Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قربانی :تحریر ارم رائے

    قربانی :تحریر ارم رائے

    مسلمانوں کے مذہبی تہواروں میں قربانی کو خاص مقام حاصل ہے۔ پانچ بڑے مذہبی تہوار جن میں "12ربی ال اول” ہے شب برات” ہے "شب معراج” ہے "عید الفطر” ہے اور "عید الاضحیٰ” ہے۔ عید الاضحیٰ جسے قربانی کہتے ہیں۔ ویسے تو ایک قربانی اور بھی تھی جو اج سے 13سو سال پہلے کربلا کے میدان میں دی گئی۔ جس میں دین اسلام کو بچانے کے لیے نواسہ رسول صلی الله والہ وسلم نے اپنے گھرانے کی قربانی دے کر بچایا۔ آج بھی ہم اگر ازان سنتے ہیں یا. اسلام ہمارے پاس اصل شکل میں موجود ہے تو یہ نواسہ رسول صلی الله عليه وسلم کی زندگی اور انکے گھرانے کی قربانی کی وجہ سے ہے۔ ایک تہوار جو ہم ان تکلیفوں کو یاد کرکے مناتے ہیں جو کربلا میں دی گئیں تو دوسری قربانی کو ہم خوشی کے طور پر مناتے ہیں کہ کیسے الله کی راہ میں بیٹا قربان کیا اور الله نے قربانی قبول کی۔زوالحج کے مہنیے میں دس ذوالحج کو قربانی کی جاتی ہے حلال جانور کی۔ اور یہ قربانی یاد دلاتی ہے ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی جو انہوں نے الله کی محبت میں الله کی راہ میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دی۔ اللہ کی بارگاہ میں وہ قربانی قبول ہوئی ۔ حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام کا الله سے عشق مکمل ہوا اور فرمان سے انحراف نا کیا۔ تب سے لے کے اب تک مسلمان اس عظیم قربانی کی یاد میں ہرسال کروڑوں جانور زبح کر کے اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ قربانی کے لیے کچھ شرائط مقرر کی گئیں۔
    شرائط یہ ہیں۔
    پہلی کہ جانور گھر کا ہو مطلب خود پالا ہو اونٹ گائے بھیڑ بکری وغیرہ۔
    جانور کی پوری ہو جیسے بھیڑ کا بچہ چھ ماہ میں پوری کر لیتا ہے جبکہ بکری ایک سال میں اسی طرح گائے دو سال میں جبکہ اونٹ پانچ سے میں اپنے سامنے والے دو دانت گرا دیتے ہیں۔
    تیسری شرط: عیب سے پاک ہو مثلاً اس کی آنکھ کان ٹانگ پر کوئی واضح ضرب نا ہو یا ٹوٹی نا ہو۔
    چوتھی شرط: ایسا پدائشی لنگڑا جو باقی جانوروں کے ساتھ چل نا سکتا ہو۔
    پانچویں شرط: یعنی بہت لاغر اور کمزور نا ہو۔

    قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقہ یا فطر کا ہے۔ یعنی جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں، زمہ میں واجب الادا اخراجات ادا کرنے کے بعد اتنا مال ہو یا سامان جسکی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو یا اس سے زائد ہو ان سب پر قربانی کی ادائیگی فرض ہے اور ایسے لوگ زکوٰۃ نہیں لے سکتے۔
    پاکستان میں بھی یہ مذہبی تہوار بہت عقیدت اور محبت سے منایا جاتا ہے کچھ سال پہلے تک یہ اتنا مشکل نہیں تھا کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت سے وابستہ لوگ اپنے گھروں میں اورزمینوں پر جانور پالتے تھے۔ ہر سال کروڑوں روپے کا ریوینیو حاصل ہوتا تھا کئی لوگوں کے روزگار وابستہ تھا۔ لیکن کچھ سالوں سے لائیوسٹاک پر توجہ نہیں دی گئی جسکی وجہ سے جانور نا صرف ضرورت سے کم ہیں بلکہ مہنگے بھی بہت ہے۔ لائیوسٹاک ماہرین کہتے ہیں کہ بہتر حکمت عملی سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں حلال جانوروں کی تعداد سترہ کروڑ ہے۔ جس، میں گائیوں کی تعداد 3کروڑ 92لاکھ، بھینسوں کی تعداد 3کروڑ 42 لاکھ بھیڑوں کی تعداد 6کروڑ 80 لاکھ، جبکہ اؤنٹوں کی تعداد 10لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔اس تنادب سے دیکھا جائے تو دودھ کی پیداوار پچاس ہزا ٹن بڑے گوشت 2ہزار ٹن، چھوٹے گوشت مٹن کی تعداد 7ہزار ٹن اور مرغی کے گوشت کی پیدا وار 12 سو ہزار ٹن سے تجاوز کرگئی۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے فارمرز حضرات اور کاشتکاروں کی اگر مناسب تربیت کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفاده حاصل کیا جائے تو اس میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہےاس وقت لائیوسٹاک کا ملک پیداوار میں 12فیصد اور زراعت کا مجموعی طور پر 55فیصد ہے۔پنجاب سمیت ملک کی تقریباً چار کروڑ کے قریب دیہی ابادی لائیوسٹاک سیکٹر سے منسلک ہے۔ جو اپنی روزمرہ کی ضروریات کا 35سے 40 فیصد لائیو سٹاک سے پورا کرتی ہے۔بڑھتی ہوئی ابادی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ان غذاؤں کی کھپت میں اضافہ ہو لیکن اسے بڑھانے کی طرف توجہ کم ہونے کی وجہ سے ان اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ ضافہ ہوا ہے۔ جو عام لوگوں کی پہنچ سے دور جارہی ہیں اور بکر عید یعنی عید قربان میں ان جانوروں کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں۔ جو کہ متوسط طبقے کے لیے بڑے تکلیف دہ حالات یوجاتے ہیں۔ جو چھوٹا جانور پہلے 10سے 20ہزار میں ملتا تھا وہ اب 25سے 30 تک چلا گیا ہے۔ اور بڑے جانور میں حصہ جو کہ 7ہزار سے 10 ہزار تک تھا وہ 15سے 25 تک کا ہوگیا ہے۔ یوں اس مذہبی تہوار کو منانے کے لیے بھی ہزاروں لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کچھ سال پہلے تک لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں بھی اپنی تنخواہ سے پیسہ اکٹھا کر کے قربانی کیا کرتی تھیں اور جو سکون اور طمانیت انکے چہرے پر ہوتی تھی وہ قابل دید ہوتی تھی۔ لیکن اب تنخواہ دار ہو یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والا اس کے لیے قربانی کا جانور خریدنا نا قابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔یہ مذہبی تہوار مہنگائی کی وجہ سے تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔اس لیےحکومت سے درخواست ہے جس طرح باقی انڈسڑیز کو چلایا جارہا ہے ہنگامی بنیادوں پر بلکل اسی طرح لائیوسٹاک پر بھی توجہ دی جائے۔ تاکہ لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہو، لوگوں کو خالص غذا ملے اور پاکستان بھی ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں شامل ہو۔ اور یہ مذہبی تہوار اسی جوش و جذبے سے منا سکیں جیسے پہلے منایا کرتے تھے۔
    جزاک الله

  • نظریاتی سیاست ہی ہمارا مقصد ہے،چوہدری خالد حسین

    نظریاتی سیاست ہی ہمارا مقصد ہے،چوہدری خالد حسین

    جاتلاں میں جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوارچوہدری خالد حسین کی جانب سے ایک کامیاب جلسہ کیا گیا ہے، لوگوں کی بڑی تعداد نے پرجوش اندازمیں پھولوں کی پتیاں نچھاورکرکے استقبال کیا ہے، پنڈال جیوے جیوے خالد حسین کے نعروں سے گونج اٹھا ہے.

    جاتلاں کے مقامی لوگوں نے ایک جلسے کا انعقاد کیا ہے، جلسے کے مہمان خصوصی جموع کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کی ٹکٹ پرنامزد امید وارچوہدری خالد حسین ہیں، علاقہ مکین نے پرجوش استقبال کیا ہے پھولوں کی پتیاں نچھاورکی ہیں، ہارپہنائے گئے ہیں، جاتلاں کی عوام نے مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، 25 جولائی کوکرسی پرہی مہرلگایئں گے، مزید کہا کہ اب باری والوں کی کشمیرمیں کوئی جگہ نہیں ہے، خدمت کرنے والوں کوموقع دیں گے، نظریاتی جماعت ہی کشمیر کے مستقبل کی ضامن ہے.

