Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دہرا معیار – توقیر عالم

    دہرا معیار – توقیر عالم

    دہرا میعار
    تحریر : توقیر عالم

    ہم پاکستانی بحثیت قوم جس زوال کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ ہمارا دہرا میعار ہے حدیث نبوی ہے ” تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ”
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ھو گا کہ ہمارا میعار اپنے مفادات اور ترجیحات کی بنیاد پر بدل جاتا ھے
    سارا دن ٹھنڈے کمرے میں بیٹھنے والا افسر شام کو واپسی پر چند منٹ کی گرمی برداشت نہیں کر پاتا اور سخت گرمی کے سٹیٹس لگاتا ہے مگر اپنے نیچے سخت گرمی میں کام کرنے والے مزدور کو چند منٹ سکون کرتا دیکھ کر برہم ھو جاتا ہے
    خدا سے دن میں پانچ وقت نماز میں رحم اور کرم کی دعا مانگنے والا امید رکھتا ہے خدا اسے معاف کرے مگر خود نہ تو کسی دوسرے انسان کو معاف کرنا گوارہ کرتا ہے نہ ہی کسی کے عیب چھپاتا ہے الٹا اس کے جہنمی ھونے کے فتوے جاری کرتا ہے کیا معلوم اس انسان کی کونسی ادا بارگاہ خداوندی میں مقبول ھو جائے اور بخشش کا وسیلہ بن جائے ایسے ہی اگر آپ کہیں مہمان جا رہے ہیں تو جان لیں آپ کی عزت اور مہمان نوازی آپ کی مالی حیثیت کے مطابق کی جائے گئی اب تو غریب بھائی سے تعلق منقطع کر لیا جاتا ہے اور امیر دوستوں کو بھائی بنا لمیا جاتا ہے
    نظام عدل کی بات کی جائے تو انصاف کا میعار آپ کی مالی حیثت طے کرے گی اگر آپ غریب ہیں تو سمجھ لیں جمع پونجی اور وقت برباد ھو گا مگر انصاف ملنے کی امید بہت کم ہے اگر آپ صاحب حثیت ہیں تو خوش خبری ہے آپ کو بہت جلد انصاف مل جاے گا بلکہ آپ کی مالی حالت کے حساب سے بہت زیادہ بھی مل سکتا ہے اگر آپ سابقہ وزیر اعظم ہیں تو آپ کو اربوں روہے کی کرپشن کے الزامات کے باوجود عدالت کے ذریعے لندن جانے کی اجازت مل جاتی ھے البتہ اگر آپ غریب صلاح الدین ہیں تو پولیس کی حراست میں مارے جائیں گے
    ہماری صحافت میں دوہرے میعار کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ابھی چند روز پہلے دو صحافیوں پر تشدد کیا گیا اک صحافی کی بھرپور حمایت کی گئی جبکہ دوسرے صحافی کے معاملے میں خاموشی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارا میعار اخلاقیات نہیں اپنے تعلقات ہیں آج عیدالضحیٰ کے موقع جب تمام مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کر رہے ہیں تو سارا سال کے ایف سی میکڈونلڈ نہاری اور بریانی کھانے اور ان کی مشہوری کرنے والے صحافی ہمیں جانوروں کی قربانی سے باز رہنے کی تلقین فرما رہے ہیں
    سیاست میں بھی معاملہ کچھ مختلف نہیں کرونا سے بچنے کی تدابیر کے بارے میں میڈیا پر آگاہی مہم میں حکومت اور اپوزیش بھرپور طریقے سے حصہ لیتی ہے مگر پھر پی ڈی ایم کے پورے پاکستان میں جلسے اور ان میں احتیاطی تدابیر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن نے انسانی جانوں کی پرواہ کئیے بغیر بیسیوں جلسے کئیے اور ان میں کسی احتیاطی تدبیر کا خیال نہیں رکھا گیا
    ضیاالحق کے دور حکومت میں جہاد کو حکومتی سطح پر بھرپور تعاون حاصل رہا اور افغانستان میں روس کو شکست دی گئی مجاھدین ہمارے ہیرو قرار پائے
    وقت اور حالات بدلے اور انہیں مجاھدین کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا مجاھدین کے خلاف بیس سال تک امریکہ کی مدد کی گئی وقت نے ایک بار پھر کروٹ بدلی امریکہ رات کی تاریکی میں افغانستان سے نکل بھاگا اور مجاھدین پھر سے ہمارے محسن اور ہیرو قرار پائے افغانستان میں طالبان کی فتح پر خوشیاں منانے والی پاکستانی حکومت خود پاکستان میں جماعت الدعوۃ اور تحریک لبیک جیسی مذہبی تنظیموں پر پابندی لگا چکی ہے اور ان کی قیادت پابند سلاسل ہے کشمیر و فلسطین پر آواز بلند کرنے والے چین کے اویغور مسلمانوں کے حق میں ایک بیان تک نہیں دے سکے
    الغرض ہمارے مفادات اور ترجیحات کے باعث ہمارے میعار بدل جاتے ہیں
    خدا ہم سب کو حق اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا کرے۔

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن
    توقیر عالم

    توقیر عالم ایک پر امید فری لانس رائٹر ہیں۔ ان کی تحاریر ملک عزیز کے نمایاں پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ پر وزٹ کریں۔
    @lovepakistan000

  • عید_قرباں اظہارِ قربت ہے اور شکر رب العالمین کا زریعہ ہے تحریر: انجینئر مدثر

    عید_قرباں اظہارِ قربت ہے اور شکر رب العالمین کا زریعہ ہے تحریر: انجینئر مدثر

    عید قرباں ہے ہر سو ہر جگہ اسی کی برکتیں دکھائی دیتی ہیں. کہیں بکروں کی رونقیں تو کہیں بچھڑوں کے پاؤں میں بندھے کھنکتے گھنگطروں کی چھنکاریں ہیں. کہیں عید کی نماز کے بعد قربانی شروع تو کہیں قصائی کا انتظار جاری ہے.
    اس سب کشمکش میں ایک اہم کام جو کرنے کا ہے اور جو عید کے مقاصد میں سے ایک ہے وہ ہے خوشیاں بانٹنا اور گلے شکوے بھلا کر پھر سے متحد ہونا. ٹوٹے تعلقات کی از سرنو بحالی اور کمزوروں کا احساس.

    *قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے پیچھے مقصد بھی تو یہی ہے.*
    اپنے حصے کے بعد رشتاداروں اور دوست احباب کو جو حصہ دیا جاتا ہے یہ وہ تحفہ ہوتا ہے جو پرانی رنجشوں کو مٹانے اور از سر نو رشتوں کی تکمیل کے لیے انتہائی کارآمد نسخہ ہے

    *بلا شبہ شریعت کی ہر ایک چیز میں بھلائی ہی بھلائی ہے*
    رشتہ داروں میں سے ٹوٹے دلوں پر مرہم رکھنا عید کے کاموں میں اہم کام ہے.
    تیسرا حصہ غریبوں مسکینوں اور ان لوگوں کے نام جو قربانی میں شریک ہو کر اپنی قربانی نا کر سکے. دیں اسلام کی خوبصورتی ہی یہی ہے ہر کسی کو خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب دیتا ہے. تاکہ کسی کے دل میں مفلسی یا مجبوری کا خیال تک نا رہے اور ہر مسلمان خوشی خوشی عید کی خوشیاں منا سکے. غریبوں کا غریب ہونا ان کا اپنا اختیار ہرگز نہیں یہ تو اللہ رب العزت کی تقسیم ہے جسے چاہے امیری دے اور جسے چاہے غریبی. جسے چاہے مں کی امیری اور خرچ کرنے کا جزبہ دے اور جسے چاہے من کی غریبی اور کنجوسی.
    اگر ہم فراغ دلی کا مظاہرہ کریں تو رب تعالیٰ پسد فرمائے گا اور مزید برکتیں عطا فرمائے گا.
    اللہ رب العزت نے اپنی پاک کتاب میں ارشادفرمایا.
    سورۃ ابراہیم آیت نمبر 7.
    وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
    اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا
    حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جسے شکر کرنے کی توفیق ملی وہ نعمت کی زیادتی سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ‘‘ یعنی اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ جسے توبہ کرنے کی توفیق عطا ہوئی وہ توبہ کی قبولیت سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے’’وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ‘‘ یعنی اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے ۔ (در منثور، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۷، ۵ / ۹)

    (2)… حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللّٰہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا اوراللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان، الثانی والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع، ۶ / ۵۱۶، الحدیث: ۹۱۱۹)

    (3)…حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب وہ شکر کریں تو اللّٰہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں تو اللّٰہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ، ۱ / ۴۸۴، الحدیث: ۶۰)

    (4)…سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی ’’اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ‘‘ یعنی اے اللّٰہ ! عَزَّوَجَلَّ، تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، ۲ / ۱۲۳، الحدیث: ۱۵۲۲) اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اورشکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوراپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے ، اٰمین۔([1])
    عید ہمارے لیے پیغام محبت لاتی ہے. لہٰذا محبت بانٹیں. گوشت کے ساتھ ساتھ مخلصی کو فروغ دیں. رشتوں میں پیار بڑھائیں. اپنی شادی شدہ بہن بھائیو کے گھر ضرور جائیں عید کی خوشیوں کو گقشت کے ساتھ تقسیم کریں. اپنے بچوں میں اپنے رشتہ داروں کی محبت کو پروان چڑھائیں. ان کے دلوں میں بڑوں کی تعظیم کا بیج بوؤیں.

