Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انڈر 16قومی ہاکی چیمپئین ،فائنل میچ میدان کس نے مار لیا

    انڈر 16قومی ہاکی چیمپئین ،فائنل میچ میدان کس نے مار لیا

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے زیر اہتمام انڈر16 قومی ہاکی چیمپیئن شپ 20 ء کا فائنل پنجاب اے نے 2-4 سے جیت لیا.

    فائنل کے مہمان خصوصی گورنر کے پی کے شاہ فرمان تھے.انکے ہمراہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل اولمپیئن آصف باجوہ, چیئرمین سیلیکشن کمیٹی اولمپیئن منظور جونیئر, ممبر اولمپیئن خالد حمید ,’اولمپیئن ناصر علی,چیئرمین صوبائی ہاکی ایسوسی ایشن و سابق آئی جی پی محمد سعید خان , ٹورنامنٹ ڈائریکٹر سید ظاہر شاہ,اولمپیئن عبدالرحیم ,پی ایچ ایف ڈائریکٹر کو آرڈینیشن میجر ر جاوید منج,کے پی کے ہاکی ایسوسی ایشن سیکریٹری ہدایت اللہ,سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری رمضان جمالی,بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری امجد ستی,پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن کے ایسوسیئیٹ سیکریٹری رائے عثمان اکبر بھی موجود تھے.

    انڈر 16 کا فائنل میچ جو کہ پنجاب اے اور پنجاب سی کے مابین کھیلا گیا جو کہ پنجاب اے نے 2-4 سے جیت لیا.پنجاب اے کی جانب سے عماد, حنان,بلال اور احمد نے ایک ایک گول سکور کیا.جبکہ پنجاب سی کی جانب سے عزیر اور بلال اکرم نے ایک ایک گول سکور کیا.میچ میں ایمپائرنگ کے فرائض محمد ہارون ,افسر علی ریزرو ایمپائر مبشر نے سر انجام دیئے جبکہ ججز محمد یعقوب , اعجاز احمد ٹیکنیکل آفیسر کے فرائض حمزہ طفیل نے سرانجام دیئے.

    فائنل میچ کے اختتام پر مہمان خصوصی گورنر کے پی کے شاہ فرمان نے آفیشلز و کھلاڑیوں میں تعریفی اسناد اور انعامات تقسیم کئے.جبکہ مہمان خصوصی گورنر کے پی کے شاہ فرمان کو پی ایچ ایف سیکریٹری جنرل اولمپیئن آصف باجوہ نے آمد پر شکریہ ادا کیا اور انہیں پی ایچ ایف کی جانب سے سوینئر پیش کیا.

  • پی این ایس ہنگور کی کامیابی: موجو دہ دور کی جنگی تیاری کے لئے ایک سبق

    پی این ایس ہنگور کی کامیابی: موجو دہ دور کی جنگی تیاری کے لئے ایک سبق

    پی این ایس ہنگور کی کامیابی: موجو دہ دور کی جنگی تیاری کے لئے ایک سبق

    بقلم: نوید مشتاق

    جب 1971کی پاک بھارت جنگ نے زور پکڑا، تب پی این ایس ہنگور نے پاکستان کے بحری اثاثوں کی حفاظت کے لیے ایک مظبوط دفاعی دھاک بنائے رکھی۔ اس آبدوز کی جانب سے اپنے آپریشنل ایریا میں کیے گئے اقدامات اور کامیابیاں آج بھی پاکستان کا فخر ہیں۔ آبدوز ہنگور نے کامیابی کے ساتھ آپریشن کرتے ہوئے بھارتی بحری جہازآئی این ایس ککُری کو ڈبویا اور دوسرے بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کریان کو تارپیڈو فائر کر کے نقصان پہنچایا۔

    آبدوز ہنگور نے کمانڈراحمد تسنیم کی سربراہی میں 22نومبر1971کو مختص کیے گئے سمندری علاقے میں گشت شروع کیا۔ اس دوران آبدوز نے بھارتی کاٹھیا وار ساحل کے قریب گشت کیا تاکہ دشمن کی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ آبدوز ہنگور نے 9دسمبر کو شمال کی جانب سے اپنے سنسرز پر دشمن کی ایک ریڈیو ٹرانسمیشن سنی اور اس طرف روانہ ہوئی۔ اس ٹرانسمیشن کی جانچ کے بعد یہ معلوم ہواکہ دوبھارتی بحری جہاز آئی این ایس کرپان اور آئی این ایس ککری آبدوز کے خلاف جنگ کرنے کی تیاری کے ساتھ سمندرمیں موجود ہیں۔

    آبدوز ہنگور کے کمانڈر ان جہازوں کی صلاحیت جانتے تھے پھر بھی انھوں نے دونوں جہازوں کو نشانہ بنانے کا نڈر فیصلہ کیا۔ آبدوز ہنگور نے آئی این ایس ککُری اور کرپان پر تار پیڈو فائر کیے جس کے نتیجے میں ککُری مکمل تباہ ہو کر ڈوب گیا جب کہ کریان کو شدید نقصان پہنچا۔ پاکستان کی آبدوز کے اس وار سے بھارتی بحریہ کے قیام سے تب تک سب سے بڑا نقصان پہنچا جس میں اُن کا دو قامت جہاز 18افسران اور 176 سیلرز کے ساتھ غرقِ آب ہوا۔ یہ جنگِ عظیم دوئم کے بعد کسی آبدوز کی جانب سے دشمن کے بحری جہاز کو تباہ کرنے کا پہلا واقعہ تھا۔

