Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہمارے تعلیمی مسائل تحریر: محمد وسیم

    ہمارے تعلیمی مسائل تحریر: محمد وسیم

    ہمارے موجودہ نظام تعلیم کی بنیاد لارڈ میکالے نے 1835 میں رکھی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنی قوم اور مزہبی ضرورت کے پیش نظر ایک نئے تعلیمی نظام کو وضع کرتے۔ لیکن ہمارے مقتدر طبقے نے لارڈ میکالے کے وضع کردہ نظام تعلیم کے مطابق اپنا تعلیمی نظام مرتب کیا-تعلیمی نظام کسی بھی ملک و قوم کے تہزیب و تمدن ، رسم و رواج اور ترقی پر برابر اثر رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم سیاسی اعتبار سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی زہنی طور پر انگریز بہادر کی غلام ہے۔1857 کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر پاک و ہند میں دو طرح کے تعلیمی نظام ابھر کر سامنے آئے۔ ایک مذہبی نظام تعلیم اور دوسرا انگریزی نظام تعلیم۔ اول الزکر نظام تعلیم بھی بس نام کا مذہبی رہ گیا تھا اور موخر الزکر اخلاقی طور پر بہت برا ثابت ہوا۔موجودہ پاکستان میں تین طرح کے نظام تعلیم نظر آتے ہیں۔ پہلا نظام تعلیم تو عام سرکاری سکولوں اور کالجوں کا ہے ۔ دوسرا نظام تعلیم پرائیویٹ ہے اور تیسرا انگریزی اور غیر ملکی طرز کا ہے جہاں ذریعہ تعلیم خالص انگریزی ہے۔
    ہمارا موجودہ نظام تعلیم بہترین کلرک پیدا کرنے کی تو صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ سائنس دان، بہترین مسلمان اور اچھے سی۔ایس۔پی آفیسر پیدا کرنے سے قاصر ہے۔افسوس کہ ہم نے اغیار کا طرز تعلیم اپنا لیا اور اپنا بھی گنوا بیٹھے۔ حقیقی طور پر ہمارا تعلیمی نظام انگریزی تعلیمی نظام سے منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں بہت سے نقائص ہیں۔
    # بلاشبہ پاکستان ایک غریب ملک ہے ہم دوسرے ممالک کی نسبت اپنے بجٹ کا بہت ہی کم حصہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بجٹ کا مناسب حصہ تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا۔
    # ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی اغیار کی زبان میں نصابِ تعلیم ہے۔ انگریزی کی بالادستی سراسر ہماری غلامانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ہمارے تمام علوم و فنون قومی زبان میں پڑھائے جائیں.
    #ہمارا تعلیمی نظام بلاشبہ بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ مثال کے طور پر امتحانات کا ناقص نظام، دوہرا تعلیمی نظام، اساتذہ کی کمی ، لیبارٹریوں میں سائنسی آلات کی کمی، تحقیقی کام کے لیے سہولیات کافقدان وغیرہ۔ ان تمام مسائل کو حل کیے بغیر تعلیمی ترقی نا ممکن ہے۔نظامِ تعلیم کی حقیقی اصلاح موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں تعطیلات کی بھرمار ایک اہم مسئلہ ہے۔ تعلیم سیشن نہایت قلیل عرصے پر مستمل ہوتا ہے اور بروقت نصاب ختم نہیں ہو پاتا اس کا ازالہ بہت ضروری ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ تعلیم کی طرف مبذول کرے تاکہ پاکستان کو حقیقی طور پر آزادی نصیب ہو۔ دعا ہے اس پاک کارساز مالک پروردگار سے کہ وہ ہمارے حال پر رحم کرے اور ہمیں ہدایت عطا کرے بے شک وہی ہدایت دینے والا ہے ۔ آمین ثم آمین

    @mstrwaseem

  • قاتل روڈ  تحریر: علی رضا بخاری

    قاتل روڈ تحریر: علی رضا بخاری

    اہلیان ضلع ڈیرہ غازی خان و ضلع راجن پور 34 افراد بے موت لقمہ اجل، 40 سے زائد زخمی، 70 سے 75 خاندان برباد ہوئے، ہر آئے روز اس قاتل خونی سنگل انڈس ہائی وے کشمور، راجن پور تا ڈی جی خان، رمک اٹھتے لاشے قیامت صغری کا منظر تڑپتے لاشے کٹے پھٹے جسم، سسکیاں اور آہیں جو کہ حاکم وقت کے کانوں تک پہنچنے سے شاید قاصر ہیں، 20 سے 40 سال کےجوان صرف روزی روٹی کی خاطر پنجاب کے بڑے شہروں میں اپنوں سے دور اپنے علاقوں میں روزگار میسر نہ ہونے کے سبب مجبور بس حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے، کئی بہنوں کے بھائی کئی سہاگنوں کے سر کے سائیں، کئی مائوں کے راج دلارے، جگر کے ٹکڑے ،کئی خاندانوں کے واحد کفیل، اور درجنوں اپاہج ہونے والے مجبوری اور بے بسی کی تصویر بنے لاش نما زندہ چہرے آپ سے شاید کہہ رہے ہوں کہ کس کو قاتل کہیں کس کو مقتول کہیں، 40 سال سے یہ قاتل خونی سنگل روڈ کئی حادثات کو جنم دے چکا ہے کیا اب بھی کسی اور خونی منظر، کسی قیامت صغری کا مزید انتظار ہے، اس المناک حادثے نے پورے وسیب کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اب اس معاملے پر خاموشی بےحسی ہوگی، کب تک بے بس زندگی گزارتے رہیں گے، کب تک اپنوں کی لاشوں کو کاندھا دے کر تیرا سردار میرا سردار زندہ باد کے نعرے لگاتے رہیں گے، کب تک پارٹی پارٹی کھیلتے رہیں گے، کب تک اپنے خون کو پانی کی طرح بہتا دیکھ کر خاموش تماشائی بنے رہیں گے، خدا کے لئے ہر گروپ ہر پارٹی کو سائیڈ پہ رکھ کر اس قاتل خونی روڈ کو ون وے دو رویہ ڈبل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں، سوال یہ ہے کہ یہ روڈ پچھلے کئی سالوں سے ہر دوسرے دن کسی نہ کسی معصوم کی جان لیتا ہے، پریس کانفرنسوں میں یہ روڈ منظور ہے مگر اصل میں کب بنے گی؟ ہم اگر عملی طور پر بطور معاشرہ قدم نہیں اٹھا سکتے تو کم سے کم سوشل میڈیا پر آواز اٹھا سکتے ہیں سنا ہے سوشل میڈیا پر کیے گئے احتجاج پر جلد ایکشن لیتے ہیں۔

    @aliraza_rp

  • حیوان کو انسان سے خطرہ: تحریر:عمران اے راجہ

    حیوان کو انسان سے خطرہ: تحریر:عمران اے راجہ

    اللہ نے بنی نوع انسان کے ساتھ کروڑوں چرند پرند بھی پیدا کیے جن کی حیات و افزائش، نسل انسانی کے ساتھ چلتی اور معدوم ہوتی رہی۔
    جب میں ساؤتھ افریقہ شفٹ ہوا تو خاصی حیرانگی ہوئی کہ یہاں چند جانور ایسے ہیں جن کی حفاظت ہمارے وی آئی پیز کی طرح کی جاتی ہے اور انتہا تب ہوئی جب اس جانور کا شکار کرنے والے شکاری جنہیں رینجرز کی زبان میں “پوچرز” کہا جاتا ہے مقابلے کے بعد شدید زخمی اور کچھ کو ہلاک کر دیا گیا۔ جی ہاں جان سے مار دیا گیا۔
    یہ حفاظتی اقدامات تھے “گینڈے” کو شکار سے بچانے کے لیے۔ ڈائنوسارز کے زمانے سے چل رہے چند جانوروں میں اب صرف ہاتھی اور گینڈا ہی باقی رہے اور گینڈا کی نسل اس کے دانت کی وجہ سے انتہائی شدید خطرات سے دوچار ہے۔
    کچھ بعید نہیں اگر جانور زبان رکھتے تو ضرور کہتے کہ “انسان کس قدر حیوان اور وحشی ہے”۔ جانور کا بھی کرۂ ارض پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ عام انسان کا مگر کیا کیجیے۔
    گینڈے بارے تھوڑی تحقیق اور معلومات آپ سے شیئر کرتا ہوں جو کم ہی لوگوں کو معلوم ہیں اور کیسے ساؤتھ افریقن حکومت انہیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔۔
    آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں جنگلات کا خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔ اس سے نہ صرف گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ جنگلی حیات کو بھی خطرات لاحق ہیں ۔ زیادہ تر جنگلات میں جنگلی جانور نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جنوبی افریقہ کے جنگلات ان چند جنگلات میں سے ایک ہیں جہاں اب بھی مختلف اقسام کے جنگلی جانور موجود ہیں۔اس لیے یہ تمام دنیا میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں بہت سے ایسے جانور پائے جاتے ہیں جو اب باقی دنیا میں ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ انھی جانوروں میں سفید اور سیاہ گینڈے بھی شامل ہیں۔ گینڈوں کی نسل گزشتہ کئی دہائیوں سے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ مختلف جرائم پیشہ افراد ان کے سینگ کے حصول کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں اور ان کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ جسامت کے لحاظ سے یہ ایک بکتر بند ٹینک کی طرح ہے۔ یہ لاکھوں سال سے ہمارے ساتھ اس دنیا میں موجود ہے، لیکن اب اس کو ہماری مدد کی ضرورت ہے ۔ 1970 تک گینڈوں کی تعداد 70،000 تھی جو اب 27،000 کے قریب ہے۔

    جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے سفید اور سیاہ گینڈے میں اگرچہ رنگت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ دونوں ہی سرمئی رنگت کے ہوتے ہیں لیکن ان کو ان کی مختلف خصوصیات کی وجہ سے یہ نام دیے گئے ہیں۔
    سفید گینڈا ہاتھی کے بعد زمین پر پایا جانے والا دوسرا بڑا ممالیہ جانور ہے۔ سفید گینڈا 1900 کی دہائی کے اوائل میں 100 سے بھی کم رہ گئے تھے۔ لیکن عالمی محکمہ تحفظ جنگلی حیات اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے اب ان کی تعداد بڑھ کر 17،212 اور 18،915 کے درمیان ہوگئی ہے۔
    سیاہ گینڈے کا سائنسی نام ڈیسورس بائی کارنس ہے۔ یہ سفید گینڈے کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ پودے اور جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں۔ خاص طور پر ببول ان کی پسندیدہ غذا ہے۔ سیاہ گینڈوں کی آبادی 1970 میں 70،000 سے کم ہو کر 1995 میں صرف 2،410 رہ گئی تھی۔ لیکن افریقی محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی مسلسل کوششوں کی بدولت اس وقت ان کی تعداد 5،366 اور 5،627 کے درمیان موجود ہے۔

    معاشی ترقی اور آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے جنگلات کو کاٹ کر نئے شہر اور کالونیاں قائم کی جانے لگیں۔ اس عمل سے جنگلی حیات کوناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ کیونکہ ان کے قدرتی گھر ختم ہونا شروع ہو گئے، جہاں یہ مل جل کو گروہوں کی شکل میں رہتے تھے۔ اب یہ الگ تھلگ علاقوں میں تقسیم ہو گئے، جہاں ان کی افزائش کو خطرہ ہے۔ بہت کم گینڈے قومی پارکوں اور مصنوعی جنگلوں میں زندہ رہ پاتے ہیں۔

    جنگلی جانوروں خاص طور پر گینڈوں کو بہت سے لوگ غیر قانونی طور پر شکار کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ شوقیہ طور پر بے رحمانہ طریقے سے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ جس سے ان کی نسل تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

    شوقیہ شکار کرنے والوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تعداد ان افراد کی بھی ہے جو ان کا سینگ حاصل کرنے کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں۔ ایشیاء اور باقی دنیا میں پائے جانے والے گینڈوں کا ایک سینگ ہوتا ہے۔ لیکن جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے گینڈوں کے دو سینگ ہوتے ہیں۔ اسی لیے انھیں زیادہ شکار کیا جاتا ہے۔ لوگ یہ سینگ روایتی دوائیوں کے استعمال یا بیش قیمت تحفے کے طور پر دینے کے لیے بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ چین اور ویتنام کی منڈیاں ان کے سینگ کی بڑی خریدار ہیں۔ چین کی ایک اہم مارکیٹ میں اس کے سینگ سے بنے نوادرات فروخت کیے جاتے ہیں۔ ویتنام میں اس کو کینسر کے علاج کے لئے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا سینگ جسم سے زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے، اس لیے سنگین سے سنگین بیماری میں بھی شفا دیتا ہے۔
    دنیا بھر میں گینڈوں کی آبادی کا تقریبا 80 فیصد جنوبی افریقہ کے کروگر نیشنل پارک میں موجود ہیں ۔گذشتہ پانچ سالوں میں 5100 سے زائد گینڈے غیر قانونی طور پر شکار ہوئے جن میں سے 50 فیصد صرف کروگر نیشنل پارک میں شکار ہوئے۔ لیکن افریقہ کے جنگلات میں اب ان کی حفاظت کے لیے رینجرز، ڈرون کیمروں اور جہاں ضرورت ہو تو مسلح افواج کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔

    اگرچہ غیر قانونی شکار پر پابندی اور مصنوعی طریقوں سے افزائش نسل کر کے ان کی آبادی کو بڑھانے کی کوشش بہت حد تک کامیاب ہے۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ ہمیں اپنے قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔ اس کا شکار زیادہ تر سینگ کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے، اس لیے صارفین کی مانگ ختم ہو جائے تو شکاریوں اور سمگلروں کی اس میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ قدرتی وسائل کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ کم سے کم جنگلات کی کٹائی ہو۔ اور یہ قدرتی ماحول میں نسل برقرار رکھ سکیں۔

    ‏Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • بچوں کی نشوونما  تحریر: محمد کامران۔

    بچوں کی نشوونما تحریر: محمد کامران۔

    بچے الله تعالیٰ کا انمول اور خوبصورت تحفہ ہوتے ہیں والدین کی زندگی میں بچوں کی وجہ سے خوشیاں اور رونقیں ہوتی ہیں ماں کی کوکھ سے ہی بچے کی تربیت اور نشوونما شروع ہو جاتی ہے دنیا میں آتے ہی بچے والدین سے سیکھناشروع ہو جاتے ہیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوششں کرتے ہیں ۔
    گھر کا ماحول اور والدین کی ساکھ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر گہرا اثر ڈالتی ہے جہاں ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے وہیں مدرسہ یا سکو ل کی تعلیم بچوں میں مختلف علوم اور ہنر کو اجاگر کرنے کیلئے ضروری ہے ۔
    بچوں میں ہنر اور علوم ان کی زندگی کو بہتری کی طرف لے جانے کا باعث بنتے ہیں بچوں میں بااخلاق اور ذمہ دار شہری بننے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے ۔اور ان کو اایک متوازن زندگی گزار نے کا موقع ملتا ہے ۔اور بچے زندگی کے نشیب و فراز سے واقف ہوتے ہیں
    والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کی صحیح ذہنی نشوونما کیلئے بہترین سکلول یا مدرسہ اور اساتذہ کا انتخاب کریں اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ گھر میں توجہ سے وقت دیں تاکہ مثبت شخصیت اجاگر ہو۔اچھی اور سبق آموز کہانیوں کا انتخاب کریں اور سونے سے قبل کہانیاں سنانے سے ایک تحقیق کے مطابق بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا ہو تا ہے اور ان کی ذہنی اور فکری نشوونما ہوتی ہے
    ماحول بچوں کی نشوونما میں اہم کردارادا کرتاہے بچے جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں ان میں اسی کی جھلک نظر آتی ہے بہترین ماحول میسر آنے سے بچوں کی نشوونما بھی مثبت انداز میں ہوتی ہے ۔بچے پگھلے ہوئے کانچ کی طرح ہوتے ہیں ان کو جس سانچے میں ڈھالو ڈھل جاتے ہیں
    بتہرین ذہنی اور جسمانی نشوونما کیلئے ان کے اردگرد مثبت چیزوں ،سوچ ،ماحول اوردیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔

    @kaamm_ii

  • کھٹی میٹھی سوچ   تحریر: سمیرا جمال

    کھٹی میٹھی سوچ تحریر: سمیرا جمال

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک نے اگر ترقی کی ہے تو اپنی لیڈر شپ کے مدبرانہ فیصلوں کی بناء پہ ہی کی ہے ۔اگر لیڈر شپ کے مدبرانہ فیصلے نہ ہوں تو ملک و قوم صرف ترقی کرنے کا خواب تو دیکھ سکتی ہے مگر عملی طور پہ ترقی کر نہیں سکتی ان کی ترقی محض ایک خواب بن کے رہ جاتی ہے ۔اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر آپ کے حاکم ،آپکی لیڈر شپ کمزور ہے تو اس صورت میں ترقی کا سفر بھی تنزلی میں بدل جاتا ہے ۔
    پاکستانی قوم کی بد قسمتی کہ پچھلے کچھ عرصہ سے لیڈرز تو بہت تھے مگر وہ تمام خصوصیات جو کہ ایک لیڈر میں ہونی چاہئیں تھیں ان کا فقدان تھا۔ایسی لیڈر شپ کے سائے میں پھر ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب تو سکتا تھا مگر ترقی نام کا چورن ان کے لئے بھی بیچنا مشکل تھا۔آج کل بھی جن افراد میں لیڈر شپ کے کوئ گن نہیں ہیں وہ لوگ بھی اس صف میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے اندر تعصب کوٹ کوٹ کے بھرا ہے،یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ملک و قوم سے نہیں اپنی تجوریوں کے بھرنے سے مطلب ہوتا ہے ۔
    اسی لئیے ہمیشہ کوشش کریں کہ ذات برادری سے نکل کر صرف اور صرف اپنے ملک کا سوچیں۔اپنے لوگوں کا سوچیں اپنی عوام کا سوچیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ ووٹ کا استعمال اپنے ضمیر کے مطابق کرتے ہیں۔
    ایسے تمام گدھ جو عوام کو نوچ نوچ کے کھاتے ہیں ان سے ایک ہی صورت میں آپکی جان چھوٹ سکتی ہے کہ آپ کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر اپنے ووٹ کا صیحیح استعمال کریں۔اس حقیقت کو سمجھئے کہ آپ کا ووٹ آپ کی قیادت کو منتخب کرتا ہے ۔ جب آپ کا لیڈر مدبرانہ فیصلے کر سکتا ہو،وہ نڈر ہو،اس میں خوش قسمتی سے وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہوں جو ایک مسلم حاکم میں ہونی چاہیں تو یقینا وہ قوم تنزلی سے ترقی کی طرف طرف گامزن ہو جاتی ہے ۔مگر اس تمام صورتحال میں میں ایک بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ کسی بھی صورت میں سپورٹ کرتے ہوئے اپنی تربیت پہ حرف نہ آنے دیں ۔خوش قسمت ہیں وہ والدین جن کی تربیت کی وجہ سےوہ دعائیں سمیٹتے ہیں ۔سوشل میڈیا پہ ہر پارٹی کے جانثار موجود ہیں مگر ایک چیز کاخیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ پارٹی سے ہٹ کے صرف اور صرف اپنے وطن کا سوچیں جو غلط ہے اسے غلط کہنے کی جراءت پیدا کریں۔ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں سچائ کو شہید نہ کریں ۔
    مجھے ایک چیز کا ہمیشہ سے قلق رہا کہ کیا ہم لوگ دشنام طرازی ،گالم گلوچ کی بجائے دلائل سے بات نہیں کر سکتے ؟کیا ہم زہنی طور پہ اس قدر بیمار اور پسماندہ ہو چکے ہیں کہ برداشت کا مادہ ختم ہو گیا ہے ۔اپنی تربیت پہ کبھی حرف نہ آنے دیں ۔سوچئے گا۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان زندہ باد
    @sumairajamalkha

  • ‎بلاک چین کیا ہے؟ تحریر: محمد محسن خان

    ‎بلاک چین کیا ہے؟ تحریر: محمد محسن خان

    ‎بلاک چین ٹیکنالوجی پیچیدہ لگتی ہے ، اور یہ یقینی طور پر ہے ، لیکن اس کا بنیادی تصور واقعی بہت آسان ہے۔ بلاک چین ایک قسم کا ڈیٹا بیس ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کو سمجھنے کے لئے، اس سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اصل میں ڈیٹا بیس کیا ہے۔

    ‎ڈیٹا بیس معلومات کا ایک مجموعہ ہے جو الیکٹرانک طور پر کمپیوٹر سسٹم میں اسٹور کیا جاتا ہے۔ ڈیٹا بیس میں موجود معلومات ، یا ڈیٹا کو عام طور پر ٹیبل فارمیٹ میں تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ مخصوص معلومات کے لئے easier آسان تلاش اور فلٹرنگ کی سہولت ہو۔ کسی میں ڈیٹا بیس کے بجائے معلومات کو ذخیرہ کرنے کے لئے اسپریڈشیٹ استعمال کرنے میں کیا فرق ہے؟

    ‎اسپریڈشیٹ ایک شخص ، یا لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کے لئے ، محدود مقدار میں معلومات کو اسٹور کرنے اور ان تک رسائی کے لئے تیار کی گئی ہیں۔ اس کے برعکس ، ایک ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے جس میں بڑی تعداد میں معلومات رکھی جاسکتی ہیں ، جس کو ایک ہی بار میں کسی بھی تعداد میں صارفین کے ذریعہ تیزی سے اور آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ، فلٹر کیا جاسکتا ہے۔

    ‎بڑے ڈیٹا بیس اس سرور پر ہاؤسنگ ڈیٹا کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں جو طاقتور کمپیوٹرز سے بنے ہیں۔ یہ سرور بعض اوقات سیکڑوں یا ہزاروں کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہوئے بنایا جاسکتا ہے تاکہ متعدد صارفین کو بیک وقت ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرنے کے لئے کمپیوٹیشنل پاور اور اسٹوریج کی گنجائش ضروری ہو۔ اگرچہ کسی اسپریڈشیٹ یا ڈیٹا بیس پر کسی بھی تعداد میں لوگوں تک رسائی ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اکثر ایک کاروبار کی ملکیت ہوتی ہے اور ایک مقررہ فرد کے ذریعہ اس کا انتظام ہوتا ہے جس میں اس کے کام کرنے اور اس کے اندر موجود ڈیٹا پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔

    ‎تو بلاک چین کس طرح ایک ڈیٹا بیس سے مختلف ہے؟

    ‎اسٹوریج ڈھانچہ
    ‎عام ڈیٹا بیس اور بلاک چین کے درمیان ایک اہم فرق یہ ہے کہ جس طرح سے ڈیٹا تشکیل دیا جاتا ہے۔ بلاک چین گروپوں میں ایک ساتھ معلومات اکٹھا کرتا ہے ، جسے بلاکس بھی کہا جاتا ہے ، جس میں معلومات کے سیٹ ہوتے ہیں۔ بلاکس میں کچھ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوتی ہے اور جب بھری جاتی ہے تو ، پہلے سے بھرے ہوئے بلاک پر جکڑے جاتے ہیں ، جس کو "بلاک چین” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تمام نئی معلومات جو اس کے بعد تازہ اضافی بلاک کو ایک نو تشکیل شدہ بلاک میں مرتب کیا گیا ہے جو اس کے بعد ایک بار بھرا ہوا سلسلہ میں بھی شامل ہوجائے گا۔

    ‎ایک ڈیٹا بیس اپنے ڈیٹا کو ٹیبلز میں تشکیل دیتا ہے جبکہ ایک بلاک چین، جیسے اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے ، اپنے اعداد و شمار کو ٹکڑوں (بلاکس) میں تشکیل دیتا ہے جو ایک ساتھ جکڑے ہوئے ہیں۔ اس سے ایسا ہوتا ہے کہ تمام بلاک چین ڈیٹا بیس ہیں لیکن تمام ڈیٹا بیس بلاک چین نہیں ہیں۔ یہ نظام غیر فطری طور پر اعداد و شمار کی ایک ناقابل واپسی ٹائم لائن بھی بناتا ہے جب ایک غیر منطقی نوعیت میں نافذ کیا جاتا ہے۔ جب بلاک بھر جاتا ہے تو یہ پتھر میں سیٹ ہوتا ہے اور اس ٹائم لائن کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ جب سلسلہ میں شامل کیا جاتا ہے تو سلسلہ میں ہر بلاک کو ایک عین ٹائم اسٹیمپ دیا جاتا ہے۔
    غیر مرکزی ہونا
    ‎بلاک چین کو سمجھنے کے مقصد کے لئے ، اسے اس تناظر میں دیکھنا زیادہ معاملہ فہم ہے کہ بٹ کوائن نے اسے کس طرح نافذ کیا ہے۔ ڈیٹا بیس کی طرح ، بٹ کوائن کو اپنے بلاک چین کو ذخیرہ کرنے کے لئے کمپیوٹروں کا ایک مجموعہ کی ضرورت ہے۔ بٹ کوائن کے لئے ، یہ بلاک چین صرف ایک مخصوص قسم کا ڈیٹا بیس ہے جو اب تک کی گئی ہر بٹ کوائن لین دین کو محفوظ کرتا ہے۔ ویکیپیڈیا کے معاملے میں ، اور بیشتر ڈیٹا بیس کے برعکس ، یہ کمپیوٹر سبھی ایک ہی چھت کے نیچے نہیں ہوتے ہیں ، اور ہر کمپیوٹر یا کمپیوٹرز کا گروپ ایک انفرادی فرد یا افراد کے گروپ کے ذریعہ چلتا ہے

