Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    ہمارے معاشرے میں ہمیں طرح طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہزاروں قسم کی فطرتیں دیکھنے میں آتی ہے۔ بہت سے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا یے۔ کبھی کبھی کوئی غیر ہمارے دلوں پر ایسا اثر اور نشان چھوڑ جاتا ہے جو کسی اپنے سے امید بھی نہیں کی جا سکتی۔
    کچھ ایسا ہی واقعہ آج ہمارے ساتھ پیش آیا۔
    آج سعودی عرب میں یوم العرفہ تھا۔ آج کو دن یہاں کے مقامی لوگوں کی اکثریت روزہ رکھتی ہے۔ یہاں بھی ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپ نے اکثر سعودی پلٹ پاکستانیوں کے منہ سے کفیلوں کی برائیاں سن رکھی ہونگی۔ اور یقیناً ان میں سے اکثریت کے بارے میں ہماری رائے بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن آج ہوئے واقعے نے ہمیں یہ سکھا دیا کہ "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں”
    اللہ نے نفلی روزہ رکھنے کی توفیق دی، سارا دن گھر والوں سے باتوں میں، نماز اور ذکر اور سو کے گزر گیا۔ شام ہوئی تو دوست نے کہا کہ آج ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کے آتے ہیں۔ رہائش کے پاس ہی ایک ترک ریسٹورنٹ ہے۔ اکثر جانا ہوتا ہے وہاں پر۔ افطار کمرے میں کر کے جب ہم ریسٹورنٹ پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک باریش سعودی کھانا نوش فرما رہا تھا۔ میں نے رسماً انہں سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا مسکرا کر وعلیکم السلام کہا، میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں انہیں عید کی ایڈوانس مبارک بھی دے ڈالی، یہ سب دیکھ کر وہ مسکرائے اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔
    اتنی دیر میں ہمارا آرڈر بھی آ گیا اور ہم نے بھی کھانا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ویٹر پیپسی لے کے ہمارے پاس آیا اور بولا، "یہ ان صاحب نے آپ کو دینے کے لئے کہا ہے” ہم نے قبول کی اور ان کا شکریہ ادا کر کے کھانا کھانے لگ گئے۔ انہوں نے اپنا کھانا ختم کیا اور کاؤنٹر پہ حساب کتاب کر کے پیسے دے دئیے۔ جاتے وقت مسکراتے ہوئے ہمیں "عید مبارک” بھی کہہ گئے۔
    ہم نے کھانے سے فارغ ہو کے، ہاتھ دھو کے جب بل دینا چاہا تو معلوم ہوا کہ اللہ کا وہ نیک بندہ ہمارے پیسے بھی دے گیا ہے۔ ہم حیرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ ایسا کیوں کیا؟
    آخر ایسا کیا تھا جس نے اس شخص کو متاثر کیا؟
    ہوٹل میں اور بھی لوگ تو موجود تھے (کئی تو سعودی بھی تھے) تو ہمارا بل ہی کیوں؟
    کیا ریسٹورنٹ میں آتے ہی ہمارا اسے سلام کرنا، اس سے حال پوچھنا، عید کی مبارک دینا اسے پسند آیا؟
    اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن ایک بات تو ہے۔ اخلاق آپ کے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ آپ کے قتل کے درپے لوگ آپ کے خادم بھی بن جایا کرتے ہیں یہ چیزیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے ملتی ہیں۔
    خیر، وجہ چاہے کچھ بھی ہو، جب آپ کسی سے اخلاق سے پیش آتے ہیں تو آپ کا ایک مثبت اثر اس کے دل میں اتر جاتا ہے۔ حضرت ابودردہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : "میزان میں حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں” ایک اور مقام پہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے رکھنے اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے” اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں حسن اخلاق سے نوازے۔ آمین
    @Being_Faani

  • تحریر: وسیم اکرم عنوان: کشمیر کی داستان

    تحریر: وسیم اکرم عنوان: کشمیر کی داستان

    کشمیر ایک جنت کی وادی ہے جہاں لوگ دور مقامات سے سیر کرنے کیلئے آتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے اس جنت نظیر وادی کو نظر لگ گئی ہے وہاں کے مسلمانوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں

    مگر افسوس صد افسوس! مسلم امہ انکھوں پہ پٹی باندہ کہ سوئ ہوئی ہے کسی کو کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم نظر نہیں آ رہے کیا ان کا قصور ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا اپنا حق مانگتے ہیں؟

    ہم سب کو چاہیے کشمیر یا جہاں بھی مسلمانوں پہ ظلم ہو رہا ہے اس کو اجاگر کریں اور لوگوں کو دیکھیں کہ دیکھیں کتنے معصوم بچے یتیم ہوگے کتنی بہنیں، بیٹیاں یتیم ، لاوارث ہوگئیں