    پاکستانی آبدوز ہنگور کے اس عمل سے کچھ آپریشنل اور اسٹریٹیجک سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا یہ کہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن بحری جہاز کو ڈبونے سے یہ ثابت ہو کہ انڈین اوشن ریجن (IOR) اوربحیرہءِ عرب کے علاقے میں آبدوزکا ہونا پاک بحریہ کے لیے بہت ضروری ہے۔دوسرا یہ کہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کواچانک وار کرکے حیران کردینا عددی لحاظ سے چھوٹے مخالف کے لیے ہمیشہ سے ایک بہتر جنگی چال رہی ہے۔

    آبدوز ہنگور کا آئی این ایس ککری پر کیا جانے والا حملہ بھی ایک بہترین جنگی چال تھی جس سے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو اپنی طاقت استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ انٹیلی جنس سرویلنس اینڈReconnaissance (ISR) کسی بھی فوج کے لیے مشکل آپریشنل صورتحال میں کام کرنے کے لیے ایک اہم جنگی چال ہے۔

    پی این ایس ایم ہنگور نے اس آپریشن میں کامیابی سے ISRآپریشن انجام دیا۔ ہندوستانی بحری جہازوں کی کھوج لگانے، پاک بحریہ کے ہیڈکوارٹرز تک یہ خبر پہنچانے اور پھر دشمن پر حملہ کرنے تک تمام جنگی ماحول میں کامیاب ISR شاملِ حال رہا۔ انتہائی پیچیدہ اور جنگی ماحول میں اپنے دفاعی احداف کے حصول کے دوران بھی مضبوط تنظیمی درجہ بندی کو برقرار رکھنا پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے۔ انتہائی پیچیدہ ماحول اور تکنیکی مشکلات میں بھی آ بدوز ہنگور کے کمانڈر نے تمام آپریشنل معاملات میں صبرواستقامت کا مظاہرہ کیا۔

    پی این ایس ایم ہنگور کی کامیابی کی داستان کا تجزیہ کریں تو اس کے چند جُزو پاک بحریہ کی جدید نیول آپریشنل سرگرمیوں میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے مذموم مقاصد کے جواب میں پاک بحریہ ایک غیر مستقل میری ٹائم اسٹریٹیجی اپنا سکتی ہے جس میں ایک مظبوط آبدوز کی فورس دشمن کے لیے بالواسطہ جنگی حکمتِ عملی کا کام دے گی اور اپنی جدید ترین ISRصلاحیتوں کی بدولت دشمن اچانک وار کر سکے گی۔

    یہ سنسرز کا دور ہے جہاں ہر بحری فوج اپنے سطح سمندراور زیرِ آب ا ثاثوں کو سنسرز سے لیس کر کے اپنی ISR صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ اور یہ ایک اچھا موقع ہے کہ پاک بحریہ بھی اپنی آبدوزوں میں جدید ترین ISR صلاحیت نصب کروائے۔ بڑھتے ہوئے پاک چین میری ٹائم تعاون کی بدولت پاک بحریہ اپنی آپریشنل سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے بیجنگ سے بھی اپنی آبدوزوں کے لیے جدید سنسنرز لے سکتی ہے۔

    کسی بھی فوجی حکمتِ عملی میں اپنے حدف کا درستگی سے نشانہ لینا اور اُسے کاری ضرب لگانا ایک اہم حصّہ ہوتا ہے۔ پی این ایس ایم ہنگور کے اس آپریشن میں جس ایک تاروپیڈو حملے نے اپنے ہدف کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا اُس سے پاک بحریہ کو یہ سبق حاصل ہوا ہے کہ نشانے کی درستگی اور اُس کے مہلک ہونے سے مکمل آپریشنل سیکیورٹی حاصل کی جاسکتی ہے۔ معلومات کے اس دور میں، درست نشانہ بنانے کی صلاحیت اور Stealthٹیکنالوجی کا ہونا، بڑھتے ہوئے بحری ٹریفک اور پیچیدہ آپریشنل معاملات میں نہایت ضروری ہوگیا ہے۔ بحیثیت مجموعی، پی این ایس ایم ہنگور کی کامیابی پاک بحریہ کی آپریشنل اور دفاعی تیاری کے لیے ہمیشہ ایک اہم اور منطقی سبق رہے گا۔

  • ہنگور ڈے :  ایک شاندار یاد     بقلم:حسن زیب

    ہنگور ڈے : ایک شاندار یاد بقلم:حسن زیب

    ہنگور ڈے : ایک شاندار یاد

    بقلم: حسن زیب:

    آزادی حاصل کرنے کے بعد، پاکستان نے یہ سمجھ لیا تھا کہ آزادی کوبرقرار رکھنے کے لئے اپنے دشمن کے مذموم مقاصد کو رد کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ پاکستان نے ا پنی زمینی اورفضائی حدود کے ساتھ ساتھ اپنے ساحلی دفاع کی اہمیت کو بخوبی جان لیاتھا۔ سمندر میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پاک بحریہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تاریخی طور پر بحری افواج کے قیام کا بنیادی مقصد اپنے ساحلوں سے دور اثر و رسوخ قائم رکھناہوتاہے لیکن اس کے ساتھ ہی دفاع استحکام اور امن کی اضافی ذمہ داری بھی بحری افواج پر عائد ہوتی ہے۔ اپنی سمندری سرحدوں کے دفاع کے لئے چوکس رہنے کے ساتھ ساتھ پاکستان نیوی،ٹیکنا لوجی اور عالمگیریت کے چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے، باہمی تعاون کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار بخوبی ادا کر رہی ہے۔

