Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح  صارفین ٹوئٹر پر بھی وائس میسجز بھیج سکیں گے؟

    دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح صارفین ٹوئٹر پر بھی وائس میسجز بھیج سکیں گے؟

    مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر بھی ڈائیریکٹ میسجز (ڈی ایم) پر وائس پیغامات بھیجنے کے فیچر کی آزمائش کی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کی طرح اب ٹوئٹر پر وائس پیغامات بھیجنے کا یہ فیچر ابھی آزمائشی مراحل میں ہے جسے جاپان، برازیل اور بھارت میں پیش کیا گیا ہے۔

    ٹوئٹر نے اس فیچر کو سائٹ میں شامل کرنے کے حوالے سے گزشتہ سال ستمبر میں اعلان کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس فیچر کے تحت ٹوئٹر صارفین بھی ایک دوسرے کو 140 سیکنڈ کے دورانیے کا وائس پیغام بھیج سکیں گے۔
    https://twitter.com/Twitter/status/1273313100570284040?s=20
    مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم نے کہا تھا کہ صارفین ٹویٹ کمپوزر اسکرین پر ایک نیا "ویولینگتھ” آئیکن استعمال کرکے اپنا ٹویٹ صوتی شکل میں شئیر کر سکیں گے-

    کمپنی کا کہنا ہے کا وائس پیغامات بھیجنے کا یہ فیچر صرف اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین کو ہی میسر ہو گا جبکہ ڈیسک ٹاپ صارفین ان وائس پیغامات کو صرف سُن سکیں گے-

    خیال رہے کہ کمپنی کی جانب تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وائس پیغامات کا یہ فیچر پوری دنیا کے صارفین کے لیے کب میسر ہو گا۔

    ٹویٹر صارفین کیلئے زبردست فیچر لے آیا

  • ہمارے  بچے  کہاں  غائب   ہوتے ہیں؟

    ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟

    ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟
    کبھی یہ سوال ہمارے دل و دماغ میں کیوں نہیں آتا؟

    اگر آتا بھی ہے تو شاید اپنے ہی مسائل میں الجھا ہوا انسان اس کو نظر انداز (ignore) کر دیتا ہے؟

    آج،
    ہم یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟

    بچوں کے غائب (missing) ہونے کا آغاز پیدا ہوتے ہی زچگی خانہ ( maternity hospital ) سے ہی شروع ہو جاتا ہے _
    غریب والدین کی غربت و افلاس کا فائدہ اٹھاکر چند ہزار روپے میں بچہ کو خریدا جاتا ہے __
    اس میں عیسائی مشینریز اور بچوں کے کاروبار کرنے والی ٹولیاں ہو تی ہیں _
    جو،
    بہت ہوشیاری اور خاموشی سے گدھ (vulture) کی طرح دواخانوں میں منڈلاتے رہتی ہیں.

    عیسائی طبقہ
    کی آبادی صرف دو فیصد ہے _ جو،
    اپنے یتیم خانوں کو بھرنے کے لئے غریب بچوں کو خریدتے ہیں. _
    اس طرح ،
    ہمارے بچے عیسائی ہوجاتے ہیں.

    بچوں کے غائب ہونے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پورے ملک میں بچوں کو اغواء کرنے والی ٹولیاں گھومتے رہتی ہیں ،
    جو۔۔۔،
    امیر غریب کسی کے بھی بچوں کا اغواء کرتے رہتی ہیں_
    اس میں بھی ہمارے بچوں کی قابل لحاظ تعداد ہوتی ہے _
    اس بارے میں بھی آج تک کسی کو غور کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی.

    کسی بھی سماج (society)کا تقریباً تیس فیصد حصہ نفسیاتی مریضوں ( psychiatric patients ) پر مشتمل ہوتا ہے _
    جس کی غالب اکثریت بغیر کسی علاج کے زندگی گزارتے رہتی ہے.