    یتیم اور مسکین سے شفقت والا معاملہ کریں. ایسا نہ ہو کہ آپ کا اندازِ تقسیم کسی کے لئیے باعثِ تقلیف بن جائے. عید خوشیاں بانٹنے کا نام ہے اس لئے اس کے اصل مقصد کو ملحوظ خاطر رکھا جائے. کیونکہ یہ رضا الہی کے لیے قربانی کی جاتی ہے تو رضا الہی والے اعمال سے ہی اس عید کو منائیں. ٹوٹے تعلق جوڑیں محلے داروں رشتہ داروں دوستوں یاروں اپنے پیاروں میں خوشیاں بانٹیں. دکھ مٹائیں. احساس اور نرمی والا معاملہ کریں اور عید منائیں.

  • قربانی کا پیغام، میرے اور آپ کے نام – عمران محمدی

    قربانی کا پیغام، میرے اور آپ کے نام – عمران محمدی

    قربانی کا پیغام میرے اور آپ کے نام

    بقلم
    عمران محمدی
    ( عفا اللہ عنہ )

    *===============*

    1️⃣ *قربانی اخلاص کا درس دیتی ہے کہ اعمال صالحہ خالص اللہ تعالٰی کے لیے ہی بجا لائے جائیں*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
    کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔
    الأنعام : 162

    مشرکین اور یہود و نصاریٰ کی قلبی، زبانی اور جسمانی عبادات، مثلاً قیام، رکوع اور سجود، یہ سب غیر اﷲ کے لیے تھیں، اسی طرح ان کی قربانیاں اور زندگی اور موت کا وقت سب انھی کی نذر تھا، ہاں کبھی ﷲ تعالیٰ کو بھی شامل کر لیتے تھے۔ فرمایا، ان سے صاف کہہ دیجیے کہ میرا تو یہ سب کچھ ایک اﷲ کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے یہی حکم ہے اور سب سے پہلے میں اپنے آپ کو ایک اﷲ تعالیٰ کے سپرد کرنے والا اور اس کا فرماں بردار بنانے والا ہوں، میرا جینا اور مرنا بھی اس اکیلے کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے ساتھ شرک کو ختم کرنے کے لیے ہے، حتیٰ کہ اسی پر میری موت آ جائے۔

    2️⃣ *قربانی تقوی کا درس دیتی ہے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے

    لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ
    اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمھاری طرف سے تقویٰ پہنچے گا۔ اسی طرح اس نے انھیں تمھارے لیے مسخر کر دیا، تاکہ تم اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمھیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دے۔
    الحج : 37

    یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس نہ قربانیوں کے گوشت پہنچیں گے، جو کھا لیے گئے اور نہ ان کے خون، جو بہا دیے گئے۔ یہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے غنی ہے، اس کے پاس تو تقویٰ یعنی تمھارے دل کا وہ خوف پہنچے گا جو اللہ کی ناراضگی سے بچاتا ہے، جو دل پر غالب ہو جاتا ہے تو آدمی اللہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتا اور ہر منع کردہ کام سے باز آ جاتا ہے۔

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِكُمْ وَ أَمْوَالِكُمْ وَلٰكِنْ يَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَ أَعْمَالِكُمْ ]
    [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ… : 2564/34 ]
    ’’اللہ تعالیٰ تمھاری شکلوں اور تمھارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمھارے دلوں اور تمھارے عملوں کو دیکھتا ہے۔‘‘

    اس آیت اور حدیث سے دل کے تقویٰ اور نیت کے اخلاص کی اہمیت ظاہر ہے، اس لیے قربانی خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، نہ دکھاوا مقصود ہو اور نہ شہرت، نہ فخر اور نہ یہ خیال کہ لوگ قربانی کرتے ہیں تو ہم بھی کریں۔ نیت کے بغیر عمل کا کچھ فائدہ نہیں۔ نیت خالص ہو تو بعض اوقات عمل کے بغیر ہی بلند مقامات تک پہنچا دیتی ہے۔

    انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا :
    [ إِنَّ بِالْمَدِيْنَةِ اَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيْرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوْا مَعَكُمْ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! وَهُمْ بِالْمَدِيْنَةِ ؟ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِيْنَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ]
    [ بخاري، المغازی، باب : ۴۴۲۳ ]
    ’’مدینہ میں کئی لوگ ہیں کہ تم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ تمھارے ساتھ رہے ہیں۔‘‘ لوگوں نے کہا : ’’یا رسول اللہ! مدینہ میں رہتے ہوئے؟‘‘ فرمایا : ’’ہاں! مدینہ میں رہتے ہوئے، انھیں عذر نے روکے رکھا۔‘‘

    نیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آدمی کی زندگی جتنی بھی ہو محدود ہے، یعنی صرف چند سال، اگر اس میں نیک عمل کرے تو ہمیشہ ہمیشہ جنت میں اور برے عمل کرے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔ محدود عمل پر غیر محدود جزا نیت کی وجہ سے ہے کہ نیک کی نیت ہمیشہ نیکی کرتے رہنے کی اور بد کی نیت ہمیشہ بدی کرتے رہنے کی تھی۔

    تقویٰ ہر وقت اللہ کے خوف سے اس کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے۔
    احسان بھی یہی ہے کہ ہر وقت یہ بات دل و دماغ میں حاضر رکھے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کی تفسیر فرمائی :
    [ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ]
    [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل… : ۵۰ ]
    ’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقینا تمھیں دیکھ رہا ہے۔‘‘

    3️⃣ *قربانی سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے اسوہ حسنہ پر بھی عمل کرنے کا پیغام دیتی ہے کیونکہ قربانی سنت ابراہیم علیہ السلام ہے*

    سنتِ ابراہیمی اپنانے کے ساتھ ساتھ عقیدہءِ ابراہیمی بھی اپنایا جائے

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    قَدۡ كَانَتۡ لَـكُمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ فِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ‌ۚ
    یقینا تمہارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ ہے
    الممتحنة – آیت 4

    اور فرمایا
    اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ‌ فَبِهُدٰٮهُمُ اقۡتَدِهۡ ‌ؕ
    یہی( انبیاء )وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر،
    الأنعام – آیت 90

    یعنی توحید اور عقائد میں ان کی راہ پر قائم رہیے، کیونکہ تمام انبیاء ان باتوں میں متفق ہیں، باقی احکام میں سے بھی جو منسوخ نہیں ہوئے ان کی بھی پیروی کیجیے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان انبیاء کی طرح آپ بھی دشمنوں کی ایذا رسانی پر صبر کیجیے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جن کاموں میں کوئی نیا حکم نہیں آیا ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے انبیاء کے طریق پر رہنے کا حکم تھا۔

    مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا :
    ’’کیا سورۂ ص میں سجدہ ہے؟‘‘
    تو انھوں نے «وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ» سے لے کر «فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ» تک تلاوت کر کے فرمایا :
    ’’ہاں، وہ (داؤد علیہ السلام ) بھی ان لوگوں میں سے تھے جن کی پیروی کا آپ کو اس آیت میں حکم دیا گیا ہے اور اس آیت میں داؤد علیہ السلام کے سجدے کا ذکر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان انبیاء کی پیروی کا حکم ہے۔‘‘
    [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «أولئك الذين هدي الله … » : ۴۶۳۲ ]

    4️⃣ *قربانی، اللہ تعالٰی کی راہ میں جان، مال اور اولاد تک کی قربانیوں کے لیے تیار کرتی ہے
    اسی لئے تو پہلے ابراہیم علیہ السلام کو بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیا گیا اور یہی قربانی کا فلسفہ ہے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعۡىَ قَالَ يٰبُنَىَّ اِنِّىۡۤ اَرٰى فِى الۡمَنَامِ اَنِّىۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانْظُرۡ مَاذَا تَرٰى‌ؕ قَالَ يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ‌ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ
    پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے ! بلاشبہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ بیشک میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو دیکھ تو کیا خیال کرتا ہے ؟ اس نے کہا اے میرے باپ ! تجھے جو حکم دیا جا رہا ہے تو اسے کر گزر اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے ضرور صبر کرنے والوں میں سے پائے گا
    الصآفات 102

    ابراہیم علیہ السلام وقتاً فوقتاً شام سے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کی خبر گیری کے لیے آتے رہتے تھے۔ جب بیٹا اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا، یعنی اس قابل ہو گیا کہ باپ کا ہاتھ بٹا سکے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام کو ایک نیا امتحان پیش آیا۔ وہ یہ کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑی دعاؤں اور آرزؤوں کے بعد بڑھاپے میں ملنے والے نہایت عزیز بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، اس لیے انھوں نے اسے اللہ کا حکم سمجھ کر کسی بھی تردّد کے بغیر اس پر عمل کا پکا ارادہ کر لیا اور بیٹے سے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو دیکھ، تو کیا خیال کرتا ہے۔

    بیٹے کی رائے پوچھنے کا مطلب یہ نہ تھا کہ اگر وہ نہ مانتا تو وہ اللہ کے حکم پر عمل نہ کرتے، بلکہ وہ اپنے ساتھ بیٹے کو اللہ کے حکم کی اطاعت میں شریک کرنا چاہتے تھے اور انھیں امید تھی کہ بیٹا اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے ضرور آمادگی کا اظہار کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں حلیم لڑکے کی بشارت دی تھی اور واقعی بیٹے نے یہ کہہ کر حلیم ہونے کا ثبوت دیا
    قَالَ يٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ
    اے میرے باپ ! تجھے جو حکم دیا جا رہا ہے تو اسے کر گزر
    اس سے معلوم ہوا کہ اسماعیل علیہ السلام نے اسے محض خواب نہیں بلکہ اللہ کا حکم سمجھا اور کہا اے میرے باپ! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے وہ کیجیے۔ یہ صاف دلیل ہے کہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام دونوں نے یہی سمجھا اور دونوں اسے اللہ کا حکم سمجھ کر اس کی تعمیل کے لیے تیار ہو گئے۔

    سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ : اس میں اسماعیل علیہ السلام کی کمال اطاعت کے ساتھ ان کا کمال صبر ظاہر ہو رہا ہے، جو ان کے ’’ غُلَامٌ حَلِيْمٌ ‘‘ ہونے کا نتیجہ تھا۔ اطاعت اور صبر کے ساتھ ان کا اللہ تعالیٰ کے لیے حسنِ ادب بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے اپنی اطاعت اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے تابع قرار دیا کہ اگر اس نے چاہا تو میں اس آزمائش پر صبر کروں گا۔
    (تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)

    کسی صاحب نے لکھا ہے کہ اصل قربانی تو باپ بیٹے کی گفتگو تھی
    دنبہ کی قربانی تو اس کا فدیہ تھی
    ہمیں دنبہ یاد رہا گفتگو یاد نہیں رہی

    5️⃣ *قربانی اپنے سب سے اچھے اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا پیغام دیتی ہے*

    فرمان باری تعالٰی
    لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ
    تم پوری نیکی ہرگز حاصل نہیں کرو گے، یہاں تک کہ اس میں سے کچھ خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو اور تم جو چیز بھی خرچ کرو گے تو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔
    آل عمران – آیت 92

    نیکی میں کامل درجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عزیز ترین چیز صرف کی جائے۔

    اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کی ایک دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

    (1)انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ’’یا رسول اللہ ! میری جائداد میں سے مجھے سب سے محبوب ’’بَيْرُحَاء‘‘ باغ ہے (جو عین مسجد نبوی کے سامنے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا نفیس پانی پیا کرتے تھے) اور اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
    «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ »
    سو میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اس کے اجر و ثواب کی امید رکھتا ہوں، آپ اس کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرما دیں۔‘‘
    [ بخاری، الزکوٰۃ، باب الزکوٰۃ علی الأقارب … : ۱۴۶۱، مختصرًا ]

    (2)عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
    ’’اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں سے جو حصہ ملا ہے اس سے بڑھ کر نفیس مال مجھے آج تک حاصل نہیں ہوا، میں نے ارادہ کیا ہے کہ اسے صدقہ کر دوں۔‘‘
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’اصل اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کے راستے میں تقسیم کر دو۔‘‘
    چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے وقف کر دیا۔
    [ بخاری، الشروط، باب الشروط فی الوقف : ۲۷۳۷۔ ابن ماجہ :۲۳۹۶، ۲۳۹۷ ]

    *قربانی کے جانور کے لیے جوان، تندرست اور بے عیب ہونے کی شروط لگائی گئی ہیں تاکہ اللَّهُ کی راہ میں محبوب ترین مال خرچ کرنے کی عادت پیدا ہو*

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا
    لَا يَجُوزُ مِنْ الضَّحَايَا الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي

    ’’چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، مریض جس کا مرض واضح ہو اور اتنا کمزور جانور کہ اس میں گودا تک نہ ہو۔‘‘
    نسائي 4376

    6️⃣ *قربانی، غریبوں، مسکینوں اور عام مسلمانوں کو کھانہ کھلانے، مظلوم اور دکھی انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآٮِٕسَ الۡفَقِيۡـرَ
    سو ان میں سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو کھلاؤ۔
    الحج – آیت 28

    اور فرمایا
    فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَالۡمُعۡتَـرَّ ‌ؕ
    تو ان سے کچھ کھاؤ اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ اور مانگنے والے کو بھی۔
    الحج – آیت 36

    حدیث میں آتا ہے
    جس سال مدینہ منورہ میں باہر سے کافی زیادہ تعداد میں لٹے پھٹے مہاجرین آئے تھے اس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تین دن سے زیادہ گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا تھا تاکہ ان سے تعاون کیا جا سکے

    عبد اللہ بن ابی بکر نے حضرت عبد اللہ بن واقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا:
    نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ فَقَالَتْ صَدَقَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادَّخِرُوا ثَلَاثًا ثُمَّ تَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَ الْأَسْقِيَةَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا نَهَيْتَ أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَ إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین (دن رات ) کے بعد قربانیوں کے گو شت کھا نے سے منع فر ما یا ۔عبد اللہ بن ابی بکر نے کہا : میں نے یہ بات عمرہ (بنت عبد الرحمان بن سعد انصار یہ ) کو بتا ئی عمرہ نے کہا : انھوں نے سچ کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بادیہ کے کچھ گھرانے (بھوک اور کمزوری کے سبب) آہستہ آہستہ چلتے ہو ئے جہاں لو گ قربانیوں کے لیے مو جو د تھے (قربان گا ہ میں)آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” تین دن تک کے لیے گو شت رکھ لو ۔ جو باقی بچے (سب کا سب ) صدقہ کر دو۔”دوبارہ جب اس (قربانی ) کا مو قع آیا تو لو گوں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !لو گ تو اپنی قربانی (کی کھا لوں ) سے مشکیں بنا تے ہی اور اس کی چربی پگھلا کر ان میں سنبھال رکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” کیا مطلب ؟” انھوں نے کہا : یہ (صورتحال ہم اس لیے بتا رہے ہیں کہ) آپ نے منع فرما یا تھا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گو شت (وغیرہ استعمال نہ کیا جا ئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” میں نے تو تمھیں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت بمشکل آپا ئے تھے ۔اب (قربانی کا گو شت ) کھا ؤ رکھو اور صدقہ کرو۔”
    مسلم 5103

    لوگوں کو کھانا کھلانے کی عظمت و شان ان آیات میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے

    وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا
    اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو۔
    الإنسان : 8
    إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا
    (اور کہتے ہیں) ہم تو صرف اللہ کے چہرے کی خاطر تمھیں کھلاتے ہیں، نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔
    الإنسان : 9
    إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا
    یقینا ہم اپنے رب سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بہت منہ بنانے والا، سخت تیوری چڑھانے والا ہو گا۔
    الإنسان : 10
    فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا
    پس اللہ نے انھیں اس دن کی مصیبت سے بچا لیا اور انھیں انوکھی تازگی اور خوشی عطا فرمائی۔
    الإنسان : 11
    وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا
    اور انھیں ان کے صبر کرنے کے عوض جنت اور ریشم کا بدلہ عطا فرمایا۔
    الإنسان : 12
    مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا
    وہ اس میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، نہ اس میں سخت دھوپ دیکھیں گے اور نہ سخت سردی۔
    الإنسان : 13

    7️⃣ *قربانی درس دیتی ہے کہ اللہ تعالٰی کی نعمتیں اور نشانیاں دیکھ کر سبق حاصل کیا جائے اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا جائے*

    وَالۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰهَا لَـكُمۡ مِّنۡ شَعَآٮِٕرِ اللّٰهِ لَـكُمۡ فِيۡهَا خَيۡرٌ‌ ‌ۖ فَاذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلَيۡهَا صَوَآفَّ‌ ۚ فَاِذَا وَجَبَتۡ جُنُوۡبُهَا فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَالۡمُعۡتَـرَّ ‌ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرۡنٰهَا لَـكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏
    اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے، تمہارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔ سو ان پر اللہ کا نام لو، اس حال میں کہ گھٹنا بندھے کھڑے ہوں، پھر جب ان کے پہلو گر پڑیں تو ان سے کچھ کھاؤ اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ اور مانگنے والے کو بھی۔ اسی طرح ہم نے انھیں تمہارے لیے مسخر کردیا، تاکہ تم شکر کرو۔
    الحج – آیت 36

    "الْبُدْنَ ‘‘ بڑے بدن والا جانور۔
    یہ لفظ بڑے جسم کی وجہ سے اونٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
    گائے کو بھی ’’بَدَنَةٌ‘‘ کہہ لیتے ہیں
    قاموس میں ہے :
    ’’ اَلْبَدَنَةُ مُحَرَّكَةً مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ كَالْأُضْحِيَةِ مِنَ الْغَنَمِ‘‘
    ’’یعنی جس طرح بھیڑ بکری کی قربانی کو اضحیہ کہتے ہیں اسی طرح اونٹ اور گائے کو بدنہ کہتے ہیں۔‘‘

    حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں :
    [ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّيْنَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ نَّشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ، وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِيْ بَدَنَةٍ ]
    [ مسلم، الحج، باب جواز الاشتراک في الھدی… : 1318/351 ]
    ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے نکلے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹوں اور گائیوں میں شریک ہو جائیں، ہم میں سے ہر سات آدمی ایک بدنہ میں شریک ہو جائیں۔‘‘

