Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حادثات سے بچانے والی اینڈرائیڈ ایپلیکیشن

    حادثات سے بچانے والی اینڈرائیڈ ایپلیکیشن

    اسمارٹ فون ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے انسان دنیا سے بے خبر ہوجاتا ہے، لیکن انسان کا فون میں یہی انہماک کبھی کبھی کسی حادثے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے دنیا بھر میں متعدد افراد اسمارٹ فون پر مصروف رہتے ہوئے اکثر و بیشتر کبھی کسی گاڑی سے ٹکرا جاتے ہیں تو کبھی کبھی دیوار یا کبھی کسی بڑے حادثے کا بھی باعث بن جاتےہیں-

    باغی ٹی وی :سمارٹ فون کے صارفین کو ایسے ہی حادثات سے بچانے کے لئے ایک ایسی ایپلی کیشن بنائی گئی ہے جو چلتے ہوئے موبائل پر نظریں جمائے رکھنے کے عادی افراد کو سر اٹھانے پر مجبور کردیتی ہے۔

    جی ہاں XDA Developers کی جانب سے بنائی گئی اس ایپلی کیشن Heads Up کوگوگل پلے اسٹور سے مفت میں انسٹال کیا جاسکتا ہے۔

    یہ ایپلی کیشن ڈیجیٹل ویل بینگ کے زُمرے میں آتی ہے اس ایپ کے اسکرین شاٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر آپ چلتے وقت اس ایپ کو استعمال کر رہے ہیں تو فورا آپ کی موبائل اسکرین پر ایک نوٹیفیکیشن ظاہر ہوگا جس میں آپ کو مختلف پیغامات دیے جائیں گے جیسے کہ’ محتاط رہیے‘،’سامنے دیکھیں‘، وغیرہ وغیرہ۔

    اس ایپلی کیشن کے ڈویلپر کے مطابق اس ایپ کو فون کی سیٹنگ میں جا کر سوئچ آن اور سوئچ آف بھی کیا جاسکتا ہے، اسی طرح صارف اپنی مرضی کے مظابق نوٹیفیکیشن کو بند یا اس کے ظاہر ہونے کا وقت بھی مقرر کر سکتا ہے۔ فی الحال اس ایپلی کیشن سے اینڈرائیڈ موبائل فون صارفین ہی مستفید ہوسکتے ہیں۔

  • فیس بک کی مختلف گروپس کیلئے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے فیچر کی آزمائش

    فیس بک کی مختلف گروپس کیلئے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے فیچر کی آزمائش

    دنیا بھر میں معروف سماجی ویب سائٹ فیس بک مختلف گروپش کے لیے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے آپشن پر کام کررہی ہے۔

    باغی ٹی وی :اس فیچر کے ذریعے کسی گروپ پر جاری مباحثے میں شامل افراد کی رائے کو اپ ووٹ یا ڈاؤن ووٹ دے کر تبصرے کو اہم بناکر بامعنی گفتگو کی جاسکے گی۔

    فیس بک نے نومبر 2020 میں اس پر کام کیا تھا اور اب دوبارہ اس کی آزمائش کی جارہی ہے اس طرح کسی کی رائے کو قابلِ قدر یا غیراہم قرار دینے میں مدد ملے گی۔

    سوشل میڈیا کے ماہر جوہانس وان زِل نے اپنے بلاگ میں اس کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ آیا یہ آپشن کب پیش کیا جائے گا اور اس کی اندرونی آزماش کب تک جاری رہے گی۔

    بعض تجزیہ نگاروں نے فیس بک کے نئے آئکن کی بنا پر انہیں شناخت کیا ہے اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کسی پوسٹ پر کمنٹس کو ’مفید‘ اور ’معلوماتی‘ قرار دیا جاسکتا ہے یا پھر اسے غیراہم قرار دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے تاہم فیس بک ورک پلیس پر اپ اور ڈاؤن کمنٹس کا آپشن پہلے سے ہی موجود ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 2018 میں بھی فس بک گروپ کی بجائے انفرادی صارفین کی پوسٹ پر بھی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کی سہولت کا تجربہ کیا گیا تھا۔

    اس وقت فیس بک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس فیچر کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں آزما کر دیکھا جارہا ہے کہ یہ لوگوں کے لیے کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ اس فیچر کے ذریعے لوگوں کو بامقصد کمنٹس کو اوپر لانے میں مدد دے گا جبکہ انہیں مناسب نہیں لگا تو اسے نیچے بھی دھکیل سکتے ہیں، جبکہ اس سے کسی صارف کی نیوزفیڈ یا دوستوں سے بات چیت بھی متاثر نہیں ہوگی۔

    اگرچہ فیس بک نے اسے ترک کردیا تھا لیکن کمپنی کی دوبارہ اس آپشن میں دلچسپی سے معلوم ہوا ہے کہ فیس بک اس آپشن کو بطور کمنٹ ماڈریشن استعمال کرنا چاہتا ہے تاہم فیس بک نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں-

  • احتجاج کے شرعی آداب   بقلم :عمران محمدی

    احتجاج کے شرعی آداب بقلم :عمران محمدی

    احتجاج کے شرعی آداب

    بقلم
    عمران محمدی
    ( عفا اللہ عنہ )

    =============

    وطن عزیز پاکستان میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور قتل و غارت کا سلسلہ بڑھی تیزی سے پروان چڑھتا جا رہا ہے، سیاست اور مذہب کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر ان کے جذبات کو غلط جگہ استعمال کرنا تو گویا فنکاروں کے دائیں ہاتھ کا فن ہے

    وطن عزیز پاکستان میں احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں لانگ مارچ اور بڑے بڑے سیمینارز کا سلسلہ تقریباً پورا سال ہی جاری و ساری رہتا ہے
    جن میں سے بعض مستقل اور بعض ہنگامی ہوتے ہیں اور بعض مذہبی اور بعض سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں
    جن میں لوگوں کی کثیر تعداد اپنے گھروں سے نکل کر باہر سڑکوں پر اپنی مذہبی اور سیاسی وابستگی کا اظہار کرتی ہے،

    یہ مظاہرے اپنے مظاہرین کے عقائد و نظریات اور حقوق کے ترجمان ہوتے ہیں
    احتجاجی مظاہرے کے انداز اور اسٹائل سے ہی متعلقہ افراد کے اخلاق و کردار کا اندازہ ہوتا ہے اور ان کا چہرہ کھل کر سامنے آتا ہے کہ آیا یہ لوگ پر امن شہری ہیں یا پر تشدد ذہنیت کے حامل ہیں

    یہ دھرنے اور احتجاج خواہ مذہبی ہوں یا سیاسی مجموعی طور پر ان کا چہرہ مایوس کن اور انتہائی غیر مناسب ہے
    مد مقابل کی عزت و حرمت سے کھیلنا
    املاک کو نقصان پہنچانا
    دکانیں جلانا
    سڑکوں پر ٹائر جلا کر بلاک کرنا
    گاڑیوں کو نظر آتش کرنا
    انسانی جانوں سے کھیلنا
    الغرض کہ دھرنے کی دنیا میں یہ سب کچھ جائز سمجھ لیا جاتا ہے الا کہ کسی کو اللہ تعالٰی نے عقل و دانش سے کام لینے کی توفیق دے رکھی ہو

    سو ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ایک مسلم کی جان، مال اور عزت کی کیا اہمیت ہے اور احتجاجی دھرنوں کے شرعی اصول و ضوابط کیا ہیں

    احتجاج کرنے کے شرعی آداب

    احتجاج کرنا انسان کی جبلت میں شامل ہے اور اس کا پیدائشی حق ہے
    بچہ دنیا میں آتے ہی احتجاج کرتا ہے
    جب تک بچہ روئے نہیں ماں دودھ نہیں دیتی

    اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اپنے جائز حقوق منوانے، امت مسلمہ کے مفادات، اسلامی شعائر اور ارکان اسلام کے دفاع کے لیے اگر احتجاج اور دھرنا ناگزیر ہو جائے تو پھر احتجاج کرنے، دھرنا دینے اور لانگ مارچ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، ایسا کیا جا سکتا ہے اور بعض اوقات احتجاجی مظاہرے نا صرف یہ کہ جائز بلکہ واجب اور ضروری ہو جاتے ہیں

    غیرت اسلامی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جب بھی اور جہاں کہیں بھی ”احتجاج“ کی ضرورت محسوس ہو، ضرور کیا جائے تاکہ اپنے جذبہ ایمانی کا اعلان ہوسکے اور کل روز قیامت ہم یہ کہہ سکیں کہ جب کبھی بھی اسلام یا اسلامی اقدار کے خلاف کوئی عمل ہوا، ہم نے مقدور بھر اس کے خلاف آواز بلند کی

    لیکن کسی بھی قسم کے احتجاج کے دوران کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہئے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو اور یہ خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ کہیں دوران احتجاج جذبات کی لہر میں بہتے ہوئے شرعی حدود سے متجاوز نہ ہو جائیں
    احتجاجی مظاہروں کے لیے چند اھم امور مد نظر رکھنا ضروری ہیں

    احتجاج کے لیے پر امن اور مہذب طریقہ اپنایا جائے

    جاہلوں، بدؤں اور بد تمیز لوگوں سا انداز ہر گز نہ اپنایا جائے
    اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۚ
    (سورة المؤمنون 96)
    ” آپ برائی کو احسن (سب سے بہتر) طریقہ سے دفع کریں۔”

    مثال کے طور پر پریس کانفرنس احتجاج ریکارڈ کرانے کا ایک سلجھا طریقہ ہے

    احتجاج کریں مگر گالی مت دیں

    اپنی زبان سے ”مجرموں“ کے خلاف گالم گلوچ یا نازیبا الفاظ نہیں ادا کرنا چاہئے بلکہ تقریر و تحریر میں اخلاقی قدروں میں رہتے ہوئے مجرموں کے اقدامات کی مذمت کی جائے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ
    مومن بہت زیادہ لعن طعن کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا
    ترمذی

    احتجاج میں فساد فی الارض نہ ہو

    مظاہروں اور جلوسوں کے دوران سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے۔ بلکہ اگر ”مجرمان سے متعلقہ املاک“ بھی ہماری دسترس میں آجائیں تو انہیں بھی نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ توڑ پھوڑ اور پولس یا انتظامیہ پر پتھراؤ وغیرہ کرنا بالکل غلط ہے

    اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ …
    (سورة الأعراف 56)
    ” اور زمین میں فساد برپا نہ کرو

    وَاللَّہ ُلَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
    ﴿ سورة آل عمران: 5 ﴾
    اللہ تعالٰی ظالموں کو پسند نہیں کرتے

    احتجاج، اسلام اور اہلیان اسلام کی بدنامی کا باعث نہ بنے

    دوران احتجاج ایسا کچھ بھی نہ کیا جائے کہ سیکولر لابی کو باتیں کرنے کا موقع ملے
    یا اسلام کا غلط چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر ہو
    یا یہ کہ اس سے بڑا کوئی اور ’’منکر‘‘ جنم نہ لے

    کیونکہ پھر یہ احتجاج دفاع اسلام نہیں بلکہ اسلامیان کے لیے ایک نئے فتنے اور کئی طرح کی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو گا

    وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ …
    (سورة البقرة 119)
    ” اور فتنہ قتل سے زیاده سخت ہے”

    لہذا حرمت رسول اور دین اسلام کی حفاظت کرتے کرتے حرمتِ دینِ رسول پامال نہ کیجئے

    دوران احتجاج اگر کسی کی گاڑی جلا دی گئی یا دکان جلا دی گئی یا اس کی کسی اور چیز کو نقصان پہنچا دیا گیا تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس شخص کو ہمیشہ ہمیش کے لیے مذہب اور اہلیان مذہب سے متنفر کردیا گیا ہےسوچئے کہ یہ کتنا بڑا فتنہ و فساد ہےکیا یہ اسلام کی خدمت ہوگی یا اسلام سے دشمنی

    دوران احتجاج راستے مت روکے جائیں

    احتجاج سے ٹریفک میں خلل نہیں پڑنا چاہئے اور نہ ہی راستہ بلاک کرکے عام شہریوں کو مشکلات میں ڈالنا چاہئے

    جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے
    عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا، فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ : ” أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ ".

    کہ ایک دفعہ جہادی سفر کے دوران لوگوں نے راستے بلاک کر دیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں میں اعلانات کروادیے کہ جس نے راستے بلاک کیے اس کا کوئی جہاد نہیں ہے
    حكم الحديث: حسن

    حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے راستوں پر بیٹھنے سے بھی منع کردیا فرمایا

    ایاکم والجلوس علی الطرقات
    راستوں میں مت بیٹھا کرو

    راستے بلاک ہونے کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرکے کھانے والےغریب و مسکین کام نہیں کرسکتے لہذا وہ اور انکے بچے بھوکے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

    بیمار علاج کیلئے بھی نہیں جا سکتے۔ بے شمار لوگ اذیت میں دن گزارتے ہیں اور اسی طرح مسلمانوں کی اکثریت کو اذیت پہنچتی ہے اور مسلمانوں کو ایذا پہنچانا کبیرہ گناہ ہے

    فرمایا
    وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
    (الأحزاب:۵۸)
    ” اور وہ لوگ جو ناحق مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا پہنچاتے ہیں انھوں نے یقیناً بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھا یا۔”

    احتجاج روڈ بلاک کیے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔
    سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر بھی مظاہرہ ہوسکتا ہے
    عجیب بات ہے کہ ہمیں راستہ روکے بغیر احتجاج کا کوئی طریقہ سجھائی نہیں دے رہا۔

    ڈبل سڑکوں پہ ایک جانب بند کر لیں تاکہ دوسری طرف ٹریفک بحال رہے۔

    احتجاج کو بغاوت و خروج کا جامہ مت پہنایا جائے
    احتجاج کے لیے نکلنے سے پہلے اپنے کارکنان کو خوب اچھی طرح بریف کریں
    کہ
    احتجاج کرنا ہے بدمعاشی نہیں کرنی
    احتجاج کا مقصد حکومت تک اپنی بات پہنچانا ہے, بغاوت کرنا نہیں

    دوران احتجاج کسی بھی حکومتی وغیر حکومتی عہدیدار کی تکفیر مت کریں، کسی بھی انسان کے قتل کے فتوے مت جاری کریں اور نہ ہی عوام الناس اور کارکنان کو جوش دلائیں کہ فلاں فلاں شخص اگر آپ کو کہیں مل جائے تو اسے قتل کر دیا جائے

    اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ:

    یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ.(۸)
    ’’ ایمان والو، اللہ کی خاطر عدل وانصاف کے گواہ بن کر کھڑے ہو جاؤ، اور ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی تمھیں برانگیختہ کر کے ناانصافی پر آمادہ کردے۔ عدل پر قائم رہو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمھارے اعمال کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘

    احتجاج کے دوران افراتفری، توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کا سا ماحول بنا کر معاشرے میں دہشت نہ پھیلائی جائے

    جیسا کہ حدیث میں آیا ہے
    عَنْ عَبْدﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ الْفِتَنَ، فَأَکْثَرَ فِي ذِکْرِهَا حَتَّی ذَکَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ. فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اﷲِ! وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ.
    أبوداود، السنن،کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن، 4: 94، رقم: 4242

    ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کا ذکر فرمایا۔ پس کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا۔کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اﷲ! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ افراتفری، فساد انگیزی اور قتل و غارت گری ہے۔‘‘

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    إِنَّﷲَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا.
    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب الوعيد الشديد لمن عذب الناس بغير حق، 4 : 2018، رقم : 2613
    اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو اذیت و تکلیف دیتے ہیں

    اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده.
    (بخاری، الصحيح، باب من سلم المسلمون، رقم11

    ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔

    سورۃ البروج کی آیت نمبر دس (10) میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ
    (بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لیے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لیے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے)

    دوران احتجاج اسلحہ کی بے جا نمائش مت کریں

    حالیہ مظاہروں کے دوران ایسے بہت سے مناظر دیکھنے کو ملے ہیں
    حتی کہ ایک صاحب نے تو ننگی تلوار ہاتھ میں پکڑ رکھی تھی
    جبکہ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات ملاحظہ فرمائیں

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    لَا يُشِيرُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ، فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ.

