Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امت مسلمہ میں قربانی کا جذبہ . تحریر : رانا احسان اللّٰہ

    امت مسلمہ میں قربانی کا جذبہ . تحریر : رانا احسان اللّٰہ

    اشرف المخلوقات کی قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے ان کی اولاد سے شروع ہوئی اور چلی آرہی ہے لیکن جانور زبح کرنے کے احکام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نبوت کے دور میں شروع ہوئے اور اللہ کے حکم کی تعمیل کی گئی۔ جانور کی قربانی لازم نہیں 50 لاکھ یا 30 لاکھ بیل خرید کر ہی کی جائے اور ذبح کیا جائے اور ذبح کرنے سے پہلے بیل کو دکھاوے کے طور پر محلے اور بازار میں ہرگز نہ گھمایا جائے بلکہ پر خلوص نیت سے خالص اللّٰہ تعالٰی کے لیے قربانی کی جائے بے شک یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ پانچ ہزار والے دھمبے یا بکرے کی قربانی قبول ہو گی یا بازاروں میں دکھاوا کرنے والے 50 لاکھ یا تیس لاکھ کے بیل کی قربانی قبول ہوتی ہے اصل قبولیت تو نیت خالص ہی کی ہے ابراہیم علیہ السلام کو اللّٰہ تعالٰی نے کم و بیش 84 سال کی عمر میں بیٹا عطا کیا اولاد کے لیے دعا مانگتے مانگتے 60 سال پھر 65 سال گزر گئے اور پھر تھوڑا عرصہ بعد اللّٰہ سبحان تعالٰی کا حکم آیا جاؤ اسے چھوڑ کر آؤ ابراہیم علیہ السلام بولے کہاں چھوڑ کے آؤں تو پھر فرشتہ جبریل علیہ السلام انسانی شکل میں اونٹنی پہ بیٹھ کر آئے دوسری اونٹنی پہ ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت حاجرہ اور بیٹا اسمعیل علیہ السلام سوار تھے اور ساتھ ابراہیم علیہ السلام فلسطین سے لمبا سفر طے کر کے چلتے چلتے مکہ معظمہ کے کالے پہاڑوں میں پہنچ گئے مکہ معظمہ کے پہاڑوں میں نہ پانی ہے نہ کوئی درختوں کا سایہ۔ حکم آیا یہاں چھوڑ دو ابراہیم علیہ السلام جو آگ میں بھی نہیں گھبرائے عرض کی یہاں کیسے چھوڑ دوں یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے تو جبریل نے فرمایا اللہ سبحان و تعالٰی کی یہی منشا ہے۔ کہ آپ کو یہیں چھوڑ دیا جائے.

    تو انہیں وہیں چھوڑا اور ابراہیم علیہ السلام وآپس چل دیے بی بی حاجرہ پریشان ہو گئیں آپ یہاں چھوڑ کے کیوں جا رہے ہیں تین میل تک ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلتی رہیں انہیں جواب نہیں ملا پھر ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا حکم ہے کہ ہم فلسطین سے مکہ تک عظیم قربانی پیش کرنے آئے پھر جب اسمعیل علیہ السلام تھوڑا بڑے ہوئے تو انہیں ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا بیٹا اللہ سبحان و تعالیٰ کا حکم ہے کہ آپ کو اللہ کی راہ میں قربان کردوں.

    یٹا بولا بابا پھر کر دیں زبح ابراہیم علیہ السلام بولے بیٹا آپ کو خبر ہے میں کیا کہہ رہا ہوں
    بیٹا بولا مجھے زبح ہونا ہے اور آپ کے بدلے میں مجھے اللّٰہ تعالٰی ملے گا دنیا کے بدلے مجھے جنت ملے گی اسمعیل علیہ السلام نے فرمایا یہ میرا کرتا میری اماں کو دے دینا ابراہیم علیہ السلام نے اسمعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں باندھے اور الٹا لٹا دیا ابراہیم علیہ السلام نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا اے اللہ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے کیا اسمعیل علیہ السلام کی محبت نے میرے دل میں پکڑ لی ہے اے اللہ میرے دل میں تیرے سوا کچھ نہیں ہے اگر میرا کوئی امتحان ہے تو پاس کر دے انہوں نے چھری چلا دی
    اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسمعیل علیہ السلام کی جگہ چھترے کو ڈال دیا جب ابراہیم علیہ السلام نے آنکھ کھولی تو آگے چھترا زبح پڑا تھا۔
    ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید قربان کے موقع پر دو چھترے زبح کرتے تھے نہ بکرے نہ گائے بلکہ چھترے کرتے۔ ایک اپنی طرف سے ایک اپنی امت کی طرف سے سبحان اللہ حج کے موقع پر آپ نے 63 اونٹ زبح کیے تھے۔

    ایک اونٹ میں سات آدمیوں کا حصہ ہوتا ہے مالداروں کے لیے اک بڑا پیغام ہے۔ ہمارے ملک میں عجب کہانی ہے بیل لے کر 20 لاکھ کا یہ فخر ہے ریاہ ہے بناوٹ ہے دکھاوا ہے مالداروں سے درخواست ہے کہ آپ بیس لاکھ یا پچاس لاکھ کے بکرے خریدیں تاکہ بہت سے غریبوں میں زیادہ سے زیادہ گوشت تقسیم ہو سکے
    اب تو مالداروں میں مقابلہ بازی شروع ہو چکی ہے صرف دکھاوے کے لیے تیس لاکھ یا پچاس کے بیل خریدے جا رہے ہیں مالداروں کو چاہیے غریبوں کو زیادہ سے زیادہ فائدے پہنچائیں
    قربانی کے جانور کے جتنے بال ہوتے ہیں اتنی ہی نیکیاں متی ہیں دعا ہے اللہ سبحان و تعالیٰ ہمیں ایثار کے جزبے کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    @Rana241_7

  • دورحاضر کی جنگی حکمت عملی . تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    دورحاضر کی جنگی حکمت عملی . تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    ‎اٹھارہویں صدی میں جنگ کا پہلا طریقہ یہ سامنے آیا کہ کسی ملک کی فوج اور ہتھیاروں کا رخ دوسرے ملک کی جانب موڑ دیا جاتا تھا اور یوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ ہوتا تھا۔اُنیسویں صدی میں جنگ کا دوسرا طریقہ متعارف ہوا جس میں صف بندی کر کے حملہ نہیں کیا جاتا تھا بلکہ منتشر اور بیک وقت کئی مقامات سے حملہ آور ہوا جانے لگا۔ دوسری قسم کی جنگ میں افرادی قوت کی بجائے ہتھیاروں پر زیادہ زور رہا۔ بیسوی صدی میں جنگ کا تیسرا طریقہ متعارف ہوا جو چار طریقوں کا مجموعہ تھا۔ اِس میں حملہ کرنے کی رفتار‘ حملہ کرتے ہوئے خود کو مخفی رکھنا‘ اچانک حملہ آورہونا اورکسی ملک کے دفاعی نظام میں موجود خامیوں کی تلاش کر کے اُس کی پشت سے حملہ کرنا تھا۔ اِس قسم کی جنگی حکمت عملی میں ٹینک‘ بھاری توپ خانہ اور جنگی ہوائی جہاز استعمال کئے گئے۔انسانی تاریخ میں باالخصوص اگر 300 برس کا مطالعہ کیا جائے تو اِس میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں جنگ کے اِنہی تین طریقوں کا استعمال کیا گیا.

