Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قرۃالعین اور انصاف : تحریر عینی سحر

    قرۃالعین اور انصاف : تحریر عینی سحر

    حیدر آباد کے علاقے بیراج کالونی کے رہائشی عمر خالد میمن نے اپنی بیوی قرۃالعین کو تشدد کرکے ہلاک کر دیا _ انکی میڈیکل رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کے انھیں بہیمانہ تشددکرکے ہلاک کیا گیا _ بہت ممکن ہے کے یہ گھناؤنا جرم چھوٹے بچوں کے سامنے کیا گیا ہے _

    میاں بیوی ایک دوسرے کے خوشی اور غم کے ساتھی ہوتے ہیں جنھیں قرآن میں ایکدوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے

    بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بیوی کو اکثر پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا اور اسکا استحصال کیا جاتا ہے _ چاہے وو کتنی پڑھی لکھی اور خودمختار ہو اکثر مرد اسے برابری کا مقام نہیں دیتے اور اپنی ملکیت سمجھتے ہوۓ اسکی تذلیل اور اسکے حقوق کی پامالی کرتے
    ہیں

    آخر کسی کی اس مظلوم بیٹی کا کیا قصور تھا کے نہ عدالت لگی نہ گواہ پیش ہوۓ اور نہ ہی کوئی منصف فیصلہ دے سکا اور محض عام گھریلو تکرار پر اسکے شوہر نے خود ہی عدالت لگائی تشدد کیا اور ایک بے بس اور مظلوم کی زندگی ختم کر دی

    بیٹیاں ماں باپ کی جان اور انکا مان ہوتی ہیں _ کتنے ارمانوں سے وہ اپنی بیٹیوں کو پروان چڑھاتے ہیں اور محنتوں سے انکا جہیز تیار کرکے اللہ سے انکے بسنے اور آباد رہنے کی دعائیں کرتے ہوۓ انھیں سسرال بھیجتے ہیں _ وہ بیٹی اپنے والدین کا جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے جو والدین کسی اور گھر میں رخصت کرتے ہوۓ صرف یہ خواہش کرتے ہیں کے انکی بیٹی خوش اور آباد رہے

    ان بہیمانہ جرائم کیوجہ سے جو سسرال میں ہوتے ہیں والدین کو چاہئیے کے اپنی بیٹیوں کو باور کرائیں کے ظلم سہنے کی ضرورت نہیں اگر اس کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے اس کیساتھ کوئی ظلم ہوتا ہے تو میکے کا دروازہ کھلا ہے لوٹ آنا_ اس لیے کے کہیں کوئی زور بیٹی قرۃالعین کیطرح بے بسی سے اپنے ظالم شوہر کے ہاتھ نہ مر سکے

    اسلام بھی اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کے بیویوں کے حقوق ضبط کرکے ان پر ظلم ڈھایا جاۓ بلکے ناچاقی کی صورت میں راستے الگ کرلینے کی اجازت بھی ہے کوئی شک نہیں طلاق اسلام میں پسندیدہ فعل نہیں لیکن اسلام ظالم شوہر کے ہاتھوں ظلم سہنے کو نہیں کہتا

    بربریت کی یہ مثالیں معاشرے میں کب تک رہیں گیں ؟ ضروری ہے کے ایسے ظالم لوگوں کو کڑی سزا دی جاۓ جو جرم کرتے ہوۓ خوفزدہ نہیں ہوتے کے وہ قانون کے شکنجے میں آئیں گے یا اللہ کا غضب کا شکار ہونگے _ قرۃالعین کے شوہر کو پھانسی ہو بھی جاۓ تو نہ تو ان معصوم بچوں کو انکی ماں واپس ملے گی نہ وہ دنیا میں لوٹ کر آے گی اور نہ ہی اسکے والدین کو انکی بیٹی واپس ملے گی لیکن مظلوم کو انصاف ملنا چاہئیے

    سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ یہ آواز اٹھائی جارہی ہے کے قرۃالعین کو انصاف دو _ #justiceforquratulain

    قانون اور انصاف سے یہ معاشرہ دہائی دیتا ہے کے قانون کی عملداری کروائیں اور ایسے بہیمانہ جرائم کا خاتمہ کریں

  • 21 صدی کے اقبال کے شاہین”، تحریر:فرح خان

    21 صدی کے اقبال کے شاہین”، تحریر:فرح خان

          
    آج کا نوجوان دوہرے معیار کے ساتھ اپنی زندگی کو گزار رہیں ہیں۔جس میں مغرب اور پڑوسی ملک کی چمک دھمک کی چھاپ واضح نظر آتی ہے۔جہاں ہمارے بزرگوں نے اس ملک کے لیے مثالیں قائم کی،ہمارا نوجوان ان سے سبق سیکھنا تو دور اقبال کے فلسفے کی رہنمائی حاصل کرنے کے بھی روادار نہیں رہے۔
    خودداری اور غیرت مندی کا جنازہ نکالنا ان کا مشغلہ ہوگیا ہے،جس کی مثال پاکستان میں امتحانات ملتوی کروانے کے لیے ہنگامہ آرائی اور بیانات پیش پیش ہیں۔

