال سے ساتھ رہنے والا اسی کا ہمسایہ.جو کہ انتہائی غریب ہے .
    سیٹھ ہر سال 10 بکرے اور 2 3 گائے یاں اونٹ قربانی کیلیے لے آتا ہے. جبکہ غریب ہمسایہ شاید سال میں ایک آد بار ہی گوشت کو دیکھتا ہو گا.کیسا عجیب اتفاق ہے. ہیں دونوں ان پڑھ . پر حیثیت میں اوپر نیچے. کیا خوب کہا تھا کسی نے رب رزق دیندا نہ عقلاں نال نہ شکلاں نال رب نوازدہ اپنی مرضی نال.

    خیر سوال یہ تھا کہ کیا ہماری اتنی بڑی قربانی کو اللہ قبول فرمالے گا جبکہ ہم اپنے ہمسائے کے دل دکھانے میں جلتی پر تیل کا کام تو نہیں کر رہے.کیونکہ ہمسائے کے حقوق آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں . کیا اتنی بڑی قربانی کرنا بہتر ہے یاں اس غریب ہمسائے کو اپنے پیروں پر کھڑے کرنے کیلیے اس کے روزگار کیلیے مالی امداد کرنا.

    دوسری بات جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ رکاوٹیں ہٹانے پر بہت زور دیا گیا ہے اور راستوں میں مت بیٹھو وغیرہ وغیرہ.
    تو کیا ہم ٹھیک کر رہے ہیں جو اپنی حیثیت اور غفلت کی بنا پر عید کے تہوار کی بدولت اپنے جانوروں کےلیے گلیوں میں گیٹ لگوا رہے ہیں یاں قنات لگوا کر اپنی ہٹ دھرمی کا ثبوت دے رہے ہیں جبکہ اس کی بدولت عام شہری یاں آپکا ہمسایہ آپ سے بہت دکھی ہے.
    کیا ہمارا مزہب اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے ? کیا ہماری پرانی روایات اس سے مختلف نہیں تھیں . کیا ہم سب بھول کر اپنے آپ کو بخشوالیں گے. کیا ہمارا دکھی ہمسایہ قیامت والے دن ہمیں معاف کر دے گا.

    خدارا سوچیے
    ہم کس طرف جا رہے ہیں
    اپنے آپ کو پہچانیے

    @iSohailCh

  • ‏ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا   ریاست ہماری ماں

    ‏ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا ریاست ہماری ماں

    ہم میں سے بہت سے لوگ اکثر یہ کہتے ہیں ریاست ہمیں کیا دیتی ہے؟؟؟ ہمارے لیے کرتی ہی کیا ہے؟؟؟ 

    کبھی ان لوگوں نے خود سے سوال کیا ہے کہ یہ ریاست کو کیا دیتے ہیں ؟؟؟ یہ ریاست کے لیے کیا کر رہے ہیں ؟؟؟

    من حیث القوم ہم اپنی اصلاح کرنے کی بجائے ہمیشہ ریاستی اداروں کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ 

    کوئی سانحہ رونما ہو جائے تو فوراً کہنا شروع ہوجاتے۔ ریاست سو رہی ہے۔ اس کے بس کی بات ہی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنی ریاست کے لیے اپنے وطن کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ 

    سب سے پہلے تو پراپیگنڈہ کرنے میں ہم لوگ ہی پیش پیش ہوتے ہیں۔ تحقیق کی ہمیں بالکل بھی عادت نہیں ہے۔ بس جس طرف سیاسی مفاد پرست ٹولے ہمیں ہانک دیتے ہم اسی طرف بنا سوچے سمجھے چل پڑتے ہیں۔ 

    اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے۔ وطن کے مفاد کی بات آئے تو ریاست ہی ذمہ دار ہے۔ بھارتی عوام اپنی ریاست کے ہر جھوٹ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے مگر افسوس ہماری قوم اپنی ریاست کے سچ کا ساتھ بھی نہیں دیتی۔ غداروں کی جھوٹی باتیں ہی سچ لگتی ہیں۔ اسی روش نے ہمیں سیاسی, مذہبی ٹولیوں میں بانٹ رکھا ہے۔ 