    سائز میں عددی طور پر کم ہونے کے باوجود پاکستان نیوی پیشہ ورانہ مہارت کے اعلی معیار کو برقرار رکھتی ہے۔ 1971کی جنگ میں، پاکستان نیوی نے کامیاب کاروائیاں کیں، جن کا مقصد اپنی دفاعی دھاک بٹھانا تھا اور اس نے پاکستان مخالف قوتوں کو منہ توڑ جواب دیناتھا، جس کی مماثلت بحری جنگ کے میدان میں نہیں ملتی۔ 9 دسمبر 1971کو پاکستانی سب میرین پی این ایس ایم ہنگورنے ہندوستانی اینٹی سب میرین فریگیٹ آئی این ایس ککری کو سمندر برد کیا تھا اور آئی این ایس کرپان کو بری طرح نقصان پہنچایاتھا۔ اس تصادم کی اہمیت اس وقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے جب اسے اس زاویئے سے دیکھا جاتا ہے کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلا موقع تھا کہ سمندر میں براہ راست لڑائی میں کسی روایتی آبدوز نے ایک بحری جہاز کو تباہ کیا تھا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ککری کاواقعہ راتوں رات نہیں ہوا تھا بلکہ1971 میں مشرقی پاکستان کی کشیدہ صورتحال ایسے واقعات کا باعث بن رہی تھی۔

    1965 کے تازہ زخموں کے ساتھ، ہندوستانی اپنے حریف پاکستان سے بدلہ لینے کے لئے تمام امکانات تلاش کر رہے تھے اورانھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ 1971 ہی ان کے لئے بہترین موقع تھا۔مشرقی پاکستان کی نازک صورتحال اور ہندوستانی میزائل کے خطرے کے باعث تقریباً غیرفعال بحری بیڑے کے باعث پاک بحریہ کی جارحانہ جنگی کاروائی کابوجھ اسکی نوزائیدہ آبدوز فورس پر تھا۔

    نتیجتاً پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور 22 نومبر 1971 کی شام کے اواخر میں ہندوستان کے کاٹھیاوار ساحل پر گشت کیلئے نکل پڑی۔ پی این ایس ایم ہنگور دشمن کی مسلسل فضائی سرگرمی سے بچتی ہوئی کامیابی کے ساتھ اپنے گشت کے علاقے میں پہنچی اور اپنا گشت شروع کیا۔ البتہ، 9 دسمبر 1971 کو جب آبدوز کاٹھیواڑ کے ساحل کے قریب تھی تو اسے ریڈار پر دو جہاز نظر آئے۔ ان کی شناخت اس کی سونار ٹرانسمیشن کے ذریعہ ہندوستانی جنگی جہاز وں کے طور پر ہوئی اور وہ 6 سے 8 میل کی دوری پر تھے۔ ان کی شناخت اینٹی سب میرین فریگیٹس (آئی این ایس ککری اور آئی این ایس کرپان) کے طور پر ہوئی جو کہ سرچ اینڈ اٹیک آپریشن میں مصروف تھے۔

    ہنگور اہداف کے ممکنہ راستے پر انکا انتظار کر رہی تھا اور "ایکشن اسٹیشن” کی کا ل دی جا چکی تھی یعنی” شارک” اپنے تیز دانتوں کے ساتھ شکار کے لئے تیار تھی۔ اگرچہ دشمن اپنا سونار چلارہا تھا، لیکن پھر بھی اسے ہنگور کی موجودگی کا پتہ نہیں چل سکا اور اس وجہ سے آبدوز ہنگور نے اُس کی حیرت کا لطف اٹھایا۔ سمندر کے اس علاقے کی گہرائی کم تھی (60-65 میٹر)جس کے باعث آبدوز سازگار آپریشن کے لئے حالات سازگار نہیں تھے اور سب میرین کی محدود آپریشنل صلاحیت کی وجہ سے دشمن کاسطحی بیڑے لئے حالات سازگار تھے۔

    اس کے باوجود ہنگور نے اپنے سفر کو جاری رکھا اور فائرنگ کا ایک اچھا موقع حاصل کرنے کے بعداس نے اس حملے کا آغاز آئی این ایس کرپان پر ایک ٹارپیڈو فائر کرکے کیا۔ٹارپیڈو ہندوستانی جنگی جہاز کے نیچے سے گزرا اور پھٹنے میں ناکام رہا۔ حیرت کا عنصر ختم ہو گیا اور دشمن کے جنگی جہاز کے عملے کو معلوم ہو گیا کہ ان پر حملہ ہوا ہے۔حالات اب مکمل طور پر دشمن کے حق میں ہو گئے تھے اور آئی این ایس ککری ٹارپیڈو لانچ پوزیشن کی جانب بڑھنے لگا۔

    ہنگور کے عملے نے اپنے حواس قابو میں رکھتے ہوئے اپنا ہدف ککری پر منتقل کیا، اور اس پر دوسرا ٹارپیڈو فائر کیا۔ یہ ایک فوری حملہ تھا جس کا مقصد ککری کے حملے کوناکام کرنا تھا۔ ٹارپیڈو سیدھے ہدف کی طرف گیا اور آئی این ایس ککری کی کیل کے نیچے جا کر پھٹ گیا۔ اس شاندار کارروائی میں، آئی این ایس ککری ٹارپیڈو لگنے کے بعد دو منٹ کے اندر اندر ڈوب گئی۔کمانڈنگ آفیسر سمیت 18 افسران اور 176 سیلرز اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ہندوستانی بحریہ کے لئے ایک کاری ضرب ثابت ہوئی، جس نے ایک ہی جھٹکے میں کراچی کے سا حل کے قریب موجود پاک نیوی کے جہازوں پر میزائل حملوں کی من گھڑت کہانیوں اور دعووں کو بھی غرق آب کر دیا۔

    ہنگورکی کارروائی کی اہمیت کے کئی پہلو تھے۔ اس نے نہ صرف پاک بحریہ کی جنگی حکمت عملی میں برتری کا ثبو ت دیا بلکہ اس کااسٹریٹجک اثر اس سے بھی زیادہ اہم تھا کیونکہ ہندوستانی بحریہ نے اس واقعہ کے بعد میزائل حملہ "آپریشن ٹرائنف” منسوخ کردیا، جسے 10 دسمبر کو شروع کیا جانا تھا۔تاہم، 9 دسمبر کوہرسال ہنگور ڈے منایا جاتا ہے تا کہ ان تمام بہادر غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جا ئے جنھوں نے 1971کی جنگ میں فریگیٹ آئی این ایس ککری کو ڈبو کر اور آئی این ایس کرپان کو شدید نقصان پہنچاکر دشمن کے دلوں پر اپنے خوف کی دھاک بٹھا دی۔

  • آبدوزہنگور :پاک بحریہ کی جنگی تاریخ کا سنہری باب

    آبدوزہنگور :پاک بحریہ کی جنگی تاریخ کا سنہری باب

    آبدوزہنگور۔پاک بحریہ کی جنگی تاریخ کا سنہری باب
    سید ایلیا حسن

    صدیوں سے انسان کی کوشش رہی ہے کہ وہ جنگی ہتھیاروں میں انقلاب لے آئے اور اس روئے فانی کا ہر ملک دوسرے ملک سے جنگی ہتھیاروں میں سبقت لے جانے کے در پے ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے روزانہ نت نئے تجربات کیے جاتے ہیں۔ان تجربات میں زیرِ آب قوت ” آبدوز ” کا تجربہ کافی حیران کن ثابت ہوا۔ پہلی جنگ ِعظیم میں جرمن بحری قوت میں شامل آبدوزوں نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ جرمنی نے ان آبدوزوں کو U-Boatsکا نام دیا۔ جرمنی کے حریف ممالک کو اس ہتھیار کی وجہ سے بہت بڑے نقصان سے دو چار ہونا پڑا۔جرمنی کے کامیاب تجربے کے بعد ہر ملک نے اپنے طور پر اس ہتھیار کو بنانے یا حاصل کرنے کی کوشش شرو ع کی۔عالمی بحری افواج میں آبدوز کو ایک خاص مقام حاصل ہوا۔ اس ہتھیار کے حامل ممالک کوطاقتورترین ممالک کی فہرست میں گرداناجانے لگا۔ دوسری جنگِ عظیم میں بھی اس ہتھیار نے خوب تباہی مچائی۔

    آبدوز کو اس کی ساخت اور قابلیت کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے خاموشی سے نہ صرف دشمن پر نظر رکھی جا تی ہے بلکہ زمانہ جنگ میں اس کی تمام حربی چالوں کو پسپا کیا جاتا ہے۔ ان تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کے پیشِ نظر پاکستان نے 1964میں پہلی آبدوز اپنے بحری بیڑے میں شامل کی جس نے بعد ازاں 1965 کی جنگ میں دشمن کی بحری فوج پر ایسا خوف طاری کیا کہ وہ اپنی بندر گاہوں میں دُبک کر رہ گئی۔ اس خوفناک ہتھیار کو ” غازی ” کا نام دیا گیا جس نے اپنے نام کی پوری لاج رکھی اور دشمن کو ایک بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

    1965 کی جنگ میں پاکستان نیوی آبدوز غازی کی مقبولیت کے بعد مزید آبدوزوں کی شمولیت کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت ہی قلیل عرصے میں مزید 3 آبدوزوں کو پاکستان کے بحری بیڑے میں شامل کیا گیا۔ ان کے نام شوشک، مانگرو اور ہنگور رکھے گئے۔

    پاکستان کی جنگی تاریخ میں جہاں آبدوزغازی کے کارنامے:
    سنہرے الفاظ سے رقم ہیں وہاں آبدوز ہنگورکے جنگی معرکے کا روشن باب بھی تاریخ کا حصہ ہے۔پاکستانی آبدوز ہنگور نے دشمن پر ایسی ضربِ کاری لگائی جس کا زخم کبھی مندمل نہیں ہو سکتا۔ دسمبر کی سرد راتوں کے وہ تاریخی دن کبھی بھلائے نہیں جا سکتے جب پاکستانی آبدوز ہنگور دشمن کے پانیوں میں مصروفِ گشت تھی۔ آبدوز کی کمان کمانڈر احمد تسنیم کر رہے تھے جو بعد ازاں وائس ایڈمرل کے عہدے سے ریٹائر ڈہوئے۔ 9 دسمبر کے دن جب سہ پہر کا وقت بیت چکا تھاتب آبدوز کے سینسر ز پر نقل و حرکت کو نوٹ کیا گیا۔ اس بات پر کامل یقین کے لیے آبدوز کو پیری سکوپ کی گہرائی تک لا کر ریڈار کا جائزہ لیا گیا۔ اس جائزہ سے یہ بات سامنے آئی کہ دشمن کے دو آبدوز شکن بحری جہاز ناپاک سازشوں میں مصروف ہیں۔ یہ آبدوز شکن بحری جہاز آئی این ایس کُکری(Khukri) اور کِرپان(Kirpan) تھے۔ ان جہازوں کی خاصیت یہ تھی کہ کسی بھی آبدوز کو ڈھونڈ نکالنے اور تباہ کرنے کے تمام آلات سے لیس تھے۔ مگر جہاں حوصلے بلند ہوں اور اللہ کی مدد ساتھ ہو وہاں یہ باتیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔

    ان بحری بیڑوں کی موجودگی کا علم ہوتے ہی پاکستانی آبدوز ہنگور نے جلدہی ان کو غرق کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ دشمن کو خبر بھی نہ تھی کہ ان کے نیچے ہی ان کی موت کا سامان تیار کیاجا رہا ہے۔ سب سے پہلے آئی این ایس کِرپان کو نشانے پر رکھ کر ایک تار پیڈو داغا گیا۔ ایک ہولناک آواز کے ساتھ سمندر کی خاموشی کو چیرتا ہوا یہ ہومنگ تار پیڈو دشمن کو غرق کرنے نکل پڑا،مگر نشانہ چوک گیا۔ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکامی کے بعد پاکستانی آبزادوں کے حوصلے پست نہ ہوئے بلکہ دوسرے تار پیڈو کو ہدف کی طرف داغا۔ اس بار ہدف کُکری کو بنایا گیا۔ تار پیڈو نے سمندر میں اُترتے ہی ہلچل مچا دی۔ برق رفتاری سے اپنے تمام مراحل عبور کرتے ہوئے آئی این ایس کُکری کی جانب بڑھنے لگا۔ تار پیڈو نے کُکریکے عین نیچے پہنچ کر زور دار دھماکہ کیا۔ آئی این ایس کُکریکچھ ہی ساعتوں میں 18 آفیسرز اور 176 سیلرز کے ساتھ سمندربُرد ہو گیا۔ اپنی اس ناقابلِ فراموش کامیابی پر پاکستانی آبزادوں کے حوصلوں کو ایک نئی تقویت ملی اور ان کا اگلا ہدف کِرپان تھا۔

    ٓکُکری کی تباہی کا منظر ہر آنکھ نے دیکھا جو کِرپان پر موجود تھی۔ اب انہیں بھاگ نکلنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہ آیا۔ حملے کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے کر کمانڈر احمد تسنیم نے کِرپان پر حملے کا حکم دیا۔ تار پیڈو نے اس بار کِرپان کودبوچ لیا۔ اور اس کے بیشتر حصے کو ناکارہ بنا کر واپس بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ آئی این ایس کِر پان دشمن کے لیے عبرت کا نشان بن کر واپس پہنچا۔ پورے ملک میں ہنگور کے کارناموں کی صدائیں گونجنے لگیں اور دشمن کو ایک ہولناک شکست سے دو چار کرنے والی پاکستانی آبدوز کے چرچے ہونے لگے۔
    دشمن کو ایک نا قابل فراموش شکست سے دو چار کرکے پاکستانی آبدوز ہنگور واپس اپنے پانیوں میں کامیابی سے پہنچ گئی۔ اس جانباز آبدوز نے پاکستان کی جنگی تاریخ میں ایک اور سنہرے باب کا اضافہ کیا جو کہ رہتی دنیا تک یاد رکھاجائے گا۔ پاکستانی آبدوز کے اس معرکے کو پوری دنیا میں پذیر ائی ملی اوردشمن کو پیغام ملا کہ اگر کسی نے بھی پاک وطن پر بری نگاہ ڈالی تو اسے سوائے رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

    پاکستان کا روایتی حریف آئے دن اپنی فوجی قوت کو بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے اس کی تمام تر کاوشیں بحر ہند میں اپنی دھاک بٹھانے پر مبذول نظر آتی ہیں ان تمام عزائم سے پاکستانی فوج بھی پوری طرح آگا ہ ہے۔ اپنی بحری قوت کو تقویت دینے کے لیے پاکستان نے چین سے جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس آٹھ آبدوزوں کے حصول کامعاہدہ کیا۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس ان آبدوزوں سے ملک کی بحری سرحدوں کی حفاظت میں مزید مدد ملے گی۔ اللہ پاکستانی فوج بالخصوص پاک بحریہ کا حامی و ناصر ہو اور اسے ایسا مقام اور دبدبہ عطا فرمائے کہ دشمن اس کا نام سن کر لرزنے لگے۔

  • اولمپئن لیجنڈ ہاکی پلئیر شہباز احمد  سینئر پی آئی اے کے سپورٹس ڈویژن کے ڈپٹی جنرل مینجر تعینات

    اولمپئن لیجنڈ ہاکی پلئیر شہباز احمد سینئر پی آئی اے کے سپورٹس ڈویژن کے ڈپٹی جنرل مینجر تعینات

    اولمپئن لیجنڈ ہاکی پلئیر شہباز احمد سینئر پی آئی اے کے سپورٹس ڈویژن کے ڈپٹی جنرل مینجر تعینات ،تقرری 66ویں نیشنل چیمپین شپ میں پی ائی اے ہاکی ٹیم کی تیاری نہ ہونے کے باعث شرکت نا کرنےکے تناظر میں کی گئی ،شہباز سینئر سے پہلے اولمپئن شاہد علی خان پی آئی اے ٹیم کے مینجر اور کوچ تھے
    شاہد علی خان ذاتی وجوہات کی بنیاد پر بیرون ملک چھٹی پر ہیں ،شہباز سینئر اس سے قبل پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکٹری جنرل رہ چکے ہیں

    شہباز سینئر 1994 کے ورلڈ کپ اور چیمپئن ٹرافی فاتح ٹیم کے کپتان رہے ہیں ،سی ای او پی آئی اے ائیر مارشل ارشد ملک کی شہباز سینئر کیلئے نیک خواہشات کا اظہار
    سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ امید ہے شہباز اپنے تجربے اور فائٹنگ سپرٹ نئی نسل میں منتقل کریں گے ،شہباز کو ٹارگٹ دیا ہے کے 67ویں نیشنل چیمپین شپ پی آئی اے کے نام ہونی چاہیے سی ای او پی آئی اے

  • پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی 20سیریز کا آغاز،16رکنی ٹیم کا اعلان

