Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عید قُرباں اور ہماری زمہ داری.تحریر.اُم سلمیٰ

    عید قُرباں اور ہماری زمہ داری.تحریر.اُم سلمیٰ

    عیدالاضحی آمد آمد ہے اور ہر سال عید آتی اور گذر جاتی ہے اور ہر بار شہروں میں صفائی کا بڑا سنگین مسئلہ پیدا ہوتا ہے عید قربان پے جانورں کی قربانی سے بچی آلائشیںوں کو ٹھکانے لگانے کا سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے.
    اسی حوالے سے گورنمنٹ کے منتخب اداروں کی طرف سے عملہ صفائی کی چھٹیاں منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ صفائی کا اہتمام کے لئے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں
    ۔صوبائی وزرائے اعلیٰ نے بھی اپنے اپنے صوبے میں اس حوالے سے شعبہ صفائی کو سختی سے ہدایت کرتے ہیں،
    ہر بڑے شہر میں انتظامیہ کی طرف سے انتظامات کیے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ عوام سے بار بار اپیل بھی کی جاتی ہے قربانی جگہ جگہ نہ کی جائے اور جانوروں کے ذبح کے بعد آلائشیں کھلی جگہ پر نہ پھینکیں جائیں،اسے شعبہ صفائی کی طرف سے مقرر کردہ مقامات پر جمع کیا جائے۔ تاکہ برقت عیدالاضحی کے حوالے سے آلائشوں کو سمیٹنا ممکن ہو سکے گا آسان ہوسکے اور فوری ہوسکے.آلائشیں فوری اٹھانا اس لیے ضروری ہے کے وقت بڑھنے کے ساتھ ان میں پیدا ہونے والے تعفن سے کئی قسم کے امراض اور آلودگی پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے تو گورمنٹ انتظامی محکموں کے ساتھ ہم پے بھی یہ ذمداری عائد ہوتی ہے کے ہم اس موقعے پر بھرپور تعاون کریں۔

    ماہرین طب کے مُطابق عید قرباں پر آلودہ ماحول کے وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے .اس لیے اپنے لیے اپنے خاندان اور صاف معاشرے کے لیے اپنی ذمداری پوری کریں قربانی کرنے کے بعد اس جگہ کی صفائی آلائشیں کو منتخب کردہ جگہ پر پنچہنا قربانی کے ساتھ ہمارا اہم فریضہ ہونا چاہیے.
    اگرچہ بنیادی طور پر یہ سرکاری اداروں اور ذمدار افراد کی ہی ذمہ داری ہے کہ عید الاضحٰی کے موقع پر صفائی کے انتظامات کو یقینی بنائیں لیکن اس حوالے سے عوام الناس بھی بری الذمہ نہیں ہوسکتے اِنکی بھی ذمداری ہے کے وہ عید کے موقع پر بھرپور تعاون کریں.

    عوام کو چاہیے کہ جس اہتمام سے وہ جانور خریدتے ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں، قربانی کے لیے قصائی کا بندوبست کرتے ہیں، گوشت بانٹتے اور پکا کے کھاتے کھلاتے ہیں، اسی اہتمام سے قربان کیے گئے جانوروں کی آلائشوں اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کے لیے بھی انتظام کریں اپنی زمداری سمجھیں۔ سب جانتے ہیں کہ قربانی کے جانوروں کی کوئی چیز ضائع نہیں کی جاتی اور آلائشوں کو مفت میں اٹھا کر لے جانے والے باآسانی مل جاتے ہیں۔ بس آپ کی طرف سے ذمہ داری لینے اور تھوڑی سی کوشش کرنے کی بات ہے۔

    قربانی کے بعد اپنے علاقے اپنی گلی کی صفائی سرکاری اداروں پر نہ رہیں، زندگی کے اور کتنے ہی معاملات ایسے ہیں جن میں ہم ذاتی حیثیت میں کوشش کرکے اپنا اور دوسروں کا بھلا کرلیتے ہیں تو اس میں کیوں نہں؟ اسی طرح اس حوالے سے بھی انفرادی کوشش کو اپنا فرض جانیں کیوں کے یہ آپ کی گلی، آپ کا محلہ، آپ کا علاقہ اور آپ کا شہر ہے یہ آپ کا پیارا ملک پاکستان ہے اس کی صفائی جتنی گورمنٹ کے اداروں کی زمداری ہے اتنی آپ کی بھی ہے.

    عید کے موقع پر ہماری گلیاں ہماری محلے ہمارا ملک بھی ایسے ہی صاف ستھرا دکھائی دینا چاہیے جیسے ہمارے گھر خوشی کے موقع پر چمک دمک رہے ہوتے ہیں۔

    آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اس عید قربان پر صفائی کو یقینی بنائیں گے اور اگلی ہر عید پر ایسا ہی کریں گے اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی یہی تربیت دیں گے کے گورمنٹ کے ساتھ ساتھ ہم سب بھی صفائی کا خیال رکھیں گے اور اپنی ذمداری پوری کریں گے۔۔
    قربانی کرتے وقت اور عید کے موقع پر ماسک لگانا اور سماجی فاصلہ رکھنا بھی نہ بھولیں تاکہ آپ خود اور دوسرے کو محفوظ رکھ سکیں۔
    @umesalma_

  • والدین کی یاد عید کے موقع پر.تحریر : فروا نزیر

    والدین کی یاد عید کے موقع پر.تحریر : فروا نزیر

    Twitter id: @InvisibleFari_

    عید ایک ایسا تہوار ہے جو اپنوں کے بغیر نامکمل لگتا ہے
    دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو یا تو پردیس میں عید گزارتے ہیں یا جن کے والدین حیات نہیں ہوتے

    اگر میں یہ کہوں والدین اللہ کا خوبصورت تحفہ ہیں تو یہ غلط نہ ہو گا…
    دنیا میں سب سے بلند مقام والدین کا ہے ماں کا الگ اور باپ کا الگ جو ہمارے لیے ڈھیروں قربانیاں دیتے ہیں

    ماں کے پاؤں تلے جنت تو باپ جنت کا دروازہ

    ماں ایک بہت ہی خوبصورت لفظ ہے جسے بولتے ہی مسکراہٹ آجاتی ہے خودبخود اور باپ اتنا عظیم رشتہ جو شخصیت کو ابھارنے میں مدد کرتا ہے

    زندگی میں ان دو رشتوں سے لامحدود محبت ہوتی ہے
    ایسے سمجھ لیں کہ جیسے انسان نے دنیا میں کوئی بھی کام کرنا ہو تو مطلب ضرور ہوتا ہے جیسے عبادت نیکیوں کیلیے لیکن ماں باپ بنا کسی لالچ کے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں

    اولاد چاہے کتنی ہی بڑی ہو جائے والدین کیلیے وہ ہمیشہ بچے ہی ہوتے ہیں
    جو ہمیشہ خیال رکھتے ہیں