    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن إشارة بالسلاح، 4: 2020، رقم: 2617
    ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگا دے اور وہ (قتلِ ناحق کے نتیجے میں) جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔‘‘

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ، وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ.

    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن إشارة بالسلاح، 4: 2020، رقم: 2616

    ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في إشارة المسلم إلی أخيه بالسلاح، 4: 463، رقم: 2162
    ’’جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی(ہی کیوں نہ) ہو۔‘‘

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

    نَهَی رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ يُتَعَاطَی السَّيْفُ مَسْلُولًا.
    ترمذی، ابو داؤد
    ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ننگی تلوار لینے دینے سے منع فرمایا۔‘‘

    ________
    اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ایک مسلمان کی عزت، مال اور جان کی حرمت

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ‌ۚ
    اور زمین میں فساد کرتے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حجاب
    ( بخاری )
    مظلوم کی بددعا سے بچیں کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان پردہ نہیں ہے

    کسی مسلم کو حقیر سمجھنا حرام ہے
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ»
    [مسلم: 2564]
    "کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ۔”

    آپﷺ نے ایک اور موقعہ پر فرمایا:
    المسلم اخوالمسلم لا یظلمہ ولا یخذلہ ولا یحقرہ

    مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس پر ظلم نہیں کرتا نہ اسے اکیلا چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے
    بخاری و مسلم

    مسلمان کی حرمت کعبہ کی حرمت کی طرح ہے
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر انسانی جان ومال کے تلف کرنے اور قتل و غارت گری کی خرابی و ممانعت سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
    إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وأعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هذَا، فِی شَهْرِکُمْ هٰذَا، فِی بَلَدِکُمْ هٰذَا، إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمٍْ.
    بخاری و مسلم

    بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اِسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اِس دن کی حرمت تمہارے اِس مہینے میں اور تمہارے اِس شہر میں (مقرر کی گئی)ہے اُس دن تک جب تم اپنے رب سے ملو گے۔

    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا:
    مَا أَطْيَبَکِ وَأَطْيَبَ رِيحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهِ وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا.
    ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1297، رقم: 3932
    (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘

    مسلمانوں کی عزت، مال اور جان سب کے سب دوسروں پر حرام ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ
    (مسلم ، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم  ظلم المسلم ۔۔۔الخ،ص ۱۳۸۶،حدیث:۲۵۶۴)
    یعنی ہر مسلمان کا خون ،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔

    کسی کی ملکیت پر نا جائز قبضہ کرنے کا خوفناک انجام
     
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    مَنْ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ 
    مسلم
    جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین پر نا جائز قبضہ کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنائیں گے

    کسی کو ناحق قتل کرنے کی سنگینی

    قرب قیامت کئی فتنے ظاہر ہونگے جن میں سے ایک قتل و غارت بھی ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ العِلْمُ وَيُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَکْثُرُ الْهَرْجُ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اﷲِ، أَيُمَا هُوَ؟ قَالَ: الْقَتْلُ، الْقَتْلُ.
    بخاری و مسلم
    ’’ زمانہ قریب ہوتا جائے گا، علم گھٹتا جائے گا، بخل پیدا ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ فرمایا کہ قتل، قتل (یعنی ہرج سے مراد ہے: کثرت سے قتلِ عام)۔‘‘

    مسلمان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف

    قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا.
    المائدة، 5: 32
    ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘

    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَی اﷲِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ.
    (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
    اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (اور تباہ) ہو جانا ہلکا (واقعہ) ہے

    قیامت کے دن سب سے پہلے قتل کا حساب ہوگا

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خونریزی کی شدت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

    أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاء.
    بخاری و مسلم
    ’’قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون ریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔‘‘

    قاتل کے کسی بھی قسم کے نیک اعمال قبول نہیں ہوتے

    حضرت عبد اﷲ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ لَمْ يَقْبَلِ اﷲُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا.
    جس شخص نے کسی مومن کو ظلم سے ناحق قتل کیا تو اﷲ تعالیٰ اس کی کوئی نفلی اور فرض عبادت قبول نہیں فرمائے گا۔
    ابو داؤد

    قاتل کی سزا دائمی جہنم ہے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًاo

    ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضب ناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کے قاتل کی سزا جہنم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

    لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَائِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اشْتَرَکُوْا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَکَبَّهُمُ اﷲُ فِي النَّارِ.
    ترمذي، کتاب الديات، باب الحکم في الدماء، 4: 17، رقم: 1398
    ’’اگر تمام آسمانوں و زمین والے کسی ایک مومن کے قتل میں شریک ہو جائیں تب بھی یقینا اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں جھونک دے گا۔‘‘

    مزید فرمایا
    إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُوْرِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ، فِيْهَا سَفْکَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ.

    بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن قتل مؤمنا متعمدًا فجزاؤه جهنم، 6: 2517، رقم: 6470
    ’’ہلاک کرنے والے وہ اُمور ہیں جن میں پھنسنے کے بعد نکلنے کی کوئی سبیل نہ ہو، اِن میں سے ایک بغیر کسی جواز کے حرمت والا خون بہانا بھی ہے۔‘‘

  • مومنین اور رمضان المبارک     تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    مومنین اور رمضان المبارک تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    مومنین اور رمضان المبارک

    تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    ماہ صیام کی آمد آمد ہے۔مومن مسلمان خوشی سے باغ باغ ہیں۔اس کی رحمتوں اور برکات کو سمیٹنے کے لیے کمر کسی ہوئی ہے۔گویا کہ ایسے لوگوں پر خدا تعالیٰ کی رحمت و برکت بھرپور برسنے کو تیار ہے یعنی جیسے ہی رمضان المبارک کا چاند نظر آئے مومنین پر رحمت کی بارش بذات خود خوب برسنے کو بے تاب ہے۔یہ کوئی عام مہینہ نہیں بلکہ ماہ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے، رب العزت کی مومنین کے لیے بنائی گئی پیاری جنت میں داخلے اور جہنم سے آزادی و چھٹکارا پانے کا مہینہ ہے۔ لوگوں کے لیے ہدایت و رہنما کتاب قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کرنے کا مہینہ ہے۔ فرائض کے علاوہ نوافل کو کثرت سے پڑھنے اور صدقات و خیرات کو تیز آندھی کی طرح کرنے کا مہینہ ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ہر قسم کی عبادات کا ایک نیکیوں کا موسم بہار ہے۔جس کے آنے سے پوری دنیا کے ہر کونے میں زندگی بسر کرنے والے مسلمان اپنے اپنے ایمان اور تقویٰ کے مطابق ان بابرکت ایام میں اپنے خالق حقیقی کی رضامندی حاصل کرنے اور بندگی کا حق ادا کرتے ہیں۔

    رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے بخشش و رحمت کے دروازے کھولے ہوتے ہیں۔حدیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے کہ رمضان المبارک شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازے کا نام ”ریان”ہے۔ اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں سکیں گے۔

    ان ایام میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فرشتے کی ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے،جو کہ اپنے انداز سے لوگوں کو آواز لگاتا ہے۔ اے بھلائی کے چاہنے والے! جلدی کر،یہ وقت بڑا غنیمت ہے، اتنا بڑا اجر کسی دوسرے وقت میں نہیں ملے گا۔ اے برائی کرنے والے اب تو رک جا کہ یہ وقت عذاب الٰہی کو دعوت دینے کا نہیں ہے۔ پھر جو لوگ نیکی کرتے ہیں اور برائی کرنے سے رکے رہتے ہیں ان کو آگ سے یعنی جہنم سے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت شروع سال سے لے کر آئندہ سال تک سجائی جاتی ہے۔ جب رمضان شریف کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا جنت کے پتوں کو سرسراتی ہوئی حوروں تک پہنچتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمارے لیے اپنے بندوں میں سے خاوند بنا دے جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ ایک اور مقام پر فرمایا: رمضان المبارک سے بہتر مہینہ مومن کے لیے اور کوئی نہیں۔ وہ رمضان کے اخراجات پہلے ہی تیار کر لیتا ہے اور زیادہ عبادت کی سعادت حاصل کر لیتا ہے۔ جب کہ منافق پر رمضان المبارک کا مہینہ بڑا بھاری ہوتا ہے۔ وہ اس میں مومنوں کو بد نام اور ذلیل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔(ابن ماجہ)

    رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ان ایام کو عام دنوں کی طرح بے توجہی سے گزار دینا اور پرواہ نہ کرنا۔خدانخواستہ اگر کوئی انسان اپنے گناہوں کو معاف نہ کرا سکا،اپنی بخشش اور اپنے مالک حقیقی کی رضا مندی حاصل نہ کر سکا، تو ایسے بدنصیب سے اللہ کی رحمت دور ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ منبر کی پہلی سیڑھی پر اپنا قدم مبارک رکھا تو فرمایا: آمین،دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین، تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے یہ عجیب بات دیکھی ہے۔ پہلے آپ نے کبھی اس طرح منبر پر چڑھتے ہوئے آمین نہیں کہا۔ تو آپ نے فرمایا منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جس شخص نے رمضان المبارک میں روزے رکھے اور جنت حاصل نہ کر سکا، وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہے۔ میں نے کہا آمین،دوسرے سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے جبریل نے کہا۔ جو شخص اپنے والدین میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پائے اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کرے تو وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو۔ تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے جبریل علیہ السلام نے کہا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سن کرآپ پر درود شریف نہ پڑھے وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو۔ میں نے کہا: آمین۔(ترمذی)اس حدیث مبارکہ سے رمضان المبارک کی اہمیت و عظمت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے، کہ ہم اتنی زیادہ نیکیاں کریں کہ اللہ تعالیٰ خوش ہو کر ہمیں جنت میں داخلہ نصیب کر دے۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہوا کہ ماں باپ کی اطاعت کرنا اور کثرت سے درود شریف کا اہتمام کرنابھی جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔

  • پی ٹی اے کی  ‘ٹوئٹر’ کو اعلی عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد ہٹانے کی ہدایت

    پی ٹی اے کی ‘ٹوئٹر’ کو اعلی عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد ہٹانے کی ہدایت

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھاٹی (پی ٹی اے) نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ‘ٹوئٹر’ کی انتظامیہ کو اعلیٰ عدلیہ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس اور ٹرینڈز کو فوری طور پر بلاک یا ہٹانے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی :پریس ریلیز کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے ٹوئٹر انتظامیہ کو بتایا گیا ہے کہ اس طرح کے مواد یا ٹرینڈز کی موجودگی آزادی اظہار کی تعریف کے زمرے میں نہیں آتی، لہٰذا اسے فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے اور توہین عدالت سے متعلق مواد اتھارٹی کی اہم ترجیحات میں شامل ہے-


    سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے غیر قانونی اور نقصان دہ آن لائن مواد کو ہٹانے کے لیے پی ٹی اے کی درخواستوں پر موثر اور فوری طور پر کارروائی کرے۔

    یان میں کہا گیا کہ پی ٹی اے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو معاونت و سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے بشرطیکہ وہ ملکی قوانین پر عمل پیرا رہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ٹوئٹر پر اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے توہین آمیز ٹوئٹس سامنے آئی تھیں۔

  • سماجی ضابطہ اخلاق اور فکری آزادی    تحریر: محمد نعیم شہزاد

    سماجی ضابطہ اخلاق اور فکری آزادی تحریر: محمد نعیم شہزاد

    سماجی ضابطہ اخلاق اور فکری آزادی
    محمد نعیم شہزاد

    فرد معاشرے کی اکائی ہے اور معاشرہ ایک فرد کی ضرورت ہے۔ گویا دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ خلائق میں انسان کو شرف فضیلت اس کے علم کی بدولت دیا گیا اور علم کا منبع خدائے بزرگ و برتر کی ذات اور وحی الٰہی ہے۔ علم اور آداب و اخلاق کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل اور ادھورے ہیں۔ وہ علم جو انسان کے دل و دماغ میں تکبر اور رعونت بھر دے ایسے علم سے جہالت بھلی۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بتاتا چلوں کہ معاشرے میں فرد کے مختلف کردار ہیں جن کے اعتبار سے اسے عزت و تکریم اور فضیلت دی جاتی ہے۔ اس قرابت اور تفاوت کا لحاظ عین حکم ربی بھی ہے اور ہمارے معاشرے کا حسن بھی۔

    "کل بنی آدم خطاؤن” جیسے فرمان نبوی علیہ الصلوۃ و السلام سے ہر بشر سے خطا کا امکان واضح ہے مگر اگر ہمارے آباؤ اجداد یا بڑوں میں سے کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو ہمارے انداز تکلم کچھ اور ہوتا ہے اور ادب و احترام کو لازم ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ شاہ کی غلطی پر وزیر اور مشیر متنبہ کر سکتے ہیں مگر شان کا لحاظ کرتے ہوئے ورنہ گردن زدنی لازم آئے گی اور یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ بات کرنے والا شاہ کا وفادار اور خیر خواہ ہے بلکہ اسے گستاخ محض مانا جائے گا اور اسے اپنے عمل کی سزا بھگتنا ہو گی۔

    دین اسلام میں ایک عام قاعدہ بھی سکھا دیا گیا ہے کہ جو اس جہان فانی سے چلا جائے اس کے متعلق کسی برائی کا تذکرہ نہ کیا جائے مگر جو بات ہمارے سامنے موجود ہے یہ تو ان اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین سے متعلق ہے جن کے بارے خود رب لم یزل نے خود رضا مندی کی سند عطا کی۔ جن مالک اپنے بندے سے راضی ہے تو کسی کو اختیار نہیں کہ وہ نقض و نقص بیان کرے اور اپنے تئیں دانش ور و عقل کل قرار دے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان اقدس پر ہمارا ایمان ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی رسول بھی بڑے سے بڑے ولی کامل، مجدد اور فقہیہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور کوئی بھی ان کے کف پا کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا کہ "میرے صحابہ کو برا مت کہو”۔

    ان ساری تمہیدات کا مقصد آفتاب اقبال صاحب کا اپنے شو میں غزوہ احد میں مال غنیمت کے حوالے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا غیر مناسب انداز میں ذکر ہے جو ہرگز ان کے شایان شان نہیں ہے۔ ہم حسن ظن سے کام لیتے ہوئے خیال کرتے ہیں کہ یہ موصوف کی بشری لغزش ہے اور ان کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خطاؤں سے صرف نظر برتے اور خیال کرتے ہیں کہ وہ یقیناً اس سے رجوع کریں گے کہ اہل علم و دانش کی شان ہی یہ ہے کہ وہ غلطی پر اتراتے نہیں بلکہ توبہ اور اصلاح کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اور تکب و رعونت میں آ کر ابطال حق نہیں کرتے۔

  • امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال   بقلم: جویریہ بتول

    امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال بقلم: جویریہ بتول

    امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال

    (بقلم:جویریہ بتول).

