Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بحیثیت پاکستانی ہمارے فرائض.تحریر : علی حسن

    بحیثیت پاکستانی ہمارے فرائض.تحریر : علی حسن

    ہمارے وطن عزیز پاکستان کے حالات ناقابل یقین مراحل میں ہیں. اس کی بنیادی وجہ ہم سب جانتے ہیں ایک تو ہمارے سیاست دان ملک کو لوٹتے رہے ہیں اور دوسرا بحیثیت قوم ہماری تربیت نا ہو سکی.
    قومیں کس طرح ترقی کرتی ہیں یہ شعور آنا بہت ضروری ہے.
    ہر کوئی صرف خود کو بنانے کے لیے دوسرے کو نقصان پہنچا رہا ہے.
    رشوت خوری، ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی کر کہ مہنگائی کو پروان چڑھانا سنگین جرائم ہیں بد قسمتی سے حکومتیں ان جرائم پر قابو نا پا سکیں.

    ہمارا ملک ہمارے گھر کی مانند ہے اور ہمارے ملک کی عوام گھر کے افراد کی مانند ہیں. جب ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو نقصان پہنچانے کی بجائے فائدہ دینے کی کوشش کریں گے تو ہم ایک عظیم قوم بن جائیں گے ہمارا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا.

    جس طرح اپنے گھر کو بنانے کے لیے محنت کی جاتی ہے اسی طرح پاکستان کو دنیا کی سپر پاور بنانے کے لیے کام کرنا ہو گا.
    ملک کی ترقی کا دارومدار ملک کی آمدنی پر ہے.
    سرمایہ دار لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ملک کی تعمیر و ترقی میں.
    سرمایہ دار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں کاروبار کرنے کو ترجیح دیں نا کہ باہر کے ممالک میں.
    پاکستان میں کاروبار سے لوگوں کو روزگار ملے گا غربت کا خاتمہ ہو گا. ملک کی آمدنی بڑھے گی.

    ہر شعبے کے افراد کو چاہیے کہ پاکستان کی ترقی میں انفرادی طور پر اپنا حصہ ضرور شامل کریں.
    ہمارے ملک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے سرکاری ملازمین غریب شہریوں سے رشوت وصول کر رہے ہیں، تاجر حضرات غیر قانونی منافع لے رہے ہیں، وکلاء کی بہت بڑی تعداد بھی عام آدمی کو انصاف فراہم نہیں کر پا رہی.

    ہم اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں؟
    ہمارا تعلق جس بھی شعبے سے ہو مثلاً ڈاکٹر، وکیل، ٹیچر، دکاندار، فیکٹری مالک اور باقی تمام شعبے،
    پولیس شہریوں کی مدد کرے نا کہ رشوت لے، ڈاکٹرز غریب لوگوں کا علاج کچھ کم پیسوں میں کر دیں، وکلاء عام آدمی کے لئے انصاف کی فراہمی کی کوشش کریں، تاجر حضرات غیر قانونی منافع نا لیں لوگوں کو مناسب دام میں اشیاء فروخت کریں ، فیکٹری مالکان اپنے ورکرز کی تنخواہوں کا خاص خیال رکھیں.

    ہر ایک طبقے کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کی ترقی کے لئے اپنے ملک کی عوام کو سکون اور راحت پہنچائے تاکہ عام آدمی بھی اپنی زندگی بدلنے کی طرف جا سکے.

    ہمیں غریب عوام کا بہت زیادہ احساس کرنا ہو گا. غریب لوگوں کو عزت والی زندگی میسر آنی چاہیے جو بیچارے اپنی بیٹی کی شادی کے وقت پریشان، کوئی بیماری آ جائے تو پریشان اور کوئی معمولی سی پریشانی بھی ان کے لیے پہاڑ بن جاتی ہے.

    عام آدمی کو اٹھنے کا موقع ملے گا تو ملک ترقی کرے گا اس طرح کے نظام میں امیر امیر تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور غریب غریب تر.

  • ‏عشق مجازی اور انسانی درندے  .تحریر: محمد صابر مسعود

    ‏عشق مجازی اور انسانی درندے .تحریر: محمد صابر مسعود

    سوشانت اپنی حوس کی وجہ سے پاگل ہوچکا تھا قریب تھا کہ وہ بیہوش ہو جاتا اس نے دن کے تین بجے اپنی گرل فرینڈ (پریتی) کو کال کی، پریتی اکل و شرب سے فراغت کے بعد محو خواب ہو چکی تھی اسی اثناء میں موبائل کی رنگ بجی اور ڈرتے ہوئے موبائل کی جانب قدم رنجاں ہوئی ابھی تو ڈر کی وجہ سے کلیجہ منھ کو آ رہا تھا لیکن موبائل اسکرین پر نام دیکھ کر خوشی کی انتہا نا رہی (کیونکہ یہ کال پریتی کے لئے کسی عام شخص کی نہیں تھی بلکہ یہ اسکے دل کا ٹکڑا تھا) اور اسکرین کو اسکرول کرتے ہوئے فون اٹھایا، دوسری جانب سے حوس سے بھری آواز آئی (جسے یہ نادان لڑکی محبت کی انتہا سمجھ رہی تھی) جانی! لو یو ناں یار، کیا کر رہی ہو؟ اور ہاں کہاں ہو؟ یار تمھارے بغیر دل نہیں لگ رہا، تم سے ملنے کے لئے دل پرکٹے پرندے کی طرح پھڑ پھڑا رہا ہے اسلئے پلیز گھر آجاؤ یار۔ پریتی فرط محبت میں کچھ یوں گویا ہوئی۔ ٹو یو سو مچ میری جان، یار میں گھر پے ہوں، تھک کر سوگئ تھی لیکن تمھاری کال دیکھ کر نیندیں بالکل غبارے کی طرح اڑ گئ۔ اور ہاں تم سے ملنے کے لئے میں بھی بیقرار تھی لیکن دروازے سے گیٹ کیپر کی موجودگی میں کیسے آؤں؟ کیونکہ معلوم ہونے کی صورت میں والدین گھر سے باہر نکال دینگے۔
    سوشانت! ارے یار میں ہوں ناں، اگر انہوں نے معلوم ہونے کی صورت میں تمہیں گھر سے نکلنے پر مجبور کر بھی دیا تو میں تمھیں شہزادیوں کی طرح رکھونگا، ہر چیز کا خیال رکھونگا۔
    پریتی کا یہ سننا تھا کہ وہ چیخ کر بولی” آئی لو یو میری جان (کیونکہ ایک لڑکی کو پیار و محبت اور کئیر ہی کی ضرورت ہوتی ہے) کہا کہ میں تمھاری بانہوں میں کچھ وقت بتانے کے لئے آ رہی ہوں، ایک بیگ لیکر گیٹ کیپر سے چھپ چھاتے ہوئے سوشانت کی اور نکل پڑی جسمیں موبائل و پیسے موجود تھے۔ ایک آٹو والے کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ بھیا ھدھد پور چلو گے؟ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ جی ہاں، کیوں نہیں
    پریتی اپنی بڑی بڑی آنکھوں، بڑے بڑے بالوں، رخساروں و ہونٹوں پر میک اپ اور عمدہ قد و قامت کی وجہ سے ہر دیکھنے والے کو مسحور کر رہی تھی تا آنکہ وہ سوشانت کے ایک بڑے سے مکان کے پاس جا پہنچی اور پر کشش آواز میں ندا لگائی۔ جانی! آپ کی جان آ چکی ہے دروازہ کھولو۔۔