    لیکن اِن تین سو سالہ جنگی تاریخ میں ممالک کے درمیان جنگ کا میدان بدل گیاہے اوراب فوجیوں کا ایک دوسرے کے سامنے صف آراہونا ضروری بھی نہیں ہے۔ چلتے چلتے ہم اکیسویں صدی میں آ پہنچے ہیں اور یہاں جنگیں ممالک کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کی صورت میں لڑی جاتی ہیں۔ آج کی جنگوں کا ایک ہتھیار ’انفارمیشن ‘ بھی ہے۔ امریکہ کے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار جنرل (ریٹائرڈ) سٹینلے میک کرسٹل نے ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”عصر حاضر کی دفاعی حکمت عملی اور کسی ملک پر حملے میں وہاں کے سوشل میڈیا کا استعمال بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا جنگیں آج سچ جاننے اور سچ کی کھوج کے لئے لڑی جائیں گی اور جہاں معلومات اور غلط معلومات کی کھوج کے لئے جنگیں ہوں وہاں جنگ کا میدان اور جغرافیائی حدود و قیود بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔آج کی جنگ کسی میدان میں نہیں لڑی جاتی بلکہ یہ اعصاب اور ذہنوں پر مسلط کر دی جاتی ہے۔ کسی ملک پر حملہ آور ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کی سوچ پر تسلط حاصل کر لیا جائے اور انہیں وہی سچ لگے جو بتایا جائے اور اُنہیں وہی جھوٹ لگے جو بتایا جائے یعنی اُن کے اپنے فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت ختم ہو جائے اور وہ سوچنے سمجھنے میں اِس حد تک محتاج ہو جائیں کہ اُن کے لئے قابل یقین حکمت عملی یہی ہو جو اُن تک سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچ رہی ہو۔ آج کی حقیقت کا رخ یہ ہے کہ سوشل میڈیا جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اورممالک کے لئے جہاں یہ بات ضروری ہے کہ وہ خود کو دشمن کی دفاعی صلاحیت سے باخبر رکھیں اوراُس کے ہتھیاروں کو توڑ بناتے رہیں وہیں غلط معلومات پھیلانے کا بھی سدباب کیا جائے ۔کسی ملک کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور یہ مقررہ وقت سے شروع ہونے کے بعد اختتام تک وقت کے حساب کتاب کے ساتھ جاری رہتی ہے کہ کوئی جنگ کتنے منٹ اور کتنے سیکنڈ جاری رہی اور اِس دورانئے کے دوران کتنا جانی و مالی نقصان یا اخراجات ہوئے۔

    موجودہ دور کی ’ہائبرڈ جنگ‘ ایسی ہے کہ یہ دن رات جاری رہتی ہے۔ اِس کا دورانیہ لامحدود ہے اور اِس کا کوئی مقررہ وقت بھی نہیں کہ یہ کب شروع اور کب ختم ہوگی بلکہ اِسے مسلسل جاری رکھا جاتا ہے کیونکہ اِس کا ہدف انسانوں کے اعصاب اور سوچ ہوتی ہے۔ یہ جنگ انٹرنیٹ کے ذریعے ’آن لائن‘ لڑی جا رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں جنگوں نے افرادی قوت و ہتھیاروں سے ذہنی و نفسیاتی شکل اختیار کرنے میں 300 سال کا وقت لیا ہے۔ اِسی طرح مشینوں سے انفارمیشن پر مبنی جنگ شروع ہونے میں 10برس کا عرصہ لگا ہے۔ آج کی جنگ مصنوعی ذہانت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے ۔ انسانی معاشروں میں جنگیں جاری رہتی ہیں یا پھر جنگوں کی تیاری جاری رہتی ہے لیکن اِن کے ہتھیار‘ طریقہ کار اور انداز بدلتے رہتے ہیں۔ آج ”سوشل میڈیا‘ ‘کا دور ہے۔ آج کے دور کی جنگ چوبیس گھنٹے جاری ہے۔

    ‎موجودہ دور میں سوشل میڈیا کسی بھی ملک میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے ویسے ہی پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے۔ ہماری نوجوان نسل کی بہت زیادہ تعداد سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کرتی ہے جبکہ ہمارا کردار ریاست کو مظبوط کرنے ، اسلام اور پاکستان کا مثبت امیج دنیا کے سامنے لانے، پاکستان کے خلاف جاری پروپگنڈا کو کاونٹر کرنے، حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی ،اداروں میں خرابیوں اور پاکستان کے مسائل کو آجاگر کرنے میں ہونا چاہیے

    ‎حکومت پاکستان کو چاہیے کے سوشل میڈیا کا استعمال اور اس دور میں اسکی ضرورت کو مدنظررکھتے ہوے عوام میں شعور بیدار کرے، عوام کو پاکستان کا بیانیہ سامنے لانے پرراغب کیا جائے۔ سوشل میڈیا صارفین کی پزیرائی، انکے مسائل پر اٹھائی جانے والی آواز پر ایکشن، لوگوں کو اس طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کریگا۔ اگر حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کے حوالے سے کانفرس وغیرہ ہوتی رہیں تو لوگوں کو مثبت کام کی طرف لانے میں آسانی ہوگی

    ‎ہائبرڈ وار فئیر کا شکار ہونے سے بچنے کا بہترین طریقہ ہمیں ملکی مفادات کو پہلے رکھنا ہو گا۔پاکستان کے دشمن پاکستان کو زیر کرنے کے لئے کروڑوں ڈالرز ہر سال اسی پر خرچ کرتے ہیں۔ کئی محب وطن پاکستانئ سوشل میڈیا پر منہ توڑ جواب دے رہے ہیں جس کے بہترین نتائج ہمارے ملک کو ملے ہیں۔ماضی قریب میں اسکی مثال ابھی نندن کی گرفتاری ہے جب 27 فروری 2019 کو سوشل میڈیا پر بیانیئے کی جنگ کامیابی سے لڑی گئی

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

  • شرم و حیا . تحریر: ہیر ملک

    شرم و حیا . تحریر: ہیر ملک

    نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ… اَمّا بَعْد…

    آج کچھ بات کرتے ہیں شرم و حیا اور دینِ اسلام میں اس کی اہمیت پر.

    حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ "حیا ایمان میں سے ہے اورایمان جنت میں ہے. بے حیائی بدی میں سے ہے اور بدی جہنمی ہے.” (ترمذی شریف)
    یعنی اہلِ ایمان جنتی اور بے حیا جہنمی ہیں.

    شرم و حیا عورت کا زیور اور مرد کی زینت ہے. شرم و حیا دونوں ہم معنی الفاظ ہیں جن کا مطلب ہے کہ جس کام میں انسان کو کوئی گُناہ یا بے ادبی معلوم ہو اُس سے پرہیز کرے.

