Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عید الاضحیٰ کے موقع پر مشعال ملک کا رقت آمیزویڈیو پیغام جاری

    عید الاضحیٰ کے موقع پر مشعال ملک کا رقت آمیزویڈیو پیغام جاری

    اسیر کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ آج کشمیر میں مسلمانوں کو اپنا مذہبی تہوار عید منانے کا حق بھی نہیں اور کشمیری نماز عید بعد ایک دوسرے سے مل بھی نہیں سکتے،نریندر مودی حکومت نےکشمیریوں پر عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کے ذبح کرنے اور اجتماعی نمازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے،عید کے موقع پر کشمیر قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کشمیری حریت پسند لیڈر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے اپنے ویڈیو پیغام میں تمام اُمتِ مسلمہ کو عیدالاضحی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کو مذہبی تہوار عید منانے کا حق بھی نہیں، کشمیری عید الاضحی کی نماز بھی ادا نہیں کر سکتے عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کے ذبح کرنے اور اجتماعی نمازوں پر پابندی لگا رکھی ہے-

    مشعال حسین ملک کا عیدالاضحی پر پیغام دنیا بھر کے مسلمانوں کو عید الاضحی مبارک میری دعا ہے کہ آپ سب اپنے پیاروں اپنے دوستوں کے ساتھ محفوظ اور خوش رہیں اور یہ عید کا خوبصوت تہوار ہنستے مسکراتے منائیں یکن بد قسمتی سے مودی اور مودی حکومت نے انڈیا کے مسلمانوں اور جموں کشمیر کے کے ہر کشمیری کی ایک بار پھر زندگی جہنم بنا دی ہے-

    انہوں نے کہا یہ میری میرے شوہر کے بغیر 14ویں عید ہے ہماری فیملی بہت ہی مشکل حالات سے گزر رہی ہے کیونکہ میرے شہور میری بیٹی کے والد تہار جیل کے ڈیڈسیل میں قید ہے ہماری عید بہت ہی درد بھری ہے کیونکہ ہماری فیملیاں ساتھ نہیں ہیں ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کر سکتے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

    واضح رہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر گائے، اونٹوں، بچھڑوں اور ایسے دوسرے جانوروں کے ذبح پر پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ انیمل و شیپ ہسبنڈری اینڈ فشریز کے ڈائریکٹر پلاننگ نے اس ضمن میں جموں و کشمیر کے دونوں صوبوں کے صوبائی کمشنروں اور پولیس کے انسپکٹر جنرلوں کے نام ایک حکم نامہ جاری کیا حکم نامے میں انیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا کی طرف سے 25 جون کو ارسال کر دہ ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ‘جموں وکشمیر میں عیدالاضحیٰ، جو 21 سے 23 جولائی تک منائی جائے گی، کے دوران ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں قربانی کے جانور ذبح کئے جائیں گے –

    حکم نامے میں متذکرہ افسران سے کہا گیا کہ اس کے پیش نظر مجھے ہدایت دی گئی ہے کہ میں آپ سے انیمل ویلفیئر قوانین کی پاسداری اور جانوروں کے غیر قانونی ذبح کرنے کی روک تھام کو یقینی بنانے نیز انیمل ویلفیئر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کی درخواست کروں۔

  • سنت ابراہیمی.تحریر:  فروا منیر

    سنت ابراہیمی.تحریر: فروا منیر

    عیدالاضحیٰ پوری دنیا میں مسلمان ہر سال جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ ہر سال سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کیا جاتا ہے ۔ دنیا بھر کے مسلمان مذہبی جوش و جذبے سے عید الاضحیٰ مناتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ منانے کا مقصد سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔

    یہ عشق کی انتہا یہ تھی کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا تو آپ نے خود کو عشقِ خداوندی کی سپرد کردیا یہ عشق کی انتہا کی تھی جب آپ کو حکم ملا کہ اپنی بیوی اور بیٹے کو ویران و بیابان علاقے میں چھوڑ آؤ تو  آپ ع نے اپنی بیوی اور بیٹے کو حکم الہی کی سپرد کردیا ۔ یہ عشق کی انتہا یہ تھی کہ جب آپ کو حکم ملا کے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کر دو تو آپ نے یہ خواب اپنے بیٹے کو سنایا اور اپنے بیٹے کو حکم الٰہی کے سپرد کر دیا۔

    حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اصل مقصد نہیں تھا اصل مقصد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور  عشق کی انتہا کو دیکھنا تھا ۔ بے شک اللہ اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی ہر آزمائیش پر ثاںت قدم رہے اور کامیاب ہوئے۔
    اسی طرح ہر مسلمان کی زندگی میں آزمائش اور مشکلات آتی ہے آزمائشوں اور مشکلات میں پریشان ہونے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں ۔ ہمیں بھی ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے

    سنت ابراہیمی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں اپنی جان مال قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے
    صرف جانور کو قربانی کرنا چاہیے کہ ہمیں اپنے نفس کی قربانی دینے کی ضرورت ہے ہر اس راستے سے ہمیں دور رہنا ہے جو راستہ اللہ سے دور کر رہا ہے سب سے بڑی قربانی اپنے نفس کی قربانی ہے اللٰہ تعالیٰ کی خاطر اپنے نفس کی قربانی کے لیے بھی ہر وقت تیار رہنا چاہیے

    ہمیں سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور  دین اسلام اور راہ خدا کے لیے کسی قربانی سے انکار نہیں کرنا ہے

    Email Address
    Farwawrites1214@gmail.com

    @Fatii_PTI

    Name
    Farwa Munir

  • کیا "واقعی میں ہم سب منافق ہیں  تحریر : مسکان اشرف

    کیا "واقعی میں ہم سب منافق ہیں تحریر : مسکان اشرف

    لفظ منافقت سے ہم سب واقف ہیں ۔
    منافقت کرنے والا منافق کہلاتا ہے ۔ اب منافقت کیا ہوتی ہے اس سوال کا جواب بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں کیونکہ ہمارے پیارے مذہب اسلام نے منافق اور منافقت کی واضح نشانیاں دیں ہیں جو چمکتے سورج کی طرح عیاں ہیں ۔ منافق کی سب سے بڑی نشانی یہ ہیں کہ وہ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہوتا ہے ۔ باالفاظ دیگر منافق کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے ۔ انسان فطری طور پر گویا ہوتا ہے اور اللہ رب العزت نے اسے زبان دی ہے جس کی مدد سے وہ بولتا رہتا ہے ۔ بولتے بولتے اس کی زبان سے مختلف لہجوں میں الفاظ کی صورت میں باتیں نکلتی ہیں ۔ یہ باتیں دیگر انسان پرکھتے ہیں، جانچتے ہیں، تولتے ہیں، حتی کے چکتے بھی ہیں بعد ازاں ان ہی باتوں کو جانچنے اور پرکھنے کے بعد اس انسان کے حوالے سے رائے قائم کی جاتی ہے کہ بولنے والا کیسا انسان ہے ۔ کیا اس کا قول ، فعل سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں ۔ اگر رکھتا ہے تو ٹھیک، نہیں رکھتا تو منافق ٹھہرتا ہے ۔
    آئیں !!!! اب اسی فارمولے کو خود پہ آزماتے ہیں ۔ روزمرہ زندگی میں ہمارے قول و فعل میں کتنا تضاد ہوتا ہے ؟؟؟ کیا ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں؟؟؟؟ کیا رسماً، عادتاََ اور مجبوراً ہمارے قول و فعل ایک دوسرے کے برعکس نہیں ہوتے؟؟؟
    ایک دن میں ہم جتنے متعلقین سے ملتے ہیں اور ان سے ہم کلام ہوتے ہیں تو خدا کو گواہ بنا کر خود ہی کو جواب دیجیے کہ کیا ہم اُن سے ملتے ہوئے، باتیں کرتے ہوئے، اُن کے ساتھ بیٹھتے ہوئے یا کھاتے ہوئے منافقت کرتے ہیں یا نہیں ؟؟؟ ہم باتوں ہی باتوں میں ان کو ورغلاتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟ جس بات میں ہمارا نفع اور فائدہ نہ ہو اس بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟ کیا پورے مہینے میں ہم کوئی ایسا کام نہیں کرتے کہ جس کام کے بارے میں ہمارا قول کچھ اور ہمارا فعل کچھ اور ہو ؟؟؟ جس بات کو کرنے سے ہماری شخصیت سنورتی ہے خواہ وہ جھوٹ کیوں نہ ہو اور حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو، کیا ایسی باتیں ہم کرتے ہیں یا نہیں ؟؟ ہم دوسروں کی بیگار (مدد) سے جان چھڑوانے کے لیے بے دریغ جھوٹ بولتے ہیں یا نہیں؟؟ کیا ہم اپنے ہی جگریوں کو دھوکہ دیتے ہیں یا نہیں؟؟؟؟ اگر ان جیسے اور درجنوں سوالات کا جواب آپ کا "نہیں” میں ہے تو پھر تو آپ فرشتہ ہیں لیکن اگر آپ کا جواب ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہاں میں ہے تو پھر تو آپ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ۔
    میرے اندازے کے مطابق پڑھنے والوں میں اکثریت کے جواب کا تعلق "ہاں” سے ہے تو پھر تو مبارک ہو کیونکہ پھر تو "واقعی میں ہم سب منافق ہیں ”

