Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ ایک ایپ ہے، جو آج کل پاکستانی نوجوانوں اور بچوں میں بہت مقبول ہورہی۔ بچے اس کو مفت ڈاؤن لوڈ کرتے اور اس کے بعد ان کی مرضی ہے کہ وہ جو چاہیے اس میں کریں، گانے پر لب ہلائیں یا رقص کریں یا کسی ڈائیلاگ کو بول کر اپنی ویڈیو زریکارڈ کریں یا کسی کی ویڈیو پر جوابی ویڈیو بنائیں۔ دوسری طرف ان بچوں کے والدین کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کس خرافات میں پڑھ چکے۔ آج کل کے ماں باپ بچوں کی ضد کے آگے ہار جاتے، انہیں موبائل خرید دیتے ہیں، ٹیب، لیپ ٹاپ و دیگر الیکٹرانک گیجٹس بچوں کے پاس موجود ہیں اور ان کے گھروں میں 24 گھنٹے انٹر نیٹ چل رہا ہوتا ہے۔ بچے اپنے کمروں میں کیا کررہے؟ ان کے اکثروالدین کو معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ اکثر بچوں کے ماں باپ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ وغیرہ استعمال نہیں کرتے اس بات کا فائدہ بچے اٹھاتے اور وہ اپنی من مانی کرنا شروع کردیتے اور ان چیزوں کی طرف چلے جاتے، جو آگے چل کر ان کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی۔

    ان ایپس پر بچے بچیاں تیار ہوکر کسی گانے پر رقص کرتے اس کو اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ، تو اس پر ایسے ایسے کمنٹس آتے کہ اگر بچوں کے والدین اس کو پڑھ لیں تو ان کو پھر کبھی موبائل استعمال نہ کرنے دیں۔ ٹک ٹاک پر کوئی بچوں کے حسن کو سراہتا، تو کوئی ان کو اپنا فون نمبر دے رہا ہوتا، کوئی ان کو اپنے ساتھ گھومنے پھرنے کی پیشکش کررہا ہوتا۔ یوں ان ایپس پر بچے اجنبیوں کے ساتھ رابطے میں آجاتے۔ پہلے تو سب اچھا اچھا رہتا ہے، کیونکہ یہ اجنبی بچوں کو پیسے اور تحفے دیگراپنے قریب لے آتے، بعد میں یہ جرائم پیشہ افراد، بچوں کو پھانس لیتے اوران کو بلیک میل کرتے۔ ان کی ویڈیوز تصاویر بنا کر پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے۔ یوں بچے اپنے ہی گھر میں چوریاں کرنے پر مجبور ہوجاتے۔ کچھ کیسز میں بچے جنسی تشدد کاشکار بھی ہوجاتے اور بات خود کشی تک پہنچ جاتی۔ اس حوالے سے جب تک ماں باپ کی آنکھیں کھلتی، تب تک ان کے بچے کی زندگی تباہ ہوچکی ہوتی ہے۔

    میں قدامت پسند نہیں، آرٹ و کلچر کو پسند کرتا ہوں، لیکن آپ سے سوال کہ کیا آپ پسند کریں گے کہ کوئی بھی معصوم بچہ اور بچی سڑک پر رقص کرے اور لوگ اس پر ذومعنی جملے کسیں؟ اس کو مختلف نا زیبا پیشکشیں کریں؟ ہرگز نہیں، کسی کی بھی خواہش نہیں ہو سکتی کہ اس کا بچہ پڑھنے لکھنے کے بعد اپنے لئے کسی ایسے نامناسب شعبے کا انتخاب کرے، اگر بچہ آرٹ و کلچر، رقص یا شوبز میں بھی آنا چاہتا ہوتو بالغ ہونے کے بعد آئے۔ اس سے پہلے والدین اس کو تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہتے۔ اب، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم عمر بچے بچیوں کی بہت بڑی تعداد ان ایپس پر موجود ہے، جو اپنی معصومیت یا شوبز کی چکا چوند سے متاثر ہوکر یہاں آتے اور جب وہ اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں تو وہ پبلک کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔ اب، یہ ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ ان کی ویڈیوز کا استعمال کس طرح سے کرتے۔ معصوم بچے بچیوں کی ویڈیوز مختلف فورمز پر فحش کیپشنز کے ساتھ پھیلا دی جاتی، ان کو گالیاں دی جاتی ہیں، ان کی کردار کشی کی جاتی۔ یوں بہت سے بچے سوشل میڈیا پر منفی مہم کا نشانہ بن جاتے

    فالورز کی تعداد بڑھانے کی خواھش، ہیرویا ہیروین بننے کی چاھت، بچوں کے مستقبل کو تباہ کردیتی۔ وہ سارا دن فون استعمال کرتے رہتے اور نہ کھاتے پیتے، نہ آرام کرتے اور نہ ہی اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیتے۔ والدین شروع میں اس ایپ کے نقصانات سمجھ نھیں پاتے، لیکن جب ان کے بچوں کی ویڈیوز منفی انداز میں پھیل کر فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر ہر شخص کے پاس پہنچ جاتی، تو ان کو اندازہ ہوتا کہ ان کابچہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنس چکا

