Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسرائیل ٹو پاکستان براستہ سعودی عرب. تحریر:رانا عزیر

    اسرائیل ٹو پاکستان براستہ سعودی عرب. تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑی ہوئی ہے، امریکا اس جنگ کی شکست قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، پاکستان نے جب امریکا کو تاریخی جواب دیا تو امریکی کی چودھراٹ خطرہ میں پڑھ گئی، اور جو بیڈن اس حوالے سے پاکستان کا محتاج ہے، جو بیڈن جب یہ جنگ دنیا کی طاقتور مشینری سے بھی ہار گیا تو اس نے نیا انداز اپنا لیا ، اور پاکستان سے دوسرے انداز سی نمٹنے کی تیاری کر چکا ہے. راصل امریکا پاکستان کو ایران ، عراق اور دیگر واسطی اشیائی مملک کے ساتھ توانائی کا کوریڈور تباہ کرنا چاہتا ہے. یہ ایک بہت بڑی پائپ لائن ہے جوعراق سے شروع ہوتی ہے ، پاکستان کے زریعے ہوتی ہوئی، ہمالیہ اور کشمیر سی چین تک جائے گی، اس سے تیل چین جائے گا اور چائنیز انویسٹمنٹ مشرق وسطیٰ تک جائے گی جس سے چین مزید مظبوط ہوگا اور امریکا کا پتا ہمیشہ کے لئے صاف ہوجاے گا اور جب اس پورے خطے سے امیرکا جائے گا تو CPEC افغانستان تک جائے گا اور یہ یہ کوریڈور بن جائے گا، تو امریکا اس چیز کو روکنا چاہتا ہے. اب امریکا پاکستان کی کیسے تباہی کرسکتا ہے ؟ ایک یہ ڈائریکٹ حملہ کرے گا، لیکن وہ نہیں کر سکتا ایک تو پاکستان بہت بڑا ہے دوسرا پاکستان ایٹمی ملک ہے، اس کے پاس اب ایک راستہ ہے جسے پاکستان کو روکنا ہوگا، امریکا کا پلان یہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی پشتون آبادی اور بلوچ کارڈکھیل کر پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے تاکہ پاکستان کو توڑ دیا جائے، اس امریکا PTM اور BLA جیسی اپنی proxies کا سہارا لے گا. اس کے لئے ہماری پاک فوج بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سینکڑوں دہشتگردوں کو پکڑ چکا ہے جو اس طرح کی ہوا دینے کے منصوبے سے آئے تھے.

    دوسرا بھارت کو امریکا نے گرین سگنل دے دیا ہے، کہ وہ کشمیر میں پوری طرح سے قبضہ کرنا شروع کردے اور ہندوں کو مزید بسانا شروع کردیے اور برارست پاکستان پر بھارت حملے کی تیاریاں بھی کر چکا ہے تو پاکستان دونوں بارڈر پر ہائی الرٹ ہے_
    دونوں صورتوں میں امریکا کو شکست ہوئی ہے

    اب وہ نئے انداز میں سامنے آیا ہے
    اسرائیلی جریدے ” ہیوم“ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سابق مشیر زلفی بخاری نے نومبر2020 میں اسرائیل کا مختصر دورہ کیا تھا اور وزارت خارجہ کی سنیئراہلکار سے ملاقات بھی کی تھی. اسرائیلی جریدے کا کہنا ہے کہ زلفی بخاری اپنے برطانوی پاسپورٹ کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد سے براستہ لندن اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پہنچے تھے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد انہیں سرکاری گاڑی کے ذریعے تل ابیب لے جایا گیا جہاں ان کی اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار سے انہوں نے ملاقات کی.

    رواں ماہ کے آخر میں سعودی وزیر خارجہ ایک خطرناک پیغام لیکر جوبایڈن اور اسرائیلی وزیراعظم بینٹ کا پاکستان آرہے ہیں، چونکہ سعودی عرب اب اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہا ہے اور اسرائیل نے ایک ڈرامہ رچا کر کہ ہم مسجد اقصی کا کنٹرول سعودی عرب کو دے رہے ہیں، تو اس بہانا سعودی عرب تسلیم بھی کرے گا۔ تو سعودی عرب یہ چاہتا ہے کہ پاکستان۔ بھی اسرائیل کو تسلیم کرے تاکہ اس پر پریشر بھی کم ہو اور اس کے مقاصد بھی پورے ہوجائیں، لیکن ریاست نے دوٹوک فیصلہ کیا ہے ہم اب کسی پریشر میں نہیں آئیں گے، عمران خان کی دکھتی رگ سعودی عرب میں موجود پاکستانی ہیں، سعودیہ عرب ہمیں یہ دھمکی دے سکتا ہے کہ ہم انھیں سعودی عرب سے نکال دیں گے۔

    اب اسرائیل کے زریعے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کے پاکستان کو عالمی دنیا کے سامنے بدنام کیا جائے گا ، پاکستانی قوم کو بھٹکایا جائے گا، اور پاکستان پر دہشتگردی کے لیبل لگا کر فلمیں بنائی جایں گی اگر پاکستان نے امریکا کی افغانستان کی جنگ میں ساتھ نہ دیا. تو یہ ساری گیم دوبارہ سے پاکستان کے خلاف کھلی جارہی ہے جو پھلے نومبر میں اور ٹرمپ دور میں کھیلی گئی تھی

  • فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

    فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

    کوئی بھی بڑا بین الاقوامی اخبار کھولیں تو مسلم ورلڈ والے سیکشن میں آپکو یمن ، شام ، عراق ، لبنان ، لیبیاء کی تباہی اور وہاں کی کٹھ پتلی حکومتوں کے آنے جانے کی خبریں ہی ملتی رہتی ہیں۔ امریکہ بہادر کی خاص "مہربانیوں” کے علاوہ جس چیز نے ان ممالک کی تباہی س بربادی میں اہم کردار ادا کیا وہ ہے ان ممالک میں فرقہ واریت کی بناء پر ایران اور سعودیہ عرب کی پرسکسی جنگ۔ ایران اور سعودیہ عرب کی اس پراکسی جنگ نے مسلم دنیا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا یے۔ ایک چھوٹی سی مثال لے لیتے ہیں یمن میں ایران حوثی باغیوں کی امداد کرتا ہے اور سعودیہ ان باغیوں پر بم گراتا ہے مگر ان دونوں کے چکر میں تباہ یمن ہو رہا ہے مر عام مسلمان رہے ہیں اور کچھ دہائیوں پہلے تک ایک خوشحال ملک آج پتھر کے زمانے میں پہنچ چکا ہے۔ ایسی خبریں پڑھنے کے بعد ذہن میں سوال ضرور اٹھتا ہے کیا اسلام کے علاوہ دنیا کے کسی اور مزہب میں فرقے نہیں ہوتے ؟ اگر ہوتے ہیں تو کیا وہ بھی اسی طرح اپنے ہم مذہبوں کی تباہی و بربادی کا سامان مہیا کرتے ہیں ؟؟ آج ہم انہی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرینگے
    عیسائیت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مزہب ہے اور اس کے پیروکاروں کی تعداد لگ بھگ دو ارب اڑتیس کروڑ سے زائد ہے اور 15 ممالک کا سرکاری مذہب ہے۔ عیسائیت کے دس فرقے ہیں جن کے بنیادی عقائد میں ایک دوسرے سے اختلاف ہیں اور ان میں زبانی گولہ باری بھی ہوتی رہتی ہے مگر عیسائی دنیا میں مذہب کی بناء پر ایک دوسرے کا قتل اور فرقہ وارانہ فسادات نہیں دیکھے جاتے اور ناں ہی ایک فرقہ دوسروں کے ساتھ کسی قسم کی پراکسی وار میں الجھا ہوا یے۔ اٹلی میں کیتھولک عیسائیت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے جبکہ رومانیہ میں اسکے مخالف فرقے آرتھوڈوکس عیسائیت ماننے والوں کی اکثریت ہے مگر آپ کبھی نہیں سنیں گے ان دونوں فرقے والوں نے یورپ کے کسی ملک کو میدان جنگ بنایا ہوا ہو اور اس ملک میں اپنے فرقے والوں کی حکومت لانے کیلئے وہاں جنگ چھڑوا دی ہو
    اسی طرح یہودیت ہے اس کے چار بڑے فرقے ہیں مگر جب بھی کہیں یہودیت بمقابلہ باقی دنیا ہو تو بنیادی اختلافات کے باوجود سارے یہودی متحد ہو جاتے ہیں تو سوال یہ ہے مسلمان ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟؟

    ایران نے پوری القدس فورس بںا رکھی ہے جسکا مقصد بتایا جاتا ہے کہ یہ ملک سے باہر ایرانی مفادات کا تحفظ کرتی یے جبکہ حقیقت یہ ہے اس تنظیم کے زریعے ایران ہمسائیوں ممالک میں اپنے فراقے اور پسند کی حکومت بنانے کی جستجو میں مصروف ہے اسی مقصد کیلئے ایران نے لبنان میں حزب اللہ کو کھڑا کیا ، یمن میں حوثی باغیوں کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اسی طرح سعودیہ عرب اپنے پسند کے گروہوں پر کھل تک ڈالروں اور ریالوں کی برسات کرتا رہتا ہے تاکہ اسکی ہم نظریہ حکومت قائم کی جا سکے۔ شام میں ایران بشار الاسد کا خاص اتحادی ہے جبکہ سعودیہ شامی حکومت کے خلاف مختلف ملشیاء کو جدید ہتھیار فراہم کر کے جنگ کی آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے نیز یہ تمام عرب ممالک ایران اور سعودیہ کی سرد جنگ کا میدان جنگ بنایا ہوا ہے۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ عصمت اللہ فلاحتفی شاہ کے مطابق ایران صرف شام میں اپنی پراکسی وار پر 30 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ سعودیہ عرب نے جتنا پیسہ بہایا اسکا کوئی حساب ہی نہیں۔
    پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ فسادات اور اپنے نظریات کی ترویج کیلئے دونوں ممالک نے اپنی اپنی پسند کی تنظیموں پر سرمایہ کاری کی جس کی وجہ سے پاکستان دہائیوں تک ان فسادات کی لپیٹ میں رہا اور آج تک ان فسادات اور نفرتوں کی سائے سے نکل نہیں سکا۔ ایران اور سعودیہ عرب مسلم دنیا کے امریکہ اور سویت یونین بن چکے ہیں جنکی آپسی پراکسی جنگوں نے کئی برادر اسلامی ممالک کو تباہ کر دیا ہے جس طرح امریکہ اور سابقہ سویت یونین کی سرد جنگوں نے کوریا ، ویت نام اور افغانستان سمیت کئی ملکوں میں جنگیں برپا کیے رکھیں آپ غور کریں جو ممالک ان دونوں کے حصار سے دور ہیں وہاں کوئی بدامنی فتنہ فساد نہیں ہے۔ ملائیشیا ، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش ایران و سعودیہ سے دور الگ تھلگ ہیں وہاں پر ان دونوں ممالک کی آپسی جنگ نہیں چھڑی ہوئی وہاں پر امن و سکون ہے۔

    جس دن ان دونوں ممالک نے اپنے قدرتی وسائل کا استعمال جنگیں چھیڑنے کی بجائے اپنی قوم اور ملک کی بہتری پر خرچ کرنا شروع کیا اس دن اسلامی دنیا میں سکون آ جائے گا

