Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گو گل میپ میں صارفین کے لیے’ڈارک موڈ‘  شامل

    گو گل میپ میں صارفین کے لیے’ڈارک موڈ‘ شامل

    دنیا کے تیز ترین سرچ انجن گوگل نے حال ہی میں دنیا بھر کے صارفین کے لیے گوگل میپ میں ’ڈارک موڈ‘ کو شامل کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کی جانب سے گوگل میپ پر ڈارک موڈ کی آزمائش گزشتہ سال ستمبر سے کی جا رہی تھی۔

    گوگل میپ پر ڈارک موڈ سے ایپ کا بیک گراؤنڈ سفید سے کالے رنگ میں تبدیل ہو جائے گا جب کہ میپ میں اسٹریٹ کے نام ہلکے گرے رنگ سے ظاہر ہوں گے۔

    گوگل میپ کے ڈارک موڈ کو آن کرنے کے لیے صارفین کو سب سے پہلے گوگل میپ کی سیٹنگ کے آپشن میں جانا ہوگا جس کے بعد انہیں نیچے تھیم کا آپشن نظر آئے گا۔

    تھیم کے آپشن پر کلک کرنے کے بعد صارفین ڈارک موڈ کے آپشن پر کلک کر کرے اسے آن کر سکیں گے۔

    سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈیز بنانے والوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    پنجاب آئی ٹی بورڈ کا پولیس تھانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر منتقل کرنے کا منصوبہ

    "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”

  • واٹس ایپ صارفین ماہانہ کتنے میسجز اور کالز کرتے ہیں ڈیٹا جاری

    واٹس ایپ صارفین ماہانہ کتنے میسجز اور کالز کرتے ہیں ڈیٹا جاری

    فیس بک کی زیر ملکیت ایپلیکیشن واٹس ایپ نے حیران کن ڈیٹا جاری کیا ہے کہ واٹس ایپ صارفین ماہانہ کتنے میسجز اور کالز کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی : حال ہی اپٔنی نئی پرائیویسی پالیسی کی وجہ سے تنازع کا شکار ہونے والی فیس بک کی زیر ملکیت ایپلیکیشن واٹس ایپ اپنی بارہویں سالگرہ پر ایپ کے استعمال سے متعلق کچھ اعدادو شمار جاری کیے ہیں۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر واٹس ایپ کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے آج ایک ٹوئٹ کی گئی ہے جس میں واٹس ایپ کی جانب سے بتایا گیا ہےکہ اس کے 2 ارب سے زائد صارفین ہر ماہ 100 ارب واٹس ایپ پیغامات بھیجتے ہیں اور روزانہ ایک ارب سے زائد کالزکی جاتی ہیں۔

    واٹس ایپ نے کہا ہےکہ ہم اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کے ساتھ آپ کی رازداری کے پابند ہیں اور رہیں گے، ہمیشہ اور ہمیشہ کے لیے واٹس ایپ کے 12 سال مبارک ہو ۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی ویب سائٹ ٹیک کرنچ نے دعویٰ کیا کہ جو صارفین واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی کو قبول کرنے کے حامی نہیں اس کے بعد شرائط تسلیم نہ کرنے والوں کو راضی کرنے کے لیے بتدریج مطالبہ کیا جائے گا۔ ان صارفین کا واٹس ایپ اکاؤنٹ 15 مئی کے بعد عارضی بند کر دیا جائے گا –

    ای میل میں مزید کہا گیا ہے کہ 15 مئی کے بعد شرائط تسلیم نہ کرنے والے ایپ پر آنے والے میسیجز نہیں پڑھ سکیں گے تاہم انہیں مختصر وقت کے لئے نوٹیفکیشن اور کالز موصول کرنے کی سہولت میسر رہے گی۔

    ویب سائٹ کا کہنا تھا کہ 15 مئی کے بعد پرائیویسی قبول نہ کرنے والے صارفین واٹس ایپ کے پیغامات کو نہیں پڑھ پائیں گے اور نہ اپنے دوستوں کو واٹس ایپ کے ذریعے کوئی پیغام بھیج سکیں گے جب کہ اکاؤنٹ مزید 120 دن بعد مکمل طور پر ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