    "دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
    نیا زمانہ،نئے صبح شام پیدا کر”

    آج رہ رہ کر خیال آیا کہ یہ شعر علامہ اقبال نے ان نوجوانوں کے لیے کہے جو عشق حقیقی کی طلب رکھتے تھے یا عصر حاضر کے نوجوان کے لیے جو
    عشق ٹک ٹاک،
    عشق اسنیپ چیٹ،
    عشق انسٹاگرام،
    عشق اسنیک وڈیو،،،،،،وغیرہ
    رکھتا ہے۔

    غضب خدا کا اس نوجوان نسل نے پڑوسی ملک کے عشقیہ گیتوں پہ عجیب و غریب حرکات کے ساتھ وڈیو بنانے کو ہی اپنا اولین فریضہ سمجھ لیا ہے۔

    الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا پہ بھی کئی نامور شخصیات غلط کو صحیح منوانے پہ تلے ہوئے ہیں ۔
    ہماری نئی نسل کی اصلاح اور رویوں میں تبدیلی کے بجائے آزادی اظہار رائے کے نام پہ ان کو اندھری گہری کھائی میں دھکیل رہے ہیں۔

    ہمارے ملک کی آبادی %66 نوجوان طبقے پر ہے اور ان میں سے %15 نوجوان ایسے بھی ہیں جنہوں نے ارطغرل غازی اور عثمان غازی پہ مبنی ڈراموں کے بعد خود کو اوٹھ پٹانگ سے دور کرکے اچھی مثال بھی بنائی۔

    حکومت،میڈیا،سینسر بورڈ، پیمرا اور دیگر اداروں سے درخواست ہے کہ روشن مستقبل کے لیے کچھ نئے سخت اصول اور ضوابط کو ترتیب دیں۔
    بےحودہ اور اخلاقیات سے گرے ہوئے خیالات کو پرموٹ نہیں "بین” کیا جائے۔

    حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
    خدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ

    @MastaniFarah

  • کیا دانش صدیقی کو واقعی طالبان نے قتل کیا؟ . وحید گل

    کیا دانش صدیقی کو واقعی طالبان نے قتل کیا؟ . وحید گل

    یہ ایک عام تاثر ہے کہ بھارتی میڈیا پرموجود صف اول کے صحافی سوائے عوام کو بھڑکانے کے کوئی دوسرا کام نہیں کرتے۔ دراصل یہی بھارت کی خارجہ پالیسی ہے جسکی میڈیا پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ یہ بھی عام دیکھنے میں آیا ہے کہ میڈیا کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ ملکر سوائے خطے میں بدامنی پھیلانے کے اور کسی کام پر توجہ نہیں دی جاتی۔ 9/11 کی ہی مثال لے لیں جب امریکہ پر ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے ڈرامہ رچایا تھا کہ انکا مسافر طیارہ بھی ہائی جیک ہوگیا ہے۔ اس ڈرامے میں بھارتی میڈیا پیش پیش رہا اور عوام کو تین گھنٹے متواتر ایک نہ ختم ہونے والے کرب میں مبتلا رکھا۔ 9/11 کے بعد امریکہ کی مسلم ممالک کے خلاف جارہانہ پالیسی کی نقل کر کے "دس قدم اور پاکستان ختم” جیسی ڈینگیں میڈیا پر مارتے رہے۔

    پلوامہ حملے کے بعد بھی ابھینندن جیسے "بالی ووڈ” متاثرین اورخوابوں کی دنیا میں رہنے والے صحافی حضرات اچھل اچھل کرمیڈیا پربڑکیں مارنے لگے تھے کہ ہمارے جہازوں نے فضائی بمباری کی اور پاکستان میں 300 لوگ مارے گے جبکہ حقیقت میں تین درخت اورایک کوا شہید ہوا تھا۔ یہ تاریخی پس منظر بتاتا ہے کہ بھارت میں کس قسم کے صحافی حضرات کو پروموٹ کیا جاتا ہے۔۔۔ ایسے میں دانش صدیقی نامی مسلمان بھارتی صحافی جس نے بھارت کے کووڈ۔19 بحران کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا تھا کے افغانستان میں نہایت مشکوک حالات میں اچانک قتل کی خبریں گردش میں آتے ہی ٹوئیٹر دانش صدیقی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔۔ شالنی نامی ساتھی صحافی کا کہنا تھا کہ "ڈینش صدیقی کی روہنگیا مہاجرین ، دہلی پوگرام ، اور ہندوستان کے کوڈ بحران پر نقش نگاری کی تصاویر ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں مسلط رہیں گی”

    https://t.co/SMwgmiLNTG”

    افغان صحافی عمران فیروز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا "مجھے یہ بات نہایت ناگوار گزری ہے کہ مودی کے بہت سارے فاشسٹ صدیقی کی قابل ذکر رپورٹنگ کرنے کے باوجود اسکی موت کا جشن منا رہے ہیں”

