Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: قرۃالعین خالد ،سیالکوٹ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: قرۃالعین خالد ،سیالکوٹ

    "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا” کسی حد تک یہ بات ٹھیک ہے لیکن میں اسے مکمل طور پر درست نہیں مانتی۔ کسی برائی کو ختم کرنے کے لیے اس پر زیادہ ٹیکس لگا دینا اس کی روک تھام نہیں ہو سکتا ہاں کچھ وقت کے لیے کچھ لوگوں کی دسترس سے دور ہو سکتا ہے لیکن ایسا صرف کچھ وقت کے لیے ہو سکتا ہے۔ سگریٹ نوشی ایک بہت بری لت ہے دراصل ایک بہت بری عادت، بہت بری بیماری ہے جو ایک بار کسی کو لگ جائے تو اس کا بچنا مشکل ہے۔ یہ ایک ایسی دلدل کی طرح ہے جس میں انسان دھنستا ہی جاتا ہے ہاں ایک کام ضرور ہو سکتا ہے اگر انسان پختہ ارادہ کر لے تو کسی بھی مشکل یا دلدل سے باہر آ سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو اس کے علم کی بنا پر اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ یاد رہے علم کی بنا پر اسے فرشتوں سے سجدہ کروایا تو اس کا مطلب ہے کہ علم ہی درجات کی بلندی کا باعث ہے۔ اللہ رب العزت قران پاک میں فرماتے ہیں:
    "اللہ سے اس کے علم والے بندے ہی ڈرتے ہیں۔”(سورہ الفاطر:28)

    علم ہی وہ بنیادی اکائی ہے جو انسان کے درجات کی بلندی کا باعث ہے۔ علم ہی وہ بنیادی اکائی ہے جو انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ علم ہی وہ بنیاد ہے جس سے انسان کے دل میں آگاہی اور شعور کا پودا لگتا ہے اور روز بروز علم کی بنیاد پر ہی اس کی آبیاری ہوتی ہے۔ علم ہی وہ بنیاد ہے جس کے باعث انسان رب کی معرفت حاصل کرتا ہے ذہن و دل میں رب کی محبت اور اس کے خوف کو بٹھاتا ہے اور پھر غلط کاموں سے رک جاتا ہے۔

    حدیث کے مطابق ایمان، امید اور خوف کے بین بین ہے۔ جس دل میں ایمان ہوگا وہیں پر اللہ کا خوف بھی ہوگا اور انسان برائی کرتے ہوئے ڈرے گا بھی اور وہ رب کی ناراضگی سے گھبرائے گا بھی، جس دل میں ایمان ہوگا وہی دل رب سے امید بھی باندھے گا کہ اگر میں برائیوں سے رکوں گا تو رب کے انعام کا حقدار بنوں گا۔ فرمان نبوی کے مطابق: "ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہ اس کے والدین ہیں جو اس کو یہودی مجوسی اور عیسائی بناتے ہیں۔” تو ثابت ہوا کہ کوئی بھی بچہ برائی کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا یہ والدین کی تربیت اور ماحول کا اثر ہوتا ہے کہ وہ برائیوں میں ملوث ہو جاتا ہے۔ سگرٹ نوشی بھی ان برائیوں میں سے ایک برائی ہے جو اچانک سے کسی انسان کی زندگی میں نہیں آتی۔ سگریٹ نوشی کے خاتمے سے پہلے آئیے جانیے کہ اس برائی کا اغاز کہاں سے ہوا تھا؟ کون تھا جس نے آج کی نوجوان نسل کو اس جگہ کھڑا کر دیا جہاں وہ اچھے برے کی تمیز بھول گیا۔ جہاں وہ حلال اور حرام کی پہچان بھول گیا۔ دیکھنے میں یہ تین انچ لمبی اور ایک چھوٹے بچے کی انگلی جتنی معمولی نظر آنے والی شے دراصل معمولی نہیں ہے 19ویں صدی کی اوائل میں امریکہ کے جیمز بکانن ڈیوک نے اس برائی کی بنیاد رکھی پہلے وہ سگرٹ کو ہاتھ سے بناتا رہا بعد ازاں اس نے مشین ایجاد کی جہاں وہ ہاتھ سے ایک دن میں 200 سگرٹ بناتا تھا اب وہاں وہ ایک دن میں ایک لاکھ بیس ہزار سگرٹ بنانے لگ گیا اور وہاں کے رہائشیوں کے لیے یہ تعداد بہت زیادہ تھی لہذا اس نے سگرٹ کو دنیا میں اشتہارات کے ذریعے اور بعض دفعہ مقابلہ حسن میں مفت بانٹنا شروع کر دیے اور اس طرح برائی اتنے سستے طریقے سے پھیل گئی کہ جس کا خمیازہ آج بھی نسلیں بھگت رہی ہیں۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ جس نے کسی برائی کی بنیاد رکھی یا آغاز کیا وہ گناہ گار ہے۔”
    برائی کا آغاز کرتے وقت انسان یہ سوچتا نہیں کہ یہ برائی نسلوں تک جائے گی اور رہتی دنیا تک جو بھی اس میں ملوث ہوگا اس کی سزا ساری کی ساری ایجاد کرنے والے اور بنیاد رکھنے والے کو ملے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔”(سنن ترمزی1864) اسی طرح قران پاک میں شراب کی حرمت کو لے کر جو احکامات بیان کئے گئے ہیں ان کے مطابق شراب خریدنا، اس کا پینا، اس کا کاروبار کرنا سب حرام ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ حلال و حرام میں فرق کیا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ سگرٹ نوشی حرام کے زمرے میں نہیں آتی لیکن روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ جو بھی چیز نشے کے طور پر استعمال ہوتی ہے وہ چاہے سگریٹ ہو چاہے وہ اس سے ملتی جلتی کوئی بھی چیز وہ سب حرام کے زمرے میں ہی آتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی پذیر جتنے بھی ممالک ہیں ان میں سگریٹ کی طلب میں ہر سال 3.4 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ انسانی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ایک ارب 30 کروڑ لوگ ہیں جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور ان میں سے 80 فی صد غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ہیں۔ پاکستان میں بھی تمباکو کی صنعت کا مجموعی حجم تقریبا ایک ارب روپیہ ہے اور اس میں مختلف اقسام منظر عام پر آتی ہیں جن میں کچھ نقلی ہیں کچھ اصلی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب سگریٹ کو مہنگا کیا جاتا ہے تو اس کے بعد دو طرح کی کوالٹی سامنے آتی ہیں کیونکہ مہنگا سگریٹ غریب کی پہنچ سے دور ہوتا ہے تو وہ بہت ہلکی اور سستی کوالٹی کا سگریٹ استعمال کرتا ہے۔ ایسے سگریٹ بہت سستے داموں میں بکتے ہیں۔ حکومت اگر اس پر ٹیکس بھی لگائیں گے تو ہمارے پاس اتنی زیادہ ایسی کمپنیز اور اتنے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو سگریٹ کی نقل بنانے میں ماہر ہیں تو ہر وہ چیز جس کی اصل پر ٹیکس لگے گا وہ ہر چھوٹے چھوٹے علاقوں کے اندر بننی شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حکومتی طور پہ تو سگریٹ پر ذیادہ ٹیکس لگے کی اپیل کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے لیول پر اپنے بچوں کو، اپنے سکولز میں، اپنے کالجز میں سگریٹ کے نقصان کے بارے میں آگاہی دیں۔ اسی طرح جو غریب طبقہ ہے اس کے لیے بھی آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے۔