    واٹس ایپ کا صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کا موقع

    واٹس ایپ چیٹ کو محفوظ بنانے کے چار طریقے

    واٹس ایپ سے ٹیلی گرام پر اپنی چیٹ باآسانی منتقل کرنے کا طریقہ

    واٹس ایپ نے اپنے اینڈرائیڈ ورژن کیلئے نئی ویب اپ ڈیٹ متعارف کروادی

    واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی:صارفین کے رد عمل نے واٹس ایپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر…

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    WhatsAppPrivacyPolicy ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

  • وزیرآباد :مریم نواز کے جلسے میں ووٹ کو عزت دینے والا ذلیل ہو گیا

    وزیرآباد :مریم نواز کے جلسے میں ووٹ کو عزت دینے والا ذلیل ہو گیا

    وزیرآباد :مریم نواز کے جلسے میں ووٹ کو عزت دینے والا ذلیل ہو گیا-

    باغی ٹی وی : وزیرآباد میں :مریم نواز کے جلسے میں مسلم لیگ نواز کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے ورکر کو دھکے کروا دیئے


    اطلاعات کے مطابق وزیرآباد جلسے میں پارٹی کا متوالا سٹیج پر اپنی لیڈر شپ کے ساتھ سیلفیاں بنا رہا تھا کہ اس دوران سٹیج کے اوپر فرنٹ پر آنے کے لیے احسن اقبال نے ن لیگی ورکر کو دھکے مارے-

    تاہم ورکر نے بھی اپنی جگہ نہ دینے کی ٹھان لی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احسن اقبال ووٹ کو خوب عزت دے رہے ہیں ورکر کی ڈھٹائی کے سامنے بے بس احسن اقبال واپس کرسیوں پر جا بیٹھے –

    صارفین کا کہنا ہے کہ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ پارٹی قیادت اپنے مفاد میں استعمال کرتی ہے حقیقت میں ووٹ کو کیا عزت ملتی ہے اس ویڈیو سے صاف ظاہر ہو رہا ہے-

  • باغی بنا مظلوم کی آواز، ملیر کے علاقے چمن کالونی میں پانی کی عدم فراہمی

    باغی بنا مظلوم کی آواز، ملیر کے علاقے چمن کالونی میں پانی کی عدم فراہمی

    کراچی: ملیر کے علاقے کھوکھراپار چمن کالونی یوسی 12 میں گزشتہ 20 روز سے پینے کے پانی سے علاقہ مکین محروم

    ملیر کھوکھراپار چمن کالونی یوسی 12 میں سوریج لائن کی کھدائی کے دوران واٹر بورڈ کی مین لائن کو نقصان پہنچا،
    جس پر علاقہ مکین کی جانب سے واٹر اینڈ سیوریج کے اعلیٰ عہدیداران کو بھی آگاہ کیا گیا
    چند دن بعد واٹر بورڈ کے عملے نے سروے کیا، سروے کے بعد دو جگہ سے متاثر شدہ لائن کو جوڈ دیا گیا،
    جو پانی کی سپلائی بحال ہونے کے بعد پھر متاثر ہوگئی
    واٹر بورڈ کی جانب سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے
    جس کی وجہ سے سیوریج لائن کا کام متاثر ہونے سے علاقے کی مین سڑک متاثر ہونے سے ٹرانسپورٹ اور کاروبار بھی متاثر ہے رہائشیوں کو بھی سخت پریشانی کا سامنا ہے.

