Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مشکل کشا صرف رب کی زات.تحریر: ارم رائے

    مشکل کشا صرف رب کی زات.تحریر: ارم رائے

    صرف عقل و شعور والوں کے لئے۔
    کیا اللہ کے سوا کوئی اور مشکل کشا حاجت روا یا مشکلات حل کرنے پر قادر ہے؟
    اکثر مذہبی حلقوں میں یہ بحث سر اٹھاتی ہے کہ کیا اللہ کے سوا کوئی غیر اللہ مشکل حل کرسکتا ہے؟ یا صرف اللہ ہی اس پر قادر ہے؟ دونوں فریقین میں سے کوئی بھی قائل نہیں ہوتا،جب ایک ذی شعور انسان کے ذہن میں یہ سوال اُبھرتا ہے تو وہ اس سوال کو مختلف پہلووں سے جانچتا اور پرکھتا ہے کہ کس طرح اللہ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل کشا ہو سکتی ہے اس سوال کی مختلف صورتیں ہیں۔

    مثلا کسی انسان کو ایک مشکل کا سامنا ہے وہ چاہتا ہے کہ میری مشکل دور ہو، وہ اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو پکارنا چاہتا ہے جو اس کی مشکل دُور کر دے اب ۔۔
    1۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل حل کر سکتی ہے تو بتایئے کہ انسان اور مشکل کُشا کے درمیان ہزاروں میلوں کی دُوری پر وہ زندگی میں یا زندگی کے بعد قبر میں آواز سُن سکتا ہے؟
    2۔ بالفرض یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اتنے فاصلوں سے بھی آواز سُن سکتا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ دنیا کی ہر زبان سے واقف ہے یا نہیں مثلاً سرائیکی والا سرائیکی میں مشکل پیش کرے گا، جرمن جرمنی زبان میں، انگریز انگریزی میں اور پٹھان پشتو میں آواز دے گا
    3۔ اگر یہ بات بھی ثابت کر دی جائے کہ وہ ہستی ہر زبان سے واقف ہے تو پھر سوال پیدا ہو گا کہ اگر ایک لمحہ میں سینکڑوں یا ہزاروں لوگ اپنی مشکلیں اس کے سامنے پیش کریں تو کیا وہ ان سب کی مشکلات اسی لمحہ سُن اور سمجھ لے گا؟ یا اس کے لیے قطار بنانے کی ضرورت پیش آئے گی ؟
    4۔ کیا اس ہستی کو کبھی نیند بھی آتی ہے یا وہ ہمیشہ جاگتی رہتی ہے؟ اگر کبھی نیند آتی ہے تو ہمارے پاس ایک ٹائم ٹیبل ہونا چاہیئے کہ کب اس کو نیند آتی ہے اور کب وہ جاگ رہی ہوتی ہے تاکہ ہم اپنی مشکل صرف اسی وقت پیش کریں جب وہ ہستی جاگ رہی ہو ، یا وہ نیند میں بھی سنتی ہے؟
    5۔ ایک دوسرا انسان ہے جو بولنے سے قاصر ہے، وہ ایسی مشکل میں مبتلا ہے کہ اس کا گلا بند ہو چکا ہے، اگر وہ دل ہی دل میں اپنی مشکل پیش کرے تو کیا وہ ہستی اس کی دلی فریاد بھی سُن لے گی ؟
    6۔ انسان کو پیدائش سے لے کر موت تک چھوٹی بڑی تمام مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اگر اللہ تمام مشکلات حل کر سکتا ہے تو پھر غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر غیر اللہ ان تمام مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہے تو پھر اللہ کی کیا حاجت ہے؟
    7۔ اگر غیر اللہ مشکل کُشا یا مشکلات حل کرنے پر قادر نہیں، تو ہو سکتا ہے کہ کچھ مشکلات حل کرنے کا بیڑا اللہ نے اُٹھایا ہوا ہو اور کچھ مشکلات حل کرنے کے اختیارات اس نے کسی غیر کو دے رکھے ہوں، ایسی صورت میں تو ہمارے پاس یہ فہرست ہونی چاہیئے کہ کون کون سی مشکلات اللہ تعالیٰ حل کرنے پر قادر ہے اور کون کون سی مشکلات غیر اللہ حل کرسکتا ہے تاکہ مسائل اور مشکلات اسی کے سامنے پیش کر سکیں جو اس کو حل کرنے پر قادر ہو
    8۔ کیا اللہ کے سوا جو ہستی مشکل سے نکال سکتی ہے وہ مشکل میں ڈال بھی سکتی ہے یا اس کی ڈیوٹی صرف حل کرنے پر ہے؟ اگر وہ مشکل حل کر سکتی ہے تو پھر مشکل میں ڈالنے والا کون ہے؟
    9۔ بالآخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ مشکلات میں ڈالنے والا ہے اور غیر اللہ مشکل حل کرنے والا ، بالفرض ایک ہستی مشکل میں ڈالنے والی ہو اور دوسری مشکل حل کرنے والی تو دونوں میں سے کونسی ہستی اپنا فیصلہ واپس لے لے گی؟
    10۔ کسی بھی برگزیدہ یا گناہ گار ہستی کا جنازہ پڑھنا ہو تو اس کی بخشش کے لئے اللہ کو آواز دی جائے گی یا مشکل کشا کو؟

    ساری دنیا کے انسان مل کر بھی آپ کو کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے، ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی آپ کو عزت یا ذلیل نہیں کر سکتے ، ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی آپ کے لئے مشکل یا آسانی پیدا نہیں کر سکتے مگر صرف اللہ ،بے شک وہ یکتا ہی مشکل کشا ہے۔اسکے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔کسی غیر الله کی گنجائش نہیں ہے اس لیے مانگنا صرف اللہ سے ہےلیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ جو لوگ صوفیاء کرام اور اولیاء کرام کے کمالات کی وجہ سے انکو نعوز باللہ مشکل کشا یا دینے والے کا درجہ دیتے ہیں تو یہ شرک اور گناہ عظیم ہے۔لیکن ان بزرگان دین کو گالی نہیں دی جا سکتی جو لوگ انکو گالی دیتے ہیں وہ بھی اتنے ہی گنہگار ہیں جتنے ان سے مانگنے والے۔ آپ غیر جانبداری سے ان تمام اولیاء کرام کو پڑھیں انکی تعلیمات کو پڑھیں تو آپ کو صرف واحدنیت ملےگی۔ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیمات ملیں گی۔ کس طرح اپنی زات کی نفی کر کے دوسروں کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے ملےگا۔ انکے قبروں کو جن لوگوں نے پیسہ بنانے کا زریعہ بنایا وہ انکی تعلیمات کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں اسلام پھیلا ہی ان بزرگان دین کی وجہ سے ہے۔ آئیں ان سے مانگنے کے بجائے انکی تعلیمات پر عمل کریں پھر ان شاء الله ہماری دنیوی زندگی بھی کامیاب ہوگی اور آخروی بھی۔

  • فاشزم (فسطائیت). تحریر :عمر خان

    فاشزم (فسطائیت). تحریر :عمر خان

    فاشزم (فسطائیت) لاطینی لفظ "فاشیو” سے اخذ کیا گیا ہے جس کا لفظی معنی "ایک بنڈل” ہے، قدیم روم میں سول مجسٹریٹ کے پاس ڈنڈوں کا ایک بنڈل ہوتا تھا وہ گلیوں بازاروں میں پھرتا اور اگر کوئی شہری قانون کی خلاف ورزی کررہا ہوتا تو اس کو سزا کے طور پر ان ڈنڈوں سے پیٹا جاتا۔
    فسطائیت (Fascism) آمریت کی ہی ایک شکل ہے ، یعنی ایک پارٹی یا ایک فرد کی حکومت۔ فاشزم ایک ایسا نظام حکومت ہے جس کی قیادت ایک آمر کرتا ہے جو سیاسی مخالف کو جبر و تشدد سے دبائے ، صنعت و تجارت پر مکمل کنٹرول کرے اور قوم پرستی یا نسل پرستی کو فروغ دے کر اپنی آمرانہ حکمرانی برقرار رکھے۔
    فاشزم کی واضح مثال اٹلی کا حکمران "بینیتو موزولینی” اور جرمنی کا حکمران ” ایڈولف ہٹلر” رہے ہیں۔
    اگرچہ فاشسٹ جماعتیں اور تحریکیں ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف تھیں ، لیکن ان میں بہت سی خصوصیات مشترک تھیں جن میں انتہائی شدت پسندانہ رویہ، انتہائی عسکریت پسندانہ قوم پرستی ، سیاسی و ثقافتی آذادی کی توہین ، قدرتی معاشرتی درجہ بندی اور اشرافیہ کی حکمرانی کا اعتقاد شامل ہیں۔

    • نیشنلزم (قوم پرستی)

    نیشنلزم (قوم پرستی) لفظ Nation (قوم) سے
    اخذ کیا گیا ہے۔ قوم کا مطلب انسانوں کا ایسا گروہ جن میں ثقافت ، نسل ، جغرافیائی محل وقوع ، زبان ، سیاست ، مذہب یا روایات پرستی میں سے کوئی ایک بھی قدر مشترک ہو ۔
    18 ویں صدی سے پہلے کچھ مخصوص ادوار میں خاص طور پر جنگ ،تناؤ اور تنازعات کے دوران مختلف سلطنتوں میں مخصوص گروہوں یا علاقائی اکائیوں کے اندر قومی احساس کے جذبات اور سوچ موجود تھی۔ 18 ویں صدی میں تہذیب کو قومیت کا تعین سمجھا گیا۔ اس سے قبل کسی بھی سلطنت کے عوام کی پہچان بادشاہ یا حکمران کے نام سے ہوتی تھی ، عوام نے بادشاہ کو قوم کا مرکز بنائے رکھا تھا۔ قوم پرستی کی آئیڈیالوجی نے واضح کیا کہ بادشاہ قوم یا ریاست نہیں ہے۔ ریاست عوام کی قومی ریاست ، آبائی وطن یا مادر وطن ہے۔ جب ریاست کی شناخت قومی تہذیب سے ہوئی تب ریاست قوم کی پہچان بن گئی۔ مثال کے طور پر تب یہ اصول پیش کیا گیا تھا کہ لوگوں کو صرف ان کی اپنی مادری زبان میں ہی تعلیم دی جاسکتی ہے ، نہ کہ دوسری تہذیبوں کی زبانوں میں۔

