Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میرا وطن . تحریر: عائشہ رسول

    میرا وطن . تحریر: عائشہ رسول

    وطن کی مٹی میں جو خوشبو ہے وہ پردیس کے پھولوں میں کہاں ہے. ہم وطن کو برابھلا کہتے ہیں جبکہ وطن نے ہمیں پہچان اور ایمان دیا ہے .میری روح میرے وطن پر قربان. اے میرے وطن! کوئی ہے جو مجھے امن و سلامتی دے مجھے انصاف دے عزت نفس دے میرے بھروسے پر پورا اترے .! اے میرے وطن! میرے حکمرانوں نے میری کشادہ مزاجی چھین لی ہے میں حوصلہ افزائی سے مرحوم کر دیا گیا ہوں میرے زہن کی تمام صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا گیا. میں خود پر رو نہیں سکتا.. میرے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ ظلم دیکھ دیکھ کر میری آنکھوں کا نور زائل ہوگیا ہے. اے میرے وطن! تیری کھیتاں صحراوں میں تبدیل ہو نے والی ہیں تو بوند بوند پانی کو ترس جائے گایہ آب فروش حکمران تیری رگوں سے خون نچوڑ لیں گے انکی بانجھ نسلیں ہمارا مستقبل تباہ کردیں گی.

    اے میرے وطن! میرے پاس میری پاس اپنی درد مندی کا علاج نہیں تیرا رزق کھاتے ہیں اور تیرے لیے انکی زبان پر دعا نہیں رعایا اور حاکم کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے… یہ وطن. سے محبت کی کمی کی وجہ سے ہے اے میرے وطن! عزت سے خود کشی بھی کر لوں تو میرے لیے باعثِ فخر ہے ؛ بیگانے دیس میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کروں اور وصیت یہ ہو کہ مجھے وطن میں دفن کیا جائے .یہ کتنا بڑا اپنے نفس کے ساتھ دھوکا ہےوطن سے بغاوت ہے وطن کی نافرمانی ہے.

    اے وطن! میں زہنی غلام بن کر نہیں رہنا چاہتا. مجھے اجازت دے کی میں خود کشی کر لوں میں زندہ نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے لیے امن و سلامتی اور انصاف نہیں. جہاں میرے پاس انصاف خریدنے کے لیے دولت نہیں میں اپنی عزت نفس بیچ کر بھی زندگی کو امن نہیں دے سکتا
    بتا اے وطن! میرا گناہ کیا ہے یہ کہ میرے آباؤاجداد نے اپنا خون دے کر تجھے حاصل کیا تھا اور آج میں اپنے ہی وطن میں لاوارث ہوں قانون مجھے تحفظ نہیں دے رہا.

    کیا اب بھی میں غلام ہوں غلام زہنی غلام ہوں مجھے اپنے ہی وطن میں بے گناہ مارا جا رہا ہے میں اپنا عقیدہ چھپا رہا ہوں .مجھے عقیدت کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے میرا وطن قتل گاہ بن گیا.

    @Ayesha__ra

  • زبان اقوام کی پہچان . تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    زبان اقوام کی پہچان . تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    زندہ وطن میں روحِ ثقافت اسی سے ہے
    آزادیِ وطن کی علامت اسی سے ہے

    زبان کسی بھی قوم کی ثقافت کا بنیادی جزو ہے۔زبان ہی کے ذریعے انسان اپنے خیالات، جذبات اور احساسات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ زبان کسی بھی قوم کی پہچان کی علامت ہوتی ہے۔ زبان ہر قوم کی قومی یکجہتی اور اتحاد کا مظہر ہوتی ہے۔ایسی زبان جو عوام کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرتی ہو اور اس قوم کے تمام لوگ اس زبان کو بذریعہ اظہار استعمال کرسکیں اسے قومی زبان کہتے ہیں۔
    زبانوں کا اختلاف دو قوموں کی ثقافت کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ بعض اوقات زبان کا تنازعہ دو مختلف ممالک کے قیام کا موجب بن جاتا ہے۔

    ہمارے ہاں تقسیم پاک و ہند ہو یا تقسیم مشرقی پاکستان و مغربی پاکستان اس تقسیم کی بنیادی وجہ زبان ہی تھی۔
    1867 میں بنارس میں ہونے والے اردو ہندی تنازعے کے بعد برصغیر کے مسلمانوں میں الگ وطن کے حصول کی خواہش اٹھی۔ سرسید احمد خان نے اسی تنازعے کے بعد دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھی اور تمام دنیا کو باور کروایا کہ ہندوستان ایک برصغیر ہے ملک نہیں اور یہاں پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں اور ان میں مسلمانوں کی الگ پہچان ہے۔زبان کا ہی تنازع قیام پاکستان کا سبب بنا۔

