Baaghi TV

Category: بلاگ

  • روزہ، تنہائی کی اصلاح اور تقویٰ کا پیغام     بقلم : عمران محمدی

    روزہ، تنہائی کی اصلاح اور تقویٰ کا پیغام بقلم : عمران محمدی

    روزہ، تنہائی کی اصلاح اور تقویٰ کا پیغام

    بقلم
    عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    =============

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جائو۔
    البقرة : 183

    شریعت میں روزہ کی نیت سے صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور جماع سے رکے رہنے کا نام صوم ہے۔

    اسلامی روزے کا مقصد نفس کو عذاب دینا نہیں بلکہ دل میں تقویٰ یعنی بچنے کی عادت پیدا کرنا ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے صبح سے شام تک ان حلال چیزوں سے بچے گا تو وہ ان چیزوں سے جو ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، ان سے روزہ کی حالت میں بدرجۂ اولیٰ بچے گا۔ اس طرح روزہ گناہوں سے بچنے کا اور بچنے کی عادت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
    [ اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ]
    [ بخاری، الصیام، باب فضل الصوم ۱۸۹۴]
    ’’روزہ (گناہوں اور آگ سے) ڈھال ہے۔‘‘

    روزے رکھنے کا مقصد

    اللہ تعالیٰ نے جب روزہ رکھنا فرض کیا تو اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا
    لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    تاکہ تم تقوی اختیار کر لو۔
    البقرة : 183
    یعنی روزے رکھ کر روزہ دار شخص متقی بن جائے

    تقوی کی حقیقت کیا ہے

    صحیح بخاری میں ہے
    ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
    لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ التَّقْوَى حَتَّى يَدَعَ مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ
    (بخاری معلقا)
    کوئی شخص تقوی کی حقیقت یعنی اصل روح کو تب تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہر اس کام کو نہ چھوڑ دے جو اس کے سینے میں کھٹکے

    حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    ”متقی وہ ہے جو حرام سے بچے اور فرائض بجا لائے ۔ “
    (تفسیر ابن کثیر)

    ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے ؟
    انہوں نے کہا کبھی کانٹے دار راستے میں چلے ہو ؟ جیسے وہاں کپڑوں کو اور جسم کو بچاتے ہو ایسے ہی گناہوں سے بال بال بچنے کا نام تقویٰ ہے ۔
    اس واقعہ کی سند ضعیف ہے لیکن بہرحال تقوی کے تعلق سے اصل بات یہی ہے جو اس میں بیان ہوئی ہے کہ گناہوں سے ایسے بچ کر زندگی گزاری جائے جیسے خاردار جھاڑیوں کے بیچ و بیچ گزرنے والے کانٹوں سے بچ کر چلتے ہیں

    ابن معتز شاعر کا قول ہے ۔
    «خل الذنوب صغیرھا ….
    وکبیرھا ذاک التقی ….
    واصنع کماش فوق ارض ….
    الشوک یحدذر مایری ….
    لا تحقرن صغیرۃ ….
    ان الجبال من الحصی»
    یعنی چھوٹے اور بڑے اور سب گناہوں کو چھوڑ دو یہی تقویٰ ہے ۔ ایسے رہو جیسے کانٹوں والی راہ پر چلنے والا انسان ۔ چھوٹے گناہ کو بھی ہلکا نہ جانو ۔ دیکھو پہاڑ کنکروں سے ہی بن جاتے ہیں ۔

    تقوی اور ٹریفک پولیس افسر کی مثال

    اکثر سڑکوں پر یہ منظر دیکھا گیا ہے کہ جب گاڑی چلانے والوں کو پتہ چل جائے کہ آگے ٹریفک پولیس کا ایک ایسا افسر ناکے پر کھڑا ہے کہ جو مخلص ہے جھوٹ نہیں بولتا اور جھوٹ سے کام نہیں لیتا رشوت نہیں لیتا
    اور میری گاڑی کے ڈاکومنٹس بھی پورے نہیں ہیں اور اگر میں وہاں پہنچ گیا تو سو، پچاس کی رشوت سے کام نہیں چلے گا تو ایسے حالات میں کتنے لوگ ہیں جو ناکے سے پہلے ہی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے ہیں یا سروس لائن پر آ جاتے ہیں یا کسی ہوٹل پر رک جاتے ہیں یا کسی پٹرول پمپ پر اپنی گاڑی کھڑی کر لیتے ہیں ہیں اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں سامنے والا افسر مخلص ہے رشوت نہیں چلے گی اور ہمیں اپنی غلطی پر سزا یا جرمانہ ادا کرنا ہی پڑے گا

    روزے دار کے تقوی کی حقیقت و کیفیت

    جب روزے دار اکیلا ہوتا ہے اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا بھوک بھی لگی ہوتی ہے پیاس بھی لگی ہوتی ہے کھانے اور پینے کی اشیاء بھی دستیاب ہوتی ہیں لیکن وہ صرف اس لیے کچھ کھاتا ہے نہ کچھ پیتا ہے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے تب روزے دار شخص تقوی کی اس معراج پر ہوتا ہے جو شرع میں مطلوب ہیں

    اور عبادات میں یہی وہ درجہ احسان ہے جس کے متعلق
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»
    (بخاری كِتَابُ الإِيمَانِ،بَابُ سُؤَالِ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الإِيمَانِ، وَالإِسْلاَمِ، وَالإِحْسَانِ، وَعِلْمِ السَّاعَةِ،50)
    کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

    روزے کا پیغام، مت سمجھو کہ مجھے کوئی نہیں دیکھ رہا

    ابن کثیر نے امام احمد رحمہ اللہ کے متعلق نقل فرمایا کہ وہ یہ دو اشعار پڑھا کرتے تھے، جو یا تو ان کے ہیں یا کسی اور کے ہیں
    إِذَا مَا خَلَوْتَ، الدَّهْرَ، يَوْماً، فَلَا تَقُلْ
    خَلَوْتُ وَلَكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيبُ
    کسی دن خلوت میں ہو تو یہ مت کہنا میں تنہا ہوں، بلکہ کہو: مجھ پر ایک نگران ہے
    ولاَ تحْسَبَنَّ اللهَ يَغْفَلُ سَاعَةً
    وَلَا أنَ مَا يُخْفَى عَلَيْهِ يَغِيْبُ
    اللہ تعالی کو ایک لمحہ کیلیے بھی غافل مت سمجھنا، اور نہ یہ سمجھنا کہ اوجھل چیز اس سے پوشیدہ ہوتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے

    فرمایا
    أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى
    تو کیا اس نے یہ نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
    العلق : 14

    اور فرمایا
    أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
    کیاوہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔
    الملك : 14

    اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے

    اتنا لطیف کہ اس سے ایک ذرہ بھی نہیں چھپ سکتا

    فرمایا
    إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
    بے شک اللہ وہ ہے جس پر کوئی چیز نہ زمین میں چھپی رہتی ہے اور نہ آسمان میں۔
    آل عمران : 5

    فرمایا
    عَالِمِ الْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
    جو سب چھپی چیزیں جاننے والا ہے ! اس سے ذرہ برابر چیز نہ آسمانوں میں چھپی رہتی ہے اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی کوئی چیز ہے اور نہ بڑی مگرایک واضح کتاب میں ہے۔
    سبا : 3

    اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ کون، کب، کہاں، کیا کررہا ہے

    فرمایا
    وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
    اور وہ جانتا ہے جو تم کماتے ہو۔
    الأنعام : 3

    سورہ رعد میں ہے
    عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ
    وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا، بہت بڑا، نہایت بلند ہے۔
    الرعد : 9
    سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
    برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے اور جو اسے بلند آواز سے کرے اور وہ جو رات کو بالکل چھپا ہوا ہے اور (جو) دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔
    الرعد : 10

    اللہ تعالیٰ درختوں کے ایک ایک پتے اور زمین کی تہوں میں پڑے دانے کو بھی جانتے ہیں

    فرمایا
    وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
    اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں، انھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتّا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی تر ہے اور نہ خشک مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔
    الأنعام : 59

    دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں

    یہ بات مشہور ہے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں ہیں اور حقیقت بھی ایسے ہی ہے نہ صرف یہ کہ دیواریں بلکہ کائنات کی ہر چیز کے کان ہیں اس سے وہ آوازوں کو سنتے ہیں اور محفوظ کرتے ہیں

    لہذا اے انسان❗ تو گناہ کے لیے کہاں چھپ سکتا ہے جہاں بھی چھپے گا وہاں کا ایک ایک ذرہ تیرے خلاف گواہی دینے والا ہوگا

    فرمایا
    وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
    اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اورزمین کے لشکر ہیں اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
    الفتح : 7

    زمین

    اے انسان❗ تو جہاں بھی چھپے گا آخر ہوگا تو زمین پر ہی ناں اور یاد رکھ یہ زمین بھی رپورٹ کرے گی کہ تو کیا کرتا رہا تھا
    فرمایا
    إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا
    جب زمین سخت ہلا دی جائے گی، اس کا سخت ہلایا جانا۔
    الزلزلة : 1
    وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا
    اور زمین اپنے بوجھ نکال باہر کرے گی ۔
    الزلزلة : 2
    وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا
    اور انسان کہے گا اسے کیا ہے؟
    الزلزلة : 3
    يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا
    اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔
    الزلزلة : 4
    بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا
    اس لیے کہ تیرے رب نے اسے وحی کی ہو گی۔
    الزلزلة : 5