    انسان کا یہ فطری وصف ہے جس سے اِس کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی پرورش ہوتی ہے. شرم و حیا ایک ایسی خوبی ہے جو بہت سے گناہوں سے بچاتی ہے. عفت اور پاکبازی کا دامن اِسی کی بدولت ہر داغ سے پاک رہتا ہے.

    حدیثِ قُدسی میں آیا ہے کہ "عزت اور جلال والے رب کو اِس بات سے حیا آتی ہے کہ جب اُس کا کوئی بندہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر کچھ مانگتا ہے اور وہ اُن ہاتھوں کو خالی لوٹا دے.” (مسند احمد)

    حیا کا فطری وصف اگرچہ اپنی جگہ تعریف کے قابل ہے تاہم وہ کبھی کبھی انسان کے لیے اس وقت مُضر بھی ہو جاتا ہے جب اُس میں بُزدلی اور خوف کا عنصر شامل ہو جاتا ہے اور وہ بہت سے اجتماعی کام محض شرم و حیا کی وجہ سے نہیں کر سکتا. اِس لیے حیا کی حقیقت میں بُزدلی کا جو جُز شامل ہے شریعتِ مطہرہ نے اِس کی اصلاح کی ہے اور وہ یہ ہے کہ امرِ حق کے اظہار میں شرم و حیا دامن گیر نہ ہو. لیکن دوسروں کی مروت سے چُپ رہ جانا ایک قسم کی شرافت ہے جو ایک معنی میں تعریف کے قابل ہے. چنانچہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نہایت شرمیلا اور حیادار تھا. اِس وجہ سے نقصان اٹھاتا تھا. اُس کا بھائی، اُس پر ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا. حضور ﷺ نے دیکھا تو فرمایا "اِس پر غُصہ نہ کرو کیونکہ حیا ایمان سے ہے.”

    یہی شرم و حیا جو ایمان کا ایک جُز ہے شرعی حیا ہے. یعنی جس طرح ایمان کا مطلب یہ ہے کہ تمام فواحش و منکرات سے اجتناب کیا جائے اِسی طرح شرم و حیا بھی انسان کو اِن چیزوں سے روکتی ہے.

    شرم و حیا انسان میں فطری ہوتا ہے اور اگر اِس کی مناسب تربیت کی جائے تو وہ قائم رہتا ہے اور اگر اِس کے خلاف صحبت مل جائے تو اِس کا ساتھ جاتا رہتا ہے. مثال کے طور پر مشرق کی عورت اور مرد میں شرم و حیا ہر معاملہ میں بدرجہ اتم موجود ہے اِس کے برعکس مغرب کی عورت و مرد شرم و حیا سے قطعاً عاری ہیں.

    ایک بچہ جس کی تربیت شرم و حیا کے مطابق کی جائے وہ کسی کے اصرار پر بھی اپنے کپڑے اُتارنے کو تیار نہیں ہو گا. مثال کے طور پر کسی بھی بچے کے حساس سَتر کو برہنا کریں گے تو وہ بچہ اس کی مدافعت کرے گا اور کئی بچے تو ہاتھوں سے مزاحمت اور رو کر اس کی مدافعت کرتے ہیں.

    رسول ﷲ ﷺ جب بچے تھے تو خانۂ کعبہ کی تعمیر کا کام ہو رہا تھا. آپ ﷺ اینٹیں اُٹھا اُٹھا کر لا رہے تھے. آپ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ نے کہا کہ تم تہمد کھول کر کندھے پر رکھ لو کہ اینٹ کی رگڑ نہ لگ جائے. آپ ﷺ نے ایسا کیا تو آپ ﷺ پر بے ہوشی طاری ہو گئی. ہوش آیا تو زبان پر تھا "میرا تہمد”. حضرت عباسؓ نے تہمد باندھ دیا.

    نبوت کے بعد بھی آپ ﷺ کا یہ حال تھا کہ صحابہؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے.

    حدیث شریف میں ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا: "الحَيَاءُ خَيرٌ كُلُّهٌ” یعنی حیا سراپأ خیر ہے.
    یعنی حیا سراسر خیر ہے اور اس میں سو فیصد خوبیاں ہیں.

    شرم و حیا کی کئی اقسام ہیں. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے.” (بخاری شریف)

    ​ان اقسام پراگر لکھا جائے تو ایک زندگی چاہیے. انسان کی زندگی کے ہر معاملہ میں شرم و حیا کا دخل ہے. مثلاً لڑکیاں لڑکوں کے ہجوم میں جاتے ہوئے گھبراتی (شرماتی) ہیں. اگر اُن کو کوئی چیز لینی ہے تو صرف شرم و حیا ہی اُن کا رستہ روکتی ہے. اس کے برعکس مردوں کے لیے شرم و حیا یہ ہے کہ وہ عورتوں کا ہجوم دیکھ کر راستہ سے ہٹ جاتے ہیں، نگاہیں جھکا لیتے ہیں یا پھر کام کی جگہ پر عورتوں کو پہلے کام کرنے دیں یا اُن کے لیے کام کرنے کے لیے جگہ بنائیں.

    لین دین، رشتہ داری، ہمسائیگی، شہری، دوست، مُلکی دوست، غیر مُلکی دوست، حتی کہ اس کا دائرہ کار تمام انسانیت پر مُحیط ہے.

    شرم و حیا ایک مسلمان، کافر کے ساتھ سلوک کرتے ہوئے بھی ملحوظِ خاطر رکھتا ہے. مثال کے طور پر رسولِ کریم ﷺ نے کُفارِ مکہ کے ساتھ ہر معاملہ میں شرم و حیا اور اخلاق کا دامن کبھی نہیں چھوڑا. یہ شرم و حیا ہی تھی کہ فتحِ مکہ کے بعد، عورتوں، بچوں اور ضعیفوں پر ہاتھ اُٹھانے سے سختی سے منع کیا گیا تھا. جس کے گھر کا دروازہ بند ہو اُس پر حملہ کرنے سے منع کیا گیا. اور شرم و حیا کی حد یہ تھی کہ اپنے عظیم دشمن ابو سفیان کے گھر پناہ لینے والے کو بھی معاف کیا.

    حضور ﷺ نے زندگی کے ہر معاملے میں، ہر قوم اور ہر نسل کے ساتھ شرم اور حیا کا خیال رکھتے ہوئے سلوک کیا. اگر تمام مسلمان "خصوصاً” اور دوسرے انسان "عموماً” اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو اولادِ آدم ایک قوم بن کر اُبھرے گی.

    یہ شرم و حیا کا عمل ہے جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان سے محبت کرتا ہے. اُس کی مدد کرتا ہے. اُس سے روابط بڑھاتا ہے، رشتہ داریاں پیدا کرتا ہے، تجارت کرتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جُلنا بڑھاتا ہے.