    حکومتی اداروں کے لیے میں بس یہ کہنا چاہتی ہوں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
    "تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”(صحیح بخاری) حکومت وقت بھی شریعت کے نظام و قانون سے دور، خوف الہٰی سے دور، دولت اور عہدوں کے نشے میں چور، روز محشر کو گئی بھول۔ یاد کیجیے! حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا تھا: "دریائے دجلہ و فرات کے کنارے کوئی پیاسا کتا بھی مر گیا تو پکڑ عمر کی ہو گی۔” کیسے تھے وہ لوگ؟ نہ عہدوں کی ہوس، نہ دولت کی لالچ، نہ زندگی کے حریص بس خدمت حلق تھا ان کا کام۔ دور حاضر میں حکومت وقت کو عہدوں کا جنون ہے۔ وہ یہ فراموش کر چکے کہ یہ عہدے نہیں ذمہ داریاں ہیں اور ذمہ داریوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس لاپرواہی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو کافی سمجھ لیا ہے یہ نہ سمجھا کہ ایک دن آئے گا جہاں سورج سوا نیزے پر ہو گا۔ جہاں ہر ایک کے اعمال کا حساب ہوگا۔ جہاں ماتحتوں اور رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ جہاں حکومت رب کعبہ کی ہو گی اور دنیا کا ہر طاقت ور بادشاہ ہر حکمران تھر تھر کانپ رہا ہو گا۔ وہاں سوال ہو گا کہ جوانی کہاں گزاری اور ماتحتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ وہاں سوال ہو گا تمہیں حکومت دی گئی تھی امت محمدیہ کا مستقبل تمہارے ہاتھوں میں تھا تم نے کیا کیا؟ اپنے تھوڑے سے عہدوں کے نشے میں چور نوجوانوں کے ہاتھوں میں نشہ تھما دیا۔ عوام حکومت کی ماتحت ہوتی ہے اس کی رعیت ہوتی ہے اس کے ایک ایک عمل کے بارے میں حکمرانوں سے پوچھا جائے گا۔ جہاں کہیں برائیوں کے اڈے ہیں، جہاں کہیں نوجوانوں کے ہاتھوں میں سگریٹوں کے دھوئیں ہیں سوال تو ہو گا۔ زندگی ایک نعمت ہے، رب کا عطیہ ہے، رب کا تحفہ ہے، اس کی حفاظت ضروری ہے۔ یہ رب کی امانت ہے اور رب امانت میں خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا بالکل برداشت نہیں کرتا۔ بچہ دین فطرت پر پیدا ہوا تم نے اس سے کیا بنا دیا؟ میں تو کہتی ہوں سگریٹ پہ زیادہ ٹیکس کی بات چھوڑیں بلکہ اس کا مکمل خاتمہ ہی ہو جانا چاہیے۔ مسلمان نوجوان نسل اپنے ارادوں و عزائم میں بہت مضبوط ہے۔ ایک مسلمان کو اللہ نے دس کافروں پر فوقیت دی ہے۔
    اس کا وقار ایسا تو نہیں جو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑ جائے۔
    اس کا کردار ایسا تو نہیں کہ سگریٹ کی چنگاری کی طرح پاؤں تلے مسلا جائے۔
    اس کی گفتار ایسی تو نہیں جو ہوا میں لہرا جائے۔
    اس کے افکار ایسے تو نہیں جو ایک تین انچ کے ٹکڑے کے محتاج ہوں۔

    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ شریعت کے قانون کی پاسداری کے لیے قربانیاں دی گئی تھیں۔ آج عہدوں کے نشے میں چور حکمرانوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ روز محشر جب رعیت کے بارے میں سوال ہوگا تو کیا جواب دیں گے؟ افسوس صد افسوس! اپنے چند ٹکوں کے لیے امت مسلمہ کو سگرٹ کے دھوئیں کے حوالے کر دیا. برائیاں تبھی جنم لیتی ہیں جب انسان کا دل خوف الہٰی سے خالی ہو جاتا ہے۔ جب اس کا یقین روز محشر کے بارے میں ڈگمگا جاتا ہے۔
    "ہمارے لیے ہمارے اعمال تمہارے لیے تمہارے اعمال۔”(سورہ البقرہ:139) حکمرانوں کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ انسان کو اللہ نے عقل و شعور سے نوازا ہے انہیں خود بھی چاہیے کہ وہ برے اعمال سے دور رہیں۔ صاحب علم و فہم سے گزارش ہے کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ہمیں بھی اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
    تو آئیے! بارش کا وہ پہلا قطرہ بن جائے جو ہمت کرتا ہے اور اپنے پیچھے ڈھیروں بوندا باندی کو لے کر آتا ہے۔
    آئیے! ہاتھ بڑھائیے اٹھیے اور نفع مند مومن بن جائیں جو معاشرے کو اندھیروں سے نکال کر خیر و بھلائی کے نور سے آگاہی دیتا ہے۔
    آئیے! سگرٹ نوشی کی روک تھام کے لیے آگاہی پروگرام کا انعقاد کریں اور کم پڑھے لکھے لوگوں تک بھی اپنی آواز پہنچائیں۔ اس کے نقصانات بتائیں اور حلال و حرام کے فرق کو واضح کریں۔
    تو کون بنے گا؟
    انصار اللہ!

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، غریب کی پہنچ سے دور ہوگی ،تحریر: ممتاز خان کھوسہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، غریب کی پہنچ سے دور ہوگی ،تحریر: ممتاز خان کھوسہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، غریب کی پہنچ سے دور ہوگی
    تحریر: ممتاز خان کھوسہ
    سگریٹ نوشی ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف فرد کی صحت کو تباہ کرتا ہے بلکہ خاندان، معاشرے اور معیشت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ دنیا بھر میں حکومتیں تمباکو نوشی کے خلاف مختلف اقدامات کرتی آئی ہیں، جن میں نمایاں ترین قدم سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کرنا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان میں بھی یہی پالیسی زیرِ غور ہے کہ سگریٹ پر مزید ٹیکس لگایا جائے تاکہ تمباکو مصنوعات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائیں۔

    مگر اس پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے صرف غریب طبقہ متاثر ہوگا، کیونکہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھنے سے قیمتیں بڑھیں گی اور امیر طبقہ تو پھر بھی خرید سکتا ہے، جبکہ غریب کے لیے یہ شے "لگژری” بن جائے گی۔ اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ سگریٹ "ضرورت” نہیں بلکہ "عادت” ہے، اور اگر یہ عادت کسی پالیسی سے چھوٹ جائے تو وہ پالیسیاں معاشرتی بھلائی کے لیے ضروری ہیں۔