    چوہدری خالد حسین نامزدامیدوارنے علاقہ مکین کا شکریہ ادا کیا ہے، عوام کے توقعات پرپورا اترنے کا عزم کیا ہے، ہم ایک نظریہ کو لے کر سیاست میں آئے ہیں، نظریاتی ساست ہی ہمارا مقصد ہے.

  • شرکا نے محبت میں مراد سعید کو اپنے کادھوں پرچڑھا لیا

    شرکا نے محبت میں مراد سعید کو اپنے کادھوں پرچڑھا لیا

    نامزد امیدواراسمبلی تحریک انصاف آزاد کشمیر حلقہ ایل اے 29 خواجہ فاروق احمد کی انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسہ گاہ آمد پروفاقی وزیرعلی امین گنڈا پور، مراد سعید اوررہنما پی ٹی آئی آزاد کشمیرسردارتنویرالیاس خان کا شانداراستقبال کیا گیا ہے.

    وفاقی وزیرمراد سعید کوجلسے شرکا نےاپنے کاندھوں پراٹھا لیا ہے، جلسہ گاہ میں پنڈال عوام ے بھرا ہوا ہے، شرکا نے پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی بھی کی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ شرکا یہ محبت 25 جولائی کوکس نشان پرمہرلگائے گی.

    جلسہ سے علی امین گنڈہ پور، مراد سعید اورتنویرالیاس نے خطاب کیا ہے، شرکا سے خطابات کرتے ہوئے مہمانوں نے پارٹی کا منشوربتایا ہے، مزید کہا ہے کہ 25 جولائی کو کشمیرکی غیرت مند عوام بلے کے نشان پرمہر گا کریہ ثابت کرے گی کہ کشمیرکے اصل محافظ پی ٹی آئی کی جماعت ہے.

  • پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

    پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

    بھارتی شہر پونے میں دلہن نے گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی کے مقام پر انٹری کی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہورہی ہے جس میں 23 سالہ دلہن کو عروسی لباس پہنے شادی کی تقریب کے مقام پر گاڑی کے اندر بیٹھ کر جانے کے بجائے بونٹ پر بیٹھ کر جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد دلہن سمیت دلہن کے رشتے دار بھی مشکل میں پڑگئے۔

    بھارتی پولیس کی جانب سے دلہن اور اس کے رشتے داروں کے خلاف موٹر وہیکل ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرلیا جبکہ مقدمے میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جس کے تحت دلہن سمیت رشتے داروں نے بھی ماسک نہیں لگایا ہوا-

  • ‏تبدیلی اور ہم .تحریر : ملک عمان سرفراز

    ‏تبدیلی اور ہم .تحریر : ملک عمان سرفراز

    اس دنیا میں رہنے والے انسان کس نے کسی جدوجہد میں مصروف ہے ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے ارد گرد کا ماحول بہتر سے بہترین ہو اس کو ہر سہولت ملے جس کا وہ خواہش مند ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے انسانی جسم مشینوں کی طرح کام میں مصروف ہیں۔ اس کی وجہ تبدیلی ہے وہ مثبت تبدیلی جو کہ انسن کو اس معاشرے میں ہر وہ حقوق مہیا کرے جس کا وہ خواہشمند ہے۔
    مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہم اپنے مرتبے کی شان بڑھانے میں اس قدر مگن ہے کہ وہ روایات بھلا چکے جو ہمیں اپنے اباؤ اجداد سےملیں۔
    بے شک اس دنیا میں محنت کرنے والا انسان کامیاب ہے محنت سے کسی چیز کے حصول کے لیے وقت درکار ہے مگر ہم تو اس قدر جلد باذ ہیں کہ ہمیں جو چیز پسند آ جائے ہم اس کا فوری طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمیں چاہے کسی کے حقوق کا گلا گھونٹنا پرے یا کرپشن کرنی پڑے۔
    کہاں سے آئے گی یہ تبدیلی جب ہم خود دوسروں کے حقوق کھانے میں شرم محسوس نہیں کرتے کہاں سے آئے گی یہ تبدیلی جب اس ملک کی سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ہر وہ کام سرانجام دے رہی ہے جس سے ہماری اخلاقی اقدار شرمندہ ہیں۔
    اس وطن کے حالات ویسے کے ویسے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟؟

    ہم آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہیں کیا ہم خود کرپٹ نہیں ہیں رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کے تقدس کو بھلا بیٹھے ہیں جہاں دنیا بھر میں اس مہینے کے پیش نظر تمام اشیاء خردنوش سستی ہوتی ہیں اور یہاں حاجی صاحب دوگنا منافع کما رہے ہیں ۔
    اور پھر ہم بات کرتے ہیں باہر کے ممالک کی کہ وہاں
    میں سہولیات بہترین ہہں ہمارے وطن میں کیوں نہیں؟؟ تو یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے وہ غیر مسلم ہو کر بھی کرپشن ،چوری دھوکہ دہی کو جرم سمجھتے ہیں اور ہم مسلمان ہو کر بھی یہ سب کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ۔

    اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ریاست مدینہ ملے تو کہاں سے ملے گی وہ ریاست جب ہم اس ریاست کے ایک بھی اصول کو اپنانے کو تیار نہیں۔

    سوچئے اور غور سے سوچئے سیاستدانوں کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں کہ وہ پل بھر میں سب تبدیل کر دیں گے اصل تبدیلی تو انفرادی طور پر ہر شخص نے لانی ہے اپنے رویے سے اپنے مظاہرے سے۔

    تبدیلی کوئی پھل نہیں جس کو درخت سے توڑا اور کھا لیا تبدیلی کا مطلب اپنے رویوں کو مثبت راستے کی طرف گامزن کرنا ہے تاکہ کسی کی ذات کو نقصان نہ ہو اور یہ معاشرہ پر امن معاشرہ بن سکے

  • اپنے بچوں کو جنسی ہراسگی سے بچائیں .تحریر: میمونہ سحر

    اپنے بچوں کو جنسی ہراسگی سے بچائیں .تحریر: میمونہ سحر

    آئے روز ہم بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سنتے ہیں ۔ پھول جیسے جسموں کو کیسے مسل کر پھر موت کے گھاٹ دیا جاتا ہے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ پھر ہم سوچنے لگتے ہیں کہ آیا ایسا کرنے والے انسان بھی ہیں یا نہیں ؟ کیا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہوتے یا وہ دل نہیں رکھتے جو ایسا گھناؤنا کام کرتے ہیں

    لیکن میں آپ کو بتاؤں ایسا کرنے والے بھی ہم ، آپ میں سے ہی لوگ ہوتے ہیں ۔ ہمارے قریبی یا دور کے رشتہ دار جن پر ہم اندھا یقین کر کے اپنے بچوں کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اور وہ انہی بچوں کے ساتھ تنہائی میں اپنی حوس کی تسکین کرتے ہیں

    عام طور پر بچوں کے ساتھ ایسا کرنے والے قریبی تعلقات والے لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہم سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا کچھ کرسکتے ہیں ۔

    سو میں سے اسی فیصد ہراسگی کا شکار ہونے والے بچے اپنے ہونے ہونے والی ظلم و تشدد کی روداد کسی کو نہیں بتاتے کیونکہ انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ انکی بات سنی نہیں جائے گی اگر سنی بھی گئی تو انہیں ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا اس لیے وہ خاموشی سے جنسی تشدد برداشت کرتے رہتے ہیں جو کہ ایسا کرنے والوں کو اور دلیر بنا دیتا ہے اور ایسی درندگی کرنے والے بار بار اس عمل کو دہراتے ہیں

    اور باقی کے بیس فیصد بچے اگر اپنے والدین یا کسی اقارب کو اس بارے میں آگاہ بھی کریں تو یا تو انکی آواز کو بدنامی کے ڈر سے دبا دیا جاتا ہے یا پھر انکی بات پر یقین نہیں کیا جاتا ۔ اور ایسا خصوصاََ بچیوں کے معاملات میں ہوتا ہے

