Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قربانی کرنے والوں کے لئے اہم احکامات

    قربانی کرنے والوں کے لئے اہم احکامات

    جن وانس کی تخلیق کا حقیقی مقصد اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی بجا لانا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کے لیے مختلف طریقے قرآن وسنت میں متعین کیے گئے ہیں‘ جن میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، صدقات، نوافل، ذکرِ الٰہی، دعا اور دیگر بہت سی عبادات شامل ہیں۔

    اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بندگی کے لیے بعض ایام کو خصوصی اہمیت اور فضیلت بھی عطا فرمائی ہے جن میں ایام ذی الحجہ کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ توبہ کی آیت نمبر 36میں ارشاد فرماتے ہیں: ”بے شک مہینوں کا شمار اللہ کے نزدیک بارہ ہے‘ اللہ کی کتاب میں جس دن اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور اُن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں‘‘۔ حرمت والے چار مہینوں میں رجب، ذو الحج، ذی القعد اور ـمحرم شامل ہیں۔

    حرمت والے ان چار مہینوں میں ذی الحجہ کی اپنی ایک شان اور مقام ہے کیونکہ یہ دین اسلام کے پانچویں اہم ترین رکن’’حج‘‘ کی ادائیگی کا مہینہ ہے اس لیے اس مہینے کا نام ہی ذوالحج رکھا گیا ہے یعنی حج والا مہینہ اس مہینے کی 8تاریخ کو حاجی حج کا قصد کرتے اور 9 تاریخ کو عرفات میں وقوف کرتے ہیں، عرفات کے اس وقوف کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ حاجیوں کی جملہ خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں اور اس مہینے کی 10تاریخ کو دنیا بھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حاجی اور غیر حاجی مسلمان جانوروں کو ذبح کرتے ہیں-

    ذی الحجہ کے پہلے عشرے سے متعلق ایک ہدایت یہ بھی ہمیں دی گئی ہے کہ جو شخص قربانی کرتاہو، وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد حجاج کرام سے مشابہت کے لیے ناخن اور بال کٹوانے سے احتراز کرے ، اس سلسلے میں کتب احادیث میں حضرت ام سلمہ ؓ سے یہ روایت منقول ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا: جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک جب تک کہ قربانی نہ کرلے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے۔

    اس روایت میں قربانی کرنے والوں کو بقر عید کا چاند دیکھنے لینے کے بعد قربانی کر لینے تک بال وغیرہ کٹوانے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے ،تاکہ جو لوگ حج کررہے ہیں اور احرام کی حالت میں ہیں وہ بال ناخن نہیں کٹواسکتے، لہٰذا دوسرے لوگوں کو بھی احرام والوں کی مشابہت حاصل ہو جائے ۔

    تاہم یہ ممانعت تنزیہی ہے ،لہٰذا بال وغیرہ کا نہ کٹوانا مستحب ہے اور اس کے خلاف عمل کرنا ترک اولیٰ ہے، لیکن حرام نہیں، لہٰذا کسی کو ضرورت ہو یا کوئی عذر ہواور وہ بال ناخن کٹوادے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو موقع دیاگیا ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی حج اور حجاج کرام سے ایک نسبت اور مشابہت پیدا کرلیں، اور ان کے ساتھ کچھ اعمال میں شریک ہوجائیں یہ مشابہت بھی ان شاء اللہ ہمارے لیے رحمت اور برکت کا سبب ہوگی۔

  • جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں جہیز ایک لعنت ہے لیکن اس لعنت سے چھٹکارا کسی بھی دور میں نہیں پایا جاسکا _ معاشرے میں جڑ پکڑ جانے والے اس رواج میں طبقہ ہاۓ زندگی کے ہر طبقے کو جکڑ رکھا ہے _ خواہ امیر لوگوں کا طبقہ ہو متوسط یا غریب ہر کوئی اپنی حیثت سے اس رواج کو زندہ رکھے ہوئے ہے _ امیروں کو شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں اپنی دولت کی نمائش کرنے اور دوسروں پر دولت کے بل بوتے پر دھاک بٹھانے کا ایک موقع مل جاتا ہے جس میں وہ کروڑوں کے گھر سے لیکر گاڑیوں سونے چاندی کے جہیز کے تحائف سے خوب نمائش کر پاتے ہیں _ عام طور پر ہمارے معاشرے میں اس نمائش کا اثر یہ ہوتا ہے کے اکثر لوگ مرعوب ہو جاتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کے خود بھی کچھ ایسا کرسکیں _

    دوسری جانب امیروں میں یہ دوڑ زور پکڑتی ہے اگر فلاں اتنا کرسکتا ہے تو میں اس سے بھی بڑھ کر دکھاؤں گا _ یہی دکھانے کی دوڑ معاشرے میں موجود متوسط اور غریب طبقے کو پیچھے چھوڑتے ہوۓ مزید بے بس بناتی ہے _ جہیز کا بوجھ ہر شخص نہیں اٹھا پاتا اور کچھ لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی جب بیٹے کا رشتہ طے کرتے ہیں تو ہونے والی بہو کے گھرانےسے بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں _ کچھ لگی لپٹی باتوں سے اظہار کر دیتے ہیں تو کچھ کھل کر مطالبے کرتے ہیں اس احساس کے بغیر کے لڑکی کے والدین خواہ ان مطالبوں کو پورا کرسکیں یا نہیں

    جہیز کے اسی زور پکڑتے مطالبوں نے بہت سی جوان بچیوں کی شادیوں کو تاخیر میں ڈال رکھا ہے _ لڑکی کے والدین کیلئے محض جہیز کا بندوبست کرنا ہی نہیں شادی کا کھانے اور ہونے والی رسموں کا بھی خرچ اٹھانا ہوتا ہے جو کے مہنگائی کے اس دور میں کافی دشوار ہے _

