Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنت مرزا، ہانیہ عامر اور احد مرزا سے متعلق قومی کرکٹ ٹیم کے دلچسپ تبصرے، مداح قہقہے لگانے پر مجبور

    جنت مرزا، ہانیہ عامر اور احد مرزا سے متعلق قومی کرکٹ ٹیم کے دلچسپ تبصرے، مداح قہقہے لگانے پر مجبور

    پاکستانی ٹک ٹاک اسٹار جنت مرزا، اداکارہ ہانیہ عامر اور احد مرزا سے متعلق قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے دلچسپ تبصرے کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اپنی فیلڈ کے علاوہ شوبز فنکاروں اور سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک اسٹار کے بارے میں کتناجانتے ہیں اور ان کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے اس حوالے سے پاکستان سپر لیگ کے آفیشل یوٹیوب اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں قومی کرکٹرز کو پاکستانی ٹک ٹاک اسٹارز اور شوبز اسٹارز کی تصاویر دکھائی گئیں اور ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ان مشہور شخصیات کو جانتے ہیں؟ ان تصاویر کو دیکھ کر ہمارے معصوم کرکٹرز نے نہایت دلچسپ تبصرے کیے۔

    ویڈیو کے آغاز میں جب کرکٹ اسٹارز کو وائرل ہونے والی ایک آنٹی سحر کامران کی کی تصویر دکھائی گئی تو کسی نے انہیں فردوس عاشق اعوان کہا تو کسی نے مریم نواز لیکن کوئی بھی ان وائرل خاتون کو پہچان نہیں پایا حسن علی نے کہا کوئی رپورٹر ہے جبکہ بابر اعظم نے انہیں ان کی ایک ویڈیو سے پہچانا لیکن نام نہیں بتا پائے سرفراز نے کہا کلاس ٹیچر لگ رہی ہیں-

    ٹک ٹاک پر اپنی ایڈیٹنگ کے لیے وائرل شخص جام صفدر کو تو تقریباً تمام کرکٹرز پہچان گئے لیکن کوئی بھی ان کا نام نہ بتاسکا سب نے یہی کہا کہ ہم نے ان کی ویڈیو دیکھی ہے جس میں وہ کبھی جہاز پر اڑ رہے ہوتے ہیں اور کبھی ٹرین پر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔

    کرکٹرز کو جب ٹک ٹاک اسٹار جنت مرز کی تصویر دکھائی گئی تو حسن علی فوراً پہچان گئے اور کہا کہ یہ ٹک ٹاک اسٹار جنت مرزا ہیں جس پر شاداب نے حسن علی طرف دیکھتے ہوئے کہا ہاں تجھے توپتہ ہوگا ٹک ٹاکر۔

    جس پر حسن علی نے کہا ہاں ہم تو ہیں ٹک ٹاکر ان دونوں کے علاوہ تقریباً تمام کھلاڑیوں نے جنت مرزا کو نہ صرف پہچان لیا بلکہ ان کا نام بھی بالکل صحیح بتایا تاہم فخرزمان، شاہین آفریدی، سرفراز احمد اور وہاب ریاض جنت مرزا کو نہیں پہچان پائے۔

    جبکہ احد رضا میر کو تمام کرکٹرز نے ان کے ڈرامے ’’عہد وفا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان کا ڈراما دیکھا ہے تاہم کچھ کرکٹرز ان کا نام صحیح لے سکے اور کچھ ان کا نام نہیں بتاسکے۔

    کرکٹرز کو جب ہانیہ عامر کی تصویر دکھائی گئی تو تقریباً تمام اداکار ہانیہ عامر کو پہچان گئے اور کہا ان کو کون نہیں جانتا۔

    سرفراز نے بتایا کہ ڈراماسیریل ’’عشقیہ‘‘ میں ہانیہ نے بہت زبردست اداکاری کی ہے تاہم شاہین آفریدی نے کہا کہ یہ ماہرہ خان ہیں جب کہ فخر زمان نے کہا یہ ماہرہ خان کی چھوٹی بہن ہیں۔

  • سورج 27 مئی کو خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا     عرب میڈیا

    سورج 27 مئی کو خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا عرب میڈیا

    جدہ: سورج 27 مئی کو خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا اور اس وقت ہی قبلہ رخ کا صحیح تعین کا جاسکے گا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق 27 مئی جمعرات کو مکہ مکرمہ کے ٹائم کے مطابق سورج دوپہر 12 بج کر 18 منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا جس سے دنیا بھر میں قبلہ رخ کا صحیح تعین کیا جاسکے گا جب کہ اس وقت بیت اللہ کا سایہ بھی نہیں ہوگا۔

    سعودی ادارہ فلکیات کے مطابق سورج خانہ کعبہ کے اوپر تقریباً 90 ڈگری کے زاویہ پر ہوگا جب کہ یہ سال 2021 کا پہلا واقعہ ہے۔

    جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ ماجد ابو زہرا نے کہا کہ لوگ لکڑی کی چھڑی کو زمین میں عمودی طور پر رکھ کر کعبہ کی صحیح سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔ قبلہ کی سمت چھڑی کے سائے کے عین مطابق ہوگی۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق زمین کے محور کے جھکاؤ کی وجہ سے ، سورج آسمانی خط استوا کے شمال اور جنوب میں 23.5 ڈگری پر سفر کرتا ہے۔ خطوط کے دوران خط استوا پر پڑا مقامات پر سورج براہ راست اوپر گرتا ہے۔