    سوشانت جسکا رنگ سانولا، گھنگریالے بال اور لمبے تڑنگے قد کا مالک تھا، نشے سے دھت، دروازہ کھولا اور پریتی کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا، کچھ کھاؤ گی؟ پریتی نے انکار کرتے ہوئے کہا سوشانت بس مجھے تمھارا ساتھ چاہئے یہی میرے لئے سب کچھ ہے، سوشانت نے سگریٹ جلا کر ایک زور دار کش لگائی، دروازے پر کنڈی لگاتے ہوئے حوس بھری نگاہوں سے پریتی کی طرف بڑھا، برہنہ کرکے بانہوں میں لیکر اسے بیڈ پر ڈال دیا اور پریتی سوشانت کی محبت میں خود کو اس کے حوالے کرتے ہوئے ایک سرینڈر کرنے والے فوجی کی طرح پیروں کو دراز کرتے ہوئے لیٹ گئی، سوشانت نے پاس پڑے موبائل کا کیمرہ چالو کرکے پریتی کی طرف کردیا، پریتی کیمرہ دیکھ کر ہکی بکی رہ گئ کیونکہ کبھی اس نے کسی سے اپنی تصویر تک کلک نہیں کرائی تھی اور آج اسکی سیکسی ویڈیو بنائی جا رہی تھی اسلئے اس نے بڑے ہی درد بھرے لہجے میں کہا جانو پلیز کیمرہ بند کردو نا ۔ سوشانت نے کہا نہیں تمہارا چہرہ نہیں آئے گا ”
    میں اپنی ماں کی قسم کھاتا ہوں ۔۔خود ہی دیکھوں گا یہ وڈیو پھر ڈیلیٹ کردوں گا کیونکہ اکیلے میں مجھے تمھاری بہت یاد آتی ہے۔ نہیں پلیزززز ” ہاتھ ہٹاؤ نا جان ”
    ” نہیں ” سوشانت نے بڑے ہی مان کے انداز میں کہا: اچھا میری قسم ہے تمہیں ہاتھ ہٹاؤ وڈیو بنانے دو
    ” اپنی قسمیں مت دیا کرو مجھے بہت برا لگتا ہے”
    قسم دینا پڑجاتی ہے تم بھی تو بھروسہ نہیں کرتی میں نے بھلا کس کو دکھانی ہے۔۔۔ڈیلیٹ کردوں گا
    "بھروسہ کرتی ہوں تبھی تو خود کو تمھارے حوالے کردیا ہے ”
    ” تو پھر بنانے دو نا "!
    ” تم باز نہیں آؤ گے۔۔۔۔۔ اچھا بنا لو ” !! لو یو ”
    بہت محبت کرتی ہوں تم سے، میرا مان مت توڑنا اور ہاں چاہتی ہوں ہیر رانجھا کی طرح ہماری محبت کی بھی کہانیاں سنائی جائیں ”
    "سوشانت نے پھیکے سے لہجے میں کہا ہمممم۔۔۔۔۔ لو یو ٹُو ”
    کٹی پتنگ کی طرح جھولتی ہوئی گھر پہنچی اور کمرے میں آ کر سوگئی ۔۔۔۔
    ” وہ عام سے گھر کی گمنام لڑکی تھی ”
    مگر جب اسکی آنکھ کُھلی تو وہ اور اسکی محبت مشہور ہوچکی تھی ” ..
    پھر کیا ہوا لڑکا سرعام دندناتا پھر رہا ہے …
    اس لڑکی کا کیا بنا … والدین اور شہر والوں کی نظر میں وہ طائفہ بن چکی تھی، یہ درد سہنا اسکے لئے بہت مشکل تھا کیونکہ کل تک اسکی بہت عزت تھی، ٹینشن میں بہت بڑی بیماری کا شکار بن چکی تھی بالآخر اس دار فانی سے دار بقا کی طرف لوٹ گئی کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ لڑکی کا گلہ کاٹ کے اس کو کسی کے بھی سامنے لائے بغیر والدین راکھ کر چکے ہیں اسی طرح ایک ہیر رانجھے کی کہانی اختتام ہوئی ۔۔

    نتیجہ ! نہیں نہیں میری بہنو میں آپ سے ہاتھ جوڑ کے درخواست کرتا ہوں ایسا ہر گز نا کرنا یہ آپ کی زندگی سے کھیلنے والے درندے ہیں جو آپ کو محبت کے نام پر کھلونا بنا کر استعمال کرتے ہیں، جب آپ سے من بھر جاتا ہے تو ٹشو پیپر کی طرح پھینک کر راستہ الگ کرلیتے ہیں لیکن اس وقت تک آپ سب کی نظر میں نہیں تو کم از کم اپنی نظر میں طائفہ بن چکی ہوتی ہو اور وہ بیغرت کھلے سانڈ کی طرح کسی دوسری کی تلاش میں ہوتا ہے یا پھر غیر ملک مزے لے رہا ہوتا ہے .اور آخر میں رہ جاتے ہیں آپ کے ماں باپ اور بھائی وہ تو جیتے جی ہر روز بیچارے شرم سے مر رہے ہوتے ہیں، بس زندہ لاش بنے ہوتے ہیں اسلئے اپنی، والدین کی اور رشتہ داروں کی عزت کا خود خیال کریں

    تحریر ہر بہن تک پہنچا دیں تاکہ کوئی بھی بہن کسی درندے کے ہاتھ نہ لگ جائے۔۔۔

  • یتیم کا مال .تحریر :فضیلت اجالہ

    یتیم کا مال .تحریر :فضیلت اجالہ

    ارشاد باری تعالی ہے
    جو لوگ ناحق ظلم سے یتیم کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب دوزخ میں جائیں گے ۔

    ہمارے معاشرہ وہ تاریک معاشرہ ہے جس میں بلا خوف و خطر یتیم کا مال کھایا جاتا ہے ۔
    وہ کمسن بچے جن کے والدین کو اجل اسوقت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے جب ان معصوموں کو لفظ یتیم کا مطلب بھی نہی پتہ ہوتا تو قریبی رشتہ دار ان کی پرورش کی زمہ داری لیکر زمانے کی نظر میں معزز ٹھرتے ہیں مگر اندر ہی اندر ان بچوں کی جڑے کاٹتے ہوئے کاغزات میں اتنی ہشیاری سے رد وبدل کرواتے ہیں کہ جیسے ان کی وراثت کا حق بھی باپ اپنے ساتھ قبر میں لے گیا ہو ۔اور ایسا کرتے ہوئے انہیں ایک لمحے کیلیے بھی خوف خدا محسوس نہی ہوتا ۔
    اگر کبھی ضمیرملامت کرے بھی تو طرح طرح کے بہانوں سے دلوں کو بہلاتے ہیں کہ کیا ہوا جائداد رکھ لی تو ،
    انکے نان نفقے کا بوجھ بھی تو مرے سر پر ہے
    آخر انکو رہنے کو چھت دیں رہیں ہے
    لیکن یہ دلائل دیتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ یتیم کا مال ہڑپ کرنا سراسر ناجائز اور حرام ہے اور ایسا کرنے والوں کیلیے قرآن میں سخت عزاب کی وعید ہے ۔