    اتنی جدوجہد اور محنت کے بعد بھی جب غریب آدمی بیٹی کی شادی کا فریضہ ادا کر دیتا ہے تو پھر بھی اسکی بیٹی کو سسرال میں کم جہیز لانے کے طعنے اور کوسنے سننا پڑتے ہیں _ یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے _ کیوں کے کچھ لوگوں کی لالچی ذہنیت کسی کی بیٹی کی زندگی اجیرن بنا سکتی ہے _

    اگر جہیز دیکر بھی والدین اپنی بیٹیوں کی خوشیوں کی ضمانت حاصل کر سکیں تو بھی کافی ہوتا لیکن اسکے باوجود جہیز کے نامہ پر والدین کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے _ افسوسناک پہلو یہ ہے کے کئی خواتین کی شادی کے بعد علیحدگی اور طلاق کے بعد انکے جہیز پر سسرال کا قبضہ رہتا ہے_ جو کے حقیقت میں ان خواتین کا حق ہے جو انھیں واپس دے دیا جانا چاہئیے _

    ایسی صورتحال میں چند خواتین نے عدالت سے مدد کیلئے رجوع کیا جب انھیں طلاق دے دی گئی تو جہیز واپس نہیں کیا جارہا _ مختلف مقدمات میں جہیز میں خریدے جانے والے سامان کی رسیدیں بھی عدالت میں پیش کی گئیں لیکن سسرال والے ان چیزوں کی موجودگی سے انکاری رہے اور نہ ہی انکو واپس کرنے کو تیار تھے _

    ٹوٹتے گھر کی بربادی ہی کافی نہ ہو بلکے اوپر سے دیا جانے والا جہیز بھی سسرال والے اینٹھ لیں تو یہ مظلوم پر مزید ظلم ہے _

    ایسے میں کئی مقدمات میں یہ شکایت عدالت تک پہنچائی گئی کے عدالتی حکم کے باوجود جہیز کا کافی سامان واپس نہیں کیا گیا _ مشکل یہ ہے کے جہیز کے اس سامان کو دیا جانا ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے _

    ایسے بڑھتے ہوۓ واقعات نے عدالت کو اس مسلے کے حل کرنے کیلئے اقدام کرنے پر مجبور کردیا ہے _ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو اب حکم دیا ہے کے وہ نکاح ناموں میں اضافی خانوں کا اندراج کرے جہاں جہیز کی تفصیل درج کی جاسکے _ ایسے میں ہر چیز نکاح نامے میں لکھ دی جاۓ کے جہیز کے نام پر کیا دیا گیا_ نکاح ایک باہمی معاہدہ ہے اور اس پر جہیز کی تفصیل کا اندراج خواتین کو مستقبل میں تحفظ دے گا کے خدا نخواستہ اگر

    انکی شادی ناکام ہوتی ہے تو انکو دئیے جانے والے جہیز کا اندراج اس بات کو یقینی بناۓ گا کے سسرال کو وہ درج اشیاء واپس دینا ہونگیں _ لہٰذا یہ سب تحریری شکل میں محفوظ ہوگا _ ایسی صورت میں سسرال والے انکار یا جہیز کی واپسی میں حیل وحجت نہیں کرسکیں گے

    لاہور عدالت کے اس فیصلے سے نجی مقدمات کو تیزی سے نبھٹانے اور حقدار کو اسکا حق واپس دلانے میں مدد ملے گی _

    ہم میں سے ہر ایک کو جہیز کی اس لعنت کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئیے تاکے جہیز کے نام پر جوان لڑکیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی نہ ہوں اور بیٹیوں کے والدین پر کسی قسم کا بوجھ نہ ڈالا جاۓ _

    ہمارے سامنے نبی پاک ﷺ کی ہے جنہوں نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہہ کو چند ایک ضروری استعمال کی چیزوں کے سوا دنیاوی سامان نہ دیا بلکے اپنی بیٹی کو بہترین تربیت علم اور اخلاق سے مزین کیا _ یہی وہ بہترین تحفہ ہے جو والدین اپنی اولاد کو دے سکتے ہیں _

    بیٹیوں کی دی جانے والے تعلیم ، ہنر ، تربیت اور اخلاق ہی وہ دولت ہے جو تمام عمر انکے ساتھ رہے گی جبکے جہیز کے نام پر ملنے والا مال و اسباب ناپائیدار ہے جو ہمیشہ ساتھ نہیں رہ سکتا _

  • ‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ‏حمیرا الیاس

    ‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ‏حمیرا الیاس

    “جب میں نے کہہ دیا تو تمہیں سمجھ نہیں آتی ایک بار جو کہا میں دن کو دن بولوں تو دن سمجھو، تمہاری عقل ہے یا کہیں بیچ کھائی ہو۔ خبردار آیندہ میرے سامنے آواز اونچی ہوئی”
    “میری بات رد کرنے کی ہمت کیسے کی تم نے؟ مجھے پسند نہیں کہ کوئی میرے فیصلے پر چوں و چرا کرے۔ میری بات پتھر پر لکیر ہے۔”
    “میں اسے کیوں کال کروں؟ میری بلا سے وہ زندہ رہے یا جئے بس یہ میری انا گوارہ نہیں کرتی کہ اس کے پیچھے پیچھے پھروں”
    "بڑا ہی انا پرست ہے, اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتا/لاتی۔”
    “میرا مشورہ کو یہ فالتو ہے جو بلاوجہ ہی دوں، اتنا فالتو نہیں میں کہ ہر ایرے غیرے کو منہ لگاؤں۔”
    "جیسے میں یہ کام کر سکتا کسی اور میں تو یہ صلاحیت ہے ہی نہیں اتنے اچھے سے کرنے کی، سب میرے سامنے پانی بھرتے۔”
    اکثر اس قسم ۔کے فقرے ہمیں سننے کو ملتے ہیں، ہم سب ایسے رویے کہ وجہ سے مسلسل حالت تکلیف میں بھی رہتے، لیکن انا پسندی کی عادت کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
    آناہے کیا؟
    خودغرضی اور انا کا کیا رشتہ ہے؟
    انا کی منفیت سے بچنے کے کیا راستے ہیں؟