    سلطنتوں کے زیر اقتدار بڑی مرکزی ریاستوں نے لسانی ، ثقافتی ، علاقائی یا مذہبی شناخت کے طور خود کو ایک قوم میں متحد کیا اور پرانے جاگیردارانہ ، آمرانہ ، شخصی حکمرانی سے آذادی حاصل کی۔ ان قومی ریاستوں نے عوام کی ذاتی زندگی اور تعلیمی نصاب کی سیکولرائزیشن کی جس سے عام زبانوں کو فروغ ملا، اور چرچ یا مذہبی شخصیات کے تسلط کو قومی ریاست کی حکومت سے الگ کیا۔ تجارت میں اضافے اور معاشی ترقی نے قوم پرست آئیڈیالوجی میں نئی روح پھونک دی۔اس ترقی نے ان تصورات کا مقابلہ کیا جو صدیوں تک سیاسی فکر اور شہری آزادی پر حاوی تھے
    امریکی اور فرانسیسی انقلابات کو اس کا پہلا طاقتور مظہر سمجھا جاسکتا ہے۔ نیشنل ازم 19 ویں صدی کے شروع میں وسطی یورپ میں اور صدی کے وسط تک مشرقی اور جنوب مشرقی یورپ میں پھیلا۔ 20 ویں صدی کے آغاز میں ایشیاء اور افریقہ میں بھی قوم پرستی پھیل گئی۔ اس طرح 19 ویں صدی کو یورپ میں قوم پرستی کا دور کہا جاتا ہے ، جبکہ 20 ویں صدی میں پورے ایشیاء اور افریقہ میں طاقتور قومی تحریکوں کے عروج اور جہدوجہد کا آغاز ہوا۔
    مذہبی قوم پرستی کی بنیاد پر بنی ریاست پاکستان اور لسانی نسلی بنیاد پر بنگلہ دیش کا قیام بھی قوم پرستی کی واضح مثالیں ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر قوم کے پاس ایک مخصوص علاقائی ریاست ہو مثال کے طور پر فلسطینوں کے پاس ریاست نہیں ہے لیکن وہ ایک قوم کی شناخت رکھتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی ریاست منقسم ہے لیکن اس ریاست کے شہری ایک قوم ہی جانے جاتے ہیں۔

    •حب الوطنی (Fascism)

    حب الوطنی (Patriotism) کسی ملک ، قوم یا سیاسی جماعت سے وابستگی وفاداری اور محبت کا نام ہے ۔ حب الوطنی (ملک سے پیار) اور قوم پرستی (کسی ایک قوم سے وفاداری) کو اکثر مترادف سمجھا جاتا ہے جبکہ ان دونوں میں واضح فرق ہے۔
    حب الوطنی وطن سے محبت جبکہ نیشنل ازم ایک قوم کی عکاس ہے

    #عمر نامہ

  • انسان اور انسان سے جڑے رشتے.تحریر : ریحانہ جدون

    انسان اور انسان سے جڑے رشتے.تحریر : ریحانہ جدون

    انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اپنے ساتھ رشتوں اور تعلق کا ایک سلسلہ لے کر آتا ہے, والدین , بہن بھائی, دادا دادی, نانا نانی, وغیرہ
    پر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے تو تعلق کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے جن میں دوست, اسکول فیلوز پارٹنر وغیرہ شامل ہوجاتے ہیں.
    کوئی انسان خوش نصیب ہوتا ہے کہ اسکو مخلص اور وفادار دوست مل جاتے ہیں اور کوئی کی زندگی اس نعمت سے خالی ہوتی ہے.
    رشتے اور تعلق کے اعتبار سے اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمیں دو طرح کی انتہا ملتی ہیں. ایک انتہا وہ ہے جس میں انسان سب رشتوں سے لاتعلق بن جاتا ہے اور صرف اپنی دنیا بسا لیتا ہے اور دوسری انتہا یہ کہ انسان اپنے دوستوں کو اپنی دنیا سمجھنے لگتا ہے.
    یہ دونوں صورتیں ایک انسان کو معیاری زندگی سے دور لے جاتی ہیں.
    بعض دفعہ ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے تعلقات کو اپنے رشتوں پہ فوقیت دینے لگتا ہے اور اسطرح اپنے رشتوں سے بےحس ہوجاتا ہے.
    وہی رشتے جو پیدا ہوتے ہی اپنے ساتھ لے کے آ یا ہوتا ہے.
    ایک مثال دیتی ہوں..
    جن بہن بھائیوں کے ساتھ میں کھیل کود کے بڑا ہوا ہوتا ہے, دن میں 50 بار ان سے لڑ جھگڑ کے ایک دوسرے کو مار پیٹ کے) رات کو پھر ایک ساتھ ایک دسترخوان پہ اکٹھے بیٹھے ہوتے ہیں.
    ایسی کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے ان رشتوں سے دوری اختیار کرلیتا ہے ؟؟
    میرا جانا ایک گھر ہوا وہاں کچھ دیر باتوں باتوں میں پتا چلا کہ چار بہنیں ہیں ایک بھائی ہے ( جو انکو چھوڑ چکا ہے)
    اس عورت کی زبانی کے ماں کی وفات بہت پہلے ہوگئی تھی اور بابا نے دوسری شادی نہیں کی ہم بہن بھائی کو پالا.
    بھائی سب سے چھوٹا تھا اس لئے بہت لاڈلا بھی تھا. دو بہنوں کی اور بھائی کی شادی ہوگئی ایک دن باپ نے اپنی 3 دکانیں ایک گھر بھائی کے نام کردیا اور بھائی کو بیٹھا کے کہا کہ تمھارا حصہ میں نے اپنی زندگی میں دے دیا ہے اب یہ گھر رہ گیا ہے یہ گھر میری چارو بیٹیو کو دونگا.
    یہ سن کے بیٹا غصے میں آ گیا اور کہا کہ بہنوں کو کیوں دوگے یہ بھی میرا ہے..
    اس بات پہ باپ بیٹے کی بحث اس حد تک بڑھ گئی کہ بیٹا اپنی بیوی کو لے کے لاہور شفٹ ہوگیا.
    باپ کو فالج ہوا اسکی بیماری میں بھی باپ کو ملنے نہ آ یا اور 4 سال تک وہ بستر پر رہا…
    اس دوران اسکو بیٹیاں ہی سنبھالتی رہی اور پھر ایک دن باپ فوت ہوگیا باپ کی فوتگی کی خبر بیٹے کو دی گئی مگر وہ باپ کے جنازے کو کندھا دینے تک کو نہ آ یا.

    جیسے جیسے وہ عورت داستان سنا رہی تھی کہ آ نسو میری آنکھوں سے نکل رہے تھے اور بار بار ایک ہی سوال میرے زہن میں گونج رہا تھا کہ کیا پیسہ, جائیداد اتنی قیمتی ہوجاتی ہے کہ اپنے رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ؟؟؟
    یا شاید اس اولاد کی بدقسمتی تھی کہ دنیا میں ہی اپنی جنت اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا..
    ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی انسان ایک دم اتنا بےحس, بے درد نہیں ہوجاتا جب تک خود اسکے ساتھ ایسا مسلسل نہ ہورہا ہو جو اسکی برداشت سے باہر ہوگیا ہو….
    پر میرے خیال میں رشتوں کو برداشت نہیں کیا جاتا انکو نبھایا جاتا ہے اپنا فرض سمجھ کے.
    پر جب دُنیاوی محبت انسان پہ حاوی ہو جائے تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا…

    لوگوں کے اس جنگل میں ہر طرح کے لوگوں سے آ پکا واسطہ پڑا ہوگا یا پڑ سکتا ہے بعض دفعہ آ پکو ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو بظاہر بڑے نیک, خوش اخلاق ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے..
    یاد رکھیں عظیم انسان وہ ہے جو اپنے ساتھ جڑے رشتوں کو کبھی نہیں چھوڑتا .
    اور ماں باپ کو تو کبھی بھی نہیں..
    خدارا اپنے تعلقات نبھائیے پر اپنے رشتے بھی مت توڑیں..
    دنیا کی عیش کی زندگی کی خاطر ان قیمتی رشتوں سے خود کو محروم نہ کریں.
    عارضی چیزوں میں سکون تلاش کرنے کی بجائے اللہ کی رضا میں خوش رہنا سیکھیں اللہ کی محبت تمھیں بھٹکنے نہیں دے گی.
    اس محبت میں اتنی طاقت ہے کہ اللہ کے ایک حکم پر عمل کرنے کے لیے انسان اس فانی دنیا سے لڑ جاتا ہے وہی کام کرنے لگتا ہے جو اللہ کو پسند ہو جب اسے اللہ کی رضا میں رہنا آ جاتا ہے تو پھر ہر طرف سکون ہی سکون,
    دنیا کی محبت دنیا کے تعلقات ایک سائیڈ کرکے اللہ کے بتائے راستے پر چل کے تو دیکھو ہر طرح کی ڈپریشن سے آ زاد ہوجائیں گے
    امید ہے یا شاید آ پ میرا پیغام سمجھ گئے ہونگے