    میں نے خود ایسی بہت سی لڑکیاں جنسی ہراسگی کا شکار ہوتے دیکھی ہیں ۔ ان میں سے ایک نے گھر بتایا تو الٹا اسے ہی قصوروار سمجھ کر برابھلا کہا گیا کیونکہ اس نے ایسے شخص کا نام کیا تھا جو کہ خاندان میں بہت معزز اور پانچ ٹائم کا نمازی تھا

    میری آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے درندوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں ۔ انہیں بتائیں کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی بھی ایسی حرکت کرے جو وہ دوسروں سے چھپا کر کرے یا چھپانے کا کہے تو اسے فوراً گھر والوں کو بتائیں ۔ اگر آپ کے چھوٹے بہن بھائی ہیں تو انہیں خود سمجھائیں ۔ اور ان سے ایسے تعلقات ضرور بنا کے رکھیں کہ ایسا کوئی بھی مسئلہ ہو تو وہ بلا جھجک آپ کو آکر بتا سکیں

    بچوں کو اپنے سگے رشتہ داروں کے ساتھ بھی اکیلے مت چھوڑیں ۔ حالات اتنے بھیانک ہوگئے ہیں کہ خون کے رشتوں کا تقدس ہی ختم ہوگیا ہے ۔ اس لیے کسی پر بھی اندھا یقین نا کریں

    اور ڈرائیور ، ٹیچر ، چوکیدار کسی کے ساتھ بھی بچوں کو ہرگز اکیلا مت چھوڑیں ۔ جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والے بچے کس مائنڈ سیٹ کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں اور پھر انکے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ تصور ہی خوفناک ہے

    دعا ہے اللہ سب کے بچوں کو ایسی درندگی سے محفوظ رکھیں اور انکی معصومیت کو برقرار رکھیں آمین

  • پیسہ کتنا ضروری ھے ۔تحریر: ڈاکٹر راہی

    پیسہ کتنا ضروری ھے ۔تحریر: ڈاکٹر راہی

    پیسہ زندگی کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے اور اس حقیقت سے کوئی بھی باہوش انسان انکار نہیں کر سکتاخصوصاً آج کے جدید تیز رفتار معاشرے میں اس حقیقت کو انکار تو دور کی بات نظر اندازتک نہیں کیا جا سکتا ۔

    سوال یہ ہے کہ کس حد تک پیسہ زندگی کیلئے ضروری ہے ۔

    ہمارے میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا پر کوئی پروگرام خوبصورت چہروں، بڑے گھر، بڑی گاڑیوں اور بیرون ملک شاندار لوکیشنز کے بغیرنہ تو بنایا جاتا ہے نہ دکھایا جاتا ہے ۔

    ان چیزوں کا اثر ہمارے معاشرے کے اَپر اور مڈل کلاس طبقہ پر بہت منفی ہوتا ہے اور وہاں پیسہ کماؤ اور پیسہ دکھاؤ کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہوجاتی ہے ۔

    پاکستان میں جائز نا جائز طریقے سے پیسہ کمانے کے ساتھ بیرون ممالک جانے کے لیے کن مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے وہ الگ کہانی اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے

    یورپ میں بسنے والے لوگ آجکل جاب لیس کے بعد خود اپنے خرچے اٹھانے سے محروم ہیں لیکن پاکستان میں بسنے والے دس بارہ افراد پر مشتعمل کُنبہ بھی انکی طرف نگاہ لگائے ہوئے ہوتا ہے

    گھرکے افراد کی بے جا خواہشات اور ان خواہشات کے حصول کیلئے
    میں نے یہاں بھی لوگوں کو مشین بنتے دیکھا اپنے لیے نہیں اپنوں کے لیے مگر ان سب کا اک ہی دکھ سب سے بھاری ہوتا ہے کہ جب پیسے کے مقابلے میں انکی ذاتی خوشی اور خواہش کی اپنوں کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہوتی

    ہزاروں داستانیں ہیں ــــــــ سب کے پاس ہونگی ـــــــــ

    اک فیملی ہے پہلے امریکہ اب 15 سال سے یہاں مقیم ہے
    اپنی یہاں فیملی کے 5 افراد کا اکلوتا کفیل اور پاکستان میں سارے خاندان کی مشین ہے