    ‎ذرا تصور کیجیے کہ ایک کمپنی کے پاس ایک سرور ہے جس میں 10،000 کمپیوٹرز شامل ہیں اور اس کے پاس اپنے مؤکل کے اکاؤنٹ کی تمام معلومات موجود ڈیٹا بیس ہیں۔ اس کمپنی کے پاس ایک گودام ہے جس میں یہ تمام کمپیوٹرز ایک ہی چھت کے نیچے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کمپیوٹر اور اس کے اندر موجود تمام معلومات کا مکمل کنٹرول ہے۔ اسی طرح ، بٹ کوائن ہزاروں کمپیوٹرز پر مشتمل ہوتا ہے ، لیکن ہر کمپیوٹر یا کمپیوٹر کا ایک گروپ جس میں اس کا بلاک چین ہوتا ہے وہ مختلف جغرافیائی مقام پر ہوتا ہے اور یہ سب الگ الگ افراد یا لوگوں کے گروپوں کے ذریعہ چلتے ہیں۔ یہ کمپیوٹرز جو بٹ کوائن کے نیٹ ورک کو میک اپ کرتے ہیں انہیں نوڈز کہتے ہیں۔

    ‎اس ماڈل میں ، ویکیپیڈیا کے راستے میں بٹ کوائن کا بلاک چین استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ، نجی ، سنٹرلائزڈ بلاک چین ، جہاں کمپیوٹر اس کے نیٹ ورک کو تشکیل دیتے ہیں ، وہ ایک ہی ملکیت کے زیر ملکیت اور چل رہے ہیں۔

    ‎بلاک چین میں ، ہر نوڈ میں اس ڈیٹا کا مکمل ریکارڈ موجود ہے جو اپنے آغاز سے ہی بلاک چین پر محفوظ ہے۔ ویکیپیڈیا کے لئے ، اعداد و شمار تمام ویکیپیڈیا لین دین کی پوری تاریخ ہے۔ اگر کسی ڈیڈ میں کسی نوڈ میں خرابی ہوتی ہے تو وہ خود کو درست کرنے کے لئے ہزاروں دوسرے نوڈس کو ریفرنس پوائنٹ کے طور پر استعمال کرسکتی ہے۔ اس طرح ، نیٹ ورک کے اندر کوئی بھی نوڈ اس کے اندر موجود معلومات کو تبدیل نہیں کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے ، ہر بلاک میں لین دین کی تاریخ جو بٹ کوائن کا بلاک چین بناتے ہیں ناقابل واپسی ہے۔

    ‎اگر کوئی صارف بٹ کوائن کے لین دین کے ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو ، دوسرے تمام نوڈس ایک دوسرے کو عبور کرتے ہیں اور غلط معلومات کے ساتھ نوڈ کو آسانی سے نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ نظام واقعات کا درست اور شفاف نظم قائم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بٹ کوائن ، یہ معلومات لین دین کی ایک فہرست ہے ، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ بلاک چین کے لئے مختلف قسم کی معلومات رکھنا ، جیسے قانونی معاہدوں ، ریاست کی شناخت ، یا کسی کمپنی کی مصنوع کی فہرست کو رکھنا۔

    ‎یہ نظام کس طرح کام کرتا ہے ، یا اس میں موجود معلومات کو تبدیل کرنے کے لئے ، وکندریقرت نیٹ ورک کی کمپیوٹنگ طاقت کی اکثریت کو ان تبدیلیوں پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ جو بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں وہ اکثریت کے مفاد میں ہیں۔

    ‎شفافیت
    ‎ویکیپیڈیا کی نوعیت کی وجہ سے بٹ کوائن کے بلاک چین ، تمام لین دین کو شفاف طور پر یا تو ذاتی نوڈ رکھنے یا بلاک چین ایکسپلورر کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے جو کسی کو بھی براہ راست واقع ہونے والے لین دین کو دیکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہر نوڈ کی زنجیر کی اپنی ایک کاپی ہوتی ہے جس میں تازہ کاری ہوتی ہے کیونکہ تازہ بلاکس کی تصدیق اور شامل ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ چاہتے تو ، آپ جہاں کہیں بھی جاتے ہیں بٹ کوائن کو ٹریک کرسکتے ہیں۔

    ‎مثال کے طور پر ، ماضی میں تبادلے ہیک کیے گئے تھے جہاں تبادلے پر بٹ کوائن رکھنے والوں نے سب کچھ کھو دیا۔ اگرچہ ہیکر مکمل طور پر گمنام ہوسکتا ہے ، لیکن انہوں نے جو بٹ کوائن نکالا اسے آسانی سے سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ان میں سے کچھ ہیکوں میں چوری کی گئی بٹ کوائنز کو کہیں منتقل کیا جاتا یا خرچ کیا جاتا تو یہ معلوم ہوجائے گا۔

    ‎کیا بلاک چین محفوظ ہے؟
    ‎بلاک چین ٹیکنالوجی سیکیورٹی اور اعتماد کے معاملات کو کئی طریقوں سے محو کرتی ہے۔ پہلے ، نئے بلاکس ہمیشہ خطوط اور تاریخی اعتبار سے محفوظ کیے جاتے ہیں۔ یعنی ، انہیں ہمیشہ بلاکچین کے "آخر” میں شامل کیا جاتا ہے۔ اگر آپ بٹ کوائن کے بلاکچین پر ایک نگاہ ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہر بلاک کی زنجیر پر ایک پوزیشن ہوتی ہے ، جسے "اونچائی” کہا جاتا ہے۔

    ‎بلاک چین کے اختتام پر بلاک کا اضافہ ہونے کے بعد ، اس بلاک کے مندرجات میں تبدیلی کرنا بہت مشکل ہے جب تک کہ اکثریت اس پر اتفاق رائے نہیں کر پائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر بلاک کی اپنی ہیش ہوتی ہے ، اس کے ساتھ ہی اس سے پہلے اس بلاک کی ہیش کے ساتھ ساتھ پہلے بیان کردہ ٹائم اسٹیمپ بھی۔ ہیش کوڈز ایک ریاضی فنکشن کے ذریعہ تخلیق کیا گیا ہے جو ڈیجیٹل معلومات کو اعداد اور حروف کی تار میں بدل دیتا ہے۔ اگر اس معلومات میں کسی بھی طرح ترمیم کی گئی ہے تو ، ہیش کوڈ میں بھی تبدیلی آتی ہے۔

    ‎سیکیورٹی کے لئے یہ کیوں اہم ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ایک ہیکر بلاک چین کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اور ہر کسی سے ویکیپیڈیا چوری کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ اپنی واحد کاپی کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ، یہ اب باقی سب کی کاپی کے ساتھ سیدھ میں نہیں ہوگا۔ جب باقی ہر شخص اپنی کاپیاں ایک دوسرے کے خلاف کراس کا حوالہ دیتے ہیں تو ، وہ دیکھیں گے کہ اس کی ایک کاپی کھڑی ہوجائے گی اور اس سلسلہ کا ہیکر کا نسخہ ناجائز قرار دے دیا جائے گا۔

    ‎اس طرح کے ہیک کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کا تقاضا ہوگا کہ ہیکر نے بیک وقت بلاک چین کی کاپیاں کو کنٹرول اور تبدیل کردے تاکہ ان کی نئی کاپی اکثریت کی کاپی بن جائے اور اس طرح اتفاق رائے سے زنجیر بن جائے۔ اس طرح کے حملے کے لئے بے تحاشا رقم اور وسائل کی بھی ضرورت ہوگی کیونکہ انہیں ان تمام بلاکس کو دوبارہ کرنا ہوگا کیونکہ اب ان کے پاس مختلف ٹائم اسٹیمپ اور ہیش کوڈ ہوں گے