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام…

  • فلسطین کے حامیوں کا احتجاج، ون اسٹار ریویوز پر فیس بک کا ردعمل

    فلسطین کے حامیوں کا احتجاج، ون اسٹار ریویوز پر فیس بک کا ردعمل

    اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جارحیت کے بعد گزشتہ ہفتے سے فیس بک کے خلاف سوشل میڈیا سائٹس پر ایک مہم چلائی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی : لوگوں کی جانب سے ماضی میں کسی کمپنی کی پالیسی پر اعتراض کی صورت میں ایپ ریٹنگز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے مگر فیس بک کو جس مہم کا سامنا ہے اس کے نتیجے میں کمپنی کی ساکھ کو بھی نمایاں دھچکا لگا ہے اس مہم کی وجہ فیس بک پر فلسطینیوں کی آواز دبانا قرار دی گئی ہے۔

    ہوا کچھ یوں کہ فیسبک کی دوغلی پالیسی کے باعث مسلمانوں خاص کر پاکستانیوں نے احتجاج کے طور پر5 سٹار سے 1 سٹار اور کمنٹ میں اپنے جذبات کا اظہار، فیسبک و فیسبک لائٹ کی مقبولیت میں زبردست گراوٹ کا باعث بنا-

    اسرائیلی جارحیت کے پیش نظر مسلمانوں کی طرف سے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجتی کرنے کے جرم میں فیسبک انتظامیہ نے ہزاروں اکاؤنٹ ختم کئے جس پر مسلمانوں خاص کر پاکستانیوں نے شدید احتجاج کیا اور گوگل پلے سٹور پر جاکر فیسبک ایپلی کیشن کو 5 سٹار کی جگہ 1 سٹار کر دیا اور ساتھ ہی کمنٹ میں اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا کم ہوکر 2.3 جبکہ گوگل پلے اسٹور میں 5 سے کم ہوکر 2.4 تک گرچکی ہے جبکہ ان صارفین کی جانب سے فری فلسطین یا غزہ انڈر اٹیک کے ہیش ٹیگ کے بھی استعمال کیے گئے۔

    دوسری جانب فیس بک کے اندر اس مہم کو بہت سنجیدہ لیا گیا اور اسے SEV1 کا درجہ دیا گیا جو severity 1 کا نک نیم ہے اس اصطلاح کا استعمال کمپنی کے اندر اس وقت کیا جاتا ہے جب ویب سائٹ کو کسی بڑے مسئلے کا سامنا ہو۔

    این بی سی نیوز کے مطابق SEV1 فیس بک کے لیے دوسرا اہم ترین ترجیحی مسئلہ ہے جس سے آگے SEV0 ہے، اس اصطلاح کو ویب سائٹ ڈاؤن ہونے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    فیس بک کے انٹرنل میسج بورڈ کے ایک سنیئر سافٹ ویئر انجنیئر نے بتایا اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ تنازع سے فیس بک پر صارفین کا اعتماد نمایاں حد تک کم ہوا ہے، ہمارے صارفین صورتحال کو سنبھالنے کے ہمارے طریقے پر اپ سیٹ ہیں۔

    انجنیئر نے کہا صارفین کو لگتا ہے کہ ان کی پوسٹس کو سنسر کیا جارہا ہے، ان کی ریچ محدود کی جارہی ہے اور آواز خاموش کی جارہی ہے اس کے نتیجے میں صارفین نے احتجاجاً 1 اسٹار ریویوز دینا شروع کردیئے۔

    کمپنی کے اندر جاری بحث کے لیک اسکرین شاٹس کے مطابق فیس بک کی جانب سے ایپل سے کہا گیا کہ وہ ایپ اسٹور سے منفی ریویوز کو ڈیلیٹ کردے، مگر ایپل نے ماننے سے انکار کردیا گوگل نے اس درخواست پر کیا ردعمل دیا، وہ واضح نہیں۔

    فیس بک کے ترجمان نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہماری پالیسیاں صارفین کے تحفظ کے ساتھ ہر ایک کو آواز بلند کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، ہم ان پالیسیوں کا اطلاق مساوی انداز سے کرتے ہیں، یہ دیکھے بغیر کہ صارف کیا پوسٹ کررہا ہے یا اس کا ذاتی خیال کیا ہے۔

    ترجمان نے کہا اس کے لیے ہماری ایک ٹیم مختص ہے، جس میں عربی اور عبرانی بولنے والے بھی شامل ہیں، جو باریک بینی سے صورتحال کو مانیٹر کرسکیں اور مضر مواد کو ہٹا سکے۔

    تاہم گوگل اور ایپل نے اس معاملے پر فی الحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

    صارفین کا احتجاج،فیسبک کی گراوت

  • موبائل آپریٹر ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنے سے پہلے صارفین کی رضامندی حاصل کریں    پی ٹی اے

    موبائل آپریٹر ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنے سے پہلے صارفین کی رضامندی حاصل کریں پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) کا کہنا ہے کہ موبائل آپریٹر ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنے سے پہلے صارفین کی رضامندی حاصل کریں –

    باغی ٹی وی : پی ٹی اے نے سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے صارفین کو ویلیو ایڈڈ خدمات (وی اے ایس) فعال کرنے کے لیے لازمی توثیقی پیغامات بھیجیں تاکہ خدمات کے لیے ان کی رضامندی حاصل کی جاسکے۔

    پی ٹی اے کے بیان میں آپریٹرز کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یہ حکم جاری کرنے کے متعلق تین ہفتے میں رپورٹ جمع کرائیں۔


    بیان میں کہا گیا کہ پی ٹی اے کو صارفین کی شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بعض اوقات موبائل آپریٹرز، صارفین کی پیشگی رضامندی کے بغیر تھرڈ پارٹی مواد/گیمز سمیت دیگر ویلیو ایڈڈ خدمات فعال کر دیتے ہیں۔

    پی ٹی اے نے ان شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا کیونکہ صارفین کی رضامندی کے بغیر کسی ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنا ‘ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن ریگولیشنز، 2009’ کی شق 9 (3) (vii) کی خلاف ورزی ہے۔