    کراما کاتبین

    اے گناہ گار انسان❗ تو ان فرشتوں سے کیسے چھپے گا جو تیری ہربات لکھنے کے پابند ہیں
    اس سے مراد اعمال کی کاؤنٹنگ کرنے والے فرشتے ہیں

    فرمایا
    وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ
    حالانکہ بلاشبہ تم پر یقینا نگہبان (مقرر) ہیں۔
    الإنفطار : 10
    كِرَامًا كَاتِبِينَ
    جو بہت عزت والے ہیں، لکھنے والے ہیں۔
    الإنفطار : 11
    يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ
    وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔
    الإنفطار : 12

    سورہ ق میں ہے
    إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ
    جب (اس کے ہر قول و فعل کو) دو لینے والے لیتے ہیں، جو دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہیں۔
    ق : 17
    مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے۔
    ق : 18

    أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ
    یا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کا راز اور ان کی سرگوشی نہیں سنتے، کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں۔
    الزخرف : 80

    انسان کے ماحول اور استعمال کی چیزیں بھی انسانی افعال اور اعمال پر گواہی دینے والی ہیں

    اے گناہ گار انسان❗ تو ارد گرد کی اشیاء سے کیسے چھپ سکے گا

    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَ حَتّٰی يُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَتُخْبِرُهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ ]
    [ترمذي، الفتن، باب ما جاء في کلام السباع : ۲۱۸۱، و قال الألباني صحیح و رواہ أحمد : 84/3، ح : ۱۱۷۹۸ ]
    ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارا اور جوتے کا تسمہ بات کرے گا اور اس کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے گھر والوں نے اس کے بعد کیا کیا۔‘‘

    عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    [ وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيْحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ ]
    [ بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام : ۳۵۷۹ ]
    ’’ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) کھانے کی تسبیح سنتے تھے، جب کہ وہ کھایا جا رہا ہوتا تھا۔‘‘

    درخت اور پودے

    فرمایا
    وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
    اور بے تنے کے پودے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں ۔
    الرحمن : 6

    انسانی اعضاء رپورٹ کریں گے

    اے انسان ❗سب سے بڑ کر یہ بات کہ تو اپنے ہی جسم کے اعضاء سے کیسے چھپ سکے گا جو ہروقت تیرے ساتھ ہی رہتے ہیں

    فرمایا
    يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
    جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
    النور : 24

    اور فرمایا
    الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
    آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اوران کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں اس کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھے۔
    يس : 65

    مرغی وہاں ذبح کرنی ہے جہاں آپ کو کوئی بھی نہ دیکھ رہا ہو

    ایک حکایت مشہور ہے کہ ایک استاد نے اپنے چند شاگردوں سے کہا کہ میرے پاس ایک ایک مرغی ذبح کرکے لاو لیکن یہ خیال رہے کہ آپ میں سے ہر ایک نے تنہائی میں اس جگہ مرغی ذبح کرنی ہے جہاں آپ کو کوئی اور نہ دیکھ رہا ہو اگلے دن اس کے شاگرد ذبح کی ہوئی مرغی لے کر استاد کے پاس پہنچ گئے لیکن ایک شاگرد ایسا تھا جس کے ہاتھ میں زندہ مرغی تھی
    استاد نے پوچھا آپ نے مرغی ذبح کیوں نہیں کی تو اس نے کہا مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی کہ جہاں مجھے کوئی بھی نہ دیکھ رہا ہو میں جہاں بھی چھپتا تھا جہاں بھی جاتا تھا ہر جگہ مجھے اللہ تعالی دیکھ رہے ہوتے تھے اس لئے میں زندہ مرغی ہی لے کر واپس آگیا ہوں

    ایک بکری ہمیں فروخت کر دو بکریوں کا مالک کونسا دیکھ رہا ہے

    نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے باہر کسی سفر پر تھے ان کے ساتھ دیگر لوگ بھی تھے ایک جگہ پڑاؤ کیا کھانے کے لیے دستر خوان بچھایا اسی دوران وہاں سے ایک چرواہا گزرا

    اسے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آؤ اس دسترخوان پر بیٹھو
    اس نے کہا میں نے روزہ رکھا ہوا ہے

    عبداللہ رضی اللہ عنہ نے(تعجب سے ) اسے کہا اتنے سخت گرمی والے دن اور ان پتھریلے ٹیلوں میں بکریوں کے پیچھے چلتے ہوئے تو نے روزہ رکھا ہوا ہے –

    اس نے کہا میں آنے والے دنوں کی تیاری کر رہا ہوں

    عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کیا تو اپنی ایک بکری ہمیں بیچے گا ہم اس کا گوشت بھی تمہیں کھلائیں گے کہ تو اس کے ساتھ روزہ افطار کر لینا اور تجھے اس کی قیمت بھی ادا کریں گے

    اس نے کہا یہ بکریاں میری نہیں ہے یہ میرے مالکوں کی ہیں

    اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے(امتحان کی غرض سے) کہا کہ اگر تو انہیں کہہ دے گا کہ بکری کو بھیڑیا کھا گیا ہے تو تیرے مالک تجھے کچھ نہیں کہیں گے

    چرواہے نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے آگے چل پڑا
    فأين الله ؟؟؟
    تو پھر اللہ کہاں ہے
    (یعنی اگر میرے مالک نہیں دیکھ رہے تو اللہ تو دیکھ رہا ہے ناں)

    اس کے چلے جانے کے بعد ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ مسلسل یہ جملہ دہراتے رہے
    فأين الله ؟؟؟ فأين الله ؟؟؟
    اللہ کہاں ہے، اللہ کہاں ہے

    پھر جب وہ مدینہ واپس لوٹے تو انہوں نے اس چرواہے کہ مالک سے بات چیت کرکے اس سے بکریاں بھی خرید لیں اور بکریوں کا چرواہا بھی خرید لیا پھر اس چرواہے کو آزاد کرکے وہ ساری بکریاں اس کو تحفے میں دے دیں
    [ صفة الصفوة (١٨٨/٢)
    شعب الإيمان للبیھقی 5291
    مختصر العلو للألباني
    وسندہ حسن ]

    ھالینڈ میں ایک عرب نوجوان کا واقعہ

    ایک عرب نوجوان کا کہنا ہے کہ : اُن دنوں جب میں ھالینڈ میں رہ رہا تھا تو ایک دن جلدی میں ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھا۔ بتی لال تھی اور سگنل کے آس پاس کوئی نہیں تھا، میں نے بھی بریک لگانے کی ضرورت محسوس نہ کی اور سیدھا نکل گیا۔ چند دن کے بعد میرے گھر پر ڈاک کے ذریعے سے اس خلاف ورزی:
    "وائلیشن” کا ٹکٹ پہنچ گیا۔ جو اُس زمانے میں بھی 150 یورو کے برابر تھا۔

    ٹکٹ کے ساتھ لف خط میں خلاف ورزی کی تاریخ اور جگہ کا نام دیا گیا تھا، اس خلاف ورزی کے بارے میں چند سوالات پوچھے گئے تھے، ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ آپ کو اس پر کوئی اعتراض تو نہیں؟

    میں نے بلا توقف جواب لکھ بھیجا: جی ہاں، مجھے اعتراض ہے۔ کیونکہ میں اس سڑک سے گزرا ہی نہیں اور نہ ہی میں نے اس خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

    میں نے یہ جان بوجھ کر لکھا تھا اور یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ لوگ اس سے آگے میرے ساتھ کیا کرتے ہیں؟

    میرے خط کے جواب میں لگ بھگ ایک ہفتے کے بعد محکمے کی طرف سے ایک جواب ملا۔ ان کے خط میں میری کار کی تین تصاویر بھی ساتھ ڈالی گئی تھیں۔ پہلی سگنل توڑنے سے پہلے کی تھی، دوسری میں میں گزر رہا تھا اور بتی لال تھی، تیسری میں میں چوک سے گزر چکا تھا اور بتی ابھی تک بھی لال تھی۔

    یعنی سیدھا سادا معاملہ تھا، میں جرم کا مرتکب تھا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ میں مرتکب ہوا تھا اور بس۔ نہ بھاگنے کی گنجائش اور نہ مکر جانے کا سوال۔ چپکے سے اقرار نامہ لکھ بھیجا، جرمانہ ادا کیا اور چُپ ہو گیا۔

    لیکن یاد رہے کہ اللہ تعالٰی کے پاس بھی فوٹو مشین ہے❗
    سوچیں کہ بندے کی بنی ہوئی مشین سے تو ہم بھاگ نہیں سکتے پھر اللہ کی بنائی ہوئی مشین سے کیسے بھاگ سکیں گے
    کدھر ہوگا بھاگنے کا راستہ؟

    سورہ قیامۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ
    انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟
    القيامة : 10

    روزے دار کا اللہ تعالیٰ سے رازدارانہ تعلقِ خاص

    چونکہ روزے دار کی تنہائی خاص طور پر اللہ تعالی کے لیے ہوتی ہے اور وہ علیحدگی میں بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں سمجھتے ہوئے حرام کا مرتکب نہیں ہوتا اس لیے اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور اس کے اجروثواب کی کیفیت بھی باقی اعمال سے الگ ہی حیثیت رکھتی ہے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی :  إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.

     ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2 : 305، رقم :  1638
    ’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے :  روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔‘

    وفی روایۃ
    کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأنَا اَجْزِيْ بِهِ.

     بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب هل يقول انی صائم اذا شتم، 2 : 673، رقم : 1805
    ’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے۔ پس یہ (روزہ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘

    اور فرمایا
    وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ
    اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، دو باغ ہیں۔
    الرحمن : 46

    تنہائی کی اصلاح کس قدر ضروری ہے

    روزہ، ایک مسلمان انسان کی تنہائی کو درست کرنے کا بہترین زریعہ ہے

    بعض لوگ ظاہر میں دین دار اور عبادت گزار ہوتے ہیں لیکن وہ تنہائی میں گناہوں سے اپنے دامن کو نہیں بچاتے۔ ایسے لوگوں کی دینداری انہیں کچھ کام نہ آئے گی۔ ان کی عبادت اور نیکیوں کی ﷲ تعالیٰ کے ہاں کوئی قیمت نہ ہوگی ۔
    روز قیامت ان کی ساری نیکیاں بے وقعت و بے حیثیت اور رائیگاں ہوسکتی ہیں ۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی روشنی میں سمجھئیے کہ تنہائی کی اصلاح کس قدر اہمیت رکھتی ہے

    سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ” لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي، يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ، بِيضًا، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا ".
    قَالَ ثَوْبَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا، جَلِّهِمْ لَنَا ؛ أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ.
    قَالَ : ” أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ، وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ، وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا ".
    (ابن ماجہ وصححہ الالبانی رحمہ اللہ)
    (میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو روزِ قیامت تہامہ کے پہاڑوں جیسی چمکدار نیکیاں لے کر آئیں گے، لیکن اللہ تعالی انہیں اڑتی ہوئی دھول بنا دے گا)
    اس پر سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: "اللہ کے رسول! ہمیں ان کے اوصاف واضح کر کے بتلائیں کہیں ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جائیں اور ہمیں پتا بھی نہ چلے!”
    تو آپ ﷺ نے فرمایا: (وہ تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری قوم سے ہیں، وہ بھی رات کو اسی طرح قیام کرتے ہوں گے جس طرح تم  کرتے ہو، لیکن [ان میں منفی بات یہ ہے کہ] وہ جس وقت تنہا ہوتے ہیں تو اللہ تعالی کے حرام کردہ کام کر بیٹھتے ہیں )

    یوسف علیہ السلام کی تنہائی، امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ

    روزہ رکھ کر تنہائی میں صرف کھانا پینا ہی منع نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کو ہر قسم کے حرام کام سے بچا کر رکھنا اصل تقویٰ اور مقصد رمضان ہے

    اس سلسلے میں اللہ کے نبی یوسف علیہ الصلاۃ و السلام کا عظیم واقعہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے

    قرآن میں ہے
    وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
    اور اس عورت نے، جس کے گھر میں وہ تھا، اسے اس کے نفس سے پھسلایا اور دروازے اچھی طرح بند کرلیے اور کہنے لگی جلدی آ۔ اس نے کہا اللہ کی پناہ، بے شک وہ میرا مالک ہے، اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنایا۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ ظالم فلاح نہیں پاتے۔
    يوسف : 23

    اہل علم فرماتے ہیں کہ اس وقت یوسف علیہ السلام کو گناہ پر آمادہ کرنے والی ہر چیز موجود تھی اور روکنے والی دنیا کی کوئی چیز نہ تھی۔ یوسف علیہ السلام کی صحت، جوانی، قوت، خلوت، فریق ثانی کا حسن، پیش کش، اس پر اصرار، غرض ہر چیز ہی بہکا دینے والی تھی، جب کہ انسان کو روکنے والی چیز اس کی اپنی جسمانی یا جنسی کمزوری ہو سکتی ہے، یا فریق ثانی کے حسن کی کمی، یا اس کی طرف سے انکار یا مزاحمت کا امکان یا راز فاش ہونے کا خطرہ یا اپنے خاندان، قوم اور لوگوں میں رسوائی کا خوف، ان میں سے کوئی چیز ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھی۔ اٹھتی جوانی تھی، بے مثال حسن تھا، دروازے بند تھے، دوسری طرف سے پیش کش بلکہ درخواست اور اس پر اصرار تھا، اپنے وطن سے دور تھے کہ قبیلے یا قوم میں رسوائی کا ڈر ہو۔ یہاں کتنے ہی لوگ باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو اپنوں سے دور ہونے کی وجہ سے بہک جاتے ہیں، پھر دروازے خوب بند تھے، راز فاش ہونے کی کوئی صورت ہی نہ تھی اور جب مالکہ خود کہہ رہی ہو تو سزا کا کیا خوف؟
    (تفسیر القرآن الکریم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)

    اہل علم نے یوسف علیہ السلام کے زنا سے بچنے کو عفت کا کمال قرار دیا ہے، کیونکہ دنیاوی لحاظ سے انھیں زنا سے روکنے والی کوئی چیز موجود نہیں تھی، حتیٰ کہ ان کے پاس حرّیت بھی نہیں تھی

    مریم علیہا السلام اور تنہائی میں گناہ سے بچنے کا عظیم نمونہ

    یہ اتنی حیاء والی اور پاکباز عورت تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مثال بیان کی ہے
    فرمایا
    وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا
    اور عمران کی بیٹی مریم کی (مثال دی ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی
    التحریم 12

    جب تنہائی میں ایک فرشتہ انسانی شکل میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے اپنی عصمت کے دفاع کیلئے فوراً اللہ کی پناہ حاصل کی

    فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا
    تو ہم نے اس کی طرف اپنا خاص فرشتہ بھیجا تو اس نے اس کے لیے ایک پورے انسان کی شکل اختیار کی۔
    مريم : 17

    قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا
    اس نے کہا بے شک میں تجھ سے رحمان کی پناہ چاہتی ہوں، اگر تو کوئی ڈر رکھنے والا ہے۔
    مريم : 18

    تنہائی میں، اپنے رب سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے رب کے عرش کا سایہ

    حدیث میں عرش کا سایہ حاصل کرنے والے سات خوش بختوں میں ایک وہ بندہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ]
    [ مسلم : ۱۰۳۱۔ بخاری، الزکاۃ، باب فضل إخفاء الصدقۃ : ۶۴۷۹ ]
    ’’اور ایسا آدمی جسے کوئی منصب اور خوبصورتی والی عورت برائی کی طرف بلائے تو وہ کہے میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں ۔‘‘

    روزہ،جھوٹ چھوڑنے کا نام ہے

    روزے کو عربی میں ”صَوْمٌ“ کہتے ہیں
    اصل میں یہ کسی بھی کام سے رک جانے کو کہتے ہیں، کھانا پینا ہو یا کلام ہو یا چلنا پھرنا، اسی لیے گھوڑا چلنے سے یا چارا کھانے سے رکا ہوا ہو تو اسے ”فَرَسٌ صَائِمٌ“ کہتے ہیں
    رکی ہوئی ہوا کو بھی ”صَوْمٌ“ کہتے ہیں۔
    (تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ
    [ بخاری، الصیام، باب من لم یدع قول الزور : ۱۹۰۳، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
    ’’جو شخص جھوٹی بات اور اس پر عمل نہ چھوڑے اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘

    روزہ رکھ کر نماز نہ پڑھنے والے، جھوٹ بولنے والے، دھوکا دینے والے، سارا دن ٹی وی پر کان اور آنکھ کے زنا میں مصروف رہنے والے، غرض کسی بھی نافرمانی کا ارتکاب کرنے والے سوچ لیں کہ انھیں روزہ رکھنے سے کیا ملا؟

  • سعادت ماہ رمضان         ازقلم :عظمی ربانی

    سعادت ماہ رمضان ازقلم :عظمی ربانی

    سعادت ماہ رمضان

    ازقلم :عظمی ربانی

    رحمتوں کا مہینہ رمضان آگیا
    بن کے یہ رب کا مہمان آگیا

    اس کا حصول اے مومنو! سعادت ہے تمہاری
    دن رات کی مشقت ریاضت ہے تمہاری

    لوٹ لو نیکیوں کی سیل ہے لگی ہوئی
    ہر نیکی ستر گنا اجر میں بندھی ہوئی

    وقت آگیا روٹھے رب کو منانے کا
    اپنی التجائیں اور دعائیں رب کو سنانے کا

    کیا اچھا ہے دن بھر روزہ داروں کا صیام
    کیا خوب ہے نیکوکاروں کا رات بھر قیام

    رحمان۔۔۔۔ ماہ مقدس میں رحمتیں ہے دکھا رہا
    منادی دے دے کر اپنی طرف ہے بلا رہا

    احسان مانو رب کا کرو شکر اس کا ادا
    نہ ضیاع کرنا وقت کا وہ رہتا نہیں سدا

    صدقہ خیرات کے بڑھ چڑھ کر کرو کام
    کرو کوشش کار خیر کی ہو سکے تو صبح و شام

    تلاوت قرآن ہے سکونِ قلب و جان
    اس کو سینے سے لگا کر راحت کا پیدا کرو سامان

    اس کی قدر کو جانو اپنے آپ کو پہچانو
    واسطے عبادت کے پیدا کیا اس بات کو تم بھی جانو