  • "بانجھ پن” اور بیٹیاں .تحریر: ارم رائے

    "بانجھ پن” اور بیٹیاں .تحریر: ارم رائے

    آج دو موضوعات پر بات کرونگی۔ پہلا ہے بانجھ پن جسکا مطلب عام طور پر یہ لیا جاتا ہے کسی عورت کا ماں نا بن سکنا، بانجھ پن بھی ایک بیماری ہے جس طرح اور کئی بیماریاں ہیں اور یہ بیماری بھی قابل علاج ہے۔ اور اہم بات کہ یہ بیماری عورت اور مرد دونوں میں ہوتی ہے۔ پھر اسکا الزام صرف عورت پر ہی کیوں؟ صرف عورت ہی کیوں یہ طعنہ سنتی اور برداشت کرتی ہے؟ کوئی مرد کو طعنہ کیوں نہیں دیتا کہ تم باپ نہیں بن سکتے ہو؟ کسی بھی بازار میں چلے جائیں، شاپنگ مالز میں چلے جائیں، ہسپتالوں میں چلے جائیں، دیواروں کو دیکھیں یا پھر حکیموں کے اشتہارات کو ہر جگہ اپ کو مردانہ کمزوری کے علاج کے طریقے بتانے والوں کے نام اور مقام کی تفصیل ملےگی۔ کسی عورت کے بارے میں نہیںلکھا ہوگا کہ اسکا علاج موجود ہے۔ پھر عورت ہی کیوں یہ ظلم سہتی کہ وہ بانجھ ہے ماں نہیں بن سکتی، اسکا مطلب تو یہ ہے کہ 80فیصد مرد باپ نہیں بن سکتے ہیں۔ پھر علاج کے نام پر صرف عورت کی زندگی کو کیوں کھلواڑ بنایا جاتا ہے؟ اسلام کے نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو اولاد مرد کے نصیب سے ہے پھر مورد الزام عورت کیوں؟ ماں نا بننے کے طعنے کے ساتھ چھوڑ دینے والے مرد کیا عورت کو اسکی عمر اور جوانی بھی لوٹا سکتے ہیں؟ اس مردوں کے معاشرے میں رہتے ہوئے کیا کبھی کسی عورت نے مرد کو اس لیے چھوڑا کہ وہ باپ نہیں بن سکتا اور عورت کو بچے چاہییں؟ کیا کبھی عورت نے سرعام مرد کو طعنہ دیا؟ کبھی اولاد نا ہونے کا بہانہ بنا کر چھوڑا؟ طلاق کی وجوہات کچھ بھی ہوسکتی ہیں لیکن کبھی یہ نہیں ہوتی کہ مردچونکہ باپ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے چھوڑ رہی ہوں۔ اس لیے جب بھی کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو تو برائے مہربانی اپنا چیک آپ بھی کروا لیں اگر خود کو دوائی کی ضرورت ہے تو وہ بھی استعمال کر لیں صرف عورت کو الزام لگا کر اسکی زندگی کے بہترین سال ضائع کر کے اسے چھوڑ کر معاشرے کے رحم و کرم پر نا چھوڑیں۔ آخرت میں جواب صرف نماز کا نہیں لیا جانا بلکہ ہر اس بات کا لیا جانا ہے جسکے لیے نگران بنایا گیا۔ حاکم بنایا گیا ہے۔

    بیٹیاں
    آج کا دوسرا موضوع بیٹیاں ہیں۔ بیٹیاں جنہیں رحمت کہاگیا، بیٹیاں جو گھر کی رونق ہیں، بیٹیاں جو تتلیاں ہیں، بیٹیاں جن کی وجہ سے گھروں میں رونق زندگی میں سکون ہے بیٹیاں جنہیں میرے رب نے والدین کی بخشش کا زریعہ بنایا، بیٹیاں جو ہمارے آخری نبی صلی اللهعلیہ والہ وسلم کی سنت کی وارث، وہ بیٹیاں جنہیں اسلام کی آمد سے قبل دفن کردیا جاتا تھا انکی عزت، حرمت، کا تحفظ کیا ہمارے دین اسلام نے۔

    آپ صلی الله والہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ فرمایا
    بیٹیوں کی پرورش کرنے والا قیامت کے دن میرے ساتھ یوں کھڑا ہوگا جیسے انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ ہم اسلام کے پیروکار ہیں، ہم اس دین کو پھیلانے والے اس سنت کا پرچار کرنے والے کیسے اتنے بڑے فرمان سے انحراف کر سکتے ہیں؟ کیسے بیٹیوں کو زحمت کہہ سکتے ہیں؟ کیسے بیٹی کے پیدائش کا الزام عورت پر لگا کر اسے چھوڑ سکتے ہیں؟ کیسے بیٹیوں کو بوجھ سمجھ سکتے ہیں؟ میں نے ایک دو لوگ ایسے دیکھے جو باقائدہ خوشی مناتے ہیں کہ بیٹیاں ہیں انکی تعلیم اور تربیت کرتے ہیں اچھے طریقے سے انکانکاح کرتے ہیں۔ کیا سب لوگ ایسے نہیں ہوسکتے؟ گھریلوتشدد کے واقعات میں سب سے زیادہ جم باتوں پر تشدد ہوتا ہے عورت پر وہ بانجھ پن اور بیٹیوں کی پیدائش پر ہے۔ جب بیٹا، بیٹی ہے ہی الله کی طرف سے تو مجرم عورت کیسے؟ اب تو سائنس نے بھی یہ بات ثابت کردی کہ بیٹی یا بیٹے کی پیدائش میں عورت سے زیادہ مرد کا ہاتھ ہے تو پھر الزام عورت پر کیوں؟ مرد اپنے آپ کو جب حاکم سمجھتے ہوئے عورت کو بیٹیوں کی پیدائش کا مجرم ٹھہرا کر چھوڑ دیتا ہے بیٹیوں سے رخ موڑ لیتا ہے اس عورت کو اور بیٹیوں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے تو اس عورت اور بیٹیوں کے ہر قسم کے نقصانات کا زمہ دار وہ مرد ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی گنہگار اور آخرت کے عذاب کا بھی مستحق ہوتا ہے۔ زندگی کتنی مختصر اور عارضی ہےیہاں کس نے قیامت تک رہنا ہے رہنی صرف رب کی زات ہے۔ بیٹیوں کے بغیر تو والدین کے جنازے تک خالی ہوتے ہیں۔ رحمت کی قدر کریں تاکہ نعمت سے نوازے جا سکیں۔ بیٹیوں کی پیدائش پر خوش ہوں انکی تربیت کریں انکا ساتھ دیں معاشرے میں جینے کے قابل بنائیں۔ انہیں انکے پاؤں پر کھڑا کریں۔ انہیں بوجھ نہیں گھر کی رونق بڑھاپے کا سہارا سمجھیں۔ اور ان سب سے بڑھ کر آخری الزمان نبی کریم صلی الله عليه والہ وسلم کا آخرت میں ساتھ پانے کی سعی کریں۔ الله پاک ہمیں اپنے راستے پر چلانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اپکی دعاؤں کی طلبگار