    ان ایپلیکیشنز پر ایک اور طبقہ بھی پایا جاتا، جو اپنے نمبرز ویڈیوز ساتھ پوسٹ کرتا۔ پہلے یہ کام رات کے اندھیروں میں ہوتا۔ اب، کھلے عام گاہک ٹک ٹاک کے ذریعے سے ان لوگوں تک پہنچ جاتے لڑکے لڑکیاں جان بوجھ کر اپنے جسموں کی نمائش کرتے، تاکہ پیسے کماسکیں۔ یہ ایک بہت گھٹیا عمل جس سے فحاشی و عریانی مزید پھیل رہی اس کے ساتھ ساتھ یہ ویڈیوز دوسری سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر پہنچتی اور یہ یوں یہ برائی مزید پھیلتی۔ ہمیں اس برائی کو روکنا ہوگا، لیکن یہ دیکھا گیاہے کہ بہت سے متنازع کرداروں کی رسائی تو طاقت کے ایوانوں تک ہے۔ اس میں دو ٹک ٹاکرز نے مبینہ طور پر معروف افراد کو بدنام کیا۔

    یاد رکھیں فحش گوئی ذومعنی جملے جسم کی نمائش آرٹ اور کلچر میں نہیں آتا۔ ہمیں اس وقت ڈراما سیریلز؛ ایلفا براوو چارلی، سنہرے دن، دھواں، خدا زمین سے گیا نہیں ہے، عہد وفا اور فصلِ جاں سے آگے جیسے معلوماتی و تفریحی ڈراموں کی ضرورت ہے۔ جو کچھ ٹک ٹاک پر ہورہا ہے، وہ فن و ثقافت اور تفریح کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس آرٹیکل کے لیے جب میں نے ٹک ٹاک سنیپ چیٹ پر ریسرچ کی تو سر شرم سے جھک گیا کہ ہماری نوجوان نسل چھوٹے کپڑوں ذومعنی گفتگو اور ہیجان آمیز گانوں پر رقص کررہی یہ نئی نسل اسلامی تعلیمات اور نظریہ ٔپاکستان سے بہت دور جاچکی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں نئی نسل کو پاکستان کی ثقافت اور مذہب کے حوالے سے آگہی دینا ہوگی۔

    بچوں اور نئی نسل کیلئے ڈرامے اور فلمیں بنائی جائیں۔ ان کیلئے یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹویٹر فیس بک پر تہذیب و اصلاح پر مبنی ڈاکیومینٹریز ویڈیوز نشر کی جائیں اور یہ کام وزراتِ اطلاعات و نشریات، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان بخوبی کرسکتے ہیں اور امید ھے فواد چوھدری اس پر عمل ضرور با ضرور کرینگے ان ایپلیکیشنز کو بین کرنا مسئلے کا حل نھیں انکو ریگولیٹ کرنا ان میں جو خرافات ھیں انکو دور کرنا ضروری ھی نھیں مجبوری بن چکا

  • حوا کی بیٹی .تحریر:فرح خان              

    حوا کی بیٹی .تحریر:فرح خان              

    "ایک بیٹی”                         
    بیٹی کا نام جب زباں پر آتا ہے،ایک میٹھا اور خوبصورت سا جذبہ احساس جاگ جاتا ہے۔ایسا لگتا ہے رحمتوں اور کرم کے دروازے کھول دیے گئے ہوں۔پر کئی بدنصیبوں کے ماتھے پہ پسینہ، شکن اور ٹھنڈی آہیں ہوتی ہیں۔

    "تعلیم و تربیت”                     
    وقت کا پہیہ چلتا جاتا ہے،خوش نصیب معصوم کلی جس کو والدین دنیا کے سرد گرم ہواؤں سے بچاتے، بہترین تربیت کے ساتھ اس کو مضبوط، پروقار شخصیت،بہترین تعلیم کے ساتھ پروان چڑھا رہے ہوں اپنی تربیت پہ بھروسہ کرتے اب پریکٹیکل لائف میں قدم رکھا رہے ہوتے ہیں اس امید پہ کہ انہوں نے پرورش کرتے ہوئے اچھا بیچ بویا ہے جو کبھی سوکھا درخت نہیں بنے گا۔

    "بابل کی دعائیں لیتی جا”               
    ایک مشکل دور جب اپنی بیٹی کو دل پر پتھر رکھ کر کسی اجنبی کے ساتھ رخصت کرنا،بیٹی کا بیاہ کرنا اور پھر ہر دم خوشیوں کی دعا کرنا،،،پر یہ کیا یہاں بھی کچھ کم طرف، بدترین کی تعداد ہے،،،،وہ جو رشتے کے وقت تو چاند سورج ملا دیتے ہیں،زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں،پر بعد میں طنزیہ جملوں سے بابل سے اپنے گھر تک کے سفر کو پتھریلی راہ یا پل صراط بنا دیتے ہیں۔