    Caummunist نے کہا کہ "یہ دونوں تصاویر ڈینش صدیقی اور عدنان عابدی نے فیبر2020 میں دیہی پوگرام میں لی تھیں۔ وہ عصرحاضر کی ہندوستانی صورتحال کو مکمل طور پر گھیر لیتے ہیں۔
    (رائٹرز انڈیا نے یہ تصاویر (اس سال کی) بطور بہترین تصویر منتخب کیا)

    https://t.co/lmmvzFUQMB”

    پاکستانی صحافی عمرقریشی کے مطابق "ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکارکے کچھ حامی روئٹرز کے فوٹو جرنلسٹ (اور دہلی کے رہائشی) دانش صدیقی کی افغانستان میں موت کی خوشی منا رہے ہیں
    کیوں؟

    کیونکہ جب اس نے ہندوستان میں کوویڈ سے ہونے والی اموات اور آخری رسومات کی تصویریں وائرل کیں تو یہ بات انہیں ناگزیر گزری”

    مقبوضہ کشمیر کے سابقہ وزیراعلی عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ دانش اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے طالبان کی کراس فائرنگ سے جاں بحق ہوا مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اسکی موت کا جشن بھارت میں موجود وہ کمینے منا رہے ہیں جنھیں اسکی رپورٹنگ سے بے آرامی ہوا کرتی تھی۔ اپنے ٹوئیٹر میسج میں انہوں نے رائیٹ ونگ کے ٹرولز کو کہا کہ جہنم میں جاؤ

    بھارت میں ایک خاص طبقے کی جانب سے دانش صدیقی کی موت پر اسطرح جشن منانا صحافتی اقدار کی نہ صرف توہین ہے بلکہ آزادی صحافت کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہے جسکی گونج اس وقت پورے خطے میں سنائی دے رہی ہے

    Waheed Gul is a freelance Journalist and columnist; He has been writing for different forums. His major areas of interest are Current Affairs, Technology and Web Media. He can be reached at Twitter: @MrWaheedgul

  • جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا .تحریر :فضیلت اجالہ

    جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا .تحریر :فضیلت اجالہ

    حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں
    مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
    خاتم الرسل پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفی ﷺ مشرکین مکہ کے مظالم سے تنگ آکر مدینہ ہجرت کیا کرتے تھے لیکن یہ کیسا عجب منظر ہے زمیں حیراں آسماں پریشان ہے
    کہ نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کو نانا ( ص) کہ شہر میں ستایا جا رہا ہے ،ولید بن عتبہ یزید کی اطاعت کیلیے ظلم کا باب رقم کر رہا ہے
    اہل کوفہ تو مان لیا کہ بے وفاتھے لیکن اہل مکہ کو کیا ہوا کہ نبی آخر الزماں محمد مصطفی ﷺ کے لاڈلے کو مدینہ سے مکہ ہجرت پر مجبور کردیا ۔

    اُس طرف ظلم پر آماده زمانے والے
    اِس طرف سارے محمدﷺ کے گھرانے والے

    یوں امام حسین علیہ السلام 28 رجب کی رات اپنے اہل و ایال اور صحابہ کے ساتھ سفر مکہ کیلیے نکلے ،کچھ آگے بڑھے تو علمدار حسین ابن علی مولا عباس علیہ السلام نے کلام کیا اے جگر گوشہ رسول ہمارے قافلے کے پیچھے ایک چھوٹا قافلہ ہے نواسہ رسول گردن پلٹ کے دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے صحابی ارم غفار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ساتھ معصوم بیٹا ہے اس قدر ضعیف ہیں کہ گھوڑے پہ سوار نہی ہو پا رہے ۔نواسہ رسول نے فوراً ذوالجناح کو انکی سمت موڑا پاس پہنچے تو پوچھا کیا ارادہ ہے ۔
    صحابی رسول نے ادب سے سر کو جھکایہ آنکھوں میں نمی ہے اورکہتے ہیں ایک دفعہ نبی پاک ﷺ مسجد نبوی میں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک بچہ بھاگتا ہوا آیا رسول خداﷺ فوراً منبر سے اترتے ہیں اس بچے کو اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں اے صحابہ اسے پہچان لو یہ میرا نواسہ ہے کبھی اسے ہجرت کرنی پڑے تو اسکا ساتھ نبھانا ،اے نواسہ رسول میں اپنا وہی عہد نبھا رہا ہوں ۔قربان جائیں اس صحابی رسول کے اس عہد کے اور اس جزبہ وفا کے کہ سید زادیوں کے احترام میں ساتھ نہی چلتے چپکے سے پیچھے چلے آتے ہیں ۔