  • برہان مظفر وانی شہیداور مقبوضہ جمو ں وکشمیر تحریر: محمد اختر اسلم

    برہان مظفر وانی شہیداور مقبوضہ جمو ں وکشمیر تحریر: محمد اختر اسلم

    برہان مظفر وانی شہیداور مقبوضہ جمو ں وکشمیر

    تحریر: محمد اختر اسلم

    جہاں پودں سے نکلتے ہیں خون کے آنسو، وہاں انسان رہتے ہیں اِسے کشمیر کہتے ہیں؛کشمیر کی آزادیِ جدوجہدمیں برہان مظفر وانی کا نام وہ سنہری باب ہے جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔شہیدوں کی سر زمین جنت نظیر وادیِ کشمیر کے اِس بہادر سپوت نے آزادیِ جدوجہدکو ایک نئی سمت دے کر وہ کارنامہ سر انجام دیاجو تاریخ کے ورقوں میں تاقیامت یاد رکھاجائے گا۔ برہان وانی کی شہادت وہ موقع تھا جس نے کشمیری نوجوانوں کو بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے سامنے تحریکِ مزاحمت کو تیز کرنے کا بھرپور جواز دیا۔برہان وانی کی عمر 21 برس تھی، اِن کا تعلق ترال کے شریف آباد گاؤں کی ایک اعلیٰ تعلیم ِ آفتہ گھرانے سے تھا، اِن کے والد مظفر وانی پیشہ کے اعتبار سے اسکول پرنسپل تھے۔برہان وانی نے دورِ جدید کی سماجی رابطہ ویب سائٹ کے زریعے کشمیری نوجوانوں کو یکجاء کیا اور تحریک ِ ّآزادی کو تقویت دی۔کشمیر کی آزادی کے خواہاں دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے برہان وانی ایک رول ماڈل ہے۔ وادی کے ہر بچہ کی طرح برہان وانی بھی بچپن ہی سے بھارتی مظالم کے خلاف تھے۔ کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلے نوجوان تھے جنہوں نے نہ صرف مسلۂ کشمیر کو سماجی رابطہ ویب سائٹ پر اجاگر کیا بلکہ تحریکِ آزادی کو ایک نئیجہت دی۔قابض بھارتی فوج نیبرہان وانی کی نوجوانوں میں بڑھتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے تحریک ِ ّآزادی کو دہشتگردی سے منسوب کرنا شروع کر دیا جو سلسلہ بتدریج جاری ہے۔ 8 جولائی 2016 بروز جمعہ کی سہ پہر برہان اور اُن کے دو ساتھی ککرناگ سے متصل ایک گاؤں بمڈور کی مقامی مسجد میں نمازِ عصر کرنے کے بعد جونہی باہر نکلے، قابض افواج نے اِن کو محاصرے میں لے کر شہید کر دیا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد جو ردِعمل آیا وہ اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جو لاوا پک رہا ہے وہ کسی بھی وقت جنوبی ایشیا کو ایک جوہری تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے،دوسری جانب کشمیری عوام آج 2021 میں بھی اپنی آزادی کیلئے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں کشمیرمیڈیا سروس کے مطا بق برہان وانی کی شہادت سے اب تک بھارت 1,414 کشمیریوں کو شہید،26,823معصوم کشمیری گرفتار اوراب تک جعلی مقابلوں کی آڑ میں 4,335گھروں اور دُکانوں کو مسمار کر کے کشمیریوں کا معاشی قتل، 119 سہاگنوں کا سہاگ اجاڑا جا چُکاہے اور 254کشمیری بچوں کے باپ کاسایہ اُن کے سروں سے چھین لیا گیا ہے۔ بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں اب تک 1,051کشمیری خواتین اجتمائی حوِ س کا نشانہ بن چُکی ہیں جبکہ 2000زاہدکشمیریوں کو آنکھوں کی بینائی سے محروم کیا جا چُکا ہے ۔ اِن تمام ظلم و جبر کا مقصدصرف اور صرف کشمیریوں کو اُن کے آزادی کے مطالبہ سے پیچھے ہٹا کر اپنے زیرِ تسلط رہنے پر مجبور کرنا ہے۔بھارت کے مظالم پر خاموشی عالمی انصاف کے علمبرداروں کے منہ پر ایک تمانچہ ہے۔ آج کے دورِ جدید میں بھی جمو ں وکشمیر ظلم و جبر کی ایسی نظر بن چُکا ہے جہاں بھارتی فوج کی 14،15،16 کور تعینات ہے جس کی مجموعی تعداد9لاکھ سے زاہد ہے جس کا مطلب اوسطً ہر 10کشمیریوں پر ایک فوجی تعینات ہے،یہاں یہ بات واضح رہے کہ اِس وقت مقبوضہ وادی دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ ہے اور قابض فوج ظلم وبربریت کی ایسی داستان رقم کر رہی ہے کہ وادی کی مٹی کا کوئی ایسا ٹکڑا نہیں جس میں شہید کا خون شامل نہ ہو،وہاں کوئی ندی نالہ ایسا نہیں بہتا جس میں کشمیری مسلمانوں کا خون نہ بہتا ہو، وادی کا کوئی ایسا گھر نہیں جس میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوا ہو اور کوئی ایسا شخص زندہ نہیں جو قابض فوج کے ہاتھوں تشدد کا شکار نہ ہوا ہو۔ہندوتوا سرکار کے تمام تر ظلم و درندگی کے باوجود کشمیری مسلمان آج بھی یک زبان، یک جان ہو کر سبز ہلالی پرچم ہاتھو ں میں تھامے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں، کشمیری جانتے ہیں کہ آزادیِ جدوجہد میں اُ ن کی قربانیاں اور جزبے بھارتی فوج کی بندوقوں سے زیادہ طاقت ور ہیں اور جیت ہمارا مقدر ہے کیونکہ حق اور باطل کی جنگ میں جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔ اِس وقت مقبوضہ وادی کے حالات انتہائی حساس ہیں،ایسے میں اقوامِ عالم پر زامہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوراًبھارت کی اِن خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اورکشمیریوں کے ساتھ کئے گئے حقِ خود ارادیت کے وعدے کو وفاکرے ایسے میں اگر اقوا مِ متحدہ نے کوئی پیشرفت نہ کی تو جنوبی ایشیا ایکجوہری جنگکا سامنہ کر سکتا ہے جس کہ دوردرس نتائج نا صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا پر مرتکب ہونگے۔

  • ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے والا کم عمرنوجوان کے 2 سرکرنےکیلئے روانہ

    ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے والا کم عمرنوجوان کے 2 سرکرنےکیلئے روانہ

    وزیرکھیل پنجاب رائے تیموربھٹی نے شہروزکاشف کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے، ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے والے شہروز کاشف آج K-2 سرکرنے کی مہم پرروانہ ہوں گے، شہروز کاشف حکومت پنجاب کے نوجوانوں کے خیر سگالی سفیر ہیں، ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے والے کم عمرترین پاکستانی شہروزK-2 سرکرنے والے دنیا کے کم عمرترین کوہ پیما بن جائیں گے.

    وزیرکھیل پنجاب نے کہا کہ امید ہے ماؤنٹ ایورسٹ کی طرح شہروز K-2 بھی سرکرلیں گے، شہروزآپکی ہمت، جوش وولولے پرہمیں فخر ہے، اللہ تعالی اس مہم جوئی میں آپکی مدد کرے گا، ان شاللہ آپ K-2 سر کرنے والے دنیا کے کم عمرترین کوہ پیما ہوں گے، شہروز ہمارے نوجوانوں کے لئے بہادری کی روشن مثال ہیں۔

  • کرکٹ کے شائقین کیلئے بری خبر،حارث سہیل سیریزسے باہر ہوگئے

    کرکٹ کے شائقین کیلئے بری خبر،حارث سہیل سیریزسے باہر ہوگئے

    مڈل آرڈربیٹسمین حارث سہیل ہیمسٹرنگ انجری کے باعث انگلینڈ کے خلاف سیریزسے باہر ہوگئے ہیں، بدھ کو کیے جانے والے ایم آر آئی اسکین میں انکشاف ہوا ہے کہ مڈل آرڈربیٹسمین گریڈ تھری ٹیئرکا شکارہیں، وہ گزشتہ ہفتے ڈربی میں ایک پریکٹس سیشن کے دوران اس انجری کا شکار ہوئے تھے، پی سی بی کے میڈیکل پینل نے حارث سہیل کو چار ہفتے کا ری ہیب پروگرام تجویز کیا ہے، جسے مکمل کرنے پرمڈل آرڈر بیٹسمین کی انجری کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
    انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی سیریز کے لیے قومی اسکواڈ میں منتخب ہونے والے حارث سہیل اب وطن واپس پہنچ کر نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہورمیں اپنے ری ہیب پروگرام کا آغاز کریں گے۔
    حارث سہیل کا کہنا ہے کہ وہ انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی سیریزمیں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کرکےقومی کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ مستقل بنانے کے منتظر تھے، تاہم انجری کے باعث انہیں اپنا دورہ مختصر ہونے پرافسوس ہے، مگر اب وہ لاہورواپس پہنچ کر اپنے ری ہیب پروگرام کاآغازکردیں گے، تاکہ وہ ڈومیسٹک سیزن 22-2021 کے لیے خود کو تیارکرسکیں۔
    پاکستان اور انگلینڈ کےمابین تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچز پرمشتمل سیریزکا آغاز8 جولائی کو کارڈف سے ہوگا، قومی اسکواڈ 21 جولائی کو ویسٹ انڈیز روانہ ہوگی، جہاں اسے 5 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل اور2 ٹیسٹ میچز میں شرکت کرنا ہے۔
    قومی کرکٹ ٹیم آج انگلینڈ کے خلاف پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے گی، پونے گیارہ بجے ہوٹل سے اسٹیڈیم روانہ ہوگی، دونوں ٹیموں کے مابین میچ کا آغاز دوپہر ایک بجے ہوگا، اس دوران قومی ٹی ٹونٹی کرکٹرزدوپہر 2 سے 4 بجے تک اپنا ٹریننگ سیشن کریں گے،
    نوجوان مڈل آرڈر بیٹسمین سعود شکیل آج ڈیبیوکریں گے،صہیب مقصود کی 5 سال بعد قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی ہعئی ہے، فائنل الیون میں امام الحق، فخرزمان، کپتان بابراعظم اور محمد رضوان، سعود شکیل، صہیب مقصود، شاداب خان اور فہیم اشرف، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اورحارث رؤف بھی فائنل الیون میں شامل ہیں.