    صیام و قیام کرتے اک اور عہد کریں
    بقیہ ایام زندگی بھی ہم سپرد خدا کریں
    *********

  • کشف الاسرار:ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں    تحریر: کاشف علی ہاشمی

    کشف الاسرار:ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں تحریر: کاشف علی ہاشمی

    ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
    تحریر کاشف علی ہاشمی
    کشف الاسرار
    قسط نمبر 1
    تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد یکا یک ہر طرف سے ان کے کارکنان نکلے روڈ اک بلاک کر دئیے جس سے عامة الناس اور عام آدمی متاثر ہواسب سے پہلے تو اگر تحریک کے لوگ محض اپنے قائد کے لیے نکلے ہیں تو یہ انکا پرسنل مسلہ ہے اس پر عوام سے اتنی ذیادتی بالکل برداشت نہیں-

    دوسرا یہ کہ انکا مطالبہ سعد نہیں بلکہ سفیر کو نکالنا ہے تو اس حوالے سے ہر غیرت مند مسلمان انکے ساتھ کھڑا ہے البتہ طریقہ کار سے اختلاف سب کو ہے-

    دیکھیں روڈ بلاک کرنا لوگوں کو تکلیف دینا لوگوں کی۔گاڑیاں جلانا پولیس والوں مارنا بالکل قابل مزمت ہے اگر آپ نبیؐ کے حوالے سے کھڑے اگر آپ مذہب کے حوالے سے کھڑے ہیں تو پھر مذہب پر اور نبیؐ کی تعلیمات پر پہلے خود سختی سے عمل کریں پھر ہم دوسروں پر بھی نافذ کرنے کی بات کریں-

    لیکن اگر آپ خود نبیؐ کے تعلیمات کے منافی کام کریں تو ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ غلامان محمدؐ کیسے ہیں عام عوام میں یہ تاثر اک پریشر گروپ اور غنڈہ گردی جیسا جارہاہے یقینًا کفار کا حملہ بہت بڑا ہے مگر کیا یہ بڑا حملہ ہمیں حضرت محمدؐ کی تعلیمات سے باہر لے جاسکتا ہے؟ کیا ہم اپنے آقا کےفرمودات کے خلاف خود ہی کھڑے ہو جائیں تو جیت کس کی ہے ؟ اور ہارا کون؟

    مجھے ہمارے لبیک والے بھائی بتاو ہم اپنی حکومت کو کیا کہہ رہے ہیں سفیر نکالو کیوں؟ یہ ہماری دینی غیرت کا تقاضہ ہے اور اسلام کے مطابق ہے یہاں تک بات ٹھیک ہے لیکن جو طریقہ ہم نے اختیار کیا ہے کیا وہ عین اسلام کے مطابق ہے؟

    جب ہم اپنے نفس پر اسلام غالب نہیں کر سکتے جب ہم بے گناہ لوگوں کو قتل کر دیں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی املاک کو جلادیں جب ہم اپنے ہی مسلمانو کا راستہ روک لیں اور اس کو جہاد جیسا عظیم عمل بھی گرداننے لگیں تو یقینًا یہ زیادتی ہے یہ کیسا جہاد ہے جس میں مسلمانو کا جانی و مالی نقصان ہورہا ہے اور مسلمان باہم دست و گریباں ہیں اور سرکارؐ کے احکامات کو نظر انداز کیا جارہاہے
    جذبات الگ چیز ہے-

    کیا ٹی ٹی پی والے بھی پہلے یہ سب کچھ اسلام اور جہاد کے نام پر نہیں کر چکے کیا داعش کا موقف یہی نہیں ہے؟ کہ جو ان مطابق نہیں مانے گا وہ کافر منافق اور واجب القتل ہے یہ ہاتھ اگر اٹھے تو آقا کے احکامات کے مطابق اٹھے. ورنہ اس کے علاوہ شمشیر تو کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
    اب زرا ہم حکومتی موقف کو بھی دیکھ لیتے ہیں کیا وجہ ہے کہ حکومت سفیر کو نہیں نکال رہی ۔ وجہ ہے فیٹف-

    اچھا یہ فیٹف ہے کیا بلا. جس کی وجہ سے پہلے ہم نے ملک فلاحی کام کرنے والی جماعتوں کو بین کیا جہاد کشمیر سے پیر پیچھے ہٹائے اور اب فرانس کی ناقابل برداشت بدمعاشی کی باوجود ہم اس کے آگے سرنگوں ہیں-

    فیٹف بنیادی طور پر کفار کے سات ممالک کے کہنے پر 1989 میں بنائی گئی فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس ہے جو کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے بظاہر دہشت گرد گروپوں کو سرمائے استعمال سے روکنے کے لیے بنائی گئی ہے-

    اس پر تفصیلی بات ہم پھر کسی مضمون میں کریں گے فی الحال ہم اس کا معاملہ دیکھتے ہیں کہ فرانس نے سرکاری طور جو بدمعاشی کی ہے اور جو نبیؐ کی توہین کی ہے اور اس پر ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ہے جبکہ ہمارے میاوں میاوں کرتے مسلمان ممالک اور ان کے سربراہان سمجھتے ہیں کہ وہ چند بیانات سے اپنے لوگوں کو ٹھنڈا کر لیں درحقیقت ہمارے پڑھے لکھے طبقے اور حکمران مکڈیا زیادہ تر الحاد کی طرف مائل ہیں کیونکہ ہم تعلیم لینے اپنے بچوں کوباہر بھیجتے اور انکہ دین پر اتنی پختگی پہلے نہیں ہوتی وہاں سیکولر لبرل ماحول میں غریب ملک کے یہ بچے سمجھتے ہیں ترقی مذہب سے ہٹ کر ملتی ہے اور ہماری یونیورسٹیاں اور ادارے الحاد کی جانب زیادہ جھکاو دکھا رہے ہیں اور اس جا کوئی موثر جواب بھی نہیں دیا جارہا ہے جس کی جانب اقبال نے اشارہ بھی کیا تھا

    ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
    امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں
    بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
    تھا ابراہیم پدر اور پسر آذر ہیں

    آج کا پڑھا لکھا مسلمان جو سرمائے اور دولت کو کل کائنات سمجھتا ہے اور اس کے پیچھے بھاگتے اس نوجوان کو جس کی تربیت اب صحابہ کرام کے واقعات اور سیرت نبیؐ کے بجائے مسٹر چپس اور شیلے جیسے لوگوں کو پڑھ کر ہوئی ہے وہ نہیں سمجھ پاتا کہ معیشت اہم ہے یا عزت اہم ہے اور عزت بھی اس ہستی کی کہ جس کے لیے مال و عزت اور جان قربان کرنے کا عزم نا ہو تو ایمان ہی نہیں مانا جاتا
    سیدنا انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ” کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے اہل وعیال، اس کے مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔” (صحیح مسلم)۔

    ایک اور روایت سیدنا عبداللہ بن ہشامؓ اس طرح نقل کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم کے ساتھ تھے اور آپ سیدنا عمر بن الخطابؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدناعمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ()! یقینا آپ ()مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میرے نفس کے جس پر نبی کریم نے ارشاد فرمایا:

    ” نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے یہاں تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہارے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہوجاؤں۔” یعنی اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔زبانِ رسالتؐ سے یہ بات سننی تھی کہ سیدنا عمر ؓ نے عرض کیا ” ہاں! اللہ کی قسم ، اب آپ () مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔”
    رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ” ہاں اب اے عمر۔” یعنی اب تمہارا ایمان مکمل ہوا(صحیح بخاری)۔
    یعنی ایمان ہی قبول نہیں بلکہ وہ تمہارا اسلام ہے ایمان نہیں-

    بھلا ایمان بھی کبھی مجبور ہوتا ہے ایمان تو جان وارنے کا نام ہے ایمان تو مٹ جانے کا نام ہے ایمان تو 313 کو بے سروسامانی کے عالم میں اک بڑے لشکر کے سامنے تلواروں کے مقابل ڈنڈوں سے کھڑا کر دیتا ہے ، ایمان تو پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوکے پیاسے خندق کھودتے سر پر کھڑے دشمن کے سامنے ڈٹ جاتا ہے ایمان تو چند ہزار کا لشکر لاکھوں کے جدید ترین اسلحے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اسے تنکوں کی طرح بکھیر دیتا ہے ، ایمان تو سات ہزار کا لشکر دشمن کی سرزمین پر اترتا اپنے ملک سے دور دشمن سرزمین چھوٹا سا لشکر ہے دشمن بہت زیادہ ہے راستوں کا پتہ نہیں مگر ایمان یہاں کشتیاں جلا دیتا ہے –

    تم کہتے ہو چند نوکریاں اور معیشت کا مسلہ ہے بے غیرت بن جائیں درحقیقت مسلمانو کی معیشت تو جہاد تھی نبیؐ نے فرمایا میرا رزق میرے نیزے کی انی کے نیچے ہے جب سے جہاد چھوڑا ہے معیشت بھی عزت بھی اور اب غیرت بھی جارہی ہے
    کتنا افسوس ہے کہ جب مسلمان کہتا ہے معاشی مسلہ ہے ہم نبیؐ کی توہین برداشت کر لیں