    سگریٹ نوشی صحت کا دشمن ہے۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کی بیماریاں، سانس کی تکالیف اور دیگر مہلک امراض اسی ایک عادت سے جنم لیتے ہیں۔ ان بیماریوں کا علاج بھی مہنگا ہے، اور سب سے زیادہ نقصان انہی غریبوں کو ہوتا ہے جو نہ تو مکمل علاج کروا سکتے ہیں، نہ ہی بیماری کی حالت میں اپنا گھر چلا سکتے ہیں۔ یوں سگریٹ ایک غریب کو بظاہر وقتی تسکین دیتا ہے مگر انجام میں اسے مزید غربت کی گہرائی میں دھکیل دیتا ہے۔

    ٹیکس کا مقصد آمدن اکٹھی کرنا نہیں بلکہ رویوں میں تبدیلی لانا ہے۔ اگر سگریٹ مہنگی ہو جائے تو نئے نوجوانوں کا اس لت میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ پہلے سے اس عادت میں مبتلا ہیں، ان کے لیے ترک کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے، جب قیمت جیب سے باہر ہو۔

    یہ کہنا کہ ٹیکس صرف غریب کو متاثر کرے گا، ایک سطحی دلیل ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ غریب طبقہ ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے جب وہ صحت سے جڑی خراب عادات کا شکار ہوتا ہے۔ اگر حکومت کی پالیسیوں سے تمباکو کی عادت کم ہو جائے تو یہ غریب کے لیے کسی سزا نہیں بلکہ انعام کی مانند ہے۔ اس کے بچے، اس کا گھر اور اس کا مستقبل اس عادت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

    لہٰذا، سگریٹ پر ٹیکس لگانا ایک مثبت اور دور رس پالیسی ہے جو تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔ ہمیں بطور معاشرہ اس کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک صحت مند، باشعور اور خوشحال پاکستان کی جانب قدم بڑھا سکیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دُور ہوگا،تحریر :ظفر اقبال ظفر

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دُور ہوگا،تحریر :ظفر اقبال ظفر

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دُور ہوگا
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    کرومیٹک اور باغی ٹی وی کی جانب سے تمباکو نوشی کے نقصانات کی آگاہی مہم کے تناظر میں موضوع دیا گیا ہے۔ (سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دُور ہوگا )جناب عالیٰ آپ نے تمباکونوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے دفاع میں صحت مند معاشرے کے لیے فکری سوچ کا اظہار تو کر دیا ہے مگر موضوع پوچھ رہا ہے کہ سگریٹ پرٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا؟آج تک کوئی بجٹ ایسا نہیں آیا جس میں سگریٹ پربھاری ٹیکس نہ لگا ہواس کے باوجود سگریٹ کی فروخت میں نہ کمی آئی نہ ہی نئے پینے والوں کو سگریٹ سے دُوررکھا جا سکا معاشرے کے بچے نوجوان بوڑھے اپنی صحت اور دولت سگریٹ ساز کمپنیوں کے آگے ہارتے ہی چلے جا رہے ہیں آپ تمباکو کاغذ اور روئی کے فلٹر سے تیار ہونے والی سگریٹ کی بناوٹ پرآنے والے خرچے اور ٹیکس کی جانچ پڑتال کریں گئے تو علم ہوگا کہ بھاری ٹیکس اور قیمت میں حکومت اور سگریٹ ساز کمپنیاں کتنی پرُکشش آمدن حاصل کر رہے ہیں اس لیے سگریٹ پر مکمل پابندی کی بات کرنا سرکاری اور کاروباری لوگوں کو ناگوار گزرے گامگر کیا کروں میراقلم سچ پر مبنی حقائق لکھنے پر مجبور کرتا ہے تو لکھناہی پڑے گا۔

    سگریٹ نشے سے بڑھ کر ایک بری عادت کا نشہ بن چکا ہے اور جس عادت کو سرکار ی اجازت ہو اسے روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے ریاست نے سگریٹ کو نشہ قرار نہیں دیا ہے جبکہ نشے کی معاون سگریٹ کے بغیر چرس کا نشہ ہو ہی نہیں سکتاسگریٹ خود سے بڑے ہرنشے میں اپنی شراکت بھی رکھتی ہے یعنی سگریٹ نشے کی دنیا کاپہلا قدم بھی ہے ہمارے معاشرے کے کثیر تعداد کے شرفاء بھی اس کے استعمال میں پھنسے ہوئے ہیں جو اسے غلط تسلیم کرکے اس تک ہی محدود رہتے ہیں وہ سگریٹ کی نفرت و مخالفت سے اپنے آپ کو یہاں ہی روک لیتے ہیں مگر یہ سگریٹ اپنی پیدا کردہ بیماریوں میں کہاں محدود رہتی ہے یہ اپنے پینے والے کو کتنی خاموشی سے پیتی رہتی ہے اس کا علم نقصان کے بعد ہی ہوتا ہے اس لیے تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم پر جتنا بھی کام کیا جائے کم ہے۔

    قوت خودارادی کو ختم کرنے والی اس دشمن عادت کی گرفت میں آیا ہوا بندہ بڑے بڑے نشے کرکے چھوڑ دیتا ہے مگر سگریٹ نہیں چھوڑ پاتا جس کی وجہ یہی ہے کہ یہ غیر اخلاقی تو ہے مگر غیرقانونی نہیں ہے اگر سگریٹ بنانے بیچنے والوں پر یہ قانون و زمہ داری لاگو کر دی جائے کہ سگریٹ پینے سے پیدا ہونے والی تمام بیماریوں کا علاج بھی ان ہی کے زمے ہوگا تو یہ سگریٹ کا وجود ختم کرکے انسانیت کے صحت مند وجود کی فکر میں عملی کردار ہو سکتا ہے بھلے محکمہ صحت نے اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو اس کی فروخت پر منع کیا ہوا ہے مگر اس پر عمل نہیں ہو رہا آج بھی بدقسمتی سے سکول کالج یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں میں سگریٹ کا حفیہ استعمال ہمارے مستقبل بنتے افراد کو اپنی لپیٹ میں لیے جا رہا ہے۔

    ہرسرکاری ادارے میں سگریٹ استعمال کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کی صحت بھی اتنی ہی قابل اہمیت ہے جتنی ایک بالغ ہوتے بچے کی ہوتی ہے ڈاکٹرز سے بڑھ کر اس کے نقصانات سے کون واقف ہوگا ان کی بھی بڑی تعداداس کا شکار اسی وجہ سے ہے کہ ریاست نے اسے نشہ سمجھ کر غیرقانونی قرار نہیں دیا معاشرے کے فکرمند احباب جتنی بھی سگریٹ نقصانات پر آگاہی مہم چلا لیں وہ اتنی فائدہ مند نتائج سے ہمکنار نہیں ہو سکتیں جتنی ریاست کی پابندی ہو سکتی ہے ریاست تمباکو سے بننے والی تمام مضر صحت مصنوعات پان گٹکا سگریٹ پر پابندی لگا کر سرکاری ہسپتالوں پر وہ خرچ بچا سکتی ہے جو سگریٹ کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم سے کہیں زیادہ ہے۔