    پانچ دن کے بعد سفر اختتام پزیر ہوتا ہے یا شائد یہیں سے سفر حسین کا آغاز ہوتا ہے 3 شعبان 60 ہجری کو سرزمین مکہ پر نواسہ رسول کہ پاؤں پڑتے ہیں تو زمیں مہکنے لگتی ہیں فضائیں جھومتی ہیں کہ آج نبی کے نور نے ہمیں زینت بخشی ہے ۔قافلہ حسین نے مکہ میں تقریبا چار ماہ کا عرصہ گزارا ۔ رسول اللہ ﷺ کے عاشق نواسہ رسول کی قدم بوسی کیلیے حاضر ہوتے ہیں رہتی، اگر دو نواح کی خبر پہنچاتے رہتے ہیں ۔

    حج قریب آیا تو امتیوں نے عرض کی حسین علیہ السلام اس دفعہ پچھلی باریوں کے برعکس آپ حج پہ آئے ہیں لیکن قربانی کے جانور نہی لائے کیا اس دفعہ منی پہ قربانی نہی کریں گے اس پہ نواسہ رسول اپنے ہم شکل پیغمبر بیٹے جناب علی اکبر علیہ السلام اور اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام کی نشانی اپنے بھتیجے امیر قاسم علیہ السلام کو آواز دیتے ہیں جب دونوں شہزادے آ کے امام حسین علیہ السلام کے دائیں بائیں کھڑے ہوتے ہیں تو نواسہ رسول آسمان کی طرف دیکھتے ہیں مسکراتے ہیں اور جواب کے منتظر لوگوں کی طرف دیکھ کہ کہتے ہیں یہ ہیں میرے شہزادے میں اس سال انہیں راہ خدا میں ،نانا کے دین کی سر بلندی کیلیے قربان کروں گا اور یہ قربانی مکہ میں نہی کربلا کی منی پہ ہو گی ، کیسی قربانی ہےیہ کیسا جزبہ ہے کہ لخت جگر کو دین اسلام پہ قربان کرنے کیلیے تیار ہیں ۔وہ بھتیجا جسکی جوانی کی دھوم ہے کربلا کی خاک کو اسکے خون سے رنگنے کی تیاری ہے ۔

    اور پھر 8 زوالحج کا وہ دن جب نواسہ رسول کوفیوں کے جھوٹے خطو ں پر اعتبار کرتے ہوئے سفر کوفہ کا رادہ کرتے ہیں ،حرمت حج کی خاطر نواسہ رسول اپنا احرام کھول دیتے ہیں صحابہ کرام روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آپ کو کوفیوں کی گزشتہ بیوفائ یاد دلاتے ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام ارادہ باندھ چکے ہیں کہ عشق کی آخری بازی لگانی ہے
    پھر مکہ کی فضاؤں نے وہ درد انگیزمنظر بھی دیکھا جب

    ایک طرف دنیا بھر سے قافلے حج ادا کرنے کے لیے مکہ میں جوق در جوق چلے آرہے تھے وہیں میرے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و ا له وسلم کا لاڈلہ نواسہ اپنے اہل خانہ کے ہمرا سرزمین مکہ کو الوداع کہ رہے ہیں آج ہی کے دن امام حسین علیہ اسلام نے اپنے مکہ سے کربلا کے سفر کا آغاز کیا تھا۔
    ‎ ‏چلے ہیں حسین وعدہ نبھانے،
    گھر کو لٹانے، اسلام بچانے
    نواسہ رسول کا سفر جاری ہے اور جنتی نوجوانوں کا سردار یہ بات ثابت کرنے کیلیے پر عظم ہے کہ یزید صرف ظلم پے اور مولا علی علیہ السلام کا لاڈلہ امن کا نشان ہے ،یزید مائل جبرہے تو جگر گوشہ بی بی فاطمہ زہرہ سلام الله علیہ صبر کا پہاڑ ہے۔ امام حسین علیہ اسلام حق اور صداقت کے بے تاج بادشاہ ہیں جس کا کربلا کے تپتے ریگزاروں میں کیا اک سجدہ کائنات کے تمام سجدوں پہ بھاری ہے ۔
    وقت نے یہ بات تاریخ کے صفحوں پہ نقش کی کہ دریا کے کنارے پہرے لگانے والے معصوم بچوں کو پیاسہ رکھ کر خود سیراب ہونے والے مر گئے اور خشک ہونٹوں کے ساتھ جام شہادت نوش کرنے والے ہمیشہ کیلیے امر ہوگئے

    افضل ہے کُل جہاں سے گھرانہ حسین ؓکا نبیوں کا تاجدار ہے نانا حسین ؓکا اک پل کی تھی بس حکومت یزید کی صدیاں حسینؓ کی ہیں زمانہ حسینؓ کا

  • 2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی آبی سطح میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب ناسا نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک نیا اور خطرناک اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کے ذریعہ کی گئی تحقیق پر مبنی رپورٹ “نیچر” رسالہ میں گزشتہ ماہ شائع ہوئی تھی اس رپورٹ میں چاند پر ہونے والی ہلچل کی وجہ سے زمین پر آنے والے خطرناک سیلاب کو”نیوسنس فلڈ” کہا گیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن کے مطابق چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