    کسی بھی ملک و قوم کی قومی یکجہتی کا انحصار اس ملک و قوم کی قومی زبان پر ہوتا ہے۔ قومی زبان ملت میں یگانگت کا سبب بنتی ہے۔ قوموں کی فلاح و بہبود اور زندہ ہونے کا ثبوت اس قوم کی زبان ہوتی ہے۔

    @mujahidabbasta1

  • پردیس کی زندگی . تحریر: ثاقب محمود ستی

    پردیس کی زندگی . تحریر: ثاقب محمود ستی

    اپنوں سے بہت دور پردیس کی زندگی کتنی مشکل ہے وہی لوگ جان سکتے ہیں جو پردیس میں رہ کر آئے ہوں ۔خاص کر وہ لوگ جو پرائے دیس میں مزدوری کے لئے جاتے ہیں ۔ زرا سوچئے اپنے ماں پاب سے دور بیوی بچوں سے دور بہن بھائیوں سے دورپردیس کی زندگی کیسی ہو گی ؟

    خدا نخواستہ!
    اگر کسی کی موت ہوجائے اور آپ پردیس میں ہیں لیکن آ نہیں سکتے مرنے والا آپکا بہت پیارا ہے ۔ تو آپکے دل پر سے کیا گزرے گی ؟
    اگر آپکے کسی پیارے کی شادی ہے گھر میں کوئی خوشی کا موقع ہے اور آپ کسی عرب ملک میں کفیل کے پاس پھنسے ہیں جو آپکو چھٹی نہیں دے رہا تو آپکے دل پر کیا گزرے گی ؟

    یقینا” آپ تڑپ جائیں گے ترس جائیں لیکن چارو ناچار کیا کر سکتے ہیں کسی خوشی کے موقع پر یا غم کے موقع پر آپ اپنے پیاروں
    کے پاس پہنچ نہیں سکتے ۔ مپردیس کی زندگی کیسی ہے یے پردیسی ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ پردیس میں صبح اٹھنا اپنا ناشتا خود بنانا ۔
    پھر ڈیوٹی پر جانا ٹائم سے لیٹ ہو جانے کاڈراگر لیٹ پہنچے تو تنخواہ کاٹ لی جائے گی ۔ ہائے واپس آکر اپنے کپڑے بھی خود دھونے ہیں اپنی ہانڈی روٹی بھی خود کرنی ہے اور اس کے بعد ٹائم نکال کر گھر فون کال بھی کرنی ہے ۔ پورا دن مدیروں کی گر گر سننے کے بعد کچھ سکون کے لئے گھرفون کریں گے تو نئی نئی فرمائشیں تیار ہونگی گھر سے بیوی بچوں کی بہن بھائیوں کی نئی سے نئی ڈیمانڈ پوری کرنی ہیں ۔

    لیکن افسوس !
    صد افسوس کسی نے یے نہیں پوچھنا کے آپ ٹھیک بھی ہوآپ اتنا کام کرتے ہو کہیں تھک تو نہیں گئے طبیعت تو صحیح ہے آپکی ۔ لیکن نہیں فرمائش ہوگی نئے فون کی ٹیب چاہیے بچوں کے لئے نئے کپڑے کسی نہ کسی رشتہ دار کی شادی آرہی ہے آپ بس پیسے
    بھیجتے جاو پیسے بنانے والی مشین بن کے رہوبس ۔ اگر آپ بیمار ہو گئے تو بھی آپ نے اپنا خیال خود رکھنا ہے کیونکہ یہاں اماں جی تو بیٹھی نہیں پردیس ہے ۔ یہاں لوگ یے سمجھتے ہیں کے بیرون ملک میں مقیم ہے بہت کماتا ہے ریالوں میں لیکن پتا اسی کو ہوتا ہے کے کن مشکلات میں رہ کرکماتا ہے ۔ گھر والوں کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے تین تین سال گھر سے دوررہتا ہے ۔ پرائے لوگوں کی باتیں سنتا ہے اوراپنا ہر کام خود کرتا ہے ۔ پردیس میں مزدوری کرنے کے بعد جب گھر آو تو کچھ دن تو اپنے بیوی بچے بہت خوشی کا اظہارکرتے ہیں لیکن جیسے جیسے دن گزرتے ہیں اور آپ اپنے بچوں کو کسی برے کام سے روکتے ہیں بچوں کو آپ انتہائی برے لگنے لگتے ہیں ہٹلر ٹائپ باپ اچھا بھلا پردیس میں تھا اب گھر آکر ناک میں دم کیا ہوا ہے ۔ پھر چارو ناچار پوچھنا شروع کردیں گے پاپا آپنے واپس نہیں جانا کیا ؟