    ایک حدیث مبارک ہے کہ رسول اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا ؟
    تم لوگ مفلس کس کو سمجھتے ہو؟
    صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ مفلس وہ ہے جس کہ پاس مال و دولت نا ہوں ،درہم ،نا ہو۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا نہی ۔مفلس تو وہ ہے جو قیامت کہ دن آئے ،اس نے نمازیں بھی پڑھی ہوں ،روزے بھی رکھیں ہوں ،زکواۃ بھی دی ہو حج بھی کیا ہو لیکن،اس کے ساتھ ساتھ اسنے کسی کو گالی دی تھی ،کسی کا حق کھایا تھا ،یتیم و مسکین کا مال ہڑپ کیا تھا کیسی پہ تہمت لگائ تھی ،کسی پہ ناجائز بہتان بھی باندھا تھا ،اب جب اعمال پلڑے میں ڈالے گئے تو اسکا ایک برا عمل ایک نیکی لے گیا دوسرا عمل دوسری نیکی لے گیا اس طرح ایک ایک کر کہ ساری نیکیاں چلی گئ لیکن اب بھی کچھ لوگوں کا حق اس پہ باقی ہے تو اب ان حقداروں کے گناہ اس شخص پہ لاد دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ یہ بوجھ اٹھائے جہنم میں جا گرے گا یہ ہے اصل مفلسی ۔
    اسلام میں یتیم کے مال کی حفاظت پہ زور دیا گیا ہے ۔
    یہاں تک کہ وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائیں تو انکا مال انکے حوالے کرنے کا حکم آیا ہے ۔صرف یہ نہی بلکہ یتیم کی کفالت اور اسکو اسکا حق دینے والے کیلیے خصوصی انعام کا اعلان بھی ہے ۔
    سھیل بب سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    رسول اللہ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیان والی انگلی کو آپس میں ملایا اور صحابہ کو دکھاتے ہوئے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والہ قیامت میں اس طرح ساتھ ہون گے۔
    لہزا ہمیں ان تمام باتوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور خود کو جہنم سے محفوظ کرنا ہے کیونکہ ہم نے ہمیشہ یہاں نہی رہنا اور آخر ایک دن پلٹنا ہے اس خدائے بزرگ و برتر کی جانب جس سے کوئ عمل چھپا ہوا نہی ۔
    نئ نسل کہ پاس اسلام سیکھنے کے بہت سے زرائع ہیں ۔نا صرف خود بلکہ اپنے بڑوں کو بھی نیک عمل کی ترغیب دیں انہیں یتیم کا حق دینے پہ آمادہ کریں اور اپنی آخرت سنواریں ۔

  • معاشرہ کیا ہے؟ تحریر.فیضان علی

    معاشرہ کیا ہے؟ تحریر.فیضان علی

    معاشرہ ہم سب مل کر بناتے ہیں یعنی اس میں رہنے والے تمام افراد اور عناصر مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں
    معاشرے کی اچھائی اور برائی کو دیکھنا ہم پہ لاگو ہے معاشرے کا خیال رکھنا ہم سب کی زمہ داری ہے معاشرے میں اچھے برے دونوں لوگ بستے ہیں
    معاشرے کو اچھا بنانے کے لیے ہم پر لازم ہے کے ہم برائی کی روک تھام کے لیے کلیدی کردار ادا کریں اور سب سے اہم ہمیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کے لیے ان کی روز مرہ زندگی پہ نظر رکھنی چاہیے بچوں کو اچھائی، برائی اور جائز، ناجائز کے بارے میں فرق بتانا لازمی ہے اگر ہم اپنے بچوں کو اچھائی، برائی اور جائز، ناجائز کے بارے میں فرق نہیں بتائیں گے تم بچوں کو ہم اچھا اور زمہ دار شہری نہیں بنا سکتے.
    ہمارے معاشرے میں اجکل سگریٹ-نوشی جیسی بُری لعنت بہت عام ہو چکی ہے
    کیونکہ ہم نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی کے ہمارے بچے کس ماحول میں کھیلتے ہیں ان کا اٹھنا بیٹھنا کن لوگوں کے ساتھ ہے؟

    سگریٹ-نوشی ایک ایسی بری لعنت ہے جس کے ساتھ بچے منشیات بھی لینا شروع کر دیتے ہیں اور گویا یوں ہمارا معاشرہ برائی کی لپیٹ میں اجاتا ہے

    معاشرے کو اچھا بنانا ہم سب کی زمہ داری ہے یہ کسی ایک فرد کا کام نہیں ہے ہم سب کو مل کر معاشرے کو اچھا بنانے میں سامنے آہ کر اہم کردار ادا کرنا چاہیے
    اجکل ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لے رہی ہیں کیا کبھی ہم نے ان کی روک تھام کے لیے کچھ سوچا؟
    نہیں کبھی نہیں ہم اس برائی کی زمہ داری یا تو لوگوں ہر یا معاشرے پہ ڈال دیتے ہیں یا پھر ہم اس سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں کے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کے ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے یہ سوچ سراسر غلط ہے کیونکہ کے اگر ہم اج اس کو نظرانداز کریں گے تو کل کو ہمیں ہی اس برائی کا سامنہ کرنا پڑے گا
    تو اس وقت ہم اپنے کل کو پچھتائیں گے لیکن اس وقت پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہونا کیونکہ
    ایک مشہور کہاوت ہے کے

    (اب کیا فائدہ جب چڑیاں چگ گئی کھیت)

    وقت گزر چکا ہوگا اس لیے ہمیں اپنے آنے والی نسل کے کل کو سنوارنے کے لیے اس آج کو بہترین بنانا بہت ضروری ہے
    اگر ہم اپنے آج کو بہتر بنانے کیلئے اگے ہونگے تو کل کو ہماری انے والی نسلوں کے لیے ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا جس کی ضرورت معاشرے کے ہر فردوواحد کو ہے
    معاشرے کو اچھا بنانا کسی ایک گھر کے افراد یا کسی ایک خاندان کی زمہ داری نہیں ہے بلکہ اس معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کی زمہ داری ہے

    اس برائی کے خاتمے کے لیئے ضروری ہے کے ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آج سوچنا چاہیے تاکہ آنے والے کل میں ان کے لیے ایک بہترین ماحول ملے جس کے لیے ہم سب کو مل کر ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینا انتہائی ضروری ہے

  • ‏ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر:عامر سہیل

    ‏ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر:عامر سہیل

    معاشرے میں ہم کسی کو خود سے آگے نکلتا دیکھ نہیں سکتے جبکہ انسانیت کا کام دوسروں کی مدد ہے
    ہم اللہ کی رضا کی خاطر انسانیت کی مدد کرنی چاہیے اور دوسروں کی کامیابی میں خوش ہونا چاہیے نا کہ کسی کو خود سے آگے نکلتا دیکھ کر حسد کرنا چاہیے
    دوسروں کی خوشی میں ہونے سے یقیناََ اللہ ہمیں بھی خوشی سے نوازتا ہے۔

    دوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ عبدالمطیع سب سے آگے تھا، مگر اس نے سمجھا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے، اس کے بالکل پیچھے سپین کا رنر ایون فرنینڈز دوڑ رہا تھا اس نے جب دیکھا کہ مطیع غلط فہمی کی بنیاد پر رک رہا ہے تو اس نے اسے آواز دی کی دوڑو ابھی فنش لائن کراس نہیں ھوئی، مطیع اس کی لینگوئج نہیں سمجھتا تھا اس لئیے اسے بالکل سمجھ نہ آئی، یہ بہترین موقع تھا کہ فرنینڈز اس سے آگے نکل کے دوڑ جیت لیتا مگر اس نے عجیب فیصلہ کیا اس نے عبدالمطیع کو دھکا دے کے فنش لائن سے پار کروا دیا
    تماشائی اس سپورٹس مین سپرٹ پر دنگ رہ گئے، فرنینڈز ھار کے بھی ھیرو بن چکا تھا

