Baaghi TV

Category: بلاگ

  • طالبان نے سوچ لیا ۔۔۔ افغانستان کی قیادت کون کرے گا ؟ تحریر:نوید شیخ

    طالبان نے سوچ لیا ۔۔۔ افغانستان کی قیادت کون کرے گا ؟ تحریر:نوید شیخ

    ۔ جیسے جیسے امریکی و مغربی افواج کا انخلا اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، افغان علاقوں میں کشیدگی شدت اختیار کر رہی ہے اور افغان طالبان کی پیش قدمی میں تیزی آرہی ہے۔ طالبان نے افغانستان میں صوبہ ہرات کے سرحدی علاقے اسلام قلعہ پر قبضہ کرلیا ، یہ علاقہ ایرانی سرحد سے جڑا ہوا ہے ۔ جبکہ اس سرحدی علاقے میں افغان فوجی پسپائی اختیار کرتے ہوئے ایران میں پناہ کے لیے داخل ہوگئے۔

    ۔ اس سے پہلے طالبان نے وسط ایشیائی سرحدی ریاستوں سے جڑے صوبوں میں بھی بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا جس کے سبب افغان فوجیوں کو پسپائی اختیار کرکے وسط ایشیائی ممالک میں پناہ لینا پڑی تھی۔ اس افغان صورتحال پر پاکستان میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس سے خطرناک صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ ایران کے سفیر نے الزام لگایا کہ امریکا نے پہلے شام، عراق میں داعش کو پالا اور اب افغانستان میں داعش کو لے کر آیا ہے۔ ایران مزید افغان مہاجرین نہیں لے سکتا اور نہ ہی لے گا۔ دوسری جانب ایران کے بعد طالبان قیادت مذاکرات کے لیے روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچ گیا ہے۔طالبان نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔یہاں یہ ذہن میں رکھیں کہ طالبان کا وفد ایسے وقت روس پہنچا ہےجب روس کے اتحادی تاجکستان کے سرحدی علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہوگیا ہےاور تاجکستان نے اپنے 20 ہزار فوجی سرحد پر تعینات کردیے ہیں جبکہ روس کے وزیرخارجہ کا کہنا ہےکہ ان کا ملک تاجکستان میں موجود اڈے کو اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

    ۔ افغانستان کے بگڑتے حالات کے پیش نظر پڑوسی ملکوں کی جانب سے بھی سرحدوں پر سختی کردی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو حالات ایک بار پھر نوے کی دہائی کی جانب پلٹتے محسوس ہورہے ہیں جب امریکہ نے روسی شکست کے بعد افغان سرزمین کو خانہ جنگی میں دھکیل کر واپسی کی راہ لی تھی۔ پر اس وقت افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کرنے والا بھارت نئی صورت حال سے پریشان ہوگیا جبکہ بھارتی میڈیا بھی بوکھلا گیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان نے ہرات میں بھارتی فنڈ سے بنے ڈیم پر قبضہ کر لیا جبکہ افغان حکومت اور طالبان نے بھارتی میڈیا رپورٹس کی تردید کردی۔ اب بھارت نے حالات کے پیش نظر کابل میں اپنے سفارت خانے کے علاوہ مزار شریف اور قندھار میں قونصل خانوں سے 500 کے قریب اسٹاف کو نکالنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کا زخم خوردہ بھارت اپنے پرانے حلیف تاجکستان کے ساتھ مل کر اکٹھی حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ تاجکستان کا خیال ہے کہ وہاں پر موجود کالعدم حزب نہضتِ اسلامی کے لوگوں کو طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ایک نیا ولولہ ملے گا، جبکہ بھارت کی شمالی اتحاد کو لاکھوں ڈالر کی خفیہ عسکری امداد ضائع ہونے کا دکھ ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے افغانستان مین تین ارب ڈالر سے جو ترقیاتی کام کیے تھے وہ ساری سرمایہ کاری ضائع ہوگئی ہے۔ افغانستان میں بھارت دوستی اور پاکستان دشمنی کا جو پودا لگایا گیا تھا، اسے طالبان کی فتح نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔

    ۔ آپ دیکھیں پہلے دوستی و محبت کا یہ عالم تھا کہ افغانستان کی پارلیمنٹ کی عمارت جو بھارت نے بنائی تھی،اس میں 25دسمبر 2015ء کو افتتاحی تقریب میں نریندر مودی نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے آپ کو ہم سے دوستی سے روکے رکھا اور آج ہم پاکستان کو شکست دے کر آپ سے دوستی کی روایت کو زندہ کر رہے ہیں۔ اسی دن مودی اور اشرف غنی نے واجپائی کے نام پر اٹل بلاک کا افتتاح بھی کیا۔ آج وہ پانچ فیصد افغانستان جوکبھی طالبان حکومت کے خلاف بڑا میدانِ جنگ تھا، سب سے پہلے وہی طالبان کے کنٹرول میں آچکا ہے۔ ایسے حالات میں بھارت اور تاجکستان کا خوفزدہونا لازم تھا۔ ساتھ ہی کچھ معلومات امریکہ نے جاری کی ہیں ۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق افغانستان میں مجموعی فوجی اخراجات 778 بلین ڈالر تھے۔ پینٹاگان کے مطابق سی 130 مال بردار طیاروں کی 984 پروازوں کے ذریعے فوجی سازوسامان افغانستان سے باہر منتقل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے 17074 فوجی آلات ٹھکانے لگانے کے لیے ڈیفنس لاجیسٹکس ایجنسی کے حوالے کیے گئے ہیں۔ پر اس جنگ کی کچھ تلخ حقیقتیں بھی ہیں ۔ امریکہ کی اس افغان وار میں دو لاکھ 41 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ جن میں دو ہزار 442 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ جبکہ پاکستان میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 67 ہزار ہے۔ ستائیس لاکھ افغان مہاجرین ایران،پاکستان اور یورپ میں آئے جب کہ چالیس لاکھ ملک کے اندر ہی در بدر ہوئے۔

    ۔ یہ تو پوری دنیا میں’خدشہ‘ ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی فوج کا مکمل انخلا ہوتے ہی افغانستان پر طالبان کا راج قائم ہوجائے گا۔ ۔ یہی امارت اسلامیہ کا ترجمان ماہنامہ ’شریعت‘ کہتا ہے اس میں تو ان تیاریوں کی تفصیلات بھی دی جارہی ہیں کہ آزادی کے بعد امارت اسلامیہ کی ترجیحات کیا ہوں گی۔ ان کے موجودہ سربراہ کا کہنا ہے کہ ایک خالص اسلامی نظام کے سائے تلے ملک کی تعمیر نَو اور ترقی کے فوری اقدامات کیے جائیں۔عالمی سرمایہ کاری کے لئے ماحول سازگار کیا جائے تاکہ ہماری معیشت اپنے پائوں پر کھڑی ہوجائے۔۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھی یہ متفقہ پیش گوئی ہے کہ امریکی فوج کے جاتے ہی چھ ماہ کے اندر افغان حکومت زمیں بوس ہوجائے گی۔ پر میرے خیال میں تو چھ ماہ بھی نہیں لگیں گے بلکہ چند دن اور چند ہفتوں میں ہی اشرف غنی کی حکومت گر جائے گی ۔ کیونکہ افغان نیشنل آرمی کے فوجی بڑی تعداد میں منحرف ہورہے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ امریکہ بھی اس کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ بہت سے افغان جو امریکی فوج اور انتظامیہ کی مدد کررہے تھے، ان سب کو تاجکستان میں پناہ دلوائی جارہی ہے۔ وہاں سے وہ امریکہ پہنچتے رہیں گے۔ طالبان کی اپنی اطلاع یہ ہے کہ ہر ماہ ایک ہزار سے پندرہ سو لوگ دشمن کی صفوں سے نکل کر ان میں شامل ہورہے ہیں۔ مجھ تو نظر آرہا ہے کہ 72سالہ اشرف غنی، 60سالہ عبدﷲ عبدﷲ اور 63 سالہ کرزئی یہ تو سب امریکہ میں پناہ گزیں ہوں گے۔ جبکہ مستقبل کی قیادت ملا محمد عمر کے صاحبزادے 30 سالہ ملا محمد یعقوب کے ہاتھوں میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔

    ۔ کیونکہ آج بیس سالہ جنگ کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر صرف اور صرف ایک ہی قوت تھی اور ہے ۔۔۔۔جسے ’’طالبان‘‘ کہتے ہیں۔

  • ‏گھریلوتشدد بل کے نام پرآزاد خیال معاشرے کا قیام  .تحریر:عنقودہ

    ‏گھریلوتشدد بل کے نام پرآزاد خیال معاشرے کا قیام .تحریر:عنقودہ

    گھریلو تشدد بل سینٹ سے منظور ہوکر آئینِ پاکستان کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک خوشنما نام لیکن اس کے مندرجات دیکھیں تو یوں لگے گا کہ جیسے کسی سیکولر / لبرل مغربی فنڈڈ این جی او نے اپنا منشور ہی آئین پاکستان کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ خاندانی نظام، خونی رشتوں اور خصوصاً والدین اور اولاد، میاں بیوی کے درمیان تعلقات، خانگی زندگی کی بنیادیں ہلا کے رکھ دے گا۔

    آئیے پہلے اس کے چیدہ چیدہ پوائنٹس دیکھتے ہیں۔ ان کی گہرائی میں جانا، مستقبل کی تصویر سوچنا آپ پر ہے۔

    گھریلو تشدد بل کے اہم نقاط یہ درج ذیل ہیں.
    🔥والدین کا اپنے بچوں کی پرائیویسی، آزادی میں حائل ہونا جرم ہوگا
    🔥اولاد کے بارے میں ناگوار بات کرنا / شک کا اظہار کرنا بھی جرم ہوگا
    🔥معاشی تشدد یعنی کسی بھی قسم کے اختلاف، نافرمانی، کسی بھی وجہ سے بچے کا خرچہ کم یا بند نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ جرم ہوگا، اس پر سزا ملے گی
    🔥جذباتی / نفسیاتی اور زبانی ہراسمینٹ کی اصطلاحات متعارف کرائی گئیں ہیں، یعنی کسی بھی بات کو ہراسمنٹ قرار دے سکتے ہیں
    🔥خاوند کا دوسری شادی کا کہنا، خواہش کا اظہار کرنا جرم ہو گا، اسے گھریلو تشدد قرار دیا گیا ہے۔
    🔥طلاق کی بات کرنا بھی جرم، جس کی سزا ہوگی، اسی طرح کوئی غصے والی بات، اونچی آواز میں بولنا، کوئی بھی ایسا جملہ جو کہ جذباتی، نفسیاتی یا زبانی اذیت کا باعث بنے وہ جرم تصور ہوگا
    🔥اگر باپ نے مندرجہ بالا "جرائم” میں سے کوئی ایک سرزد کیا تو بطور سزا وہ اپنے گھر نہیں جاسکتا، اسے اولاد سے "محفوظ” فاصلے پر رہنا ہوگا۔ جی پی ایس کڑا پہننا ہوگا۔ کسی شیلٹر ہوم / یا تھانے میں سزا کاٹنی ہوگی
    🔥کم سے کم 6 ماہ جبکہ 3 سال تک سزا سنائی جاسکتی ہے۔ ایک لاکھ تک جرمانہ بھی ہوگا، اگر جرمانہ نہ دیا تو مزید 3 سال قید
    🔥اس میں ساتھ دینے والے کو بھی برابر کی قید ہوگی، یعنی ماں اور باپ دونوں مجرم بنیں گے😨

    اس بل کو بجٹ اجلاس میں انتہائی عجلت میں منظور کیا گیا، تمام سیاسی جماعتوں نے حق میں ووٹ دیا، جبکہ صرف چند مذھبی جماعتوں نے محض علامتی طور پر مخالفت کی۔
    صحافی اوریا مقبول جان کے مطابق اب تو والدین اس قدر قانون کے شکنجے میں ہوں گے کہ اگر بیٹا آوارہ پھرتا ہے ، نشہ استعمال کرتا ہے ، کسی بھی اخلاقی جرم میں مبتلا ہوتا ہے تو والدین اس کو روک نہیں سکیں گے ، اسی طرح بیٹی ، بیٹے کی ” آزادی ” اور پرائیویسی میں دخل دینا قابل سزا جرم بنا دیا گیا ہے ۔ یہ تو جیسے عورت مارچ کا ایجنڈا پاکستانی قانون بن گیا ہے ، مہر گڑھ ، الف اعلان ، عورت فاؤنڈیشن وغیرہ جیسی این جی اوز ایسے قوانین منظور کراتی ہیں ۔ معاشرے کے سنجیدہ حلقوں کو احساس تک نہیں کہ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ چند طاقتور این جی اوز کس طرح ملکی آئین میں اپنا ایجنڈا شامل کر رہی ہیں ۔

    والدین کو مجرم بناکر پیش کرنا ایک ایجنڈا ہے ۔ اس کے کئی مقاصد ہیں ۔ جب ان قوانین کے تحت والدین جیلوں میں جائیں گے تو باقی رہ جانے والے اولاد پیدا کرنے کے بارے بھی سوچیں گے ۔ نوجوان شادی کے بندھن سے آزادی چاہیں گے ۔ اگر شادی ہو بھی گئی تو گھریلو زندگی ان قوانین کے شکنجے میں رہے گی ۔ اولاد ہوئی تو اس کے ہاتھوں جیل کی ہوا کھانے کا ڈر ہو گا ۔ کون یہ ذمہ داریاں نبھائے گا ۔ پھر وہی تصور جو عورت مارچ کے نعرے ہیں ۔ ذرا ان کو یاد کر لیں ۔ شادی کے بغیر زندگی ، گھر سنبھالنے سے انکار ، میرا جسم میری مرضی کے تحت اولاد سے انکار ، طلاق کی آسانی اور اس کو خوشنما بنا دینا ۔

    مغربی معاشرت کی ایک جھلک کا تصور کریں
    اس کے خاندانی نظام پر انتہائی گمراہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔یہ ایک مخصوص ایجنڈا ہے جس کے مقاصد بڑے واضح ہیں ۔اسی کے تحت شادی کی عمر بڑھانے، دوسری شادی کو مشکل بلکہ ناممکن بنانے ۔ طلاق کو قابل تعریف اور آسان بنانا۔ حدود آرڈیننس ، مردوں کو کڑے پہنانے کے قوانین، غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قوانین کورٹ میرج کی آسانی، خواجہ سراؤں کے تحفظ ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کے قوانین میں سے کچھ بن چکے ہیں باقی پر کام جاری ہے ۔

    ماروی سرمد جو ببانگ دہل کہتی ہے کہ یہ ملک سیکولر ہو کر رہے گا تو ایویں نہیں کہتی
    کیونکہ اسے فنانسرز کی طاقت ، دولت اور ایجنڈے کا علم ہے وہ انہی کیساتھ ملکر کام کرتی ہے ۔
    ان کو اپنے ایجنڈے کا پورا اندازہ ہے اور کام خاموشی سے جاری ہے.

  • پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا .تحریر:حنا

    پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا .تحریر:حنا

    انسانوں میں عیب دیکھنا
    القرآن:
    قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی.
    اور طور سیناء کی.
    اور اس پر امن شہر (مکہ) کی.
    البتہ یقینا ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ۔
    کبھی دل چاہتا ہے خدا سے کلام کرنے کو، لوگوں کے رویوں پر آہ وبکاہ کرنے کو۔ ہم دل تو رکھتے ہیں درد نہیں، ضمیر تو رکھتے ہیں بیداری نہیں، الفاظ تو رکھتے ہیں انداز بیان نہیں؟ ہم ہیں کیا؟ کیا انسان ہیں؟ مسلماں ہیں؟ کیا پہچان ہے ہماری؟ ہمارا وجود؟ ہمارا مذہب؟ ہمارا نام؟ ہمارا کام؟ ا ٓخر کیا ہے ہم میں خاص جو ہمیں لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی اجازت دیتا ہے؟ انسان کتنا ہی خود پر ناز کرے، غرور کرے لیکن کہیں نہ کہیں وہ اپنے نا مکمل وجود کی ترجمانی کر ہی دیتا ہے، خدا کی تخلیق میں نقص نکالنا، انسان ہو کر غیرانسانی سلوک کرنا، خود کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان سمجھنا لیکن جب اس کیاپنی ذات کی بات آجاتی ہے تو خود کو انتہائی مہذب، نیک گفتار، عاجز اور خوش طبع شخصیت تسلیم کروانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتا، یہ درست ہے کہ شکل صورت خدا کی دین ہے، اور کسی کو بھی اس میں کسی قسم کا نقص نکالنے کا کوئی حق حاصل نہیں، اس بات کا صرف اور صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپکو خدا کی تخلیق پر عتراض ہے لیکن آپ کی خود کی شکل و صورت، مزاج، کردار کی بات آئےتو، میں تو ایسا؟ میں تو ویسا؟ میں اتنا محنت کش؟ میں اتنا صابر؟ میں اتنا دانش؟ میں اتنا خوش شکل؟ میں سب کچھ مگر تم کچھ بھی نہیں کا نعرہ! توبہ استغفار، اللہ بچائے ایسے مرد اور خواتین سے، پیٹ بھرنے کے لئے کھانا نہیں بس عیب نکانے کی مہم ہی کافی ہوتی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے۔

    دوسروں سے تو پیدائشی دشمنی لے کر پیدا ہوتے ہیں کچھ لوگ یا یہ کہہ لیجیے خود پسندی کا شکار ہوتے ہیں، یہ الفاظ اٰپ نے اکثر سنے ہوں گے:

    ارے یہ بھی کوئی طریقہ ہوا کرتا ہے، یہ بھی کوئی انداز ہے،
    فلاں لڑکی ایسی فلاں ایسی
    اچھا ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻗﺪ والی لڑکی ؟
    اچھا وہ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻭﺍﻟﯽ؟
    ﺟﻮ ﯾﻮﮞ ﭼﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ؟ ( ﻧﻘﻞ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ )
    ﮐﻮﻧﺴﺎ لڑکا ؟
    ﻭﮦ ﮔﻨﺠﺎ؟
    وہ ﻣﻮﭨﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﻭﺍﻻ؟
    ﻭﮦ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﺗﻨﺎ ” ﮐﻮﺟﺎ ” ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ؟
    ﮨﻢ “ﺳﻮﺭﮦ ﺗﯿﻦ” ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ۔
    ﮐﺘﻨﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﻨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ، ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺎﻻ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﻮﭨﯽ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﺍﻧﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮫ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺒﺼﺮﮮ، ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ۔۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺣﺴﯿﻦ ﭼﮩﺮﺍ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺣﺴﻦ ﺑﮭﯽ ﺭﺏ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ، ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺁﭖ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺭﺏ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ، ﺗﺴﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﻦ ﺗﻘﻮﯾﻢ ( ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺎﺧﺖ ) ﭘﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺬﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﮨﯽ ﮐﺐ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ؟ !

    ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﻮﭼﮯ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭼﺎﺋﻨﯿﺰ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮎ ﮐﺎ، ﺍﻧﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﭘﮭﯿﻨﯽ / ﭼﭙﭩﯽ ﻧﺎﮎ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ refer ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻓﺮﯾﻘﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﻨﮕﺮﯾﺎﻟﮯ ﺑﺎﻝ، ﭼﻮﮌﯼ ﺟﺴﺎﻣﺖ، ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﻣﺼﻮﺭ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
    ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺃَﻧْﺖَ ﺣَﺴَّﻨْﺖَ ﺧَﻠْﻘِﻲ ﻓَﺤَﺴِّﻦْ ﺧُﻠُﻘِﻲ
    ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ( ﺑﺎﮨﺮ ) ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ( ﺍﻧﺪﺭ ) ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ۔

    ﺭﻭﺯﻭﯾﻠﭧ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻗﻮﻝ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ :
    ”Great minds discuss ideas; average minds discuss events; small minds discuss people.” ﺍﺳﮑﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺲ کیٹاگری میں ہوتا ہے

  • پاکستان اور ہم .تحریر: سجاد علی

    پاکستان اور ہم .تحریر: سجاد علی

    پاکستان کو بنانے کی خواہش لے کر لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان، مال، اولاد، جائیداد غرض ہر اُس چیز کی قربانی دی جو ہر نوعِ انسان کی اول خواہش ہوتی ہے. ان بےانتہا قربانیوں کے بعد ہم نے اپنا وطن تو حاصل کر لیا مگر کیا ہم نے ان قربانیوں کا جائزہ لیا جو ہمارے آباؤ اجداد نے دیں؟
    کیا ہم نے تحریکِ آزادی کے ان پہلوؤں کو دیکھا جن سے گزرتے ہوۓ مسلمان بچے یتیم ہوگئے، ماؤں کی گود اجڑ گئی، بیٹیوں کے سروں سے دوپٹے اتر گئے، بہنوں کے سروں پر ہاتھ رکھنے والے بھائی نذر آتش ہوگئے؟
    کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ انگریز کے علاوہ کون لوگ تھے جو انگریز سے وفاداری کر کے اپنے ہی مسلمانوں پر گھات لگا کر قتلِ عام کرتے تھے؟
    چلیے ہم آج یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اتنا سب کچھ کیسے کھویا اور جن لوگوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کرتے ہوئے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ان کے بچے آج کدھر ہیں.
    ہم محب وطن لوگ ماں کی گود سے دو سبق لیکر پیدا ہوتے ہیں، پہلا ﷲ پر ایمان اور دوسرا وطن کی محبت.
    ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ حق کی خاطر اپنے وطن کا دفاع خون کے آخری قطرے اور آخری سانس تک کرتے رہنا ہے اور ہماری اسی بات کو ان لوگوں کی اولادیں کمزوری سمجھتی ہیں جنہوں نے پاکستان بننے کی نا صرف مخالفت کی بلکہ ہمارے اسلاف کا قتلِ عام بھی کیا.
    آج ہم سب کو اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ جن لوگوں نے تحریک آزادی میں تن من دھن کی بازی لگائی وہ لوگ اور ان کے خاندان پسا ہوا طبقہ کیونکر ہیں اور جن لوگوں نے انگریزوں کی غلامی کی وہ پاکستان پر حکمرانی کیسے کر رہے ہیں اور کیسے کر سکتے ہیں.
    ہمیشہ سے مغرب کی خواہش رہی ہے کہ دنیا کے ہر خطے خصوصاً مسلمانوں کے خطے پر بالواسط یا بلا واسطہ اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا جائے تاکہ مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روکا جائے.
    انگریز نے تحریک آزادی کے خلاف جن مسلمانوں کو استعمال کیا پاکستان بننے کے بعد انہیں لوگوں کے بچوں کو بھی اپنے ایجینٹ کے طور پر استعمال کیا اور کر رہے ہیں.