    شادی شدہ بہن بھائیوں ، انکی اولادوں کے بھی خرچے اسکے ذمہ ہیں
    کسی بھتیجے کو باہر بھیجنا ہو ـــــــ کسی بھانجے کو کاروبار بنا دینا ہو اسی کے ذمہ ہے اس نے سب کیا

    جائیداد بنائی ــــــــــ گھر بنایا ــــــ سب بھائیوں کے حوالے سب سانجھا
    اک بہن میکے بیٹھی تھی اسکے بچوں کو سالوں پالا جب بچے بڑے ہوئے انکے باپ کو بچوں کی یاد آئی لے واپس لے گیا

    دوسری بہن کے میاں کو یہ طریقہ بڑا مناسب لگا اپنی بیوی بچوں کو نکال دیا جاو بھائی پالیں گے
    باقی بھائی کیا انھی صاحب پر وہ بھی آ پڑے
    وہ بندا سب خوشی غمی سے بہت سکون اور حوصلے سے سب کو پال رہا ہے مگر ـــــــــــ

    دس سال ہوگے پاکستان نہیں گے ـــــــ جب بھی جانے کا نام لیں پاکستان سے فون اجاتے ہیں فلاں مجبوری ہے پیسے چاہیے
    آپ ائیں گے تو کہاں ٹھہریں گے ـــــــ گھر چھوٹا ہے پہلے ساتھ والا احاطہ بھی تعمیرکرتے ہیں پھر شوق سے ملنے آنا پھر اچھے سے بندا مل بیٹھتا ہے

    دل میں رو کر پھر بیٹھ گیا ــــــــــــــــــ بیوی بچے بچارے جانا چاہتے ہیں پچھلے سال انکو چھٹیوں میں امریکہ لے گیا کہ چلو یہاں ہی گھوم پھر لیتے ہیں

    پھر دل پر پتھر رکھا ــــــــ اور سوچنے لگے کہ جائیں گے تو پاکستان اک بار دو ماہ ملکر واپس اجائیں گے

    مارچ بریک میں تیاری ہے ۔۔ کل پوچھنے لگے ـــــــــ کوئی مکان کرائے پر مل سکتا ہے ہمیں دو تین ماہ کے لیے چاہیے
    اس بار جو بھی ہوا میں اپنا الگ سے گھر کیسے بھی ہوا خرید کر آوں گا مگر دو ماہ کے لیے مجھے کوئی ٹھکانہ چاہیے

    ـــــــــــــ

    یہ وہ رشتے جو خون جگر پی جاتے ہیں مگر خون میں ابال تک نہیں آتا
    لعنت ہے ایسے رشتوں پر اور ایسے سفید خون پر جو اپنوں کے خون پر پلتے ہیں اور جیببوں پر نظر رکھتے ہیں ان سے تو بندا تنہا اکیلا ہی ٹھیک ہے کم ازکم یوز ہونے کا غم تو نا ہو !!

  • مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر

    مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر

    مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر
    حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں،

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لیے پسند نہیں کرتے،

    پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔
    مسند احمد جلد نہم:حدیث نمبر 2259​