    معذرت
    Twitter @IamBlackninaj05

  • پاکستان کے حالات اور امید کی کرن – توقیر عالم

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن – توقیر عالم

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن
    توقیر عالم

    موجودہ ملکی حالات میں ایک عام پاکستانی عجیب کشمکش میں مبتلاء ہے مہنگائی بیروزگاری اور بے شمار سماجی مسائل نے پاکستان کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے حکومتِ وقت اپنے منشور پر عمل درآمد میں ناکام ہے تو اپوزیشن بھی فقط سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف نظر آتی ہے عمران خان کے ریاست مدینے کے دعوے پر بھی محض ایک سیاسی نعرے کا گمان ہوتا ہے جہاں کابینہ میں بیٹھے چند وزیر کھلم کھلا اس دعوے کی مخالفت کر رہے ہیں
    بدلتے ھوئے علاقائی حالات کے باعث پاکستان میں دشمن کی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں بلوچستان میں بڑھتی ھوی دہشتگردی بیسوں فوجی جوانوں کی شہادتیں سوشل میڈیا پر فوج مخالف بیانے کو پھرپور انداز میں پیش کیا جانا اپوزیش کی طرف سے ایسے بیانیے کو پھرپور انداز میں پھیلانا قابل تشویش ہے
    افغان حکومت انڈیا اور امریکہ کے اشتراک سے پاکستان پر الزام تراشیوں کا سلسہ تیز کر چکی ھے اسی سلسلے کی ایک کڑی افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کا معاملہ ہے تفتیش کے بعد معاملہ کھلا تو پتہ چلا یہ ایک خود ساختہ کہانی تھی جس کو پاکستانی اپوزیشن جماعتوں اور نام نہاد صحافیوں نے خوب اچھالا
    عالمی سیاست میں پاکستان ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے افغان امن کے معاملے پر وزیراعظم کا دو ٹوک موقف چین کا سی پیک کے دوسرے فیز کا آغاز روس کا پاکستان کی بھرپور فوجی و سفارتی حمایت کا اعلان فیٹف کا پاکستان کی کارکردگی کو سراہنا کشمیر کے موقف کو بھرپور انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کرنا
    اور عرب ممالک سے بگڑتے تعلقات کی بحالی پاکستان کی عالمی سطح پر اہم.کامیابیاں ہیں

    اللہ اس وطنِ عزیز کا حامی و ناصر ہو

    توقیر عالم @lovepakistan000 فری لانس رائٹر ہیں اور ملکی سیاست اور ترقی پر لکھتے ہیں۔