    غافل آداب سے سکان زميں کيسے ہيں
    شوخ و گستاخ يہ پستی کے مکيں کيسے ہيں

    اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے
    تھا جو مسجود ملائک’ يہ وہی آدم ہے
    عالم کيف ہے’ دانائے رموز کم ہے
    ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
    ہم سمجھتے کہ معاشی مسلہ فیٹف کے ہاتھ ہے اور اللہ ایمان سب کچھ ختم کئیے بیٹھے ہیں اصل بات یہ ہے کہ ہماری ایمان پر تربیت نہیں ہوئی یہی وجہ کہ اک طرف ہم معاملات کرتے وقت نبیؐ کی تعلیمات کو ہمارا مذہبی طبقہ بھی پیش کرنے سے قاصر ہے اور ہمارا سیکولر طبقہ اس سے ویسے ہی دور ہے اسلام تو سب جانتے ہیں ایمانیات کے مقدمے بابت کم ہی بات ہوتی ہے ان شاءاللہ آئندہ مضامین میں ایمان کیا ہے کیسے بنتا ہے کمزوریاں کہاں ہیں پہ مفصل لکھیں گے جزاک اللہ خیرا
    وما علینا الالبلاغ

  • رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں سام سنگ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی

    رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں سام سنگ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی

    سمارٹ فون کمپنی سام سنگ نے رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں اپنے صارفین کو خوشخبری سنائی ہے-

    باغی ٹی وی : سمارٹ فون کمپنی سام سنگ نے رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں اپنے مختلف اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہےجبکہ کچھ کے ساتھ خصوصی انعامات بھی دیئے جائیں گے۔

    سام سنگ دنیا میں سب سے زیادہ اسمارٹ فونز فروخت کرنے والی کمپنی ہے اور پاکستان میں بھی اس کی ڈیوائسز کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے سام سنگ کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران جن فونز کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے وہ صرف کمپنی کے ای اسٹور سے ہی خریدیں جاسکیں گے-

    کمپنی نے ایس 21 پلس کی قیمت ایک لاکھ 94 ہزار 999 روپے سے کم کرکے ایک لاکھ 84 ہزار 999روپے (مفت بڈز پلس و اڈاپٹر)-

    جبکہ گلیکسی ایس 21 الٹرا 2 لاکھ 29 ہزار 999 روپے کی بجائے 10 ہزار روپے کمی کے ساتھ 2 لاکھ 19 ہزار 999 روپے (مفت بڈز پلس و اڈاپٹر) میں دستیاب ہوگا۔

    کمپنی نے نئے فلیگ شپ گلیکسی ایس 21 کی قیمت کی 7 ہزار روپے کمی کی ہے اور یہ اب ایک لاکھ 69 ہزار 999 روپے کی بجائے ایک لاکھ 62 ہزار 999 روپے دستیاب ہوگا جس کے ساتھ مفت بڈز پلس اور اڈاپٹر بھی دیا جائے گا۔

    گلیکسی ایس 20 ایف ای، گلیکسی 52 اور اے 72 کی قیمت میں تو کمی نہیں کی گئی مگر ان کے ساتھ مفت گلیکسی فٹ 2 دیا جائے گا جبکہ گلیکسی اے 32 کے ساتھ ہینڈز فری دی جائے گی۔

    گلیکسی اے 71 کی قیمت ڈیڑھ ہزار روپے کمی سے 67 ہزار 999 روپے سے 65 ہزار 499 روپے کردی گئی ہے۔

    گلیکسی اے 51 کا 6 جی بی ریم والا ماڈل 2 ہزار روپے سستا کیا گیا جو 49 ہزار 999 روپے کی بجائے 47 ہزار 999 روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ 8 جی بی ریم والے ماڈل کی قیمت ساڑھے 3 ہزار روپے کمی سے 54 ہزار 999 روپے کی جگہ 51 ہزار 499 روپے ہوگئی ہے۔

    گلیکسی اے 31 کو 36 ہزار 999 روپے کی بجائے 35 ہزار 499 روپے میں خریدا جاسکے گا جبکہ گلیکسی اے 12 (64 جی بی اسٹوریج ماڈل) 32 ہزار 999 روپے کی بجائے 30 ہزار 999 روپے اور اے 12 (128 جی بی اسٹوریج ماڈل) 32 ہزار 999 روپے کی بجائے 30 ہزار 999 روپے میں دستیاب ہوگا۔

    گلیکسی اے 02 ایس کا جی بی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 19 ہزار 999 روپے کی بجائے 19 ہزار 299 روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 23 ہزار 999 روپے کی بجائے 21 ہزار 999 روپے میں دستیاب ہوگا۔

    گلیکسی اے 02 کا 3 جی بی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 18 سو روپے کمی کے ساتھ 17 ہزار 999 روپے کی بجائے 16 ہزار روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ 64 جی بی اسٹوریج والا ورژن 19 ہزار 799 روپے کی بجائے 17 ہزار 500 روپے میں خریدا جاسکتا ہے۔

    یہ پیشکش 14 اپریل سے 15 مئی 2021 تک برقرار رہے گی۔

  • وزیر اعظم آزاد کشمیر نے محکمہ جات کے ملازمین کیلئے خوشخبری سنا دی

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے محکمہ جات کے ملازمین کیلئے خوشخبری سنا دی

    وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ محکمہ جات کے ملازمین کے دیرینہ مطالبات اور ان کے مسائل کے حل کےلئے کابینہ نے 1ارب80کروڑ روپے کے پیکج کی مالیاتی و انتظامی منظوری دیدی ہے ۔ 15ہزار پرائمری ٹیچرز،8400جونئیر ٹیچرز اور ساڑھے5ہزار سینئر ٹیچرز کی اپ گریڈیشن کی منظوری دیدی گئی ہے ۔کابینہ نے ہیلتھ اور نرسنز ٹریننگ الاﺅنس، سپیشل ہیلتھ الاﺅنس ، پیرامیڈیکس کے سروس اسٹرکچر،ہیلتھ فاﺅنڈیشن کے قیام سمیت صحت عامہ کے ملازمین کے جملہ مطالبات کی منظوری بھی دیدی ہے۔

    کابینہ نے پولیس ایڈمنسٹریشن الاﺅنس، سیکرٹریٹ الاﺅنس ، ٹیکنیکل ملازمین کی اپ گریڈیشن سمیت مختلف محکمہ جات کے ملازمین کے دیرینہ مطالبات کی بمطابق سفارشات منظوری دیدی ہے ۔ آزادکشمیر کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا پیکج ہے جو ہمارے معاشی طور پر مستحکم ہونے کی عکاس ہے ۔ جب آزادکشمیر لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تھی تو میں نے اپنا پہلا دورہ لاہور ذکوة منافع فنڈسے ادھار لیکر کیا تھالیکن آج اللہ کے فضل وکرم سے ہم مالیاتی طور پر خودکفیل ہیں ۔

    ہماری حکومت پر بے بنیاد اعتراض کرنے والے سامنے آکر بات کریں ‘انہیں دلیل کے ساتھ جواب دیں گے ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں ہم نے اداروں کو تباہ کیا وہ یہ بتائیں کہ انہوں نے ادارہ بنایا ہی کونسا تھا؟آئینی طور پر آخری دن تک وزیراعظم ہوںاور وزیراعظم کاختیارات مدت ختم ہونے تک میرے پاس ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روز آزادجمو وکشمیرکابینہ اجلاس کے بعدوزراءحکومت چوہدری طارق فاروق، ڈاکٹر نجیب نقی، چوہدری محمدعزیز، بیرسٹر افتخار گیلانی، سردارفاروق احمدطاہر اور ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی کے ہمراہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ہماری جماعت اور حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہےکہ ہم نے ریاست میں میرٹ بحال کیا ، آزادکشمیر حکومت کومالیاتی اور انتظامی طور پر خودکفیل بنایا۔ انہوں نے کہاکہ مختلف محکمہ جات کے ملازمین کے ا پ گریڈیشن اور تنخواہوں کے معاملات کے حل کےلئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جس نے ذیلی محکمہ جات سے سفارشات لیکر کابینہ میں پیش کیں۔ جن کی روشنی میں آج ہم نے اس تاریخی پیکج کا اعلان کیاتاکہ ملازمین ذہنی طور پر مطمئن ہو کر ریاست کی خدمت کر سکیں ۔

    عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے حوالے سے کابینہ کمیٹی میںمعاملات زیر کار ہیں اور کمیٹی سفارشات کے بعد ان پر مزید فیصلہ کیا جائے گا۔اس موقع پر وزیر تعلیم بیرسٹرافتخار گیلانی نے کہا کہ پرائمری اساتذہ کو بی 7اور جونئیر کو بی 9سے اپ گریڈ کر کے بی11دیتے ہوئے انہیں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ٹیچر کا نام دیدیا گیا ہے جبکہ سینئر ٹیچرز بی16کو ایک اضافی انکریمنٹ دینے کی منظوری دید ی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی پہلے سے نافذ کردہ ٹائم سکیل فارمولہ اسی طرح موجود رہے گا۔ اس اپ گریڈیشن سے 28ہزار900ٹیچرز مستفید ہونگے۔

    انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے اقتدار میں آتے ہیں اساتذہ کی بھرتیوں کےلئے این ٹی ایس کا نفاذ کیا اور میٹرک پی ٹی سی ، سی ٹی کے تعلیمی معیار کو بی اے اور بی ایڈ میںمبدل کیا۔ اس طرح پرائمری اور جونئیر اساتذہ کی تعلیمی قابلیت مساوی ہونے کی بنا پر انہیں مساوی سکیل دیا گیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1983کے بعد سے سکیل اپ گریڈیشن کا یہ سب سے بڑا پیکج ہے جو ہماری حکومت کا ایک کارنامہ ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اساتذہ بھی اپنا فرض ادا کریں گے اور اپنی ذمہ داریاں پوری طرح نبھائیں گے ۔

    وزیر خزانہ و صحت ڈاکٹر نجیب نقی خان نے کہا کہ کابینہ نے جولائی2015سے گریڈ 1سے 20تک کے ہیلتھ الاﺅنس میں اضافے ، نرسز کے ڈریس الاﺅنس میں اضافے ، ٹریننگ الاﺅنس کو 15ہزار سے بڑھا کر 20ہزار کرنے ، ڈاکٹرز کے نان پرکٹسنگ الاﺅنس میں اضافے ،پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ الاﺅنس میں اضافے ، ہاﺅس آفیسرز کے اعزازیہ میں اضافے ،پیرامیڈیکس کے سروس اسٹرکچر کی منظوری، میڈیکل اسسٹنٹ کو پیرامیڈیکس میں مبدل کرنے، نرسز کے مختلف کیڈرز کو اپ گریڈ کرنے ، لیڈی ہیلتھ کو سول سرونٹ بنانے ، ہیلتھ فاﺅنڈیشن اور کالج آف نرسنگ کے قیام کی منظوری دیدی ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ یوٹیلٹی الاﺅنس کے حوالہ سے سیکرٹریٹ الاونس اور سپیشل الاﺅنس کا جائزہ لیتے ہوئے تما م ملازمین کو دیے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کابینہ نے کلرکس فاﺅنڈیشن کے قیام ، ایجوکیشن کے منسٹریل سٹاف کی ترقیابی کے قواعد کے منظوری، سیکرٹریٹ الاﺅنس کی ملازمین کو بلا تخصیص فراہمی اور پولیس ایڈمنسٹریشن الاﺅنس دیے جانے کے علاوہ ٹیکنیکل ملازمین ،ڈیٹا انٹری آپریٹرز کو بی14دیتے ہوئے سٹینوگرافر میں مبدل کیے جانے اور محکمہ برقیات کے ساتھ انجینئرز،ڈرافٹمین،ہیڈ ڈرافٹمنین اور ٹریسر کی آسامیوں کی اپ گریڈیشن کی بھی منظوری دیدی ہے ۔

    وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز نے کہا کہ ہماری حکومت نے ریاستی ملازمین کے مطالبات اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے پورے کیے ۔ محکمہ تعمیرات کے عامہ کے دس سال سے زائد سروس کے حامل 504قلیوں کو مستقل کر دیا گیاہے ۔ کابینہ نے پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ انجینئرز کو ٹیکنیکل الاﺅنس دینے اور سب انجینئرز سمیت ٹیکنیکل ملازمین جس محکمہ میں بھی کام کررہے ہیں کا سکیل اپ گریڈ کیے جانے کی منظوری دیدی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمد نوازشریف کی جانب سے ریاست کا بجٹ دوگنا کرنے کے بعد آزادکشمیر بھر کی سڑکوں کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے ۔

    شفاف ٹینڈرنگ کی وجہ سے 3 ار ب سے زائد کی بچت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1ارب80 کروڑ روپے سے زائد کے اس سکیل اپ گریڈیشن پیکج دینے پر وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان اور ریاستی بیورو کریسی مبارکباد کی مستحق ہے ۔ ہماری حکومت اور جماعت نے ساڑھے چار سال کے دوران تاریخی تعمیر وترقی کروائی ، لوگوں کے مسائل حل کیے اور سماجی انصاف کی فراہمی یقینی بنائی ۔

  • فیس بک نے رمضان المبارک سے متعلق نیا فیچر متعارف کرا دیا

    فیس بک نے رمضان المبارک سے متعلق نیا فیچر متعارف کرا دیا

    رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی سوشل میڈیا ایپ فیس بک نے ہیش ٹیگ MonthOfGood# کے نام سے ایک مہم شروع کی ہے –

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے فیس بک نیوز روم نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ گزشتہ برس ہماری کمیونٹی نے ‘Happy Ramadan ‘ کی مہم کے تحت 2 کروڑ سے زائد فیس بک پر پوسٹس اور کمنٹس کا تبادلہ کیا’۔

    مزید کہا گیا کہ گزشتہ برس عید کے پہلے روز واٹس ایپ ویڈیو کالز کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا تھا۔

    فیس بک نے کہا کہ کورونا کے باعث رکاوٹوں کے باوجود رمضان اچھے کام کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کا اہم موقع ہے۔

    فیس بک کے مطابق پورے مہینے میں ، ہم تخلیق کاروں ، کمیونٹیز ، پبلشرز اور این جی اوز کے ساتھ مل کر ان لوگوں کو نمایاں کریں گے جو اچھے کام کر رہے ہیں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مزید برآں ، جو لوگ مہینے کے دوران خیراتی عطیات دینے یا اپنی زکوٰ ۃ کو پورا کرنے کے خواہاں ہیں وہ غیر منافع بخش افراد کو تلاش کرنے کے لئے فیس بک اور انسٹاگرام کا رخ کرسکتے ہیں۔جس میں چند غیر ملکی فاؤنڈیشن ہزاروں خیراتی اداروں میں سے صرف چند ایک فلاحی کارکن ہیں جو رمضان میں فنڈ جمع کرنے والے افراد کو کھانے کی ٹوکریاں ، سامان اور ہنگامی امداد فراہم کرتے ہیں جنھیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    فوٹو بشکریہ فیس بُک
    رپورٹ کے مطابق رمضان میں لوگ انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے نئے اسٹیکرز MonthOfGood کے ساتھ اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ اچھے کام شیئر کرسکیں گے۔

    جیسا کہ اپنے دوستوں اور گھر والوں کا سحر یا افطار کے موقع پر شکریہ ادا کرنا، کوئی اچھا کام کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا تاکہ دیگر کے اندر بھی اس طرح کے کاموں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔

    فیس بک ایپ میں نئے اوتار اسٹیکرز بھی موجود ہوں گے اس کے ساتھ ساتھ میسنجر اور میسنجر کڈز ہپر نئے کیمرا ایفیکٹس اور اسٹیکرز بھی موجود ہوں گے۔

    فوٹو بشکریہ فیس بُک
    خیال رہے کہ گزشتہ برس فیس بک اور انسٹاگرام پر سال 2019 کے مقابلے میں ماہ رمضان میں فنڈریزنگ میں دگنا اضافہ ہوا تھااسی لیے فیس بک نے اس مرتبہ ماہ مقدس میں دنیا بھر میں موجود اپنے 2 ارب سے زائد صارفین کو MonthOfGood# مہم کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔

  • مریخ کی ’مارس روور‘ بھی انسانوں کی طرح ’سیلفی بخار‘ میں مبتلا

    مریخ کی ’مارس روور‘ بھی انسانوں کی طرح ’سیلفی بخار‘ میں مبتلا

    رواں برس فروری میں مریخ کی سطح پر اترنے والی خودکار گاڑی ’پرسیویرینس‘ بھی انسانوں کی طرح ’’سیلفی بخار‘‘ میں مبتلا ہوگئی ہے جس نے گزشتہ روز اپنے ’سر‘ کی سیلفی لے کر زمین پر بھیجی ہے۔

    باغی ٹی وی :ناسا کی رپورٹ کے مطابق ناسا کے پرسیویرینس مارس روور نے انجیونٹی ہیلی کاپٹر کے ساتھ سیلفی لی ، جسے 6 اپریل2021 ، مریخ پر مشن کے 46 ویں دن ، یا اس تصویر میں تقریبا 13 فٹ (4 میٹر) دور اس تصویر میں دیکھا گیا۔ جبر نے روٹر کے روبوٹ بازو کے سرے واقع ، واٹسن (وائڈ اینگل ٹوپوگرافک سینسر برائے آپریشنز اینڈ اینجیرنگ) کے نام سے کیمرا کا استعمال کرتے ہوئے اس تصویر پرکو حاصل کیا، جو رمن (Luminescence for Organics and Chemicals) کے ساتھ رہائش پزیر ماحول سکین کرنا ہے۔


    جب روور ہیلی کاپٹر کی طرف دیکھ رہا تھا ، اس وقت انفرادیت کے ساتھ استقامت کے ساتھ سیلفی لی گئی62 انفرادی تصاویر لی گئیں جب وہ واٹسن کیمرے کے سامنے تھا ان ’مریخی سیلفیوں‘ کے ذریعے زمین پر موجود سائنسدان اس روور کی عمومی کارکردگی یا کسی خرابی پر نظر رکھتے ہیں-