    پاکستان کے سبھی اداروں کا ساتھ دینا پاکستان کا ساتھ دینا ہے۔ تنقید برائے اصلاح کیجیے مگر پراپیگنڈہ نہیں۔ 

    ہماری ریاست کی فلاح اسی میں ہے کہ ہم مخلص ہو کے سبھی اختلافات ختم کر کے اس کے لیے کام کریں۔ اپنے اپنے شعبوں میں اخلاص کے ساتھ,  ایمانداری اور محنت کے جزبے سے کام کریں تاکہ ہمارے ادارے مضبوط ہوں۔ 

    ہماری ریاست ہمارا فخر ہے۔ 

    اللہ ہم سب کا پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

    ‎@DoctorZunera

  • "ڈپریشن” ایک بیماری اوراسکا علاج .  تحریر : لائبہ طارق

    "ڈپریشن” ایک بیماری اوراسکا علاج . تحریر : لائبہ طارق

    آجکل ہردوسرے نوجوان میں ایک چیزمشترکہ پائی جا رہی ہے وہ ہے ڈپریشن.
    ڈیپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جو آپ کے مزاج یعنی جسطرح سے آپ خود کو اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو سمجھتے ہیں اسکو متاثر کرتی ہے۔ اسکے مختلف نام ہیں جیسا کہ کلینیکل ڈپریشن(Clinical Depression)، میجر ڈیپریشن کی بیماری (Major Depressive Disorder) یا Major Depression ہے۔

    ڈیپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو بغیر کسی وجہ کے سامنے آسکتی ہے اور یہ بیماری ایک لمبے عرصے تک ہوسکتی ہے۔ ڈیپریشن کوئی غم یا موڈ خرابی کا نام نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک چیز کا نام ہے ۔ جو لوگ ڈیپریشن سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ لوگ خود کو بیکار اور بے یار و مددگار محسوس کرتے ہیں۔ وہ بغیر کوئی وجہ کے خود کو مجرم محسوس کرتے ہیں۔

    کچھ لوگ ڈیپریشن کا سامنا غصے اور چڑچڑاپن کی صورت میں کرتے ہیں جس سے نا صرف توجہ دینے یا فیصلے کرنے میں انکو مشکل پیش آتی ہے بلکہ زیادہ تر لوگ ایسی چیزوں میں دلچسپی کھو دیتے ہیں جن سے وہ عام زندگی میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسکی وجہ سے ہی وہ خود کو بھی دوسروں سے الگ کر دیتے ہیں۔

    ان کے علاوہ ڈیپریشن کی جسمانی علامتیں بھی ہیں، جیسے کہ نیند، بھوک، توانائی اور نامعلوم درد یا تکلیف کے مسائل شامل ہیں۔ کچھ لوگ اس بیماری میں موت یا اپنی زندگی کے خاتمے (خودکشی) کے بارے جیسے مشکل خیالات کا تجربہ سے گزرتے ہیں۔ ڈیپریشن دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک رہتی ہے اور عموماً یہ بیماری خود ختم نہیں ہوتی ہے جو آپکی پوری زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

    ڈپریشن سے نکلنے کے لیں اپنی طرز زندگی بدلیں پہلا قدم اٹھانا ہمیشہ سب کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اپنے سکون کے لیے انسان کو کوشیش کرنی ہوتی ہے ۔اپنی زندگی میں ان لوگوں اور چیزوں کو شامل کر لیں جن سے آپکو خوشی ہو مثال کے طور پر سیر کیلئے جانا یا اپنی پسندیدہ موسیقی پر رقص کرنا یہ آپ کے موڈ کو بوسٹ اپ اور آپکو کافی حد تک انرجی دے سکتا ہے اپنی پسند کا کھانا تیار کرنا یا کسی پرانے دوست سے ملنے جانا ۔ ان چھوٹے لیکن مثبت اقدامات سے آپ ڈیپریشن جیسی بیماری سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپ خود کو خوشحال، صحت مند اور پر اُمید محسوس کرینگے،
    اپنی نیند کا خاص خیال رکھیں ۔نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے انسان چڑچڑا ہو جاتا ہے ۔اگر آپ نے اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات اٹھاۓ ہیں لیکن طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں آنے کے بجائے ڈیپریشن مزید بڑھ رھا ہے تو پھر ضروری ہے کہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں۔