    میں اس عید کے موقع پر اپنے سب بھائیو بہنوں کو پیغام دینا چاہتی ہو
    میری خواہش ہے کہ ہر انسان اس پر لازمی عمل پیرا ہو تاکہ وہ مشکلات سے بچے اور پرسکون رہے…

    یہ زندگی اللہ کی امانت ہے ہر ذی روح نے موت کا مزہ چکھنا ہے
    اللہ پاک انسان کو آزمائش مختلف طریقوں سے دیتا یے کبھی دے کر تو کبھی من پسند چیزیں لے کر

    اب جیسے کہ بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کے والدین حیات نہیں ہوتے یا کسی کی والدہ نہیں ہوتی یا کسی کے والد نہیں ہوتے
    اور وہ سب لوگ زندگی سے ناامید یوتے ہیں مایوس ہوتے ہیں
    میں جانتی ہو یہ باتیں بہت مشکل ہیں لیکن جب اللہ پر توکل ہو تو ہم مایوس نہ ہو اللہ کے فیصلے پر عمل کریں

    اللہ پاک اپنے ہر بندے سے بہت پیار کرتا ہے کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا لیکن ہم پر چھوٹی سی مشکل آجائے تو کہتے ہیں کہ سب مشکلات بس ہم پر آگئی ہیں
    لیکن اگر تاریخ دیکھیں تو اللہ نے اپنے ہر انبیاء کو مشکلات دی اور ان سب نے اللہ کے فیصلوں پر صبر سے کام لیا

    ہم انسان تو کچھ نہیں اللہ نے اپنے پیارے محبوب پر اتنی سخت آزمائش دی کہ بن باپ کے پیدا ہوئے والدہ چھ ماہ بعد ہوئی
    حضرت موسٰی علیہ السلام ماں کے ہوتے ہوئے کافروں میں پرورش پائی
    یہ سب اللہ ہی کے حکم سے تھا اور ان سب نے اللہ کے فیصلوں کو دل سے مانا

    اور یہ عیدالاضحٰی قربانی کا دن ہے اللہ کی راہ میں کچھ بھی قربان کرنے کا دن
    سب سے بڑی آزمائش تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر تھی جن کو دس سال بعد پیدا ہونے والےبیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور آپ قربان کرنے چلے گئے

    سلامتی ہو ابراہیم پر اور انکی آل پر

    انبیاء پر آزمائشیں اللہ نے اس لیے دی تاکہ عمل کر سکیں
    لیکن ہم مسلمان دعوے کرتے ہیں لیکن عمل.غائب ہوتا ہے

    اور بیشک فرمایا گیا ہے:
    اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اسکا شکر بجالاؤ ناشکری نہ کرو

    اگر اللہ نے والدین میں سے ایک واپس بلالیا ہے تو آپ کے کوئی تو ہوتا ہے بھائی یا بہن ہوتا تو اس وقت بھی اللہ کا شکر ادا کرو کیونکہ یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے
    اور جو شکر کرتے اللہ کو یاد کرتے ہیں بیشک اللہ انکے ساتھ ہوتا ہے

    میری سب سے درخواست ہے کہ عید پر اداس ہونے کی بجائے خوشیاں بانٹیں باقی رشتوں کو ضائع نہ کریں مایوسی کفر ہے

    اللہ کے احکامات کو سمجھے کیونکہ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے پیاروں کیلیے دل سے دعا کریں لیکن اداس نہ ہو

    عیدالاضحٰی مبارک ہو اہلِ اسلام کو

    خوش رہے خوشیاں بانٹیں

  • افغان صدارتی محل پر حملہ ، اشرف غنی کے الزامات اور پاکستانی سچ. تحریر: نوید شیخ

    افغان صدارتی محل پر حملہ ، اشرف غنی کے الزامات اور پاکستانی سچ. تحریر: نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام کا سب سے بُرا اثر پاکستان پر ہی پڑے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی باقیات اور خفیہ ٹھکانوں کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ افغان عمل کی کامیابی میں ہم اپنا بنیادی کردار انتہائی سنجیدگی سے ادا کر رہے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی سمجھنا ہو گا کہ ہم اس پورے عمل کے ضامن ہر گز نہیں ہیں اور بالآخر یہ فیصلہ افغان فریقوں ہی نے کرنا ہے کہ انہوں نے آگے کس طرح چلنا ہے، ہم نے بارہا کہا ہے کہ پاکستان میں امن کا افغانستان میں امن و استحکام سے براہِ راست اور گہرا تعلق ہے۔

    ۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ ۔۔۔ دم ٹیڑھی ہی رہتی ہے ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ افغان حکومت اور خاص طور پر بھارتی کٹھ پتلی اشرف غنی کا ہے ۔

    ۔ اب اپنے تازہ بیان میں اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت چاہتا ہے۔
    پاکستان کا کوئی سیاست دان اپنے ملک میں طالبان کی حکومت کا خواہاں نہیں ہے لیکن وہ ہمارے لیے طالبان کی حکومت چاہتے ہیں،پاکستان کا تمام میڈیابھی طالبان کی حمایت کرتا ہے۔

    ۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کبھی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور کبھی کہتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابیوں کو روکنے کے لیے پاکستان افغان حکومت کی مدد کرے اور کبھی یہ خواہش کرتے ہیں کہ پاکستان افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اُنہیں کچلے۔

    ۔ اب روز اشرف غنی کو صرف پاکستان کی یاد آرہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اشرف غنی اب کیوں اپنے
    buddy
    بھارت سے رابطہ نہیں کرتا ۔ کیوں نہیں ڈیمانڈ کرتا ہے کہ بھارتی فوج کابل میں کھڑے ہوکر انکا دفاع کرے ۔ کیوں نہیں یہ کہتا ہے کہ ۔۔۔ را۔۔۔ آئے اور اس کی حکومت کو طالبان سے بچائے ۔

    ۔ سچ چاہے کڑوا ہو ۔ پر سچ یہ ہے کہ افغان حکومت کو تو نہ اب کہیں سے پیسہ مل رہا ہے نہ مدد ۔ اور افغان حکومت کی فوج ایسی ہے جیسے ہیجڑوں کی فوج ہو۔ اب یہ سارا ملبہ بھارتی ایماء پر پاکستان پر ڈال رہا ہے ۔ اور صرف ریاست پاکستان ہی نہیں پاکستان کے سیاستدانوں اور صحافیوں تک کو لعن طعن کررہا ہے ۔ جو اس جانب اشارہ ہے کہ افغان حکومت معاملات کو کنڑول کرنے میں بالکل ناکام ہوچکی ہے اور طالبان روکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔

    ۔ میں آپ سب کو یاد کروادوں کہ حامد کرزئی سے لے کر اشرف غنی تک یہ وہ ہی افغان حکومت ہے جس نے گزشتہ دو دہائیوں سے بھارت کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے کھلی چھٹی دی ہوئی تھی ۔ یہ وہ ہی افغان حکومت ہے جس نے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اپنے ملک میں ٹریننگ سمیت ہر قسم کی مدد دی ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے ہیں ۔ اور اس کے پیچھے افغان اور بھارتی حکومت تھی ۔ ہم نے دہشت گردی کی طویل اور صبر آزما جنگ لڑی ہے۔

    ۔ 2014ء
    میں آرمی پبلک سکول پر بزدلانہ حملے میں تحریک طالبان، را اور این ڈی ایس کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے۔ یہ حملہ افغانستان میں پلان ہوا، اس کے بعد جیسے ریاستِ پاکستان کے صبر کی انتہا ہوگئی۔ چن چن کردہشت گردوں، ان کے آلہ کاروں اور سلیپر سیلز کو ختم کیا گیا، ساتھ ہی ساتھ پاک افغان باڈر کو سیل کرنے کے لیے باڑلگانے کا کام شروع ہوا۔

    ۔ مغربی سرحد پر حفاظتی باڑ کی تعمیر تقریباً مکمل ہو چکی ہے، نوے فیصد باڑ لگائی جا چکی ہے۔ باقی بھی جلد مکمل ہو جائے گی۔ پاک ایران سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام بہت تیزی سے جاری ہے اس کے علاوہ سرحد پر سینکڑوں حفاظتی چوکیاں تعمیر کی گئیں۔ بارڈر کنٹرول سسٹم اپ گریڈ کیا گیا اور وہاں جدید بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب کی گئی ہے۔ پاک افغان سرحد پر تمام کراسنگ پوائنٹس کو سیل کر دیا گیا ہے۔ قبائلی اضلاع میں ایف سی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    ۔ اور اب جو پاکستان کا موقف ہے وہ اصولی موقف ہے کہ افغانوں نے خود مل کر فیصلہ کرنا ہے کہ کس کی حکومت ہوگی افغانستان میں ۔ اس سے زیادہ پاکستان کیا کرے ۔

    ۔ پھربھی یہ افغان حکومت مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہی ہے ۔ ابھی حالیہ افغان سفیر کی بیٹی والا معاملہ ہی دیکھ لیں ۔ کیسے انھوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی حالانکہ لڑکی اغواء ہوئی ہی نہیں تھی ۔

    ۔ جیسے اشرف غنی نے سفیر کو واپس بلایا ہے اگر اتنی ہی اس افغان حکومت اور اشرف غنی میں غیرت ہے تو پھر یہ تین ملین افغان مہاجرین جو اب بھی پاکستان میں رہ رہے ہیں ان کو واپس لے جاتی ۔

    ۔ آپ دیکھیں پاکستان پھر بھی دل بڑا کرکے افغان حکومت کے ساتھ
    cooperate
    کررہا ہے مگر ۔۔۔ جیسا کہ شروع میں کہا تھا کہ یہ
    ۔۔۔۔ کی دم سیدھی نہیں ہوتی ۔ یہ ہی حال اشرف غنی کا ہے ۔

    ۔ ہمسایے میں کچھ بھی ہورہا ہو اس کا اثر اپنے گھر تک آتا ہی ہے ۔ کاش کہ ہم ہمسایوں کے معاملے میں خوش نصیب ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے، ایک طرف ازلی دشمن ہے تو دوسری طرف ایک ایسا ملک جس میں امن کا قیام خواب معلوم ہوتا ہے۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔
    ہمیشہ افغانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے، کتنے ہی افراد چمن باڈر کراس کے ہر روز پاکستان آتے ہیں۔
    یہاں اپنا علاج کراتے ہیں۔
    ضرورت کی اشیا خریدتے ہیں۔
    کتنے ہی افغان باشندے یہاں سکونت اختیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پُرسکون زندگی گزار سکیں۔
    پاکستان نے ہمیشہ ان کے درد کو سمیٹا، انہیں چھت اور روزگار دیے۔ آج بیشمار افغان باشندے اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور پاکستان میں عزت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

    ۔ مگر افغان قیادت ہے کہ وہ پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ۔

    ۔ پاکستان اب بھی اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور افغانستان میں امن کا خواہش مند ہے۔ تاہم افغان حکومت کے تیور کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ بھارت کے ایما پر وہ شاید ہم سے اچھے سفارتی تعلقات کے خواہاں نہیں ہے۔ افغان سرکاری میڈیا پر پاکستان کے خلاف نغمے نشر ہو رہے ہیں،یہ نغمے
    RTA
    (ریڈیو ٹی وی افغانستان)
    کے ویریفائیڈ ٹویٹر اکائونٹ سے ٹویٹ بھی کیے گئے جس سے پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ پھر بھی پاکستان نے افغان لیڈرزکی عالمی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان اور میزبانی کی پیشکش کی لیکن افغان صدر اشرف غنی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ ملتوی ہو گئی۔ افغان نائب صدر امراللہ صالح بھی ٹویٹر پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں کہ پاکستان ایئر فورس نے افغان آرمی اور افغان ایئرفورس کو سپن بولدک میں طالبان کو نکالنے کے لیے فضائی آپریشن کرنے پر سخت نتائج اور ردعمل کی دھمکی دی۔ یہ سراسر جھوٹی خبر ہے، افغان نائب صدر نے ثبوت دینے کا دعویٰ تو کیا مگر اب تک کوئی ثبوت نہیں دیا۔ پاکستان ایئرفورس نے ایسا کوئی بیان دیا اور نہ ہی پاک ایئرفورس کا افغان فورسز کے ساتھ کوئی رابطہ ہوا۔

    ۔ آج بھی افغانستان میں ایک خونی دن گزارا ہے ۔ صدراتی محل میں راکٹ حملے کئے گئے ۔ حملے کے وقت صدارتی محل میں عید الاضحیٰ کی نماز ادا کی جارہی تھی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا مجھے تو یہ بھی ایک ڈرامہ لگتا ہے کہ طالبان کو کسی طرح بدنام کیا جائے گا یہ تاثر دیا جائے کہ عید پر بھی یہ خون خرابہ کر رہے ہیں ۔ اس حملے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے عید کی نماز کے بعد صدارتی محل میں خطاب کیا اور پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا ۔

    ۔ جبکہ امریکا سمیت 16 ممالک اور نیٹو نے طالبان سمیت افغان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس عید پر امن کیلئے اپنی سنجیدگی ثابت کرنے کیلئے جنگ بندی کریں۔

    ۔ادھر طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حکومتی فورسز سے شدید جھڑپوں کے بعد کابل کے جنوب مغرب میں واقع صوبہ ارزگان کے ضلع دہراؤد پر قبضہ کر لیا ہے اور صوبائی انتظامیہ نے طالبان کی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے ۔ شمالی صوبے سمنگان میں افغان فورسز نے میں ضلع درہ سوف کا قبضہ چھڑوالیا ہے ۔

