Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اردوادب میں عیدالاضحی  تحریر: محمد فہیم خان

    اردوادب میں عیدالاضحی تحریر: محمد فہیم خان

    اردو کی غزالیہ شاعری میں عید؛عید کاچاند حلال وآبرو محبوب سے روز عید کی ملاقاتیں اور اس کے متعلق ہی اہم رہے لیکن 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب اردو شاعری کی حدود میں وسعت پیدا ہوئی اور نظموں کی طرف توجہ تیز ہوگئی تو عید کے بعد موضوع میں بھی اشارتی اور علامات یا امکانات زیادہ اجاگر ہوئے اور اردو شاعری کو 1757 کے بعد ملی احساسات کی ترجمانی کا وسیلہ بھی بنایا گیا اور اس طرح مسلمانوں کی فکری زندگی کے خط و خال نے اردو ادب میں اسلامی اقدار اور روایات کی پاسداری کے عمل کو شدید سے شدید تر کر دیا۔عید الفطر پر نظموں کی کثرت کا سبب بھی یہی ہے اور شعرا و ادبانے جب تخلیقی جوہر کے حوالے سے ان افکار کی پیشکش کا سامان فراہم کیا تو یہ موضوع کئی جہتوں میں پھیل گیا ۔ عید کب محدث خوشیاں عید کے چاند کو محض سال میں ایک بار جھلک دکھا کر غائب ہونے کے حوالے سے دیکھنے کی بجائے اسے مسلمانوں کی تہذیبی اور فکری زندگی کے وسیع تر جغرافیے سے ملا دیا گیا ؛ جسے عید کے موضوعات میں نئی نئی باریکیاں پیدا کرکے اسے ادبی خوشی کے ملے جلے جذبات تک لے گئے گلدستہء عید میں موضوعات ؛ صحن عیدگاہ میں ملاقات اور دوران خانہ عید ملن تک محدود نہیں رہے بلکہ جذبات کے وسیع تر رقبوں میں لاکر رکھ دکھایا گیا ہے۔”مسلمان فیشن ایبل خاتون کی ڈائری” سے چل کر”رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عید”؛”سہاگن کی عید” ؛ ” بچوں اور بڑوں کی عید” ؛ "دوگانی عید” ؛ ” ترکن ماما کی عید” ؛”عید اور قرض” ؛ "عیدی”گھر کی مالکہ کی عید” ؛ "یتیموں کی عید” تک عیدالاضحیٰ میں متوسط طبقے اور غریب طبقے کے مسائل و حالات سے منسلک نظر آتی ہے۔اس تمدنی وسعت پذیری سے موضوع کی جڑیں ہماری ادبی روایات میں پھیل گئی ہیں۔ خواجہ حسن نے دلی کی بربادی کے جو نوحے لکھے ہیں ؛ ان میں دولت و عزت سے محروم ہونے والے شہزادوں اور شہزادیوں کی کس مپرسی میں عید بسر کرنے کا زکر اہمیت رکھتا ہے اس روایت کا آغاز سر سید احمد خان سے ہوتا ہے ؛ جنھوں نے” مسلمانان ہند کی عید” کے عنوان سے مسلمان کی معاشرتی زندگی کی خامیوں کو بیان کرنے کے علاوہ ؛ ان کی غریبی کے نقشے بھی تفصیل کے ساتھ بیان کیے۔حسن نظامی کے موضوعات میں "عظمت رقتہ کی یاد”عید کو علامتی حوالہ عطا کرتی ہے ” یتیم شہزادے کی عید” ؛ "عید گاہ ماغریباں کوئے تو” دینی جذبے کی شدد اور مزہبی امور سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے
    "اے مہ عید! بے حجاب ہے تو
    حسن خورشید کا جواب ہے تو
    تو کمند غزال شادی ہے
    لزت افزائے شور طفلی ہے”