  • سیاسی کارکنان کے نام اہم پیغام . تحریر:ملک حسن وزیر

    سیاسی کارکنان کے نام اہم پیغام . تحریر:ملک حسن وزیر

    آپ کسی بھی پارٹی سے جُڑے رہنا چاہتے ہیں، یہ آپ کا حق ہے۔ آپ کس لیڈر کی اُلفت میں مبتلاء ہیں یہ آپ کی مرضی ہے۔ آپ سب ہی یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں امن و امان،ترقی ، تعلیم،علاج معالجہ جان اور عزت کی حفاظت اور روزگار اور کاروبار کے وافر مواقع ہونے چاہیئں ۔ خاص کرغریب نوجوان بلدیات ہو یا صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی کی سیڑھی کی طرف اپنا قدم رکھ سکتے ہیں؟
    ذرا سوچئے کہ یہ سب کچھ حاصل کرنے لے لیے کیا ضروری ہے؟
    ایک دوسرے کی کردارکُشی؟
    ان بڑے اورمقامی لیڈروں کے پیچھے جو آپ کو آگے بڑھنے کا موقع تک فراہم نہیں کرتے،
    آپس میں تکرار ، گالی گفتاری ، یا الزام تراشی؟
    کیا ایسا کرنے سے مذکورہ اہداف حاصل پورے ہو سکتے ہیں؟

    سوچئے اور ایک با عزت سیاسی کارکن بنیں،ورنہ ذرا سا پیچھے مُڑ کر دیکھئے،آپ سے پہلے لاکھوں کارکنان سالہا سال اسی بے خبری اور گھٹیا پن میں مبتلا رہ کر ملک اور قوم کے لیئے کچھ بھی نہیں اور اپنے لیے ، تشدد ، مار ، جیلیں اور معاشی نقصان کما چکے مگر بات وہیں کی وہیں رہی۔

    سوچئے کہ ماضی میں سیاسی کارکنان کی بے سمت اور بے مقصد سیاسی حرکات کا کیا نتیجہ نکلا؟
    آج بھی وہی احتجاج ، وہی جلسے وہی باتیں وہی الزامات ، وہی احمقانہ سوچ !
    ذرا سوچئے اس بے مقصد سیاسی جدوجہد کا آئندہ کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟
    آپ ضرور اپنے اپنے ہیرو کی پوجا کیجئے مگر اُس کے کہنے پر دوسرے پاکستانیوں کو ولن نہ سمجھیئے!
    اپنے اپنے سیاسی جماعتوں کے ہیروز اور مقامی لیڈران سے سوال کیجئے کہ وہ ساری چیزیں اور سہولیات جو وہ خود رکھتے ہیں ہمیں کیسے دلائیں گے؟

    اگر وہ آپ کے سوال کے جواب میں اپنے مخالف کی کردار کُشی پر اکساتے ہیں تو یقین مانیں کہ وہ جھُوٹے ہیں اور آپ کے کندھوں پر بیٹھ کر مراعات یافتہ طبقے میں تو شامل ہو سکتے ہیں۔
    آپ کو کچھ بھی نہیں لے کر دے سکتے!!!!

  • رفاہی کام عید قربان پر ہی کیوں ؟ تحریر میمونہ سحر

    رفاہی کام عید قربان پر ہی کیوں ؟ تحریر میمونہ سحر

    عید قربان ہمارے نبی ابراہیم علیہ السلام کی سنت مبارکہ کو تازہ کرنے کے لیے منائی جاتی ہے ۔ جو کہ آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی ہر سال بھرپور طریقے سے منائی ۔ انتہائی غربت کے باوجود آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے عید قربان پر جانوروں کی قربانیاں پیش کیں

    لیکن آج کل آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ ایک مخصوص طبقہ جو کہ اس عید کے قریب آکر ہی پراپیگنڈا شروع کر دیتا ہے کہ قربانی کا جانور تب لیں جب محلے میں کوئی آٹے کی بوری لینے والا نہ ہو ، یا ان پیسوں سے کسی کی شادی کروادیں ، پانی کا کولر لگوادیں وغیرہ وغیرہ

    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب قربانی کے وقت ہی کیوں یاد آتا ہے ۔ جب مہنگے سمارٹ فونز ، کپڑے جوتے لیتے ہیں یہ سب رفاحی کام تب کیوں یاد نہیں آتے ۔ اصل میں یہ سب اسلام کی اس سنت کے خلاف پراپیگنڈہ ہے جو کہ مخصوص طریقے سے مسلمانوں میں پھیلایا جارہا ہے تاکہ وہ اس سنت مبارکہ سے دور ہو جائیں

    تو آپ سے گزارش ہے کہ ایسی کسی بھی خرافات کا حصہ نہ بنیں ۔ اگر قربانی اتنی ہی غیر اضافی ہوتی تو اسکا حکم قرآن میں نہ ملتا اور یہ حج کا ایک لازم حصہ نہ ہوتی