  • میرا خواب نیا مضبوط پاکستان .تحریر: فضل عباس

    میرا خواب نیا مضبوط پاکستان .تحریر: فضل عباس

    اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو ۔
    پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دم ہو

    میں ایک پاکستانی ہوں میرا وطن پاکستان ہے ہر انسان کی طرح مجھے میرے وطن سے بے حد محبت ہے مجھے بھی میرے وطن سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں میں آپ سب سے اپنے وطن کے بارے میں اپنا خواب بیان کرنا چاہتا ہوں

    میں چاہتا ہوں میرا وطن تعلیم کے میدان میں سب سے آگے ہو میرے وطن کا ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو میرے ملک کے ہر کونے میں تعلیم کی سہولت موجود ہو علم میرے وطن کے بچوں کی طاقت بنے یہاں کا ہر فرد علم حاصل کرنے میں سب سے آگے ہو جیسا کہ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    "علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے”

    میں چاہتا ہوں میرا وطن صحت کی سہولیات دینے میں سب سے آگے ہو میرے وطن میں دی جانے والی سہولیات دنیا میں کہیں بھی نہ ہوں یہاں کے ہسپتال دنیا میں بہترین ہوں یہاں مریض ہسپتال میں ڈاکٹر کو مسیحا سمجھیں یہاں ڈاکٹر خود کو خدا نہیں خدمت گزار سمجھے یہاں کے ہسپتال میں داخل مریض خود کو محفوظ سمجھے

    میں چاہتا ہوں کہ میرا وطن کھیل کے میدان میں فاتح بنے جس طرح ماضی میں ہم نے کارنامے سر انجام دیے وہی کارنامے دوبارہ سر انجام دیں جس طرح عمران خان کی قیادت میں ہم نے کرکٹ کا عالمی کپ جیتا بلکل اسی طرح ہم دوبارہ فاتح قرار پائیں اسی طرح اسکواش کے میدان میں جہانگیر خان کی طرح کامیابیوں کو اپنے وطن کی عزت بنائیں سب سے زیادہ خوشی کی بات تو تب ہے جب ہم اپنے قومی کھیل ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں

    میں چاہتا ہوں میرا وطن سب سے بڑی معاشی طاقت بنے دنیا بھر سے لوگ یہاں ملازمت کرنے آئیں میرے وطن کے لوگوں کو ملازمت کے لئے باہر نہ جانا پڑے میرا وطن سب کی امید ہو میرے وطن کی معاشی اعتبار سے دنیا میں ایک الگ ٹھاٹ باٹ ہو میرا وطن عظیم معاشی طاقت بنے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن ایسا وطن ہو جہاں غریب اور امیر نہیں بلکہ انسان ہوں جہاں عزت کا پیمانہ دولت نہیں انسانیت ہو جس انسان میں انسانیت ہو وہی عزت دار ہو میں چاہتا ہوں میرے وطن میں غریب اور امیر میں کوئی فرق نہ ہو غریب بھی اسی طرح جیے جس طرح امیر

    میں چاہتا ہوں میرا وطن اسلامی مملکت بنے جس طرح ہم نے اسلام کے نام پر وطن حاصل کیا ویسے ہی یہاں اسلامی قوانین نافذ ہوں میں چاہتا ہوں میرے وطن میں ہر کام اسلام کے مطابق ہو

    میں چاہتا ہوں میرا وطن اسلامی دنیا کا سربراہ بنے اسلامی ممالک پاکستان کے جھنڈے تلے یکجا ہوں اسلام ایک طاقت بنے جس کا محور پاکستان ہو میرے وطن کو اسلامی دنیا میں وہ مقام حاصل ہو جو بھائیوں میں بڑے بھائی کا ہوتا ہے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن امن کا گہوارہ بنے جس طرح ہماری افواج نے دہشتگردوں کا سر کچلا اسی طرح آگے بھی کچلتی رہیں یہاں پر صدا امن رہے یہ دھرتی امن کی دھرتی بنے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن وہ سلطنت بنے جہاں سب بھائی بھائی ہوں کہ جہاں ہر کوئی اپنا فرض دوسرے کا حق سمجھ کر ادا کرے میرے ملک میں کوئی کسی کا حق نہ مارے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن ایسا ہو جہاں سیاست خدمت کا نام ہو جہاں سیاست کرپشن سے پاک ہو جہاں سیاستدان اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل ہوں