    میرے عزیز ہموطنوں اگر ہم آج یہ تہیہ کرلیں کہ ہم نے انگریزوں کے جاسوسوں کی اولادوں کو ووٹ دیکر اسمبلی تک نہیں لانا تو پاکستان اور ہماری ان لوگوں سے جان چھوٹ سکتی ہے مگر مگر مگر!!!! یہ تب ہی ہوگا جب ہم ایک قوم اور پاکستانی بن کر سوچیں گے.
    میں جانتا ہوں کہ آپ لوگوں بشمول میرے یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا کہ اپنے حلقے کے بااثر افراد کو چھوڑ کر ایک غیر معروف شخصیت کو ووٹ دینا لیکن اگر ہم یہ کر گزرتے ہیں تو یقین جانیں ہماری نسلیں ہمارا شکریہ ضرور ادا کریں گی بالکل اسی طرح جس طرح ہم تحریکِ آزادی کے ہیروز کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے قربانیاں دیکر ہمیں ایک آزاد فضا میں سانس لینے کے قابل بنایا.
    بقول عمران خان کے "خدا اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود بدلنے کیلئے محنت نہیں کرتی”
    میرے عزیز پاکستانیوں آج ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل سے آنکھیں چرانے کی بجائے ان کی دعائیں لیں اور صرف چند سالوں کیلیے خود کو قربانی کیلیے پیش کریں تاکہ پاکستان کی حالت بدلے. ہماری حالت بدلے.
    ہم ایسے لوگ چنیں جو ہم سے ہوں نا کہ ایسے لوگ جن کے ساتھ سو سو گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہو اور اس قافلہ سے ہمیں اپنا نمائندہ ڈھونڈنے میں عمریں بیت جائیں.
    یقین جانیے پاکستانیوں اگر ہم نے ایسا کر لیا تو قیامت کے روز ہمارے نبی ﷺ آگے بڑھ کر ہمارا استقبال کریں گے کہ یہ ہیں میری امت کے وہ لوگ جنہوں نے غیر مسلموں کے تسلط سے مسلم خطے کو نکال کر اسلام کا جھنڈا سر بلند کیا.
    آئیں آج آپ اور میں ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم نے ایک ہو کر ملک دشمن عناصر کو شکستِ فاش دینی ہے.

    دلوں میں حُبِ وطن ہے اگر تو ایک رہو
    نکھارنا یہ چمن ہے _ اگر تو ایک رہو

    پاکستان زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • لاہور کے مسائل۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    لاہور کے مسائل۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پطرس بخاری نے اپنے مضمون "لاہور کا جغرافیہ” میں لکھا کہ:
    ” کہتے ہیں، کسی زمانے میں لاہور کا حدوداربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلبہ کی سہولت کے ليے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقعہ ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہورہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے، کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہوگا۔ جس کادارالخلافہ پنجاب ہوگا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے، جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہورہا ہے، لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔ “

    بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتا ہوا رقبہ ایک ایسی کینسر نما بیماری ہے جو شہر لاہور کو لاحق ہو گئی ہے۔ جس سے نہ صرف لاہور کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے بلکہ بُہت سارے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اِسکی کچھ رونقیں کھو سی گئی ہیں۔

    اگرچہ بُہت سارے مسائل ہیں جو لاہور کو لاحق ہیں لیکن چند چیدہ چیدہ مسائل مسائل میں درختوں کی کٹائی، ماحولیاتی تغیر، زیرِ زمین پانی کی کمی، وینس کی جھلک، ٹرانسپورٹ کی کمی، زرعی زمینوں کا کم ہونا، صحت اور تعلیم کی نا کافی سہولیات، اور معدوم ہوتے تہوار وغیرہ شامل ہیں۔
    گزشتہ حکومتوں کے بر عکس اگرچہ موجودہ حکومت بہت سارے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے لیکن ان مسائل کو حل ہونے میں وقت لگے گا۔

    درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی تغیر

    گزشتہ کئی سالوں سے لاہور ماحولیاتی تغیر سے نبرد آزما ہے۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، شدید گرمی اور فاگ سے بہت سارے مسائل نے جنم لیا ہے۔ ہر سال سینکڑوں افراد گرمی کی شدت سے بیمار ہو کر ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اسی طرح فضائی آلودگی اور فاگ کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں، گلے اور آنکھوں کا انفیکشن، سانس لینے میں دشواری،دمہ اور کھانسی وغیرہ بھی پریشان کن ہیں۔ بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے لوگوں کے پھیپھڑے خراب ہو رہے ہیں۔
    ان مسائل کی بڑی وجوہات میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں، اینٹوں کے بھٹے، فیکٹریوں میں ربڑ کا استعمال اور درختوں کی کٹائی شامل ہیں۔
    اگرچہ موجودہ حکومت نے تقریباً تمام بھٹے جدید ذگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیے ہیں اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت پاکستان نے گاڑیوں کے لیے اچھی کوالٹی کا ایندھن (euro 5) منگوانا شروع کیا ہے، لیکن دوسری وجوہات پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے۔
    بڑھتی ہوئی گرمی اور آلودگی کی سب سے بڑی وجہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2017 تک لاہور کے 75٪ درخت کاٹ دیے گئے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف بارشوں میں کمی ہوئی بلکہ گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا۔ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے فضائی آلودگی اور فاگ جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ افسوس صد افسوس، باغوں کے شہر لاہور سے درخت ہی کاٹ دیے گئے ہیں۔
    موجودہ حکومت نے اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے جاپانی تیکنیک پر شہر بھر میں 50 میاواکی جنگل لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے جو کہ اگرچہ نا کافی ہے لیکن حکومت کی سنجیدگی کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔
    لاہور لبرٹی مارکیٹ میں لگایا گیا مياواکی فوریسٹ 8 کنال رقبے پر مشتمل ہے اور اُس میں 10 ہزار سے زائد درخت/پودے لگائے گئے ہیں۔
    درختوں کی کٹائی اور بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے بارشوں میں بھی کمی آئی ہے۔ بارشوں میں کمی اور زیرِ زمین سے مسلسل پانی نکالنے کی وجہ سے مستقبل میں پانی کا بحران نظر آ رہا ہے۔ جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے وہیں زیرِ زمین پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے اس صورتِ حال سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات کا اعلان کیا ہے، اس ضمن میں راوی ریور پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں، لیکن یہ منصوبے پورے ہونے میں وقت لگے گا۔
    لاہور کو پیرس بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، یہ پیرس تو نہ بن سکا لیکن ہر سال وینس کا نظارہ ضرور کرواتا ہے۔ سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے ہر سال مون سون کی بارشوں میں لاہور کو سیلابی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں ایک طرف پانی کی کمی ہے وہیں ہر سال بارشوں کا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے اور سیلابی صورتحال کا تدراک کرنے کے لیے موجودہ حکومت سیوریج کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین 10 سے زائد واٹر سٹوریج ٹینک بنا رہی ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ کتنے مددگار ثابت ہوں گے۔

    پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت

    ایک وقت تھا کہ لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پورے شہر میں کہیں بھی جایا جا سکتا تھا۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب لاہور کا سب سے بڑا بس اسٹیشن تھا جہاں سے پورے لاہور کے لیے بسیں چلتی تھی۔ لیکن یہ شعبہ بھی اب زبوں حالی کا شکار ہے۔ 2009 میں پنجاب حکومت نے جہاں دیگر کئی کمپنیاں بنائی وہیں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی بھی بنائی گئی۔
    لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے ابتدا میں 400 ائیر کنڈیشنڈ بسوں کے ساتھ تقریباً 19 بڑے روٹس اور کچھ چھوٹے روٹس پر کام کا آغاز کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بسوں کی تعداد میں کمی ہوتی گئی۔ افسران کی غفلت کی وجہ سے کمپنی 2017 میں سروس آپریٹرز کے ساتھ ختم ہونے والے معاہدوں کی تجدید نہ کر سکی جس کی وجہ سے یہ کمپنی بند ہو گئی اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب۔
    ریکارڈ کے مطابق 2014 سے مسلسل حکومت کو نئی بسوں کے لیے درخواست دی جاتی رہی لیکن کوئی کام نہ ہوا۔ اگرچہ لاہور میٹرو بس اور میٹرو ٹرین آپریشنل ہے لیکن ان کی سروس مخصوص روٹ پر ہے۔
    اس وقت لاہور کی ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو پورا کرنے کے لیے کم و بیش 1500 بسوں کی ضرورت ہے۔اگرچہ موجودہ حکومت سروس بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے لیکن ابتدائی طور پر صرف 300 بسیں فراہم کی جائیں گی۔
    اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو دیکھتے ہوئے بلیو لائن اور پرپل لائن کے منصوبے جو کہ 2007 میں تجویز کیے گئے تھے فلحال کاغذوں تک ہی محدود ہیں۔

    لاہور کے گرد پھپھوندی کی طرح پھیلتی ہاؤسنگ اسکیمز بذاتِ خود ایک مسئلہ ہیں۔ زرعی زمینوں پر بننے والی ان سوسائٹیوں میں نہ صرف سہولیات کا فقدان ہے بلکہ بے ہنگم بھی ہیں۔ اِن کی وجہ سے پیدا ہونے والا سب سے بڑا مسئلہ غذائی اجناس کی قلت ہے۔ ان زرخیز زمینوں پر پہلے سبزیاں، چاول، گندم اور دیگر غذائی اجناس کی کاشت کی جاتی تھی جو کہ شہر لاہور کی ضروریات کو کسی حد تک پورا کرتی تھیں لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ اب زرخیزی کی جگہ صرف بے ہنگم آبادی ہے۔

    لاہور میں جہاں دیگر بُہت سے مسائل ہیں وہیں پر صحت کی نا کافی سہولیات بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ گزشتہ کئی سالوں میں کوئی نیا ٹرشری کیئر ہسپتال نہیں بنایاگیا، اگرچہ موجودہ حکومت نے لاہور میں 2 نئے ہسپتال بنانے کا آغاز کیا ہے، لیکن شمالی اور مشرقی لاہور میں کوئی بھی بڑا سرکاری ہسپتال نہ ہی موجود ہے اور نہ ہی عنقریب کسی کی امید ہے۔ ہسپتالوں میں جدید مشینری یا تو موجود نہیں اور اگر موجود ہے تو وہ خراب ہے۔
    یہ اور ایسے بُہت سے دیگر مسائل ہیں جو کہ شہر لاہور کو لاحق ہیں، اگر ان مسائل کی تفصیل بیان کرنا شروع کی جائے تو ہر مسئلے کے لیے ایک علیحدہ آرٹیکل لکھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ حکومتوں میں ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے صرف ایسے پروجیکٹ شروع کیے گئے جو کہ ذاتی مشہوری کے لیے ضروری تھے، اگرچہ موجودہ حکومت نے ایسے منصوبے شروع کیے ہیں جن سے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت کی سنجیدگی نظر آتی ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ منصوبے مکمل ہو کر کس حد تک ان مسائل کو حل کریں گے۔

  • غریب کا احساس ‏.تحریر: لاریب اطہر

    غریب کا احساس ‏.تحریر: لاریب اطہر

    ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی بہت مشکل سے گزار رہے ہیں
    اکثر تو ایسے ہیں جو 2 وقت کا کھانا بھی پورا نہیں کر سکتے اور ہم ایک وقت کا اتنا کھانا بنا رہے ہوتے ہیں جو غریب کو مل جائے تو وہ 4 دن اس سے آرام سے گزار سکے
    ہم اپنی ضرورت سے زیادہ کھانے کو کچرے میں پھینک دیتے ہیں لیکن پڑوس میں غریب کو اس کی بو تک نہیں لگنے دیتے
    اگر وہ ہی کھانا ہم خود سے بچا ہوا ہی کیوں نا ہو پڑوسی ی
    کو دے دیں اس کے بچے بھوکے نا سوئیں
    وہ کم از کم 2 ٹائم پیٹ بھر کر کھانا تو کھا سکے
    اس کے دل سے ہمارے دعائیں نکلیں
    اللہ پاک ہمارے گھروں، ہمارے رزق میں برکت ڈالیں لیکن ایسا ہم سوچتے بھی نہیں ہیں
    ہم صرف اپنا پیٹ بھرنے کی سوچ میں لگے رہتے ہیں
    ہم ہار سنگار تو کر لیتے ہیں غریب کے بچے کو پورے کپڑے بھی نہیں ملتے
    ہم پر ہفتے شاپنگ تو کر لیتے ہیں لیکن غریب کو 2 روپے دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے
    ہم بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانے کھا اور کھلا رہے ہوتے ہیں لیکن غریب کا نہیں سوچتے

    قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے،اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں ،یتیموں،محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں
    (سورة البقرةآیت177)

    قرآن حکیم کی سورة البقرہ ہی میں ارشاد ہے” (لوگ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں۔ فرما دیجئے کہ جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے) مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتے دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو، بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔“ 

    اللہ تعالٰی نے بھی ہمیں غریب کا احساس کرنے کا حکم دیا ہے
    خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں غریبوں کا احساس، غریب کا ساتھ کر عملی نمونہ بتاتا

    محسن انسانیت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا بلکہ عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی ہمیشہ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد کرتے

    ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا

    آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے
    جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا
    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے

    اج ہم بھی اگر مل کر اپنے معاشرے میں غریبوں کا احساس شروع کر دیں تو غریبوں کے بچے بھی بھوکے نا سوئیں، ننگے نا گھومیں، اچھے نہیں تو کم از کم سرکاری سکولز میں پی پڑھ سکیں

    ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود اپنے آپ کو پہلے پیش کرنا ہو گا غریب کا ساتھ دینے کے لیے