    ۔ قندھار کی صوبائی کونسل کے رکن فدا محمد نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے سپن بولدک میں میرے دو بیٹوں کو ہلاک کردیا۔۔ تخار کے دارالحکومت طلوقان میں لڑائی کے دوران پولیس چیف شدیدزخمی ہوگیا۔ ادھر قندھار میں عمائدین کی کوششوں سے 8 روزہ جنگ بندی ہوگئی۔

    ۔ دوسری جانب اشرف غنی نے کل ہرات کا دورہ کیا،صو بے کے تمام اضلاع پر طالبان قابض ہیں جبکہ ہرات شہر طالبان کے محاصرے میں ہے ۔ دورے کے دوران اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہاکہ طالبان جنگ ہارچکے ہیں،وہ اہم عوامی عمارات کو تباہ کررہے ہیں۔

    ۔ جو دیکھائی دے رہا ہے کہ طالبان اورلسانی و قومیتی گروہوں اور مقامی جنگجو گروپوں کے درمیان جنگیں شروع ہوگئیں تو یہ پورے خطے کے امن پر اثرانداز ہوں گی۔ پاکستان مزید مہاجرین کی آمد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے دونوں اطراف کے ہمسایے ہمارے خیرخواہ نہیں ہیں۔

    ۔ مگر پھر بھی پاکستان امن کا داعی ہے اس لیے پاکستان نے دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افغان دھڑوں کے مابین حالیہ مذاکرات خوش آئند ہیں ۔

  • جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ تحریر ؛فرزانہ شریف

    جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ تحریر ؛فرزانہ شریف

    دین کو لے کر اسلام کے نام پر کسى کا بھى مزاح اڑانا” کسى کلمه گو مسلمان کو کمتر سمجھنا” کمنٹس ميں پوسٹس میں فخر محسوس کرنے سے پہلے ہم اعمال اپنى زندگى کو هى دیکھ لیں’ کیا ہم جانتے ہمارى زندگى کب کس مقام پر اور کس حال میں اختتام پذیر ہو”
    کیا ہم جانتے ہیں ہمارى نماز ہمارے اعمال قبولیت کا شرف پا رہے ہیں” اپنے فرقے کو بہترین سمجھنا اور دوسرے کسى بھى فرقے کے مسلمانوں کو کمتر سمجھنا گالى گلوچ طنزو مزاح کى محفلیں سجانا کم سے کم ہم امتى۔۔۔۔۔۔؟!
    شیوه نهيں دیتا اس فانى زندگى ميں نصیحت کرنا تنقید کرنا بہت آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا مشکل ہے”
    برداشت نہیں کسى ميں نفسا نفسى کے دور میں ہر انسان کا خود کو بہترین نیک ایمان دار سمجھنا دوسروں کو کمتر سمجھنا بہت عام بہت آسان بہت قابل فخر بات بن چکى اب ۔۔۔! آج تک ميں نے کوئی فرقہ واریت ٹویٹ یا پوسٹ نہیں کی اچھى بات جو بولے سن بھى لیتى عمل کى کوشش بھى’ اور کبھى کوئی بول دے پوسٹس کمنٹ ڈیلیٹ کرنے کو تو بنا بحث کے کر بھى دیتى’ کبھى کبھار پوچھتى ضرور ہوں’ کیا غلط کا برا هے اس ميں کچھ تفصیل یا تھوڑا سا هى بتا دیں” بات ختم ادھر هى۔۔۔

    ہم نہی جانتے ہم زندگی کے کس موڑ پر ہمارے کس قول فعل عمل سے کسی کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں کبھی کبھار غیر ارادی طور پر بھی ہوجاتا ہے ایسا۔۔
    دعا کریں ہمیں کبھی کسی کی بددعا نہ لگے
    انسان کی زندگى ميں اپنے اتنے معاملات پریشانیاں در پیش لاحق ہوتى ہیں اپنے گناه اپنى نافرمانیاں بجائے اس کے ہم اپنے ایمان کى اپنے اعمال کی فکر کریں مگر نہ جى ہمیں تو یہ ثابت کرنا فلاں جہنمى هے فلاں ایسا ہے صرف
    ہم”اللہ سبحانه وتعالیٰ کے لاڈلے ہیں اور جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے انا للہ وانا الیہ راجعون💔
    استغفراللہ ربى من کل ذنب واتوب الیه”
    اللہ الرحمن الرحیم الغفور القدوس السلام المومن العزیز الجبار القہار الرزاق الفتاح العظیم پاک پروردگار ہمیں هدايت کامل ایمان نصیب فرمائے آمین یارب العالمین

  • سوشل میڈیا کو اپنے وطن کے لیئے استعمال کیجئے.تحریر:  امان الرحمٰن

    سوشل میڈیا کو اپنے وطن کے لیئے استعمال کیجئے.تحریر: امان الرحمٰن

    دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔آج آپ نے کوئی بھی معلومات لینی ہو یا کوئی کتاب ڈاؤن لوڈ کرنی ہو سب انٹرنیٹ پر مل جاتا ۔جہاں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہاں اس کے منفی استمعال کا عنصر بھی جنم لے رہاہے، بدقسمتی سے پاکستان میں یہ منفی عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ۔آج ہر دوسرے شخص کے پاس اینڈرائیڈ موبائل فون ہے اور ہر شخص فیسبک اور ٹویٹر انسٹاگرام پر ایکٹو رہتا ہے یا یوں سمجھئے کے ہم نے سوشل میڈیا کو اپنی زندگی کا بہت اہم حصہ تصور کرلیا ہے جس کے بغیر زندگی گُزارنا مشکل ہو جائے گی ۔ لیکن اگر ہماری ایسی عادت بن ہی گئی ہے یا ہم اِس کے بنا رہ نہیں سکتے تو کیوں ناں ہم اِس موبائل کے ساتھ جوڑے سوشل میڈیا کو اپنے ملک اپنے مذہب کے لئے استعمال کریں اور ملک و قوم کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ مُعاشرہ بہتری کی طرف آئے اور آپ کی ایک چھوٹی سی پوسٹ یا تحریرکسی کے دل میں گھر کر جائے۔ اب آجائیں کے استعمال کیسے کریں اور کیا کِیا جائے تو دیکھیں کچھ لوگ اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں اورکچھ لوگ منفی،