    بچوں کے سامنے سگریٹ پیتا باپ نئی نسل کو سگریٹ کا تعارف ہی کروا رہا ہوتا ہے اور اس کے استعمال کی گنجائش بھی بتا رہا ہوتا ہے بھلے ہی وہ دل سے نہیں چاہتا کہ اس کے بچے سگریٹ کی جانب مائل ہوں مگرآزادانہ استعمال سگریٹ کی جو فضاء بن چکی ہے اسے بدلنے کے لیے حکومت پاکستان کو سگریٹ کے پیکٹوں پہ تمباکو نوشی کا انجام گینگرین لکھنے کی ناکام نفرت ڈالنے کی بجائے تمباکو نوشی کے ساتھ ساتھ تمباکو سے تیار ہونے والی ہر بیماریوں کی ماں پرپابندی لگا کر صحت مند معاشرے کی تشکیل سے دنیا کو حیران کرنا چاہیے۔

    نفسیاتی و زہنی امراض دماغی کمزوری پھیپھڑوں کی تباہی سانس کی بیماریاں دل کی کمزور ی ہا رٹ اٹیک معدے و جگر کا متاثر ہونا معدے کاکھانا ٹھیک سے ہضم نہ کرنااورسگریٹ سے متاثرہ جگر کا نیا خون پیدا نہ کرنے سے جسمانی کمزوری بڑھتے بڑھتے انسان کو مرنے سے پہلے مار دیتی ہیں جو انسانی قتل کے زمرے میں آتا ہے مگرقاتل تمباکو کی دی ہوئی موت کو خدا کا حکم قرار دے کر جان لیوادشمن کو تحفظ دینے کی بجائے اس کے خلاف معاشرے کو صحت بچاؤ جنگ لڑنی چاہیے۔پریشانی دُکھ غم تکلیف وغیرہ جیسی کیفیات کو بہانہ بنا کر یاشوقیہ طور پر شروع کی گئی سگریٹ نوشی قوت خودارادی کونشانہ بناتے ہوئے ا نسانی اعصاب پر قابض ہو کر اپنے شکار انسان کو بے بس کرتی ہے جس کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر ہر صاحب احساس شہری اپنے معاشرے کو سگریٹ کے دھوئیں سے پاک کرنا چاہتا ہے

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر:اقراء نثار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر:اقراء نثار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر:اقراء نثار
    تمباکو نوشی ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی صحت، دولت اور زندگی کو نگل جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہر سال تمباکو سے جڑی بیماریوں کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جو معاشی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر سگریٹ پر ٹیکس لگایا جائے تو کیا یہ قدم غریبوں کے لیے نقصان دہ ہوگا یا فائدہ مند؟

    حقیقت یہ ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا مقصد صرف آمدنی حاصل کرنا نہیں، بلکہ عوام کو تمباکو نوشی سے دور رکھنا ہے۔ جب سگریٹ مہنگی ہوگی، تو غریب طبقہ اسے خریدنے سے باز رہے گا یا کم از کم اس کا استعمال کم کرے گا۔ اس طرح نہ صرف ان کی صحت بہتر ہوگی بلکہ وہ اپنی قیمتی کمائی کو تعلیم، خوراک اور دیگر ضروریاتِ زندگی پر خرچ کر سکیں گے۔

    تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو نوشی کے اخراجات، علاج کے اخراجات سے کئی گنا کم ہیں، لیکن جب یہی تمباکو بیماریوں میں بدلتا ہے تو غریب آدمی اپنی پوری جمع پونجی دوا، علاج اور اسپتالوں پر خرچ کر دیتا ہے۔ اگر سگریٹ اس کی پہنچ سے باہر ہو جائے تو وہ ان مہلک بیماریوں سے بھی بچ سکتا ہے۔

    یہ دلیل کہ "غریب کو سگریٹ مہنگی پڑے گی” دراصل ایک غلط تاثر ہے۔ صحت سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں، اور اگر ٹیکس کی مدد سے ہم غریب عوام کو اس زہر سے دور رکھ سکتے ہیں تو یہ قدم ضرور اٹھایا جانا چاہیے۔

    سگریٹ پر ٹیکس لگانا ایک دانشمندانہ اور فلاحی فیصلہ ہے۔ یہ قدم غریب کو تمباکو کی لت سے نکال کر صحت مند زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ حکومت، میڈیا اور معاشرہ مل کر ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک صاف، صحت مند اور تمباکو سے پاک معاشرہ پا سکیں۔

    اگر تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس لگایا جاتا ہے، تو اس سے غریب لوگوں کے لیے سگریٹ کی رسائی کم ہو جائے گی۔ اس سے تمباکو نوشی کی شرح کم ہو سکتی ہے، جو صحت عامہ کے لیے فائدہ مند ہے۔ تاہم، اس سے غریب لوگوں پر غیر متناسب اثر پڑ سکتا ہے، جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔

    ٹیکسوں میں اضافے سے اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جو حکومت کے لیے محصولات کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، سگریٹ پر ٹیکس لگانے سے حکومت کے لیے محصولات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے صحت کی دیکھ بھال اور دیگر عوامی خدمات کے لیے فنڈز مل سکتے ہیں۔

    مجموعی طور پر، سگریٹ پر ٹیکس لگانے کے فوائد اور نقصانات دونوں ہیں۔ اس سے تمباکو نوشی کم ہو سکتی ہے اور صحت عامہ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس سے غریب لوگوں پر غیر متناسب اثر بھی پڑ سکتا ہے اور اسمگلنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • سگریٹ کو مہنگا کرو، زندگی کو قیمتی بناؤ.تحریر:نمرہ امین ،لاہور

    سگریٹ کو مہنگا کرو، زندگی کو قیمتی بناؤ.تحریر:نمرہ امین ،لاہور

    سگریٹ کو مہنگا کرو، زندگی کو قیمتی بناؤ
    تحریر:نمرہ امین ،لاہور
    قوموں کی ترقی کا انحصار صرف معیشت پر ہی نہیں بلکہ صحت مند افراد پر ہوتا ہے کیوں کہ ایک صحت مند فرد ہی کامیاب معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔
    پاکستان میں تمباکو نوشی جیسے مہلک رجحانات ہماری نوجوان نسل اور غریب طبقے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں افراد کی اموات تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ سگریٹ صرف ایک نشہ ہی نہیں ہے بلکہ بیماریوں کی جڑ ہے۔ دل، پھیپھڑے، سانس کی تکلیف، کینسر جیسی مہلک بیماریاں انسان کو جکڑ لیتی ہیں اور ان بیماریوں کا علاج بھی پھر مہنگا ہوتا ہے جو غریب کی پہنچ سے دور ہے اور اگر بر وقت علاج نہ کروایا جائے تو انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

    سگریٹ صرف جسمانی نہیں بلکہ سماجی زہر بھی ہے۔ جس سے گھر کے ماحول، بچوں کی تربیت پر اثر پڑتا ہے اور آس پاس کہ افراد بھی اس کے دھویں سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    اسلام میں بھی جسم کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچنے کا حکم ہے۔ اسی لیے تمباکو نوشی سے بھی پرہیز ضروری ہے جس سے انسان صحت و توانا رہے گا اور بیماریوں سے بچا رہے گا۔
    حوالہ۔ سورۃ البقرہ۔ آیت نمبر 195 "اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔”

