Baaghi TV

Category: بلاگ

  • افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    1973 میں افغانستان کی شہنشاہیت کا دور ختم ہوا تو داؤد خان نے جمہوری خطوط پر ملک کو استوار کرتے ہوئے اپنے لیے صدر کا عہدہ سنبھالا ، داؤد خان پاکستان کے سخت خلاف تھا، پاکستان کے پشتونوں اور بلوچوں کو ملک پاکستان سے علیحدگی کے لئے بہت ساری اندرونی سازشیں شروع کر کے پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے بھی کروائے، اسی سلسلے میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی افغانستان پراکسی جنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا جو آنے والے دن میں بڑھتا چلا گیا اور یہ آج تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات کے لیے مسئلہ ہے، دیکھا جائے تو 1979 کے آخر میں جب روسسی یونین نے افغانستان پر غیر انسانی حملہ کیا اور اس بدترین حملے سے لاکھوں جانوں کا ضیاع ہوا، لاکھوں گھر اجڑے، ہر طرف خوف و حراس پھیل گیا تو لاکھوں افغانی خاندان پاکستان کے بارڈر کو کراس کر کے پاکستان آئے، پاکستان نے ان کو گھر دئیے اور ملک میں کہیں بھی رہنے کام کرنے کا اجازت نامہ دیا، اس کے علاؤہ پاکستان نے اپنے فوجی دستے اور عام عوام کو افغانستان کیلئے روس کے خلاف جہاد کرنے کیلئے بھی بھیجا، اور بالآخر 1989 کے شروع میں روس کو شکست دے کر اس خطے سے نکال دیا گیا.

    2001 میں امریکہ یورپ سمیت دنیا بھر کی پاوفل افواج افغانستان میں اتر آئیں جن کا نظریہ افغانستان سے دہشت گردوں گردہ کا خاتمہ اور امن قائم کرنا تھا جہاں ان کا تصادم افغان طالبان سے تھا جن کا نظریہ جہاد اور افغانستان میں مکمل طور پر اسلام کا قانون نافذ کرنا تھا، جہاں کوئی بھی شخص اسلام کی حدود سے باہر کوئی ذاتی طرز زندگی کا حامل نہیں ہو سکتا تھا، 20 سال تک یہ جنگ چلتی رہی مگر دنیا کی تمام طاقتور افواج افغان طالبان کو زیر نہ کر سکیں، تو بات معاہدے پر آئی جو کہ 2020 کے شروع میں کیا گیا، جس کے تحت تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے واپس نکلنے لگیں اور معاہدے کے مطابق افغانستان سے نکلنے والی افواج ہر طالبان حملہ آور نہیں ہوں گے ،

    متحدہ ممالک کی افواج کے انخلا کے بعد اب افغانستان ایک نئی جنگ سے دوچار ہے جس میں موجودہ افغان حکومت اور طالبان مد مقابل ہیں، جہان تک طالبان کی بات ہے تو پورے ملک میں اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرنے کی ٹھان چکے ہیں اور موجودہ حکومت کسی طرح بھی ان کو روکنے کیلئے سرگرم ہے، حتی کہ افغان حکومت کسی طرح کے معاہدے کی بھی حامل نہیں، اور طالبان کو نئے علاقوں پہ قابض ہونے سے تو اعلانیہ طور پر روک بھی رہی ہے اور طالبان کے زیر سایہ علاقے بھی واپس چھیننے کی جسارت کر رہی ہے، اس وقت ملک میں خانہ جنگی کی شدت ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ ہمسایہ ملکوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں.

    افغانستان کی عوام کو اپنی موجودہ حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں، عوام موجودہ حکومت کو کرپٹ اورچورحکومت سمجھتی ہے جس کو اپنے ملک کی عوام کی فلاح و بہبود کی کوئی فکر نہیں ہے ، مگر عوام میں طالبان کا ایک خوف طاری ہے ، عوام میں یہ بات عام ہے کہ طالبان نے جو علاقے فتح کئیے اور اپنے قوانین لاگو کئیے وہاں عورتوں کا گھرسے باہرنکلنے کی اجازت نہیں، مردوں کو ہر صورت داڑھی رکھنے کا لازم و ملزوم قانوں ہے اور مختلف اسلامی روایات کو ڈنڈے کے زور پر لاگو کرنے کے حامل ہیں، اس خوف سے عوام کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ کرپٹ حکومت کو تو سہن کر سکتے ہیں مگر طالبان کی طرف سے سختی اور زبردستی سے لاگو کردہ قوانین کو سہن نہیں کر سکتے، جبکہ طالبان کے بیان کے مطابق اس طرح کی کوئی زبردستی قانونی حیثیت رائج نہ کی ہے اور نہ کی جائے گی.

    ایک تجزیے کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے افواج کی انخلا کا عزم اس لئیے کیا تاکہ پاکستان دشمن قوتیں اپنی ضمیر فروش تنظیموں کو پاکستانی بارڈر کے ساتھ قبضہ کرنے کا موقع فراہم کرے جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملے کریں اور سی پیک کو نقصان پہنچائیں، جس ہر پاکستان نے اظہار تشویش بھی کیا ہے.

    عوامی رائے کی مانیں تو افغان عوام اپنی ایمان فروش حکومت سے انتہائی نالاں اور برہم ہے، تو اسی سلسلے میں افغان طالبان کو اپنے قوانین میں انفرادی آزادی، محبت اور تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان میں ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام ہو، اورمزید یہ کہ پاکستان اورایران سے تمام افغان مہاجر اپنے ملک واپس جاسکیں، اس خطے میں کوئی بدامنی باقی نہ رہے، اللہ عالم اسلام کو آزادی اور سکون عطا کرے اور بدامنی اور خونریزی سے محفوظ رکھے.