    ‎بٹ کوائن کے نیٹ ورک کی جسامت اور اس میں کتنی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس کی وجہ سے ، اس طرح کے کارنامے کو دور کرنے کی قیمت شاید ناقابل تلافی ہوگی۔ نہ صرف یہ انتہائی مہنگا ہوگا ، بلکہ یہ بے نتیجہ بھی ہوگا۔ ایسا کام کرنے سے کسی کا دھیان نہیں جائے گا ، کیونکہ نیٹ ورک کے ممبران بلاک چین پر اس طرح کے سخت رخ دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد نیٹ ورک کے ممبران اس سلسلہ کا ایک نیا ورژن تشکیل دے دیں گے جو متاثر نہیں ہوا ہے۔

    ‎اس سے بٹ کوائن کے حملہ شدہ ورژن کی قیمت کم ہوجائے گی ، اور یہ حملہ حتمی طور پر بے معنی ہوجائے گا کیونکہ خراب اداکار کے پاس بیکار اثاثہ ہے۔ خرابی اداکار بٹ کوائن کے نئے کانٹے پر حملہ کرنے کی صورت میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح بنایا گیا ہے تاکہ نیٹ ورک میں حصہ لینا اس پر حملہ کرنے سے کہیں زیادہ معاشی طور پر حوصلہ افزائی کر سکے۔

    ‎بلاک چین کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟
    ‎جیسا کہ اب ہم جانتے ہیں کے blockchain مالیاتی لین دین کے بارے میں ڈیٹا اسٹور ہوتا ہے۔ لیکن یہ پتہ چلتا ہے کہ بلاک چین دراصل دیگر قسم کے لین دین کے بارے میں بھی ڈیٹا کو محفوظ کرنے کا ایک قابل اعتماد طریقہ ہے۔

    ‎کچھ کمپنیاں جو پہلے ہی بلاک چین کو شامل کر چکی ہیں ان میں والمارٹ ، فائزر ، اے آئی جی ، سیمنز ، یونی لیور ، اور بہت سے دیگر شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ، آئی بی ایم نے اس فوڈ ٹرسٹ کا بلاک چین تیار کیا ہے جس کا پتہ لگانے کے لئے فوڈ پروڈکٹ اپنے مقامات تک جانے کے لئے لے جاتی ہے۔

    ‎ایسا کیوں کرتے ہو؟ فوڈ انڈسٹری نے ای کولئی ، سالمونیلا ، لیٹیریا کے بے شمار وبا پھیلائے ہیں ، اور ساتھ ہی حادثاتی طور پر کھانے پینے میں مضر مواد متعارف کروائے ہیں۔ ماضی میں ، لوگوں کو جو کھا رہے ہیں اس سے ان وباء کا سبب یا بیماری کی وجہ معلوم کرنے میں ہفتوں کا عرصہ لگا ہے۔

    ‎بلاکچین استعمال کرنے سے برانڈز کو فوڈ پروڈکٹ کے راستے کو اپنی اصل میں سے ہر ایک اسٹاپ کے ذریعہ ، اور آخر میں اس کی ترسیل سے باخبر رکھنے کی صلاحیت ملتی ہے۔ اگر کوئی کھانا آلودہ پایا جاتا ہے تو پھر اسے ہر راستے سے اس کی اصل تک جانے والے راستے کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ نہ صرف یہ ، بلکہ یہ کمپنیاں اب باقی سب کچھ بھی دیکھ سکتی ہیں جو اس کے ساتھ رابطے میں ہوسکتی ہیں ، جس سے ممکنہ طور پر جانوں کی بچت سے اس مسئلے کی شناخت جلد ہونے کی اجازت مل جاتی ہے۔ یہ عملی طور پر بلاک چین کی ایک مثال ہے ، لیکن بلاک چین پر عمل درآمد کی بہت سی دوسری شکلیں ہیں۔

    ‎بینکنگ اور فنانس
    ‎شاید کوئی صنعت بلاک چین کو بینکاری سے زیادہ اپنے کاروباری کاموں میں ضم کرنے سے فائدہ اٹھا سکے گی۔ مالیاتی ادارے صرف کاروباری اوقات کے دوران ، ہفتے میں پانچ دن کام کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ جمعہ کے روز شام 6 بجے چیک جمع کروانے کی کوشش کرتے ہیں تو ، آپ کو اپنے اکاؤنٹ میں پیسہ دیکھنے کے لئے پیر کی صبح تک انتظار کرنا پڑے گا۔ یہاں تک کہ اگر آپ کاروباری اوقات میں اپنی جمع رقم کرتے ہیں تو ، اس لین دین کی تصدیق کے لئے ابھی بھی ایک سے تین دن لگ سکتے ہیں جن کی بینکوں کو آباد ہونا ضروری ہے۔ دوسری طرف ، بلاک چین کبھی چھٹی نہیں کرتا۔

    ‎بینکوں میں بلاک چین کو مربوط کرکے ، صارفین ان کے لین دین کو 10 منٹ سے بھی کم وقت میں دیکھ سکتے ہیں ، بنیادی طور پر اس وقت بلاک چین میں کسی بلاک کو شامل کرنے میں ، چاہے تعطیلات ہوں یا دن یا ہفتے کا وقت۔ بلاک چین کے ساتھ ، بینکوں کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ تیزی اور محفوظ طریقے سے اداروں کے مابین فنڈز کا تبادلہ کریں۔ اسٹاک ٹریڈنگ کے کاروبار میں ، مثال کے طور پر ، تصفیہ کرنے اور صاف کرنے کے عمل میں تین دن (یا اس سے زیادہ وقت ، اگر بین الاقوامی سطح پر تجارت ہوسکتے ہیں) لگ سکتے ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ اس مدت کے لئے رقم اور حصص کو منجمد کردیا جاتا ہے۔

    ‎اس میں شامل رقوم کی جسامت کو دیکھتے ہوئے ، یہاں تک کہ چند دن کہ رقم ٹرانزٹ میں ہے ، بینکوں کے لئے اہم اخراجات اور خطرات اٹھاسکتی ہے۔ یورپی بینک سینٹینڈر اور اس کے تحقیقی شراکت داروں نے ایک فرانسیسی کنسلٹنسی کے مطابق سالانہ 15 بلین ڈالر سے 20 ارب ڈالر تک کی بچت رکھی ہے۔ تخمینہ ہے کہ صارفین بلاک چین پر مبنی درخواستوں کے ذریعے ہر سال بینکنگ اور انشورنس فیسوں میں 16 بلین ڈالر کی بچت کرسکتے ہیں

    کرنسی
    ‎بلاک چین بٹ کوائن جیسی ہزاروں کرپٹو کرنسیوں کے لئے بیڈروک تشکیل دیتا ہے۔ امریکی ڈالر فیڈرل ریزرو کے زیر کنٹرول ہے۔ اس مرکزی اتھارٹی سسٹم کے تحت ، صارف کا ڈیٹا اور کرنسی تکنیکی طور پر ان کے بینک یا حکومت کی طرح ہوتی ہے۔ اگر صارف کا بینک ہیک ہوجاتا ہے تو ، مؤکل کی نجی معلومات کو خطرہ ہوتا ہے۔ اگر موکل کا بینک گر جاتا ہے یا وہ غیر مستحکم حکومت والے ملک میں رہتے ہیں تو ، ان کی کرنسی کی قیمت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ 2008 میں ، کچھ بینکوں میں جو پیسہ ختم ہوچکے تھے ان کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو جزوی طور پر خارج کردیا گیا تھا۔ یہ وہ پریشانی ہیں جن میں سے سب سے پہلے بٹ کوائن ایجاد ہوا تھا ۔

    ‎کمپیوٹروں کے نیٹ ورک میں اپنی کاروائیوں کو پھیلاتے ہوئے ، بلاک چین بٹ کوائن اور دیگر کریپٹو کرنسیوں کو مرکزی اتھارٹی کی ضرورت کے بغیر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ پروسیسنگ اور لین دین کی بہت ساری فیسیں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ یہ غیر مستحکم کرنسیوں یا مالی انفراسٹرکچر والے ممالک میں زیادہ مستحکم کرنسی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درخواستوں اور افراد اور اداروں کے وسیع نیٹ ورک کو بھی دے سکتا ہے جو وہ گھریلو اور بین الاقوامی سطح پر کاروبار کرسکتے ہیں۔

    ‎بچت کھاتوں کے لئے یا ادائیگی کے ذرائع کے طور پر کریپٹورکرنسی والیٹ کا استعمال خاص طور پر ان لوگوں کے لئے گہرا ہے جن کی ریاست کی شناخت نہیں ہے۔ کچھ ممالک جنگ زدہ ہوسکتے ہیں یا ان کی حکومتیں ہیں جن کے پاس شناخت فراہم کرنے کے لئے حقیقی ڈھانچے کی کمی ہے۔ ایسے ممالک کے شہریوں کو بچت یا بروکریج اکاؤنٹس تک رسائی حاصل نہیں ہوسکتی ہے اور اس وجہ سے ، دولت کو محفوظ طریقے سے محفوظ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

    ‎صحت کی دیکھ بھال
    ‎صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اپنے مریضوں کے طبی ریکارڈ کو محفوظ طریقے سے محفوظ کرنے کے لئے بلاک چین ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ جب میڈیکل ریکارڈ تیار اور دستخط ہوتا ہے تو ، اسے بلاک چین میں لکھا جاسکتا ہے ، جو مریضوں کو اس بات کا ثبوت اور اعتماد فراہم کرتا ہے کہ ریکارڈ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ صحت کے ان ذاتی ریکارڈوں کو انکوڈ کرکے نجی کلید کے ساتھ بلاک چین پر محفوظ کیا جاسکتا ہے ، تاکہ وہ صرف کچھ افراد ہی قابل رسائی ہوں ، اس طرح رازداری کو یقینی بنایا جاسکے۔

    ‎پراپرٹی کے ریکارڈ
    ‎اگر آپ نے کبھی بھی اپنے مقامی ریکارڈر کے دفتر میں وقت گزارا ہے تو ، آپ کو معلوم ہوگا کہ جائیداد کے حقوق کی ریکارڈنگ کا عمل دونوں ہی بوجھ اور ناکارہ ہے۔ آج ، مقامی ریکارڈنگ آفس میں کسی سرکاری ملازم کے پاس جسمانی عمل کرنا لازمی ہے ، جہاں اسے دستی طور پر کاؤنٹی کے مرکزی ڈیٹا بیس اور عوامی اشاریہ میں داخل کیا جاتا ہے۔ جائیداد کے تنازعہ کی صورت میں ، جائیداد کے دعوے کو عوامی اشاریہ کے ساتھ صلح کرنا ضروری ہے۔

    ‎یہ عمل محض مہنگا اور وقت طلب نہیں ہے – بلکہ یہ انسانی غلطی سے بھی چھلنی ہے ، جہاں ہر غلطی جائداد کی ملکیت سے باخبر رہنا کم موثر بنا دیتی ہے۔ بلاکچین مقامی ریکارڈنگ آفس میں دستاویزات کو اسکین کرنے اور جسمانی فائلوں کو ٹریک کرنے کی ضرورت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر بلاک چین پر جائیداد کی ملکیت کو ذخیرہ کرکے اس کی تصدیق کی گئی ہے ، تو مالکان اعتماد کرسکتے ہیں کہ ان کا عمل درست اور مستقل طور پر ریکارڈ ہے۔

    ‎جنگ زدہ ممالک یا ان علاقوں میں جن کا سرکاری یا مالی انفراسٹرکچر بہت کم ہے ، اور یقینی طور پر کوئی "ریکارڈر آفس نہیں ہے” ، جائیداد کی ملکیت ثابت کرنا تقریبا ناممکن ہوسکتا ہے۔ اگر اس طرح کے علاقے میں رہنے والے لوگوں کا ایک گروہ بلاک چین کا فائدہ اٹھانے کے قابل ہو تو ، جائیداد کی ملکیت کی شفاف اور واضح ٹائم لائنز قائم کی جاسکتی ہیں

    ‎سپلائی چین
    ‎جیسا کہ آئی بی ایم فوڈ ٹرسٹ کی مثال میں ہے ، سپلائی کرنے والے اپنے خریداری کردہ مال کی اصلیت کو ریکارڈ کرنے کے لئے بلاک چین استعمال کرسکتے ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو "نامیاتی” ، "مقامی” ، اور "منصفانہ تجارت” جیسے عام لیبلوں کے ساتھ ، ان کی مصنوعات کی صداقت کی تصدیق ہوگی۔

    ‎جیسا کہ فوربس کے ذریعہ اطلاع دی گئی ہے ، کھیت تا صارف کے سفر میں کھانے کی صنعت تیزی سے راستے اور خوراک کی حفاظت کے لئے بلاک چین کے استعمال کو اپنارہی ہے۔

    ‎ووٹنگ
    ‎جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے ، جدید ووٹنگ کے نظام کی سہولت کے لئے بلاک چین استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بلاک چین کے ساتھ ووٹ ڈالنے سے انتخابی دھوکہ دہی کے خاتمے اور ووٹرز میں اضافے کو بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے ، جیسا کہ مغربی ورجینیا میں نومبر 2018 کے وسط مدتی انتخابات میں جانچا گیا تھا۔ بلاک چین پروٹوکول انتخابی عمل میں شفافیت کو بھی برقرار رکھے گا ، جس سے انتخاب کرانے کے لئے ضروری اہلکاروں کو کم کیا جائے گا اور اہلکاروں کو فوری طور پر فوری نتائج فراہم کیے جائیں گے۔ اس سے دوبارہ گنتی کی ضرورت یا کسی ایسی حقیقی تشویش کا خاتمہ ہوگا جو دھاندلی سے الیکشن کو خطرہ بن سکتا ہے۔

    ‎بلاک چین ٹیکنالوجی کے بعد کیا ہے؟
    ‎سب سے پہلے 1991،97 میں ایک تحقیقی منصوبے کے طور پر تجویز کردہ بلاک چین بیس کی دہائی کے آخر میں آرام سے ترقی کررہاہے۔ اس کی عمر کے ہزاروں سالوں کی طرح ، بلاک چین نے پچھلے دو دہائیوں کے دوران عوامی سطح پر جانچ پڑتال میں اپنا منصفانہ حصہ دیکھا ہے ، جس میں دنیا بھر کے کاروباری افراد قیاس آرائیاں کرتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کے قابل کیا ہے اور آنے والے سالوں میں اس کا رخ کس طرف ہے۔

    ‎اس ٹیکنالوجی کے لئے بہت سے عملی ایپلی کیشنز کو جو پہلے ہی بلاک چین پر بنایا جا چکا ہے اور بنائی جا رہی ہیں ، بلاک چین آخرکار ستائیس سال کی عمر میں اپنے لئے ایک نام بنا رہا ہے ، بٹ کوائن اور کریپٹوکرنسی کی وجہ سے اس کا کوئی چھوٹا حصہ نہیں۔ قوم میں ہر سرمایہ کار کی زبان پر ایک بزور لفظ کے طور پر ، بلاک چین کاروبار اور سرکاری کاموں کو اوسط درجے کاروباری لوگوں کے ساتھ زیادہ درست ، موثر ، محفوظ ، اور سستا بنانے کے لئے تیار کھڑا ہے۔

    ‎جیسا کہ ہم بلاک چین کے تیسرے عشرے میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں ، اب یہ "اگر” بڑی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھائیں گی تو سوچنا ہوگا کہ ہم سوال کب ‎کریں گے- ؟
    Twitter : MMKUK1

  • بڑھتی ہوئی قومیت پسندی اور فکری انتشار   تحریر: عرفان محمود گوندل

    بڑھتی ہوئی قومیت پسندی اور فکری انتشار تحریر: عرفان محمود گوندل

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مختلف اقوام و ثقافت اور زبان سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں۔
    اور طبقات میں ایسے تقسیم ہیں کہ ہر کوئی خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہےاور بات یہاں تک کہ کمتری اور برتری کی حد تک چلی جاتی ہے
    پیدائشی طور پر ہمیں جس خاندان کی شناخت ملتی ہے ہم اس کو ہی لاشعوری طور پر دوسروں سے افضل سمجھتے ہیں۔ جو شناخت ہمیں‏ اتفاقً ملی ہے جس کو حاصل کرنے میں ہماری کوئی کوشش نہیں اس کے لئے ہم بعض اوقات مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ ہماری اصلاح ہو یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ فکری انتشار کے عروج پر ہے۔کوئی گروہ یا جماعت اپنے سے الگ خیالات رکھنے والے کا نقطہ نظر سننے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے معاشرتی بگاڑ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ امن کا تعلق معاشرے میں رہنے والوں کی نفسیات پر ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں نفرت اور انا کی ایسی بلندوبالا عمارتیں تعمیر کی گئیں ہیں کہ کوئی گروہ دوسرے کو سننے کو تیار نہیں۔
    فکری انتشار کی ایک بڑی وجہ ہم مسلمانوں میں فرقہ واریت ہے ہمارے بہت سے علماء کرام مختلف فرقوں کے نام پر اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ دوسرے فرقے کی برائی اور خود کی اچھائی ثابت کریں۔ہمیشہ خود احتسابی اور حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے سے کتراتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کی دوسری بڑی وجہ ہمارا بوسیدہ نظام تعلیم ہے جو پہلے تو مدارس، سرکاری اور پرائیویٹ نظام تعلیم میں تقسیم تھا اوراب مزید تقسیم در تقسیم ہوتا جا رہا ہے اور قوم ایک ہجوم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مدارس سے نکلنے والے حضرات اپنے مسلمان بھائیوں کو جہنمی اور کفر کے فتوے دیتے ہیں اور سکول اور کالج سے فارغ التحصیل لوگ مدرسوں میں پڑھنے والے لوگوں سے خود کو افضل سمجھتے ہیں۔ بات صرف فطری اختلاف تک نہیں رہتی بلکہ ماردھاڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔افسوس کے ساتھ ان ستر سے زیادہ سالوں میں معاشرے کے ساتھ ساتھ ریاست نے بھی کبھی کوشش نہیں کی جس سے معاشرے کے مختلف گروہوں یا طبقوں میں ہم آہنگی بڑھ سکے۔ رہتی کمی ہماری سیاسی جماعتیں نکال دیتی ہیں جو ہماری قوم کو سندھی، پنجابی، بلوچی،پشتون، سرائیکی اور اس کے علاوہ بہت سارے گروہوں میں تقسیم کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں اور 70 سالوں میں تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی پر اقتدار سے لطف اندوز ہوتی آئی ہیں۔
    کچھ سیاسی پارٹیاں مذہب کے نام پر اپنا چورن بھیجتی ہیں جن کے بارے میں سعادت حسن منٹو نے کیا خوب کہا تھا لیڈر جب آنسو بہا کر لوگوں سے کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ مذہب ایسی چیز ہی نہیں کہ خطرے میں پڑ سکے، اگر کسی بات کا خطرہ ہے تو وہ لیڈروں کا ہے جو اپنا اُلّو سیدھا کرنے کے لئے مذہب کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔یہ لوگ جنہیں عرف عام میں لیڈر کہا جاتا ہے، سیاست اور مذہب کو لنگڑا، لولا اور زخمی آدمی تصور کرتے ہیں۔
    ہمیں اس مذہبی اور سیاسی تقسیم سے نکل کر اپنے بزرگوں کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا ورنہ ہم جدید دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین۔

    @I_G68

  • طلاق   تحریر: مدثر حسن

    طلاق تحریر: مدثر حسن

    ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے جو کہ ایک پریشانی کا بحث ہے طلاق کا لفظ سن کر ہمیشہ ہماری سوچ لڑکی کے کریکٹر پر جاتی ہے کہ اس کی وجہ یہ لڑکی ہی ہوگی حلانکہ اکثر معمولات میں مرد کی ہی وجہ ہوتی ہے طلاق کا بوجھ اٹھانا ایک لڑکی کی زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا وہ وزنی پتھر کا بوجھ اٹھا سکتی ہے لیکن اس کے لیے طلاق کا بوجھ اٹھانا بہت مشکل ہے مرد کے لیے طلاق کے صرف تین حرف ہیں لیکن یہ تین حرف لڑکی کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں!!!!!

    طلاق کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہےکہ گھر والوں کی مرضی ہوتی ہے ان کو زبردستی شادی کے بندھن میں بندھ دیتے ہیں لڑکے اور لڑکی کی دلچسپی جانے بغیر لڑکی بیچاری تو کمپرومائز کر جاتی ہے اپنی زندگی پر لیکن مرد ایسا نہیں کرتے وہ کچھ عرصہ بعد طلاق دے دیتے ہیں اور اپنا نیا جیون ساتھی تلاش کرتے ہیں جو ان کی پسند ہو اور وہ لڑکی طلاق کا ٹھپہ لیے اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے

    حلانکہ طلاق اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اس لیے قرآن میں واضح بتایا ہے کہ جو عورت تمہیں پسند ہو ان سے نکاح کر لو تاکہ یہ طلاق کی نوبت نہ آئے والدین کو چاہیے شادی کرنے سے پہلے لڑکے اور لڑکی کی مرضی جان لیں تاکہ بعد میں ان کو یہ صدمہ برداشت نہ کرنا پڑے!!!!!!!

    اسلام نے ہمیں چار شادیوں کا حکم دیا ہے اس میں طلاق یافتہ سے بیوہ سے شادی کرنا بھی شامل ہے طلاق یافتہ اور بیوہ سے شادی کرنا بھی سنت رسول ﷺ ہے کوشش کریں جس شادی کریں ان سے راشتہ طور نبھائیں تاکہ طلاق کی نوبت نہ آسکے ۔

    طلاق کی وجہ سے والدین بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں حالانکہ قصور بیٹے کا ہوتا ہے اگر بیٹے کی تربیت ٹھیک طریقے سے کی جائے تو
    طلاق کی نوبت بھی نہ آئے

    اس لیے بہن ،بیٹی کے اچھے نصیب کی دعا کی جاتی ہے کہ اللہ ان کے لیے نصیب اچھے کرے اور آسانیاں فرمائے آمین !!!!!!

    @MudasirWrittes

  • جہیز ایک لعنت ہے۔    تحریر: عمران خان رند بلوچ

    جہیز ایک لعنت ہے۔ تحریر: عمران خان رند بلوچ

    "جہیز "عربی زبان کے لفظ جہاز کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ جس کے معنی ہیں "سازوسامان پہنچانا” اصطلاح میں اس سے مراد وہ سازوسامان ہے جو والدین شادی بیاہ کے موقع پر اپنی بیٹی کو نقدی،کپڑوں،زیور یا سامان خانہ داری کی صورت میں دیتے ہیں۔برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں جہیز کی موجودہ رسم ہندو معاشرے کی پیداوار ہے ۔
    مسلمانوں اور ہندوؤں کے آزادانہ میل جول کا عرصہ تقریباً ایک ہزار سال کا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران ” تخم تاثیر صحبت اثر” کے مصداق مسلمانوں اور ہندوؤں نے ایک دوسرے کو بہت متاثر کیا اور ہندو معاشرے کی بہت سی بری رسومات مسلمانوں نے اپنالیں۔ اس لیے علامہ اقبال نے خوب کہا کہ
    حقیقت خرافات میں کھو گئی
    یہ امت روایات میں کھو گئ
    اگر اسلامی تعلیمات کو پرکھا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کو ان کے نکاح کے موقع پر بہت معمولی سامان بطورِ جہیز دیاتھا۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کےساتھ رشتہ ازواج میں منسلک ہونے سے قبل حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہِ وسلم کے ساتھ ہی رہتے تھے اور ان کا اپنا کوئی گھر نہ تھا۔شادی کے بعد جب انھوں نے اپنا گھر بنایا تو اس میں گھریلو سامان کی ضرورت فطری امر تھا۔ لہذا اگر حضور نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا تو اس سنت کا اطلاق انھی حالات میں ہوگا جن حالات میں حضور نے اپنی بیٹی کو یہ سامان دیا۔
    اس سے ثابت ہوا کہ لڑکی کا گھر بسانے کے لیے اسے ضروری ساز و سامان مہیا کرناسنت کے عین مطابق ہے مگر اس سلسلے میں حد سے تجاوز کرنا محض رسم پرستی اور اسراف ہے۔ اسی اسراف سے بعد ازاں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔
    حضور ﷺ نے فرمایا:
    "اسراف کرنے والا شیطان کا بھائی ہے”.
    ہمارے ہاں آج کل یہ رسم بد اس قدر پھیل چکی ہے کہ ایک غریب شخص جو اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بمشکل پالتا ہے۔ بیٹی پیدا ہوتے ہی یہ فکر اس کے دامن گیر ہو جاتی ہے کہ خواہ جہیز کے لیے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے مگر بیٹی کی شادی کے موقع پر ساکھ قائم رہے اور برادری میں ناک رہ جائے۔ خود بھلے فاقوں کا سامنا کرنا پڑے ۔مگر بچی کا جہیز تو شان دار ہونا چاہیے۔
    اے ہوا!تو میرے دامن کو اڑا نہ اس طرح
    پیٹ پر باندھے ہوئے کوئی پتھر نہ دیکھ لے
    خصوصاً قیام پاکستان کے بعد تو یہ رسم اس قدر بڑھ گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ جہیز دینے کے لیے لوگ ہرطرح کے غیر قانونی اور ناجائز ذرائع مثلاً چوری،رشوت،سمگلنگ وغیرہ کو بھی استعمال میں لانے لگے ہیں۔ اس طرح امراء کی دیکھا دیکھی زیاده جہیز دینے کی دوڑ میں غریب اپنی غربت کی چکی میں میں پس کر رہ جاتے ہیں۔
    صورت حال یہ ہے کہ بہت سے غریب گھرانوں کی شریف زادیاں شادی کی عمر ہونے کے باوجود تمام عمر گھر میں گھل گھل کر گزارنے پر مجبور ہیں کیوں کہ ان کے والدین لڑکے والوں کے حسب منشا جہیز دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
    گویا یہ ایک ایسی رسم ہے کہ جس نے بہت سی بیٹیوں اور بہنوں کی زندگیاں برباد کر ڈالی ہیں ۔
    اگر ہمارے ہاں ہوس زر کا یہی رحجان رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ جب غیرت مند غریب لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر ڈالیں گے۔ یا پھر خود
    اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ والدین کی جائیداد میں عورت کا ایک مقررہ حصہ ہوتا ہے ، جو اس کا شرعی حق ہے۔اب وہ والدین پر منحصر ہے کہ وہ یہ حصہ اس لڑکی کو شادی سے پہلے سے ہی دیتے ہیں، شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں دیتے ہیں یاشادی کے بعد دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں شریعت کے اعتبار سے بھی ان پر کوئی قید نہیں ہے۔ آج کل حکومت نے جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے قانون تو بنا دیا ہے مگر قوانین کا فائدہ تبھی ہوتا ہے، جب ان پر عمل ہو اور عمل بھی تب ہی ہوتا ہے، جب انسان سچے دل سے اسے قبول کر لے۔ لہذا ضروری ہے کہ پہلے افراد کی سوچ تبدیل کی جائے تا کہ وہ یہ مان لیں کہ جہیز واقعتاً ایک معاشرتی روگ ہے۔ پھر اس کے بعد ضروری ہے کہ سب لوگ اس لعنت کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لاکر اس کی بیخ کنی کر ڈالیں۔ اس سلسلے میں اہل ثروت اور باقی لوگوں کو پہل کرنی چاہیے۔ اگر یہ لوگ شادی بیاہ میں سادگی اختیار کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ غربا بھی ان کی پیروی نہ کریں۔ آج کل بہت سے علماء اس برائی کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ اپنی لڑکیوں کی شادی بیاہ سادگی سے مسجد میں کرتے ہیں اور معمولی سامان کے ساتھ وہاں سے رخصت کر دیتے ہیں۔اگر نوجوان لڑکے بھی اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھیں تو انھیںں چاہیے کہ وہ جہیز لینے ہی سے انکار کر دیں ۔ خواہ لڑکی والے کتنا زور کیوں نہ دیں۔
    ہمارے پیارے نبی نے اپنی بیٹی کو بہت سا جہیز اس لیے نہیں دیا کہ ان کی امت کا غریب سے غریب فرد بھی معمولی جہیز دینے کے باوجود اپنے آپ کو عزت دار سمجھے۔ ہمیں چاہیے کہ اسلام کے سنہری اصولوں پرعمل کریں اور اس برائی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی پوری سعی کریں۔اگر سب لوگ مل کر کوشش کریں تو جلد یا بدیر اس رسمِ بد کا خاتمہ ہو جائے گا۔
    twitter.com/@ibaloch007

  • ماں.!  تحریر: کاشف علی

    ماں.! تحریر: کاشف علی

    اللہ تعالی نے ہمیں بے شمار اور بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے ان نعمتوں میں اللہ نے ماں جیسی عظیم الشان نعمت بھی عطا کی ہے جو کسی تحفے سے کم نہیں ہے۔
    ماں کی محبت کو اللہ تعالی نے تشبیہ دے دی ہے دنیا میں محبت کی مثال میں لوگ ماں کا نام لے مثال دیتی ہے ماں کی محبت وہ بے لوث محبت ہے جس نے پتھر جیسے اولاد کو موم کیطرح ملائم بنایا
    زمانے بھر کے مشقتیں اٹھا کر ماں اپنی آنکھوں میں اولاد کی کامیابی کے خواب سجائے رکھتے ہیں بچہ چھوٹا ہو تو ماں اسکی پرورش میں ذرا برابر کمی کوتاہی نہ کرتے ہوئے انکے جوانی کی دن آب و تاب سے دیکھتے ہیں جب اولاد پر جوانی پروان چڑھتی ہے تو ماں کا ایک ہی خواب ایک سپنا ایک ہی تمنا ہوتی ہے کہ میرا بچہ کامیابی کی سیڑھیوں کو بنا مشقت کے عبور کریں۔ ماں ہی وہ عظیم ہستی ہے جب بچہ گھر سے نکلے تو واپسی تک وہ گھر کے ایک کھونے میں بیٹھ کر اسکی سلامتی کیلئے کوٹ کوٹ کر روتی ہوئے دعائیں مانگتی ہے اور لبوں پر ایک ہی جملہ جس سے ماں کی محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
    تم اپنی حفاظت کیا کرو گے میرے بیٹے
    بے شک سانسیں تو تمھاری ہے لیکن تم جان تو میری ہو ماں جیسی ہستی دنیا میں ہے کہاں

    ماں چاہے جس کی بھی ہو یہ لفظ لب پہ آتے ہیں عزت و تکریم کے آثار دل میں منڈلانے لگتے ہیں کیوں کہ ایک ماں ہی تو ہے جس نے سہارا دے کر ہمیں پالا بڑا کیا بولنا سیکھایا ہمیں اپنی انگلی پکڑوا کر چلنا سیکھایا ایسی عظیم ہستی کا نعم البدل کہاں

    ماں کی دعائیں پتھروں میں راستے بنا دیتے ہیں اگر ماں نے کہا کہ بیٹا اللہ آپ کو کامیاب کریں سمجھو آپ کامیابی کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ گئے ہو انکی دعائیں بلاوں مصیبتوں سے یوں محفوظ رکھتی ہے کہ بھلا یہ گمان ہی پیدا نہیں ہوتا ماں کی محبت دیکھنا ہو تو بارش میں ایک مرغی کو دیکھیں جو اپنی پرواہ کیے بغیر موسم کی شدت سے لڑتے ہوئے اپنی پروں کو کھول کر اپنی ہی بچوں پر سائبان بن جاتے ہیں انہیں اپنی زندگی کا خیال ہی نہیں ہوتا بس خیال اولاد کی زندگی کا ہوتا ہے
    لاکھ گرد اپنی حفاظت کی لکیریں کھینچو
    ایک بھی ان میں نہیں ماں کی محبت جیسی دنیا میں ہر چیز کا ثانی ہونا ممکن ہے لیکن ماں کی محبت کا ثانی ممکن نہیں ہے تمام محبتیں جعلی جھوٹے ہوسکتے ہیں لیکن ماں کی محبت وہ خالص محبت ہے جسکی کوئی ثانی نہیں ہوسکتی دوسری عورتوں سے کہا جاسکتا ہے کہ ماں جیسی ہو لیکن ماں سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں عورت تم جیسی ہیں کیوں کہ ماں تو بس ماں ہے

    بقول شاعر خدا کی جنت دنیا میں کبھی دیکھنے کا شوق ہو تو فقط ایک بار اپنی ماں کی گود میں کبھی سو کر دیکھنا

    جن کی مائیں حیات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں لمبی زندگی عطاء فرمائے اور جن کی مائیں وفات پا گئی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صبر دے ۔۔۔ آمین

    @DirojayKhan1