  • ماری عید پردیس میں  تحریر: عزیز الرحمن

    ماری عید پردیس میں تحریر: عزیز الرحمن

    (یو اے ای) اور سعودی عرب میں ہمارے بھائیوں کی عید کس طرح ہوتی ہے میں خود ایک خود ایک اوورسیز پاکستانی ہوں اور عید کا نماز پڑھا اور گاڑی میں سفر کر رہا تھا اور سوچا کہ ہماری عید مسجد سے لے کر کپمنی کے رہائش تھا ہے اور ہر کوئی گھر میں فون کرتے ہے کہ عید مبارک اور کچھ دوست مسجد سے آئے سو جاتے ہے ، اللہ بہتر جانتا ہے پردیسیوں کی عید کچھ لوگوں تو اس عید میں اپنے اپنے ملک ہی نہیں گئے کیوں کورونا کی وجہ سے فلیٹ نہیں مل رہی تھی بار حال اس میں بھی اللہ کی رحمت اور رضا کی شامل ہوگی ۔
    اور کچھ دوست تو ایک دوسرے کے پاس ملنے جاتے ہے اور خواب ایک دوسرے کو تسلی دے رہا ہے ۔ کہ ایک دن ہمارا پاکستان بھی ترقی کرگا اور ہم پردیسی ان شاء اللہ اپنے ہی ملک میں کام کرگئے یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوتی کہ یہاں پر ہمارا مزدور طبقہ اس طرح سوچا رہا ہے ۔ الحمدللہ یہ بہت ہی خوشی کی بہت ہے ۔ لہذا میرا پیغام ہے سب پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو ہمیشہ خوش رکھے اور یہاں پر( یو اے ای) میں رہنا والے کو بہت بہت عید الاضحی مبارک اللہ پاک سب کو ہمیشہ خوش رکھے امین ثمہ آمین ۔

    @Aziz_khattak1

  • فیصل آباد میں گداگری کا راج  تحریر – شاہ زیب

    فیصل آباد میں گداگری کا راج تحریر – شاہ زیب

    ام روٹین ہو یا کوئی تہوار عید الفطر ہو یا عید الاضحی جیسے ہی نزدیک آتی مانگنے والوں کی تعداد میں بے حد اضافہ دیکھنے کو ملتا، ہر شہروں کی صورتحال یقننا ایک جیسی ہو گی لیکن میں اپنے شہر فیصل آباد کی بات کروں گا ہمارے فیصل اباد میں پچھلے دس سالوں میں گداگروں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور دن بدن بڑھتا جا رہا جسے روکنا مشکل ہو گیا ہے کبھی غور کیجئے یہی گداگر جسے ہم (بھکاری) کہتے ان کے مانگنے کے بھی مختلف طریقے ہوتے ہیں اور آج کل تو جو نظر آرہا ہے کہ اگر کسی دکان پر گاہک بیٹھا ہے تو ان کو پریشان کرنے لگ جاتے ان کو اللہ نبی کے واسطے دینے لگ جاتے جس سے گاہک خود شرمندہ ہو جاتے ہیں دیکھیں حق دار تک ڈھونڈ کر اس کو حق دینا چاہیے میں یہ نہیں کہتا کسی بھکاری کو جھڑک دیں لیکن اصل حقدار ہو اسے لازمی دیں لیکن صحیح معنوں میں دیکھا جائے ان کی بدولت غریب مساکین اور فقراء ان کے حق پر بھی ڈاکہ پڑ جاتا۔دوسری بات یہی بھکاری شہریوں کے جذبات کے ساتھ بھی کھیلتے ہیں جس اگلا اکتا جاتا اور جو یہاں فیصل آباد میں جو دیکھا گیا جو مجھے علم صبح دکانیں جوں ہی کھلتی ساتھ ہی تیس چالیس عورتوں کا گروہ گود میں بچے اور ہاتھوں میں کشکول لیے اللہ کے واسطے دے کر مانگ رہی ہوتی تو کچھ معذوری کا بہانہ بنا کر اور کچھ مرد حضرات بھی ان میں پیش پیش ہاتھ پاؤں سلامت ہونے کے باوجود کام بھی کر سکتے لیکن مانگنا جیسے پیشہ بنا لیا ان میں بیشتر نشہ کرنے کے عادی شخص موجود ہوتے جنہیں دیکھ انسانیت دھنگ رہ جاتی ۔۔
    میری بالخصوص فیصل آباد کی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ گداگری کا یہ بڑھتا ہوا عمل روکیں وگرنہ یہ عمل مزید پھیلے گا۔۔ شکری (@shahzeb___)

  • عید اور ہم لڑکیاں۔   تحریر: کنزہ صدیق

    عید اور ہم لڑکیاں۔ تحریر: کنزہ صدیق

    لو جی عید آگئ ہے اور ہمیشہ کی طرح ہم لڑکیوں کی خوشی دیدنی ہے کیونکہ ظاہر ہے بھئ جہاں بات آجائے سجنے سنورنے کی اور نئے نئے کپڑے جوتے جیولری پہننے کی تو ہم لڑکیاں سب سے زیادہ خوش ہوتیں ہیں۔
    یوں تو عید کی تیاریاں عید سے کافی دن پہلے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔
    بازار کے بار بار چکر لگانا،درزی کو جلدی کپڑے سینے کا کہا، چوڑیاں جوتیاں میچنگ لیسز لینا اور نجانے کیا کیا سیاپے ہیں ہم لڑکیوں کے۔۔
    تیاریاں کرتے کرتے عید سر پہ آن پہنچتی ہے لیکن یہ ٹینشن دماغ پہ سوار ہی رہتی ہے کہ ابھی تک درزی نے کپڑے نہیں دئیے تو بار بار درزی کو کال کرنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جناب درزی صاحب تو اپنے آپ میں ماشااللہ سے انجینئر بنے ہوتے ہیں وہ اپنا نمبر ہی بند کر دیتے ہیں اور اب ہماری پریشانی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ بھلا درزی کا نمبر کیوں بند ہے کہیں اس نے کپڑے نہ سئیے تو کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
    اسی ٹینشن کے چلتے ہی بھائی وہ فرشتہ ثابت ہوتے ہیں تو بائیک پہ بیٹھا کر ہمیں درزی کے سر پہ لا کھڑا کرتے ہیں اب غصہ تو بہت آرہا ہوتا ہے لیکن درزی کو کچھ کہا بھی نہیں جاسکتا کیونکہ اگر یہ غصہ ہوگیا تو بھئ ہوگیا کام تمام۔۔
    پھر یاد آتا ہے کہ مہندی بھی تو لگوانی ہے وہ تو رہ ہی گئ جی جناب ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم لڑکیاں مہندی نہ لگائیں تو اب مہندی لگانے والی کی تلاش شروع ہوجاتی یے محلے میں مہندی لگانے والی لڑکیوں کے الگ ہی نخرے ہوتے ہیں بھلا کوئی ان سے یہ پوچھے کہ باجی آپ تھوڑی نہ مفت میں مہندی لگارہی ہیں لیکن نہ نہ اگر یہ کہہ دیا تو مہندی کون لگائے گا۔۔
    خیر اسکے نخرے بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ اپنی زلف اٹھا کر کان کے پیچھے کرکے منہ بنا کر تھکن کا اظہار کرتی ہے تو بس دل کرتا ہے اسے کہیں بی بی "توں رہن دے اسی آپ لاں لیں گے”
    لیکن ایسا تو کہنا ہی گناہ ہے اللہ اللہ کر کے مہندی لگ ہی جاتی ہے پھر آجاتی ہے بھائیوں کے اور اپنے کپڑے پریس کرکے رکھنے کی۔
    جی تو اکثر گھروں میں چاند رات کو ہی سب کے کپڑے استری ہوجاتے ہیں تاکہ صبح سویرے پریشانی نہ ہو لیکن ہم لڑکیوں کو اس لمحے استری کرنا کسی عذاب سے کم نہیں لگتا کیونکہ ابھی پارلر بھی تو جانا ہے لیکن جیسے تیسے منہ بنا کر استری کرنی پڑتی ہے کیونکہ اگر استری نہ کی تو بھائی پارلر نہیں چھوڑ کر آئیں گے اور یہی تو قیامت ہے اگر پارلر نہ گئے تو بس۔۔۔۔۔
    سمجھ ہی گئے ہوں سب ۔۔
    لہذا عید جتنی مزے دار اور خوشگوار احساس دلاتی ہے وہی ہم لڑکیوں کو بے شمار پریشانیاں بھی لاحق ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود پہ ہم اپنے بناو سنگھار کا خیال خوب اچھے سے رکھتی ہیں اب جیسا کہ عید الاضحیٰ آنے والی ہے تو اس عید پہ زیادہ تر وقت کچن میں ہی گزرتا ہے مزے مزے کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور خوب لطف اٹھایا جاتا ہے لیکن کہاں بھی ہم لڑکیاں بڑی پریشان ہیں وہ کیوں بھلا؟
    وہ اس لیے کہ اتنا تیار ہو کر کچن میں کون جائے لیکن اماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے یہ بھی کرنا پڑتا ہے صبح کلیجی بنانی ہے دوپہر میں قورمہ پلاو وغیرہ ابھی دوپہر والا ہضم نہیں ہوتا کہ پھر رات کے لیے باربی کیو تیار کرنا ہے۔۔۔
    بہرحال جو بھی ہو مزہ تو اسی میں ہے کہ ہم لڑکیاں سب کا باقاعدہ خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ خود کے بناؤ سنگھار پہ بھی خوب توجہ دیتی ہیں۔
    اسی لیے آپ سب لڑکیوں کو میرا پیار بھرا سلام۔۔

    @KinzaSiddiq

  • فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان  حُسنِ قدرت

    فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان حُسنِ قدرت

    پاکستان کی پہلی نابینا پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور مصنفہ ڈاکٹر فرزانہ سلیمان کی زندگی کے بارے میں آج میں آپ کو بتاؤں گی
    وہ لوگ جو کسی جسمانی معذوری کو روگ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے لئے ایک بہترین مثال ڈاکٹر فرزانہ سلیمان ہیں جن کی بصارت ہی چلی گئی

    محترمہ فرزانہ سلیمان ایک نارمل بچی پیدا ہوئیں انکا تعلق کراچی سے ہے جب وہ آٹھویں جماعت میں پہنچیں تو ٹائیفائیڈ انکی بصارت چرا گیا اب زندگی انہیں دشوار لگنے لگی اور یہ بھی اب پڑھائے گا کون لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری نہم اور دہم جماعت کا امتحان پرائیویٹ دیا ،سینٹ لارنس کالج سے انٹر اور جوزف کالج سے گریجویشن کی ،فلسفے میں ماسٹرز کیا تو احساس ہوا کہ یہ مضمون انکے مزاج کے مطابق نہیں پھر انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا
    ماسٹرز مکمل ہوتے ہی ” گورنمنٹ کالج پی ای سی ایچ کالج کراچی” میں اسلامک اسٹیڈیز کی لیکچرر ہوئیں
    لیکن
    انکا خواب پی ایچ ڈی کرنے کا تھا تو انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا اور پی ایچ ڈی مکمل کی اس دوران انکی دوست سارہ نے انکی بہت مدد کی وہ انہیں کتابیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتی تھی
    ڈاکٹر فرزانہ سلیمان نے قرآن کریم حفظ کیا ،تفسیر کا مطالعہ کرتی رہیں اور اب تک 4 کتب تصنیف کر چکی ہیں جن کے نام یہ ہیں
    1۔قرآن،قرآن کی روشنی میں
    2۔توبہ قرآن کی روشنی میں
    3۔تقوی قرآن کی روشنی میں
    4۔تذکرہ آدم قرآن کی روشنی میں
    شامل ہیں
    ڈاکٹر فرزانہ کو بے مثال کارکردگی پہ کئی شیلڈز،تمغے اور اعزازات حاصل ہوئے جن میں سابق صدر (ر) پرویز مشرف کے دور میں ملنے والا "فاطمہ جناح گولڈ میڈل”
    اور گورنر سندھ سے ملنے والا
    "تمغہ حُسنِ کارکردگی”
    نمایاں ہیں
    یہ کہانی کروڑوں لوگوں کےلئے ایک سبق ہے کہ اگر آپ میں ہمت ہے اور آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر فرذانہ کی طرح اپنے حوصلے بلند رکھیں آپ ضرور کامیاب ہوں گے

    Twitter: @HusnHere

  • قربانی…!!! . تحریر : محمد اسامہ

    قربانی…!!! . تحریر : محمد اسامہ

    الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر وله الحمد الله اكبر كبيرا والحمد كثيرا واسبحان الله بكرة وأصيلا

    کچھ ممالک میں کل عید الاضحٰی منائی گئی تھی اور کچھ ممالک میں آج عید الاضحٰی منائی جارہی ہے. اس عید کا صرف ایک ہی پیغام ہے.

    "قربانی”

    بظاہر تو ہم جانور اللّٰه کی راہ میں قربان کرتے ہیں. ان کا خون بہا کرتے ہیں. ان کا گوشت تقسیم کرتے ہیں. دعوتیں کی جاتی ہیں. غرباء و مساکین کو بھی خوشیوں میں شامل کیا جاتا ہے.

    قربانی، انا کی، رویوں کی، حق پر ہوتے ہوئے پہل کرنے کی، ناراضگی کو دور کرنے کی اور ہر اس چیز کی جس سے محبت اور ایثار کا بول بالا ہو.
    جانوروں کی قربانی کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کی قربانی بھی دی جائے تو قربانی کا مقصد پورا ہوجاتا ہے.

    الله ہمیں توفیق عطا فرمائے. آمین.

    تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال
    عید الاضحٰی🐑 مبارك

    @its_usamaislam

  • آزاد کشمیر کا الیکشن اور ضمیر کی آواز . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    آزاد کشمیر کا الیکشن اور ضمیر کی آواز . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جا رہا ھے تمام تر سیاسی پارٹیاں جدوجہد کر رہی ہیں۔اپنی انتخابی مہم میں لاکھوں کیا اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ان پارٹیوں میں کہیں نام تو آتا ھے تحریک انصاف کا جن کی وفاق میں حکومت ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز،پاکستان پیپلز پارٹی بھی سرگرم ہیں۔میں نے مختلف احباب کی تقاریر کو سنا تو کسی کا موقف لسانیت کا تھا تو کسی کا موقف قومیت پر مبنی تھا۔کسی پارٹی نے اپنا مقصد دعوں کو بنا رکھا تھا۔
    سب سے پہلے آتے ہیں پاکستان مسلم۔لیگ نواز کی طرف۔پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز صاحبہ نے الیکشن مہم کے حوالے سے جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ہم حکومت میں آتے ہیں تو کشمیر کی آزادی پاکستان مسلم لیگ ن کے اقتدار سے ہی ممکن ہے”

    پاکستان مسلم لیگ ن وہ سیاسی جماعت ہیں جو ملک پاکستان میں 3 بار حکومت کر چکی ہے اور ان کے قائد نواز شریف نے مودی کو اپنی نواسی کی شادی پر بلایا تھا اور جب یہ بھارت گئے تو کشمیر کی حریت قیادت ان سے ملاقات کے لیے انتظار کرتی رہی لیکن انھوں نے کشمیر پر ظلم کرنے والے سے ملاقات کی لیکن ان بطل حریت قائدین سے ملاقات کرنا مناسب نہ سمجھا۔اب اس سے واضح ہو گیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کا بیانیہ اور منشور جو ہے وہ باطل ہے اور حق سچ پر مبنی نہیں ھے۔اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے بیانیہ کی بات کر لیتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی وہ سیاسی جماعت ہے کہ جن کا مقصد صرف و صرف  اقتدار ہے چاہے وہ مودی کی یاری سے ملے یا امریکہ کی چاکری سے ملے اس لیے اس سے واضح ہو جاتا کہ یہ جماعت کشمیر کے عوام کی نمائندہ جماعت ہونے کے اہل نہیں ھے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وفاق میں بھی ھے لیکن مجھے افسوس سے لکھنا پڑ رہا کہ تقریبا 2 سال کا عرصہ ہو رہا کشمیر میں لاک ڈاؤن کو لیکن ہمارے وزیراعظم نے اس انداز سے کشمیری عوام کی مدد نہیں کی جس انداز سے وہ چاہتے ہیں۔

    جب میں مختلف سیاسی جماعتوں کا جائزہ لے رہا تھا تو میری نظر سے ایک جماعت "جموں و کشمیر یونائیٹڈر موومنٹ”
    کا نام گزرا ان کے منشور کو میں نے پڑھا۔جموں وکشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا موقف ہے کیا ان کا منشور نہ تو لسانیت پر مبنی اور نہ جاگیردارانہ نظام پر مبنی ھے۔بلکہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا موقف کشمیر کی نصرت پر مبنی ہے۔اور صرف دعوی ہی نہیں بلکہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ان کا عملی کام بھی ھے۔اس کے بعد خدمت خلق اور نوجوانوں کی تربیت ان کا بنیادی مقصد ہے جس سے واضح ہو جاتا کہ یہ جماعت نہ صرف آزاد کشمیر کی نمائندہ جماعت ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر کی بھی نمائندہ ھے۔اس کے علاوہ منشیات کا خاتمہ بھی ان کے منشور کا حصہ ہے۔منشیات کا خاتمہ وہی کروا سکتا جس کا منشیات کا کاروبار نہ ہو اور الحمدللہ اس جماعت کے قائدین اور نمائندگان میں ایسا کوئی فرد موجود نہیں ھے۔جموں وکشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا مقصد کرپشن کا خاتمہ بھی ہے اور یہ ایسا دعوی نہیں ہے جیسا پاکستان تحریک انصاف نے کیا کہ دوسروں کو کرپشن کیسز میں پھنسا دو اور جب باری آئے جہانگیر ترین کی تو اسے این آر آو دے دیا جائے۔بلکہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ عوامی یگانگت اور اتحاد کو قائم کرنا چاہتی ہے۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا مقصد نوجوانوں میں اسلام کے شعور کو بیدار کرنا ھے۔ان کا مقصد جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ اور اسلام کی سربلندی مقصد ہے۔اس سے پہلے بھی بہت سی سیاسی جماعتوں نے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ چاہا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا وہ بس دعوی ہی تھا کیونکہ وہ جماعت خود ہی جاگیردار کے زیر انتظام تھی۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا منشور دو قومی نظریہ کی سربلندی ہے اور دو قومی نظریہ اسی وقت اجاگر ہو گا جب اسلام پر چلنے والے لیڈران ہماری اسمبلیوں میں جائے گے۔

    محترم قارئین! آپ میرا یہ سوال آزاد کشمیر کی غیور عوام تک پہنچا دے کہ انھوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ کا فیصلہ کرنا ہے نہ کہ نوٹوں کی کھنک پر ذہنی غلامی کی بنا پر ووٹ نہیں ڈالنا۔25 جولائی کے دن آزاد کشمیر کے عوام کا امتحان ہے کہ وہ 73 سالہ ذہنی غلامی سے نکل کر با سیرت اور نیک نمائندگان کو سردار بابر حسین کی قیادت میں کرسی پر مہر لگا کر کامیاب کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔کیونکہ اگر اس جماعت کو موقع دیا گیا تو پھر مودی اور انڈین افواج کو جواب سیف جہاد سے دیا جائے گا نہ کے منت سماجت سے جیسا کہ موجودہ حکومت نے بھی کیا اور گزشتہ حکومتوں نے بھی کیا۔آپ لوگوں کا ضمیر کبھی مطمئن نہیں ہو گا ان لوگوں کو ووٹ کرنے کے لیے جو کہ کشمیر کا سودا کر چکے ہیں۔اس لیے کرسی پر مہر لگا کر جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کو کامیاب بنانے۔
    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

    @ABGILL_1