Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‎ انسانی حیات پر منڈلاتے خطرات .تحریر :محمد محسن خان

    ‎ انسانی حیات پر منڈلاتے خطرات .تحریر :محمد محسن خان

    ‎دنیا کو ایک وبائی وائرس کرونا لاحق ہے ، جسے حکومتوں کی طرف سے سیاسی الزام تراشیوں کے پس منظر میں مجرمانہ نااہلی کی وجہ سے نہیں روکا گیا ہے۔ یہ کہ دولت مند ممالک میں ان حکومتوں نے عالمی ادارہ صحت اور سائنسی تنظیموں کے ذریعہ جاری کیے گئے بنیادی سائنسی پروٹوکول کو سنجیدہ انداز میں ایک طرف رکھ دیا ۔ بنیادی طریقہ کار جیسے جانچ ، رابطے کا سراغ لگانا ، اور تنہائی کے ذریعہ وائرس کے نظم و نسق کی طرف توجہ دینے سے پہلوتہی برتی گئی اور اگر یہ کافی نہیں رہا تو پھر عارضی طور پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانابے وقوفی ہے۔ یہ اتنا ہی تکلیف دہ ہے کہ ان امیر ممالک نے "عوام کی ویکسین” بنانے کی پالیسی کے بجائے ویکسین امیدواروں کو ذخیرہ کرکے "ویکسین نیشنلزم” کی پالیسی اپنائی۔ انسانیت کی خاطر ،دانشورانہ املاک کے قواعد کو معطل کرنا اور تمام لوگوں کے لئے عالمی سطح پر ویکسین تیار کرنے کا طریقہ کار تیار کرنا دانشمندانہ فیصلہ ہوتا۔اگرچہ وبائی مرض انسانی دماغوں پر مسلط ایک بنیادی مسئلہ رہے ہیں، لیکن دوسرے بڑے ہمارے پیدا کئے ہوئے مسائل مستقبل کی نسلوں اور زمین کی لمبی عمر کو خطرہ بناتے ہیں:

    ‎جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جنوری 2020 میں ، جوہر سائنس دانوں کے بلیٹن نے ڈومس ڈے گھڑی کو آدھی رات کو 100 سیکنڈ تک طے کیا ، جو آرام کے قریب تھا۔ 1945 میں پہلے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے دو سال بعد بنائی گئی اس گھڑی کا ہر سال تشخیص بلیٹن کے سائنس اور سیکیورٹی بورڈ کے ذریعہ کیا جاتا ہے ، جو فیصلہ کرتے ہیں کہ منٹ کو منتقل کرنا ہے یا اسے اپنی جگہ پر رکھنا ہے۔ جب وہ دوبارہ گھڑی طے کرتے ہیں تو ، یہ فنا کے قریب ہوسکتا ہے۔ پہلے سے ہی محدود اسلحہ کنٹرول معاہدوں کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ بڑی طاقتیں 13500 جوہری ہتھیاروں پر قابض ہیں (جن میں 90 فیصد سے زیادہ صرف روس اور امریکہ کے پاس ہے)۔ ان ہتھیاروں کی پیداوار آسانی سے اس سیارے کو اور بھی غیر آباد بنا سکتی ہے۔ امریکہ کی بحریہ نے پہلے ہی کم پیداوار والے تاکتیکی W76-2 نیوکلیائی وار ہیڈ تعینات کردیئے ہیں۔جوہری تخفیف اسلحے کی طرف فوری اقدامات کو دنیا کے ایجنڈے پر مجبور کرنا ہوگا۔ ہر سال 6 اگست کو منائے جانے والے یوم ہیروشیما کو غور و فکر اور احتجاج کا ایک اور مضبوط دن بننا چاہئے

    مشائع ہونے والا ایک سائنسی مقالہ حیران کن سرخی کے ساتھ آیا: "21 ویں صدی کے وسط تک بیشتر اٹول غیر آباد ہوجائیں گے کیونکہ سطح کی سطح میں اضافے نے لہر سے چلنے والے سیلاب کو بڑھاوا دیا ہے۔” مصنفین نے پایا کہ سیچلس سے جزیرے مارشل تک اٹول ختم ہونے کے قابل ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2019 کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 10 لاکھ جانوروں اور پودوں کی نسلوں کو معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ اس میں تباہ کن جنگل کی آگ اور مرجان کی چٹانوں کی شدید گرمی شامل کریں اور یہ بات واضح ہے کہ ہمیں اب آب و ہوا کی تباہی کی کوئلے کی کان میں کنری ہونے کی وجہ سے کسی چیز یا کسی اور چیز کے بارے میں جکڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خطرہ مستقبل میں نہیں ، بلکہ حال میں ہے۔ریو ڈی جنیرو میں 1992 میں اقوام متحدہ کے ماحولیات اور ترقی سے متعلق کانفرنس میں قائم کی جانے والی "مشترکہ لیکن امتیازی ذمہ داریوں” کے نقطہ نظر پر عمل پیرا ہونے کے لئے ، جو فوسل ایندھن سے مکمل طور پر تبدیل ہونے میں پوری طرح ناکام ہونے والی بڑی طاقتوں کے لئے ضروری ہے۔ یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔
    ‎شمالی امریکہ اور یورپ کے ممالک اپنا عوامی کام سرانجام دے چکے ہیں کیونکہ ریاست کو منافع بخش افراد کے حوالے کردیا گیا ہے اور نجی معاشرے کو سول سوسائٹی نے متناسب کردیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ان حصوں میں معاشرتی تغیر پذیر کے راستوں کو انتہائی سنجیدگی سے رکاوٹ بنایا گیا ہے۔ خوفناک معاشرتی عدم مساوات مزدور طبقے کی نسبت سے سیاسی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ یہی کمزوری ہے جو ارب پتی افراد کو ایسی پالیسیاں متعین کرنے کے قابل بناتا ہے جس کی وجہ سے بھوک کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ ممالک کو ان کے حلقہ بندیوں میں لکھے ہوئے الفاظ سے نہیں بلکہ ان کے سالانہ بجٹ کے ذریعے فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر ، امریکہ اپنی جنگی مشین پرتقریباً ایک کھرب ڈالر (اگر آپ تخمینہ والے انٹلیجنس بجٹ کو شامل کرتے ہیں) خرچ کرتے ہیں ، جبکہ اس کا تھوڑا سا حصہ عوام کی بھلائی پر خرچ کرتا ہے (جیسے صحت کی دیکھ بھال پر ، وبائی امور کے دوران واضح چیز)۔مغربی ممالک کی خارجہ پالیسیاں ہتھیاروں کے سودوں سے خوب چکنا چور ہیں: متحدہ عرب امارات اور مراکش نے اس شرط پر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر اتفاق کیا کہ وہ بالترتیب 23 ارب اور 1 بلین ڈالر کے امریکی ساختہ اسلحہ یا طیارے خرید سکتے ہیں۔ فلسطینیوں ، سحروی اور یمنی عوام کے حقوق کو ان سودوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ کیوباڈ ، ایران ، اور وینزویلا سمیت 30 ممالک کے خلاف امریکہ کی جانب سے غیر قانونی پابندیوں کا استعمال ، کوویڈ ۔19 صحت عامہ کے بحران کے باوجود بھی زندگی کا معمول بن گیا ہے۔ یہ سیاسی نظام کی ناکامی ہے جب سرمایہ دارانہ بلاک میں انسانی آبادی اپنی حکومتوں کو مجبور نہیں کرسکتی – جو کہ صرف نام کے ہی جمہوری ہیں – اس ہنگامی صورتحال کے بارے میں عالمی تناظر اپنانے کے لئے۔بھوک کی بڑھتی ہوئی شرح سے پتا چلتا ہے کہ بقا کی جدوجہد کرہ ارض پر موجود اربوں لوگوں کے لئے افق ہے (یہ سب کچھ جبکہ چین مطلق غربت کا خاتمہ کرنے اور بڑے پیمانے پر بھوک کو ختم کرنے کے قابل ہے)۔
    ‎جوہری تباہی اور آب و ہوا کی تباہی سے ناپید ہونا سیارے کے لئے دو خطرات ہیں۔ دریں اثنا ، پچھلی نسل نے جو نوعمری حملہ کیا ہے اس کے شکار افراد کے ل their ، ان کے محض وجود کو برقرار رکھنے کے قلیل مدتی مسائل ہمارے بچوں اور پوتے پوتوں کی قسمت کے بارے میں بنیادی سوالات کی جگہ لے لیتے ہیں۔