    اتھارٹی کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ اس اقدام سے موبائل صارفین کو بڑی آسانی ہوگی۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی اے، پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کے صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

  • سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    سال کا پہلا قمری گرہن کل یعنی 26 مئی بروز بدھ کو لگے گا-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس چاند گرہن کا آغاز پاکستانی ٹائم کے مطابق بوقت دوپہر 01:43:39 بجے ہوگا -جزوی گرہن کا آغاز 02:45 منٹ پر اور مکمل قمری گرہن کا آغاز سہ پہر 04:11 منٹس سے لے کر 4:26 منٹس تک ہو گا جبکہ گرہن کا اختتام 06:50 منٹس تک ہو گا گرہن کاکل دورانیہ 5 گھنٹے اور 5 منٹ کے قریب ہو گا-

    کوریا امریکہ فلپائن آسٹریلیا ، سنگاپور ،چین ،میکسیکو، تائیوان، پیرو، چلی ،انڈونیشیا، ہانگ کانگ، گوئٹے مال اور جاپان کے اکثر علاقوں میں مکمل یعنی Full Super Moon کا نظارہ کیا جا سکے گا0

    جبکہ کینیڈا ، برازیل ، کولمبیا، ویزویلا کیوبا ارجنٹائن ، ویت نام تھائی لینڈ ، برما اور بنگلہ دیش کے کچھ حصوں میں جزوی گرہن کا نظارہ کیا جا سکے گا جبکہ پاکستان اور دیگر ممالک میں گرہن نظر نہیں آئے گا کیونکہ اس چاند گرہن کے موقع پر پاکستان میں دن کا وقت ہوگا جبکہ پاکستان میں چاند بھی شام سات بجے کے بعد ہی طلوع ہوگا۔

    انڈیا کے کچھ مشرقی ساحلی علاقوں میں گرہن کا جزوی اختتامی حصہ دیکھا جا سکتا ہے –

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نت سال کے شروع میں بتایا تھا کہ سال 2021 میں 2 سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے، تاہم پاکستان میں اس سال کے چاند اور سورج گرہن دکھائی نہیں دیں گے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اس سال کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو ہوگا جو مکمل چاند گرہن ہوگا دوسرا چاند گرہن19 نومبر کو ہوگا، جو جنوبی اور مشرقی امریکا ، آسٹریلیا اور یورپ کے مختلف علاقوں میں دیکھا جاسکے گا۔

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا، یہ جزوی سورج گرہن ہوگاجو ایشیا، افریقہ،یورپ،افریقہ اور مغربی امریکا میں دیکھا جاسکے گا سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن4 دسمبر کو ہوگا جو مکمل سورج گرہن ہوگا، جسے امریکا، جنوبی امریکا، پیسیفک، اور انٹارکٹکا میں دیکھا جاسکے گا۔

    گرہن کیا ہوتا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    برطانوی خبررساں ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق گرہن ایک شاندار دلکش فلکیاتی عمل ہے یہی وجہ ہے کہ گرہن کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے سیاحت کی ایک الگ برانچ قائم ہو چکی ہے۔

    اہم گرہن کی متعدد اقسام میں سے یہ ایک ہے۔

    حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’السٹریٹڈ آسٹرونومی‘ کے مصنف یوان کارلوس بیامن جو اٹانومس یونیورسٹی آف چلی کے سائنس کمیونیکیشن سینٹر میں بطور ایسٹروفزسٹ کام کرتے ہیں لکھتے ہیں کہ ’عمومی طور گرہن کی دو اقسام ہیں جن میں چاند اور سورج کے گرہن شامل ہیں۔

    تاہم اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ تکنیکی اعتبار سے دیکھیں تو ایک تیسری قسم بھی ہیں، جس میں دو ستارے شامل ہوتے ہیں۔

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    سورج گرہن
    چاند کی زمین کے گرد گردش کے دوران ایسے مواقع آتے ہیں جب یہ سورج اور ہمارے سیارے کے درمیان آ جائے تو یہ سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے اور یوں سورج کو گرہن لگ جاتا ہے دوسرے لفظوں میں چاند زمین کی سطح پر اپنا عکس ڈال دیتا ہے۔

    سورج گرہن کی مزید تین اقسام ہیں-

    مکمل سورج گرہن
    مکمل سورج گرہن کا عمل اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان ایسے رکاوٹ بنتا ہے کہ وہ مکمل طور پر سورج کی روشنی کو روک دیتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    کچھ سیکنڈوں کے لیے (یا متعدد مرتبہ چند منٹ کے لیے) مکمل طور پر اندھیرا ہو جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے رات کا وقت ہو۔

    ناسا کے مطابق: ’مکمل سورج گرہن زمین پر صرف ایک آسمانی یا خلائی اتفاق کے باعث ممکن ہوتے ہیں۔‘ یعنی سورج چاند سے چار سو گنا بڑا ہے لیکن یہ اس سے 400 گنا دور بھی ہے۔

    ناسا کا مزید کہنا تھا کہ ’اس جیومیٹری کے باعث جب چاند عین سورج اور زمین کے درمیان موجود ہوتا ہے تو یہ مکمل طور پر سورج کی روشنی کو روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔‘

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    چلی سے تعلق رکھنے والے آسٹروفزکس کے ماہر لکھتے ہیں کہ سورج گرہن کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ سات منٹ اور 32 سیکنڈ کا ہو سکتا ہے سورج گرہن کتنے دنوں بعد یا کتنی دیر میں ہوتا اس بارے میں شاید آپ کا خیال ہو کہ ایسا کم کم ہی ہوتا ہے لیکن اصل میں ہر اٹھارہ ماہ بعد ایک سورج گرہن ہوتا ہے۔