    گہرے گڑھوں میں پانی جمع ہونے سے چھوٹے بچوں کا گرنے اور کسی بھی حادثے کا بھی خدشہ ہے

    وزیر بلدیات اس پر فوری نوٹس لیں اور کام کو جلد مکمل کروائیں۔

  • ضلع کیماڑی میں مصطفیٰ کمال کا خطاب

    ضلع کیماڑی میں مصطفیٰ کمال کا خطاب

    کراچی: گزشتہ روز پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفئ کمال ضلع کیماڑی کے علاقے بھٹہ ولیج تاتا ہاؤس میں مختلف برادریوں کے معززین سے خطاب کیا، اس موقع پر وائس چیئرمین شبیر احمد قائم خانی ممبر نیشنل کونسل و کیماڑی ڈسٹرکٹ کے صدر ہمایوں عثمان راجپوت سمیت ڈسٹرکٹ کیماڑی و ٹاؤن کے عہدیداران بھی موجود تھے ۔

  • دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے

    دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے

    این اے 221تھرپارکر میں دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے، صوفی یحییٰ قادری

    ہمارے امیدوار کے انتقال کرجانے اور ان کے پیپلزپارٹی *کے حق میں دستبردار ہونے کی جھوٹی خبریں چلواکر ٹی ایل پی کے ووٹرز کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔

    تما تر ہتھکنڈوں کے باوجود عوام اہلسنت حافظ سعد رضوی کی قیادت میں متحد ہیں ،عام انتخابات میں ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھریں گے۔
    صوفی یحییٰ قادری
    کراچی (پ ر)تحریک لبیک پاکستان سندھ کے ناظم اعلیٰ صوفی یحییٰ قادری نے کہا ہے کہ حلقہ این اے 221تھرپارکر میں دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے۔ٹی ایل پی کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکال کر من مانی کی گئی جبکہ ہمارے امیدوار کے انتقال کرجانے اور ان کے پیپلزپارٹی کے حق میں دستبردار ہونے کی جھوٹی خبریں چلواکر ٹی ایل پی کے ووٹرز کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی
    ۔انہوںنے کہا کہ دھاندلی کے عمل میں پی ٹی آئی بھی پیچھے نہیں رہی اور ان کی جانب سے ایک پولنگ اسٹیشن کو آگ لگائی گئی اور کارکنوں کو ہراساں کیا گیا لیکن ان تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود عوام اہلسنت حافظ سعد رضوی کی قیادت میں متحد ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں ٹی ایل پی ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی۔

    گزشتہ روز جاری اپنے بیان میں صوفی یحییٰ قادری نے کہا کہ سندھ میں ہونے والے ضمنی الیکشن ایک مذاق کے مترادف تھے۔پیپلزپارٹی نے اپنی صوبائی حکومت کے بل بوتے پر تمام ناجائز ہتھکنڈے استعمال کیۓ
    ان تمام باتوں کے باوجووعوام اہلسنت جوق در جوق ٹی ایل پی کو ووٹ دینے کے لیے پولنگ اسٹیشنز تک آئے اور تھرپارکرکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مذہبی سیاسی جماعت کو بڑی تعداد میں ووٹ کاسٹ کیا گیا لیکن ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی ہمارے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا گیا اور تا حال ہمیں مکمل نتائج سے بے خبر رکھا گیا

    صوفی یحییٰ قادری نے کہا کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے ٹی ایل پی کی عوامی مقبولیت کو کم نہیں کیا جاسکتا ہے۔کراچی سے خیبر تک عوام اہلسنت حافظ سعد رضوی کی قیادت میں متحد ہیں اور امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی کے مشن کی تکمیل کے لیے اپنا سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہیں۔انہوںنے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں ٹی ایل پی بڑے بڑے برج گرادے گی اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے امیدوار گل حسن صاحب اور تمام کارکنان مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے طاغوتی قوتوں کا استقامت اور بہادری سے مقابلہ کیا۔

    صوفی یحییٰ قادری نے چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ کے ضمنی الیکشن میں ہونے والی باقاعدگیوں کا نوٹس لیں۔

  • ہمیں فکری لحاظ سے بالغ ہونے کی ضرورت ہے   بقلم:جویریہ بتول

    ہمیں فکری لحاظ سے بالغ ہونے کی ضرورت ہے بقلم:جویریہ بتول

    ہمیں فکری لحاظ سے بالغ ہونے کی ضرورت ہے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)

    قوم کی مضبوطی کا انحصار صرف معاشی برتری یا بلند و بالا عمارات پر ہی نہیں ہوتا بلکہ فکری بلوغت اور دور اندیشی سے مالا مال اقوام ہر دور اور ہر وقت میں خود کو کامیاب بنا سکتی ہیں…وہ چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کے ساتھ ہر مشکل گھڑی سے گزر سکتے ہیں… لیکن فکر و شعور کی کمی اکثر مادی مضبوطی پر بھی حاوی ہو جاتی ہے…جب وسائل کی نگہداشت،منصفانہ استعمال اور انہیں بروئے کار لانے کا شعور ہی قوم کو نہ ملے…!