    ‎اس پیمانے کے عالمی مسائل کے لئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ 1960 کی دہائی میں تیسری دنیا کی ریاستوں کے دباؤ پر ، بڑی طاقتوں نے 1968 کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر اتفاق کیا ، اگرچہ انہوں نے 1974 کے نئے بین الاقوامی معاشی آرڈر کے قیام سے متعلق گہرے اہم اعلان کو مسترد کردیا۔ بین الاقوامی سطح پر ایسے طبقاتی ایجنڈے کو چلانے کے لئے دستیاب قوتیں اب نہیں ہیں۔ مغرب کے ممالک خصوصا، ترقی پذیر دنیا کی بڑی ریاستوں (جیسے برازیل ، ہندوستان ، انڈونیشیا ، اور جنوبی افریقہ) میں سیاسی حرکیات حکومتوں کے کردار کو تبدیل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ معدومیت کے خطرات کی طرف فوری اور فوری توجہ دینے کے لئے ایک مضبوط بین الاقوامییت ضروری ہے: جوہری جنگ ، آب و ہوا کی تباہی کے ذریعہ ، اور معاشرتی خاتمے کے ذریعہ ناپید ہوجانا۔آگے کے کام مشکل ہیں ، اور ان کو موخر نہیں کیا جاسکتا اور یہی آج کاسچ ہے

    تحریر محمد محسن خان

  • لڑکی جب کسی سے محبّت کرتی ہے تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتی . تحریر : فوزیہ چوہدری

    لڑکی جب کسی سے محبّت کرتی ہے تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتی . تحریر : فوزیہ چوہدری

    کہتے ہیں لڑکی محبت میں بے وفا ہوتی ہے
    لیکن میں کہتی ہوں نہیں لڑکی بے وفا نہیں ہوتی

    جب لڑکی کسی لڑکے سے محبت کرتی ہے تو وہ یہ ہی چاہتی ہے کے اس کی محبّت کو نکاح کا نام ملے جس سے محبّت کرتی ہے وہ محرم بن جائے لیکن لڑکی بہت دور تک سوچتی ہے
    وہ یہ سوچتی ہے کہ کیسے اس کی محبت ملے گی کیسے اس کا نکاح ہوگا لڑکی بہت ہمت والی ہوتی ہے لیکن اپنے گھر والوں کو بتانے سے ڈرتی ہے کہ کہی کچھ غلط نہ ہو جاۓ گھر والے اس کے کردارپرشک نہ کرے ماں باپ اس پر پابندیاں نہ لگادیں جس سے وہ محبت کرتی ہے اس کو کچھ نہ کردیں لوگوں کی باتوں سے ڈرتی ہے رشتے داروں کے طنے سے ڈرتی ہے لیکن اپنی محبت کو چھوڑتی نہیں.

    کچھ لڑکیاں اس ڈرکی وجہ سے گھر سے بھاگ جاتی ہے زمانے میں بدنام ہوجاتی ہے اورجو لڑکیاں کچھ نہیں کرسکتی وہ خاموش ہوکراپنی محبت کوقربان کرکے زندگی بھر کا دکھ تکلیف لے لیتی ہیں

    اب رہا سوال محبّت کا ؟؟؟ اگر کسی لڑکی کو محبّت ہے تو وہ اپنے ماں باپ سے بات کرے ان کو بتا دے کہ میں کسی کو پسند کرتی ہوں ماں باپ کو بھی چاہیے کہ وہ بھی لڑکی کی بات سن لیں دیکھ لیں وہ رشتہ کیا وہ صحیح ہے یا غلط ہے وہ فیصلہ ماں باپ نے کرنا ہوتا ہے
    کیوں کے ماں باپ اپنے بچوں کا غلط نہیں سوچ سکتے اور وہ لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ اپنے ماں باپ کی عزت کی قدر کریں دو دن کی محبت کے لیے گھر سے بھاگنا اچھی بات نہیں کیونکہ والدین کی محبت سب سے پہلے ہے اگر آپ کو کوئی لڑکا پسند ہے تو اپنے ماں باپ سے بات کریں ان کو بتادیں کے میرے لیے صحیح ہے باقی جو فیصلہ ماں باپ کریں تو وہ مان لیں کم سے کم آپ کو اس بات کا دکھ تو نہیں ہو گا کہ آپ نے اپنے ماں باپ سے بات نہیں کی.

    باقی قسمت پر چھوڑ دیں اور اللہ پاک سے دعا کریں اگر کوئی آپ سے سچی محبت کر تا ہے تو اس کی قدر کریں کیوں کہ سچی محبّت کرنے والے بار بار زندگی میں نہیں.

    یہ میرے دل کی تھوڑی سی بات ہے جو کہہ دی اب پتا نہیں کسی کو اچھی لگتی ہے یا نہیں اگربات بری لگی ہو تو معافی چاہتی ہوں.

    @iam_FoziaCh

  • تعلیمی ادارے یا فحاشی کے اڈے ،تحریر: فروا نزیر

    تعلیمی ادارے یا فحاشی کے اڈے ،تحریر: فروا نزیر

    Twitter id: @InvisibleFari_

    بظاہر ہم ایک اسلامی ریاستِ مدینہ میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں اس ملک کو حاصل کرنے کا مقصد یہی تھا کہ ہم اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزاریں
    کیا ہم واقعی اسلامک تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار رہے ہیں…؟؟
    چلئیں ایک مثال سے واضح کرتے ہیں اس بات کو..
    گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے تہلکہ مچادیا جس میں ایک تعلیمی ادارے میں کچھ نازیبا گانے لگا کر لڑکیاں ناچ گانا کرتی دکھائی گئیں…
    اوّل تو اسے ایک فیسٹیول کا نام دیا گیا جس می یہ سب بہت عام ہے لیکن میرے نزدیک وہ فیسٹیول کم اور ناچ گانا زیادہ لگ رہا تھا
    دوسرا یہ کہ اگر ایک تعلیمی ادارے کی یہ سرگرمیاں اسطرح کی ہوں گی تو ہمارا معاشرہ اس سے کیا سیکھے گا..؟
    اس طرح کی تقریبات منعقد کرنے سے ہماری نوجوان نسل کیا سیکھے گی؟ اپنی اولاد کو کیا سکھائے گے؟ کیسے اچھی تربیت کریں گے..؟؟

    کہتے ہیں ایک پڑھی لکھی عورت پورا گھر سنوار سکتی ہے لیکن اگر یہی عورت تنگ لباس زیب تن کر کے یونیورسٹی میں جائے گی
    تمام لڑکوں کے سامنے اپنے جسم کی نمائش کریں گی تو کیا ہمارا معاشرہ اسلامی کہلائے گا..؟؟
    خاص طور پر ایک تعلیمی ادارے میں اس طرح کی فحاش قسم کی چیزیں بند کرنی چاہیے
    تعلیم حاصل کرنے کیلیے دوسری غیر نصانی سرگرمیاں بہت ضروری ہیں مگر یہ ناچ گانا ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ یہ ہمیں تباہی کی طرف گامزن کر رہا ہے…
    اس تمام واقع کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی اور پھر ٹویٹر پر کچھ ٹرینڈز کیے گئے اور اس معاملے کو دبا دیا گیا. کسی نیوز چینل نے اس پر کوئی کالم کوئی خبر میڈیا پر لانے کی کوشش نہیں کی..
    میرا مقصد کسی تعلیمی ادارے کا نام ظاہر کر کے اسکی ساخت کو خراب کرنا نہیں یے بلکہ مجھے اپنے ملک کے جوان نسل کے زوال کا اندیشہ ہے..