    @IshaqSaqii

  • ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌  فرمان اللہ

    ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌ فرمان اللہ

    افغانستان میں امریکی فوج انخلا کے بعد ھندوستان خطے پر بادشاہت بننے کا خواب دیکھ رہا تھا اور اسی وجہ کو لیکر افغانستان میں اپنے قونصل خانے قائم کی ساتھ اپنا فوج بھی افغانستان میں تعینات کیا امریکہ اور ھندوستان کا ملی بھگت تھا کہ خطے پر ھندوستان کا راج ہوگا، یہاں ھندوستان پاکستان کو ہر طرف سے گھیرنا چاہتا تھا جبکہ امریکہ اور چین کا نہیں بنتا تو امریکہ چین پر نظر رکھنا چاہتا تھا لیکن امریکہ کو کیا پتہ کہ اس مقصد کیلئے جس کو چھنا تھا وہ ظاہری طور پر بدمعاش لیکن بزدل ملک ہے، دوسرے طرف افغان م ج ا ھ د ی ن نے ٹھوک کے رکھ دئیے اور خالات کو یکسر تبدیل کر دئیے افغانستان میں ط ا ل ب ا ن نے یکدم سب کچھ ہلا کر رکھ دی اور قابض ہوتے نظر ائے تو ایک طرف امریکہ انخلا پر مجبور ہوگئے لیکن ان سے پہلے پہلے خطے کا چودھری ھندوستان گیدڑوں کیطرح بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے خالات بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں ایک طرف ط ا ل ب ا ن نے افغانستان پر قبضہ جمانا شروع کیا ہے تو دوسرے طرف چین، روس، برطانیہ، نے ط ا ل ب ا ن کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے خطے سمیت دنیا کے خالات بدلتے نظر ارہے ہیں.

    ھندوستان اب صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں اور ساتھ اس غم میں مبتلا ہیں کہ م ج ا ھ د ی ن افغانستان پر قابض ہونے کے بعد کہی سلطان محمود غزنوی کا تاریخ نہ دھرا لے اور اس بات کا اندازہ اپ ھندوستانی میں میڈیا کی چیخیں دیکھ کر سکتے، افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ہم افغانستان میں امن کیلئے اچھے خواہشات رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اپس میں اتفاق عطاء فرمائے لیکن یہاں ایک بات ضروری سمجھتا ہوں لر بر اور سرخو کا کیا بنے گا جو لر بر کا نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے، افغانی حکام ہمیشہ پاکستان پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ کہ مشرف نے کھل کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا خیر یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن پاکستان میں ہمیشہ لر بر کے نعرے لگانے والے اور پختون تحفظ موومنٹ کے نام سے بننے والے سرخو کے پیچھے ہمیشہ افغانستان کے حکام ملوث رہے پاکستان میں ھندوستانی ایجنٹ آسانی سے افغانستان سے اتے رہے ھندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکامی کے علاوہ کچھ نہیں ملا، پاکستان خطے کا زمہ دار ملک ہے خالات پر گہرے نظر رکھتے ہیں لیکن کسی بھی طرف ساتھ دینے سے فی الحال قاصر ہے اور یہی ٹھیک ہے پچھلے سولہ سال سے پاکستان کسی اعت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں.

    Femikhan_01

  • پرواز . تحریر: آصف راج

    پرواز . تحریر: آصف راج

    کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں ایک آدمی کو ایک عقاب کا چھوٹا سا بچہ مل گیا وہ اسے اٹھا کر اپنے گھر لے آیا اور گھر آ کر اس نے عقاب کے بچے کو گھر میں موجود اپنی مرغیوں اور چوزوں کے ساتھ چھوڑ دیا اب جو چیزیں مرغیاں کھائیں عقاب بھی وہی کھائے جس طرح مرغیاں چلیں عقاب بھی ویسے ہی چلے جیسا کہ سب جانتے ہیں مرغے مرغیاں پر ہونے کے باوجود زیادہ تر اڑتے نہیں ہیں اگر کبھی اڑتے بھی ہیں تو دیوار کی حد تک اب عقاب جو کہ انہی میں پل بڑھ رہا تھا اسکی پرورش بھی ویسے ہی ہو رہی تھی جیسے باقی کے مرغے اور مرغیوں کی ہو رہی تھی جیسے جیسے دن گزرتے گئے وہ سب بڑے ہوتے گئے اب وہ عقاب بھی خود کو مرغا ہی سمجھنے لگا
    لیکن رنگ نسل اور جسامت کو لیکر احساس کمتری کا شکاربھی کہ باقی سارے مرغے اور مرغیاں ایک جیسے ہیں انکی بولی اور شکل صورت بھی ایک جیسی ایک میں ہی ہوں جو ان جیسا نہیں ہوں.

    اس بات کا مرغے بھی خوب فائدہ اٹھا رہے تھے جیسے ہی سامنے کوئی دانہ دنکا آتا وہ اس پہ رعب ڈال کر خود کھا لیتے جو بچ جاتا اس میں سے عقاب کو ملتا اب جو مالک تھا وہ یہ سب کافی دنوں سے دیکھ رہا تھا اور دیکھ کر حیران بھی کہ یہ عقاب کو کیا ہو گیا یہ تو ایسے نہیں ہوتےسہمے سہمے سے اور یہ اڑتا بھی نہیں ہے شکار وغیرہ کرنا تو بہت دور کی بات اب وہ آدمی روزانہ عقاب کو اٹھائے اور اسے بولے کہ بھائی تو عقاب ہے زمین پہ چلنا تیرا کام نہیں تو آسمانوں میں اڑان بھر یہ کہہ کر وہ اسے ہوا میں پھینک دے لیکن اگلے ہی پل عقاب صاحب دوبارہ زمین پر ملیں وہ آدمی اسے پھر اٹھائے اور دوبارہ ہوا میں پھینک دے لیکن عقاب پر نا کھولے اور پھر زمین پرکافی دن ایسے ہی چلتا رہا لیکن مجال ہے کہ عقاب نے ایک بار بھی اڑان بھری ہوآدمی نے کہا کہ اب اگر تو نا اڑا تو میں تمہیں پہاڑ سے گرا آوں گا یہ کہہ کر اس نے پھر عقاب کو ہوا میں اچھالا لیکن اس بار بھی عقاب نہیں اڑا اب آدمی اسے لیکر پہاڑ کی چوٹی پہ پہنچ گیا اورعقاب سے کہا کہ دیکھ بھائی یہ تیرے پاس آخری موقع ہے .

