Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    سوشل میڈیا پر لوگ ہر قسم کے تبصرے کرتے ہیں جن میں سے کچھ یہ کہہ رہے ہوتے کہ عورت کا لباس کا یا اکیلے نکلنے کا ریپ سے تعلق نہیں جب کہ دوسری طرف کچھ لوگ اس کو ریپ کی وجہ بتاتے ہیں

    تمام باتوں پر اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معاشرے میں زیادتی کا تعلق عورت کے لباس سے ہو یا نہ ہو لیکن یہ intentional relation invitation ضرور ہے یہ راستہ ہم نے خود ہی چنا ہے ایک مثال سے سمجھاتی ہوں

    اگر آپ کے سر میں درد ہو اور ڈاکٹر آپ کو دوائی دے اور آپ ڈاکٹر کو کہیں کہ نہیں میں اپنی بیماری خود ڈھونڈ کر دوا استعمال کروں گاآپ ایسا کرلیتےہیں لیکن آرام آنے کی بجائے سر درد مزید بڑھ جاتا ہے تو اس میں آپ کس کو قصور وار ٹھہرائیں گے خود کو یا ڈاکٹر کو

    اسی طرح اللہ نے ہمیں قرآن دیا ایک بہترین نظام دیا ہمیں شرعی سزاوں کا بتایا اور کہا اسے فالو کرو نافذ کرو کامیاب رہو گئے لیکن کیا ہم نے وہ راستہ اپنایا؟ وہ نظام نافذ کیا؟
    فحاشی اور بے حیائی بڑھتی جارہی ہے عورتوں کو اپنی عزت کا احساس نہیں ماں باپ اولاد سے بے خبر ہیں وقت پر شادیاں نہیں کرتے یہ سب کہیں نہ کہیں وجہ ہے زیادتی کی

    آپؐ نے کتنی قربانیاں دیں کتنےصحابہ کرام شہید ہوئے انہوں نے نظام قائم کیالیکن ہم کیا اس نظام قائم کر پائے ہم اپنے ہاتھوں سے معاشرے کو جہنم بنا رہے ہیں

    ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں مجرم گرفتار ہوجائیں تو کچھ دن بعد باہر ہوتے ہیں قانون عدالتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے مجرم میں خوف ختم ہوگیا ہے طاقتور مافیا پشت پناہی کرتا ہے اور یہی مافیا اللہ کا نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسلامی سزاوں کے نفاظ کی مخالفت یورپ کی خوشنودی ہے

    آپ ایک منٹ کے زرا سوچیں زناکار زمین میں آدھا دھنسا ہوا اور ہر طرف سے پتھر ہی پتھر برس رہے ہوں کوئی پتھر سر پر لگے اور کوئی آنکھ پر یہ سوچ کر ہی ہمیں خوف آنے لگتا
    تو اگر یہ سزا نافذ کر دی جائے اور ایک بار کسی کو دے دی جائے سرعام تو کیا لوگوں کی روح نہیں کانپیں گی کسی بھی لڑکی کا ریپ تو کیا آنکھیں اٹھانے سے بھی اجتناب کریں گے یہ واحد حل ہے لڑکیوں کے تحفظ کا جو کہ ریاست دے سکتی ہے اس کے علاوہ حجاب کو لڑکی کے لیے لازمی قرار دیا جائے نکاح کو آسان بنایا جائے فحاشی سے بھرپور ڈراموں اور فلموں پر پابندی لگا دی جائے

    والدین اپنے بچوں کی جسمانی تربیت کے ساتھ ذہنی تربیت کریں تو ہی اس سے نجات پائی جاسکتی ہےجب تک ہم شریعت پر عمل نہیں کریں گے شریعت کے مطابق سزائیں نافذ نہیں کریں گے اللہ کا نظام نہیں لائیں گے ہم زلیل ہوتے رہیں گے

    اللہ پاک سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے

    آمین

    ‎@DarakhshanR786

  • گالم گلوچ سے ہوائی  فائرنگ تک .تحریر: آیاز محمد

    گالم گلوچ سے ہوائی فائرنگ تک .تحریر: آیاز محمد

    ہم ایسے نوجوان جن کو سیاست کا شوق اور سیاسی قیادتوں بارے حال احوال جاننے کا چسکہ پڑ گیا ہے ، بہت مشکل اور کنفیوژ ہیں۔اخبارات ہو ،رسائل ہو،سوشل میڈیا ہو یا دوستوں کی مجلس ،موضوع اگر سیاست ہو تو لازما اخلاقی حدود کو پامال کیا جاتا ہے اور تو اور قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہو ،کسی اہم موضوع پر بحث ہورہی ہو اور ایسے میں آپ کا شوق اور چسکہ اسمبلی کی آن لائیو ٹرانسمیشن دیکھنے پر مجبور کرے ،آپ ٹی ون آن کریں تو ایسی ہلٹر بازی ، الزام تراشی اور بھونڈے انداز میں گفتگو کی جارہی ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ ۔پاکستانی ڈرامے مفت میں بدنام ہیں کہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھے جاسکتے ۔اپنا خیال تو ہے کہ قومی اسمبلی ،سینٹ اور دیگر صوبائی اسمبلیوں میں جو گفتگو کی جاتی ہے وہ بھی کسی صورت مہذب ماحول میں سنی نہیں جا سکتی ۔
    ایک زمانہ تھا کہ کہا جاتا تھا کہ مہذب لوگوں کا سیاست سے کیا لینا دینا، وجہ شاید یہی تھی کہ سیاست میں دلیل اور موقف کی طاقت کی بجائے ترش روئی ،سخت انداز گفتگو اور کرخت لہجہ کی طاقت مانی جاتی ہے ۔ دوسروں پر الزام تراشی بھلے خود آپ میں کوئی صلاحیت نہ ہو۔آج کے پڑھے لکھے اور آکسفورڈ سے فیض یافتہ وزیر اعظم ہی کو لے لیں کہ دس منٹ بھی کسی ایسے موضوع پر بات نہیں کرسکتے جہاں دوسروں پر الزام اور تنقید نہ ہو۔کہاں آئیڈیلزم کی باتیں اور کہاں یہ طرز گفتگو، بہر حال آج کا نوجوان بھی سمجھتا ہے کہ مہذب لوگوں کا سیاست سے کیا کام ؟

    اس انداز سیاست کا سب سے برا اثر ہماری نجی زندگی پر پڑا ہے ۔زندگی میں کچھ لمحات بہت حسین ہوتے ہیں ،یاد گار ہوتے ہیں ،سیاسی افراتفری اور شدت پسندی نے ان لمحات پر بھی گہرا اثر چھوڑا ہے ۔
    مثلا میں یونیورسٹی کا طالب علم ہوں ۔ایک نارمل صلاحیت والا طالب علم جو کالج اور یونیورسٹی دور میں کہ ایک طالب علم تعلیم حاصل کرنے کی لذت میں سرشار رہنا چاہتا ہے اور تعلیم کے بعد بچا کچھا وقت قہقہوں ،کھیل کود اور دوستوں کی مجلس میں گذارنا چاہتا ہے ۔صحت مند اور مثبت مباحث کا حصہ بننا چاہتا ہے ۔لیکن جب کبھی یونیورسٹی سطح پر کسی ایسی ایکٹویٹی کے انعقاد کی بات آئی ،تو یہی سوال اٹھا کہ شرکاء مجلس کون ہو ؟ وہی پارٹی بازی کہ فلاں پارٹی کی لوگ ہو اور فلاں کے نہیں ،پھر جیسے تیسے کرکے مجلس منعقد بھی ہوتی ہے تو وہی الزامات کہ تمھارے لیڈر نے یہ کیا اور میرے لیڈر نے یہ ۔۔یوں کسی مثبت بحث کے بغیر مجلس ختم ۔

    میں پشتون دیہاتی ماحول میں پلا بڑھا ہوں،ہمارے ماحول میں مسجد اور حجرہ بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔ محلے محلے ججروں کا رواج صدیوں پرانا ہے ۔محلے کے جوان ،بوڑھے ادھیڑ عمر مغرب یا عشاء کے بعد ان حجروں میں آتے ہیں ،گپ شپ کی مجلس لگتی ہے ،بزرگ اپنے تجربوں سے آگاہ کرتے ہیں ،نوجوان اپنی تعلیم پر گفتگو کرتے ہیں ،ملازم پیشہ اپنی دلچسپی کے موضوعات پر بات چیت کرتے ہیں ،تاجر اور کسان اپنی اپنی بات کرتے ہیں ۔بنیادی طور حجروں کا یہ ماحول سکول یونیورسٹی کی طرح روایتی تعلیمی ماحول تو نہیں ہوتا لیکن ان حجروں کا مستقل حاضر باش عملی زندگی میں بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے۔لیکن یہ تب کی باتیں ہیں جب ان حجروں میں منافرت نہیں تھی ،سیاست نہیں تھی ،اب تو یہ حجرے کم اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس ایسے مناظر زیادہ پیش کرتے ہیں۔ایک ہی خاندان ، ایک ہی گھر میں بھائی بھائی کے تعلقات پر اس طرز سیاست نے گہرا منفی اثر چھوڑا ہے ۔

    اب ذرا مسجد کی حالت کو دیکھیں ۔ کل کی خبر ہے کشمیر میں انتخابات ہورہے ہیں ۔علی امین نے گنڈا پور نے فائرنگ کردی ۔مریم نواز نے یہ کہہ دیا ،مراد سعید نے فلاں پر الزام لگادیا ،بلاول بھٹو نے عمران خان کو کشمیر فروش کہہ دیا اس حد تک تو سب برداشت ہے اور اب تو عادت بن چکی ہے ۔ لیکن گذشتہ کل کشمیر کے شہر راولا کوٹ کی خبر ہے۔جو ایک دوست نے واٹس اپ پر شئیر کی ہے “مرکزی جامع مسجد راولاکوٹ پی ٹی آئی کے حق میں تقریر کرنے پر نمازیوں کا رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے پیچھے نماز جمعہ پڑھنے سے انکار کر دیا مسجد میں شور شرابہ اور ھنگامہ آرائی اور مولانا عبدالخبیر آزاد نماز جمعہ چھوڑ کر فرار ھوگی ت ، بمشکل جان بچا کر بھاگ نکلے بعد میں ھنگامہ آرائی رکنے پر کچھ لوگوں نے نماز جمعہ دوسرے مولوی صاحب کے پیچھے ادا کی اور کچھ لوگ بغیر جمعہ کی نماز ادا کئے مسجد سے چلے گئے یہ اپنی نوعیت عجیب اور پہلا واقعہ راولاکوٹ کی کسی مسجد میں پیش آیا جس پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ھے اور مذمت بھی کی جاتی ھےواقعہ کی تفصیلات سے آگاہی کے لئے راولاکوٹ کے آج بروز ہفتہ کے اخبار پرل ویو اور دیگر ملاحظہ کریں یا مسجد میں موجود مقامی نمازیوں سے رابطہ کریں”
    حقیقت یہ ہے کہ اسمبلی میں گالم گلوچ ، اب سر عام فائرنگ اور اب مسجدوں میں یہ سیاست بازی ہمارے معاشرے کی اخلاقی کمزوری کی علامات ہیں ،معاشی کمزوری کے اتنے نقصانات نہیں ، دفاعی کمزوری کے بھی اتنے دیرپا نقصانات نہیں ہونگے ۔لیکن اخلاقی کمزوری معاشروں کے وجود کو ختم کردیتی ہے ۔ہمارے سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا کہ کہیں وہ ملک کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے کمزور کرنے کے بعد دانستہ یا نادانستہ اخلاقی کمزوری کے جرم کے مرتکب تو نہیں ہورہے ؟

  • ‏پاک بھارت ٹاکرا ایک بار پھر سے . تحریر: محمد وقاص عمر

    ‏پاک بھارت ٹاکرا ایک بار پھر سے . تحریر: محمد وقاص عمر

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا میلہ سجنے جا رہا ہے ۔ترجمان آئی سی سی کے مطابق سپربارہ ٹیموں کے گروپ ٹو میں پاکستان اورانڈیا کے ساتھ افغانستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں بھی شرکت کریں گی۔ سپر12 کے گروپ ون میں ساؤتھ افریقاآسٹریلیا، انگلینڈ، آسٹریلیااورویسٹ انڈیزکی ٹیمیںمد مقابل ہوں گی۔گروپ ون اورٹو میں مزید دوکوالیفائرٹیمیں بھی ہوں گی۔ اسی کے ساتھ راؤنڈ ون کے گروپ اے میں سری لنکا آئرلینڈ، نیدرلینڈزاورنمیبیا کھیلیں گی۔ راونڈ ون کے گروپ بی میں بنگلہ دیش، اسکاٹ لینڈ، پاپوا نیوگنی اورعمان جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021کے گروپس کا اعلان کردیا گیا۔ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ ٹو میں شامل کیا گیا ہے۔ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 17 اکتوبرسے عمان اور یو اے ای شروع ہوگا۔آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی میزبانی انڈیا کر گا۔پہلے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ انڈیا میں ہی شیڈیول تھا مگر بھارت میں کرونا کی خراب صورتحال کی وجہ سے اسے یو اے ای اور عمان میں شفٹ کر دیا گیا۔

    پاک بھارت مقابلہ دیکھنے کے لیے دونوں ملکوں بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی سریز نے ہونے ہونے کی وجہ سے ہمیں یہ موقع صرف بڑے ایونٹس میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔پچھلی بار جب دونوں حریف ٹیمیں مدمقابل ہوئی تھیں تو پاکستان نے انڈیا کو چمپین ٹرافی کے فائنل میں شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا تھا۔

    ایک اندازے کے مطابق جب پاکستان اور انڈیا کا چمپین ٹرافی کے فائنل میں جوڑ پڑا تو تقریبا 400 ملین افراد نے اس مقابلے کو دیکھا۔اس بات سے آپ اندازا لگا سکتے ہیں پاک بھارت ٹاکرا دیکھنے کے لیے شائقین کرکٹ کتنے بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔خیر اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں کیونکہ 17 اکتوبر سے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ شروع ہونے جا رہے ہے اور پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔

  • کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت/ ستارہ بسالت  تحریر: ایمان ملک

    کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت/ ستارہ بسالت تحریر: ایمان ملک

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی قیمتی جانیں گنوائیں وہیں اس جنگ کے نتیجے میں متعدد سیاہ ترین واقعات بھی ہماری یاداشتوں کا حصہ بنے جو ہرگز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ مگران سب سیاہ ترین واقعات میں جو امتیازی مقام جولائی سنہ2007ء کے سانحے کو حاصل ہے اس کی نظیر دیگر اقوام کی تاریخ میں شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ جب سنہ 2007ء میں پاکستان کے دارلحکومت، اسلام آباد کے وسط میں واقع ایک مسجد(لال مسجد) دہشت اور خوف کی علامت بن کر سامنے آئی۔ وہ مسجد جسے امن کا گہوارہ اور خیر کا وسیلہ ہونا چاہیئے تھا اُس نے ریاستی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ذاتی شرعی عدالت قائم کرنے کا اعلان کردیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کی صورت میں خود کُش حملوں کی دھمکی بھی دی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تین چینی خواتین اور دیگر افراد کو قابلِ اعتراض بیوٹی پالر چلانے کے الزام میں لال مسجد اور جامعہ حفضہ کے طلبہ و طالبات نے گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں، اسلام آباد کی رہائشی ایک خاتون پر فحاشی کا اڈا چلانے کا بہتان لگا کر اسے نہ صرف اغواء کیا گیا بلکہ اس پر ڈنڈوں سے تشدد بھی کیا گیا۔ اسی اثناء میں 4 پولیس کے اہلکاروں کا اسلحہ چھین کر انہیں یرغمال بھی بنایا گیا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ مولونا غازی عبدالرشید(مولانا عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی) کی جانب سے قائد اعظم یونیورسٹی کی طالبات کے چہروں پر تیزاب پھینکنے اورمولانا عبدالعزیزکی جانب سے ایک فیشن میگزین کے منتظمین کو سزائے موت کا حکم سنانے جیسے گھناؤنے اقدامات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح کیا۔ حتٰکہ ان کے قہر سے معصوم بچوں کی لائبریری اور دیگر سرکاری املاک بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔

    ایسی گھمبیر صورتحال کا مقابلہ کرنا پاکستان کے لئے ہرگز کسی کڑی آزمائیش سے کم نہ تھا۔ ایک طرف ریاست کی عمل داری کی بحالی کا سوال تھا تو دوسری طرف معاشرے کے ان غریب اور مسکین بچوں کی جانوں کی فکر جو اس مسجد کے انتہا پسند نظریات اور ذاتی ایجنڈے کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مدارس ان ہزاروں ناداراورمفلس بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں جن کی ضروریات ان کے غریب والدین پورے نہیں کر سکتے اور یہی وجہ تھی کہ لال مسجد اور جامعہ حفضہ و جامعہ فریدیہ کے طلبہ و طالبات نے اپنے مدرسے کے منتظمین کے حکم پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے بندوقیں اٹھا لیں۔
    لال مسجد کی میڈیا کوریج کے دوران ایسے مناظر بھی عکس بند ہوئے جب یہ نوجوان اپنے منہ ڈھانپے اور گیس ماسک پہنے ہوئے دکھائی دیئے۔ جو کہ حیرت انگیز بات تھی کیونکہ اس قسم کے ماسکزسے ایک آدھ گھنٹے میں عادی ہونا کسی بھی انسان کے لئے ہرگز ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے مہینوں پر محیط ایک مکمل تربیت درکار ہوتی ہے ورنہ انسان کو قے ہونے لگتی ہے۔ ان نوجوانوں کی ماہرانہ جنگی صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ اُن میں سے ایک نے تواچھے خاصے فاصلے سے ایک رینجر کے اہلکار کے سر پر نشانہ لے کر اُسے شہید کر دیا۔
    بہرحال پاکستان نے پُرامن طریقے سے ان معاملات سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کی اوراس ضمن میں سیاستدانوں، سماجی کارکنوں حتٰکہ اس وقت کے امامِ کعبہ کی بھی خدمات حاصل کیں۔تاکہ کسی طرح یہ نوجوان طلبہ اور طالبات ہتھیار ڈال دیں اور پُر امن طریقے سے یہ معاملہ اختتام پزیرہوجائے۔ بہت سی طالبات نے تشدد کا راستہ ترک بھی کیا اوران کے ہی بھیس میں لال مسجد اور مدرسے کے منتظمین مولانا عبدالعزیز اور اُمِ حسان نے بھی مسجد میں اپنے دیگر طلبہ کوتنہا چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرنا چاہی مگر وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آگئے۔ پاکستان نے مولانا عبدالرشید کو بھی اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے اور انہیں ان کے آبائی علاقے میں محفوظ ٹھکانہ دینے کی شرط پر ہر ممکن آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے اور انہوں نے مزاحمت کے راستے کو ترجیح دی۔
    بالاآخر 10 جولائی سنہ 2007ء کو علی الصبح پاک فوج کے اسپیشل سروس گروپ(ایس ایس جی) کےاعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز پر مشتمل دستہ تشکیل دیا گیا تا کہ آپریشن کیا جا سکے۔ مگر اس دوران بھی حکومتِ پاکستان کی ہر ممکن کوشش تھی کہ کسی طرح بنا آپریشن کے معاملات طے پا جائیں۔ عموماً اس طرز کے آپریشنز کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب عسکری اعتبار سے آپریشنز کی کامیابی کے لئے نہایت سودمند سمجھا جاتا ہے۔ مگر حکومتِ پاکستان نے اس وقت کوبھی صرف اس لئے ضائع کیا کیونکہ وہ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مگر بد قسمتی سے اس سب کے باوجود حکومتِ پاکستان کی کوششیں کارگر ثابت نہ ہو سکیں۔ اور بالاآخر ریاست کے پاس بذریعہ ملٹری آپریشن(آپریشن سائیلینس) ملک کی تاریخ کے اس سیاہ ترین باب کوبند کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
    اس ملڑی آپریشن میں حصہ لینے والے پاکستان کے بیٹوں میں سے ایک نام کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت، ستارہ بسالت کا بھی ہے جو آج بھی ایس ایس جی کے چند بہترین کمانڈوز میں شمار ہوتے ہیں۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان آفیسر کی پاکستان کے لئے دی جانی والی خدمات کا سلسلہ اتنا طویل ہے کہ یہاں اس کا صرف مختصراً ذکر کرنا ہی ممکن ہوگا۔

    کیپٹن سلمان نوعمری ہی سے پاک فوج کے دلدادہ تھے اسی لئے وہ بحیثیت کمیشنڈ آفیسر پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے مگر ان کے والدین انہیں ڈاکٹر بنانے پر مصر تھے۔ کیپٹن سلمان نے اپنی ہمشیرہ کی معاونت سے بڑی مشکلوں سے اپنے والدین کی منت سماجت کر کے انہیں منایا۔ اور اس طرح انہیں103پی ایم اے لانگ کورس کے ہمراہ پاک فوج میں شمولیت اختیارکرنے کاموقع ملا۔
    کیپٹن سلمان نے پاک فوج میں اپنی افتادِ طبع کے مطابق ایس ایس جی گروپ کا انتخاب کیا اور بعد ازاں وہ اس کی ایک اینٹی ٹیررسٹ کمپنی’ قرار کمپنی’ سے منسلک ہو گئے۔ پاکستان کے اس جری سپوت نے سنہ 2004ء کے دوران جنوبی وزیرستان میں بھی انسدادِ دہشت گردی کے ضمن میں ‘آپریشن المیزان’ کے دوران اپنی خدمات سرانجام دیں، جب ہمارے قبائلی علاقہ جات دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ کیپٹن سلمان کو قبائلی علاقہ جات میں ان کی گراں قدر خدمات سرانجام دینے کے عوض صدر جنرل مشرف کی جانب سے تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ اس کے بعد بھی انہیں مزید ایک بار تمغہ بسالت کے لئے نامزد کیا گیا مگر انہوں نے یہ کہ کر اُسے لینے سے انکار کر دیا کے باقی سپاہیوں کا بھی حق ہے لہٰذا یہ اعزازدیگر افسران میں سے کسی کودے دیا جائے۔

    اپنے مزاج سے اپنے افسران اور دیگر ساتھیوں کے دلوں کو گھر کرنے والے کیپٹن سلمان شہید کے جونیئر آفیسر کیپٹن بلال ظفر شہید اس قدر ان کے مداح تھے کہ وہ ہمیشہ اپنی جیب میں کیپٹن سلمان کی تصویر رکھتے تھے کیونکہ وہ ان کے لئے ایک استاد کا درجہ رکھتے تھے۔
    کیپٹن سلمان کی شادی کے موقع پر(لال مسجد آپریشن سے 8 ماہ قبل) ان کی ہمشیرہ نے ان کی شہادت سے متعلق خواب دیکھا جس سے وہ قلبی اضطراب میں مبتلا ہو گئیں۔ ایسے ہی متعدد خواب کیپٹن سلمان کی شہادت سے قبل کیپٹن سلمان نے خود اور خاندان کے دیگر افراد نے بھی دیکھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خوابوں کو اس وقت مقبولیت بخشی جب وہ آپریشن سائیلینس کے لئے لال مسجد میں اپنے دیگر ساتھیوں سمیت داخل ہوئے۔ کسی نے بھی یہ گمان نہیں کیا تھا کہ محض عام سے مدرسے کے طلبہ سے انہیں اس قدد مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس مدرسے کے نام نہاد طلبہ کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے خلاف راکٹ لانچرز،ہینڈ گرینیڈز اورمشین گنز کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ غرض یہ کہ پوری لال مسجد اور جامعہ حفظہ(خواتین کے مدرسے) کا احاطہ بوبی ٹرایپ تھا اور بیشتر جگہوں پر بارودی سرنگوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ اس طرح حربی حکمت عملی کے اعتبار سے پورے علاقے کو تیار کرنا محض مدرسے کے عام سے طلبہ کی بس کی بات نہیں لگتی۔ وہاں یقیناً تربیت یافتہ دہشت گرد موجود تھے اسی لئے جامعہ حفضہ کی صرف سیڑھیوں پرہی ایس ایس جی کے چار جوانوں کا شہید ہو جانا ہرگز اچنبھے کی بات نہیں۔
    کیپٹن سلمان کے ساتھ اس وقت آپریشن میں موجود ایک لانس نائیک کے مطابق کیپٹن سلمان نے ہی انہیں پیچھے دھکیل کر ان کی جان بچائی جب ایک گرینیڈ ان کے پاؤں کے قریب آکر گرا۔ کیپٹن سلمان کے دیگر ساتھیوں اوراس آپریشن میں شریک ان کے دوستوں کے مطابق کیپٹن سلمان بہت محتاط تھےاورانہوں نے ہرممکن کوشش کی شرپسند خود ہتھیار ڈال دیں مگر ان کی کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔

    اِدھر کیپٹن سلمان کے چھوٹے بھائی نے خواب دیکھا کہ کیپٹن سلمان انہیں خدا حافظ بول رہے ہیں۔ اور کیپٹن سلمان کی ہمشیرہ نے شہادت کے کلمات، اور اپنے بھائی کی شہادت کے اعلانات ہوتے ہوئے دیکھے۔ اُدھر کیپٹن سلمان اپنے وطن کی حفاظت کے عہد کو نبھاتے ہوئے اپنی آخری سانسیں بھی اس وطن پر نچھاور کر گئے۔ ایس ایس جی کے اس بہادر بیٹے کو آٹھ گولیاں لگیں جن میں سے ایک ان کےسر سے گزرتی ہوئی ان کی گردن میں لگی اور کیپٹن سلمان کو شہادت کے اعلیٰ ترین رتبے پر فائز کر گئی۔ اور یوں عظمت و ہمت کی یہ داستان سنہری حروف کے ساتھ عسکری تاریخ میں محفوظ ہو گئی۔ کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید کو بعد از شہادت ان کی ملکی دفاع سے متعلق لازوال خدمات کے اعتراف میں ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔ اس طرح ابھی تک وہ واحد شہید آفیسر ہیں جو تمغہ بسالت اور ستارہ بسالت دونوں اعزاز پانے کا شرف رکھتے ہیں۔
    لہٰذامذکورہ بالا حقائق کے پیشِ نظر اس امر کا ادراک کرنا ہرگز دشوار نہیں کہ ریاستِ پاکستان نے بذریعہ مزاکرات ان معاملات کو طے کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایک ہاتھ سے نہیں۔ آج اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ لال مسجد آپریشن میں ناحق لوگوں کو مارا گیا کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پاک فوج کے 10 تربیت یافتہ کمانڈوز کو کس نے شہید کیا؟ درجنوں کمانڈوز زخمی ہوئےاورمتعدد کی ٹانگیں لال مسجد اور جامعہ حفضہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نزر ہو گئیں۔ کیا یہ سب پاکستان کے بیٹے نہیں ہیں؟ جو اپنے لواحقین کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑکرملکی دفاع کے لئے ہمہ وقت قربان ہونے کو تیار کھڑے رہتے ہیں۔ اوراس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ آج بھی پاکستان کے ان قومی ہیروز کے اہلِ خانہ خوف کے سائے میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے مجرم پاکستان کے دارلحکومت میں آج بھی دندناتے پھرتے ہیں۔
    ایمان ملک

  • باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    امریکہ جس طرح افغانستان سے اپنا بوریا بستر گول کر کرتا جا رہا ہے اس طرح افغانستان طالبان کے قبضے میں تیزی سے آرہا ہے. خطے کے تمام ممالک اس پیش رفت سے پریشان ہیں. طالبان مختلف ممالک سے لگنے والی سرحدی علاقوں پر قبضہ اور اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے جا رہے ہیں. ایران سے لگنے والی سرحد کاروباری راستے ” اسلام قلعہ ” ترکمانستان سے لگنے والی سرحدی علاقے پر کنٹرول کے بعد پاک-افغان سرحد پر کاروباری راستے ” باب دوستی ” پر بھی قبضہ کرلیا ہے اور آنے جانے کا وہ اہم راستہ بند ہوگیا ہے. بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ پاکستان سرحدی شہر چمن کے ساتھ لگنے والے افغان علاقے ویش منڈی پر طالبان کی موجودگی کی آگاہی دے دی گئی ہے اور پاکستان کے اس پار افغان علاقے میں طالبان کے جھنڈے نظر آرہے ہیں…

    افغانستان سے امریکہ کے بھاگ جانے کے فیصلے اور اس پر عمل کرنے کے بعد غیریقینی کی دھند نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے. افغانستان کے بڑے بڑے علاقوں پر طالبان کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے. کابل انتظامیہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جا رہی ہے. افغان طالبان نے مذاکرات میں عالمی طاقتوں کو انسانی حقوق, اور خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت نہ کرنے سمیت جتنی خاطریاں کروائی تھیں وہ بہتی ہوئی نظر آرہی ہے. افغان سرکاری فوج کے جوان جان بچا کر بھاگ گئے. کئی افغانستان سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ترکمانستان میں پناہ لے لی ہے. اور جو ہتھیار ڈال رہے ہیں انکو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے کر عالمی اصولوں اور معاہدوں پر عمل کرنے کی بجائے ان کو مارا جا رہا ہے. طالبان کی اس وقت جنگ افغان سرکاری فورسز کے ساتھ چل رہی ہے تاکہ پورے ملک پر کنٹرول حاصل کیا جائے. پر دوسرا مرحلہ ان قوّتوں سے ٹکراؤ کا ہے جو افغانستان میں اختیار اور اقتدار کے خواہشمند ہیں مطلب کہ وہ ” وار لارڈز ” بھی لڑنے کی تیاری میں ہیں جنہوں نے 90ع میں مخالفین کی گردنیں کٹوا کر ان سے فٹبال کھیلے یاں کٹی گردنوں میں سوراخ کر کے ان میں موم بتیاں جلا کر جیت کا جشن منایا. اس ساری صورتحال کا جس ملک پر زیادہ اثر پڑے گا وہ ملک پاکستان ہے. ویسے بھی افغانی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے رہے ہیں اور پاکستان بھی افغان پناہگیروں کی 40 سال سے زائد عرصے سے مہمان نوازی کا رکارڈ قائم کر چکا ہے ان کی اس ملک میں آبادکاری کی سرکاری سطح پر بالواسطہ یا بلاواسطہ صحولتکاری ہوتی رہی ہے. صورتحال زیادہ خراب ہوئی تو نہ صرف پاکستان پر افغان پناہگیروں کا وزن بڑھے گا بلکہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ افغانی پناہگیروں کے شکل میں دہشتگرد بھی آ سکتے ہیں جو ایک حقیقت ہے. پاکستان حکمران یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ طالبان کو پاور ملنے سے پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان مضبوط ہوگی. زبانی باتیں ہو رہی ہیں ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو غیر سنجیدگی ہی نظر آرہی ہے. پاکستان میں دہشتگردوں کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں جس کا ایک ثبوت دو دن پہلے صوبے خیبر پختون خواہ کے ضلع کرم میں دہشتگردوں سے مقابلہ ہے جس میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے ہیں. ہمارے حکمرانوں نے اگر سنجیدگی سے کام نہ کیا تو عالمی قوتیں جن کے اس خطے میں مفاد ہیں اور دہشتگرد اس ملک کو میدان جنگ بنا سکتے ہیں. اس وقت ہی پاکستان کے تفریحی مقامات مری اور دوسری کئی جگہوں پر طالبان کے حق میں نعرے اور ان کے حق میں سرگرمیاں رپورٹ کی گئی ہیں.

    پاکستان خطے میں ہونے والی تبدیلیوں, افغانستان میں ہونے والی نئی پیش رفت اور عالمی طاقتوں کی مفادات کی جنگ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا. ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ساری صورتحال کو عقابی نظر سے دیکھا جائے اور ساتھ ساتھ ایسے اقدامات نہ اٹھائے جائیں جو پاکستان اس ساری تبدیلی اور ٹکراؤ کا تختۂ مشق بن جائے. افغانی پناہگیروں کا وزن اٹھانے کا مقصد ہوگا کہ اس ملک میں نئی جنگ اور خطرے کو اس ملک میں راستہ دینا. اس لئے پرامن افغانستان پاکستان سمیت پورے خطے کے حق میں بہتر ہے اس لئے افغانستان معاملے کی سیاسی حل کی کوششیں کرنی چاہئیں

  • بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    جنوبی کوریا میں بجلی بنانے والا ایسا بیت الخلا تیار کیا گیا ہے جسے استعمال کرنے پر کرپٹو کرنسی بھی ملے گی۔

    باغی ٹی وی:"رائٹرز” کے مطابق جنوبی کوریا میں السان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی (یو این آئی ایس ٹی) کے شہری اور ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر چو جا وون نےچو جائی ویون نے اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر ماحول دوست ٹوائلٹ ڈیزائن کیا ہے بائیوگاس اور کھاد تیار کرنے کے لئے اخراج کو استعمال کرتا ہے۔

    تیار کردہ بیت الخلا کو “بی وی” کا نام دیا گیا ہے اور یہ ایک خاص طرح کے ٹینک کے ساتھ منسلک ہے جس میں انسانی فضلے سے میتھین گیس اور کھاد بنانے والے جراثیم بھی بند کیے گئے ہیں۔

    انسانی فضلہ ایک ویکیوم پمپ کے ذریعے فلش کیا جاتا ہے جس کے لیے پانی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ فضلہ ٹوائلٹ سے ٹینک میں پہنچتا ہے اور جرثومے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

    پروفیسر چو جائی ویون کہتے ہیں کہ ایک انسان یومیہ اوسطاً 500 گرام فضلہ خارج کرتا ہے جس سے 50 لیٹر میتھین گیس بنائی جاسکتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ میتھین گیس کی یہ مقدار اتنی ہے کہ اس سے لگ بھگ 0.5 کلوواٹ گھنٹہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جو ایک برقی کار کو 1.2 کلومیٹر تک لے جانے کےلیے کافی ہے۔

    پروفیسر چو جائی ویون نے ’’جی گول‘‘ کے نام سے ایک کرپٹو کرنسی بھی متعارف کروائی ہےجو ٹوائلٹ استعمال کرنے والے کو معاوضے کے طور پر دی جائے گی۔

    چو کےمطابق ماحول دوست دوستانہ ٹوائلٹ استعمال کرنے والا ہر فرد ایک دن میں 10 جی گول حاصل کرسکتا ہے طلباء اس کرنسی کا استعمال کیمپس میں سامان خریدنے کے لئے کر سکتے ہیں ، تازہ بریڈ کافی سے لے کر انسٹنٹ کپ نوڈلز ، پھلوں اور کتابیب تک خرید سکتے ہیں۔طلباء اپنی مصنوعات کو اپنی دکان پر اٹھا سکتے ہیں اور جی کول کے ساتھ ادائیگی کے لئے کیو آر کوڈ اسکین کرسکتے ہیں۔

    جی گول مارکیٹ میں پوسٹ گریجویٹ طالب علم ہی ھوئی جن نے کہا ، "میں نے کبھی سوچا تھا کہ یہ گندا ہے ، لیکن اب یہ میرے لئے بہت اہمیت کا خزانہ ہے۔”

    واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

  • ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    کیا آپ جانتے ہیں
    جو ترازو عدالت کے باہر لٹک رہی ہوتی ہے وہ انصاف کی قیمت اپنے اپنے وزن کے مطابق طے کرنے کے لیئے ہوتی ہے۔
    عوام تو بھولی بادشاہ، عدل کے وہ پلڑے سمجھ بیٹھی جو انصاف دیا کرتے ہیں۔
    بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ جھوٹ بیچنے، کمانے اور کھانے والے کرپٹ ترین وکلاء جن پر سیاستدانوں کی نظر کرم نے جج کا تمغہ عطا کیا ہو وہ نیک اور صالح لوگ عوام کو انصاف دے سکیں؟
    جو جتنا بڑا چور، غنڈہ اتنا ہی اثرو رسوخ والا وکیل!
    جس کے نام سے جج کی بھی ٹانگیں کانپتی ہوں!
    یہ کہاں ہوتا ہے؟
    جی ہاں یہ سب ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے
    آخر یہ سب کب تک چلے گا؟ کب تک ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ کا وقار اسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟
    کیوں انصاف کرنے والا بلا خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں رکھتا؟
    کیوں ایک غریب پھانسی کے پھندے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور ایک سیاسی گدھ کے تمام گناہ یا تو معاف کر دیئے جاتے ہیں یاتو سیاسی مصلحتوں کا شکار کر دیئے جاتے ہیں۔
    کیوں سیاسی مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا؟

    اگر ہو بھی تو لولا لنگڑا
    آخر کیوں
    ایان علی کیس رزلٹ صفر
    ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
    ڈاکٹر عاصم کیس رزلٹ صفر
    سستی روٹی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    احد چیمہ صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
    بینظیر ایئر پورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
    رئیسانی حرام کمائی گھر سے برآمد رزلٹ صفر
    شرجیل میمن کرپشن کیس رزلٹ صفر
    صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    ماڈل ٹاون کیس رزلٹ صف
    شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر
    مجید MPA اہلکار قتل کیس رزلٹ صفر
    بلدیہ ٹاون کیس رزلٹ صفر
    سانحہ ساہیوال کیس رزلٹ صفر
    شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
    پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
    راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
    حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
    فائز عیسی کیس رزلٹ صفر

    کیا کبھی نیک اور دیندار لوگ جو آخرت اور یوم حساب کا خوف رکھتے ہوں انصاف کی کرسی پر بیٹیں گے؟
    کیا کبھی قرآن و سنت کے مطابق نظام عدل قائم کیا جاسکے گا؟
    کیا انگریز کا دیے ہوئے نظام عدل میں اسلامی اقدار اور قرآن و سنت کے مطابق ترامیم کر کے عملاً رائج کیا جا سکے گا؟
    کیا نظام عدل کے بنیادی اصول جو کہ اصل میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔۔۔ ایمانداری، نیک نامی، دیانتداری، امانتداری نہیں ہونے چاہئیے؟

    کیا ہمارا معاشرہ ان تمام بنیادی اسلامی اقدار اور رہنما اصولوں سے بہت دور نہیں نکل آیا؟

    کیا یہ تمام خوبیاں ہمیں اپنے نظام میں کہیں نظر آتی ہیں؟
    تو پھر کیوں نا ملک بھر کے غیر سیاسی اور نیک نامی علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے قابل نوجوانوں کو قانون کے شبعہ میں لایا جائے؟
    دین جن کے سینوں میں ہو گا
    جنہیں کم از کم خوف خدا تو ہو گا
    جنہیں سچ اور جھوٹ کی تمیز تو گی
    جنہیں ناانصافی کرنے اور جھوٹ کا ساتھ دینے پر اللہ کا خوف تو آئے گا
    جنہیں رشوت کے عوض انصاف بیچنے پر عذاب الہی تو یاد ہوگا اور خوف خدا سے انکے ہاتھ تو کانپیں گے

    کیونکہ عدل و انصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے
    اگر معاشرہ عدل وانصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ ظلم و جبر کی آماجگاہ تو ضرور بن سکتا ہے مگر صالح معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    عدل و انصاف کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے
    یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اخلاقی و معاشرتی احکام کے ساتھ عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے
    ارشاد باری تعالی ہے
    ” اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے”

    تحریر۔: زمان خان
    ‎@Zaman_Lalaa

  • ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سیاسی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان جو چند سالوں میں میں بڑی جماعت ابھری اس کے بانی حضور امیرالمجاہدین امام خادم حسین رضوی نے 2017 میں اس اس پارٹی کو بنایا جو دیکھتے دیکھتے عروج پر چلی گئی اور آج پاکستان کی بڑی طاقت بن چکی ہے تحریک لبیک پاکستان جہاں اسلام کی ترجمانی کرتی ہے لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتی ہے وہی مختلف مواقع پر جب ناموس رسالت ﷺ ختم نبوت ﷺ پر حملے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے ن لیگ کے دور میں تحریک لبیک ناموس رسالت ﷺ پر پہرا دیتی رہی لیکن جو ظلم ن لیگ کے دور میں قائدین تحریک لبیک اور کارکنان پر ہوا اس سے کئی گناہ زیادہ ظلم پی ٹی آئی حکومت میں ہو جو ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتی ہیں فرانس کے سرکاری سطح پر رسول اللّٰہ ﷺ کی گستاخی ہے یہ کوئی نارمل بات نہیں سرکاری سطح پر گستاخی ہو اور حکومت پاکستان خاموشی تماشائی بنی رہے یہ بہت بڑی بات ہے یہاں معلوم ہوتا ہے حکومت نے انگریزوں کی غلامی قبول کی ہوئی یے بہرحال تحریک لبیک نے حکومت سے مطالبہ کیا فرانس کا سفیر نکالا جائے لیکن حکومت ٹال مٹول سے کام لیتی رہی تحریک لبیک نے مارچ کا اعلان کیا تو حکومت نے کچھ دیر پہلے تحریک لبیک کے امیر علامہ سعد حسین رضوی صاحب کو گرفتار کرلیا ملکی کریک ڈاؤن شروع ہوگیا

    پاکستان کے مختلف شہروں میں لبیک والوں نے دھرنے دیئے حکومت نے سر توڑ کوشش کی مظالم کے پہاڑ توڑے گئے عشقان رسول ﷺ پر بہرحال جب حکومت کامیاب نہ ہوئی معاہدہ کرلیا گیا جس کو بعد میں توڑ دیا گیا یعنی وعدہ خلافی حکومت کیونکہ تحریک لبیک سے خوف زدہ ہوچکی تھی کہی ان کی حکومت نہ چلی جائے یا فرانس ناراض ہوگیا تو انکی غلامی کو خطرہ ہوگا اسی وجہ سے حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگادی جو کہ ابھی مکمل لگی نہیں کیونکہ یہ حکومت نے اپنے تحت کیا جو کہ ایک سیاسی جماعت کا دوسری سیاسی جماعت کو کلعدم کردینا کہی درست نہیں یہ صرف تخت کا کمال ہے کیونکہ وہ حکومت میں جو ہے پاور تو استعمال کریں گی لیکن طاقتیں ساری اللّٰہ کی ہیں پاکستان کی ایک بڑی مقبول ترین جماعت جس کے کروڑوں کارکنان ہیں اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے ؟؟ جس قانون کے تحت حکومت نے پابندی لگائی وہ تو یہ کہتا ہے اگر کوئی گروہ ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے بغاوت کریں فوج سے لڑے بم دھماکے کرے اسکو کلعدم کیا جاسکتا یے

    اب بات یہ ہے تحریک لبیک کے پاس تو ایک پٹاخہ برآمد نہیں ہوا نہ یہ کسی ایسی ایکٹویٹی میں پائی گئی یہ تو واحد جماعت ہے جو الیکشن کمیشن سے کلئیر ہے جن کی حکومت ہے وہ خود الیکشن کمیشن سے کلئیر نہیں دوسری جماعتیں اپنے مخالف حکومت کے دور میں مظاہرے کرتی رہی ہیں جیسے پی ٹی آئی کا 126 دھرنا سول نافرمانی ہے ٹی وی پر حملہ ایسے سب جماعتیں ملکی املاک کو نقصان پہنچا چکی ہیں لیکن انکو آج کلعدم نہیں کیا گیا ؟؟؟ اصل میں تحریک لبیک حکومت کیلئے خطرہ بن چکی ہے کیونکہ حکومت بے نقاب ہورہی ہے روزانہ حکومت کی اسلام مخالف پالیساں واضع ہورہی ہیں اب بات حکومت نے ایک بڑی جماعت کو کلعدم کردیا لیکن یہ ایک لمبا پروسس ہے الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں باقاعدہ اسکا ہونا باقی ہے ایسے کسی جماعت پر پابندی نہیں لگ سکتی یہ تو حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس وجہ سے اندھا دھندہ دیوار سے ٹکرے مار رہی ہیں بہرحال یہ پاکستانی قوم کیلئے لحمہ فکریہ ہے یہ حکومت اتنی بڑی جماعت کو پابندیاں لگا سکتی ہے تو یہ ملک کو کچھ بھی نقصان دہ سکتی ہیں

  • ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    وطن سے محبت ہر پاکستانی کے دل میں ہے وطن کی خاطر جان مال نچھاور کرنے والوں کی ایک طویل داستان ہے جس پر لکھنا شروع کیا جائے تو الفاظ ختم ہو جائے گے حب الوطنی نہیں خیر میرا موضوع آج کچھ ہٹ کر ہے وطن سے محبت میں کچھ لوگ وردی میں ملبوس ہوکر اس کے دفاع کے لئے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اس کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں دن رات کوشاں رہتے ہیں کچھ سرحدوں پر کچھ وطن کے اندر کچھ نظر نہیں آکر مختلف انداز میں ملک سے محبت اور اس کا دفاع کیا جاتا ہے مگر کچھ سالوں سے ایک نیا طریقہ جسے ہم سوشل میڈیا جنریشن وار کے طور پر جانتے ہیں شروع ہوا جس کے بارے میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نا واقف تھی اس وار کے مرکزی لیڈ ہیرو کو میں جناب آصف غفور کے طور پر جانتا ہوں جنہوں نے پاکستان کے سوشل میڈیا پر صرف یہاں وہاں کے ٹائم پاس کرنے والے ایکٹیوسٹوں کو ایک نظریہ اور لائن کھینچ کر دی کے کس طرح دشمن سوشل میڈیا کے زریعے ہمارے ذہنوں کو ملک کے خلاف استعمال کرکے اپنے ملک اور اداروں کے خلاف کرنا چاہتے ہیں

    آصف غفور صاحب کی کھینچی گئی وہ لائن جس سے لاکھوں پاکستانی سوشل میڈیا جنریشن وار کے سپاہی کے طور پر سامنے آئے اور ملک کی خاطر جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جو آصف غفور صاحب نے شروع کیا تھا وہ مستقل جاری وساری ہے نوجوان نسل سوشل میڈیا جنریشن وار کو بہتر انداز میں لڑ رہا ہے ملک دشمنوں کو ہمیشہ ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے نوجوانوں نسل آصف غفور صاحب کی شکر گزار ہیں کے جن کی بدولت آج ملک کے دفاع میں وہ گھر بیٹھ کر کالجوں دفتروں سے بھی ملک کی خدمت کا موقع حاصل کررہی ہے اور ملک کے دشمنوں کی کسی بھی چال کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں بننے دیگی پاکستان کا بچہ بچہ پاکستان ذندہ باد کے نعروں کو اپنے آخری خون کے قطرے تک لگاتار لگاتا رہے گا افواج پاکستان کی قربانیوں کو ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کا سبب بھی بنے گا انشاء اللہ

  • انشاءاللہ پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ون سیریز جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے      بابر اعظم

    انشاءاللہ پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ون سیریز جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے بابر اعظم

    پاکستان کے قومی کرکٹر اور کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ابتدائی چند گیندیں احتیاط سے کھیلیں گے-

    باغی ٹی وی :پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ون سیریز کے میچ میں محمد رضوان کے ساتھ پارٹنر شپ پر 150 رنز بنانے پر بابر اعظم نے کہا کہ اننگز کے آغاز میں محمد رضوان کے لیے مشکل ہوئی تو خود چارج لیا تاکہ پریشر نہ آئے،شروع میں ہر اوور میں دس یا آٹھ رنز بنانے کی حکمت عملی پر کاربند تھے-

    بابر اعظم کا کہنا تھا کی شروع میں ڈیوڈ ویلے کو پچ سے مدد مل رہی تھی انشاءاللہ سیریز جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے-

    قومی کرکٹر محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ہم دونوں کی کامیابی میں سب سے اہم بات ہماری کریز پر مشاورت ہوتی ہے دوسرے اینڈ پر کھڑے ہوکر آپس میں مشاورت کرتے رہتے ہیں-

    محمد رضوان نے کہا کہ میری رننگ بہتر بنانے میں بابر اعظم کا کردار اہم ہے میں تو کیرئیر کے آغاز میں بہت مرتبہ رن آؤٹ ہوا مگر کپتان کے ساتھ کریز پر رننگ شاندار رہتی ہے-

    انہوں نے کہا کہ پارکنسن آیا تو کپتان نے سیدھے بیٹ سے کھیلنے کا مشورہ دیا اب ہمارا مومنٹم بن گیا ہے، سیریز جیت سکتے ہیں-