Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ؛تحریر: محمد عدنان شاہد

    ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ؛تحریر: محمد عدنان شاہد

    ھمارا معاشرہ جہاں اور بہت سے مسائل کا شکار ہے وہیں پر ایک مسئلہ اچھے رشتوں کا ہے_
    وا لدین کا اپنے بچوں کے لیے اچھے اور مناسب رشتے تلاش کرنا ایک بڑا صبر آزما اور تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے_

    سب سے پہلے رشتے کروانے والوں کو پیسے بٹورنے کا موقع ملتا ہے جو ایک بے جوڑ رشتے کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جیسے یہ دنیا کا بہترین جوڑ ہو_ رشتہ دیکھنے کے لیے آنے والوں پر بے جا اسراف کے ذریعے خوب پیسہ لگایا جاتا ہے_ جبکہ آخر میں جواب کے انتظار کی اذيت سے سا رے خاندان کو گزرنا پڑتا ہے_ جس کا سب سے بڑا شکار خصوصی طور پر لڑکیاں ہوتی ہیں_ جو بار بار شو پیس کے طور پر آنے والو ں کے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور جن پر سوالوں کی بھرمار کی جاتی ہے_

    خوش قسمتی سے اگر رشتہ پکا ہو جائے تو تحفے تحائف اور رسومات کی صورت میں جو کہ فرائض سے ذیادہ اھم تصور کیے جا تے ہیں بے انتہا پیسہ اڑایا جاتا ہے خواہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے_ الغرض یہ کہ شادی ایک خوبصورت خواب ہونے کے باوجود ایک خوفناک اور ایک تکلیف دہ حقیقت بن چکی ہے_

    آج کل نفسا نفسی کا دور ہے ہمارے معاشرے میں لاتعداد مسائل نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے ان مسائل میں ایک اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی ،خوب رو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرکے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں

    دلہن بننا ہر لڑکی کا خواب ہی نہیں اسکا حق بھی ہے لیکن افسوس اسے اس حق سے محض غربت کے باعث محروم کر دیا جاتا ہے انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہم جہیز کو لعنت کو تو کہتے ہیں مگر پھر بھی لینے سے باز نہیں آتے !
    جہیز ایک لعنت ہی نہیں معاشرے کا ناسور ہے جس پر قابو پانا بہت ضروری ہے !!!

    بات ساری احساس کی ہے ، اگر ہم سب اپنی اپنی اصلاح کر لیں تو بہت جلد معاشرے سے یہ لعنت ختم کی جا سکتی ہے اور بہت سی غریب بچیوں کا گھر بس سکتا ہے !

    الله پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے. آمین

  • بچوں کی تربیت کے اصول .تحریر: ماشانور

    بچوں کی تربیت کے اصول .تحریر: ماشانور

    بچوں کو صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی ہے ترقی یافتہ دور میں جہاں آج انگلیوں کی مدد سے گھنٹوں کا کام منٹوں میں موبائل کمپوٹر پر ہوجاتا ہے وہی بہت سے رشتوں میں دوری کی وجہ یہ ٹیکنالوجی بھی ایک اہم ایشو ہے والدین بچوں پر وہ توجہ نہیں دے پارہے جو ماضی میں دی جاتی تھی اسکول سے ملنے والا کام ماں باپ خود چیک کرتے تھے آج کوچنگ پر پیسہ لگایا جارہا بہتر سے بہتر تعلیم کے لیے بڑے بڑے نامی گرامی کوچنگ سینٹرز میں بچوں کو ڈالا جاتا ہے

    والدین کی زمہ داری ہے بچوں کی تربیت بہت سے گھروں میں لڑائی جھگڑے بچوں کے زہن پر برا اثر چھوڑتے ہیں بچے وہی سیکھتے جھوٹ بولنا باتیں چھپانا ڈر کی وجہ سے کہ والد ماریں گے بچوں پر ہاتھ اٹھانا سب سے بڑی غلطی ہے اگربچے غلطی کرتے ہیں تو انھیں نصیحت اور آرام سے سمجھائیں اُسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کو کہا جائے۔ پھر بھی اگر باز نہ آئے تو تھوڑی پٹائی بھی کی جاسکتی ہے۔اگر انھیں بات بات پر سب کے سامنے ڈانٹا مارا جاے تو بچے والدین سے دور ہوجاتے یا وہ نفساتی مسائل کا شکار ہوجاتے بچوں کو پیار محبت سے سمجھانا ضروری ہے انکی تربیت کا پہلا حصہ یہی ہے کے انکے ساتھ محبت سے پیش آیا جاےماحول کا بچوں پر اثر ہوتا ہے، ممکن ہے کہ غلط ماحول کی وجہ سے بچہ کوئی غلطی کربیٹھے، تو اس صورت حال کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بچے سے غلطی کس سبب سے ہوئی؟