    آپ واپس کب جائیں گے اتنا نہیں سوچیں گے کے ہمارے سکھ کی خاطر اس باپ نے اپنی پوری زندگی پردیس میں کاٹی اب بوڑھا
    ہونے کو ہے کچھ آرام کرلے ۔ نلیکن نہیں کس کو احساس ہی پردیس میں میں رہنے والے تو پیسے بنانے کی مشین بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمیں کم ازکم اپنوں کے ساتھ تو یے ظلم نہیں کرنا چاہیے اپنے پیاروں کا احساس کرنا چاہیے ۔ نمیری گزارش ہے تمام لوگوں سے جن کے پیارے پردیس میں یعنی بیرون ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہوں ۔ ان کا بہت خیال رکھیں اور ان کو فضول ڈیمانڈ نہ کریں جو وہ پوری نہ کرسکیں ۔ جب کوئی بیرون ملک سے فون کرے تو اس کی بات توجہ سے سنیں ۔ تاکہ اس کی دل آزاری نہ ہو کیونکہ یے آپکے لئے تمام مشکلات جھیل رہا ہے ۔

    اللہ پاک تمام پردیسی بھائیوں کی مشکلات آسان فرمائے آمین ۔

    @Ssatti_

  • تحریر:مریم صدیق  والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعاتہ

    تحریر:مریم صدیق والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعاتہ

    والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعات آج بھی ایک بہت اہم ملہچو ہے ۔ تاہم انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کی شدت میں بدلاو نظر آتا رہا جیسا کہ روایتی اور صنعتی دور کے آغاز میں نوجوان آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار اور کسی بھی حالت میں ان کا عملی مظاہرہ نہیں کر سکتے تھےلیکن پھر گزرتے وقت اور ترقی کے ساتھ آپس میں خاندانی تعلقات بھی بدلتے رہے اور آزادی رائے عام ہوتی رہی مگر اب بھی پہلے کی نسبت دو نسلوں کے مابین تنازعات زیادہ عام ہیں۔
    دراصل اس مےئلا کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تمام نسلیں اپنے اپنے دور میں رہنا چاہتی ہیں اور ہر دور کا ایک اپنا اصول و اقدار کا نظام ہوتا ہے جوکہ ہر نسل کے لیے بہت اہم ہے جس کا دفاع کرنے کےلیے وہ ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ کسی زمانے میں پرانی نسل کی زندگی سے متعلق نظریات کو انسانی وجود کی بنیاد سمجھا جاتا تھا ۔ اب اکثر بچےایک طرف اپنے کنبے کی زندگی کے تجربے کو اپناتے ہیں تو دوسری طرف بڑوں کے دباو سے بھی آزاد ی حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اور سامنے آنے والی ہر چیز کو مسترد کر دیتے ہیں کہ انہیں اپنی زندگی مختف انداز میں گزارنی ہے۔
    دراصل مسئلے کی بنیادی وجہ جنریشن گیپ ہے جس کا اثر دونوں کی سوچ پر مرتب ہوتا ہے۔اور اس مسئلے کا حل نوجوان نسل کی تعلیم اور اخلاقیات میں ہے۔ تعلیم کے معاملات میں سب سے پہلے آزادی رائے سے متعلق آگاہی،پھر شعوری طور پر فیصلے کرنے کی صلاحیت اور ان کے لئے ذمہ دار بننے کی اہلیت ، پھر خود اپنے آپ کو جاننے اوردنیاوی علم حاصل کرنے کی جستجو پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ اخلاقی تعلیم کے امور خصوصی توجہ کے مستحق ہیں مگر بدقسمتی سے فی الحال نئی نسل زندگی کی اقدار کے بارے میں بالکل مختلف نظریات رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور اخلاقیات کے علم کو معاشرتی طور پر عام ہونا چاہئے۔ جب نئی نسل جوانی کے دور میں داخل ہوتی ہے تو اسے معاشرے میں کئی ماںئل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ کرپشن، معاشرتی انصاف اور ثقافتی و معاشرتی ترقی میں کمی اس کا حل نوجوان نسل کو آگاہی دینے اور انکی لاعلمی کو ختم کرنے کی کوششوں سے ہی ممکن ہے تا کہ معاشرے اور ملک میں ثقافت کی سطح کو بلند کیا جا سکے۔
    والدین اور بچوں کے مسائل کی "جنریشن گیپ” کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جو انہیں نفسیاتی طور پر بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اور یہ وجوہات دور کی تبدیلی یا معاشی و معاشرتی ترقی کے برعکس ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ بچوں اور والدین کے مابین مفادات کا تصادم ہے۔نوجوان خود کو ہر طرح سے قابل سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی پریشانیوں کا حل بخوبی نکال سکتے ہیں لیکن والدین کے لیے ان کے بچے ہمیشہ چھوٹے ، ناتجربہ کار رہیں گے جنھیں پہلے کی طرح معاشرے میں موجود خراب اثرورسوخ سے بچانے کی ضرورت ہے۔ فطرتی طور پر والدین تحفظ کے لیےبچوں سے طرح طرح کی گفتگو کرتے ہیں جن کو اکثر ہدایات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور بچے عام طور پر تنازعے کے اس حل کو مسترد کرتےدیتے ہیں ، کیونکہ انہیں یقین ہوتاہے کہ وہ پہلے ہی کافی عمر کے اور سمجھدار ہو چکے ہیں۔ نوجوان خود ہی مسائل کو حل کرنا اور ان کے لئے خود ذمہ دار بننا چاہتے ہیں۔ یقینا وہ غلط فیصلہ کرسکتے ہیں لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انہی غلطیوں کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ لہذا نفسیاتی سطح پر اس مسئلے کا حل دونوں نسلوں کو ہی آنا چاہئے۔ میری رائے میں والدین کو بات چیت کی شکل اور بچے کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہئے ۔ یہ ظاہر کریں کہ وہ ان کے معاملات میں اس کا راستہ روکنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ اس کے برعکس ، کسی بھی چیز میں مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اور بچوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کو سب سے پہلے والدین کی تندرستی کا خیال رکھنا ہےاور اپنی حد میں رہ کر معاملات کو سلجھانے اور والدین کو سمجھنے کی بھی کوشش کرنی ہے۔
    عمر بڑھنے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ نوجوان نسل کی مدد کریں نا کہ ان کے لیے روکاوٹ بنیں اور نا ہی ان کے حریف۔ ان ساری باتوں سے یہی نتیجہ اخذ ہوا کہ "والدین” اور "بچوں” کے مابین مسائل نےنہ صرف بہت سارے تنازعات اور تضادات کو جنم دیا ہے ، بلکہ اسے حل کرنے کے بہت سارے طریقے بھی پیدا کیے ہیں۔