    اگرتم نے پہلے کی طرح بزدلی دکھائی تو کچھ ہی دیر میں ہزاروں فٹ نیچے کسی پتھر پہ پڑا تڑپ رہا ہوگا اور اگر ابار تم نے دلیری دکھا دی بتو پرندوں کا بادشاہ کہلائے گا یہ بول کر آدمی نے عقاب کو پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دیا اب جیسے جیسے زمین قریب آتی گئی یقینی موت کو دیکھ عقاب نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں اور اس آدمی کو بددعائیں دینا شروع کر دیں کہ کتنا ظلم کیا اس نے میرے ساتھ اور پھر اچانک سے اسے خیال آیا کہ یار یہ آدمی اتنے دنوں سے بول رہا تھا کہ تو عقاب ہے تیرا کام چلنا نہیں آسمانوں میں اڑنا ہے آج اسکی مان کر دیکھ ہی لوں
    ورنہ موت تو وہ ہے جو ابھی آئی کی آئی ہے یہی سوچ کر اس نے زندگی میں پہلی بار ہمت کر کے اپنے پروں کو اڑنے کے لئے کھولا تو اسے احساس ہوا کہ میرے پر عام پر نہیں بلکہ یہ وہ پر ہیں جو مجھے پر وقار ، با رعب اور وہ اونچی اڑان دیں گے کہ میں آسمانوں کا سینہ چیرتے ہوئے پرواز کروں گا ایسی پرواز جو مجھے پرندوں کا بادشاہ بنائے گی اس نے اڑنا شروع کیا کیوں کہ اب وہ جان چکا تھا کہ وہ کیا اب وہ جان چکا تھا کہ اس میں قوت پرواز ہے اب وہ جان چکا تھا کہ اس کے لئے اڑنا ممکن ہے.

    تو دوستو یہی کچھ ہمارے لئے ہے ہو سکتا ہے ہم پلے بڑھے ہی ایسے ماحول میں ہوں ہمیں کبھی ایسا موقع ہی نا ملا ہو کہ ہم خود کو جان سکیں ہمیں کبھی ایسا پلیٹ فارم ہی نا ملا ہو کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو منوا سکیں ہم رنگ نسل اور قومیت میں ہی دب کر رہ گئے ہوں آگے بڑھنے کا خیال ہی دل سے نکال دیا ہوہم نے کبھی اونچا اڑنے کے لئے اپنے ہر ہی نا کھولے ہوں اور احساس کمتری کا شکار ہو کر زندگی گزار رہے ہوں ہم اکثر کئی کامیاب لوگوں کو دیکھتے ہیں یا کئی کامیاب لوگوں کے بارے پڑھتے ہیں وہ کوئی آسمان سے نہیں اترے ہوتے وہ بھی ہم میں سے ہی ہیں لیکن انہوں نے اپنی سوچ کو محدود نہیں رکھا انہوں نے اپنی منزل کو آسمان جانا اور حاصل کرنے کے لئے اپنے پروں کو حرکت دی تو کیوں نا ہمیں بھی ایک بار اس رنگ نسل کی سوچ سے آگے احساس کمتری سے نکل کر اپنے اندر وہ عقابی روح بیدار کرنے کی کوشش تو کرنی چاہئے اپنے اندر موجود ان صلاحیتوں کو استعمال تو کرنا چاہئے جو ہمیں دوسروں کے لئے مثال بنا دے ہمیں ہمارے وہ پر کھولنے تو چاہئے جو ہمیں پرواز کی ان بلندیوں تک لیکر جائے جس کے لئے ہم پیدا ہوئے ہیں یقین کریں ہم میں وہ سب کرنے کی قوت حوصلہ صلاحیت موجود ہے جس کا دوسرے فقط تصور ہی کر سکتے ہیں بس دیر ہے تو اپنی اس خاصیت کو ڈھونڈ کر اس پہ عمل کرنے کی.

    @pm_22

  • دانتوں کی صحت کے لیے کچھ تجاویز . تحریر : مصعب طارق

    دانتوں کی صحت کے لیے کچھ تجاویز . تحریر : مصعب طارق

    ‎صحت مند دانت کا حصول زندگی بھر کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کو یہ بتایا گیا ہو کہ آپ کے دانت اچھے ہیں ، لیکن ان کی دیکھ بھال کرنے اور پریشانیوں سے بچنے کے لئے ہر روز صحیح اقدامات کرنا اہم ہے۔ اس میں زبانی نگہداشت کی صحیح مصنوعات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی روز مرہ کی عادات کو بھی ذہن میں رکھنا
    ‎شامل ہے۔

    ان میں کچھ اقدامات ذیل ہیں
    1. دانت صاف کیے بغیر بستر پر نہ جائیں
    یہ کوئی راز نہیں ہے کہ عام دن میں ہی نے کم سے کم دو بار برش کرنا ہے۔ پھر بھی ، ہم میں سے بہت سے لوگ رات کے وقت دانت صاف کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ لیکن بستر سے پہلے برش کرنے سے وہ جراثیم اور (plaque) چھٹ جاتے ہیں جو دن بھر جمع ہوتے ہیں۔
    2. مناسب طریقے سے برش کریں
    جس طرح سے آپ برش کرتے ہیں وہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ دراصل ، دانت صاف کرنے کا ناقص کام کرنا تقریبا اتنا ہی برا ہے جتنا کہ برش نہیں کرنا۔ جراثیم کو ہٹانے کے لئے ٹوت برش کو نرم ، سرکلر حرکات میں منتقل کرتے ہوئے اپنا وقت لیں۔
    3. فلورائڈ ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں
    جب ٹوتھ پیسٹ کی بات آتی ہے تو ، سفید دانتوں اور ذائقوں سے کہیں زیادہ اہم عناصر کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کون سا ٹوتھ پیسٹ منتخب کرتے ہیں ، یقینی بنائیں کہ اس میں فلورائڈ موجود ہے۔
    4. فلوسنگ کو بھی برش جتنی اہمیت دیں
    بہت سے لوگ جو برش کرتے ہیں کہ فلاس سے باقاعدگی سے نظرانداز ہوتے ہیں۔ فلاسنگ سے کھانے کے ٹکڑے جو آپ کے دانتوں کے درمیان پھنس رہے ہیں نکلنے میں مدر ملتی ہے۔ عام طور پر دن میں ایک بار فلاسنگ ان فوائد کو حاصل کرنے کے لئے کافی ہے۔
    5.ماوتھ واش پر غور کریں
    اشتہارات میں ماوتھ واش پر بہت زور دیتے ہیں ، لیکن بہت سے لوگ انہیں چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔ شوارٹز کا کہنا ہے کہ ماؤتھ واش تین طریقوں سے مدد ملتی ہے:
    یہ منہ میں تیزاب کی مقدار کو کم کرتا ہے ، مسوڑوں کے آس پاس اور برش والے علاقوں کو صاف کرتا ہے ، اور دانتوں کو دوبارہ معدنی بنا دیتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "چیزوں کو توازن میں لانے میں مدد کرنے کے لئے ماؤتھ واش ایک منسلک ٹول کے طور پر کارآمد ہیں۔ "میرے خیال میں بچوں اور بوڑھے لوگوں میں ، جہاں برش کرنے اور فلاس کرنے کی قابلیت مثالی نہیں ہوسکتی ہے ، وہیں ماؤتھ واش خاص طور پر مددگار ثابت ہوتی ہیں۔”
    اپنے ڈینٹسٹ سے مخصوص ماؤتھ واش سفارشات طلب کریں۔ کچھ برانڈز بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں ، اور جن دانت حساس ہوتے ہیں۔
    6. زیادہ پانی پیئے
    منہ (oral health) کی صحت سمیت – پانی آپ کی مجموعی صحت کے لیے بہترین ہے۔ شوارٹز ہر کھانے کے بعد پانی پینے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس سے برش کے بیچ میں چپچپا اور تیزابیت خوردونوشوں اور مشروبات کے کچھ منفی اثرات کو دھونے میں مدد مل سکتی ہے۔
    7. شوگر اور تیزابیت دار کھانوں کو محدود کریں
    آخر کار ، شوگر منہ میں تیزاب میں تبدیل ہوجاتا ہے ، جو پھر آپ کے دانتوں کے (enamel) کو خراب کرسکتا ہے۔ یہ تیزاب وہی ہیں جو (cavities) کا باعث بنتے ہیں۔ تیزابیت والے پھل ، چائے ، اور کافی دانتوں کے (enamel) کو خراب کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو اس طرح کے کھانے سے مکمل طور پر گریز کرنا پڑے۔
    8. سال میں کم سے کم دو بار اپنے ڈینٹسٹ سے طبی معائنہ کروایں
    آپ کی اپنی روزمرہ کی عادات آپ کی مجموعی (oral) صحت کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ پھر بھی ، یہاں تک کہ انتہائی ذمہ دار برششر اور فولسروں کو بھی مستقل طور پر ڈینٹسٹ کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ کم سے کم ، آپ کو سال میں دو بار صفائی اور چیک اپ کے لئے اپنے ڈینٹسٹ سے ملنا چاہئے۔ ڈینٹسٹ نہ صرف (calculus) کیلکولس کو ہٹا سکتا ہے اور (cavities) کی تلاش کرسکتا ہے ، بلکہ وہ امکانی امور کو بھی تلاش کرنے اور علاج معالجے کی پیش کش کرسکیں گے