  • قربانی اور درد انسانیت . تحریر:حسن ساجد

    قربانی اور درد انسانیت . تحریر:حسن ساجد

    کسی حاجت مند اور مسکین کی مداد کرنا اور کسی بے سہارا کا سہارا بننا انبیاء اکرام علیھم السلام و صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم کی سنت ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کے جو بڑے مقاصد بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ رب العزت نے انسان کو ہمدردی، بھائی چارے، باہمی خلوص اور حسن معاشرت کو قائم کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ انسانیت سے پیار اور انسان کے درد کا درماں ہونا ایسا عمل ہے جس کے لیے اللہ پاک کے ہاں اجرعظیم ہے۔ لیکن انسانیت کی خدمت، فلاح و بہبود اور ہمدردی کے اس عمل کا سنت ابراهیمی یعنی قربانی سے موازنہ قطعی طور پر درست فعل نہیں ہے. اللہ کی رضا اور سنت حضرت ابراہیم و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادا کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں قربانی کرنا ایک ایسا عمل ہے جو ہر اس مسلمان پر لازم ہے جو اسکی استطاعت رکھتا ہے. اسلام اور ہماری ثقافتی روایات دشمن قوتیں ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ یہی لوگ آج کل قربانی کے عمل کا دیگر فلاحی کاموں سے موازنہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہ لوگ میڈیا اور سوشل میڈیا پر قربانی کرنے سے روکنے کیلیے مختلف اقسام کی تاویلات پیش کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ دو جس رقم سے قربانی کا بڑا سا جانور خریدنا ہے بہتر ہے کہ اس رقم سے کسی غریب کی بیٹی بیاہ دو یا اگر قربانی تو نفس کی ہے اس بار جانور قربان کرنے کی بجائے انا قربان کرو اور کسی حاجت مند کی حاجت روائی کر دو وغیرہ وغیرہ. یہ لوگ ایسے مستند دلائل اور چکنی چپٹی باتوں سے قائل کرتے ہیں کہ وہ نوجوان جو اپنی روایات اور اسلامی عقائد و نظریات سے متعلق علم نہیں رکھتے انکے مصنوعی منطق کے زیر اثر انکی بات پر یقین کرلیتا ہے۔

    میری لبرل دانشوروں، سیکنڈ ہینڈ انگریزوں اور سرخ فلاسفروں سے مودبانہ گزارش ہے کہ حضور آپ کے دل میں درد انسانیت اور مخلوق خدا سے ہمدردی کا جذبہ سر آنکھوں پر مگر اس احسن عمل کے لیے سال کے گیارہ مہینے اور بھی موجود ہیں مگر تب مجھے کبی آپ کی جانب سے ایسی کوئی دلیل یا حجت کیوں نظر نہیں آتی کہ اپنے بنک بیلنس کو سود کے ذریعے بڑهانے کی بجائے اپنا روپیہ پیسہ اور دولت غریبوں میں بانٹ دو۔ آپ نے یہ کیوں نہیں کہا کہ کسی نیشنل یا انٹرنیشنل تفریحی مقام یا Hill station پر پرآسائش چھٹیاں گزارنے سے بہتر ہے کہ اس رقم سے ان افراد کی مالی امداد کرو جن کو دو وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ۔ آپ عیش و عشرت کی بجائے قناعت پسندی اختیار کرنے اور دولت کی تجوری پر سانپ بن کر بیٹھنے کی بجائے حاجتمندوں کی حاجات پوری کرنے کی تبلیغ کیوں نہیں کرتے؟ آپ لوگ یہ بھاشن اس وقت کیوں نہیں دیتے جب فیشن شوز اور ناچ گانوں پر کروڑوں اربوں کی رقم بے دریغ بہا دی جاتی ہے۔ تو جان لیجئے یہ لوگ سوائے ہماری اسلامی اقدار کی مخالفت کے کسی اور عمل میں ایسے مصنوعی اور ناپائدار منطقی دلائل سے بات کرتے نظر نہیں آئیں گے۔ اور ان کی جبلت میں منافقت کا مادہ اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ آپ کو ان انسان دوستی کے مصنوعی ٹهیکے داروں کے اپنے تمام تر افعال اور اقوال میں ° 180 ڈگری کا تضاد نظر آئے گا . یہ لوگ تو کسی ٹهیلے والے سے سبزی تک خریدنا پسند نہیں کرتے کہ اس میں ہائی جینک پرابلم ہوگی مگر سوشل میڈیا پر انکی حرکات دیکھ کر ایک لمحے کیلیے یوں ہی گماں ہوتا ہے کہ انسانیت کی مسیحائی میں انکا کوئی ثانی ہی نہیں. برانڈڈ سوٹ بوٹ پہن کر فائیو سٹار ہوٹل میں کھانا کھاتے وقت ان کو کیوں سوچ نہیں آتی کہ کسی ڈهابے سے کھاتے ہیں جس سے کسی غریب کا چولہا جلے گا.

    اب رہی بات قربانی کی تو قربانی نہ کرنا اور اسکے بدلے امداد کر دینا بلکل ایسے ہی دکھائی دیتا ہے کہ اگر روزہ رکها ہے ہو نمازیں معاف ہیں. یعنی یہ ایک غیر فطری معائنہ ہے جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔ لہذا قربانی کرنے کی بجائے انسانی خدمت کی ترغیب ایک سراسر غلط سوچ اور من گھڑت تاویل ہے. ہم لوگوں کی چکنی چپٹی باتوں میں آکر کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطئہ حیات ہے اور اس دین کامل کے ہر عمل میں انسانیت کی فلاح اور ہمدردی شامل ہے. آپ کو غور کرنے پر معلوم ہوگا کہ قربانی کے عمل میں بھی انسانیت کی فلاح اور ہمدردی کا عنصر موجود ہے شرط یہ ہے کہ اس عمل کو اسلام کے اصولوں کے مطابق سر انجام دیا جائے. اور ایک مسلمان کی حیثیت جب ہم دین اسلام کو اس کے تمام تر احکامات کے ساتھ قبول کر چکے ہیں تو مزید تحقیقات کرنا یا احکامات باری تعالی پر اپنے ذاتی افکار کو ترجیح دینا یقینی طور پر ہمیں گمراہی کی طرف لے کر جاتا ہے اور ہمارا یوں ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر احکامات رب ذوالجلال پر قیاس گناہ کے زمرے میں آتا ہے. لہذا ہمیں اس عمل سے خود بھی بچنا ہے اور دوسروں کو بھی بچانا ہے۔

    اگر معاشی پسماندگی کو دور کرنے اور حاجتمندوں کی حاجت روائی کرنے کی بات کریں تو اسلام اس عمل میں بھی سب خیالات اور نظریات پر بھاری نظر آئے گا. انفرادی عمل سے لیکر اجتماعیت تک ہر سطح پر اسکی عملی مثالیں موجود ہیں. مثال کے طور پر قربانی کا عمل معاشی طور پر بھی ایک بہترین اور احسن عمل ہے قربانی کے عمل کی بدولت سرمایہ معاشرے کے تمام طبقات میں گردش کرتا ہے جس کی بدولت ناصرف لوگوں کی انفرادی معاشی حالت میں بہتری آتی ہے بلکہ دولت کی غیر منصانہ تقسیم میں بھی کمی آتی ہے۔ قربانی کے دنوں میں غذائی قلت کم ہو جاتی ہے اور ایسے بہت سے خاندانوں کو بھی بہتر کھانا میسر آتا ہے جو سال بھر میں شاید ہی کسی روز پیٹ بھر کر کھاتے ہوں گے۔ اسلام نےمعاشرے میں معاشی توازن قائم کرنے کے جو اصول ہمارے سامنے رکھے ہیں ہم ان پر عمل پیرا ہوکر آسانی سے اپنے معاشرے میں معاشی استحکام لا سکتے ہیں اور غربت سے مکمل طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر سکتے ہیں.
    ان ساری باتوں کے باوجود بھی اگر آپ کا کاں (کوا) چٹا ہی ہے اور آپ کی سوچ کا پہیہ اسی بات پر جام ہے کہ انسانیت کی خدمت کا صلہ زیادہ ہے تو ایسا کریں قربانی تھوڑی کم رقم کی کر لیں اور باقی رقم بچا کر دیگر فلاح انسابیت کے کاموں پر خرچ کرکے اپنے من کو شانتی بخشیں.