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی 20سیریز کا آغاز،16رکنی ٹیم کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی 20کیلئے18 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ٹیم کی قیادت بابراعظم اور نائب کپتان شاداب خان ہوں گے۔ سرفراز احمد اور حسین طلعت کی ٹی 20اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔محمد رضوان، حیدر علی، محمد حفیظ، افتخاراحمد، خوشدل شاہ، حسین طلعت، محمد حسنین، حارث رؤف، شاہین آفریدی، عثمان قادر، وہاب ریاض، فہیم اشرف، عماد وسیم اور عبداللہ شفیق بھی اسکواڈ میں شامل ہیں۔

    نیوزی لینڈ اے کے خلاف 4روزہ میچ کیلئے16رکنی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ ٹیم کے کپتان روحیل نذیر ہوں گے۔عمران بٹ، امام الحق، ذیشان ملک، شان مسعود، عابد علی، اظہرعلی، یاسرشاہ، سہیل خان، عماد بٹ، حارث سہیل، فوادعالم، محمد عباس، ظفر گوہر، نسیم شاہ دانش عزیز بھی ٹیم میں شامل ہیں۔پاکستان شاہینز اور نیوزی لینڈ اے کے خلاف 4روزہ میچ 17 دسمبر سے شروع ہوگا۔

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی 20سیریز کا آغاز 18 دسمبر سے ہوگا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے ٹیم کا اعلان کرنے کے بعد کہا کہ کرکٹ کی سرگرمیاں بحال رکھنےمیں پاکستانی کھلاڑیوں کاکردار اہم ہے۔نیوزی لینڈ کے قوانین نے کھلاڑیوں کو ذہنی اور جسمانی طورپر متاثر کیا ہے۔ آئسولیشن کی مدت مکمل ہونے کے بعد سب کچھ پس پشت رہ جائے گا۔

  • شوگر مافیاز اور ہمارا غریب کسان   بقلم :محمد راحیل معاویہ

    شوگر مافیاز اور ہمارا غریب کسان بقلم :محمد راحیل معاویہ

    "شوگر مافیاز اور ہمارا غریب کسان”

    بقلم :محمد راحیل معاویہ

    ہمارا ملک عزیز پاکستان ایک زرعی ملک ہے، 60 فیصد سے زائد لوگ زراعت پیشہ سے منسلک ہیں،ہر حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر زراعت کے متعلقہ مسائل حل کرنے چاہئیں کیونکہ یہ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہمارا کسان اپنے مسائل کے لیے چیختا ہے مگر کوئی نہیں سنتا،سڑکوں پر نکلتا ہے تو تشدد کیا جاتا ہے، سارا سال محنت مشقت کرکے اپنے خون پسینے سے اگائی فصل بیچتا ہے تو اس کو اونے پونے خریدنے کے لیے بڑے بڑے مگر مچھ پہلے سے تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

    فصل اگانے میں بھی اس کو بے شمار مسائل کو سامنا ہے جن پر کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ حال ہی میں گنا کی فصل تیار ہوئی ہے، سرکاری ریٹ 200 روپے من مقرر کیا گیا ہے، اس ریٹ پر کسان گنا دینے سے انکاری ہیں جبکہ شوگر ملز مالکان حکومت سے درخواستیں کررہے ہیں کہ اس نرخ پر گنا دینے پر کسان کو پابند کیا جائے۔

    2018 میں سرکاری نرخ پر گنا 190 روپے من خریدا گیا اور چینی کی قیمت 53 روپے کلو تھی مگر اس کے بعد شوگر ملز مالکان نے چینی کی قیمتیں بڑھانا شروع کردیں، وزیراعظم عمران خان صاحب نے کامران خان کے پروگرام میں کہا کہ پنجاب حکومت کو بلیک میل کرکے 3 ارب روپے کی سبسڈی حاصل کی گئی۔ مگر اس کے بعد چینی کی قیمتوں میں 2018 سے 2019 تک 10 سے 12 روپے کلو تک اضافہ ہوا، اور پھر 2019 سے 2020 تک 55 روپے کلو والی چینی80روپے کلو تک پہنچ گئی۔

    کسان سے 190 روپے روپے من گنا خرید کر، پنجاب حکومت سے 3 ارب روپے سبسڈی لے کر بھی چینی کی قیمت میں 20 سے 25 روپے کلو تک اضافہ کردیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان صاحب نے اس کا نوٹس لیا اور کمیٹی قائم کردی۔ اس کے بعد 5 ماہ میں چینی کی قیمت پھر بھی قابو میں نا رکھی جاسکی اور 5 ماہ میں چینی 110 روپے کلو تک پہنچ گئی جو کہ اب 115 روپے کلو تک بھی فروخت ہورہی ہے۔
    2 سالوں میں 55 روپے کلو سے 110 روپے کلو پر چینی پہنچ چکی ہے۔ شوگر انکوائری رپورٹ میں یہ تخمینہ لگایا گیا کہ اگر گنا سرکاری ریٹ 190 روپے من خریدا گیا تھا تو چینی کی قیمت 57 روپے کلو بنتی ہے۔

    مگر شوگر ملز مالکان نے کہا کہ ہم نے گنا 190 روپے من سے زائد قیمت پر خریدا ہے جس پر شوگر کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر شوگر ملز مالکان کی بات مان کر تسلیم کرلیا جائے کہ گنا 190 روپے من نہیں خریدا تو اگر 215 روپے من بھی خریدا گیا ہو تو چینی کی قیمت 63 روپے کلو بنتی ہے جبکہ حقائق یہ ہیں کہ شوگر ملز مالکان آج 1 سال بعد بھی گنا 215 روپے من خریدنے پر تیار نہیں ہیں۔