    ایک معاشرہ اُس وقت تک نہیں سدھر سکتا جب تک اُس کے تمام طبقات،اکثریت،اقلیت اپنے اپنے فرائض و حقوق کا شعور حاصل نہیں کرتے…!!

    وہ حکمران طبقہ ہو یا دیگر ادارے یا اُن میں کام کرنے والے ملازمین…جب تک سب شعور کی دولت سے تہی دست اور ذاتی مفادات کے چکر میں گھومنے والے لٹو بنیں رہیں گے…اُس وقت تک نا انصافی، شکایتیں،بغاوت اور غلط فہمیاں جنم لیتی رہیں گی…

    کہیں فرائض کی غفلت ہوتی ہے جو عتاب اور کہیں حقوق کی کمی بغاوت کی وجہ بن جاتی ہے.
    ریاست کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کے تمام لوگوں کی خیر خواہ اور شیلٹر بنے…
    ہم سب اکثر ایک ریاست کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور اپنی روحانی وابستگی کا یقین دلانے کے لیے اُس کامیاب سٹیٹ کا حوالہ دیتے ہیں…یعنی”ریاستِ مدینہ”

    لیکن وہ ریاست کامیاب کیسے ہوئی کہ تئیس سال کے قلیل عرصہ میں جس سے قیصر و کسریٰ کے گنبد لرزنے لگے؟

    وجہ حقوق و انصاف کی یکساں فراہمی،ظلم و جبر کا فوری خاتمہ،عملی تربیت و احتساب کا اہتمام…تقویٰ و جوابدہی کے احساس کا شعور…انسانی حقوق کی پاسداری و مساوات کا لحاظ…حقوق اللّٰہ کی ادائیگی و حدود اللّٰہ کا نفاذ تھا یہی وجہ تھی کہ وہ اوّلین ریاست دنیا کی کامیاب ترین ریاست اور رہتی دنیا تک کے لیے انمٹ مثال بن گئی…جسے مستشرقین نے بھی داد و تحسین پیش کی اور کہا کہ وہ محمدﷺ تھے جنہوں نے دین اور دنیا ہر دو محاذوں پر قلیل وقت میں کامیابی حاصل کی…اور اسی نقشِ قدم پر آپ کے اصحاب و خلفاء نے بھی عمل کیا…!!!

    ہمارا المیہ یہ ہے کہ چوہتر سالوں میں ہم ایک ہی رونا روتے اور سنتے آئے ہیں کہ جانے والے ظالم ہیں اور آنے والے عادل…
    پھر کُچھ وقت بعد وہی دودھ کے دُھلے بن کر سامنے آ جاتے ہیں…

    عوام بیچاری کی اگر کوئی حیثیت کسی کی نظر میں ہوتی بھی ہے تو وہ ووٹ بنک سے زیادہ ہر گز نہیں…پانچ سالوں میں مسائل کی فہرستیں ہی تیار نہیں ہو پاتیں کہ اور عوام یہی رونا روتی رہ جاتی ہے کہ ووٹ لے کر ہمیں بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا…!!!