    @FK5623

  • عید ِقرباں پہ انا کی قربانی  تحریر: محمد اسعد لعل

    عید ِقرباں پہ انا کی قربانی تحریر: محمد اسعد لعل

    مسلمان ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں۔ ایک عیدالفطر جو کہ یکم شوال کو مناتے ہیں اور دوسری عید الاضحیٰ جسے عید قربان بھی کہا جاتا ہے، دس ذی الحجہ کو مناتے ہیں۔ عید الاضحیٰ کے موقع پہ مسلمان حضرت ابراہیم کی سنت ادا کرتے ہوئے حلال جانور قربان کرتے ہیں، اسی کو قربانی کہتے ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے تھے۔ قرآن نے انہیں صادق الوعد کا لقب دیا۔ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا اباجان جو کچھ آپ کو حکم ہوا کر ڈالئے آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
    قربان جائیں اس پیغمبر زادے کی ایمانی عظمتوں پر جنہوں نے باپ کے خواب کو اللہ کا حکم سمجھتے ہوئے سر تسلیم خم کر کے تاریخ انسانیت میں ذبیح اللہ کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔
    جب حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے لیے لٹایا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا، اے ابراہیم (کیا خوب) تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔ ہم نیکو کاروں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں۔
    آسمان سے ایک مینڈھا آتا ہے اور حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کو ذبح کرتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے ابراہیم! تمہاری قربانی قبول ہوگئی۔ ہم نے اسماعیل کی ذبح کو ’’ایک عظیم ذبح،، کے ساتھ فدیہ کر دیا۔بے شک باپ کا بیٹے کے ذبح کے لئے تیار ہوجانایہ ایک بڑی صریح آزمائش تھی ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اس آزمائش میں پورا اترے۔
    اب ذہن انسانی میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو بچانا ہی مقصود تھا تو پھر ان کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم کیوں ہوا؟ اور اگر حکم ہوا تھا تو ان کی زندگی کو تحفظ کیوں دیا گیا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
    حکم اس لئے ہوا کہ سراپائے ایثار و قربانی پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لخت جگر سے ذبح کی تاریخ کی ابتدا ہوجائے کہ راہ حق میں قربانیاں دینے کا آغاز انبیاء کی سنت ہے اور بچا اس لئے گیا کہ اس عظیم پیغمبر کی نسل پاک میں نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہونا تھی۔ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تشریف لانا تھا اس لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذبح کو جنت سے لائے گئے مینڈھے کی قربانی کی صورت میں’’عظیم ذبح،، کے ساتھ بدل دیا گیا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام محفوظ و مامون رہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اسی قربانی کی یاد میں ہر سال مسلمان عید الاضحیٰ مناتے ہیں اور جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔
    سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا عید الاضحیٰ پرصرف جانور کو ذبح کر دینے سے قربانی کا مقصد پورا ہو جاتا ہے؟
    عید ِقرباں کے موقعے پر اپنے اندر کے جانور(انا) کو بھی قربان کرنا چاہے۔ عید کے مقدس تہوار پر انسان ’’انا ‘‘ کی قربانی بھی کر لے تو قربانی کی حقیقی روح کو پا سکتا ہے۔عید قرباں کا مقصد بھی یہ ہے کہ جانور کی قربانی کے ساتھ اپنی خواہشات و انانیت کو قربان کیا جائے۔ عید کا یہ دن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کے توسط سے ہم اپنی ذاتی رنجشوں، ناراضگیوں اور ایک دوسرے کی غلطیوں وخامیوں کو نظر انداز کرکے کھلے دل سے ایک دوسرے کوگلے لگا لیں۔ اگر انسان اس مبارک موقعے پر’’انا‘‘ کی قربانی کر لے تو نہ صرف بہت سی مشکلات سے چھٹکارہ پا سکتا ہے، بلکہ خدا کی بہت قربت بھی حاصل کرسکتا ہے،کیونکہ یہ ’’انا‘‘ ہی بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔اس کی وجہ سے انسان کی زندگی دوبھر ہوجاتی ہے۔بہت سے رشتے ’’انا ‘‘ کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
    آج ہمارا معاشرہ آپس میں اختلافات، تعصبات اور افرا تفری اور انتشارکا شکار ہے، اپنے علاوہ کوئی کسی دوسرے کی بات تک کو تحمل وبرداشت سے سننا نہیں چاہتا۔اس کا واحد سبب ہمارے نفس کی سرکشی ہے اور یہ تہوار ہمیں اپنے نفس کو دوسروں کے لیے قربانی دینے کا درس دیتا ہے۔ عید الاضحیٰ ہمیں آپس میں پیارومحبت اور اتحاد ویکجہتی کے ساتھ رہنے کا درس دیتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ سب ایک دوسرے کے حقوق کی پاس داری کریں اور اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔
    دوسروں کو بھی آپس کے اختلافات اور نفرتوں کو بھلانے کا درس دیں اور ایسا معاشرہ تشکیل دیں، جس کا تقاضا ہمارا دین کرتا ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائیں۔(امین)
    پاکستان زندہ آباد۔
    @iamAsadLal

  • تاخیر کی شادی اور مسائل تحریر: مجاہد حسین

    تاخیر کی شادی اور مسائل تحریر: مجاہد حسین

    موجودہ دور کی نوجوان نسل میں تاخیر سے شادی کرنے کا رجحان اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب اسے فیشن گردانا جانے لگا ہے۔ اس سب میں بالعموم ہمارا معاشرہ اور بالخصوص والدین قصور وار ہیں۔ یہ والدین کی ذمہ داری میں شامل ہے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے بلوغت کو پہچتے ہیں ان کے لئے مناسب رشتہ تلاش کر کے ان کی شادیاں کر دیں اور انہیں معاشرتی مسائل اور بے راہ روی سے محفوظ بنا لیں۔

    تاخیر سے شادی کرنے کی ہمارے معاشرے میں بہت سے وجوہات ہیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے نکاح کو اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ کوئی اوسط طبقے کا خاندان اس کے خرچے اٹھانے سے پہلے سو بار سوچتا ہے۔ نکاح جیسے بہترین عمل، جسے ہمارے نبی ﷺ نے نہایت آسان اور سادہ بنایا تھا، اسے ہمارے فیشن، مقابلے بازی اور انا نے انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگے مہنگے جہیز بھی نکاح میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں۔ والدین اپنی زندگی بھر کی کمائی لگا کر بھی اپنی بیٹیوں کا نکاح نہیں کر پاتے صرف اس وجہ سے کہ بیٹی کو سسرالیوں یا محلے والوں کی باتیں نہ سننی پڑیں جس کے باعث ہزاروں بچیاں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں یا پھر بے راہ روی میں پڑ کر اپنے آپ کو خراب کر لیتی ہیں۔ کئی نوجوانوں سے جب پوچھا جاتا ہے تو وہ اچھی نوکری، اچھے گھر، اچھی گاڑی وغیرہ کے بہانے بنا کر شادی کو ٹال دیتے ہیں اور اپنی فطرتی ضروریات پوری کرنے کے لئے "گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ” کلچر کا حصہ بن کر اپنی جوانی تباہ کر لیتے ہیں۔ پھر اگر ان کی شادی ہو بھی جائے تو جوانی کی لگی عادتیں انہیں بیوی تک محدود نہیں رہنے دیتیں جس کے نتیجے میں گھر برباد ہو جاتے ہیں۔
    کئی سرویز کے مطابق پاکستان میں غیر شادی شدہ مرد و زن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ اب شادی کی عمر میں شادیاں نہیں کر پا رہے اس اس کے کئی نقصانات ہیں جن میں سر فہرست بانجھ پن ہے۔ اور بانجھ پن مرد اور عورت دونوں میں ہو سکتا ہے۔ جب بڑی عمر میں شادی کے بعد کافی عرصہ تک بچہ پیدا نہ ہو تو شادیاں ناکام ہو جاتی ہیں۔
    موجودہ دور میں جب عریانی اور فحاشی ٹی وی کے ذریعے ہر گھر میں داخل ہو چکی ہے تو نوجون لڑکوں اور لڑکیوں کے بلوغت میں پہچتے ہیں ان کے جذبات اور خواہشات تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ اگر ان کی بر وقت شادی نہ کی جائے تو معاشرے میں بہت خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اور نوجون لڑکے اور لڑکیاں اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے غیر انسانی، غیر اسلام اور غیر فطری کاموں کے اندھے گڑھوں میں گر جاتے ہیں۔ اس لئے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق بچوں کے بلوغت میں پہنچتے ہیں اچھے رشتے ڈھونڈ کر ان کی شادی کر دینا ہی بہتر حل ہے۔
    نکاح کی ان پیچیدگیوں سے معاشرے کو پاک کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر اس نیک کام کو پیدا کردہ خرابیوں جیسے فضول خرچی، ڈانس پارٹیز، فنکشنز، میوزک کنسرٹس، جہیز اور غیر ضروری غیر اسلامی رسموں سے آزاد کروانا ہوگا۔ صرف اور صرف تب ہی نکاح کو نبی ﷺ کی سنت کے مطابق بروقت سادگی سے انجام دے کر اپنے بچوں کو بے راہ روی سے اور ہمارے معاشرے کو برائی اور خرابی سے بچایا جا سکتا ہے۔

    @Being_Faani

  • قرآن سے بے سہارہ عورت کی حفاظت : تحریر احسان اللہ خان

    قرآن سے بے سہارہ عورت کی حفاظت : تحریر احسان اللہ خان

    یہ ایک مہاجر عورت کی داستان ہے۔ جو جالندھر کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ داستان غم خود اس کی زبانی ملاحظہ کیجئے۔
    میں تو اس بات پر یقین رکھتی ہوں جو خدا نے اپنی کتاب میں فرمائی ہے کہ خدا جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے وہ بہت ہی کریم و رحیم ذات ہے۔ پھر وہ ایک دم اپنے بچپن کی طرف لوٹی اور کہنے لگی کہ بچپن میں ہمیں قرآن کریم کی تعلیم بہت سختی سے دی جاتی تھی۔ اگر کوئی کسی بہانے کی وجہ سے قرآن پڑھنے نہ جاتا تو پہلے بزرگ اس کو سمجھاتے پھر اسے نئے طریقوں سے سزا دی جاتی حتیٰ کہ وہ بڑی خوشی سے قرآن پاک پڑھنے چلا جاتا۔
    اسی طرح میں نے بھی ایک دفعہ سر درد کا بہانا بنایا۔ سزا تو نہیں ملی تھی لیکن سمجھو مجھے ایک دم سمجھ آگئی کہ قرآن پاک پڑھے بغیر گزارا نہیں۔ چنانچہ میں نے قرآن پاک حفظ کرنا شروع کیا۔ اور اس وقت نئے کپڑے نہیں پہنے لیکن دھلے ہوئے پہنے تھے جب تک قرآن پاک حفظ کرلیا۔
    زندگی کے دن گزر رہے تھے کہ اچانک ملک تقسیم ہوگیا اور ہم پاکستان آرہے تھے کہ راستے میں غنڈوں اور ڈاکوؤں نے ہمارے قافلے پر حملہ کردیا پھر کیا ہوا اس کے بعد اس کی آواز مدہم پڑھ گئی اور دو ننھے ننھے اشک انسو سے گر پڑے۔ میرے گھر کے تمام افراد شہید ہوگئے اور میں بے ہوش ہوگئی۔ ہوش آنے پر میں نے اپنے آپ کو ایک نرم اور پر سکون بستر پر پڑا پایا۔ یہ ایک خوبصورت کمرہ تھا جس میں کچھ عریاں فوٹو تھیں اور بعض تصویروں پر گرنتھ پڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ سکھوں کا گھر ہے اچانک زور سے دروازہ کھلا۔ اور ایک نواجوان سکھ اور ایک بوڑھی عورت کمرے میں داخل ہوئے۔ اور آتے ہی اس نوجوان نے اس عورت سے کہا ”ماں یہ ہے تیری بہو کیا تجھے پسند ہے؟ “ وہ۔عورت ہنس کر بولی ہاں پسند ہے۔ پھر وہ باہر چلی گئی اس کے بعد اس نوجوان نے الماری سے شراب کی بوتلیں نکالیں پھر وہ بے تحاشہ پینے لگا۔ اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔ اس کے بعد میری آنکھوں سے نیند غائب ہوگئی۔ اور میں وہاں سے بھاگنے کی تیاری کرنے لگی۔ رات کے تقریباً دو بجے تھے میں چارپائی سے اتر کوئی چیز تلاش کرنے لگی۔ اچانک مجھے ایک چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی یہ ایک کرپان تھی جو اس بے ہوش سکھ کی چارپائی کی نیچے پڑی ہوئی تھی۔ میں نے جلدی سے کرپان اٹھائی اور اس کا سر تن سے جدکردیا۔ معمولی سی چیخ سنائی دی اور بے تحاشہ باہر کو بھاگی۔ راسے کی مشکلات سے بچنے کے بعد دن تقریباً دو بجے واہگہ بارڈر کی سرحد پر ہلالی پرچم کو دیکھ کر میں بے ہوش ہوگئی۔ اس کے بعد کیا ہوا میں اپنے مسلمان بھائیوں کے درمیان رہنے لگی۔المختصر اسی محافظ (قرآن) نے میری زندگی بچائی۔ جو اسی وقت یہی قرآن میرے بغل میں تھا۔

    IhsanMarwat_786

  • خُدا کی نعمتیں چھپاؤ تحریر: عتیق الرحمن

    خُدا کی نعمتیں چھپاؤ تحریر: عتیق الرحمن

    اللّہ تعالٰی نے ہر انسان کو مختلف نعمتوں سے نوازا ہے
    جو چیز ایک انسان کے پاس ہے کافی حد تک ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے پاس نہ ہو اور اسی بات سے اللّہ آزماتا ہے کہ کیا میری عطا کی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا جو چیز نہیں ملی ابھی اس کی خواہش میں ملی ہوئی نعمتوں کی ناشکری
    ویسے ہم اپنے اعمال کا طخمینہ لگائیں تو ہماری نعمتیں اس سے کہیں بڑھ کر ہیں جنکے ہم قابل بھی نہیں تھے
    ایک بزرگ نے بہت گہری بات کی، کہتے ہیں کہ اگر اللّہ نے ہمیں کسی نعمت سے نوازہ ہے تو ضروری نہیں اسکا ذکر سب کے سامنے کرتے رہو۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ یہ ناشکری میں آئے گا بلکہ اسکہ شکر تنہائی میں اللّہ سے کرو کیونکہ اسکا صلہ بھی اسی نے دینا ہے
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نعمت کو چھپایا جائے تو اس بات کو انہوں نے ایسے واضح کیا کہ فرض کرو جو نعمت تمہارے پاس ہے اور تم اسکا ذکر کسی ایسے انسان کے سامنے کرو جسکے پاس وہ نہ ہو اور اسے اسکی ضرورت بھی محسوس ہو رہی ہو تو اسکا دل دکھے گا اور ہوسکتا وہ اللّہ سے شکوہ بھی کر بیٹھے تو اللّہ اس کے بدلے تم سے وہ نعمت چھین لے
    اس لئے بہتر ہے نعمتوں کا ذکر یوں نہ کیا جائے کہ دوسرے انسان کو تکلیف ہو اس نعمت کے نہ ہونے سے کیونکہ بیشک یہ اللّہ کے بس میں ہے کس کو پہلے نوازنا ہے اور کس بعد میں۔

    Twitter id @AtiqPTI_1

  • “زندگی کا ایک اور سال بیت گیا “ تحریر:جواد خان یوسفزئی

    “زندگی کا ایک اور سال بیت گیا “ تحریر:جواد خان یوسفزئی

    کبھی نرمی، کبھی سختی، کبھی الجھن، کبھی ڈر
    وقت اے دوست ! بہرحال گزر جاتا ہے
    لمحہ لمحہ نظر آتا ہے کبھی اک اک سال
    ایک لمحے میں کبھی سال گزر جاتا ہے

    دوستوں نے یاد دلایا آج میراجنم دن ہے ۔ یوم پیدائش سے زیادہ اہم دن اور کون سا ہو سکتا ہے ۔ یہ دن باربار آتا ہے اور انسان کو خوشی اور دکھ سے ملے جلے جذبات سے بھر جاتا ہے ۔ ہر سال لوٹ کر آنے والی سالگرہ زندگی کے گزرنے اور موت سے قریب ہونے کے احساس کو بھی شدید کرتی ہے اور زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف بڑھنے کی خوشی کو بھی ۔
    زندگی کا (۲۳) واں سال ختم ہونے کو ہے۔ آج یونہی بیٹھے بیٹھے بات چھڑی کہ سال کیسا گزرا تو حسابِ سودوزیاں کرنے بیٹھی۔۔معلوم ہوا کہ۔۔
    وہی حالات، وہی رویے، وہی باتیں، وہی مخفل ۔۔کچھ خاص تبدیلی تو نہیں آئی۔۔سوائے کورونہ کی ایک لہر سے تیسری تک میں تبدیلی۔۔۔
    اس سال بھی سارے موسم ویسے ہی تھے۔۔ بے بسی اور کم مائیگی کے کہرے میں لپٹے ہوئے۔۔اس سال بھی اپنی اور دوسروں کی مجبوریوں پرجی بھر کے رونا آیا۔۔
    اس سال بھی لوگ امن و سکون کو ترستے رہے ۔
    ذاتی سطح پر دیکھوں تو بھی سب کچھ ویسا ہی ہے۔۔ذاتی کمزوریوں کی فہرست میں اضافہ ہوتادکھائی دیتا ہے۔
    آغاز سے اختتام تک یہ سال مجموعی طور پر ہم پاکستانیوں کے لئے بہت مشکل رہا۔ لیکن پھر بھی ہم رحمتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہیں ۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے لئے سب کچھ اچھا ثابت فرمائے اور انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر خوشیاں، سکون، امن و سلامتی اور کامیابیاں سب کا مقدر ہوں۔آخر میں اُن تمام دوستوں کا بہت بہت شکریہ جنہوں نے اس دن پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے۔۔(آمین)
    جواد خان یوسفزئی
    ٹویئٹر : Jawad_Yusufzai@

  • نسل نوجواں کو درپیش خطرات  تحریر : محمد شفیق

    نسل نوجواں کو درپیش خطرات تحریر : محمد شفیق

    نوجوان نسل کسی بھی ریاست کیلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثت رکھتی ہے،نوجوان قوم کہ معمار ہوتے ہیں جن کے سر پر ملک کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔
    انکی مثال ایک قیمتی اثاثے کی ہے جسے اگر نیکی ،ا چھائ اور ترقی کے کاموں میں بروئے کار لایا جائے تو یہ نعمت عظیم سے کم نہی ۔
    اور اگر یہی سرمایا شر اور فساد کے کاموں میں مشغول ہوجائے تو تباہی کا باعث بنتا ہے۔
    بد قسمتی سے ہماری نوجوان نسل تباہی کے کے دھانے پر ہے ۔نوجوانوں کی نوے فیصد آبادی بے راہ روی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں کا شکار ہے جو کسی بھی ملک یا قوم کیلیے انتہائ سنگین مسلہ اور مقام فکر ہے کہ، ایسا کیوں ہے؟ ایسے کونسے اسباب ہیں؟
    جو ہمارے سنہرے مستقبل کو تاریکی میں تحلیل کر رہے ہیں ۔
    نسل نوجواں کو درپیش خطرات میں سے کچھ بنیادی مسائی درج زیل ہیں

    سوشل میڈیا نے زندگی کو بہت آسان بنادیا ہے ،میلوں کے فاصلے کو سیکنڈز میں بدل دیا ہے ۔ہر قسم کی معلومات صرف ایک ٹچ کی دوری پہ ہے لیکن وہیں اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں
    کافی عرصے سے سوشل میڈیا کا استعال خطرناک حد تک تجاوز کر چکا ہے،
    اور بلخصوص نوجوان نسل کیلیے یہ نشے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔جس طرح نشہ کرتے ہوئے دماغ انسانی کا مخصوص حصہ Nucleus accumblance فوران ایکٹو ہوتا ہے بلکل اسی طرح جب کوئ بھی صارف سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہوتا ہے تو دماغ کا یہ حصہ ایکٹو ہوجاتا ہے اور انسان سوشل میڈیا کہ نشے میں بری طرح جکڑا جاتا ہے ۔کسی بھی سکرین چاہے موبائل ہو یا لیپ ٹاپ کا مسلسل اور دیرپا استعمال نا صرف انسانی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ انسان کو حقیقی دنیا سے نکال کر خیالی دنیا میں پھینک دیتا ہے۔

    نوجوان نسل کی مثبت تعلیم و تربیت کا پہلا زریعہ والدین اور پھر مختلف درجات کی تعلیمیی درسگاہیں ہیں۔ جو ایک معمولی انسان کو ایک جوہر شناس جواھر کی طرح تراش کر ھیرے میں ڈھال دیتی ہیں
    لیکن انتہائ افسوسناک امر ہے کہ آجکل تعلیمی درس گاہیں نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلتی نظر آتی ہیں ۔تعلیمی اداروں میں فحاشی ،جنس پرستی اور سگریٹ سے لیکر ہر قسم کے نشہ کی نا صرف کھلی آزادی بلکہ تمام سہولیات موجود ہیں ۔ عریانیت اور بیہودہ ڈانس پارٹیوں کو ماڈرن ازم کا نام دیکر تعلیم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ استاد جسے روحانی باپ کا درجہ دیا جاتا ہے طلبہ کے ساتھ اس قدر شرمناک فعال میں ملوث پایا جاتا ہے کہ انسانیت شرما جاتی ہے ۔اگر اس نظام تعلیم کو تبدیل نہی کیا گیا اس کے خلاف کاروائ نہی کی گئی تو وہ وقت دور نہی جب ہماری تعلیمی درسگاہوں کو فحاشی اور نشے کے اڈو کا نام دیا جائے گا

    نوجوان نسل کو در پیش خطرات میں سے تیسرا بڑا اور اہم خطرہ فحش ویبسائٹس کا استعمال ہے
    نوجوان نسل اس گھٹیا نشے میں اسقدر غرق ہو چکی ہے کہ وہ فحش مواد دیکھتے دیکھتے خود اسکا حصہ بن چکی ہے ،
    اس کی سب سے بڑی وجہ اس قسم کے مواد کی آسانی سے دستیابی ہے۔لمحہ فکریہ ہے کے 8 سال کے بچے سے لیکر 16 سال کے نوجوان تک نوے فیصد لوگ فحش مواد دیکھنے والوں کا حصہ ہیں۔فحش مواد نا صرف اخلاقی طور پہ تباہ و برباد کرتا ہے صحت کو انتہائ بری طرح متاثر کرتا ہے بلکہ اس نے رشتوں کے تقدس کو بھی بری طرح پامال کر کے رکھ دیا ہے۔

    نوجوان نسل کی تباہی کی اور بے راہ روی کی ایک اہم وجہ بےروزگاری اور وسائل کی عدم دستیابی بھی ہے۔ اعلی تعلیم کے باوجود جب نوکری نہی ملتی تو نوجوان چور راستے اختیار کرتے ہیں اور ہر قسم کا جرم چاہے وہ ڈاکہ زنی ہو یا عصمت زنی کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں ۔
    روزگار کا نا ملنا ایسا عفریت ہے جو صرف پسماندہ ممالک ہی نہی بلکہ ترقی یافتہ مما لک کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ان تمام عوامل اور خطرات سے نوجوان نسل کے متاثر ہونے میں والدین بھی برابر کے زمہ دار ہیں۔ نسل نوجواں کو اچھے برے کی تمیز سکھانا ،اس کی ہر حرکت پہ نظر رکھنا والدین کی زمہ داری ہے ،پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے، لیکن آج کل کے والدین ہر عمل کو معاشرے کے سر ڈال کر خود بری الزماں ہو جاتے ہیں جو کہ سراسر خود کو دھوکہ دینے والی بات ہے ۔

    نوجوان نسل کو ،اپنے ملک کے معماروں کو اور اپنے ملک کو تباہی سے بچانا ہے تو مل کر ان سب عوامل کا حل سوچنا ہوگا
    @IK_fan01