    *فائدہ* اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ اور گائے دونوں کو بدنہ کہتے ہیں اور یہ کہ حج کے موقع پر اونٹ اور گائے دونوں میں سات سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔

    یعنی یہ ہم ہیں جنھوں نے اس طرح بے بس کرکے اتنے بڑے قوی ہیکل اونٹ اور بیل، جو طاقت میں تم سے کہیں زیادہ ہیں، تمھارے تابع کر دیے ہیں۔ تم ان سے جو فائدہ چاہتے ہو اٹھاتے ہو، ان پر بوجھ لادتے ہو، سواری کرتے ہو، دودھ پیتے ہو اور جب چاہتے ہو ذبح کر لیتے ہو، وہ اف نہیں کرتے۔ مقصد یہ ہے کہ تم ہمارا شکر ادا کرو، نہ کہ مشرکین کی طرح ان کا جن کا نہ ان چوپاؤں کے پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے اور نہ تمھارے لیے تابع کرنے میں

    *اتنے بڑے، مضبوط اور قوی ہیکل جانور، اللہ کے حکم سے انسان کے ایسے تابع فرمان ہوئے کہ جب چاہے انہیں ذبح کر کے کھا جائے اور جب چاہے ان پر سواری کرے شائد یہی وجہ ہے کہ بوقت سواری اللہ کی تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ
    اور وہ جس نے سب کے سب جوڑے پیدا کیے اور تمھارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
    الزخرف : 12
    لِتَسْتَوُوا عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ
    تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو، جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ اور کہو پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہیں تھے۔
    الزخرف : 13
    وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ
    اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔
    الزخرف : 14

    ہمارے استاذ گرامی جناب حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ لکھتے ہیں
    *انسان جب گھوڑوں، گدھوں، خچروں، اونٹوں یا کشتیوں پر سوار ہوتا ہے اور جم کر بیٹھ جاتا ہے تو عام عادت بن جانے کی وجہ سے اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سواریوں کو تابع کر دیے جانے کی کتنی بڑی نعمت عطا ہوئی ہے۔ ذرا کسی شیر یا چیتے یا کسی اور جنگلی جانور پر اس طرح جم کر بیٹھے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر ہو گی۔ یہی حال سمندر میں پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان بحری جہازوں پر سکون و اطمینان کے ساتھ سواری کا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے کشتیوں اور چوپاؤں میں سے تمھارے لیے سواریاں بنائیں، تاکہ ان کی پشتوں پر جم کر بیٹھو، پھر جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ تو اپنے رب کی انھیں تمھارے لیے مسخر کرنے کی نعمت یاد کرو۔*

    *اور دل میں یاد کرنے کے ساتھ زبان سے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح ان الفاظ میں بیان کرو، تاکہ تمھیں احساس رہے اور اقرار بھی ہوتا رہے کہ ان سواریوں کو قابو میں لانا کبھی ہمارے بس کی بات نہ تھی اور یہ بھی کہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ان سواریوں کی محتاجی ہم مجبور بندوں کی ضرورت ہے۔ ہمارا مالک ہر قسم کے احتیاج اور مجبوری سے پاک ہے۔اگر انسان سوچے تو سواریوں سے پہلے زمین کی پشت بھی چوپاؤں اور کشتیوں کی پشت کی طرح ہے، جس پر سوار وہ زمانے کے حوادث اور تھپیڑوں کے درمیان جم کر محوِ سفر ہے۔ سو ہماری ابتدا ہمارے رب کی طرف سے ہوئی، اس نے زندگی بسر کرنے کے لیے زمین کی پشت کو ہمارے لیے بچھونا بنا دیا، پھر اس نے چوپاؤں اور کشتیوں کی پشت کو ہمارے لیے جائے سکون بنا دیا، اب ساری عمر ہم ان پر سکون و اطمینان کے ساتھ سوار ہوتے رہتے ہیں۔*

    ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کی طرف نکلتے ہوئے سواری پر جم کر بیٹھ جاتے تو تین دفعہ ’’اَللّٰهُ أَكْبَرُ‘‘ کہتے، پھر کہتے : [ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ، اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِيْ سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيْفَةُ فِي الْأَهْلِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَ الْأَهْلِ ]

    ’’ پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور عمل میں سے ایسے عمل کا جسے تو پسند فرمائے۔ اے اللہ ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کی دوری کو ہم سے لپیٹ دے۔ اے اللہ ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں جانشین ہے۔ اے اللہ ! میں سفر کی مشقت اور غم ناک منظر دیکھنے سے اور مال اور اہل میں ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

    8️⃣ *قربانی ہمیں درس دیتی ہے کہ اللہ تعالٰی کو جوانی کی عبادت اور جوانی کی قربانی بہت پسند ہے*

    یعنی اپنے آپ کو بھی اور اپنی اولاد کو بھی عین جوانی، صحت اور تندرستی کی حالت میں اللہ تعالٰی کے لیے وقف رکھا جائے یہ نہیں کہ جب خود بوڑھے ہوگئے تو مسجد میں ڈیرے ڈال دیے اور اپنی اولاد میں سے بھی جو بچہ سب سے زیادہ نالائق، کمزور اور اپاہج ہو اسے مسجد، مدرسہ اور حفظ قرآن کے لیے چھوڑ دیا

    لاغر، کمزور، لنگڑے، بھیگنے اور انتہائی بوڑھے جانور کی قربانی کے ممنوع ہونے میں یہی فلسفہ ہے

    جوانی کی عبادت کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم خوش خبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
    سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ:
    سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔

    الإِمَامُ العَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ
    اوّل انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا

    بخاری 660

    9️⃣ *قربانی ہمارے گھروں اور گلی محلوں کو خون سے رنگین کرکے جہاد فی سبیل اللہ کا پیغام دیتی ہے*

    اور اپنے بیٹوں، بھائیوں کی اللہ کی راہ میں قربانی کیلئے تیار کرتی ہے

    جیسا کہ اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم قربانی کے اصل فلسفے کی طرف اشارہ کررہا ہے

    اسماعیل اور ابراہیم علیہما السلام کے اس عظیم واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہو اور اسلام کی خاطر جہاد کرتے ہوئے سب کچھ قربان کر دینے کی ضرورت ہو اور دوسری طرف ماں باپ اور خویش و اقارب کی محبت ہو اور دنیا کے دوسرے تعلقات یا مفادات و خطرات اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر مصلحت سے بے پروا ہو کر اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی کرے اور کوئی دنیوی مفاد یا خطرہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اسے اللہ کا حکم ماننے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے باز رکھ سکے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بھی وقت عذاب آ سکتا ہے۔

    اسی بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار واضح فرمایا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘
    [ بخاری، الإیمان، باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الإیمان : ۱۵، عن أنس رضی اللہ عنہ]

    عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا۔
    عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :
    ’’آپ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے اپنی جان کے۔‘‘
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب تک کہ میں تجھے تیری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘
    عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی :
    ’’اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔‘‘
    فرمایا :
    ’’اب اے عمر ! (تیرے ایمان کا معاملہ درست ہوا)۔‘‘
    [ بخاری، الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۶۶۳۲ ]

    یہی بات قرآن میں موجود ہے

    قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
    کہہ دے اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات، جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
    التوبة : 24

    🔟 *قربانی توحید کا پیغام دیتی ہے کہ معبود و مسجود صرف ایک اللہ رب العزت کی ذات اقدس ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا عبادت کی کسی بھی قسم کا مستحق نہیں ہے*

    قُلۡ اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ
    کہہ دے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔
    الأنعام – آیت 162

    مشرکین اور یہود و نصاریٰ کی قلبی، زبانی اور جسمانی عبادات، مثلاً قیام، رکوع اور سجود، یہ سب غیر اللہ کے لیے تھیں، اسی طرح ان کی قربانیاں اور زندگی اور موت کا وقت سب انھی کی نذر تھا، ہاں کبھی اللہ تعالیٰ کو بھی شامل کرلیتے تھے۔ فرمایا، ان سے صاف کہہ دیجیے کہ میرا تو یہ سب کچھ ایک اللہ کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے یہی حکم ہے اور سب سے پہلے میں اپنے آپ کو ایک اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے والا اور اس کا فرماں بردار بنانے والا ہوں، میرا جینا اور مرنا بھی اس اکیلے کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے ساتھ شرک کو ختم کرنے کے لیے ہے، حتیٰ کہ اسی پر میری موت آجائے۔( الأستاذ بھٹوی ح)

    قربانی اور دیگر عبادات کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالٰی کی ہی ذات ہے
    فرمایا
    فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
    پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔
    الكوثر – آیت 2

    اس آیت مبارکہ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ نماز پڑھو تو صرف اپنے رب کے لیے اور قربانی کرو تو وہ بھی اسی کے لیے، کسی غیر کے لیے نہیں

    *غیراللہ کے لیے جانور ذبح کرنا لعنت کا کام ہے*

    ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہا : میں حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو راز داری سے کیا فر ما تے تھے؟ آپ ناراض ہو ئے اور کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کو ئی راز نہیں بتا یا جس کو اور لوگوں سے چھپایا ہو۔البتہ آپ نے مجھے چار باتیں ارشاد فر ما ئی تھیں ۔اس نے پو چھا : امیر المومنین ! وہ کیا باتیں ہیں ؟ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :
    لَعَنَ اللہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ

    ” جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو شخص غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ لعنت کرے اور جس شخص نے زمین (کی حد بندی) کا نشان بدلا اس پر اللہ لعنت کرے۔”
    مسلم 5124

    *مگر افسوس کہ آج بہت سے مسلمان یا تو صریح غیراللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں یا پھر ذبح تو اللہ کے نام پر کرتے ہیں لیکن بعد گیارہویں شریف کے ختم کے کی آڑ میں غیر اللہ کو اس میں شامل کر لیتے ہیں*

    1️⃣1️⃣ *قربانی اتباع سنت کا پیغام دیتی ہے اور یہ کہ خلاف سنت اعمال قبول نہیں ہوتے*

    دلیل….
    ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے سنت سے ہٹ کر عید کی نماز سے پہلے جانور ذبح کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے کہا تھا کہ یہ محض گوشت کا جانور ہے قربانی نہیں ہے

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :

    إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَدْ ذَبَحَ فَقَالَ عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ فَقَالَ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ

    ” آج کے دن ہم جس کا م سے آغاز کریں گے (وہ یہ ہے ) کہ ہم نماز پڑھیں گے، پھر لوٹیں گے، اور قربانی کریں گے۔جس نے ایسا کیا ، اس نے ہمارا طریقہ پالیا اور جس نے (پہلے) ذبح کر لیا تو وہ گو شت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو پیش کیا ہے۔وہ کسی طرح بھی قربانی نہیں ہے ۔”حضرت ابو بردہ بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( اس سے پہلے) ذبح کر چکے تھے انھوں نے کہا : میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دودانتی بکری دودانتا بکرے سے بہتر ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :تم اس کو ذبح کردو ،اور تمھا رے بعد یہ کسی کی طرف سے کا فی نہ ہو گی۔
    مسلم 5073 وبخاري

    یعنی اعمال کے قبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند رہے۔ اگر کوئی شخص اطاعت سے نکل کر کوئی اعمال شروع کر دے تو اس کے سارے اعمال باطل ہیں، خواہ وہ اپنے خیال میں کتنے اچھے عمل کرتا رہے

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور اس رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل مت کرو۔
    محمد : 33

    ہر وہ عمل جس میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ ہو اور وہ ان کے بتائے ہوئے طریقے پر نہ ہو وہ باطل ہے، کیونکہ عمل کی قبولیت کے لیے اخلاص اور اتباع سنت شرط ہے،
    جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ]
    [ مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام الباطلۃ و رد محدثات الأمور : ۱۸ /۱۷۱۸ ]
    ’’جو شخص وہ عمل کرے جس پر ہمارا عمل نہیں وہ مردود ہے۔‘‘

    2️⃣1️⃣ *قربانی اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کرنے کا پیغام دیتی ہے*

    دلیل….
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک عید موقعہ پر سو اونٹ قربان کیے

    ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ وَأَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ
    پھر رسول اللہ ﷺ قربان گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ اونٹنیاں نحر کیں اور بقیہ کے متعلق سیدنا علی ؓ کو حکم دیا اور ان کو اپنی قربانی میں شریک بنایا
    ابو داؤد 1905

    آج مالدار صاحب استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ ضرور اس سنت پر عمل کریں اور بڑھ چڑھ کر قربانی کیا کریں

    3️⃣1️⃣ *قربانی، جانوروں پر بھی رحم، شفقت اور نرمی کرنے کا پیغام دیتی ہے*

    حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:دو باتیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛:

    «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»،

    "اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سب سے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔اس لئے جب تم(قصاص یاحد میں کسی کو) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو،اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو،تم میں سے ایک شخص(جو ذبح کرنا چاہتا ہے) وہ اپنی(چھری کی ) دھار کو تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو اذیت سے بچائے۔”
    مسلم 5055

    ایسے ہی شریعت اسلامیہ میں قربانی کے جانوروں کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآٮِٕرَ اللّٰهِ وَلَا الشَّهۡرَ الۡحَـرَامَ وَلَا الۡهَدۡىَ وَلَا الۡقَلَٓاٮِٕدَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! نہ اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ حرم کی قربانی کی اور نہ پٹوں (والے جانوروں) کی
    المائدة – آیت 2

    ”الْهَدْيَ“ ایسے جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی حرم میں قربان کرنے کے لیے ساتھ لے جاتے تھے۔ اونٹوں کی کوہان کی دائیں طرف تھوڑا سا زخم کر کے مل دیتے، اسے اشعار کہتے ہیں اور گلے میں ایک جوتا یا پٹا ڈال دیتے۔

    ”الْقَلَآئدَ“ یہ ’’ قِلاَدَةٌ ‘‘ کی جمع ہے، جس سے مراد وہ پٹا یا رسی وغیرہ ہے جو پرو کر ہدی ( قربانی) کے گلے میں بطور علامت باندھ دی جاتی تھی۔ چھوٹے جانوروں کا اشعار نہیں کرتے تھے۔

    ”الْقَلَآئدَ“ کا معنی اگرچہ پٹے ہیں مگر مراد وہ جانور ہیں جن کے گلے میں وہ پٹا ڈالا گیا ہو۔ ان سب چیزوں کا ذکر اگرچہ ”شَعَآئرَ اللّٰهِ“ کے ضمن میں آ چکا ہے مگر ان کے مزید احترام کی خاطر ان کو الگ بیان کیا ہے۔

    مزید فرمایا
    َ وَمَنۡ يُّعَظِّمۡ شَعَآٮِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنۡ تَقۡوَى الۡقُلُوۡبِ
    اور جو اللہ کے نام کی چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو یقینا یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔ ۔
    الحج – آیت 32

    قربانی کے جانور بھی ” شعائر اللہ “ میں داخل ہیں
    چناچہ فرمایا :
    (وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ )
    [ الحج : ٣٦ ]
    ” اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے۔ “

    ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان کے آتے ہوئے انھیں کوئی نقصان نہ پہنچائے، جانور قیمتی خریدے اور عیب دار جانور نہ خریدے۔ ان پر جھول اچھی ڈالے، انھیں خوب کھلائے پلائے اور سجا کر رکھے، جیسا کہ گلے میں قلادے ڈالنے سے ظاہر ہے، مجبوری کے بغیر ان پر سواری نہ کرے، اور قربانی کے بعد ان کے جھول وغیرہ بھی صدقہ کر دے۔
    ( تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ )

    4️⃣1️⃣ *قربانی, چند عارضی پابندیوں سے گزار کر مستقل حرام اور ممنوع کاموں سے اجتناب کی مشق کرواتی ہے*

    مثال کے طور
    دس دن ناخن اور بال نہیں کاٹنے یعنی قربانی کا ارادہ رکھنے والا شخص جب ذوالحجہ کا چانددیکھ لے یا یہ خبر عام ہو جائے کہ چاند نظر آگیا ہے تو اس رات سے لے کر اپنے جا نور کی قربانی کر لینے تک اپنے جسم کے کسی حصے سے کوئی بال یا ناخن نہ کاٹے کیونکہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ»
    (صحیح مسلم، الأضاحي، باب نهى من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو يريد التضحية أن يأخذ من شعره…، ح:۱۹۷۷)
    "جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔

    بوڑھا جانور ذبح نہیں کرنا

    کمزور جانور ذبح نہیں کرنا

    بھینگا اور لنگڑا جانور ذبح نہیں کرنا

    شریعت اسلامیہ میں قربانی کی عارضی پابندیوں کی طرح بعض مستقل اور دائمی پابندیاں بھی موجود ہیں مثال کے طور پر دس دن جسم کے کسی بھی حصے سے بال نہیں کاٹنے تو پوری زندگی داڑھی کے بال نہیں کاٹنے

    اگر قربانی میں عیب دار جانور ذبح کرنے کی پابندی ہے تو پوری زندگی حرام کمائی سے حاصل کیا ہوا جانور یا مال کھانے پر بھی پابندی ہے

    5️⃣1️⃣ *نماز پڑھنے اور قربانی کرنے والے شخص کے دشمنوں کو اللہ تعالٰی کافی ہوجاتے ہیں اور ان کی جڑ کاٹ دیتے ہیں نیز اس شخص کا تذکرہ دیر تک باقی رہتا ہے اور اللہ تعالٰی ایسے شخص کو کثیر اولاد عطا فرماتے ہیں* ان شاء اللہ

    اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ

    بلاشبہ ہم نے تجھے کوثر عطا کی۔

    فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ

    پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔

    اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ

    یقینا تیرا دشمن ہی لاولد ہے۔

    الكوثر –

    *وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين*

    🌹🌹🌹🌹🌹

  • ارطغرل غازی ریسٹورنٹ تیار،عوام کیلئے کب اور کہاں کھولا جائے گا؟

    ارطغرل غازی ریسٹورنٹ تیار،عوام کیلئے کب اور کہاں کھولا جائے گا؟

    مقبوضہ کشمیر میں ترک تاریخ پر مبنی ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی سے متاثر مداحوں نے ارطغرل غازی کے نام سے ریسٹورنٹ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ترکی اردو کی خبر کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے سری نگر میں تعمیر کئے جانے والے ہوٹل کی دیواروں اور چھت پر ارطغرل ڈرامہ کے مشہور کرداروں کی تصاویر آویزاں ہیں ،غالباً یہ پہلا ریسٹورنٹ ہے جو ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کی تھیم پر تیار کیا گیا ہے ۔