    ماہر نفسیات کے پاس جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کے آپ پاگل ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ کو خود سے پیار ہے اور اپنے اپ کو ٹھیک کرنے کے لیے مدد لے رہے ہیں ۔ماہر نفسیات تھراپی اور کونسلنگ سے آپکے مسئلے کو حل کرتا ہے اور آپ خود کو ایک بہتر انسان محسوس کرتے ہیں۔ اپنی زندگی سے منفی سوچ کو نکال دیں اور اپنے ذہنی صحت کو بھی اتنا ہی سیریس لیں جتنا جسمانی صحت کو لیتے ہیں۔

    صحتمندی اورپھرذھنی صحتمندی ایک نعمت ھے اسکی قدرکریں۔

    @LaaybaTariq

  • تحریر: اصغر بلوچ  ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

    تحریر: اصغر بلوچ ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

    ڈیرہ غازی خان کا شمار پاکستان کے سیاحتی مقامات میں سے ہوتا ہے
    قدرت نے ڈیرہ غازی خان کو سبز پہاڑوں سے ڈھانپ رکھا ہے
    آئیں آپکو لیں چلتے ہیں ڈیرہ غازی خان کا مری
    یعنی فورٹ منرو
    ڈیرہ غازی خان کا فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان کے لوگوں کے لیے مری سے کم نہیں ہے  جہاں گرمیوں میں بھی شدید سردی ہوتی ہے فورٹ منرو چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں میں چھپا ہوا علاقہ ہے جس کا حدود بلوچستان سے بھی ملتا ہے اور یہ ٹرائبل ایریا کہلاتا ہے یہ علاقہ بلوچ لیوی کے کنٹرول میں ہوتا ہے
    فورٹ منرو میں خوبصورت پہاڑ اور چین کی مدد سے بنایا گیا ایک خوبصورت اسٹیل پل سیاحوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے ڈیرہ غازی خان میں شدید گرمی کی وجہ سے کافی لوگ نقل مکانی کرکے فورٹ منرو چلے جاتے ہیں جہاں گرمیوں کا موسم گزارنے کے بعد واپس آجاتے ہیں
    فورٹ منرو میں اونچے سرسبز پہاڑ اور پہاڑوں سے نیچے بادل لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں یہاں گرمیوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے
    فورٹ منرو میں بارشوں کا سلسلہ ہر دوسرے دن جاری رہتا ہے
    ڈیرہ غازی خان فورٹ منرو قدرت کا حسین کرشمہ ہے
    پاکستان بھر سے آئے سیاحوں کا دل جیت لیتا ہے
    اگر آپ بھی اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو بلاخوف خطر آپ تفریح کے لیے آسکتے ہیں
    تحریر MAsgharBloch

  • ‏قربانی کا فلسفہ . تحریر : فہد ملک

    ‏قربانی کا فلسفہ . تحریر : فہد ملک

    مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے۔ قربانی حضرت سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت (محمدیہ) کیلئے باقی رکھی گئی ہے۔ ہرصاحب نصاب مسلمان پر قربانی واجب ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قربانی کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا.

    فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَا نْحَرْ 
    "پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو”

    قربانی ایک ایسی عبادت ہے کی اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت سیّدنا اسماعیل علیہ السلام کی جان کے فدیہ میں دنبہ دے کر اسے مقرر کیا۔
    ارشاد بانی ہے
    وَفَدَينٰهُ بِذِبٌٍِح عَظِيمٍ
    "ہم نے ایک بڑا دنبہ اسکے فدیہ میں دے کر اسے بچا لیا”

    قربانی اسلام شعار اورنعمت الہی ہے۔ تقوی پرہیز گاری اور رضائے الٰہی کیخاطر دی جانے والی قربانی کو اللّٰہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔
    ارشاد بانی ہے:
    "اللّٰہ تعالٰی کو ہرگز ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ہی انکے خون، ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک باریاب ہوتی ہے”

    اللّٰہ تعالٰی کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا نہایت ہی پسندیدہ امر ہے۔ عیدالاضحٰی کے ایام میں خالق کائنات کو قربانی سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں۔ قربانی کا دن اللّٰہ تعالٰی کے ہاں بہت عظیم دن ہے۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
    "یقیناً اللّٰہ تعالٰی کے ہاں سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے”

    ثواب کی نیت سے قربانی کرنا آتش جہنم سے روکاوٹ کا باعث ہے
    حضرت سیّدنا عباس رضہ اللہُ تعالٰی سے روایت یے
    "جو مال عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا،اس سے زیادہ کوئی مال پیارا نہیں”
    سنت ابراہیمی کو پورا کرنے کی غرض سے دبح کئے جانے والے جانور کے ساتھ ساتھ اپنی شہرت ریاکاری اور دنیاوی خواہشات کو بھی قربان کیا جائے۔ اور خالصتاً رضائے الٰہی اور تقویٰ پرہیزگاری کے حصول کیلئے قربانی پیش کی جائے۔
    کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی ہمارے جانور کے گوشت اور خون کی حاجت نہیں وہ ہمارا جذبہ قربانی اور تقویٰ کو ملاحظہ فرماتا ہے۔دعاہے اللّٰہ تعالٰی سب کی قربانی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمِین۔

    ‎@Malik_Fahad333

  • میں کیوں نا کپتان کو سپورٹ کرو . تحریر : عامر خان

    میں کیوں نا کپتان کو سپورٹ کرو . تحریر : عامر خان

    مخلوقِ خدا جب کسی مشکل میں پڑی ہو,
    سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہی ہوتی,

    ہر شخص سر پر کفن باندھ کر نکلے,
    حق کے لئے لڑنا تو بغاوت نہی ہوتی.
    (حبیب جالب)

    جب ضیاء دور ختم ھوا اس وقت پاکستان کے تمام ادارے منافع دے رہے تھے پاکستان سٹیل ملز PIA ریلوے واپڈا OGDC ریڈیو پاکستان پاکستان ٹیلی وزن ptcl وغیرہ وغیرہ تمام کے تمام منافع کمال رہے تھے پاکستان پر قرضہ نہ ہونے کے برابر تھا
    پاکستان میں گھی 25 روپے پیڑول 11روپے 75پیسے ڈیزل 9روپے 25 پیسے آٹا 150 روپے چینی دال چاول سب کچھ چند روپوں میں ملتا تھا ضیاء دور کے بعد ppp /pml اور مشرف نے حکومت کی 2018 تک گھی دال چینی ڈیزل پٹرول آنا کہاں چھوڑ گے آپ بتا دیں کیا اس درمیان عمران خان نے حکومت کی ؟؟؟ یقیناً نہیں ۔

    پھر اس کا زمہ دار کون سابقہ حکمرانوں نے صرف مہنگائی کی ہوتی بلکہ ۔ 2018 میں جب یہ کرپٹ حکمران گئے تو سٹیل مل بند تھی نہ صرف بند تھی بلکہ اربوں نقصان میں تھے ملزمین صرف تنخواہیں لے رہے تھے pIA جو دنیا کی نمبر ون تھی تباہ ہوچکی تھی بلکے اربوں کے خسارے میں تھی تمام کے تمام ادروں کو تباہ کرگئے ہر سرکاری ادارہ خسارے میں چھوڑ کے گئے. معیشت کو تو ان لوگوں نے ڈبویا ساتھ ملکی سلامتی خیریت بھی کھا گئے قوم کیا ہوتی قوموں کو کیسے جگایا جاتا ہے کیسے انکو خواب دکھائے جاتے ہیں یہ سب بھی ساتھ لے گئے.