    شرم و حیا صرف ایمان ہی نہیں بلکہ مکمل دین ہے.
    حدیثِ قُدسی میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
    "ہر دین کی (خاص) عادت ہوتی ہے اور اسلام کی عادت حیا ہے”. (مشکوٰۃ شریف)

    یہی انسانیت کی معراج ہے. اگر انسان میں فطرتاً شرم و حیا نہ ہوتی اور وہ اس کی حفاظت نہ کر پاتا تو دُنیا میں آج انسانیت نہ ہوتی بلکہ چنگیزی ہوتی.
    جیسا کہ ایک اور حدیثِ قُدسی میں ارشاد کیا کہ”حیا اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اٹھ جائے تو دوسرا بھی خود بخود اٹھ جاتا ہے”. (مشکوٰۃ شریف)

    ایک اور حدیث میں حیا کی فضیلت اس طرح بیان ہوئی کہ "بے حیائی جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے عیب دار ہی بنائے گی. اور حیا جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے مزین اور خوبصورت ہی کرے گی.” (ترمذی شریف)

    انسان کو ﷲ کا شُکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے انسان کو مل کر رہنے کے لیے شرم و حیا جیسا عطیہ عطا فرمایا جس کی وجہ سے وہ آج اشرف المخلوقات ہے.

    و آخر دعوانا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ…

    @heermmalik

  • اپنے بچوں سے دوستی کریں . تحریر : شمس الدین

    اپنے بچوں سے دوستی کریں . تحریر : شمس الدین

    والدین کو چاہیے اپنے بچوں کی باتیں سنیں ان سے پیار کریں ان سے دوستی کریں. اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں ان کی ہر حرکت پر نظر رکھیں انہیں صاف بہتر ماحول دیں. سب سے پہلے اپنے بچوں کی اچھی پرورش کریں انہیں اچھا اخلاق سکھائیں بہتر سے بہتر تعلیم دیں. اپنے بچوں کو ٹائیم دیں ان کی کٹھی میٹھی باتیں سنیں.

    جو والدین اپنے بچوں کو ٹائیم نہیں دیتے وہ بڑا نقصان اٹھاتے ہیں. ان کے بچے جب بڑے ہوتے ہیں وہ بد اخلاق تعلیم محروم بڑوں کا کہنا نہیں مانتے برے کاموں میں مبتلا ہوجاتے ہیں. پہر والدین کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں. اگر شروع سے ان بچوں کی اچھی تربیت ہو ان کو اچھا بہتر ماحول دیا جائے انہیں بہتر تعلیم دی جائے تو وہ بچے بڑے ہوکر اچھے بن سکتے ہیں. بڑوں کا ادب بھی کریں اچھا اخلاق اپنائیں گے.

    معذرت سے کہنا پڑ رہا ہے کچھ والدین ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے. میرا ان سے سوال ہے جب آپ کو اولاد نہیں چاہیے تھی تو ان کو پیدا کیوں کیا؟ جب ان کو اچھا ماحول نہیں دے سکتے اچھی تعلیم نہیں دے سکتے اچھا اخلاق نہیں سکھا سکتے تو پہر اولاد کو پیدا ہی کیوں کیا؟ اور ایسے بھی دیکھا ہے جب وہ بچے بڑے ہوتے ہیں والدین کا کہنا بلکل نہیں مانتے والدین سے اونچی آواز میں بات کرتے ہیں. تب ان والدین کو بھی احساس ہوتا ہے کے میرا بچہ کہنا نہیں مانتا اچھے طریقے سے بات نہیں کرتا. جب والدین شروع سے ہی اپنے بچوں کو آوارہ چھوڑ دیں گے تو نتیجہ یہی نکلے گا آپ کی اولاد بڑی ہوکر آپ کے سامنے کھڑی ہوگی آپ سے اونچی آواز میں باتیں کریگی ایک دن ایسا بھی آئیگا آپ کے بچے آپ دور بھی ہوجائیں گے.

    ایسی نوبت آنے پہلے اگر آپ چاہتے ہیں کے آپ کی اولاد بڑی ہوکر بااخلاق بنیں آپ کا کہنا مانے بڑوں کا ادب کرے تو آپ کو اپنے بچوں کو ٹائیم دینا ہوگا ان کی باتوں کو سننا ہوگا ان سے دوستی کرنا ہوگی. ان کی چھوٹی موٹی باتیں سننا ہوگی جب آپ اپنے بچوں کو ٹائیم دیں گے ان سے پیار محبت سے باتیں کریں گے ان کے جائز مطالبات مانیں گے ان کی اچھی تربیت کریں گے ان کو بہتر ماحول دیں گے اچھی تعلیم دیں گے تو یقینن آپ کی اولاد بڑی ہوکر آپ کے نقش قدم پر چلے گی. بس آپ کو شروع میں تھوڑی محنت کرنی پڑیگی. جب آپ یہ تمام کوشش ایمانداری کے ساتھ نبھائیں گے تو انشاء اللہ آپ کو نتیجہ بھی بہتر ملے گا.

    ہم امید کرتے ہیں تمام والدین اپنے بچوں کو ٹائیم دیں گے ان کی اچھی تربیت کریں گے. ان سے دوستی بھی کریں گے انہیں بہتر سے بہتر ماحول دیں گے. انہیں بہتر تعلیم دیں گے انہیں اچھا اخلاق سکھائیں گے.

    @shamsp6

  • عدم برداشت . تحریر : معین الدین بخاری

    عدم برداشت . تحریر : معین الدین بخاری

    ایک معاشرتی ناسورجس کا قلع قمع انتہائی ضروری عدم برداشت کے ناسورنے زندگی کے ہرشعبے کومتاثر کیا ہے مثلاً بیوی نے اس لیے خلع کا کیس دائرکردیا کہ اسکا شوہرکام سے تھکا ہوا آیا تھا اوراسے آج کے بجائے کل کو باہر لے جانے کہا، ایک کاروالا اس لیے رکشے والے سے لڑ پڑا کہ وہ اس کو اوورٹیک کر گیا اورایک خاتونِ خانہ نے اپنی ملازمہ کو اس لیے پیٹ دیا کہ وہ اپنا دو سالہ بچہ ساتھ لائی تھی جس نے الٹی کر دی غرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں رہا کہ جہاں عدم برداشت کا واقعہ رونما نہ ہوا ہو.

    لیوی ایڈل مین Levi Adelman نے اپنی سائیکالوجیکل ریسرچ میں لکھا ہے کہ عدم برداشت کی تین قسمیں ہیں. ایک متعصبانہ عدم برداشت دوسری بدیہی عدم برداشت اسے ہم خود ساختہ عدم برداشت یا کسی کے بارے میں بغیرکسی وجہ کے بدگمانی پیداکرلینا بھی کہ سکتے ہیں اور تیسری قسم Deliberately Intolerance یعنی جان بوجھ کر کسی کو برداشت نہ کرنا یا کسی کے بارے میں بغض رکھنا کہہ سکتے ہیں.