    یاد رکھو بے ضمیر مسلمانوں اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ ظلم جب حد اے بڑھ جاتا ہے مٹ جاتا ہے میں سلام پیش کرتا ہوں عمران خان صاحب کا اور ان انصافین کا جنہوں نے اپنے اکاؤنٹ کی پرواہ کئے بغیر ظلم کو لوگوں تک پہنچایا اور دیکھایا کہ دیکھو اے بے حس لوگ 73 سال سے وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں مگر آج تک ان کو ان کا حق نہیں دیا گیا اب تو نسل کشی شروع کر دی ہے

    میں پوچھتا ہوں ان لوگوں سے جو دوسرے ممالک میں رہتے ہیں کیا اپ کو اپکا حق نہیں دیا گیا کیا اپ پرجہاں رہتے ہیں ظلم کے پہاڑ تو نہیں توڑے گے پھر ایسا دوہرا معیار انڈیا میں کیوں؟

    زرا سوچیئے سب ممالک اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں دکھ تکلیف اسی کو ہوتی ہیں جس کو درد ہوتا ہے دکھ درد اسی کو ہوتا ہے جس کے گھر کوئی چلا گیا ہو یا معزور کر دیا جاتا ہے

    میرا کشمیر جہاں انسان کی حیثیت جانوروں سے بھی بدتر بنا دی گئی ہے۔ کل کا واقع ہے جہاں ایک بزرگ کشمیری خاتون کوانڈین آرمی نے جس بیدردی، سفاکیت سے فوجی گاڑی تلے کچلا اور شہید کیا اسکے بیان کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔

    کہاں ہے عالمی برادری؟ کہاں ہے اقوام متحدہ؟

    کشمیریوں کی یہ قربانیاں پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام پر قرض ہیں۔ کیا پاکستان کے حکمران یا مقتدر قوتیں آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں؟

    @MalikGii06

  • تحریر مدثر حسن : محافظ پاکستان عمران خان

    تحریر مدثر حسن : محافظ پاکستان عمران خان

    ہم اس عظیم ماں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے ایک ہیرا پیدا کیا کسی کو کیا پتہ تھا کہ یہ ہیرا وقت آنے پر اپنی کشش کا لوہا منوائے گا اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے گا اور لوگوں کو اپنی باتوں سے اپنے عمل سے کھینچتا چلا جائے گا عمران خان نے اپنے کیریئر کا آغاز کرکٹ سے کیا جہاں پر ان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بہت سے لوگوں نے مذاق اڑایا کسی نے کہا کہ تم کرکٹ نہیں کھیل سکتے کرکٹ تمہارے بس کی بات نہیں کسی نے کہا تم کیپٹن نہیں بن سکتے تو کسی نے کہا تم ایک اچھے آل راؤنڈر نہیں بن سکتے قدرت کی ایسی کرنی ہوئی جو جو لوگوں نے کہا اس کے بر عکس ہوا نہ صرف ایک بہترین آل راؤنڈر بلکہ ایک بہترین کپتان بھی ثابت ہوئے اپنی کپتانی میں پاکستان کو 1992 کا ورلڈ کپ جتوایا
    پھر شوکت خانم ہسپتال بنانے کی جستجو ہوئی دیکھا کہ ہمارا ملک میں کینسر کے مریضوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اور زیادہ تر ان میں غریب ہیں جن کے پاس ایک ٹائم کھانے کے پیسے نہیں ہیں اوپر سے کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں تو اس پر عمران خان میں ایک انسانیت کی فلاح وبہبود کا جذبہ پیدا ہوا کہ ہمارے ملک میں ایک ایسا ہسپتال ہونا چاہیے کینسر کا جہاں پر غریب لوگوں کا مفت علاج ہو اس کے لیے دن رات محنت کی چندہ اکٹھا کیا اور پروردگار کی مدد سے ہسپتال بنا دیا جہاں پر آج بھی غریب لوگوں کا مفت علاج ہو رہا ہے