    اللّٰہ تعالٰی اس کائنات کا خالق،مالک،رازق اور وارثِ حقیقی ہے…اس بات کا معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی کہیں نہ کہیں اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے…چاہے وہ رب تعالٰی کی وحدانیت کا قائل ہو یا نہ ہو…
    اُس عظیم ذات نے جب اپنا تعارف اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں کروایا تو کبھی "الغنی” کہہ کر کہ وہ ہر چیز،ضرورت و حاجت سے بے پرواہ ہے… وہ تو خود "البدیع” یعنی ہر چیز کا پیدا کرنے والا موجد ہے…وہ "الخبیر” مکمل اگاہی و خبر رکھنے والا… وہ "الحکیم” کمال حکمت اور "العلیم” یعنی کمال علم والا ہے…جس کے سامنے انسان کی تمام بودی دلیلیں،اعتراضات اور سوالات بے وقعت رہ جاتے ہیں…اُس نے جو کچھ تخلیق کیا ہے… ایک خاص اندازے اور مقصد کے تحت پیدا کیا ہے…جسے چیلنج کرنے والے ازل سے سرگرداں ہیں اور ابد تک رہیں گے…!
    اُس ذات نے جب اپنا تعارف کروایا تو کیا ہی بہترین وضاحت کی کہ تمام شبہات پر لَا کی ضرب لگ گئی…نفی کر دی گئی…اور صرف اُس کے وجود کا اثبات باقی رہا…اِلَّا اللّٰہ…! احد و صمد نےفرمایا کہ اے میرے پیغمبر حضرت محمدﷺ اعلان کر دیجئے:
    قل ھو اللّٰہ احد¤ اللّٰہ الصمد¤لم یلد ولم یولد¤ولم یکن لہ کُفُوًا احد¤ (سورۃ اخلاص:1_4)
    "کہہ دیجئے کہ اللّٰہ ایک ہے،اللّٰہ بے نیاز ہے،نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا،اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،اور نہ ہی کوئی اُس کا ہمسر ہے…!!!”
    وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا…
    Neither He begets and nor (He) is born…
    یعنی وہ اپنی ذات،صفات اور افعال میں…لیس کمثلہ شئیٌ ہے…!
    حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ:
    "اللّٰه تعالٰی فرماتا ہے،ابنِ آدم مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لیے اولاد ثابت کرتا ہے،حالاں کہ میں نے نیاز ہوں،میں نے کسی کو جنا ہے،نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ میرا کوئی ہمسر ہے…”
    (صحیح بخاری…کتاب التفسیر).
    یعنی قرآن کی صرف یہ ایک مختصر سی سورت اللّٰہ تعالٰی کا اس قدر جامع اور بلیغ تعارف ہے کہ معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی اِسے بآسانی سمجھ سکتا ہے،جو متعدد خداؤں کے نظریہ کا بھی رد ہے…
    اور اُس سوچ کا بھی کہ اللّٰہ کی کوئی اولاد ہے،یا اُس کے شریک ہیں یا وہ نظریہ رکھنے والے جو وجود باری تعالٰی کے قائل ہی نہیں…
    یہ سب سفاہت کی نشانیاں ہیں کیوں کہ انسان یہ تو ماننے کو تیار نہیں ہے کہ بجلی سے چلنے والا معمولی سا بلب بغیر کسی بنانے والے یا ایجاد کے ممکن ہے…
    لیکن بسا اوقات اس وسیع کائنات،سورج،چاند اور ستاروں کی باقاعدہ تخلیق سے انکار کر دیتا ہے…!
    جس رب نے اس کائنات کے ذرے ذرے کو بامقصد بنایا ہے…:
    "ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا،اگر ہم یوں کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے،اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے…
    بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر دے مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وہ نابود ہو جاتا ہے تم جو باتیں بناتے ہو وہ تمہارے لئے باعثِ خرابی ہیں…”
    (الانبیآء:16_18).
    اپنی یکتائی،تنہا ہونے اور وحدانیت کی مذید دلیل دیتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "اگر آسمان و زمین میں اللّٰہ کے سوا اور معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے پس اللّٰہ ہی عرش کا رب ہر اس وصف سے پاک ہے جو مشرک بیان کرتے ہیں…”
    (الانبیآء:22).

    "آسمان کو محفوظ چھت بھی ہم نے ہی بنایا ہے لیکن لوگ اس کی قدرت کے نمونوں پر دھیان نہیں دھرتے…
    وہی اللّٰــــہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا،ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں…”
    (الانبیآء:33).

    اللّٰه ہی نے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا حضرت آدم علیہ السلام کا خالق بھی وہی،اماں حوّا کا خالق بھی وہی…
    مرد و عورت کے حقوق و فرائض اور مقام و مرتبہ کا تعین کرنے والا بھی وہی…
    اُس کے سبھی فیصلے اور ارادے پر ازحکمت ہیں…
    "اور اس چیز کی آرزو نہ کرو،جس کے باعث اللّٰــــہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے،مردوں کا اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو انہوں کے کمایا…”
    (النسآء:32).
    اللّٰہ تعالٰی کا مردوں کو ہی انبیاء و رسل بنا کر بھیجنا بھی اس کے کامل علم کی نشانی ہے…یہ اس کی قدرت کا اٹل فیصلہ ہے…نیکی و اطاعت کے کاموں میں سب کے لیے برابر اجر ہے لیکن ان کے درمیان استعداد،صلاحیت اور قوت کار کا جو فرق ہے وہ محض آرزو سے تبدیل نہیں ہو گا…
    جو خالق ہوتا ہے وہ اپنی مخلوق کی صلاحیت و استعداد سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے تبھی فرمایا
    لا یکلف اللّٰہ نفسًا الا وسعھا…
    وہ اپنی مخلوق پر بوجھ بھی وسعت و صلاحیت کے مطابق ہی ڈالا کرتا ہے…
    یہ اعتراض کہ عورت نبیہ کیوں نہیں،اور اللّٰہ تعالٰی کی ماں نہیں،معاذ اللّٰــــہ…بیوقوفانہ اور بے معنی دلیل اور سوچ ہے…!
    "جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور تہہِ خاک کے نیچے کی ہر چیز ہے…”(طٰہٰ:6).
    ”وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے…”(البروج:16)
    یعنی اُس کے حکم و مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں،اور نہ ہی اُسے کوئی پوچھنے والا ہے…!!!
    اپنی ذاتِ بلند و برتر کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    "شانِ رحمٰن کے لائق ہی نہیں کہ وہ اولاد رکھے،آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اُس کے بندے ہی بن کر آنے والے ہیں،ان سب کو اس نے گھیر اور پوری طرح گن رکھا ہے،یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اکیلے اُس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں…!!!”
    (مریم:92_95).
    اللّٰه اکبر…
    حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر صبحِ قیامت تک جتنے بھی انسان ہیں سب کو اُس نے گن کر اپنی گرفت و قابو میں رکھا ہے،کوئی بھی اپنے کرتوتوں سمیت اُس سے مخفی نہیں ہے اور اکیلا ہی اُس کی بارگاہ میں پیش بھی ہونے والا ہے…!
    رسول اللّٰہ ﷺ وادی نخلہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ کو نمازِ فجر پڑھا رہے تھے کہ کچھ جنوں کا وہاں سے گزر ہوا جنہوں نے قرآن سنا…اللّٰہ تعالٰی نے اُن کی اس کیفیت کو سورۂ جن میں یوں بیان فرمایا:
    "جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اور کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے… جو راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتا ہے،ہم اس پر ایمان لا چکے اب ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں بنائیں گے…اور بے شک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے،نہ اُس نے کسی کو بیوی بنایا،نہ بیٹا، اور یہ کہ ہم میں کا بے وقوف اللّٰــــہ کے بارے میں خلافِ حق بات کرتا تھا…”
    (الجن:1_4)
    اللّٰه کی مخلوق جن بھی شعور سے گزرے تو ایسی کمزوریوں سے رب کی تقدیس بیان فرمائی کہ تَعٰالٰی جَدُّ رَبِّنَا…!!!
    ترجمہ درج بالا آیات میں سفیھنا سے مراد ہر وہ شخص یا جنس ہے جو اللّٰہ کے بارے میں گمانِ باطل رکھتا ہے…جھوٹ و باطل میں مبالغہ کر کے…راہِ اعتدال سے دوری و تجاوز کر کے…اور ایسے سارے لوگ افترا پرداز ہیں…
    جو تصوراتی ابہام و ابطال کو زبان پر لے آ کر رب بزرگ و برتر اور خالق و مالکِ کائنات کے بارے میں گستاخانہ زبان کے مرتکب ہوتے اور اپنے اوپر حجت تمام کر کے بدترین سوچ و مثال قائم کرنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں…ایسے لوگ جو معاشرے میں اُلجھن اور حدود و ادب سے تجاوز کا باعث بنیں اور آئین و قانون اور میڈیائی فورم کا غلط استعمال کریں،ان کے خلاف ایکشن لینا ذمہ داران کی ذمہ داری ہے…تاکہ ایک اسلامی مملکت اور معاشرے میں اصلاح و اثبات کو فروغ ملے نہ کہ منفیت و گستاخانہ ذہنیت کا پھیلاؤ منہ زور ہوتا چلا جائے…!!!