    ایک صحافی نے بعد میں فرنینڈز سے پوچھا تم نے یہ کیوں کیا
    فرنینڈز نے جواب دیا
    "میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں کوئی دوسرے کو اس لئیے دھکا دے تاکہ وہ جیت سکے”
    صحافی نے پھرپوچھا "مگر تم نے کینیا کے ایتھلیٹ کو کیوں جیتنے دیا”
    فرنینڈز نے جواب دیا
    "میں نے اسے جیتے نہیں دیا، وہ ویسے ہی جیت رہا تھا، یہ دوڑ اسی کی تھی”
    صحافی نے اصرار کیا” مگر تم یہ دوڑ جیت سکتے تھے”
    فرنینڈز نے اس کی طرف دیکھا اور بولا
    ” اس جیت کا کیا میرٹ ہوتا؟ اس میڈل کی کیا عزت ہوتی؟ میری ماں میرے بارے میں کیا سوچتی؟”
    اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں، ہمیں اپنے بچوں کو کیا سکھانا چاھئیے، بلاشبہ یہ کہ جیتنے کےلئے کوئی بھی ناجائز طریقہ اختیار نہیں کرنا، وہ آپ کی نظر میں جیت ہوسکتی ہے، دنیا کی نظر میں آپ کو بددیانت کے علاوہ کوئی خطاب نہیں ملے گا۔

    ہم اپنے بچوں کو یہ لازمی سکھائیں کہ کامیاب ضرور بنیں کسی کو گرا کر نہیں بلکہ اپنی قابلیت پر اپنی ہمت پر اگر ہم کسی کو گرا کر کامیاب ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک ظلم کی شکل ہے ہم دنیا میں تو کامیاب ہو سکتے لیکن آخرت میں اپنے اعمال کا اللہ پاک کے سامنے جوابدہ ہیں
    اور یہ کیسے ممکن ہے کسی کا حق تلافی کریں ہم سے اُس کے بارے میں پوچھا نہ جائیے۔

    ہمیں تو حکم دیا گیا ہے راستے میں کانٹا پڑا ہو تو اس کو ہٹا کر لوگوں کو تکلیف سے بچانا چاہیے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے۔
    ہم لوگ صرف محض چند دنیاوی مفاد کے لئے لوگوں کی زندگی تباہ کر دیتے. اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ہم کس طرف جا رہے ہیں
    ہم آنے والی نسلوں کو کیا سیکھا رہے ہیں؟
    کیا ہماری سمت درست ہے؟

  • گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

    گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

    وزیراعظم پاکستان عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے تقریباً 3 سال پورے ہونے کو ہیں ۔ اگر پوری ایمانداری سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان ان حالات سے بہت بہتر ہے جن حالات میں عمران خان صاحب کو حکومت ملی تھی۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، ایف اے ٹی ایف اور ائی ایم ایف کا شدید دباؤ اور پابندیاں جکڑے کھڑی تھیں۔ سابقہ حکمران ایک باقاعدہ پلاننگ کے تحت ملک کی یہ حالت کر کے گئے تھے اور بہت ڈھٹائی کے ساتھ اپنے قریبی حلقہ احباب میں کہتے تھے کہ عمران خان کو ایسا ملک دے کر جا رہے ہیں جہاں وہ ناکام ہو کر خود ہی بھاگ جائے گا اور پھر ہم تجربہ کاروں کو منتیں کر کے واپس لایا جائے گا کہ ملک سنبھالو اور پھر ہم اپنی شرائط پر آئیں گے۔ لیکن یہ لوگ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نیتوں کے حساب سے مرادیں پوری کرتی ہے۔ جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے نامراد رکھتی ہے اور جس کی نیت ٹھیک ہو اسے بامراد اور کامیاب ؤ کامران کرتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی، عمران خان صاحب نے تو شروع میں چھٹی تک نہیں کی اور دن رات محنت سے پاکستان کو ٹریک پر واپس لانے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی۔ پاکستان کا امیج دنیا میں بہتر کیا، کرونا کی عالمی وبا کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے کامیابی سے ہینڈل کیا کہ دنیا ہماری مثالیں دینے پر مجبور ہو گئی۔ ہمسایہ ملک بھارت میں جو حال ہوا سب کے سامنے ہے لیکن ہماری قوم کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح ہم نے دنیا کو دی۔ خارجہ پالیسی میں بہت کامیابیاں حاصل کیں، ملکی مفاد کو مقدم رکھا ۔ ازلی دشمن انڈیا کو نہ صرف دنیا میں ننگا کیا بلکہ تنہا بھی کر دیا۔ دشمن کے رات کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلانہ حملے کا دن کی روشنی میں کامیاب جواب دیا۔ ایشیا میں پاکستان، چائینہ، روس، ترکی اور ایران کے ساتھ گروپ بنا کر انڈیا کو تنہا کر دیا ۔ فلسطین کے مسلئہ پر کامیاب سفارتکاری سے جنگ بندی کروائی، اپنا ہم خیال گروپ بنایا اور دنیا کو اپنی بات ماننے پر مجبور کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے بیباک طریقے سے پیش کیا ، امید ہے انڈیا جلد یا بدیر پاکستان اور ہمارے ہم خیال گروپ کی بات ماننے ہے مجبور ہو جائے گا۔ اسلامو فوبیا کو دنیا بھر میں وزیراعظم عمران خان نے اجاگر کیا اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری دنیا کو بتایا کہ یہ ہمارا ایسا پوائنٹ ہے جس پر کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کو پہلی بار حقائق پر مبنی جراتمندانہ جواب کے ساتھ زمینی اڈے دینے سے انکار کے ساتھ امریکی لڑائی اپنے ملک یا اپنی افواج کے ذریعے لڑنے سے انکار کر دیا۔ سابقہ حکمران پاکستان کو فیفٹ کی گرے لسٹ میں پھینک کر گئے تھے ، تحریک انصاف کی حکومت نے عملی اقدامات اور موثر قانون سازی کرتے ہوئے 27 میں سے 26 پوائینٹس پر عمل کیا اور بہت جلد 27 ویں ہوائینٹ پر بھی عمل کر کے پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے قانون اسمبلی سے منظور کروایا اور جلد سینٹ سے منظور ی کے بعد 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے ۔ لانگ ٹرم پالیسیز بنائی گئیں اور آنے والی نسلوں کے لیے اچھے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ کرپشن کو اتنے اچھے طریقے سے ایکسپوز کیا کہ اب عوام میں قابلِ قبول یہ بد فعل ایک گالی بن چکا ہے۔ بجلی کے نئے منصوبے کئی گنا کم قیمت پر شروع کیے گئے، اس وقت پاکستان میں چھوٹے بڑے 9 ڈیمز زیر تعمیر ہیں جن کی تکمیل پر نہ صرف بجلی انتہائی سستی اور وافر دستیاب ہو گی بلکہ ہمسایہ ممالک کو فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔ ، گیس کم نرخوں پر خریدی گئی، انڈسٹری کو مراعات دیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری جو آخری سانسیں لے رہی تھی کو زندہ کیا اور اب نہ صرف انڈسٹری اپنی فل کیپیسٹی پر چل رہی ہے بلکہ ایک سال کے ایڈوانس آرڈرز موجود ہیں۔ کرونا وائرس میں دنیا کی معیشت تباہ ہوئی لیکن پاکستان نے اپنی ایکسپورٹ میں اضافہ کیا۔ جو پاکستان کل تک ماسک نہیں بنا سکتا تھا وہ اس وقت دنیا کو وینٹی لیٹر بیچ رہا ہے۔ کرونا ویکسین پاکستان میں بن رہی ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان جدید جنگی جہاز جے ایف تھنڈر بنا کر بیچنا شروع ہو گیا ہے ۔ تعمیرات، سیاحت سمندری راستے اور بندرگاہوں کے شعبوں کو صنعت کا درجہ دیا۔ صحت کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو مفت علاج کی جدید سہولیات کے پی کے میں مکمل اور پنجاب میں جزوی طور پر مل رہی ہیں جو جلد پوری قوم کو دستیاب ہوں گی۔ کسان کو پہلی دفعہ گنے اور گندم کے بہترین ریٹ ملے اور وقت پر ادائیگی ہوئی، اب کسان کارڈ کے ذریعے زرعی آلات، کھادیں ، ادویات اور بیج دستیاب ہیں ۔ ان سب اقدامات کے رزلٹ جلد ہی عوام کے سامنے آ جائیں گے اور اس کا ثمر ملک ؤ قوم کو ملنا شروع ہو جائے گا۔ اور بھی بہت سے ایسے قابل ذکر اقدامات ہیں جو ملک کی تاریخ بدل دیں گے لیکن آج میں محترم وزیراعظم عمران خان صاحب کی توجہ کچھ ایسے کاموں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو ان کی فوری توجہ کے متمنی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان صاحب گورننس ملک کا بہت بڑا مسلہ ہے، گورننس میں پورے ملک اور خصوصاً پنجاب میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سفید پوش طبقے کے لیے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نے جتنا ریلیف دینے کی کوشش کی ، سبسڈی دی، یوٹیلیٹی اسٹورز پر پیکج دیے ، ٹیکسوں میں چھوٹ دی لیکن مہنگائی کم نہیں ہوئی۔ مجھے احساس ہے کہ آپ کا مقابلہ مختلف مافیاز سے ہے جو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور ایسے طریقوں سے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں لیکن آپ کے پاس اختیار ہے، حکومتی مشینری ہے ، اس کا صحیح استعمال ان مافیاز کو لگام دے سکتا ہے۔ حکومت کے پاس ہر محکمے میں لوگ موجود ہیں لیکن یہ لوگ اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتے ، ان کو ٹھیک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پرائیس کنٹرول کمیٹیاں اور ادارے ملک بھر میں موجود ہیں لیکن برائے نام ۔ ان کو ایکٹو کرنا ، ان میں موجود کالی بھیڑوں کو فارغ کرنا اور ایسے اہل اور ایماندار افسروں کا آگے لانا ہی واحد حل ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب آپ نے سی سی پی او لاہور کی تعیناتی اور آئی جی پنجاب پولیس کی ٹرانسفر کے وقت بلکل ٹھیک کہا تھا کہ لوگ ہم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ کتنے آئی جی تبدیل کیے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ عوام کو کتنی سکیورٹی دی۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے کہ لوگ یہ نہیں پوچھیں گے کہ مافیاز کا کیا رول تھا بلکہ لوگ دیکھیں گے کہ ہمیں ریلیف کیا ملا۔ ایسا صرف گورننس بہتر بنانے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جو آفیسر صحیح کام نہیں کرتے انہیں ہٹا کر نئے آفیسر تعینات کریں۔ بیوروکریسی میں بہت سے آفیسرز ایسے ہیں جنہیں کبھی ڈھنگ کی پوسٹنگ ملی ہی نہیں ، آپ انہیں اعتماد دے کر اعلی عہدوں پر لگائیں اور رزلٹ دیکھیں ۔ نئ چیزیں ضرور کریں لیکن موجود سسٹم کو کامیابی سے استعمال کر کے آپ بہت سے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی وافر اور ارزان قیمت پر مہیا کرنا آپ کا منصبی فرض اور ذمہ داری بھی ہے ۔ اس کے لئے آپ صرف عوام کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی جوابدہ ہیں ۔