    عربی لفظ "انا” کا مطلب "میں” واحد متکلم ہے، ہر وہ چیز جو ہم اپنی ذاتی پسند یا نا پسند کی بنا پر کرتے، اور اس میں دوسرے انسان کے نفع نقصان کے بارے میں نہیں سوچتے تو اس کیفیت قلبی کو اناکہتے۔
    انا بذات خود غلط نہیں ہے، انا پسندی ضرور غلط ہے۔ جب ہم انا کے غلام بننے لگتے تو یہ ایک منفی جذبہ بن جاتی، تب یہ خودغرضی کا لبادہ اوڑھ لیتی۔ اور اصل برائی کی جڑ یہ انا کی غلامی ہی ہے۔ انا کا موجود ہونا تب تک قابل قبول رہتا جب تک اسے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتارہتا، انسانی انہی نے انسان کو بقاء کے مقام پر کھڑا کیا، لیکن جیسے ہی اسے ایک مکمل سکروٹنی کے نظام سے آزاد کرتے تو انا کا سرکش گھوڑا سرپٹ دوڑتا اور خودپسندی اور خودغرضی کا عفریت انسان کو اپنی لپیٹ میں لینے لگتا، جس کے سائے اتنے دبیز ہوجاتے کہ دوسرے انسان اور ان کی ضروریات اپنے سامنے ہیچ لگنے لگتے۔

    انا کی غلامی میں جانے والے شخص کی زندگی سطحی اور مصنوعی ہونے لگتی، اسے ہر آن اپنی کھوکھلی شخصیت کو برقرار رکھنے کے لئے کھوکھلے اور جھوٹے رویوں کا سہارا لیناپڑتا، اور نتیجتا” تنہائی کا شکار ہونے لگتا۔ انا پسند اور خودغرض انسان کے لئے اس کی ذات کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی کہ وہ اذیت پسند ہونے لگتا، بلاوجہ کاغصہ دراصل اس کی کمزور شخصیت کو کیموفلاج کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں ہوتا، لیکن اس کی وجہ سے ہر محبت کرنے والا اس سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتا۔
    انکی پیروی کرنے والے ہی تھے جنہوں نے ربوبیت سے انکار اور انا الحق کا نعرہ بلند کرنے والے بن گئے، ایک اللہ کی نا ماننے والے ہوئے اور منکرین ہونے کے ساتھ ہی اپنی خودپسندی کے زعم میں فرعون و نمرود بن کر خدائی تک کے دعوے کربیٹھے۔ زمینی تخت نشین اپنی انا کے ہاتھوں مجبور عام لوگوں کو روانسان بھی نہیں گردانتے، تو یہ انا جب اک بیماری کی شکل اختیار کر لے تب ہی خدائے عزوجل کی طرف سے ان زمینی خداؤں پر عذاب الٰہی کی صورت کچھ نا کچھ ایسااتارا جاتا جو نسل انسانی کو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اے حضرت انسان، اگر تم خود کو سپرد کر دو گے اس کے جو میری چاہت یے،تو میں بخشدوں گا تجھ کو جو تیری چاہت ہے۔

    حتمی فلاح کا نسخہ کیمیا یہی ہے کہ انکے سرکش گھوڑے کو لگام ڈالی جائے اوراسے خود غرضیوں خود پسندی کی راہ تک جشنے سے روکا جائے تاکہ انسانیت کی روح پنپ سکے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان دوسرے انسان کو جینے کا حق دینے پر راضی ہو جائے گا، جب وہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ پوری ایمانداری سے فرائض کی ادائیگی پر بھی کام کرے۔ کہ ایک کے فرائض ہی دوسرے کے حقوق ہیں۔
    اسلامی نظام معاشرت ایسے تمام منفی رجحانات کا حل دیتا ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اس معاشرت کو اختیار کریں جس میں اناتو قابل قبول ہے، انا پسندی و خودنمائی نہیں۔

    @humerafs

  • آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ تحریر:حنا

    آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ تحریر:حنا

    آج سے لگ بھگ ہزار سال پہلے( 800 سے 1100 صدی پہلے )اسلام سائنس کے گولڈن ایج سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب بغداد سائنسی علوم کے لئے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ دور دراز سے دانشور، اساتذہ اور طلبا علم کی تلاش میں بغداد کا رخ کرتے تھے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔ مسلمانوں کی پہچان ریسرچ اور ایجاد سے ہوتی تھی۔ الجبرا، الگورتھم، ذراعت، میڈیسن، نیویگیشن، اسٹرونومی، فزکس،کوزمولوجی، سائیکولوجی وغیرہ، ان سب فیلڈز کے چیمپئن مسلمان تھے،پھر یہ سب اچانک رک گیا۔ علم، فلسفہ، ایجاد اور دانش کا یہ دور اچانک مسلمانوں کے سامنے سے غائب کیسے ہوگیا؟