  • وطن عزیز،پاکستان  .تحریر:فضیلت اجالہ

    وطن عزیز،پاکستان .تحریر:فضیلت اجالہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ،میرا وطن ،میرا حوالہ ،دنیا پہ جنت کا چھوٹا سا نظارہ ۔
    14اگست 1947 کو مانند آفتاب دنیا کے نقشے پہ طلوع ہوا
    اسلام کے نام پے حاصل کی گئ سر زمین وطن کو خدا تعالی نے ہر قسم کی رعنائ بخشی ہے ۔
    پاکستان 881913 مربع کلو میٹر کے ساتھ دنیا کا تیتیسوا بڑا ملک ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے بڑے ممالک میں پانچویں نمبر پر آتا ہے ۔
    پاکستان کے مشرق میں بھارت،شمال میں چین اور مغرب میں افغانستان ہے جبک جنوب کی طرف ساحلی پٹی ہے جو اسے بحیرہ عرب سے ملاتی ہے ۔
    پاکستان ایک ایسی خط زمین جسے اللہ تعالی نے ہر قسم کی آب و ہوا سے نوازا جس میں آپکو گرمی ،سردی ،خزاں اور بہار کا موسم ملتا ہے تو وہیں لاتعداد قدرتی مناظر انسانی آنکھوں کو رعنائ بخشتے ہیں ۔اسلام آباد کو پاکستان کا درالخلافہ ہونے کی حیثیت حاصل ہے تو وہی شہر قائد کراچی کو روشنیوں کا شہر اور عظیم ترین شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔پھر باری آتی ہے لاہور کی جسے زندہ دل لوگوں کا شہر مانا جاتا ہے۔جہاں ایک طرف عظیم تاریخی مقامات انسان کو سنہرے ماضی میں دھکیلتے ہیں تو دوسری طرف لزیز کھانے آپکو کہیں اور جانے نہی دیتے ۔
    پاکستان میں پائ جانے والی جھیلیں دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں شمار ہوتی ہیں تو وہی شمالی علاقہ جات کا حسن دیکھنے والے بے خود رہ جاتے ہیں ۔
    پاکستان کے شمالی علاقوں میں آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان ،ناران کاغان،خیبر پختنخوا اور شمال مغربی پاکستان شامل ہے ۔شمالی علاقہ جات میں قدرت کے بے شمار نظاروں کے ساتھ مختلف عمارتیں قلعے،جنگلات ،شاہرائیں اور وادیاں بھی قابل ستائش ہیں
    ۔سکردو میں پایا جانے والہ ٹھنڈا صحرا "دیو سائ” قدرت کی تخلیق کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔بلوچستان کے پہاڑی سلسلے دیکھنے والوں کو مسحور کرتے ہیں ،زیارت کوئٹہ اور گوادر کی خوبصورتی کی مثال نہی ملتی ۔
    بہاولپور کا صحرا چولستان اور ڈیرہ غازی خان کا فورٹ منرو سیاحوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتے ہیں ۔

    صوبہ پنجاب ،پانچ دریاؤں کی سرزمین ،جسے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔شمالی پنجاب اور جنوبی پنجاب ۔پنجاب میں بہت سے سیاحتی مقامات ہیں جن میں سے مری کو خاص مقام حاصل ہے تو جنوبی پنجاب میں واقع ملتان کو سر زمین اولیا ء کا درجہ حاصل ہے ۔تاریخی اور سیاحتی لحاظ سے لاہور کو اہم مقام حاصل ہے جو قدیم ثقافتی ورثہ ،تاریخ،مزہب،سیاحت اور تفریح کے حوالے سے ہر وہ کشش اپنے اندر رکھتا ہے جو ایک سیاح کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے ۔

    اسلامی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں ہر رنگ و نسل ،اور مزہب کے لوگ پائے جاتے ہیں جو پاکستان کو دلکش رنگوں کا مجموعہ بناتے ہیں اور وہی اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ پاکستا ن ایک مہمان نواز اور محبت بانٹنے والا ملک ہے ۔کرتار پور راہداری معاہدہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان اپنے اندر بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے احترام کرتا ہے ۔
    گو بہت سے اندرونی و بیرونی طاقتیں ملک پاکستان کا امن تباہ کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں لیکن افواج پاکستان،حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں کی بدولت پاکستان میں کافی حد تک امن قائم ہوچکا ہے ۔انٹرنیشنل سیاحوں اور کرکٹ کی واپسی ایک خوش آئندہ عمل ہے ۔
    تاہم ابھی بھی بہت محنت ،ہمت،عزم اور لگن کی ضروت ہے تاکہ ہمارا وطن ترقی پزیر مما لک کی فہرست میں شامل ہوسکے ۔اسکیلیے ہم سب کو باہم اختلاف بھلا کر قدم سے قدم ملا کر اور عزم و ہمت کیساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔
    اب قرض ہے ہم پر مٹی کا
    ،اس منزل کا،اس دھرتی کا
    تقدیر کریں تدبیر کریں،
    آو وطن تعمیر کریں۔

  • پاک بحریہ نے گالف چیمپین شپ کا آغاز کردیا

    پاک بحریہ نے گالف چیمپین شپ کا آغاز کردیا

    25 ویں چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن گالف چیمپیئن شپ 2021، 8 سے 11 جولائی 2021 تک کراچی گالف کلب میں کھیلی جارہی ہے، پیٹرن پاک نیوی گالف (ساوتھ)، کموڈورمحمد وقار نے آج کراچی گالف کلب میں افتتاحی تقریب سے خطاب کیا ہے، تقریب میں کمانڈر کراچی، ریئر ایڈمرل اویس احمد بلگرامی نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی ہے.
    25ویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن چیمپیئن شپ پروفیشنلز، سینئر پروفیشنلز، جونیئرپروفیشنل، امیچرز، سینئرز، ویٹرنز، لیڈیزاورجونیئرز کیٹیگریزمیں کھیلی جائے گی، پروفیشنلزاورامیچرزکے 72 ہولز میچز، جونیئرزکے لئے 18 ہولز میچز، خواتین اورسینئرزکے 36 ہولزمیچز اورویٹرنز کے لئے 9 ہولزکے میچزرکھے گئے ہیں، ٹورنامنٹ کی انعامی رقم 8.5 ملین روپے ہے، اس کے علاوہ ہول ان ون کے فاتح کے لئے” ٹویوٹا فارچیونر”اوردیگر کیٹیگریزکے فاتحین کیلئے بہت سارے مزید انعامات رکھے گئے ہیں۔
    پاکستان گالف فیڈریشن کے کیلنڈر میں قومی سطح کے گالف ایونٹ کو شامل کرنے کے لئے 1995 میں چیف آف دی نیول اسٹاف گالف چیمپین شپ کا پہلا ایڈیشن کھیلا گیا تھا، جس کے بعد یہ قومی گالف سرکٹ کا باقاعدہ اوراہم ایونٹ بن چکا ہے، چیمپین شپ کا باقاعدہ انعقاد پاک بحریہ کی قومی سطح پر اس کھیل کے فروغ کے لئے وابستگی کا مظہر ہے۔
    پاک بحریہ ہمیشہ قومی، بین الاقوامی سطح پر مختلف کھیلوں کے فروغ کے لئے سرگرم عمل رہی ہے، گالف کے علاوہ، پاک بحریہ باقاعدگی سے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کرتی رہی ہے، جس میں چیف آف دی نیول اسٹاف انٹرنیشنل اسکواش چیمپیئن شپ، چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن ہاکی چیمپیئن شپ، چیف آف دی نیول اسٹاف شوٹنگ چیمپیئن شپ اورنیشنل سیلنگ چیمپیئن شپ شامل ہیں، پاک بحریہ نے چند سال قبل انٹرنیشنل ملٹری اسپورٹس کونسل سیلنگ چیمپیئن شپ کا انعقاد کیا تھا، جس میں 12 مختلف ممالک کی فوجی ٹیموں نے حصہ لیا تھا، 2018 میں چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن ایشین ٹورگالف چیمپیئن شپ بھی اسی مقام پرمنعقد کی گئی تھی، ایسے کھیلوں کے انعقاد سے نہ صرف معاشرے میں صحت مندانہ سرگرمیاں متعارف کروانے میں مدد ملتی ہے بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا تصور ایک کھیل دوست ملک کی حیثیت سے اجاگر کرنے میں بھی مدد ملے گی، ایشین گولڈ میڈلسٹ منیرصادق، مامون صادق، ذکا اللہ، نادیہ رئیس اورکرکٹ کی دنیا کے مشہور بلے بازفخرزمان اوراولمپک کوالیفائنگ شوٹرجی ایم بشیر پاک بحریہ کے پلیٹ فارم سے بین الاقوامی سطح پرنام کمانے والے افرادمیں شامل ہیں۔
    افتتاحی تقریب میں عنبرتانیہ انصاری جنرل مینیجرمارکیٹنگ اینگروکارپوریشن لمیٹڈ، اسپانسرز، معززسول فوجی حضرات اورسینئر کھلاڑیوں نے شرکت کی ہے.