    لیکن زمین پر ایک ہی جگہ سے مکمل سورج گرہن کا دیکھا جانا، ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے اور ایسا 375 برس بعد ہی میں مکمن ہو سکتا ہے۔

    اس سال بھی مکمل گرہن ہونے والا ہے لیکن اس کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ قطب جنوبی میں ہوں کیونکہ یہ صرف وہیں نظر آئے گا۔

    سالانہ گرہن
    جب چاند اور زمین کے درمیان زیادہ فاصلہ ہوتا ہے تو زمین سے چاند چھوٹا نظر آتا ہے اور اسی لیے یہ مکمل طور پر سورج کو چھپا نہیں پاتا۔ ایسے میں چاند کے گرد سورج ایک ہالے کی طرح نظر آتا ہے اور اس واقع کو سالانہ سورج گرہن کہا جاتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ گریٹی
    اس سال جون کی دس تاریخ کو سالانہ سورج گرہن شمالی عرضالبد کے انتہائی شمالی حصوں جن میں کینیڈا کے کچھ علاقے، گرین لینڈ اور روس میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا جبکہ یورپ، وسطی ایشیا اور چین کے بعض حصوں میں جزوی طور پر سورج گرہن ہو گا۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق یہ سورج گرہن عام طور پر خاصے طویل ہوتے ہیں اور سورج ایک گول دائرہ یا ہالے کے طور پر دس منٹ تک دکھائی دے سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ پانچ سے چھ منٹ تک دکھائی دیتا ہے۔

    ملا جلا گرہن
    بیمن نے وضاحت کی کہ ملا جلا گرہن جسے انگریزی میں ہائبرڈ گرہن کہتے ہیں وہ اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین سے اتنے فاصلے پر ہوتا ہے کہ یہ سورج کو پوری طور پر چھپا لے، لیکن جب یہ حرکت کرتا ہے تو یہ دنیا سے دور ہوتا جاتا ہے اور پورے سورج نہیں چھپا پاتا۔ یوں مکمل سورج گرہن سالانہ سورج گرہن میں بدل جاتا ہے۔

    اس طرح جب چاند زمین کی جانب حرکت کرتا ہے تو سلانہ سورج گرہن مکمل سورج گرہن میں بدل جاتا ہے۔

    ہائبرڈ یا ملا جلا گرہن کا ہونا شاز و نادر ہی ہوتا ہے ایسے گرہن صرف چار فیصد ہی ہوتے ہیں۔

    ناسا کے مطابق آخری سورج گرہن سنہ 2013 میں ہوا تھا اور ایسے دوسرے سورج گرہن کے لیے ہمیں 20 اپریل سنہ 2023 تک انتظار کرنا ہوگا جو انڈونیشیا، آسٹریلیا اور پاپوا نیو گنی میں دیکھا جائے گا۔

    2: چاند گرہن
    چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا دوسرے لفظوں میں چاند گرہن کے دوران ہمیں زمین کا سایہ چاند پر پڑتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

    چاند گرہن کی تین اقسام ہیں-

    مکمل چاند گرہن
    مکمل چاند گرہن کے دوران، ناسا کے مطابق چاند اور سورج دنیا سے دو مختلف سمتوں میں ہوتے ہیں چاند گرہن کے دوران چاند زمین کے سائے میں آ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کچھ روشنی چاند پر پہنچتی رہتی ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    چاند گرہن کے دوران سورج کی روشنی زمین کی فضا سے گزر کر چاند پر پڑتی ہے اس ہی وجہ سے گرہن کے دوران چاند سرخ نظر آتا ہے جسے ’خونی چاند‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    آئی اے سی کے ہدایت نامہ کے مطابق دنیا کا قطر کیونکہ چاند کے قطر سے چار گنا بڑا ہے اس لیے مکمل چاند گرہن کا دورانیہ 104 منٹ تک ہو سکتا ہے اور چاند گرہن کی یہی وہ قسم ہے جو کل یعنی 26 مئی کو دیکھی جا سکے گی –

    جزوی چاند گرہن
    اس گرہن کے دوران چاند پوری طرح نہیں چھپتا ہے اور صرف چاند کا کچھ حصہ ہی زمین کے سائے میں آتا ہے گرہن کی نوعیت کتنے گہرے سرخ رنگ یا خاکی اور زنگ کے رنگ کی طرح ہو گی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ زمین کا عکس چاند کی تاریک سطح پر کسی طرح پڑتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    چاند کے تاریک اور روشن حصے کے تضاد کی وجہ سے ہوتا ہے چاند کا روشن حصہ پر تو سائے کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور کی چمک برقرار رہتی ہے لیکن زمین کے سائے میں آنے والا حصہ تاریک ہو جاتا ہے۔

    ناسا کے مطابق مکمل چاند گرہن کبھی کبھار ہی ہوتا ہے لیکن جزوی گرہن سال میں دو مرتبہ ہوتا ہے اگلا جزوی چاہد گرہن 18 اور 19 نومبر کو متوقع ہے جو شمالی اور جنوبی امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ اور ایشیا کے کچھ حصوں میں دکھائی دے گا۔

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    خفیف سا چاند گرہن
    یہ گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین کے خفیف سے سائے کے نیچے سے گزرتا ہے جو کہ بہت ہلکہ سا سایہ ہوتا ہے یہ گرہن اتنے ہلکے سے ہوتے ہیں کہ ان کا انسانی آنکھ سے دیکھے جانے کا امکان اس بات پر ہوتا کہ چاند کا کتنا حصہ اس عکس کے نیچے آتا ہے۔ جتنا کم حصہ اس سائے میں آتا ہے اتنا ہی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ یہ زمین پر کسی انسان کو دکھائی دے۔

    یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے گرہن کا کیلینڈر میں ذکر نہیں کیا جاتا خاص طور پر ان کیلینڈروں میں جو سائنسدانوں کے علاوہ عام لوگ کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

    20 سال قبل دریافت کیا گیا رواں سال کا سب سے بڑا سیارچہ 21 مارچ کو زمین کے پاس سے…

    سٹیلر گرہن
    صرف چاند اور سورج ہی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا کائنات کے دور دراز ستارے بھی گرہن میں جا سکتے ہیں بیمن اپنی کتاب ’السٹریٹڈ ایسٹرونومی‘ جو آن لائن پر مفت میں دستیاب ہے اس میں وجہ لکھتے ہیں پچاس فیصد ستارے دو یا دو سے زیادہ کے جھنڈ میں ہوتے ہیں-

    کیونکہ ہماری کہکشاں میں بہت سے ستارے ہیں ان میں بہت سے ستارے اپنے اپنے مداروں میں گردش کرتے ہیں جو ہماری زمین کی لائن میں آتے ہیں لہذا کسی نہ کسی مدار میں کوئی ستارہ کسی اور ستارے کے آگے آ کر اس کو تاریک کرتا رہتا ہے۔

  • کوئٹہ گلیڈی ایٹر ز کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

    کوئٹہ گلیڈی ایٹر ز کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

    ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 6 کے بقیہ 20 میچز آئندہ ماہ شیخ زید اسٹیڈیم ابوظہبی میں کھیلے جائیں گے۔ ابوظہبی کا یہ میدان اس سے قبل ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کے چار میچز کی میزبانی بھی کرچکا ہے۔ یہ وہی میدان ہےکہ جہاں چوتھے ایڈیشن کی فاتح کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کو بالترتیب 8 وکٹوں اور 43 رنز سے شکست دی تھی۔

    یہاں کھیلے گئے لیگ کے ایک اور میچ میں کراچی کنگز نے ملتان سلطانز کو 5 وکٹوں سےہرایا تھا۔اسی میدان پر پشاور زلمی نے بھی لاہور قلندرز کو 4 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اب تک ابوظہبی میں کھیلے گئے تمام میچز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا اسلام آبادیونائیٹڈ کے خلاف 9 وکٹوں کے نقصان پر 181 رنز بنانا یہاں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔

    اسی طرح ملتان سلطانز کا کراچی کنگز کے خلاف 7 وکٹوں کے نقصان پر 118 رنز بنانا اس گراؤنڈ پر لیگ میں کسی بھی ٹیم کا سب سے کم اسکور ہے۔شین واٹسن کی 55 گیندوں پر 91 رنز کی اننگز ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اب تک ابوظہبی میں کسی بھی کھلاڑی کی بہترین اننگز ہے۔ سابق آسٹریلوی کرکٹر کی اس اننگز میں 6 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے فاسٹ باؤلر عثمان شنواری جو لیگ کے چوتھے ایڈیشن میں کراچی کنگز کی نمائندگی کررہے تھے، کا ملتان سلطانز کے خلاف ایک میچ میں 15 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کرنا ابوظہبی میں ایچ بی ایل پی ایس ایل کی کسی بھی باؤلر کی بہترین باؤلنگ ہے۔اسلام آباد یونائیٹڈ کے فہیم اشرف نے یہاں کھیلے گئے ایک میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف ایک میچ میں 18 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔

    شیخ زید اسٹیڈیم ابوظہبی میں کھیلے گئے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے پہلے میچ میں پشاور زلمی نے کامران اکمل اور کیرون پولارڈ کی عمدہ اننگز کی بدولت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ بیس اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 165 رنز بنائے تھے۔ کامران اکمل نے 50 گیندوں پر 72 رنز بنائے تھےجبکہ کیرون پولارڈ نے 21 گیندوں پر 44 رنز بنائے تھے۔جواب میں شین واٹسن نے احمد شہزاد کے ہمراہ 129 رنز کی شراکت قائم کرکے اپنی ٹیم کو 8 وکٹوں سے فتح دلائی تھی۔

    ابوظہبی میں مجموعی طور پر کھیلے گئے ٹی ٹونٹی میچز:

    اس وینیو پر اب تک 124 ٹی ٹونٹی میچز کھیلے جاچکے ہیں، جس میں 48 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز بھی شامل ہیں۔

    قومی کرکٹ ٹیم نے 2010 سے 2018 کے درمیان یہاں کھیلے گئےاپنے 9 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز میں سے 6 جیتے۔

    شیخ زید اسٹیڈیم میں کسی بھی ٹیم کا سب سے زیادہ اورسب سے کم مجموعہ:

    اس اسٹیڈیم میں 8 مواقع ایسے تھے کہ جب کسی ٹیم کا مجموعہ 200 کے پار گیا ہو۔آئرلینڈ نے افغانستان کے خلاف ایک میچ میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 225 رنز بنائے تھے۔

    آئرلینڈ کے خلاف نائجیریا کا مقررہ بیس اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 66 رنز بنانا اس گراؤنڈ پر کسی بھی ٹیم کا سب سے کم مجموعہ ہے۔

    بہترین انفرادی اسکور:

    اس گراؤنڈ پر اب تک 6 سنچریاں بن چکی ہیں، جس میں سے ایک سنچری لاہور قلندرز کے کپتان سہیل اختر نے بنائی تھی۔ انہوں نے ابوظہبی ٹی ٹونٹی ٹرافی کے ایک میچ میں 56 گیندوں پر 100 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی تھی۔ اس اننگز میں 11 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔

    آئرلینڈ کے ویلیم پورٹرفیلڈ نے امریکہ کے خلاف ایک میچ میں 127 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی۔

    بہترین باؤلنگ:

    اس گراؤنڈ پر کھیلے گئے تمام ٹی ٹونٹی میچز میں اب تک 2 مواقع ایسے رہے کہ جب کسی باؤلر نے ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کی ہوں۔

