Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معاشرہ کیا ہے؟ تحریر.فیضان علی

    معاشرہ کیا ہے؟ تحریر.فیضان علی

    معاشرہ ہم سب مل کر بناتے ہیں یعنی اس میں رہنے والے تمام افراد اور عناصر مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں
    معاشرے کی اچھائی اور برائی کو دیکھنا ہم پہ لاگو ہے معاشرے کا خیال رکھنا ہم سب کی زمہ داری ہے معاشرے میں اچھے برے دونوں لوگ بستے ہیں
    معاشرے کو اچھا بنانے کے لیے ہم پر لازم ہے کے ہم برائی کی روک تھام کے لیے کلیدی کردار ادا کریں اور سب سے اہم ہمیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کے لیے ان کی روز مرہ زندگی پہ نظر رکھنی چاہیے بچوں کو اچھائی، برائی اور جائز، ناجائز کے بارے میں فرق بتانا لازمی ہے اگر ہم اپنے بچوں کو اچھائی، برائی اور جائز، ناجائز کے بارے میں فرق نہیں بتائیں گے تم بچوں کو ہم اچھا اور زمہ دار شہری نہیں بنا سکتے.
    ہمارے معاشرے میں اجکل سگریٹ-نوشی جیسی بُری لعنت بہت عام ہو چکی ہے
    کیونکہ ہم نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی کے ہمارے بچے کس ماحول میں کھیلتے ہیں ان کا اٹھنا بیٹھنا کن لوگوں کے ساتھ ہے؟

    سگریٹ-نوشی ایک ایسی بری لعنت ہے جس کے ساتھ بچے منشیات بھی لینا شروع کر دیتے ہیں اور گویا یوں ہمارا معاشرہ برائی کی لپیٹ میں اجاتا ہے

    معاشرے کو اچھا بنانا ہم سب کی زمہ داری ہے یہ کسی ایک فرد کا کام نہیں ہے ہم سب کو مل کر معاشرے کو اچھا بنانے میں سامنے آہ کر اہم کردار ادا کرنا چاہیے
    اجکل ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لے رہی ہیں کیا کبھی ہم نے ان کی روک تھام کے لیے کچھ سوچا؟
    نہیں کبھی نہیں ہم اس برائی کی زمہ داری یا تو لوگوں ہر یا معاشرے پہ ڈال دیتے ہیں یا پھر ہم اس سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں کے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کے ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے یہ سوچ سراسر غلط ہے کیونکہ کے اگر ہم اج اس کو نظرانداز کریں گے تو کل کو ہمیں ہی اس برائی کا سامنہ کرنا پڑے گا
    تو اس وقت ہم اپنے کل کو پچھتائیں گے لیکن اس وقت پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہونا کیونکہ
    ایک مشہور کہاوت ہے کے

    (اب کیا فائدہ جب چڑیاں چگ گئی کھیت)

    وقت گزر چکا ہوگا اس لیے ہمیں اپنے آنے والی نسل کے کل کو سنوارنے کے لیے اس آج کو بہترین بنانا بہت ضروری ہے
    اگر ہم اپنے آج کو بہتر بنانے کیلئے اگے ہونگے تو کل کو ہماری انے والی نسلوں کے لیے ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا جس کی ضرورت معاشرے کے ہر فردوواحد کو ہے
    معاشرے کو اچھا بنانا کسی ایک گھر کے افراد یا کسی ایک خاندان کی زمہ داری نہیں ہے بلکہ اس معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کی زمہ داری ہے

    اس برائی کے خاتمے کے لیئے ضروری ہے کے ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آج سوچنا چاہیے تاکہ آنے والے کل میں ان کے لیے ایک بہترین ماحول ملے جس کے لیے ہم سب کو مل کر ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینا انتہائی ضروری ہے

  • ‏ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر:عامر سہیل

    ‏ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر:عامر سہیل

    معاشرے میں ہم کسی کو خود سے آگے نکلتا دیکھ نہیں سکتے جبکہ انسانیت کا کام دوسروں کی مدد ہے
    ہم اللہ کی رضا کی خاطر انسانیت کی مدد کرنی چاہیے اور دوسروں کی کامیابی میں خوش ہونا چاہیے نا کہ کسی کو خود سے آگے نکلتا دیکھ کر حسد کرنا چاہیے
    دوسروں کی خوشی میں ہونے سے یقیناََ اللہ ہمیں بھی خوشی سے نوازتا ہے۔

    دوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ عبدالمطیع سب سے آگے تھا، مگر اس نے سمجھا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے، اس کے بالکل پیچھے سپین کا رنر ایون فرنینڈز دوڑ رہا تھا اس نے جب دیکھا کہ مطیع غلط فہمی کی بنیاد پر رک رہا ہے تو اس نے اسے آواز دی کی دوڑو ابھی فنش لائن کراس نہیں ھوئی، مطیع اس کی لینگوئج نہیں سمجھتا تھا اس لئیے اسے بالکل سمجھ نہ آئی، یہ بہترین موقع تھا کہ فرنینڈز اس سے آگے نکل کے دوڑ جیت لیتا مگر اس نے عجیب فیصلہ کیا اس نے عبدالمطیع کو دھکا دے کے فنش لائن سے پار کروا دیا
    تماشائی اس سپورٹس مین سپرٹ پر دنگ رہ گئے، فرنینڈز ھار کے بھی ھیرو بن چکا تھا

    ایک صحافی نے بعد میں فرنینڈز سے پوچھا تم نے یہ کیوں کیا
    فرنینڈز نے جواب دیا
    "میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں کوئی دوسرے کو اس لئیے دھکا دے تاکہ وہ جیت سکے”
    صحافی نے پھرپوچھا "مگر تم نے کینیا کے ایتھلیٹ کو کیوں جیتنے دیا”
    فرنینڈز نے جواب دیا
    "میں نے اسے جیتے نہیں دیا، وہ ویسے ہی جیت رہا تھا، یہ دوڑ اسی کی تھی”
    صحافی نے اصرار کیا” مگر تم یہ دوڑ جیت سکتے تھے”
    فرنینڈز نے اس کی طرف دیکھا اور بولا
    ” اس جیت کا کیا میرٹ ہوتا؟ اس میڈل کی کیا عزت ہوتی؟ میری ماں میرے بارے میں کیا سوچتی؟”
    اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں، ہمیں اپنے بچوں کو کیا سکھانا چاھئیے، بلاشبہ یہ کہ جیتنے کےلئے کوئی بھی ناجائز طریقہ اختیار نہیں کرنا، وہ آپ کی نظر میں جیت ہوسکتی ہے، دنیا کی نظر میں آپ کو بددیانت کے علاوہ کوئی خطاب نہیں ملے گا۔

    ہم اپنے بچوں کو یہ لازمی سکھائیں کہ کامیاب ضرور بنیں کسی کو گرا کر نہیں بلکہ اپنی قابلیت پر اپنی ہمت پر اگر ہم کسی کو گرا کر کامیاب ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک ظلم کی شکل ہے ہم دنیا میں تو کامیاب ہو سکتے لیکن آخرت میں اپنے اعمال کا اللہ پاک کے سامنے جوابدہ ہیں
    اور یہ کیسے ممکن ہے کسی کا حق تلافی کریں ہم سے اُس کے بارے میں پوچھا نہ جائیے۔