  • شادی میں تاخیر کی وجوہات اور سماجی مسائل – آصف گوہر

    شادی میں تاخیر کی وجوہات اور سماجی مسائل – آصف گوہر

    شادی میں تاخیرکی وجوہات اور سماجی مسائل
    تحریر: آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے ۔

    "تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے.”
    سورة النور 32
    ہمارے ہاں بچوں کی شادیوں میں تاخیر کی جو سب سے بڑی ایک وجہ ہے وہ بچہ ابھی پڑھ رہا ہے تعلیم مکمل نہیں کی اگر تعلیم مکمل ہوچکی ہے تو ابھی ملازمت کی تلاش ہے۔ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم اور روزگار کے چکر میں ایسا پھنسایا ہوا ہے کہ شادی کرنے کی جو اصل عمر ہوتی ہے وہ کب کی گزر جاتی ہے جس سے نوجوانوں میں کئ طرح کے نفسیاتی اور سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا سامنا اکثر معاشرے کو کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد بھی تعلیم مکمل کی جاسکتی ہے اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے اور رزق کا وعدہ اللہ سبحان و تعالی کا ہے۔ اللہ نکاح کے بعد رزق دروازے کسی پر بند نہیں کرتا۔
    تعلیم اور روزگار میسر آجانے کے بعد دوسرا مرحلہ جو بچوں کی شادی میں مزید تاخیر کا باعث بنتا ہے وہ آئیڈیل بہترین اور ہم پلہ جیسے حیلے ہیں والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ بڑی جگہ ہاتھ مارا جائے لڑکے والوں کو اپنے چاند کے لئے لمبے قد والی سمارٹ اعلی تعلیم یافتہ گورے رنگ اور ایسی لڑکی کا رشتہ درکار ہوتا ہے جس کے زیادہ بہن بھائی بھی نہ ہوں چاہے انکا اپنا چاند گرہن زدہ ہی کیوں نہ ہو ان کو لڑکی ماڈل کی طرح ہر لہذا سے مکمل ہی کی طلب ہوتی ہے اور اس آئیڈیل کی تلاش میں بچوں کی عمر میں کئ سال کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
    برسر روزگار کمانے والی لڑکیوں کی شادی میں بھی اکثر والدین تاخیر کرتے ہیں کیونکہ بچی اپنے والدین کے لئے آمدنی کا ذریعہ بنی ہوتی ہے اور اس کی آمدنی سے چھوٹے بہن بھائیوں کے تعلیمی یا دیگر اخراجات پورے ہو رہے ہوتے ہیں ۔ اور ہمارے معاشرے اور کلچر میں یہ رواج نہیں کہ بچے اپنی شادی کا مطالبہ والدین کے سامنے پیش کریں
    اور یوں اسطرح کی بچیاں اور بچے نظر انداز ہوتے رہتے ہیں اور شادی کی عمر گزار بیٹھتےہیں ۔
    شادی میں تاخیر کا شکار ہونے والے نوجوان اور افراد اپنی فطری اور جسمانی ضرورت کے لئے کیا کرتے ہیں اور اس کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں میں اس پر گفتگو نہیں کروں گا۔
    جن نوجوانوں شادیاں لیٹ ہوتی ہیں انکی تولیدی صلاحیت میں کمی فطری بات ہے ۔
    لیٹ شادی والے والدین کے بچے ابھی چھوٹے ہی ہوتے ہیں کہ وہ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں اور اکثر بچوں کی تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی وفات پا جانے ہیں یا کسی مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اپنی اولاد کی خوشیوں میں شامل ہونے یادیکھنے سے قبل ہی وفات پا جاتے ہیں ۔
    ہمیں اس روش کو بدلنے کی ضرورت ہے والدین اپنے بچوں کی شادیوں میں تاخیر نہ کریں اسطرح ان کے بچے کئ نفسیاتی معاشرتی اور سماجی مسائل سے محفوظ ہو جائیں گے یقینا اس کا اثر معاشرے پر بھی پڑے گا اور بے رہ راوی اور جنسی جرائم میں بھی کمی آئے گی۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آصف گوہر @Educarepak