    ڈنمارک کےآفتاب احمد نے ایک میچ میں 22 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کی، جو اس گراؤنڈ پر کسی بھی باؤلر کی بہترین باؤلنگ ہے۔

  • ملتان سلطانز اپنے آلراؤنڈر سٹار سے محروم ہو گئی

    ملتان سلطانز اپنے آلراؤنڈر سٹار سے محروم ہو گئی

    ملتان سلطانز کے اسٹار آلراؤنڈر شاہد آفریدی کمر کی انجری کے باعث ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 6 سے باہر ہوگئے ہیں۔وہ ابوظہبی میں کھیلے جانے والے لیگ کے بقیہ میچز میں ملتان سلطانز کی نمائندگی نہیں کرپائیں گے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کے بقیہ میچز کی غرض سے کراچی میں ٹریننگ کررہے تھے جہاں انہوں نے اپنی کمر کے نچلے حصے میں درد محسوس کی۔ڈاکٹرز نے ان کی انجری کا جائزہ لینے کے بعد انہیں کچھ ہفتوں کے لیے آرام کا مشورہ دیا ہے۔

    شاہد آفریدی نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 6 کے چار میچز میں ملتان سلطانز کی نمائندگی کی تھی،ان کی جگہ آصف آفریدی کو ملتان سلطانز کے اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔

    شاہد آفریدی:

    آلراؤنڈر شاہد آفریدی کا کہناہے کہ انہوں نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 6 کے بقیہ میچز کے لیے ٹریننگ کے دوران کمر کے نچلے حصے میں درد اٹھنے پر ڈاکٹر سے رجوع کیا، بدقسمتی سے انہیں آرام کا مشورہ دیا گیا ہے،جس کی وجہ سے وہ ابوظہبی لیگ میں ملتان سلطانز کو جوائن نہیں کرسکیں گے۔

    انہیں مایوسی ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کررہے تاہم ان کی تمام تر نیک تمنائیں ملتان سلطانز کے ساتھ ہیں۔ دوسری طرف عمر امین اور برینڈن کنگ اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ بن گئے ہیں، جس کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ کا 20 رکنی اسکواڈ مکمل ہوگیا ہے۔

    پشاور زلمی نے افغانستان کے حضرات اللہ زازائی، ثمین گل اور خالد عثمان کو بحثیت ریزرو کرکٹرز اپنے اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے۔

  • 22-مئی 1545 ، یوم وفات شیر شاہ سوری اور سید والا ننکانہ۔۔۔۔(خاص تحریر، علی عمران شاھین)

    22-مئی 1545 ، یوم وفات شیر شاہ سوری اور سید والا ننکانہ۔۔۔۔(خاص تحریر، علی عمران شاھین)

    22 مئی کو بی بی سی اردو نے ہندوستان کے ایک مایہ ناز حکمران شیر شاہ سوری (اصل نام فرید خان)کے تذکرے پر مشتمل ایک تفصیلی مضمون شائع کیا۔حیرت انگیز طور پر اس تحریر میں ان کے بے شمار عظیم کارناموں کا ذکر کرنے کے بجائے ان کی مغلوں سے سر پھٹول کو چھیڑے رکھا یا پھر غیر متعلقہ باتیں زیادہ زیر بحث لائیں۔

    سچ یہ ہے کہ شیر شاہ سوری نے جیسے بھی حکومت حاصل کی لیکن انہوں نے نااہل ہمایوں کو باہر نکال کر صرف پانچ سال کے عرصے میں ہندوستان میں ترقی و تمدن اور اسلام سے الفت و محبت کا وہ جال بچھایا یا جو ان کے بعد آنے والے انگریزوں یا پھر کسی دوسرے حکمران کے حصے میں میں ذرا برابر بھی نہیں آسکا۔

    یہ تو صحیح ہے کہ انہوں نے مغل بادشاہ شاہ ہمایوں کو ہی شکست دے کر کرحکو مت حاصل کی تھی لیکن مختصر ترین دور حکومت گزارنے والے شیر شاہ سوری نے ہندوستان میں جو نقوش چھوڑے وہ آج تک قائم اور باقی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک جو سڑک جرنیلی شاہراہ (موجودہ جی ٹی روڈ) تعمیر کی تھی وہ آج بھی کروڑوں لوگوں کے روزانہ استعمال میں ہے۔ انہوں نے اس پرمسافروں کے بے شمارسرائیں تعمیر کیں،وہاں انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ان کے جانوروں کے لئے بھی خوراک اور کھانے پینے،ٹھرنے، نماز کے لیے ہر جگہ مساجد اور مکمل تحفظ تک کے ایسے انتظامات کیے جن کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی،

    اس زمانے میں انہوں نے سڑکوں کی چوڑائی دو سو بیس اور ایک سو دس فٹ رکھی، فاصلے ماپنے کے لیے کوس مینار بنائے ،اسی سڑک پر ڈاک کا جو نظام شکیل دیا وہ اتنا سبک رفتار تھا کہ آج کی دنیا میں بھی اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ساری سڑکوں پر سائے کے لئے پھل دار درخت لگائے،ان کے پانچ سالہ دور حکومت میں پورے ہندوستان میں اس قدر امن و امان تھا کہ کہیں سے بھی چوری اور ڈاکے کی کوئی خبر نہیں ملتی تھی۔