    بہرحال عدم برداشت چاہے کسی بھی قسم کی ہو، معاشرے میں بگاراور پر تشدد واقعات کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے. اگر کھانے میں نمک کم یا زیادہ ہو جائے تو شوہر بیوی کی 99 اچھائیاں بھلا کر اسے تنقید یا تشدد کا نشانہ بنا دیتا ہے اور بیوی بھی معمولی سی بات پر خلع کا مطالبہ کر دیتی ہے جس سے نہ صرف ایک خاندان بلکہ اس سے جڑے درجنوں افراد اذیت کا شکار ہوجاتے ہیں.
    اس طرح سے عدم برداشت نے ہمارے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے. لیکن اگر دیکھا جائے تو کسی بھی ناگوار بات پر کچھ لمحہ کا صبر ہمیں اس اذیت اور شرمندگی سے بچا سکتا ہے. ہمیں ایک دوسرے کو اس لیے برداشت کرنا ہے کہ سب ہی ہماری طرح انسان ہیں جنہیں اپنی زندگی گزارنے کا حق اللہ تعالیٰ سے ملا ہے چاہے وہ رکشہ ڈرائیور یے، ہمارے گھر کام کرنے والی خاتون ہے یا پھر کوئی غریب معصوم بچہ، سب کو ایک ہی رب العالمين نے پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بھی بنا دیا.
    بحیثیت مسلمان اس معاشرتی بگاڑ کو سدھارنے کا نسخہ یہی ہے کہ ہم ہمہ وقت صبر اور شکر کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھیں. مثال کے طور پر اگر بیوی کھانے میں نمک ڈالنا بھول گئی ہے تو یہ سوچ لیں کہ وہ بھی انسان ہے اور انسان غلطی سے مبرا نہیں ہے. مفہوم حدیث ہے کہ صبر اور شکر کرنے والے جنتی ہیں. (کشاف، ص 572 ج اول قاہرہ 1325 ھ)
    آخر میں یہی کہوں گا کہ معاشرے افراد سے بنتا ہے اور اسکی اصلاح یا بگاڑ کا انحصار بھی افراد کے رویہ پر ہوتا ہے اس لیے ہم میں سے ہر فرد (عورت، مرد) کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح میں حصہ لیں گے یا بگاڑ میں.
    معین الدین بخاری
    ٹویٹر آئی ڈی @BukhariM9

  • صبر اور شکر۔تحریر: کنزہ صادق

    صبر اور شکر۔تحریر: کنزہ صادق

    ایمان کے دو حصے جنکا نام صبر اور شکر ہے۔ اور یہ دونوں ہی اللہ تعالٰی کو نہایت پسند ہیں۔
    قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے صبر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :

    أُوْلَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَO

    ’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی خرچ کرتے ہیں۔‘‘

    القصص، 28 : 54
    عربی لغت میں صبر کے لفظی معنی ہیں برداشت کرنا اور دوسری طرف شکر کے معنی ہیں اظہارِ احسان مندی۔
    مسلمان کی پوری زندگی صبر اور شکر کے دائرے میں آتی ہے
    شکر اخلاق، اعمال اور عبادات کا بنیادی جزو ہے۔ شکر کے بغیر تمام اعمال و عبادات بے معنی ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں شکر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
    کی
    مَّا يَفْعَلُ اللّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ وَكَانَ اللّهُ شَاكِرًا عَلِيمًاO

    ’’اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ (ہر حق کا) قدر شناس ہے (ہر عمل کا) خوب جاننے والا ہےo‘‘

    النساء، 4 : 147
    ہمارے پیارے نبی اللہ پاک کا شکر ادا کیا کرتے تھے دن رات اللہ کا شکر ادا کرتے تھے
    چرند پرند بھی اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں انسان کو چاہیے کہ وہ بھی ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرئے اپنی ہر سانس پہ اللہ کا احسان مند ہو الحمدللہ ہم سانس لیتے ہیں چلتے پھرتے ہیں ہمارے ہاتھ پاوں سلامت ہیں ہم دیکھ سکتے ہیں اپنے رب کی نعمتوں کا احسان مند ہونا ضروری ہے
    شکر کے متعلق ایک حدیث ہے کہ
    حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کثرت سے قیام فرماتے اور عبادتِ الٰہی میں مشغول رہتے۔ کثرتِ قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پاؤں سوج جاتے۔ آپ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم ! آپ تو اللہ تعالیٰ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا.

    ’’کہا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔‘‘
    جب آقا دو جہان کے شکر کا یہ عالم تھا جنکے لیے دنیا بنائی گئ تو ہمیں تو ہر حال میں رب کے آگے جھکنا چاہیے
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آزمائش جتنی سخت ہوتی ہے اسکا بدلہ بھی اتنا ہی بڑا ملتا ہے اللہ پاک جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو اسے آزمائش میں ڈال دیتے ہیں پھر جب وہ اس آزمائش پہ راضی رہا (یعنی صبر سے کام لیا) تو اللہ پاک بھی اس سے راضی ہوجاتے ہیں اور جو اس پر ناراض ہوا تو اللہ پاک بھی اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔
    (سنن الترمذی 2396)
    ہماری روزمرہ کی زندگی میں یہ دونوں چیزیں آجائیں تو زندگی گزارنا بھی آسان ہے گھریلو معاملات بھی آسان ہو جائیں سادہ سی بات ہے کہ اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کا ماحول ہے آپ 2 منٹ صبر سے کام لیں تو آدھا مسلہ تو اسی طرح ختم ہوجاتا ہے
    اسی طرح گھریلو خواتین کم خرچے میں گھر چلائیں اور اسی پر شکر ادا کریں تو بھی زندگی کے آدھے مسائل کا خاتمہ ہوجائے یہاں یہ مثال دینا اس لیے بھی ضروری تھا کہ آج کل معاشرے میں یہی دو مسلے سب سے زیادہ ہیں برداشت کی کمی کتنے گھر اجاڑ چکی ہے اور تنگدستی کتنے ہی مسائل کو جنم دیتی ہے لہذا ہم سب اللہ اور اسکے رسول کے بتائے ہوئے رستے پہ چلیں تو زندگی بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

  • اشتہاری مہم اب خلا میں ہو گی .تحریر:صوفیہ صدیقی

    اشتہاری مہم اب خلا میں ہو گی .تحریر:صوفیہ صدیقی

    آسمان سے پریاں اترتی نظر آئیں یا نہ آئے۔ اب وہ وقت دور نہیں ہے جب تمام ماڈلز اور اشتہارات آپ کو آسمان پہ نظر آئیں گے۔
    حال ہی میں آپس ایکس ( Space X) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آسمان میں ستاروں کی جگہ لوگوں کو اشتہارات دکھائیں گے۔ یعنی ان خلائی کمپنیوں کو لگتا ہے کہ خلا میں موجود خالی جگہ کو اشتہار کے بطور استعمال کرنا،عوام کے لیے ایک دلچسپ کام ہو گا۔ ایسا خیال آج کل space X کمپنی کے مالک ایلون مسک کا بھی ہے جو خلا میں پہلا بل بورڈ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ تاہم ، ماہرین فلکیات اور ماہرین ماحولیات اس خیال کو مسترد کر رہے ہیں۔
    دیکھتے ہے یہ بازی کون جیتتا ہے۔ لیکن اس منصوبے کا آغاز اور کاروباری افراد اسپیس ڈسپلے کے لئے تین طرح کے اشتہارات کا تصور کررہے ہیں۔ پہلہ واضح اشتہار ، دوسرا تفریح ​​کے لیے اور تیسرا ہنگامی صورتحال میں انتباہ کے طور پر۔
    اس سال کے شروع میں سپیس X کے بانی ، ایلون مسک نے ایک کینیڈین ادارے جیمومیٹرک انرجی کارپوریشن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس میں دونوں کمپنیاں مل کر یک "خلائی آرٹ” کو لانچ کریں گے اور اپنے خلائی اشتہار کے خواب کو حقیقت تبدیل کریں گے۔۔