    ہوٹل کے مالک شاداب خان کے مطابق ڈرامہ جن اخلاقی اقدار پر بنایا گیا ہے وہ کشمیری روایات سے بہت قریب ہیں جس کے باعث اس ڈرامے کی کشمیر میں مقبولیت بہت زیادہ ہے –

    شاداب خان کا مزید کہنا تھا کہ اس ہوٹل میں مشرق وسطی، بھارتی اور ترک کھانے پیش کیے جائیں گے۔

  • عید الاضحیٰ  تحریر: تبسم بلوچ

    عید الاضحیٰ تحریر: تبسم بلوچ

    دین اسلام انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اسلام نے جہاں عبادات اور بندگی کا تصور دیا ہے وہیں انسانی فطرت کے عین مطابق تفریح کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔ ہر مذہب کے ماننے والے تہوار مناتے ہیں۔ الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو اسلامی تہوار عطا فرمائے ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحی۔ یہ تہوار اسلامی اقدار و روایات کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کی جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے خوشی اور مسرت کا اظہار ہوتا ہے۔
    عید الاضحیٰ مسلمانوں کی بڑی عید ہے۔اس عید کو ماننے کا مقصد حضرت ابرہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد کو تازہ کرنا ہوتا ہے۔ اس دن تمام صاحب استطاعت مسلمان قربانی کرتے ہیں۔اس عید کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام کو خواب نظر آیا کہ اپنی سب سے پیاری چیز راہ خدا میں قربان کریں۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے صبح اٹھ کر سو اونٹ راہ خدا میں قربان کر دیے۔ دوسری رات پھر وہی خواب آیا۔ آپ نے پھر صبح اٹھ کر مزید سو اونٹ قربان کردئے۔ تیسری رات پھر آپ کو پھر اپنی پیاری چیز راہ خدا میں قربان کرنے کا حکم ہوا۔ اس بار آپ سمجھ گئے کہ مجھے سب سے زیادہ پیارے حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ میری عزیز ترین چیز یعنی حضرت اسماعیل ع کی قربانی چاہتا ہے۔
    حضرت ابرہیم علیہ السلام نے اپنا یہ خواب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سنایا اور پوچھا کہ "بیٹا تمہارا کیا خیال ہے”
    حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ ابا جان اللّٰہ نے جو حکم آپ کو دیا ہے اس کو پورا کیجئے۔
    حضرت ابرہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کا جواب سن کر خوش ہوئے اور ان کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف گامزن ہوئے۔ راستے میں شیطان نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بہکانےکی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ جنگل میں پہنچ کر اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹا دیا۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور پھر اللّٰہ کا نام لے کر چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چلا دی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کی جگہ دنبے کو بھیج دیا اور ذبح ہوگیا۔ جب حضرت ابرہیم ع نے آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو حضرت اسماعیل ع جو صحیح سلامت پایا اور خوش ہوگئے۔
    یہی وہ قربانی تھی جو اللّٰہ تعالیٰ نے قبول کی اور اس قربانی کی یاد میں ہر سال دنیا بھر کے مسلمان 10 ذولحجہ کو راہ خدا میں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔

    @taBaloch110

  • پرانے وقتوں کی بکرا عید  اور جدید وقت کی عید میں فرق تحریر: سید عمیر شیرازی

    پرانے وقتوں کی بکرا عید اور جدید وقت کی عید میں فرق تحریر: سید عمیر شیرازی

    پہلے وقتوں میں عید کے تہواروں کا الگ ہی مزہ ہوتا تھا چاہے بڑا ہو چھوٹا ہر ایک میں ایک دوسرے کیلئے بے پناہ محبت ہوا کرتی تھی اور تہواروں میں تو مزہ آجاتا تھا ایک دوسرے کے گھروں میں جانا آپس میں اپنے کام بانٹنا واہ کیا وقت تھا وہ بھی۔۔۔۔
    آج تو تہواروں پر واٹس اپ پر عید مبارک کا میسج لکھا اور سب کو فارورڈ کردیا جاتا ہے عید کی خوشی اب ایک فارورڈ میسج تک محدود رہ گئی ہے جسے جسے وقت گزرتا جارہا ہے آپسی محبت اور بھائی چارہ ختم ہوتا جارہا ہے،
    کاش کے وہ پرانا وقت واپس آجائے پہلے کی طرح ہم ان تہواروں کو خوشی خوشی منا سکیں اپنے بڑوں بزرگوں کو عید ملنے جائے اور ان سے دعاؤں کا نہ رکنے والا سلسلہ کاش کے دوبارہ شروع ہو جائے۔۔
    آج کل تو ہم اتنے مصروف ہوگئے ہیں اپنی اپنی زندگیوں میں کہ اپنے گھر کے بزرگوں سے دو منٹ بیٹھ کر بات تک نہیں کرتے پہلے تو عید پر حال احوال لیا کرتے تھے اب تو ایک فون کال پر ہی تہوار منائی جاتی ہے وقت کا پہیہ تیزی سے گزرتا چلے جا رہا ہے کہ ہمیں اپنے آس پاس کا پتہ تک نہیں چل رہا اس عید کو پہلے کی طرح سب ملکر کام کاج چھوڑ کر اپنے گھر والوں کے ساتھ منائیں اس سے جو خوشی حاصل ہوگی وہ خوشی کہی اور نہیں مل سکے گی۔

    @SyedUmair95

  • عنوان: پردیس کی عید تحریر: محمداحمد

    عنوان: پردیس کی عید تحریر: محمداحمد

    پردیس کی عید کی خوشی وہی جان سکتے ہیں جو پردیس میں رہتے ہیں اپنے ماں باپ بہن بھائیوں سے دور پردیس کی زندگی بہت کٹھن ہوتی ہے
    نماز پڑھ کے آکر سواۓ سونے کے کوئی کام نہیں ہوتا یہی پردیس کی زندگی ہوتی ہے

    پردیس میں عید کے موقع پر کوئی جوش و خروش جزبہ نہیں ہوتا سب اپنی اپنی دُھن میں مگن ہوتے ہیں کوئ کسی کے ساتھ خندہ پیشانی سے نہیں ملتا نماز پڑھ کر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں جبکہ اپنے دیس میں عید کے نماز پڑھ کر سب اپنے بہن بھائیوں رشتے داروں میں ملنے ملانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے

    مگر بڑا افسوس اور دُکھ ہوتا ہے پردیس میں آکر کہ گھر ویران نظر آتا ہے نہ کسی سے کوئی دکھ سکھ کر سکتا ہے نہ کسی کو دل کا حال احوال بتا سکتا ہے اپنے ہی جزبات اور احساسات اپنے سینے میں جذب کرلیتا ہے اگر کوئی پردیسی جب خیریت دریافت کرتا ہے تو گھر والے دکھ والی بات نہیں شئیر کرتے کہیں زیادہ دکھ نا ہو بچے کو کیونکہ وہ پردیس میں ہے اس کے پاس کوئی اپنا نہیں ہے

    لیکن پردیسی کی اُس پریشانی کا مداوا کیا ہوگا جس کے گھر دکھ کی گھڑی سے گزر رہا ہے جو پردیس میں بیٹھ کر سواۓ سسکنے کے کوئی کام نہیں کرتا وہ مجبور اور لاچار ہوکر بیٹھا رہتا ہے
    کبھی ہنس کر کبھی رو کر وقت گزار لیتا ہے یہی اس کی زندگی کی داستان ہے
    دعا کریں اللہ پاک پردیسوں کو ہمت حوصلہ دے وہ سب اپنے اہل و عیال کی خاطر پردیس میں ہیں اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین

    @JingoAlpha

  • آئیے جانتے ہیں کہ ” تکبر ” کیا ہے ؟ تحریر: محمد اویس

    آئیے جانتے ہیں کہ ” تکبر ” کیا ہے ؟ تحریر: محمد اویس

    تکبر کی سادہ سی تعریف یہ ہے کہ خود کو افضل (یعنی بڑے مرتبے والا) اور دوسروں کو حقیر جاننا ۔
    تکبر ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کی عقل کو زائل کر دیتا ہے اور انسان اپنی اوقات بھول جاتا ہے کہ آیا اُسے کس چیز سے پیدا کیا گیا تھا؟؟
    متکبر انسان اللہ کی بارگاہ میں تو مردود ہوتا ہی ہے،
    لیکن
    متکبر انسان دنیا داروں کی نظروں میں بھی مردود ہوتا ہے۔ کوئی بھی معاشرے میں ایسا فرد نہیں ہوتا جو متکبر انسان کو پسند کرتا ہو ، بظاھر تو لوگ متکبر شخص کے شر سے بچنے کیلئے "سیٹھ صاحب ، چوہدری صاحب ، ملک صاحب اور فلاں صاحب ” کے القابات سے پکار رہے ہوتے ہیں لیکن جیسے یہ "فلاں صاحب” وہاں سے رخصت ہوتے ہیں تو معاشرے کے یہی لوگ اس بدنصیب شخص کی برائیاں کر رہے ہوتے ہیں، اگر کوئی شخص پیٹھ پیچھے برائی نہیں بھی کرے تو دل میں بُرا تو ضرور جانتا ہے۔
    آئیے متکبر کے دنیاوی مقام کے بعد ہم جانتے ہیں کہ متکبر کا اللہ کے ہاں کیا مقام ہے ؟؟
    اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے
    ترجمہ:
    "اب جہنّم کے دروازوں میں جاؤ کہ ہمیشہ اس میں رہو تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا۔”
    (سورہ النحل آیت نمبر 29)

    ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا
    ترجمہ :
    "بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔”
    (النحل آیت نمبر 23)
    ذکر کی گئی دونوں آیات میں اللہ نے متکبر انسان کی مذمت فرمائی ہے ایک آیت میں جہنم کی وعید سنائی اور دوسری آیت میں متکبر انسان کو ناپسند فرمایا ۔

    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بولس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طینۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔” استغفراللہ العظیم !
    (ترمذی حدیث نمبر 2500)

    تکبر کے وہ اسباب جن کی وجہ سے انسان تکبر میں مبتلا ہوتا ہے :

    1۔ تکبر کا پہلا سبب علم ہے کہ بعض اوقات انسان کثرت علم کی وجہ سے بھی تکبر کی آفت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

    2۔ تکبر کا دوسرا سبب مال و دولت ہے کہ جس کے پاس کار، بنگلہ، بینک بیلنس اور کام کاج کے لیے نوکر چاکر ہوں وہ بھی بسا اوقات تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

    3۔ تکبر کا تیسرا سبب حسب ونسب ہے کہ بندہ اپنے آباء و اجداد کے بل بوتے پر اکڑتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔

    4۔ تکبر کا چوتھا سبب عہدہ و منصب ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنا یہ ذہن بنائے کہ فانی دنیا پر فخر نادانی ہے کیونکہ عزت و منصب کب تک ساتھ دیں گے؟

    5۔ تکبر کا پانچواں سبب کامیابی و کامرانی ہے کہ جب کسی کو پے درپے کامیابیاں ملتی ہیں تو وہ ناکام ہونے والے لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ یہ نہ بھولے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، بلندیوں پر پہنچنے والوں کو اکثر واپس پستی میں بھی آنا پڑتا ہے ۔

    6۔ تکبر کا چھٹا سبب حسن وجمال ہےکہ بندہ اپنے ظاہری حسن وجمال کے سبب تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی ابتداء و انتہاء پر غور کرے کہ میرا آغاز ناپاک نطفہ اور انجام سڑا ہوا مردہ ہونا ہے، نیز عمر کے ہر دور میں حسن یکساں نہیں رہتا ۔

    7 ۔ تکبر کا ساتواں سبب طاقت و قوت ہے کہ جس کا قد کاٹھ اچھا ہو، کھاتا پیتا اور سینہ چوڑا ہو تو وہ بسا اوقات کمزور جسم والے کو حقیر سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا یوں محاسبہ کرے کہ طاقت وقوت اور پھرتی تو جانوروں میں بھی ہوتی ہے بلکہ انسان سے زیادہ ہوتی ہے تو پھر اپنے اندر اور جانوروں میں مشترکہ صفت پر تکبر کرنا کیسا؟
    تو درج ذیل آیات ، حدیث اور اسباب سے ثابت ہوا کہ متکبر انسان دنیا و آخرت میں رسوا ہوتا ہے۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس قبیح گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اخلاص کے ساتھ ہر نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین یارب العالمین

    @Awsk75

  • حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:-  تحریر:از عمرہ خان

    حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:- تحریر:از عمرہ خان

    حضرت ابرہیم وہ نبی جو خود ایک بت فروش کے بیٹے تھے اور انسے نبیوں کی نسلیں چلیں ۔۔۔وہ نبی علیہ السلام جنکی نسل سے سرور کائنات رحمت دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھے ۔۔جنکی قربانیاں ابد تک کیلئے قرآن پاک میں رقم کردئیے گئے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کی زبانوں اور دلوں میں رہینگے ۔۔۔
    یہ وہ وقت تھا جب ایک بت فروش آذر کے بیٹے نے اس سے کہا کہ
    اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ‌ ۚ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكَ وَقَوۡمَكَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞
    کیا آپ بتوں کو خدا بنائے بیٹھے ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔۔۔
    وہ بیٹا زمین و آسمان کا نظارہ کرتا اور اس رب کو ڈھونڈتا جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔۔۔۔
    فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ رَاٰ كَوۡكَبًا ‌ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّىۡ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِيۡنَ ۞
    چنانچہ جب ان پر رات چھائی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا کہنے لگے کہ یہ میرا رب ہے ۔۔پھر جب وہ ستارہ ڈوبا تو فرمانے لگے نہیں یہ میرا رب نہیں میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔
    پھر انہوں نے چاند کو دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے۔۔۔
    جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا
    اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں یقیناً گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاتا

    پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتا دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے یہ زیادہ بڑا ہے پھر جب وہ غروب ہوا تو کہا کہ
    اے میری قوم جن جن چیزوں کو تم الله کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو میں ان سب سے بے زار ہوں ۔۔۔۔۔
    اور یوں اللّٰہ تعالٰی نے انہیں حق اور سچ کی طرف رہنمائی فرمائی اور انکا رخ دین حنیف کی طرف موڑ دیا ۔۔۔۔
    مگر صرف دین حق کو قبول کردینا ہی کافی نہ تھا انہیں
    انبیاء کا جد امجد بننے کیلئے امتحانات مقصود تھے جس میں پورا اترنا شرط تھا۔۔۔۔۔
    اور وہ پورا اترے یہاں تک کہ خلیل اللہ کا لقب پایا ۔۔۔۔
    وہایک تہوار کا دن تھا اور قوم تہوار منانے نکلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اپنے دل کی اس بیماری( جو لوگوں کو گمراہی میں پڑا دیکھ کر آشکار ہوئی تھی ) کی وجہ سے آپ علیہ السلام وہیں ٹھیر گئے اور قوم کے پیچھے انکے بتوں کو توڑ ڈالا اور ہتھوڑا بڑے بت کی گردن میں لٹکا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ قوم آئی اور بت خانے میں توڑ پھوڑ دیکھی تو پہلا شک انکا آپ علیہ السلام پر گیا ۔۔۔۔انسے بت خانے کی بابت پوچھا تو فرمانے لگے کہ اس بڑے بت سے پوچھو۔۔۔۔ کہا کہ یہ تو بول نہیں سکتا یہ کیسے بتائے گا
    انکی عقلوں میں یہ نہ سمایا کہ جب یہ ان ساتھی چھوٹے بتوں کو بچا نہیں سکتا وہ کیسے رب ہوسکتا ہے ۔۔۔۔اور یوں وہ اس نوجوان پر آگ بگولا ہوگئے تو ایک بڑی آگ جلائی گئی جس میں اس سچے حق پرست اور نیک نوجوان ابرہیم علیہ السلام کو ڈالا گیا ۔۔۔۔۔ادھر انھیں آگ میں ڈالا گیا تو رب العالمین کا آگ کو حکم ہوا
    يٰنار كوني بردا وسلاما على ابراهيم
    اے آگ ٹھنڈک ہوجا اور ابرہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی والی ہوجا
    اور یوں تین دن آگ میں رہنے کے باوجود صحیح سالم آگ سے نکلے اور اپنے اس امتحان میں آپ ثابت قدم رہے۔۔۔
    اپنی قوم اور باپ کو چھوڑ کر اپنی زوجہ کو لئے نکل کھڑے ہوئے
    اس امتحان کے بعد نمرود کے دربار سے بھی بھی سرفراز لوٹے ۔۔۔ جو ہر خوبصورت عورت کو بیوی بنا لیا کرتا تھا ۔۔۔۔ پھر لوٹے بھی تو ایسے کہ اس بادشاہ نے ان پر اکرام کیا اور انھیں باندی سے نوازا۔ ۔۔۔۔۔
    ابھی امتحان ختم نہ ہوئے تھے انکے ابھی بڑے بڑے کام باقی تھے !!! ۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری ہوئی ۔۔۔۔اور وہ باندی جو آنھیں تحفے میں عطا ہوئی تھیں انھوں نے بھی ایک وارث جنا ۔۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد جو اولاد نرینہ بھی تھی ۔۔۔اس ہی کہ ذریعے پروردگار نے انھیں آزمایا اور حکم ہوا کہ اسکے قربان کردیں بیٹا وہی تھا جسکی اولاد میں رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لانا تھی۔۔۔۔دونوں باپ بیٹا کچھ اس طرح ثابت قدم رہے کہ عرش لرز اٹھا اور دونوں سرخرو ہوئے ۔۔۔۔ اورآج تک انکی یہ قربانی یاد رکھی گئی ہے اور ابد تک رکھی جائے گی اس قربانی کی سنت کو ہر 10 تا 12 ذی الحجہ امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زندہ کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔۔۔۔۔ پھر اگلا امتحان کچھ یوں ہوا کہ اس جگر کے ٹکڑے کو ایسی سرزمین پر چھوڑنے کا حکم ہوا جہاں دور دور تک کسی نباتات کا نام و نشاں نہ تھا۔۔۔۔۔۔ اپنے رب کیلئے وہ اس امتحان سے بھی گزر گئے
    اور رب العالمین نے ان پر ان امتحانات میں کامیابی کا کچھ اس طرح انعام کیا کہ ’’مَیں آپ ؑ کو لوگوں کا امام (یعنی پیشوا) بنانے والا ہوں۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت124)۔