    یہ نفسیاتی مریض شادی بھی کرتے ہیں.
    بچے بھی پیدا کرتے ہیں _
    پھر یہی بچے ان نفسیاتی مریضوں کے مظالم کا شکار بنتے ہیں.
    نفسیاتی مریض کا سب سے بڑا مسلہ یہ ہو تا ہے کہ یہ بہت غیر ذمہ دار ہوتے ہیں _
    یہ ملازمت ، نوکری ، تجارت ، محنت مزدوری کسی معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوتے _
    بلکہ،
    ان کی بڑی تعداد شراب ، چرس، گانجہ، جوا یا کم از کم بیکاری اور رضاکارانہ بیروزگاری کی عادی ہوتی ہے _

    ایسے گھروں کے بچے باپ کے مظالم کا شکار ہو تے ہیں _

    آخرکار باپ کے مظالم ، غربت و افلاس اور بھوک سے تنگ آکر گھر سے بھاگ جاتے ہیں __

    گھر سے بھاگے ہوئے یہ مظلوم بچے انسانی درندوں اور گدھوں کا شکار ہوجاتے ہیں _

    جو بڑے ہوکر عادی مجرم بن جاتے ہیں.

    حسب روایت،
    ہم حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہو گئے.

    کسی بھی اخبار میں اس کے اسباب پر کوئی ایک تحریر بھی نہیں آئی اور نہ ہی اس کے تدارک پر غور کیا گیا.

    سوشیل میڈیا کے ذریعہ اپنی قوم کے شعور اور ضمیر کو بیدار کرنا ضروری ہے _
    پہلے،
    یہ تو سمجھنا چاہیے کہ ہمارے مسائل کیا ہیں؟
    اور ان کا حل کیا ہے.؟

    ہر شہر ، ٹاؤن اور گاؤں میں مسلم یتیم خانہ ہونا بہت ضروری ہے _
    جہاں یتیم اور بےسہارا غریب بچوں کو پناہ مل سکے _
    ہماری قوم کا کوئی بچہ یتیم اور بے سہارا ہو جائے تو سب سے پہلے اسے سر چھپانے کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہونا انتہائی ضروری ہے __
    جہاں اس کا معصوم بچپن محفوظ اور سلامت رہے.
    ایک یتیم اور بے سہارا بچہ کے لئے کھانے سے بڑھ کر رات کی پرسکون نیند ہوتی ہے_
    جسے فراہم کرنا ملت کی اولین ذمہ داری ہے.

    ہر شہر ، ٹاؤن ، اور گاؤں میں ایسے چھوٹے چھوٹے ہی سہی ادارے ضرور قائم کریں _
    اگر آپ کا بجٹ بہت کم بھی ہوتو مسلہ نہیں ہے.
    بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کریں _
    باقی آپ حسب استطاعت کچھ کریں _
    قوم کے صاحب حیثیت لوگوں سے رجوع ہوں ،
    ہمت کریں،
    معاون اور مددگار مل جائیں گی.
    انشاء اللہ۔۔

    یہ بچے۔۔۔
    جن کا بچپن گدھوں اور بھیڑیوں نے نوچ نوچ کر چھین لیا تھا_
    بڑے ہو کر جیلوں میں ہی زندگی گزار تے ہیں _
    جیل کی زندگی کیا ہوتی ہے _
    سارے مجرم ایک جگہ جمع ہوتے ہیں
    __ چرس ، گانجہ اور بدفعلی جیل کی زندگی کا خلاصہ ہے.

    جس سے عادی مجرم ایسے مانوس ہوجاتے ہیں،
    کہ
    تاحیات جیل ان کا گھر آنگن بن جاتا ہے.

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ جیل میں ہمارا گراف کم ہو،
    تو،
    اس کا حل صرف یہی ہے کہ اپنی قوم کے بچوں سے محبت کرو.
    ان کے معصوم بچپن کا تحفظ کریں __
    ان شاء اللہ۔۔۔۔
    بڑے ہوکر وہ جیل جانے کے بجائے خیر امت کا کردار ادا کریں گے.

    اگر ہم مسلمان باعزت اور باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں،
    تو کرپشن اور بدعنوانی سے پاک یتیم خانے قائم کرکے اس مسلہ کا حل تلاش کریں.