    خلائی ٹکنالوجی میں ترقی کے ساتھ ، جی ای سی جیسی کمپنیوں نے خلا میں چھوٹے بل بورڈ لانے کے لئے اپنا کیوب سیٹیں تیار کر لیا یے۔
    یہ اشتہارات انتہائی مہنگے اور ان کی قیمتوں کا تعین ٹوکن کی مارکیٹ ویلیو کے ذریعہ کیا جائے گا۔ جس کو کیوب سیٹ پر پکسلز استعمال کرنے کے حقوق میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
    خلا کی تشہیر کا خیال تخلیقی ہوسکتا ہے اور اشتہاری کمپنیوں کو مالیاتی فوائد بھی دے سکتا ہے۔ ان خلائی اشتہارات کی لانچ کی توقع 2022 سے پہلے نہیں کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ
    سپیس ایکس، سپر باؤل اور فارمولا ون گرانڈ، پہلے بھی تشہیر ایسے منصوبے بنا رہے ہیں ، فی الحال ، اسپیس X خلا میں تھوڑا سا بوجھ لے رہا ہے کیونکہ بہت سارے معاملات ابھی حل ہونے کے منتظر ہیں۔

    جبکہ ، ماہرین فلکیات اور خلائی وکیلوں کا ردعمل عالمی سطح پر منفی ہے۔ ماہرین فلکیات پہلے ہی خلا میں بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت کے بارے میں پریشان ہیں جو مشاہدات کو مزید دشوار بنا رہا ہے۔
    کئی خلائی وکیل اس طرح کے امکان کے خلاف ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ غیر فطری ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ہر قدرتی اراضی کا استحصال نہیں کرنا چاہئے ۔
    روسں اپنے ایک ذیلی ادارہ پیپیسکو سیٹلائٹ کے ذریعہ انرجی ڈرنک کی تشہیر کے لئے اسٹارٹ راکٹ نامی مقامی اسٹارٹ اپ کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ لیکن عوامی تنقید کے بعد ، کمپنی نے خلا میں اپنی مصنوعات کی تشہیر کرنے کے اپنے منصوبوں کو روک دیا ہے۔

    ویسے تو انسان کا خلا سے تشہیر کا تصور نیا نہیں ہے ، شاید چاند پہ موجود ہے بڑھیا، پریاں اور خلائی مخلوق کا تصور ان کی بنیاد بنا یے۔ایسے منصوبے ہمیشہ تنقید کا حصہ رہے ہیں ۔
    امریکی وفاقی قانون میں کہا گیا ہے کہ "بیرونی خلا میں تشہیر کرنا جو زمین سے ننگی آنکھ کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے وہ باطنی خلائی اشتہار کا فعل ہے” لہذا یہ غیر قانونی ہے۔ اس منصوبے کا مستقبل واضح نہیں ہے ۔
    اتنی ساری معلومات کے بعد آپ کو کیا لگتا ہے کہ کیا واقعی انسان خلاؤں پر اشتہار چلانے کے قابل ہو جائے گا یا قدرت اس مداخلت کو برداشت نہیں کرے گی ۔
    انسان کااسمانوں تک پہنچنے کا خواب اور چاند، ستاروں اور سیاروں کو مسخر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی مداخلت کا یہ سلسلہ اب رکنے والا نہیں بلکہ انسانی پیش قدمیاں جاری رہے گی۔ لیکن شاید ان کےحقیقت ہونے تک ہم خود کوئی تارا بن جائیں۔
    آخر میں بس اتنا ہی کہ جلد ہی آپ اور ہم ہواؤں میں اڑنے پھرتے اشتہارات دیکھے گے۔

  • وطن سے محبت .تحریر:سدرہ

    وطن سے محبت .تحریر:سدرہ

    وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان اور بلکہ ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے جس زمین پر انسان پیدا ہوتا ہے اپنی زندگی گزارتا ہے ۔۔ جہاں اس کے رشتہ دار ہوتے ہیں ۔۔ خاندان کے باقی افراد ہوتے ہیں وہ زمین اس کا گھر ہوتی ہے ۔۔ وہاں کی گلیوں،وہاں کے درودیوار وہاں کی گھاٹیوں پہاڑوں اور چٹانوں سے انسان کو قدرتی طور پر لگاؤ ہوتا ہے اور اس کی ایک ایک چیز سے یادیں جڑی ہوتی ہیں
    کسی بھی تارک وطن کے لیے بیرون ملک جانا اور کمانا بہت مشکل ہے کیونکہ وجہ صرف یہی ہے کہ ملک سے محبت ایک فطری عمل ہے ۔۔۔ اسی لیے جو لوگ ملک سے غداری کرتے ہیں انہیں کبھی بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جاتا جو لوگ ملک کے لئے لازوال قربانیاں دیتے ہیں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے
    وطن سے محبت کے اس فطری جذبے کا اسلام نا صرف احترام کرتا ہے بلکہ ایک ایسا پر امن ماحول فراہم کرتا ہے جس میں رہ کر انسان اپنے ملک کی اچھے سے خدمت کر سکے اسلام ہر اس کا حکم دیتا ہے جس سے امن کو فروغ ملے اور ہم وطنوں کے درمیان تعلق مضبوط ہو
    وطن سے محبت کا جذبہ صرف جذبات تک نہیں محدود ہونا چاہیے بلکہ گفتار اور کردار میں بھی لازمی ہو ۔۔ سب سے پہلے وطن کی سلامتی کے لیے اللہ تعالٰی سے دعا کرنی چاہیے کیونکہ دعا میں دل کی سچائی کا مظاہرہ ہوتا ہے اس میں جھوٹ اور نمائش نہیں ہوتی بلکہ اللہ پاک سے براہ راست تعلق ہوتا ہے
    وطن کی سلامتی اس امر میں ہے کے ملک کو کرپشن اور بدعنوانیوں سے پاک رکھا جائے، لوگوں کے جان و مال اور عزت کی حفاظت کی جائے معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کیا جائے اور امن کو فروغ دیا جائے ۔۔ اب ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ہم نے اب تک کیا کیا؟؟ ملک کی ترقی میں اپنا کتنا کردار ادا کیا؟؟ عوامی بہبود اور آگاہی مہم کے لیے کتنا کردار ادا کیا ۔۔ ؟؟؟ آج ہمارا فرض بنتا ہے کے مثبت سوچتے ہوئے اس مک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں

    دعا ہے اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔۔ آمین
    سدرہ

  • ‏مسلمانوں کی اصل تاریخ . تحریر:عرفان محمود گوندل

    ‏مسلمانوں کی اصل تاریخ . تحریر:عرفان محمود گوندل

    مسلم سائنسدانوں کا حشر جو خود مسلمانوں نے کیا۔

    یعقوب الکندی
    فلسفے، طبیعات، ریاضی، طب، موسیقی، کیمیا فلکیات کا ماہر تھا۔ الکندی کی فکر کے مخالف خلیفہ کو اقتدار ملا تو مُلّا کو خوش کرنے کی خاطر الکندی کا کتب خانہ ضبط کر کے اس کو ساٹھ برس کی عمر میں سرعام کوڑے مارے گئے اور تماش بین عوام قہقہہ لگاتے تھے۔