    جو مثبت استعمال کر رہے وہ اپنے فارغ وقت میں سوشل میڈیا کے زریعے اپنے وطن اور افواج پاکستان کے ساتھ یکجحتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے خلاف دشمنوں کے پروپیگنڈہ کو ناکام بناتے ہیں ۔ جو لوگ منفی استعمال کر رہے ہیں وہ ہوش میں آئیں زندگی چھوٹی ہے اس کو فضولیات میں برباد نہ کریں۔
    کمنٹ میں "گو” لکھ کر ٹرک چلنے کا انتظار نا کریں۔۔!’
    جو دس گروپوں میں شیئر کرے گا اس کو اپنا نمبر دوں والی پوسٹ شیئر کر کے اپنے ضمیر کو مردہ مت بنائیں۔ کبھی خُود کا اپنا مُحاسبہ بھی کر لیا کریں کے زندگی کا مقصد کہیں فوت تو نہیں کر دیا میں نے۔۔؟ اب دیکھیں ایسی ایسی پوسٹس اور مضمون یا لطیفے ہیں کےاگر سنجیدگی سے غور کریں تو اِن فضولیات کا کتنا گہرا اثر لوگوں کی سوچ پر پڑ رہا ہے کہ کسی کو اندازہ ہی نہیں کے ہم کیا کر رہے ، یہ وقت کا ضیاء نہیں تو اور کیا ہے ؟ صحیح معنوں میں اِن فضولیات نے ہمیں اللہ سے دور کر دیا ہے مگر یہ سلو پوائیزن کی طرح ہم میں رچ بس گیا ہے اور ہمیں آہستہ آہستہ نقصان اور بربادی کی طرف لیجا رہا ہے، اور اِس کا علاج صرف اپنا مُحاسبہ ہے اور اِس سے بھی آسان یہ کے آپ اپنے موبائل کو اپنا ہتھیار اپنا مورچہ بنائیں ہر برائی کے خلاف، اِس لئے سب سے پہلے کون سا ٹب بھرے گا والی پوسٹ کر کے نا تو آپ کو کچھ حاصل ہوگا نا دوسروں کو، خُدارا ایک ذمہ دار شہری بنیں اللہ نے جو یہ زندگی آپ کو دی ہے اِسے ہر اُس بہتر کام میں صرف کریں ناں کے فضولیات میں ، سوشل میڈیا کو تفریح کا ذریعہ مت بنائیں،

    اس کا بہترین استعمال کریں اور آج کل مثبت استعمال یہ ہے آپ ففتھ جنریشن وار کے سپاہی بن جائیں اور دشمنوں کی پاکستان کے خلاف شروع کی جنگ میں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے شانہ بشانہ لڑیں ، اس سے أپ کی ذات کو فائدہ ہوگا، اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یقین جانیئے آپ کو ہندوستان اور بالی وڈ سے نفرت ہو جائے گی،
    آپ عالمی سازشوں کو سمجھنے لگیں گے، وطن پرستی پروان چڑھے گی، آپ کے پاس فضول کاموں کے لیے وقت نہیں ہوگا ، آپ کے علم میں اضافہ ہوگا ، اسلام اور پاکستان کی مکمل تاریخ جاننے میں آپ کو مدد ملے گی۔ اِن شاء اللہ
    اس لئے آئیے اور وطن کا دفاع کیجئے۔اگر آپ کسی پارٹی کے کارکن ہیں اور افواج پاکستان سے اپنے لیڈروں کی وجہ سے بغض میں مبتلا ہو گئے ہیں تو اس راہ پر آپ پر بہت حقائق آشکار ہوں گے ، آئیے اور سوشل میڈیا کا اپنے وطن کے لیے استعمال کیجئے، آپ کو لگے گا کہ آپ اپنا وقت برباد نہیں کر رہے آپ کا ضمیر مطمئن رہے گا۔

    کچھ لوگ کہتے ہیں سوشل میڈیا پر پاکستان کو دفاع کیسے کریں ہمیں سکھایا جائے۔
    تو دوستو اگر آپ نئے ہیں تو جو لوگ پہلے سے کام کر رہے ہیں ان کا حوصلہ بڑھائیں ان کی پوسٹوں کو مختلف گروپس میں شئیر کریں، ٹویٹر پر ہیں تو کوئی اچھی بات ہے تو اُسے واٹس ایپ پر شیئر کریں، واٹس ایپ پر ہے تو فیس بک پر شیئر کیجئے۔۔۔۔ ہاں ایک بات اچھے سے ذہن نشین کرلیں کے یہ سوشل میڈیا اکثر و بیشتر آپ کو فیک نیوز جعلی خبریں بھی ملیں گی نظر آئیں گی مگر آپ نے یہاں ایک ذمہ دار پاکستانی سے پہلے نبیﷺ کی وہ حدیث یاد رکھنا ہے کے بنا تصدیق آپ نے وہ بات آگے نہیں پہنچانی جس کا آپ کو کوئی ثبوت نہیں ملا ہو ہاں اگر ثبوت ہیں تو شیئر ضرور کیجئے۔ دیکھیں آپ جب بہتری کی نیت سے خالص ہو کر کسی اچھے مقصد سے سوشل میڈیا کا استعمال کریں گے تب آپ کا ضمیر بھی پُر سکون ہوگا اور اِس جھوٹ کی جنگ جو ہم پر قومی اور مذہبی روایات پر ایک حملہ کی صورت مسلط ہے جسے ففتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے آپ اِس کے گُمنام سپاہی بن جائیں گے ۔ اور آہستہ آہستہ آپ سب جان جائیں گے اِس ففتھ جنریشن وار کے بارے میں کے یہ کتنی گہری ضرب ہے ہے ہم پر اور ہمیں کیسے اِس نہ نظر آنے والی جنگ سے اپنی پاک سرزمین کو محفوظ بنانا ہے۔
    آئیے اور سوشل میڈیا کا اپنے وطن کے لیے استعمال کیجیے۔ اللہ کریم ہمیں ہر برائی سے دور رکھے آمین

  • قربانی جذبہ بھی فریضہ بھی.  تحریر:شمیل آعوان

    قربانی جذبہ بھی فریضہ بھی. تحریر:شمیل آعوان

    قربانی سنت ابراہیمی ہے جو ہر سال ہم اہنا اولین فریضہ سمجھ کے اپناتے اور نبھاتے ہیں..
    عید قربان نا صرف سنت ہے بلکہ یہ ایک ایسا درس ہے
    جو ہماری زندگی کو ہمارے کردار کو بہت سوچنے پہ آمادہ کرتی ہے. اسلام نے کتنی خوبصورتی سے اس دن کو غرباء کے لیے بھی بہترین بنایا. اس قربانی کا اللہ پاک کی نظر میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ غرباء مساکین لوگ جو سارا سال شاید بکرے گاے کا گوشت کھانے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اس دن پیٹ بھر کے کھانا کھاتے ہیں اور اللہ پاک اپنے بندوں کی خوشی میں ہی خوش ہوتے ہیں.
    اس طرح قربانی کے گوشت میں بھی ان مستحقین کے باقاعدہ حصے طے کیے گئے ہیں تاکہ ان تک پہنچ سکے.
    یہ قربانی نا صرف جانوروں تک محدود ہے یہ ہمیں درس دیتی ہے ایثار کا برابری کا احساس کا بندگی کا حقوق العباد کا جو کہ اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے.
    ہمارے معاشرے میں حقوق العباد تقریباً ناپید ہوتا جا رہا ہے مگر بحیثیت ابسان تو ہم کبھی مکمل ہونے کا دعویٰ کر ہی نہیں سکتے اگر کوئی ذات مکمل ہے تو وہ رب ذوالجلال کی ہے جو ہر سال حقوق العباد کو دہرابے اور یاد دہانی کروانے کو اس دن کو ہماری زندگیوں میں لاتا ہے اور ہم اس دن دل کھول کے ہر گھر میں استطاعت کے مطابق گوشت دیتے ہیں دروازے پہ آئے مساکین اور ضرورت مندوں کو بانٹ کر دلی سکون اور اللہ کا قُرب حاصل کرتے ہیں.