    اپنے خواب کا اختتام کرتے ہوئے کہوں گا میرا وطن ایسا ہو جیسا اقبال کا خواب اور جناح کی محنت تھی

  • سترسالہ محرومیوں کا ازالہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،سعید انجم مغل

    سترسالہ محرومیوں کا ازالہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،سعید انجم مغل

    جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ کے نامزد امیدوا ربرائے قانون سازاسمبلی حلقہ ایل اے 1 سعید انجم مغل نے یونین کونسل راجکوٹ میں مغل برادری کی جانب سے شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سیاست متوسط طبقے اورپسماندہ علاقوں کی خوشحالی ہے، سترسالہ محرومیوں کا ازالہ کریں گے، راجکوٹ کی مغل برادی کا شکرگزارہوں آپ نے اعتما د دیا ہے، اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے، نوجوانوں نے جمود کو توڑ دیا اب نوجوان کشمیرکی قیادت کریں گے، راجکوٹ پہنچنے پرسعید انجم مغل کا نوجوانوں اوربرادری عمائدین کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا ہے، کارکنوں کی جانب سے پھولوں کی پتیاں نچھاورکی گیں، جبکہ راجہ عامر سیاب، قاری مقبول نے مالا پہنا کرساتھیوں سمیت جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے.
    یونین کونسل راجکوٹ میں کارنرمیٹنگزاورعلاقہ معززین کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے سعید انجم مغل کا کہنا تھا کہ شکرگزار ہوں کہ راجکوٹ کے میرے بزرگوں اورنوجووان دوستوں نے مجھے محبت دی اوراپنی بھرپورحمایت کا یقن دلایا ہے، راجوکوٹ میں اس بارنہ تیر چلے گا اوربلا بلکہ راجکوٹ کے نوجوانوں نے جمود کوتوڑدیا ہے، اس بارنظریاتی اورخوشحالی کشمیرکیلئےعملی طور پرمصروف جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کی فتح ہوگی، 25 جولائی کوصرف کرسی پرمہریں لگیں گی۔

  • وزیراعظم ایماندار لیکن نااہل کابینہ .تحریر ۔ زیشان روؤف

    وزیراعظم ایماندار لیکن نااہل کابینہ .تحریر ۔ زیشان روؤف

    میری تحریر کا ایک ایک لفظ میرے دل کی اواز ہے اور جو لیکھ رہا ہوں اس پر توجہ ضرور کریں۔
    عمران خان , کارکنان اور وزیر, مشیر
    یہ تین الاگ الاگ چیزیں ہیں ایک عمران خان ہے جو کچھ کرنا چاہتا ہے اور اس کے کارکنان اس کی طاقت ضرور ہیں لیکن یہ وزیر مشیر عمران خان کی 25 سال کی محنت کو پانی پانی کرنے کے در پر ہیں۔ کیوں کہ ٹھنڈی گاڑی ٹھنڈا کمرا اور پروٹوکول جو مل رہا ہے تو عوام جائے جہنم میں اور عمران خان کا کیا ہے اس کی جدوجہد اور نام بھی جائے جہنم میں ہم تو ارام کرنے اہیں ہیں اور وقت گزارنے اہیں ہیں۔
    یہ سب وہ لوگ ہیں جو ہر جماعت سے اچھل اچھل کر تحریک انصاف کا حصہ2018 میں بنے یہ وہ ہیں جو پولیس کے پرچوں قبضے اور بے شمار ایسے کاموں میں ملوث ہیں ۔
    یہ کسی بھی مشکل وقت میں جماعت کا ساتھ نہیں دیں گے
    عمران خان اپ کو اس نظام سے ناکامی کے اعلاوہ کچھ نہیں مل سکتا اپ کو سڑکوں پر نکل کر ایک نئے صدارتی نظام کی طرف انا ہوگا جو ملک کی ضرورت بن چکا ہے ۔ کرپٹ اور نااہل کابینہ سے جان چھڑواہیں ۔

    یہ کرپٹ وزرا صرف اپنا مال بنا ریے ہیں اور یہ لوگ اس نظام کو اپنے حق میں چلانا جانتے ہیں یہ سب کابینہ کے اراکین اپ سے پہلے کئی سالوں سے اس نظام کا حصہ ہیں وہ نظریہ عمران کو نہیں نظریہ پیسے کو سمجھتے ہیں اور وہ ہی کر ریے ہیں جو ہر وزیراعظم کے ساتھ رہ کر کرتے ہیں۔

    وقت اج بھی ہے قدم لیں ایک نئے نظام کا
    کل یہ وقت بھی شائد نہ ہو۔

  • لالٹین نکال لو، بجلی….. آ…..گئی ہے! تحریرِ: محمد اسامہ

    لالٹین نکال لو، بجلی….. آ…..گئی ہے! تحریرِ: محمد اسامہ

    دنیا میں جب سے بجلی کا آغازہوا ہے، تب سے لوگ بجلی کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ بجلی کے بغیرایک لمحہ گزارنا مشکل ہوجاتا ہے. جب بجلی بند ہوتی ہے تو انسان کی یہ حالت ہوتی ہے جیسے وہ دنیا میں نہیں جنگل میں رہ رہا ہے. سر کے اوپرآسمان، پاؤں کے نیچے زمین، دائیں بائیں درخت، چرند پرند اور جانورملے ہوں. اس ساری بات کا مقصد یہ ہے کہ انسان بجلی کے ساتھ چل رہا ہے. بجلی کے بغیر ایک سانس بھی نہیں گزار سکتا ہے.
    پاکستان میں بجلی کا بحران پچھلی ڈیڑھ دہائیوں سے چلا آ رہا ہے. دنوں کے حساب بجلی غائب رہتی ہے، پھربھی پاکستان کی قوم کی ہمت ہے کہ زندگی ہنس کھیل کرگزار رہی ہے، جب برداشت سے باہرمعاملہ ہوجائے تو گھروں سے باہرنکل کراحتجاج کے نام پراپنی بھڑاس نکال دیتے ہیں، پھراپنے اپنے گھروں کو واپسی کرلیتے ہیں، اس معاملے کے ذمہ داران عوام کو امید کا دلاسہ دلا کر پھر سے خواب غفلت کی نیند میں مدحوش ہوجاتے ہیں، عوام امید کے سہارے صرف راہ تکتی ہے اور صبرکرکے وقت گزارتی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ عادی ہوجاتی ہے، جو لوگ مالدار ہوتے ہیں وہ بجلی حاصل کرنے کے دوسرے طریقے استعمال کرلیتے ہیں، جولوگ صرف گزارے کی زندگی بسر کررہے ہوتے ہیں وہ صرف گزارا ہی کرتے ہیں.
    پاکستان میں بجلی جانے کا دور2007 سے شروع ہوا تھا، جو2021 یعنی تاحال جاری ہے. پاکستان میں انرجی کے بحران کی وجہ بننے کے مختلف پہلو ہیں. 2001 سے ابھی تک پاکستان مختلف عالمی مسائل کا شکار ہے. کبھی بیرونی جنگ میں فریق بن کراپنا نقصان کروایا ہے، کبھی بیرونی پاپندیاں لگی ہیں، آئی ایم ایف جیسے ادارے کی کڑکی میں پھنسایا گیا ہے، دہشت گردی کے نام سے شروع ہونے والی خانہ جنگی نے پاکستان کومعاشی طورپربہت نقصان پہنچایا ہے، 2008 کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی تھی، سیاسی حوالے سے مضبوط لوگ ہیں، اپنے دورحکومت میں اس جماعت کے ذمہ داروں نے سوائے اپنے پیٹ پالنے کے کوئی کام نہیں کیا تھا، اپنے 5 سال کے دورحکومت میں انرجی کے حوالے سے کوئی مضبوط پالیسی نہیں بنا سکے، انرجی کے نظام کوچلانے کیلئے ان کے پاس ریونیونا ہونے کے برابرتھا، حکومتی تعلقات والے فیکٹریوں کے مالک بجلی کا بل ہی نہیں دیتے تھے، ٹیکس چھوٹ چل رہی تھی، کرپشن عروج پرکی جا رہی تھی، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، جس کا جو دل چاہتا تھا وہ کرتا تھا، اداروں کی حالت ابترسے ابترہوتی گئی تھی، معیشت کو چلانے کیلئے اس حکومت نے ٹیکس ہی بڑھاۓ تھے، نوبت یہاں تک آگئی کہ ادارہ کی نجاکاری کرنا پڑ گئی تھی، حکومتی ذمہ داروں میں انرجی کے مسائل کو حل کرنے کیلیئے شعورہی نہیں تھا، پاکستان کے وسائل کو استعمال کرنے کی بجائے امریکہ سے 300 ملین ڈالرکا قرضہ لے لیا گیا تھا، پھر بھی انرجی کے مسائل پرقابو نہیں پا سکی تھی، وقت پراس حکومت سے کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا، آئی ایم ایف سے قرضہ لے کرنظام چلایا جا رہا تھا، اس دورحکومت میں ذمہ داراس قابل بھی نہیں تھے کہ اپنے وسائل کو بروئے کارلایا جا سکے، جی ڈی پی 4 فیصد تک آگئی تھی، پاکستان کی انڈسٹریز کومکمل بند کردیا گیا تھا، انڈسٹریز کے بند ہونے سے عوام بے روزگارہوگئی تھی، اس دورحکومت میں بجلی کا شارٹ فال 8500 میگاواٹ تک پہنچ گیا تھا جو کہ بجلی کی ضرورت کا 40 فیصد تھا، انرجی کی پیداوارکو بڑھانے کیلئے بیرونی قرضوں کا سہارا لیا جاتا تھا، باہر سے قرضہ لے کرادارے کے معاملات چلائے جاتے تھے، ادارے کی آمدن صرف درمیانے طبقہ کے لوگوں سے ہی آتی تھی.
    2013 میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو اس وقت بجلی کی لوڈشیڈنگ 12 گھنٹے شہروں میں، 16 گھنٹے دیہاتوں میں ہوتی تھی. شروع میں تو ان پرجوں تک نا رینگی.عوام مشکلات سے دوچار سراپہ احتجاج تھی. کوئی سننے والا نہیں تھا. 2 سالہ حکومت کے بعد ان کو ہوش آنا شروع ہوگیا تھا. نئی پالیسیاں بنانے کا آغاز ہوا. اس حکومت نے انرجی کے مسائل حل کرنے کیلئے 2 پالیسیاں بنائیں. ایک یہ کہ نادہندگی کے آدھے پیسے دے دیے جائیں. دوسرا یہ کہ انرجی کی نئی پالیسی دے دی جائے. اس دورحکومت میں 260 بلین روپے انڈی پینڈنٹ پاور پلانٹس کو گردشی قرضے کی مد میں دیے گئے تھے. اس وقت شارٹ فال 6000 میگاواٹ تک پہنچ گیا تھا۔ قرضہ ادا کرنے سے 1700 میگاواٹ بجلی شامل کی گئی تھی۔ کچھ نئے منصوبوں سے پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 22500 میگاواٹ تک پہنچ گئی تھی۔ اس دور حکومت ریونیو نہیں تھا۔ ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح بہت کم تھی۔ قرضوں سے نظام چلایا جا رہا تھا۔ قرضے لے کرقرضہ دینے سے بجلی کی بندش کا مسئلہ حل تو ہوگیا تھا لیکن مستقل حل نہیں تھا. بظاہریہ لگتا تھا کہ بجلی مسئلہ مستقل حل ہوگیا ہے. فیکٹریوں کے مالک بل دینے کی بجائے ذمہ داروں کی جیب گرم کرتے تھے. کئی کئی سالوں سے کروڑوں روپے کے بقایا جات پائے جاتے ہیں. ذمہ داروں کواس کی پرواہ تک نا تھی. انکے اکاؤنٹس میں وقت پرکرپشن کا پیسہ پہنچ جاتا تھا.
    وعدوں کے پل باندھنے والے 2018 میں پاکستان کے حکمران بنے. پی ٹی آئی کی حکومت کے ذمہ دار جو اپنی غلطیاں بھی پچھلوں پر ڈالنے کے ماہرہیں. جنہوں نے پاکستان کی ترقی کی قسم کھائی ہے. اس دورحکومت میں بھی بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی ہے. اس لوڈشیڈنگ سے تو پیپلز پارٹی کا دور تازہ ہوگیا ہے. موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے خطے میں موسم خشک اورگرم ہوگیا ہے. اس کے ساتھ ہی عوام پربجلی کی لوڈشیڈنگ کا پہاڑ توڑدیا گیا ہے. حکومتی ذمہ داروں سے حالات حاضرہ پر بات کی تو حسب معمول پچھلے ادوار پرمعاملہ ڈال دیا گیا ہے. اس وقت ملک کے شہری علاقوں میں 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے. دیہی علاقوں میں 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے. اس حکومت میں کچھ عقلمند لوگ بھی ہیں جنہوں نے اصل معاملے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے. پاکستان میں اس وقت 6500 میگاواٹ کا شارٹ فال آیا ہے. انرجی کے وزیرکا کہنا ہے کہ اس وقت ڈیمانڈ 24100 میگاواٹ ہے. پیداوار 22600 میگاواٹ ہے. 1500 میگاواٹ کا مسئلہ آ رہا ہے. یعنی اس حکومت کہ 3 سال میں کوئی ایسی ترقی نہیں کی گئی جس سے انرجی کے مسائل پرقابو پایا جاسکے. حالانکہ اس حکومت نے مختلف ڈیموں کی تعمیرکا کام اپنے دورحکومت کے آغاز میں ہی کردیا تھا. ٹیکس ریونیو بھی بہترہوگیا ہے. فیکٹریوں والے بھی بل ادا کررہے ہیں. یہاں تک کہ حالیہ لوڈشیڈنگ کے دوران عالمی بینک کی رپورٹ میں توانائی کے شعبہ میں اصلاحات لانے پرعالمی بینک نے حکومت وقت کی تعریف کی ہے، یہ حکومت حالات بہتر کرنے کا دعویٰ تو کرتی ہے مگرکرنہیں پا رہی ہے. عوام بیچاری حکومتی ذمہ داروں کا منہ تکتی رہ جاتی ہے. حکومت وقت سے گزارش ہے کہ جلد سے جلد بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرلیا جائے.

    @its_usamaislam

  • کشمیر کا پوسٹر بوائے کہ جس کی جدائی کو ایک عرصہ ہوا تمام ، تحریر: محمد عامر

    کشمیر کا پوسٹر بوائے کہ جس کی جدائی کو ایک عرصہ ہوا تمام ، تحریر: محمد عامر

    کشمیر کا پوسٹر بوائے کہ جس کی جدائی کو ایک عرصہ ہوا تمام ، تحریر: محمد عامر

    باغی ٹی وی : ‏برہان وانی، تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکنے والا حریت کمانڈر 8 جولائی 2021
    مقبوضہ کشمیر کی جِدو جہدِ آزادی کو اپنے خون سے نیا رنگ دینے والے حریت کمانڈر برہان مظفر وانی اور ان کے ساتھیوں کو شہید ہوئے پانچ برس بیت گئے۔

    شہید برہان وانی 19 ستمبر 1994 میں جموں کشمیر کے ایک گاؤں شریف آباد میں پیدا ہوئے ، برہان وانی نے صرف پندرہ سال کی عمر میں گھر سے بھاگ کر تحریک آزادی کشمیر میں شرکت کا فیصلہ کیا اور ایک مسلح تنظیم میں شامل ہوئے ، ایک سال بعد حزب المجاہدین میں شامل ہوگئے۔

    برہان وانی کے بھائی خالد وانی کو 2015 میں بھارتی فوجیوں نے ترال کے علاقے میں اس وقت ایک جعلی مقابلے میں شہید کردیا تھا، جب وہ اپنے تین دوستوں کے ہمراہ اپنے بھائی سے ملنے جارہے تھے۔

    بڑے بھائی کی شہادت کے بعد برہان وانی نے کھل کر سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو بندوق اٹھانے اور بھارت کیخلاف مسلح جدوجہد کی راہ اپنانے کی بھرپور مہم چلائی، جس کے جواب درجنوں نوجوان بھارتی فوج کیخلاف اس مہم میں شامل ہونے لگے۔

    آٹھ جولائی دو ہزار سولہ کو برہان مظفر وانی ککرناگ کے بم ڈورہ گاؤں میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران دو ساتھیوں سمیت شہید کر دیئے گئے تھے۔

    عالمی مبصرین کے مطابق برہان وانی کی شہادت نے مقبوضہ علاقے کے نوجوانوں میں حق خود ارادیت کے حصول کی خاطر ایک نئے جذبے کو جنم دیا اور جاری تحریک مزاحمت میں ایک نئی روح پھونکی۔

    برہانی وانی نے اپنے خون سے وہ لکیر کھینچ دی جس کو اب بھارت چاہے بھی تو مٹا نہیں سکتا ان کی آواز آج مقبوضہ وادی کے کونے کونے میں سنائی دی رہی ہے۔

    تحریر: محمد عامر

  • تحریک لبیک کے نامزد امیدوار نے ڈڈیال میں کارنرمیٹنگ کی

    تحریک لبیک کے نامزد امیدوار نے ڈڈیال میں کارنرمیٹنگ کی

    ڈڈیال میں لبیک یارسول اللہﷺ کے زیراہتمام آڑہ جٹاں میں کارنرمیٹنگ کی گئی ہے، اسیرناموس رسالتﷺ سعید منہاس کالیا کے زیرانتظام یہ میٹنگ کی گئی ہے، نامزد امیدوارفیصل مشتاق نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی ہے، شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے نامزد امیدوارنے کہا کہ ان شاء اللہ آڑہ جٹاں میں صرف 25 جولاٸی کولبیک یارسول اللہﷺ کی صداٸیں لگاٸی جائیں گی.
    آزادکشمیرمیں الیکشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی تیاریاں اپنے زوروں پر جاری ہیں، کارکنان اپنے امیدوارکوجتوانے کیلئے پر امید ہیں.

  • قصور کس کا؟ از قلم: فیصل فرحان

    قصور کس کا؟ از قلم: فیصل فرحان

    پاکستان میں روز ظلم و بربریت کی نئی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہے۔ کبھی خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلا امیر زادے نے فلا عورت کے ساتھ ریپ کر دیا فلا وڈیرے نے فلا غریب کو سرعام قتل کر دیا۔ اور یہ سارے واقعات چوری چھپے نہیں ہو رہے بلکہ سرعام ہزاروں گواہوں کے سامنے بلکہ ویڈیوز تک موجود ہوتی ہے لیکن ان سب ثبوتوں کے باوجود یہ درندے چند مہینوں بعد آزاد کیسے ہو جاتے ہے؟ یقینً ہمارے ذہن میں پہلا سوال عدلیہ کا آتا ہے لیکن اکیلی عدلیہ ان سب کی قصور وار نہیں ہے۔ سب سے بڑا قصور تو ہمارے غیر مکمل اور کالے قانون کا ہے۔ ہمارا ملکی آئین خود چوروں اور لٹیروں کو آزادی دیتا ہے پھر عدلیہ کیسے سزا دے؟؟ آپ سب کو بلوچستان والا واقعہ یاد ہوگا جس میں ایک پولیس والے کو بلوچستان کے وڈیرے نے ڈیوٹی کے دوران گاڑی سے کچل دیا اور اس کیس کا سب سے اہم ثبوت ویڈیو تھی جس میں صاف نظر آرہا تھا لیکن اس وڈیرے نے اس شہید پولیس والے کی فیملی کو ڈرا دھمکا کر دیت کا نام دے کر کیس معاف کروا لیا اور پکا ثبوت ہونے کے باوجود باعزت بری ہوگیا۔ اسی طرح کشمالہ طارق کے بیٹے والا کیس بھی یاد ہوگا جس میں کئی گھروں کے چراغ بجھا کر ان کو ڈرا دھمکا کر دیت دے کر کیس معاف کروا لیا ۔

    یاد رکھیں اسلام نے دیت والی حد صرف اس کیلیے رکھی جس سے غلطی ہو جائے یا جھگڑے میں قتل ہو جائے اسلام ہرگز کسی ظالم یا بدمعاش کی دیت قبول نہیں کرتا بلکہ اسے کڑی سے کڑی سزا دیتا ہے لیکن ہمارے ملک میں سسٹم الٹا ہے یہاں پر ہر امیر اور بدمعاش کی دیت قبول کر لی جاتی ہے جو کہ ہمارے قانون میں شامل ہے۔ اب خود بتاو یہاں پر عدلیہ کیا کرے؟ جب قانون خود راستہ دے رہا ہو۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے ججز بہت پارسا ہے یقینًا بہت سے ججز کرپٹ ہے جو بڑی بڑی پارٹیوں سے پیسے لے کر فیصلہ کرتے ہے لیکن وہ ججز بھی قانون کا استعمال کر کے ہی ظالموں کو رہا کرتے ہے اسلیے آج تک کسی جج کو کوئی افف تک نہیں کر سکا کیونکہ سارا پراسس قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ اسلیے اگر ہمیں ملک میں ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنا ہے تو ہنگامی بنیادو پر لاء ریفارمز کرنی ہوگی اور سخت شقیں شامل کرنی ہونگی تاکہ ہر ظالم اور چور کو کڑی سے کڑی سزا ہوسکے اور پھر کوئی جج چاہ کر بھی دونمبری نہیں کر سکے گا اگر کرے گا تو پکڑا جائے گا۔ انصاف کسی بھی معاشرے کیلیے سب سے اہم جز ہے۔ نبی کریمؐ نے پورانی اقوام کی تباہی کا یہی سبب بتایا کہ وہ لوگ غریب کو سزا دیتے تھے اور امیر کو چھوڑ دیے تھے جیسا آجکل ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔

    امام علیؓ کا قول ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن انصافی کا نظام کبھی نہیں چل سکتا اور یہی پاکستان کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اگر پاکستان کو بہترین ملک بنانا ہے تو سب سے پہلے نئے قانون بنائے جائے اور ہر قانون کو مکمل سٹڈی کے بعد پاس کیا جائے تاکہ کسی قسم کی جھول باقی نہ رہے پھر ان شا اللہ جلد ہمارا ملک عظیم اقوام میں شامل ہوگا