Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آذان  .تحریر:ماریہ مغل

    آذان .تحریر:ماریہ مغل

    آپ نے کبھی آذان پہ غور کیا ہے اللہ تعالی کیا کہتے ہیں۔۔
    حی الصلوۃ
    کہ آو نمار کی طرف ۔۔
    جیسے ایک ماں اپنے بچے کو بلاتی ہے جو اس دور جا رہا ہو ۔۔
    پھر ایک۔بار مزید اللہ کیا کہتے ہیں
    حی الصلوۃ ۔۔
    کہ آ جاو ناں نماز کی طرف ۔۔
    ایسے میں جو اچھے اور تابع دار ہوتے ہیں وہ دوسرے بلاوے پہ ہی بھاگے بھاگے جاتے ہیں اپنے رب کی بارگاہ میں کہ اللہ ہم حاضر ہے مگر جو بچے ضدی ہوتے ہیں ان کو اپنی طرف بلانے کے لئے لالچ دینا پڑتا ہے ان کو ان کی پسندیدہ چیز یں دیکھا کہ کر ان کو متوجہ کرنا پڑتا ہے

    تو اللہ کیا کہتے ہیں کہ
    حی الفلاح ۔۔
    آ جاو فلاح کی طرف ۔۔
    یعنی آ جاو اور سمیٹ لو سارے خزانے ۔۔اب انسان اللہ کے خزانوں کو نہیں سمجھتا ۔۔اس نے خواہشات کے نام پہ چھوٹے چھوٹے پتھر رکھے ہوتے ہیں جو انسان کہ عظمت کے سامنے تو بہت چھوٹے ہیں ۔اب سوچیئے ذرا ایک بچے کو چاکلیٹ دیکھائی جائے تو وہ فورا آپ کا دوست بن جاتا ہے مگر انسان کتنا ناشکرا اور بے قدرا ہے ناں ۔۔رب اسے دونوں جہانوں کہ کامیابیاں دیتا ہے سجدے میں ۔مگر وہ حجتیں پیش کرتا رہتا ہے کبھی خود اور کبھی لوگوں کو ۔۔تو آج سے اپنے رب سے تجدید وفا کریں اپنی محبت اور آزان کی پہلی آواز پہ کہیں کہ اللہ میں لوٹ آیا ہوں یقین مانو تمہارا رب تمہیں بڑی محبت اور مان سے بلاتا ہے۔
    @l_m_Mairi
    ماریہ مغل

  • ‏اسلامی معاشرہ اور جدیدیت . تحریر: عزیز بونیری

    ‏اسلامی معاشرہ اور جدیدیت . تحریر: عزیز بونیری

    انسان نے یقینا ہردورمیں کوشش کی ہے کہ اس کی اجتماعی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پرنظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظرآتا ہے۔ تاریخ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دیئے اورگردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب وہ اجتماعی طورپرفطرت کے خلاف چلیں، جب وہ قانون قدرت کوتوڑکراس کی نافرمان و گستاخ بنی اورخدا کے متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا ۔ بنی نوع انسان کو انفرادی بدعملی کی سزا دنیا میں نہیں ملتی اس کا حساب کتاب آخرت میں ہے مگر جب قومیں اجتماعی طورپربدعمل ہوجائیں تو اس کی سزاء دنیا ہی میں مل جایا کرتی ہے۔ جب قوموں میں بد عملی، بد خلقی، غفلت، بے راہ روی اجتماعی طورپرگھرکرجاتی ہے تو تباہی وبربادی اس کا مقدربن جاتی ہے اورتاریخ نے ایسے کئی مناظردیکھے بھی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی مختلف قوموں کی تباہی کا ذِکر کیا ہے جن میں اخلاقی خرابیاں اجتماعی طورپرگھرکرگئی تھیں۔

    ہم تاریخ کے سبھی ادوار کھنگال کراس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی انسان کی معاشرتی زندگی میں بگاڑغالب رہا اوراصلاح کے بہت کم آثار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی مجموعی بگاڑ کے نتیجہ میں قومیں زوال پذیرہوئیں اوراپنے انجام کو پہنچیں۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ھیں توہم دیکھتے ہیں کہ قدرت قوموں کے عروج وزوال اور تباہی و بربادی کے قوانین کے اطلاق میں قوموں کے درمیان فرق نہیں کرتی، جو قوانین یہود و نصاریٰ کیلئے ہیں وہی امتِ مسلمہ کیلئے ہیں، جو اصول اہل باطل کیلئے ہیں وہی اہل حق کیلئے ہیں، جو ضابطے اہل کفر کیلئے ہیں وہی اہل ایمان کیلئے ہیں۔

    اس وقت ملت اسلامیہ کئی بڑے بڑے فتنوں اورصدموں میں گھری ہے۔ ہربڑا فتنہ چاہے وہ ملکی سطح پرہو یا عالمی سطح پر، سقوطِ بغداد ہو یا سقوطِ اندلس یا خلافت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہویا مسئلہ فلسطین اورکشمیرکا، مشرقی تیمورہو یاچیچنیا، بوسینیا، کوسوؤ، سرب اوربرمی مسلمانوں کی نسل کشی ہو یا افغانستان وعراق، شام، لیبیا کی مسماری یا ہندوستان میں اٹھتے مسلم کش فسادات ہوں، یہ سب امتِ مسلمہ کی جدید معاشرتی، سائینسی اوراخلاقی نظام سے دوری کا نتیجہ ھے۔

    یہ سوال بارباراٹھایا جاتا ھے، کیا مسلمان کبھی 21 ویں صدی میں اصلاح اورجدیدیت اختیارکرسکیں گے اوراس میں شامل ہوسکیں گے؟

    اس کے باوجود ذیلی متن تقریبا ہمیشہ یہ ہے کہ جدیدیت کے مغربی نمونہ جس نے پروٹسٹنٹ اصلاح کے بعد تیارکیا تھا، جس نے سیکولرازم کو مضبوطی سے قبول کیا تھا اورمذہب کی پسماندگی قابل تقلید ہے. مسلمان کے پاس خود کو اسے اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔سولہویں صدی میں یورپ میں، کلیساؤں نے اکثر مقامی بادشاہوں اورحکمرانوں سے اتحاد کرتے ہوئے کافی دولت اورسیاسی طاقت حاصل کی تھی۔ جدید سائینس کو اپنے راستے میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ لیکن مسلمان اپنی منفرد مذہبی تاریخ کی وجہ سے جدید دنیا کے بدلے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی کوششوں میں اپنے مذہب کو بطوراتحادی دیکھتے رہتے ہیں۔ اسلامی معاشرے کے علماء نے جدید سائینس کے تقاضوں سے روگردانی کرتے ھوئے جدیدیت کے بیشترایجادات کو اسلام کے منافی قراردے دیا۔ اس وجہ سے تمام امت مسلمہ آج کے جدیدیت میں پیچھے رہ گئے۔