  • کشف الاسرار    تحریر: کاشف علی

    کشف الاسرار تحریر: کاشف علی

    تحریر کاشف علی
    کشف الاسرار

    میڈیا میں زرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ پنجاب میں مکمل لاک ڈاون کا سوچا جارہاہے فیصلہ کل کے اجلاس میں ہوگا ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خان صاحب یو ٹرن نہیں لیں گے اور اپنے فیصلے پہ قائم رہیں گےاور لاک ڈاون لگانے کا دباو مسترد کر دیں گے-

    البتہ ان سرکاری زعماء افسر شاہی، میڈیا اور ڈاکٹروں کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر آپ ان غریبوں کے کھانے اور دیگر ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے تو آپ کو لاک ڈاون لگانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اسلام آباد لاہور کے وہ لوگ جو ٹوئیٹر پر بیٹھے ہیں انکے گھروں میں مہینوں کا راشن ہے لاک ڈاون کی حمائت کرتے ہیں۔ لیکن غریب جس کا چولہا ہی تب جلتا ہے دیہاڑی لگتی ہے اسکا احساس کسی کو نہیں ہے-

    آپ سروے کر لو پچھلے سال کے کرونا لاک ڈاون کا اٹھایا گیا قرض ابھی تک نہیں اتار سکے کیونکہ مہنگائی نے پیس دیا ہے ۔ اس رمضان میں لاک ڈاون سے جیسا کہ ابھی اس پہ مشاورت جاری ہے جہاں مذہبی استحصال ہوگا وہیں اس غریب کا معاشی قتل ہے کہ وہ عید پہ کپڑے تو دور کی بات روٹی کے لالے پڑ جائیں گے سفید پوش طبقہ پس کر رہ جائے گا ۔ اور ملک کی معاشی صورتحال اس کی متحمل نہیں ہے جیسا کہ وزیر اعظم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اس سارے منظر نامے سیکولر لابیز بھی متحرک ہیں جو رمضان میں کرونا کے نام خاص طور پر لاک ڈاون کی حمائت کرکے اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں

    ابھی اک ٹرانسپورٹ سے متعلقہ رشتہ دار سے بات ہوئی کہنے لگے حکومت نے کہا کہ سواریاں آدھی کرو جب کرایا بڑھایا تو ایڈ منسٹریٹرلاری اڈا صاحب آکر جرمانے کر رہے ہیں 5000 دو ورنہ گاڑی بند۔ اب 5000 ہزار بھرنے والے کرایہ تو چاہے نا کم کریں مگر یہ پانچ ہزار کن کن کی جیبوں میں جائے گا ؟ درحقیقت یہ بیوروکریسی میڈیا اور ڈاکٹرز کے علاوہ کسی کا بھلا نہیں ہوگا سب جانتے ہیں کہ پچھلے سالوں مارکیٹوں سے افسر شاہی نے کیسے کمایا اور بند دوکانوں کے اندر ہوتی تجارت سے کون آکر جرمانے کے نام پر جیبیں بھرتا رہا ہے اور ڈاکٹروں کی بھی چاندی ہے پس اور مر عوام رہی ہے-

    دوسری طرف بیماری ہے تو اس بیماری کی دہشت دلوں میں اسقدر کیوں بٹھائی جارہی ہے جبکہ اس سے مرنے والوں کی ریشو پاکستان میں 2% بھی نہیں جبکہ اس میں بھی اک بڑی تعداد ایسے ہی کرونا کے کھاتے میں ڈالی گئی ہےجن کی موت کو کرونا کی وجہ بتایا جارہاہے سائنسی طور پر اور میڈیکلی طور پر ابھی وہ بھی پروف نہیں کیا جاتا بس جو مرگیا اور اسکو کرونا تھا تو بس کرونا کی وجہ سے ہی مرا جبکہ وجہ کچھ اور بھی تو ہوسکتی ہے۔

    پہلے مسلمان حکمران وہ تھے جو کہتے تھے کہ فرات کنارے کتا بھی بھوکا مرا تو وہ ذمہ دار ہیں البتہ آجکل ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر ہرآنے والی حکومت ڈالتی ہے-

    آپ sop پر عمل کروائیں مگر آپ لوگوں کو دہشت ذدہ مت کریں کیونکہ خوف سے اموات ہونا بھی بالکل ثابت ہے لہذا بے جا خوف پھیلا کر لوگوں کا قتل عام مت کریں-

  • شاباش خان صاحب۔ ترش و شیرین، نثار احمد

    خان صاحب کی شخصیت کی خصوصیت یہ ہے کہ خان صاحب اپنا مافی الذہن پُراعتماد لہجے میں صاف صاف بیان کرنے میں زرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ جو چیز اُنہیں جیسی سمجھ آتی ہے ویسی ہی کہہ دینے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ بڑے منصب پر فائز لوگ اظہارِ ما فی الضمیر سے صرف اس لیے کتراتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس باب میں خان صاحب اپنی ایک نرالی شان اور منفرد مزاج رکھتے ہیں۔ ناقدین کی ملامت کی رتی برابر پروا کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے "اظہارییے” پر ممکنہ مرتب اثرات و نتائج دیکھ کر مافی الضمیر کا گلا گھونٹ کر اندر ہی اندر کُڑھتے ہیں۔
    یہ خان صاحب کی صاف گوئی اور لہجے میں تاثیر کا ہی کمال ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے باوصف بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد نہ صرف خان صاحب کے طلسم میں گرفتار ہے بلکہ بہتر معاشی حالات کے لیے خان صاحب سے ہی امید بھی باندھی ہوئی ہے۔ ایک طرف درمیانے طبقے کا چولہا بجھ رہا ہے، اُسے تین وقت کا کھانا برقرار رکھنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں دوسری طرف اسی درمیانےطبقے کے نوجوان اب بھی تبدیلی اور بہتری کی امید میں خان صاحب کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں۔
    پروفیسروں کی خُوبو اور انداز ِ تکلّم رکھنے والے خان صاحب وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسا شگوفہ ضرور چھوڑ دیتے ہیں جس کی گونج عرصے تک سیاسی فضا میں سنائی دیتی ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی سمجھیے کہ چند دن قبل موصوف کے دہن مبارک سے پُھوٹنے والا ارشادِ گرامی میڈیا میں زیر ِ بحث ہی نہیں رہا بلکہ جنسی آزادی پر یقین رکھنے والے ایک چھوٹے طبقے کے لیے سخت باعثِ اذیت بھی بنا ہے۔ خان صاحب کا یہ ارشاد ہمیں بہت پسند آیا۔ وجہ خان صاحب سے بے لوث محبت نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اور عالمی میڈیا کا اِسے لے کر سیخ پا ہونا ہے۔ اگر خان صاحب یورپ کے کسی ملک کا وزیر اعظم ہوتے تو اس گفتگو کو بنیاد بنا کر اُن پر تنقید کی گنجائش بنتی تھی لیکن پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کے ناتے اُن کی یہ بات ناقابلِ گرفت ہی نہیں، اکثر پاکستانیوں کے دل کی آواز و ترجمان بھی ہے۔

    خان صاحب نے بالکل درست کہا ہے کہ صرف قوانین کے زریعے جنسی جرائم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی اور پھیلائی گئی فحّاشی کے اثرات ہوتے ہیں۔ خان صاحب کا اس دلیل پر اپنی بات کی تان توڑنا مزید دلچسپ لگا کہ ہمارے دین میں پردے کی تاکید بلا وجہ نہیں آئی ہے۔
    حیرت اس بات پر نہیں ہو رہی ہے کہ بی بی سی سمیت دیگر عالمی میڈیا نے اس بیان کو مخصوص زوائیے میں رکھ کر نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا بلکہ اشاروں کنایوں میں اِسے ہدفِ تنقید بھی بنایا۔ بلکہ افسوس اس بات پر ہو رہا ہے کہ ہمارے اچھے خاصے لوگوں نے بھی اس بیان کو نذرِ سیاست کر ڈالا۔ کم از کم مذہبی سیاسی جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر اس بیان کی پرزور تائید کرنی چاہیے تھی۔ میڈیا کے شور شرابے سے ایسا محسوس ہوا کہ خان صاحب کوئی زیادہ ہی غلط بات کہہ گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔
    ڈیجیٹل ترقی کی بدولت دن بدن سمٹ سمٹ کر دنیا نہ صرف ایک گاؤں کی مانند بن چکی ہے بلکہ یہاں برسوں سے چلی آنے والی مختلف تہذیبیں بھی شکست وریخت سے گذر رہی ہیں۔ اس شکست وریخت کے زریعے وہی تہذیبیں غالب آ رہی ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت و قوت ہے۔ جن کے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور پروپگنڈے کے زرائع بھی۔ جن کے پاس دولت بھی ہے اور دیگر وسائل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج درست و غلط کو جانچنے کے لیے اُن کی تہذیب معیار ٹھہر رہی ہے۔
    ہماری آنکھیں اس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی ہیں کہ پردے اور بے پردگی کے باب میں اسلام اور مغرب نہ صرف الگ الگ تہذیبی تصورات پر کاربند ہیں، بلکہ جدا گانہ بودو باش بھی رکھتے ہیں۔ اسلام عریان گھومنے سے ہی منع نہیں کرتا بلکہ نامحرموں کے سامنے ہاتھ اور چہرے کے علاوہ جسم کا باقی حصہ حتی الامکان ڈھانپ کر رکھنے کی تاکید بھی کرتا ہے۔ جب کہ مغربی ممالک میں یہ سرے سے کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ جنسی آزادی کے تیئں مغربی تہذیب کی اپنی ترجیحات ہیں اور اسلام کی اپنی۔ اسلامی احکام کے دو بڑے مآخذ قرآن وسنت میں پردے کی بابت اجمالی ہی نہیں، تفصیلی باتیں بھی آئی ہیں جب کہ مغربی معاشرہ کب کا آسمانی تعلیمات کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہہ چکا ہے۔ مغرب میں مذہب الگ کھڑا ہے اور سوسائٹی الگ۔ مغرب میں بہ رضا و رغبت جنسی تعلق ایک نارمل کیس ہے۔ وہاں جنسی خواہش کی تکمیل سرے سے کوئی ایسا سبجیکٹ ہی نہیں ہے جسے کسی قانون کی بنیاد بنا کر کچھ اصولوں کا پابند کیا جا سکے۔ آزادی کا خوشنما عَلم تھامے یہ معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی اب اس کے لیے ممکن نہیں رہی ہے۔

    رہنمایان ِ قوم کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب میں اصولی، بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ دنیا کے مختلف حصّوں میں فاصلاتی فرق کم رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا فرق ہی بھلا دیں۔ آپ عمران خان کو بدھو ثابت کرنے اور اُن کی ہر بات میں کیڑے نکالنے کا شوق ضرور پورا کریں لیکن اسلامی اقدار کی تخفیف کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کے پاس ایشوز کی کونسی کمی ہے؟
    اس قضیے میں کچھ لوگ اس نقطہء نظر کے بھی پرچارک ہیں کہ مرد کی نیت ٹھیک ہو تو عورت کی نیم لباسی اور عریانیت کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ سارا مسئلہ بدنیت مرد کا پیدا کردہ ہے۔ ہماری دانست میں یہ بات اس لیے غلط ہے کہ ہمارا مذہب اس کی تائید کرتا ہے اور نہ ہی ہماری عمومی نفسیات۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں جنہوں نے اپنا مزاج اس حد تک سدھایا ہو کہ اُن کی طبیعت جنس مخالف کی طرف بالکل بھی مائل نہ ہوتی ہو۔ چند مستثنیٰ مثالوں کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے چلا آنے والا اصول قربان نہیں کیا جا سکتا۔
    ویسے اگر اس لوجک میں جان ہوتی تو ازواجِ مطہرات کو پردے کی تلقین کی جاتی اور نہ ہی پاکیزہ کردار صحابہ کرام کو ازواج مطہرات سے ضروری بات چیت کے دوران پردے کے پیچھے رہنے کی تاکید کی جاتی۔
    ہمارے ایک کولیگ تھے۔ وہ اسی صیغے کی گردان پڑھتے رہتے تھے کہ بندے کی نیت صاف ہونی چاہیے بس۔ پھر کچھ مہینے ساتھ رہ کر انہی آنکھوں نے دیکھ لیا کہ موصوف اس "معاملے” میں نارمل حضرات سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔

    یہ بات درست ہے کہ مَردوں کو بھی اپنی نگاہوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ عورتوں کو پردہ کروانے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ جو خواتین پردہ کیے بغیر باہر نکلیں۔ آپ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں گھورتے رہیں۔ جس قرآن میں عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے اسی قرآن میں مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم آیا ہے۔
    بہرحال پردہ قرآن وسنت سے مستفاد ایک اٹل حکم ہی نہیں، مسلم تہذیب کا جزوِ لاینفک بھی رہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم قرآن وسنت کی اہمیت و ماخذیت کا انکار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی اسلامی تہذیبی شناخت کا۔
    شاہ زیب خانزادہ جیسے سینیئر اینکرز کو ان موضوعات پر بات کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا کرنا چاہیے۔۔