    قصہ مختصر یہ کہ…

    وہی ذات ہے جو بے شک یقیناً سب جانتی ہے اور ہماری زندگیوں کو انسانیت کی خدنت کی طرف کب کیسے مائل کرتی ہے وہ وہی رب خود ہی جانتا ہے ہم بہت چھوٹے اور
    گناہگار ہیں.
    اللہ پاک اس موقع پہ بھی ہم انسانوں کو حقیقی جذبہ قربانی سے نواز دیں.
    آمین
    @shameel512

  • تلاش   تحریر: صدام حسین

    تلاش تحریر: صدام حسین

    پی کے 81 تیل وگیس پیدا کرنے والا حلقہ ہونے کیوجہ سے بہت آہمیت کا حامل مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج اس بدقسمت حلقے کو ایسا لیڈر نہی ملا جو اس حلقے کی عوام کی تقدیر بدلنے کے لیے اقدامات اٹھائے تیل وگیس کی پیداوار سے وطن عزیز صوبہ خیبر پختونخواہ وضلع کوہاٹ کو سالانہ اربوں کا منافع ہورہا ہے مگر جہاں سے یہ سونا اگل رہا ہے وہاں کے مکین آج بھی صاف پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں ۔
    ہماری زمین سے پیدا ہونے والا گیس ملک کے دوسرے آضلاع کی فیکٹریاں کارخانے اور گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہورہا ہے مگر سونااگلنے والے سرزمین کے لوگ روزی روزگار کے لیے دیار غیر یا پھر ملک کے دوسرے آضلاع کا رخ کرنے پر مجبور ہیں گزشتہ پی ٹی آئ حکومت میں شہزادئ کے مقام پر انڈسٹریل زون قائم کرنے کا واویلا رہا مگر ابھی تک عملی اقدامات دور دور تک نظر نہی آرہے تیل گیس پیدا کرنے والی کمپنیاں و منتخب عوامی نمائندے عوام کو چونا لگاکر خود تو اس نعمت سے فیاضیاب ہورہے ہیں مگر اس بدقسمت حلقے کی عوام کی ویلفئر کے لیے خاطرخواہ اقدامات اٹھانا گوارہ نہی کرتے ۔
    12یونین کونسل پر مشتمل یہ وسیع و عریض حلقہ بنیادی ضروریات کے لیے ہمیشہ کسی مسیحا کی "تلاش ” میں اپنی رائے دہی کا استعمال کرتی چلی آرہی ہے مگرآج تک ایسا کوئ نمائندہ انکی کردرے ہاتھوں پر خوشحالی وترقی کی لکیر نہ کھینچ سکا ۔
    موجودہ پی ٹی آئ صوبائ و وفاقی حکومت عوام پر سرمایہ کاری کرنے پر یقین رکھتی ہے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب انتخابی مہم کے دوران پر عوام پر سرمایہ کاری کرنے پر زور دیتے چلے آئے ہیں اور وزیرمملکت برائے داخلہ محترم شہریارخان آفریدی صاحب بھی آپنے تقاریر میں عوام کی قسمت بدلنے کی باتیں کرتے چلے آئے ہیں ہم پی ٹی آئ حکومت و محترم شہریارخان آفریدی صاحب سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ حلقہ پی کے 81 کے تیل وگیس کی پیداوار کو مدنظر رکھ کر اس حلقے میں انڈسٹریل زون کے قیام کو اولین ترجیح دینگے اور اس حلقے کی محرومیاں ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اتھائنگے انشاءاللہ ۔
    صاف پینے کا پانی ہمیشہ سے اس حلقے کی مکینوں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے دریا سندھ اس حلقے کے ساتھ بہتا ہوا سمندر میں جاگرتا ہے آگر حکومت وقت سنجیدگی سے اسطرف توجہ دیں تو دریاسندھ سے حلقہ پی کے 81 کی ابنوشی و ابپاشی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں اور گیس سے چلنے والی چھوٹی بڑی فیکٹریاں لگا کر اس حلقے اور کوہاٹ کی بیروزگاری پر قابو پایا جاسکتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کوہاٹ سے منتخب صوبائ و وفاقی نمائندے کب اس طرف توجہ مبذول کرتے ہیں ۔
    پی ٹی آئ اور بالخصوص محترم شہریارخان آفریدی کو آللہ نے عوام کی بے لوث خدمت کا موقعہ دیا ہے آگر یہ موقعہ ضائع کیا گیا تو آئندہ اسطرح کا موقعہ شائد نہ ملے

    @SAA_afridi

  • سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی  تحریر : زوہیب زاہد خان

    سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی تحریر : زوہیب زاہد خان

    آج کے دور میں ہم مسلمان دنیا کی رنگینیوں میں کھوگئے ہیں۔ آج ہم دین اسلام کی تعلیمات سے دور ہوچکے ہیں جسکی وجہ سے ہماری زندگیوں سے برکت اٹھی چکی ہے۔ ہمیں کہیں طرح کے مسائل نے گھیر لیا ہے۔ ہم الجھنوں کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ہمارے دل مردہ اور بے ضمیر ہوچکے ہیں. مجموعی طور پر ہمیں زوال کا سامنا ہے۔

    ناکامی کی بنیادی وجہ :
    مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ الله پاک اور الله کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق زندگی نہ گرازنا ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی الله اور رسول الله کی اطاعت اور فرماں برداری میں ہے۔ یہ ہی مسلمانوں کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا اصل ذریعہ ہے۔

    سنت نبویؐ :
    ہر وہ ایسا عمل جو ہمارے پیارے رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملی طور پر کرکے دکھایا ہو اور امت کو اسکا حکم دیا ہو اس عمل کو ہم سنت کہتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم کی پوری زندگی ہمارے لیئے عملی نمونہ ہے. پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے محبت ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ پیارے نبی کی سنت سے محبت نبی سے محبت کی عظیم ترین مثال ہے۔

    الله رب العالمین نے ہمارے نبی کریم کی سیرت طیبہ کو قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بنادیا ہے۔ مسلمان زندگی کے ہر امور میں آپ کی سیاست طیبہ کو پڑھ کر رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم کی زندگی ہر مسلمان کیلئے بہترین اسوہ حسنہ ہے۔