    مجھے ڈر ہے جو خواب ہمارے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے دیکھا، نوجوانوں کو شاہین کے نام سے پکارا گیا کہیں یہ سب خاک میں نہ مل جائے.
    ان تمام چیزوں کو بیان کرنے کاصرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے پاکستان کی جوان نسل کی اچھی تربیت کی جاأے
    ہماری تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری نسلیں تباہ اسی وقت ہوئی جب وہ غفلت میں پڑ گیئں..

    میں گورنمنٹ آف پاکستان سے اس پینل کے زریعے گزارش کرتی ہو کہ پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے.
    ہمارے وزیر تعلیم کو خاص طور پر سلیبس میں رد وبدل کے علاوہ ان چیزوں پر خاص طور پر دھیان دینا ہو گا

    اللہ پاک ہم سبکو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین ثمہ آمین

  • ساڈا حق ایتھے رکھ .تحریر .سیدہ ام حبیبہ

    ساڈا حق ایتھے رکھ .تحریر .سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم یہ جملہ کہنے کو تو ایک فلم کے گانے کا مصرعہ ہے مگر ہم پاکستانیوں کی ضرورت اور ضرورت بھی ایسی کہ جسکے پورا نہ ہونے کے بعد مرگ مفاجات کا سامنا یقینی ہے.
    ہم پاکستان کے شہری محرومیوں کے ڈھیر تلے دبے ٹیڑھی کمر کے ساتھ جوان ہوتے ہیں.اور جگاڑ کرتے کرتے منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں.
    کیا وجہ ہے کہ ہم اس ڈھیر سے ابھر نہیں پاتے؟
    ہم اپنے حقوق سے نا آشنا ہونے کی پاداش میں یہ سزا پا رہے ہیں.
    ہم نے کبھی اپنے حقوق کا ادراک کرنے کی سعی کی ہی نہیں.
    مثال کے طور پہ ہمارے ووٹ کی قیمت سڑک بنوانا گلی بنانا یا نالی بنوانا طے کی جاتی ہے.جو کہ حکومت کا فرض اور ہمارا حق ہے.

    اسی طرح تعلیم و صحت ، کھیل، کاروبار ملازمت کی فراہمی حکومت کا فرض اور ہمارا حق ہے.
    ہم وہ محروم قوم ہیں جن سے انکے میٹھے پھل تک چھین کر زرمبادلہ کی آڑ میں بیرون ملک بھجوا دیے جاتے ہیں.
    اگر سوچا جائے تو ہمارے پھل منگوانے والے ممالک اپنی عوام کو بہترین کھلانے کے تگ و دو میں ہیں .
    اس محرومی کی وجہ حکومتوں کو ٹھہرانا ایسا ہی ہے جیسا کہ آنکھیں بند کر کے چلتے ہوئے دیوار سے ٹکرانا اور الزام دیوار کو دینا.
    حقوق سے آگاہی کے ساتھ ایک کام جو ہم سب کو قومی فریضہ سمجھ کر کرنا ہوگا
    ہمیں ڈٹ جانا ہوگا اپنے حق کے لیے

    ووٹ کے بدلے چالیس سالوں سے صرف نالیاں گلیاں ہی نہیں.تعلیم صحت کاروبار روزگار بھی چاہیے.
    نمائندے ایوانوں میں ہمارے مسائل حل کرنے بیٹھتے ہیں لاکھوں کا خرچ کر کے ایک اجلاس کرتے اور ایک دوسرے پہ جگتیں کس کے قیمتی کاغذ پھاڑ کر لاکھوں کا نقصان کر آتے.
    اب جب اجلاس میں ایسا ہو تو گریبانوں تک ہاتھ پہنچیں بھئ جس کام کے لیے ایوانوں میں خرچ کیا وہ کیا ہوا.قانون سازی کی ؟ نہیں تو جو ہمارا پیسہ خرچ ہوا اسکا حساب دو.
    اب گلی گلی نگر نگر یہ نعرہ گونجنا چاہیے کہ
    ساڈا حق ایتھے رکھ

  • ابلیس کون؟ .  تحریر: محمد توقیرعباس

    ابلیس کون؟ . تحریر: محمد توقیرعباس

    ابلیس کا اصلی نام "عزازیل” ہے۔ ابلیس کی کنیت "ابو قیتر” (تکبر کا باپ) ہے۔ ابلیس کے لفظی معنی ” انتہائی مایوس کے ہیں۔ اصلاحاً ابلیس اس جن کا نام ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کر کے حضرت آدم علیہ السلام کیلئے مطیع اور مسخر ہونے سے انکار کر دیا۔

    ابلیس کے والد کا نام "چلیپا” اور اس کی کنیت ابو الغوی تھی۔ چلیپا کا چہرہ ببر شیر جیسا تھا وہ نہایت قدآور اور بہادر تھا۔ اس کی قوم اسے "شاشین” کے نام سے مخاطب کرتی تھی جس کے معنی دل دہلا دینے کے ہیں۔

    ابلیس کی والدہ کا نام "تبلیث” یا "نبلیث” تھا۔ تبلیث کا چہرہ بھیڑیئے کی مانند تھا اور وہ بھی اپنے شوہر چلیپا کی طرح نہایت دلیر اور طاقتور تھی اس حد تک کہ قوم کے بچے بچے کی زبان پر تھا کہ تبلیث کے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔

    ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں "چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد "ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی "چلیپا” اور "تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب اس کے شیر کے جیسے سر کی وجہ سے دیا۔ ان دونوں جنات کی وجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور تبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان دونوں کی وجہ سے قوم کے جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے۔ ایسے میں حکم الٰہی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی۔ اسی دوران جب "عزرائیل علیہ السلام” کو ابلیس نے دیکھا تو سجدہ میں گر گیا۔

    ابلیس شروع سے ہی ایک نڈراورذہین بچہ تھا اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس نے ملائکہ کے ساتھ جا کر توبہ کا باقاعدہ اعلان کیا اور پھر فرشتوں سے فیض علم حاصل کرنے لگا۔ علم حاصل کرنے اور ریاضت کا یہ عالم تھا کہ پہلے آسمان پہ "عابد”، پھر دوسرے آسمان پر "زاہد”، تیسرے آسمان پر "بلال”، چوتھے آسمان پر "والی”، پانچویں آسمان پر "تقی” اور چھٹے آسمان پر "کبازان” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ فرشتوں کو سکھاتا تھا۔ ساتویں آسمان پہ ابلیس بقع نور میں رہا۔ ہفت افلاک کے سب ملائکہ کا معلم قرار دیا گیا یہاں تک پہنچ کر ابلیس نے اپنی عاجزی اور ریاضت کی انتہا کردی۔