    قاضی : محمد قاسم اعوان

  • چینی موبائل فون کمپنی انفنکس انتظامیہ کی جانب سے مردوں کے بیلے ڈانس کا اہتمام

    چینی موبائل فون کمپنی انفنکس انتظامیہ کی جانب سے مردوں کے بیلے ڈانس کا اہتمام

    مشہور اردو کہاوت ہے اونچی دکان پھیکا پکوان تاہم اب حال ہی میں اس کہاوت کی ایک حقیقی سائیڈ اس وقت سامنے آئی جب پاکستان میں موبائل فون فروخت کرنے والی چینی کمپنی انفنکس موبائل فون نے 35 سے زائد ڈیلرز کو پانچ روزہ مالدیپ کا ٹور دیا-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پاکستان میں موبائل فون فروخت کرنے والی چینی کمپنی انفنکس موبائل فون 35 سے زائد ڈیلرز کا پانچ روزہ مالدیپ کا ٹور دیا اس ٹور کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں پانی کی سیر کے علاوہ چینی موبائل فون کمپنی Infinixانتظامیہ کی جانب سے مردوں کے بیلے ڈانس کا اہتمام بھی کروایا گیا-


    ٹور میں شامل ڈیلرز نے بتایا ہے کہ تاریخ میں پہلی دفعہ مردوں کا بیلی ڈانس کرایا گیا ہے اور بیلی ڈانس کے دوران وہ جو گیت بول رہے تھے اگر اس کا ترجمہ کروائیں تو اس کا بھی یقیناً کچھ شاندار ہی مطلب نکلے گا-

  • ریسکیو 1122ضلعی ہیڈ کوارٹر ننکانہ صاحب میں سپورٹس گالا کا انعقاد،

    ریسکیو 1122ضلعی ہیڈ کوارٹر ننکانہ صاحب میں سپورٹس گالا کا انعقاد،

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122ضلعی ہیڈ کوارٹر ننکانہ صاحب میں سپورٹس گالا کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد پنوار نے کی سپورٹس گالا میں صدر موبائل ایسوسی ایشن ننکانہ صاحب حافظ زاہد حسین نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی سپورٹس گالا میں کرکٹ، بیڈمنٹن، رسہ کشی، 400 میٹر دوڑ ،شطرنج اور دیگر کھیلیں بھی شامل تھیں جس میں ضلع بھر کی تینوں تحصیلوں کے ریسکیورز نے بھرپور حصہ لیا
    ریسکیو 1122ننکانہ صاحب الیون اور ریسکیو 1122 شاہکوٹ الیون ٹیموں کے درمیان کرکٹ میچ کھیلا گیا دونوں ٹیموں کے درمیان ٹاس ہوا اور ریسکیو 1122 ننکانہ الیون نے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے 6 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 72 رنز بنائے جبکہ ریسکیو 1122شاہکوٹ الیون کی ٹیم نے دو وکٹوں کے نقصان پر چھٹے اوور کی تیسری گیند پر چھکا مار کر میچ جیت لیا
    ریسکیو 1122 شاہکوٹ کی ٹیم میں بابر فاروق نے طوفانی باولنگ کے ساتھ ساتھ احسن اعجاز نے دھواں دار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار چاند لگا دیے اور میچ جیتنے میں کامیاب ہوئے

    رسہ کشی میں دونوں ٹیموں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اس میں ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب کی ٹیم فاتح قرار پائی، بیڈمنٹن کا میچ کھیلا گیا جس میں ریسکیو 1122 ننکانہ کی ٹیم نے ریسکیو 1122 شاہکوٹ کی ٹیم کو شکست دی اور آخر میں چار سو میٹر دوڑ کے مقابلہ میں حصہ لینے والے 12 ریسکیورز میں سے عدنان شہباز پہلے نمبر پر آئے فاتحہ ٹیموں کے کھلاڑیوں میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار اور مہمان خصوصی حافظ زاہد حسین نے انعامات تقسیم کیے اور ان کی مزید حوصلہ افزائی بھی کی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے دونوں ٹیموں کے مابین کانٹے دار مقابلہ اور بہتر کارکردگی کو سراہا انہوں نے کہا سپورٹس گالا کا انعقاد ریسکیورز کی فٹنس،ٹیم ورک اور تعمیری سوچ کے لیے ضروری ہوتا ہے,

  • پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کو سلام    تحریر:فاطمہ قمر

    پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کو سلام تحریر:فاطمہ قمر

    پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کو سلام!