    @mussab_tariq

  •  پردیسیوں کے مسائل . تحریر :  تظخر شہزاد

     پردیسیوں کے مسائل . تحریر : تظخر شہزاد

    لفظ پردیسی پردیس سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں اپنے آبائی وطن گاؤں شہر یا علاقے کو چھوڑ کر دوسرے شہر یا ملک میں بسنے والا. آج کے ترقّی یافتہ دور میں لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے دور بہتر مستقبل اور خوشحالی کےلیے دنیا کے مختلف ممالک جن  میں مشرق وسطیٰ، جنوبی افریقہ، یورپ،  امریکہ اور کینیڈا  سر فہرست ہیں میں روزگار کماتے ہیں جس کی بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد تقریباً 9 ملین ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد  تقریباً 2.6 ملین سعودی عرب میں ہے. بظاہرتو پردیسی خوشحال لگتے ہیں مگر ان کے مسائل بھی بے شمارہیں. کبھی ان کی آنکھوں میں جھانک کردیکھیں تو وہ کرب نظرآتا ہے

    جو سالوں سے اپنے دل میں چھپائے ہوتے ہیں اپنوں سے دور رہ کر دیارِغیر میں جو کرب وہ محسوس کرتے ہیں الفاظ میں  بیان کرنا مشکل ہے  پاکستان میں خاندان کے کسی فرد کو کوئی تکلیف ہو یا کوئی وفات ہو تو ہزاروں میل دور پردیسی کے شب و روز کس قدر تکلیف میں گزرتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں. اپنے اہل و عیال کی فرمائشیں پوری کرنے کےلیے وہ عرب کے تپتے صحراؤں میں یورپ اور امریکہ کی ٹھٹھرتی سردی میں دن رات محنت کرتے ہیں کون جانے کہ وہ اپنوں کے لیے چھپ چھپ کر روتے ہے مگر اس کے لیے بولے گئے الفاظ کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے  سینے میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کا ایک بڑا مسئلہ جائیداد پر غیر قانونی قبضہ بھی ہے دیار غیر میں خون پسینے کی کمائی سے خریدی جانے والی جائیداد پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور بعض اوقات تو اس میں رشتہ دار بھی ملوث ہوتے ہیں بیچارہ پردیسی کچھ ماہ کی چھٹی لے کر گھر جاتا ہے تو جائیداد کے تنازع میں الجھا دیا جاتا ہے اور کبھی کبھار توجائیداد سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں.

    اس کے علاوہ پردیسیوں کے جہاں عرب ممالک میں ویزہ مسائل ہیں تو یورپ میں امیگریشن کاغذات کے مسائل جن کو حل ہونے میں کئی بار تو سالوں لگ جاتے ہیں عرب ممالک میں سب سے زیادہ مسئلہ اجرت کا ہے کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روک لی جاتی ہیں کفالہ نظام کی وجہ سے دوسری جگہ  نوکری ڈھونڈنا محال ہو جاتا ہے.

    پردیسیوں کے مسائل حل کرنے میں مختلف ممالک میں پاکستانی ایمبیسیوں نے بھی کوتاہی برتی ہے اور اب بھی جاری ہے جہاں  کوئی غریب الوطن اگر چلا جائے تو اسے دھتکار دیا جاتا ہے گزشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے  ریاض میں  پاکستانی ایمبیسی کے عملے کے 6 ارکان کو واپس بلا لیا  اور انکوائری کا حکم دیا. ماضی میں اورسیز پاکستانیوں کے مسائل کی طرف توجہ نہ دی گئی مگر موجودہ حکومت کوشش تو کر رہی ہے مگر مسائل کا انبار ہے حل کرنے کے لیے  جہاں سفارتی عملے کی اخلاقی تربیت ضروری ہےوہاں وقت بھی درکار ہے. گزشتہ ڈیڑھ سال سے کورونا کی وجہ سے جو صورتحال ہے اس کا سب سے زیادہ اثر پردیسیوں پر پڑا ہے سفری مسائل اور ملازمتوں کا بحران شروع ہو گیا ہے مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والوں کے ویزے ختم ہونے کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں یورپ امریکہ اور دیگر ممالک میں بے روز گاری بڑھ گئی ہے.

      جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے حالیہ ہنگاموں کی وجہ سے وہاں روزگار کمانے والے پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں بنے بنائے کاروبار اور دکانیں  لوٹ لی گئیں ہیں ان کو ریسکیو کرنے کے لیے ایمبیسی کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ پاکستانیوں کی فوری مدد کی جائے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو نعمتوں سے نوازے تاکہ کوئی پردیسی وطن چھوڑنے کے کرب سے نہ گزرے.

    @tazher55

  • ہم جس کے حقدار ہمیں وہی مقام نہیں ملا . تحریر : آصف شاہ خان

    ہم جس کے حقدار ہمیں وہی مقام نہیں ملا . تحریر : آصف شاہ خان

    مختلف اقوام کے لوگ اسلام کی چھتری کے نیچے جمع ہوے اور اپنے لیے ایک الگ شناخت اپنایا. ان لوگوں نے اپنے قائد ، قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں کھٹن محنت کرکے کرکے اور اخرکار ۱۹۴۷ء میں یہ لوگ اپنی الگ شناخت کے ساتھ ایک ریاست کے مالک بنے. لیکن ان لوگوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ ریاست آزاد کرانے کہ بعد ابھی اس نظام کو لاگو نہیں کیا تھا جس کا ان لوگو ں نے اللہ وعدہ کیا تھا کہ ان کے اس معجزاتی تحریک کے اکثر قیادت وفات پاگئے. اب قیادت کےلیے اس نئ شناخت والی قوم کے ساتھ کوئی حل نہیں تھا سوا اس کے کہ قیادت کو ان لوگوں کے ہاتھ دیا جائے جن نے انگریزوں کے یہاں پر حکمرانی کے وقت ان کے ساتھ مختلف عہدوں پر نوکری کر چکے تھے. لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چونکہ مختلف نوکریاں انجام دے چکے ہیں تو ملک چلانا اسان ہوگا یہ سوچ تو چلانے کے حد تک ٹھیک تھی لیکن مسلہ ایک اور جگہ پر تھا اور وہ یہ کہ ین نئی قیادت کے پاس اس نظام کو لاگو کرنے کے بارے کوئی علم نہیں تھا جس کے خاطر ملک کو حاصل کیا گیا تھا.

    اس نظام کے بارے میں علم نہ ہونے، انگریزوں کے ظاہری عیاشیاں قریب سے دیکھنے اور انگریزوں کی دنیا پر حکمرانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی قیادت نے بجائے اس کے کہ اپنے نظام کو لاگو کرتے ان لوگو نے انگریزوں کے غلاموں کے لیے بنائے ہوئے نظام کو ترجیح دی. اس نئی قیادت کی نظر میں تھا کہ انگریزوں کے ظاہری عادات و اطوار کو اپنا کر، غلامی کے نظام کو لے کر اسلامی نظام کے بغیر ترقی حاصل کرینگے. اس قیادت کا خیال تھا کی انگریزوں کی ترقی ان کے ظاہری عادات و اطوار اور اس نظام کی وجہ سے ہے. لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی. انگریزوں کے عادات و اطوار توغلاموں پر حکمرانی کا نشہ اور ان کا یہاں بنایا ہوا نظام الگ غلاموں کیلئےتھا تاکہ غلام غلام رہے اور حکمرانی طویل عرصے کیلئے ریے. جن لوگوں کو حکمرانی ملی وہ تو تحریک پاکستان کا حصہ نہ تھے ہاں لیکن یہ ضرور تھا کہ وہ انگریزوں کے غلامی کے نظام کا حصہ تھے. اس لیے ان کے پاس اپنے نظام کا علم نہیں تھا لیکن انگریزوں کے غلامی والے نظام کے بارے جانتے تھے. اس لیے قیادت ملنے کے بعد رفتہ رفتہ اس نئی قیادت نے وہی غلامی کا نظام رائج کرنے کیلئے اقدامات شروع کیے اورانگریزوں کے ظاہری عادات و اطوار کو اپنا کر اپنے لیے باعث فخر سمجھ کر اس کو ترقی کا معیار مقر ر کیا. نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں میں اور عوام میں انگریرزوں کے دور کے طرح فاصلے بڑھ گئے .

    اپنے ظاہر کو انگریزوں کے طرح کرنے کیلئے عیاشیوں کے پیچھی پڑھ گئےاور پھر کیسی نے عوام کے مسائل اور ترقی کا نہیں سوچا کیونکہ وہ نظام اور حکمرانی کا نشہ ایسا تھا کہ جو غلاموں کو غلامی میں رکھنے کیلئے تھا. اور اس طرح عوام غلامی کے دور سے نجات نہیں پائے بس مالک بدلے. جو آج تک عوام بگھت رہے ہیں عمران خان سے پہلے ہم تاریخ دیکھ لے تو نظر آتا ہے کہ ہمارے حکمران انگریزوں سے اتنے متاثر ہیں کہ اپنے قومی لباس تک پر شرماتے ہیں . جس قوم کے حکمرانوں کا یہ معیار ہو وہ کیسے ترقی کرسکتی ہے؟ ہمارے نجات اور ترقی کا واحد زریعہ نظام کو تبدیل کرنا ہے ہمیں غلامی کے نظام کے بجائے اسلامی نظام جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا لانا ہوگا. نظام کو تبدیل کرکے ہم ترقی حاصل کرسکتے ہیں.

    @IbnePakistan1

  • پاکستانی سپاہی . تحریر : مریم راجپوت

    پاکستانی سپاہی . تحریر : مریم راجپوت

    زندگی اور موت پاکستانی سپاہی کی زندگی اور موت کی داستان جسے ہم فراموش کر دیتے ہیں زندگی جس میں کسی اپنے سے کیۓ گئے وعدے پورے کرنے تھے زندگی جس میں ابھی کسی کا ہمسفر بننا تھا زندگی جس کی آمد ایک پورے گھر کی خوشی کی واحد وجہ تھی زندگی جس میں اپنی پھولوں جیسی بیٹی کے بہت سے ناز اٹھانے تھے زندگی جس میں اکلوتے بھائی نے بہنوں کے فرض سے سبکدوش ہونا تھا زندگی جسے بوڑھے باپ کا سہارا بننا تھا زندگی جو ماں کی گود میں سر رکھ کر زندگی جینا چاہتا ہے زندگی جسے اسے ابھی اپنے جگری یاروں کے ساتھ مل کر دشمنوں کے بےشمار ارادوں کو شکست دینی تھی.