    2018 سے پہلے پاکستان پر امریکہ جہاں چاہتا ڈرون گرا دیتا تھا پاکستان کی حدود میں آکر فوجی کارروائی کرکے جلا جاتا کیوں ؟؟؟
    کیونکہ اس وقت ہمارے حکمران بزنس مین کرپٹ اور بزدل تھے جنرل ایوب اور جنرل ضیاء کے بعد دونوں پارٹیاں آمریت کی نرسری میں پل کر بڑی ہوئی اور یہ سب کسی سے چھپا ڈھکا نہیں اب انکو پھر سے وہی ہاےھ چاہیے جو انکو چور راستے سے اقتدار دلاتے تھے لیکن اب وقت بدل گیا پاکستان کی مجبوری بن گئ ہے ایسا لیڈر جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے اب پاکستان کی ضرورت بن گئ ہے کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں ایک پیج پر ہوں نا کے اپنی ہی فوج کو بدنام کرنے کیلئے کرپٹ حکومت ضرب عضب جیسے اپریشن کے دوران ڈان لیکس کروائے چلیں بات آگے بڑھاتے ہیں جب سے عمران خان کی حکومت آئی ایک ڈرون حملہ یا حدود کی خلاف وزاری امریکہ کی بدمعاشی ختم ہوگئ

    عمران خان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی جی ہاں پہلی بار امریکہ کو No کہا وہ بھی اس ملک کے وزیراعظم نے جو آئی ایم ایف کا قرضائ ہے جس ملک کے بزنس مین حکمرانوں اور جرنیلوں سے ڈو مور کیا جاتا تھا اب اسی ملک کا وزیراعظم نو مور کہہ رہا ہے بلکے پاکستان کی حدود اب کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی نا کسی دوسرے ملک کو اپنے خلاف انکی سرزمین استعمال ہونے دیں گے .

    پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک حکمران آیا جو سعودی بادشاہ سے کہتا ھے تمہاری جیلوں میں میرے غریب پاکستانی قیدِ ھیں ان کو چھوڑ دیں 24 گھنٹوں میں وہ 2300 گھروں کے چراغ آزاد ہوجاتے ھیں سری لنکا جاتا ھے کہتے ھے ہم مسلمان میت کو دفناتے ہیں میت کو جلانے والا قانون ختم کیا جائے مسلمانوں کیلئے کہہ کر واپس پاکستان نہیں پہنچا مسلمان میت کو دفنانے کی اجازت مل جاتی ھے سعودیہ کہتا ھے ترکی ڈرامہ ارتغرل غازی پاکستان نہیں دیکھا سکتا پاکستان ٹیلی-ویژن پر کیونکہ ہم ترکی کو پسند نہیں کرتے ساتھ اسرائیل کو ایکسپٹ کرنے کا بیک ڈور پریشر بھی ڈال کر دھمکی دی گئ اگر ایسا نا کیا تو ہم تیل نہیں دیں گے اور ہمارے 2 ارب ڈالر واپس کرنے ہوں گے ہمارا لیڈر تیل بند کروا لیتا ھے ڈالر ان کے واپس کردیتاہے مگر اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا ۔
    میں جو کام کل کررہا تھا وہی آج بھی کررہا ھوں میں میرے بھی غریبوں والی زندگی گزار رہا تھا آج بھی گزار رہا ھوں
    مگر مجھے فخر ھے میں ایک غیرت مند قوم بننے جارہا ھوں دنیا میرے پاکستان کی عزت کررہی ھے میرا لیڈر کرپٹ چور نہیں ایک غیرت مند حکمران ھے وہ اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا وہ دنیا میں جاکر اپنی ملیں کارخانے لگانے کی بات نہیں کرتا
    وہ مسئلہ امہ کی بات کرتا ھے وہ کفار کے ایوانوں میں کھڑے ہو کر کہتا ھے اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ھیں
    جو کفار کے ایوانِ ان کے درمیان کھڑے ہو کرکہتا ھے ہمارا ایمان لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ پر ھے ہم لڑنے والے نہیں ہمارے ساتھ جو لڑے گا تو ہم بم ماریں گے ہم آخری سانس تک لڑیں گے جو بولتا ھے تو دنیا خاموشی سے سنتی ھے
    تمہیں تمہارے لیڈر نصیب
    مجھے میرا لیڈر نصیب