  • فیس بک کا ٹوئٹر جیسا اہم فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ

    فیس بک کا ٹوئٹر جیسا اہم فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ

    فیس بک جلد ہی ٹوئٹر کی طرح ’تھریڈ‘ فیچر متعارف کروانے جارہا ہے –

    اغی ٹی وی : ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کے مطابق فیس بک اپنے صارفین کے لیے ’عوامی شخصیات کے ایک چھوٹے گروپ کے ساتھ‘ ’تھریڈ‘ فیچر متعارف کروانے جا رہا ہے جس سے صارفین ایونٹس میں لائیو کمینٹری بھی کر سکیں گے۔

    اس بارے میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تھریڈڈ پوسٹس میں ’ویو پوسٹ تھریڈ ‘ کا بٹن بھی شامل ہوگا، جس سے فالوورز تھریڈ میں موجود تمام پوسٹوں کو باآسانی نیوی گیٹ کر سکیں گے۔

    تاہم فیس بک نے ابھی تک تھریڈ کے عوامی رول آؤٹ فیچر کے لیے تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں اور ابھی تک یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ فیس بک اس فیچر کو مزید صارفین تک وسعت دے گا یا نہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق ٹوئٹر پر محدود کریکٹرز کی وجہ سے تھریڈز بہت کارآمد ہیں اور صارفین اپنی ٹوئٹس کو مکمل کرنے کے لیے پوسٹوں کو ملا دیتے ہیں، تاہم فیس بک میں کریکڑ کاؤنٹ کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے تھریڈ مختلف طریقے سے کام کر سکتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق طویل پوسٹ کے بجائے فیس بک تھریڈز کو کسی ایونٹ میں براہ راست کمینٹری کے لیے استعال کیا جاسکتا ہے جب کہ یہ انفلوئنسرز کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

    اس بارے میں ٹیکنالوجی بلاگر اور سوشل میڈیا کنسلٹنٹ میٹ نوارا کا کہنا ہے کہ ’تھریڈ فیچر کی بدولت کسی بھی پرانی پوسٹ میں نئی پوسٹ شامل کرکے ایک تھریڈ بنائی جاسکے گی جس میں شامل تمام پوسٹس کی آڈیئنس پہلی پوسٹ کی طرح یکساں ہوگی۔

  • فضائل عشرہ ذی الحجہ اور اس میں کرنے کے کام         بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    فضائل عشرہ ذی الحجہ اور اس میں کرنے کے کام بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    فضائل عشرہ ذی الحجہ اور اس میں کرنے کے کام

    بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ
    =============

    عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَالْفَجْرِ
    قسم ہے فجر کی !
    الفجر : 1
    وَلَيَالٍ عَشْرٍ
    اور دس راتوں کی !
    الفجر : 2

    اللہ تعالیٰ جن دس راتوں کی قسم اٹھا رہے ہیں
    بہت سے مفسرین نے اس (’’ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ ‘‘) سے ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں مراد لی ہیں۔

    ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:
    "یہی تفسیر صحیح ہے”
    تفسير ابن كثير: (8/413)

    اور کسی بھی چیز کی قسم اٹھانا اسکی اہمیت، اور اسکے عظیم فوائد کی دلیل ہے

    دنیا کے ایام میں سب سے افضل دن

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «ﺃﻓﻀﻞ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ» .
    دنیا کے ایام میں سب سے افضل دن( ذوالحجہ کے) دس دن ہیں
    (ﺻﺤﻴﺢ) …
    صحیح الجامع الصغير 1133 –

    تنبیہ
    رمضان کے آخری عشرہ اور عشرہ ذی الحجہ میں تقابلی طور پر علماء اس طرح بیان کرتے ہیں کہ عشرہ رمضان کی راتیں افضل ہیں کیونکہ ان میں لیلة القدر آتی ہے اور عشرہ ذی الحجہ کے دن افضل ہیں۔

    امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن رمضان کے آخری دس دنوں سے افضل ہیں اور رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں ذوالحجہ کی دس راتوں سے افضل ہیں۔
    حافظ ابن قیم بیان کرتے ہیں کہ جب فاضل اور سمجھدار شخص اس پر غوروخوض کرے گا تو وہ اسے شافی و کافی پائے گا کیونکہ ذوالحجہ کے دس دنوں کے علاوہ ایام کے اعمال اللہ تعالی کو دس ذوالحجہ کے اعمال سے زیادہ محبوب نہیں اور ان ایام میں یومِ عرفہ،یوم نحر اور یوم ترویہ بھی ہیں(جو خاص فضیلت کے حامل ہیں)اور رمضان کی آخری دس راتیں شب بیداری کی راتیں ہیں جن میں رسول اللہﷺرات بھر عبادت کیا کرتے تھے اور ان راتوں میں شبِ قدر بھی۔چنانچہ جو شخص اس تفصیل کے بغیر جواب دے گا اس کےلئے ممکن نہیں کہ وہ صحیح دلیل پیش کر سکے۔(مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ:25؍287)

    عشرہ ذی الحجہ میں آنے والے عرفہ کے دن کی خاص فضیلت

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ ”
    "کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو،وہ(اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے:یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟”
    مسلم 3288

    ایک یہودی نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ
    يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ، لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا.

    اے امیرالمومنین! تمھاری کتاب ( قرآن ) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس ( کے نزول کے ) دن کو یوم عید بنا لیتے

    قَالَ: أَيُّ آيَةٍ؟
    آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟

    قَالَ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3]

    اس نے جواب دیا ( سورہ مائدہ کی یہ آیت کہ ) “ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا

    قَالَ عُمَرُ: «قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ، وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ»
    ” حضرت عمر نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو ( خوب ) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ( اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
    بخاري 45

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ جمعہ کا دن اور عرفہ کا دن ہمارے ہاں عید ہی مانا جاتا ہے اس لیے ہم بھی اس مبارک دن میں اس آیت کے نزول پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں، پھر عرفہ کے بعد والا دن عیدالاضحی ہے، اس لیے جس قدرخوشی اور مسرت ہم کو ان دنوں میں ہوتی ہے اس کا تم لوگ اندازہ اس لیے نہیں کرسکتے کہ تمہارے ہاں عید کا دن کھیل تماشے اور لہوولعب کا دن مانا گیا ہے، اسلام میں ہرعید بہترین روحانی اور ایمانی پیغام لے کر آتی ہے۔

    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق يوم عرفہ عید کا دین

    عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    《يوم عرفة ، ويوم النحر وأيام التشريق عيدنا أهلَ الإسلام ،و ھی ایام أكل وشرب》
    "یوم عرفہ، قربانی کا دن اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کے لیے عید ہیں اور یہ ایام کھانے پینے کے ہیں ۔
    (سنن أبي داود : ۲٤۱۹ ، سنن الترمذي: ۷۷۳ ، سنن النسائی: ۳۰۰۷، وسنده حسن)

    یہ ایسا دن ہے جس کی اللہ تعالی نے قسم اٹھائ ہے

    اورعظیم الشان اورمرتبہ والی ذات قسم بھی عظیم الشان والی چيز کے ساتھ اٹھاتی ہے ، اوریہی وہ یوم المشہود ہے جو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں کہا ہے :

    وشاهد ومشهود البروج ( 3 ) حاضرہونے والے اورحاضرکیے گۓ کی قسم ۔

    ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :

    ( یوم موعود قیامت کا دن اوریوم مشہود عرفہ کا دن اورشاھد جمعہ کا دن ہے ) اسے امام ترمذي نے روایت کیا اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے حسن قرار دیا ہے ۔

    عشرہ ذی الحجہ کے آخری دن یعنی یوم النحر کی عظمت

    سیدنا عبداللہ بن قرط ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
    إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ قَالَ عِيسَى قَالَ ثَوْرٌ وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي

    ” اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑھ کر عظمت والا دن یوم النحر ( دس ذوالحجہ ) اس کے بعد یوم القر ( ۱۱ ذوالحجہ ) ہے ۔ “ عیسیٰ نے ثور سے نقل کیا کہ یہ دوسرا دن ہوتا ہے “
    ابو داؤد 1765

    یوم القر کی وضاحت کے لیے الصحيح لابن خزيمه میں اس روایت پر یوں تبویب کی گئی ہے
    ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﺮ ﻭﻫﻮ ﺃﻭﻝ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺘﺸﺮﻳﻖ
    یوم القر کی فضیلت کا بیان اور اس سے مراد ایام تشریق کا پہلا دن ہے. 2966

    عشرہ ذی الحجہ میں بڑی بڑی عبادات جمع ہوجاتی ہیں

    اس عشرہ مبارکہ کا ایک خاص امتیاز ہے جو کسی اور عشرے کو حاصل نہیں ہے وہ یہ کہ اس میں انسان تمام بڑی بڑی عبادات بجا لا سکتا ہے
    جیسے روزے، نماز، زکوٰۃ، حج، جہاد، اور ہجرت وغیرہ
    بالخصوص حج اور قربانی دو ایسی عبادات ہیں جو اس عشرے میں ہی ادا کی جاتی ہیں