    کم و بیش ابلیس نے چودہ ہزار سال عرش کا طواف کیا یہاں اس نے فرشتوں میں استاد/سرادر "عزازیل” کے نام سے شہرت پائی کم و بیش تیس ہزار سال مقربین فرشتوں کا استاد رہا۔ ابلیس کے درس و وعظ کی میعاد کم و بیش بیس ہزار سال ہے۔ فرشتوں کے ساتھ قیام کی مدت کم و بیش اسی ہزار سال ہے۔

    ابلیس کو حکم ہوا کہ داروغہ جنت "رضوان” کی معاونت کرو اور اہل جنت فرشتوں کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا اور جنت میں بھی اپنے علم سے داروغہ جنت رضوان کو سیراب کیا اور یوں جنت رضوان کی کنجیاں ابلیس کے پاس رہیں۔ روایات کے مطابق ابلیس 40 ہزار سال تک یہ فرض خزانچی انجام دیتا رہا۔ یہی وہ مقام اعلیٰ ترین جنت رضوان ہی تھا جہاں ابلیس نے پہلی بار بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ اس وقت ابلیس کے پاس ہفت اقلیم، افلاک، جنت و دوزخ سب کا اختیار تھا اور اس نے چپے چپے پہ سجدے کیے تھے۔ مگر یہاں پہ ابلیس عاجزی سے پہلی بار بھٹکا اور خود کو بادشاہ بنانے اور رب بن جانے کے خواب دیکھنا شروع کیے۔ کئی ملائکہ کے سامنے ربوبیت کی بابت بات بھی کی مگر ملائکہ کے انکار کے سبب چپ ہو گیا اور یوں نظام چلتا رہا مگر اس سب سے اللہ تعالیٰ کی ذات بے خبر نہ تھی۔

    پھر آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مرحلہ آیا جیسے قرآن مجید میں واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ابلیس آدم علیہ السلام کو جزو جزو مرحلہ وار مختلف اقسام کی مٹی سے تخلیق ہوتا دیکھتا رہا اور چپ رہا مگر جیسے ہی اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا نائب ہے تو اس نے واویلا کیا عبادات اور اطاعت کا واسطہ دیا پھر طنز کیا کہ مجھ جتنی عبادت کس نے کی ہے اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکاری ہوا۔

    تب اللہ تعالیٰ نے کہا نکل جا شیطان مردود۔لعنتی قرار پانے کے بعد ابلیس نے اپنی عبادات اور ریاضت کا رب کریم سے عوض مانگا جس پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ایک وقت معلوم تک مہلت فراہم کی۔ جس پر ابلیس نے اولادِ آدم کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا کر اپنا پیروکار بنانے کا دعویٰ کیا جس پر رب کریم نے فرمایا کہ جو متقی اور پرہیزگار ہوں گے تو ان کو گمراہ نہیں کر پائے گا۔

    ابلیس کے اس لعنتی کام میں اس کے پانچ ساتھی ہیں۔

    1۔ ثبر » اس کے اختیار میں مصیبتوں کا کاروبار ہے جس میں لوگ ہائے واویلا کرتے ہیں گریبان پھاڑتے ہیں منہ پہ طمانچے مارتے ہیں اور جاہلیت کے نعرے لگاتے ہیں۔
    2۔ اعور » یہ لوگوں کو بدی کا مرتکب کرتا ہے اور بدی کو لوگوں پہ اچھا اور پسندیدہ کر کے دکھاتا ہے۔
    3۔ مسوّط » یہ کزب، جھوٹ اور دروغ پہ مامور ہے جسے لوگ کان لگا کر سنیں۔ یہ انسانوں کی شکل اپنا کر ان سے ملتا ہے اور انھیں فساد برپا کرنے کی جھوٹی خبریں سناتا ہے۔
    4۔ داسم » یہ آدمی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر والوں کے عیب دکھاتا ہے اور آدمی کو گھر والوں پہ غضبناک کرتا ہے۔
    5۔ زکنیور » یہ بازاروں کا مختار ہے بازاروں میں آ کر یہ بددیانتی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔ بازاروں میں برائیوں اور فحاشی پہ ورغلاتا ہے۔

    ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدے سے انکار کا جزبہ حسد تھا کہ جس نے اسے مجبور کیا کہ میری جگہ آدم (خاک) کو کیوں ملی۔ یہ اس کا جزبہ تکبر اور غرور تھا کہ میں اعلیٰ ہوں اور اس ایک سجدے کے انکار کی بات نہیں تھی بات اطاعت سے سرکشی کی تھی، شرک کی تھی۔ ابلیس نے دل میں خود کو "رب” مان لیا تھا۔ اسی شرک عظیم کی بدولت ابلیس تا قیامت رسوا و لعنتی ٹھہرا اور اولادِ آدم کو بھٹکانے کیلئے آزاد قرار پایا۔

    حاصل نتیجہ یہ ٹھہرہ کہ رب کریم کو انسان کی عبادات عاجزی علم و دانش سے کچھ غرص نہ ہے۔ رب کریم صرف دیکھتا ہے کہ دل میں اطاعت و فرمانبرداری کتنی ہے۔ اسی بنیاد پہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے درجے قرار پاتے ہیں۔

    منابع و ماخذ: صحیح بخاری باب الفتن و اشراط، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد،کتاب شرح سیوطی، تفسیر کبیر امام رازی، مستدرک حاکم، کتاب حکم، نہج البلاغہ سید رضی، شرح نہج البلاغہ ابن حدید، کتاب غرر الحکم ابن ہشام، کتاب توحید شیخ صدوق

    @MTaukirAbbas

  • عید قربان اورانسان . تحریر : شانزے علی

    عید قربان اورانسان . تحریر : شانزے علی

    عید کا تہوار قریب تر ھے، ہرطرف گہما گہمی کا عالم ھے،بچے بوڑھے اورجوان سر گرم نظرآ رھے ھیں گائے، بیل، بکرے، بھیڑ، اونٹ جگہ جگہ بندھے ھوئے ھیں بچوں کا شور، بڑوں کی آوازیں اس پر جانوروں کی دوڑ اور نوجوانوں کی شرطیں۔ زبردستی چارہ کھلانے اورپانی پلانے کاجنون۔ اک عجب سا منظر ھے شاید جانور بھی سوچ رہا ھے جانور کون ھے؟؟

    میرے گھر کی تیسری منزل سے کئی روز سے میں یہ مناظر دیکھتی ھوں اونٹوں کی نکیل ان کی ناک سے جڑی ھوتی ھے۔ بچے اس رسی کو بے دردی سے کھینچتے ھوئے اونٹ کو زبردستی بھاگنے پرمجبور کرتے ھیں۔ جب وہ رکتا نہیں ھے تو نکیل کو جھٹکا دے کر روکنے کی کوشش کرتے ھیں۔

    کیا وہ جاندار نہیں؟ کیا اسے درد نہیں ھوتا؟ کیا قربانی سے پہلے وہ آپکا کھلونا ھے؟؟
    دوسری جانب گلی میں ایک بیل ھے جو دو بار رسہ تڑوا کربھاگ چکاھے اورکل اس کی گردن پر رسہ کھینچنے کی وجہ سے زخم ھوگیا ھے۔

    کسی نے وجہ جانی یا سوچا؟
    جب جانور کے کھیتوں یا کسی فارم ہاؤس یا ڈیری فارم سے لایا جاتا ھے نازوں سے رکھا جاتا ھے۔وقت پر کھلایا پلایا اور نہلایا جاتا ھے۔
    یہاں گرمی ،غلاظتوں کا ڈھیر اس پر شور اسے تکلیف دیتے ھیں۔ پھر وہ بھاگتا ھے اور انسان عید کے گوشت کے پیچھے بھاگتا ھے۔