    اسی اعتبار سے اسے سمجھایا جائے بچے نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں ہم ان سے جس طرح پیش آئیں گے ان کی شکل ویسی ہی بن جائے گی۔بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کریں اس کی تعریف سب کے سامنے کھل کر کریں تاکہ بچے میں اعتماد پیدا ہو وہ اتنا ہی ہر کام میں آگے آگے رہیں گے زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بچوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا والدین کا کام ہے ہمیں والدین کی حیثیت سے کچھ قاعدے بنانے اور حدود مقرر کرنی ہونگی تاکہ اس پر عمل کرکے ہم اپنے بچوں کی تربیت اچھی کرکے انکو معاشرے میں بہتر انسان بناسکیں۔

  • عمران خان امریکہ کے نشانے پر. تحریر:رانا عزیر

    عمران خان امریکہ کے نشانے پر. تحریر:رانا عزیر

    1974 میں ذولفقار علی بھٹو کی زیر صدارت ایک اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی گئ، جس میں اس وقت کے نامور حکمرانوں شاہ فیصل، کرنل قذافی، صدام حسین سمیت کثیر تعداد میں سربراہوں نے شرکت کی تھی۔ اور اس وقت سے ہی یہ پوری دنیا کو پیغام دے دیا گیا کہ اب مسلم بلاک کی بنیاد رکھ دی گئ ہے اور یہ اس وقت سے ہی امریکہ کے لیے درد سر بنا ہوا تھا کہ کہیں مسلمان اکھٹے ہوکر کہیں ہمارا قلعہ ہی قمع نہ کردیں۔
    1974 میں عالمی طور پر 2 سپر پاور تھیں جو ایک دوسرے کے ہمیشہ کپڑے اتارتی رہیں اور اس وقت مسلم ممالک امریکہ کے کچھ قریب تھے. لیکن امریکہ نے ہمیشہ پوری دنیا میں دہشتگردی کی لیکن اسے کوئی کچھ نہ کہہ سکا۔
    اسلامی سربراہی کانفرنس میں جتنے بھی مسلم حکمرانوں نے شرکت کی تھی امریکہ نے چن چن کر قتل کروایا، سب سے پہلے ذولفقار علی بھٹو کو امریکہ نے قتل کروایا اور اس کا اعتراف خود سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے کیا ” ہم نے دباؤ میں آکر ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دی”
    سعودی بادشاہ شاہ فیصل کو اس کے اپنے ہی بھتیجے نے قتل کروادیا اس کے پیچھے بھی امریکہ کا ہاتھ نکلا، کرنل قذافی اور صدام حسین کو بھی امریکہ نے قتل کروادیا، کیونکہ یہ تمام لیڈرز مسلمانوں کے لیے ایک الگ بلاک تشکیل دے رہے تھے جو ان کے مفادات کیلئے عالمی فورم پر آواز اٹھاتے۔ تو امریکہ نے ان سب کو ہی ختم کردیا۔ امریکی صحافی نے یہ کہا تھا کہ بے نظیر کو قتل کروانے میں سی آئی کا ہاتھ تھا۔

    جب بھٹو کو پھانسی دی گئی اس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں جو غلطیاں کی اس کا خمیازہ ہمیں آج تک بھگتنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ نے روس کو شکست دینے کیلئے پاکستان کی مدد لی اور روس کو تاریخی شکست ہوئی اور اسی جنگ میں امریکہ نے پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا اور مفاد پرست یہ سپرپاور فائدے اٹھا کر سائیڈ پر ہوگیا۔
    اب یہی صورتحال اب دوبارہ خطے میں پیدا ہوگئی اور ایک بڑا لیڈر قائداعظم کی شکل میں موجود ہے اور امریکہ کا پلان بھی وہی نظر آرہا ہے جو پہلے اسکا بھٹو اور دیگر لیڈرز کیلئے تھا۔ اب امریکہ بری طرح افغانستان میں پھنس چکا ہے اور اسے خود ہی نہیں سمجھ آرہی کہ وہ کیا کرے اور بھارت بھی اس پورے خطے میں ذلیل و رسوا ہوگیا ہے۔ اور امریکہ اس وقت عمران خان کا جانی دشمن بنا ہوا ہے اور تاریخ گواہ ہے جو امریکہ کے آگے مسلم لیڈر کھڑا ہوا اس قتل کروا دیا گیا، امریکہ اب پاکستان کو بیک ڈور چینلز کے ذریعے آفرز کررہا ہے اور اگر پاکستان اس کے شکنجے میں آگیا تو پھر بعد میں ہمیشہ کی طرح امریکہ دھمکیاں ہی دے گا
    عمران خان نے امریکہ کو جب صاف جواب دیا تو امریکہ اب بھارت کے ساتھ ملکر پاکستان کو چاروں اطراف سے گھیرنے کی کوشش کررہا ہے اور عمران خان کی جان اس وقت خطرے میں ہے، ہمارے گمنام ہیروز اس وقت پورے ملک میں دہشتگردوں کے خلاف آپریش کررہے ہیں اور دشمن کو نیست و نابود کررہے ہیں۔

  • پاکستان میں انٹرنیٹ پر اپنی شناخت اور ڈیٹا کی حفاظت کے مسئلے .تحریر:حمیداللہ شاہین

    پاکستان میں انٹرنیٹ پر اپنی شناخت اور ڈیٹا کی حفاظت کے مسئلے .تحریر:حمیداللہ شاہین

    پاکستان میں رائج سائبر کرائم قوانین کے تحت کسی کے موبائل یا کمپیوٹر سے ڈیٹا چرانا، بری نیت سے اسے پھیلانا یا اس میں کسی قسم کی مداخلت جرم شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا تصاویر، ویڈیوز یا تحریری مواد اور کسی بھی دیگر صورت میں ہو سکتا ہے۔آج کل سائبر کرائم میں اضافے کی وجہ سے جدید دور کے معاشرے میں ہم لوگوں کا اپنی سیکیورٹی کو لے کر ایک بہت اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ اپنی معلومات اور شناخت ظاہر کرنے سے گھبراتے ہیں۔
    زیادہ تر سائبر کریمینلز مالی فوائد کے لئے سائبر کرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں، جبکہ کئی سائبر کرائمرز شوقین ہیکرز، سیاسی طور پر اختیار ملنے والے ہیکرز، یا ملازمین ہیکرز جو کمپنی کے راز تک رسائی حاصل کرنے کے لئے یا انہیں دوسری کمنیوں تک پہنچانے کے لیے اپنا حربہ استعمال کرتے ہوئے سائبر کرائم کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔
    پاکستانیوں کو اکثر کریڈٹ کارڈ فراڈ ، بنک کی معلومات فراڈ، آن لائن خرید و فروخت فراڈ، کسی کو انٹرنیٹ پہ بدنام کرنا، شناخت کی چوری، پاسپورٹ یا شناختی کارڈ کے نمبروں کی چوری اور سوشل میڈیا ایپس جیسے فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ ہیک کی شکل میں مختلف ڈیجیٹل خطرات کا سامنا ہے۔
    ہمیں ہر وقت الیکٹرانک فراڈ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہم موبائل، ای میل، یا ویب سائٹ کے ذریعے اپنی ضروری معلومات نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہمیں ایسے معاملات میں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    آن لائن جدیدسیکیورٹی مقامی ریاستوں، فوج اور تنظیموں کے لئے بھی اہم ہے کیونکہ وہ اپنے ملک اور اس کے شہریوں کے بارے میں بہت زیادہ خفیہ ڈیٹا اور ریکارڈ رکھتے ہیں۔  تاہم مختلف ملکوں کے متعدد محکموں اور تنظیموں کو ناکافی جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ڈیٹا کے تحفظ میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  حساس محکموں اور ہیکرز جاسوسوں کے دہشت گردوں کے ذریعہ خفیہ ڈیٹا یا حساس معلومات کی چوری کسی بھی ملک میں سنگین خطرہ لاحق ہوسکتی ہے۔
    لہذا ڈیجیٹل سیکیورٹی ہر محکمے کے لئے بے حد اہمیت رکھتی ہے اور یہ ہر فرد کے لئے بھی ضروری ہے۔  ڈیجیٹل خطرات کے پیش نظر صارفین کو چاہئے کہ وہ ڈیٹا کی حفاظت کے بارے میں چوکس رہیں۔  کسی بھی فرد کے لئے انٹرنیٹ کی دنیا میں پائے جانے والے مختلف قسم کے خطرات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

    انٹرنیٹ نے وسیع پیمانے پر مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن ایسے شدید خطرات ہیں جن سے بچا نہیں جاسکتا۔  فیس بک ، انسٹاگرام ، ٹویٹر ، واٹس ایپ جیسے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں پر کسی فرد کے ذریعہ شیئر کی گئی تصاویر ، ویڈیوز اور دیگر ذاتی معلومات سنگین اور حتی کہ جان لیوا واقعات کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے ان کی شناخت چوری کرکے مو بائل فون نمبر اور جعلی تصاویر لگانے کی شکایات بہت بڑھ چکی ہیں، ڈیجیٹل خطرات سے کیسے بچایا جائے اور ورچوئل دنیا اور حقیقی دنیا کے مابین فرق کو سمجھنا ہر فرد کا واحد فرض ہے۔  مثبت آن لائن ماحول پیدا کرنے کے لئے ہر فرد کو ڈیجیٹل شہری کے حقوق اور ذمہ داریوں کا پتہ ہونا چاہئے۔
    وقت کی بنیادی ضرورت ہے کہ حکومت پاکستان اور بلوچستان کو مستقبل میں ہمارے ملک سازوں کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے اسکول اور کالج کی سطح کے نصاب میں ڈیجیٹل سیکیورٹی آگاہی شامل کی جائے۔ اساتذہ کے لئے اس بارے میں اسکول کالج اور یونیورسٹیوں کی سطح پہ ورکشاپ قائم کرنے چاہئے، اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ سائبر کو اپنے شہریوں کے لئے زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لئے پاکستان سائبر کرائم ایکٹ 2016 کو اعلی جذبے سے نافذ کیا جائے۔کچھ عرصے سے انٹر نیٹ کی دنیا میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کے لئے جدید ترین طریقے اپنائے جانے کے بعد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ پاکستان میں اس حوالے سے ٹھوس اور پائیدار قانون سازی عمل میں لائی جائے ۔

    پاکستان دنیا کے ان 42ممالک میں شامل ہے جن کے پاس سائبر کرائم کے لئے کسی نہ کسی شکل میں قانون ہمیشہ سے موجود رہا ہے ۔اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے اس حوالے سے قانون میں سقم اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے جیسے خدشات سامنے آئے ہیں ۔ تاہم ہمارے ملک میں آزادی اظہار کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو تمام قواعد و ضوابط سے مبرا ہو کراستعمال کیا جاتا رہا ہے جس کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔
    پاکستان میں سائبر کرائم کی شکایات میں ماضی کی نسبت اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس سے جہاں یہ پتا چلتا ہے کہ ملک میں سائبر کرائم سے متعلق آگہی بڑھی ہے، وہیں اس حقیقت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ معاشرے میں سائبر کرائم بڑھ رہے ہیں۔
    حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس حوالے سے سائبر کرائم ادارہ کو مضبوط بنایا جائے، انہیں ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے جبکہ تمام سوشل میڈیا ایپس اور ویب سائٹ کو اسکا پابند رکھنا چاہئے کہ بغیر کسی تصدیق کے کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا نہ پھیلایا جائے، موبائل کمیونیکیشن اور موبائل میکرز کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ ہر صارف کی نقل و حرکت اور موبائل کے استعمال پہ نظر رکھنی چاہئے۔
    حکومت کو چاہئے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم یونٹ کو بہترین اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیٹا اور ریکارڈ کی مانیٹرنگ دینی چاہئے۔
    بقلم!
    حمیداللہ شاہین

  • فتھ جنریشن سائبر وار!  تحریر : زوہیب زاہد خان

    فتھ جنریشن سائبر وار! تحریر : زوہیب زاہد خان

    دور حاضر میں سوشل میڈیا نے انسانی زندگیوں میں بہت بڑا انقلاب برپا کردیا ہے۔ ہزاروں اور لاکھوں میل بیٹھے لوگوں سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو ایک چھوٹی سی گلوبل ولیج بنادیا ہے۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کو اظہار رائے بیان کرنے کیلئے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کردیا ہے۔ اسی تناظر میں سوشل میڈیا کو ڈیجیٹل میڈیا بھی کہا جاتا ہے۔

    ففتھ جنریشن سائبر وار!
    آجکل سماجی رابطے کی ویب سائیٹس فیس بُک اور ٹوئٹر پر بہت زیادہ پروپیگنڈے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ افراد، سیاسی جماعتوں حتی کہ دو مختلف ملک بھی ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر پروپیگنڈے میں مشغول نظر آتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو سوشل میڈیا پر دو مختلف نظریات اور سچ رکھنے والے عناصر کا ٹکراو ہوتا ہے۔ کہیں افواہیں پھیلائی جارہی ہوتی ہیں. کہیں ان افواہوں کی تردید کی جارہی ہوتی ہے۔ اسی قسم کی کشمکش چلتی رہتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر اس طرح کے جھوٹے اور منفی پروپیگنڈے کو ایک موثر حکمت عملی سے کاؤنٹر کیا جاتا ہے۔ جہاں دلیل اور ثبوتوں کے ساتھ منفی پروپیگنڈے کا جواب دیا جاتا ہے. سوشل میڈیا کی اس جنگ کو ففتھ جنریشن سائبر وار کہتے ہیں۔

    بیرونی دشمن قوتیں ہمارے ملک میں عدم استحکام پھیلانے کیلئے کبھی ہمارے دین اسلام اور مقدس مذہبی ہستوں کے خلاف اپنا زہر اگلتی ہیں. کبھی ہمارے ملک پر الزام تراشی کرتی ہیں۔

    الحمدالله! پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ دشمن قوتوں کے ہر قسم کے منفی پروپیگنڈے کا بخوبی جواب دیتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹس کا مقصد ہی دین اسلام اور ملک پاکستان کا دفاع کرنا ہے۔ دین اسلام اور وطن عزیز پاکستان سے بڑھ کر ہم پاکستانیوں کی کچھ نہیں ہے۔

    بلاشبہ آج کے دور میں ہر پاکستانی مسلمان سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ کو اس قابل ہونا چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال دین اسلام اور ملک پاکستان کے دفاع کیلئے کرے۔ ہر سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ کو ففتھ جنریش سائبر وار کے متعلق بخوبی آگاہی ہونی چاہیئے۔

    الله پاک مجھ سمیت ہر پاکستانی کو سوشل میڈیا کو دین اسلام اور وطن پاکستان کے دفاع کیلے استعمال کرنے کی توفیق عطاء فرمائے. آمین! (جزاک اللہ)

  • افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    اگر میں کہوں کہ افغانستان عالمی طاقتوں کا قبرستان ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ روس اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا اور سر دھڑ کی بازی لگا کر بھی کامیاب ہونے میں ناکام رہا ہے ۔ امریکا آیا اور پوری دنیا کی ٹیکنالوجی کے ساتھ افغانیوں پر بم گرائے ۔ مختلف حیلوں بہانوں ، دھمکیوں اور لالچ سے دنیا کے تقریباً سبھی ممالک کو ساتھ ملا کر طالبان کو الگ کردیا ۔ امریکا مکمل ناکام نہیں ہوا تو کام یاب نہیں ہوپایا ۔ ان بیس سالوں میں جہاں افغانیوں کو لاتعداد نقصان ہوا ہے وہی پر امریکا کا اس قدر نقصان ہوچکا ہے کہ اس نے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی ہے ۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لمبے لمبے دور چلتے رہے اور بخیر و عافیت نکلنے کے راستے امریکا تلاش کرتا رہا ۔
    ایسے میں بھارت بھی اپنے مذموم مقاصد کو لے کر امریکا کے ساتھ آکھڑا ہوا اور پاکستان کے خلاف افغانی زمین کو استعمال کرتا رہا ۔ اربوں روپیہ افغانی زمین پر بھارت سرکار نے لگایا اور اپنے قدم جمانے لگا ۔ بھارت کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ امریکا کو اس طرح سے بھاگنا پڑے گا ۔ امریکا کے انخلا کے بعد بھارت جیسے ممالک افغانستان میں ٹک نہیں سکتے ۔ طالبان جس تیزی سے افغانستان کی زمین پر قابض ہورہے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ جلد وہ کابل پر بھی قابض ہوں گے۔ کابل پر قابض ہونے کا مطلب پورے افغانستان پر قابض ہونا ہے ۔ ہر ایسے عنصر پر طالبان کی نظر ہوگی اور ان کے نشانے پر ہوگا جو گھناونے عزائم لے کر افغانستان کی سر زمین پر حملہ آور ہوا تھا ۔ بھارت بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ رہا ہے لیکن اس بھاگنے کے ساتھ ساتھ وہ سازشوں میں بھی مصروف عمل ہے اور ڈبل گیم کھیل کر افغان انتظامیہ کو مزید مشکلات میں مبتلا کررہا ہے ۔

    اس وقت افغانستان میں بھارت کی حالت یہ ہے کہ قندھار سے اس کا تمام سفارتی عملہ اور را کے تمام ایجنٹ فرار ہوچکے ہیں اور قندھار میں واقع قونصل خانہ بند کردیا گیا ہے ۔ بھارت قندھار سے اپنے عملے کے نکالے جانے کی تصدیق تو کررہا ہے لیکن قونصل خانہ بند کرنے کی تردید کی گئی ہے ۔ اگر افغانستان میں بھارتی قونصل خانہ بند ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بھارت افغانستان کے معاملات سے مکمل طور پر باہر ہوگا ۔ اسی لیے بھارت ڈبل گیم کھیل کر طالبان اور افغان حکومت کو باہمی لڑوانے کے چکروں میں ہے ۔

    عالمی طاقتیں جو افغان امن عمل میں براہ راست شامل ہیں وہ بھی بھارت کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں اور فی الوقت دیکھ رہے کہ بھارت کیا کررہا ہے ۔ بھارت کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر اس کی موجودہ گیم ناکام ہوتی ہے تو طالبان کا اگلا ہدف کشمیر ہوگا اور بھارت کے وہ علاقے ہوں گے جن پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ طالبان نے اگر بھارتی چالوں سے تنگ آکر امریکا سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیا تو امریکا بھارت سے سختی سے نمٹنے پر مجبور ہوگا کیوں کہ امریکا کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ وہ اپنے فوجیوں کو مزید مروائے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہوگا کیوں کہ اگر افغان امن عمل خراب ہوتا ہے تو اس کی تپش صرف پاکستان اور افغانستان تک نہیں رہ گی بلکہ اس بار اس کی تپش کے ساتھ اس کے شعلے واشگٹن، لندن اور پیرس سمیت دیگر مغربی ممالک کے بڑے شہروں تک پہنچیں گے ۔

  • بنجوسہ جھیل پر لوگ مریم نواز کو دیکھ کر خوش ہو گئے،محبت کے اظہار کے لئے "آئی لو یو” کے نعرے

    بنجوسہ جھیل پر لوگ مریم نواز کو دیکھ کر خوش ہو گئے،محبت کے اظہار کے لئے "آئی لو یو” کے نعرے

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اس وقت آزاد کشمیر میں موجود ہیں –

    باغی ٹی وی : مریم نواز آزاد کشمیر میں ایک طرف وہ انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں وہیں آزاد کشمیر کے خوبصورت مقامات سے بھی لطف اندوز ہو رہی ہیں۔

    مریم نواز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کافی متحرک ہیں مریم نواز کی جانب سے ٹوئٹر پر آج بنجوسہ جھیل کے مقام سے خوبصورت تصاویر شئیر کی گئی ہیں جنہیں صارفین کی جانب سے خوب پسند بھی کیا جا رہا ہے۔


    مریم نواز نے شئیر کی گئی تصاویر میں پیلے رنگ کا جوڑا زیب تن کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ کی طرح دلکش دکھائی دے رہی ہیں-

    مریم نواز کا تصاویر شئیر کرتے ہوئے کہنا ہے یہاں ہر منٹ میں تازگی مل رہی ہے۔


    ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز نے لیگی رہنما پرویز رشید کے ساتھ بھی تصویر شئیر کی اور انہیں اپنا ’بڈی ‘ قرار دے دیا۔


    بنجوسہ جھیل پر سیر کے لیے آئے لوگ بھی مریم نواز کو دیکھ کر خوش ہو گئے کراچی سے آئے سیاحوں نے مریم نواز کو اپنے درمیان دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا جب کہ مریم نواز نے بھی ان سے گپ شپ کی۔

    مریم نواز کے لیے لوگوں نے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ’ لو یو‘ کے نعرے بھی لگائے جبکہ مریم نواز نے ’آئی لو یو ٹو ‘ کہہ کر چاہنے والوں کی محبت کا جواب دیا۔


    اس موقع پر نائب صدر ن لیگ مریم نواز کے ہمراہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر بھی موجود ہیں۔

  • پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

    پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

    جس میں کوکنگ ائل ، سویابین ملک ، دالیں ، فاسٹ فوڈز، خشک دودھ ، چائے کی پتی اور بھی بہت سی چیزیں
    ھم ایک جملہ اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ھے مگر آج تک کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی موجودہ حکومت نے اس طرف نہ صرف توجہ دی بلکہ عملی کام بھی شروع کر دیا ھے
    کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو ٹاسک دیا کہ آپ سروے اور ریسرچ کرو کہ ھم پاکستان میں کون کون سے فوڈز خود پیدا کر سکتے ہیں جو ھم باہر سے منگوا سکتے ہیں
    آپ سن کر حیران رہ جاو گے کہ جب ایگریکلچر ماہرین نے ریسرچ کیا تو ان کو پتہ چلا کہ ھم یہ تمام چیزیں نہ صرف خود کی ضرورت کے لئے پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اتنی وافر مقدار میں پیدا کر سکتے ہیں جس کو ھم ایکسپورٹ بھی کر سکتے ہیں
    آپ کو صرف کچھ مثالیں دے دیتا ہوں اپ اندازہ کر لینگے
    پاکستان سالانہ صرف 1۔1 ارب ڈالر یعنی تقریبا 200 ارب روپے کا سویابین ملک ایمپورٹ کرتا ہے
    جبکہ 600 ملین ڈالر کا چائے ایمپورٹ کرتا ھے
    اس کے علاوہ پاکستان تقریبا تمام کوکنگ آئل باہر سے منگواتا ھے

    اب پاکستان ان شاءاللہ دو سال بعد اتنا سویابین دودھ پیدا کر سکے گا جو ضرورت سے زیادہ ھوگا اور ھم ایکسپورٹ کریں گے جبکہ چائے کی پتی بھی ھم ایکسپورٹ کریں گے ایمپورٹ کی وجہ سے ھمارے ملک کو سب سے بڑا نقصان یہ ھوتا ھے کہ ایک تو ملک میں روزگار کی کمی ھوتی ھے جبکہ ھمارے ملک سے ڈالر باہر جاتا ھے جس کی وجہ سے ھمارے ملک میں ڈالر کی کمی ھو جاتی ہے اور ھمارا روپیہ گر جاتا ھے اور مہنگائی ھو جاتی ھے حکومت کی کوششوں سے اب ھم اپنی ضروریات سے زیادہ یہ چیزیں پیدا کریں گے جس کا دو فائدے ھونگے ایک تو ھماری اپنی ضرورت پوری ھوگی جس سے روزگار بڑھے گا جبکہ دوسرا ھمارے ملک سے ڈالر باہر نہیں جائیں گے بلکہ زیادہ پیداوار کی وجہ سے ڈالر ھمارے ملک آتا رہے گا .جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ھوگا۔

    پاکستان ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ نے بلوچستان کے ایک کروڑ ایکڑ رقبے کو زیتون کی کاشت کے لئے موزوں قرار دیا ھے جس پر پلانٹشن شروع ہو گئی ہے اور اگلے 3 ، 4 سالوں میں ہم اتنا زیتون ائل پیدا کریں گے کہ دنیا کو ایکسپورٹ کریں گے اور خوشی کی بات یہ ھے کہ ھم دنیا کا سب سے زیادہ زیتون ایکسپورٹ کرنے والا ملک بنیں گے۔اس کے علاوہ دالوں کی کاشت بھی شروع ھو گئی ھے جو ھماری ضرورت سے زیادہ ھونگی ایک بات ذہن میں رہے کہ مقامی سطح پر جو چیزیں ھم پیدا کریں گے ایک تو اس کی قیمت کم ھوگی جنکہ دوسرا وافر مقدار میں دستیاب ھونگے۔
    موجودہ حکومت رزاعت کے ترقی کے لئے زمینداروں کو سہولیات دے رہی ہے جس کا فائدہ اس سال سامنے آیا ھے اور وزیراعظم صاحب مسلسل خود زمینداروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل خود سن کر سمجھ کر ان کو دور کیا جا سکے۔
    حکومت نے چین کے ساتھ بھی ایگریکلچر ریسرچ شئرینگ کا معاہدہ کیا ھے جس کے لئے بلوچستان میں جگہ مختص کی ھے۔
    ان شاءاللہ پاکستان بہت جلد زرعی شعبے میں صف اول کے ممالک میں شمار ھوگا۔
    ‎@THE_Z0R00

  • جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

    جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

    آج کے پر فتن دور میں ہر روز اک نیا سکینڈل ایک نئ ویڈیو منظر عام پر آ رہی ہے۔ گرل فرینڈ کلچر کے نتائج ہسپتالوں میں نومولد کی لاشیں ڈال رہے ہیں تو کبھی ابارشن کے غیر قانونی طریقے اپنانے کے بعد لڑکیوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔

    کبھی 4 سالہ معصوم بچے بچیاں اس ہوس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو کبھی ہم جنس پرستی کا عفریت اس معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ہر طرف نوجوانوں کی ہوس کے شکار ہونے والے سہمے پڑے ہیں ہر انگلی اس نوجوان نسل کی طرف اٹھ رہی ہے ۔ ان لوگوں کی طرف کیوں نہیں جن کی ذمہ داری تھی اس نسل کی تربیت کرنا؟ کیا وہ اس سب سے مستثنٰی ہیں؟؟؟
    میرے ذاتی خیال میں سب سے بڑے ذمہ دار والدین ہیں۔ جنہوں نے اولاد کی لگثریز کی ذمہ داری تو اٹھا لی مگر تربیت بھول گئے۔ اور اگر تربیت کر بھی دی تو انکے وقت پر نکاح بھول گئے۔۔۔ بارہ سال کی عمر میں جوان ہونے والے بچے اپنی جنسی ضروریات کو کب تک دبایئں گے ؟ کیسے کنٹرول کریں گے جبکہ انکے ہاتھ میں موبائل اور صرف ایک کلک پر پورن کا ڈھیروں ڈھیر مواد موجود ہوگا؟؟ کالج یونیورسٹی تک پہنچتے جب انکو گرل فرینڈز اور بوائے فرینڈر میسر ہو جایئں گے۔ اور جب والدین انکی تعلیم اور جاب کا انتظار کرتے ہوئے انہیں نکاح کے بندھن میں نہیں باندھیں گے تب وہ ایسے خود ساختہ بندھن خود بناتے جائیں گے۔۔ 100 میں سے 99 جوان اس مرحلے میں بھی خود پر قابو پا لیں اگر تب بھی باقی 1 جوان پھر بھی خطرہ رہے گا اس اپنی جنسی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئ ایسا رشتہ ڈھونڈے گا نہ ملنے پر آسان میسر ٹارگٹ کو ریپ کرے گا۔۔

    اگر کوئ بچی/بچہ اپنی پسند بتا دے اور نکاح کرنا چاہے تب بھی یہی والدین ذات پات اونچ نیچ کے چکر میں اپنی انا کا پرچم بلند کر کے اس حق سے محروم کر دیتے ہیں ذہنی اذیت تو جو گزرتی ہے ان بچوں پر وہ الگ کہانی مگر جس جنسی اور جسمانی ضرورت کو اس سے روک لیا جاتا ہے وہ الگ سے اثر انداز ہوتی ہے ۔۔ اکثر نشے کی لت میں پڑ کر اپنی زندگی برباد کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوس اس سب کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ 14 سال کی عمر میں جوان ہونے والے 32 سال تک بنا کسی پارٹنر کی کیسے رہ رہے ہیں اس بات کا اندازہ کیوں نہیں لگایا جاتا؟
    سب قصور انہی کی طرف کیوں نکلتے ہیں۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ رض کی شادی کم عمری میں کیوں کی گئ؟ تاکہ امت کو پیغام ملے ۔۔ مردوں کے لیے دو تین اور چار شادیوں کی اجازت دی گئ۔ مطلقہ و بیواوں سے نکاح کی تلقین کی بلکہ نبیﷺ نے خود کر کے مثال قائم کی ۔۔ نکاح کو آسان ترین بنایا گیا یہ سب کس کے لیے کیا گیا تھا؟ اسی بے راہ روی کو روکنے کے لیے لیکن آج ہم نے یہ سب چھوڑ دیا اور نتائج ہم بھگت رہے ہیں اور مزید تب تک بھگتیں گے جب تک یہ سب ہم اپنے معاشرے میں رائج نہ کر لیں۔۔۔ بلاشبہ نوجواں نسل اس کی ذمہ دار ہے مگر پہلا قدم والدین کو اٹھانا ہو گا

    ‎@NiniYmz

  • ‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

    ‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

    وہ 20 سالوں سے افغانستان کٹھ پتلی حکومت اور اس کے اتحادیوں سے لڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
    اصل میں طالبان کون ہیں؟ ان کو اتنی طاقت کیسے ملی  اور عالمی طاقتیں کیوں پریشان ہیں کہ وہ افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرلیں گے۔
    یہ سب باتیں  سمجھنے کے لئے 1980 کی دہائ کے افغانستان کو جاننے کی ضرورت ہے جب افغان گوریلاز جنہے مجاہدین بھی کہا جاتا ہے نے نو سال تک  سوویت کا مقابلہ کیا جبکہ اسلحہ اور رقم سی آئ اے فراہم کرتا رہا ۔

    1989 میں سوویتوں نے انخلاء کرلیا اور اگلے کچھ سال افغانستان کافی افراتفری کا شکار رہا۔  1992 تک افغانستان کی جنگ  پوری طرح سے گھریلو جنگ بن چکی تھی کیونکہ قبائلی رہنما اقتدار کے لیے اپس میں گتھم گتھا تھے۔ دو سال بعد طالبان نامی ملیٹنٹ نے دنیا میں توجہ حاصل کی طالبان کے  بہت سارے ممبران نے افغانستان اور پاکستان  سے بڑے بڑے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی تھی اور ان میں سے کچھ نے مجاہدین کی حیثیت سے جنگ بھی لڑی تھی۔اور اپنے ملک افغانستان کے لئے انکے اپنے منصوبے تھے ۔

    1996 تک طالبان نے  افغانستان دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔  انہوں نے افغانستان کو اسلامی امارت قرار دیا اور اسلامی قانون کی اپنی سخت ترجمانی مسلط کرنا شروع کردی۔ پھر نائن الیون ہوا جس کا ذمہ دار امریکہ اسامہ بن لادن کو سمجھتا تھا ، جو افغانستان میں طالبان کی مدد سے روپوش تھا۔طالبان نے امریکہ سے کہا کہ وہ اس بات کا ثبوت چاہتے ہیں کہ لادن ہی اس حملے کے پیچھے اور جب انہوں نے اسے فوری طور پر حوالے کرنے سے انکار کردیا تو امریکیوں نے حملہ کردیا۔کچھ ہی مہینوں میں طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور افغانستان کو ایک نئی عبوری حکومت مل گئی۔تین سال بعد اس کو نیا آئین ملا اور حامد کرزئی صدر منتخب ہوئے۔جب یہ سلسلہ چل رہا تھا تو طالبان نے دوبارہ متحد اور مضبوط ہوئے  وہ غیر ملکیوں کو اپنے ملک سے باہر بھیجنا چاہیتے تھے  اور اقتدار واپس لینا چاہتے تھے اس کے بعد برسوں کے تباہ کن کشمکش جو اب بھی جاری ہے۔40،000 سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوئے۔کم از کم 64،000 افغان فوجی اور پولیس اور 3500 سے زائد بین الاقوامی فوجی ہلاک۔

    صرف امریکہ نے جنگ اور تعمیر نو کے منصوبوں پر تقریبا ایک کھرب ڈالر خرچ کر دیا اور آمریکہ کے ہاتھ آیا کیا ککھ نہیں اب آمریکہ بہادر گھر جا رہا ہے جوبائیڈن نے11 ستمبر تک  افغانستان چھوڑنے کا علان کر چکا ہے  اور افغانستان آج بھی عدم استحکام کا شکار ہے اور طالبان اب پہلے سے بھی کئی زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں آج پورے ملک میں طالبان کے پاس 85،000 کے قریب کل وقتی جنگجو اور تربیتی کیمپ موجود ہیں۔پورے افغانستان میں مرکز کو چھوڑ کا  ان کا کنٹرول ہو چکا ہے طالبان پہلے سے زیادہ منظم اور زمانہ شناس ہو چکے ہیں ۔طالبان کا رہنما حبیب اللہ آخوندزادہ ہے وہ اس کونسل کے سربراہ ہیں جو خزانہ ، صحت اور تعلیم جیسی چیزوں کے انچارج ہے اس کے نیچے کئ  مقامی عہدیدار کام کرتے ہیں تو ایک طرح سے طالبان نے متوازی ریاست قائم کردی ہے۔وہ اپنی عدالتیں  اسلامی طرز پر چلاتے ہیں جو افغانوں میں کافی مشہور ہیں ۔اس سارے  عرصہ کنٹرول  اور حکمت عملی نے انہیں کافی مالدار بنا دیا ہے۔
    طالبان ممبران اور اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے مطابق وہ سال میں 1.5 بلین ڈالر کماتے ہیں۔ سننے میں اتا ہے کہ پہلے طالبان نے افھیم کی فروخت سے کافی پیسہ کمایا لیکن  اب انھوں نے آمدنی کے  لیے اور بھی راستے تلاش کر لئے ہیں۔  پچھلے سال انہوں نے کان کنی اور معدنیات کی تجارت اور methamphetamine کی پیداوار سے لاکھوں کمائے  ۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا افغان حکومت زندہ رہ سکے گی؟  اور طالبان کیا کریں گے؟ نیو یارک ٹائمز کے ایک پروگرام میں طالبان کے اس بیان نے چیزوں کو کافی صاف کیا جب انہوں نے کہا "ایک اسلامی نظام بنانا چاہتے ہیں … جہاں خواتین کے حقوق جو اسلام کے ذریعہ دیئے گئے ہیں – تعلیم کے حق سے لے کر کام کرنے کے حق تک محفوظ ہوں گے”طالبان کی اب تک کی حکمت عملی کافی کاریگر ثابت ہوئی  ہے ۔