    لیکن ایک سپاہی کی زندگی میں ایک ہی تمنا سب سے بڑی ہوتی ہے جس کی پوری ہونے کی دعا وہ ہر پل ہر دم کرتا ہے موت شہادت کی موت بس چند منٹوں کی بات ہوتی ہے اور زندگی اور موت کا فیصلہ ہوجاتا ہے….. وہ آنکھیں جو ابھی بہت سی خوشیاں دیکھنے کی منتظر تھی وہ بند ہونے جا رہی تھی وہ کان جو بہنوں کی چہکتی، بیٹی کی میٹھی اور ماں کی شیریں آواز سننے کے منتظر ناجانے کب سے انتظار میں تھے موت کی آغوش کو سن رہے تھے وہ دماغ آج سب ذمہ داریاں چھوڑ کر اپنی پہلی اور آخری ذمہ داری پوری کرنے میں آج اپنے ملک کے لیے قربان ہو رہا تھا اس کی آمد کا منتظر وہ چہکتا گھر وہ چڑیوں سے چہچہاتی بہنیں وہ ماں کی بے چین آنکھیں وہ باپ کا فخر بیٹی کا سوپر ہیرو اور کسی کا اپنے نام سے جڑے جانے والے سب کچھ کا انتظار چند گھنٹوں میں سبز پرچم میں لپٹے ہوۓ الوداعی سلام کے لیے پہنچ جاتا ہے .

    جو لوگ پاکستان کی ایک آواز پر اپنا گھر بار بچے ماں باپ چھوڑ کر بھاگے چلے آتے ہیں اور اپنی زندگی کا فیصلہ ایک پل میں کر دیتے ہیں خدارا ان کی عزت کیا کرۓ ان سے محبت کیا کرۓ.

    pagli_hun@

  • ‏بامقصد تحریراثرکرتی ہے . تحریر: دانش اقبال

    ‏بامقصد تحریراثرکرتی ہے . تحریر: دانش اقبال

    کہتے ہیں معاشرتی براٸیوں پہ کچھ لکھنے کا فاٸدہ نہیں لوگ پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور جو پڑھتے ہیں وہ اگلے ہی لمحے سب بھلا کے اسی براٸی میں مگن ہو جاتے ہیں. میرا ماننا ہے کہ اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے اور آپ کی تحریر پڑھ کے کوٸی ایک انسان بھی اس براٸی سے توبہ کرلے یا اپنی بری عادت چھوڑ دے تو آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گۓ.

    میرے ذہن میں میرے ایک دوست کی مثال ہے جو اپنی بیوی سے مار پیٹ کرتا تھا اور فخر سے دوستوں کو بتاتا بھی تھا اور کہتا تھا ایسے رکھتے ہیں بیویوں کو !!!

    پھر ایک دن اس نے کسی خاتون لکھاری کی ایک تحریر پڑھی اس تحریر میں اس خاتون نے خود سے ہونے والی مار پیٹ اور وحشیانہ سلوک کے بارے میں لکھا اور انتہاٸی تکلیف دہ الفاظ میں اس کرب کا اظہار کیا جس سے عورت گزرتی ہے جب مرد اپنی بیوی کو دوست سمجھنے کے بجاۓ اپنی جاگیر یا زرخرید سمجھتا ہے .

    میں نے وہ تحریر پڑھنے کے بعد اس انسان کو کٸ دفعہ روتے دیکھا اور خدا سے معافی مانگتے دیکھا اپنی بیوی سے معافی ملنے کے بعد پرسکون دیکھا اور آج وہ مثالی جوڑی بن کے زندگی گزار رہے ہیں یا یوں کہیں کہ مثالی دوست بن کے ذندگی کا لطف اٹھا رہے ہیں.

    توعرض یہ ہے کہ ضرور لکھیں بامقصد لکھیں اپنے تجربات لکھیں معاشرتی براٸیوں پہ لکھیں اچھی اور بامقصد تحریر اثر کرتی ہے شاید کوٸی براٸی میں گھرا انسان سدھرنے کے لۓ آپکی تحریر کے انتظار میں ہو مطلب اللہ پاک نے وسیلہ آپ کو بنایا ہو.