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ فتح الباری کےاندرفرماتےہیں:
    ” عشرہ ذی الحجہ کی امتیازی حیثیت کاسبب غالبایہ ہےکہ دیگرایّام کےمقابلےمیں بڑی بڑی عبادتیں مثلا:نماز، روزہ، زکاۃ اورحج ان ایام میں اکٹھی ہوجاتی ہیں”
    (فتح الباری (3/136))

    عشرہ ذی الحجہ میں نیک اعمال کی باقی دنوں کے نیک اعمال پر فضیلت

    سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    مَا مِنْ أَيَّامٍ, الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ –يَعْنِي: أَيَّامَ الْعَشْرِ-، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ, إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.
    ” اللہ تعالیٰ کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ اور محبوب ہوتا ہے ۔ “ یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں ۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں ، جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر جو کوئی شخص اپنی جان و مال لے کر نکلا ہو اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو ۔ “
    ابو داؤد 2438، بخاری 926، ترمذی

    عشرہ ذی الحجہ کے اعمال

    پہلا عمل

    تسبیحات، تحمیدات اور تکبیرات کہنا

    اس عشرہ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی، بڑائی اور حمد و ثناء بکثرت کرنی چاہئے

    اس بارے میں فرمان باری تعالی ہے:

    {لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ}

    تا کہ وہ اپنے فائدے کی چیزوں کا مشاہد ہ کریں، اور مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں[الحج : 28]

    یہاں ” أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ ” سے مراد عشرہ ذو الحجہ [ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن] ہیں۔

    ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    «ﻣﺎ ﻣﻦ ﺃﻳﺎﻡ ﺃﻋﻈﻢ ﻋﻨﺪ اﻟﻠﻪ، ﻭﻻ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻴﻪ اﻟﻌﻤﻞ ﻓﻴﻬﻦ ﻣﻦ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ ﻓﺄﻛﺜﺮﻭا ﻓﻴﻬﻦ اﻟﺘﺴﺒﻴﺢ، ﻭاﻟﺘﻜﺒﻴﺮ، ﻭاﻟﺘﻬﻠﻴﻞ»
    کوئی دن ایسے نہیں جو اللہ کے ہاں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والے ہوں اور جن میں کیا ہوا نیک عمل ان دس دنوں سے زیادہ محبوب ہو پس تم ان ایام میں اللہ کی تسبیح، تکبیر اور تہلیل بکثرت کرو
    المعجم الکبیر للطبرانی 11116
    شعب الایمان للبیھقی

    مسند احمد کی ایک روایت میں
    "والتحميد”
    کے الفاظ ہیں
    دیکھئیے ((أحمد (2/75)شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے:شرحہ علی المسند رقم (5446))”

    تسبیح کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا جیسے سبحان اللہ کہنا

    تکبیر کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنا جیسے اللہ اکبر کہنا

    تہلیل کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان کرنا جیسے لا الہ الا اللہ کہنا

    تحمید کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنا جیسے الحمد للہ کہنا

    ان چاروں اعمال و کلمات کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
    اللہ تعالیٰ کو یہ چار کلمات
    سُبْحَانَ اللَّهِ
    وَالْحَمْدُ لِلَّهِ
    وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
    وَاللَّهُ أَكْبَرُ
    سب سے زیادہ محبوب ہیں
    مسلم 2137

    مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن اعمال تولنے والے ترازو میں ان کلمات کے بہت زیادہ بھاری ہونے پر تعجب کیا ہے
    فرمایا
    مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ
    یہ (چار) کلمات ترازو میں کس قدر وزنی ہیں
    مسند احمد 15235

    پورا عشرہ ذی الحجہ تکبیرات کہنا صحابہ کرام کا مبارک عمل ہے

    صحيح بخاری میں معلق روایت ہے
    وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ يَخْرُجَانِ إِلَى السُّوقِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ يُكَبِّرَانِ وَيُكَبِّرُ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِمَا

    عبداللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ان دس دنوں میں تکبیرات کہتے ہوئے بازار کی طرف نکل جاتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ مل کر تکبیرات کہتے

    نو ذوالحجہ کی فجر سے بالخصوص تکبیرات کا آغاز :

    ابو وائل شقیق بن سلمہ الأسدی رحمہ اللہ (تابعی) بیان کرتے ہیں :

    كَانَ عَلِيٌّ يُكَبِّرُ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ غَدَاةَ عَرَفَةَ، ثُمَّ لَا يَقْطَعُ حَتَّى يُصَلِّيَ الْإِمَامُ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ بَعْدَ الْعَصْرُ.

    "سیدنا علی رضی اللہ عنہ عرفہ کی صبح ، فجر کی نماز کے بعد تکبیرات کہتے، پھر ایام تشريق کے آخری دن (١٣ ذوالحجہ کو) امام کے نماز عصر پڑھانے تک مسلسل کہتے رہتے اور عصر کی نماز کے بعد بھی تکبیرات کہتے.”

    ( المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح: ١١١٣ ، السنن الكبرى للبيهقي : ٤٣٩/٣ ح : ٦٢٧٥ وسنده حسن)

    عکرمہ مولی ابن عباس رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کرتے ہیں :

    أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ، إِلَى آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.

    "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ عرفہ کی نماز فجر سے لیکر ایام تشريق کے آخری دن (١٣ ذوالحجہ) تک تکبیرات کہتے.”

    ( مصنف ابن أبي شيبة : ٤٨٩/١ ح: ٥٦٤٦ ، المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح : ١١١٤ ، السنن الكبرى للبيهقي : ٤٣٩/٣ ح : ٦٢٧٦ وسنده صحیح)

    امام عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي رحمہ اللہ سے تکبیرات کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :
    يُكَبَّرُ مِنْ غَدَاةِ عَرَفَةَ إِلَى آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ كَمَا كَبَّرَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللہِ.

    "عرفہ کی صبح سے لے کر ایام تشريق کے آخر تک تکبیرات کہے جیسا کہ سیدنا علی اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے.”

    (المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح : ١١١٦ وسنده صحیح)

    تکبیرات کے الفاظ

    اس بارے میں معاملہ وسیع ہے کیونکہ تکبیرات کہنے کا حکم مطلق ہے

    فرمانِ باری تعالی ہے:
    (وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ)

    تا کہ تم اللہ تعالی کی اسی طرح بڑائی بیان کرو جیسے اس نے تمھیں سکھایا ہے۔
    [البقرة:185]

    اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تکبیرات کیلیے الفاظ کی تعیین نہیں فرمائی

    الغرض کوئی بھی الفاظ تکبیرات کیلئے آپ کہہ سکتے ہیں کیونکہ تکبیرات کے معین الفاظ مرفوعاً منقول نہیں ہیں۔

    البتہ صحابہ کرام سے منقول تکبیرات کے الفاظ پر پابندی کرنا بہتر ہے۔

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے تکبیرات کے یہ الفاظ منقول ہیں

    ” اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ ”

    [اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں۔ ]

    "مصنف ابن ابی شیبہ” (2/165-168)
    "إرواء الغلیل” (3/125)

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے
    "الله اكبر كبيرا الله اكبر كبيرا واجل ‘الله اكبر ولله الحمد
    اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف واسنادہ صحیح

    بیہقی (3/315) نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ الفاظ روایت کیئے ہیں
    ” اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، اَللهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اَللهُ أَكْبَرُ عَلَى مَا هَدَانَا”
    البانی رحمہ اللہ نے اسے "ارواء الغلیل” (3/126) میں صحیح قرار دیا ہے۔

    سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے
    ” الله اكبر الله اكبر كبيرا”
    کے الفاظ ثابت ہیں ۔
    ( ابن ابی شیبہ 2/168 ح5645
    السنن الکبری اللبیہقی 3/316)

    دوسرا عمل

    روزے رکھیں

    امہات المؤمنین میں سے ایک کا بیان ہے کہ
    كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ.
    رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ کے ( پہلے ) نو دن ، عاشورہ محرم ، ہر مہینے میں تین دن اور ہر مہینے کے پہلے سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے ۔
    ابو داؤد 2437

    بغرضِ ترغیب روزوں کے چند فضائل درج کر رہا ہوں تاکہ اس عشرہ مبارکہ میں روزے رکھنے کا شوق پیدا ہو جائے

    حضرت حزیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا
    فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ
    ’’آدمی کی آزمائش ہوتی ہے اس کے بال بچوں کے بارے میں، اس کے مال میں اور اس کے پڑوسی کے سلسلے میں۔ ان آزمائشوں کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ ہیں۔‘‘

    روزے جہنم کی آگ کے سامنے ڈھال ہیں
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

    اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.

    ’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘
     نسائی، السنن، کتاب الصيام، 2 :  637، رقم :  2230، 2231

    ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

    مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا 
    کہ جو شخص لوجہ اللہ ایک دن کا روزہ رکھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ایک روزے کی برکت سے اس کے چہرے کو ستر برس مدّت کی مسافت تک آگ سے دور کر دیتا ہے
    بخاري

    روزے کا اجر اتنا زیادہ ہے کہ اس کا کوئی شمار ہی نہیں ہے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی :  إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.

    ’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے :  روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔‘

     ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2 : 305، رقم :  1638

    وفی روایۃ
    : کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأنَا اَجْزِيْ بِهِ.