    خود بھی اس سنت مبارکہ کو تازہ کریں اور دوسروں کو بھی کروائیں ۔ باقی کسی کی مدد پورے سال میں جب موقع ملے ضرور کریں
    جزاک اللہ خیرا کثیرا

  • عید قرباں اور ہمارے روئے . تحریر: آیاز محمد

    عید قرباں اور ہمارے روئے . تحریر: آیاز محمد

    عید قرباں قریب قریب ہے ۔اس موقع پر مسلمان قربانی کرکے ایک عبادت کی ادائیگی سے عہدہ برآں ہوتے ہیں ۔قربانی اپنے پس منظر میں ایک فلسفہ رکھتی ہے ۔ اس فلسفے کی روح کو باقی رکھتے ہوئے اگر یہ عبادت ادا کی جائے تو روح سرشاررہتی ہے۔لیکن اگر اسے ایک تہوار کے طور پر منایا جائے تو عبادت تو ادا ہوجائے گی ۔روح کو وہ تازگی اور سرشاری نصیب نہ ہوگی جو ایک عبادت کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے ۔روح پاک صاف ہو جاتی ہے ۔

    ماضی قریب میں جب ہم ابھی شعور کی منزلیں طے کر رہے تھے ، ہوتا یوں تھا کہ قربانی خریدی جاتی ،گاؤں دیہاتوں میں عموما بڑے جانوروں کی قربانی ہوتی تھی ،۔ بکروں اور دنبوں کا رواج کم کم تھا، لوگ عموما اپنی استطاعت کے مطابق جانور خریدتے ،ظاہر ہے ایک عبادت کی ادائیگی کی نیت سے خریدے تو اس پرکسی قسم کا فخر و غرور نہ ہوتا تھا ، ہاں اڑوس پڑوس میں دوسروں کے جانور دیکھنے کے لئے جانے کا رواج ضرور تھا۔ عید سے تین چار دن قبل سے جانور کی خدمت شروع ہوجاتی اور عید کے دن جانور کو ذبح کردیا جاتا،لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے ۔ اب مہنگے سے مہنگا جانور خریدا جاتا ہے ۔پھر گلی محلے میں بلکہ اب تو ڈیجیٹل زمانہ آگیا ہے ۔تو شہر شہر اور ملکوں ملکوں جانوروں کی پبلسٹی ہوتی ہے ،قیمتیں بتائی جاتی ہیں ،طرح طرح کے نخرے کئے جاتے ہیں ،یوں ایک عبادت جس کی بنیاد خالص عبادت پر تھی ، ریا کاری اور فخر کی نذر ہوگئی ، لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن اصلی مقصد کو بھلا دیا جاتا ہے ۔یوں عبادت تو ادا ہوجاتی ہے لیکن وہ روح کو وہ سرشاری نصیب نہیں ہوتی ۔

    اس طرز عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں ،ان کا دل پسیج کے رہ جاتا ہے ۔بڑے تو اپنی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح خود کو سنھبال لیتے ہیں لیکن گھر میں بچے بھی ہوتے ہیں ان کی فرمائشیں شروع ہوجاتی ہیں اور والدین کو پھر اپنے بچوں کی فرمائشیں کسی نہ کسی طرح پوری کرنی پڑتی ہیں ۔

    پہلے ہوتا تھا کہ قربانی ہوتی ،سب گھر والے مل کر گوشت بناتے ،گوشت ہانڈی میں رکھ دیا جاتا اور باقی کا گوشت چھوٹے چھوٹے تھیلوں میں ڈال کر محلے داروں ،رشتہ داروں اور اس عبادت کی ادائیگی سے محروم لوگوں میں تقسیم ہوجاتا ،نہ فریج ہوتے تھے نہ لمبی خواہشیں نہ مہینوں مہینوں گوشت کو سنھبالے رکھنے کا رواج ، محلے میں گوشت تقسیم کرنے سے آپس کی محبتوں میں اضافہ ہوتا ، رشتہ داروں میں تقسیم کرنے سے رنجشوں ختم ہوتی ،اپنائیت کا اظہار ہوتا اور ناداروں میں گوشت تقسیم کرنے سے اس نعمت کا عملی شکر ادا ہوپاتا کہ اللہ پاک نے ہمیں نوازا اور ہم نے اللہ کی مخلوق میں تقسیم کیا ۔لیکن اب حالات بدل گئے ،اب گھر گھر فریج اورفریزر آگئے ہیں، سو جو گوشت مختلف لوگوں میں تقسیم کیا جاتا وہ اب فریج اور فریزر کے مختلف خانوں میں فریز کردیا جاتا ہے ۔ محبتیں باٹنے کا ایک موقع ہم نے اپنے ہاتھوں سے ہی گنوا دیا ہے ۔ اللہ کی مخلوق کی خدمت کا فریضہ ہم سے چھن گیا ہے، یوں عید تو وہی ہے جو سالہاں سال سے آتی رہتی ہے ، وہی کچھ کم کرتے ہیں جو سالہاں سال سے کرتے آرہے ہیں لیکن پہلے جو خوشی نصیب ہوتی تھی وہ اب نہ رہی ،وجہ ہمارے بدلتے روئے ہیں ۔