    دیکھا کہ پاکستان میں دو پارٹی سسٹم ہے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو باریاں باریاں دے رہی ہیں اور ملک کو دونوں ہاتھوں سے بے دردی سے لوٹ رہی ہیں عمران خان کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی یہاں آپ کو بتاتا چلوں عمران خان ایک کرکٹ سٹار تھا اسے کیا ضرورت تھی شوکت خانم ہسپتال بنائے کرپٹ لوگوں سے چور لوگوں سے گلیاں کھائے اپنی آرائش وآرام والی زندگی چھوڑ کر یہاں کجھل ہو وہ کمنٹری کرکے لاکھوں روپے کماسکتا تھا اسے کیوں ضرورت پیش ہوئی سیاست میں آنے کی کیونکہ عمران خان کو وطن سے محبت اور غریب لوگوں کا احساس تھا ہمارے کرپٹ حکمران کرپشن کی انتہا کی ہوئی تھی ہر منصوبے میں لوٹ مار مچا کر پیسہ باہر بھیج رہے تھے اور لندن، دبئی میں بڑے بڑے فلیٹس بنارہے تھے
    عمران خان ریاست مدینہ کا خواب لے کر چلا چاہتا تھا کہ ہمارے ملک میں قانون کی بالادستی ہو کوئی قانون سے بالاتر نہ ہو ، انسانیت ہو میریٹ ہو بادشاہت نظام نہ ہو وراثتی سیاست نہ ہو جمہوریت کا نظام ہو سب قانون کے سامنے جوابدہ ہوں چاہے وہ وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو اس خواب کو پورا کرنے کے لیے 22 سالہ کوشش کی سیاست میں اپنا لوہا منوانے کی ان بائیس سال میں زندگی کے تمام نشیب و فراز کا سامنا کیا پاکستان کے چپہ چپہ پر جلسے،جلوس کیے پاکستان کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں پر خان صاحب نہ گئیں ہوں لوگوں کو آگاہی دی شعور دیا ذہنی غلامی سے نجات دلائی ملک کی سالمیت اور خودمختاری کا جھنڈا بلند کیا چاہتا تھا پاکستان کسی کے آگے جھکے نہ اور نہ بھیک مانگے خوددار قوم بنے کسی کے اشاروں پر نہ چلے جب عمران خان ملک کے وزیراعظم بنے مفاہمتی پالیسی اپنایا بولا جہاں پر ملک کا مفاد ہوگا ہم وہ کرے گئیں امریکہ کو دو ٹوک جواب دیا کہ پاکستان کی سر زمین اب کسی دوسرے کی جنگ میں استعمال نہیں ہوگی ملک کی خودمختاری کو یقینی بنایا اور ثابت کیا ہم ایک آزاد قوم ہیں کسی کے اشاروں پر چلنے والے نہیں ہیں عمران خان چاہتے ہیں پاکستان کے ہرے پاسپورٹ کی عزت ہو جہاں بھی جائیں دنیا عزت کی نگاہ سے دیکھے پاکستان کی معیشت کی ڈوبتی کشتی کو ایک کنارے لگایا دن رات محنت کرکے ملک کی معیشت کو ایک ٹریک پر لے آئے الحمدللہ پاکستان اب محفوظ ہاتھوں میں ہے قومی خزانے کی نگرانی کر رہا ہے ملک سے پیسہ اب باہر نہیں جارہا منی لانڈرنگ کے ذریعے سے ملک میں خوشحالی کا پہیہ چل پڑا ہے ملک ترقی کی درست سمت پر چل پڑا ہے ملک کا کھویا ہوا وقار اب بلند ہو رہا مدینہ کی ریاست کے اصول لاگو ہو رہےہیں عمران خان پاکستان کے لیے ایک معجزہ ثابت ہوا ہے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی عمران خان سے ہے کیونکہ خان صاحب نہ چور ہے نہ کرپٹ ہے مدینہ کی ریاست کا خواب لے کر چلا ہے اللہ تعالیٰ خان صاحب کی مدد فرمائے مدینہ کی ریاست بنانے میں آمین !!!!!!!