  • دہشتگردی اور ہمارا معاشرہ  تحریر: محمد اشرف

    دہشتگردی اور ہمارا معاشرہ تحریر: محمد اشرف

    دہشتگردی ایک ایسا موضوع ہے جو موجودہ دور میں بین الااقوامی سطح پر سے گھمبیر مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ ایک مطلب براری کا وحشیانہ حربہ ہے جس کے ذریعے کچھ لوگ، گروہ یا ممالک اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر ہماری تاریخ میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں طاقت ور ممالک کی باہمی آویزشیں کئ صورتوں میں سامنے آئی ہیں ۔
    دہشتگردی کے محرکات کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں ۔پہلے تو اسکی سرپرستی مختلف ممالک کررہے ہوتے ہیں ۔ایک ملک دہشتگردی کے ذریعے دوسرے ملک کو دبا کر اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس ضمن میں دنیا کے طاقت ور ممالک کی خفیہ ایجنسیاں مثلاً امریکا کی ایجنسی’سی آئی اے اور روسی ایجنسیاں وغیرہ سرگرم عمل دکھائی دیتی ہیں ۔ایسی ایجنسیاں خفیہ طریقوں سے ممالک میں دہشت گرد حملے کراتی ہیں ۔
    دہشت گردی کی کئی صورتیں ہوتی ہیں جیسا کہ فرقہ واریت ،طبقاتی کشمکش ،غربت وبے روزگاری اورخودکش دھماکہ وغیرہ دہشت گردی کی خطرناک ترین صورت ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے ناسور سے نجات کیسے ممکن ہے ۔اس ضمن میں بین الا قوامی سطح پر اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا چاہیے ۔یہ حقیقت ہے اگر اقوام متحدہ یہ پابندی لگا دے کہ کوئی ملک ذاتی دشمنی میں کسی دوسرے ملک میں کوئی تخریبی کاروائی یا دہشت گردی کی سرپرستی نہیں کرسکتا تو کوئی وجہ نہیں کہ دہشت گردی کا پودا جڑ سے نہ اکھڑ جائے۔مزید کہ عالمی سطح پر ناجائز قبضے ختم کروائے جائے تاکہ حاکم اور محکوم کے درمیان آویزش ختم ہو جائے۔
    جہاں تک علاقائی دہشتگردی کا تعلق ہے، اسکو ختم کرنے کیلئے تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ہر ریاست کو چاہئے کہ عوام کیلئے مناسب تعلیم اور روزگار کا بندوبست کرے۔ قوم کے مناسب تعلیم اور بروقت روزگار مل جائے گا تو وہ خود ان سرگرمیوں سے دور رہیں گے ۔ اسطرع ملک میں عدل و انصاف پیدا ہوگا۔
    ہمارے اساتذہ اور مزہبی زُعما کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ۔انھیں طالبعلموں اور عوام الناس میں رواداری ،برداشت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنی چاہیے ۔ظاہر ہے کہ جب اَہل معاشرہ اِحترام آدمیت کے پاسدار ہو جائیں گے تو وہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے کی بجائے ایک دوسرے کی راحت کے اَمین بن جائیں گے ۔

    @M_Ashraf26

  • حکمران اور ہماری عوام تحریر:  زوبیہ سدوزئی

    حکمران اور ہماری عوام تحریر: زوبیہ سدوزئی

    اپنی عوام کو حکمرانوں سے پیار کرتے دیکھتی ہوں تو اک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا یہ حکمران بھی عوام سے اتنا پیار کرتے ہیں؟ ہر بار الیکشن آتے ہیں اور ہر بار عوام کو جھوٹے لارے لگا کر بےوقوف بنایا جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے غریب اور معصوم عوام جو روزی روٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں ان کی نفسیات پڑھ لی ہیں۔ اک غریب آ دمی جس کے گھر پانی تک فراہم نہیں اس کے علاقے کا امیدوار وہاں جائے گا اور اسے پانی اور پائپ کا لالچ دے کر ووٹ حاصل کر لے گا۔ اک غریب آدمی جس کے گھر کھانے کو کچھ نہیں وہاں کا امیدوار کچھ اناج اور پیسوں کا لالچ دے کر اس سے ووٹ لے لے گا۔ کیا عوام نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر ہم سے یہ پیار کرتے ہوں تو یہ صرف اور صرف ووٹ مانگنے کے ٹائم ہی ہمارے پاس آتے ہیں؟ کیا عوام نے کبھی یہ سوچا کہ جو لوگ موروثی سیاست سے آگے آئے ہیں جو سونے کا چمچ لے کے پیدا ہوئے ہیں انہیں غریب کے درد کا اس کی مشکلات کا کیسے احساس ہو گا؟ مریم نواز اور بلاول جیسے لیڈر کیسے ان کا احساس کر سکتے ہیں اک جس کا سب کچھ لنڈن میں ہے اور دوسرا جسے اپنی مادری زبان تک بولنا نہیں اتی۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جس نے کوشش کی ہو جو محنت کر کے آگے آ یا ہو وہی اپنی عوام کا درد رکھ سکتا ہے۔ اس لیے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ جس کو آپ ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں کیا وہ آپ کے مسائل حل کر سکے گا یا نہیں۔ وہ اس ملک کے لیے کام کر رہا ہے یا صرف اپنی کرسی کے لیے اور دولت کے نشے لوٹنے کے لیے۔