    گذشتہ روز جب علاقے کی مویشی منڈی جانے کا اتفاق ہوا تو قیمتوں کا سن کر پہلے تو اپنی قربانی ہوتی دکھائی دی ،آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں ، موٹے موٹے اور فربہ جانور ، وہی منظر سامنے نظر آیا جو عام طور سے رمضان میں نظر آتا ہے کہ کھانے پینے کی ہر چیز مہنگی لیکن دوسری طرف خریداروں کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ مفت کی چیز بٹ رہی ہے اور کسی نے اپنی طاقت نہ دکھائی تو محروم رہ جائے گا ، یہی صورتحال مویشی منڈی کی تھی، ایک آدھ جانوروں پر تو ایک قسم کی بولی لگنی شروع ہوگئی تھی ،وجہ ؟وجہ صرف اور اچھا جانور لے جاکر فخر کا اظہار ،نتیجہ یہ ہے کہ قیمتیں پہنچ سے دور ہوتی جاتی ہیں اور پھر ہم رونا روتے رہتے ہیں کہ مہنگائی زیادہ ہوگئی ہے ۔بنیادی طور مہنگائی کی ایک وجہ ہمارا رویہ بھی ہے ۔

    ہمارے دین کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ اسے معتدل دین قرار دیا گیا کہ ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کریں ، لیکن ہمارے رویے ہر گز میانہ رو نہیں ، ہم دیکھا دیکھی ،مقابلے اور اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے ہر حد کو پار کرتے ہیں ، یہ انداز عبادات میں بھی پسندیدہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہم عبادات تو کرتے ہیں لیکن وہ عبادات روح سے خالی ہوتی ہے ۔ ہمیں اپنے ان رویوں پر غور کرنا ہوگا ۔عید قرباں کے موقع پر جہاں جانور کی قربانی کرتے ہیں وہی اپنے نفسانی خواہشات کی قربانی بھی کریں تو اس قربانی سے روح کو سرشاری ملے گی۔

    Twitter | @_SyedAyaz

  • جہیز ایک بوجھ۔۔ تحریر: نورالعین

    جہیز ایک بوجھ۔۔ تحریر: نورالعین

    "بھائی صاحب یہ جہیز کی لسٹ نوٹ کر لیں۔۔”
    یہ ایسے الفاظ تھے جو بوڑھے باپ کی آنکھوں میں آنسو لے آئے اس کے جھکے ہوئے کندھے مزید جھک گئے اس نے ایک نظر لسٹ کی طرف دیکھا اور ایک نظر سے اپنی بدقسمت بیٹی کی طرف دیکھا جس کی رخصتی کو جہیز کے ٹرک کے ساتھ مشروط کر دیا گیا تھا۔۔
    آپ کو کیا لگتا ہے آسان ہوتا ہے اپنی بیٹی کو انگلی پکڑ کے چلانے سے اس کی شادی تک کا سفر۔۔؟
    لیکن باپ اپنی بیٹی کے لئے خود کو بیچنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔وہ وہ چیزیں بھی اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دیتے ہیں جو خود ان کے گھر میں نہیں ہوتی۔۔
    جب میں چھوٹی تھی تب بھی محلے یا خاندان میں شادی کا نام سنتی تھی تو ساتھ لازمی یہ بات بھی سنائی دیتی تھی کہ فلاں کی بہو اتنا جہیز لائی۔
    تب بھی میں سوچتی تھی کہ باپ ساری عمر کی کمائی اپنی اولاد پر لگانے کے بعد بھی اپنے فرض سے فارغ نہیں ہو پاتا وہ نا صرف اپنی بیٹی کو جہیز کے بھرے ٹرک دیتا ہے بلکہ شادی کے بعد بھی سسرالیوں کے مطالبات کم نہیں ہوتے، پھر اپنی بیٹی کا گھر بچانے کے لئے اس بوڑھے باپ کو ان مطالبات کی لسٹ بھی پوری کرنی پڑتی ہے۔۔
    کیسا ظلم ہے نا یہ۔۔