    ایک کامیاب معاشرہ لاشعوری طورپرارتقاء کے عمل سے گزرتے ھوئے جدیدیت کو اپنے دامن میں سماتا ھے۔ جب بھی کوئی معاشرہ جمود کا شکارھوا ھے وہ تاریخ کے اوراق سے بھی مٹ جاتا ھے۔ اسلامی معاشرے کو اپنے اندر کے فرسودہ بیڑیوں سے آزاد کرنا ھوگا۔ جنہوں نے اسلام، سائینس، اقتصاد، ثقافت غرضیکہ ھرچیزکو جمود کے دھانے پرلا کھڑا کیا ھے۔ ایک اسلامی معاشرہ تب ھی کامیابی کا ضامن ھو سکتا ھے، جب وہ جدید سائنس کے جدید تقاضوں کو قبول کرتا ھے۔ جب وہ سیاسیات، اقتصادیات اورعمرانیات کو جدید تقاضوں کے ساتھ تسلیم کرتا ھو۔

    @azizbuneri58

  • "ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار” تحریر:اقصیٰ احمد خان

    "ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار” تحریر:اقصیٰ احمد خان

    عورت معاشرے کی بنیادی اکائی ہے کائنات کی رنگارنگی اور تنوع میں عورت کا کلیدی کردار ہےاسی اہمیت کے پیش نظر قرآن نے جا بجا عورت کی عظمت اور اہمیت کو اجاگر کیا ہےاور عورت کے وجود کو معاشرے کی تشکیل ،تعمیر اور بقا کا ضامن قرار دیا ہے عورت کی اہمیت کسی لحاظ سے بھی مرد سے کم نہیں۔ ایک مرد علم حاصل کر کے زیادہ سے زیادہ اپنے گھر کے لیے فائدہ دے سکتا ہے جبکہ عورت کی تعلیم کے اثرات گھر اور گھرانے سے بڑھ کر شہر اور معاشرے تک پھیل جاتے ہیں ۔ایک بہترین عورت ہی انسانی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔جب عورت اپنی ذات کی اصلاح کرے اور اسلامی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرے تو معاشرے کو ترقی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔

    باوقار اور اثر انگیز خاندا ن کی تشکیل اور تعمیر میں عورت مختلف روپ میں مثبت کردار ادا کر تی ہے۔

    عورت اجتماعی اور معاشرتی ترقی میں فقید المثال کارنامہ انجام دے سکتی ہے

    اسلام نے واقعی عورتوں کو بہت حقوق دیے ہیں۔ عورت کو بہترین مقام دیا ہے۔ عورت کے لئے جو حقوق اسلام نے دیے ہیں اور جو شرائط اسلام نے بتائی ہے وہ وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ عورت کو اختیار ہے کہ وہ اپنے آپ کو معاشرے کی تعمیر میں استعمال کرے لیکن حدود کے ساتھ۔۔۔عورت کا ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مرد کے ساتھ معاشی طور پر بوجھ اٹھاسکتی ہے۔ لیکن ہمارے آج کے مولویوں نے اور مرد حضرات نے اپنی انا کو اونچا رکھنے کے لئے اسلام کو ہتھیار بناکر بدنام کیا ہوا ہے ۔ ایجوکیشن اور ہیلتھ دو شعبے ایسے ہیں جو مسلمان عورت کے لئے موزوں ترین ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مرد سے عورت کی تخلیق ذرا مختلف بنائی ہے۔ ان دو شعبوں میں مسلم عورتوں کا کردار مسلمہ ہے۔ مسلم سماج میں عورتیں بہتر کردار ادا کررہی ہیں، تاہم ابھی بھی کافی رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے قومی تشکیل میں ان کا کردار کم ہے۔ عورتوں کو ابھی بھی سیکنڈ گریڈ شہری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ ایک عشرے میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔
    آج اگر ہم اپنی خواتین کو دیکھتے ہیں تو وہ نہ صرف گھر میں بلکہ خاندان میں اپنے آپ سے منسلک ہر رشتے کو بڑی خوبصورتی سے نبھا رہی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ سیاسی ، ادبی ، کاروباری ، صحت ، تعلیم ، کھیل جیسا کوئی بھی شعبہ ہو، ہماری خواتین نہ صرف اپنا بلکہ اپنے ملک کا بھی نام روشن کررہی ہیں۔

    تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک معاشرے کی خواتین کی شمولیت نہ ہو۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہرکامیاب مرد کے پیچھے ایک عور ت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے اسی طرح ہر کامیاب معاشرے کے پیچھے خواتین کی محنت اور کردار ضرور ہوتا ہے۔

    آج پاکستان کی خواتین میدانوں میں، فضاﺅں میںاور خلاﺅں میں ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑتی پھر رہی ہیں۔ بے شک یہ ان خاندانوں کی خواتین ہیں جہاں انہیں عزت دی گئی، جن کو انسان تسلیم کیا گیا۔ چاہے ان کا تعلق پسماندہ ماحول سے ہو یا شہر کے گھٹن زدہ ماحول سے ، انہیں جینے کا پورا پورا حق دیا گیا۔ ماں باپ نے انہیں اعتماد اور شعور دیا، اس لئے وہ کسی پر بوجھ نہیں،وہ طاقتور ہیں۔ اس لئے وہ توانا سوچ کی مالک بھی ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کی خواتین خوش قسمت ہیں ۔یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ وہی معاشرہ مضبوط ہوتا ہے جس معاشرے کی عورت مضبوط ہوتی ہے۔

    اقصیٰ احمد خان
    کراچی
    @ShinyAqsa

  • پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایسے وقت میں عوام دوست بجٹ پیش کرکے مخالفین کے منہ بند کردیئے ہیں جب ملک میں کرونا کی عالمی وبا نے معاشی طور پر ایک عام آدمی سے اس کی قوت استطا عت چھین لی ہے بزدار حکومت کی طرف سے یہ بجٹ 2,653ارب روپے کا بجٹ تھا گو اپوزیشن نے حسب روایت لفظوں کی گولہ باری اور الزام تراشی میں کوئی کسراُٹھا نہ رکھی لیکن یہ ایک حقیقت پسندانہ اور متوازن بجٹ تھا جس میں کسی بھی شعبے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا بلکہ 23شعبوں کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا جنوبی پنجاب کے عوام جن کے ذہن میں ایک تصور نے جنم لیا کہ وہ تخت لاہور کے قیدی ہیں اور ان کی قسمت کے فیصلے بھی تخت لاہور ہی کرتا ہے عثمان بزدار کی حکومت میں اس تصور کو یکسر ختم کردیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے ایک بھاری رقم جو 189ارب روپے ہے علیحدہ بجٹ کی شکل میں مختص کردی گئی عوام کی مالی مشکلات تو کسی دور میں بھی کم کرنے کی کاوش نہیں کی گئی، اس سے بڑی اور قباحت کیا ہوسکتی ہے کہ جانے والی حکومت کی ناقص حکمرانی کے باعث 56ارب روپے کے واجب الادا چیکس تھے جس کے ساتھ 41ارب روپے کے اوور ڈرافٹس اور اعلیٰ خدمت کا دھنڈورا پیٹنے والوں نے 8000سے زائد نامکمل سکیمیں آنے والی حکومت کیلئے چھوڑیں زراعت کیلئے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جنہوں نے ایک ایسے شعبے کی تباہی کی بنیاد رکھی جسے وطن عزیز میں سب سے بڑی صنعت قرار دیا جاسکتا ہے اور پاکستان کے 79فیصد افراد کا معاشی انحصار اس شعبے کے ساتھ وابستہ ہے اس شعبے کیلئے پالیسیاں بنانے والے ایسے افراد تھے جن کا زراعت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا اسی طرح سابقہ ادوار میں تعلیم کے شعبہ میں بھی ایسی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جس سے عام فرد وطن پر تعلیم کے دروازے بند ہو گئے کووڈ 19کی وبا نے بھی وطن عزیز میں اپنے خونی پنجے گاڑھ لئے کوئی اور حکومت ہوتی تو شاید حالات اس کے کنٹرول میں نہ رہتے مگر موجودہ حکومت نے اپنی بہترین حکمت عملی کے باعث پاکستان کو ان تین ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا جنہوں نے کووڈ پر قابو پانے میں پہلے تین ممالک کا اعزاز پایا اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے 106ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا جس میں کاروباری طبقہ کیلئے روزگار کی بحالی کیلئے 56ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ریلیف دیا گیا اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تعلیم اور صحت کیلے 205ارب 50کروڑ کی کثیر رقم مختص کی گئی ہے سابقہ ادوار میں ترقیاتی کاموں کا ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن موجودہ دور میں حالیہ بجٹ میں ان کاموں کیلئے 66فیصد زائد رقم کا ضافہ کیا گیا ہے پانچ شعبہ جات جو انتہائی اہم ہیں جن میں صنعت، زراعت،لائیو سٹاک،ٹورازم،جنگلات کے شعبہ جات شامل ہیں کیلئے پہلی بار 57ارب 90کروڑ کی رقم مختص کی گئی یہ اعجاز بھی عثمان بزدار کی حکومت کو ہی جاتا ہے صحت کا شعبہ ہمیشہ سے نظر انداز ہوتا رہا ہے لیکن جنوبی پنجاب خاص طور پر جہاں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں پنجاب کی 11کروڑ آبادی کی ہیلتھ انشورنس ایک طرف صرف ڈیرہ غازیخان ڈویژن کیلئے ہر وہ فرد جو شناختی کارڈ کا حامل ہے کیلئے ”صحت انصاف“کارڈ کی سہولت رکھی گئی اور ساہیوال و ڈیرہ غازیخان میں قومی شناختی کارڈ کوہی صحت انصاف کارڈ کا درجہ دے دیا گیا جنوبی پنجاب جہاں انسانیت بنیادی سہولیات کیلئے ترستی ہے حالیہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے کیلئے کثیر رقم مختص کی گئی، صحت تعلیم اور انفراسٹرکچر کے میدان میں بزدار حکومت انقلاب برپا کرنے جا رہی ہے، پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے۔اگر ہم دیکھیں تو اپوزیشن نے حکومت کے عوام دوست اقدامات پر بھی واویلہ پر ہی اکتفا کیا