    حکومت کی جانب سے "سگریٹ پر ٹیکس” لگا کر قیمت بڑھانے کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ سگریٹ کا نشہ نوجوانوں اور غریب لوگوں میں سے کم ہو سکے گا۔ اگر حکومت کی مثبت سوچ ہو کہ تمباکو نوشی کے زہر سے سب کو بچا کر ایک صحت مند زندگی کی طرف راغب کرنا ہے۔ ان کو بے شمار بیماریوں سے بچانا ہے۔ تو یہ حکومت کی بہت اچھی نیکی ہے ساری عوام کے ساتھ۔ جو سگریٹ پر ٹیکس لگا کر چھوٹے طبقے کے لوگوں کی پہنچ سے دور رکھ سکیں۔ جس کی وجہ سے وہ اور ان کے اہل و عیال صحت مند خوشحال زندگی بسر کر سکیں گے۔ کیوں کہ غریب عوام کو زیادہ تر بیماریاں، تمباکو نوشی کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں۔ سگریٹ پر ٹیکس کا مقصد غریب لوگوں کو نقصان پہنچانا نہیں ہے بلکہ ان کو صحت مند زندگی گزارنے پر آمدہ کرنا ہے۔

    "سگریٹ پر ٹیکس” واقعی اس کی قیمت بڑھا دیتا ہے جو نوجوان اور غریب طبقے کے لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جاتا ہے اور ان کے خریدنے کی سکت کو ختم کر دیتا ہے۔
    لیکن بعض اوقات مہنگا سگریٹ پہنچ سے دور ہونے کی وجہ سے جس انسان کو نشے کی لت اتنی زیادہ ہوتی ہے وہ سستے کے چکر میں نسوار، پان اور اس قسم کے دیگر نشے کرنے پر مجبور ہوتا ہے جو انسان کی موت کا سبب بنتے ہیں۔

    حقیقت یہی ہے کہ "سگریٹ پر ٹیکس” ہی اس وجہ سے لگایا جاتا ہے کہ لوگ اس کو خرید نہ سکیں اور خود کو صحت مند رہنے کا عادی بنائیں۔
    ٹیکس لگنے سے غریب کا ہی فائدہ ہوتا ہے۔ جب سگریٹ مہنگا ہوگا تو وہ سگریٹ کو خرید نہیں سکے گا۔ اس کے پیسے ضائع ہونے سے بچ سکیں گے جس سے اس کی آمدنی میں بچت کے ساتھ ساتھ ہر کام بخوبی نبھایا جا سکے گا۔ وہ بیمار نہیں ہو سکے گا۔ اس کی بیماری کا خرچ بچ سکے گا۔ دو وقت کا کھانا عزت کے ساتھ اس کو ملتا رہے گا۔ اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر سکے گا۔ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی بہتر پرورش اور معیاری زندگی گزار سکے گا۔

    تمباکو نوشی صرف نوجوان نسل اور غریب طبقے کی صحت کے لیے مضر ہی نہیں ہے بلکہ ہر انسان کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ نشہ کسی بھی طرح کا ہو وہ انسان کی موت کا ذمہ دار ضرور بنتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت کو اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔ عوامی آگاہی کے لیے مہمات ہونی چاہیے۔ تاکہ لوگوں کو اس کی عقل، سمجھ اور طریقے بتا کر تمباکو نوشی کے ساتھ ساتھ ہر نشے کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    اگر حکومت "سگریٹ پر ٹیکس” سے حاصل ہونے والی رقم کو غریبوں کی مدد کرنے ان کے علاج کے لیے، تمباکو نوشی سے بچاؤ کی مہمات کے لیے، کسی کی تعلیم کے لیے اور عوامی فلاحی کاموں کے منصبوں کے لیے استعمال کرے تو بہت سے لوگوں کی امداد کے ساتھ ان کی پریشانیاں بھی حل ہو سکیں گی اور یہ غریب عوام اور معاشرے کے لیے فائدہ مند بھی رہے گی۔

    اگر حکومت کا یہ ایک قدم عوام کو اس نشے کی لت سے، بیماریوں سے بچا سکتا ہے تو یہ کوئی غلط فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک نعمت ہے۔ حکومت عوام کو تمباکو نوشی سے ہوئی اموات سے بچا رہی ہے۔ ان کے اہل و عیال کو یتیمی کی زندگی گزارنے سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔
    نوجوان نسل کو صحت مند معاشرہ دینا چاہ رہی ہے تاکہ ہر نوجوان تعلیم حاصل کر کے ایک با شعور افسر بن کر اپنے ملک پاکستان کی حفاظت کر سکے۔

    "سگریٹ کو مہنگا کرو، زندگی کو قیمتی بناؤ۔” !

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: عبدالمحسن

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: عبدالمحسن

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر: عبدالمحسن
    تمباکو نوشی ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف ہمارے جسم کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے بلکہ ہمارے معاشرے کو بھی آہستہ آہستہ تباہی کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔ میرے ایک جاننے والے کا قصہ یاد آتا ہے، جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس نے پہلی سگریٹ محض چودہ سال کی عمر میں آزمائی، جب وہ صرف تجسس اور دوستوں کی صحبت میں آیا تھا۔ ابتدا میں تو سب کچھ معمولی لگتا رہا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ عادت اس کی زندگی کا حصہ بن گئی۔ نو سال مسلسل تمباکو نوشی کے بعد اسے پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا۔

    بیماری کا پتہ چلتے ہی اس کے والدین کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ نہ صرف وہ جسمانی اذیت میں مبتلا ہو گیا بلکہ مالی بوجھ بھی اس کے غریب والدین کے لیے ناقابل برداشت بن گیا۔ chemotherapy، دوائیں، ہسپتال کے بلز، اور ہر لمحہ زندگی کی امید قائم رکھنے کی کوشش… سب کچھ اُن کے خوابوں، جمع پونجی، حتیٰ کہ گھر کے برتنوں تک کو نگل گیا۔ وہ نوجوان جو کبھی والدین کے لیے سہارا بننے والا تھا، آج اُن کے آنسوؤں کا سبب بن چکا تھا۔ آخرکار ڈیڑھ سال کی تکلیف اور بے بسی کے بعد وہ دم توڑ گیا، مگر اپنے پیچھے درد، پچھتاوا اور ایک سبق چھوڑ گیا کہ سگریٹ کی ایک عادت کس طرح زندگی برباد کر سکتی ہے۔

    میرے خیال میں، اگر سگریٹ مہنگی ہو جائے تو یہ ایک مؤثر قدم ہوگا۔ صرف یہ لکھ دینا کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” کافی نہیں۔ ہر سگریٹ کے پیکٹ پر "یہ پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتی ہے” لکھا ضرور جاتا ہے، مگر اس تحریر کا اثر تب تک محدود رہتا ہے جب تک اس کے پیچھے عملی اقدامات نہ ہوں۔ یہ تحریریں لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے تو ہیں، لیکن ان کی عادت کو بدلنے کے لیے کمزور ثابت ہوتی ہیں۔