    جب حکومت نے لاہور شہر کی سڑکوں کے ٹریفک سگنلز پر کیمرے نصب کیے اور ریڈ لائیٹ جمپ کرنے والوں کی گاڑی کی نمبر پلیٹ تصویر کے ساتھ آٹو میٹک سسٹم کے تحت جرمانے شروع کیے تو عوام ٹریفک لائٹ کی پابندی کرنا شروع ہو گئی تھی اور ٹریفک کا نظام کافی بہتر ہو گیا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس سسٹم کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ اب پھر سے سڑکوں پر وہی طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ ایک سسٹم جو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کروڑوں لگا کر بنایا گیا تھا اسے کیا ہوا ؟ کیوں اس کا ڈر عوام کے سر سے اتر گیا ؟ ایک بنے بنائے سسٹم کو کس نے خراب یا بند کر دیا ؟ دنیا بھر میں ٹریفک سگنلز پر کوئی ٹریفک پولیس اہلکار نہیں ہوتا لیکن کسی کی مجال نہیں کہ رات کے پچھلے پہر خالی سڑک پر بھی ریڈ لائیٹ جمپ کر جائے۔ وزہر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب کے لاہور میں اگر کوئی سڑک ٹوٹ جائے تو مہینوں اس کی چھوٹی سی مرمت نہیں ہوتی، آہستہ آہستہ وہاں گڑھا پڑ جاتا ہے جو کہ جان لیوا حادثات کا سبب بنتا ہے لیکن سڑک کی معمولی مرمت کی بجائے وہاں پر مہینوں بعد نئی سڑک بنانی پڑتی ہے۔ وزیراعظم صاحب یہ چھوٹے چھوٹے کام بڑا ایمپیکٹ ڈالتے ہیں۔ ان سے ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ریاست مدینہ کہنے سے نہیں عملی مظاہرے سے بنتی ہے۔ آپ ریاست مدینہ کے داعی ہیں آپ کو اپنا سسٹم بہتر کرنا پڑے گا ورنہ پاکستان کی عوام جو جاہل اور ان پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ کرپٹس کو دیکھ دیکھ کر اپنی حیثیت میں خود بھی کرپٹ ہو چکی ہے اور کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے کی فلاسفی پر یقین رکھتی ہے، ان کو گمراہ کرنا جھوٹے اور چور اپوزیشن لیڈرز اور کرپٹ مافیاز کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔ لیکن جو عوام آپ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اگر وہ بھی دل برداشتہ ہو گئے تو اس پاک دھرتی کے ساتھ بہت زیادتی ہو گی۔ خدارا دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ گورننس کی طرف بھی توجہ دیں ۔ اگر آپ کی ٹیم میں سے کچھ لوگ ڈلیور نہیں کر پا رہے تو ضد اور انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے انہیں ریپلیس کریں۔ اپنے اردگرد کالی بھیڑوں کو پہچان کر فارغ کریں، اہل لوگوں کو آگے لائیں۔ جہاں ضرورت ہے قانون سازی کریں لیکن ان مسائل سے پہلو تہی نہ کریں ۔ قوم کو یقین ہے کہ آپ ایماندار اور ارادے کے پکے ہیں۔ ہار مارنے والے نہیں۔ آپ نے نئی نسل کو اپنی مسلسل جدو جہد کے دوران جو سکھایا ہے اس کے مطابق نوجوانوں کی ذہن سازی ہو چکی ہے۔ ان کو آپ سے بہت توقعات ہیں ۔ خدارا ان کی امیدوں پر پانی نہ پھرنے دینا ۔ اگر یہ مایوس ہو گئے تو ان کا سسٹم اور انسانیت سے اعتماد اٹھ جائے گا جس کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا جو کہ ملک دشمنوں کی خواہش اور ایجنڈا بھی ہے۔
    اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستانیوں کا حامی و ناصر ہو

  • کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر میں الیکٹریسٹی ایک معمہ بن گئی ہے کراچی والوں کے لئے روز بدلتے ہوئے تجزیات کا تھوڑا سا احوال سننے کی ہمت کریں
    پہلے لائٹ گئی تو ایمرجنسی نکالوں کی سدا لگائی جاتی تھی پھر حالات بدلے ایمرجنسی کی جگہ یو پی ایس نے لے لیں لیکن بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے حالات اپڈیٹ ہونے کے بجائے مزید بدصورت ہوتے گئے اس کے بعد کراچی کے گھروں میں جگہ بنائی جنریٹرز نے جو اپنی سریلی آواز سے پورے محلوں کو راگ بھیروی سناتے سناتے بیچ بیچ میں پٹاخوں کی آواز نکال کر شادی اور شب رات کی بھی یاد دلوایا کرتے تھے زندگی چلتی رہی بجلی گھٹتی رہی اور پھر دور آیا ہو پی ایس سے انویسٹرز کا ڈرائی بیٹریوں نے گھر کو رونقیں بخشی اور گھر میں نئی وائرنگ کے زریعے پنکھے اور ایل ای ڈی بلب الگ سے لگوائے گئے جو لائٹ آنے پر جی بلکل درست سنا لائٹ آنے پر بند کئے جاتے ہیں مگر بجلی تقسیم کرنے والے اب بھی پرانے انجنوں کو رپئیر کرکے کراچی کا جوس نکال رہے ہیں اور کراچی ہے کے اس کا جوس ختم ہی نہیں ہوتا تاکہ جوس نکالنے والوں سے اس کی جان چھوٹ جائے اب ہے 2020 فاسٹ ہوتی اس ڈیجیٹل دنیا میں جدت اور تیزی اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب آیا ہے دور سولر انرجی کا جو بلکل فری تو ہے مگر اس کو بنانے کے آلات بہت مہنگے ہونے کی وجہ سے ہر ایک کی دسترس میں نہیں

    کراچی کی آبادکاری اور مردم شماری کو دیکھا جائے تو اس میں مرغی اور گائے کے برابر فرق ہے یہ اس لئے لکھا ہے کہ قربانی کا مہینہ ہے آپ تمام مسلمانوں کو عید الضحیٰ اور حج کی پیشگی مبارکباد پیش کرتا ہوں اچھا تو کراچی پر پھر سے آجائیں بہت بڑا ظلم ہے کہ کراچی کی ابادی کو 1.5 کروڑ دکھایا گیا جو کسی بھی طرح 3.0کروڑ سے کم نہیں مگر چلیں کراچی کا ایک عام سا شہری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پریشانیوں کا حل ڈھونڈا گیا مگر اس شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کو اپنے جنریشن گیپ اور سازوں سامان میں اپگریڈ کرنے کی عقل کیوں نہیں آئی کراچی کی بیشتر سوسائٹی اور فلیٹس کراچی شہر کے بجلی تقسیم کار ادارے کے عین سسٹم میں ہونے کے باوجود سیلف پیمنٹ پر اپنی پی ایم ٹی پرچیز کرکے لگانے پر مجبور ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کراچی میں آباد علاقوں کا سسٹم ڈالنا بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کے معاہدے میں لکھا گیا ہے مگر پھر بھی اپنی بجلی اس ادارے سے خریدنے پر مجبور ہیں کراچی کے لوگ مرتے ہیں بل بھرتے ہیں مگر پتہ نہیں کونسی آسمانی بجلی گرنے کے انتظار میں ہیں کہ وہ گرے تو یہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اب سوچ رہے ہونگے کہ میں نے اس بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کا نام کیوں نہیں لیا اس تحریر میں تو وجہ یہ ہے کہ یہ اداراہ اپنے ساتھ کراچی لگانے کا مستحق ہی نہیں اس لئے میں کراچی کے شہری ہونے کے ناطے اس کو کراچی کا ادارہ مانتا ہی نہیں یہ ایک بھتہ خوروں کا گروپ ہے جو کراچی سے غیر قانونی بھتہ وصول کررہا ہے اور اس کو روکنے کے لئے کوئی وفاقی اور صوبائی حکومت تیار نہیں ہم کراچی والوں کی نظر اب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جیف جسٹس آف پاکستان پر لگیں ہیں شائد ان کو کراچی کی عوام پر مسلط اس بھتہ خوری سے نجات دلانے کی خاطر کوئی اقدام ہوسکے تو ہو ورنہ کراچی والوں کی پانی سیوریج ٹرانسپورٹ روڈ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور دیگر اور ضرورت زندگی کی چیزوں کا کس کو خیال ہے جو کراچی میں گرمی میں اس بجلی کی 10سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے نام پر بھتے سے ہوگا

  • ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں؟؟ تحریر: بختاور گیلانی

    ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں؟؟ تحریر: بختاور گیلانی

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا مقصد جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ تھا وہی اس کے پیچھےایک نظریہ بھی تھا۔ کہ اگر ہم بات کریں دو قومی نظریہ کی تو اس سے مراد یہی تھا کہ برصغیر پاک و ہند میں رہنے والے مسلمان اور ہندو مذہبی ثقافتی لحاظ سے مختلف عقائد رکھتے ہیں اور ان کی رقم رسومات منانے کا انداز بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ برصغیر سے پاکستان اور ہندوستان کے علیحدگی کی بنیادی وجہ دو قومی نظریہ تھی۔
    پاکستان اور ہندوستان کے درمیان علیحدگی کی دیوار نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے بلکہ یہ دو نظریہ کی بنیاد پر ہے پاکستان کو الگ ریاست بنانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ایسی ریاست ہو جہاں اسلامی قوانین کا بآسانی نفاز ممکن ہو جہاں کی ثقافت میں اسلامی ثقافت کی جھلک نظر آتی ہو
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں انسان ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا وہی یہاں کے بسنے والے لوگ اپنی تہذیب وثقافت کو بھلا بیٹھے ۔
    اگر بات کریں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تو ہوا یوں کے یہاں کے لوگ اپنی ثقافت بھلا بیٹھے اور دوسری ثقافت سے متاثر ہے اور جس ثقافت سے متاثر ہے اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
    یہاں کے لوگوں سے اگر من پسند ہیرو کا پوچھیں تو سرحد پار کے لوگوں کا نام سامنے آئے گا تو کیا ہم سرحد پار کی تہذیب میں اتنی دلچسپی لینے لگے ہیں کہ اپنی تہذیب کو بھلا بیٹھے ہیں۔
    بھلا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
    ثریا نے آسماں سے زمین پر ہم کو دے مارا