  • ڈھونڈتے ہیں اُسے ، ثروت نجمی

    ڈھونڈتے ہیں اُسے ، ثروت نجمی

    ڈھونڈتے ہیں اُسے
    ہر گلی ، ہر نگر
    کھو گیا ہے مرا
    وہ فقیرِ شہر

    جِس کی باتوں میں تھی
    کس قدر سادگی
    اُس نے اُمید کی
    ہم کو دی روشنی

    بے کسوں کے لئے
    آسرا تھا وہی
    بے گھروں کا فقط
    آشیاں تھا وہی

    جس کا جھولا بنا
    زندگی کا سبب
    آدمی تھا عجب
    جانتے ہیں یہ سب

    وہ فرشتہ نُما
    گر نہیں ہے تو کیا
    چھوڑ کر ہے گیا
    ایک جلتا دیا

    آو ہم بھی کوئی
    کام ایسا کریں
    نام ایدھی کا سب
    مل کے روشن کریں

    ڈھونڈنا کیا اُسے
    ہر گلی ہر نگر
    کر چکا ہے مری
    دل کی بستی میں گھر

    وہ فقیرِ شہر
    وہ فقیرِ شہر

    ثروت نجمی

  • ادب اور ہمارا معاشرہ ۔۔ تحریر: محمد اسحاق بیگ

    ادب اور ہمارا معاشرہ ۔۔ تحریر: محمد اسحاق بیگ

    مجھے لکھنے کا بہت شوق ہے ۔۔ میرے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ کالم لکھو چلو لکھ لکھ کہ تمھاری سوچ وسیع ہو گی لکھنا ائے گا غلطیاں درست ہوتی جائیں گی ۔۔۔ میں نے سوچا مشورہ اچھا ہے لوگوں کا فورا رسپونس بھی ا جائے گا۔۔۔
    خیر پچھلے 4 مہینے سے لکھ رہا ہوں مگر مجھے بے حد حیرت ہوتی ہے جب میں نے وہاں موجود دوسرے رائٹرز کو تھوڑا بہت پڑھنا شروع کیا ۔۔۔ان کہ لائکس دیکھ کہ کمنٹس دیکھ کہ مجھے لگا کچھ تو بات ہے کہ لوگ ادھر جا رہے مجھے دیکھنا چاہیے ۔۔۔
    مگر مجھے انتہائی مایوسی ہوئی ہمارے ادب کا معیار کس کدھر گرنے لگا ہے جس مار پیٹ کو ہم ڈومیسٹک وائلنس کا نام دیتے ہیں وہاں وہ رومانس کہ پانی میں بھگو کہ لوگوں کو کھلایا جا رہا ہے لوگ بڑی رغبت سے کھا رہے ہیں ۔۔ہیرو شادی کی پہلی رات سے لے کر کوئی آدھے ناول تک ظلم کرتا ہے مار پیٹ ۔۔۔ بے اعتباری ۔۔۔نظر زبردستی سب کچھ پھر جانے اسے کیسے محبت ہو جاتی ہے اور ہیروئین ۔۔۔واہ اللہ ہی حافظ ان کا جو اتنی مار کھا کہ بھی ڈھیٹ بن کہ ہیرو کو چاہتی ہیں ۔۔واہ

    یہی لڑکیاں جب شادی کر کہ جاتی ہیں تو وہی تھپڑ انکو جسم پہ نہی روح پہ لگتے ہیں محبت کہیں غائب ہو جاتی ہے انکا شوہر ہیرو نہی ولن لگتا ہے ۔۔
    بے شک فلم ڈرامہ یا ناول larger then life کہ معاولے پہ بنتے ہیں مگر کچھ تو ادب کا لحاظ کیجیئے ۔۔۔ چلو ایک آدھ ناول سہی مگر ہر ناول ہر ناول سستے چھیچھورے رومانس کہ سوا کچھ نہی ۔۔۔

    ہمارا لکھا ہر لفظ پڑھنے والوں کہ دلوں پہ اثر کرتا ہے اگر آپ رومانس کہ نام پہ ولگیرٹی لکھیں گے تو آپ کو اسکا حساب دینا ہو گا اگلے جہاں میں ۔۔۔ کیونکہ آپ چاہیں تو کرداروں کو کپڑے پہنا سکتے ہیں سب آپ کہ ہاتھ میں ہے ۔۔وہ سب لکھنے بے مقصد ہے جو جذبات کو مشتعل کر دے وہ لکھنے کی ضرورت ہے جو جذبات کو قابو رکھنا سکیکھائے ۔۔۔اگر اپ کا لکھا کوئی پڑھ کہ غلط قدم اٹھائے تو آپ اس کہ ذمے دار ہیں لیکن آپ کا لکھا کوئی پڑھ کر غلطی سے رک جائے تو بھی اپ کو اجر ملے گا ۔۔اپ وہ لکھیں جو اپ باپ بھائی ماں بہن بیٹی کہ سامنے رکھ سکیں کہ پڑھو ۔۔
    ادب لکھنے کی کوشش کریں ۔۔میں بھی کوشش کرتا ہوں اور ایک دن کامیاب ہو جاوں گا ادب لکھنے میں

    محمّد اسحاق بیگ