    ہمیں صرف تنبیہ کرنے سے آگے بڑھ کر تمباکو کے استعمال کو روکنے کے لیے مضبوط اور عملی فیصلے لینے ہوں گے۔ اگر مکمل طور پر تمباکو پر پابندی ممکن نہیں، تو کم از کم اتنا ضرور کیا جا سکتا ہے کہ اس کی قیمت میں اضافہ کر کے عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، کو اس کی طرف مائل ہونے سے روکا جائے۔ قیمت میں اضافہ ایک آپشن کے طور پر سامنے آتا ہے کیونکہ جب چیز مہنگی ہو جاتی ہے تو لوگ خود بخود اس سے دور ہونے لگتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جن کی آمدنی محدود ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ قیمت بڑھانے سے تمباکو نوشی کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، لیکن اس کے استعمال میں نمایاں کمی ضرور آ سکتی ہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: مبشر حسن شاہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: مبشر حسن شاہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر: مبشر حسن شاہ
    تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے وزارت صحت حکومت پاکستان۔ یہ الفاظ پی ٹی وی کی نشریات کے دوران ان گنت مرتبہ سنے، بچپن سے نوجوانی، پھر جوانی اور پھر اب گزرتے دن، تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔

    پاکستان میں سالانہ 81 ارب روپے کے سگریٹ خریدے جاتے ہیں۔ اس رقم کا 7 فیصد سمگل شدہ یا امپورٹڈ سگریٹ ہے۔ آبادی کا 20 فیصد تمباکو نوشی کا عادی ہے۔ حالیہ مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تھی جس کا 20 فیصد ہے 5 کروڑ 20 لاکھ۔ اور خریداری 81 ارب کی۔ فی کس 1557 روپے۔ یہ رقم اتنی بڑی نہیں کہ اس کو کوئی بھی شخص جو پاکستان میں رہتا ہو اس کی جیب پر بوجھ ہو۔ سگریٹ پر ہر بجٹ سے پہلے ٹیکس لگائے جانے کا شور بپا ہوتا ہے اور ہر سال سگریٹ کچھ مہنگا بھی کیا جاتا ہے لیکن یہ مہنگائی یا قیمت میں اضافہ برائے نام ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارے یہاں سگریٹ کی ڈبیا کی قیمت 550 روپے سے 50 روپے تک ہے۔ ٹوبیکو کنٹرول سیل کے پراجیکٹ کوآرڈینیٹر اجمل شاہ کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً پانچ ہزار افراد تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہونے والی یومیہ اموات کی تعداد 274 سے بڑھ کر 460 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ان تمام اعداد و شمار سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ سگریٹ کو عام آدمی اور غریب کی پہنچ سے دور کرنا ہے تو اس کا واحد حل بھاری شرح سے ٹیکس کا نفاذ ہے۔

    معیشت کے مروجہ قاعدے بھی اس بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔ معاشیات کی رو سے انسان ہمیشہ اپنی امدن اور اشیاء کی قیمت کو مدنظر رکھ کر خریداری کرتا ہے اور اپنی امدن اور بازار میں موجود مصنوعات کی قیمت کا موازنہ کرکے اپنی ترجیحات مقرر کرتا ہے، اسے معاشی انتخاب کہتے ہیں۔ ٹیکس کا نفاذ جب سگریٹ کی قیمتوں میں واضح اضافہ کرے گا تو عام آدمی کی پہنچ سے یہ باہر ہوگا اور تمباکو نوشی کے خاتمے کی طرف یہ پہلا اور مؤثر قدم ہوگا کیونکہ سگریٹ کی طلب پر معاشی انتخاب بہرحال قیمت کی زیادتی سے تبدیل ہونا لازم و ملزوم ہے۔

    ہمارے ہاں تمباکو نوشی کی عادت اکثر کم عمری یا نوجوانی میں دوستوں کے ساتھ چھپ کر پینے یا بطور ایڈونچر پینے سے شروع ہوتی ہے جو فوراً جسم کی ضرورت بن جاتی ہے۔ نکوٹین کی کمی پر جسم کی طلب اور قوت ارادی کی کمزوری ہمیں فوراً عادی تمباکو نوش بنا دیتی ہے۔ دوسرے نمبر پر سٹائلش لگنا اور فلموں، ڈراموں، افسانوں کے کرداروں سے متاثر ہونا ہے جن کی سگریٹ نوشی کو ہمیشہ گلوریفائی کیا جاتا ہے۔

    غریب آدمی کے پاس تفریح یا ذہنی سکون کے مواقع تقریباً صفر ہیں لیکن سگریٹ نوشی سے جڑی ذہنی سکون کی الف لیلا نے اسے غریب آدمی کے لیے سستا ترین سکون بنا دیا ہے۔ نکوٹین سے ذہنی سکون نہیں ملتا، اصل میں یہ دماغی ہارمون ڈوپامین کی ریلیز سے حاصل ہونے والی خوشی کا احساس ہے جو سگریٹ پینے والے پر نفسیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ بدلے میں پھیپھڑوں، دل، منہ، زبان اور جسم کے دیگر اندرونی اعضاء کو بدترین نقصان پہنچتا ہے۔

    اشتہارات، میڈیا، عوامی مقامات پر لوگ، عام آدمی کی رائے اور سگریٹ کی عام دستیابی نے اس کی روک تھام کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔ صرف ٹیکس ریٹ میں اضافہ اس کی لت سے نجات کا وہ واحد حل ہے جو قابل عمل تو ہے ہی، ساتھ ہی ساتھ کم وقت میں بہترین نتائج کا ضامن بھی۔ سمگل شدہ سگریٹ کم قیمت پر مل جاتے ہیں لیکن ان کی روک تھام کے لیے حکومتی رویہ سخت ہے لہٰذا سگریٹ کو ہیوی ٹیکس نیٹ میں لانے کے بعد سمگل شدہ سگریٹ کا معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔

    پہلے ہمارے یہاں پان، حقہ اور سگریٹ تمباکو نوشی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اب شیشہ، ویپ، الیکٹرانک سگریٹ اور فلٹر پاوچ بھی عام دستیاب ہیں جبکہ نسوار کا رواج بھی عام ہے۔ اگر صرف سگریٹ کو بھاری ٹیکس کی مد میں نشانہ بنایا گیا تو متبادل اشیاء کی فروخت میں اضافہ ہوگا اور تمباکو نوش جو معاشی بوجھ کی وجہ سے ترک سگریٹ پر آمادہ ہوں گے، متبادل ذرائع سے نکوٹین لینے لگیں گے۔ جبکہ کسی بھی شکل میں تمباکو کا استعمال نقصان دہ ہے، لہٰذا ان تمام درج بالا اشیاء کو ٹیکس نیٹ سے ٹارگٹ کرنا ہوگا۔

    اس کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی چھوڑنے والوں کی حوصلہ افزائی بذریعہ تشہیر اور ایسے تمام ادارے جو اس مہم کا حصہ ہیں، ان کی سرپرستی انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان میں ٹیکس اہداف اکثر حاصل نہیں ہو پاتے جبکہ دوسری طرف تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے ٹیکس بڑھانے میں نہ صرف بہتر ریونیو حاصل ہوگا بلکہ عام آدمی کے لیے بھی معاشی بوجھ میں کمی ہوگی کیونکہ قوت خرید متاثر ہوتے ہی سگریٹ نوشی کے عادی جب اس کا استعمال ترک یا کم کریں گے تو ان کے پاس کچھ نہ کچھ رقم کی بچت کا موقع ہوگا۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر:سعد یہ عمران لاہور