    ’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے۔ پس یہ (روزہ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘

     بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب هل يقول انی صائم اذا شتم، 2 : 673، رقم : 1805.۔

    عرفہ کا روزہ

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ،
    عرفہ کے دن کے دن روزہ رکھنے سے مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہ معاف فرمادے گا
    (صحیح مسلم ،الصیام ، الترمذي، الصوم، باب ما جاء في فضل الصوم يوم عرفة، ح :۷۶۹)

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ ”
    "کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو،وہ(اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے:یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟”
    مسلم 3288

    ام المؤمنين سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

    «ما من السنة يوم أصومه أحب إلي من أن أصوم يوم عرفة».

    "مجھے پورے سال کے دنوں میں سے عرفہ کے دن روزہ رکھنا سب سے زیادہ پسند ہے.”

    (مسند ابن الجعد : 512، شعب الایمان للبیہقی : 315/5 ح : 3485، تهذيب الآثار للطبري : 600 وسندہ صحیح)

    ضروری بات
    یہ روزہ حاجیوں کے لیے نہ رکھنا زیادہ بہتر ہے :
    عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام فضل لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
    "شك الناس يوم عرفة في صوم النبي صلى الله عليه وسلم، فبعثت إلى النبي صلى الله عليه وسلم بشراب  فشربه.
    "لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے متعلق شک میں تھے (کہ آج آپ کا روزہ ہے یا نہیں) تو میں نے آپ کی طرف ایک مشروب بھیجا تو آپ نے اسے نوش فرما لیا”۔
    (صحيح البخاري : ۱۹۵۸ ، ۱۹۸۸ ، صحیح مسلم : ۱۱۲۳)

    امام شافعی(٢٠٤ھ)رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    "فأحب صومها إلا أن يكون حاجًّا فأحب له ترك صوم يوم عرفة لأنه حاجٌّ مضَحٍّ مسافرٌ ولترك النبي ﷺ صومه في الحج وليقوى بذلك على الدعاء ، وأفضل الدعاء يوم عرفة”.
    "میں (نو ذوالحجہ) کے روزے کو پسند کرتا ہوں سوائے حاجی کے ، اس کے لیے یہ ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ نہ رکھے کیونکہ وہ فریضہ حج ادا کرنے والا، قربانی کرنے والا اور مسافر ہے ( سب سے بڑی بات) نبی کریم ﷺ نے بھی حج میں روزہ نہیں رکھا، تاکہ وہ دعا کے لیے خوب توانا رہے اور عرفہ کے دن کی دعا افضل دعا ہے”۔
    (دیکھئے مختصر المزني: ص٥٩، فضائل الأوقات للبيهقي: ص۳٦٤)

    عرفہ کا روزہ علاقائی 9تاریخ یا یوم عرفہ کے مطابق

    جب سے جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ میں تیزی آئی ہے تب سے بعض حلقوں کی جانب سے صوم عرفہ کے متعلق ایک عجیب اشکال کھڑا کیا گیا ہے
    وہ یہ کہ روزہ اسی دن رکھا جائے گا جس دن حاجی لوگ میدان عرفات میں جمع ہونگے خواہ اپنے علاقے میں اس دن نو تاریخ ہو یا نہ ہو

    جبکہ یہ موقف کئی ایک وجوہات کی بنا پر انتہائی کمزور موقف ہے

    (1)اس موقف کے قائل تمام علماءرمضان کے روزوں’دیگر نفلی روزوں اور یوم عاشور اور عیدین وغیرہ کی تعیین میں تو قمری تقسیم کو تسلیم کرتے ہیں لیکن یومِ عرفہ سے دھوکا کھا کر اس کو سعودی تاریخ سے جوڑنے کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    (2)اگر اس موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو تمام اسلامی دنیا سعودی یومِ عرفہ کے مطابق روزہ رکھ ہی نہیں سکتی۔کیونکہ مشرقی ممالک میں سحری سعودی وقت سے دو یا تین گھنٹے قبل شروع ہوتی ہے اور افطاری بھی ان سے پہلے ہوتی ہے۔اسی مناسبت سے تو مشرقی لوگ سعودی تاریخ کے مطابق روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور بعض مغربی ممالک میں قمری تاریخ سعودی تاریخ سے آگے ہے۔چنانچہ مکہ مکرمہ میں جب یومِ عرفہ ہوتا ہے تو وہاں عیدالاضحی منائی جارہی ہوتی ہے تو اس غیرمنصفانہ تقسیم سے تو مغربی ممالک کے مسلمان یوم عرفہ کے روزہ کی فضیلت سے محروم رہیں گے

    (3)روئے زمین پر ایسے خطے موجود ہیں کہ سعودیہ کےلحاظ سےیومِ عرفہ کے وقت وہاں رات ہوتی ہے ان کےلئےروزہ رکھنے کا کیا اصول ہوگا؟اگر انہیں عرفہ کے وقت روزہ رکھنے کا پابند کیا جائے تو کیا وہ رات کا روزہ رکھیں گے

    (4)اگرچہ آج ہم سائنسی دور سے گزر رہے ہیں لیکن آج سے چند سال قبل معلومات کے یہ ذرائع میسر نہ تھے جن سے سعودیہ میں یومِِ عرفہ کا پتا لگایا جا سکتا اب بھی دیہاتوں اور دراز کے باشندوں کو کیسے پتا چلے گا کہ سعودی میں یومِ عرفہ کب ہے تاکہ وہ اس دن روزے کا اہتمام کریں

    ماخوذ از فتاویٰ شیخ عبد الستار الحماد حفظہ اللہ تعالیٰ

    یوم عرفہ کے دیگر اعمال

    غسل کرنا :

    إِنَّ رجلاً سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْغُسْلِ ، فَقَالَ : ” اغْتَسِلْ كُلَّ يَوْمٍ إِنْ شِئْتَ "، قَالَ: لَا، بَلِ الْغُسْلُ أَيْ الْمُسْتَحَبُّ قَالَ: ” اِغْتَسِلْ کُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ النَّحْرِ وَ يَوْمِ عَرَفَةَ ”

    ” سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے غسل کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : چاہے ہر روز غسل کرو ، سائل نے پوچھا : نہیں، کونسا غسل مستحب ہے؟ فرمایا : ہر جمعہ، عید الفطر، عید الاضحٰی اور عرفہ کے دن غسل کرو . ”

    ( مسند مسدد کما فی المطالب لابن حجر : 693 و سندہ صحیح ووثق رجاله البوصیری في إتحاف الخيرة المهره : 265/2 )

    یوم عرفہ میں بالخصوص گناہوں سے بچنا

    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

    إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ، وَبَصَرَهُ، وَلِسَانَهُ، غُفِرَ لَهُ.

    "جو شخص اس (یعنی عرفہ کے) دن اپنے کانوں، آنکھوں اور زبان کو گناہوں سے قابو میں رکھتا ہے اسے بخش دیا جاتا ہے.”

    ( مسند أحمد : 329/1 ح : 3041، مسند أبي داود الطيالسي : 2857، مسند أبي يعلي : 2441، الزهد للوكيع : 488 وسندہ صحیح و اخطأ من ضعفه، وصححه الهيثمي و البوصيري و المنذري والمناوي و احمد شاكر . و انظر : أخبار مكة للفاكهي و المعجم الكبير للطبراني شعب الایمان للبيهقي و فضل يوم عرفة لابن عساكر و صحیح ابن خزيمة)

    تیسرا عمل

    جہاد فی سبیل اللہ

    اس عشرہ میں جہاد فی سبیل اللہ کا اجر و ثواب اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ عام دنوں میں کیا جانے والا جہاد بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا
    اور بالخصوص اگر کوئی خوش قسمت مجاہد ان دنوں شہادت کی سعادت حاصل کرلیتا ہے تو اس کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    مَا مِنْ أَيَّامٍ, الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ –يَعْنِي: أَيَّامَ الْعَشْرِ-، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ, إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.
    ” اللہ تعالیٰ کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ اور محبوب ہوتا ہے ۔ “ یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں ۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں ، جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر جو کوئی شخص اپنی جان و مال لے کر نکلا ہو اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو ۔ “
    ابو داؤد 2438، بخاری 926، ترمذی

    چوتھا عمل

    حج بیت اللہ

    سبحان اللہ کیسا عظیم عشرہ ہے کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ایسا ہے جو خاص اسی عشرے سے تعلق رکھتا

    بغرضِ ترغیب حج و عمرہ کے چند فضائل درج کر رہا ہوں تاکہ اس عشرہ مبارکہ میں حج بیت اللہ کا شوق پیدا ہو جائے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ( تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّھُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ وَالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ )
    [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في ثواب الحج والعمرۃ : ٨١٠، عن عبد اللّٰہ بن مسعود (رض) ]
    ” حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو، کیونکہ یہ فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ “

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ( اَلْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَھُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَاءٌ إِِلَّا الْجَنَّۃُ )
    [ بخاري، الحج، باب وجوب العمرۃ و فضلھا : ١٧٧٣۔ مسلم : ١٣٤٩ ]
    ” عمرہ سے لے کر عمرہ، دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔ “ گناہوں کی معافی بھی بہت بڑا نفع ہے،

    نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
    ( مَنْ حَجَّ لِلَّہ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہٗ أُمُّہٗ )
    [ بخاري، الحج، باب فضل الحج المبرور : ١٥٢١، عن أبي ہریرہ ۔ مسلم : ١٣٥٠ (رح) ّ ]
    ” جو شخص حج کرے، نہ کوئی شہوانی فعل کرے اور نہ کوئی نافرمانی کرے تو واپس اس طرح (گناہوں سے پاک ہو کر) جائے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ “

    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن عاص (رض) سے فرمایا تھا :
    ( أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ وَأَنَّ الْھِجْرَۃَ تَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَھَا وَأَنَّ الْحَجَّ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ )
    [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ ۔۔ : ١٢١ ]
    ” کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتی ہے اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے۔ “

    پانچواں عمل

    عید پڑھنا

    اسی عشرہ مبارکہ کے آخری دن یعنی دس ذی الحجہ کو عید کی نماز ادا کرنا ایک اہم شرعی فریضہ ہے

    عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‏‏‏‏
    أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، ‏‏‏‏‏‏ .