    ہمیں تو حکم دیا گیا ہے راستے میں کانٹا پڑا ہو تو اس کو ہٹا کر لوگوں کو تکلیف سے بچانا چاہیے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے۔
    ہم لوگ صرف محض چند دنیاوی مفاد کے لئے لوگوں کی زندگی تباہ کر دیتے. اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ہم کس طرف جا رہے ہیں
    ہم آنے والی نسلوں کو کیا سیکھا رہے ہیں؟
    کیا ہماری سمت درست ہے؟

  • گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

    گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

    وزیراعظم پاکستان عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے تقریباً 3 سال پورے ہونے کو ہیں ۔ اگر پوری ایمانداری سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان ان حالات سے بہت بہتر ہے جن حالات میں عمران خان صاحب کو حکومت ملی تھی۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، ایف اے ٹی ایف اور ائی ایم ایف کا شدید دباؤ اور پابندیاں جکڑے کھڑی تھیں۔ سابقہ حکمران ایک باقاعدہ پلاننگ کے تحت ملک کی یہ حالت کر کے گئے تھے اور بہت ڈھٹائی کے ساتھ اپنے قریبی حلقہ احباب میں کہتے تھے کہ عمران خان کو ایسا ملک دے کر جا رہے ہیں جہاں وہ ناکام ہو کر خود ہی بھاگ جائے گا اور پھر ہم تجربہ کاروں کو منتیں کر کے واپس لایا جائے گا کہ ملک سنبھالو اور پھر ہم اپنی شرائط پر آئیں گے۔ لیکن یہ لوگ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نیتوں کے حساب سے مرادیں پوری کرتی ہے۔ جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے نامراد رکھتی ہے اور جس کی نیت ٹھیک ہو اسے بامراد اور کامیاب ؤ کامران کرتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی، عمران خان صاحب نے تو شروع میں چھٹی تک نہیں کی اور دن رات محنت سے پاکستان کو ٹریک پر واپس لانے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی۔ پاکستان کا امیج دنیا میں بہتر کیا، کرونا کی عالمی وبا کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے کامیابی سے ہینڈل کیا کہ دنیا ہماری مثالیں دینے پر مجبور ہو گئی۔ ہمسایہ ملک بھارت میں جو حال ہوا سب کے سامنے ہے لیکن ہماری قوم کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح ہم نے دنیا کو دی۔ خارجہ پالیسی میں بہت کامیابیاں حاصل کیں، ملکی مفاد کو مقدم رکھا ۔ ازلی دشمن انڈیا کو نہ صرف دنیا میں ننگا کیا بلکہ تنہا بھی کر دیا۔ دشمن کے رات کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلانہ حملے کا دن کی روشنی میں کامیاب جواب دیا۔ ایشیا میں پاکستان، چائینہ، روس، ترکی اور ایران کے ساتھ گروپ بنا کر انڈیا کو تنہا کر دیا ۔ فلسطین کے مسلئہ پر کامیاب سفارتکاری سے جنگ بندی کروائی، اپنا ہم خیال گروپ بنایا اور دنیا کو اپنی بات ماننے پر مجبور کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے بیباک طریقے سے پیش کیا ، امید ہے انڈیا جلد یا بدیر پاکستان اور ہمارے ہم خیال گروپ کی بات ماننے ہے مجبور ہو جائے گا۔ اسلامو فوبیا کو دنیا بھر میں وزیراعظم عمران خان نے اجاگر کیا اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری دنیا کو بتایا کہ یہ ہمارا ایسا پوائنٹ ہے جس پر کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کو پہلی بار حقائق پر مبنی جراتمندانہ جواب کے ساتھ زمینی اڈے دینے سے انکار کے ساتھ امریکی لڑائی اپنے ملک یا اپنی افواج کے ذریعے لڑنے سے انکار کر دیا۔ سابقہ حکمران پاکستان کو فیفٹ کی گرے لسٹ میں پھینک کر گئے تھے ، تحریک انصاف کی حکومت نے عملی اقدامات اور موثر قانون سازی کرتے ہوئے 27 میں سے 26 پوائینٹس پر عمل کیا اور بہت جلد 27 ویں ہوائینٹ پر بھی عمل کر کے پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے قانون اسمبلی سے منظور کروایا اور جلد سینٹ سے منظور ی کے بعد 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے ۔ لانگ ٹرم پالیسیز بنائی گئیں اور آنے والی نسلوں کے لیے اچھے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ کرپشن کو اتنے اچھے طریقے سے ایکسپوز کیا کہ اب عوام میں قابلِ قبول یہ بد فعل ایک گالی بن چکا ہے۔ بجلی کے نئے منصوبے کئی گنا کم قیمت پر شروع کیے گئے، اس وقت پاکستان میں چھوٹے بڑے 9 ڈیمز زیر تعمیر ہیں جن کی تکمیل پر نہ صرف بجلی انتہائی سستی اور وافر دستیاب ہو گی بلکہ ہمسایہ ممالک کو فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔ ، گیس کم نرخوں پر خریدی گئی، انڈسٹری کو مراعات دیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری جو آخری سانسیں لے رہی تھی کو زندہ کیا اور اب نہ صرف انڈسٹری اپنی فل کیپیسٹی پر چل رہی ہے بلکہ ایک سال کے ایڈوانس آرڈرز موجود ہیں۔ کرونا وائرس میں دنیا کی معیشت تباہ ہوئی لیکن پاکستان نے اپنی ایکسپورٹ میں اضافہ کیا۔ جو پاکستان کل تک ماسک نہیں بنا سکتا تھا وہ اس وقت دنیا کو وینٹی لیٹر بیچ رہا ہے۔ کرونا ویکسین پاکستان میں بن رہی ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان جدید جنگی جہاز جے ایف تھنڈر بنا کر بیچنا شروع ہو گیا ہے ۔ تعمیرات، سیاحت سمندری راستے اور بندرگاہوں کے شعبوں کو صنعت کا درجہ دیا۔ صحت کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو مفت علاج کی جدید سہولیات کے پی کے میں مکمل اور پنجاب میں جزوی طور پر مل رہی ہیں جو جلد پوری قوم کو دستیاب ہوں گی۔ کسان کو پہلی دفعہ گنے اور گندم کے بہترین ریٹ ملے اور وقت پر ادائیگی ہوئی، اب کسان کارڈ کے ذریعے زرعی آلات، کھادیں ، ادویات اور بیج دستیاب ہیں ۔ ان سب اقدامات کے رزلٹ جلد ہی عوام کے سامنے آ جائیں گے اور اس کا ثمر ملک ؤ قوم کو ملنا شروع ہو جائے گا۔ اور بھی بہت سے ایسے قابل ذکر اقدامات ہیں جو ملک کی تاریخ بدل دیں گے لیکن آج میں محترم وزیراعظم عمران خان صاحب کی توجہ کچھ ایسے کاموں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو ان کی فوری توجہ کے متمنی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان صاحب گورننس ملک کا بہت بڑا مسلہ ہے، گورننس میں پورے ملک اور خصوصاً پنجاب میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سفید پوش طبقے کے لیے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نے جتنا ریلیف دینے کی کوشش کی ، سبسڈی دی، یوٹیلیٹی اسٹورز پر پیکج دیے ، ٹیکسوں میں چھوٹ دی لیکن مہنگائی کم نہیں ہوئی۔ مجھے احساس ہے کہ آپ کا مقابلہ مختلف مافیاز سے ہے جو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور ایسے طریقوں سے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں لیکن آپ کے پاس اختیار ہے، حکومتی مشینری ہے ، اس کا صحیح استعمال ان مافیاز کو لگام دے سکتا ہے۔ حکومت کے پاس ہر محکمے میں لوگ موجود ہیں لیکن یہ لوگ اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتے ، ان کو ٹھیک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پرائیس کنٹرول کمیٹیاں اور ادارے ملک بھر میں موجود ہیں لیکن برائے نام ۔ ان کو ایکٹو کرنا ، ان میں موجود کالی بھیڑوں کو فارغ کرنا اور ایسے اہل اور ایماندار افسروں کا آگے لانا ہی واحد حل ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب آپ نے سی سی پی او لاہور کی تعیناتی اور آئی جی پنجاب پولیس کی ٹرانسفر کے وقت بلکل ٹھیک کہا تھا کہ لوگ ہم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ کتنے آئی جی تبدیل کیے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ عوام کو کتنی سکیورٹی دی۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے کہ لوگ یہ نہیں پوچھیں گے کہ مافیاز کا کیا رول تھا بلکہ لوگ دیکھیں گے کہ ہمیں ریلیف کیا ملا۔ ایسا صرف گورننس بہتر بنانے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جو آفیسر صحیح کام نہیں کرتے انہیں ہٹا کر نئے آفیسر تعینات کریں۔ بیوروکریسی میں بہت سے آفیسرز ایسے ہیں جنہیں کبھی ڈھنگ کی پوسٹنگ ملی ہی نہیں ، آپ انہیں اعتماد دے کر اعلی عہدوں پر لگائیں اور رزلٹ دیکھیں ۔ نئ چیزیں ضرور کریں لیکن موجود سسٹم کو کامیابی سے استعمال کر کے آپ بہت سے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی وافر اور ارزان قیمت پر مہیا کرنا آپ کا منصبی فرض اور ذمہ داری بھی ہے ۔ اس کے لئے آپ صرف عوام کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی جوابدہ ہیں ۔

    جب حکومت نے لاہور شہر کی سڑکوں کے ٹریفک سگنلز پر کیمرے نصب کیے اور ریڈ لائیٹ جمپ کرنے والوں کی گاڑی کی نمبر پلیٹ تصویر کے ساتھ آٹو میٹک سسٹم کے تحت جرمانے شروع کیے تو عوام ٹریفک لائٹ کی پابندی کرنا شروع ہو گئی تھی اور ٹریفک کا نظام کافی بہتر ہو گیا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس سسٹم کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ اب پھر سے سڑکوں پر وہی طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ ایک سسٹم جو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کروڑوں لگا کر بنایا گیا تھا اسے کیا ہوا ؟ کیوں اس کا ڈر عوام کے سر سے اتر گیا ؟ ایک بنے بنائے سسٹم کو کس نے خراب یا بند کر دیا ؟ دنیا بھر میں ٹریفک سگنلز پر کوئی ٹریفک پولیس اہلکار نہیں ہوتا لیکن کسی کی مجال نہیں کہ رات کے پچھلے پہر خالی سڑک پر بھی ریڈ لائیٹ جمپ کر جائے۔ وزہر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب کے لاہور میں اگر کوئی سڑک ٹوٹ جائے تو مہینوں اس کی چھوٹی سی مرمت نہیں ہوتی، آہستہ آہستہ وہاں گڑھا پڑ جاتا ہے جو کہ جان لیوا حادثات کا سبب بنتا ہے لیکن سڑک کی معمولی مرمت کی بجائے وہاں پر مہینوں بعد نئی سڑک بنانی پڑتی ہے۔ وزیراعظم صاحب یہ چھوٹے چھوٹے کام بڑا ایمپیکٹ ڈالتے ہیں۔ ان سے ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ریاست مدینہ کہنے سے نہیں عملی مظاہرے سے بنتی ہے۔ آپ ریاست مدینہ کے داعی ہیں آپ کو اپنا سسٹم بہتر کرنا پڑے گا ورنہ پاکستان کی عوام جو جاہل اور ان پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ کرپٹس کو دیکھ دیکھ کر اپنی حیثیت میں خود بھی کرپٹ ہو چکی ہے اور کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے کی فلاسفی پر یقین رکھتی ہے، ان کو گمراہ کرنا جھوٹے اور چور اپوزیشن لیڈرز اور کرپٹ مافیاز کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔ لیکن جو عوام آپ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اگر وہ بھی دل برداشتہ ہو گئے تو اس پاک دھرتی کے ساتھ بہت زیادتی ہو گی۔ خدارا دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ گورننس کی طرف بھی توجہ دیں ۔ اگر آپ کی ٹیم میں سے کچھ لوگ ڈلیور نہیں کر پا رہے تو ضد اور انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے انہیں ریپلیس کریں۔ اپنے اردگرد کالی بھیڑوں کو پہچان کر فارغ کریں، اہل لوگوں کو آگے لائیں۔ جہاں ضرورت ہے قانون سازی کریں لیکن ان مسائل سے پہلو تہی نہ کریں ۔ قوم کو یقین ہے کہ آپ ایماندار اور ارادے کے پکے ہیں۔ ہار مارنے والے نہیں۔ آپ نے نئی نسل کو اپنی مسلسل جدو جہد کے دوران جو سکھایا ہے اس کے مطابق نوجوانوں کی ذہن سازی ہو چکی ہے۔ ان کو آپ سے بہت توقعات ہیں ۔ خدارا ان کی امیدوں پر پانی نہ پھرنے دینا ۔ اگر یہ مایوس ہو گئے تو ان کا سسٹم اور انسانیت سے اعتماد اٹھ جائے گا جس کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا جو کہ ملک دشمنوں کی خواہش اور ایجنڈا بھی ہے۔
    اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستانیوں کا حامی و ناصر ہو

  • کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر میں الیکٹریسٹی ایک معمہ بن گئی ہے کراچی والوں کے لئے روز بدلتے ہوئے تجزیات کا تھوڑا سا احوال سننے کی ہمت کریں
    پہلے لائٹ گئی تو ایمرجنسی نکالوں کی سدا لگائی جاتی تھی پھر حالات بدلے ایمرجنسی کی جگہ یو پی ایس نے لے لیں لیکن بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے حالات اپڈیٹ ہونے کے بجائے مزید بدصورت ہوتے گئے اس کے بعد کراچی کے گھروں میں جگہ بنائی جنریٹرز نے جو اپنی سریلی آواز سے پورے محلوں کو راگ بھیروی سناتے سناتے بیچ بیچ میں پٹاخوں کی آواز نکال کر شادی اور شب رات کی بھی یاد دلوایا کرتے تھے زندگی چلتی رہی بجلی گھٹتی رہی اور پھر دور آیا ہو پی ایس سے انویسٹرز کا ڈرائی بیٹریوں نے گھر کو رونقیں بخشی اور گھر میں نئی وائرنگ کے زریعے پنکھے اور ایل ای ڈی بلب الگ سے لگوائے گئے جو لائٹ آنے پر جی بلکل درست سنا لائٹ آنے پر بند کئے جاتے ہیں مگر بجلی تقسیم کرنے والے اب بھی پرانے انجنوں کو رپئیر کرکے کراچی کا جوس نکال رہے ہیں اور کراچی ہے کے اس کا جوس ختم ہی نہیں ہوتا تاکہ جوس نکالنے والوں سے اس کی جان چھوٹ جائے اب ہے 2020 فاسٹ ہوتی اس ڈیجیٹل دنیا میں جدت اور تیزی اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب آیا ہے دور سولر انرجی کا جو بلکل فری تو ہے مگر اس کو بنانے کے آلات بہت مہنگے ہونے کی وجہ سے ہر ایک کی دسترس میں نہیں

    کراچی کی آبادکاری اور مردم شماری کو دیکھا جائے تو اس میں مرغی اور گائے کے برابر فرق ہے یہ اس لئے لکھا ہے کہ قربانی کا مہینہ ہے آپ تمام مسلمانوں کو عید الضحیٰ اور حج کی پیشگی مبارکباد پیش کرتا ہوں اچھا تو کراچی پر پھر سے آجائیں بہت بڑا ظلم ہے کہ کراچی کی ابادی کو 1.5 کروڑ دکھایا گیا جو کسی بھی طرح 3.0کروڑ سے کم نہیں مگر چلیں کراچی کا ایک عام سا شہری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پریشانیوں کا حل ڈھونڈا گیا مگر اس شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کو اپنے جنریشن گیپ اور سازوں سامان میں اپگریڈ کرنے کی عقل کیوں نہیں آئی کراچی کی بیشتر سوسائٹی اور فلیٹس کراچی شہر کے بجلی تقسیم کار ادارے کے عین سسٹم میں ہونے کے باوجود سیلف پیمنٹ پر اپنی پی ایم ٹی پرچیز کرکے لگانے پر مجبور ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کراچی میں آباد علاقوں کا سسٹم ڈالنا بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کے معاہدے میں لکھا گیا ہے مگر پھر بھی اپنی بجلی اس ادارے سے خریدنے پر مجبور ہیں کراچی کے لوگ مرتے ہیں بل بھرتے ہیں مگر پتہ نہیں کونسی آسمانی بجلی گرنے کے انتظار میں ہیں کہ وہ گرے تو یہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اب سوچ رہے ہونگے کہ میں نے اس بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کا نام کیوں نہیں لیا اس تحریر میں تو وجہ یہ ہے کہ یہ اداراہ اپنے ساتھ کراچی لگانے کا مستحق ہی نہیں اس لئے میں کراچی کے شہری ہونے کے ناطے اس کو کراچی کا ادارہ مانتا ہی نہیں یہ ایک بھتہ خوروں کا گروپ ہے جو کراچی سے غیر قانونی بھتہ وصول کررہا ہے اور اس کو روکنے کے لئے کوئی وفاقی اور صوبائی حکومت تیار نہیں ہم کراچی والوں کی نظر اب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جیف جسٹس آف پاکستان پر لگیں ہیں شائد ان کو کراچی کی عوام پر مسلط اس بھتہ خوری سے نجات دلانے کی خاطر کوئی اقدام ہوسکے تو ہو ورنہ کراچی والوں کی پانی سیوریج ٹرانسپورٹ روڈ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور دیگر اور ضرورت زندگی کی چیزوں کا کس کو خیال ہے جو کراچی میں گرمی میں اس بجلی کی 10سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے نام پر بھتے سے ہوگا

  • ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں؟؟ تحریر: بختاور گیلانی

    ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں؟؟ تحریر: بختاور گیلانی

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا مقصد جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ تھا وہی اس کے پیچھےایک نظریہ بھی تھا۔ کہ اگر ہم بات کریں دو قومی نظریہ کی تو اس سے مراد یہی تھا کہ برصغیر پاک و ہند میں رہنے والے مسلمان اور ہندو مذہبی ثقافتی لحاظ سے مختلف عقائد رکھتے ہیں اور ان کی رقم رسومات منانے کا انداز بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ برصغیر سے پاکستان اور ہندوستان کے علیحدگی کی بنیادی وجہ دو قومی نظریہ تھی۔
    پاکستان اور ہندوستان کے درمیان علیحدگی کی دیوار نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے بلکہ یہ دو نظریہ کی بنیاد پر ہے پاکستان کو الگ ریاست بنانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ایسی ریاست ہو جہاں اسلامی قوانین کا بآسانی نفاز ممکن ہو جہاں کی ثقافت میں اسلامی ثقافت کی جھلک نظر آتی ہو
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں انسان ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا وہی یہاں کے بسنے والے لوگ اپنی تہذیب وثقافت کو بھلا بیٹھے ۔
    اگر بات کریں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تو ہوا یوں کے یہاں کے لوگ اپنی ثقافت بھلا بیٹھے اور دوسری ثقافت سے متاثر ہے اور جس ثقافت سے متاثر ہے اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
    یہاں کے لوگوں سے اگر من پسند ہیرو کا پوچھیں تو سرحد پار کے لوگوں کا نام سامنے آئے گا تو کیا ہم سرحد پار کی تہذیب میں اتنی دلچسپی لینے لگے ہیں کہ اپنی تہذیب کو بھلا بیٹھے ہیں۔
    بھلا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
    ثریا نے آسماں سے زمین پر ہم کو دے مارا

    یہ کیسی تہذیب ہے جس میں لڑکی کی سر پر دوبٹہ نہ لینے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے کیا یہ ہمارے دو قومی نظریہ کی بنیاد تھی ۔
    یہ تو ماڈرن زمانے میں نہیں بلکہ جہالت کے زمانے میں داخل ہوچکے ہیں اسلام نے زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ حیات مہیا کیا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کو سمجھنے سے قاصرہیں۔
    اگر ہم نے دوسروں کی تہذیبوں سے متاثر ہونا تھا تو کہ الگ وطن حاصل کرنے کا کیا مقصد تھا؟؟ اور اگر بات کریں عورت کے لباس کی تو شرم و حیا نہ ہونے کے برابر ہے۔
    اگر کوئی اس معاملے پر بات کرے تو اس کی بات کا مذاق بنا دیا جاتا ہے وزیراعظم عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم اس معاملے پر بات کی تو سب نے ان کی باتوں کا مذاق بنانا شروع کر دیا ۔
    خدارا سوچیے اس وطن کو الگ ریاست بنانے کا مقصد اور اس نظریے کو جو ہمارا نظریہ ہے

  • "چھلاوا ملزم بالمقابل آمر "تحریر: حبیب الرحمن

    "چھلاوا ملزم بالمقابل آمر "تحریر: حبیب الرحمن

    یہ واقعہ ضیاء الحق مرحوم کے دور اقتدار کا ہے اس میں کچھ شخصیات کے فرضی نام بوجہ لکھوں گا۔ تاکہ کسی کی بھی تحقیر نہ ہو۔
    ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایک شخصیت (فرضی نام بابر خان) نے گولڑہ شریف میں وہاں کی مقامی مذہبی شخصیت کے ساتھ بھی بڑا تنازعہ بناۓ رکھا۔ بعد ازاں ایک دلچسپ واقعے کا اہم ملزم بھی تھا۔ اس دور میں راولپنڈی صدر میں ایک تکہ شاپ تھی جہاں امیر ترین شخصیات کھانا کھانے جاتی تھیں۔ ایک دن اس تکہ شاپ کا مالک شاپ کو بند کر کے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا تو خیابان سر سید کے علاقے میں ویران سڑک پر ایک انتہائی خوبرو لڑکی کو کھڑا پایا۔ جو بے چینی سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی گاڑی کو دیکھتے ہی اس نے گاڑی سے لفٹ لینے کے لیے اشارہ کیا۔ شاپ کے مالک نے گاڑی روکی تو لڑکی نے بتایا کہ اسکی گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ اور وہ بہت پریشان ہے۔ سو شاپ کے مالک نے اس لڑکی کو بٹھا لیا۔ راستے میں گپ شپ کے دوران معلوم ہوا کہ موصوفہ شوبز کا حصہ ہیں۔ جب لڑکی اپنے گھر کے پاس پہنچی تو شاپ مالک کو انتہائی محبت سے کافی پینے کی دعوت دی جسے شاپ مالک نے قبول کر لیا۔گھر کے اندر پہنچنے کے بعد لڑکی نے مخصوص حرکات و سکنات شروع کر دیں۔ بہرحال لڑکی کی دعوت گناہ کو شاپ مالک نے قبول کر لیا لیکن شاپ مالک پر مصیبت کے پہاڑ اس وقت ٹوٹے جب دونوں کی برہنہ تصاویر لے لی گئیں۔اس کے بعد شاپ مالک کو چلتا کر دیا گیا۔ ازاں بعد ایک فون کال (یاد رہے کہ اس وقت تک پاکستان میں موبائل دستیاب نہیں تھا) پر شاپ مالک کو دس لاکھ روپے گولڑہ شریف لا کر اپنی تصاویر لینے کا کہا گیا۔ جب موصوف رقم لے کر پہنچے تو بابر خان (فرضی نام) نے رقم بھی لے لی اور شاپ مالک کو زود و کوب کر کے بھیج دیا۔ شاپ مالک کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بالآخر ضیاء الحق مرحوم کے فرزند اعجاز الحق جو ان دنوں دوستوں کے ساتھ اس تکہ شاپ پر بیٹھتے تھے ان کے گوش گزار کیا۔

    اعجاز الحق نے اپنے والد کو صورت حال بتاہی اور پولیس نے بابر خان کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے بعد بابر خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر کے اس وقت کی آرمی کورٹ کو مقدمہ بھیج دیا گیا۔ایک دن جب تکہ شاپ کا مالک دکان بند کر رہا تھا تو اچانک ایک شخص دکان میں داخل ہوا۔ اس شخص کو دیکھتے ہی شاپ مالک کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ یہ شخص بابر خان تھا جو قانونی طور پر اڈیالہ جیل میں تھا۔ بابر خان نے شاپ مالک کو دھمکی دی اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر تک تو مالک کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے پھر اس نے اعجاز الحق کو فون کر کے ساری صورت حال سے مطلع کیا۔ لیکن اعجاز الحق یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ ایک شخص جیل سے کیسے آسکتا ہے لیکن مالک شاپ کے یقین دلانے پر اڈیالہ جیل سپرنٹینڈنٹ کو جب فون کر کے پوچھا گیا۔ تو سپرنٹینڈنٹ نے بتایا کہ ملزم تو جیل میں ہے۔ اس بات کا شاپ مالک نے بہت اثر لیا اور تقریباً مقدمے سے دست برداری اختیار کر لی۔ چونکہ پولیس کی ملی بھگت سے ملزم بابر خان سے کچھ برآمد بھی نہیں ہوا تھا سو کچھ ماہ بعد ملزم بری ہو کر گھر آ گیا۔ملزم نے پھر شاپ مالک سے چھبیس لاکھ روپے لے کر تصاویر واپس کیں۔
    اس واقعے کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے
    اگر ایک عام ملزم اس طرح کر سکتا ہے تو کرپٹ مافیا تو کسی حد تک بھی جا سکتی ہے اور حکومت منہ دیکھتی رہ جائے گی
    جب تک اس کرپٹ سسٹم اور اس میں موجود کالی بھیڑوں کو اپنے انجام تک نہ پہنچایا گیا
    انصاف کا خون ہوتا رہے گا

  • پاکستان بحرانات کا شکار، تحریر: نوید شیخ

    پاکستان بحرانات کا شکار، تحریر: نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ ملک میں نوٹوں کی گڈیوں سے وزارتوں اور عہدے باٹنے کا سلسلہ بھی شروع گیا ہے ۔ کیونکہ سیاست کے اپنے اصول ہیں ۔ بیڈ گورننس ، سیاسی نا تجربہ کاری اور روز روز کی تنقید سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے سوچ لیا ہے کہ باقی ماندہ دو سالوں میں لوگوں کو نوازا جائے ، گلے دور کیے جائیں اور دوست بنایا جائے ۔ کیونکہ کہیں اگلا الیکشن اگر اپنے بل بوتے پر لڑنا پڑ گیا تو آسان کچھ نہیں مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔

    ۔ جہاں نوازشریف صاحب ایک بار پھر خاموش ہوگئے ہیں۔ پر ان کی کمی شہباز شریف پوری کرنے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ چھوٹا بھائی جو کچھ بھی کرتا ہے۔ بڑے بھائی کے کہنے پر ہی کرتا ہے۔ اب شہباز شریف نے اپنے روایتی انداز دیکھانا شروع کر دیے ہیں ۔ یعنی مصالحت کی بجائے جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانی کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ شہباز شریف نے چاروں صوبائی صدور اور عہدیداروں کو حکومت کے خلاف متحرک ہونے کی ہدایات کے ساتھ لیگی نمائندوں کو پارلیمنٹ اور دیگر اسمبلیوں میں حکومت کے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی ہدایت کر دی ہے۔ اب ن لیگ لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور حکومت کی ناکام پالیسیوں کو ہدف تنقید بنائی گئ ۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں پر احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کو بھی ہدف تنقید بنایا جائے گا ۔ جبکہ جو سب سے اہم چیزہے وہ یہ ہے کہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پارٹی سطح پر عید کے بعد ورکرز کنونشن اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا جائے۔ ساتھ ہی منتخب لیگی ارکان کو ہفتے میں کم از کم دو دن اپنے حلقوں میں موجود رہنے کی بھی سختی سے ہدایت کر دی ہے۔ آسان الفاظ میں اگلے الیکشن کی تیاری کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ عمران حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شہباز صاحب کو عدالت سے مبینہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے آئندہ دو مہینوں کے دوران سزا دلوا کر رہے گئیں ۔ اس میں شہزاد اکبر پیش پیش ہیں ۔ جہاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں خواجہ آصف اور ’’سافٹ وئیر اپ ڈیٹ‘‘والی بات کی ہیڈ لائنز بنیں تو جو دبے لفظوں میں نئے انتخابات کا مطالبہ ہوا وہ بھی اہم ہے ۔ ۔ اگلے انتخابات میں ابھی بڑا وقت ہے لیکن اس بار سیاسی جوڑ توڑ قبل از وقت شروع ہو گیا ہے۔ وہ لوگ جو مڈ ٹرم انتخابات کا مطالبہ کرتے تھے اب بروقت انتخابات کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ لوگ عمران خان کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کی بھی بات کر رہے ہیں۔

    ۔ کوئی ٹھوس خبر تو نہیں مگر چند اشارے ایسے ہیں جن کو دیکھ کر لگتا ہے کچھ نیا ہونے والا ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت سندھ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے وہاں کے بااثر سیاسی خاندانوں سے معاملات طے کر رہی ہے۔ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہےکہ سندھ میں ساری سیاسی قوتیں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کریں گی ۔ اور یوں بھرپور پلاننگ کے ساتھ اگلی بار سندھ سے پیپلز پارٹی کا پتہ کاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کچھ تو دعوی کر رہے کہ شاید پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم اور ق لیگ کی طرح مرکز یا صوبے میں حکومتی جماعت کا اتحادی بننا پڑے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ق کے ساتھ حکومت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے حال ہی میں مسلم لیگ ق کی لیڈر شپ سے ملاقات بھی کی ہے۔ اور آج تو وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں چودھری مونس الہیٰ کو وفاقی وزیر بنا کر ان کی دیرینہ خواہش کو پورا کر دیا گیا ہے ۔ اب کہنے والے تو کہہ رہے ہیں اور اسکا کریڈیٹ بھی زرداری کو ہی دے رہے ہیں کہ حکومت کو ڈر پڑ گیا ہے کہ اگلی بار ق لیگ پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملا کر الیکشن لڑے گی تو سوچا یہ گیا کہ ق لیگ جو مانگتی ہے دے دو ۔ آخر الیکشن کا سوال ہے ۔

    ۔ ساتھ ہی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی پنجاب سے مسلم لیگ ن کا ووٹ توڑنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں جبکہ میاں شہباز شریف اپنے ووٹ بینک کو بچانے اور اپنے الیکٹ ایبل محفوظ بنانے کے لیے تگ ودو میں ہیں۔ بلاول بھٹو کا امریکہ جانا بھی ہمارے سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اسے آئندہ انتخابات میں امریکہ سے آشیرباد اور ڈیل قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اس وقت اپنے آپ کو قابل قبول بنانے کی دوڑ جاری ہے البتہ اس دوڑ میں پیپلزپارٹی کی دال گلتی تو نظر آتی ہے لیکن مسلم لیگ ن بارے کہا جا رہا ہے کہ شاید انکی قبولیت کا ابھی وقت نہیں آیا۔ حکومت نے بھی ابھی سے آئیندہ انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ حالیہ بجٹ میں انتخابی تیاریوں کی جھلک نظر آتی ہے تاہم اگلا بجٹ خالص انتخابی بجٹ ہو گا۔ اب دیکھیں آذاد کشمیر میں کیا ہوتا ہے تاہم سیاسی پنڈتوں کی پشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ آزاد کشمیر میں بھی پہلی بار تحریک انصاف کی حکومت بننے جارہی ہے مگر سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حالیہ حکومت کے باعث وہاں مسلم لیگ ن کی پوزیشن مضبوط ہے اور آج کل مریم نواز بڑے بڑے جلسے کرنے میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے جلسوں کے مقابلے میں تحریک انصاف ابھی تک کشمیر میں کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائی۔ تحریک انصاف جوڑ توڑ کی سیاسی مینوفیکچرنگ میں مصروف ہے۔

    ۔ ہاں البتہ جو وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور نوٹوں کی تھدیاں بانٹتے پکڑ گئے ۔اس سے تحریک انصاف کی مشہوری میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ پر آج چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے وفاقی وزیر علی امین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے کر اس مشہوری کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔

    ۔ اس سیاسی کھیل میں عوامی مسائل کا نظر انداز ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی اسی جذباتی انداز میں تقریریں کرتے کرتے اصل سیاست جس کا مقصد عوامی فلاح و بہبود ہے اسے بھلا دیتے ہیں۔ ان دنوں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں صرف اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔

    ۔ کوئی پسند کرے یا نہیں ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے نمودار ہونے کے چند ماہ بعد ہی ہوئے انتقال پر ملال نے عمران حکومت کو بے پناہ اعتماد بخشا ہے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں حکومت کو گھر بھیجنے کے بجائے اب ایک دوسرے کو شرمندہ کررہی ہیں۔

    ۔ آج بھی اپوزیشن اپنے اپنے کیسز پر عدالت میں پیش ہوتی ہے لیکن کبھی حکومت کے ساتھ عام آدمی کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عام آدمی اگر گیس، پانی بجلی کے بل جمع کرواتا ہے تو کھانے کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم اور ادویات کے لیے ادھار کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

    ۔ کراچی سے خیبر تک اور گلگت سے گوادر تک کوئی شخص ایسا نہیں جو مہنگائی سے تنگ نہ ہو۔ آج سب ایک ہی آواز میں حکومت کو کوس رہے ہیں۔

    ۔ پاکستان اس وقت معاشی بحران اور سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ نئے وفاقی بجٹ کے اثرات عوام کے لیے کرونا کی چوتھی لہر سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں ہیں۔ دراصل آئی ایم ایف کی مرضی اور حکم نے ہمارے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بیروزگاری، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسی اذیتوں کا حل نکالنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

    ۔ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بیانات جاری کرنا بہت آسان ہے۔ بازاروں میں جا کر حالات کا جائزہ لینا اور عوام کا سامنا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت مہںگائی تو ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے کم نہیں کر سکتی لیکن اسے قوت خرید بڑھانے سے تو کسی نے نہیں روکا۔ حکومت ماضی میں پھنسی رہے گی تو نہ مہنگائی رکے گی نہ قوت خرید بڑھے گی اس کے نتیجے میں صرف عام آدمی پسے گا، کیا اس تبدیلی کے لیے لوگوں نے بلے پر مہر لگائی تھی۔

  • ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ ایک ایپ ہے، جو آج کل پاکستانی نوجوانوں اور بچوں میں بہت مقبول ہورہی۔ بچے اس کو مفت ڈاؤن لوڈ کرتے اور اس کے بعد ان کی مرضی ہے کہ وہ جو چاہیے اس میں کریں، گانے پر لب ہلائیں یا رقص کریں یا کسی ڈائیلاگ کو بول کر اپنی ویڈیو زریکارڈ کریں یا کسی کی ویڈیو پر جوابی ویڈیو بنائیں۔ دوسری طرف ان بچوں کے والدین کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کس خرافات میں پڑھ چکے۔ آج کل کے ماں باپ بچوں کی ضد کے آگے ہار جاتے، انہیں موبائل خرید دیتے ہیں، ٹیب، لیپ ٹاپ و دیگر الیکٹرانک گیجٹس بچوں کے پاس موجود ہیں اور ان کے گھروں میں 24 گھنٹے انٹر نیٹ چل رہا ہوتا ہے۔ بچے اپنے کمروں میں کیا کررہے؟ ان کے اکثروالدین کو معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ اکثر بچوں کے ماں باپ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ وغیرہ استعمال نہیں کرتے اس بات کا فائدہ بچے اٹھاتے اور وہ اپنی من مانی کرنا شروع کردیتے اور ان چیزوں کی طرف چلے جاتے، جو آگے چل کر ان کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی۔

    ان ایپس پر بچے بچیاں تیار ہوکر کسی گانے پر رقص کرتے اس کو اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ، تو اس پر ایسے ایسے کمنٹس آتے کہ اگر بچوں کے والدین اس کو پڑھ لیں تو ان کو پھر کبھی موبائل استعمال نہ کرنے دیں۔ ٹک ٹاک پر کوئی بچوں کے حسن کو سراہتا، تو کوئی ان کو اپنا فون نمبر دے رہا ہوتا، کوئی ان کو اپنے ساتھ گھومنے پھرنے کی پیشکش کررہا ہوتا۔ یوں ان ایپس پر بچے اجنبیوں کے ساتھ رابطے میں آجاتے۔ پہلے تو سب اچھا اچھا رہتا ہے، کیونکہ یہ اجنبی بچوں کو پیسے اور تحفے دیگراپنے قریب لے آتے، بعد میں یہ جرائم پیشہ افراد، بچوں کو پھانس لیتے اوران کو بلیک میل کرتے۔ ان کی ویڈیوز تصاویر بنا کر پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے۔ یوں بچے اپنے ہی گھر میں چوریاں کرنے پر مجبور ہوجاتے۔ کچھ کیسز میں بچے جنسی تشدد کاشکار بھی ہوجاتے اور بات خود کشی تک پہنچ جاتی۔ اس حوالے سے جب تک ماں باپ کی آنکھیں کھلتی، تب تک ان کے بچے کی زندگی تباہ ہوچکی ہوتی ہے۔

    میں قدامت پسند نہیں، آرٹ و کلچر کو پسند کرتا ہوں، لیکن آپ سے سوال کہ کیا آپ پسند کریں گے کہ کوئی بھی معصوم بچہ اور بچی سڑک پر رقص کرے اور لوگ اس پر ذومعنی جملے کسیں؟ اس کو مختلف نا زیبا پیشکشیں کریں؟ ہرگز نہیں، کسی کی بھی خواہش نہیں ہو سکتی کہ اس کا بچہ پڑھنے لکھنے کے بعد اپنے لئے کسی ایسے نامناسب شعبے کا انتخاب کرے، اگر بچہ آرٹ و کلچر، رقص یا شوبز میں بھی آنا چاہتا ہوتو بالغ ہونے کے بعد آئے۔ اس سے پہلے والدین اس کو تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہتے۔ اب، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم عمر بچے بچیوں کی بہت بڑی تعداد ان ایپس پر موجود ہے، جو اپنی معصومیت یا شوبز کی چکا چوند سے متاثر ہوکر یہاں آتے اور جب وہ اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں تو وہ پبلک کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔ اب، یہ ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ ان کی ویڈیوز کا استعمال کس طرح سے کرتے۔ معصوم بچے بچیوں کی ویڈیوز مختلف فورمز پر فحش کیپشنز کے ساتھ پھیلا دی جاتی، ان کو گالیاں دی جاتی ہیں، ان کی کردار کشی کی جاتی۔ یوں بہت سے بچے سوشل میڈیا پر منفی مہم کا نشانہ بن جاتے

    فالورز کی تعداد بڑھانے کی خواھش، ہیرویا ہیروین بننے کی چاھت، بچوں کے مستقبل کو تباہ کردیتی۔ وہ سارا دن فون استعمال کرتے رہتے اور نہ کھاتے پیتے، نہ آرام کرتے اور نہ ہی اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیتے۔ والدین شروع میں اس ایپ کے نقصانات سمجھ نھیں پاتے، لیکن جب ان کے بچوں کی ویڈیوز منفی انداز میں پھیل کر فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر ہر شخص کے پاس پہنچ جاتی، تو ان کو اندازہ ہوتا کہ ان کابچہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنس چکا

    ان ایپلیکیشنز پر ایک اور طبقہ بھی پایا جاتا، جو اپنے نمبرز ویڈیوز ساتھ پوسٹ کرتا۔ پہلے یہ کام رات کے اندھیروں میں ہوتا۔ اب، کھلے عام گاہک ٹک ٹاک کے ذریعے سے ان لوگوں تک پہنچ جاتے لڑکے لڑکیاں جان بوجھ کر اپنے جسموں کی نمائش کرتے، تاکہ پیسے کماسکیں۔ یہ ایک بہت گھٹیا عمل جس سے فحاشی و عریانی مزید پھیل رہی اس کے ساتھ ساتھ یہ ویڈیوز دوسری سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر پہنچتی اور یہ یوں یہ برائی مزید پھیلتی۔ ہمیں اس برائی کو روکنا ہوگا، لیکن یہ دیکھا گیاہے کہ بہت سے متنازع کرداروں کی رسائی تو طاقت کے ایوانوں تک ہے۔ اس میں دو ٹک ٹاکرز نے مبینہ طور پر معروف افراد کو بدنام کیا۔

    یاد رکھیں فحش گوئی ذومعنی جملے جسم کی نمائش آرٹ اور کلچر میں نہیں آتا۔ ہمیں اس وقت ڈراما سیریلز؛ ایلفا براوو چارلی، سنہرے دن، دھواں، خدا زمین سے گیا نہیں ہے، عہد وفا اور فصلِ جاں سے آگے جیسے معلوماتی و تفریحی ڈراموں کی ضرورت ہے۔ جو کچھ ٹک ٹاک پر ہورہا ہے، وہ فن و ثقافت اور تفریح کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس آرٹیکل کے لیے جب میں نے ٹک ٹاک سنیپ چیٹ پر ریسرچ کی تو سر شرم سے جھک گیا کہ ہماری نوجوان نسل چھوٹے کپڑوں ذومعنی گفتگو اور ہیجان آمیز گانوں پر رقص کررہی یہ نئی نسل اسلامی تعلیمات اور نظریہ ٔپاکستان سے بہت دور جاچکی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں نئی نسل کو پاکستان کی ثقافت اور مذہب کے حوالے سے آگہی دینا ہوگی۔

    بچوں اور نئی نسل کیلئے ڈرامے اور فلمیں بنائی جائیں۔ ان کیلئے یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹویٹر فیس بک پر تہذیب و اصلاح پر مبنی ڈاکیومینٹریز ویڈیوز نشر کی جائیں اور یہ کام وزراتِ اطلاعات و نشریات، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان بخوبی کرسکتے ہیں اور امید ھے فواد چوھدری اس پر عمل ضرور با ضرور کرینگے ان ایپلیکیشنز کو بین کرنا مسئلے کا حل نھیں انکو ریگولیٹ کرنا ان میں جو خرافات ھیں انکو دور کرنا ضروری ھی نھیں مجبوری بن چکا

  • حوا کی بیٹی .تحریر:فرح خان              

    حوا کی بیٹی .تحریر:فرح خان              

    "ایک بیٹی”                         
    بیٹی کا نام جب زباں پر آتا ہے،ایک میٹھا اور خوبصورت سا جذبہ احساس جاگ جاتا ہے۔ایسا لگتا ہے رحمتوں اور کرم کے دروازے کھول دیے گئے ہوں۔پر کئی بدنصیبوں کے ماتھے پہ پسینہ، شکن اور ٹھنڈی آہیں ہوتی ہیں۔

    "تعلیم و تربیت”                     
    وقت کا پہیہ چلتا جاتا ہے،خوش نصیب معصوم کلی جس کو والدین دنیا کے سرد گرم ہواؤں سے بچاتے، بہترین تربیت کے ساتھ اس کو مضبوط، پروقار شخصیت،بہترین تعلیم کے ساتھ پروان چڑھا رہے ہوں اپنی تربیت پہ بھروسہ کرتے اب پریکٹیکل لائف میں قدم رکھا رہے ہوتے ہیں اس امید پہ کہ انہوں نے پرورش کرتے ہوئے اچھا بیچ بویا ہے جو کبھی سوکھا درخت نہیں بنے گا۔

    "بابل کی دعائیں لیتی جا”               
    ایک مشکل دور جب اپنی بیٹی کو دل پر پتھر رکھ کر کسی اجنبی کے ساتھ رخصت کرنا،بیٹی کا بیاہ کرنا اور پھر ہر دم خوشیوں کی دعا کرنا،،،پر یہ کیا یہاں بھی کچھ کم طرف، بدترین کی تعداد ہے،،،،وہ جو رشتے کے وقت تو چاند سورج ملا دیتے ہیں،زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں،پر بعد میں طنزیہ جملوں سے بابل سے اپنے گھر تک کے سفر کو پتھریلی راہ یا پل صراط بنا دیتے ہیں۔

    "سوالیہ نشان ”                      
    ستم ظریفی اور بدبختی کی انتہا تو ان آدم کے بیٹوں پر ہے جو اس شرم و حیا کے پیکر کو خاک بنا دیتے ہیں۔
    عورت کو اشتہارات کی زینت،خبر،بے لباس بنا دیا۔
    بطور رحمت اتارے جانے والی بیٹی بےحیا یا ہوس کا نشانہ کیوں ہے؟ جبکہ عورت کا وجود اس کی عزت تو اس ہیرے کے مانند ہونا چاہیے جو کوئلے کی کان میں بھی رہ کر اپنی قیمت اور روشنی نہیں کھوتا۔
    اس دور میں عورت ایک سوالیہ نشان کیوں بن کر رہ گئی ہے،،،،،اے "حوا کی بیٹی” تلاش کر خود کو اپنے اندر تلاش کر۔

  • ‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

    ‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

    افغانستان سے امریکہ کا انخلاء کئی سوالات چھوڑ کر جا رہا ہے
    امریکا نےافغانستان سے انخلاء کا مختلف ٹائم فریم دیا پہلے 11 ستمبر 2021 پھر 14جولائی 2021 کی اور ایک کانفرنس میں اگست سے پہلے پہلے انخلاء مگر ان سب پہلے ہی نکل گیا۔
    امریکہ نے افغان جنگ میں کھربوں ڈالڑ کانقصان کیا وہاں وسط ایشائی ممالک خصوصا پاکستان نے بھی کافی معاشی نقصان اٹھایا ۔

    ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر واضح کہہ چکے ہم کامیاب نہیں ہوۓ مگر مشن اس دن مکمل ہوگیا تھا جب اسامہ بن لادن کو شہید کیا اور امریکہ کی دونسلیں اس جنگ میں لڑی اب ہم اگلی نسل کو بھی اس شکار نہیں بنائیں گے۔ افغان مستقبل کے بارے بھی کہا امریکہ ان سے مکمل تعاون جاری رکھا گا۔

    امریکہ ایک طرف اپنی ہار بھی مان رہا ہے اور جب اپنا آخری کیمپ بلگرام ائیر بیس خالی کیا تو جہاں اشیاۓ خورد نوش چھوڑ گیا وہاں جنگی سازوسامان گاڑیاں کافی مقدار اسلحہ اور پانچ ہزار طالبان جو وہاں قید تھے ان کو بھی رہا کر گیا وہ اسلحہ ساتھ نہیں لیجاسکتا تھا مگر اس کو خاکستر یاپھر افغان فورسز کے سپرد بھی کر سکتا تھا صاف ظاہرہے کہ وہ یہ سب جان بوجھ کے کرکے گیا یہ سب اور پھراشرف غنی کااچانک اپنی فیمیلی اور عزیز و اقربا کے ہمراء غائب ہوجانا افغان فورسز کے اہکاروں کا استعفے دینا اور طالبان کے ساتھ مل جانا۔

    دوسری طرف انڈیا کو اپنی فکر ہونے لگی افغانستان میں اس کے بناۓ گے ڈیم پر طالبان نے قبضہ کرلیا اس نے پنے بچاؤ کیلۓ افغان فورسز کو جنگی سازوسامان کاایک جہاز بھیج دیا ساتھ میں بھارتی میڈیا پہ یہ پرپیگنڈہ بھی جاری ہے کہ افغانستان میں طالبان کے علاوہ لشکرطیبہ اور جیش محمد بھی موجود ہیں اورفغانستان میں طالبان اور لشکر طیبہ کا اتحاد ہوگیا ہے افغانستان میں میں لشکر طیبہ کے 8000 مجاہدین موجود ہیں لشکر طیبہ اور جیش محمد افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہے ہیں
    اب بات افغانستان تک نہیں رکے گی جموں کشمیر پر بھی مجاہدین کے مضبوط ہونے کی سائے منڈلا رہے ہیں اور کشمیر ہاتھ سے جاتادکھائی دے رہا ہےتھا اسی لیۓ پری پلین گیم ہے کہ

    ایک طرف امریکہ اسلحہ طالبان کیلۓ چھوڑ گیا اوردوسری طرف بھارت کافورسز سے خیر خواہی اصل میں فورسز اور طالبان کو لڑانااور افغانستان کو خانہ جنگی کی طرف جھونکنے کا اشارہ ہے کہ طالبان یہیں مصروف رہیں کہیں ہماری طرف نہ آجائیں

    کیا پاکستان ان سب سے محفوظ رہ سکے گا اگرچہ وزیراعظم عمران خان کئی بار کہہ چکے کہ” ہم کسی پرائی جنگ کاحصہ نہیں بنے گے ” یااس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہونگے اگر مرتب ہوۓ تو نتیجہ کیا نکلے گا۔