    واضح رہے کہ مریخ پر بھیجی گئی یہ خودکار گاڑی یا ’مارس روور‘ کئی طرح کے کیمروں اور مشاہداتی آلات سے لیس ہے جن میں سے ایک کا نام ’واٹسن‘ ہے جو پرسیویرینس کے روبوٹ بازو (روبوٹک آرم) کے سرے پر نصب ہے۔

    رپورٹ کے مطابق واٹسن بذاتِ خود ’’شرلاک‘‘ (SHERLOC) نامی ایک نظام کا حصہ ہے جو پرسیویرینس پر نصب ہے؛ اور جس کا مقصد مریخ کے ماحول میں زندگی سے تعلق رکھنے والے سالمات (مالیکیولز) کی تلاش اور شناخت کرنا ہے۔

    ’’شرلاک‘‘ اپنے لیزر اسپیکٹرو اسکوپ کے ذریعے مریخی مٹی، چٹانوں اور پتھروں کا تجزیہ کرتا ہے جبکہ اس کام کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کےلیے وہ خاص طرح کے دو کیمروں سے مدد لیتا ہے۔

    مریخی روور کی سیلفی لینے والا کیمرا ’واٹسن‘ بھی انہی میں سے ایک کیمرا ہے جسے پرسیویرینس کے لمبے ’’بازو‘‘ کے بالکل سرے پر نصب کیا گیا ہے۔

    ایسی ہی ’مریخی سیلفیوں‘ کے ذریعے زمین پر موجود سائنسدان، کروڑوں کلومیٹر دور اس گاڑی پر نظر رکھتے ہیں تاکہ اس کی عمومی کارکردگی یا کسی خرابی سے باخبر رہ سکیں۔

    رواں ماہ 7 اپریل کو جب ناسا نے پرسیویرینس کی سیلفی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کرائی تو کمنٹس میں بعض لوگوں نے پرسیویرینس اور ’جونی فائیو‘ نامی سائنس فکشن فلم روبوٹ کے ’چہروں‘ میں مماثلت تک تلاش کرلی۔ یہ روبوٹ 1986 میں ریلیز ہونے والی فلم’شارٹ سرکٹ‘ کا مرکزی کردار بھی تھا۔

    مارس 2020/ پرسیویرینس کی  خام تصویریں دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں-

  • حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عوام کو کیوں؟  از قلم غنی محمود قصوری

    حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عوام کو کیوں؟ از قلم غنی محمود قصوری

    حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عوام کو کیوں؟

    از قلم غنی محمود قصوری

    وطن عزیر میں رواج بن گیا ہے کہ حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عام پاکستانیوں کو دی جاتی ہے مسئلہ کوئی بھی ہو حکمران اپنے محلوں میں عیاشیاں کرتے ہیں جبکہ ان کی غلطیوں کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے

    کل لاہور سے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا جو کہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک انتہائی غلط قدم ہے کیونکہ گورنمنٹ و تحریک لبیک کے مابین معائدہ ہو چکا ہے کہ 20 اپریل سے پہلے گورنمنٹ کسی بھی ٹی ایل پی راہنما کو گرفتار نہیں کرے گی مگر گورنمنٹ نے وعدے کی خلاف ورزی کی

    سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد پورے پاکستان میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے اور مظاہرین نے مین شاہراہوں کو بند کر دیا جس کے باعث ٹریفک کا نظام جام ہو کر رہ گیا
    مسافر لوگ اپنے گھروں کو پہنچنے کی خاطر سو رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے گاؤں دیہات کے راستوں سے اپنے گھروں کو پہنچتے رہے

    تحریک لبیک پاکستان نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا جو کہ شرعاً بلکل جائز ہے اور علامت عشق رسول ہے مگر اس جمہوری نظام حکومت نے ان مطالبات کو نا پہلے مانا اور نا اب
    جس پر مظاہرین و پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں اور دو افراد جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے حالانکہ مظاہرین بھی مسلمان اور پولیس والے بھی مسلمان
    یعنی فرانس کا مسلمان مارنے کا مقصد بغیر کچھ کئے ہی پورا

    تحریک لبیک پاکستان کا مطالبہ بلکل جائز اور حق پر مبنی ہے کیونکہ فرمان نبوی ہے کہ

    رسول اللہ نے ارشاد فرمایا
    اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں (صحیح بخاری)

    مگر گورنمنٹ نہیں مانی جس کی جوابدہ روز قیامت گورنمنٹ ہے عام عوام نہیں
    راستے بند ہونے سے کئی لوگ سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں
    عفت مآب مائیں،بہنیں،بیٹیاں، بچے،بوڑھے اور جوان راستوں میں پریشان بیٹھے ہیں حالانکہ راستوں کے متعلق واضع حدیث ہے کہ

    آپؐ نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے سے بچو‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا اگر ہماری مجبوری ہو تو آپؐ نے فرمایا: تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ راستے کا حق کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: ’’نظر نیچی رکھنا‘ ایذا نہ دینا‘ سلام کا جواب دینا‘ اچھی بات کہنا‘ برائی سے منع کرنا۔‘‘ (مسلم: 4815)

    ایک اور حدیث ہے کہ

    [من اذی المسلمین فی طرقہم وجبت علیہ لعنتہم] (طبرانی)

    ’جو شخص مسلمانوں کو ان کے راستوں میں تکلیف دے اس پر لعنت واجب ہو گئی

    مگر افسوس کہ ایک انتہائی جائز مطالبے کے لئے ہم نے نبی کریم کا منع کردہ راستہ اختیار کیا اور لاکھوں مسلمانوں کو ایذا دی مسلمانوں کو اس ایذا دینے پر ایک سورہ قرآن پیش خدمت ہے

    لَا تُبْطِلُوْا صَدُقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی۔۔۔البقرہ

    اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو

    افسوسناک بات ہے کہ جائز مطالبہ جو کہ ایک صدقہ ہے اسے ہم مسلمانوں کو ایذا دے کر ضائع کر رہے ہیں اور پھر ماہ رمضان کا آغاز بھی ہو چکا ہے لوگ سودا سلف لینے جا رہے ہیں تاکہ رمضان کی اچھے سے تیاری کر سکیں اور ان مسافروں میں بیشتر نفلی روزے سے بھی ہیں

    خدارا حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا پاکستانیوں کو نا دو اسلام آباد میں سفارتخانہ ہے اسے بند کرو وزیراعظم ہاؤس و صدر پاکستان ہاؤس ہے اس کا گھیراؤ کرو کیا قصور ہے ان مسلمان پاکستانیوں کا ؟
    یہ بھی کلمہ گو ہیں یہ بھی نبی کریم کی حرمت پر جان لٹانے والے ہیں

    اللہ کے بندوں تمہارے عزیز اقارب سے لوگ فرانس میں نوکریاں کر رہے ہیں ان کو واپس بلاؤ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو تاکہ ان کی معیشت کمزور ہو اور ان کو ایذا پہنچے مگر یہ کیا تم نے تو اپنوں کو ہی ایذا دینی شروع کر دی جس کی ممانعت قرآن بھی کرتا ہے اور حدیث بھی

    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آم

  • مسئلہ فلسطین اور غرب و عرب       تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین اور غرب و عرب تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین اور غرب و عرب

    تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    جب بھی فلسطین کی بات ہوتی ہے تو اذہان میں حق اور باطل کا پیمانہ سامنے آجاتا ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح سے ہے کہ جب جب کربلا کا ذکر ہوتا ہے تو حسینی کردار یزیدی کردار کو شکست خوردہ کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اذہان حق اور باطل کے معرکہ کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں ۔ یہ فارمولہ رہتی دنیاتک قائم و دائم رہے گا ۔ حق کی قوتیں باطل قوتوں کے ساتھ نبرد آزما رہیں گی اور ممکن ہے کبھی ظاہری طور پر حق کی قوت کو دو قدم پیچھے ہونا پڑتا ہو لیکن آخر کار حق ہی ہے جو غالب آتا ہے اور غالب ہی آنے والاہے ۔ بالآخر باطل کو نابود ہونا ہی ہے ۔

    فلسطین کی جب جب بات ہوتی ہے تو ہمارے سامنے ایک ایسا خاکہ کھنچا چلا جاتا ہے کہ جس میں صہیونی جرائم کی ایک طویل داستان رقم ہے ۔ صہیونیوں کے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کی تاریخ ایک سو سال پر محیط ہو چکی ہے ۔ جیسا کہ مقالہ کے عنوان میں ہی بیان کیا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے خلاف صہیونی جرائم میں عالم مغرب کی آشیرباد یا شراکت داری ۔ جی ہاں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔

    تاریخ کا مطالعہ کرنے سے علم ہوتا ہے کہ سرزمین فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست بنانے کے لئے برٹش آرتھر بالفور ،امریکی ٹریو مین اور اسی طرح دیگر مغربی ممالک کے مختلف سیاست مداروں نے صہیونیوں کا ساتھ دیا ۔ صہیونیوں کے ان مغربی آقاءوں نے نہ صرف فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست کے قیام کے لئے ان کا ساتھ دیا بلکہ فلسطین پر صہیونیوں کے ناجائش تسلط کے لئے صہیونیوں کو ہر قسم کی آزادی فراہم کی تا کہ وہ فلسطینی عوام کا قتل کریں اور ان کو انہی کی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کریں ۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی حالات میں اگر صرف فلسطین کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں پائی جاتی ہے کہ عالم مغرب نے صہیونیوں کے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کی پشت پناہی اور ان کی مدد کی ہے ۔ اس لئے اگر آج کہ جدید دنیا میں یہ بات کہی جائے کہ فلسطینی عوام کے خلاف صہیونیوں کے ایک سو سالہ جرائم اور ظلم میں امریکہ، برطانیہ او ر دیگر مغربی ممالک برابر کے شریک ہیں تو یہ بات بالکل بے جا نہ ہو گی ۔