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر:سعد یہ عمران لاہور

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر:سعد یہ عمران لاہور
    دنیا بھر میں سگریٹ نوشی ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف انفرادی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر معیشت، معاشرہ اور خاندانوں کو بھی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔ حکومتیں جب سگریٹ پر ٹیکس عائد کرتی ہیں یا اس کی قیمت میں اضافہ کرتی ہیں تو بعض لوگ اسے غریب کے خلاف اقدام سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں سگریٹ مہنگی ہونے سے غریب آدمی، جو پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے، اس “سکون” کے واحد ذریعے سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس پہلو کو صرف معاشی تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ صحت، معاشرتی فلاح اور قومی مفاد کے نقطۂ نظر سے جانچا جائے تو حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔

    سگریٹ کو عموماً ایک معمولی عادت یا سماجی رواج سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک جان لیوا نشہ ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں لوگ سگریٹ نوشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دل کی بیماریاں، پھیپھڑوں کا کینسر، ہائی بلڈ پریشر، سانس کی تکالیف اور دیگر خطرناک امراض سگریٹ نوشی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں لاکھوں افراد، خصوصی طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لوگ، اس لت میں ملوث ہیں اور علاج کا بوجھ برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ نتیجتاً ایک بیمار گھرانہ، ایک خالی باورچی خانہ اور ایک ٹوٹا ہوا خواب۔

    سگریٹ پر ٹیکس صرف سرکاری خزانے میں اضافہ کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکمتِ عملی ہے۔ جب قیمت بڑھتی ہے تو صارف، خاص طور پر وہ جو روزانہ اجرت سے وابستہ ہے، سگریٹ نوشی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کا کہنا ہوتا ہے: “یہ ٹیکس غریب پر ظلم ہے!” لیکن اگر یہ ایک غریب کو اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے سگریٹ چھوڑنے پر آمادہ کر دے تو کیا اسے ظلم کہا جائے؟ یا اس کو ایک احسان؟

    فرض کریں ایک مزدور روزانہ 100 روپے کی سگریٹ پیتا ہے، مہینے میں اس کا بل بنتا ہے 3,000 روپے۔ اگر قیمت بڑھنے سے وہ سگریٹ چھوڑ دے، تو یہی رقم بچوں کی فیس، رہائش کا کرایہ یا بیکار دوا کی جگہ صحت مند خوراک میں استعمال ہو سکتی ہے۔

    غریب آدمی جب سگریٹ پی رہا ہوتا ہے تو دراصل اپنی محنت کی کمائی کو فنا کر رہا ہوتا ہے۔ مہنگائی، کم آمدنی اور بنیادی ضروریات کے بوجھ کے باوجود وہ اپنا قیمتی پیسہ دھوئیں میں اڑا دیتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ ترک کرنے پر ایک عام مزدور اپنی روزمرہ کی ضروریات بہتر طور پر پورا کر سکتا ہے۔ اس رقم سے بچوں کی تعلیم، تندرست غذائی خوراک اور حفظانِ صحت کی سہولیات ممکن ہو جاتی ہیں۔

    غربت اور ذہنی دباؤ کے عالم میں سگریٹ وقتی سکون کا بہانہ بن جاتی ہے، لیکن یہ سکون دھوکہ ہوتا ہے۔ جب قیمت بڑھتی ہے تو بندہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے: “کیا واقعی یہ عادت میرے لیے فائدہ مند ہے؟” پہلے قدم پر ہی نجات کا آغاز ہوتا ہے۔ معاشرتی دباؤ یا فیشن کے تحت سگریٹ نوشی کرنے والے نوجوان بھی مہنگائی کی دیوار سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں اور یوں گھریلو ماحول میں خاموش نجات شروع ہو جاتی ہے۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں پہلے ہی صحت کا نظام کمزور ہے۔ لاکھوں لوگ سگریٹ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث اسپتالوں کے چکر کاٹتے ہیں، جس سے قومی صحت کا بوجھ اور بڑھ جاتا ہے۔ ٹیکس کے نتیجے میں اگر سگریٹ نوشی میں کمی آئے تو افراد کی صحت بہتر ہوگی، اسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا، اور سرکاری صحت کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

    سگریٹ پر ملنے والا ٹیکس اگر شفاف انداز میں صحت، تعلیم اور آگاہی مہمات پر خرچ کیا جائے، سکولوں میں بچوں کو صحت کی تعلیم دی جائے، کمزور طبقے کے لیے اسپیشل ہیلپ لائنز قائم ہوں، اور معاشرے کو سگریٹ نوشی کے نقصانات سے روشناس کرایا جائے، تو اس کا دوہرا فائدہ ہوگا: کم سگریٹ نوشی اور غریب طبقے کی بہبود۔

    ہمارے محلے کے “چاچا منور” جو ہمیشہ دھوئیں میں گم رہتے تھے، جب سگریٹ کی قیمت بڑھ گئی تو بولے: “حکومت نے تو سکون پر بھی سیلز ٹیکس لگا دیا!” ہم نے کہا: “چاچا، سکون تو قبر میں ہے، یہ زہر ہے!” یہ مزاحیہ پہلو اس بات کی علامت ہے کہ مہنگائی کس طرح ایک قدرتی رکاوٹ بن جاتی ہے، اور ہمیں صحت مند انتخاب پر مجبور کرتی ہے۔

    سگریٹ پر ٹیکس لگانے سے اگرچہ وقتی طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ غریب کی پہنچ سے سگریٹ دور ہو گئی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک مثبت انقلاب ہے۔ یہ نہ صرف اس کی صحت، کمائی اور خاندان کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ پورے معاشرے کی بھلائی کا باعث بنتا ہے۔ حکومت کا یہ اقدام مالی پالیسی نہیں بلکہ ایک سماجی، صحت مند اور فلاحی حکمتِ عملی ہے۔ اس لیے ہمیں اسے ظلم نہیں بلکہ ایک قابلِ ستائش قدم سمجھنا چاہیے۔

    “اگر سگریٹ مہنگی ہو کر غریب کی پہنچ سے دور ہو گئی تو شاید اس کی سانسیں بھی کچھ عرصے کے لیے آزاد ہو جائیں!”

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: زینب نور، اوکاڑہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریر: زینب نور، اوکاڑہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: زینب نور، اوکاڑہ
    سگریٹ ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ انسان کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے، اور اس بات کا احساس متاثرہ شخص کو ذرا بھی نہیں ہوتا۔
    ایک عام آدمی، جس کے گھر دو وقت کی روٹی نہیں بنتی، وہ ایک دن میں دو تین ڈبیاں سگریٹ کی پی لیتا ہے۔
    محنت مزدوری کرنے والا عام طبقہ بھی اس لعنت سے باز نہیں آیا۔ سارا دن مزدوری کرکے شام کو سگریٹ پینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
    روٹی چاہے مرچ کے ساتھ کھا لیں، مانگ تانگ کے کھا لیں، لیکن سگریٹ کے بغیر گزارہ کرنا مشکل ہے۔

    یہ ایک انتہائی مضر عادت ہے جو نہ صرف پینے والے کو نقصان دیتی ہے بلکہ ارد گرد کے افراد کو بھی متاثر کرتی ہے۔
    صحت پر اس کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    اس میں موجود نکوٹین اور دیگر کیمیائی مادے پھیپھڑوں کے خلیات کو تباہ کر دیتے ہیں۔
    دمہ کے مریضوں کو اس کے دھوئیں سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
    سگریٹ نوشی سے خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں۔
    بلڈ پریشر بڑھنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    اس میں موجود کیمیکلز خون کو گاڑھا کر دیتے ہیں۔
    منہ کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    مسوڑھوں اور دانتوں کے مسائل جنم لیتے ہیں، دانت گرنے لگتے ہیں اور منہ میں ہر وقت بدبو رہتی ہے۔
    سگریٹ کا دھواں نہ صرف دوسروں کے لیے خطرناک ہے بلکہ خود کی صحت کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔

    اس سے بچاؤ کے لیے گھر سے شروع کریں۔ اپنے آپ کو، اپنے خاندان کو بچائیں۔
    مناسب وقت پر علاج کروائیں۔ ابتدا میں مشکل ہوتی ہے، لیکن آہستہ آہستہ اس عادت سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

    اگر حکومتی سطح پر دیکھا جائے تو ٹیکس لگانے سے نوجوان طبقہ چوری اچکاری میں پڑ سکتا ہے۔
    یہ ایک ایسا نشہ ہے جس کو پورا کرنے کے لیے مانگنا یا لوٹ مار عام ہو سکتا ہے۔
    گداگری میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
    دیکھا جائے تو پڑھا لکھا طبقہ ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہے، اور جو انسان اس عادت میں ڈوبا ہوگا، اسے بروقت یہ نشہ نہ ملنے پر ڈکیت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

    میری رائے میں اس کی پیداوار کو بتدریج کم کرتے کرتے بالکل زیرو فیصد کر دینا چاہیے۔
    "نہ رہے بانس، نہ بجے بانسری”

    دوسری طرف، جتنا وقت پیداوار کی شرح میں کمی لانے میں لگے گا، اتنا ہی وقت ایسے مریضوں کو پکڑ کر ان کا علاج کروا کے مناسب روزگار پر لگایا جائے۔
    آج کل کے نوجوان جس ذہنی پریشانی کی وجہ سے اس طرف آتے ہیں، اس جڑ کو سرے سے ختم کر دینا چاہیے۔
    کچھ نوجوانوں نے فیشن کے طور پر بھی اس کو اپنایا ہوا ہے۔
    نہر کنارے، پارکوں میں ٹولیاں بنا بنا کر یہ شغل فرمایا جا رہا ہے۔
    انسانی جان اتنی ارزاں نہیں کہ اسے خود اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔

    حکومت مناسب روزگار مہیا کرے۔ نوجوان پڑھا لکھا طبقہ بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں۔
    ہمیں اپنے ملک کے نوجوانوں کو بچانا ہے۔

    "نوجوان ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں”

  • تمباکو نوشی کے خلاف ٹیکس کو بطور ہتھیار کیسے بنایا جا سکتا ہے؟،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    تمباکو نوشی کے خلاف ٹیکس کو بطور ہتھیار کیسے بنایا جا سکتا ہے؟،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    تمباکو نوشی کے خلاف ٹیکس کو بطور ہتھیار کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہر سال 31 مئی کو دنیا بھر میں "تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن” منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو اس مہلک عادت کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 1.7 لاکھ اموات تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال تمباکو نوشی سے 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو خود سگریٹ نہیں پیتے بلکہ دوسروں کے دھوئیں کا شکار بنتے ہیں۔

    تمباکو نوشی ایک مہلک، مہنگی اور معاشرتی لعنت ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے ہر معاشرے کو متاثر کر رہی ہے۔ اس کے خلاف مؤثر اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ اگر ہم آج سے اس کے خلاف بھرپور جہاد کا آغاز کریں تو آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند زندگی دی جا سکتی ہے۔

    آج کا ہمارا موضوع ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف ٹیکس کو بطور ہتھیار کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ غریب عوام کو اس لعنت سے نجات دلائی جا سکے۔ پاکستان میں اکثریتی غریب طبقہ سگریٹ نوشی کو بطور دوا استعمال کرتا ہے اور اسے ٹینشن کم کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے، جو سراسر غلط اور غیر صحت مند رویہ ہے۔

    تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے آگاہی نہایت ضروری ہے، لیکن پاکستان میں میڈیا اور مختلف محفلوں میں اس کی تشہیر ایک فیشن یا سٹیٹس سمبل کے طور پر کی جاتی ہے، جس کی کوئی مناسب روک تھام موجود نہیں۔ تمباکو مصنوعات کی کھلے عام تشہیر سے نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ویپنگ اور شیشہ کیفے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جسے ایک نیا فیشن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

    ملک میں انسداد تمباکو قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد انتہائی کمزور ہے۔ سگریٹ نوشی آج ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے جس کی جڑیں صدیوں پرانی تاریخ میں پیوست ہیں۔ یہ صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک ایسا ناسور ہے جو انسانیت کو آہستہ آہستہ نگل رہا ہے۔ غریب طبقہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں ناقص منصوبہ بندی، سستی اور غیر معیاری تمباکو مصنوعات، اور تمباکو نوشی کی عام مقبولیت شامل ہیں۔

    آج تمباکو نوشی کئی مختلف شکلوں میں موجود ہے، جو معاشرتی، جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے تباہ کن ہے۔ نوجوان نسل کو "فیشن”، "دوستی” اور "تفریح” کے نام پر ان لتوں کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔ اس رجحان پر قابو پانے کے لیے قانونی اقدامات، عوامی شعور، والدین کی نگرانی، اور میڈیا کی مثبت مداخلت نہایت ضروری ہے۔

    حکومت کے ساتھ ساتھ پبلک سیکٹر، اساتذہ، علما، والدین اور سماجی تنظیموں کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ معاشرتی نظام میں آگاہی کی کمی اور تمباکو نوشی کی غیر ضروری تشہیر ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    اگر سگریٹ پر ٹیکس بڑھا دیا جائے اور اس کی قیمت دو یا تین گنا ہو جائے، تو امیر طبقہ شاید متاثر نہ ہو، لیکن غریب ضرور متاثر ہوگا۔ وہ یا تو غیر معیاری اور سستی مصنوعات کی طرف جائے گا یا اپنی دیگر ضروریات قربان کر کے اس عادت کو برقرار رکھے گا۔ یہ صورتحال صحت کے مزید بگاڑ اور معاشی بدحالی کو جنم دے گی۔

    لہٰذا، صرف ٹیکس بڑھانا مسئلے کا حل نہیں۔ ایک متوازن اور جامع حکمت عملی اپنانا ضروری ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہوں:

    تمباکو نوشی کے نقصانات سے متعلق بھرپور آگاہی مہمات
    نشے کی لت چھڑانے کے لیے مفت مراکز کا قیام
    نوجوانوں کے لیے صحت مند تفریحی مواقع فراہم کرنا، جو کورونا وبا کے بعد 80 فیصد تک ختم ہو چکے ہیں
    تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی
    اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انسدادِ تمباکو تعلیم کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانا

    اگر ان تجاویز پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو ہم کافی حد تک تمباکو نوشی کے ناسور سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں اور آئندہ نسلوں کو ایک صحت مند، باوقار اور با شعور معاشرہ دے سکتے ہیں۔