    نااہل اپوزیشن کی راہیں جدا جدا ہوچکیہیں اسمبلی میں بھی یہ متفق نہ ہوسکے، ان کو صرف اپنی لوٹ مار اور چوری چکاری بچانے کی فکر رہی، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدانے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر میں عوامی نمائندوں اور عوام کے سامنے بدلتے ترقی کرتے پھلتے پھولتے پنجاب کا نقشہ فارمولا اور روڈ میپ پیش کیا گگیا اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ڈگری یافتہ ایک نسل روزگار کیلئے سرکاری دفاترز کی دہلیز پر دھکے کھا رہی ہے سردار عثمان بزدار کا تعلق چونکہ جنوبی پنجاب سے تھا اس لئے انہوں نے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کی محرومی کا احساس کیا اور صوبائی ملازمتوں میں 32 فیصد کوٹہ مختص کیا۔ میانوالی اوربھکر کو شامل کرنے پرکوٹہ 35 فیصد کردیا جائے گا۔یہ سردار عثمان بزدار کا عہداورعزم تھاکہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے ازالے کو مشن بنا لیا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سابق حکمرانوں نے محروم علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ لاہور میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے دور دراز علاقوں کے مسائل سے یکسر لا علم رہے جب کہ عثمان بزدار نے لاہور میں بیٹھ کر پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کی۔وہ ہر ضلع اورہر تحصیل میں جاکرمسائل اورضروریات کا جائزہ لیتے رہے۔ انہوں نے دیگر علاقوں کی طرح پسماندہ علاقوں میں بھی فلاح عامہ کی سکیموں پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ حالیہ بجٹ سے ایک بات ثابت ہوئی کہ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کی 71 سالہ محرومیوں کے خاتمہ کیلئے وسائل کا رخ جنوبی پنجاب کیطرف موڑ ا جس سے پسماندگی کا خاتمہ اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی کاوش سے جنوبی پنجاب میں ترقی کی نئی راہیں ہموارہونے لگی ہیں۔ جہاں تک جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بہاولپور کا معاملہ ہے تو سیکٹریٹ وہی بنے گا،سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے اورالزامات برائے الزامات کی سیاست میں عوامی خدمت نہیں بلکہ عوام کی خاطر کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کو وطیرہ بنایا گیا۔ پراپیگنڈا کرنے والے عناصرہمیشہ مخصوص ایجنڈا لیکر چلتے رہے۔ ماضی میں جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے بڑے حصے کو ترقیاتی منصوبوں تک سے محروم رکھا گیا۔سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کے لئے مختص فنڈز کو بھی ذاتی پسند کے منصوبوں پر خرچ کیا اور گزشتہ 7برس کے دوران جنوبی پنجاب کو265 ارب روپے کی رقم سے محروم کیا گیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے ترقی وخوشحالی کے منصوبے صرف کھوکھلے نعرے ہی رہے۔موجودہ حکومت پنجاب پورے صوبے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم نا اپنا عزم سمجھتی ہے۔در اصل جنوبی پنجاب کے عوام سے ماضی میں کی گئی زیادتیوں کے ازالے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ پنجاب حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی قسمت بدلنے کیلئے حالیہ بجٹ میں بڑے اقدامات اٹھا ئے اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں 66 فیصد تاریخی اضافہ کیا گیا۔پنجاب کے بجٹ کی شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔صحت کی سہولیات کی فراہمی بھی موجودہ پنجاب حکومت کی اولین ترجیح رہی۔ ہر ضلع کا علیحدہ ڈویلپمنٹ پیکیج بنانا وزیر اعلیٰ کا بہترین اقدام ٹھہرا۔پی ٹی آئی حکومت نے جنوبی پنجاب کے ہر ضلع کو 35 ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ دیکر مثالی بجٹ پیش کیا جس پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار مبارکباد کے مستحق ہیں۔علاقہ بھر میں بجلی کی ترسیل،پینے کے پانی کی فراہمی،ہاکڑہ نہر کی توسیع،ریسکیو 1122 سمیت مختلف شاہرات کے منصوبے منظور ہوئے۔ عوام باشعور ہیں بہتر سمجھتے ہیں کہ اب کسی اور کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگوانے کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود 350ارب روپے سے زائدرقم ترقیاتی کاموں کے لیے جنوبی پنجاب کے لیے فنڈز کا مختص کرنا ترقی کی نوید نہیں تو اور کیا ہے۔پسماندہ ضلع لیہ کے لیے اربوں روپے کی مالیت سے ایم ایم روڈ دورویہ تعمیر،دوسوبستر پر مشتمل چار ارب روپے کی لاگت سے زچہ بچہ ہسپتال و نرسنگ سکول کی تعمیر،50کروڑ روپے کی لاگت سے سیوریج سکیموں کی اپ گریڈیشن،گریٹر تھل کینال فیز llتحصیل چوبارہ کے لیے ساڑھے نو ارب روپے مختص کرنے،حفاظتی و سپربندوں کی تعمیر،ریگولیٹری کے کام کی تکمیل کے لیے فنڈز مختص کرنے،رورل ایریا کی سٹرکات کی درستی کے لیے دس کروڑ روپے،شلٹر ہوم کی تعمیر،سپورٹس کے لیے فنڈز مختص کرنے کے علاوہ 40کروڑ روپے کی لاگت سے لیہ تاجمن شاہ کارپٹ روڈ کی تعمیر،ضلع بھر میں کالجز،سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز کا مختص کیا جانے سے ضلع لیہ کی عوام کی حالات بدلنے،بے روزگاری کے خاتمہ اور روزگار کے مواقع کے لیے ضلع لیہ کی عوام کے لیے یہ بجٹ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • سباکا سے سگ کا سفر .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    سباکا سے سگ کا سفر .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    گو سگ دنیا ہوں پر تنہا خوری مجھ میں نہیں
    ٹکڑا ٹکڑا بانٹ کھایا جو میسر ہو گیا
    امان علی سحر لکھنوی کے اس شعر میں مجھے دل چسپی لفظ "سگ” سے ہے ۔ سگ فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب کتا ہے ۔ لفظ سگ اردو میں بھی مستعمل ہے اور مجازی طور پر رزیل آدمی ، بدکردار و بداطوار کو سگ بولتے ہیں ۔ روسی زبان کا لفظ سباکا (Sabaka) بھی یہی معنی دیتا ہے ۔ اردو زبان کے لفظ "کتا” کو پراکرتی زبان سے لیا گیا ہے ۔ اب اگر اسی روسی لفظ کو لے کر چلیں تو کچھ کتابیں بتاتی ہیں کہ کتے کو سپاک (Spak) کہا جاتا تھا اسی سے سپاکا ہوا جس کا مفہوم "کتے جیسا” ہوتا ہے ۔ یہ آذربائیجان کے قریبی علاقے میں بولی جانے فارسی کی پیش رو زبان تھی ۔ قدیمی اوستا میں آکر یہ لفظ سپان (Span) بن گیا ۔ سنسکرت میں آیا تو ہلکی سی تبدیلی نے شوان (Shvan) کردیا ۔ پشتو زبان الفاظ میں صوتی تبدیلیوں کی وجہ سے اچھی خاصی مشہور ہے ۔ اسی لیے پشتو والوں نے درمیانی راستہ نکالا اور آخری حرف صحیح گرا کر اسے سپے( Spe) کردیا ۔ پشتو کی بہن فارسی نے "سپاک” لے تو لیا لیکن اس میں تبدیلی کرکے حرف "پ” کو گرا کر "سک” یا "سگ” کردیا ۔ بعض ماہرین کے مطابق وسط ایشیا سے ہندوستان پر حملہ آور ہونے والے ساکا قبائل کی اجتماعی شناخت کتا تھی ۔ اب اگر لفظ ساکا اور سباکا کو دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دونوں ایک ہی تھے بس گزرتے وقت نے اسے سباکا کردیا ۔

    پشتون بھائی حیران ہوں گے کہ ان کے سپے کو کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا ہے ۔ اب ذرا سنسکرت کے لفظ شوان پر نظر ماریں اور فرانسیسی زبان کے لفظ شی این (Chien) کو پرکھیں تو عقدہ کھلتا ہے کہ یہ دونوں کس قدر مشابہت رکھتے ہیں لیکن یہ مشابہت اتفاقیہ ہوسکتی ہے کیونکہ یہ لاطینی لفظ Canis سے نکلا ہے جو آگے چل کر Kuon سے نکلا ہے ۔انگریزی کے لفظ Cynic کا مطلب ہے کتے کی مانند ۔ شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "سَگ اَصْحابِ کَہْف روزے چَنْد پئے نیکاں گِرِفْت و مُرْدَم شُد” اصحابِ کہف کا کُتّا چند دن نیکوں کے پیچھے چلا اور وہ آدمی ہوگیا یعنی نیکوں کی صحبت میں برا آدمی بھی نیک ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح سگ آستاں ہے جس کا مطلب در کا کتا ہے ، سگ بازاری آوارہ کتے کو کہتے ہیں اور فارسی کا ہی ایک فقرہ ہے سگ باش برادر خرد مباش یعنی بڑے بھائی کے مقابلے میں چھوٹی بھائی کی توقیر نہیں ہوتی ۔ ہم کتے کے پلے کو کتورا کہتے ہیں اور عام تاثر یہی ہے کہ یہ لفظ کتے سے نکلا ہے ۔ ویسے ایک خیال یہ بھی آتا ہے کہ لاطینی میں پلے کو Catulus کہتے ہیں ۔جسے Canis سے لیا گیا ہے ۔ یہاں انگریزی زبان کا ایک اور معمہ سامنے آکھڑا ہوتا ہے کہ صاحب بصیرت شخص کے لیے لفظ Sagacious مستعمل ہے اور یہ لفظ یونانی مادے Sagax سے ہے اور اس کا مطلب ہے کتے کی قوت شامہ ۔ اس کی صوتی کیفیت فارسی کے لفظ سگ کے کس قدر قریب ہے ۔ اب پھر بات جہاں سے چلی تھی وہی آگئی ہے یہ تو وہی بات ہوگئی کہ کتے کی دم بارہ برس زمین میں گاڑی ٹیڑھی ہی نکلی۔
    آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج کون سا لفظ شروع کرکے بیٹھ گئے ہیں ۔ اس موضوع کو اس لیے چنا کہ رحیم یار خان میں ایک ہی روز میں آوارہ کتوں نے 18 افراد کو کاٹ لیا ۔ یوں 4 دنوں میں سگ گزیدہ 70 کے قریب افراد کو شیخ زائد ہسپتال میں لایا گیا ۔کتوں کو کنٹرول کرنا علاقائی انتظامیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس معاملے میں تجربہ کار بھی ہے اور وسائل میں خودمختار بھی ۔ ضلعی انتظامیہ کا کام ان پر چھوڑئیے کہ وہ خود ہی تنگ آکر ان کو پکڑ لے گی ۔ حضرت غالب کہتے ہیں کہ

    پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسؔد
    ڈرتا ہوں آئنے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس لفظ گزیدہ سے کیا مراد ہے؟ تو اس کا مطلب ہوگا کہ ڈسا ہوا عموماً مرکبات کے جزوِ دوم کے طور پر مستعمل ہوتا ہے ۔

  • چلئے کے چلتی کا نام گاڑی : تحریر عینی سحر

    چلئے کے چلتی کا نام گاڑی : تحریر عینی سحر

    رکئے مت چلتے رہیں ماہرین کیمطابق چلنا صحت کیلئے بے حد مفید ہے یہ جو دل ہے اسمیں جسکو مرضی بسائیں لیکن اسکو چلنے کی ورزش سے چاک وچوبند رکھیں تاکے کسی پر مٹنے سے پہلے خود ہی نہ مٹ جاۓ_ کاہلی چاہے جتنی بھی ہو جم جانے کا وقت نہ ہو تو بھی چلنے کی زحمت کرتے رہئے اس سے بڑھتی ہوئی توند کو افاقہ ہوگا بڑھتے ہوۓ وزن میں لاپرواہ رہنے کی بجاۓ دن میں چند گھنٹے چل لینا آپکے بڑھتے ہوۓ وزن کو تھوڑا بریک لگا لے گا_ اگر اماں بازار سے دہی لانے کو کہہ دیں تو اس پر موٹر سائیکل پر فراٹے بھرنے سے بہتر ہے تھوڑا سا پیدل چل لیاجاۓ اور فضا کو موٹر بائیک کے دھوئیں سے بچا لیا جاۓ

    چلنے سے وزن کم کرنے کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں کے ہوسکتا ہے رشتوں والی مائی کو آپکا رشتہ تلاش کرنے میں آسانی ہو ورنہ موٹاپے کے شکار خواتین اور حضرات کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں

    صحتمند خوراک اور روزانہ کا پیدل چلنا آپکے بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے بیچارابلڈ پریشر جو آجکل کے میڈیا کے ڈراموں ، آلو پیاز مرغی کے گوشت کے بھاؤ کو دیکھ کر بہت بلند ہو جاتا ہے چلنے سے اسکے قابو میں رہنے کا امکان ہے البتہ جتنا مرضی چل لیں آلو پیاز اور مرغی کا بھاؤ قابو میں نہیں آنے والا

    جو کیلوریز موبائل فون اور کمپیوٹر پر جانو مانو کو میسج کرکر کے وزن میں کاہلی سے بڑھتی ہیں اسطرح کی فضول کی کیلوریز چلنے سے جلنا شروں ہوتی ہیں اور جسم کو چاک و چوبند رکھتی ہیں

    ماہرین کہتے ہیں کم از کم چلنے کی ورزش ضرور کریں کیوں کے چلنے سے آپکا موڈ بہتر ہوگا اور بسورتی شکل کو افاقہ ہوگا کیوں کے آپکا مزاج بھی خوشگوار ہوگا جس سے آپکا حلقہ احباب بھی وسعت اختیار کریگا ہوسکتا ہے اس خوشگواری میں کچھ خوش اخلاقی بھی سرایت کرجاۓ اور آپ ہر وقت کی چڑچڑاہٹ سے نجات پائیں

    چلنے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کے اس سے آپکی یادداشت بہتر ہو سکتی ہے _ ایسے میں آپکو گھر کے بل اور محلے کی خالہ کو کمیٹی کے پیسے وقت پر دیتے میں مدد ملے گی

    یادداشت کی بہتری سے سبق بھی یاد رہے گا اور امتحان میں نقل کرنے کی محتاجی نہیں ہوگی _ اور امتحان کا نتیجہ آنے کے دنوں میں جو پریشانی کے دورے پڑتے ہیں ان سے نجات ملے گی _

    چلنے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کے اس سے آپکے اعصاب مضبوط ہونگے _ جو آپکو اماں اور ابا جی سے پڑنے والی جھڑکیوں پر مضبوط بناتے ہوۓ صبر عطا کریگی.
    اسلئے چلتے رہئے اس کو اپنا معمول بنا کر خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر صحتمند رکھئے کیوں کے چلتی کا نام گاڑی ہے

  • ‏”تعلیم” .تحریر:سعدیہ ناز

    ‏”تعلیم” .تحریر:سعدیہ ناز

    کیا کبھی ہم نے لفظ تعلیم پر غور کیا ہے؟ تعلیم ہے کیا؟ اور جو ہم تعلیم لے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ شاید ہم نے کبھی اس چیز پر غور ہی نہیں کیا، یا ہمیں اس چیز کی ضرورت ہی نہیں پڑی.
    تعلیم کی بنیادی معنی ہے "علم حاصل کرنا” اور علم حاصل کرنے کا مطلب شعور کا آ جانا اور جب شعور آ جاتا ہے تو ہم ہر چیز سے واقف ہو جاتے ہیں،ہمیں اچھے اور برے کا مطلب سمجھ آ جاتا ہے،ہمارے دل میں انسانیت جاگ جاتی ہے،ہمیں لوگوں کی مدد کرنا سمجھ آ جاتا ہے اور سب سے بڑی چیز ہم ایک اچھے انسان بن جاتے ہیں جس کی ہمارے معاشرے کو بہت ضرورت ہے،وہ اچھا انسان جو لوگوں کے کام بنا مطلب اور بنا رشوت کے کرے،وہ اچھا انسان جو محنت سے ایمانداری سے اپنا کام کرے اپنے ملک کا نام روشن کرے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے..آپ نے دیکھا ہوگا تعلیم سے ہم کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے، میرا مقصد اصل میں یہ سمجھانا تھا کہ اگر ہم علم حاصل کرنے کی وجہ سے تعلیم لیں گے تو اس کے کتنے فوائد ہیں اور اس سے ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں.

    سب سے پہلے ضروری چیز جو ہم تعلیم لے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ اگر میں یہ کہوں کے وہ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے تو بلکل بھی غلط نہیں ہوگا کیوں کہ ہم جو آج کل تعلیم لے رہے ہیں وہ فقط "ڈگری” ہے ۔اگر ہم لفظ ڈگری پر چلے گئے تو اس کے بھی بہت زیادہ مطلب نکل آئیں گے بہرحال ہم اس پر نہیں جا رہے لیکن ہمیں ڈگری اور تعلیم میں فرق جاننا بھی بہت ضروری ہے۔
    یہ 2021 چل رہا ہے آج کل بچے جو اسکول جاتے ہیں وہ تعلیم نہیں بلکہ ایک ڈگری لینے جاتے ہیں ایک فرسٹ کلاس کی ڈگری.اس چیز میں بچوں کا کوئی قصور نہیں بچے تو جو اسکول ،گھر اور معاشرے میں سُنیں گے ،دیکھیں گے تو وہ وہی کریں گے۔اگر ہم گھر کی مثال لیں تو والدین اپنے بچوں کو کہتے ہیں بیٹا/بیٹی تم نے کلاس میں فرسٹ آنا ہے اور فرسٹ کلاس کی ڈگری لینی ہے،تمہارا فلاں کے ساتھ مقابلہ ہے دیکھتے ہیں تم کیا پوزیشن لیتے ہو تم نے بس نمبر ون کی ڈگری لینی ہے جیسے ہم اپنے آس پاس، پڑوس، رشتےداروں کو بتائیں ہمارے بچے بہت قابل اور ذہین ہیں پہلے نمبر کی پوزیشن اور ڈگری لے کر آئیں ہیں۔اور یہی چیز اسکول میں استاد کرتے ہیں مقابلہ کراتے ہیں پوزیشن کا ۔اب آپ خود سوچیں جب بچہ اسکول اور گھر میں یہ سب سُنے گا تو وہ تعلیم نہیں بلکہ نمبر ون کی ڈگری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔اور اس سب میں تعلیم جو بنیادی چیز ہے وہ چلی گئی پیچھے .

    اور جب یہ ڈگری والے لوگ نمبر ون ہائے فائے نوکری کرنے لگتے ہیں تب وہ اپنے دل میں ایک چیز رکھتے ہیں وہ یہ کہ”ہم نے اتنے پیسے بھر کے اچھے ڈگری لی ہے تو اب ہمیں وہ سارے پیسے دوسرے لوگوں سے وصول کرنے ہیں۔اب اس کی مثال ایک ڈاکٹر کی لیں جو پیسے بھر کر ایک اعلیٰ ڈگری لے کر آیا ہے ،تو وہ کہے گا مجھے یہ پیسے اپنے مریضوں سے علاج کی صورت میں وصول کرنے ہیں۔ایسی بہت ساری مثالیں ہیں ہمارے معاشرے میں ڈگری یا فتہ لوگوں کی جو پڑھ کر ڈگری تو لے لیتے ہیں لیکن افسوس وہ علم جو بنیادی چیز ہے اسے حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں.

    اگر ہم چاہتے ہیں ہماری آنے والی نسل اچھے انسان،اچھے شہری ،اچھے پاکستانی بنے تو ہمیں چاہیے ہم انہیں وہ علم دیں جو ان کے بھی کام آئیں اور دوسرے لوگوں کے بھی۔ جسے حاصل کر کے انہیں سب سے پہلے خود کی اچھے سے پہچان ہو پھر اپنے آس پاس کے لوگوں کی.اور اس چیز کے لیے ضروری ہے ہمارے والدین،بزرگ اور ہمارے استاد جو بچوں کو صرف علم لینا سکھائیں اور علم حاصل کر کے ایک اچھا شہری بننا سکھائیں جس کے دل میں انسانیت اور ہمدردی ہو لوگوں کے لیے.

    "ہمارے معاشرے اور ملک کو علم والے لوگوں کی ضرورت ہے”

  • مہنگائی۔  تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم
    زیادہ سے زیادہ سال میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ ھماری بجلی کے طلب 25ہزار میگا واٹ تک آتی ہے ۔

    جو یہ کرکے گئے 2028 تک انہوں نے مزید 30ہزار میگا واٹ بجلی معاہدوں میں add کرلی، مطلب 25+30 ہزار ٹوٹل 55ہزار میگا واٹ ، مثلاً

    سال بھر میں 25 ہزار میگا واٹ بھی صرف زیادہ سے زیادہ دو مہینے ملک کی ضرورت ہوتی ہے سردیوں میں یہ کھپت 16ہزار میگا واٹ سے بھی کم لیکن 2028 کے معاہدوں تک مُسلم لیگ ن نے 55ہزار میگا واٹ کے معاہدے کیئے اب آپ چاہے 20 ہزار بجلی استمال کریں لیکن پیسہ قوم نے 2028 تک 55 ہزار میگا واٹ کا ھی ادا کرنا ہے ۔

    اب یہ پیسے ہیں کتنے ؟؟

    جب 2013 میں نواز شریف کی حکومت آئی تو اُس وقت قوم معاہدوں کے مطابق سالانہ 180 ارب ادا کررہی تھی ۔

    اُسکے بعد 2018 میں جب تحریک انصاف کی حکومتِ آئی تو معاہدوں مطابق 450 ارب ادا کرنے تھے ۔

    اب اِس وقت اُسی سودوں کے مطابق 700 ارب سالانہ ہے اور 2023 تک یہ رقم 1100 ارب تک پہنچ جائے گی ۔

    اور 2028 تک یہی معاہدوں کی وجہ سے سالانہ رقم 6 ہزار ارب سے بھی تجاوز کر جائے گی ۔

    مطلب اگر 2028 تک پاکستان کی بجلی کی ضرورت 20 ہزار میگا واٹ بھی ہوئی تو پیسے ہم نے 55ہزار میگا واٹ کے ہی دینے ہیں ۔

    اور یہ ساری بجلی مہنگے آئل ، گیس ، کوئلے سے پیدا ہورہی ہے ،

    •آئل مہنگا امپورٹ ہونے سے بجلی مہنگی
    •ایل این جی سے بجلی پیدوار ایک نقصان جبکہ ٹرمینل کا کارگو کھڑا ہونے سے اُسکے چارجز الگ ۔
    •کوئلے کی بجلی بھی وُہ کہ پاکستان کا کوئلہ چھوڑ کر باہر سے امپورٹ کوئلہ پہلے کراچی پورٹ پر آتا ہے پھر کراچی سے ساہیوال تک پہنچتے ڈیڑھ روپیہ فی ٹیرف کا خرچہ ٹرانسپورٹ کی صورت بڑھ جاتا ہے ۔

    جبکہ اِسی دوران ہم ہوا، پانی ، اپنے کوئلے سے بجلی پیدا کرسکتے تھے ۔

    لیکن نواز شریف حکومت نے اپنے فرنٹ مینوں کے زریعے کّک بیکس کی خاطر سب کچھ کیا اور قوم کی پسلیوں سے پیسہ نکال لیا ۔

    اِس سال پاکستان کا ٹوٹل بجٹ 8ہزار ارب خسارے کے ساتھ تھا ۔

    2028 تک 6ہزار ارب روپیہ بجلی کی کمپنیوں کو فالتو دینا پڑے گا ۔

    اندازہ کرلیں شریفوں نے جو اِس قوم کے ساتھ کیا جو شاید فرعون نے اپنی رعایا کے ساتھ بھی نہ کیا ہو
    Twitter handle, @IbrahimDgk1

  • عمران خان عظیم مسلم رہنما .تحریر :فضیلت اجالہ

    عمران خان عظیم مسلم رہنما .تحریر :فضیلت اجالہ

    عمران خان مسلم سیاست کا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے جس نے 22 سال طویل سیاسی جدوجہد کے بعد 18 اگست 2018 کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا۔
    کرکٹ ہو یا سیاست ، عمران خان نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی اپنے ملک کی شبیہہ کو داغدار کیا۔
    خواہ وہ شوکت خانم ہسپتال ہو یا وزارت کی کرسی ، عمران خان کا مقصد صرف انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔
    عمران خان دنیا سیاست میں ایسا عظیم پاکستانی لیڈر ہے جس کے نام،کام اور شہرت کے چرچے صرف ایشیاء میں ہی نہی بلکہ یورپی ممالک میں بھی زبان زد عام ہیں ۔
    عمران خان کے عظیم نظریے اور شاندار قیادت کی بدولت پاکستان اپنی کھوئی ہوئی شناخت واپس حاصل کرنے کی شاہراہ پر گامزن ہے
    ۔قائداعظم کے بعد ، عمران خان پاکستانی تاریخ کے واحد رہنما ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی اور امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔
    عمران خان نے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور کشمیر کے بارے میں غیر متزلزل موقف اختیار کرتے ہوئے اتنی خوبصورتی سے کشمیر کامقدمہ لڑا کہ آپ کے الفاظ کی گونج پوری دنیا نے سنی ۔عمران خان نے جس طرح یورپ کی سرزمین پہ کھڑے ہو کہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہ لاالہ اللہ کہا وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا ۔

    عمران خان نے مسلمانوں کے قائد ہونے اور سچا عاشق رسول صل اللہ علیہ وسلم ہونے کا حق ادا کیا۔ یورپی ممالک کو حضور اکرم) کے حرمت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
    ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کیا اور بھارتی ظلم و بربریت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی ۔ سابقہ ​​حکومتوں کے برعکس عمران خان نے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا، انہوں نے نہ صرف مودی کے سفاک چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ، بلکہ بھارتی مسلح افواج کے ذریعہ کشمیریوں کی نسل کشی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اقوام متحدہ کو اس کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔عمران خان کے علاوہ یہ جراءت ماضی کے کسی حکمران نے نہی کی ۔ انہوں نے فرانس کے توہین آمیز خاکوں کے خلاف بات کی اور دنیا کو بتایا کہ نبی اکرم مسلمانوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔اور دنیا کو صاف الفاظ میں یہ واضح کیا کہ دنیا ادھ کی اُدھر ہو جائے ہم ناموس رسالت قوانین پر کوئ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    عمران خان نے تمام مسلم رہنماؤں کو ناموس رسالت کے سلسلے میں خطوط لکھے اور انہیں دعوت دی کہ وہ مل کر توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کریں۔طویل عرصہ گزرنے کے بعد ، پاکستان کو ایک عظیم قائد ملا ہے جس کا سیاست میں آنے کا مقصد ذاتی مفاد نہیں بلکہ ریاست مدینہ کی تشکیل ہے۔ جس نے لندن میں جائیدادیں نہیں بنائی ، جس پر بدعنوانی کا الزام نہیں جس کے بیرون ممالک خفیہ اثاثے نہیں ہیں۔
    خان وہ لیڈر ہے جسے پاکستان کی معزز عدالت نے ایماندار اور قابل اعتماد قرار دیا ہے۔

    ۔ 27 فروری 2020 کو عمران خان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کو واپس کر کے دنیا کو امن کا ایک مثبت پیغام دیا ۔انھوں نے دنیا کو بتایا کہ ہم اسلام کے پیرو کار ہیں اور ہمارا مزہب ہمیں امن اور محبت کا درس دیتا ہے ، ہم امن کے شریک ہوں گے اور کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے .
    عمران خان کے ماحول دوست اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ یہ عمران خان کی بے لوث قیادت اور عظیم نظریہ تھا جس کی بدولت پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار 5 جون 2021 کو عالمی یوم ماحولیات کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

    وزیر اعظم عمران خان اور ان کی بہترین پالیسیوں کی بدولت ، پاکستان نے جس طریقے سے کورونا وائرس پر قابو پالیا ہے ، اس کی بین الاقوامی سطح پر تعریف کی جارہی ہے،اور عمران خان کی پالیسیوں کو اپنایا جا رہا ہے
    کوویڈ ۔19 کے باوجود پاکستان نے اکانومی میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔خارجہ پالیسی میں عمران خان کی حکومت کے تحت پاکستان نے عمدہ پیشرفت کی ہے ، اس کے نتیجے میں ، دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور بہت سے ممالک نے پاکستان کی طرف دو طرفہ تجارت کا ہاتھ بڑھانا عمران خان کی با صلا حیت قیادت پر اظہار اطمینان ہے
    جو لوگ عمران خان کو سلیکٹڈ کہتے ہیں وہ یہ بات جان لیں کہ عمران خان کو اللہ رب العزت نے اس ملک کے لئے منتخب کیا ہے ، اور عمران خان اپنے عوام کو نا کبھی کسی کے سامنے جھکنے دیں گے اور نا ہی اپنی عوام کو مایوس کریں گے ۔
    عمران خان امید کی کرن ہے۔

  • زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    سردی کا موسم تھا اور ایک بوڑھا آدمی گھر پر اکیلا تھا اسے چائے کی طلب ہو رہی تھی اس کی بیوی اور بیٹا دونوں مارکیٹ گئے تھے اس نے سوچا ان کے آنے کا انتظار کرنے کی بجائے کیوں نہ اٹھ کر خود ہی چائے بنا لی جائے ابھی اس نے چائے بنانا شروع ہی کی تھی کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی اس کے بیٹے کا فون تھا وہ اسے بتا رہا تھا کہ بیس منٹ میں وہ لوگ گھر پہنچ جائیں گے اور یہ کہ کیا آپ کے لیے کچھ لے کر آئیں باتوں کے دوران اس آدمی کو خیال ہی نہ رہا اور اس نے بے دھیانی میں چینی کے چار چمچ چائے میں ڈال دیئے جب اس نے چائے کا سیپ لیا تو میٹھا بہت ہی زیادہ تھا اتنی میٹھی چائے پینا بہت ہی مشکل تھا بوڑھا آدمی سوچ میں پڑگیا کہ اب وہ کیا کرے چائے میں ڈالی ہوئی ہے ایکسٹرا چینی کو باہر واپس کیسے نکالے کیا وہ ایسا طریقہ ہو جس کی مدد سے تین چمچ چینی چائے سے باہر نکال پائے اور چائے کا ذائقہ ایک دم فرسٹ کلاس ہو جائے لیکن دوستوں یہ ناممکن تھا

    زندگی میں کچھ چیزوں کی واپسی نہیں ہوتی ان کو ہم undo نہیں کر سکتے جیسے جو پانی ایک بار بہ جائے وہ واپس نہیں آتا جو تیر کمان سے نکل جو بات منہ سے نکل جائے جو وقت ایک بار گزر جائے وہ کبھی دوبارہ نہیں آتا ایسے ہی کچھ چیزیں جو زندگی میں ایک بار ہو جائیں وہ بس ہوجاتی ہیں ان کو واپس نہیں کیا جاسکتا زندگی میں کوئی undo button نہیں ہوتا چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا لیکن پھر بھی اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ تھا چائے میں چینی کم کرنے کا اس کو پینے کے قابل بنانے کا ایک ہی طریقہ تھا وہ یہ کہ اس چائے میں دو کپ اور دودھ ڈال دیا جائے اور اس بوڑھے آدمی نے ایسا ہی کیا اور اب اس کے پاس چائے کے ایک کپ کی بجائے تین کپ تھے جو اپنی بیوی اور بیٹے کو دے سکتا تھا دوستو زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے زندگی میں بعض دفعہ کچھ ایسی غلطیاں کچھ ایسی غلط چیزیں کچھ ایسی واقعات کو ہی جاتے ہیں انجانے میں ہو جاتے ہیں جو ہمیں تکلیف دیتے ہیں جن کا ہمیں افسوس رہتا ہے 😊 جن کو ہم بدلنا چاہتے ہیں ہماری کچھ غلط چوائسز کچھ غلط فیصلے غلط انویسٹمنٹ کچھ ایسے غلط الفاظ جو ہم بول جاتے ہیں جو ہمارے منہ سے نکل جاتے ہیں اور ہم انہیں واپس نہیں لے سکتے undo نہیں کر سکتے ایسا نہیں کہ ہم کوشش نہیں کرتے ہم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں چیزوں کو بہتر کرنے پر کام کرتے ہیں لیکن جن چیزوں کو ہم بدل نہیں سکتے انہیں ریورس نہیں کر سکتے undo نہیں کر سکتے تو انہیں بدلنے کی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے رہنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کی کوشش کرنا جو ہم کبھی نہیں کر پائیں گے

    غلط چیزوں کو ٹھیک کرنے یا ریورس کرنے پر ٹائم ضائع کرنے کی بجائے ان پر ہی فوکس کرنے کی بجائے زندگی میں کچھ نئی کچھ اچھی چیزیں ایڈ کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں غموں کو مٹانے یا دکھوں کو ختم کرنے پر پر فوکس کرنے کی بجاۓ زندگی میں خوشیاں ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ وہ خوشیاں آٹومیٹکلی غم کو ختم کردینگی غم ان کے سامنے چھوٹا بھی پڑ جائے گا جب کچھ مسائل کچھ پرابلم ہماری زندگی میں ایسی ہو جو ان کو کنٹرول نہیں کر پاتے جن کو حل نہیں کر پاتے انہیں حل کرنے کی کوشش چھوڑ دینی چاہیے اور زندگی میں کچھ ویلیو ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مثبت ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے چائے میں سے اگر چینی نکالنی ہے تو اس میں تھوڑا
    سا دودھ ملانا چاہیے اگر آپ کے بچے کا کھلونا کسی نے توڑ دیا ہے اور کوشش کرنے پر بھی آپ اس کا جوڑ نہیں پا رہے اور بہت اداس ہے دکھی ہے تو کھلونا جوڑنے کی کوشش کرتے رہنے کی بجائے اسے کہیں گھمانے لے جائیں اس کو خوشیاں وہ خود ہی کھلونا بھول جائے گا

    @Kashii_Back