    @MudasirWrittes

  • تحریر : روشن دین دیامری :  موجودہ  دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    تحریر : روشن دین دیامری : موجودہ دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پوری انسانیت کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ اپؐ کی تعلیمات ہمارے لے ثقافت یا مذہب سے قطع نظر اس دنیا کی ہر قوم کے لئے معاشرتی ترقی اور خوشحالی کے مثال کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اپؐ کی ولادت ہم سب کے لے باعث رحمت ہے ، یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپؐ کے پیروکار ہونے کے ناطے ، ان کی پیش کردہ اسلامی تعلیمات کے تناظر میں اپنے موجودہ معاشرتی الجھنوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں اور انسانیت کو ناانصافی اور جبر سے آزاد کرنے کے لئے اپؐ کے حکمت عملی پہ عمل کرے ۔ ہم اپؐ کے زندگی کے مختلف پہلوں کا تجزیہ کرکے جس میں اپؐ کی طرف سے اجتماعی بنیادوں پر شروع کی گئی جدوجہد کا طریقہ کار پہ عمل کر سکتے ہیں ، ہم استحصالی قوتوں کے ہاتھوں انسانیت کی مروجہ پریشانی اور بدحالی کو ختم کرنے کے لئے یقینی طور پر اپنے لائحہ عمل کو طے کرسکتے ہیں۔ حضور نبی اکرم (ص) کی زندگی سے متعلق پہلا اور اہم تصور یہ ہے کہ ان کی آمد کا واحد مقصد اس وقت کے ظالم نظام سرمایہ دارانہ طاقتوں کے ذریعہ مسلط انسانیت کو ظلم ، جبر اور استحصال سے آزاد کرنا تھا۔ بلا شبہ ، اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے اس مشن کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا اپنے دور کے استحصالی معاشی اور سیاسی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر ، معاشی انصاف ، معاشرتی مساوات ، اجتماعیت ، امن ، اور انسانیت پسندی کے اصولوں پر مبنی معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی۔ اپؐ کی زندگی کا ہر پہلو اسلامی اصولوں پر زور دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الوداعی خطبہ میں ، انہوں نے کہا ، "لوگو ، بیشک آپ کا رب اور پالنے والا ایک ہے اور آپ کا آباؤ اجداد ایک ہے۔ آپ سب حضرت آدم علیہ السلام کے اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے تھے۔ اللہ کے سامنے تم میں سب سے ممتاز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ کسی
    عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں ہے اور نہ ہی کسی عربی پر کسی عجمی کو فضیلت حاصل ہے نہ ہی کسی گورے کو سیاہ پر اور نہ ہی کسی سیاہ کو کسی گورے پر ، سوائے اس کے کہ جس کا تقویٰ ذیادہ ہو۔ قبل از اسلام میں ، خواتین کو انتہائی شرم کی علامت سمجھی جاتی تھی اور ان کے معاشرے میں کوئی قابل احترام حیثیت حاصل نہی تھی۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی مساوات پر مبنی نظام کے نفاذ کے ذریعہ ان سے باوقار اور خود مختار زندگی جینے کا حق دیا۔ اپؐ کے متعدد تعلیمات خواتین کی عزت اور معاشرے میں ان کے کردار پر زور دیتی ہیں۔
    مثال کے طور پر ، اپنے الوداعی خطبے میں ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ، "اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ یہ ان کا حق ہے ۔اور وہ بہت سارے معاملات خود سنبھالنے سے قاصر ہیں۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور ان کے بارے میں شعور رکھو ،اور ان کے جائر مطالبات پورے کرو جسے میں نے اپ کو کر کے دیکھایا ہے۔ ، آپ کا باہمی رشتہ مقدس ہے۔ اجتماعی اور ایمانداری کی بنیاد پر آنحضرتؐ کی زندگی کے مذکورہ بالا اصولوں کا تجزیہ کرکے ، ہم اپنے موجودہ معاشرتی بحران پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی مرتب کرسکتے ہیں۔ سنت نبوی (ص) کا دوسرا پہلو اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کی باضابطہ جدوجہد ، معاشرے کے غلط لوگو ں کی نشاندہی کرکے ایک اچھا معاشرہ بنایا جاائے ۔اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے حکمران طبقے کے استحصال ایجنڈوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک اجتماعی حکمت عملی تیار کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا گہرا تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی پوری جدوجہد کا جو کہ دنیا بھر استحصال زدہ سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کو ختم کرنا تھا۔ اس وقت ، مکہ مکرمہ کے خود غرض حکمران طبقے نے اپنی قوم کو دھوکہ دہی سے غلام بنانے کے لئے ایک بے رحمانہ سیاسی نظام بنایا تھا۔ اور وحشیانہ اور غیر انسانی سلطنتں جیسے روم اور فارس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی یہی معاملہ تھا۔ مکہ مکرمہ کے اس مستند حکمران فرقے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انسانیت دوست مشن کی شدید مخالفت کی اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو سخت تکلیف پہنچائی۔ انہوں نے معاشرے کے کمزور اور لاچار لوگوں کو اپنی نمائندگی قبول کرنے اور اپنے مسلط کردہ آمرانہ نظام کی بالادستی کی مکمل پابندی کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ حضور (ص) عرب ممالک پر ذاتی شان و شوکت کی خواہش رکھتے ہیں۔لیکن اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے مل کراس ظالمانہ نظام کو ختم کر دیا اور ایک عادلانہ معاشرہ قائم کیا۔ اللہ تعالی سے دے دعا ہے ہم اپؐ اور جماعت صحابہؓ کے طرز زندگی پہ عمل کر کے ایک انسانی معاشرہ ترتیب دیں۔امین

    @rohshan_Din

  • تحریر  شمیل:  سوشل میڈیا کا کردار

    تحریر شمیل: سوشل میڈیا کا کردار

    آج کل ہر طرف ایک نفسانفسی ہے ہر کوئی اپنے مہیا پلیٹ فارم سے آواز اٹھا چاہتا ہے اپنی آواز کو حکام بالا تک یا کم از کم اس بند کواڑ تک لے جانا چاہتا ہے جس سے یا جہاں سے اس کے مسئلے کا یا ان لوگوں کے مسائل کا مداوا ہو سکے جن کے لیے وہ آواز اٹھا رہا ہے.