    نیل ڈی گراس ٹائیسن کے مطابق انکی ایک بنیادی وجہ امام غزالی کا وہ دینی تفسیر ہے جسکا خلاصہ یہ ہے کہ numbers یعنی ہندسوں اور اعداد کے ساتھ کھیلنا ( Maths )شیطان کا کام ہے۔ ریاضی کائنات کی زبان ہے اور آپ سائنس میں سے ریاضی نکال نہیں سکتے۔ امام غزالی کے اس تفسیر کے بعد گویا کسی نے اسلامی سائنس کے گھٹنے کاٹ دیئے ۔اور اس حادثے سے اسلام آج تک recover نہیں کرسکا۔
    1900 سے 2010 کے درمیان سائنس میں نوبل انعامات حاصل کرنے والوں کو دیکھتے ہیں ۔ پوری دنیا میں یہودیوں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ ہے لیکن پچھلے سو سال میں سائنس سے related نوبل انعامات میں سے 25 فیصد یہودیوں نے حاصل کئے۔

    Biochemical: 49
    Chemistry : 28
    Physics : 45
    Economics : 28
    Total : 150
    25 %
    اسکے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے اور یہ اعداد و شمار ہماری سائنسی contributions کو ری پریزنٹ کرتی ہیں:
    Biochemical : 0
    Chemistry: 1
    Physics: 1
    Economics: 1
    Total: 3
    0.5 %

    ماڈرن سائنسی دور میں ہماری کوئی ایک بھی میجر کنٹری بیوشن نہیں ہے ۔ In fact پچھلے کئی صدیوں سے ہم ہر سائنسی ایجاد کو پہلے حرام قرار دیتے ہیں، پھر کچھ سال بعد اسکے گن گانے لگ جاتے ہیں ۔ printing Press وہ واحد ایجاد کہی جا سکتی ہے جس سے یورپ میں سائنسی ایجادات کی ابتدا ہوئی، لوگ سائنسی مقالات لکھنے لگے،کتب چھپنے لگیں، میگزین، اخبارات۔۔۔ہر طرح کا علم دور دراز تک پھیلنے لگا۔ اس دوران شیخ الاسلام نے فتوہ دیا کہ پرینٹنگ پریس حرام ہے!! 230 سال تک پرینٹنگ پریس پر اسلامی سلطنت میں پابندی لگی رہی۔ مغرب سائنسی تحقیق اور ایجادات میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور اسلام صرف ایک فتوی کی وجہ سے کم از کم 250 سال پیچھے رہ گیا۔

    جب جہاز ایجاد ہوا تو برصغیر میں فتوی سامنے آیا کہ جہاز میں سفر کرنا حرام ہے کیونکہ اتنی اونچائی پر جانا قدرت کو للکارنے کے مترادف ہے!!اسی طرح ریڈیو، کیمرہ، ٹی وی، وغیرہ، سب پہ فتوے کے داغ لگائے گئے۔

    آج کوئی Blood transfusion کو حرام قرار دے رہا ہے، کوئی Hair transplant کو، تو کوئی Gene editing technology کو واہیات قرار دے رہا ہے۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
    سوال یہ ہے کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں….

    ۔
    <p

  • ‏فیشن زدہ حجاب جس میں پردے کو پردے کی ضرورت :تحریر معین ملک

    ‏فیشن زدہ حجاب جس میں پردے کو پردے کی ضرورت :تحریر معین ملک

    ‏ آج کل کی نوجوان نسل نے پردے کو کیا بنا لیا ھے ، میری سمجھ میں نہیں آتا یہ پردے کی کونسی شکل ھے ؟
    ‏ابھی پچھلے دنوں کی بات ھے ایک کلینک میں جانا ہوا، کافی رش تھا تو نمبر لیکر ایک طرف بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا ،،،،،،

    ‏اتنے میں تین نوجوان لڑکیاں بھی کلینک میں داخل ہوئیں، خوبصورت میکسی نما عبایا پہنے ہوئے ،بالکل چست آستینیں، گلے اور آستینوں پر بہت خوبصورت کام بنا ہوا ،،،،
    ‏سر پہ بڑی خوبصورتی اور نفاست سے چھوٹا سا اسکارف لپیٹا ہوا۔ سر پہ بائیں طرف اسکارف کے اوپر ایک نگینوں سے مزین پن لگائی ہوئی ۔۔۔

    ‏اسکارف اتنا چھوٹا کہ بمشکل چہرے سے تھوڑا سا نیچے گلے تک آرہا تھا ۔
    ‏اتنا بھی نہیں تھا کہ سینے کو تو ڈھانپ لے۔ عبایا ایسا کہ جسم کے سب نشیب وفراز کو واضح کررہا تھا، اسکارف صرف خوبصورتی کے لئے پہنا گیا جس میں چہرہ بھی کھلا ہوا تھا ۔
    ‏آنکھیں گویا نین کٹارے،،، سرمہ ،کاجل، لائنر اور ہونٹوں پر لپ اسٹک،،،،،،

    ‏دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی، پردے کے نام پر ایسی بے حیائی،،،؟
    ‏ایسے پردے کو تو خود پردے کی ضرورت ھے………….. !!!

    ‏اور کچھ خواتین جو تھوڑا سا چہرے کو ڈھانپنے کا اہتمام کر بھی لیتی ہیں مگر سینے انکے بھی کھلے ہوئے ہوتے ہیں،،، برقعے ایک سے بڑھ کر ایک اسٹائلش،،،، نت نئے ڈیزائن، کڑھائی، کٹ ورک، موتی ،نگینے ، رنگوں سے بھرپور،،،،،
    ‏پردے اور حجاب کے نام پر کیسے کیسے فیشن متعارف کرائے جارہے ہیں کہ وہ بجائے عورت کو ڈھانپنے کے مزید عیاں کر رہے ہیں ۔ نا دیکھنے والا بھی دیکھنے پر مجبور ہوجائے۔
    ‏ہر ایک نظر کو دعوت نظارہ دیتے ہوئے حجاب
    ‏ہماری خواتین نے برقعے اور حجاب کو بھی فیشن کے طور پر اپنالیا،،،،،
    ‏حسن اور خوبصورتی کے مقابلے،،،،،،
    ‏ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ،،،،
    ‏سب میں نمایاں نظر آنے کا جذبہ،،،،،
    ‏فیشن کا حد سے بڑھتا شوق،،،،
    ‏افسوس صد افسوس،،،،

    ‏میری قابلِ احترام بہنو!!! یہ کس راستے پر چل پڑی ہو،، یہ وہ راستہ ھے جسے شیطان نے ہماری نظروں میں مزین کر کے دکھا دیا ھے،،،

    ‏ذرا سوچیں تو سہی کیا یہ وہی پردہ ھے قرآن نے جس کا حکم دیا ھے؟؟؟

    ‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا.
    ‏سورۃ الأحزاب. 59
    ‏اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں. اس طرح زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ تعالٰی معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے.

    ‏قرآن جس پردے کا حکم دیتا ھے وہ تو مومن عورتوں کی زیب و زینت کو چھپانے کے واسطے ھے، تاکہ پہچان لی جائیں کہ یہ شریف باحیا عورتیں ہیں، ان پر کوئی میلی نظر نہ ڈالے،،،،
    ‏مگر آجکل جو کچھ پردے اور حجاب کے نام پر ہمارے سماج میں ہورہا ھے اگر اسے نہ روکا گیا تو پردہ خود ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ‏برقع پہننے کا مطلب کیا ھے، اسکارف پہننے کا مطلب کیا ھے ۔۔۔ کیا دوسروں کی توجہ خواہ مخواہ اپنی طرف مبذول کرانا ،،،، ؟
    ‏جس طرح کے عبایا اور اسکارف ہم نے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں، کیا یہ واقعی پردے کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں، یا ہم نے حجاب کے نام پر ایک اور زیب و زینت اختیار کر لی ھے،،،؟
    ‏اس طرح کے حجاب کا آخر مقصد کیا ھے؟ ہم کس کو خوش کررہے ہیں؟ کس کو متاثر کرنا چاہتے ہیں؟
    ‏ذرا اپنے دلوں کو ٹٹولیں تو سہی،
    ‏کیا یہ پردہ ہم اللہ کو خوش کرنے کے لئے کر رہے ہیں؟
    ‏کیا یہ پردہ ہمارے ایمان کے تقاضوں کو پورا کررہا ھے؟
    ‏پردہ تو عورت کو عزت اور عظمت عطا کرتا ھے، اسے دوسروں کی نظر میں باعزت بناتا ھے، اسے لوگوں میں معزز اور محترم ظاہر کرتا ھے ۔
    ‏اسے نامحرم مردوں کی حریص نظروں سے بچاتا ھے ۔ پردہ عورت کی حفاظت کرتا ھے ۔۔۔۔۔ !!!
    ‏لیکن جو پردہ آج ہم کررہے ہیں کیا وہ ان سارے تقاضوں کو پورا کررہا ھے؟؟؟

    ‏میری مودبانہ اور دردمندانہ درخواست ھے، اپنی مسلمان بہنوں سے، اپنے معاشرے سے، کہ خدارا پردے کو پردہ ہی رہنے دیں، اسے اپنی خواہشات اور فیشن کی بھینٹ نہ چڑھائیں ،،،،،
    ‏اپنے اسلامی وقار کو قائم رکھیں، سادگی کو اپنائیں، سادگی ایمان کا حصہ ھے، ر
    ‏فیشن سے عزت نہیں ملتی، اللہ عزت دیتا ھے، اپنی نیتوں کو ٹھیک کرلیں، ڈھیلے ڈھالے اور سادہ حجاب اور برقعے استعمال کریں، اللہ کی رضا و خوشنودی کو پیش نظر رکھیں، اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے پردہ کریں، دین کے احکامات کا تمسخر نہ اڑائیں،،،،،!!!

  • پچنند کے لوگوں نے بلے کی حمایت کااعلان کردیا

    پچنند کے لوگوں نے بلے کی حمایت کااعلان کردیا

    آزاد کشمیرمیں پی ٹی آئی کی امید وارڈاکٹرنازیہ نیازراجہ کو کامیاب بنانے کےلئے پربھرپورکوشش کی جا رہی ہے، ڈھڈمبرکالونی پچنند کے علاقہ مکینوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں.

    ایم این اے چوہدری سالک حسین اورفرزند تلہ گنگ صوبائی وزیرمعدنیات پنجاب حافظ عماریاسرکی ہدایت پرضلعی صدرپاکستان مسلم لیگ ق ملک اسد محمود کوٹ گلہ اورحاجی عمرحبیب، ملک شیر، افضل باٹا کی آزاد کشمیرالیکشن مہم کے سلسلے میں ڈھڈمبرکالونی پچنند میں میٹنگ منعقد کی گئی ہے.

    اس میٹنگ میں کشمیری برادری کے حاجی شوکت حسین جرال، حاجی محمد عظیم، محمد منیر، محمد ظفر، راجہ وسیم، قاضی افتخار، قاضی ممتاز، محمد شکیل جرال، محمد جمیل جرال، موسیٰ جرال شانی جرال، قمرجرال، قاضی ذوالفقار، راجہ طاہر محمود، اوردیگر اہلیان ڈھڈمبر کالونی پچنند نے ایم این اے چوہدری سالک حسین اورفرزند تلہ گنگ صوبائی وزیرمعدنیات پنجاب حافظ عماریاسرکی قیادت پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرنازیہ نیازکی حمایت کا اعلان کردیا ہے.

    ڈاکٹرنازیہ نیازراجہ نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد علاقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پرحل کریں گی. 25 جولائی کو بلے کے نشان کامیابی کا نشان ہوگا.

  • کشمیری کلبوشن کے وکیل کو مسترد کرتے ہیں، حسن مرتضیٰ

    کشمیری کلبوشن کے وکیل کو مسترد کرتے ہیں، حسن مرتضیٰ

    حسن مرتضی نے کہا ہہے کہ کشمیری کلبوشن کے وکیل کو مسترد کردیں گے.

    سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر جاری کردہ اپنے بیان میں پی پی پی کے رہنما حسن مرتضی نے حکومتی جماعت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی جماعت اوراس کے وزرا آزاد کشمیرمیں عوامی حمایت سے محروم ہو کربوکھلا اٹھے ہیں، گالم گلوچ برگیڈ کوعلی الصبح سیاسی مخالفین کوٹارگٹ کرنے کی ذمہ داری دے دی جاتی ہے، عمران خان بھی جلسوں سے خطاب کی خواہش پوری کرلیں، کشمیری کلبوشن کے وکیل کو مسترد کردیں گے، ان کی سیاسی ومعاشی ساخت توٹ چکی ہے، اب صرف چلاؤ ہے.

    آزاد کشمیر کے الیکشن کی تاریخ‌ جونہی نزدیک آرہی ہے، سیاسی گھماگھمی میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، مخالف جماعتوں پرالفاظوں کی بوچھاڑکی جارہی ہے، تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سیاسی جوڑ توڑ بھی کیا جا رہا ہے.

  • جوڈیشل ایکٹیویزم۔ تحریر :ارم رائے

    جوڈیشل ایکٹیویزم۔ تحریر :ارم رائے

    اس ٹرم سے عام طور پر مطلب یوں لیا جاتا ہے کہ عدلیہ کا ایڈمنسڑیٹیو معاملات میں مداخلت کرنا یا پوچھ گچھ کرنا۔ اسکو سیاسی حکومتیں غلط سمجھتی ہیں اور اپوزیشن ٹھیک سمجھتی ہے کیونکہ اس سے حکومت کو فیصلہ لینے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ لینا پڑتا ہے تاکہ اگر عدلیہ نے پوچھ گچھ کرے تو کیا جواب دینا ہے اور اگر اس فیصلے کے خلاف عدلیہ کا حکم آگیا تو حکومتی پارٹی کی سبکی ہوگی اور ناکام سمجھی جائے گی۔ لیکن یہ ایک طرفہ سوچ ہے اور یہ اس لئے ہے کہ سب نے عدلیہ کے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہی استعمال کیا اور جان بوجھ کر عدلیہ کو انتظامی معاملات میں مداخلت کا راستہ دکھایا۔

    مشرف تھا تو ایک ڈکٹیٹر مگر اس نے کچھ بہترین عدالتی اصلاحات کیں اور ان میں سے ایک "سو موٹو” کا قانون۔ اس قانون کے مطابق عدالت جب چاہے جس معاملے پر چاہے از خود نوٹس لیکر کاروائی شروع کرسکتی ہے ۔ اس کا مقصد تھا کہ اگر کسی ایسے انتظامی فیصلے کے خلاف کوئی بھی عدالت جانے کی جرات نہ رکھتا ہو تو عدالت خود اس پر نوٹس لیکر اسکا فیصلہ کرے۔ اسکا بنیادی مقصد عام عوام کو عدالتی ریلیف دینا تھا جیسے کہ جسٹس ثاقب نثار نے کیا۔ وہ ہسپتالوں کو چیک کرتے تھے اور اپنی ہی عدلیہ کے سیشن ججز کے خلاف بھی سوموٹو ایکشن لیتے تھے۔ اور تو اور انہوں نے پاکستان میں ڈیمز کے مسئلے پر سو موٹو ایکشن لیا اور کچھ ایسے فیصلے کیے جسکی بنا پر پروجیکٹس لگ رہے ہیں۔ اور ان پر کام بھی ہورہا ہے عوام نے بھی اسکو بہت سراہا

    عدلیہ ایکٹیویزم بنیادی طور پر ہونا ہی معاشرے میں انصاف کی فضا پیدا کرنے کے لئے تاکہ ہر شخص کو قانون کا پابند بنایا جائے۔ کوئی طاقت ور اگر کسی کمزور پر ظلم کرے تو عدالت نوٹس لیکر خود اس کی شنوائی کرے۔ اس سے معاشرے میں تحفظ کی فضا پیدا ہوگی اور ظالم اپنے ظلم سے بعض رہے گا۔ میرے خیال میں عدلیہ اپنا یہ قانون صرف اور صرف عوام کو انصاف دینے کے لئے استعمال کرنا چاہیے نہ کہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرکے۔ ہاں ملکی سلامتی اور منی لانڈرنگ کے خلاف ایکشن بھی لیا جاسکتا ہے تاکہ کرپشن کی روک تھام میں بھی یہ قانون اپنا کردار ادا کرسکے۔

  • "مہنگائی اور عام عوام ” .تحریر: فجر علی

    "مہنگائی اور عام عوام ” .تحریر: فجر علی

    ہم پاکستانی قوم بھی بڑی عجیب ہیں ہمیشہ وہ چیز کو دیکھتے اور جو ہمارے سامنے چل رہی ہو جیسے کے میاں محمد نواز شریف کا دور حکومت ۔
    نواز شریف وزیراعظم بنا تو صوبہ پنجاب کا ویزاعلی اپنے بھائی کو بنایا شہباز شریف نے پنجاب چونکہ پاکستان کا صوبہ پنجاب 122 تحصیلوں میں تقسیم ہے، جو 36 اضلاع کا حصہ ہیں۔
    ان 36 میں سے جناب نے صرف لاہور شہر پر پیسہ لگایا اور وہ نظر آیا،ان میں بہت سے میگا پراجیکٹس کئے جن میں سرفہرست لاہور رنگ روڈ،پاکستان لیور اینڈ کڈنی ٹرانسپلاٹ، شہباز شریف ہسپتال اورینج لائن ٹرین میٹرو بس سروس، سپیڈو بس سروس وغیرہ اور ایسے اور بہت سے پراجیکٹس ابھی مکمل ہونے ہی تھے کہ ان دونوں بھائیوں کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا ۔ الیکشن ہوئے تو جناب دونوں بھائیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تب ان دونوں بھائیوں کو غریب عوام کا درد ستانے لگا ، لیکن بات یہاں پر اس پیسے کی کرتی ہوں جو دونوں بھائیوں نے عوام کا خون نچوڑ کر کمایا ۔

    شہباز شریف صاحب کو ایک کیس میں نیب نے کھنگالا تو معلوم ہوا کہ صاف پانی کے پلانٹس میں صاحب نے بہت کرپشن کی اس پر جب ان سے کسی صحافی نے عدالت کے باہر کہا کہ آپ صاف پانی کے منصوبے جگہ جگہ کیوں نہیں لگاتے جیسے آپ دوسرے منصوبوں پر کام کررہے صاف پانی کا منصوبہ بھی شہریوں کو مہیا کردیں اس پر شہباز شریف صاحب کا تاریخی جواب ” پانی کا منصوبہ زیریں زمین ہوتا لوگوں کو نظر نہیں آتا اور جب تک لوگوں کو کوئی چیز نظر نہیں آئے گی لوگ آپکو منتخب کیسے کریں گے ۔

    عمران خان کی حکومت یوں تو بہت سے بحرانوں کا شکار رہی لیکن سب سے بڑا چیلنج جو اس حکومت کو بھگتنا پڑرہا ہے وہ ہے مہنگائی ، عام عوام کی ضروت کی چیزیں اب انکی پہنچ سے دور ہوتی دیکھائی دے رہی ، عمران خان کو شب اچھا ہے کی رپورٹ دینے والوں پر شاباشی بنتی ہے جو غریب کا درد عمران خان تک نہیں پہنچا رہے ۔ پھر اگر یہاں ہم شہباز شریف کی مثال دیں تو برا نہ ہوگا کیونکہ کم از کم وہ اگر عوام کو بیوقوف بناتے تھے لیکن عوام ان کے گن بھی تو گاتی تھی اب عدلیہ نے چونکہ نواز شریف کو نااہل قرار دیا تب بھی یہ عوام نواز شریف کو اگلا وزیراعظم دیکھنا چاہتی صرف اسلئے کیونکہ مہنگائی انہوں نے بھی کی لیکن ایسے ڈائریکٹ بم عوام پر نہیں پھوڑا تھا ۔ایک غریب بندے کو چالیس ہزار کا بجلی کا بل تما دیتے اور پھر کہتے غریب عوام دوست بجٹ جب کہ وہ بیچارہ تو وہیں آدھا مرگیا ہوگا جب اس کو اتنا زیادہ بل بھیجا اور اسکی کل آمدنی ہی دو سے تین ہزار ۔ موجودہ حکومت نے خواہ بہت بڑے بڑے منصوبے پاکستان کیلئے کئے لیکن خدارا ان منصوبوں کی وجہ سے ان غریب عوام کا نچوڑ نا نکالیں جنہیں پتہ بھی نہیں کہ گوادر پورٹ یا پھر سیاحت، بلین ٹری جیسی چیزیں ہیں کیا

  • جدید ٹیکنالوجی  کا استعمال کیسے؟ تحریر:ثاقب مسعود

    جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے؟ تحریر:ثاقب مسعود

    موجودہ دور میں سائنس نے انسانیت کے لیے بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں ، گزرتےوقت کے ساتھ ایجادات کی رفتار بھی بڑھ چکی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ ایجاد کیا جا رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ماضی کے وہ بہت سے کام جو پہلے انسان کرتے تھے اب مشینیں سرانجام دے رہی ہیں۔ علم کی رفتار کا شمار اب گوگل کے سرچ رزلٹس کے زریعے ہوتا ہے۔ ایک کلک کے زریعے پوری دنیا کی تفصیل آپ کی سکرین پہ ہوتی ہے۔ اور گھر بیٹھے بٹھائے بڑی آسانی سے آپ وہ معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ ماضی میں یہ کام اگر کرنا ہوتا تو کئی دن کی محنت درکار ہوتی تھی۔ گویا ٹیکنالوجی نے ہمارے لیے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ دنوں کا کام ہم سیکنڈز میں سرانجام دے سکیں۔
    جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آسانیوں کے علاوہ کچھ ایسی جدید مشکلات بھی ہیں جو ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔ خالی ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ چیز کے کچھ فائدے یا نقصانات ہوتے ہیں۔ جیسے آپ چھری سے چاہیں تو سبزی کاٹیں چاہیں تو گلے کاٹیں، یہ استعمال پہ منحصر ہے کہ نتیجہ اچھا ہے یا برا۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کا استعمال بھی اچھے اور برے دونوں مقاصد کےلیے کیا جا رہا ہے۔ موجودہ دور کی ٹیکنالوجی جس سے سب سے زیادہ نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے وہ سوشل میڈیا ہے۔ جہاں رابطہ اور انٹرٹینمنٹ کےلیے اس کے کچھ فوائد ہیں وہیں اس کے بہت سارے نقصانات بھی ہیں جن سے صرفِ نظر کرنے کی وجہ سے نئی نسل کا خاصہ نقصان ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں فیس بک ٹوئیٹر وٹس ایپ اور ٹک ٹاک وغیرہ جیسی ایپلیکشنز ہیں جنہوں نے نئی نسل کا دماغ بری طرح اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے۔ سوشل میڈیا کی نوجوان نسل کے دماغ پہ گرفت اتنی مضبوط ہے کہ ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