    ہم ہرگز کسی کی زندگی میں ذیل اندازی نہیں کر سکتے لیکن ہم اپنی زندگیوں میں اس جہیز جیسی لعنت کو ضرور ختم کر سکتے ہیں۔۔
    پہلے ہمیں اپنے والدین کا ذہن بنانا چاہیے کہ جہیز ایک لعنت ہے۔۔
    کیونکہ جب تک مرد اپنی ذمہ داری کو نہیں سنبھالے گا تب تک کسی نا کسی وجہ سے ان کے گھر کا سکون برباد ہوتا رہے گا، گھر اجڑتے رہیں اور یہ لعنتیں ایسے ہی چلتی رہیں گی۔۔۔
    لیکن اس میں ایک اور پہلو بھی سامنے ہے کہ بعض اوقات لڑکے والے ڈیمانڈنگ نہیں ہوتے لیکن لڑکیاں اپنے والدین پر خود بوجھ ڈالتی ہیں۔تین لاکھ کا لہنگا، لاکھ کا میک اپ، برینڈڈ کپڑے، جیولری۔ تو میری گزارش ہے کہ لڑکیوں کو بھی اپنی خواہشات پر کنٹرول رکھنا چاہیے۔۔
    لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والدین کی چادر کے مطابق پیر پھیلائیں۔
    میں نے بہت سے ایسے بھی لوگ دیکھیں ہیں جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن صرف اور صرف دکھاوے کی خاطر اپنی جمع پونجی شادیوں میں پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔۔
    تو میری تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ناں تو لڑکے اور اس کے گھر والے بیٹی کے باپ پر بوجھ ڈالیں ، اور ناں ہی بچیاں اپنے باپ کے بوڑھے کاندھوں پر اپنی بے جا خواہشات کا بوجھ ڈالیں۔۔

  • سی پیک کے بعد ایک اورانقلابی پروجیکٹ . تحریر: احمد حسن

    سی پیک کے بعد ایک اورانقلابی پروجیکٹ . تحریر: احمد حسن

    سی یپک کے بعد خطے کےلیے ایک اور تاریخی پروجیکٹ آنے والا ہے جس کو آج عمران خان نے خطے کےلیے انقلابی پروجیکٹ کا نام دیا۔

    یہ پروجیکٹ پاکستان افغانستان ازبکستان ریلوے منصوبہ ہے ۔ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان ریلوے کے درمیان اس منصوبے کیلئے573 کلو میٹر تک ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا اور اس ریلوے منصوبے پر تقریبا 4 ارب 80 کروڑ ڈالرز لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ پاکستان کو براہ راست وسطی ایشیائی ریاستوں سے جوڑ دے گا جس کے بعد تیز ترین تجارت ہو گی ۔ تاجکستان اور ترکمانستان سمیت دیگر وسطی ایشیائی ممالک بھی مجوزہ ریلوے منصوبے میں شامل ہو سکیں گے۔

    اس منصوبے سے خطے میں پاکستان کا اثر ورسوخ بڑھے گا۔ افغانستان اس کا مرکزی کردار ہے لہذا پاکستان اور ازبکستان مل کر لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے بعد افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں پاکستان ہر قسم کی اجارہ داری کو کاؤنٹر کر پائے گا۔ یہ سفارتی ، سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے ایک انقلابی پروجیکٹ ہے جس سے پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز تر ہو جائے گی۔

    افغانستان اور ازبکستان کے درمیان 144 کلو میٹر کی سرحد ہے۔ خود ازبکستان کے اہم وسطی ایشیائی ریاستوں کرغیزستان ، تاجکستان اور ترکمانستان سے بارڈر لگتے ہیں۔ ازبکستان سے باقی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ساتھ قزاقستان تک بھی تیز ترین رسائی ہو گی جو ان قریبی وسطی ایشیائی ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست ہے اور اس سے روس تک رسائی ہو گی۔ قازقستان میں اس قدر قدرتی وسائل ہیں کہ ہر ملک اس سے تجارت کا خواہاں ہے ۔ آئل کے حساب سے دیکھا جائے تو قازقستان دنیا کا سب سے بڑا آئل ایکسپورٹر بن سکتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔

    یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کےلیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک کے بعد اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد ہم واضح کہہ سکیں گے کہ پاکستان خطے میں اپنی معاشی اجارہ داری قائم کر چکا ہے۔ دنیا کی پانچویں بڑی مارکیٹ یعنی پاکستان ایسے منصوبوں کی بدولت جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیائی ریاستوں کےلیے خصوصاً اور پورے ایشیا کےلیے مرکزی حثیت اختیار کر جائے گا ۔ معاشی برتری کے بعد پاکستان خارجہ سطح پہ بھی مضبوط ہو گا۔

    عمران خان نے حکومت میں آتے ہی اس اہم منصوبے کےلیے رابطے شروع کیے تھے اور پھر 11 دسمبر 2018 کو ازبکستان ، روس ، قازقستان ، افغانستان اور پاکستان کے مابین ، ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور مزار شریف -کابل – پشاور ریلوے کی تعمیر کے لئے مالیاتی کنسورشیم کے لئے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے تھے ۔ اس کے بعد فزیبلٹی سٹڈی جاری رہی تاہم کسٹم،امیگریشن اور بارڈر اتھارٹیز کے معاملات میں کچھ مشکلات رہیں ۔ کرونا وائرس اور افغانستان کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر منصوبہ تاخیر کا شکار رہا ہے ۔ ان شاءاللہ اب اس پہ باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا ۔ اس سال فروری میں اہم معاملات طے پا گئے ہیں۔ ان شاءاللہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے کےلیے بھی ترقی کا مرکز بنے گا۔

    @IAhmadPatriot