    گذشتہ برس 190 روپے من گنا خرید کر سارا سال دوگنی قیمت پر چینی فروخت کرتے رہے جس کے عوض شوگر ملز مالکان نے عوام کی جیب سے 180 ارب روپے کی خطیر اضافی رقم نکلوائی۔

    آج جب غریب کسان کا گنا تیار ہوگیا ہے تو شوگر ملز مالکان نے حکومت کو ملز بند کرنے کی دھمکی دے کر یہ کہا ہے کہ کسان کو 200 روپے من گنا بیچنے پر مجبور کیا جائے۔

    سینکڑوں ارب روپے کمانے کے بعد بھی بیچارے کسان کا خون چوسنے سے گریز نہیں کیا جارہا۔ کسان عموما مجبور ہوتا ہے اس کے پاس وقت اور اضافی پیسے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہ اپنی فصل ایسے مافیاز کے آگے فورا بیچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بعض کسانوں نے تو ایسے لوگوں سے ادھار رقم لے کر اپنی فصل کاشت کی ہوتی ہے، فصل تیار ہوتے ہی وہ ان کی جھولی میں ڈال دیتا ہے، جب کہ خود اس کو خالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑتا ہے۔

    اس صورت حال میں کسان کی آواز نا ان کے منتخب کردہ نمائیندے بنتے ہیں اور نا حکومت ان کی دادرسی کرتی ہے۔ جب 190 روپے من گنا تھا تب چینی 55 روپے کلو تھی، آج چینی 110 روپے کلو ہے جبکہ گنے کی قیمت 200 روپے من قرار پائی ہےاس ناانصافی سے بددل ہوکر اکثر کسان فصل کاشت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

    اس سال 20 سے 25 فیصد کپاس 10 فیصد گندم اور 7فیصد چینی کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث کپاس بھی اس سال ہمیں باہر سے منگوانی پڑے گی، جبکہ 25 لاکھ ٹن گندم اور 5 لاکھ ٹن چینی امپورٹ کرنی پڑے گی۔ اس کی وجہ سے امپورٹ میں اضافہ ہوگا جس کا ہماری ملکی معیشت کو بہت نقصان ہوگا۔ ہماری جی ڈی پی گروتھ پہلے ہی منفی 0.4 تک گرچکی ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئیندہ مالی سال میں بھی 1.5 سے 2.5 تک شرح نمو رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں آئیندہ مالی سال میں شرح نمو محض 1 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    اپنے ملک کے کسان کو گندم کے 1400 روپے من ادا کرنے میں بھی تکلیف ہوتی ہے،جبکہ وہی گندم اب باہر سے 2000 روپے من سے بھی زائد قیمت پر منگوا کر خوشیوں کا اظہار کیا جاتا ہے۔

    ملک کی معاشی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ کسان کو خوشحال کیا جائے، اس کے ساتھ بدسلوکیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، اور اس کی محنت کا اس کو ہنسی خوشی ثمر دیا جائے۔تاکہ وہ سڑکوں پر آکر لاٹھی چارج کھانے کی بجائے اپنے گھر میں سکون سے عزت کی روٹی کھائے، اور دن رات محنت کرکے پورے ملک کو اناج تیار کرکے کھلائے۔

    محمد راحیل معاویہ نارووال

  • طلباء کیلیے خوشخبری ، صوبائی وزیر تعلیم نے اعلان کر دیا

    طلباء کیلیے خوشخبری ، صوبائی وزیر تعلیم نے اعلان کر دیا

    صوبائی وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس کا صوبے بھر کے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم طلبا کے بے فارم رجسٹریشن کے حوالے سے اظہارِ

    صوبائی وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس نے کہا کہ والدین بچوں کے بے فارم جلد از جلد بنوا کر سکول ریکارڈ میں جمع. کروائیں: جن طلبا کے بے فارم سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ میں نہیں وہ حکومتی مراعات، سکالر شپ جیسے منصوبوں کا فائدہ نہیں لے سکیں گے

    کوویڈ 19 کے تناظر میں حکومت نے بے فارم رجسٹریشن کی ختمی تاریخ 30 نومبر سے بڑھا کے 31 جنوری کر دی ہے گزشتہ 15 روز کے دوران طلبا کے ب فارم 21 فیصد سے بڑھ کر 55 فیصد تک اپڈیٹ ہوئے ہیں ، طلبا کے ب فارم بنوا کر والدین سکول کے ہیڈ ٹیچر کی معاونت سے اس کو ریکارڈ میں با آسانی رجسٹر کروا سکتے ہیں

  • میری خواہش ہے کہ پاکستانی ادارے اسحاق ڈار جیسے لوگوں کا سخت احتساب کریں   شان شاہد

    میری خواہش ہے کہ پاکستانی ادارے اسحاق ڈار جیسے لوگوں کا سخت احتساب کریں شان شاہد

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار شان شاہد کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہے کہ پاکستانی ادارے اسحاق ڈار جیسے لوگوں کا سخت احتساب کریں، کیونکہ نہ صرف یہ پاکستان کو بدنام کررہے ہیں بلکہ ہمارے اقدار پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں-

    باغی ٹی وی : شان شاہد نے اسحاق ڈار کے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو سے متعلق سوشل میڈیا پر برہمی کا اظہار کیا ہے-


    اداکار شان شاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ اپنی ٹوئٹ میں اسحاق ڈار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے وجود کی گہرائی تک بے شرم ہیں میری خواہش ہے کہ پاکستانی ادارے ایسے لوگوں کا سخت احتساب کریں کیونکہ نہ صرف یہ پاکستان کو بدنام کررہے ہیں بلکہ ہمارے اقدار پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں، یعنی کرپشن کرنا ہی بڑی کامیابی ہے-