    ریاست چوں کہ ماں کی طرح ہوتی ہے اور اُس سے کسی بھی بچے کا رونا برداشت نہیں ہوتا اس لیے وہ بیک وقت سب کی ضروریات کا خیال رکھتی اور اسباب مہیا کرنے کی جستجو میں رہتی ہے…لیکن اگر ریاست کا مقصد مخصوص اور محدود بنا دیا جائے تو مسائل کی شروعات وہاں سے ہوتی ہیں…اور پھر بچے ماں پر عدم انصاف اور کسی ایک طرف جھکاؤ کا الزام بھی لگانے لگتے ہیں-

    ہمارے ہاں ہوتا یہ رہا ہے کہ ایوانوں سے باہر رہنے والے ہمیشہ دھاندلی کا شکار نظر آئے…اور اُنہیں حکومت کے پانچ سالہ دور میں اِسی چیز سے فرصت نہیں ملتی کہ آیا وہ قوم کے مفاد کی کوئی بات یا پروگرام ہی سوچ لیں…وہ بس اپنے حقوق کے لیے ہی سرگرم رہتے رہتے ہیں یوں ایک دوسرے کے فوبیا کی بیماری مسائل کو بدستور طول دیے رکھتی ہے…حالاں کہ مضبوط ریاست کے اصولوں میں یہ چیز بھی شامل ہوتی ہے کہ حکومت چاہے جس کی بھی ہو قومی مفادات کے ہر منصوبے اور وژن کا خلوص دل سے ساتھ دیا جائے گا…مخالفت صرف وہیں ہو گی جہاں قومی مفادات کو دھچکا لگنے کا خطرہ ہو…

    اِسی طرح ایک رسمِ احتجاج ہے جو جائز ہے اور اپنے خدشات،تحفظات اور مطالبات کو واضح طور پر پیش کرنے کی راہ بھی…احتجاج کا حق ہر ایک کو ملنا چاہیے…

    ہم ریاستِ مدینہ کے راہ نما حضرت محمدﷺ کو دیکھتے ہیں جو ایک اعرابی کو جو قرض کے مطالبے میں تلخ رویہ اختیار کر لیتا ہے لیکن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے فرماتے ہیں نہیں یہ اس کا حق ہے…اسے احتجاج کرنے دو…اور قرض کی بہترین اور زیادہ طریقہ سے ادائیگی کی جائے…اللّٰہ اکبر…

    رحمتِ دو عالم ﷺ ایک عام شخص کو احتجاج کا کیسے حق دے رہے ہیں؟

    کہ حاکم کے سامنے کھڑا شخص بھی مکمل مامون اور انتقام سے بے خوف ہو…اُسے اپنے حق تک رسائی ملے…
    یہ ہے انسانی حقوق کی اصل فراہمی اور خود احتسابی کا حقیقی درس…
    لیکن ہمارے ہاں شعور کی کمی احتجاج کو بھی حقیقت کی بجائے سیاسی رنگ دیتی ہے…پڑھا لکھا طبقہ بھی بعض اوقات احتجاج کے لیے نکلتا ہے تو تشدد کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے…سنگ باری اور قومی املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ سراسر غیر مہذب طریقہ و عمل ہے…

    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ صورت حال اُس وقت بھی پیدا ہوتی ہے جب فریقین میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے اور اُسے بلڈ اپ نہیں کیا جاتا…احتجاجی یہی سمجھتے ہیں کہ بغیر تشدد و حد سے گزرے انہیں کچھ حاصل نہیں ہونے والا…اور دوسری طرف سے بھی کچھ گرمی تبھی نظر آتی ہے…!

    میڈیا کے میدان میں آزادئ اظہار کے نام پر کئی سقم نظر آئیں گے…کھمبیوں کی طرح اُگے چینلز قوم کو کوئی واضح راہ نمائی،تربیت،رائے عامہ کو بہترین اور مثبت سمت میں ہموار کرنا جو کہ میڈیا کا بنیادی مقصد ہوتا ہے سے قاصر رہتے ہیں…

    اور سوشل میڈیا کے طوفان کی زباں و بیاں کے طوفان پر بحث تو اور ہی الگ معاملہ ہے…ہم نے تو اختلاف رائے،تنقید اور ردعمل کے فن میں بھی ابھی مہارت حاصل کرنی ہے…اندازِ گفتگو اور لفظوں کے انتخاب کا ہنر بھی سیکھنا ہے…!

    لطف و مزاح اور ادب کے دائرہ و حدود سے آگہی بھی تو حاصل کرنی ہے…!
    یہ ساری چیزیں کسی بھی قوم کے مہذب اور غیر مہذب ہونے کی عکاسی ہوتی ہیں…!!!