    ابن رشد
    یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اندلس کے مشہورعالم ابن رشد کو بے دین قراردے کراس کی کتابیں نذرآتش کر دی گئیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے جامع مسجد کے ستون سے باندھا گیا اور نمازیوں نےاس کے منہ پر تھوکا۔ اس عظیم عالم نے زندگی کے آخری دن ذلت و گمنامی میں بسر کیے

    ابن سینا
    جدید طب کے بانی ابن سینا کو بھی گمراہی کا مرتکب اور مرتد قرار دیا گیا۔ مختلف حکمران اس کے تعاقب میں رہے اوروہ جان بچا کر چھپتا پھرتا رہا۔ اس نے اپنی وہ کتاب جو چھ سو سال تک مشرق اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی، یعنی القانون فی الطب، حالت روپوشی میں لکھی۔

    زکریاالرازی
    عظیم فلسفی، کیمیا دان، فلکیات دان کو جھوٹا اور کافر قرار دیا گیا حاکم وقت نے حکم دیا کہ اس کی کتاب اس وقت تک اس کےسر پر ماری جائے جب تک یا تو کتاب نہیں پھٹ جاتی یا رازی کا سر اس طرح بار بار کتابیں سرپہ مارے جانے کی وجہ سے وہ اندھا ہو گیا اور باقی زندگی کبھی نہ دیکھ سکا۔

    خلافت عثمانیہ کے ٹوٹنے کی بہت سی وجوہات تھیں لیکن جو سب سے بڑی وجہ تھی وہ یہ تھی کہ کچھ مولویوں نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ توپ کے گولوں میں حرام میٹریل استعمال ہوتا ہے لہذا اس میٹریل کو بنانا تو دور کی بات اس کے قریب جانا بھی گناہ کبیرہ ہے ۔
    سرسید احمد خان نے دیکھا کہ برصغیر میں ہندو تعلیمی میدان میں باقی سب قوموں سے آگے بڑھتے جارہے ہیں، ہر اسکول اور کالج میں
    ہندو اورمسلمان طالب علموں کا تناسب دس اور ایک کا ہے اور اگر کہیں پر دو چار مسلمان طلبا ہیں تو وہ بھی انگریزی کے قاعدے کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں، دوسرے لفظوں میں ان دنوں والدین اور مولوی حضرات انگریزی زبان اور کتاب کو ہاتھ لگانا مکروہ قرار دے رہے تھے۔ ایسی صورتحال پر سر سید احمد خان کا ماتھا ٹھنکا اور انھوں نے مسلمان طلبا کو انگریزی تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کرنے کی مہم چلائی جس کے نتیجے میں ان پر انگریز کا پٹھو اور کافرہونے کے فتوے لگادیے گئے۔

    کبھی کبھی سوچتا ہوں ہم اپنے بچوں کو سچ کیوں نہیں پڑھاتے ۔۔۔ ؟
    مسلمانوں جیسے جیسے غدار پچھلے ہزار سال میں پیدا ہوئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ۔
    جس طرح مسلمانوں نے اپنے طاقت کو زوال میں تبدیل کیا اور جیسے اپنے آپ کو تباہ کیا ۔
    آنے والی صدیوں میں لوگ حیرت کا اظہار کریں گے کہ ان مسلمانوں کا دین انہیں کیا کہتا تھا اور یہ کرتے کیا تھے ۔

    بدقسمتی سے ہم مسلمان خود اپنے اکابرین کے اس بیش بہا خزانے سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ سلسلہ اب بھی اگر اسی طرح جاری رہا تو آنے والی دہائیوں اور صدیوں میں مسلم امہ اقوام عالم سے مزید پیچھے رہ جائے گی۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ خواب غفلت سے نکلا جائے
    اور  اگر آگے بڑھنا ہے تو ایک قومی ایمرجنسی لگانی ہوگی تاکہ ہماری قوم اپنا سارا زور تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی طرف لگائیں تاکہ غربت کے شکنجے سے آزاد ہوسکیں۔

    @A_IG68

  • ‏بانی پاکستان تیرا احسان ہے . تحریر: سیدماجد حسین شاہ

    ‏بانی پاکستان تیرا احسان ہے . تحریر: سیدماجد حسین شاہ

    پاکستان کے بانی محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں واقع وزیرمینشن کے نام سے مشہورمکان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پونجا جناح تھا ، اور والدہ مٹھی بائی تھیں ، وہ ایک مرچنٹ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک عظیم سیاست دان اور اپنے وقت کے ایک مشہور وکیل بھی تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام میں حاصل کی، میٹرک کا امتحان جامعہ ممبئی سے پاس کیا اور بعدازاں اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر لندن روانہ ہوگئے۔ محمد علی جناح نے 1895 میں لندن کی یونیورسٹی سے 19 برس کی عمر میں قانون کی ڈگری حاصل کرکے کم عمر ترین ہندوستانی قانون دان کا اعزاز حاصل کیا اور کچھ ہی عرصے بعد ہندوستان واپس آکر باقاعدہ طور پر وکالت کا آغاز کیا جہاں ان کا شمار نامور وکلا میں کیا جانے لگا۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے بہت جدوجہد کی اور اپنی غیر معمولی کاوشوں کی بدولت انہیں مولانا مظہرالدین نے "قائداعظم” کے لقب سے نوازا۔

    بیس سال کی عمر میں آپ نے بمبئی ہائی کورٹ میں داخلہ لیا جب وہ برٹش انڈیا واپس آئے تو بار میں داخل ہونے والے وہ سب سے کم عمر شخص تھے ، جہاں انہوں نے قوم کے سیاسی امور میں دلچسپی لینا شروع کی اور اگلے تین سالوں میں مشہور ہوگئے۔ بمبئی کے ایڈووکیٹ جنرل نے انہیں اپنے بار کے لئے کام کرنے کی دعوت دی اور چھ ماہ کے بعد 1500 روپے ماہانہ تنخواہ کی پیش کش کی ، جو اس وقت بہت بڑی رقم تھی لیکن انہوں نے نرمی سے اس پیش کش سے انکار کردیا اور کہا کہ اس نے روزانہ 1500 کمانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اسے ثابت کردیا کہ اس کی بے عیب کوششوں سے مستقبل میں ممکن ہے۔ لیکن نئی ریاست پاکستان کے بطور گورنر جنرل ، انہوں نے اپنی ماہانہ تنخواہ کے طور پر 1 روپیہ مقرر کیا۔ وہ عدل پسند آدمی اور سمجھدار شخصیت تھے۔