    آج بین الاقوامی فورم پر امریکی اور مغربی سامراج فلسطین پر قائم غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست کا حامی نظر آتا ہے ۔ مغربی ذراءع ابلاغ کی حالت تو اس طرح کی ہے جیسے صہیونیوں کے غلام ہوں ۔ امریکی اور یورپی سامراج فلسطین میں جاری قتل و غارت گری اور ہر قسم کی انسانی حقوق کی پامالی سمیت نا انصافیوں میں برابر کا شریک جرم ہے ۔

    آج جو کچھ جدید دنیا میں فلسطین کے ساتھ کیا جا رہاہے یہ خود جدید دنیا کے چہرے پر ایک بد نما داغ کی مانند ہے ۔ عالمی اداروں کی کھلی بے حسی ان کی کمزوری اور حیثیت کو واضح کر رہی ہے ۔ آج فلسطینی عوام دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم عوام ہے ۔ جہاں اس معاملہ میں غرب برابر کا شریک ہے وہاں آج عرب بھی اس معاملہ میں صہیونیوں کے جرائم میں برابر کا شریک کار ہے ۔ آج مغربی دنیا کی ایماء پر عرب دنیا کے چند ممالک فلسطینی عوام کے خلاف کھڑے ہو چکے ہیں ۔ انہیں فلسطین کی مذہبی اور ثقافتی حمیت سے بھی کوئی غرض نہیں ۔ ان کے لئے فلسطینی عوام کا بہنے والا خون شاید نالیوں میں بہنے والے گندے پانی سے بھی کم قیمت رکھتا ہے ۔ انتہائی دکھ کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ مسلم دنیا کی سب سے مقدس زمین حجاز و یثرب پر قائم آل سعود کی حکومت اسرائیل کے ساتھ یارانہ بنا چکی ہے ۔ یمن میں براہ راست امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کا قتل عام کر رہی ہے ۔ بحرین ، عرب امارات اور ان کی دیکھا دیکھی کچھ افریقی ممالک بھی اسی راستہ پر چل نکلے ہیں ۔ انہوں نے قدس شریف کا سودا کرنے کی ٹھان رکھی ہے ۔ ان کو انبیاء علیہم السلام کی سرزمین سے کوئی لگاءو باقی نہیں رہا ۔ اب ایسے حالات میں یہ عرب حکمران ہوں یا مغربی حکمران ہوں ، ان میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ہے ۔ یہ تاریخی اعتبار سے شاید فلسطینی عوام کے لئے بدترین دور تشبیہ کیا جائے ۔ یہاں ان عرب حکمرانوں کے اس گھناءونے کردار سے نہ صرف فلسطین کی تاریخ کے لئے سیاہ باب ہے بلکہ دنیا کی دیگر مظلوم اقوام کہ جن میں سرفہرست فلسطین کے بعد کشمیری ہیں ، ان کو بھی دھچکا اور گہری چوٹ پہنچ رہی ہے ۔ یہ سوال مقبوضہ کشمیر کی وادی میں جنم لے چکا ہے کہ جن مسلمان اور عرب ممالک نے مغربی ممالک کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیل کی پردہ داری شروع کر دی ہے تو اب ان سے کشمیر کے معاملہ پر کیا توقع کی جا سکتی ہے;238; ۔ یقینا مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کی یہ تشویش بر حق ہے ۔

    حیرت انگیز اور افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمرانوں نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی ابتداء ایک ایسے زمانہ میں شروع کی ہے کہ جب خود صہیونی جعلی ریاست اسرائیل سیاسی طور پر غیر مستحکم نظر آ رہی ہے اور اسی طرح عسکری عنوان سے بھی اب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی پوزیشن یہ ہے کہ آخری معرکہ انہوں نے اڑھتالیس گھنٹوں سے زیادہ میدان میں باقی نہیں رہ پائے ۔ اسی طرح حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے سیاسی و عسکری میدان میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی حاصل کی ہے ۔ جہاں اسرائیل میں ایک سال میں تین مرتبہ انتخابات ہوئے ہیں وہاں فلسطین کی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حماس اور مزاحمتی گروہوں کی کامیابی نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے ۔

    ایک طرف صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل ہے کہ جس نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کسی طور پر بھی اپنے ظالمانہ اقدامات سے رکنے والا نہیں ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ شاید امریکہ اور یورپی ممالک سمیت اب عرب دنیا کے حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کی کمر تھپ تھپانا ہو ۔ بہر حال مسلم دنیا کے عرب ممالک کو چاہئیے کہ وہ فلسطینی عوام کی امنگوں کا خیال رکھیں ۔ اگر فلسطین کی مدد نہیں کر سکتے اور کرنا نہیں چاہتے تو کوئی بات نہیں لیکن ان کی پیٹھ پر خنجر بھی نہ گھونپے ۔ عرب دنیا کے حکمرانوں کو چاہئیے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتکاری کے فیصلے واپس لیں ۔ اس عنوان سے لاطینی امریکہ کے ممالک اگرچہ وہ کئی ممالک سے نسبتا چھوٹے ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کے اقدامات کئے ہیں جو قابلِ تحسین ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کا قیام اس لئے عمل میں لایا گیا تھا تا کہ مغربی ایشیائی ممالک میں مسلمان حکومتوں کو کمزور کر کے اس خطے کے وسائل پر اسرائیل قابض ہو جائے اور گریٹر اسرائیل کے ناپاک منصوبہ کو عملی جامہ پہنا سکے ۔ عالم مغرب نےاس منصوبہ کی تکمیل کے لئے اسرائیل کی ہر ممکنہ مدد جاری رکھی تا کہ اسرائیل محفوظ رہے ۔ بہر حال گذشتہ ستر سالوں میں اب اسرائیل کی صورتحال یہ ہے کہ وہ مسلسل سازشوں اور قتل و غارت گری سمیت قبضوں کے بعد آخر کار اپنے ہی گرد دیواریں قائم کر رہا ہے ۔ یعنی اسرائیل پھیلنے کی بجائے سکڑ رہا ہے ۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر آج امریکہ میں یہودیوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی موجود ہے جو اسرائیل کے وجود کو جعلی تصور کرتی ہے اور فلسطین کو فلسطینیوں کا مانتی ہے ۔ مسئلہ فلسطین اور اس کی حمایت ایک ایسا وسیلہ ہے کہ جس کی مددسے مسلم امہ متحد ہو سکتی ہے بلکہ عالم مغرب کی تمام سازشوں اور جرائم کا منہ توڑ جواب بھی دے سکتی ہے ۔ آج دنیا بھر میں عوام کے جذبات اسرائیل مخالف ہیں ، دنیا کے عوام مظلوم اقوام کے ساتھ ہیں ۔ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں ہماری نوجوان نسل فلسطینیوں کیساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کر رہی ہے ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جس نے روز اول سے ہی فلسطین کاز کی حمایت جاری رکھی ہے اور یہ حمایت پاکستان کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کی اصولی و نظریاتی سیاست کے اجزاء سے حاصل ہوئی ہے ۔

  • عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنے پر شنیرا اکرم کا زینب عباس کیلئے خصوصی پیغام

    عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنے پر شنیرا اکرم کا زینب عباس کیلئے خصوصی پیغام

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ اور سماجی کارکن شنیرا پاکستانی معروف اسپورٹس پریزینٹر اور میزبان زینب عباس کو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنے پر خصوصی پیغام دیا ہے-

    باغی ٹی وی : زینب عباس کو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے پرجہاں ملکی و غیر ملکی اسپورٹس شخصیات مبارکباد دے رہے ہیں اور اس نئے سفر کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کررہے ہیں وہیں شنیرا اکرم نے بھی ایک خصوصی پیغام جاری کیا-


    شنیرااکرم نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس حولے سے زینب عباس کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا اورزینب عباس کے ٹوئٹ کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ری ٹوئٹ کرتے ہوئے شنیرا نے لکھا کہ ’ہمارے جھنڈے کو ہمیشہ اونچا لہرانا۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان کی معروف اسپورٹس پریزنٹر زینب عباس نامور برطانوی ٹی وی چینل اسکائی اسپورٹس پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی جبکہ زینب عباس پہلی پاکستانی اسپورٹس پریزنٹر ہیں جنہیں غیر ملکی ٹی وی چینل پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا ہے۔

    اسحوالے سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے زینب عباس کا کہنا تھا کہ میں یہ شئیر کرتے ہوئے بہت پرجوش ہوں کہ میں پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سیریز اور اس کے بعد ہونے والے ’دی ہنڈریڈ ٹورنامنٹ‘ کے لیے اسکائی اسپورٹس پر ڈیبیو کروں گی۔‘

    ساتھ ہی زینب نے کہا تھا کہ وہ ایک شاندار ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہیں۔