    مختلف قسم کے لوگ ہر طبقے ہر میڈیم پہ آواز اٹھاتے ہیں
    کہیں کوئی سڑکوں پہ احتجاج کر رہا ہے
    کہیں کوئی تھانے کچہری کے سامنے
    کہیں کوئی ہسپتال کے سامنے عمل پیرا ہے

    غرض یہ کہ جس کی جہاں تک رسائی ہو پاتی ہے وہ وہاں تک جاتا ہے.
    ہمارے معاشرے اور ہماری زندگیوں میں بہت بڑا بدلاؤ جو چیز لے کر آئ وہ ہے سوشل میڈیا کا دور
    یوٹیوب
    فیس بک
    انسٹا گرام
    ٹویٹر
    وغیرہ وغیرہ.
    ان کا کردار بہت ہی مثبت ہے لیکن ایک بات واضع کر دوں کہ کردار مثبت تب ہی ممکن ہوتے ہیں جب آپ کا اپنا عمل مثبت ہو اور اس کے ثمرات اس سے بھی بڑھ کے نکلتے ہیں..
    بہت سے لوگوں کو انصاف کی فراہمی بروقت بھی میسر ہوئی اور بہت سے لوگوں کے سالوں لٹکے کام بھی پورے ہوے جب بہت سے لوگوں نے مل کر سوشل میڈیا پہ مثبت آواز کو مسئلے کو اجاھر کیا جن میں زینب قتل کیس ہو گیا جو سرفہرست ہے لوگوں کا سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھانا ہی اداروں کو حرکت میں لے کر آیا..
    قصہ مختصر یہ کہ جہاں منفی سوچ کو مار دینا ہو منفی نیت کو ختم کرنا ہو وہاں مثبت پہلو اور ارادہ لازم ہے.

    @Shameel512

  • تحریر :تہران الحسن خان : حب الوطن من الایمان

    تحریر :تہران الحسن خان : حب الوطن من الایمان

    ”یعنی وطن کی محبت ایمان کا جز ہے۔
    حب الوطنی یعنی وطن سے دلوں جان سے محبت کے ہیں۔ انسان کا یہ فطری عمل ہے کہ وہ جس جگہ رہتا ہے اس جگہ سے انسیت لگاؤ ہو ہی جاتا ہے۔ جس جگہ ساری زندگی رہا ہو آب وہوا، لوگ حتی کہ وہاں کی چیزوں سے محبت کرنا اس کے فطرت میں شامل ہوتا جاتا ہے. ہم جس جگہ پیدا ہوئے ہوں پھلے پھولے ہوں جوان ہوئے ہوں اس جگہ اس مقام کا عادی ہو جاتا ہے اور اس سے اتنی محبت ہو جاتی ہے دنیا میں کہیں بھی جائےگا اپنا وطن اس کی پہچان بنے گا.. اور ہم کتنا بھی دنیا میں گھوم آئیں جو اپنے وطن اپنی کی اپنی مٹی اپنے گھر کا سکون ہے وہ کہیں بھی نہیں ہے..
    انسان اپنے وطن سے دور ہوتا ہے تو تب ہی اس کو وطن سے محبت کا احساس شدت سے ہونے لگتا ہے
    وہ اپنے وطن کیی محبت میں ذاتی اغراض ومقاصد کو بے دریغ قربان کر دیتے ہیں

    وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
    خونِ دل دے کے نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے.

    وطن سے محبت ہے تو اس کا ثبوت بھی دیں۔ ملک سے رشوت، سفارش، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی،جیسے نظام کو مل کر ختم کریں ۔ یہ کہنا مشکل نہیں کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہےاور بے شک عمل کرنا مشکل ہے. ۔ خود کو بدل لینا کافی نہیں۔ ہمیں یہ بیداری عام کرنی ہے ہم سب کو بدلنا ہو گا.