    "سوالیہ نشان ”                      
    ستم ظریفی اور بدبختی کی انتہا تو ان آدم کے بیٹوں پر ہے جو اس شرم و حیا کے پیکر کو خاک بنا دیتے ہیں۔
    عورت کو اشتہارات کی زینت،خبر،بے لباس بنا دیا۔
    بطور رحمت اتارے جانے والی بیٹی بےحیا یا ہوس کا نشانہ کیوں ہے؟ جبکہ عورت کا وجود اس کی عزت تو اس ہیرے کے مانند ہونا چاہیے جو کوئلے کی کان میں بھی رہ کر اپنی قیمت اور روشنی نہیں کھوتا۔
    اس دور میں عورت ایک سوالیہ نشان کیوں بن کر رہ گئی ہے،،،،،اے "حوا کی بیٹی” تلاش کر خود کو اپنے اندر تلاش کر۔

  • ‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

    ‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

    افغانستان سے امریکہ کا انخلاء کئی سوالات چھوڑ کر جا رہا ہے
    امریکا نےافغانستان سے انخلاء کا مختلف ٹائم فریم دیا پہلے 11 ستمبر 2021 پھر 14جولائی 2021 کی اور ایک کانفرنس میں اگست سے پہلے پہلے انخلاء مگر ان سب پہلے ہی نکل گیا۔
    امریکہ نے افغان جنگ میں کھربوں ڈالڑ کانقصان کیا وہاں وسط ایشائی ممالک خصوصا پاکستان نے بھی کافی معاشی نقصان اٹھایا ۔

    ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر واضح کہہ چکے ہم کامیاب نہیں ہوۓ مگر مشن اس دن مکمل ہوگیا تھا جب اسامہ بن لادن کو شہید کیا اور امریکہ کی دونسلیں اس جنگ میں لڑی اب ہم اگلی نسل کو بھی اس شکار نہیں بنائیں گے۔ افغان مستقبل کے بارے بھی کہا امریکہ ان سے مکمل تعاون جاری رکھا گا۔

    امریکہ ایک طرف اپنی ہار بھی مان رہا ہے اور جب اپنا آخری کیمپ بلگرام ائیر بیس خالی کیا تو جہاں اشیاۓ خورد نوش چھوڑ گیا وہاں جنگی سازوسامان گاڑیاں کافی مقدار اسلحہ اور پانچ ہزار طالبان جو وہاں قید تھے ان کو بھی رہا کر گیا وہ اسلحہ ساتھ نہیں لیجاسکتا تھا مگر اس کو خاکستر یاپھر افغان فورسز کے سپرد بھی کر سکتا تھا صاف ظاہرہے کہ وہ یہ سب جان بوجھ کے کرکے گیا یہ سب اور پھراشرف غنی کااچانک اپنی فیمیلی اور عزیز و اقربا کے ہمراء غائب ہوجانا افغان فورسز کے اہکاروں کا استعفے دینا اور طالبان کے ساتھ مل جانا۔

    دوسری طرف انڈیا کو اپنی فکر ہونے لگی افغانستان میں اس کے بناۓ گے ڈیم پر طالبان نے قبضہ کرلیا اس نے پنے بچاؤ کیلۓ افغان فورسز کو جنگی سازوسامان کاایک جہاز بھیج دیا ساتھ میں بھارتی میڈیا پہ یہ پرپیگنڈہ بھی جاری ہے کہ افغانستان میں طالبان کے علاوہ لشکرطیبہ اور جیش محمد بھی موجود ہیں اورفغانستان میں طالبان اور لشکر طیبہ کا اتحاد ہوگیا ہے افغانستان میں میں لشکر طیبہ کے 8000 مجاہدین موجود ہیں لشکر طیبہ اور جیش محمد افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہے ہیں
    اب بات افغانستان تک نہیں رکے گی جموں کشمیر پر بھی مجاہدین کے مضبوط ہونے کی سائے منڈلا رہے ہیں اور کشمیر ہاتھ سے جاتادکھائی دے رہا ہےتھا اسی لیۓ پری پلین گیم ہے کہ

    ایک طرف امریکہ اسلحہ طالبان کیلۓ چھوڑ گیا اوردوسری طرف بھارت کافورسز سے خیر خواہی اصل میں فورسز اور طالبان کو لڑانااور افغانستان کو خانہ جنگی کی طرف جھونکنے کا اشارہ ہے کہ طالبان یہیں مصروف رہیں کہیں ہماری طرف نہ آجائیں

    کیا پاکستان ان سب سے محفوظ رہ سکے گا اگرچہ وزیراعظم عمران خان کئی بار کہہ چکے کہ” ہم کسی پرائی جنگ کاحصہ نہیں بنے گے ” یااس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہونگے اگر مرتب ہوۓ تو نتیجہ کیا نکلے گا۔

  • ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ؛تحریر: محمد عدنان شاہد

    ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ؛تحریر: محمد عدنان شاہد

    ھمارا معاشرہ جہاں اور بہت سے مسائل کا شکار ہے وہیں پر ایک مسئلہ اچھے رشتوں کا ہے_
    وا لدین کا اپنے بچوں کے لیے اچھے اور مناسب رشتے تلاش کرنا ایک بڑا صبر آزما اور تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے_

    سب سے پہلے رشتے کروانے والوں کو پیسے بٹورنے کا موقع ملتا ہے جو ایک بے جوڑ رشتے کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جیسے یہ دنیا کا بہترین جوڑ ہو_ رشتہ دیکھنے کے لیے آنے والوں پر بے جا اسراف کے ذریعے خوب پیسہ لگایا جاتا ہے_ جبکہ آخر میں جواب کے انتظار کی اذيت سے سا رے خاندان کو گزرنا پڑتا ہے_ جس کا سب سے بڑا شکار خصوصی طور پر لڑکیاں ہوتی ہیں_ جو بار بار شو پیس کے طور پر آنے والو ں کے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور جن پر سوالوں کی بھرمار کی جاتی ہے_

    خوش قسمتی سے اگر رشتہ پکا ہو جائے تو تحفے تحائف اور رسومات کی صورت میں جو کہ فرائض سے ذیادہ اھم تصور کیے جا تے ہیں بے انتہا پیسہ اڑایا جاتا ہے خواہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے_ الغرض یہ کہ شادی ایک خوبصورت خواب ہونے کے باوجود ایک خوفناک اور ایک تکلیف دہ حقیقت بن چکی ہے_

    آج کل نفسا نفسی کا دور ہے ہمارے معاشرے میں لاتعداد مسائل نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے ان مسائل میں ایک اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی ،خوب رو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرکے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں

    دلہن بننا ہر لڑکی کا خواب ہی نہیں اسکا حق بھی ہے لیکن افسوس اسے اس حق سے محض غربت کے باعث محروم کر دیا جاتا ہے انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہم جہیز کو لعنت کو تو کہتے ہیں مگر پھر بھی لینے سے باز نہیں آتے !
    جہیز ایک لعنت ہی نہیں معاشرے کا ناسور ہے جس پر قابو پانا بہت ضروری ہے !!!

    بات ساری احساس کی ہے ، اگر ہم سب اپنی اپنی اصلاح کر لیں تو بہت جلد معاشرے سے یہ لعنت ختم کی جا سکتی ہے اور بہت سی غریب بچیوں کا گھر بس سکتا ہے !

    الله پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے. آمین

  • بچوں کی تربیت کے اصول .تحریر: ماشانور

    بچوں کی تربیت کے اصول .تحریر: ماشانور

    بچوں کو صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی ہے ترقی یافتہ دور میں جہاں آج انگلیوں کی مدد سے گھنٹوں کا کام منٹوں میں موبائل کمپوٹر پر ہوجاتا ہے وہی بہت سے رشتوں میں دوری کی وجہ یہ ٹیکنالوجی بھی ایک اہم ایشو ہے والدین بچوں پر وہ توجہ نہیں دے پارہے جو ماضی میں دی جاتی تھی اسکول سے ملنے والا کام ماں باپ خود چیک کرتے تھے آج کوچنگ پر پیسہ لگایا جارہا بہتر سے بہتر تعلیم کے لیے بڑے بڑے نامی گرامی کوچنگ سینٹرز میں بچوں کو ڈالا جاتا ہے

    والدین کی زمہ داری ہے بچوں کی تربیت بہت سے گھروں میں لڑائی جھگڑے بچوں کے زہن پر برا اثر چھوڑتے ہیں بچے وہی سیکھتے جھوٹ بولنا باتیں چھپانا ڈر کی وجہ سے کہ والد ماریں گے بچوں پر ہاتھ اٹھانا سب سے بڑی غلطی ہے اگربچے غلطی کرتے ہیں تو انھیں نصیحت اور آرام سے سمجھائیں اُسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کو کہا جائے۔ پھر بھی اگر باز نہ آئے تو تھوڑی پٹائی بھی کی جاسکتی ہے۔اگر انھیں بات بات پر سب کے سامنے ڈانٹا مارا جاے تو بچے والدین سے دور ہوجاتے یا وہ نفساتی مسائل کا شکار ہوجاتے بچوں کو پیار محبت سے سمجھانا ضروری ہے انکی تربیت کا پہلا حصہ یہی ہے کے انکے ساتھ محبت سے پیش آیا جاےماحول کا بچوں پر اثر ہوتا ہے، ممکن ہے کہ غلط ماحول کی وجہ سے بچہ کوئی غلطی کربیٹھے، تو اس صورت حال کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بچے سے غلطی کس سبب سے ہوئی؟

    اسی اعتبار سے اسے سمجھایا جائے بچے نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں ہم ان سے جس طرح پیش آئیں گے ان کی شکل ویسی ہی بن جائے گی۔بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کریں اس کی تعریف سب کے سامنے کھل کر کریں تاکہ بچے میں اعتماد پیدا ہو وہ اتنا ہی ہر کام میں آگے آگے رہیں گے زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بچوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا والدین کا کام ہے ہمیں والدین کی حیثیت سے کچھ قاعدے بنانے اور حدود مقرر کرنی ہونگی تاکہ اس پر عمل کرکے ہم اپنے بچوں کی تربیت اچھی کرکے انکو معاشرے میں بہتر انسان بناسکیں۔

  • عمران خان امریکہ کے نشانے پر. تحریر:رانا عزیر

    عمران خان امریکہ کے نشانے پر. تحریر:رانا عزیر

    1974 میں ذولفقار علی بھٹو کی زیر صدارت ایک اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی گئ، جس میں اس وقت کے نامور حکمرانوں شاہ فیصل، کرنل قذافی، صدام حسین سمیت کثیر تعداد میں سربراہوں نے شرکت کی تھی۔ اور اس وقت سے ہی یہ پوری دنیا کو پیغام دے دیا گیا کہ اب مسلم بلاک کی بنیاد رکھ دی گئ ہے اور یہ اس وقت سے ہی امریکہ کے لیے درد سر بنا ہوا تھا کہ کہیں مسلمان اکھٹے ہوکر کہیں ہمارا قلعہ ہی قمع نہ کردیں۔
    1974 میں عالمی طور پر 2 سپر پاور تھیں جو ایک دوسرے کے ہمیشہ کپڑے اتارتی رہیں اور اس وقت مسلم ممالک امریکہ کے کچھ قریب تھے. لیکن امریکہ نے ہمیشہ پوری دنیا میں دہشتگردی کی لیکن اسے کوئی کچھ نہ کہہ سکا۔
    اسلامی سربراہی کانفرنس میں جتنے بھی مسلم حکمرانوں نے شرکت کی تھی امریکہ نے چن چن کر قتل کروایا، سب سے پہلے ذولفقار علی بھٹو کو امریکہ نے قتل کروایا اور اس کا اعتراف خود سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے کیا ” ہم نے دباؤ میں آکر ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دی”
    سعودی بادشاہ شاہ فیصل کو اس کے اپنے ہی بھتیجے نے قتل کروادیا اس کے پیچھے بھی امریکہ کا ہاتھ نکلا، کرنل قذافی اور صدام حسین کو بھی امریکہ نے قتل کروادیا، کیونکہ یہ تمام لیڈرز مسلمانوں کے لیے ایک الگ بلاک تشکیل دے رہے تھے جو ان کے مفادات کیلئے عالمی فورم پر آواز اٹھاتے۔ تو امریکہ نے ان سب کو ہی ختم کردیا۔ امریکی صحافی نے یہ کہا تھا کہ بے نظیر کو قتل کروانے میں سی آئی کا ہاتھ تھا۔

    جب بھٹو کو پھانسی دی گئی اس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں جو غلطیاں کی اس کا خمیازہ ہمیں آج تک بھگتنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ نے روس کو شکست دینے کیلئے پاکستان کی مدد لی اور روس کو تاریخی شکست ہوئی اور اسی جنگ میں امریکہ نے پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا اور مفاد پرست یہ سپرپاور فائدے اٹھا کر سائیڈ پر ہوگیا۔
    اب یہی صورتحال اب دوبارہ خطے میں پیدا ہوگئی اور ایک بڑا لیڈر قائداعظم کی شکل میں موجود ہے اور امریکہ کا پلان بھی وہی نظر آرہا ہے جو پہلے اسکا بھٹو اور دیگر لیڈرز کیلئے تھا۔ اب امریکہ بری طرح افغانستان میں پھنس چکا ہے اور اسے خود ہی نہیں سمجھ آرہی کہ وہ کیا کرے اور بھارت بھی اس پورے خطے میں ذلیل و رسوا ہوگیا ہے۔ اور امریکہ اس وقت عمران خان کا جانی دشمن بنا ہوا ہے اور تاریخ گواہ ہے جو امریکہ کے آگے مسلم لیڈر کھڑا ہوا اس قتل کروا دیا گیا، امریکہ اب پاکستان کو بیک ڈور چینلز کے ذریعے آفرز کررہا ہے اور اگر پاکستان اس کے شکنجے میں آگیا تو پھر بعد میں ہمیشہ کی طرح امریکہ دھمکیاں ہی دے گا
    عمران خان نے امریکہ کو جب صاف جواب دیا تو امریکہ اب بھارت کے ساتھ ملکر پاکستان کو چاروں اطراف سے گھیرنے کی کوشش کررہا ہے اور عمران خان کی جان اس وقت خطرے میں ہے، ہمارے گمنام ہیروز اس وقت پورے ملک میں دہشتگردوں کے خلاف آپریش کررہے ہیں اور دشمن کو نیست و نابود کررہے ہیں۔

  • پاکستان میں انٹرنیٹ پر اپنی شناخت اور ڈیٹا کی حفاظت کے مسئلے .تحریر:حمیداللہ شاہین

    پاکستان میں انٹرنیٹ پر اپنی شناخت اور ڈیٹا کی حفاظت کے مسئلے .تحریر:حمیداللہ شاہین

    پاکستان میں رائج سائبر کرائم قوانین کے تحت کسی کے موبائل یا کمپیوٹر سے ڈیٹا چرانا، بری نیت سے اسے پھیلانا یا اس میں کسی قسم کی مداخلت جرم شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا تصاویر، ویڈیوز یا تحریری مواد اور کسی بھی دیگر صورت میں ہو سکتا ہے۔آج کل سائبر کرائم میں اضافے کی وجہ سے جدید دور کے معاشرے میں ہم لوگوں کا اپنی سیکیورٹی کو لے کر ایک بہت اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ اپنی معلومات اور شناخت ظاہر کرنے سے گھبراتے ہیں۔
    زیادہ تر سائبر کریمینلز مالی فوائد کے لئے سائبر کرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں، جبکہ کئی سائبر کرائمرز شوقین ہیکرز، سیاسی طور پر اختیار ملنے والے ہیکرز، یا ملازمین ہیکرز جو کمپنی کے راز تک رسائی حاصل کرنے کے لئے یا انہیں دوسری کمنیوں تک پہنچانے کے لیے اپنا حربہ استعمال کرتے ہوئے سائبر کرائم کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔
    پاکستانیوں کو اکثر کریڈٹ کارڈ فراڈ ، بنک کی معلومات فراڈ، آن لائن خرید و فروخت فراڈ، کسی کو انٹرنیٹ پہ بدنام کرنا، شناخت کی چوری، پاسپورٹ یا شناختی کارڈ کے نمبروں کی چوری اور سوشل میڈیا ایپس جیسے فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ ہیک کی شکل میں مختلف ڈیجیٹل خطرات کا سامنا ہے۔
    ہمیں ہر وقت الیکٹرانک فراڈ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہم موبائل، ای میل، یا ویب سائٹ کے ذریعے اپنی ضروری معلومات نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہمیں ایسے معاملات میں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    آن لائن جدیدسیکیورٹی مقامی ریاستوں، فوج اور تنظیموں کے لئے بھی اہم ہے کیونکہ وہ اپنے ملک اور اس کے شہریوں کے بارے میں بہت زیادہ خفیہ ڈیٹا اور ریکارڈ رکھتے ہیں۔  تاہم مختلف ملکوں کے متعدد محکموں اور تنظیموں کو ناکافی جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ڈیٹا کے تحفظ میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  حساس محکموں اور ہیکرز جاسوسوں کے دہشت گردوں کے ذریعہ خفیہ ڈیٹا یا حساس معلومات کی چوری کسی بھی ملک میں سنگین خطرہ لاحق ہوسکتی ہے۔
    لہذا ڈیجیٹل سیکیورٹی ہر محکمے کے لئے بے حد اہمیت رکھتی ہے اور یہ ہر فرد کے لئے بھی ضروری ہے۔  ڈیجیٹل خطرات کے پیش نظر صارفین کو چاہئے کہ وہ ڈیٹا کی حفاظت کے بارے میں چوکس رہیں۔  کسی بھی فرد کے لئے انٹرنیٹ کی دنیا میں پائے جانے والے مختلف قسم کے خطرات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

    انٹرنیٹ نے وسیع پیمانے پر مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن ایسے شدید خطرات ہیں جن سے بچا نہیں جاسکتا۔  فیس بک ، انسٹاگرام ، ٹویٹر ، واٹس ایپ جیسے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں پر کسی فرد کے ذریعہ شیئر کی گئی تصاویر ، ویڈیوز اور دیگر ذاتی معلومات سنگین اور حتی کہ جان لیوا واقعات کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے ان کی شناخت چوری کرکے مو بائل فون نمبر اور جعلی تصاویر لگانے کی شکایات بہت بڑھ چکی ہیں، ڈیجیٹل خطرات سے کیسے بچایا جائے اور ورچوئل دنیا اور حقیقی دنیا کے مابین فرق کو سمجھنا ہر فرد کا واحد فرض ہے۔  مثبت آن لائن ماحول پیدا کرنے کے لئے ہر فرد کو ڈیجیٹل شہری کے حقوق اور ذمہ داریوں کا پتہ ہونا چاہئے۔
    وقت کی بنیادی ضرورت ہے کہ حکومت پاکستان اور بلوچستان کو مستقبل میں ہمارے ملک سازوں کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے اسکول اور کالج کی سطح کے نصاب میں ڈیجیٹل سیکیورٹی آگاہی شامل کی جائے۔ اساتذہ کے لئے اس بارے میں اسکول کالج اور یونیورسٹیوں کی سطح پہ ورکشاپ قائم کرنے چاہئے، اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ سائبر کو اپنے شہریوں کے لئے زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لئے پاکستان سائبر کرائم ایکٹ 2016 کو اعلی جذبے سے نافذ کیا جائے۔کچھ عرصے سے انٹر نیٹ کی دنیا میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کے لئے جدید ترین طریقے اپنائے جانے کے بعد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ پاکستان میں اس حوالے سے ٹھوس اور پائیدار قانون سازی عمل میں لائی جائے ۔

    پاکستان دنیا کے ان 42ممالک میں شامل ہے جن کے پاس سائبر کرائم کے لئے کسی نہ کسی شکل میں قانون ہمیشہ سے موجود رہا ہے ۔اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے اس حوالے سے قانون میں سقم اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے جیسے خدشات سامنے آئے ہیں ۔ تاہم ہمارے ملک میں آزادی اظہار کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو تمام قواعد و ضوابط سے مبرا ہو کراستعمال کیا جاتا رہا ہے جس کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔
    پاکستان میں سائبر کرائم کی شکایات میں ماضی کی نسبت اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس سے جہاں یہ پتا چلتا ہے کہ ملک میں سائبر کرائم سے متعلق آگہی بڑھی ہے، وہیں اس حقیقت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ معاشرے میں سائبر کرائم بڑھ رہے ہیں۔
    حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس حوالے سے سائبر کرائم ادارہ کو مضبوط بنایا جائے، انہیں ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے جبکہ تمام سوشل میڈیا ایپس اور ویب سائٹ کو اسکا پابند رکھنا چاہئے کہ بغیر کسی تصدیق کے کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا نہ پھیلایا جائے، موبائل کمیونیکیشن اور موبائل میکرز کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ ہر صارف کی نقل و حرکت اور موبائل کے استعمال پہ نظر رکھنی چاہئے۔
    حکومت کو چاہئے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم یونٹ کو بہترین اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیٹا اور ریکارڈ کی مانیٹرنگ دینی چاہئے۔
    بقلم!
    حمیداللہ شاہین

  • فتھ جنریشن سائبر وار!  تحریر : زوہیب زاہد خان

    فتھ جنریشن سائبر وار! تحریر : زوہیب زاہد خان

    دور حاضر میں سوشل میڈیا نے انسانی زندگیوں میں بہت بڑا انقلاب برپا کردیا ہے۔ ہزاروں اور لاکھوں میل بیٹھے لوگوں سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو ایک چھوٹی سی گلوبل ولیج بنادیا ہے۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کو اظہار رائے بیان کرنے کیلئے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کردیا ہے۔ اسی تناظر میں سوشل میڈیا کو ڈیجیٹل میڈیا بھی کہا جاتا ہے۔

    ففتھ جنریشن سائبر وار!
    آجکل سماجی رابطے کی ویب سائیٹس فیس بُک اور ٹوئٹر پر بہت زیادہ پروپیگنڈے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ افراد، سیاسی جماعتوں حتی کہ دو مختلف ملک بھی ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر پروپیگنڈے میں مشغول نظر آتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو سوشل میڈیا پر دو مختلف نظریات اور سچ رکھنے والے عناصر کا ٹکراو ہوتا ہے۔ کہیں افواہیں پھیلائی جارہی ہوتی ہیں. کہیں ان افواہوں کی تردید کی جارہی ہوتی ہے۔ اسی قسم کی کشمکش چلتی رہتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر اس طرح کے جھوٹے اور منفی پروپیگنڈے کو ایک موثر حکمت عملی سے کاؤنٹر کیا جاتا ہے۔ جہاں دلیل اور ثبوتوں کے ساتھ منفی پروپیگنڈے کا جواب دیا جاتا ہے. سوشل میڈیا کی اس جنگ کو ففتھ جنریشن سائبر وار کہتے ہیں۔

    بیرونی دشمن قوتیں ہمارے ملک میں عدم استحکام پھیلانے کیلئے کبھی ہمارے دین اسلام اور مقدس مذہبی ہستوں کے خلاف اپنا زہر اگلتی ہیں. کبھی ہمارے ملک پر الزام تراشی کرتی ہیں۔

    الحمدالله! پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ دشمن قوتوں کے ہر قسم کے منفی پروپیگنڈے کا بخوبی جواب دیتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹس کا مقصد ہی دین اسلام اور ملک پاکستان کا دفاع کرنا ہے۔ دین اسلام اور وطن عزیز پاکستان سے بڑھ کر ہم پاکستانیوں کی کچھ نہیں ہے۔

    بلاشبہ آج کے دور میں ہر پاکستانی مسلمان سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ کو اس قابل ہونا چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال دین اسلام اور ملک پاکستان کے دفاع کیلئے کرے۔ ہر سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ کو ففتھ جنریش سائبر وار کے متعلق بخوبی آگاہی ہونی چاہیئے۔

    الله پاک مجھ سمیت ہر پاکستانی کو سوشل میڈیا کو دین اسلام اور وطن پاکستان کے دفاع کیلے استعمال کرنے کی توفیق عطاء فرمائے. آمین! (جزاک اللہ)

  • افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    اگر میں کہوں کہ افغانستان عالمی طاقتوں کا قبرستان ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ روس اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا اور سر دھڑ کی بازی لگا کر بھی کامیاب ہونے میں ناکام رہا ہے ۔ امریکا آیا اور پوری دنیا کی ٹیکنالوجی کے ساتھ افغانیوں پر بم گرائے ۔ مختلف حیلوں بہانوں ، دھمکیوں اور لالچ سے دنیا کے تقریباً سبھی ممالک کو ساتھ ملا کر طالبان کو الگ کردیا ۔ امریکا مکمل ناکام نہیں ہوا تو کام یاب نہیں ہوپایا ۔ ان بیس سالوں میں جہاں افغانیوں کو لاتعداد نقصان ہوا ہے وہی پر امریکا کا اس قدر نقصان ہوچکا ہے کہ اس نے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی ہے ۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لمبے لمبے دور چلتے رہے اور بخیر و عافیت نکلنے کے راستے امریکا تلاش کرتا رہا ۔
    ایسے میں بھارت بھی اپنے مذموم مقاصد کو لے کر امریکا کے ساتھ آکھڑا ہوا اور پاکستان کے خلاف افغانی زمین کو استعمال کرتا رہا ۔ اربوں روپیہ افغانی زمین پر بھارت سرکار نے لگایا اور اپنے قدم جمانے لگا ۔ بھارت کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ امریکا کو اس طرح سے بھاگنا پڑے گا ۔ امریکا کے انخلا کے بعد بھارت جیسے ممالک افغانستان میں ٹک نہیں سکتے ۔ طالبان جس تیزی سے افغانستان کی زمین پر قابض ہورہے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ جلد وہ کابل پر بھی قابض ہوں گے۔ کابل پر قابض ہونے کا مطلب پورے افغانستان پر قابض ہونا ہے ۔ ہر ایسے عنصر پر طالبان کی نظر ہوگی اور ان کے نشانے پر ہوگا جو گھناونے عزائم لے کر افغانستان کی سر زمین پر حملہ آور ہوا تھا ۔ بھارت بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ رہا ہے لیکن اس بھاگنے کے ساتھ ساتھ وہ سازشوں میں بھی مصروف عمل ہے اور ڈبل گیم کھیل کر افغان انتظامیہ کو مزید مشکلات میں مبتلا کررہا ہے ۔

    اس وقت افغانستان میں بھارت کی حالت یہ ہے کہ قندھار سے اس کا تمام سفارتی عملہ اور را کے تمام ایجنٹ فرار ہوچکے ہیں اور قندھار میں واقع قونصل خانہ بند کردیا گیا ہے ۔ بھارت قندھار سے اپنے عملے کے نکالے جانے کی تصدیق تو کررہا ہے لیکن قونصل خانہ بند کرنے کی تردید کی گئی ہے ۔ اگر افغانستان میں بھارتی قونصل خانہ بند ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بھارت افغانستان کے معاملات سے مکمل طور پر باہر ہوگا ۔ اسی لیے بھارت ڈبل گیم کھیل کر طالبان اور افغان حکومت کو باہمی لڑوانے کے چکروں میں ہے ۔

    عالمی طاقتیں جو افغان امن عمل میں براہ راست شامل ہیں وہ بھی بھارت کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں اور فی الوقت دیکھ رہے کہ بھارت کیا کررہا ہے ۔ بھارت کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر اس کی موجودہ گیم ناکام ہوتی ہے تو طالبان کا اگلا ہدف کشمیر ہوگا اور بھارت کے وہ علاقے ہوں گے جن پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ طالبان نے اگر بھارتی چالوں سے تنگ آکر امریکا سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیا تو امریکا بھارت سے سختی سے نمٹنے پر مجبور ہوگا کیوں کہ امریکا کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ وہ اپنے فوجیوں کو مزید مروائے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہوگا کیوں کہ اگر افغان امن عمل خراب ہوتا ہے تو اس کی تپش صرف پاکستان اور افغانستان تک نہیں رہ گی بلکہ اس بار اس کی تپش کے ساتھ اس کے شعلے واشگٹن، لندن اور پیرس سمیت دیگر مغربی ممالک کے بڑے شہروں تک پہنچیں گے ۔

  • بنجوسہ جھیل پر لوگ مریم نواز کو دیکھ کر خوش ہو گئے،محبت کے اظہار کے لئے "آئی لو یو” کے نعرے

    بنجوسہ جھیل پر لوگ مریم نواز کو دیکھ کر خوش ہو گئے،محبت کے اظہار کے لئے "آئی لو یو” کے نعرے

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اس وقت آزاد کشمیر میں موجود ہیں –

    باغی ٹی وی : مریم نواز آزاد کشمیر میں ایک طرف وہ انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں وہیں آزاد کشمیر کے خوبصورت مقامات سے بھی لطف اندوز ہو رہی ہیں۔

    مریم نواز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کافی متحرک ہیں مریم نواز کی جانب سے ٹوئٹر پر آج بنجوسہ جھیل کے مقام سے خوبصورت تصاویر شئیر کی گئی ہیں جنہیں صارفین کی جانب سے خوب پسند بھی کیا جا رہا ہے۔


    مریم نواز نے شئیر کی گئی تصاویر میں پیلے رنگ کا جوڑا زیب تن کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ کی طرح دلکش دکھائی دے رہی ہیں-

    مریم نواز کا تصاویر شئیر کرتے ہوئے کہنا ہے یہاں ہر منٹ میں تازگی مل رہی ہے۔


    ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز نے لیگی رہنما پرویز رشید کے ساتھ بھی تصویر شئیر کی اور انہیں اپنا ’بڈی ‘ قرار دے دیا۔


    بنجوسہ جھیل پر سیر کے لیے آئے لوگ بھی مریم نواز کو دیکھ کر خوش ہو گئے کراچی سے آئے سیاحوں نے مریم نواز کو اپنے درمیان دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا جب کہ مریم نواز نے بھی ان سے گپ شپ کی۔

    مریم نواز کے لیے لوگوں نے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ’ لو یو‘ کے نعرے بھی لگائے جبکہ مریم نواز نے ’آئی لو یو ٹو ‘ کہہ کر چاہنے والوں کی محبت کا جواب دیا۔


    اس موقع پر نائب صدر ن لیگ مریم نواز کے ہمراہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر بھی موجود ہیں۔