    اللہ سب کا حامی و ناصر ہو،

    @Ch_danishh

  • سیاسیی شاہ رنگیلے اور مجبور عوام  تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    سیاسیی شاہ رنگیلے اور مجبور عوام تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    محمد شاہ رنگیلا ( اصل نام روشن اختر) کا نام پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہ مغلیعہ دور حکومت میں بادشاہت کے رتبے پر فائز رہا، بھلے اسکا نام تو پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے، لیکن اسکا کردار بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ شاہ رنگیلا نے اپنی مدت حکمرانی کا زیادہ تر وقت عیش و عشرت میں گزارہ ، یہ چوبیس گھنٹے نشے میں دھت اور حسن و جمال کا بے حد دلدادہ تھا۔ شاہ رنگیلا قانون سازی کرنے اور قانون شکنی کرنے کے خبط میں بھی حد درجے کا مبتلا تھا۔ یہ ایسا سر پھیرا بادشاہ تھا جو کھڑے کھڑے ہندوستان کے کسی بھی شخص کو اعلی ترین عہدہ دے دیتا تھا اور بگڑنے پر یہ کھڑے کھڑے ملک کے وزیراعظم جیسے شخص کو جیل بھیجوا دیتا تھا۔ رنگیلا اکثر دربار میں عریاں حالات میں آجاتا تھا ور درباری بھی اسکی پیروی کرتے ہوئے عریاں ہوجاتے تھے۔
    رنگیلا ایسا بےہودہ بادشاہ تھا کہ اچانک حکم دے دیتا اور کہتا تھا کہ کل فلاں فلاں وزیر زنانہ کپڑے پہن کر اور فلاں فلاں وزیر پاوں میں گھنگرو پہن کر آئیں گے۔ اکثر نشے کی حالت میں یہ حکم دے دیتا تھا کہ جیلوں میں موجود تمام قیدیوں کو رہا کرکے، انکی جگہ اتنی ہی تعداد میں نئے قیدی ڈال دئیے جائیں۔ سپاہی اسکا حکم بجا لاتے ہوئے پورے شہر میں پھیل جاتے اور جہاں بھی کوئی شخص نظر آتا تھا اسکو پکڑ کر جیل میں بند کر دیتے تھے۔ شاہ رنگیلا وزارتیں تقسیم کرنے کا بے حد شوقین تھا، لیکن اکثر یہ دوسرے ہی دن جوش میں آکر وزارت واپس بھی لے لیتا تھا۔ اگر کوئی بھی اسکے حکم کے خلاف جاتا تھا تو اس پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے اور طرح طرح کی ازیتیں دے دے کر اسکو قتل کروا دیتا تھا۔
    جب نادر شاہ نے دہلی کو فتح کیا تو رنگیلا کو اپنے خاندانی ہیرے کوہ نور کی فکر ہونا شروع ہوگئی۔ شاہ رنگیلا کو ڈر تھا کہ اگر نادر شاہ کو ہیرے کے بارے پتہ لگ گیا تو وہ ہیرے کو حاصل کرنے کےلیے ہر کوشش کرئے گا، اسلیے رنگیلا نے اپنا خاندانی ہیرا اپنی پگڑی میں چھپا لیا۔ نادر شاہ کو اپنے مخبر کے زریعے اس بات کا علم ہوچکا تھا، اسلیے رنگیلا سے ملاقات کے وقت اسکے ساتھ شاہی تخت پر بیٹھتے ہی نادر شاہ نے کہا کہ ” جسطرح عورتیں اپنے دوپٹے بدل کر آپس میں بہنیں بن جاتی ہیں، کیوں نہ ہم دونوں بھی اپنی پگڑیاں بدل کو بھائی بھائی بن جائیں”۔ اور اسطرح چالاکی سے نادر شاہ نے رنگیلا سے اسکی ہیرے والی پگڑی حاصل کرکے ، حکمرانی حاصل کرلی، اور رنگیلا اپنی نااہلیت اور کند ذہنیت کی وجہ سے حکمرانی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
    اگر ہم 2017 کے آخر اور 2018 کے اوائل تک اپنی علاقائی سیاسیت پر نظر دوڑائیں تو سیاسیی منظر نامہ بلکل مختلف نظر آئے گا، لیکن 25 جولائی 2018 کے بعد سے لیکر تاحال سیاسیی منظر نامہ بلکل ایسا نظر آئے گا جسطرح شاہ رنگیلا کے دور حکومت میں رہا ہے۔ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے اپنی انتخابی مہمات ، جلسے جلوسوں، ریلیوں، سیاسیی مجلسوں، میڈیا پلیٹ فارمز پر، یہاں تک کہ ہر موقعہ پر اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کے بعد، اپنے چاہنے والوں، اپنے انسوسٹرز ، اپنے میڈیا پرسنز، فنانسسز، پارٹی کےلیے جہانگیر ترین کے کردار ادا کرنے والے افراد، شوشل ورکرز، ڈیروں پر مصنوعی مسائل والے لوگ جمع کرنے والوں، پروٹوکول پارٹیز دینے والے شاہینوں، علاقائی ینگسٹرز ، اور فوٹو سیشن لینے والے فوٹو گرافرز کےلیے اقتدار میں آتے ہیں مخصوص نوکریاں، ملازمتیں، اور ہر طرح کی مالی ، سماجی اور معاشرتی مدد کا یقین دلوایا ہوا تھا۔ پاکستان کی بڑی سیاسیی جماعتوں کیطرح مسلم لیگ ق کے نظریاتی ورکرز، آٹے میں نمک کے برابر ہی ہونگے، جبکہ باقی تمام ووٹرز ، نصف صدی سے چلے آرہے ملکائی، وڈیرہ شاہی، سرداری نظام اور موررثی / خاندانی سیاستدانوں سے جان چھوڑوانے کےلیے ق لیگ کو سپورٹ کیا تھا۔
    جولائی 2018 ، تیسری کوشش کے نتیجے میں مسلم لیگ ق کو حلقہ NA 65 اور PP 24 میں مددگار اتحادیوں کے ووٹ بنک اور پرویز الہی کی معاشی پالیسی کے باعث اکثریتی کامیابی ملی۔ کامیابی ملنے کے بعد مسلم لیگ ق کی قیادت میں شاہ رنگیلے والا کردار جاگ اٹھا اور تمام سیاسیی وعدوں کے ساتھ ساتھ اپنے چاہنے والوں سے راستہ جدا کرلیا۔ کیونکہ سرکاری سطح پر انکی کامیابی کا نوٹیفیکشن جاری ہوچکا تھا۔ تھوڑے سے عرصے بعد ہی شاہ رنگیلا کی طرح ق لیگ کیطرف سے منہ موڑنے پر انکی پارٹی کے تمام الحاقی اور تشہیری افراد کو سخت مایوسی کا سامنا ہوا۔ اقتدار میں آنے کے بعد شاہ رنگیلا کیطرح ق لیگی قیادت نے بھی من پسند افراد کو اعلی سطح پر نوازنا شروع کردیا گیا۔ اعلی سطحی قائدین کی طرف سے انکی ہاں میں ہاں ملانے والوں کے ذریعے ہر فورم پر مزاحمتی برگیڈ کے قیام شروع کردئیے گئے۔ میڈیا پرسنز کے ذریعے اپنی تشہیر و تعریف کے پل بندھوانا شروع کروادئیے۔ اخبارات کے اندرونی صفحات سے فرنٹ صفحے پر سرخیوں میں جگہ بنوالی گئی۔ علاقائی تھانے کچری کے اندر بجائے جانبداری اور شفافیت کے، مداخلتی کردار ادا کرنا شروع ہوگئے۔ صوبائی سطح پر سئنیر پولیس آفسران کے ذریعے علاقائی تھانہ کچری سسٹم میں پنجے گاڑھنا اور مداخلت کا نظام شروع ہوگیا، من مرضی کے فیصلے اور ایف آئی آرز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ شاہ رنگیلا کے طرز حکمرانی کو اپناتے ہوئے، اگر انکے خلاف کسی بھی فورم پر کوئی حق سچ کہنے کی جرت کرتا تو انکے خلاف منظم انداز میں مہم چلائی جانی شروع ہوگئی، طرح طرح کے طریقہ کاروں سے انکو تنگ کیا جانے لگتا، سوشل میڈیا پر انکی کردار کشی کی جانے لگی، یہاں تک کہ لوکل پولیس کے ذریعے انکو ڈرایا دھمکا جانا بھی شروع کردیا گیا۔ اگر موجودہ سیاسیی نظام کو دیکھیں تو ایک بار پھر ہمارے اوپر شاہ رنگیلا جیسے حکمران مسلط ہوگئے ہیں، جنکے سامنے عوام مجبور اور بے بس ہوچکی ہے۔ مجبور اور بے بس عوام ابکے خلاف جانے کی جرت نہیں کرسکتی ہے، کیونکہ تھانے کچری سے لیکر اعلی ترین عدلیہ میں انکے کارندے موجود ہیں، جو انکی ہر ممکن مدد کار خیر سمجھ کر کرتے ہیں۔
    قارئین حضرات !!! 1719 سے لیکر 1748 تک برسراقتدار رہنے والا شاہ رنگیلا تو اپنی بدنامیوں، عیاشیوں، بد عنوانیوں، رنگینیوں، بد اخلاقیوں اور بد زبانی کی وجہ سے اپنے اقتدار سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ زمین بوس ہوگیا، لیکن ہمارے لوکل اور نیشنل سیاسیی نظام میں آج بھی بہت سارے ایسے سیاسیی شاہ رنگیلےبر سر اقتدار ہیں، جو رنگیلے کیطرح بدنام بھی ہیں، عیاش بھی ہیں، بد اخلاق بھی ہیں، وعدے فرموش بھی ہیں، فراڈئیے بھی ہیں، دھوکے باز بھی ہیں، چاپلوس بھی ہیں، خوش آمدی بھی ہیں، لارے لپے لگانے والے بھی ہیں،نجانے کیا کیا معاشرتی برائیوں کے ساتھ ہمارے اوپر مسلط ہیں اور نجانے کب تک رہیں گے۔ عوام کو چاہیے کہ اپنے اردگرد ایسے سیاسیی رنگیلوں کو پہچانیں، بجائے انکے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بننے کے انکا سامنا کریں، ایسے رنگیلوں کےلیے اپنے دوستوں، رشتے داروں اور برادری والوں سے علحدگیاں اختیار مت کریں، انکی چکنی چوپڑی باتوں کو سینے سے لگاکر مت رکھیں، انکا محاسبہ کریں، ابکے ساتھ سیلفیاں بنانے کی بجائے ان سے انکی کارکردگی پر سوال کریں۔ نجانے ہمارے معاشرے میں ہر کوئی دولتمند اور طاقتور سے ہی کیوں ڈرتا ہے ؟ کیا سیاسیی یا طاقتور کو موت نہیں آنی، بلکہ ہمیں تو زیادہ ڈرنا چاہیے اس کمزور اور مجبور انسان سے جو ہر دکھ درد میں الله کی طرف دیکھتا ہے، اسکے فیصلے کا انتظار کرتا ہے۔ دعا ہے اللہ پاک یمیں ایسے سیاسیی رنگیلوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔

    (@_Ni_s)

  • درخت لگاؤ – مستقبل محفوظ بناؤ   تحریر : حسن ریاض آہیر

    درخت لگاؤ – مستقبل محفوظ بناؤ تحریر : حسن ریاض آہیر

    درختوں کے قتلِ عام میں ہم اشرف المخلوقات سرِ فہرست ہیں۔
    گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے مندرجہ ذیل تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر کی اور ساتھ پیغام لکھا کہ ہم اس سال ریکارڈ شجر کاری کریں گے۔
    تصویر میں موجود درخت جو مختلف ممالک میں فی شخص درختوں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے، اسے دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے ہم پاکستانی ریگستان میں رہتے ہوں۔
    اس تصویر کے مطابق دیکھا جائے تو
    کینیڈا میں ایک انسان کے لئے دس ہزار ایک سو تریسٹھ درخت ہیں
    گرین لینڈ میں چار ہزار نو سو چونسٹھ
    آسٹریلیا جو کہ بظاہر ریگستان نما ہے اس میں فی شخص تین ہزار دو سو چھیاسٹھ
    امریکہ میں چھ سو ننانوے
    فرانس میں دو سو تین
    ایتھوپیا میں ایک سو تینتالیس
    چائنہ میں ایک سو تیس
    انگلینڈ میں سینتالیس
    ہندوستان میں اٹھائیس
    اور جبکہ ہمارے پیارے پاکستان میں ایک انسان کے حصے میں پانچ درخت آتے ہیں ۔۔۔
    ہم آج سے تیس سال پیچھے چلے جائیں تو شاید ہمارے ملک میں فی شخص ایک سو سے زیادہ درخت تھے لیکن پھر جمہوری قوتوں نے ملک سے درختوں کا صفایا کر دیا۔
    میں ان تمام نام نہاد سابقہ حکمرانوں سے پوچھتا ہوں کہ اتنے درخت کاٹنے کے بعد کیا تمہارا پیٹ بھر گیا ؟
    ہوس اور لالچ ہے کہ کبھی ختم ہو نہیں سکتی ۔۔۔
    اگر اتنے ہی تم انسانیت دوست اور عوام کے خیر خواہ ہوتے تو درخت کاٹنے کی بجائے پہلے سے دوگنے درخت اپنی جیب سے لگواتے اور جب تک زندہ ہو ان کی اس طرح حفاظت کرتے جس طرح اپنی اولادوں کی کرتے ہو۔
    تمھارا نام آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھتی اور تمہیں دعائیں دیتی۔
    صرف حکمران ہی نہیں ہم عوام کی بھی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ شجر کاری کریں اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔
    درخت لگانے سے موسوم خوش گوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ ہوا میں موجود آلودگی کم ہوتی ہے۔ زمین کٹاؤ سے بچی رہتی ہے اور چرند پرند کا یہ مسکن ہوتا ہے۔
    ماحولیاتی تبدیلیوں میں درخت فلٹر کا کام کرتے ہیں اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے اور انکی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔
    حکومت پاکستان وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں شجر کاری مہم میں پیش پیش ہے اور انکی اس محنت کا ادراک عالمی فورمز پر بھی کیا گیا ہے۔
    ہم سب پاکستانی خود سے عہد کر لیں اور اپنی ذات کے لیے ہی ایک ایک درخت لگانا شروع کر دیں تو یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ سکتی ہے، حکومت شجر کاری کر رہی ہے اور اس حوالے سے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے لیکن کچھ زمہ داری ہم عوام کی بھی بنتی ہے۔
    اللّٰہ پاک ہمیں ہمیشہ ہر قدرتی اور ماحولیاتی آفات سے بچائیں آمین !
    درخت لگاؤ
    زندگی محفوظ بناؤ

    @HRA_07