    @MS_14_1

  • امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ . تحریر : محمد وقاص

    امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ . تحریر : محمد وقاص

    ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملہ کے بعد امریکہ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم تھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا ماسٹر مائنڈ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا گیا۔جو اس وقت افغانستان میں پناہ گزیر تھے ۔امریکہ نے طالبان کے امیر ملا عمر پر دباو ڈالا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کر دے ورنہ بعد میں آنے والے نتائج کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرایا جائے۔طالبان کے امیر ملا عمر نے اس امریکی پیشکش کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کو نہ ملک سے دربدر کریں گے اور نہ ہی کسی کے حوالے کریں گے۔

    اس کے کچھ عرصے بعد ہی امریکہ اپنی اتحادی فوجوں کے ساتھ افغانستان پر ٹوٹ پڑا۔افغانستان سے بھی کافی لوگ جو طالبان کی سخت اسلامی شرائط کی وجہ سے متنفر تھے انہوں نے بھی امریکہ کا بڑھ چڑھ کر اس میں ساتھ دیا اور یوں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا۔یوں امریکہ نے افغانستان میں اپنی مرضی کی ایک حکومت قائم کر دی جو ان کے اشاروں پر چلتی تھی۔

    بات یہیں ختم نہیں ہوتی امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیوں اور افغان فورسزز نے طالبانوں کے خلاف جگہ جگہ محاز آرائی شروع کر دی۔اس کے بعد نیٹو اتحادی فورسز نے ایک ایبٹ آباد میں خفیہ آپریشن کا کیا جس میں انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامی بن لادن کو مارنے کا دعوی کیا۔20 سال جنگ کرنے کے بعد امریکہ کو افغانستان میں اپنی شکست ہی نظر آ رہی تھی۔امریکہ نے کھربوں ڈالراس جنگ میں جھونک دئیے مگر ہاتھ میں ناکامی کے سوا کچھ نہ آیا۔لہذا انہوں نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ اب افغانستان سے کسی طرح انخلا کر لیا جائے۔اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا۔

    چناچہ امن معائدہ کا ٹاسک پاکستان کو سونپا کو گیا۔پاکستان کی ان تھک کوششوں کی وجہ سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔جس کا اعتراف خود امریکہ اور دنیا بھی کرتی ہے ورنہ یہ امن معائدہ کھبی نہ طے پاتا اور یہ خونی جنگ کھبی نہ رک پاتی۔طالبان نے امن معائدہ میں شرط رکھی کہ تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ہی ہم امن معائدہ کر سکتے ہیں ورنہ ہمیں یہ معائدہ قابل قبول نہیں۔چونکہ امریکہ کی بھی یہ خواہش تھی کیونکہ امریکہ اس جنگ میں میں بھاری مالی نقصان اور جانی نقصان اٹھا چکا تھا اس نے یہ شرط قبول کر لی ۔اس طرح اس طویل 20 سالہ جنگ کا اختام ہوا۔

    امریکہ کی اس طویل 20 سالہ جنگ کے نتائج کچھ اس طرح سے بیان کیے جا سکتے ہیں۔2001سے 2020 تک 71000شہریوں کی جانیں گئیں۔66سے69 ہزارافغان فوجی جان سےگئے۔نیٹو کے 3500 فوجی ہلاک ہوئے.3800نجی سیکورٹی اہلکارجان سے گئے۔طالبان/دیگرجنگجوؤں نے84000جانیں گنوائیں۔27 لاکھ لوگ پڑوسی ملکوں میں چلے گئے۔32 لاکھ ملک کے اندر ہی در بدر ہیں۔پاکستان میں تقریبا 80 ہزار شہریوں کی جان گئی۔پاکستان کو ایک سو پچاس ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔امریکہ نے افغانستان کی تعمیر نو پر 1.43 کھرب ڈالر خرچ کئے۔کل ملا کر جنگ پر 22.6 کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔ اور نتیجہ صرف تباہی تباہی اور تباہی نکلا.

    @WaqasUmerPk

  • امید کی کرن:  تحریر.عمرخان

    امید کی کرن: تحریر.عمرخان

    آگ تو ناجانے کب کی بُجھ گئی تھی۔ اب صرف راکھ بچی تھی اور میں اپنی سوچوں میں ڈوبا خواہشوں اور امیدوں کی تکمیل کا سوچتے اُس راکھ کو گورے جا رہا تھاجو دھیرے دھیرے یخ ٹھنڈی ہوئے جا رہی تھی۔
    میری سوچیں میرے دماغ پہ حاوی ہوئے جا رہی تھیں،
    آخر یہ اُمیدوں اور خواہشوں کی تکمیل کیونکر ممکن نہیں؟ کیونکر وقت کہ ساتھ ہر اُمید ختم ہوئے جاتی ہے؟ کیونکر میں خواہشوں کو تکمیل نہیں دے پا رہا؟لگتا تھا کہ اب کامیابی ممکن ہی نہیں۔ اب تو ناکامی مقدر ہے۔ لیکن یہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ راکھ جو میری آنکھوں کے سامنے بلکل بُھج چکی تھی‚ اس میں ایک ہلکی سی روشنی منور ہوئے جاتی ہے۔ یہ روشنی !!یہ روشنی کیسی ہے؟ ایک عجیب کشمکش میں مبتلا میں ایک اور سوچ سوچنے ہر مجبور ہوا کہ جیسے اس بُجھی ہوئی راکھ میں سے اس چھوٹی سی چنگاری نے اُمید نہ کھوتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس مجھے دلایا تو میں انسان ہو کر نہ اُمید کیسے ہو سکتا ہوں ؟
    تب سمجھ آیا کہ انسان زندگی کہ کتنے ہی اندھیروں کا شکار کیوں نہ ہو ایک جگنو اُمید کا اسکے ہمدم ہوتا ہے جو ہر وقت اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اندھیرا زیادہ دیر نہیں ہے خواہ وہ جگنو چھوٹا ہی ہوتا ہے لیکن اس سے جڑی امیدیں بہت بڑی ہوتی ہیں.
    انسان زندگی میں کتنا ہی بے سکون اورنہ اُمید کیوں نہ ہو اسکی زندگی مکمل امیدوں اور کاوشوں ہر انحصار کرتی ہے.
    امیدیں ایک ایسی ڈور ہیں جو انسان کو زندگی کی روشنیوں سے باندھے رکھتی ہیں. زندگی کی خوبصورتی انہی چھوٹی اور بڑی امیدوں کی تکمیل پر ہے. جب زندگی میں اُمید کی کوئی کرن جاگتی ہے تو اسے پورا کرنا جوش اور ولولہ انسان کو اس کے خالق کے قریب کر دیتا ہے بس عقل انسانی اپنی امیدوں کو پہچاننے سے قاصر ہے.
    اس بُجھی راکھ میں ایک چھوٹی سی چنگاری نے آگ مکمل نہ بُجھنے کا احساس دلا کر مجھے اس قابل بنایا کہ اپنی خواہشوں کی تکمیل کےلئیے اپنی اُمید کی کرن کو کبھی مرنے نہیں دینا اور یہی زندگی کی بھاگ دوڑ ہے۔

    ‎@U4_Umer_

  • مسئلہ ناموس رسالت ﷺ اور بحیثیت امت ہمارا کردار . تحریر : علی حسن

    مسئلہ ناموس رسالت ﷺ اور بحیثیت امت ہمارا کردار . تحریر : علی حسن

    کافر ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کی دل آزاری کرنے میں لگا ہوا ہے. ان کو نہیں پتا کہ ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس قدر محبت کرتے ہیں اور ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کائنات کی ہر شے سے بڑھ کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی جائے.

    میں یہاں پرایک حدیث کا حوالہ دینا چاہوں گا.
    عن أنس وأبي هريرة رضي الله عنهما مرفوعاً: لا يُؤْمِنُ أحدُكم حتى أَكُونَ أَحَبَّ إليه مِن وَلَدِه، ووالِدِه، والناس أجمعين.
    [صحيح.] – [حديث أنس -رضي الله عنه-: متفق عليه. حديث أبي هريرة -رضي الله عنه-: رواه البخاري.]

    ترجمہ :
    انس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“

    اس حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب تک محبت کی انتہا نا کر دی جائے تب تک بندہ مکمل مسلمان ہی نہیں ہو سکتا.آج کل مسلمانوں کو امن کا اتنا درس دیا جا رہا کہ دنیا کچھ بھی کرتی چلی جائے مسلمان جیسے کہ سو رہے ہیں.
    فرانس نے سلطان عبدالحمید کے دور میں گستاخانہ ڈرامہ بنایا تو سلطان عبدالحمید نے دلیرانہ للکار سے فرانس کو روکا اور کہا کہ اگر فرانس باز نا آیا تو عالم اسلام میں جہاد کا اعلان کر دوں گا. صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی گستاخوں کے سر قلم کرتے رہے ہیں حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حکم دیا تھا گستاخ کو قتل کرنے کے لیے. مسلمان گستاخوں کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہمارے جذبات کا مسئلہ ہے، یہ ہماری محبت کا مسئلہ ہے اور یہ ہماری غیرت کا مسئلہ ہے.

    مسلمان گناہ گار تو ہو سکتا ہے لیکن غدار نہیں ہوسکتا.اگر ہم گستاخوں کے خلاف خاموش رہیں تو ہمارا ایمان کہاں ہو گا.اگر ہم گستاخوں کو جواب نہیں دیتے تو ہم قبر میں اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے؟
    ہم کیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کی طلب کریں گے؟ ہم کیسے باوفا امتی کہلائیں گے؟
    ہم حوض کوثر پر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں سے جام پینے کیسے جائیں گے؟

    بحیثیت امت ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر محاذ پر ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کریں چاہے ہماری جان چلی یا ہمارے مال ختم ہو جائیں اور یا ہماری اولادیں قربان ہو جائیں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا.
    ابھی حال ہی میں فرانس نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی جس پر مسلمان بہت دکھی ہوئے لیکن افسوس ہم ان کو جواب نا دے سکے.
    ہمیں اس قدر سخت جواب دینا چاہیے تھا کہ ساری دنیا جان لیتی مسلمان اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے، اپنا مال تو لٹا سکتا ہے لیکن گستاخی رسول کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا.

    افسوس ہمیں اپنی معیشت کا زیادہ احساس تھا لیکن ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہرہ نا دے سکے. ہمارے ایمان کمزور ہو چکے ہیں ہم یہ کہتے رہے کہ اگر فرانس کو سخت جواب دیا تو سارے یورپی ممالک ہمارے ساتھ تجارت نہیں کریں گے ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی. یورپ ہمیں گرے لسٹ سے نہیں نکالے گا. اسی خوف سے ہم ان کو جواب نہیں دے سکے. نمسلمان کا ایمان تو بہت ہی مضبوط ہوتا ہے.

    کیا دنیا کے سارے خزانے ہمارے رب کے نہیں ہیں؟
    کیا ساری کائنات کا مالک ہمارا رب نہیں ہے؟
    کیا یورپ کو رزق ہمارا رب نہیں دیتا؟
    کیا ہمیں رزق ہمارا رب نہیں دیتا؟

    یقیناً ساری کائنات کا مالک ہمارا رب ہے ہمیں رزق اللہ ہی دیتا ہے تو پھر ڈر کس بات کا جب رزق اللہ دیتا ہے تو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں اگر معیشت بیٹھ بھی جائے تو پرواہ نہیں. ہمارا رب ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت پر پہرہ دینے کی وجہ سے سپر پاور بنانے پر قادر ہے. لیکن شرط یہ ہے کہ مخلص ہو جاو ڈر نکال دو اپنے اندر سے اور بس ایک ہی بات کہو گستاخ رسول اب تیری خیر نہیں.

    اللہ تعالیٰ ہمیں باوقار مسلمان بنائے آمین.

    @AliHassan_9211

  • مایوسی ایک گناہ ہے . تحریر: شعیب مراتب

    مایوسی ایک گناہ ہے . تحریر: شعیب مراتب

    انسان کی قدر و منزلت صرف دولت ہے دولت کی جدوجہد کے لئے ہمیشہ محنت کرتا ہے خوبصورت زندگی اللہ کا ذکر کرنے سے توبہ کرنے سے ملتی ہے ہمیشہ اللہ کا ذکر کرو اللہ آپ کو وہ منزل دے گا جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ بڑا غفور و رحیم ہے مانگو اس سے جو دینے والا ہے صرف اللہ ہی ہے جو آپ کی مدد کر سکتا ہے زندگی میں مشکلات آتی رہتی ہیں مگر ہمت اور حوصلے سے مقابلہ کرنا چاہیے کسی کے پاس پیسہ دیکھ کر کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ہوسکتا ہے کل آپ کو اللہ تعالی اس کا بہتر اجر دے اللہ تعالی پرامید اور توکل قائم رہنا چاہیے انسان کو ہمیشہ انسانیت کی خدمت اور بھلائی کرنی چاہیے ہر وقت اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا چاہیے وہ بڑا غفور الرحیم ہےوہ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے الحمدللہ ہم مسلمان ہیں مسلمان گھر میں پیدا ہوئے ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کسی کا غریب ہونا مذاق بن جاتا ہے چاہے اس کا اخلاق جتنا مرضی اچھا ہو مگر لوگ سمجھتے ہیں پتہ نہیں اس کو ہمارے ساتھ کوئی مطلب ہے اسلام ہمیں محبت رواداری برداشت کا درس دیتا ہے اللہ تعالی ہم سب کو ایمان کی دولت سے مالا مال کرے دنیا ایک دکھاوا ہے ہم سب نے اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصرہو. آمین.

    @Shoaib__s

  • پاکستان کا مطلب کیا؟۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ  تحریر ۔مدثر محمود

    پاکستان کا مطلب کیا؟۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ تحریر ۔مدثر محمود

    آج کی نوجوان نسل پاکستان سے محبّت تو ضرور کرتی ہے لیکن ان لوگوں کو محبت کا مفہوم معلوم نہیں ہے۔انہیں بتانا پڑے گا کہ قانون کی خلاف ورزی جرم ہے بد تہذیبی ہے اور گناہ بھی جرم ہے ۔ نوجوانوں میں وطن کی محبت ،قانون کا احترام اور اعلی اخلاقی صفات پیدا کرنے کے لیے بہت توجہ اور منصوبہ بندی سے کام کرنا پڑے گا اس کام کے لیے سب سے پہلے والدین اور پھر ماسٹر اور مولوی کا کردار بہت اہمیت کا حامل رہے گا ۔پاکستان کا مطلب کیا؟۔لا الہ الا اللہ۔ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ کیوں لازم و ملزوم ہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کیوں کہا تھا کہ ’’تحریک پاکستان میں25 فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔ ‘‘اس کے لیے نوجوانوں کو قیام پاکستان سے پہلے کے حالات و واقعات بارے بھی بتانا ہوگا۔کہ کیسے ہمارے بزرگوں نے اس وطن کو حاصل کرنے کے لیے جانیں قربان کی ہماری ماؤں بہنوں کی عزتوں کو تار تار کیا گیا اتنی مصیبتیں مشکلات برداشت کرنے کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا۔

    پاکستان کا مطلب کیا؟۔لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگانے والوں کو اس نعرے کی الف ب سے روشناس کرنا ہوگا۔جب ہم ایسا کر لیں گے تو پھر یقینا ہمارے پاکستان پیارے پاکستان کو دُنیا کی کوئی طاقت ترقی یافتہ پاکستان بننے سے نہیں روک سکتی۔

    @Mudsr_Ch

  • ‏اسلام، ہم جنس پرستی اورعلما کا کردار . تحریر: نینی ملک

    ‏اسلام، ہم جنس پرستی اورعلما کا کردار . تحریر: نینی ملک

    اسلام میں کسی بھی غیرفطری طریقے کی جنس پرستی بہت سختی سے منع ہے۔ ہم جنس پرستی کی سزا اللہ کے نزدیک اس قدر سخت ہے کہ قوم لوط کے اس عمل پراللہ نے انکی بستی کو زمیں سے اوپر اٹھا کر زمیں پر دے مارا اور ہمیں قرآن میں واضح بتا دیا کہ کس قدرنا پسندیدہ عمل ہے. اس عمل کی سزا جب مقرر کی تو اس پر حد لگا دی کہ فریقین کی رضا مندی سے کیا گیا تو فاعل و مفعل کو عبرتناک سزا دی جائے علاقے کی بلند ترین عمارت سے اوندھے منہ گرایا جائے اور پھر بھی کسی میں زندگی کی رمق باقی رہے تو اسے سنگسار کر دیا جائے۔ اس دور پر فتن میں یہ گناہ عام ہو چکا ہے کالج یونیورسٹی کے طلبا ہوں ہاسٹل میں رہنے والے یا پھر مدرسوں میں پڑھنے والے ۔۔ جی ہاں اسلامی مدارس کے طلبا بھی اس قبیح عمل میں گرے ہیں۔

    کالج و یونیورسٹی میں تو بے راہ روی کے نتائج ہیں لیکن ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں بھی ایسا کام ہو رہا ہو؟؟
    تو اسکی وجہ ہے ان مدارس کے وہ معلم جو خود اس گناہ میں ملوث ہیں ۔ جو طلبا کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی لیے استعمال کرتے ہیں اور ظلم عظیم کہ خانہ خدا میں ایسے قبیح کام کرتے ہیں۔۔ رفتہ رفتہ طلبا عادی ہونے لگتے ہیں اور وہ بھی اس گناہ کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں.

    چند ہفتے قبل ایک ایسا ہی واقعہ منظرعام پر آیا ایک معلم نے اپنے شاگرد کے ساتھ کیا پھراس پر ظلم کہ قرآن پر حلف لیا اپنی بیگناہی پر ادارہ جسے سب سے پہلے اس واقعے کا نوٹس لے کر ایسے حیوان کے لیے اسلامی ریاست میں اسلامی سزا کا مطالبہ کرنا تھا انہوں نے فقط ادارے سے نکال کر اپنا فرض ادا کر دیا۔۔ کیا یہ اللہ کے دین سے خیانت نہیں کی گئ؟؟؟؟ صاحب ارباب نے اس حیوان کو انسانوں کی بستی میں ضمانت پر رہا کر دیا۔ کیا یہ ہے وہ اسلامی ریاست جو کلمے کی نام پر بنائ گئ تھی؟؟؟ یا یہ ہے وہ ریاست مدینہ جسکا خواب عمران خان صاحب نے دیکھا تھا؟؟؟ جواب یہی ہے کہ یقینا نہیں۔

    یہ خیانت ہے علما کی دین کے ساتھ ۔۔ اس اسلام کے نام پر بنی ریاست کے ساتھ کیوں وہ پاکستان میں شریعہ کے نفاذ کا فقط زبانی مطالبہ کرتے ہیں؟؟؟ کیونکہ اس طرح ہو گیا تو سب سے پہلے ان پر حد نافذ ہو گی۔ ایسے نام نہاد علما کو دوسروں کے لیے نشان عبرت بنایا جائےگا۔

    ریاست مدینہ بنانے سب اپنا کردار نبھایئں۔۔ انصار و مہاجرین جیسی تربیت اپنی اولاد کی کریں اپنی اولاد کے قریب ہوں وہ کیا کرتے ہیں کہاں جاتے ہیں آپکو خبر ہونی چاہیے۔۔۔۔ انکے سکول انکے مدارس میں کون ان پر مہربان ہے خدارا خبر رکھیں۔۔ جب بچے والدین سے ایسی شکایت کریں تو خدارا انکو بچے اور اساتذہ کو بڑے اور قابل احترام سمجھ کر اگنور مت کریں ۔

    ریاست کی یہ ذمہ داری ہے اپنی قوم کے آنے والے معماروں کی حفاظت کریں سکول و مدارس میں کیمرے نصب کر کے انکا کنٹرول اپنی پہنچ میں رکھیں تاکہ کسی پر بھی ذہنی جسمانی یا جنسی تشدد نہ ہو پائے۔۔اگر کوئ ایسی شکایت درج کروائے اسکا فورا نوٹس لے کر ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے۔
    اس پرفتن دور میں آنے والی نسل کو جنسی درندوں سے محفوظ کرنے کا صرف یہی حل ہے.

    Twitter handle: @NiniYmz