    کیا قربانی گوشت کا نام ھے؟
    وہ گوشت جسے بس ذبح کرو،فریز کرو،مہینوں جمع رکھو،رشتے داروں میں شاپر بھر بھر بانٹو جو خود بھی قربانی کرتے ھیں؟؟
    باربی کیوبناؤ؟ پارٹیاں اڑاؤ؟

    ذرا سوچئے!!کیا آپ کو عید قربان کا معنی و مفہوم معلوم ھے؟؟ اسی کی مخلوق کو درد اور تکلیف میں ڈال کر اپنا اور اپنے بچوں کا نفس خوش کر کے کیا قربان کر رھے ھیں آپ گوشت یا اپنی پیار سے پالی ھوئی چیز راہ خدا میں رضائے خدا کے لئے ؟

    @RjShanzayAli_

  • پاکستان کے خلاف الزامات ، سازشیں اور پراپیگنڈہ ۔۔۔ حقیقت کیا ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان کے خلاف الزامات ، سازشیں اور پراپیگنڈہ ۔۔۔ حقیقت کیا ؟ تحریر: نوید شیخ

    گزشتہ دنوں پاکستان میں دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کا تعلق تو اس خطے کی بدلتی صورتحال سے ہے مگر یہ ہوئے پاکستان میں ہیں ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک داسو میں حملہ ہوتا ہے۔ جس میں متعدد چینی ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ جس کے بعد یقینی بات ہے کہ چین کی جانب سے بیانات بھی آنے تھے ۔ بہت ہی سخت بیانات آئے ۔ پریشر بھی آیا ۔ یہاں تک کہ چین کی ایک خصوصی انوسٹی گیشن ٹیم بھی پاکستان میں آئی ۔ اس حوالے سے حکومت کے ہاتھ پاؤں بھی پھولے دیکھائی دیے ۔ یہاں تک کہ شاہ محمود قریشی خصوصی طور پر چین گئے اور چینی قیادت کو اعتماد میں لیا ۔

    ۔ پھر چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے چیف ایڈیٹر نے کہا کہ اگر پاکستان داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی ماہرین پر حملہ کرنے والے مجرموں کو نہیں پکڑ سکتا تو چین اپنی سپیشل فورسز کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے۔

    ۔ پھر یہ خبریں بھی آئیں کہ داسو ڈیم بنانے والی چینی کمپنی نے پاکستانی ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور کام بند کر دیا گیا ہے ۔ جس کے بعد یہ چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں کہ دشمن پاکستان اور چین کے درمیان دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ پھر واپڈا کے اعلی حکام سمیت حکومت پاکستان نے قائل کیا تو یہ نوٹس واپس لے لیا گیا ۔ اب داسو واقعے کے بعد سول انتظامیہ، واپڈا اور چینی کمپنی نے باہمی مشاورت سے تعمیراتی کام چند دنوں کے لیے معطل کردیا ہے ۔ کام بند کرنے کا مقصد حفاظتی اقدامات کو ازسرنو منظم کرنا بتایا گیا ہے ۔

    ۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھاگتے دوڑتے بھی دیکھائی دیے ۔ متعدد پریس کانفرنسیں بھی کیں ۔ یہ بھی اعادہ کیا کہ جلد ملزموں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا ۔

    ۔ اس حوالے سے گزشتہ روز کی بریفننگ میں بتایا کہ پاکستانی آرمی اور دیگر ایجنسیز کے 15اہلکار تحقیقات کیلئے ہیلی کاپٹر پر داسو پہنچے ۔ یہ بھی کہا کہ سی پیک اور ڈیم کے پراجیکٹس پر کوئی حرف نہیں آنے دیا جائے گا، چین کی حکومت جانتی ہے کہ ہم اپنی قوت سے زیادہ اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں ۔ مزید یہ بتایا کہ ہم نے چین سے کہا ہے کہ وہ دفتر خارجہ سے مل کر کام کریں ۔۔ اب اس حوالے سے ابھی تک تو کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی ہے مگر یہ واضح ہے کہ پاکستان پر چین کی جانب سے اس حوالے پریشر بہت ہے ۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے سی پیک کو ذرا بریکس لگ گئی ہیں ۔ اس حوالے سے بھی چین پاکستان کو تنقیدی نظر سے دیکھ رہا ہے ۔ پھر اگر بین الاقوامی امور کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے بڑے دور رس اثرات ہوسکتے ہیں ۔ پاکستان کے چین کے ساتھ معاملات تو شاید دوبارہ ٹریک پر آجائیں ۔ مگر یہ واضح ہے کہ اس میں ملوث کرداروں اور ممالک کو آنے والوں دنوں میں اہم پیغام اور موثر جواب ضرور دیا جائے گا ۔ اب یہ پاکستان کی جانب سے ہوتا ہے یا چین کی جانب سے مگر یہ ہوگا ضرور ۔ اگر سیاسی طور پر دیکھاجائے تو اندرونی طور پر بھی حکومت پر پریشر بڑھ رہا ہے کیونکہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ داسو حادثے نے ہمیں شرمندہ کردیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو اس واقعے پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔
    چینی ورکرز کے حوالے سے پاکستان میں پہلے بھی کئی واقعات ہوتے رہے ہیں مگر موجودہ صورتحال میں ایسا دیکھائی دے رہا ہے کہ اب پاکستان پر امریکہ کے بعد چین کی جانب سے
    do moreکا پریشر بڑھے گا ۔ کیونکہ یہ دیکھنا شروع ہوگیا ہے کہ جیسے جیسے افغانستان میں خانہ جنگی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس کے اثرات پاکستان پر بھی آئیں گے اور جو پاکستان کے دشمن ہیں ، چین کے دشمن ہیں ۔ سی پیک کے دشمن ہیں وہ اس موقع کو استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کر یں گے ۔

    ۔ دوسرا ایک اور بہت اہم واقعہ ہوا ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی نوٹس لے لیا ہے ۔ اور حکم دیا ہے کہ 48گھنٹوں میں ملزمان کو پکڑا جائے ۔ کیونکہ دن دیہاڑے کہیں اور نہیں پاکستان کے دارلخلافہ اسلام آباد سے افغان سفیر کی بیٹی اغواء ہو جاتی ہے پھر حیران کن طور زخمی حالت میں ملزمان اس کو پھینک کر چلے جاتے ہیں ۔ ۔ اس کی تفصیل میں آپکو بتاوں تو کہ اسلام آباد کے ایف سیون مرکز کی جناح سپر مارکیٹ سے افغانستان کے سفیر نجیب اللہ خیل کی 26 سالہ بیٹی سلسلہ علی خیل کو دن ڈیڑھ بجے اغواءکیا گیا اور شام کو 7 بجے زخمی حالت میں بلیو ایریا تہذیب بیکری کے پاس پھینک دیا گیا۔ ۔ یعنی ساڑھے پانچ گھنٹے وہ اغواءکاروں کے پاس رہیں اور اس دوران ان پر تشدد کیا گیا اور تشدد کر کے انہیں بلیو ایریا میں پھینک دیا گیا۔۔ اس کے بعد افغان سفیر کی بیٹی کو زخمی حالت میں پمز ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے ۔ اس معاملے کی کوہسار پولیس سمیت دیگر ادارے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ۔ پہلے پہل یہ خبر پاکستان کے کسی چینل میں نہیں چلائی گئی اس کی وجہ خطے کے کشیدہ حالات ہیں اور سب کو معلوم تھا کہ اس خبر کے بڑے گمبھیر نتائج ہو سکتے تھے۔ پھر جب افغان حکومت اور انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے اس اسٹوری کی بھرپور کوریج ہوئی اور بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف پراپیگنڈہ شروع ہوا تو مجبوراً ہمارے وزیروں ایکشن لینا پڑا اور میڈیا کو بھی یہ اسٹوری چلانا پڑی ۔

    ۔ اس معاملے پربھی اب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا موقف آگیا ہے ۔ اس حوالے سے بڑے اہم سوالات بھی انھوں نے اٹھائے ہیں کہ افغان سفیر کی بیٹی نے خود ٹیکسی بک کی تھی۔ اس سے پہلے کسی سفیر کے اہلخانہ کے یوں پرائیویٹ ٹیکسی ہائر کرنے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ پہلے کہا گیا کہ ٹیکسی موبائل فون سے بک کرائی گئی لیکن پھر کہا گیا کہ فون گھر پر تھا، ایک موقف یہ بھی آیا کہ مبینہ اغوا کار موبائل فون اپنے ساتھ لے گیا۔ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعے میں دو ٹیکسیوں کا ذکر ہے۔ ایک ٹیکسی وہ ہے جس میں تشدد کیا گیا جب کہ دوسری وہ ٹیکسی ہے جس نے افغان سفیر کی بیٹی کی مدد کی۔ اس ٹیکسی ڈرائیور کو 500 روپے انعام بھی دیا گیا۔

    ۔ شیخ رشید نے یہ بھی کہا ہے کہ کیمرہ اور ویڈیوز کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلیں ، مارکیٹ میں آئیں وہاں سے ٹیکسی لے کر شاپنگ کیلئے کھڈا مارکیٹ میں اتریں ، کھڈا مارکیٹ سے ایک اور ٹیکسی لی ۔ ہماری فوٹیج کے مطابق یہ راولپنڈی گئیں ،راولپنڈی کے شاپنگ مال اتریں ، ان کے اترنے کی فوٹیج موجود ہیں ، اس کے بعد یہ تیسری ٹیکسی پر دامن کوہ اتریں ،یہ راولپنڈی سے دامن کوہ کیسے پہنچیں اس پر کام ہو رہا ہے ، یہ ایف سکس سے گھر جا سکتی تھیں لیکن انہوں نے ایف نائن جانے کو اہمیت دی ۔ ۔ شیخ رشید نے یہ بھی بتایا کہ دوسرے ٹیکسی ڈرائیور کو ٹریس کرلیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، مزید کارروائی افغان سفیر کی بیٹی کے تحریری بیان پر کی جائے گی۔ ان کے مطابق فی الحال اس واقعے کا کوئی دوسرا پہلو نظر نہیں آتا۔

    ۔ اب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جب یہ لڑکی بازیاب ہوئی تو اس کے دوپٹے کے ساتھ ایک ٹیشو پیپر اور پچاس روپے کا نوٹ بندھا ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ ۔۔۔ اگلی باری تمہاری ہے ۔۔۔

    ۔ اب یہ ایک کھلی دھمکی ہے اگر آنے والے دنوں میں اس حوالے سے افغان سفیر کو کچھ ہوتا ہے یا کسی اور کو کچھ ہوتا ہے ۔ تو پاکستان کے لیے شدید مسائل ہوسکتے ہیں ۔ ہم پر انگلیاں اٹھ سکتی ہیں ۔ کیونکہ اس وقت پاکستان کے خلاف بین الاقوامی طور پر خوب پراپیگنڈا ہو رہا ہے ۔ کہ ہمارے ہسپتالوں میں زخمی طالبان کا علاج ہو رہا ہے۔ افغان حکومت کبھی ہماری ایئر فورس پر الزام لگاتی ہے تو کبھی ہم پر کہ پاکستان سے افغانستان میں جنگجو جارہے ہیں ۔

    ۔ بھارت اس خبر کو لے کر ہمیشہ کی طرح ہمارے خلاف منفی پروپیگنڈا کررہا ہے ۔ اس واقعے پر بھی بھارت نے پرانی فوٹیج لگا کر پروپیگنڈا کیا اور عالمی میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ۔ یہاں تک کہ ایک fakeتصویر کو افغان سفیر کی بیٹی بنا کر پیش کیاگیا ۔ اور اس معاملے کو دیکھتے ہوئے افغان سفیر خود میدان میں آئے اور انہوں نے تصحیح کرتے ہوئے اپنی بیٹی کی درست تصویر شیئر کی اور سا تھ پیغام بھی جاری کیا۔ کہ کسی اور کی تصویر سوشل میڈیا پر غلط پوسٹ کی گئی تھی ، حالانکہ میں اسے بالکل بھی نہیں جانتا ہوں۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس خطے اور ہماری اہمیت بڑ ھ چکی ہے ۔ جو مجھے سمجھ آتا ہے کہ ان واقعات کو سرانجام دینے والوں کا مقاصد یہ ہی دیکھائی دیتا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد پاکستان بھی محفوظ نہیں رہا ہے ۔
    اس حوالے سے جو کرنے کا والے کام ہیں کہ سب سے پہلے تو تمام غیرملکیوں پر نظر رکھی جائے ۔ اپنی اندرونی سیکورٹی کو مزید مضبوط بنایا جائے ۔ جتنے بھی ہائی پروفال لوگ ہیں ان کی سیکورٹی میں اضافہ کیا جائے ۔ کیونکہ جو دشمن ہے اس مقاصد صاف دیکھائی دے رہاہے کہ وہ اس بدلتی صورتحال میں پاکستان کو بدنام کرناچاہتا ہے ۔ اور یقینی طور پر وہ ایسی چیزوں کو ٹارگٹ کرے گا جس سے بڑی خبر بنے اور انٹرنیشل میڈیا اس کو اٹھائے ۔ حکومت اور وزیروں کو بھی چاہیے کہ damage controlکرنے سے بہتر ہے کہ damage ہونے ہی نہ دیا جائے ۔ ۔ اب اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ افغانستان کی وجہ سے صرف پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے تو یہ بھی غلط ہے اور صرف تصویر کا ایک رخ ہے ۔ ۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ایران اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے علاوہ روس اور چین نے بھی افغانستان میں بگڑتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر آپس میں صلاح مشورے شروع کر دیئے ہیں۔

    ۔ تاجکستان کے بعد ایران نے بھی افغان جنگ کے ممکنہ اثرات کو اپنے اپنے ملکوں میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے سرحدوں پر فوجیں جمع کر دی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی سرحد بندی کر چکا ہے ۔ باڑ لگا چکا ہے ۔ روس کا ماننا ہے اور وہ کہہ بھی رہا ہے کہ افغانستان کی وجہ سے پڑوسی ممالک میں عدم استحکام پھیل جانے کا حقیقی خطرہ موجود ہے ۔ اس لیے اب چین، روس، ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ہاں دوبارہ خدشات جنم لینے لگے ہیں ۔ دوسری طرف امریکہ اور مغربی اتحادی اپنی ناکامی یا پھر خانہ جنگی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے جارہے ہیں۔ ادھر افغان حکومت امریکہ کی بے وفائی کے تذکرے کی ہمت یا اپنی ناکامیوں کے اعتراف کی بجائے سب الزام پاکستان کو دے رہی ہے۔ پاکستان، روس، ایران اور چین اس الجھن کا شکار ہوئے ہیں کہ وہ اس مرحلے پر طالبان کو ناراض کرنے کا رسک لیں یا پھر ان کی ضد کے آگے سرنڈر کر دیں۔ کہ وہ افغانستان کو پھر سے امارات اسلامی افغانستان بنادیں ۔ ایک اور چیلنج اس خطے کے تمام ممالک کے لیے یہ بھی ہے کہ سوویت یونین کی طرح امریکہ بکھر گیا ہے اور نہ اقتصادی لحاظ سے دیوالیہ ہو گیا ہے۔ اس کی فوج افغانستان سے نکل رہی ہے لیکن امریکہ نہیں نکل رہا۔ افغانستان کو چلانے کے لئے پیسہ اب بھی امریکہ ہی دے گا۔ سوویت یونین کی طرح وہ لاتعلق نہیں ہوگا بلکہ کچھ فاصلے پر خلیج میں اس کے بیس سے زائد فوجی اڈے موجود ہیں۔

    ۔ یعنی امریکہ فوج نکال کر بھی خطے کی مینجمنٹ کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ اب اس کا بنیادی ہدف چین ہے۔ وہ افغانستان سے فوج کو نکال کر اسے چین اور روس کے لئے درد سر بنانا چاہے گا۔

    ۔ ساری پیش رفت ایسے انداز میں ہو رہی ہے کہ جس سے شک جنم لے رہا ہے کہ خود امریکہ کی خواہش ہے کہ طالبان افغانستان پر قابض ہو جائیں یا پھر یہاں پر بدترین خانہ جنگی ہو جائے۔ جنوب کی بجائے چین اور وسط ایشیائی ریاستوں سے متصل صوبوں میں کئی اضلاع پر بغیر مزاحمت کے طالبان کے کنٹرول نے اس تھیوری کو مزید تقویت بخشی ہے ۔ ۔ یوں جیسے جیسے امریکی فوجی انخلا اپنے اختتام تک پہنچ رہا ہے۔ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کوششوں کا فوکس اب علاقائی ملکوں کی طرف شفت ہو رہا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں جنگ کے شعلے تیز ہوئے تو ان کی حدت سب سے زیادہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں ہی محسوس ہو گی۔

    ۔ تو میری نظر میں صرف پاکستان ہی نہیں ۔ ایران ۔ روس ، چین اور سینڑل ایشیاء بھی خطرات سے دوچار ہے ۔ کیونکہ belt and road intiative اور سی پیک ان تمام ممالک سے لنک ہونا ہے ۔ جو امریکہ اور مغرب کو کھٹکھتا ہے ۔

  • پاک، افغان امن اورانڈیا . تحریر : بینیش عباس

    پاک، افغان امن اورانڈیا . تحریر : بینیش عباس

    نیٹو امریکی اتحاد اپنی ایک رپورٹ کہتا ہے کہ ”پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے لیکن انڈیا اس کے مخالف ہے“
    یہاں پر انڈیا افغانستان میں امن کیوں نہیں چاہتا؟
    افغانستان میں بدامنی و دہشتگردی کی فضا سے انڈیا کے وابستہ مفادات کیا ہیں؟ جیسے کئی سوال ذہن میں آتے ہیں.

    انڈیا افغانستان میں امن اس لئیے نہیں چاہتا کہ اگر افغانستان میں امن قاٸم ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فاٸدہ پاکستان کو اورنقصان انڈیا کو ہے کیونکہ اگر امن ہوتا ہے تو پاکستان افغان سرحد پر لگاٸی گٸی فوج کو کم کر کے انڈین سرحدوں کی طرف بڑھا دے گا اور افغانستان میں جنگ بندی سے پاک فوج اور طالبان کے آپریشنز افغانستان میں نیٹو امریکی جنگ کی بجاٸے کشمیر کی طرف موو کریں گے جس کا سیدھا نقصان انڈیا کو ہو گا اور دوسرا افغانستان میں جنگ بندی سے امریکی بلاک میں انڈیا کی اہمیت بہت حد تک کم ہو جاٸے گی جس سے انڈیا کے مفادات کو نقصان پہنچے گا اور یہ انڈیا کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا کیونکہ جس امریکہ کا وہ اتحادی ہے وہ دنیا کے پرلے کونے پر بیٹھا ہے جبکہ اس کے ہمساٶں سے تعلقات کافی خراب ہیں.

    اس صورت حال میں اگر افغانستان میں امریکہ جنگ بلکل ختم ہوتی ہے اور امن قاٸم ہوتا ہے تو انڈیا کی وہ اہمیت باقی نہیں رہے گی جو امریکہ اتحاد میں اس وقت ہے کیونکہ واحد وہی اتحادی اس وقت خطے میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے جس نے امریکہ کے کہنے پر چین ( شہر پاور کمپیٹیٹر) سے بھی تعلقات خراب کر لئے اورباقی ہمسایوں سے بھی قابل ذکر تعلقات نہیں ہیں۔ سعودی عرب اور یو ای اے سے تعلقات کا اچھا ہونا ڈیڑه ارب کی آبادی کی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ اس کے علاوہ ان تعلقات کی کوٸی خاص بنیاد نہیں کیونکہ پاکستان سعودی عرب سے چارارب ڈالر کا تیل لیتا ہے اور انڈیا چالیس ارب ڈالر کا تو ظاہر ہے عرب نے اپنے کاروبار اور معشیت کو بھی دیکھنا ہے اس لیے سعودی عرب بھی پاکستان انڈیا کے معاملے میں مسلمان ملک ہونے کے باوجود برابری کے تعلقات کو دیکھتا ہے اورکشمیر یا دوسرے معاملات پرکسی ایک ملک کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن انڈیا ہمیشہ سے اپنی مارکیٹ کا فاٸدہ اٹھاتا رہا ہے اور شاید آج بھی اٹھا رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن قاٸم ہو اور امریکی اتحاد میں اس کی اہمیت کم ہو اس لیے انڈیا جنگ بندی کی مخالفت کے ساتھ ساتھ کھل کر اففغانستان حکومت کو نہ صرف اسلحہ فراہم کر رہاہے جبکہ دوسری طرف بدلتے کنٹرول کو دیکھتے طالبان سے مذاکرات کا بھی خواہاں ہے، لیکن پچھلے دنوں سفارتی ملازمین کی واپسی کے نام پر آئے جہاز میں موجود اسلحے نے اس دوہری و دوغلی حکمت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہ کابل پر اشرف غنی کا سرعام پاکستان کو افغان امن کا حریف کہنا غنی پر پیسہ لگانے والی ہندوستانی حمکت عملی کھل کر آخری حربے کے طور پر سامنے آ گئی ہے کہ غنی حکومت ہو یا انڈیا افغانستان میں امن ہوتا نکلنا مشکل ہے ان کے لئے۔

    جبکہ دوسری طرف پاکستان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں ایک مضبوط اسلامی حکومت ہو تاکہ وہاں امن ہو جس سے پاکستان میں امن ہو۔ حالیہ دورہ کابل میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اشرف غنی کے لگائے بے بنیاد الزام اور امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی اس کوشش کو بے نقاب کرتے ہوئے افغانستان میں بدامنی سے پاکستان کے ہونے والے نقصان کی یاددہانی بھی کروا دی۔ الحمدللہ اسلامی حکومت والے تیزی سے علاقے فتح کرتے جا رہے ہیں۔ کفار حریف کی ساری چالیں ناکام ہوتی نظر آ رہیں۔ افغانستان میں خالص اسلام کی فتح علاقے میں نہ صرف اسلامی اقدار کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ مسلم اتحاد اور جیو سٹرٹیجک پوزیشننگ کو ایک نئے رخ کی طرف موڑ دیتی نظر آ رہی ہے۔

  • قرآن پاک ایک مکمّل ضابطۂ حیات . تحریر : وکیل احمد خان

    قرآن پاک ایک مکمّل ضابطۂ حیات . تحریر : وکیل احمد خان

    قرآن پاک ایک مکمّل ضابطۂ حیات ہے، جس میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق علم وحکمت کے اسرار پوشیدہ ہیں، لیکن اُن اسرار و رموز تک صرف صاحبِ علم و حکمت ہی پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے ہی رازوں کو جاننے کے لیے قرآنِ پاک میں بیان کیا گیا ــ کہ’’ کیا تم غور نہیں کرتے‘‘ اس آیت کے ذریعے اللّہ پاک اپنے بندوں کو غور و فکرکی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ اس پر عمل پیرا ہوکر آگہی وشعورحاصل کر سکیں۔ یہاں ایک بات کا ذکر ضروری ہے کہ کسی مخصوص شعبے سے متعلق تعلیم حاصل کرلینا ہی علم نہیں ،علم بہت وسیع معنی رکھتا ہے۔ اسی لیے علم کی پیاس کبھی نہیں بجھتی، جیسے جیسے انسان علم کے سمندر میں غوطہ زن ہوتاچلا جاتا ہے، ویسے ویسے عِلم کی تشنگی بھی بڑھتی اور فکر میں وسعت پیداہوتی جاتی ہے۔تعلیم کے بغیر انسان کے عقل و شعور میں ادراک کی قوّت نہیں ہوتی۔

    علم کے بغیر انسان اپنے آپ کو نہیں پہچان سکتا ، تو پھر وہ زندگی اور کائنات کی دوسری اشیاء اور حقائق کی معرفت کیسے حاصل کرسکے گا،اس لیے اسلام نے اوّل دن سے اپنے ماننے والوں کو علم کے حصول کی ترغیب دی اور نہ صرف طلبہ بلکہ معلّمین کے اعلیٰ رُتبے کا بھی تعیّن کردیا۔بہ حیثیت مسلمان ہمارے لیے رب کی معرفت اور قرآن و حدیث کے علوم کا حصول نہایت ضروری ہے۔ کیوں کہ اس کے ذریعے ہی ہم اپنے مقصدِ تخلیق کو جان سکیں گے، لیکن زندگی گزارنے اور دنیا کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے دنیاوی علم کے حصول کی اہمیت بھی ناگزیر ہے۔تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں، تو پتا چلتا ہے کہ علم کے ذریعے مسلمانوں نے دنیا پر حکمرانی کی ، طبیعات ہو، فلسفہ، کیمیا،ریاضی، جغرافیہ یا کوئی اور سائنسی مضمون ہرشعبے میں مسلمان سائنس دانوں نے تحقیق و عمل کے ذریعے اپنا ایک نام، ایک مقام پیدا کیا، مگر جب ہم نے اپنے اجداد کی میراث، ان کی تعلیمات کو فراموش کیا.

    علم تحقیق وعمل سے دُور ہوئے، تو ہمارا زوال شروع ہوگیا، جو آج تک عروج میں نہ تبدیل ہو سکا۔ آج مغربی عوام تحقیق کے شعبے میں ہم سے کہیں آگے ہیں۔ کئی ایسے غیر مسلم سائنس دان بھی ہیں، جنہوں نے قرآن کا مطالعہ کرکے تحقیق و عمل کو آگے بڑھایا۔ ہمارے اسلاف کی لکھی گئی کتب ، ان کے نظریات کو بنیاد بنا کرمغربی اقوام دنیا میں اپنا نام بنا چُکی ہیں اور ہم محض اُن کی ایجادات سے مستفید ہورہے ہیں۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مغرب برق رفتاری سے ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے تو بڑھ رہا ہے، مگر اس نےکتاب سے اپنا رشتہ نہیں توڑا۔ بس ہو یا ٹرین کا سفر، بچّوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر کوئی کتب بینی میں مصروف نظر آتا ہے یہ الگ بات ہے کہ موبائل فون اور ٹیبلیٹ نے سب کچھ بدل دیا ہے ، جب کہ ہمیں تو اللّہ کا کلام، قر آن پاک پڑھنے تک کا وقت نہیں ملتایا یوں کہہ لیجیے کہ ہم وقت نکالنا ہی نہیں چاہتے۔

    دوسری جانب اگر نصابی کتب کی بات کی جائے، تو ہمارا تعلیمی نظام کچھ ایسا ہے کہ بچّے سمجھ کر پڑھنے کے بجائے رٹّالگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا علم صرف اور صرف ڈگری کے حصول تک محدود ہو چکاہے۔ حالاں کہ علم تودراصل کسی شئے کے جان لینےاور سمجھ لینے کا نام ہے۔ ہر ملک کے تعلیمی نظام میں دنیاوی، معاشرتی اور مذہبی تعلیمات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے نصابِ تعلیم ترتیب دیا جاتا ہے، مگر بد قسمتی سےہمارے ملک پاکستان میں ایسا کوئی نظام وضع نہیں کیا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ تو ہیں، لیکن تربیت یافتہ نہیں۔ نسلِ نو ،رکھ رکھاؤ بزرگوں کے ادب و احترام اور بھائی چارگی سے بہت دُور نظرآتی ہے ۔ افسوس ، صد افسوس کہ ہم انگریزی بولنے کو تو فخر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن اپنے بچّوں کوعربی زبان نہیں سکھاتےکہ جس میں کلام ِ الٰہی کا نزول ہوا ۔ ہمیں کبھی یہ خیا ل بھی نہیں آتا کہ جب تک نئی نسل قر آن مجید سمجھے گی نہیں، تب تک اُس پر بہتر طور پر عمل کیسے کرے گی؟ذرا سوچیں، اگر ہمارے بچّے عربی زبان پر بھی مہارت حاصل کرلیں ، توانہیں اللّہ تعالیٰ کے احکامات اور احادیث سمجھنےمیں کس قدر آسانی ہوجائے گی۔ چنانچہ اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی جانب ضرور راغب کیجئیے ۔ اللّہ کی خوشنودی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی یہی ہے ۔

    @ReadinWakil

  • اللہ تعالیٰ پر کامل یقین . تحریر : کاشف علی

    اللہ تعالیٰ پر کامل یقین . تحریر : کاشف علی

    اگر یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میرا مددگار ہے اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے تو پھر کوئی خوف نہیں کوئی شے اللہ تعالیٰ سے بالاتر نہیں
    اگر تمام انسان مل کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتے اور نہ تمام انسان مل کر تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے.

    اللہ تعالیٰ نے کسی کے ہاتھ میں تمہارا رزق، تمہاری عزت، تمہارا مستقبل، تمہاری کامیابی نہیں رکھی، سب اللہ تعالی کے پاس ہے محض وقتی فائدے کیلئے کسی کے سامنے مت جھکنا اللہ تعالی پر کامل یقین رکھو.

    دیکھیں تو آج امت کی اکثریت عدم یقین کا شکار ہے دنیاوی امور سے لے کر دین کے معاملات تک ہر چیز میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات کا شکار ہیں جبکہ بندہ مومن کی زندگی کامل یقین سے عبارت ہوتی ہے اور حکم بھی اسی کا دیا گیا ہے کہ انسان مقام یقین تک پہنچے.

    ہمیں چاہیے کہ جب ہم کسی کام کو کرنے کا ارادہ کریں تو پہلے اس کے تمام پہلوں کا خوب اچھی طرح جائزہ لے اور جب کام میں لگ جائیں تو پھر اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات پر کامل یقین رکھیں انسان کے بس میں تو کوشش کرنا ہی ہے باقی اللہ تعالی وہی کرتا ہے جو بندہ کے حق میں بہتر ہوتا ہے.

    اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں یقین کامل کی دولت عطا فرمائے ۔ آمین

    @DirojayKhan1