    قران و سنت :
    آج کے مشکل ترین دور میں الله اور رسول اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنا ہماری دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی ہے۔

    قران مجید میں الله نے مسلمانوں کیلئے واضح احکامات بیان فرما دیئے ہیں۔اسکے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی احادیث مبارکہ کے مطابق زندگی گزارنا ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔

    الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو الله اور الله کے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    @ZohIbZahidKhan

  • جماعت اسلامی پاکستان  تحریر:  عامر خان

    جماعت اسلامی پاکستان تحریر: عامر خان

    پچھلے کچھ دنوں سے جماعت اسلامی پر کچھ لکهنے کا ارادہ تها وقت کا سیاہ گھوڑا مگر سرپٹ دوڑ رہا تها ذاتی مصروفیات جس کی کمر پہ سوار تهیں اور ناچیز ارادہ باندهتا ہوں توڑ دیتا ہوں کی کیفیت سے دوچار کہ پرسوں ن لیگ کے چند نوجوان کارکنان سے نشت ہوئی موضوع تها خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات کسی ایک کے پاس بهی کوئی اعداد و شمار تک نہیں تهے معلومات کا یہ عالم تها کہ یہ تک نہ جانتے تهے کہ مقتول کارکنان کا تعلق کس جماعت سے ہے دھاندلی پر میں بحث نمٹا چکا تو انہوں نے کپتان پر روایتی تنقید شروع کی ایک ایک نقطے کا میں نے تفصیل سے جواب دیا کوئی پانچ گھنٹے کی سعی لا حاصل کے بعد ان کا موقف یہ تها کپتان کامیاب کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ ان سے پرانی اور زیادہ اچھے لوگوں پر مشتمل جماعت، جماعت اسلامی ناکام ہے اس پر بهی میں نے کهل کر بحث کی اور دونوں جماعتوں کی کامیابی و ناکامی پر اپنی معروضات پیش کیں اختتام پر کچھ تحریک انصاف بارے اچهے خیالات کا اظہار کر رہے تهے یا پهر نرم الفاظ کا چناؤ تب بهی ارادہ کیا کہ پہلی فرصت میں جماعت اسلامی پہ کچھ لکهوں گا کل رات عزیزم حافظ عبدالودوود عامر کی اپڈیٹ دیکهی حافظ صاحب میرے لیئے نہایت قابل قدر ہیں اچھا خاصا مطالعہ رکهتے ہیں ذہین نوجوان کا فکری تعلق جماعت اسلامی سے ہے جمعیت طلباء کے غالبا زون کے ذمہ دار ہیں ان کی تحریر غصے سے لبریز تهی کپتان کے اس بیان پر وہ تپ اٹھے ہیں کہ جس میں انہوں نے سراج الحق صاحب سے کہا ہے کہ وکٹ کے چاروں طرف نہ کهیلیں حافظ صاحب کا غصہ اپنی جگہ تاہم جان کی امان پاوں تو کچھ عرض کروں کہ تحریک انصاف پر تنقید کی جائے تو اس کے کارکنان گالیوں سے مخالف کی تواضع فرماتے ہیں جماعت والے جبکہ ہاکیوں سے.صالحین کی جماعت کے کارکنان کا خیال یہ ہے کہ ان سے اختلاف ناقابل معافی جرم ہے اور ان کے لیڈران پر تنقید گویا گمراہی کی دلیل ہے ایک وضاحت پہلے یہ کہ جماعت ہر لحاظ سے تحریک انصاف سے بہتر جماعت ہے نظم و نسق مثالی ہے اور احتساب کا عمل اس سے بهی مثالی اچهے اور باکردار لوگوں کی حامل! سید مودودی کا لگایا ہوا پودا مضبوط بهی بهی ہے اور مربوط بهی. چوائس اول وہی ہے 2013 کے انتخابات کے ہنگام کپتان کے بنیادی حلقہ این اے 71 میں جماعت کی مہم میں نے برپا کی پورے زور کے ساتھ ، دوران مہم امیر جماعت تحصیل عیسی خیل مجهے یہ کہتے رہے ن لیگ کو ہدف تنقید نہ بنایا جائے یا للعجب ‘ دلیل کوئی نہ تهی ووٹرز تحریک انصاف کے حامی اس کے باوجود اسی پہ تنقید پہ وہ خوش ہوتے یہ جانتے ہوئے بهی کہ جماعت صرف صوبائی ووٹ کی طلبگار ہے اور اگر اسے کچھ پانا ہے تو تحریک سے ہی پانا ہے اس کے باوجود وہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر کپتان کے مقابل امیدوار کے حامی تهے یہ اگر سیاسی بصیرت ہے تو پهر اللہ ہی حافظ! جماعت میں کبهی قاضی صاحب نے اسلامک فرنٹ کا ڈول ڈالا تها جس کے جلسوں کا اپنا ایک رنگ تها شوری نے مگر اس تجربہ کو ناپسند کیا اور قاضی صاحب کے پاوں میں بیڑیاں ڈال دیں سید منور حسن نے جماعت پر اسلامی رنگ کو گہرا کیا آخری تجزیے میں وہ سیاسی عمل سے ناامید نظر آئے ان پر جہادی تحریکوں کا رنگ غالب تها سراج الحق صاحب امیر بنے تو ایک امید سی تهی کہ وہ شاید سیاسی ناکامی کا تجزیہ کریں گے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت میں وہ شامل ہوئے اور پوری شان کے ساتھ تحریک انصاف نے بهی اپنے بازو کهولے اور دونوں بغلگیر ہو گئیں دھرنے کے ہنگام سراج الحق صاحب مصلحت کار بن کر ابھرے مصالحت اچهی سوچ تهی وہ مگر کبهی ن لیگ پر برستے ان کو مذاکرات کے تعطل کا ذمہ دار ٹہراتے کبھی وہ جمہوریت کے چیمپین بن کر دھرنے والوں کو دھمکاتے کہ خبردار ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں حیرت کے ساتھ خلق خدا یہ سوچتی رہ جاتی کہ کیا ن لیگ کی حکومت کا دوسرا نام جمہوریت ہے اور اسحاق ڈار میاں صاحبان ان کے جانشین حمزہ شہباز اور مریم صاحبہ جمہوریت کے روشن نشان نیز ماڈل ٹاون ایسے واقعات اس جمہوریت کے ماتھے کا جهومر خیبر کے پی کے بلدیاتی انتخابات کے بعد جماعت نے بهی اپنی حلیف حکومتی جماعت کو اڑے ہاتھوں لیا اور اپنی ناکامی چهپانے کےلئے تحریک انصاف کو دھاندلی کی چیمپین قرار دے ڈالا ایک ایسا انتخاب جو قوم برادری کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے ساڑھے گیارہ ہزار پولنگ سٹیشنوں میں سے 121 پر ہی سنگین بدانتظامی ہوئی پولیس اور حکومت کے ساتھ ساتھ جس کا الیکشن کمیشن بهی ظاہر ہے کہ ذمہ دار ہے مگر کیا اسے قومی انتخابات کی طرح دھاندلی زدہ الیکشن کہا جا سکتا ہے کوئی بهی باشعور اس بات کو تسلیم نہ کرے گا دوسری بات یہ ہے کہ کیا ان تمام مقامات پر گڑبڑ کی ذمےداری صرف تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے جس کے گیارہ کارکن مقتول ہوئے اور کئی زخمی عجیب دھاندلی تهی جس میں طاقتور فریق یعنی دھاندلی کرنے والے انصافیے ہی مارے جا رہے تهے اللہ کی آخری کتاب کا فیصلہ یہ ہے کہ کسی گروہ سے دشمنی تمہیں ناانصافی پہ نہ ابهارے.
    سات جماعتوں کے اتحاد میں بعد ازاں پتہ چلا کہ آٹھویں جماعت اسلامی بهی تهی تو کپتان کےلئے جماعت کے کارکنان کا فرمان عالیشان کیا ہے کہ وہ احتجاج بهی نہ کرتے؟ایک سادہ سا اصول یہ ہے کہ دوست کا دوست.دوست اور دوست کا دشمن ، دشمن .دشمن یہ بات مگر امیر جماعت کو کون سمجھائے اپنی جماعت کی ناکامی کے اسباب جو خارج میں تلاش کرتے ہیں حافظ صاحب کا فرمان یہ ہے کہ تحریک انصاف میں فلاں فلاں شخص جو ہیں وہ غلط لوگ ہیں بجا مگر کیا ان کے نکل جانے سے جماعت کامیاب ہو پائے گی؟؟ ناکامی کہاں ہے مینار پاکستان جلسے میں خطاب فرماتے ہوئے جن پر سراج صاحب برسے شام ہونے پر ان کے ہاں ہی کهانا کها رہےتهے! بقیہ کل انشاءاللہ جاری ہے.
    ازقلم