    انہوں نے پہلی مرتبہ باقاعدہ ہسپتال بنائے اور وہاں طبی عملے کی تعیناتی کی، دینی و عصری تعلیم کے ادارے قائم کئے۔ غربا و مساکین کی فلاح کا وظائف سے انتظام کیا ۔انہوں نے روپیہ کے نام سے کرنسی تشکیل دیں جو اس وقت دنیا کے آٹھ ملکوں کی کرنسی ہے تو دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی بھی یہی کرنسی ہے۔شیر شاہ سوری نے آج سے پونے چھ سو سال پہلے پورے ہندوستان کی زمینوں کو ایک ایک انچ کے حساب سے پیدائش کرکے نمبر لگائے، چھوٹے بڑےراستوں کی تشکیل کی اور زمینوں کی ہر طرح سے مکمل درجہ بندی اور تقسیم کی۔

    آج بھی ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں ان کا ہی زمینی تقسیم و درجہ بندی کا نظام چل رہا ہے ۔وہ اپنی اس با کمال حکومت کے ساتھ ساتھ مسلسل جنگیں بھی لڑتے رہے،ان کی کی دنیا سے سے رخصتی بھی ایک جنگ کے دوران لگنے والے جان لیوا زخم کے نتیجے میں ہوئی۔جب وہ اس دار فانی سے کوچ کر رہے تھے تو وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میری زندگی کی سب سے بڑا حسرت یہ تھی کہ میں سرزمین ہندوستان جسے محفوظ بنا چکا ہوں،کے بعد مکہ مکرمہ تک ایک ایسا محفوظ راستہ بنا دوں جس پر یہاں کے مسلمان چل کر حج اور عمرہ ادا کرنےپرامن طور پر پہنچ سکیں۔اس لیے انھوں نے سمندر میں میں مضبوط پل کی شکل میں پلیٹ فارم بنانے کی منصوبہ بندی سوچی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہرطرح کی حفاظت کے ساتھ عازمین حج و عمرہ کشتیوں کے پر خطر سفر سے بھی نجات پا سکیں۔

    شیر شاہ سوری کے قائم کردہ انتظامی ڈھانچے پر ہی بعد میں باقی مغلوں نے جیسی تیسی حکومت چلائی اور جب انگریز آیا تو تب سے اب تک نظام وہی ہے۔

    حالیہ رمضان المبارک کے ابتدائی ایام میں جب مجھے ضلع ننکانہ کے علاقہ سید والا میں جانا ہوا تو وہاں دوستوں نے بتایا کہ یہاں دریائے راوی کے کنارے اسی شیر شاہ سوری کے تعمیر کردہ ایک قلعے کے آثار موجود جنہیں دیکھنے کے لئے لیے وہاں جانا ہوا۔

    شیر شاہ سوری نے یہ قلعہ مقامی آبادی سے باہر بنایا تھا اور اس کی بارہ برجیوں بنائی گئی تھی لیکن اب اس کے آثار میں سے صرف ایک برجی ہی بچی ہے۔اس برجی کی چوٹی پر نصب کلس بالکل الگ تھلگ دکھائی دیا تو میں نے پوچھا کہ یہ تو اس کے ساتھ کا نہیں لگتا، یہ کب اور کس نے لگایا تواس پر مقامی دوستوں نے بتایا کہ کہ چند سال پہلے یہاں بھارت سے آئے ہوئے سکھوں نے اپنے ساتھ مقامی انتظامیہ سے بھاری سکیورٹی لی اور یہاں آکر انہوں نے برجی پر نصب پرانی کلس اتاری اور یہ سٹیل کا کلس نصب کردیا۔ان کے اس عمل کے بعد انکشاف ہوا کہ یہ کلس سونے کا تھا اور مقامی آبادی یا انتظامیہ نے اس پر کبھی غور ہی نہیں کیا تھا لیکن جنہیں جنہیں علم ہوا وہ یہ اڑا لے گئے اور یوں ہم دیکھتے رہ گئے۔

    ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ حکومت کے پاس وسائل نہیں، کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ شیر شاہ سوری نے صرف پانچ سالہ دور حکومت میں اتنے وسائل کہاں سے اور کیسے جمع کیے اور کیسے اتنی ترقی و ترویج کے ساتھ منظم حکومت کرکے دکھا دی۔ سچ یہی ہے کہ بات نیت کی ہے اگر وہ ٹھیک ہو تو ساری مرادیں پوری ہوجاتی ہیں۔

  • واٹس ایپ کا جلد ہی زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    واٹس ایپ کا جلد ہی زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    سلیکان و یلی: فیس بک کی میسیجنگ ایپ واٹس ایپ صارفین کے اکاؤنٹ کو مزید محفوظ بنانے کے لیے جلد ہی ایک زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ٹیکنالوجی ویب سائٹ WABeta کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ او ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) کے نام پر ہونے والی دھوکا دہی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک نئے فیچر پر کام کر رہا ہے جسے ’فلیش کال‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    اس نئے فیچر کی بدولت اب صارفین کو اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے 6 عدد پر مشتمل سیکیورٹی کوڈ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ یہ فیچر خود کار طریقے سے صارف کے فون نمبر کی تصدیق کردے گا تاہم فلیش کال فیچر کے لیے استعمال کنندہ واٹس ایپ کو فون کال کے لاگ تک رسائی دینا ضروری ہوگی جس کے بعد واٹس ایپ خود ہی کال وصول کرکے صارف کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کی تصدیق کردے گا۔


    ویب سائٹ کے مطابق یہ فیچر اینڈرائیڈ ورژن 2.21.11.7 کے واٹس ایپ میں موجود ہے رپورٹ میں شائع ہونے والے اسکرین شاٹ کے مطابق فلیش کالز ایک آپشنل فیچر ہے اور یہ استعمال کنندہ پر منحصر ہے کہ وہ واٹس ایپ کو اپنے کال لاگ تک رسائی دے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ واٹس ایپ اپنے صارفین کو او ٹی پی کی آڑ میں ہونے والی اس دھوکا دہی سے متعدد بار آگاہ کرچکی ہے جس میں سائبر کرمنلز استعمال کنندہ کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کے لیے عموما گمراہ کن پیغامات بھیجتے تھے-