    اداکار نے کہا کہ بدعنوان افراد کو سلاخوں کے پیچھے ڈال کر ان سے تمام جائیداد اور مال واپس لینا چاہیے جو انہوں نے اپنی روح کو فروخت کرکے بنائے ہیں ان کے جھوٹ ایسے ہیں جو سچ کے دامن کو تار تار کردیتے ہیں انہیں پاکستانی سیاسی تاریخ پر ایک بدنما داغ تصور کرنا چاہیے۔

    شان شاہد نے یہ بھی کہا کہ ایک دیوار بے شرمی بناکر ان کے نام اس پر لکھے جانے چاہیئں جوہمیشہ موجود رہیں تاکہ قوم جان سکیں کہ کوئی کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہوجائے جھوٹ کی جیت کبھی نہیں ہوتی اور نہ ہوگی۔ اس کا شعور پہنچایا جائے کہ ایمانداری اور سچائی ہی ہماری اصل اقدار ہیں۔

    شان شاہد نے اپنی پوسٹ کے آخر میں پاکستان زندہ باد بھی لکھا۔

  • مشترکہ بوائے فرینڈ پر دو لڑکیوں میں لڑائی، پاکستان کی یونیورسٹیوں میں کیا ہورہا ہے، ویڈیو وائرل

    مشترکہ بوائے فرینڈ پر دو لڑکیوں میں لڑائی، پاکستان کی یونیورسٹیوں میں کیا ہورہا ہے، ویڈیو وائرل

    گورنمنٹ کی جانب سے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کے احکامات جاری ہونے کے باوجود یو ایم ٹی( یونیورسٹی آف مینیجمنٹ ٹیکنالوجی لاہور) کی جانب سے طلباء کولیبز وغیرہ کے لیے کیمپس میں آنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا جس پر طلباء نے احتجاج بھی کیا تھا-

    باغی ٹی وی:گورنمنٹ کی طرف سے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کے احکامات آچکنے کے بعد بھی UMT نے ایک ںوٹیفیکشن جاری کیا تھا جس میں یونیورسٹی تاحال طلباء کو مجبور کیا تھا کہ وہ لیبز وغیرہ کے لیے کیمپس میں آئیں-

    نوٹیفیکشن میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلباء کو ہدایات دیں تھیں کہ تمام کلاسز کا انعقاد آن لائن کیا جائے گا تمام لیب سیشن شیڈول کے مطابق کیمپس میں ہوں گے-

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا کہ ایم ایس ، ایک فل اور پی ایچ ڈی کی تحقیقی سرگرمیاں محکمہ کی صوابدید کے مطابق کیمپس میں جاری رکھی جا سکتی ہیں اسائنمنٹ کوئز اور دیگر سیشنل اسسمنٹ آن لائن ہوں گے –

    جبکہ مڈٹرم اور فائنل ٹرم امتحانات کیمپس میں متعلقہ محکمہ کی ڈیٹ شیٹ کے مطابق ہوں گے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام فیکلٹی ممبر کوویڈ 19 کی ایس او پر عمل درآمد یقینی بناتے ہوئےتعلیمی سرگرمیوں کے لئے کیمپس میں آئیں گے-

    یو ایم ٹی نے اپنے نوٹیفیکیشن میں کہا تھا کہ دور دراز علاقوں کے شرکاء اور وہ لوگ جن کو انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے گھر پر آن لائن کلاسز کے لئے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ کیمپس کی کلاسوں میں شریک ہوسکتے ہیں۔

    ہاسٹل میں مقیم طلباء کو کوویڈ_19 کی ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے ہاسٹم میً رہنے کی اجازت ہوگی کورونا وائرس کی بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث احتیاطی تدابیر کے پیش نظر کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور سماجی فاصلے کو بھی اختیار کیا جائے –

    تاہم تما م قسم کی ثقافتی اور اسپورٹس سرگرمیاں مخصوص وقت تک ملتوی کی جائیں گی-

    دوسری جانب نوٹیفیکشن موصول ہونے کے بعد طلباء کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے شہروں کو جاچکے ہیں تو کیسے لیبز کے لیے آئیں. کرونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ہمیں بھی اپنی جان پیاری ہے ہم یونی نہیں آسکتے.

    دوسی جانب یونیورسٹی رجسٹرار نے بھی کہا تھا کہ تمام طلباء اپنے گھروں میں جا چکے ہیں اور وہ ہفتے میں دو دن یونیورسٹی نہیں آسکے یونیورسٹی رجسٹرار نے اپنی ٹویٹ میں اس معاملے پر نظر ثانی کرنے کی اپل کرتے ہوئے کہا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

    تاہم باغی ٹی وی نے اس پر خبر لگائی تھی جس میں طلباء کے احتجاج کو بھی ریکارڈ کیا گیا تھا تاہم باغی ٹی وی کی یہ خبر وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں طلباء کو چھٹیاں تو دے دی ہیں تاہم لیبزکے لئے طلباء کو بلایا جا رہا ہے-

    جی ہاں یونیورسٹی میں لیبز کے لئے آنے والی دو طلباء نے وہ کر دکھایا جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا یونیورسٹی آف مینیجمنٹ ٹیکنالوجی لاہور میں دو لڑکیوں نے مشترکہ بوائے فرینڈ کے لئے سر عام لڑائی کر کے نئی تاریخ رقم کر دی ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے-


    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یو ایم ٹی کی دو سٹوڈنٹس آپس میں بوائے فرینڈ کے لئے لڑ رہی ہیں اور یہ لڑائی اس حد تک پہنچ گئی کہ ایک لڑکی نے دوسری کو تھپڑ تک مارد یا-

    حکومتی احکامات کے باوجود ملک کی معروف یونیورسٹی طلباء کو یونیورسٹی بلانے پر مصر