    ہم سلام پیش کرتے ہیں اپنے کراچی و حیدر آباد کے کارکنوں کو! جن کا آج حیدر آباد میں تنظیمی اجلاس تھا ۔ وہ کراچی سے قافلے کی صورت میں حیدرآباد اجلاس میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔جس میں ناصر شاہ’ نفیس احمد’ ثمر گل’ سید عثمان اور دیگر احباب شامل تھے کہ حیدر آباد کے نزدیک کچھ ڈاکو ان کے پیچھے لگ گئے کارکنوں سے موبائل اور نقدی چھین کر فرار ہوگئے۔ہمارے کارکنوں کا مالی نقصان تو بہت ہوا۔مگر الحمدللہ! جانی نقصان سے وہ محفوظ رہے۔

    ابھی ہماری پاکستان قومی زبان تحریک کے سندھ و بلوچستان کے منتظم اعلی ناصر شاہ سے بات ہوئی۔ حادثے کے باوجود ان کا حوصلہ انتہائی بلند تھا۔” آپا! ہم اپنا اجلاس موخر نہیں کریں گے۔’ ہم اجلاس کئے بغیر کراچی بھی واپس نہیں جائیں گے۔ ہم قائدا عظم کے دستے کے حقیقی سپاہی ہیں۔ ہم اپنے عظیم قائد کے فرمان کو پورا کر کے ہی رہیں گے۔ اس طرح کی مشکلات ہمیں ہمارے غیر متزلزل ارادوں کی تکمیل سے نہیں روک سکتیں۔ میرے ساتھ جو لوگ ہیں۔

    یہ انتہائی ہیرا لوگ ہیں۔جو نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں” ہمیں اپنے کارکنوں کے اخلاص’ جانثاری پر فخر ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان قومی زبان تحریک کے ناصرشاہ’ ڈاکٹر افسر سلطانہ’ ڈاکٹر لبنی زبیر عالم’ نفیس احمد’ سید عثمان’ ثمر گل’ ڈاکٹر ساجدہ’ فہیم برنی ‘ سہیل صدیقی دیگر احباب جن کے ہم نام بھول رہے ہیں۔ یہ اللہ کے انتہائی چنیدہ لوگ ہیں۔جو خلق خدا کی بھلائی کے لئے نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کے لئے آوازیں لگا رہے ہیں۔

    جب کوئی حادثے کے باوجود اپنی کمٹمنٹ کو نہیں چھوڑتا تو اللہ کی مدد آنا لازمی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان قومی زبان تحریک پر اللہ کا فضل و نصرت شامل ہے۔۔وہ تحریک جو بارہ سال پہلے ایک چھوٹے سے کمرے میں بے سروسامانی کی حالت میں شروع ہوئی۔۔اج ایک عالمگیر تحریک بن چکی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحریکیں اہنی عزم ‘ غیر متزلزل’ جراءت مند’ دیانتدار قیادت’ اخلاص سے پروان چڑھتی ہیں۔۔وسائل سے ہر گز نہیں۔۔ جذبے وسائل پیدا کر سکتے ہیں مگر وسائل جذبے پیدا نہیں کرسکتے۔

    آج پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کے کارکنوں کا جذبہ دیکھ کر یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان قومی زبان تحریک دراصل تحریک پاکستان کا تسلسل ہے ۔

    تحریک پاکستان کی ابتداء اردو ھندی تنازعے سے ہوئی تھی۔ اج ہمارے کارکنوں نے ڈکیتی کے باوجود جس اخلاص’ کمٹمنٹ’ اپنے مشن سے جانثاری کا ثبوت دیا ہے اس سے تحریک پاکستان کے دنوں کی یاد تازہ ہوگئ۔جب مسلمانوں کے حوصلوں کو توڑنے کے لئے ھندو بنئے ایسی نیچ حرکات کرتے تھے! اس کے باوجود پاکستان بن گیا!