  • افغان امن عمل .ازقلم: فیصل فرحان

    افغان امن عمل .ازقلم: فیصل فرحان

    کہانی آج سے بیس سال پہلے سے شروع ہوتی ہے جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ نے افغانستان میں ط الب ان کی حکومت کا تختہ الٹا تو اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہوئے۔ اس خطے میں افغانستان کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔
    جن میں 5 ہزار سکیورٹی اہلکار، 70 ہزار معصوم لوگ شہید اور تقریباً 100 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔
    پر امن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ کیونکہ پاکستان پہلے سے تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ سے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کیا۔ چاہے وہ دوہا قطر میں ہونے والے امر یکہ طا لبان امن مذاکرات ہوں یا پھر ڈیورنڈ لائن پر طورخم سے لیکر چمن تک سرحد پر باڑ لگانا ہوں۔

    اب چونکہ ام ر یکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور افغانستان چھوڑنا پڑا لیکن امر یکہ کا شاطرانہ اور مداخلتی پالیسی جوکہ شاید ان کو فرانسیسیوں اور انگریزوں سے ورثے میں ملی ہے کہ وہ کسی بھی جگہ کو آسانی سے نہیں چھوڑتا بلکہ کسی نہ کسی ٹول کے ذریعے اپنی مداخلت جاری رکھتا ہے۔
    اس لیے امریکہ کا افغانستان سے مکمل طور پر انخلاء کے بعد اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اڈے دینا کا مطالبہ کیا گیا۔ آج کے جدید اصطلاح میں اس کو (Drone Treatment) کہا جاتا ہے جس میں UAVS کو استعمال کر کے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکی سرزمین سے باہر جنگ لڑی جاتی ہے جس میں امریکہ کا نہ تو کوئی فوجی مرتا ہے اور نہ کوئی اور نقصان۔

    اس سلسلے میں پاکستانی ریاست نے "Absolutely Not” کا انتہائی واضح اور
    دو ٹوک موقف دے کر مزید کسی بھی جنگ کا متحمل نہ ہونے کا واضح پیغام دے دیا۔
    پاکستان کا یہ موقف انتہائی خوش آئند اور ہمارے غیرت و حمیت کے عین مطابق ہے۔
    پاکستان کے اس دو ٹوک اور غیر متوقع سٹانس کے بعد امریکہ اور اس کے خوار دوست پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرینگے۔
    جن میں ہائبرڈ وار، انفارمیشن وار انسرجنسی اور مختلف قسم کے کانسپریسی تھیوریز کے ذریعے عوام کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسایا جائے گا۔ میڈیا کو استعمال کیا جائے گا مذہبی اور مختلف لسانی جماعتوں کو استعمال کیا جائے گا۔
    ہماری قوم نے بہت سی قربانیاں دیے کر اس پاک چمن کا امن دوبارہ بحال کیا ہے۔ اور اب یہ ہم سب کی ذمّہ داری ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم ریاست کے اس بہادرانہ اور دلیرانہ موقف اور فیصلوں کا ہر صورت دفاع کریں۔ اور ریاستی اداروں کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرکے اغیار کے سازشوں کو ناکام بنائیں۔
    اللہ تعالیٰ مملکت پاکستان اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

  • مغربی تہذیب کا سیاہ چہرہ. تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    مغربی تہذیب کا سیاہ چہرہ. تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    افراد اور قوموں کی اپنی کوئی نہ کوئی تہذیب ہوتی ہے جس سے ان کی بہت گہری وابستگی ہوتی ہے۔ تہذیبوں کا مذہب یا اجتماعی نظام سے بھی بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے کہیں کہیں تہذیب سے مذہب سے بھی بڑھ کر جذباتی تعلق ہوتا ہے،ہمارے روشن خیال لوگ مغربی معاشرے کی انسان دوستی ،انصاف وقانون کی بالادستی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اورمغرب کومہذب معاشرہ ثابت کرنے کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہوئے ہیں لیکن ان روشن خیالوں نے کبھی بھی تاریخ کے اوراق پلٹ کرنہیں دیکھے کہ وہ جس تہذیب کے گرویدہ انہوں نے ماضی میں کتنے مظالم ڈھائے اورکتنے بیگناہوں کوپلک جھپکتے ہی موت کی ابدی نیندسلادیااورکتنے لوگوں اپاہج بنایا ،یہ 13 اپریل 1919 ء کی بات ہے جب جلیانوالہ باغ میں انگریزوں نے قتلِ عام کیا، جسے امرتسر قتلِ عام بھی کہا جاتا ہے،جب پرامن احتجاجی مظاہرے پر برطانوی ہندوستانی فوج نے جنرل ڈائر کے احکامات پر گولیاں برسا دیں۔ اس مظاہرے میں بیساکھی کے شرکا ء بھی شامل تھے جو پنجاب کے ضلع امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں جمع ہوئے تھے۔ یہ افراد بیساکھی کے میلے میں شریک ہوئے تھے جوسکھوں کا ثقافتی اور مذہبی اہمیت کا تہوار ہے۔ بیساکھی کے شرکا ء بیرون شہر سے آئے تھے اور انہیں علم بھی نہیں تھا کہ شہر میں مارشل لاء نافذ ہے۔اتوارکے دن جنرل ڈائر کو بغاوت کا پتہ چلا تو اس نے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا دی مگر لوگوں نے اس پر زیادہ کان نہ دھرے۔ چونکہ بیساکھی کا دن سکھ مذہب کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے آس پاس کے دیہاتوں کے لوگ باغ میں جمع ہو گئے تھے۔ جب جنرل ڈائر کو باغ میں ہونے والے اجتماع کا پتہ چلا تو اس نے فورا پچاس گورکھے فوجی اپنے ساتھ لیے اور باغ کے کنارے ایک اونچی جگہ انہیں تعینات کر کے مجمعے پر گولی چلانے کا حکم دیا۔ دس منٹ تک گولیاں چلتی رہیں حتی کہ گولیاں تقریبا ختم ہو گئیں۔ جنرل ڈائر نے بیان دیا کہ کل 1650 گولیاں چلائی گئیں۔ شاید یہ عدد فوجیوں کی طرف سے جمع کیے گئے گولیوں کے خولوں کی گنتی سے آیا ہوگا۔ برطانوی ہندوستانی اہلکاروں کے مطابق 379 کو مردہ اور تقریبا 1100 کو زخمی قرار دیا گیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اندازہ 1000 اور زخمیوں کی تعداد 1500 کے لگ بھگ تھی۔

    گذشتہ ایک سال میں دنیا بھر میں نسلی ناانصافی کے خلاف مظاہروں میں مظاہرین کی طرف سے سلطنت ، استعمار اور غلامی کی علامتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ مظاہرے مئی 2020 میں افریقی نژاد امریکی شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں پھٹ پڑے۔اس طرح دنیاکے مختلف ممالک میں ظلم،جبراورناانصافیوں پراحتجاجوں کالامتناہی سلسلہ جاری ہے ، کینیڈا میں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر احتجاج کرنے والے پرتشدد مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے گرادیے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں برآمد ہونے والی سیکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر سڑکوں پر نکلنے والے نارنجی شرٹ پہنے مظاہرین نے احتجاجی ریلی نکالی۔وینیپیگ میں نکلنے والی ریلی میں سیکڑوں افراد شریک تھے جنہوں نے ایک چوک پر پہنچنے کے بعد وہاں نصب ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کی طرف پیش قدمی کی۔ریلی میں شامل چند مشتعل مظاہرین چبوترے پر چڑھے اور انہوں نے پہلے ملکہ وکٹوریہ پھر ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے کو زمین پر گرادیا۔ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کو گرانے کے بعد شہریوں کا غصہ مزید بڑھ گیا، مشتعل افراد نے مجسمے گرانے کے بعد نسل کشی پر فخر نہیں کا نعرہ بھی لگایا۔کینیڈین میڈیا کے مطابق یہ معاملہ ایک روز قبل اس وقت پیش آیا جب روایتی طور پر ملک بھر میں سرکاری سطح پر جشن منایا جانا تھا تاہم بچوں کی باقیات ملنے کے بعد اسے منسوخ کردیا گیا۔ بچوں کی باقیات ملنے پر دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرین سڑکوں پر آئے اور انہوں نے حکومت سے واقعات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔واضح رہے کہ کینیڈا میں گذشتہ دنوں اجتماعی قبروں سے ایک ہزارسے زائد قبائلی بچوں کی باقیات دریافت ہوئیں تھیں جبکہ اس سے قبل مقامی رہائشی اسکول میں 215 بچوں کی باقیات پر مشتمل ایک اجتماعی قبر ملی تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس اسکول کو 1978 میں بند کردیا گیا ہے، جن کی باقیات ملیں وہ برٹش کولمبیا کے کیملوپس انڈین رہایشی اسکول کے طالب علم تھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے قدیم مقامی باشندوں کے قبائل میں سے ایک رہنما نے بتایا کہ برٹش کولمبیا میں قدیمی باشندوں کے بچوں کے لیے قائم ایک سابقہ مشنری اسکول کے قریب سے مزید 182 قبریں دریافت ہوئی ہیں۔لوئر کوٹینے ہینڈ نے بتایا کہ کرین بروک کے قریب سابقہ سینٹ یوجینز مشن اسکول کے پاس سے لاشیں برآمد ہوئیں۔کمیونٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ اسکول 1913 سے 1970 تک چلتا رہا اور 2020 میں یہاں تلاش شروع کی گئی تھی۔کینیڈا کے صوبے سسکاچیوان میں پرانے اسکول کی سائٹ سے 751 نامعلوم قبریں دریافت کی گئی ہیں۔اسی طرح ایک اورغیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی ریاست سسکاچیوان کے شہرریجینا سے تقریبا 140 کلومیٹر دورایک سابق بورڈنگ اسکول میں قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں سینکڑوں قبائلی بچوں کی لاشیں دفن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ جگہ رومن کیتھولک چرچ کے زیر انتظام تھی، تمام قبریں بچوں کی ہیں یا بالغ افراد کی ہیں اس بارے میں تاحال تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔واضح رہے کہ 1863 سے 1998 تک کینیڈا میں حکومت اورمذہبی حکام کے ذریعے چلائے جانے والے بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بچوں کووالدین سے زبردستی علیحدہ رکھ کر نئی زبان اور جدید ثقافت اپنانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ان بچوں کو اکثر اپنی زبان بولنے یا اپنی ثقافت پر عمل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور ان میں سے بہت سوں کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتی کی جاتی تھی۔ 2008 میں اس نظام کے اثرات کو جاننے کے لیے قائم کردہ کمیشن کو معلوم ہوا کہ مقامی بچوں کی بڑی تعداد کبھی بھی اپنے گھروں اور اپنی برادریوں میں واپس نہیں آئی۔ 2015 میں جاری کی گئی تاریخی ‘ٹرتھ اینڈ ریکنسلیشن رپورٹ’ میں کہا گیا کہ یہ پالیسی ‘ثقافتی نسل کشی’ کے مترادف تھی۔

    کینیڈا کے مختلف شہروں میں، چرچوں کی نگرانی میں چلنے والے بورڈنگ اسکولوں میں مقامی بچوں کی کئی اجتماعی قبروں کے انکشاف کے بعد، متعدد کلیسائوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔غیرملکی نیوزایجنسی کے مطابق ذرائع کاکہناہے کہ ان قدیم چرچوں بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے بچوں سے متعلق ریکارڈموجود ہے اس لئے منظم طریقے سے ریکارڈ کوتحقیات کرنے والوں اداروں کے ہاتھ لگنے سے بچانے کیلئے کلیساؤں کو آگ لگائی جارہی ہے اور اس کا الزام احتجاج کرنے والوں پرلگایاجارہاہے ۔سوچنے کی بات ہے اگرخدانخواستہ یہ قبریں کسی مسلم ملک کے تعلیمی ادارے سے ملتی توتحقیقات سے قبل ہی اسے اسلامی دہشت گردی قراردیاگیاہوتا،اب یہ قبریں مغرب کے مہذب معاشرے سے تعلق رکھنے والے ملک کینیڈاجوکہ برطانوی کالونی ہے کیتھولک عیسائی چرچوں کے زیرانتظام چلائے جانے والے سکولوں سے ملی ہیں ،اگراسے مغرب کے پیمانے سے ماپاجائے تو اسے لازی طورپر کیتھولک عیسائی دہشت گردی کہناچاہئے اوراس سے بڑھ کر تعجب کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان جب اپنے حق کی حصول کے لیے کھڑا ہو تو انھیں دہشت گرد کہنے میں اور ثابت کرنے میں جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں کہ مذہب اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دیتے ہیں، جبکہ اسلام مخالف طاقتیں ہر روز کہیں نہ کہیں بے چارے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرکے ناحق انکا خون بہاتے ہیں، اور بلا وجہ ان کو شہید کردیتے ہیں، محض اس وجہ سے کہ وہ مسلمان ہیں، انھیں کوئی عیسائی دہشت گرد، یہودی دہشت گرد،اورہندو دہشت گردنہیں کہتا، انھیں کبھی تو دماغی معذور بنا کر،اور کبھی تو یہ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتااور ا ن کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے حتیٰ کہ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیاپر پابندی لگا دی جاتی ہے مظالم پر آوازاٹھانے والوں کے سوشل میڈیا اکائونٹ بلاک کردئے جاتے ہیں تا کہ ا ن مظالم کی ویڈیوزوائرل نہ ہوسکیں ،یہ ہے مغرب کی سیاہ تہذیب جو انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہے لیکن خوبصورت سلوگن کی وجہ دنیاسے اوجھل ہے ۔

  • مصطفیٰ کمال، امیدوں کی کرن،تحریر : ثاقب شیخ

    مصطفیٰ کمال، امیدوں کی کرن،تحریر : ثاقب شیخ

    جو لوگ آج یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ مصطفیٰ کمال واپس ایم کیو ایم میں چلے جائیں گے آئے ان پر تھوڑی نظر اس پر ڈالی جائے

    چھ سال پہلے وہ لوگ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ 2 لوگ آتو گئے ہیں لیکن یہ خیابان سحر سے باہر نہیں آسکتے

    آج اَلْحَمْدُلِلّٰه رب نے خیابان سحر کے گھر سے نکال کر دنیا بھر میں پھیلا دیا آج جہاں جہاں پاکستانی ہیں، وہاں پاک سرزمین پارٹی بھی موجود ہے

    2018 کے الیکشن کے بعد لوگوں نے یہ بھی افواہ پھیلائی کہ مصطفیٰ کمال پارٹی ختم کرکے دبئی واپس چلیں جائیں گے اور پھر وقت نے ثابت کردیا

    حالیہ طوفانی بارشوں میں پی ایس پی فاؤنڈیشن کے تحت پاک سرزمین کارکنان کی انتھک محنت نے پورے کراچی میں یہ بات ثابت کردی کہ آج اللّه تعالی نے پاک سرزمین پارٹی کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کردیا ہے

    انشاء اللّه حسد کرنے والے کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ظالموں کے مقدر میں ہمیشہ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں

    بیشک جھوٹوں پر اللّه کی لعنت ہوتی ہے