    صحت کے مسائل اور علاج گاہوں کی کمی کا یہ عالم ہے کہ گنجان آبادیوں میں علاج کی غرض سے گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد مریض مرہم تک پہنچ سکتا ہے…اور قوم کے شعور کی طرف دیکھا جائے تو سرکاری ہسپتالوں کے دھکوں اور علاج پر شاکی نظریں رکھتے اور پرائیویٹ کلینکس پر ڈاکٹروں کو لاکھوں روپے فیس اَدا کر کے فوری علاج کروانے میں عافیت سمجھتے ہیں یعنی کہیں سسٹم خراب ہے تو کہیں مائنڈ سیٹ…!

    غرض ہر شعبہ زندگی وہ وکلاء ہوں یا طلباء،اطباء ہوں یا علماء…اساتذہ ہوں یا سیاستدان،حکام ہوں یا عوام جب سبھی اپنے اپنے فرائض سے آگاہ اور مخلص ہو جائیں گے تو ان شآ ءَ اللّٰہ ہم جلد فکری اور تعمیری طور پر مضبوط قوم بن کر اُبھریں گے…کیوں کہ ہم نے فرقہ فرقہ،گروہ گروہ بن کر نہیں بلکہ ایک قوم بن کر سوچنا اور آگے بڑھنا ہے… ہم تو ہیں ہی ایک نظریاتی مملکت اور اس کا دفاع یقینًا ہم سب کا مضبوط دفاع ہے-

    جب قوم فرماں بردار بچوں اور ریاست مشفق ماں کا کردار ادا کرے گی…پورے گھر میں کسی کی بھی بے چینی اُس سے برداشت نہیں ہو گی اور وہ تڑپنے اور سسکنے کا فوری نوٹس لے گی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بے چین ہوں گے بلکہ امن و آشتی اس گُلشن میں ہنس ہنس کر کھیلیں گے…

    مانا کہ بہت سے لوگ اکیسویں صدی میں خوش حال ہوں گے مگر برادری میں کوئی گھرانہ کسی بے بس غریب کا بھی ہو سکتا ہے،جس پر نظر اور خیال رکھنا ثروت مندوں کی ذمہ داری ہے ناں…ہاں جسے ہر وقت اپنے اردگرد بیٹھے بچوں کے دو وقت کی روٹی کی ہی فکر ستائے رکھتی ہو…اور وہ امیر برادری کے چونچلوں اور رواجوں سے بے خبر اپنی ہی دُھن میں مگن رہتا ہو اور بسا اوقات کسی کے ذہن میں وہ اندھیرے، تنہائی اور مایوسی یوں بھی گھیراؤ کر لیتے ہوں کہ وہ خود کشیوں پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں، پھر ہو سکتا ہے موٹیویشنل لیکچر بھی انہیں متاثر نہ کر پائیں،کیوں کہ دنیاوی اسباب بھی تو کسی مقصد کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور جب اسباب حرکت میں نہ آئیں تو مایوسی تو بڑھے گی ہی ناں؟

    اُڑتے اُڑتے آس کا پنچھی دُور افق میں ڈوب گیا…
    روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی…!
    ایسے مسائل اور خبریں اب تربیت و عمل کے بل بوتے پر ختم ہو جانے چاہئیں…ہم عمر کے لحاظ سے تو کافی بڑے ہو گئے ہیں…ابھی تک ایسا کیوں ہے…؟

    وہ عمر رضی اللّٰہ عنہ تھا ناں رعایا کی خبر گیری کر کے بچوں کے رونے کی آواز پر بے چین ہو جاتا…اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کے بار پر تڑپ اُٹھتا…

    مان لیا کہ تب تو آبادیاں بھی کم تھیں…لیکن اب جتنی آبادیاں ہیں اُس سے تیز رفتار وسائل بھی ہیں…بس غور و فکر والے دل اور بصیرت والی آنکھیں درکار ہیں…

    بس ہمیں تھوڑا سا سیاسی،معاشرتی،فکری اور تربیتی اعتبار سے بالغ ہونے کی ابھی ضرورت ہے…!!!

  • اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا    بقلم:جویریہ بتول

    اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا بقلم:جویریہ بتول

    مسلمان عورت…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا…
    وقار اپنا……کردار اپنا……انعام اپنا…

    جب تیرا وجود بھی زمیں پر باعثِ آزار تھا…
    انداز بے رحم تھا بہت،نہ حقوق کا معیار تھا…
    پیدائش پر بیٹی کے باپ سوچتا کئی بار تھا…
    اسلام نے جو آ کر دیا، سمجھ وہ اِکرام اپنا…

    بیٹی ہو بہن ہو تم بیوی اور پھر اک ماں…
    جس صورت میں بھی ہو تم مہکاؤ یہ گلستاں…
    تمہیں عطا رب نے کیا ہے حقوق کا اِک آسماں…
    بہت خاص ہو اب تم ،وجود سمجھو نہ عام اپنا…

    مومنہ ہو تم مسلمہ ہو، قانتہ ہو تم تائبہ ہو…
    عابدہ ہو تم ساجدہ ہو،راکعہ ہو تم خاشعہ ہو…
    تاریخ کے سینے میں سیرتِ خدیجہ و آسیہ ہو…
    کیوں بھولی ہو صفات یہ،بھولا ہے کیوں نام اپنا…؟

    عمارہ کے نقشِ پر میدانِ جنگ میں صف آراء…
    صفیہ کی ہو تم وارث رکھ سکتی ہو دل بڑا…
    ماں عائشہ کی سیرت بنائے تمہیں علم کا دریا…
    راستوں کو پہچان لو اب، گر کرنا ہے کام اپنا…

    جنسِ بازار ہو نہ تہذیبِ مغرب کا معیار تم…
    جن راہوں کی ہیں وہ راہی،ہو گی یقینًا بیزار تم…
    حقوق کے نام پر استحصال کے وار پر رہو بیدار تم…
    آشیاں سے کرکے بغاوت،کھو نہ دو زادِ تمام اپنا…

    حیا کی تم پر چادر ہے،غیرت کا ملا ہے غازہ بھی…
    ہر دَور میں ہے کردار تمہارا،رہے یہ عزمِ تازہ بھی…
    تمہاری حفاظت کا ہے مکان ،نکلنے کا دوازہ بھی…
    حصارِ عظمت گنوا نہ دینا،حصار رکھنا دوام اپنا…!
    ================================

  • پنجاب آئی ٹی بورڈ  کا پولیس تھانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر منتقل کرنے کا منصوبہ

    پنجاب آئی ٹی بورڈ کا پولیس تھانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر منتقل کرنے کا منصوبہ

    پنجاب آئی ٹی بورڈ کے حکام نے قائمہ کمیٹی میں بریفنگ میں کہنا تھا کہ پنجاب ائی ٹی بورڈ نے پہلا نیشل کریمنل ڈیٹا بیس تشکیل دے دیا ہے-

    باغی ٹی وی : پنجاب آئی ٹی بورڈ کے حکام نے قائمہ کمیٹی میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ پنجاب کے تمام 716 پولیس اسٹیشن کو آٹو میٹڈ کردیا گیا ہے-

    بورڈ حکام کے مطابق پنجاب آئی ٹی بورڈ نے پہلا نیشل کریمنل ڈیٹا بیس تشکیل دیا ہے بورڈ کے ڈیٹا بیس میں کریمنل کمرشل پروفائل کی تعداد 15 لاکھ ہے-

    حکام آئی ٹی بورڈ کے مطابق ڈیٹا بیس میں 65 لاکھ کریمنل ریکارڈ محفوظ ہیں اورگزشتہ ایک سال میں پنجاب میں 5 لاکھ 20 ہزار ایف ائی آر درج ہوئیں-

    آئی حکام نے بریفنگ کے دوران مزید بتایا کہ پولیس تھانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر منتقل کرنے کا منصوبہ ہے اور جس میں3 منصوبوں کی تکیمل کے لئے 14 سو ملین درکار ہیں-