    اور اج ہم کارکنوں کا حوصلہ’ ہمت دیکھ کر یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ اج کے حادثے کے بعد پاکستان میں نفاذ اردو کی منزل اور قریب ا گئ ! ان شاءاللہ!
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • انگریزی اصطلاحات کے استعمال سے زبان ہی نہیں بلکہ  آپ کی معاشرت بھی  بدل رہی ہے   تحریر: فا طمہ قمر

    انگریزی اصطلاحات کے استعمال سے زبان ہی نہیں بلکہ آپ کی معاشرت بھی بدل رہی ہے تحریر: فا طمہ قمر

    یادرکھیں! انگریزی اصطلاحات کے استعمال سے آپ کی زبان نہیں بدل رہی بلکہ آپ کی معاشرت بھی بدل رہی ہے مام’ ڈیڈ’ انٹی’ انکل’ جب کہ تایا جان’ چچا جان ‘ چچی جان’ خالہ جان’ تائی جان کی اپنی تہذیب تھی۔

    یہ ان الفاظ کا ہی اعجاز تھا کہ جب تک والدین مام ‘ ڈیڈ نہیں بنے تھے۔تو ان کی شخصیت بارعب تھی۔ ہرگھر میں شام کو اباجان کے آنے سے پہلے گھر میں ابا کے رعب سے "صراط مستقیم” پر گامزن ہوجاتے تھے۔افسوس ڈیڈی اپنا یہ وقار کھو چکاہے!

    ہر گھر میں اماں کا ڈنڈا’ ابا کا جوتا بچوں کو سیدھا رکھنے کے لئے کافی ہوتا تھا۔ جب والدین جدیدیت اور غلامی کے چکر میں مام ڈیڈ بنے تو کہاں کا ڈنڈا اور کہاں کا جوتا! معاشرے میں غلامی کے الفاظ کے استعمال میں وہ تنزلی پیدا کی جس کا اپ دن رات مشاہدہ کرتے ہیں۔

    معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان ہے جب خاندان کا سربراہ بارعب اور باوقار نہ رہا تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوئے۔ اماں ‘ ابا تو علی الصبح بیدار ہوتے تھے۔۔مام ‘ ڈیڈ صبح دیر تک سوتے ہیں۔

    ہم نفاذ اردو کے ذریعے سے اپنی تہذیب کو بچا رہے ہیں۔ائیں ! پوری قوم اپنی ثقافتی روایات کو بچانے کے لیے پاکستان قومی زبان تحریک کی ہم آواز بن جائے ۔

    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • ماہرہ خان پی ایس ایل 6 میں پشاور زلمی کی برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

    ماہرہ خان پی ایس ایل 6 میں پشاور زلمی کی برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

    پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی سپر اسٹار ماہرہ خان پشاور زلمی کی برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

    باغی ٹی وی : پی ایس ایل تھری اور پی ایس ایل سیزن فور کے بعد ماہرہ خان خان تیسری مرتبہ پشاور زلمی کی برانڈ ایمبیسڈر مقرر ہو گئی ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان سپر لیگ کی سب سے مقبول فرنچائز پشاور زلمی نے پاکستان کی سب سے بڑی شوبز سپر اسٹار ماہرہ خان کو پی ایس ایل سیزن چھ کے لیے برانڈ ایمبیسڈر مقرر کردیا۔


    پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی نے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے ماہرہ خان کو کو برانڈ ایمبیسڈر مقرر کرنے کا اعلان اور پشاور زلمی فیملی میں خوش آمدید کہا۔


    تاہم دوسری جانب جاوید آفریدی کے اس ٹوئٹ کے جواب میں ایک صارف نے شکوہ کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کبھی کوٸی مرد پی ایس ایل فرنچاٸز کا برانڈ ایمبیسڈر کیوں نہیں بنا؟ صرف خوبصورت لڑکیاں ہی کیوں؟ہم خود ہی معاشرے کو تباہی کی طرف لیکر جا رہے ہیں اور پھر خود ہی اسلام سے دوری کا رونارو رہے ہوتے ہیں