    پاکستان جس کو دنیا کے نقشے میں ابھرے صرف 74 برس ہی ہوئے ہیں اس کا مقابلہ ان ممالک سے کرنا کہاں کی سمجھ داری ہے. 237سال پہلے دریافت ہوا بھلاکیونکر درست ہو سکتا ہے۔ خدارا اپنی خودی کو پہچانیں ۔ بس ایک ہی التجا ہے موجودہ دور کی افراتفری کو خود پر حاوی مت کریں ۔

    پاکستان کلمہِٕ طیبہ”لا الہ اللہُ محمدُ الرسول اللّٰہ“ کی بنیاد پر وجود میں آیا، اس آزاد وطن کے حصول کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے مذہبی نظریات، عقاٸد، عبادات کا بھر پور تحفظ اور آزادی تھا۔ تاکہ آزاد وطن میں رہتے ہوٸے ہر مسلمان اپنے مذہب کا دفاع کرسکے.. امن، انصاف، احساس، ہمدردی، اور دوسروں پر احسان کرنے کو ترجیع دیں ، دوسروں کو ترقی کرتے دیکھ کر دلی مسرت محسوس کریں اللّہ ہم سب کو منافقت کینہ بغض جیسی گندی بیماریوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم صحیح معاشرہ تشکیل دے سکیں. اللّہ ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین ثم آمین


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • تحریر : انوشہ امتیاز : صفائی نفس کی بھی اور ملک و قوم کی بھی ۔

    تحریر : انوشہ امتیاز : صفائی نفس کی بھی اور ملک و قوم کی بھی ۔

    آج ہمارا معاشرہ قربانی کے جذبے سے عاری اور نفسانفسی کا شکار ہوچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذخیرہ اندوزی ، حب مال، اور حب جاہ کے ان جانوروں کی قربانی بھی دیں جو ہمارے اندر پلتے بڑھتے رہتے ہیں اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان آلائشوں سے تائب ہو جائیں۔جو معاشرے ایک دوسرے کے لئے قربانی دیتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کا خیال رکھتے ہیں اورایک دوسرے سے نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں وہ معاشرے اس دنیا میں ہی جنتِ نظیرہو جاتے ہیں۔۔۔
    البتہ جن معاشروں کے انسانوں میں خواہشات سینوں میں حرص و ہوس کے بت تراش لیتی ہیں۔وہ جنت کا نہیں جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر حکمرانوں اور سیاست دانوں سمیت ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ حرص و ہوس کے بتوں کی قربانی دے اور انہیں پاش پاش کر دے۔۔
    اس کے ساتھ ساتھ صفائی پر خصوصی توجہ دینا نہ صرف حکومت بلکہ عوام کا بھی فرض ہے۔۔۔

    اس حوالے سے اگرچہ سرکاری طور پر بھی بہت انتظامات کیے جاتے ہیں لیکن کروڑوں افراد کی آبادی کے لیے سرکاری انتظامات کافی نہیں ہوتے، اس لیے عوام کا سرکاری انتظامات کا ساتھ دینے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عید قربان کے بعد عام شہروں اور قصبوں میں عام دنوں کی نسبت صفائی ستھرائی کی ضرورت بہت بڑھ جاتی ہے۔

    اس عید قربان پرعہد کریں کہ اپنے گلی محلوں اور نفس کی صفائی بھی اسی طرح کریں گے جیسے اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں ۔۔
    اگر شہری اپنی گلی، محلے کو صاف رکھنے کی خود کوشش کریں تو شہر خود بخود صاف ہوجائیں گے۔
    اسی طرح ارد گرد کے غربا کا بھی خیال رکھیں ۔
    وطنِ عزیز میں ایک بڑی آبادی خطِ غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ اہل ثروث کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ارد گرد فاقہ مست لوگوں کو ضرور یاد رکھیں۔
    حضرات ایک سے زائد قربانیاں کر رہے تھے انہیں چاہئے کہ وہ باقی گوشت غریب علاقوں میں بھیجیں اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔
    صفائی ستھرائی صرف حکومت ہی کا کام نہیں ہے اپنے گرد و نواح کو گندگی سے پاک رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
    قربانی کرنے والوں کو چاہئے کہ جانوروں کی آلائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگا کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔۔۔
    آج ہمارا معاشرہ قربانی کے جذبے سے عاری اور نفسانفسی کا شکار ہوچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذخیرہ اندوزی ، حب مال، اور حب جاہ کے ان جانوروں کی قربانی بھی دیں جو ہمارے اندر پلتے بڑھتے رہتے ہیں اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان آلائشوں سے تائب ہو جائیں۔جو معاشرے ایک دوسرے کے لئے قربانی دیتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کا خیال رکھتے ہیں۔۔
    البتہ جن معاشروں کے انسانوں میں خواہشات سینوں میں حرص و ہوس کے بت تراش لیتی ہیں۔وہ جنت کا نہیں جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر حکمرانوں اور سیاست دانوں سمیت ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ حرص و ہوس کے بتوں کی قربانی دے اور انہیں پاش پاش کر دے۔۔
    @e_m_ee_