    کہ آپ کو او ٹی پی کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کرنا ضروری ہے، اور نہ کرنے کی صورت میں آپ کے اکاؤنٹ کو ڈی ایکٹیویٹ کردیا جائے گا صارف جیسے ہی او ٹی پی ہیکر کو بھیجتا ہے وہ اس کا اکاؤنٹ ہیک کرلیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ویب سائٹ ویب بیٹا انفو نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ واٹس ایپ نے ‘نیو آرکائیو’ نامی فیچر کی آزمائش شروع کردی ہے جو صارفین کو غیر ضروری چیٹ سے دور رکھے گا۔

    پہلے اگر آپ کسی غیر ضروری چیٹ کو آرکائیو کرتے تھے تو وہ مکمل طور پر نظروں سے دور نہیں ہوتی تھی، وہ شخص جس کی چیٹ آرکائیو ہوتی تھی اس کے میسج بھیجنے پر اسکرین کے اوپر اس کا نام شو ہوجاتا تھا اور آرکائیو ہوئی چیٹ خود باخود ختم ہوجاتی تھی۔


    تاہم اب آرکائیو ہونے والی غیر ضروری چیٹ نیا پیغام آنے کی صورت میں بھی اسکرین کے اوپر نہیں دکھائی دے گی۔

    یہ سہولت فی الحال بہت مخصوص بیٹا ورژن استعمال کرنے والوں کی رسائی میں ہے جب کہ عام اینڈرائیڈ ورژن کے صارفین کچھ عرصے بعد اسے استعمال کر سکیں گے۔

    اس آپشن کا انتخاب کرنے کیلئے سب سے پہلے ایپ کی سیٹنگز میں جائیں اور چیٹ کے آپشن کو منتخب کرلیں۔

    وہاں آپ کو ‘کیپ چیٹس آرکائیوڈ ‘کا آپشن نظر آئے گا جسے ان ایبل کردیں، ان ایبل کرنے کے بعد چیٹ سب سے نیچے چلی جائے گی، اس طرح آپ اس فیچر سے مستفید ہو سکیں گے تاہم یہ فیچر واٹس ایپ بیٹا 2.21.11.1 ورژن کیلئے دستیاب ہوگا۔

  • کائی سے مضبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار

    کائی سے مضبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار

    سائنس دانوں نے کائی کوفوڈ سپلیمنٹ میں استعمال کرنے کے بعد اس کا ایک اور ماحولیاتی استعمال تلاش کرلیا ہے جی ہاں اب کئی سے مظبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی :سائنس جریدے ایڈوانسڈ فنکشنل میٹریلز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق نیدر لینڈ کی یونیورسٹی آف راکیسٹر کے محقیقین کائی سے مظبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    اس تحقیق میں شامل ریسرچر سری کانتھ بالا سبرا مینیئن کا کہنا ہے کہ کائی سے بنے لباس مستقبل میں فیشن کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ سہہ جہتی پرنٹنگ جاندار فنکشنل مادوں کی بناوٹ کے لیےایک طاقت ور ٹیکنالوجی ہے اور اس جان دار مادے کے ماحولیاتی اور انسانوں کے لیے بننے والی ایپلی کیشنز کے لیے بہت امکانات ہیں۔

    اس مادے سے نہ صرف کپڑے، بلکہ مصنوعی پتے، فوٹو سینتھیسز کھال بھی تیار کی جاسکتی ہے-

    انہوں نے بتایا کہ ہم نے کائی کو فوٹو سینتھیسز مادے میں پرنٹ کرنے کے لیے تھری ڈی پرنٹر اور نئی بائیو پرنٹنگ تکنیک استعمال کی۔

    فوٹو سینتھیسز مادے کو تخلیق کرنےکے لیے ہم نے بے جان بیکٹریل سیلولوز(پو دوں کے خلیوں کی دیواروں میں موجود نشاستہ) سے آغاز کیا بیکڑیل سیلولوز ایک نامیاتی مادہ ہے جو کہ بیکٹریا کی جانب سے پیدا اور خارج کیا جاتا ہے، بیکٹریل سیلولوز میں لچک، سختی، مظبوطی اور اپنی شکل میں رہنے کی خاصیت پائی جاتی ہے۔

    سائنسدانوں نے بیکٹریل سیلولوز کو بطور کپڑا اورخرد بینی کائی ( مائیکرو الجی) کو بطور روشنائی استعمال کیا اور پرنٹنگ کے لیے نئی بائیو پرنٹنگ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے جاندار کائی کو بیکٹریل سیلولوز پر پرنٹ کیا۔

    خورد بینی کائی اور بے جان بیکٹیریل سیلولوز کے ملاپ کے نتیجے میں ایک ایسا انوکھا مادہ بنا جو کہ کائی کا فوٹو سینتھیسز معیاراور بیکٹریل سیلولوز کی مظبوطی رکھتا ہے، یہ مادہ سخت، لچک دار ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست، بایو گریڈایبل اور بنانے میں سادہ ہے۔

    محقیقین کا کہنا ہے کہ اس مادے سے نہ صرف کپڑے، بلکہ مصنوعی پتے، فوٹو سینتھیسز کھال بھی تیار کی جاسکتی ہے۔ کائی سے بننے والے کپڑوں سے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے ماحول پر مرتب ہونے والے منفی اثرات میں کمی آئے گی جبکہ اسے عام کپڑوں کی طرح بار بار دھونے کی ضرورت بھی نہیں پیش آئے گی جس سے پانی کی بچت بھی ہوگی۔

    یاد رہے کہ کائی کے کپڑے بنانےکے لیے ماضی میں بھی کئی تجربات کیے جاچکے ہیں تاہم ان کی کپڑوں کی پائیداری کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