    دور کے لوگ تو یقینا سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک دوسرے کے نزدیک آ رہے ہیں مگر۔ اس کے ساتھ ہی وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے بہت دور چلے گئے ہیں جو سوشل میڈیا کے آنے سے قبل ایک دوسرے کے نزدیک ہوا کرتے تھے۔ مثلا والدین، میاں بیوی، بچے ، بہن بھائی اور دوست۔ ہم کسی بھی ایسی جگہ جائیں جہاں یہ سارے رشتے موجود ہوں تو دیکھ کر حیرت سے جھٹکا لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے موبائل میں مصروف ہوتا ہے۔ گویا انسان انسان پہ مشین کو فوقیت دے رہا ہے، خالی انسان ہی نہیں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ انسان ماں باپ پہ بھی مشین یعنی کمپیوٹر اور موبائل کو ترجیح دے رہا ہوتا ہے۔

    جس رفتار سے سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ رہا ہے اسی رفتار سے اس سے جڑے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لڑکیوں کو سوشل میڈیا کے زریعے دوستی کا جھانسا دینا اور بعد ازاں گھروں سے بلوا کر زیادتی کا نشانہ بنا دینا یا قتل کر دینا۔ اس طرح کے حادثات آئے روز میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ جھوٹ، دھوکا دہی، قتل، مالی فراڈ وغیرہ سب سوشل میڈیا کے زریعے ہو رہے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پہ شیئر کی گئی اپنی تصاویر کا جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں غلط استعمال بھی ایک بڑا نقصان ہے ۔ ایسی تصاویر کو بعد ازاں ایڈٹ کر کے لوگوں کو بلیک میل کرنے کے علاوہ دھوکہ دہی کےلیے بنائی گئی آئی ڈیز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے زریعے کی جانے والی آن لائن خریداری کے نام پر بھی لوگوں کے ساتھ کافی دھوکہ دہی کے واقعات ہوئے ہیں۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پہ چیز کوئی اور دکھائی جاتی ہے۔ مگر پوری قیمت وصول کرنے کے بعد چیز ناقص معیار کی چیز بھجوا دی جاتی ہے۔ بعد میں دیے گئے پتہ یا موبائل فون نمبرز پہ رابطہ کریں تو وہ بھی غلط ثابت ہوتے ہیں۔

    فیس بک کے استعمال پہ حکومتی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اسلام سے متعلق انتہائی گمراہ کم معلومات بھی پھیلائی جاتی ہیں۔ جو ایک جانب معاشرے میں بے چینی کا سبب بنتی ہیں اور دوسری جانب لوگوں میں اشتعمال انگیزی بھی پھیلاتی ہیں۔ اس سے سماج کا امن تباہ ہوتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایسے عناصر کے خلاف کاروائی نا کیے جانے کی وجہ سے عوامی طبقوں میں حکومت پہ اعتماد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کو فرقہ واریت کےلیے بھی بڑی پیمانے پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مناسب کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے سماج دشمن عناصر پوری آزادی کےساتھ محرم، رمضان اور ربیع الاول کے مہینوں میں ملک بھر میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا رہے ہوتے ہیں۔ یہ لگی ہوئی آگ پوراسال جلتی رہتی ہے اور اسی آگ کی بدولت کئی دفعہ قتل جیسی سنگین وارداتیں بھی ہو جاتی ہیں۔ نیم پڑھے لکھے اور ان پڑھ طبقے کی جانب سے اسلام کی غلط اور من چاہی تشریح بھی ایک ایسا نقصان ہے جو اسلام کا چہرہ بگاڑ رہا ہے۔ ایسے نقصانات کا خمیازہ ان سادہ لوح لوگوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے جو اپنی کم علمی کی بنا پر اسلام کی غلط تشریح پہ یقین کر لیتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف وہ اپنی دنیا بلکہ آخرت کی تباہی کا بندوبست بھی کر لیتے ہیں۔ الحاد کو ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان میں پھیلایا جا رہا ۔ اسلام آباد کے بڑے تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات سوشل میڈیا کی وجہ سے الحاد کا شکار ہو رہے ہیں۔ مگر اس کی روک تھام کےلیے بھی کوئی منصوبہ بندی یا عملی قدم دکھائی نہیں دیتا۔ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش سے ایک گروہ گرفتار کیا گیا جو لڑکیوں کو ٹک ٹاک سٹار بنانے کا جھانسہ دے کر انہیں بھارت سمگل کر دیتا تھا۔ اور بعد ازاں ان سے جسم فروشی کا دھندا کرواتا تھا۔ گروپ نے اعتراف کیا کہ تقریباََ ایک ہزار سے زائد لڑکیاں وہ بھارت سمگل کر چکا ہے۔ پاکستان میں ایسے کتنے گروپ متحرک ہیں اور ان کی ورک تھام کےلیے کیا حکمتِ عملی ہے اس کےلیے بھی کوئی پالیسی دکھائی نہیں دیتی۔ برا سوشل میڈیا نہیں ہے، چیز کو اچھا یا برا اس کا استعمال بناتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے مناسب پالیسیاں بنا کر ان برائیوں کو روک لیا جاتا ہے تو یقیناََ پاکستان میں سوشل میڈیا زیادہ محفوظ ماحول میں چل سکے گا۔