  • جب دوست بن جائے دشمن . تحریر : واحید خان

    جب دوست بن جائے دشمن . تحریر : واحید خان

    انسانی رشتوں کے ساتھ اگر جذبات کا گہرائی تک جانا محبت کہلاتا ہے تو نفرتوں کے ساتھ ا نتقام کے جذبات کا انتہاہ تک جانا دشمنی کے زمرے میں اتا ہے اور پھر دوستی کے گہرائی سے پیار اور اخلاص کے جذبات کا اہستہ اہستہ دشمنی کے سفر میں جو درد سینے میں محسوس ہوتا ہے وہ وحشت کا ایک بھیانک تصویر بن جاتا ہے۔جس تصویر میں اپ ساری عمر محبتوں اور چاہتوں کے رنگ بھرتے بھرتے خودایک لازوال کہانی کا تصور بن گئے ہو،اپکی دوستی اور قربانی کی مثالیں دی جاتی رہی ہواور پھر اُسی تصویر سے اپ ایک ایک کرکے محبتوں کے رنگ مٹانے پر مجبور ہو اور اندر سے ہر رنگ کے مٹانے کے ساتھ ساتھ اپکے حواص میں ایک درد سا محسوس ہو رہا ہو مگر پھر بھی دوستی سے دشمنی کا سفر جاری ہو تو اللہ نہ کرے کہ یہ درد اور یہ کرب کسی کو نصیب ہو،،

    انسان عمرکے اُس حصے میں پہنچ جائے جہاں سے دنیا کے ہر چیز کو سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے تو وہاں سے اپنے بچپن کے دوستوں کو بہت ہی مقدس مقام پر محسوس کیا جاتا ہے ایک ایک لمحہ نہ بھولا نے والا ہوتا ہے اور پھر بچپن سے جو اپکے ساتھ ایک ساتھ چلتا ایا ہو ،اپکے راز و نیاز کا ساتھی ہو،دکھ درد کا ساتھی ہو،محبتوں کے سیکھنے اور سیکھانے کے عمل سے ایک ساتھ ہو کر گزرے ہو محبت کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کے ساتھ جذبات کی حد وابستگی ہو اور پھر وقت اور حالات اپکو انا کے ہاتھی پر سوار کر کے اُسی دوست کے مقابل ایک ناقابل برداشت دشمن کے شکل میں لاکھڑا کردے تو یہ عمل بہت ہی کربناک ہوتا ہے۔دوستوں کے درمیان دشمنی کے سفر میں اگر پیسہ ،دولت اور لالچ کو دخل حاصل ہے تو ساتھ ساتھ اس میں طاقت اور اختیار کا بہت بڑا ہاتھ ہو تا ہے،،،بعض دوستوں کو طاقت اور اختیار کے بنے ہوئے سانپ ڈس جاتے ہیں ،دوستوں میں جب کوئی ایک دوست طاقت اور اختیار انے کے بعد گرگٹ کی طرح رنگ بدلے،منہ میں پیار کی جگہ حکم کی زبان بولنے لگے،انکھوں میں احترام کے بجائے تضحیک بھر جائے ،اخلاص کے بجائے رسمی ادائیں سمو جائے،حقیقت کے بجائے خوش امدیوں کے فرضی کہانیوں سے فیصلے کرکے اپنے دوست کے ہر حقیقی اور سچی بات کا الٹ مطلب لینا شروع کرے ،زمینی حقائق کے بجائے مولا دوپیازہ جیسے لوگوں کے نخروں والی وقتی اور غیر حقیقی کہانیوں کو اپنی مشعل راہ بنانیکی کوشش کرے تو پھر ایسے ماحول میں دوستی کا جنازہ اغیار اپنے کندھے پر اٹھا کر بے ضمیروں کے قبرستان میں بغیر کفن کے ہی دفن کرتے ہیں۔