    @Aamir_k2

  • عنوان :  وزیراعظم عمران خان کے اقدامات   تحریر : سیف اللہ عمران

    عنوان : وزیراعظم عمران خان کے اقدامات تحریر : سیف اللہ عمران

    بہت سارے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ تبدیلی کہاں ہے جس کا خان صاحب نے اعلان کیا تھا اور وہ وعدے کہاں گئے تو آپ کو بتاتے ہیں بہت سارے وعدہ وفا ہو چکے ہیں اور کچھ ایسے مسلئے ہیں جن پر قابو پانے کی کوشش کی جس رہی ہے جن میں مہنگائی ہے جو کو حکومت کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ایک دن آئے گا کہ پاکستان مہنگائی فری ہو جائے گا
    اب آئیے کچھ مثبت اقدامات بتاتے ہیں اپکو
    جس پرٹوکول کو ہم پچھلے 35 سالوں دیکھ رہے تھے عمران خان نے اسکو آتے ہی ختم کیا ۔
    جب ہم گھر سے نکلتے تو ہم نے دعا کرتے کہ کوئی بڑا آدمی نہ آئے تاکہ ہم اسکول ، کالج ، دفتر یا مزدوری تک پہنچ سکیں
    عمران خان نے ہمارے خرچ پر وزراء اور اشرافیہ کی پرتعیش حکومت کا رہنا ، کھانا پینا ختم کیا ، جوہمیں مغل عہد کی یاد دلاتا تھا
    عمران خان نے حکمرانوں اور اشرافیہ کو سرکاری خرچ پر سردرد کی گولی لینے لندن جانا پر پابندی عائد کی
    اس سے نہ صرف قومی ایئر لائن خسارے میں تھی بلکہ اربوں افراد کو سرکاری خزانے کو ٹیکہ لگایا دیاجاتا تھا
    عمران خان نے ہمیں ان بچوں کی غلامی سے آزاد کیا جن کا نطفہ ابھی بھی باپ کے جسم میں تھا اور ہم غلامی کے لئے تیار تھے
    عمران خان نے اپنے سپورٹران کو یہ شعور دیا کہ جہاں میں غلط ہوں مجھے روک کر کہنا کہ تم غلط ہو ہم تمھیں چھوڑ دیں گے
    عمران خان نے اپنے پرائے سارے چوروں کو قطار میں کھڑا کردیا۔ اس نے عوامی ووٹ بیچنے والوں کو سرعام بے نقاب کیا
    عمران خان نے ان شاندار عمارتوں کو قوم کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقف کیا جو پرتعیش حکمران عیش و آرام کے اڈوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
    عمران خان نے کرونا کے دوران ملکی تاریخ میں پہلی بار 12 ہزار امداد کی شفاف ترسیل ممکن بنائی جو اس سے پہلے صرف ورکروں اور وڈیروں کو ملتی تھی
    عمران خان نے بطور کسئ بھی حکمران پہلی بار ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دنیا کے ایوانوں میں آواز اٹھائی اور مسلم امہ کو اس مسلے پر اکھٹا کرنے کی کوشش کی جبکہ اس سے پہلے ہر بار سرعام ہمارے حکمران ناموس رسالت کا سودا کرتے تھے
    ہم میں سے بیشتر جنگل کے باسی ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ کوئی جنگلاتی افسر یا وزیر ہوتا جو ان جنگلات کو تباہ ہونے سے بچاتا
    عمران خان سے پہلے کسی نے ماحولیاتی سسٹم بچانے کی کوشش کی ہی نہی
    عمران خان سے پہلے کسی نے فٹ پاتھ پر بھوکے سونے والوں کا سوچا بلکل نہی ، کیا کسی کو احساس تھا کہ احساس پروگرام کتنا ضروری ہے. بھوک لگی فٹ پاتھ پر سونا کتنا مشکل تھا اور وقار کے ساتھ چھت کے نیچے بستر اور اچھا کھانا لینا کتنا ضروری تھا
    اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کو پسند کرسکتا تو ، عمران خان کو پسند کرنا تو دور اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کے راستے میں اس طرح پھول بچھاتا جیسے کہ 30 سال کا شخص 16 سال کے محبوب کے راہوں میں بچھانے کی خواہش کرتا ہے۔۔
    کیونکہ عمران خان نے ہمیں اس غلامی سے بچایا جس میں ہم ابوجہل کے پیروکار تھے
    شکر ہے کہ پاکستان ، ملک کے نواز اور زرداری کے دشمن فنا ہوچکے تھے ، لہذا خان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
    اور وہ ان چیزوں میں مصروف ہوگیا۔ ابھی میرے پاکستانی نہیں جانتے کہ ان کے پاس یہ ہیرا ہےTwitter
    @Patriot_Mani