    واضح رہے کہ ماہرہ خان اس سے قبل پی ایس ایل سیزن تھری اور سیزن فور میں بھی پشاور زلمی کی ایمبیسڈر رہ چکی ہیں ۔ پی ایس ایل سیزن فور میں پشاور زلمی کے مقبول اینتھم ہم زلمی میں بھی مائرہ خان جلوہ گر ہوئی تھیں۔

  • زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلموں نے زمین کی ایک ارب سالہ ارضیاتی تاریخ کو 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمو دیا-

    باغی ٹی وی : ہماری زمین پر ارضیاتی عدسے سے نظر دوڑائیں تو یہ ابلے ہوئے انڈے کی مانند جگہ جگہ سے چٹخی نظر آتی ہے۔ کیونکہ یہاں فالٹ لائنیں ہیں جو خشکی کے بڑے بڑے ٹکروں پر مشتمل ہیں۔ انہیں عرفِ عام میں ٹیکٹونک پلیٹیں کہا جاتا ہے۔ اب ٹیکٹونک پلیٹوں کے مکمل ارتقا کو صرف ایک 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمویا گیا ہے –

    ٹیکٹونک ارضیاتی پلیٹیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ان میں ناخن بڑھنے کے رفتار کے تحت اوسط حرکت ہوتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین نے تمام ٹیکٹونک معلومات کو ایک ہی ویڈیو میں سمودیا ہے جس میں ہرطرح کے حقائق درست ہیں۔ یوں زمین کا ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم مائیکل ٹیٹلے اور ان کے ساتھیوں نے یہ ویڈیو بنائی ہے اگرچہ یہ پلیٹیں سال میں چند سینٹی میٹر سرکتی ہیں لیکن جب اربوں سال تک انہیں نوٹ کیا جائے تو ان میں غیرمعمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں آج کا انٹارکٹیکا سخت برفیلا ہے اور جب وہ خطِ استوا پر ہوتا تھا تو اس وقت ایک بہت خوبصورت اور تفریحی مقام تھا۔

    اسے سمجھتے ہوئے ہم زمینی موسم، آب و ہوا، ارضیات اور خود ہمارے مستقبل کے بارے مین بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ یہ ویڈیو اب تک دستیاب جدید ارضیاتی ماڈؑل کی بنا پر تیار کی گئی ہے۔

  • نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر لاہور میں اجلاس ، تمام ہیڈ کوچز کی شرکت ،اہم فیصلے متوقع

    نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر لاہور میں اجلاس ، تمام ہیڈ کوچز کی شرکت ،اہم فیصلے متوقع

    ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر لاہور میں اجلاس جاری ہے، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

    اجلاس میں چیف سلیکٹر محمد وسیم اور تمام کرکٹ ایسوسی ایشنز کے ہیڈ کوچز نے شرکت کی، نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر کے کوچز بھی اجلاس میں شریک ہیں

    لاجسٹک، آپریشنل، پچز اور گراؤنڈ میں موجود سہولیات پر تبادلہ خیال جاری ہے ، شعبہ ہائی پرفارمنس نے شرکاء سے ڈومیسٹک کرکٹ کے انتظامات میں بہتری لانے کے لیے تجاویز مانگی تھیں

  • امریکی نیوی اہلکار کا 53 سال بعد ملنے والا بٹوہ

    امریکی نیوی اہلکار کا 53 سال بعد ملنے والا بٹوہ

    امریکی نیوی اہلکار کا انٹارکٹیکا میں کھونے والا بٹوہ 53 سال بعد اسے واپس مل گیا۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا کے رہائشی اور سابق نیوی اہلکار91 سالہ پال گریشم کا بٹوہ1960 میں انٹارکٹیکا میں ڈیوٹی کے دوران کھو گیا تھا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ پال اپنے بٹوے کو بھول گئے لیکن 53 سال بعد انٹارکٹیکا میں امریکی بیس کی تعمیرِ نو کے دوران پال کا کھویا ہوا بٹوہ ملا جس میں پال کا نیوی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، منی آرڈر کی رسیدیں وغیرہ موجود تھیں۔

    53 سال بعد بٹوہ ملنے پر پال گریشم نے حیرت و خوشی کا اظہار کیا ہے-