    @waheed859

  • تنگ نظری اورحقیقت سے خوف زدہ .  تحریر: صالح

    تنگ نظری اورحقیقت سے خوف زدہ . تحریر: صالح

    ہم کہنے کو تو ایک آزاد ریاست پاکستان میں رہتے ہیں لیکن کیا ہم واقعی آزاد ہیں یہ سوال ہمیشہ سے میرے ذہن کو مطمئن نہیں کرتا اگر ہم آزاد ہیں تو پھر یہ آزادی نظر کیوں نہیں آتی حقیقت تو یہ ہے کے ہم کبھی آزاد ہوئے ہی نہیں آزادی وہاں ہوتی ہیں جہاں سوال اٹھانے کی اجازت ہو جہاں اپنے موقف اور نظریہ کو رکھنے کا موقعہ ہو جہاں آپ کے موقف کو سنا جائے لیکن پاکستان میں آپ سوال اٹھائے گے تو آپ کو ہر وقت اس بات کا خوف ہو گا کے نہ جانے کب کوئ گولی آئے اور مجھے قبرستان کا راستہ دیکھا دے یا آپ کی فیملی کا مستقبل خطرے میں ہو آپ اپنے نظریات صرف اس وجہ سے بیان نا کریں کے آپ پرسیکولرزم لبرلزم انتہا پسند کے فتوے نا لگا دیے جائے آپ کا جینا مشکل کر دیا جائے اور آپ کی رائے اورموقف کو سنا تک نا جائے مگر افسوس موقف تو وہاں سنا جاتا یا رائے کی آزادی ہو مکالمہ تو اس قوم سے پہلے ہی چھین لیا گیا اب آپ کا موقف آپ کی رائے وہی ہونی چاہیے جو ریاست کی ہے نہیں تو آپ غدار ملک دشمن کہلائے گے اس کے بعد ہمارے ہاں مذہب کو سیاست میں جس طرح سے استعمال کیا گیا اس نے آزادی کو مزید ختم کر دیے اب تو کوئ شخص مذہبی فکر میں موجود خرابی پر بھی اس ڈر سے بات نہیں کرتا کے اسے کافر اور گستاخ قرار دے کر دن دہاڑے مر دیا جائے گا تاریخ کو بھی مسخ کرنے میں ہم نے کوئ کسر نا چھوڑی اور خود کو تیس مار خان سمجھنے لگے ہیں کے دیکھو جو بیان کیا جا رہا ہے اس کو مانا جا رہا ہے اس سے آپ شاید اپنی آنکھوں میں تو دھول جھونک سکتے ہیں مگر تاریخ کو مسخ کرنے سے تاریخ کا کچھ نہیں ہو گا وہ آپ کو مسخ کر دے گی حقیقت تو یہ ہے کے پہلے ہم انگریز کے جسمانی غلام تھے ہماری سوچ فکر اور نظریے آزاد تھے مگر اب جسمانی غلام تو نا رہے مگر نظریات و افکار میں ہم پہلے سے زیادہ غلام بن گے اور بنتے جائیں گے جب تک سوال نہیں اٹھائیں گے.

  • ‏محبت اورہمارا معاشرہ . تحریر : صالح_ساحل

    ‏محبت اورہمارا معاشرہ . تحریر : صالح_ساحل

    اس کائنات میں سب سے خوبصورت جذبہ محبت ہے محبت کس حد کی پابند نہیں پھر چاہیے یہ درختوں سے ہو پرندوں سے ہو انسانوں سے وہ یا مرد اور عورت کے درمیان ہو مگر ہمارے معاشرہ محبت کے قصے کہانی بڑھے شوق سے پسند کرتا ہے ان کہانیوں داستانوں میں محبت کے مخالفین کو برا کہتا ہے مثال کے طور پر آپ ہیرے رانجھے کی کہانی اٹھا کے پڑھ لے بچپن سے جہاں سنی سب قیدو نامی کراردر کے سخت مخالف مگر جب یہ محبت ہمارے گھر میں لڑکا یا لڑکی کرے تو ہم خود قیدو بند جاتے ہیں تب مجھے یہ سمجھ آتی ہے کے ہمارہ معاشرہ دوہرہ معیار رکھتا ہے.

    اب چلیں آگے تو یہ کہانی اور اور اس جیسی ہر کہانی تو پرانی ہوئ نئے دور کی بات کرتے ہیں ہر آدمی کے پاس موبائل ہے جن کے پاس موبائل نہیں ان کے پاس ٹی وی لازمی ہو گا فلموں اور ڈرموں میں ہمیشہ لوگ محبت کے مخالف کو ویلن قرار دیتے ہیں اور ان کے جذبات دیکھنے والے ہوتے ہیں کے ان کا بس نہیں چلتا کے ڈرامہ یا فلم کے درمیان اٹھ کر ایک دوسرے کو ملا دیں مگر جب یہ محبت جن ان کے آس پاس کوئ کرتا ہے تو اس ویلن کا کردار خود ادا کرتے ہیں مگر جب اپنا معاملہ ہو تو ان کو سہی لگتا ہے دوسرے کے بارے میں غلط آخر یہ معاشرہ ڈبل سٹینڈرڈ کے ساتھ منافق بھی ہے اگر آج کسی لڑکے یا لڑکی کو یہ ڈر نا ہو کے اس کے اظہار محبت پر گھر والے اس کے مخالف نہیں ہوں گے تو وہ کبھی غلط قدم نا اٹھے مگر بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہر شخص اپنے لیے تو رانجھا اور دوسروں کے لیے قیدو کا کردار ادا کرتا ہے تو ایسے معاشرے کو چاہیے اپنا نام منافق معاشرہ رکھ لے.