    جناح نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے 1906 میں کیا ، پھر سات سال بعد ، وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک ساتھ کام کرنے کے لیے بہت جدوجہد کی لیکن ایک ہی وقت میں ، انہوں نے برصغیر میں نسلی مذہب کی ثقافت کو پایا اور محسوس کیا کہ برصغیر کے مسلمان انگریزوں کے تحت اپنے ثقافتی اور معاشرتی حقوق کی قربانی دے رہے ہیں۔پھر انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے اپنی کوششیں شروع کیں اور ایک آزاد ریاست بنانے کا منصوبہ بنایا جہاں مسلمان آزادی کا سانس محسوس کرسکیں۔ سب سے بڑی طاقت اس آزادی میں تمام مسلمان تنظیموں کا اتحاد تھا ، اور یہ قائد اعظم کی قیادت ہے جو برصغیر کے تمام مسلمانوں کو ایک علیحدہ مملکت رکھنے کے اسی ایجنڈے پر متحد کیا۔ پاکستان کا قیام ہزاروں آزادی پسندوں کے خون کے ساتھ ساتھ جناح کی قیادت کا نتیجہ ہے ، پاکستان ان کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا تھا۔

    وہ حق اور سچ کے سب سے بڑے ترجمان تھے، وہ ہمیشہ مخالفین کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہو جا تےتھے اور کبھی کسی بات کو ناممکن نہیں سمجھتے تھے ۔ گاندھی نے ان اصولوں کے عزم کے سبب انہیں "ناممکن آدمی” کہا۔ جناح نے کہا: "فیصلہ سنانے سے پہلے سو بار سوچو ، لیکن ایک بار فیصلہ سنانے کے بعداس پر ڈٹ جاو ، اس فیصلے کے ساتھ ایک مضبوط آدمی کی طرح کھڑے ہو جاؤ
    1930 میں وہ برصغیر کے تمام مسلمانوں کا غیر متنازعہ رہنما بن گئےاور مسلم لیگ کی قیادت کرنا شروع کردی۔ 1940 میں، مسلم لیگ نے مینار پاکستان لاہور میں قرارداد پاکستان کا مسودہ تیار کیا ، جو جنگ آزادی میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ثابت ہوا ہے۔ قرارداد پاکستان منظور ہونے کے بعد ، آپ نے دن رات محنت کی اور اپنی صحت کے بارے میں بھی فکر مند نہیں رہےجو دن بدن گرتی جارہی تھی ، لیکن آپ نے نے اسے خفیہ رکھا اور کبھی کسی کے سامنے اس کا انکشاف نہیں ہوں دیا ، ان کی قربانی اپنے مفاد کے لئے نہیں بلکہ پوری مسلم قوم کیلئے تھی۔ ان کی دانشمندانہ قیادت اور بھرپور کوشش کی وجہ سے ہی پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔ وہ کئی سالوں سے تپ دق کے ساتھ برسرپیکار رہے لیکن اسے کبھی بھی اپنی کمزوری نہیں بنایا.

    قائداعظم محمد علی جناح ہمیشہ تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کے خواہاں تھے لیکن انھوں نے کشمیر کو ہندوستانی چنگل سے آزاد کروانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا عزم بھی کیا تھا، قائداعظم کے کشمیر کے تین دورں سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں کشمیر اور اس کی سیاست میں گہری دلچسپی تھی، قائداعظم اصولوں والے آدمی تھے۔ وہ پاکستان کے مشن پر اپنی ذمہ داری اور مستحکم یقین کے پیش نظر کامیاب ہوئے اور آج ہمیں بھی اسی عزم اور حوصلےکی ضرورت ہے۔ قائد کے وژن سے انحراف پاکستان کے استحکام کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوگا۔ اگر کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ بنایا گیا تو مستقبل میں ملک کو شدید چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کی صورتحال نے قائداعظم محمد جناح کے ہر لفظ کو درست ثابت کیا۔ ایک سیاسی طور پرمتحد، معاشرتی طور پر ہم آہنگ اور معاشی طور پر خوشحال پاکستان غیر قانونی بھارتی محکومیت سے کشمیر کی آزادی کی راہ ہموار کرے گا۔ قائد اعظم کی کشمیریوں کے ساتھ وابستگی کی تکمیل ہوگی.

    فرمان قائداعظم ہےحب الوطنی لوگوں کو ملک و قوم کے مفاد کو محفوظ رکھنے کی طاقت اور ہمت دیتی ہے۔ حب الوطنی کے لئے ملک کی خودمختاری ، سالمیت اور وقار اعلیٰ ترین اقدار ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ محب وطن ان اقدار کے تحفظ کے لئے قربانی پیش کرتے ہیں دو قومی نظریے قیام پاکستان کی اساس ہے۔ دو قومی نظریہ نےبرصغیر کے دو بڑی برادریوں ، ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین ثقافتی ، سیاسی ، مذہبی ، معاشی اور معاشرتی عدم مساوات ہیں۔
    قائداعظم کے حوالے
    1-میں صحیح فیصلہ لینے میں یقین نہیں رکھتا ، میں فیصلہ لاتا ہوں اور اسے درست کرتا ہوں۔”
    محمد علی جناح
    2-فیصلہ لینے سے پہلے سو بار سوچو ، لیکن ایک بار جب فیصلہ کرلیا جاتا ہے تو ایک مضبوط آدمی کی طرح اس کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔
    – محمد علی جناح
    3-دنیا میں دو طاقتیں ہیں۔ ایک تلوار ہے اور دوسرا قلم۔ دونوں کے مابین زبردست مقابلہ اور دشمنی ہے۔ ان دونوں کی نسبت خواتین کی ایک تیسری طاقت مضبوط ہے۔
    – محمد علی جناح
    3-بہترین کی توقع کرو ، بدترین کے لیے تیار رہو۔
    – محمد علی جناح
    4-جمہوریت مسلمانوں کے خون میں ہے ، جو انسانیت کی مکمل مساوات پر نگاہ رکھتے ہیں ، اور بھائی چارے ، مساوات اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔
    – محمد علی جناح
    5-کوئی بھی قوم عظمت کے عروج تک نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ آپ کی خواتین آپ کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔ ہم بری رسم و رواج کا شکار ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کہ ہماری خواتین گھروں کی چار دیواری کے اندر قیدی بن کر بند رہیں۔ اس قابل فریب حالت کے لئے کہیں بھی اجازت نہیں ہے جس میں ہماری خواتین کو رہنا پڑے۔
    محمد علی جناح اس کے علاوہ ان کی اور بھی کوٹیشنز ہیں آپ بہت ہی ایماندارشفیق اور سادہ انسان تھے
    11 ستمبر 1948 کو آپ کی موت ہوگئی ، جب آپ نے کہا ، “اسٹیٹسمین ایک قاتل کی سرپرستی سے مر گیا تھا۔ اسٹیٹسمین کا پاکستان سے تعزیت کے بعد ہی انتقال ہوگیا۔ ایک ایسا شخص جس میں اسٹیٹسمین ، جس نے پاکستان کے درپے ہونے کی جنگ لڑی تھی ، وہ مخالف دشمن پیدا کرنے اور ناقابل قبول ریاست میں ہلچل تک محدود تھا اور زیادہ تر غلط فہمی ہونے کا یقین رکھتا تھا۔
    شکریہ قائداعظم اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے آمین
    پاکستان زندہ باد

    ‎@SHAHKK14