    یہ کیسی تہذیب ہے جس میں لڑکی کی سر پر دوبٹہ نہ لینے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے کیا یہ ہمارے دو قومی نظریہ کی بنیاد تھی ۔
    یہ تو ماڈرن زمانے میں نہیں بلکہ جہالت کے زمانے میں داخل ہوچکے ہیں اسلام نے زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ حیات مہیا کیا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کو سمجھنے سے قاصرہیں۔
    اگر ہم نے دوسروں کی تہذیبوں سے متاثر ہونا تھا تو کہ الگ وطن حاصل کرنے کا کیا مقصد تھا؟؟ اور اگر بات کریں عورت کے لباس کی تو شرم و حیا نہ ہونے کے برابر ہے۔
    اگر کوئی اس معاملے پر بات کرے تو اس کی بات کا مذاق بنا دیا جاتا ہے وزیراعظم عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم اس معاملے پر بات کی تو سب نے ان کی باتوں کا مذاق بنانا شروع کر دیا ۔
    خدارا سوچیے اس وطن کو الگ ریاست بنانے کا مقصد اور اس نظریے کو جو ہمارا نظریہ ہے

  • "چھلاوا ملزم بالمقابل آمر "تحریر: حبیب الرحمن

    "چھلاوا ملزم بالمقابل آمر "تحریر: حبیب الرحمن

    یہ واقعہ ضیاء الحق مرحوم کے دور اقتدار کا ہے اس میں کچھ شخصیات کے فرضی نام بوجہ لکھوں گا۔ تاکہ کسی کی بھی تحقیر نہ ہو۔
    ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایک شخصیت (فرضی نام بابر خان) نے گولڑہ شریف میں وہاں کی مقامی مذہبی شخصیت کے ساتھ بھی بڑا تنازعہ بناۓ رکھا۔ بعد ازاں ایک دلچسپ واقعے کا اہم ملزم بھی تھا۔ اس دور میں راولپنڈی صدر میں ایک تکہ شاپ تھی جہاں امیر ترین شخصیات کھانا کھانے جاتی تھیں۔ ایک دن اس تکہ شاپ کا مالک شاپ کو بند کر کے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا تو خیابان سر سید کے علاقے میں ویران سڑک پر ایک انتہائی خوبرو لڑکی کو کھڑا پایا۔ جو بے چینی سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی گاڑی کو دیکھتے ہی اس نے گاڑی سے لفٹ لینے کے لیے اشارہ کیا۔ شاپ کے مالک نے گاڑی روکی تو لڑکی نے بتایا کہ اسکی گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ اور وہ بہت پریشان ہے۔ سو شاپ کے مالک نے اس لڑکی کو بٹھا لیا۔ راستے میں گپ شپ کے دوران معلوم ہوا کہ موصوفہ شوبز کا حصہ ہیں۔ جب لڑکی اپنے گھر کے پاس پہنچی تو شاپ مالک کو انتہائی محبت سے کافی پینے کی دعوت دی جسے شاپ مالک نے قبول کر لیا۔گھر کے اندر پہنچنے کے بعد لڑکی نے مخصوص حرکات و سکنات شروع کر دیں۔ بہرحال لڑکی کی دعوت گناہ کو شاپ مالک نے قبول کر لیا لیکن شاپ مالک پر مصیبت کے پہاڑ اس وقت ٹوٹے جب دونوں کی برہنہ تصاویر لے لی گئیں۔اس کے بعد شاپ مالک کو چلتا کر دیا گیا۔ ازاں بعد ایک فون کال (یاد رہے کہ اس وقت تک پاکستان میں موبائل دستیاب نہیں تھا) پر شاپ مالک کو دس لاکھ روپے گولڑہ شریف لا کر اپنی تصاویر لینے کا کہا گیا۔ جب موصوف رقم لے کر پہنچے تو بابر خان (فرضی نام) نے رقم بھی لے لی اور شاپ مالک کو زود و کوب کر کے بھیج دیا۔ شاپ مالک کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بالآخر ضیاء الحق مرحوم کے فرزند اعجاز الحق جو ان دنوں دوستوں کے ساتھ اس تکہ شاپ پر بیٹھتے تھے ان کے گوش گزار کیا۔

    اعجاز الحق نے اپنے والد کو صورت حال بتاہی اور پولیس نے بابر خان کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے بعد بابر خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر کے اس وقت کی آرمی کورٹ کو مقدمہ بھیج دیا گیا۔ایک دن جب تکہ شاپ کا مالک دکان بند کر رہا تھا تو اچانک ایک شخص دکان میں داخل ہوا۔ اس شخص کو دیکھتے ہی شاپ مالک کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ یہ شخص بابر خان تھا جو قانونی طور پر اڈیالہ جیل میں تھا۔ بابر خان نے شاپ مالک کو دھمکی دی اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر تک تو مالک کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے پھر اس نے اعجاز الحق کو فون کر کے ساری صورت حال سے مطلع کیا۔ لیکن اعجاز الحق یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ ایک شخص جیل سے کیسے آسکتا ہے لیکن مالک شاپ کے یقین دلانے پر اڈیالہ جیل سپرنٹینڈنٹ کو جب فون کر کے پوچھا گیا۔ تو سپرنٹینڈنٹ نے بتایا کہ ملزم تو جیل میں ہے۔ اس بات کا شاپ مالک نے بہت اثر لیا اور تقریباً مقدمے سے دست برداری اختیار کر لی۔ چونکہ پولیس کی ملی بھگت سے ملزم بابر خان سے کچھ برآمد بھی نہیں ہوا تھا سو کچھ ماہ بعد ملزم بری ہو کر گھر آ گیا۔ملزم نے پھر شاپ مالک سے چھبیس لاکھ روپے لے کر تصاویر واپس کیں۔
    اس واقعے کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے
    اگر ایک عام ملزم اس طرح کر سکتا ہے تو کرپٹ مافیا تو کسی حد تک بھی جا سکتی ہے اور حکومت منہ دیکھتی رہ جائے گی
    جب تک اس کرپٹ سسٹم اور اس میں موجود کالی بھیڑوں کو اپنے انجام تک نہ پہنچایا گیا
    انصاف کا خون ہوتا رہے گا

  • پاکستان بحرانات کا شکار، تحریر: نوید شیخ

    پاکستان بحرانات کا شکار، تحریر: نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ ملک میں نوٹوں کی گڈیوں سے وزارتوں اور عہدے باٹنے کا سلسلہ بھی شروع گیا ہے ۔ کیونکہ سیاست کے اپنے اصول ہیں ۔ بیڈ گورننس ، سیاسی نا تجربہ کاری اور روز روز کی تنقید سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے سوچ لیا ہے کہ باقی ماندہ دو سالوں میں لوگوں کو نوازا جائے ، گلے دور کیے جائیں اور دوست بنایا جائے ۔ کیونکہ کہیں اگلا الیکشن اگر اپنے بل بوتے پر لڑنا پڑ گیا تو آسان کچھ نہیں مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔

    ۔ جہاں نوازشریف صاحب ایک بار پھر خاموش ہوگئے ہیں۔ پر ان کی کمی شہباز شریف پوری کرنے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ چھوٹا بھائی جو کچھ بھی کرتا ہے۔ بڑے بھائی کے کہنے پر ہی کرتا ہے۔ اب شہباز شریف نے اپنے روایتی انداز دیکھانا شروع کر دیے ہیں ۔ یعنی مصالحت کی بجائے جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانی کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ شہباز شریف نے چاروں صوبائی صدور اور عہدیداروں کو حکومت کے خلاف متحرک ہونے کی ہدایات کے ساتھ لیگی نمائندوں کو پارلیمنٹ اور دیگر اسمبلیوں میں حکومت کے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی ہدایت کر دی ہے۔ اب ن لیگ لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور حکومت کی ناکام پالیسیوں کو ہدف تنقید بنائی گئ ۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں پر احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کو بھی ہدف تنقید بنایا جائے گا ۔ جبکہ جو سب سے اہم چیزہے وہ یہ ہے کہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پارٹی سطح پر عید کے بعد ورکرز کنونشن اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا جائے۔ ساتھ ہی منتخب لیگی ارکان کو ہفتے میں کم از کم دو دن اپنے حلقوں میں موجود رہنے کی بھی سختی سے ہدایت کر دی ہے۔ آسان الفاظ میں اگلے الیکشن کی تیاری کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ عمران حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شہباز صاحب کو عدالت سے مبینہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے آئندہ دو مہینوں کے دوران سزا دلوا کر رہے گئیں ۔ اس میں شہزاد اکبر پیش پیش ہیں ۔ جہاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں خواجہ آصف اور ’’سافٹ وئیر اپ ڈیٹ‘‘والی بات کی ہیڈ لائنز بنیں تو جو دبے لفظوں میں نئے انتخابات کا مطالبہ ہوا وہ بھی اہم ہے ۔ ۔ اگلے انتخابات میں ابھی بڑا وقت ہے لیکن اس بار سیاسی جوڑ توڑ قبل از وقت شروع ہو گیا ہے۔ وہ لوگ جو مڈ ٹرم انتخابات کا مطالبہ کرتے تھے اب بروقت انتخابات کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ لوگ عمران خان کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کی بھی بات کر رہے ہیں۔

    ۔ کوئی ٹھوس خبر تو نہیں مگر چند اشارے ایسے ہیں جن کو دیکھ کر لگتا ہے کچھ نیا ہونے والا ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت سندھ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے وہاں کے بااثر سیاسی خاندانوں سے معاملات طے کر رہی ہے۔ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہےکہ سندھ میں ساری سیاسی قوتیں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کریں گی ۔ اور یوں بھرپور پلاننگ کے ساتھ اگلی بار سندھ سے پیپلز پارٹی کا پتہ کاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کچھ تو دعوی کر رہے کہ شاید پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم اور ق لیگ کی طرح مرکز یا صوبے میں حکومتی جماعت کا اتحادی بننا پڑے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ق کے ساتھ حکومت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے حال ہی میں مسلم لیگ ق کی لیڈر شپ سے ملاقات بھی کی ہے۔ اور آج تو وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں چودھری مونس الہیٰ کو وفاقی وزیر بنا کر ان کی دیرینہ خواہش کو پورا کر دیا گیا ہے ۔ اب کہنے والے تو کہہ رہے ہیں اور اسکا کریڈیٹ بھی زرداری کو ہی دے رہے ہیں کہ حکومت کو ڈر پڑ گیا ہے کہ اگلی بار ق لیگ پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملا کر الیکشن لڑے گی تو سوچا یہ گیا کہ ق لیگ جو مانگتی ہے دے دو ۔ آخر الیکشن کا سوال ہے ۔

    ۔ ساتھ ہی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی پنجاب سے مسلم لیگ ن کا ووٹ توڑنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں جبکہ میاں شہباز شریف اپنے ووٹ بینک کو بچانے اور اپنے الیکٹ ایبل محفوظ بنانے کے لیے تگ ودو میں ہیں۔ بلاول بھٹو کا امریکہ جانا بھی ہمارے سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اسے آئندہ انتخابات میں امریکہ سے آشیرباد اور ڈیل قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اس وقت اپنے آپ کو قابل قبول بنانے کی دوڑ جاری ہے البتہ اس دوڑ میں پیپلزپارٹی کی دال گلتی تو نظر آتی ہے لیکن مسلم لیگ ن بارے کہا جا رہا ہے کہ شاید انکی قبولیت کا ابھی وقت نہیں آیا۔ حکومت نے بھی ابھی سے آئیندہ انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ حالیہ بجٹ میں انتخابی تیاریوں کی جھلک نظر آتی ہے تاہم اگلا بجٹ خالص انتخابی بجٹ ہو گا۔ اب دیکھیں آذاد کشمیر میں کیا ہوتا ہے تاہم سیاسی پنڈتوں کی پشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ آزاد کشمیر میں بھی پہلی بار تحریک انصاف کی حکومت بننے جارہی ہے مگر سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حالیہ حکومت کے باعث وہاں مسلم لیگ ن کی پوزیشن مضبوط ہے اور آج کل مریم نواز بڑے بڑے جلسے کرنے میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے جلسوں کے مقابلے میں تحریک انصاف ابھی تک کشمیر میں کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائی۔ تحریک انصاف جوڑ توڑ کی سیاسی مینوفیکچرنگ میں مصروف ہے۔

    ۔ ہاں البتہ جو وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور نوٹوں کی تھدیاں بانٹتے پکڑ گئے ۔اس سے تحریک انصاف کی مشہوری میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ پر آج چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے وفاقی وزیر علی امین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے کر اس مشہوری کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔

    ۔ اس سیاسی کھیل میں عوامی مسائل کا نظر انداز ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی اسی جذباتی انداز میں تقریریں کرتے کرتے اصل سیاست جس کا مقصد عوامی فلاح و بہبود ہے اسے بھلا دیتے ہیں۔ ان دنوں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں صرف اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔

    ۔ کوئی پسند کرے یا نہیں ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے نمودار ہونے کے چند ماہ بعد ہی ہوئے انتقال پر ملال نے عمران حکومت کو بے پناہ اعتماد بخشا ہے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں حکومت کو گھر بھیجنے کے بجائے اب ایک دوسرے کو شرمندہ کررہی ہیں۔

    ۔ آج بھی اپوزیشن اپنے اپنے کیسز پر عدالت میں پیش ہوتی ہے لیکن کبھی حکومت کے ساتھ عام آدمی کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عام آدمی اگر گیس، پانی بجلی کے بل جمع کرواتا ہے تو کھانے کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم اور ادویات کے لیے ادھار کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

    ۔ کراچی سے خیبر تک اور گلگت سے گوادر تک کوئی شخص ایسا نہیں جو مہنگائی سے تنگ نہ ہو۔ آج سب ایک ہی آواز میں حکومت کو کوس رہے ہیں۔

    ۔ پاکستان اس وقت معاشی بحران اور سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ نئے وفاقی بجٹ کے اثرات عوام کے لیے کرونا کی چوتھی لہر سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں ہیں۔ دراصل آئی ایم ایف کی مرضی اور حکم نے ہمارے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بیروزگاری، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسی اذیتوں کا حل نکالنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

    ۔ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بیانات جاری کرنا بہت آسان ہے۔ بازاروں میں جا کر حالات کا جائزہ لینا اور عوام کا سامنا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت مہںگائی تو ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے کم نہیں کر سکتی لیکن اسے قوت خرید بڑھانے سے تو کسی نے نہیں روکا۔ حکومت ماضی میں پھنسی رہے گی تو نہ مہنگائی رکے گی نہ قوت خرید بڑھے گی اس کے نتیجے میں صرف عام آدمی پسے گا، کیا اس تبدیلی کے لیے لوگوں نے بلے پر مہر لگائی تھی۔