    حکام آئی ٹی بورڈ کا یہ بھی کہنا تھا کہ نادرا کا ڈیٹا بیس بھی اس نظام کیساتھ منسلک کیا جائے گا اوردیگر صوبوں میں بھی اس نظام کی ترویج کررہے ہیں-

  • واٹس ایپ کا فیس بک طرز کا ’سائن آؤٹ‘ فیچر متعارف کروانے کا فیصلہ

    واٹس ایپ کا فیس بک طرز کا ’سائن آؤٹ‘ فیچر متعارف کروانے کا فیصلہ

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے فیس بک طرز کا منفرد فیچر متعارف کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے’سائن آؤٹ‘ فیچر پر کام شروع کیا ہے –

    باغی ٹی وی : رواں ماہ کے آغا ز میں اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کی عجہ سے تنازع کا شکار ہونے والی مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک منفرد فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے ذرائع کے مطابق واٹس ایپ نے ’سائن آؤٹ‘ فیچر پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت صارف اپنی مرضی سے جہاں سے بھی چاہے گا اکاؤنٹ کو لاگ آؤٹ کرسکے گا-

    لاگ آؤٹ کے بعد موبائل یا کمپیوٹر پر اس کی رسائی ختم ہوجائے گی اور پھر یہ دوبارہ آئی ڈی کی طرح لاگ ان کیا جاسکے گا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ ورژن کے لیے ایک نئی ویب اپ ڈیٹ متعارف کروائی تھی واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ٹیک ویب سائٹ کے مطابق واٹس ایپ نے پچھلے بیٹا ورژن میں موجود نقائص دور کر دیا ہے اور اسے پلے اسٹور پر بھی ڈال دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ نے اپنے اینڈرائیڈ ورژن کیلئے نئی ویب اپ ڈیٹ متعارف کروادی

    واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر صارف بیٹا ٹیسٹر نہیں ہیں تو ہم انہیں اس ورژن کو اپ ڈیٹ کرنے کی تجویز کرتے ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ اگر آپ بیٹا ٹیسٹر ہیں تو آپ کو 2.21.2.19 کو اپ ڈیٹ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اسے تمام عام صارفین کے لیے متعارف کروایا گیا ہے۔

    اگراس فیچر کو پچھلے بیٹا ورژن کے لیے متعارف کروایا گیا ہے تو یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی ہے اپ ڈیٹ 2.21.2.19 ہر ایک کے لیے دستیاب ہوگی یا نہیں۔

    علاوہ ازیں حال ہی میں واٹس ایپ نے صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کا موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کو اپنی مرضی اور اپنے ٹائم فریم کے تحت پالیسی کا جائزہ لینے کی سہولت فراہم کریں گے اور یاد دہانی کے لیے ایک بینر بھی ایپ پر نظر آتا رہے گا۔

    واٹس ایپ نے پرائیویسی سے متعلق یہ وضاحت ایک ای میل کے جواب میں دی جس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ سہولت 15 مئی تک دستیاب رہے گی اور اس کے بعد شرائط تسلیم نہ کرنے والوں کو راضی کرنے کے لیے بتدریج مطالبہ کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ کا صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کا موقع

    ای میل میں مزید کہا گیا ہے کہ 15 مئی کے بعد شرائط تسلیم نہ کرنے والے ایپ پر آنے والے میسیجز نہیں پڑھ سکیں گے تاہم انہیں مختصر وقت کے لئے نوٹیفکیشن اور کالز موصول کرنے کی سہولت میسر رہے گی۔

    واضح رہے کہ واٹس ایپ نے 4 جنوری کو نئی پرائیویسی پالیسی قبول کرنے کے لیے نوٹیفکیشن 8 فروری 2021 تک نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ صارفین کو لازمی شرائط قبول کرنا ہوں گے ورنہ ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے جائیں گے جس کے بعد صارفین کے شدید ردعمل نے واٹس ایپ کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا تھا-

    واٹس ایپ چیٹ کو محفوظ بنانے کے چار طریقے

    ایک فون میں دو واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کرنے کا طریقہ

    واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی:صارفین کے رد عمل نے واٹس ایپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر…