Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور ہمارا مستقبل

    ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور ہمارا مستقبل

    ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور ہمارا مستقبل
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک محفوظ، خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، لیکن افسوس کہ اس کے باوجود ہم غیر محفوظ ہیں اور ہماری اکثریتی آبادی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہو سکے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کی زبان پر ہے، لیکن افسوس کہ مستقبل کی فکر کسی کو نہیں۔

    ہماری اجتماعی سوچ ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ بحیثیت قوم ہماری کوئی ٹھوس ترجیحات نہیں۔ جب تک ہم قومی سوچ پیدا نہیں کرتے، ہم محض سیاستدانوں کے ان الفاظ کو دہراتے رہیں گے کہ "پچھلی حکومتوں نے یہ کردیا، وہ کردیا اور ہم یہ کریں گے”۔ یہی تکرار اگلی کئی دہائیوں کی نوید ہے۔ آئیے، اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔

    پاکستان ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جہاں ہر مسئلے کا حل وقتی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ یہاں نہ کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی نظر آتی ہے، نہ سنجیدہ حکمت عملی اور نہ ہی کوئی قومی وژن۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ صرف وقتی ریلیف اور ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی کا نتیجہ ہے، جو اب ہمارے ہر شعبہ زندگی میں سرایت کر چکی ہے ، خواہ وہ تعلیم ہو، صحت ہو، زراعت ہو یا انفراسٹرکچر۔

    ہر سال بارشوں کے موسم میں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں، سیلاب آتے ہیں، لوگ جانیں گنواتے ہیں اور حکومت صرف فوٹو سیشنز اور بیانات کے ذریعے دعویٰ کرتی ہے کہ سب کچھ قابو میں ہے۔ مگر اگلے سال پھر وہی حالات، وہی مسائل اور وہی بے بسی سامنے آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری ترجیحات صرف وقتی اور سطحی ہوتی ہیں۔

    ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ عدالتوں، اسمبلیوں، میڈیا اور جلسوں میں صرف اقتدار کی جنگ چل رہی ہے۔ عوامی فلاح، روزگار، مہنگائی، صحت، تعلیم اور عدل و انصاف جیسے حقیقی مسائل پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ عوام کی قسمت گویا صرف ووٹ ڈالنے تک محدود ہو چکی ہے۔

    قوم اس وقت شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ ہر روز ایک نیا بحران، ایک نئی بے یقینی۔ نوجوان مایوس ہے، کسان پریشان ہے، مزدور بے روزگار ہے۔ ایسے میں حکومتوں کا صرف وقتی اقدامات پر اکتفا کرنا ناقابل قبول ہے۔

    ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی کے تباہ کن نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ہم نے اپنے اداروں کی ساکھ تباہ کر دی ہے۔ ہر بحران کے بعد عوام کو جھوٹے وعدے سنائے جاتے ہیں، اور پھر اقتدار کی مستی میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ نہ کہیں کوئی احتساب ہے، نہ جواب دہی۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود کو جھنجھوڑیں۔ ہمیں مستقل حل، مؤثر منصوبہ بندی، اور پالیسیوں میں تسلسل کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں سیاسی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہوں گے۔

    ورنہ کل کا مؤرخ صرف یہ لکھے گا کہ”یہ ایک ایسی قوم تھی جو وقتی فیصلوں، ذاتی مفاد اور سیاسی لڑائیوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔”

    اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور ملک کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لانے کی کوشش کریں۔ یہ سب کچھ ممکن ہے، لیکن صرف قومی سوچ، سنجیدہ منصوبہ بندی اور عمل درآمد سے — نہ کہ ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی سے۔

  • اکیلے پن کی موت: کمزور رشتے، زہریلی قربت اور ہماری اجتماعی بے حسی، تحریر :صدف ابرار

    اکیلے پن کی موت: کمزور رشتے، زہریلی قربت اور ہماری اجتماعی بے حسی، تحریر :صدف ابرار

    جب سے پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی خبر سامنے آئی ہے، پورا ملک چونک گیا ہے۔ ایک زندہ دل، خوبصورت، کامیاب اداکارہ نو ماہ تک اپنے ہی گھر میں مردہ پڑی رہی اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ کچھ عرصہ پہلے مشہور اداکارہ عائشہ خان کی تنہائی میں موت نے بھی یہی سوال چھوڑا تھا آخر ہم سب اتنے تنہا کیوں ہیں؟

    نفسیاتی پہلو ٹوکسک رشتے، تنہائی کا زہر
    اکثر لوگ کہتے ہیں کہ انسان اکیلا کیوں رہتا ہے؟ اس کا جواب اتنا سادہ نہیں۔ بعض اوقات سب کچھ موجود ہوتا ہے — والدین، بچے، بہن بھائی، شوہر، بیوی، دوست لیکن اس کے باوجود دل اکیلا رہتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ان رشتوں میں محبت کی بجائے زہر بھر جاتا ہے۔

    ایسے رشتے جو ظاہری طور پر ساتھ ہوں لیکن اندر سے توڑ ڈالیں، انہیں نفسیات کی زبان میں ٹوکسک ریلیشن شپ کہا جاتا ہے۔ ان رشتوں میں عزت نہیں ہوتی، بس حکم اور طعنے ہوتے ہیں۔بات چیت نہیں ہوتی، صرف الزام تراشی ہوتی ہے۔احساس نہیں ہوتا، بس ضرورت پوری ہونے تک ساتھ دیا جاتا ہے۔

    ایسے ماحول میں رہنے والا انسان گھر والوں کے بیچ رہ کر بھی اکیلا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس تنہائی سے مر جانا جینا ہی زیادہ آسان لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے رشتے توڑ بھی نہیں پاتے ، کیونکہ معاشرہ، بدنامی، بچوں کا ڈر، یا مالی مجبوریاں انہیں باندھے رکھتی ہیں۔

    نفسیاتی اثرات

    ٹوکسک رشتے انسان کی ذہنی صحت کو خاموشی سے چاٹ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی زندگی کی خوشیاں اس کے اندر ہی مر جاتی ہیں۔اسے یہ بھی احساس نہیں رہتا کہ اسے مدد کی ضرورت ہے۔

    یوں ایک زندہ انسان اپنے گھر، خاندان یا فلیٹ کے اندر خاموشی سے ‘مر’ چکا ہوتا ہے جسمانی موت تو صرف ایک آخری خبر بن کر سامنے آتی ہے۔

    حل کہاں ہے؟

    ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر رشتہ ‘رشتہ’ کہلانے کے لائق نہیں ہوتا۔ زہریلے رشتوں کو ختم کرنے کی ہمت سیکھنی چاہیے۔

    اپنی ذہنی صحت کو قربان کرنا عقلمندی نہیں، ظلم ہے خود پر بھی اور معاشرے پر بھی۔ ہمیں ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جو اکیلے ہیں یا مشکل رشتوں میں پھنسے ہیں۔

    اکیلے پن کو روکنا کیسے ممکن ہے؟

    اپنے اردگرد دیکھیں، کون ہے جو بہت خاموش ہے؟ بات کریں۔
    ماں باپ ہیں تو بچوں کو صرف ڈانٹیں نہیں، ان سے دوستی کریں
    بچے ہیں تو والدین کو ‘پرانی نسل’ کہہ کر نظر انداز نہ کریں، انہیں وقت دیں۔
    دوست ہیں تو صرف پارٹیوں میں نہیں، ان کے برے وقت میں بھی ساتھ کھڑے ہوں۔
    اگر آپ خود ٹوکسک رشتے میں ہیں، تو مدد لینے میں ہچکچائیں نہیں — کوئی دوست، کونسلر، یا اعتماد والا رشتہ ڈھونڈیں۔

    حمیرا اصغر، عائشہ خان یہ کہانیاں ہمیں جگانے کے لیے کافی ہیں کہ اکیلا پن صرف اس وقت نہیں مار دیتا جب کوئی ساتھ نہ ہو، بلکہ یہ تب بھی مار دیتا ہے جب اردگرد سب ہوں مگر محبت کوئی نہ دے۔

    رشتے جیتے جاگتے انسان کی روح کو تازگی دیتے ہیں لیکن جب وہی رشتے زہر بن جائیں تو انسان اندر ہی اندر مر جاتا ہے۔

    کیا آپ کے رشتے آپ کو زندہ رکھتے ہیں؟ اگر نہیں تو بدلیں ورنہ زندگی آپ کو بدل دے گی۔

  • روپے اور پیسے کا معاشی چکر.تحریر:مبشر حسن شاہ

    روپے اور پیسے کا معاشی چکر.تحریر:مبشر حسن شاہ

    (جہاں صارف دائرے میں گھومتا ہے مگر منافع سیدھا سفر کرتا ہے)
    تحریر مبشر حسن شاہ
    سٹیٹ بینک آف پاکستان ایک روپے کی قدر سے کم کے سکے سے جاری کرنا 2013 کے بعد مکمل بند کر چکا ہے۔
    1 پیسہ 1961 سے 1994 تک
    2 پیسے 1961 سے1994 تک
    5 پیسے 1961 سے 1994 تک
    10 پیسے 1961 سے 1994 تک
    25 پیسے 1963 سے 2013 تک
    50 پیسے 1963 سے 2013 تک
    اب تو 2025 میں 1 روپے۔ دو روپے پانچ روپے کے سکے بھی نایاب ہوچکے اگرچہ قانوناً یہ سکے پاکستانی کرنسی کا حصہ ہیں اور جاری ہیں لیکن عملاً ان کا لین دین بند ہو چکا ہے ۔ وجہ مہنگائی کا بڑھنا ہے اب شائد ہی کوئی چیز ایک روپے دو روپے یا پانچ روپے کی ملے ۔ دکاندار بھی یہ سکے اب قبول نہیں کرتے کیونکہ کاروبار میں عملاً ان کا لین دین ختم ہو چکا ہے۔ سٹیٹ بینک اگرچہ یہ سکے فراہم کرتا ہے لیکن کمرشل بینک اب صارفین کو نہیں دیتے ۔ لوگ بھی ان کو لینے سے کتراتے ہیں۔ گھر میں بھی سکے بچوں کو دیے جاتے ہیں لہذا بڑی تعداد سکے گردش سے باہر ہو جاتے۔
    لیکن ہم سب سرمایہ دارانہ نظام کی ایک ایسی چال کا شکار ہیں جو غیر محسوس طریقے سے ہماری جیب سے ان گنت پیسے نکال کر اربوں روپے کمانے کا راز ہے۔ ایک ماہ میں دو مرتبہ آپ اور میں بڑی بے صبری سے خبر پڑھتے ہیں پٹرولیم مصنوعات میں 10 روپے 13 پیسے اضافہ۔ حکومت نے پٹرول سستا کر دیا فی لیٹر قیمت میں 6 روپے تیس پیسے کمی۔ اس کے بعد ہم حسب عادت حکومت کو گالیاں دے کر اور کسی کام میں لگ جاتے اب ذرا حساب کتاب کیجیے۔فروری 2025 میں اوگرا کو مقامی آئل ریفائنری نے خط لکھا جس کے مطابق ملک میں 39 دن کا ڈیزل اور 32 دن کے استعمال کا پٹرول موجود ہے مزید ذخیرہ نہ منگوایا جائے۔
    اسی تناظرمیں دستیاب ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں روزانہ پٹرول کی کھپت 2 کروڑ بیس لاکھ لیٹر اور ڈیزل کی روزانہ خریداری 2 کروڑ 79 لاکھ لیٹر ہے۔ ہمیشہ پٹرول پمپ پر وصولی کے وقت پیسوں کو اگلے روپے میں شامل کر کے وصولی کی جاتی ہے اس طرح روزانہ 4 کروڑ اور ماہانہ ایک ارب 20 کروڑ آئل کمپنیاں مفت میں کما رہی ہیں جبکہ ہم میں سے اکثر کو اس کا علم تک نہیں ۔ (اوپر کے ننانوے لاکھ مصلحت کے تحت چھوڑے کہ بعض دفعہ پچھتر پیسے، پچاس پیسے ، پچیس پیسے،بیس پیسے،دس پیسے،پانچ پیسے ہوں تو اور لیٹر جفت تو وہ اگلے روپے میں درست طور پر کنورٹ ہوجاتی)
    جب بھی پٹرول کی قیمت بڑھتی فی لیٹر قیمت ضرب دو کروڑ بیس لاکھ لیٹر پٹرول اور دو کروڑ اناسی ہزار لیٹر ڈیزل کی روزانہ مقدار ۔ یہ وہ منافع ہے جو اکثر ملتا ۔ اصولاً جب تک پٹرول کا سٹاک پرانا ہو ریٹ بھی پرانا ہی ہونا چاہیے۔ اب کچھ لوگ سوچیں گے کہ جب پٹرول سستا ہوتا ہے تو تب آئل کمپنیاں نقصان بھی تو اٹھاتی ہیں۔ ایک تو کمپنیاں منافع اتنا نکالتی کہ یہ نقصان کچھ نہیں ہے دوسرا PDC (Price Differential Claim) کے ذریعے حکومت اکثر یہ نقصان پورا کر دیتی۔ مٹی کا تیل اور دیگر مصنوعات کا بھی اندازہ کر لیجیے بگا
    یہ صرف آئل کا معاملہ نہیں موبائل کمپنیز کو لے لیں۔ بیلنس چیک کرنے پر بھی کٹوتی۔ کارڈ یا ایزی لوڈ کرانے پر ٹیکس کاٹ لیا جاتا لیکن پھر بھی کسی بھی پیکج کے لیے ایک مرتبہ پھر ٹیکس۔۔۔کالز کے ریٹ ہمیشہ روپے کے ساتھ پیسوں میں وہی پٹرول والا فارمولا کال چارجز میں پیسوں کی جگہ اگلا روپیہ چارج۔ ہر ری چارج پر ٹیکس ہر پیکج پر ٹیکس ہر کال ایس ایم ایس پر پیسوں کی کٹوتی اور کتنے لوگوں کو یہ علم ہے کہ موبائل کمپنیاں دانستہ ایک یا دو ہندسوں کے کوڈ ملانے پر جو اکثر غلطی سے بٹن پریس ہونے پر فعال ہوجاتے ایسے کئی پروگرامز جان بوجھ کر رکھتی ہیں
    VAS (Value Added Services) جیسے: خبریں، لطیفے، حب الرومانٹک quotes، اسلامک SMS وغیرہ 1 سے 10 روپے روزانہ
    Flash SMS / Push SMS
    آپ کی مرضی کے بغیر ایک پاپ اپ آتا ہے "OK” دبانے پر سروس چالو ہو جاتی ہے 3–5 روپے روزانہ
    Internet background data Mobile data آن رہنے سے apps خاموشی سے ڈیٹا استعمال کرتے ہیں MB کے حساب سے کٹوتی
    Balance Save
    سروس فعال نہ ہونا موبائل ڈیٹا آن ہوتے ہی کچھ KB استعمال سے پورا بیلنس کٹ جاتا ہے
    کال کنیکٹ ٹون / RBT "آپ جس سے رابطہ کر رہے ہیں…” والی ٹون بغیر مرضی لگ جاتی ہے 2–5 روپے روزانہ
    Internet packages auto renew
    کئی پیکجز auto-renew ہوتے ہیں جب تک بند نہ کروائیں ہفتہ وار/ماہانہ
    Free trial بعد چارجنگ پہلی بار کوئی سروس free trial دیتی ہے، پھر auto-paid version فعال ہو جاتا ہے 5–10 روپے روزانہ
    اس کے علاوہ آپ خود یا دکان دار کے ریچارج کرتے وقت غلطی سے بیلنس زیادہ لکھ دیں اور اکاونٹ میں رقم ہوتو کٹوتی ہو جاتی لیکن پیسے واپس نہیں ملتے ۔اکثر پیکجز کے نام دانستہ مبہم رکھ کر صارفین کو دھوکا دیا جاتا بعد میں غور کریں تو باریک۔ سا ایک کونے میں لکھا ہوتا رات 12 سے صبح 9 تک محدود آفر 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ آمدن 78 سے 86 ارب ماہانہ ہے الگ الگ کمپنی کی آمدن بھی پڑھیں
    Jazz (PMCL)
    31–33 ارب روپے
    Zong
    22–24 ارب روپے
    Telenor
    16–18 ارب روپے
    Ufone (PTCL Group)
    9–11 ارب روپے
    اس میں چالیس فیصد یعنی کل 86 ارب کی آمدن میں 34 ارب کالز اور پیکجز کے علاوہ سروسز کی کمائی ہے۔
    بجلی کے محکمہ میں چلتے ہیں رجسٹر کنکشن 4 کروڑ سے زائد فی یونٹ ٹیرف
    Life‑line
    100 یونٹس سے زیادہ یا کم 4.78 / 9.37*
    Protected
    (1–100) 1–100 یونٹس ≈ 8.52
    Protected
    (101–200) 101–200 یونٹس ≈ 11.51
    Non‑protected
    (201–300) 201–300 یونٹس ≈ 34.03
    Non‑protected
    (>300) 301+ یونٹس ≈ 48.46
    صرف نمونہ پیش ہے کہ پیسوں والی ہیرا پھیری ادھر بھی موجود ہے ۔
    مزید ستم یہ کہ 200 یونٹ تک جو ریٹ فی یونٹ ہے وہ 201 یونٹ ہوتے ہی ڈبل ٹرپل ہو کر سارے یونٹس پر اپلائی ہوجاتا یعنی 200 پر اور حساب ایک یونٹ اضافی یا مزید پر اصولاً صرف اضافی یونٹس کا ریٹ زیادہ ہونا چاہیے لیکن نہیں۔ چلتے ہیں دبے پاوں کہ کوئی جاگ نہ جائے
    غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے۔ ہم بس تبصرے کر سکتے اونچا اونچا بول سکتے گالیاں دے سکتے لیکن عملاً سنجیدہ کوشش نہیں کرنی ۔
    بجلی کے بل میں اتنا بل نہیں ہوتا جتنے ٹیکسسز ہوتے۔اور سارے نہیں تو آدھے مبہم ۔ جی ایس ٹی۔ فردر جی ایس ٹی ۔ویری ایبل چارجز ، فکس چارجز ، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ، جی سیس ٹی آن فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ، کواٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ، نیلم جہلم سرچارج، پرووینشل ڈیوٹی ۔ اپ کو پتا ہے یہ کیا ہے؟ مجھے بھی نہیں پتا لیکن ہم ہر ماہ ادا کرتے ۔ چلیں ایک نیلم جہلم سرچارج کی وضاحت پڑھیں۔ نیلم-جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ (969 میگاواٹ) کی تعمیر اور قرضے کی خدمات کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے 2008 میں دس پیسے فی یونٹ آپ کی جیب سے وصول ہوا ,2018 میں یہ پروجیکٹ مکمل ہوا لیکن 2021 تک کٹوتی جاری۔
    ان لایعنی ٹیکسسز سے زیادہ اپنی فہم پر رونا آتا کہ ویسے ہم کوئی بل دینے لگیں تو کارل فریڈرک گاؤس اور ایڈم سمتھ(مانا ہوا ریاضی دان کارل فریڈرک گاؤس اور ماہر معاشیات ایڈم سمتھ) کی روح ہم میں حلول کرجاتی لیکن یہاں بجلی کے بل پر سب چپ بھی اور ادا بھی کردیتے۔ ایک چھوٹی سی کرپشن کم شرارت زیادہ اور بھی ہے آپ کی بجلی کا میٹر اپنے سسٹم کو فعال رکھنے کے لیے اور چھوٹا سا سرخ بلب جلانے کے لیے ایک ماہ میں 0.076 واٹ بجلی استعمال کر لیتا ہے یہ پورے سال کی ایک یونٹ سے کم بجلی ہے سالانہ 0.8 واٹ لیکن جب کنکشن 4 کروڑ ہوں تو اوسط قیمت کم سے کم 12 روپے یونٹ کے حساب سے اس چھوٹے سے خرچ پر ڈالتے
    ماہانہ یونٹ 28 لاکھ 44 ہزار اور سالانہ 3 کروڑ۔ 44 لاکھ یونٹ
    رقم یا قیمت فی یونٹ 12 روپے کے حساب سے ماہانہ تین کروڑ چوالیس لاکھ روپے اور سالانہ 41 کروڑ 28 لاکھ جو ہم ادا کرتے مل کر ۔
    اچھا اداروں سے نکلتے ہیں ایک اور بات کرتے آج کل دکان پر کسی چیز کے روپے میں رقم راونڈ فگر نہ ہو تو ہم میر عثمان علی خان( امیر ترین ریاست دکن کا والی ریاست) کے پڑپوتے سکے واپس لینا شاہی آداب کے منافی سمجھتے . اس کا نقصان غریب دیہاڑی دار مزدور کو ہوتا جو ایسی گستاخی کرے تو دکان دار اسے کہتا تمہارے لیے میں کدھر سے لاوں سکے ۔ اس کے علاوہ اکثر 23 روپے کی چیز ہو تو تیس روپے رکھ لیے جاتے اور دو ٹافیاں ہمارے ہاتھ پر رکھ دی جاتیں جبکہ آپ کسی دن دکان دار کو بیس روپے اور دو ٹافیاں دے کر 23 دوپے کی کسی چیز کا مطالبہ کیجے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ بینک سالانہ ہمارے اے ٹی ایم کارڈ کی فیس کس خوشی میں کاٹ لیتے اور اے ٹی ایم کسی اور بینک کی مشین میں
    استعمال کرنے پر ٹیکس یا کٹوتی کی وجہ جبکہ بینک ہمارے ہی پیسے سے کاروبار الگ کر رہا ہوتا۔
    یہاں بھی چھوٹی چھوٹی ہیرا پھیری کیش میں ہوتی راونڈ فگر جے چکر میں شام تک کشئیر کے پاس معقول رقم جمع ہو چکی ہوتی جو بینک کے حساب سے الگ ہوتی۔ یہاں ایک مشہور افسانوی داستان جس پر سپر مین تھری اور آفس سپیس فلم بھی بنی پڑھیں
    بینک کے ایک کشئیر جس کے دماغ میں ایک اچھوتا آئیڈیا آیا
    اس شخص نے بینک کا سافٹ ویئر یا حساب کتاب کا نظام سمجھا
    اسے معلوم ہوا کہ جب سود، چارجز یا ٹیکس لگتے ہیں تو بعض اوقات 1 پینی کا "راؤنڈ آف” ہو جاتا ہے وہی پاکستان والا پیسوں کا چجر
    ان بے کار، نظر نہ آنے والے پینیوں کو وہ اپنے خفیہ اکاؤنٹ میں جمع کرنے لگا
    روزانہ ایک پینی ہر اکاؤنٹ سے؛ اگر 10 لاکھ اکاؤنٹ ہوں تو روزانہ £10,000 جمع ہو سکتے ہیں!
    یہ عمل 15 سال تک جاری رہا
    بالآخر ایک یہودی تاجر روز اپنی بینک سٹیٹمنٹ ایک ماہ لگاتار دیکھتا رہا تو اسے لگا کہ اس کے اکاؤنٹ سے روزانہ ایک پینی کم ہو رہی ہے وہ بینک گیا مینجیر کو ملا اور شکایت کی مینجر نے یہ سن کر قہقہ لگایا اسے ایک پاونڈ دیا اور کہا لیں آپ کا نقصان پورا۔ وہ تاجر برہم ہوا اور یہ کہہ کر چلا گیا کہ مجھے رقم کی کمی نہیں میں تم لوگوں کے سسٹم میں کسی غلطی کی نشاندہی کرنا چاہتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد مینجر کو احساس ہوا کہ یہ کتنا بڑا سکینڈل بن سکتا اس نے تحقیقات کروائیں اور 15 سال سے جاری یہ فراڈ پکڑا گیا۔ پس تحریر میں نے بھی اپنے سسٹم میں موجود خرابی کی نشاندہی کی ہے اب دیکھیں کون سنتا اور کون قہقہہ لگاتا

  • بادل پھٹا ہے… اب دل نہیں ٹوٹنے چاہییں!تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بادل پھٹا ہے… اب دل نہیں ٹوٹنے چاہییں!تحریر:اعجازالحق عثمانی

    (چکوال میں کلاؤڈ برسٹ اور ہماری اجتماعی ذمے داری)

    شام کے اس وقت جب معمول کے مطابق روز شہر کی رونق آہستہ آہستہ ماند پڑتی تھی، کل اس وقت آسمان کا ضبط ٹوٹا اور ایسا ٹوٹا کہ سب حدیں پار کر بیٹھا ہو۔
    بارش نہیں ہوئی… آسمان پھٹ پھٹ کر رو پڑا، اور پھر لوگ بھی سہم گئے۔ اور مسلسل 15 گھنٹوں سے یہی صورتحال ہے۔ اور ضلع بھر میں سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    چکوال، جو کل تک سرسبز پہاڑیوں، دھیمے موسموں اور دھوپ چھاؤں کے قصے سناتا تھا، آج ایک نئے تجربے سے گزر رہا ہے۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ بارش، 423 ملی لیٹر، یہاں ابھی تک ریکارڈ ہوئی ہے۔ یہ محض بارش نہیں، قدرت کا ایک شدید مظہر ہے جسے سائنسی زبان میں "کلاؤڈ برسٹ” کہا جاتا ہے۔ یعنی بادلوں کا پھٹ پڑنا۔

    تصور کیجیے ایک پانی سے بھرا ہوا غبارہ، جو اچانک آپ کے سر پر پھٹ جائے۔ نہ پیشگی انتباہ، نہ تیاری کا موقع، بس ایک لمحہ، اور پھر سب کچھ بھیگتا، بہتا اور بکھرتا چلا جاتا ہے۔

    یہ مظہر تب جنم لیتا ہے جب نم ہوائیں پہاڑوں سے ٹکرا کر تیزی سے بلند ہوتی ہیں اور آسمان کی ٹھنڈک سے ٹکرا کر پانی کی بھاری بوندوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ جب بادل مزید بوجھ نہیں اٹھا پاتے، تو وہ غم کے مارے پھٹ پڑتے ہیں۔ اور پانی ایک قہر کی صورت نیچے اتر آتا ہے۔

    ایسی ہنگامی صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

    1۔ اپنی جان بچانا اولین ترجیح:
    کسی بھی نشیبی علاقے سے فوراً بلند مقام پر منتقل ہو جائیں۔ بجلی کے کھمبوں، درختوں اور پانی سے بھرے گڑھوں سے دور رہیں۔

    2۔ معلومات سے باخبر رہیں:
    ریڈیو، ٹی وی یا سوشل میڈیا پر ضلعی انتظامیہ کی ہدایات سنتے رہیں۔ افواہوں پر کان نہ دھریں، صرف مصدقہ ذرائع پر اعتماد کریں۔

    3۔ دوسروں کا خیال رکھیں:
    یہ وقت صرف اپنے لیے جینے کا نہیں۔ اردگرد کے بزرگوں، بچوں اور پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیے۔ کسی کو تنہا نہ چھوڑیے۔ اگر کسی کا فون بند ہے، تو دروازہ کھٹکھٹا کر اس کی خیریت پوچھ لیجیے۔

    4۔غیر ضروری سفر سے گریز کریں:
    سڑکیں پانی سے لبریز ہیں۔ راستوں کی حالت غیر یقینی ہے۔ گھر میں رہیے، دعا کیجیے اور احتیاط برتیے۔

    5۔ذہنی سکون قائم رکھیے:
    یہ وقت حوصلے اور ہمت کا ہے۔ قدرت کا قہر جتنا اچانک آتا ہے، اتنی ہی تیزی سے تھم بھی جاتا ہے۔ بس ہمیں خود کو سنبھالے رکھنا ہے۔ ہم سب کو ایک دوسرے کا سائبان بننا ہے

    بادل تو پھٹ گیا، لیکن ہمیں اپنے دل اور رشتے محفوظ رکھنے ہیں۔ قدرت کا یہ پیغام صرف خوف کا نہیں، فکر اور اصلاح کا بھی ہے۔ ہمیں اپنے ساتھ ساتھ اردگرد کے لوگوں کا بھی خیال رکھنا ہے۔
    ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ درخت لگانا ہوں گے، پانی کا صحیح استعمال سیکھنا ہوگا، اور قدرت کے ساتھ دوبارہ دوستی کرنی ہوگی۔

    یاد رکھیے، آزمائشوں کے وقت قومیں یا تو بکھر جاتی ہیں… یا ایک نیا جنم لیتی ہیں۔
    آیئے، ہم چکوال کو صرف اپنے نقشے کا ایک ضلع نہ سمجھیں، بلکہ دلوں کا ایک روشن چراغ بنائیں۔جو بارش میں بھیگے، مگر بجھے نہیں۔

  • پاکستان میں قیامت کی گھڑی

    پاکستان میں قیامت کی گھڑی

    پاکستان میں قیامت کی گھڑی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان کے عوام آج کل ایک ایسی قیامت کی گھڑی سے گزر رہے ہیں جہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کی زندگیوں کو مفلوج کر رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت 272.15 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 284.35 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے جبکہ بجلی کے نرخ 53 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار محض نمبر نہیں بلکہ عام آدمی کی چیختی ہوئی پکار ہیں جو روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ پاکستانی عوام اور خاص طور پر مزدور طبقہ پہلے ہی وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی مسلط کردہ سلیب گردی کا شکار ہیں اور اب ایک ماہ میں دو بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافے نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور جو روزانہ 800 سے 1000 روپے کماتا ہے، اب ایندھن کے اخراجات پورے کرنے کے بعد اپنے گھر کے لیے کچھ بچا نہیں پاتا۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ مزدور جو پہلے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں اب نوکریوں کے خاتمے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ طبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہے، جس سے غربت اور معاشرتی عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔

    بسوں، رکشوں اور ٹیکسیوں کے کرائے آسمان کو چھو رہے ہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقہ اپنے روزمرہ سفر کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے۔ ایک عام مزدور جو صبح سویرے اپنے کام پر جانے کے لیے بس کا انتظار کرتا ہے، اب اس کرائے کو ادا کرنے کے لیے اپنی جیب خالی کرتا ہے۔ اس کی آمدنی وہی پرانی ہے، لیکن ٹرانسپورٹ کے اخراجات دگنے ہو چکے ہیں۔ نتیجتاً وہ اپنے بچوں کی تعلیم یا گھر کے راشن پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی اس معاشی بحران کی زد میں ہیں۔ دال، چینی، آٹا اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ایندھن کی قیمتوں سے ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ ایک عام گھریلو خاتون اب سوچتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا کیسے تیار کرے گی جب ہر چیز کی قیمت اس کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں پر خرچ کم ہوتا جا رہا ہے اور پاکستانی عوام کی اگلی نسل ان پڑھ اور ایک غیر یقینی مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر بجلی کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔ فیول سرچارج ایڈجیسٹمنٹ کے نام پر بجلی کے نرخ میں ہر بار اضافہ کیا جاتا ہے اور حالیہ رپورٹس کے مطابق بجلی کی قیمت 53 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5-10 روپے فی لیٹر اضافہ بجلی کے فی یونٹ نرخ میں 1-2 روپے اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ اضافہ عام گھرانوں کے لیے ایک اور دھچکہ ہے جو پہلے ہی بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے پریشان ہیں۔ گرمیوں کی شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ اور مہنگے بجلی کے بل عوام کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔ صنعتوں پر بھی اس کا گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ مہنگی بجلی اور ایندھن سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں غیر مسابقتی شکارہورہی ہیں۔ برآمدات کم ہو رہی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بند ہو رہے ہیں، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک فیکٹری ورکر جو اپنی نوکری کھو دیتا ہے، اپنے خاندان کے لیے روٹی کا بندوبست کیسے کرے گا؟ یہ سوال پاکستانی معاشرے کے ہر کونے میں گونج رہا ہے۔

    حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے مالی خسارے کو پورا کرنے کی پالیسی عوام کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ حالیہ بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر 2.5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی متعارف کی گئی ہے، جو اگلے مالی سال میں 5 روپے فی لیٹر تک بڑھ جائے گی۔ اس سے حکومت کو 48 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے لیکن یہ آمدنی عام آدمی کی جیب سے نکل رہی ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا۔ ٹیکسز اور لیویز برقرار رہتے ہیں اور عوام کو ریلیف دینے کے بجائے حکومتی ترجیحات قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی اہداف پر مرکوز رہتی ہیں۔ پالیسیوں میں شفافیت کا فقدان اور عوام دوست اقدامات کی کمی نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی عام آدمی کی فلاح کے لیے سنجیدہ ہے؟ اگر ہاں تو پٹرولیم لیوی کو کم کیوں نہیں کیا جاتا؟ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ پر قابو کیوں نہیں پایا جاتا؟ متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی کو فروغ کیوں نہیں دیا جاتا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہیں لیکن ان کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔

    پاکستانی عوام کی سب سے بڑی امنگ ہے کہ وہ ایک ایسی زندگی جئیں جہاں انہیں بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد نہ کرنی پڑے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو تعلیم ملے، ان کے گھروں میں بجلی ہو اور ان کی جیب میں اتنا پیسہ ہو کہ وہ دو وقت کا کھانا خرید سکیں۔ لیکن پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی کے بڑھتے نرخ اور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی مسلط کردہ سلیب گردی نے ان امنگوں کو چکناچور کر دیا ہے۔ ایک ماہ میں دو بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی چیخ کو اور بلند کر دیا ہے۔ ایک عام پاکستانی کی آواز یہ ہے کہ "ہم سے ہر بار قربانی مانگی جاتی ہے، لیکن ہمیں بدلے میں کیا ملتا ہے؟ مہنگائی، بے روزگاری اور اندھیرا۔” عوام اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا وہ صرف ٹیکس دینے، بل بھرنے اور مہنگائی سہنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ کیا یہ ریاست صرف امیروں کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی تھی؟ اگر نہیں تو پھر عام آدمی کو ریلیف دینے کا کوئی عملی، مستقل اور مؤثر راستہ دکھایا جائے۔

    اگر حکومت نے اس بڑھتی مہنگائی، گرتی قوتِ خرید اور ختم ہوتے صبر کا ادراک نہ کیاتو وہ دن دور نہیں جب یہ عوامی اضطراب ایک منظم مزاحمت کی صورت اختیار کر لے گا۔ پاکستانی قوم نے پہلے ہی بہت کچھ برداشت کیا ہے،دہشت گردی، لوڈشیڈنگ، سیلاب، زلزلے اور اب مسلسل معاشی استحصال۔ ہر حکومت آتی ہے، دعوے کرتی ہے اور جاتے جاتے عوام کو مہنگائی کا ایک نیا زخم دے جاتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے۔ یہ قوم مزید قربانی نہیں دے سکتی۔ ریاستیں ایندھن، ٹیکس اور بجٹ سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد، خوشحالی اور امید سے مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ اعتماد اب خطرے میں ہے اور اسے بچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ملک کی بقا قرضوں سے نہیں، عوامی اعتماد سے وابستہ ہے اور جب وہ اعتماد ٹوٹتا ہے تو نہ صرف معیشت بلکہ پورا نظام لڑکھڑا جاتا ہے۔

    اگر یہ بحران یوں ہی جاری رہا تو یہ نہ صرف معاشی نظام کو مفلوج کرے گابلکہ سماجی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔ حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں پر نظرثانی کی جائے، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائےاور مقامی سطح پر تیل صاف کرنے کی صلاحیت بڑھائی جائے۔ شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع کو فروغ دینے سے نہ صرف تیل پر انحصار کم ہوگا بلکہ عوام کو سستی توانائی بھی میسر آئے گی۔ سب سے اہم بات، حکومت کو عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے شفاف اور عوام دوست پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ پاکستانی عوام کی امنگیں اور ان کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کا تدارک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب خاموشی کا وقت نہیں ہے،عوام کی چیختی ہوئی آواز کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

  • ڈوبتے دیہات، جاگتی ترجیحات

    ڈوبتے دیہات، جاگتی ترجیحات

    ڈوبتے دیہات، جاگتی ترجیحات
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری انتظامیہ مون سون بارشوں کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہ تھی، مگر دیہاتوں میں موجود برساتی نالوں کو کئی کئی سالوں سے صاف نہیں کروایا گیا۔ جی ہاں، ہو سکتا ہے کہ کاغذی کارروائی میں یہ نالے بارہا صاف کیے جا چکے ہوں، لیکن بارش کے دوران ان کی اصل حالت کھل کر سامنے آ گئی۔ دوسری طرف، اربوں روپے فنڈ کی حامل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا کردار بھی بے نقاب ہو چکا ہے۔

    آج ہم اوکاڑہ کی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث دیہاتوں کی موجودہ صورتحال سے آگاہی دینے جا رہے ہیں، جہاں حکومتی ادارے دیہی علاقوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ آئیے ان دیہاتوں کی داستان سنیں جنہیں کئی دہائیوں سے حلقہ پی پی 190 کے عوامی نمائندے نظر انداز کرتے آ رہے ہیں۔

    22 فور ایل اور 23 فور ایل دو ایسے دیہات ہیں جو آج صرف نقشے پر باقی رہ گئے ہیں۔ بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے، نکاسی آب کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے دونوں گاؤں مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں۔ قبرستانوں میں دو فٹ تک پانی کھڑا ہے۔ مرنے والے بھی شاید اب یہ پوچھتے ہوں کہ "مر کر بھی چین نہ آیا، تو کدھر جائیں؟” یہ تباہی اچانک نہیں آئی بلکہ یہ برسوں کی غفلت، ناکام منصوبہ بندی اور دیہی علاقوں کو حکومتی ترجیحات سے نکال دینے کا نتیجہ ہے۔

    گزشتہ چند روز کی بارشوں نے جہاں موسم کو خوشگوار کیا، وہیں دیہی آبادی کے لیے قیامت بن کر برسیں۔ برساتی نالے جن کی صفائی NDMA اور ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری تھی، کچرے اور مٹی سے اٹے ہوئے ہیں۔ پانی کا کوئی نکاس موجود نہیں، اور جو نکاس موجود تھا وہ صرف کاغذوں کی حد تک رہا۔

    یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا 22 فور ایل اور 23 فور ایل پنجاب کا حصہ نہیں؟ کیا وہاں کے رہائشی پاکستانی شہری نہیں؟ ان کا حق صرف الیکشن کے دنوں تک محدود ہے؟ جب پانی گھروں میں داخل ہو جائے، کھیت تباہ ہو جائیں اور مویشی ڈوبنے لگیں تو کیا شہروں سے آنے والی "ریسکیو ٹیمیں” صرف فوٹو سیشن کے لیے کافی ہیں؟

    دیہی علاقوں کو ہمیشہ دوسری یا تیسری ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ ان کے اسکول، سڑکیں، اسپتال، اور نکاسی آب کے نظام سب کچھ بدترین حالت میں ہیں۔ سرکاری ادارے صرف اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب میڈیا شور مچاتا ہے یا کسی وی آئی پی کا دورہ متوقع ہوتا ہے۔

    اگرچہ اس بار انتظامیہ کی طرف سے خود ڈپٹی کمشنر اور ان کی پوری ٹیم متاثرہ علاقوں میں پہنچی، اور اسسٹنٹ کمشنر اپنی ٹیم سمیت پوری رات سابق نائب ناظم ڈاکٹر الطاف حسین بلوچ کے ڈیرے پر موجود رہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ اقدامات پہلے کیوں نہ کیے گئے؟ کیا محکمہ موسمیات کی پیشگوئیاں موجود نہیں تھیں؟ کیا NDMA کو نہیں معلوم کہ مون سون کا موسم ہر سال پاکستان کے لیے خطرہ بن کر آتا ہے؟

    اگر بروقت نالوں کی صفائی کی جاتی، دیہاتوں کے قریب چھوٹے بند بنائے جاتے یا پانی کے نکاس کے مناسب اقدامات کیے جاتے، تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ سرکاری اسکیمیں صرف کاغذوں پر نہ ہوتیں بلکہ عملی صورت اختیار کرتیں تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔

    اوکاڑہ کی انتظامیہ نے ان دیہاتوں کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا ہے۔ افسوس ان اداروں پر جو کاغذی رپورٹیں تو خوب تیار کرتے ہیں مگر زمین پر ان کا کوئی عکس نظر نہیں آتا۔ اور افسوس ہم سب پر، جو صرف سوشل میڈیا پر اظہار افسوس کر کے خاموش ہو جاتے ہیں۔

    اب وقت ہے جاگنے کا۔

    دیہات کو ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیے بغیر پاکستان کی ترقی محض ایک خواب ہے۔ دیہات صرف زمینوں کا نام نہیں، وہاں زندگی بستی ہے، محنت ہوتی ہے، اناج پیدا ہوتا ہے۔ اگر دیہات ڈوبتے رہے، تو معیشت بھی ڈوبے گی اور قوم بھی۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، NDMA، اور تمام متعلقہ ادارے دیہی علاقوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ برساتی نالوں کی سالانہ صفائی، نکاسی آب کے مستقل حل، اور مقامی سطح پر ایمرجنسی رسپانس سسٹم کا قیام اب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

  • بھارت :جہاں بی جے پی نے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی

    بھارت :جہاں بی جے پی نے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی

    بھارت :جہاں بی جے پی نے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا دعویٰ کرتا ہے، آج اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ایک اذیت ناک خطہ بن چکا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت حکومت میں ریاستی سطح پر ایسا نظام پروان چڑھا دیا گیا ہے، جس میں مذہبی اقلیتوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال محض داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کے ادارے، اور یہاں تک کہ ہمسایہ ممالک کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی رپورٹس اور واقعات نے بھارت میں اقلیتوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

    22 اپریل 2025 کو کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والا ایک حملہ، جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے، اس تمام سلسلے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ بھارتی میڈیا اور حکومت نے فوری طور پر اس فالز فلیگ حملے کو پاکستان سے جوڑتے ہوئے "آپریشن سندور” کا آغاز کیا، جس کے تحت مبینہ طور پر "غیر قانونی دراندازوں” کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔ تاہم کئی بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کے ماہرین نے اس حملے کو ایک فالس فلیگ آپریشن قرار دیا ہے، جس کا مقصد ہندو قوم پرست بیانیے کو تقویت دینا اور مسلمانوں پر ریاستی جبر کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ اس بیانیے کی آڑ میں شروع ہونے والے آپریشنز نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک بھیانک داستان رقم کی ہے، جس کا انکشاف واشنگٹن پوسٹ نے 11 جولائی 2025 کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا۔

    رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی 2025 کے درمیان بھارت کے مختلف حصوں، بالخصوص گجرات، آسام اور مغربی بنگال میں 1,880 افراد کو جبراً بنگلہ دیش جلاوطن کیا گیا، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ یہ جلاوطنی نہ صرف قانونی تقاضوں کے بغیر انجام دی گئی بلکہ اس میں جن افراد کو نشانہ بنایا گیا، ان کے پاس بھارتی شہریت کے مصدقہ ثبوت، ووٹر کارڈز، نکاح نامے اور تعلیمی دستاویزات موجود تھے۔ گجرات کے شہر سورت کے رہائشی حسن شاہ ایک ایسے ہی متاثرہ فرد ہیں جنہیں کچرا چننے کے جرم میں "غیر قانونی درانداز” قرار دے کر ان کے کاغذات چھین لیے گئے، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور بنگلہ دیش کی سمندری حدود میں پھینک دیا گیا۔ بنگلہ دیشی کوسٹ گارڈ نے انہیں بچا تو لیا، لیکن وہ آج نہ بھارت کے شہری رہے، نہ بنگلہ دیش کے اور ان کی بیوی و چار بچے بھارت میں بے یار و مددگار رہ گئے۔

    اسی طرح احمد آباد کے نوجوان عبدالرحمان کو 26 اپریل کو علی الصبح اس کے گھر سے اٹھا لیا گیا۔ پولیس نے بغیر وارنٹ چھاپہ مارا، دستاویزات ضبط کیں اور 15 دن تک وحشیانہ تشدد کے بعد اسے ایک بنگلہ دیشی تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات آج بھی موجود ہیں، لیکن اس کی شہریت مٹا دی گئی۔ ان واقعات کے پس منظر میں جو حکمت عملی کارفرما ہے، وہ نہ صرف بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین، خاص طور پر 1951 کے مہاجر کنونشن اور "نان ریفولمنٹ” کے اصول کے بھی خلاف ہے، جس کے تحت کسی شخص کو ایسی جگہ واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اس کی جان یا آزادی خطرے میں ہو۔

    پولیس کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بی جے پی حکومت نے بلڈوزر سیاست کا بھی بے دریغ استعمال شروع کر دیا۔ صرف احمد آباد کے چاندولا جھیل علاقے میں اپریل 2025 کے آخر میں ایک کریک ڈاؤن کے دوران 12,500 سے زائد گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ ان کارروائیوں میں 890 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 200 سے زائد خواتین اور بچے شامل تھے۔ متاثرہ افراد جیسے پروین اسماعیل رنگریز اور یونس خان پٹھان نے اپنے گھروں کی تباہی اور پولیس کے غیر انسانی سلوک کی تفصیلات بیان کیں، مگر کہیں شنوائی نہ ہوئی۔ گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سانگھوی نے اعلان کیا کہ "ہر ایک درانداز کو تلاش کیا جائے گا”۔ یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف غیر قانونی تارکین وطن ہی نہیں بلکہ بھارتی شہری بھی اس نسلی صفائی کی مہم کی لپیٹ میں ہیں۔

    یہ سلسلہ صرف گجرات یا احمد آباد تک محدود نہیں رہا۔ آسام میں اڈانی انرجی پروجیکٹ کے لیے دو ہزار سے زائد خاندانوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا۔ 19 جون 2025 کو دی گارڈین کی رپورٹ نے ان انکشافات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا کہ آسام کی زمینوں سے بھی زیادہ تر مسلمان اور دلت متاثرین کو ہی نکالا گیا۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا اور کئی جلاوطن افراد کو واپس بھارت بھیجا، جن کے پاس بھارتی شہریت کے ثبوت موجود تھے۔ لیکن بھارت کی وزارت خارجہ اور بارڈر سیکیورٹی فورس نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کوئی باضابطہ ڈیپورٹیشن معاہدہ موجود نہیں، جس کی بنیاد پر یہ تمام کارروائیاں غیر قانونی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شمار ہوتی ہیں۔

    بی جے پی کی حکومت میں نشانہ صرف مسلمان نہیں بنے بلکہ عیسائی اور دلت برادریاں بھی بڑھتے ہوئے ظلم و ستم کا شکار ہو رہی ہیں۔ نیو یارک ٹائمز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق راجستھان میں عیسائیوں کے چرچ تباہ کیے گئے، مذہب تبدیل کرنے کے الزامات میں گرفتاریاں ہوئیں اور دلتوں کی بستیوں کو بلڈوز کر کے مٹایا گیا۔ مسلمانوں کو تو اکثر روہنگیا، پاکستانی یا "غیر قانونی بنگلہ دیشی” قرار دے کر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) اور شہریت ترمیمی ایکٹ (CAA) جیسے قوانین کے تحت بے دخل کیا جاتا ہے، جیسا کہ 2019 میں 19 لاکھ مسلمانوں کے NRC سے اخراج میں دیکھا گیا۔

    یہ سب کچھ عدلیہ، پولیس اور بیوروکریسی کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ عدالتیں ایسے مقدمات میں متاثرین کو انصاف نہیں دیتیں، پولیس ثبوتوں کو ضبط کر لیتی ہے اور میڈیا مسلسل بی جے پی کے بیانیے کو بڑھاوا دیتا ہے۔ ان اداروں کا کردار جمہوریت کی روح کے منافی اور فسطائیت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی 2024 کی رپورٹ اور ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) جیسے اداروں نے ریاستی جبر کے اس منظم پیٹرن کو واضح کیا ہے، جس کے مطابق بی جے پی حکومت کے زیر اثر علاقوں میں نفرت انگیز جرائم اور مسماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

    اس تمام پس منظر میں سب سے تشویشناک پہلو عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی ہے۔ اگر اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اب بھی خاموش رہیں تو بی جے پی حکومت کی ہندو بالادستی کی یہ پالیسی مزید جارحانہ ہو جائے گی۔ وقت آ چکا ہے کہ بھارت میں شہری و انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی دباؤ بڑھایا جائے۔ حسن شاہ، عبدالرحمان، پروین اسماعیل اور ہزاروں دیگر مظلوم چہروں کی داستانیں صرف انفرادی مصیبت نہیں بلکہ ایک اجتماعی ظلم کی علامت ہیں، جسے عالمی برادری کی خاموشی مزید تقویت دے رہی ہے۔ بھارت میں جمہوریت کے نام پر اقلیتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے، اور بی جے پی نے مسلمانوں پر واقعی زمین تنگ کر دی ہے۔

  • اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز،نئی نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک فکری و عملی سفر

    اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز،نئی نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک فکری و عملی سفر

    دنیا ایک برق رفتاری سے بدلتی ہوئی تصویر کی مانند ہے، جہاں علم و ہنر کی تازگی کے بغیر نہ فرد زندہ رہ سکتا ہے، نہ قوم۔ ایسے میں جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کی آغوش میں پل رہی ہے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ایک بصیرت افروز اقدام کے تحت "اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز” کا انعقاد کیا، جو بچوں کے لیے ایک روشن چراغ اور نئی نسل کی فکری تربیت کا عملی نمونہ ثابت ہوا۔7 جولائی سے 14 جولائی 2025 تک جاری رہنے والا یہ آن لائن تربیتی کیمپ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ آئی ٹی کے زیرِ انتظام منعقد کیا گیا۔ اس میں پاکستان بھر سے 9 سے 13 سال کے بچوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ کیمپ کا مقصد صرف جدید مہارتوں کی تعلیم دینا نہ تھا، بلکہ بچوں میں خود اعتمادی، تخلیقی شعور، اور عصری دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنا بھی اس کا ایک اہم حصہ تھا۔

    اس موقع پر ملک وقاص سعید، سربراہ شعبہ آئی ٹی مرکزی مسلم لیگ، نے کہا اسمارٹ اسکلز کیمپ، بچوں کی فکری دنیا کو وسعت دینے اور ان کے اندر خود اعتمادی، تخلیق اور تجسس کے چراغ روشن کرنے کی ایک شعوری کاوش ہے۔ ایسے اقدامات مستقبل کے معماروں کی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں

    کیمپ کے سات دن، ہر لمحہ علم کی روشنی سے لبریز رہے۔ یہ محض لیکچر نہیں تھے، بلکہ ایک فکری مہم تھی، جس میں بچوں نے نہ صرف سنا بلکہ محسوس کیا، سیکھا اور تخلیق کیا۔ مختلف موضوعات پر تجربہ کار ماہرین نے بچوں کو جدید دنیا کے اہم ترین اسکلز سکھائے۔ ان میں شامل تھے
    مصنوعی ذہانت اور اینیمیشن – ملک وقاص سعید: ایک دنیا جو مستقبل کی راہ دکھاتی ہے۔
    ڈی آئی وائی کریئیٹوٹی – انایا: بچوں کی تخلیقی سوچ کو عملی شکل دینے کا فن۔
    پریشر اور بُلیئنگ ہینڈلنگ – بشریٰ اقبال: نفسیاتی طاقت اور جذباتی ذہانت کی تعلیم۔
    اسپوکن انگلش – قرۃ العین: بین الاقوامی زبان میں خود اظہار کی مہارت۔
    آن لائن سیفٹی – عائشہ طارق: ڈیجیٹل دنیا میں تحفظ اور آگہی۔
    ماحولیاتی تحفظ – عروبہ سلطان: قدرت سے رشتہ استوار رکھنے کا درس۔
    انٹرپرینیورشپ – حفصہ ادریس: چھوٹی عمر میں بڑی سوچ کا آغاز۔
    کینوا ڈیزائننگ – خدیجہ نوید: جمالیاتی ذوق اور گرافک فن کی ابتدا۔
    ان موضوعات کے ساتھ ساتھ ای بُک کریئیٹنگ، پوڈکاسٹ سازی، مشین لرننگ، سائبر سیفٹی، بزنس پلاننگ جیسے شعبہ جات میں بھی بچوں نے عملی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھا۔ یہ ایک مکمل، مربوط اور تخلیقی تربیتی تجربہ تھا۔

    کیمپ کے دوران والدین نے اس بات کا بارہا اظہار کیا کہ کیمپ کا ماحول نہایت محفوظ، رہنمائی سے بھرپور، اور تربیتی لحاظ سے مؤثر تھا۔ بچوں نے جو سیکھا، وہ صرف ہنر نہ تھا بلکہ سوچنے کا نیا انداز، خود اعتمادی کی نئی روح، اور مستقبل کی بنیادوں کی نئی تعمیر تھی۔ ملک وقاص سعید نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ صرف سیاسی میدان میں سرگرم نہیں، بلکہ ہمارا مقصد ہے کہ ہم نئی نسل کو بااخلاق، باشعور اور باصلاحیت شہری بنائیں۔ ہمارا ہر قدم اسی وژن کی جانب ہے،”اپنا کماؤ انیشیئیٹو” کے تحت لاکھوں پاکستانیوں کو مفت ڈیجیٹل کورسز، ای کامرس اور فری لانسنگ کی تربیت دی گئی، تاکہ ہر فرد اپنے گھر بیٹھے خود کفیل بن سکے۔ اور اب یہی سفر بچوں سے شروع ہو رہا ہے، تاکہ آنے والی نسل اپنے ہنر اور علم سے وطن کی تعمیر کرے۔

    اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز” نہ صرف بچوں کی فکری، تخلیقی اور ڈیجیٹل تربیت کا مظہر ہے بلکہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جس میں ہم ایک خود کفیل، باہنر، اور باوقار پاکستان کو دیکھتے ہیں۔ یہ کیمپ اس امید کا چراغ ہے جو ایک دن پورے معاشرے کو علم و شعور کی روشنی سے منور کرے گا۔

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید پروگرامز نوعمروں، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے بھی پیش کیے جائیں گے۔ مقصد ایک ہی ہے: ہنر ہر گھر تک، خود کفالت ہر فرد تک۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بھی ایسے تعلیمی اور تربیتی مواقع سے مستفید ہوں، تو مرکزی مسلم لیگ کے آئندہ پروگرامز پر نگاہ رکھیں۔

  • دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد

    دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد

    دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان کی ترقی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک دیہی علاقوں کو مساوی ترقی کے مواقع نہ دیے جائیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات میں آج بھی صرف شہروں کو فوقیت حاصل ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ جیسے بڑے شہروں میں تو سڑکیں، میٹرو بسیں، انڈر پاسز، جدید ہسپتال اور معیاری تعلیمی ادارے عام نظر آتے ہیں لیکن دیہاتوں میں زندگی آج بھی بنیادی سہولیات کی محرومی کا شکار ہے۔

    جبکہ ترقی کسی بھی قوم کی پہچان اور بقاء کی ضمانت ہوتی ہے، ہمارے ہاں بیشتر فیصلے صرف شہری علاقوں کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ دیہات چھوڑ کر شہروں کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ گنجان آباد بستیوں، بڑھتے ہوئے جرائم، آلودگی اور ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ نقل مکانی دراصل دیہی پسماندگی کی علامت ہے، جو کہ ایک بڑا قومی چیلنج بن چکی ہے۔

    دیہی علاقوں میں اگر موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حقائق لرزہ خیز ہیں۔ یہاں کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی صحت مراکز میں ڈاکٹروں اور ادویات کی عدم دستیابی، بجلی و گیس کی قلت، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، صاف پانی کی عدم فراہمی، اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان عام مسائل میں شامل ہیں۔ دیہی آبادی آج بھی ان بنیادی حقوق سے محروم ہے جنہیں شہری علاقوں میں معمول سمجھا جاتا ہے۔

    یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے۔ ایسے میں اگر دیہاتوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل نہ کیا گیا تو نہ صرف شہری سہولیات کا توازن بگڑے گا بلکہ قومی ترقی کا خواب بھی ایک سراب بن کر رہ جائے گا۔

    موجودہ حکومت خصوصاً پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ، جو تعلیم یافتہ، عوام دوست اور باصلاحیت رہنما کے طور پر پہچانی جاتی ہیں، ان سے دیہی عوام کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کی ابتدائی تقاریر میں تعلیم، صحت اور خواتین کی ترقی کو اولین ترجیح دی گئی، جو قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ پنجاب کے دیہی علاقوں کی طرف بھی خصوصی توجہ دیں۔

    دیہی ترقی کے لیے حکومت کو درج ذیل اقدامات کی فوری ضرورت ہے:
    ×دیہی سکولوں کی اپ گریڈیشن
    ×بنیادی صحت مراکز کی بحالی اور ڈاکٹروں کی دستیابی
    ×دیہات میں سڑکوں کی مرمت اور پختگی
    ×صاف پانی کی فراہمی
    ×چھوٹے پیمانے پر روزگار کے مواقع کا فروغ

    دیہی ترقیاتی اتھارٹی کا قیام اگرچہ ایک خوش آئند قدم تھا، لیکن بدقسمتی سے اس ادارے کا عملی کردار یا تو بہت محدود ہے یا طاقتور شخصیات کے حلقوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ نظام انصاف کے بجائے عدم مساوات اور اقربا پروری کو فروغ دے رہا ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔

    یاد رکھنا چاہیے کہ دیہات صرف زمین کے ٹکڑے نہیں، بلکہ قوم کی بنیاد ہیں۔ اگر ہم دیہاتوں کو بااختیار، خودکفیل اور ترقی یافتہ بنائیں گے تو پورا پاکستان ترقی کرے گا۔ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان فرق کم کرنا ہی پائیدار ترقی کی اصل بنیاد ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کو چاہیے کہ وہ دیہی ترقی کے لیے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات کریں تاکہ پنجاب کا ہر گاؤں، ہر بستی، ہر کسان ترقی کی روشنی سے منور ہو سکے۔ دیہی عوام کی نظریں آپ پر مرکوز ہیں — کیا آپ ان کی امیدوں پر پورا اتریں گی؟

  • صوبائی دارالحکومت لاہور بدحالی کا شکار.تحریر:ملک سلمان

    صوبائی دارالحکومت لاہور بدحالی کا شکار.تحریر:ملک سلمان

    نواز شریف کی یہ خوبی سب سے منفرد ہے کو انہوں نے پنجاب اور پاکستان کو جدید سہولیات سے آراستہ بھی کیا لیکن اس کی قدیم تاریخ کو زندہ رکھنے کیلئے بھی عملی اقدامات کیے۔ تہذیب و ثقافت کا گہوارہ اور تاریخی اہمیت کے حامل لاہور کی قدیمی حیثیت کی بحالی کے اعلان سے لاہور سے محبت کرنے والے ہر فرد نے اس فیصلے پر شدید خوشی کا اظہار کیا۔ دنیا بھر میں موجود لاہوریوں نے اسے لاہور اور پنجاب کی سیاحت کے فروغ کا نقطہ آغاز قرار دیتے ہوئے قدیم ثقافت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ ایک طرف نواز شریف لاہور کو دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے جارہے ہیں تو دوسری طرف لاہور لاقانونیت کی عملی شکل اور تجاوزات کا اڈا بن چکا ہے۔
    دنیا بھر میں صوبائی دارلحکومت کو ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ماضی میں جب شہباز حکومت میں لاہور کی تعمیروترقی پر تنقید ہوتی تھی تو میں ناقدین کو سمجھاتا تھا کہ لاہور صوبائی دارلحکومت ہے اور دنیا کے تمام ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ آپ صوبائی ہیڈکوارٹر کو سب سے زیادہ ڈویلپ کرتے ہیں۔ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ میں سارا پاکستان لاہور کو رشک نگاہوں سے دیکھتا تھا۔
    اب یہ صورت حال ہے کہ تاریخی عمارات کا حامل لاہور اپنی شناخت کھو چکا اور صرف یہی پہچان باقی رہ گئی کہ بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات۔
    ویسے تو پورے پنجاب کی ٹریفک پولیس ہی ٹک ٹاکر، کام چور اور غیرقانونی پارکنگ مافیا کی ساتھی ہے لیکن لاہور ٹریفک پولیس کا شمار نااہل اور کرپٹ ترین میں ہوتا ہے۔ ابھی تک بغیر نمبر پلیٹ،بلیک پیپر،راڈ لگاکر چھپائی اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوسکی۔
    کبھی یہ دور تھا کہ لاہور کی سیاحت غیر ملکیوں کی توجہ کا مرکز ہوتی تھی اور مشہور تھا کہ جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔
    ٹی ڈی سی پی سائٹ سیننگ بس سروس سے لاہور کو ایکسپلور کروانے کا اچھا انتظام کیا گیا ہے لیکن تجاوزات اور بے ہنگم ٹریفک کے باعث اس سہولت سے پوری طرح سے لطف اندوز ہونا ممکن نہیں ہو رہا۔
    صرف ضلع لاہور میں پانچ ہزار ارب سے زائدمالیت کی سرکاری زمینوں پر پرائیویٹ مافیا کے قبضے ہیں۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کرماہانہ پچاس کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے جس میں ضلعی انتظامی افسران، ایل ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر محکموں کے افسران اور اہلکار برابری کی بنیاد پر بینفشریز ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر لاہور کی ہدایات کے باوجود میونسپل کارپوریشن اور اسسٹنٹ کمشنرز احکامات پر عمل درآمد کرکے اپنی منتھلی پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں۔یہی وجوہات ہیں کہ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔
    لاہور میں 20فیصد تجاوزات ختم کروائی گئیں جبکہ چالیس فیصد نئی تجاوزات کی تعمیرات ہوچکی ہیں۔ چھوٹے موٹے چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگاکر گلیاں بند کرنا شروع کی ہوئی ہیں تو متعدد مقامات پر حکومتی اداروں کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ رہائشی علاقوں میں قائم سرکاری دفاتر کے سامنے اور لیف رائٹ والے گھروں نے بیچ سڑک پتھر رکھ کر رکاوٹیں قائم کی ہوئی ہیں کہ کوئی سرکاری گاڑی پارک نہ ہوجائے۔ قانون کی رٹ ختم ہوچکی ہے۔ گھروں کی باہر سرکاری زمین پر نرسریاں اور گارڈ روم بنائے جارہے ہیں۔ کار شو رومز اور کار مکینک لاہور کی تمام سڑکوں پر قابض ہو کر بیچ سڑک دکانداری کررہے ہیں۔
    خوش آئند بات ہے کہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ ٹک ٹاکر نہیں ہیں اور پروفیشل پولیسنگ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ڈی آئی جی اپریشن لاہور فیصل کامران کی دیانت داری، میرٹ اور فرض شناسی کا ہر کوئی معترف ہے جس کے نتیجے میں آج لاہور پولیس کا شمار دنیا کی بہترین پولیس میں ہورہا ہے۔
    سرکاری زمینوں پر قائم غیر قانونی ہاؤسنگ پراجیکٹس،کمرشل مارکیٹوں اور دیگر تعمیرات کا ماہانہ کرایہ سرکاری افسران کھا رہے ہیں۔باغوں کے شہر لاہور کے پارکس کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہے ہیں۔ ایل ڈی اے کے افسران تو مہینوں میں کروڑ پتی ہوجاتے ہیں لیکن شہریوں اور حکومتی مفاد کے کام نہیں ہوتے۔ لاہور کے آدھے سے زائد پیٹرول پمپ کسی بھی طور پر رجسٹریشن کی بنیادی شرائد پر پورا نہیں اترتے اور کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں سب اپنا حصہ وصول کر”اوکے“ کی این او سی دے رہے ہیں۔

    تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی کامیابی کے چانسز بھی معدوم ہیں کیونکہ اکثر تحصیلوں میں PERA کا چارچ اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلداروں کے پاس ہے۔ وہی قاتل وہی منصف کے مصداق اگر یہ اسسٹنٹ کمشنرز اور تحصیلدار اتنے ہی اچھے ہوتے تو سرکاری زمینوں پر قبضے ہی کرواتے۔ اسی طرح انڈرٹریننگ پیریڈ مکمل کرکے PERAمیں آنے والے نئے بچوں نے کام تو شروع نہیں کیا لیکن سوشل میڈیا پر دن رات ویگو ڈالوں کے ساتھ فوٹو سیشن اور ڈالہ گردی کرتے ضرور نظر آرہے ہیں۔PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر اس کیلئے ریگولر افسران بھرتی کیے جائیں جو مقامی اسسٹنٹ کمشنرز کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم اور ڈی جی کو کرسکیں۔ فی الحال تو ایسا ہوتا ممکن نہیں لگ رہا کیونکہ PERAکے افسران اسسٹنٹ کمشنرز سے جونئئیر بیچ کے ہیں اور خود کو انکا ماتحت ہی تصور کرتے ہیں۔

    مریم نواز اپنی وزارت اعلیٰ میں سات دفعہ تجاوزات کے خاتمے کا الٹی میٹم دے چکی ہیں لیکن بیوروکریسی تجاوزات ختم کروانے میں سیریس نہیں۔تجاوزات فری پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا۔
    اگر سی سی ڈی 30دن میں جرائم کا خاتمہ کرسکتی ہے تو ضلعی افسران ایک سال میں تجاوزات ختم نہیں کرواسکتے تھے؟ سب ممکن ہے لیکن اس کیلئے حرام کی کمائی چھوڑنا پڑتی ہے۔

    maliksalman2008@gmail.com