    اضحی کے دن ( دسویں ذی الحجہ کو ) مجھے عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے مقرر و متعین فرمایا ہے
    داود 2789

    شرعی دلائل اور عید کی اسلام میں اہمیت کے پیش نظر صحیح بات یہی ہے کہ نماز عید فرض ہے

    ام عطيہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے :
    أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِحْدَانَا لا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ . قَالَ : لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا

    ” ہميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عيد الفطر اور عيد الاضحى ميں ( عيد گاہ كى طرف ) نكلنے كا حكم ديا، اور قريب البلوغ اور حائضہ اور كنوارى عورتوں سب كو، ليكن حائضہ عورتيں نماز سے عليحدہ رہيں، اور وہ خير اور مسلمانوں كے ساتھ دعا ميں شريك ہوں, وہ كہتى ہيں ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم: اگر ہم ميں سے كسى ايك كے پاس اوڑھنى نہ ہو تو ؟
    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اسے اس كى بہن اپنى اوڑھنى دے ”
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 324 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 890 ).

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى ” مجموع الفتاوى” ميں كہتے ہيں:
    ” دلائل سے جو ميرے نزديك راجح ہوتا ہے وہ يہ كہ نماز عيد فرض عين ہے، اور ہر مرد پر نماز عيد ميں حاضر ہونا واجب ہے، ليكن اگر كسى كے پاس عذر ہو تو پھر نہيں ” اھـ (ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 16 / 217 )

    اگر جمعہ اور عیدین ایک دن جمع ہو جائیں تو جمعہ کے متعلق رخصت ہے۔ حالانکہ جمعہ واجب ہے، اگر صلوٰۃ عید فرض نہ ہوتی تو دوسرے فرض کو کیسے ساقط کر سکتی ہے۔ یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ صلوٰۃ عیدین دیگر نماز پنجگانہ کی طرح فرض عین ہے

    چھٹا عمل

    قربانی

    عشرہ ذی الحجہ کے آخری دن یعنی دس ذی الحجہ کو قربانی کرنا دوسرے تینوں دنوں کی بنسبت ثواب زیادہ ہے ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
    (( مَاالْعَمَلُ فِیْ اَیَّامٍ اَفْضَلُ مِنْھَا فِیْ ھٰذِہٖ قَالُوْا وَلَا الْجِھَادُ قَالَ وَلَا الْجِھَادُ اِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ یُخَاطِرُ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ یَرْجِعْ بِشَیْئٍ))
    [’’ کسی اور دن میں عبادت ان دس دنوں میں عبادت کرنے سے افضل نہیں ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ جہاد بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ جہاد بھی نہیں ۔ہاں وہ شخص جو اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالتے ہوئے نکلے اور پھر کوئی چیز واپس نہ لوٹے۔‘‘]

    قربانی کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے
    قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
    کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔
    الأنعام : 162

    دوسرے مقام پر ارشاد ہے
    وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ
    اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔ سو تمھارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے فرماںبردار ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنادے۔
    الحج : 34

    لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ … : یعنی ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ہمارے عطا کردہ پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام لے کر انھیں قربان کریں، نہ کہ کفار کی طرح ہمارے عطا کر دہ چوپاؤں کو بتوں اور غیر اللہ کے آستانوں پر انھیں خوش کرنے کی نیت سے ذبح کریں۔

    دیگر مذاہب میں قربانی کا ثبوت

    اللہ تعالیٰ کے لیے بطور نیاز قربانی کرنا تمام آسمانی شریعتوں کے نظام عبادت کا لازمی جز رہا ہے
    تفسیر ثنائی میں ہے :
    ’’قرآن مجید کے اس دعویٰ (کہ ہر قوم میں قربانی کا حکم ہے) کا ثبوت آج بھی مذہبی کتب میں ملتا ہے۔ عیسائیوں کی بائبل تو قربانی کے احکام سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی دوسری کتاب سفر خروج میں عموماً یہی احکام ہیں۔ تعجب تو یہ ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ ہندوؤں اور آریوں کے مسلمہ پیشوا منوجی کہتے ہیں : ’’یگیہ (قربانی) کے واسطے اور نوکروں کے کھانے کے واسطے اچھے ہرن اور پرند مارنا چاہیے۔ اگلے زمانے میں رشیوں نے یگیہ کے لیے کھانے کے لائق ہرن اور پکشیوں کو مارا ہے۔ شری برہماجی نے آپ سے آپ یگیہ (قربانی) کے واسطے پشو (حیوانوں) کو پیدا کیا۔ اس سے یگیہ جو قتل ہوتا ہے وہ بدھ نہیں کہلاتا۔ حیوان، پرند، کچھوا وغیرہ، یہ سب یگیہ کے واسطے مارے جانے سے اعلیٰ ذات کو دوسرے جنم میں پاتے ہیں۔‘‘ [ ادہیائے : ۵۔ شلوک : ۲۲، ۲۳، ۳۹، ۴۰ ] گو آج کل کے ہندو یا آریہ ایسے مقامات کی تاویل یا تردید کریں مگر صاف الفاظ کے ہوتے ہوئے ان کی تاویل کون سنتا ہے۔ اس جگہ ہم نے صرف یہ دکھانا تھا کہ قرآن شریف نے جو دعویٰ کیا ہے وہ بحمد اللہ اپنا ثبوت رکھتا ہے، باقی قربانی کی علت اور وجہ کے لیے ہماری کتب مباحثہ، حق پر کاش، ترک اسلام وغیرہ ملاحظہ ہوں۔‘‘
    بحوالہ تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ

    اسلام میں بھی یہ بطور عبادت مقرر کی گئی ہے، اس میں حاجی، غیر حاجی کی کوئی قید نہیں ہے۔ البتہ مکہ میں حج یا عمرہ پر کی جانے والی قربانی کو ہدی اور دوسرے مقامات پر کی جانے والی قربانی کو اضحیہ کہا جاتا ہے۔

    انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
    [ ضَحَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلٰی صِفَاحِهِمَا يُسَمِّيْ وَيُكَبِّرُ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهٖ]
    [بخاري، الأضاحی، باب من ذبح الأضاحي بیدہ : ۵۵۵۸۔ مسلم : ۱۹۶۶ ]
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کیے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلوؤں پر اپنا پاؤں رکھا اور ’’ بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ ‘‘ پڑھ کر ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔‘‘

    ساتواں عمل

    قربانی کی نیت رکھنے والا عشرہ ذی الحجہ میں حجامت وغیرہ نہ کروائے

    قربانی کا ارادہ رکھنے والا شخص جب ذوالحجہ کا چانددیکھ لے یا یہ خبر عام ہو جائے کہ چاند نظر آگیا ہے تو اس رات سے لے کر اپنے جا نور کی قربانی کر لینے تک اپنے جسم کے کسی حصے سے کوئی بال یا ناخن نہ کاٹے کیونکہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ»
    (صحیح مسلم، الأضاحي، باب نهى من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو يريد التضحية أن يأخذ من شعره…، ح:۱۹۷۷)
    "جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔

    یہ پابندی قربانی کرنے تک ہے
    صحیح مسلم اور سنن ابو داود میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں:
    (( فَلاَ یَاْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِہٖ وَ لاَ مِنْ اَظْفَارِہٖ شَیْئًا حَتّٰی یُضَحِّيَ ))
    ’’وہ اپنے جانور کو ذبح کرلینے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔‘‘

    المستدرک على الصحيحين میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے
    "ﺇﺫا ﺩﺧﻞ ﻋﺸﺮ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻓﻼ ﺗﺄﺧﺬﻥ ﻣﻦ ﺷﻌﺮﻙ ﻭﻻ ﻣﻦ ﺃﻇﻔﺎﺭﻙ ﺣﺘﻰ ﺗﺬﺑﺢ ﺃﺿﺤﻴﺘﻚ”
    یعنی یہ ناخنوں اور بالوں کی پابندی قربانی کرلینے تک ہے
    حدیث نمبر 7519

    مؤطا امام مالک میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے بعد سر کے بال کٹوائے
    ﻓﺤﻠﻖ ﺭﺃﺳﻪ ﺣﻴﻦ ﺫﺑﺢ اﻟﻜﺒﺶ، ﻭﻛﺎﻥ ﻣﺮﻳﻀﺎ ﻟﻢ ﻳﺸﻬﺪ اﻟﻌﻴﺪ ﻣﻊ اﻟﻨﺎﺱ
    موطا ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻣﻦ اﻟﻀﺤﺎﻳﺎ

    یہ پابندی تمام گھر والوں پر ھے

    نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کرتے ہیں
    أﻥ اﺑﻦ ﻋﻤﺮﻣﺮ ﺑﺎﻣﺮﺃﺓ ﺗﺄﺧﺬ ﻣﻦ ﺷﻌﺮ اﺑﻨﻬﺎ ﻓﻲ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان دس دنوں میں ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بیٹے کے بال کاٹ رہی تھی
    تو آپ نے فرمایا
    "ﻟﻮ ﺃﺧﺮﺗﻴﻪ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ اﻟﻨﺤﺮ ﻛﺎﻥ ﺃﺣﺴﻦ”
    اگر تو اسے قربانی کے دن تک مؤخر کردیتی تو بہتر ہوتا
    مستدرک للحاکم 7520