  • ایک نا ختم ہونے والی جنگ کا آغاز  از تحریر امجد  خان نیازی

    ایک نا ختم ہونے والی جنگ کا آغاز از تحریر امجد خان نیازی

    9 / 11 کے بعد خطے میں امریکی اور اتحادی افواج کی آمد کے بعد ایک نا ختم ہونے والی جنگ کا آغاز ہو گیا .
    پاکستان دشمن عناصر کو اِس سے فائدہ ملا ، کے وہ پاکستان کے خلاف اپنی مذموم کاروائی جاری رکھ سکیں .پشاور اسکول حادثے کے بعد آپْریشَن ضرب عذب شروع کیا گیا اور زمینی محاذ سے دشمن کو پیچھے دھکیلا گیا . Borders پر باڑھ لگا دی گئی اور یوں دشمن کو زمینی کاروای سے روک دیا گیا .
    مگر ساتھ دشمن نے سائبر اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے کارروائی شروع کی . ملک کے اندر کالی بھيڑوں کو خرید کر افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر تضحیک کی گئی.

    پاکستان کے اندر بہت سے ضمیر فروشوں کو خریدا گیا اور ان کے ذریعے ملک کو بدنام کرنے کی سازشیں کی گئیں .افواج پاکستان نے فوج کے اندر پلنے والے ضمیر فروشوں کو گرفتار کیا . یوں بریگڈیر رضوان کو پھانسی پر لٹکا کر نشان عبرت بنایا گیا. مسلح افواج ایک مظبوط اور منظم ادارہ ہے جس کے اندر سزا و جزا کا مضبوط نظام موجود ہے . اسی زمن میں ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جس سے افواج پاکستان کے خلاف کام کرنے عناصر کی سَر کوبی کی جائے.  یہ بِل اسی مقصد کے لیےمتعارف کروايا گيا ہے. جس میں افواج پاکستان کی تضحیک و تمسخر کے خلاف سزايئں موجود ہیں.

    ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی درج زیل سزايئں موجود ہیں

    جب کے امریکہ میں بھی افواج کی تضحیک کے خلاف قانون موجود ہے.

    بھارت اور امریکہ دو بڑی جمہوری ریاستیں ہیں جن میں یہ قانون موجود ہے . جب کے دوسرے چھوٹے ممالک میں بھی یہ قانون موجود ہے .جب کے صدارتی نظام رکھنے والے روس اور چائنا جیسے بڑے ملکوں میں بھی یہ نظام موجود ہے .
    بِل پر اٹھائے جانے والے اعتراضات:

    1 . کمیٹی نے بِل کو drop کر دیا تھا اِس لیے یہ بِل دوبارہ نہیں آ سکتا.

    میں نے درخواست بھیجی تھی کے چونکہ میرا بِل ادَم حاضری کی وجہ سے خارج کیا گیا ہے لحاظہ اسکو سنا جائے .جس کی وجہ سے یہ بِل کمیٹی کے سامنے دوبارہ پیش ہوا ہے. اسلئے یہ کہنا کے یہ بِل دوبارہ زیر غور کرنا گھیر قانونی ہے ، غلط بات ہے اور یہ عین رولز کے مطابق ہے.

    دوسرا اعتراض کے کون اِس قانون کا Respondent بنے گا ؟ ؟
    جواب: ریاست ایک وجود رکھتی ہے اور ریاست اپنے وجود کی بقا کے لیے ریاستی اِدارون کے ذریعے اپنے فرائض سَر انجام دیتی ہے.
    وجہ یہ ہے کے ہَم ہر عدالت کے باہر فلان بنام سرکار کی آوازیں سنتے ہیں . اِس زمن میں آئیں کا آرْٹِیکَل 174 بڑا کلیئر ہے جو کہتا ہے

    تيسرا اعتراض کے کاروائی کا طریقہ کار کیا ہو گا ؟

    جواب: Section500 پہلے ہی مجموعہ تعزيرات پاکستان 1860 ميں شامل ہے اور يہ دفعہ ہر اس فرد جس کی تضحیک یا کردار کشی ہی ہو ، اسکو یہ اختیار دیتی ہے کے وہ ہتک عزت کا مقدمہ دایر کر سکے ..
    میری یہ ترمیم دفعہ 500 الف کا اضافہ کرتی ہے جس کے تحت افواج پاکستان کا جان بوجھ کر تمسخر اڑانے والے کے خلاف عدالتی کاروائی ہو گی. سول عدالت کے تحت یا نارمل طریقے کی کاروائی ہو گی. اِس دفعہ کے تحت defamation suit
    فائل کرنا ہو گا اور اس کی سماعت سول عدالت کے تحت ہوگی.

    چوتھا اعتراض کہ KPK  صوبے کی طرفسے اس بل کی مخالفت کی گئ ہے .
    جواب:  جو بھی جواب دیے دیے گئے وہ بغیر لوجک یا Reasoning  کے ہیں . General opinion یہ آئی کے یہ بِل آئیں اور قانون سے متصادم ہے . مگر دَر حقیقت یہ کسی قانون سے متصادم نہیں . اگر ہوتا یا ہے تو حوالہ دیں . میں کھلا چیلنج کرتا کرتا ہوں کے بتائین کے یہ کس قانون یا شک کے متصادم ہے ؟اڑا دینا کہ یہ قانون آئین سے متصادم ہے غلط اور غیر منطقی بات ہے.
    حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون کسی دیگر قانون سے متصادم نہیں ہے مجلس شوریٰ پارلیمنٹ قوانین وضع کرنے میں خود مختارہے اور قوانین وضع کرنا اس کا بنیادی کام ہے. constitution اس بنیادی کام کی بھر پور وضاحت کرتا ہے اور اس میں ذرا سابھی ابہام نہیں ہے آرٹیکل 141 اور 142 (2) اور (b) aur آرٹیکل 143 کی وضاحت کرتا ہے کہ مجلس شوریٰ قوانین وضع کرسکتی ہے.

    علاوہ ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان کو Judicial Review کا اختیار حاصل ہے اور اس review کے تحت جو قانون بھی آئین سے متصادم ہو وہ کالعدم قرار پاتا ہے.

    آرٹیکل 141 :آئین کے تابع ،مجلس شوریٰ پارلیمنٹ قوانین وضع کرسکتی ہے (بشمول ایسے قوانین جو اضافی علاقائی حدود رکھتے ہوں )
    یہ قوانین پورے پاکستان یا اس کے کسی خطہ کے لیے ہوسکتے ہیں اور کوئی صوبائی اسمبلی صوبہ کی نسبت یا اس کے کسی خطہ /حصہ کی نسبت قوانین بناسکتی ہے
    آرٹیکل 142: آئین کے تابع !(a) مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کو خصوصی اختیار حاصل ہوگا کہ وہ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی معاملہ سے متعلق قانون سازی کرسکتا ہے.

    مجلس شوریٰ پارلیمنٹ اور کسی صوبائی اسمبلی کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ فوجداری قانون ،ضابطہ فوجداری اور شہادت (گواہی) سے متعلق قانون سازی کرسکتی ہیں
    آرٹیکل 143 : اگر کسی صوبائی اسمبلی کے کسی قانون کی کوئی شق ،مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کے قانون کی کسی شق سے متصادم ہو جس سے متعلق مجلس شوریٰ پارلیمنٹ قانون وضع کرنے کا اختیار رکھتی ہے تو ایسی صورت میں مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کا پہلے بنایا گیا ہو یا بعد میں بنایا گیا ہو ، جو برتری حاصل ہوگی اور صوبائی اسمبلی کا قانون اس تصادم کی حدتک کالعدم قرار پائے گا.