  • انصاف کمانا تحریر: عتیق الرحمان

    انصاف کمانا تحریر: عتیق الرحمان

    کسی بھی معاشرے کے بہتر نظام کی بنیادی اکائی انصاف ہے جو امیر اور غریب کے درمیان امتیازی سلوک کے بغیر فراہم کیا جانا چاہیے
    کھانے کے لئے روٹی رہنے کے لئے چھت اور صحت کے لئے دوائی ہر کوئی کسی نا کسی طرح حاصل کرہی لیتا ہے کیونکہ ان سب کے لئے بس ایک شرط ہے وہ ہے محنت
    لیکن انصاف کمایا نہیں جاسکتا بلکہ یہ معاشرے کے فیصلے کن افراد فراہم کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والی چیزوں کا تدارک ہوسکے
    بدقسمتی سےپاکستان میں اس سے بلکل اُلٹ ہے
    انصاف فراہم نہیں جا رہا بلکہ لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ ہمت ہے تو کماؤ اور حاصل کرلو۔ اب یہاں بات ہے کہ انصاف کمانے سے کیا مراد ہے تو اسکا مطلب ہے خریدنا۔ یعنی جس کے پاس پیسہ ہے وسائل ہیں تو انصاف بھی اسی کو ملے گا ورنہ جس کے پاس یہ سب نہیں ہے وہ مظلوم ہوتے ہوئے بھی سزا کا حق دار کہلائے گا
    اسکی تازہ مثال عبدالمجید اچکزئی ہے جس نے سرعام لوگوں کے سامنے ایک کانسٹیبل کو اپنی لینڈ کروزر کے نیچے روند کر قتل کردیا لیکن عدالت نے فیصلہ دیا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں لحاظہ انہیں باعزت بری کیا جاتا ہے۔ وہ قتل جسے بیچ چوراہے ہزاروں افراد نے اور سی سی ٹی وی فوٹیج لاکھوں افراد نے دیکھی اسکے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اسکا کیا مطلب ہوا کہ عبدالمجید اچکزئی نے انصاف کمایا اور کانسٹیبل کے گھر والے کما نہ سکے
    اس سے بدتر مثال یہ کہ تفتیش کرنے والے بھی بک جاتے ہیں۔ گاڑی میں سفر کررہا تھا تو ساتھ والی سیٹ پر سب انسپیکٹر پولیس بیٹھا ہوا تھا۔ اس راستے میں اسے بے شمار کالز آرہی تھی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ کسی ریپ کیس کا تفتیشی آفیسر مقرر ہے یہ۔ پہلی کال مدعی کی آئی جسے جناب نے پیار سے بہلا پھسلا کر نہ جانے کون کون سے میڈیکلز کروانے کا کہہ کے بات ایک ہفتہ آگے کردی اور دوسری کال خود ان افراد کو ملائی جو مجرم تھے اور انہیں کہتا کہ میں جتنا ہوسکتا تھا اتنا آگے کردیا ہے معاملہ تو اب اس بیچ میں معاملات طے کرنے کی کوشش کرو میں صلح نامہ کروا دونگا
    اب ایسے حالات میں مظلوم جائے تو کہاں جائے جس کے پاس نہ وسائل نہ پیسہ نہ کوئی تگڑی سفارش تو وہ ظلم سہہ کہر بھی سزا پاتا ہے
    اللّہ ہمارے منصفوں کو ہدایت نصیب کرے

    تحریر: عتیق الرحمان
    @AtiqPTI_1