    جب سالوں بعد اس مقام پر پہنچے جہاں بیوی بچے کو چھوڑا تھا تو وہ جگہ عجب منظر پیش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ایک پورا شہر آباد تھا وہاں۔۔۔۔
    پھر بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر کا حکم ہوا تو باپ بیٹا ایک بار پھر حکم خداوندی کو پورا کرنے کیلئے جت گئے باپ حضرت ابرہیم علیہ السلام کے لئے جنت سے پتھر آیا جو خود آونچا نیچا ہوجاتا تھا ۔۔۔۔ بیٹا باپ کو پتھر پکڑاتا جاتا اور والد دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کرتے جاتے ۔۔۔
    اور یہ تعمیر نو مکمل تو دعا فرمائی کہ
    ’’ الٰہی! مَیں نے اس لَق و دَق صحرا اور اس بے آب و گیاہ بیابان میں، تیرے گھر کے پڑوس میں اپنی اولاد کو اِس لیے بسایا ہے کہ وہ تیری عبادت کرتے رہیں۔الٰہی! لوگوں کے دِلوں میں ان کی محبّت اور لگن پیدا کر دے تاکہ وہ ان کے پاس کِھنچ کِھنچ کر چلے آئیں۔یہ وادی، جہاں سرسبزی و شادابی کا دُور دُور تک نشان نہیں، اِس میں رہنے والوں کو کھانے کے لیے تازہ پھل عطا فرما
    اور یوں مسلسل امتحانات کے بعد انکا اکرام کرنے میں بھی میرے رب ے کوئی کسر نہ چھوڑی اور وہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنکے لئے کائنات وجود میں آئی انکے ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل کی نسل سے فرمادیا۔۔۔۔

    Twitter handle: @Amk_20k

  • پاکستان میں ڈیمز کی اہمیت اور فوائد تحریر چوہدری عطا محمد

    پاکستان میں ڈیمز کی اہمیت اور فوائد تحریر چوہدری عطا محمد

    اگر پوری دنیا میں ڈیمز کے حوالے سے بات کی جاۓ تو آپ کو یہ سن کر حیرانی ہو شاید ہمارا دوست ملک جس کی دوستی کی مثالیں ہمارے حکمران ماضی سے لے کر آج حال تک دیتے نہیں تھکتے اور پوری دنیا بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہہ ہماری بہت گہری دوستی ہے اور ہم اس پر فخر بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس دوستی سے کیا سیکھا یہ سوچنے کی بات ہے تو جناب سنیں اس ملک کا نام ہے چین دنیا میں اس وقت چین سب سے ذیادہ ڈیم رکھنے والا ملک ہے جس کے کل بڑے ڈیمز کی تعداد لگ بھگ 23 ہزار آٹھ سو ہے اور یہ تعداد بڑے ڈیمز کی ہے اور اگر چھوٹے ڈیمز بھی ساتھ ملا لئے جائیں تو چھوٹے بڑے ڈیمز کی مشترکہ تعداد 87000 کے لگ بھگ ہے. دوسرے نمبر پہ آتا ہے امریکہ جس کے بڑے ڈیمز کی تعداد 9200 ہے اور لگ بھگ ہر ریاست میں 1700 سے ذیادہ چھوٹے بڑے ڈیمز ہیں.
    ‎یعنی کل چھوٹے بڑے ڈیمز کی مجموعی تعداد 84000 سے ذیادہ ہے.تیسرے نمبر پر ہمارا پڑوسی لیکن ازل سے دشمن ملک ہے جس کو ہمارے ملک سے سب سے زیادہ تکلیف ہے وہ ہے بھارت جس کے پاس اس وقت بڑے ڈیمز کی تعداد 5200 جبکہ تمام چھوٹے بڑے ڈیمز کی مشترکہ تعداد 9000 تک بتائی جاتی ہے.چوتھے نمبر پر جاپان ہے جس کے پاس 3000 سے ذیادہ ڈیمز ہیں جن میں سے کئی دنیا کے بڑے ڈیموں میں شمار ہوتے ہیں.پانچویں نمبر پر برازیل جس کے پاس 1400 کے لگ بھگ ڈیمز ہیں.چھٹے نمبر پر کوریا پھر کینڈا پھر جنوبی افریقہ اس کے بعد بالترتیب اسپین، ترکی، فرانس، ایران، برطانیہ، آسٹریلیا، میکسیکو، اٹلی، جرمنی، ناروے، البانیہ، زمبابوے، رومانیہ، پرتگال، آسٹریا، تھائی لینڈ، سوڈان، سوئیٹزرلینڈ، بلغاریہ، یونان اور پھر جا کر اس ملک کانام آتا ہے جس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے اور وہ ملک زراعت پر انحصاربھی کرتا ہے
    ‎ وہ ملک ہے ہمارا پیارا وطن پاکستان جس کے پاس غالباً چھوٹے بڑے مشترکہ ڈیمز کی تعداد 160 سے 165 ہے.آپ کو شاید حیرانی ہو میری بات سن کر لیکن بدقسمتی سے یہی حقیقت ہے اگر دنیاکی بات کی جاۓ تو دنیا دھڑا دھڑ ڈیم بنا رہی ہے کیونکہ ڈیمز ہی کسی بھی ملک کی نہ صرف معاشی، زرعی اور صعنتی ترقی کے ضامن ہیں بلکہ حال اور مستقبل میں انہیں ڈیمز کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے.
    ‎اسی لیے ہمارا دشمن ملک بھارت پاکستان کے خلاف ہزاروں ڈیم بنا چکا ہے اور پاکستان کو پانی سے ترسانا ہو یا ڈبونا ہو اپنے ڈیمز کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے جس میں پیارے وطن پاکستان کو زرعی و معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے.
    ‎اگر پاکستان کی بات کی جاۓ تو پاکستان میں دہائیوں پہلے جو ڈیمز بنے سو بنے جن میں اکثریت ڈیموں کے آغاز کا سہرا انہیں صدور کے سر جاتا ہے جنہیں جمہوری قوتیں آمر اور ڈکٹیٹر سمجھتی ہیں، بدقسمتی سے ان آمروں اور ڈکٹیٹرزکے بعد پاکستان میں نام نہاد جہموریت آگئ اور ڈیمز کی تعمیر پاکستان جیسے زراعت پر انحصار کرنے والے ملک کے لئےممنوع ٹھہر ی
    ‎اسی وجہ سے پاکستان کو بدترین لوڈشیڈنگ، زرعی اجناس کی کمی، صنعتوں کی بندش کا سامنا ہے جو آج تک پیارا وطن پاکستان اور اس کی عوام بھگت رہی ہے . اور یہ سب ہمیں اس نام نہاد جہموریت سے ملا غور کریں بھارت خود ہزاروں ڈیمز بنا چکا مگر پاکستان میں اپنے پیسے سے پالے ہوئے یہ مافیا سیاستدانوں کو دہائیوں سے اربوں روپے کھلاتا رہا اور یہی سیاستدان کہتے رہے میری لاش پر ڈیم بنے گا یہی جہموری طاقتیں دشمن کہہ پاکستان میں ڈیم نہ بننے کے ایجنڈا کو تقویت دیتی رہی کبھی صوبئیات کے نام پر اور کبھی سیاست کے نام پر ڈیموں کی تعمیر کو متنازعہ بنا کر روکتے رہے.میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور افواج پاکستان کی قیادت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ ان کے ادوار میں ارض پاک پیارے پاکستان میں ڈیموں پر الحمدللّٰہ کام شروع ہوا جو تیزی سے جاری ہے مزید یہ بھئ بتاتا چلوں اگر پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر مزید دس سے بیس سال میں نہ ہوتی تو پاکستان خدا نخواستہ پانی کی بوند بوند کو ترس جاتا.اور یاد رکھیں آنے والے وقتوں کی زیادہ تر جنگیں پانی پر ہونگی جس کے پاس پانی ہو گا وہی طاقت ور اور محفوظ ملک ہوگا ۔
    اگر ہم نہے بننے والے ایک ڈیم کی ہی بات کر لیں تو صرف دیامر بھا شا ڈیم سے وزیر اعظم جناب عمران خان کے معاون خصوصی عاصم باجوہ نے اپنے ایک بیان میں کہا دیامر بھاشا ڈیم کے اس منصوبہ سے 64 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوسکےگا اور ڈیم سے 12 لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوسکے گی جب کہ منصوبے سے 4500 میگاواٹ سستی بجلی مل سکے گی۔ دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے 16ہزار نوکریاں پیدا ہوں گی  اور نیشنل گرڈ کوسالانہ 18 ارب 10 کروڑ یونٹ پن بجلی ملے گی، ملک میں پانی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا جاسکے گا جب کہ قومی خزانے کو 290 ارب کا فائدہ ہوگا یعنی سب ملا کر پیارے ہم وطن ساتھیوں ارض پاکستان کو ڈیمز کے فوائد ہی فوائد ہیں
    ہماری سابق حکمران جماعتیں ان منصوبوں پر اس لئے بھی عمل نہیں کرتی تھی کہہ یہ منصوبہ ایک تو پانچ سال میں مکمل نہیں ہوتا اور دوسرا اس سے ان کے ووٹ بینک میں وقتی اضافہ نہیں ہوتا

    حالانکہ اس طرح کے منصوبے شروع کرنے والے تمام لوگوں جن کا تعلق چاۓ سیاست سے ہو یا آرمی سے یا کسی بھی ریاستی ادارے سے ان کو تاریخ ہمیشہ سنہرے عروف میں یاد رکھتی ہے اور آئندہ بھی رکھے گی

    @ChAttaMuhNatt